Aanchal Jun-17

تیری زلف کے سر ہونے تک ۹

اقرا صغیر احمد

جو آسماں پر ہمیشہ رہا ہے آج اسے
ہمیں بتانا ہے اک جگہ زمین بھی ہے
انا پرست ہے وہ‘ جانتے ہیں ہم لیکن
وہ خود بلائے گا اس بات کا یقین بھی ہے

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
جہاں آرا کے ساتھ لاریب کو اپنے گھر میں دیکھ کر انشراح شدید مشتعل ہوجاتی ہے اس کے بے باک انداز کے پیش نظر وہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتی ہے جبکہ لاریب اس کے حسن سے متاثر ہوتااسے کسی بھی طور گنوانا نہیں چاہتا۔ عمرانہ بیگم زید کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتی ہیں کہ وہ مائدہ سے معافی مانگتے ہوئے اس غلط فہمی کو بھول جائے لیکن زید اس بات پر تیار نہیں ہوتا جب ہی وہ اسے سودہ کے خلاف ورغلاتی ہیں ایسے میں ان کی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر زید مائدہ کو معاف کردیتا ہے مگر وہ اس سے بات کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ عمرانہ اور مائدہ کا رویہ سودہ سے مزید تلخ ہوجاتا ہے اور ان کی یہ تلخ کلامی زید بھی سن لیتا ہے جب ہی اپنی ماں اور بہن کے رویے پر بے حد پشیمان ہوتا ہے۔ عمرانہ تنہائی میں مائدہ سے تمام حقیقت جاننے کی کوشش کرتی ہیں جس پر مائدہ انہیں سچ بتاتے ہوئے کسی کاشف نامی لڑکے کا ذکر کرتی ہے جو کہ دراصل اس کی کزن کا دوست تھا اور اس سے تعارف بھی اس نے کرایا تھا یہ سب جان کر عمرانہ شاکڈ رہ جاتی ہیں مگر دیگر گھر والوں کو اس بات سے بے خبر رکھتی ہیں۔ یونیورسٹی میں نوفل اور انشراح کا رویہ بے حد تلخ اور بیزاری لیے ہوتا ہے نوفل اس کی تضحیک کو برداشت نہیں کر پاتا جب ہی اسے چوٹ پہنچا کر بدلہ لیتا ہے لیکن انشراح اس کی اوچھی حرکت پر ششدر رہ جاتی ہے وہ ایسے میں نوفل کا نام لینے کی بجائے اب اس معاملے کو اپنے طور پر ہینڈل کرنا چاہتی ہے جب ہی نوفل اسے اس کی حیثیت یاد دلاتے اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ وہ اس سے مقابلہ کرنے کا ارادہ دل سے نکال دے مگر انشراح کے لیے یہ تذلیل بھلانا آسان نہیں ہوتا۔ نوفل کے والد عکرمہ کی برسی کے موقع پر جہاں نوفل اداس ہوتا ہے وہیں یوسف صاحب کا دل بھی غم سے بوجھل ہوتا ہے عکرمہ ایک نہایت ملنسار اور محبت کرنے والے آدمی تھے مگر ان کی بیوی عشوانہ ایک مادہ پرست عورت تھی اپنی تفریحات کے لیے وہ اولاد کے حق میں بھی نہ تھیں نوفل کی ذات ان کے لیے سوائے قید کے کچھ نہ تھی جب ہی وہ اسے نہایت تلخ جملوں اور مار پیٹ سے ہراساں رکھتی تھیں اپنے ملازم راجو کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے جو ان کا ڈرائیور اور باڈی گارڈ بھی تھا عشوانہ سے محبت کے پیش نظر عکرمہ ان کی غلط باتوں کو بھی نظر انداز کردیتے تھے اور ایسی ہی ایک رات انہیں کسی پارٹی سے واپس لانے کی خاطر وہ گھر سے نکلے تھے مگر واپسی پر موت ان کا مقدر بنی تھی ان سب باتوں کو جانتے ہوئے نوفل کو اپنی ماں اور خصوصاً صنف نازک سے بے حد نفرت تھی۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا تھا‘ اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا‘ اسپیلٹ کی فاسٹ کولنگ کے باوجود جسم پسینے سے شرابور تھا۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا‘ وہ کمرے میں اندھیرا کرکے سونے کا عادی تھا۔
’’اوہ… میرے سر پر وہ لڑکی اتنی شدت سے سوار ہوگئی ہے کہ سوتے میں بھی اس کے ہی خواب دیکھ رہا ہوں؟‘‘ اس نے آگے بڑھ کر ٹیبل لیمپ جلایا اور روم ریفریجریٹر سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگائی پھر بیڈ پر آکر کتنی دیر تک ساکت بیٹھا رہا۔
’’یہ کیا ہے‘ نوفل عکرمہ… حسین سے حسین تر لڑکی تمہاری نگاہوں میں لمحہ بھر بھی ٹھہرنے کے لائق نہ رہی کبھی بھی… پھر کیا وجہ ہے وہ لڑکی تم پر اس قدر سوار کیوں رہنے لگی ہے کہ سوتے جاگتے اس کا چہرہ تمہیں اپنی گرفت میں رکھتا ہے؟ اگر وہ تمام لڑکیوں سے زیادہ حسن و رعنائی کا پیکر ہے پھر تم کب سے حسن کے شیدائی بن گئے؟ کیا اس لڑکی کے حسن نے تمہارے دل میں بھری نفرت کے اس چھاگل کو خشک کردیا ہے جس کی بوند بوند بچپن سے تمہاری رگ و پے میں اترتی جارہی ہے؟‘‘
’’حسن… مائی فٹ؟‘‘ وہ آئینہ کے آگے کھڑا غرایا۔
’’حسن سے مجھے اس وقت نفرت ہوگئی تھی‘ جب میں نفرت کے معنی سے آگاہ نہ تھا۔ عمر تو میری حسن سے بھی آگہی کی نہ تھی لیکن حسن سے واقفیت ان جملوں نے کردی جو کم عمری سے سنتا رہا تھا۔‘‘
’’واہ… کتنا لکی ہے یار عکرمہ… کس قدر حسین وائف ہے تیری۔‘‘
’’عکرمہ… کہاں سے چرا کر لایا ہے اس حسن کی دیوی کو؟ پھولوں کا رنگ‘ چاند کی چاندنی‘ ستاروں کی چمک سارے ہی جلوے ہیں شعوانہ تم میں‘ بے مثال حسن کی ملکہ ہو تم۔‘‘ ایسے ہی جملے اور بہت کچھ وہ سنتا آرہا تھا اس عورت کے چاہنے والوں کے منہ سے بہت چھوٹی عمر میں وہ جان گیا تھا کہ حسن زہر ہوتا ہے اور جس عورت میں حسن کا زہر پھیل جائے وہ عورت ناگن بن جاتی ہے اور پہلے اپنوں کو ہی ڈس کر ہلاک کرتی ہے۔
