Hijaab Jan-18

رخ سخن

سباس گل

نیل احمد
٭آپ کو لکھنے کا شوق کب سے اور کیسے ہوا؟
نیل احمد: میرا ادبی سفر بہت کم عمری میں شروع ہو گیا تھالیکن ادبی منظر نامے میں 2012ء کے آخر میں قدم رکھا۔مطالعہ کرنے کا شوق بچپن سے تھا اور خصوصاً شاعری سے لگاؤ، شعراء کا کلام پڑھتے پڑھتے نہ جانے کب خود بھی شعر کہنے شروع کر دیے اور پھر باقاعدہ شاعری آغاز ہو گیا۔
٭ اردو ادب کو موجودہ دور میں اور مستقبل میں کس مقام پر دیکھتی ہیں؟
نیل احمد: چونکہ ادب کا خاصہ جمالیات ہے اور ہر دور میں جمالیات کے اپنے تقاضے ہیں،یہ ہی وجہ ہے کہ ادب کے بھی انداز اور تقاضے تبدیل ہوتے رہتے ہیں،مگر ادب ہر دور میں اختراع اور اعتراضات کے باوجود اپنی آب وتاب کے ساتھ زندہ رہا ہے اور رہے گا۔ ان شائاللہ
٭ کیا آپ کو لگتا ہے کہ نئی نسل شاعری اور نثرنگاری میں انقلاب کی نقیب ہے؟
نیل احمد: جی بالکل، ہر نسل اپنے میلانات اور رحجانات میں اپنی پچھلی نسل سے مختلف ہوتی ہے اور ہر شعبے میں جدت لاتی ہے ،اسی طرح ان دونوں شعبوں میں بھی نئی نسل جدت لا رہی ہے، نئی اصناف میں طبع آزمائی کر رہی ہے اور ان شاء اللہ نئی نسل انقلاب لائے گی۔
٭ ہم لوگ ادب کو بین الصوبائی ہم آہنگی کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
نیل احمد: تمام صوبوں میں بہترین اور مضبوط تعلقات کے لیے ہمیں ہر صوبے کی مقامی زبان سے کہانیاں منتخب کرنی ہوں گی، ان کے تراجم کرنے ہوں گے اردو میں اور ایک دوسرے کی مقامی زبانوں میں بھی تاکہ تمام صوبے ایک دوسرے کی ثقافت اور طرز زندگی سے آگاہ ہو سکیں، ہر صوبہ ماشاء اللہ اپنے اپنے مقامی ادب کے حوالے سے خود کفیل ہے پر ہم نہیں جانتے، مثلاً سرائیکی شاعری لاجواب ، ترجمہ کیا جائے تو سمجھیں۔
٭ عورت کی ترقی کی راہ میں کون سی رکاوٹیں آتی ہیں اور ان سے کیسے نبردآزما ہوا جاسکتا ہے؟
نیل احمد: عورت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خود ہے، بس ایک بار اپنا ارادہ مضبوط کر لے اور خود کو مظلوم سمجھنا چھوڑ دے، تمام مسائل حل ہو جائیں گے اور تمام رکاوٹیں بھی دور ہو جائیں گی۔
٭ اردو ادب میں اپنا ایک مقام بنانے کے بعد آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
نیل احمد: میں اﷲ تعالیٰ کی شکرگزار ہوں اور ظاہر ہے جب آپ کی محنت کا مثبت نتیجہ نکلتا ہے تو آپ مطمئن ہوتے ہیں اور مزید محنت کرتے ہیں۔
٭ آپ اپنی کامیابی کا سہرا کس کے سر باندھتی ہیں؟
نیل احمد: میری ہر کامیابی اﷲ تعالیٰ کے بعد میرے والدین کی دعاؤں اور ساتھ کی مرہونِ منّت تھی،،ہے اور رہے گی۔
عروشمہ خان: آپ کب سے اس میدان میں سرگرم عمل ہیں؟
نیل احمد: جیسا کہ میں پہلے بھی بتاچکی ہوں کہ 2012ء میں دنیائے ادب میں قدم رکھا۔
٭ جیسا کہ آپ کی ایک شناخت فیشن ڈیزائنر کی بھی ہے تو مستقبل میں اپنی ادبی اور پیشہ ورانہ شناخت میں سے آپ کا انتخاب کیا ہو گا؟
نیل احمد: میرے لیے دونوں یکساں اہم ہیں کیونکہ ایک میرا باہر ہے اور ایک اندر… اور میں دونوں سے مل کر مکمل نیل احمد ہوں۔
٭ کیا آپ کا سامنا کبھی کسی ایسے شخص سے ہوا جسے صرف نقص نظر آتے ہیں؟
نیل احمد: ہوتا ہے سامنا مگر میں ایسے لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی، میرا یہ ماننا ہے جس میں نقص ہوں گے وہ نقص ہی ڈھونڈے گا۔
٭ آپ نے اپنے لئیے اس ادبی میدان کو ہی کیوں منتخب کیا؟
نیل احمد: میں حادثاتی شاعرہ نہیں،نہ ہی حادثاتی طور پر اس ادبی منظر نامے پر آئی اللہ تعالیٰ نے شعر کہنے کی صلاحیت عطا کی تو سوچا کہ اپنا کلام منظر عام پر لایا جائے اور اسی لیے آج آپ کے سامنے ہوں۔اپنے آپ کو ماننا اور مطمئن کرنا سب سے اہم ہے اور اس شعبے کو منتخب کرنے کا بھی یہ ہی مقصد ہے۔
٭ ماشاء اللہ اتنی باصلاحیت ہیں آپ کبھی مغرور نہیں ہوئیں؟
نیل احمد: میری جو بھی صلاحیتیں ہیں ان میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، یہ سب اللہ سبحان تعالیٰ کی عطا ہے تو پھر غرور کیسا۔
٭ آپ اپنی ادبی اور پیشہ ورانہ مصروفیات میں توازن کیسے برقرار رکھتی ہیں؟
نیل احمد: جب انسان لگن اور جنون کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے اور کچھ حاصل کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو توازن خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔
٭ آپ شاعری کے علاوہ اور کیا لکھتی ہیں؟
نیل احمد: شاعری تو میری اولین محبت ہے ۔
٭ آپ کا جیون ساتھی کیسا ہو؟
نیل احمد:جیون ساتھی ایسا جو میرے لفظوں کو سمجھ سکے اور ان کی قدر کر سکے۔
اس آخری سوال کے ساتھ ہم نیل احمد کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا اور تمام سوالات کے واضح اور شفاف جوابات دیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close