Hijaab Jan-18

حمد و نعت

منیر نیازی/شاہ ضیا

حمد باری تعالیٰ
اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
اور اس کے درمیاں جو ہیں مکینوں اور مکانوں میں
ہوا چلتی ہے باغوں میں تو اس کی یاد آتی ہے
ستارے چاند سورج ہیں سبھی اس کے نشانوں میں
اسی کے دم سے طے ہوتی ہے منزل خوابِ ہستی کی
وہ نام اک حرف نورانی ہے ظلمت کے جہانوں میں
اُس کے پاس اَسرار جہاں کا علم ہے سارا
وہی برپا کرے گا حشر آخر کے زمانوں میں
وہ کرسکتا ہے جو چاہے وہ ہر اک شے پہ قادر ہے
وہ سن سکتا ہے رازوں کو جو ہیں دل کے خزانوں میں
بچا لیتا ہے اپنے دوستوں کو خوف باطل سے
بدل دیتا ہے شعلوں کو مہکتے گلستانوں میں
منیر اس حمد سے رتبہ عجب حاصل ہوا تجھ کو
نظیر اس کی ملے شاید پرانی داستانوں میں

منیر احمد نیازی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
کونین کے گوشے گوشے میں چھائی ہوئی رحمت ہوتی ہے
محبوب خدا کی دنیا میں جب عید ولادت ہوتی ہے
اس جان بہار کی آمد سے ہر ایک روش ہر گلشن میں
کھلتے ہیں شگوفے رحمت کے انوار کی کثرت ہوتی ہے
تخلیق میں پہلے نور ان کا آخر میں ہوا بے ظہور ان کا
تکوین جہاں ہے ان کے لیے ختم ان پہ نبوت ہوتی ہے
میثاق کے دن سب نبیوں سے اقرار لیا تھا ان کے لیے
اب آتے ہیں وہ سردار رُسل اب ان کی ولادت ہوتی ہے
اقصیٰ میں جماعت نبیوں کی دیکھی تو فرشتے بول اٹھے
کیا خوب جماعت ہوتی ہے کیا خوب امامت ہوتی ہے
تھے جن و بشر حور غلماں استادہ پئے تعظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کیوں لوگ قیام کے منکر ہیں کیا ان پہ قیامت ہوتی ہے
تعظیم کا منکر شیطاں تھا وہ دِیو لعیں مردود ہوا
توقیر نبی جو کرتے نہیں خوار ان کی جماعت ہوتی ہے
تحمید خدا توصیف نبی تسبیح و ثنا تعظیم نبی
میلاد نبی کی ہر محفل عنوان عبادت ہوتی ہے

شاہ ضیاء القادری بدایونی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close