ہر حسین چہرے میں اسے اپنی ہرجائی و بدچلن ماں کا چہرہ دکھائی دیتا تھا اور انشراح کی صورت میں اسے اپنی ماں کی شبیہہ نظر آتی تھی۔ آزاد خیال و بے باک اپنے حسن کے زعم میں دنیا کو حقیر سمجھنے والی۔ نیند اچاٹ ہوچکی تھی اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کس طرح اسے نیچا دکھائے‘ زچ کرتا رہے‘ یہ انسانی فطرت کا عجیب پہلو ہے۔ دوستی میں وہ دوست اتنا یاد نہیں آتا جتنا دشمنی میں دشمن سائے کی مانند چمٹا رہتا ہے۔ بڑے پاپا اور ماما نے بہت محبت دی تھی بہت پیار کرتے تھے اس سے اور وہ بھی دل و جان سے فدا تھا ان پر لیکن دل کے کسی کونے میں ایک حسرت ہمیشہ سے سسکتی تھی۔ کاش اس کی ماں دنیا کی بدصورت ترین عورت ہوتی اور اس کا باپ غریب ترین مرد ہوتا‘ محل کی جگہ کسی کچی جھونپڑی میں زندگی گزر رہی ہوتی اور وہ ہی زندگی مزے دار ہوتی جہاں آدھی روٹی کے ساتھ پیار پورا ملتا‘ جہاں آسائشات کا ڈھیر نہ ہوتا مگر پیار و خلوص کی فراوانی ہوتی اور نہ باپ مرتا نہ ماں کا آنچل سر سے جدا ہوتا… کاش…
ء…/…ء
چائے کا مگ چھوٹ کر اس کے پائوں پر گرا اور بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکل گئی تھی۔ چائے گرما گرم پھاپ اڑاتی ہوئی تھی وہاں بیٹھے سب لوگ اس کی طرف اٹھ کر آئے تھے بوا بھاگ کر برنال لے آئی تو صوفیہ نے جلدی سے لگانا شروع کردیا تھا۔ لمحے بھر میں ماحول ٹینس ہوکر رہ گیا تھا‘ شاہ زیب نے جو شرارت سے اس کا ہاتھ دبایا تھا اور اسی وجہ سے مگ اس کے ہاتھ سے گر گیا تھا وہ شرمندگی و خجالت کے باعث اٹھ بھی نہ سکا جبکہ زید اسی طرح اطمینان سے بیٹھا چائے پیتا رہا‘ ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ اس کی طرف نہ ڈالی اور یہ اس کی ایک نگاہ کی ہی حدت تھی جو اس کے ہاتھ سے کپ گرا تھا۔ تکلیف کی وجہ سے سودہ کے چہرے کی رنگت بدل کر رہ گئی تھی‘ منور صاحب کے کہنے پر بوا اور صوفیہ اسے وہاں سے لے گئی تھیں تاکہ وہ اپنے کمرے میں آرام کرسکے۔
’’تم کیوں اس قدر ٹینس ہوگئے ہو؟‘‘ زید پشیمان بیٹھے شاہ زیب سے مخاطب ہوا۔
’’میری شرارت کی وجہ سے سودہ کتنی تکلیف میں مبتلا ہوگئی ہے نہ میں اس کا ہاتھ دباتا نہ چائے گرتی اور نہ…‘‘
’’اوہ کم آن یار… تم گلٹی فیل کیوں کررہے ہو معمولی سی جلن ہے کچھ دیر میں ختم ہوجائے گی اور ایسا عموماً ہوتا رہتا ہے‘ لیڈیز کے ساتھ کچن میں۔‘‘ وہ مسکرا رہا تھا نہ معلوم کس جذبے کے تحت شاہ زیب کو اس کی مسکراہٹ بہت عجیب لگی لیکن وہ چاہنے کے باوجود نہ پوچھ سکا کہ کسی کی تکلیف پر راحت سے مسکرانا کیا معنی رکھتا ہے؟
’’آپ شرمندہ نہ ہوں بیٹا‘ اتفاقیہ طور پر یہ حادثہ ہوا ہے چائے بہت زیادہ گرم تھی اس لیے اس کا پائول جل گیا ہے اور تکلیف بھی زیادہ ہے وگرنہ سودہ بہت صبر و برداشت والی بچی ہے۔‘‘ منور صاحب نے کہا۔
’’تکلیف کے مارے ہی اس کے منہ سے چیخ نکلی ہے ورنہ وہ اندر ہی اندر گھٹ کر ہر دکھ درد کو سہنے کی عادی ہے۔‘‘ زمرد گویا ہوئیں۔
’’دراصل تائی جان میں سودہ کی تکلیف کو فیل کررہا ہوں‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے کچھ عرصہ قبل انڈہ فرائی کرتے ہوئے ایک چھینٹ اچھل کر میرے ہاتھ پر گر گئی تھی اور کئی گھنٹے تک میں بے چین رہا تھا‘ تکلیف سے یہاں تو سودہ کے پائوں پر پورا مگ چائے کا گرا ہے۔‘‘
’’جاکر دیکھتی ہوں کیا حال ہے بچی کا؟‘‘ زمرد نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’آپ چائے پئیں تائی جان‘ میں دیکھتا ہوں جاکر۔‘‘ شاہ زیب جو خاصا بے چین ہورہا تھا فوراً اٹھتا ہوا گویا ہوا۔
’’ہاں‘ ذرا اچھی طرح دیکھنا چھالے وغیرہ نہ پڑگئے ہوں۔‘‘ اس نے شاہ زیب کی طرف دیکھتے ہوئے لفظوں کو جما کر کہا۔
’’آپ بھی چلیں نہ بھائی میرے ساتھ…‘‘
’’میں… میں کیوں جائوں؟‘‘ وہ خاصا حیران ہوا۔
’’کسی کی عیادت کرنے کا بڑا ثواب ملتا ہے بھائی‘ پھر سودہ ہماری کزن ہے اس کا ہم پر حق زیادہ ہے۔‘‘ ان کی گفتگو بے حد آہستگی سے ہورہی تھی۔
’’میں نہیں مانتا اس حق وق کو تم جارہے ہو تو جائو۔‘‘ ایک دم اس کا مزاج بگڑا تھا۔
شاہ زیب کے جانے کے بعد وہ پھر زمرد اور منور صاحب سے باتوں میں لگ گیا تھا۔
ء…/…ء
’’ہیلو! اب آپ کے پائوں کا زخم کیسا ہے؟‘‘ جہاں آرأ بیگم ماہانہ خریداری کے لیے سودا سلف لینے آئی تھیں بالی تو ساتھ تھی ہی وہ زبردستی اسے بھی لے آئی تھیں۔ پائوں کے درد کے باعث وہ گزشتہ دو دن سے یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی‘ بخار کے ساتھ چڑچڑا پن بھی اس پر حاوی ہوگیا تھا۔ ان کا خیال تھا وہ گھر سے باہر نکلے گی تو طبیعت میں تازہ ہوا سے بہتری آئے گی اور ابھی وہ شاپنگ سینٹر کی پارکنگ لاٹ میں تھیں معاً لاریب سے ملاقات ہوگئی تھی۔ غیر متوقع طور پر اس کو دیکھ کر جہاں انشراح کا موڈ آف ہوا وہیں جہاں آرأ خوشی سے نہال ہوگئی تھیں۔ نانی اور بالی سے ملاقات کے بعد وہ تیزی سے اس کی طرف آیا تھا اور اس نے سنی ان سنی کرکے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔
’’آپ نے سنا نہیں مس انشی‘ آپ کے…‘‘
’’شٹ اپ‘ آپ کو کوئی حق نہیں ہے انشی کہنے کا…‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر غصے سے گھور کر گویا ہوئی۔
’’ایسا بھی ہوسکتا ہے سارے حق ہی مجھے حاصل ہوجائیں پھر کیا کریں گی آپ؟‘‘ وہ اس کی غصے سے چمکتی برائون آنکھوں میں دیکھتا ہوا عجیب لہجے میں بولا۔
’’ایسا خواب میں بھی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ نفرت سے چیخی۔
’’میں بھی حقیقت کی بات کررہا ہوں‘ خواب میں مجھے بھی پسند نہیں ہے۔‘‘ اس نے دوبدو کہا۔
’’ارے یہ آپ دونوں کیا بچوں کی طرح آپس میں ضد بحث میں لگ گئے ہیں اور انشی تم… جگہ دیکھتی ہو نہ ماحول زبان لڑانے بیٹھ جاتی ہو۔ لاریب صاحب نے تمہارے زخم کے مطابق معلوم کیا تھا اور تم جواب دینے کے بجائے ان سے الجھ رہی ہو۔‘‘ جہاں آرأ انشراح کا جارحانہ انداز دیکھ کر جلدی سے مصالحتاً لہجے میں بولیں۔
’’ڈونٹ مائنڈ آنٹی‘ انشراح کی باتوں کا برا نہیں مان سکتا‘ مجھے ان کی کڑوی باتیں بھی شہد جیسی لگتی ہیں۔‘‘ اس کے ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں تھے اور نگاہیں انشراح کے چہرے پر۔
’’ہونہہ…‘‘ اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
’’ارے بیٹا یہی تو آپ کا بڑا پن ہے اسی خاندانی انداز نے آپ کا گرویدہ بنایا ہوا ہے تب ہی میں آپ کو اتنا پسند کرتی ہوں۔‘‘
’’تھینکس آنٹی‘ یہ آپ کی محبت ہے جو ہم ہر جگہ مل جاتے ہیں‘ جہاں ملنے کے آثار بھی نہیں ہوتے‘ خیر آپ یہاں پر گروسری کے لیے آئی ہیں؟‘‘ اس نے بالی کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ہاں‘ کچن کا سارا سامان ختم ہوگیا ہے میں بالی کو لے کر آرہی تھی پھر خیال آیا کہ انشی گھر میں پڑی پڑی بور ہورہی ہے ساتھ لے آئی کہ اچھا ہے اس بہانے اس کی بھی آئوٹنگ ہوجائے گی۔‘‘ بالی کے بجائے جہاں آرأ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’آئوٹنگ کی جگہ ہے یہ کوئی‘ آیئے آئوٹنگ پر میں لے کر چلتا ہوں۔‘‘
’’ہم یہاں گروسری کرنے آئے ہیں چلیں نانی۔‘‘ انشراح کا ضبط جواب دے گیا وہ آگے بڑھتی ہوئی نانی سے بولی۔
’’آنٹی… گروسری کی لسٹ کہاں ہے وہ دیجیے۔‘‘
’’لسٹ میرے پرس میں ہے‘ آپ وہ لے کر کیا کریں گے؟‘‘
’’آپ دکھایئے پلیز۔‘‘ وہ اصرار کرنے لگا۔
’’یہ لیں بیٹا۔‘‘ انہوں نے ہینڈ بیگ سے پیپر نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے لسٹ لے کر کچھ فاصلے پر کھڑی کار کے قریب موجود ڈرائیور کو اشارے سے بلایا۔ وہ سرعت سے ان کے قریب چلا آیا۔
’’یہ تمام سامان اور وہاں موجود دوسرے آئٹمز پرچیز کرکے مجھے کال کرو‘ میں ایڈریس بتائوں گا وہاں لے آنا۔‘‘ وہ کوٹ کی جیب سے والٹ نکال کر چند بڑے نوٹ ڈرائیور کو تھماتے ہوئے بولا۔
’’یہ کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘ انشراح نے آگے بڑھ کر لسٹ لینی چاہی معاً جہاں آرأ نے لپک کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے لاریب سے کہا۔
’’ارے بیٹا… یہ تکلف کیوں کررہے ہو یہ اچھی بات نہیں ہے نا۔‘‘ وہ لگاوٹ بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’بیٹا بھی کہتی ہیں اور غیروں جیسی باتیں بھی کرتی ہیں‘ بس اب آپ کو گروسری یا دوسری کسی بھی قسم کی ضرورت ہو تو آپ کا یہ بیٹا حاضر ہے‘ آئیں آئوٹنگ پر چلتے ہیں۔‘‘ اس کی نگاہیں غصے و جھنجھلاہٹ سے سرخ چہرے میں الجھی ہوئی تھیں تب ہی جہاں آرأ نے انشراح کو سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور کرلیا تھا۔
ء…/…ء
بھولی ہوئی ہوں داستاں
گزرا ہوا خیال ہوں
جس کو نہ تم سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
جیسے کبھی ملے نہ تھے
ایک راہ پر چلے نہ تھے
’’اوہ شٹ… کیا ہے یہ فضول بکواس… کون ہو تم… کیا چاہتے ہو؟‘‘ یوسف صاحب نے کارڈ پڑھ کر ایک طرف اچھالا اور کارڈ پر درج سیل نمبر پر رابطہ کرتے ہی وہ دھاڑے تھے۔
’’ریلیکس… کول ڈائون مائی ڈئیر‘ ایک سانس میں اتنے سوال؟‘‘ دوسری طرف سے بے حد اطمینان سے شوخ لہجے میں کہا گیا تھا۔
’’شٹ اپ… کیا بکواس لکھ کر بھیجی ہے؟ مقصد کیا ہے تمہارا؟‘‘
’’اوہ… بکواس نہیں پوئٹری کہتے ہیں اسے اور ایسی پوئٹری جو سیدھی ’ٹھاہ‘ کرکے دل پر لگتی ہے کسی بلٹ کی مانند۔‘‘
’’مجھے شاعری و ادب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تم رونگ نمبر ڈائل کررہے ہو۔‘‘ وہ غصے سے کہہ رہے تھے۔
’’میں رونگ نمبر کبھی بھی ڈائل نہیں کرتا سر‘ میرے پاس تمام نمبرز رائٹ اینڈ پرفیکٹ ہیں۔‘‘ دوسری طرف مکمل خود اعتمادی تھی۔
’’میں تم جیسے دو کوڑی کے جرنلسٹ کو اچھی طرح جانتا ہوں‘ تمہارے لیے بہتر یہی ہے جتنا جلد مجھے بھلا دو اتنا ہی تمہارے حق میں اچھا ہے‘ آئندہ ایسی کوئی حماقت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
’’حماقت تو آپ کرچکے ہیں سر… میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو کسی کی پکڑائی میں آئوں اور اپنا آپ کسی کے ہاتھ میں دے دوں سمجھے۔‘‘ بھرپور قہقہہ لگایا۔
’’تم مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہو؟‘‘
’’بلیک میل کرنے کی کوشش…‘‘ وہ ہنسا پھر ہنستا چلا گیا۔
’’باسٹرڈ…‘‘ وہ حلق کے بل چیخے۔
’’اونہوں پلیز… جو گالی ہم کسی کو دیتے ہیں وہ لوٹ کر ہم تک واپس آتی ہے اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض کروں میں آپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش نہیں… بلکہ بلیک میل کررہا ہوں۔‘‘
’’لیکن کیوں… کیا چاہیے تمہیں مجھ سے؟‘‘
’’بہت معمولی سی خواہش ہے سر۔‘‘ دوسری طرف لہجہ مہذب ہوگیا۔ ’’میں اپنا ایک چینل لانچ کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے آپ کی بھرپور عنایت کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
’’چینل لانچ کرنا چاہتے ہو… یہ کوئی بچوں کا کھیل ہے کیا؟‘‘
’’تب ہی تو آپ سے استدعا کی ہے سر۔‘‘ لہجے میں برجستگی نمایاں تھی۔
’’میں نے بہت تحمل سے تمہاری بکواس سنی ہے‘ پہلی و آخری بار… اب غلطی سے بھی مجھ سے رابطہ مت کرنا وگرنہ تمہاری آواز ہمیشہ کے لیے بند کروانا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘ انہوں نے غصے سے کہہ کر رابطہ ختم کردیا تھا۔
ء…/…ء
’’او مائی گاڈ… زید بھائی کو معلوم ہوگیا‘ کیا ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تم کو اور اس کو ملوانے میں‘ میں بھی شامل ہوں؟‘‘ عفرا اس انکشاف پر خوف سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ارے تم اس قدر خوف زدہ کیوں ہورہی ہو ابھی وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔‘‘ مائدہ اس کی حالت دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔
’’تم پہلے یہ بتائو تم نے زید بھائی کو میرا تو نہیں بتایا نہ؟‘‘
’’ارے نہیں بابا… ان کو میں نے اپنا نہیں بتایا تو تمہارا کیا بتائوں گی‘ تھپڑ کھانے کے بعد بھی حامی نہیں بھری سارا الزام سودہ پر لگادیا تھا۔‘‘
’’پھر تو زید نے بالکل بھی یقین نہیں کیا ہوگا کیونکہ سودہ اس کی محبت ہے اور وہ اپنی محبت کے خلاف ایک ورڈ سننے والا نہیں ہے۔‘‘ قریب لیٹی موبائل پر کسی سے چیٹنگ کرتی عروہ مسکرا کر طنز سے بولی۔
’’پتا نہیں آپ کس غلط فہمی کا شکار ہیں عفرا آپی! سچ تو یہ ہے کہ وہ سودہ کی پرچھائیں بھی دیکھنے سے گریز کرتے ہیں ایسی محبت ہوتی ہے کیا… کمال کرتی ہیں آپ بھی۔‘‘
’’تمہیں کیا پتا مائدہ‘ وہ اس چڑیل سے کتنی محبت کرتا ہے اس کی محبت کی شدت میں نے دیکھی ہے۔ اس نے اس رات راستے میں اس چڑیل کو دیکھا اور پھر اسے کچھ دکھائی نہیں دیا تھا ہوٹل میں میرے آگے اس نے کھانوں سے ٹیبل بھردی تھی اور بھوک ہونے کے باوجود خود نے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا اور کیوں نہیں لیا تھا تم جانتی ہو یہ بات؟‘‘ مائدہ نے حیرانی سے نفی میں گردن ہلائی۔
’’زید کو اس کے چہرے سے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ چڑیل کسی تکلیف میں ہے اس نے گھر آتے ہی غیر محسوس انداز میں بوا سے معلوم کیا تھا اور وہ بڑھیا تو جیسے سب بتانے کے لیے تیار بیٹھی تھی‘ فرفرفر اس کی زبان چلی تھی اور جب زید کو معلوم ہوگیا کہ اس چڑیل کو آرام آگیا ہے تو اس نے اسی ٹائم بوا سے کھانا لگوا کر کھایا تھا۔‘‘
’’آپ کو کیسے معلوم ہوا یہ سب؟‘‘ عفرا نے حیرانی سے پوچھا۔
’’میں نیچے آرہی تھی اس سے پوچھنے کے لیے کہ اس نے میرے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کیا اور بنا پوچھے سب معلوم ہوگیا تھا۔‘‘ وہ ان لمحوں کو یاد کرکے مضطرب سی ہوگئی تھی۔
’’حیرت انگیز بات ہے آپ کو باتیں سنتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں تھا؟‘‘
’’کون دیکھتا… مجھے اس بڑھیا کی نظر پہلے ہی کمزور ہے اور زید‘ وہ کہاں دیکھتا ہے مجھے۔ اسے صرف ایک منحوس چہرہ نظر آتا ہے۔‘‘
’’آپ کچھ بھی کہیں میں مان ہی نہیں سکتی کہ بھائی سودہ سے پیار کرتے ہیں‘ یہ ناممکن بات ہے بھائی کے ساتھ میرا وقت گزرتا ہے۔‘‘
’’کاش ایسا ہی ہو‘ میں جو کہہ رہی ہوں وہ جھوٹ ہو‘ زید صرف مجھ سے ہی محبت کریں۔ میں ہی ان کے پیار کے قابل ہوں۔‘‘ وہ جذباتی انداز میں اس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی۔
’’تم میں کسی چیز کی کمی ہے کیا… دیکھنا وہ پیار بھی تم سے کریں گے اور شادی بھی‘ کیوں مائدہ‘ ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں؟‘‘ عفرا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… ہاں رائٹ!‘‘ مائدہ نے مسکرا کر گردن ہلائی۔
’’اگر اس نے شادی نہ کی ناں مجھ سے تو میں تمہیں ہتھیار بنائوں گی اور اسے تم ہی میرے لیے راضی کرو گی۔‘‘ وہ دل میں مائدہ سے مخاطب ہوئی۔
ء…/…ء
نوفل نے بے حد تعجب سے ان لوگوں کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ شہر کا مہنگا ترین ہوٹل تھا جہاں وہ اپنے چند غیر ملکی دوستوں کو لے کر آیا تھا۔ لاریب کے ساتھ جو تین وجود تھے ان تینوں کو وہ بخوبی پہچانتا تھا وہ لفٹ سے نیچے جارہے تھے اور وہ اوپر آرہا تھا درمیان میں فاصلے کے باوجود لاریب نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ تنبیہہ کے باوجود اس نے انشراح کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا‘ جبراً دوستوں کی خاطر اس کو وہاں بیٹھنا پڑا تھا‘ کھانے پینے سے رغبت بالکل ہی ختم ہوگئی تھی جیسے تیسے دوستوں کو نبٹا کر وہ گھر آیا تھا۔
’’میں نے تم سے کہا تھا نہ اس لڑکی سے دور رہنا۔‘‘ وہ ٹھوکر مار کر اس کے کمرے میں داخل ہوا اور دھاڑ کر بولا۔
’’اگر کوئی لڑکی مجھ سے دور نہ رہنا چاہے تو…‘‘ وہ کسی حد تک اپنے خوف پر قابو پاچکا تھا اس لیے بات سمجھ کر ڈھٹائی سے بولا۔
’’تم جانتے ہو لڑکی کی قربت‘ اب کوئی خود قریب آئے تو میں کس طرح خود دور رہ سکتا ہوں‘ بتائو مجھے؟‘‘
’’وہ خودتمہارے قریب آئی تھی؟‘‘ نوفل نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اس نے گڑبڑا کر نگاہیں چرائیں تھیں۔ ’’یا تم اس کو قریب لانے کے لیے اس کی نانی کو دانہ ڈال رہے ہو؟‘‘
’’اب جو تم کو سمجھ آئے‘ ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی… جب تمہارا اس لڑکی سے کوئی ریلیشن نہیں ہے پھر تمہیں کیا اعتراض ہے میں اس سے دوستی کروں یا نہ کروں؟‘‘ پھر اس کی طرف جھک کر بولا۔
’’آپس کی بات ہے‘ تم انشراح کو لائک کرتے ہو؟ آئی نو مائی ڈئیر برادر‘ تمہیں عورت سے نفرت ہے۔ تم عورت کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہو لیکن دل گلشیئر کی مانند ہوتا ہے اندر ہی اندر آہستگی سے کوئی حدت اسے پگھلانے لگتی ہے اور وہ ایک دن اچانک ہی پگھل کر پانی بن جاتا ہے‘ بہہ جاتا ہے۔ تمہارے دل کی بھی کہیں یہی حالت تو نہیں ہے‘ ایک لڑکی کی اتنی کئیر تم جیسا بے پروا و بے حس بندہ خوامخواہ تو نہیں کرے گا؟‘‘
’’کہہ چکے… یا کچھ اور بھی کہنا باقی ہے؟‘‘ وہ ہنوز سرد و سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔
’’یہ میری بات کا جواب نہیں ہے میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔‘‘ اس کے وجیہہ چہرے پر چھائی سرخی اسے بوکھلانے لگی تھی۔
’’میں تمہیں جواب دینے کا پابند بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’اوکے… میں پرامس کرتا ہوں کہ خود سے وہاں رابطہ نہیں کروں گا۔‘‘ وہ پھر بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا تھا۔
لاریب کی باتوں نے اسے آئینہ دکھادیا تھا کہ جب وہ انشراح کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے تو پھر اس کی پروا کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ وہ جو دل چاہے کرے‘ اس کو پروا نہیں ہونی چاہیے تھی‘ وہ خود کو سمجھاتا ہوا آگے بڑھتا ہی گیا تھا معاً اس کی نگاہ یوسف صاحب کے کمرے کی طرف گئی تھی جہاں وہ ملازم پر برس رہے تھے۔
’’کیا ہوا ہے بڑے پاپا… آپ ٹینس لگ رہے ہیں؟‘‘ وہ ملازم کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔
’’کوئی بات نہیں ہے‘ بس کبھی کبھی غصہ آجاتا ہے۔‘‘ اس کو فکرمند دیکھ کر انہوں نے خود کو کمپوز کیا۔
’’غصہ آنے کی کوئی وجہ بھی ہوگی اور مجھے معلوم ہے آپ کو بلاوجہ غصہ نہیں آتا‘ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوئی ہے۔‘‘ وہ انٹرکام پر ملازمہ کو کافی کا آرڈر دینے کے بعد گویا ہوا۔
’’ایسی خاص بات نہیں ہے بیٹا… بس جو وہ جرنلسٹ ہے سیف فاروقی‘ اس نے آج کارڈ پر فضول سی پوئٹری لکھ کر بھیجی تھی میں نے کال کی تو الٹی سیدھی بکواس کرنے لگا۔‘‘ وہ سیف فاروقی سے ہونے والی گفتگو دہراتے ہوئے بولے۔
’’حیرت ہے آپ نے اس کی بکواس برداشت کس طرح سے اور کیوں کی؟ وہ کیوں بلیک میل کرنا چاہتا ہے؟ آپ کو اس سے بات کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔‘‘ اس کی پیشانی پر شکنیں در آئی تھیں۔
’’کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو نہ سننے کے باوجود بھی سننی پڑتی ہے۔ نہ چاہنے کے باوجود بھی سننی پڑتی ہے؟‘‘ اس نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا‘ وہ نگاہیں جھکا گئے تھے۔
’’وائے بابا…! آپ اتنے کمزور کس طرح ہوگئے کہ کوئی آپ سے بکواس کرے اور آپ نہ چاہنے کے باوجود سننے پر مجبور ہوجائیں۔‘‘ زیتون کافی لے کر آئی اور اس کے آنے سے ان کے درمیان موضوع بدل گیا تھا۔ وہ کاروبار کی باتیں کرنے لگے تھے چند ماہ بعد اس کا ایم بی اے مکمل ہونے والا تھا اور وہ اتنی شدت سے اسے بزنس کی طرف راغب کررہے تھے نئی کمپنیوں کے متعلق وہ اسے بتارہے تھے لیکن وہ محسوس کررہا تھا ذہنی طور پر وہ حاضر نہیں کسی اُدھیڑ بن میں لگے ہوئے ہیں۔
وہ کافی پی کر اٹھ گیا تھا یوسف صاحب نے ذہنی الجھن کے باعث اس سے وہ باتیں شیئر کرلی تھیں جو نارمل انداز میں کبھی بھی نہ بتاتے کیونکہ بات ساری تھی سیف فاروقی کا پُراعتماد لہجہ و بھرپور معنی خیز گفتگو ان جیسے نڈر و جہاں دیدہ بندے کو بھی پریشان کر گئی تھیں وہ یہ سوچ کر پریشان تھے کہ انجانے میں ماضی میں اس سے کیا ہوا تھا؟
ء…/…ء
عمرانہ مائدہ اور عروہ کے اصرار پر رضوانہ کے گھر رک گئی تھیں فون پر زید کو مطلع کیا تھا اسے ان کا وہاں رکنا بہت برا لگا تھا۔
’’مما… آپ کو میرا ذرا خیال نہیں ہے اگلے ہفتے آپ وہاں رکی تھیں اور اب پھر آپ وہاں رکنے کی بات کررہی ہیں‘ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’اب آپی اتنے پیار سے ٹھہرنے کا کہہ رہی ہیں تو کس طرح ان کا دل توڑ دوں بتایئے؟ ایک عرصے میں اپنوں کی قربت کو ترسی ہوں‘ اب مجھے اپنوں کی رفاقت سے سیری حاصل کرنے دیں۔‘‘ ان کے مخصوص انداز میں وہ ہی شکایت‘ خفگی و ناآسودگی تھی۔
’’مما… میں بھی آپ کے بغیر تنہا ہوجاتا ہوں‘ آپ کے بنا گھر گھر نہیں لگتا۔ آپ کو معلوم ہے نا کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘ مائدہ کی حمایت لینے پر ان ماں بیٹے کے درمیان غیر محسوس طریقے سے کچھ فاصلے آگئے تھے جن کو ختم کرنے کی اس نے ہر ممکن سعی کی تھی جبکہ عمرانہ اپنی ازلی ضدی و ہٹ دھرم طبیعت کے باعث پہل نہ کرسکی تھیں اور اس کے دل میں ماں کی محبت پہلے سے بھی دگنی ہوگئی تھی۔
’’آپ یہاں پر آجائیں یہ گھر بھی آپ کا اپنا ہے رضوانہ آپی بار بار اصرار کررہی ہیں کہ آپ بھی ادھر ہی آجائیں‘ آفٹر آل خالہ کا گھر بھی ماں کے گھر جیسا ہی ہوتا ہے۔‘‘ وہ پیار سے گویا ہوئیں۔
’’سوری مما… مجھے اپنے بیڈ روم کے علاوہ کہیں نیند نہیں آتی۔‘‘
’’یہ آپ کہہ رہے ہیں؟ اب اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں رہی ہے جب آپ لائونج میں سو سکتے ہیں تو خالہ کے گھر بھی نیند آجائے گی۔‘‘ ان کے طنز بھرے لہجے میں زہر تھا جو اس کی رگ رگ میں اترتا چلا گیا۔
’’لائونج گھر کا ہی حصہ ہے اور خالہ کا گھر ایک اجنبی گھر ہے مما…‘‘ اس نے موبائل رکھا اور گہرا سانس لے کر بیڈ پر ترچھا لیٹ گیا تھا‘ بہت خلوص سے کی جانے والی نیکی اس کے گلے کا طوق بن گئی تھی۔ شدید بے زاری و وحشت اس پر سوار ہوگئی تھی۔ دل میں بسنے والے لوگ ہی جب دل کو زخم دینے لگتے ہیں تو پھر ان زخموں کا مرہم کہیں دستیاب ہی نہیں ہوتا۔
’’زید میاں… کھانا لگادوں آپ کے لیے؟‘‘ بوا دستک دے کر اندر آئیں۔
’’صرف میرے لیے کھانا لگائیں گی بوا… سب لوگ کہاں ہیں؟‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے استفسار کرنے لگا۔
’’زمرد بہو اور منور میاں صوفیہ بیٹی کے ہمراہ ان کی نند چندا کے گھر عیادت کے لیے گئے ہیں۔ چندا کے شوہر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ بوا نے قریب آکر بتاتا۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا چائے لے آئوں بیٹا؟‘‘
’’شکریہ بوا… کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے‘ آپ آرام کریں۔‘‘ بوا باہر کی طرف قدم بڑھاتی ایک دم رکیں۔
’’ایک بات کہوں بیٹا… برا تو نہیں مانیں گے؟‘‘
’’جی کہں۔‘‘ اس نے چونک کر دیکھ کر کہا۔
’’وہ… وہ سودہ بیٹی کا پائوں جل گیا ہے نا…‘‘ وہ اس سے بات کرتے ہوئے گھبرا رہی تھیں کہ اس کے موڈ سے وہ بھی خوف زدہ رہتی تھیں کہ کب وہ بگڑ اٹھے کوئی پتا نہیں چلتا تھا۔
’’جی… مجھے معلوم ہے اس کا پائوں معمولی سا جلا ہے آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’ارے نہیں بہت زیادہ جل گیا ہے‘ اس بچی نے تکلیف میں جلے ہوئے پائوں پر ٹھنڈا پانی ڈال لیا ہے اور دیکھو اتنے بڑے بڑے آبلے ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ ہاتھ سے اشارے کرتی ہوئی بولیں‘ وہ سودہ سے کچھ زیادہ ہی محبت کرتی تھیں۔
’’ایسا کب کیا اس نے… پھوپو اور آپ کہاں تھیں؟‘‘
’’کمرے میں جاتے ہی اس نے پائوں پر پانی ڈال لیا تھا ہم تو بعد میں گئے ہیں‘ تکلیف ضبط کرنے کی عادت ہے نہ ان کی‘ کسی کو کیا پتا چلتا انہوں نے شاہ زیب کو بھی نہیں بتایا پائوں پر کپڑا ڈال کر رکھا ہوا تھا‘ وہ تو میں نے اتفاق سے ابھی پائوں دیکھا تو معلوم ہوا۔‘‘
’’میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں وہ آکر چیک اپ کرلیں گے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں میاں‘ وہ ڈاکٹر کو کبھی اپنا پائوں نہیں دکھائیں گی۔‘‘
’’نہیں دکھائے گی تو تکلیف کس طرح ختم ہوگی؟‘‘
’’وہ آپ ہی کرسکتے ہیں‘ آپ کے ہی قابو میں آئیں گی وہ‘ آپ سے بہت ڈرتی جو ہیں۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرائیں۔
’’مجھ سے ڈرتی ہے‘ میں نے کب ڈرایا ہے اس کو؟‘‘ وہ منہ بناکر گویا ہوا تو وہ جلدی سے بات بناکر گویا ہوئیں۔
’’میرا یہ مقصد نہیں تھا میاں… آپ کی بے حد عزت کرتی ہیں بہت احترام ہے ان کے دل میں آپ کے لیے‘ میں گواہ ہوں ان باتوں کی۔‘‘ وہ سٹپٹا کر جو زبان پر آیا بولتی چلی گئیں۔
’’آپ کیوں اس قدر پریشان ہورہی ہیں بوا… پریشان تو پھوپو جان کو ہونا چاہیے تھا جو بیٹی کو چھوڑ کر نندوئی کی عیادت کرنے گئی ہیں۔ بیٹی کی پروا نہیں ہے ان کو پھر آپ کیوں ہلکان ہورہی ہیں۔‘‘
’’کیا کروں میاں… سودہ بڑی مظلوم و صابر بچی ہے ان کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جاتی… اب بھی اتنی تکلیف کے باوجود ایک آہ نہیں نکلی ہے‘ بس خاموشی سے درد برداشت کیے جارہی ہیں۔‘‘ بوا نے اس کی محبت میں رونا شروع کردیا تھا۔
’’اچھا آپ روئیں نہیں میں چل رہا ہوں آپ کے ساتھ۔‘‘
ء…/…ء
’’اماں… کیا کررہی ہو؟ کیوں کسی غیر مرد کو کھلے عام گھر میں آنے کی اجازت دے رہی ہو؟ کس چیز کی کمی ہے تمہیں اماں؟‘‘
’’مجھے پتا تھا‘ معلوم تھا مجھے بس آنے والی ہے تیری کال‘ پہلی فرصت میں تجھے فون کیا ہوگا انشراح نے۔‘‘
’’مجھے نہیں تو کسی کرے گی کال؟ میرے علاوہ اور کون ہمدرد ہے اس کا؟ تمہیں نامعلوم کون سی لالچ و حرص نے گھیر لیا جو بالکل آنکھیں بند رکھنا چاہتی ہو۔‘‘ روشن بے حد غصے و تفکر میں مبتلا تھیں۔
’’لاریب کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے بہت بڑے مال دار گھرانے سے تعلق ہے اس کا پھر وہ انشراح میں دلچسپی رکھتا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں انشی کے لیے محبت دیکھی ہے پسند کرتا ہے وہ اسے۔‘‘
’’اماں… کیا ہماری انشی اتنی ہی بے مول و بے وقعت ہے کہ کوئی بھی تھوڑی سی سخاوت دکھا کر حاصل کرلے؟‘‘
’’تھوڑی سی سخاوت… ہا‘ دیکھنا تم میں کس طرح اس سے دولت اگلواتی ہوں‘ انشی سونے کی کان ہے سونے کی…‘‘
’’پلیز‘ اپنے منصوبے اپنے پاس ہی رکھیے‘ ایک زمانہ بیت گیا آپ کو اپنا تعلق اس بازار سے توڑے ہوئے‘ مگر دل میں آپ کے ابھی تک وہ بازار ہی بسا ہوا ہے جہاں ہوس و زر کا سودا ہوتا ہے اور رشتے کی ہر ڈور پیسے اور صرف پیسے سے بندھی ہوتی ہے۔‘‘ وہ بہت تلخ و کڑوے لہجے میں بولی تھی۔
’’خاموش ہوجا روشن…‘‘ وہ ایک دم ہی بھڑک کر گویا ہوئیں۔
’’آج تو نے مجھے بازاری ہونے کا طعنہ دیا ہے اور میں برداشت کر گئی مگر دوبارہ تیرے منہ پر یہ بات آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’تم سے برا تو صرف نصیب ہی ہوسکتا ہے اماں۔‘‘
’’کاش… نویرہ زندہ ہوتی میری۔‘‘
’’مرنے والے واپس نہیں آتے… اسپیشلی وہ جن کو ہم اپنے ہاتھوں سے مار کر دفن کردیتے ہیں۔‘‘ وہ استہزائیہ لہجے میں بولی۔
’’میں اپنی غلطی سدھار لوں گی‘ وہ ہی کررہی ہوں میں۔ نویرہ کی جگہ انشراح لے گی وہ نویرہ سے زیادہ حسین ہے۔‘‘
’’اماں… اماں… تم ایسا نہیں کرسکتیں پلیز…‘‘
’’پھر تم میرے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرو گی وعدہ کرو۔‘‘ ان کا انداز کاروباری ہوگیا تھا۔
’’میں کیسے وعدہ کرسکتی ہوں؟‘‘ وہ بلبلائی۔
’’پھر اپنے کام سے کام رکھو اور اعتبار کرو مجھ پر‘ میں ماں ہوں میرا تعلق اس بازار سے ضرور ہے لیکن میں نے تمہیں جائز جنم دیا ہے اور نہ ہی ناجائز کاموں کو پسند کرتی ہوں۔‘‘
’’اماں… پیاری اماں‘ پھر جب وہ سب کرنا ہی نہیں ہے تو پھر کیوں اس نوجوان لاریب کو فری کررہی ہو؟‘‘
’’اس عمر میں آکر مجھے بھی لاٹھی کی ضرورت پڑ رہی ہے۔‘‘
’’پرائے بیٹے کسی دوسرے کی ماں کی لاٹھی نہیں بنا کرتے۔‘‘
’’بن جاتے ہیں… بنانے کی صلاحیت ہو تو ہر کام ہوتا ہے۔‘‘ روشن آرأ کو ان کے لہجے سے تسلی ملی تھی یا اس نے فاصلوں کو درمیان میں رکھ کر خود کو بہلا لیا تھا اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد فون بند کردیا تھا۔
ء…/…ء
نوفل سیف فاروقی کی کھوج میں لگ گیا تھا‘ یوسف صاحب کو اس دن کچھ متفکر و پریشان دیکھ کر اس سے برداشت نہیں ہوا تھا اور وہ ان کے پاس سے اٹھ کر اس کے بارے میں معلومات لیتا رہا تھا۔ وہ فری لانسر تھا کسی ایک ادارے سے منسلک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی مستقل پتا ٹھکانہ تھا۔ پھر جیسے ہی اس کو معلوم ہوا وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا وہ کہیں روپوش ہوگیا اور پھر ملک سے ہی بھاگ گیا تھا۔
’’آپ کو اس شخص کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے تھا‘ یوسف کا تعلق جس فیلڈ سے رہا ہے وہاں دوستیاں کم اور دشمنیاں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ بھی کسی دشمن کی ہی چال ہوگی۔‘‘ ماما سے وہ ساری باتیں شیئر کرچکا تھا‘ اس کے چپ ہونے پر وہ نرمی سے گویا ہوئیں۔
’’وہ جرنلسٹ کے بہروپ میں ایک بلیک میلر ہے اور ایسے لوگ بے حد شاطر و مکار ہوتے ہیں‘ کیڑے مکوڑوں کی مانند جو معمولی سی بھی آہٹ سن کر اپنے بلوں میں چھپ جاتے ہیں۔‘‘
’’انسان اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی خود کو انسانیت کی سطح بھی گراچکا ہے نہ خود سکون سے زندگی گزارتا ہے اور نہ دوسروں کو چین سے رہنے دیتا ہے۔‘‘ وہ افسردہ ہوگئی تھیں۔
’’ماما… آپ یاد کریں پاپا کی کسی سے دشمنی یا بہت دوستی تھی پلیز ذہن پر زور دیں کیونکہ دشمن تو سامنے ہوتا ہے مگر اصل دشمن وہ ہوتا ہے جو دوستی کی آڑ میں دشمنی کرتا ہے۔‘‘
’’نہیں بیٹا… یوسف نہ زیادہ دوستیاں کرنے کے عادی تھے نہ دوستوں کی محفل میں ٹائم گزارنا پسند تھا اور نہ کسی سے دشمنی کرتے تھے۔‘‘
’’کوئی نہ کوئی تو پھر ہے جو وہ اس کی بکواس برداشت کرگئے ہیں۔‘‘ وہ گہرا سانس لے کر سوچ کر رہ گیا تھا۔
’’آپ اتنے فکرمند نہیں ہوں‘ آج کل لوگ راتوں رات امیر بننے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ وہ بزدل بھاگ گیا ہے‘ اب لوٹ کر آنے والا نہیں‘ اس کو آپ کی پاور کا انداز نہیں تھا‘ تب ہی اس نے ٹکرانے کی کوشش کی تھی۔‘‘
’’جی‘ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ماما‘ وہ اب واپس نہیں آئے گا۔‘‘ وہ ان کے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا رہا پھر اٹھ گیا‘ ماما کو اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ واپس نہیں آئے گا لیکن دل الجھن کا شکار تھا۔ وہ لانگ ڈرائیو پر نکل آیا تھا‘ ذہن بہت ساری الجھنوں کی آماجگاہ بن گیا تھا‘ غصہ و کبیدگی انسان کی عقل کو کھا جاتی ہے کچھ دن قبل اس کے باپ کی برسی تھی اور اس دوران ماضی کے گرداب میں وہ اس طرح جکڑا رہتا تھا کہ حواسوں پر ماں کے بے باک کردار اور باپ کی مظلومیت و شرافت بھری زندگی کا لمحہ لمحہ ذہن کی اسکرین پر چلتا تھا اور شدید اذیت کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا اور اس دوران اس پر ایک وحشت طاری ہوجاتی تھی اور اسی وحشت میں وہ انشراح سے لڑ پڑا تھا اور نہ صرف لڑا تھا بلکہ جنون میں اسے چوٹ بھی لگائی تھی پھر لاریب کے ہمراہ اس کو دیکھ کر منفی خیالات ابھرے تھے اور اب کئی ہفتے گزرنے کے بعد وہ ماضی سے باہر نکلا تو محسوس ہوا ایک عورت کا فعل دوسری عورتوں کے نام لگانا سراسر زیادتی و ظلم ہے۔
انشراح سے کہا گیا لفظ لفظ اسے یاد آنے لگا تھا اور وہ شرمندہ ہوتا چلا گیا تھا۔ ایک غیر و لاتعلق لڑکی کی زندگی میں مداخلت کرنے کا اس کو حق حاصل نہیں تھا اور وہ اس کے متعلق سوچتا ہوا جارہا تھا معاً اسے لگا روڈ کی دوسری جانب وہ موجود ہے۔ پہلے تو وہ اسے اپنی سوچ کا وہم لگی مگر پھر بغور دیکھنے پر معلوم ہوا وہ وہی تھی‘ نوفل ٹرن لے کر اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ کار سے باہر نکل آیا تھا‘ انشراح کار رکتے دیکھ کر چونکی اور اسے دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی تھی۔
’’پائوں میں تکلیف ہونے کے باوجود آپ تنہا ہیں اور پیدل چل رہی ہیں‘ کسی کو ساتھ لانا چاہیے تھا آپ کو۔‘‘ اس کا لہجہ پُروقار و مہذب تھا کہ کوئی سن لیتا اس کو اس انداز میں گفتگو کرتے ہوئے تو قطعی یقین نہیں کرتا کہ اس لہجے کے پیچھے ایک اجڈ و جنگلی زبان بھی کوئی رکھتا ہے۔
’’ایکسکیوز می… میں آپ سے مخاطب ہوں‘ ہوائوں سے بات نہیں کررہا۔‘‘ وہ اس کو مسلسل خاموش دیکھ کر اس کا راستہ روک کر گویا ہوا۔
’’آپ کو کسی کی تکلیف کا احساس کب سے ہونے لگا؟ آپ تو درد دینے والے ہیں‘ زخم لگانے والے اور اس طرح راستہ روکنے کا مقصد کیا ہے آپ کا؟ راستہ چھوڑیں میرا پلیز۔‘‘ وہ اس کے نرم رویے سے متاثر نہ ہوئی تھی۔ نوفل نے نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کی تھیں۔ کاسنی و سیاہ امتزاج کے سوٹ میں اس کی موتیا جیسی رنگت خاصی نمایاں تھی‘ سادہ انداز میں باندھے گئے جوڑے سے کئی لٹیں بکھر کر چہرے کے گرد پھیل گئی تھیں‘ اس سادگی میں جازبیت و رعنائی تھی۔
’’ایم سوری‘ میں شرمندہ ہوں یوں تکلیف دینے پر۔‘‘ وہ حسن و رعنائی سے بھرپور چہرہ کسی اور چہرے میں مدغم ہونے لگا تھا اور وہ عود کر آنے والی وحشتوں سے نبرد آزما اس سے مخاطب ہوا تھا۔
’’مجھے آپ کے سوری کی ضرورت بالکل بھی نہیں… آپ جاسکتے ہیں۔‘‘ یہ پوش علاقہ تھا لوگوں کی آمدورفت و ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔
’’اوکے‘ جیسے آپ کی مرضی‘ آئیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘ اس نے گلاسز لگاتے ہوئے درخواست کی۔
’’نہیں چاہیے آپ کی مہربانی‘ ابھی کیب مل جائے گی‘ آپ جائیں۔‘‘
’’کیب نہیں ملے گی اس ایریا میں کیب بہت کم ہوتی ہیں اور آپ کے پائوں میں درد ہورہا ہے‘ آپ نہ زیادہ دور تک چل سکتی ہیں نہ کھڑی رہ سکتی ہیں‘ اب ضد ختم کریں چلیں میرے ساتھ۔‘‘ انشراح نے غصے سے اس کی طرف دیکھا لائٹ بلو جینز و ملٹی لائنز شرٹ میں اس کا وجیہہ سراپا نمایاں تھا۔ سیاہ گلاسز اس کی وجاہت کو کچھ زیادہ دلکش بنارہے تھے‘ خوشبوئوں سے مہکتا سراپا وہ جانتی تھی اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس کی آفر پر اپنا آپ نچھاور کردیتی لڑکیاں ایسے ہی دیوانہ وار نثار تھیں اس پر۔
’’میرا ٹائم ضائع مت کرو‘ جلدی کرو۔‘‘ وہ جزبز ہوا‘ اس کی نگاہیں نفیس سی سیاہ چپل میں مقید اس کے برف کی مانند سفید پائوں پر تھیں اس کا دایاں پائوں پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
’’میں نے کہا نہ میں آپ کے ساتھ نہیں جائوں گی‘ اعتبار نہیں ہے آپ پر‘ میں آپ پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہتی۔‘‘ وہ بے اعتباری عبور کر گئی تھی‘ کچھ ایسا ہی لہجہ تھا اس کا کہ اپنی وحشت و جنون کو اندر ہی اندر تھپکتے نوفل کو ضبط کی لگامیں تھامنی بڑی مشکل ہوگئی تھیں۔
’’کس اعتبار و بھروسے کی بات کررہی ہو تم؟‘‘ وہ ایک دم طیش میں آیا۔
’’مجھ سے پہلے تم نے کسی سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ مانگا ہے اور کیا سمجھتی ہو تم خود کو؟ کبھی خود پر نگاہ ڈالی ہے سوچا ہے اپنے بارے میں؟‘‘
’’مجھ پر چلانے کا کوئی حق نہیں ہے تمہیں جائو یہاں سے ورنہ میں ابھی شور مچا کر لوگوں کو جمع کرلوں گی اور بتائوں گی تم مجھے زبردستی اغوأ کرنا چاہتے ہو۔‘‘ وہ بھی دوبدو نڈر لہجے میں گویا ہوئی۔
’’کسی کے باپ میں طاقت نہیں ہے جو مجھے انگلی بھی ٹچ کرسکے۔‘‘ انشراح کی ہتک آمیز گفتگو و تذلیل آمیز انداز نے اس کے اندر کے وحشی و جنونی شخص کو بیدار کردیا تھا‘ لمحے بھر میں وہ آپے سے باہر ہوگیا تھا۔
’’اغوأ کررہا ہوں میں تمہیں‘ بلائو تم لوگوں کو…‘‘ اس نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا اور کھینچتا ہوا گاڑی تک لے آیا تھا۔
ء…/…ء
’’اسٹوپڈ… کس نے کہا تھا پانی ڈالنے کے لیے‘ کیا حشر کرلیا ہے؟‘‘ وہ اس کا آبلوں سے بھرا پائوں دیکھتا ہوا آہستگی سے گویا ہوا۔ شدید تکلیف و درد کے مارے اس کی حالت ابتر تھی‘ دل کررہا تھا چیخ چیخ کر روئے مگر خواہش کے باوجود وہ ایسا نہیں کرسکی تھی کہ بچپن سے ہر تکلیف و دکھ چھپانے کی عادی تھی۔ نامعلوم کس طرح سے اسے خبر ہوگئی تھی جو ہمیشہ بے خبر رہتا تھا۔ فرسٹ ایڈ بکس کارپٹ پر رکھ کر وہ بھی اس کارپٹ پر بیٹھ گیا اور بہت آہستگی سے اس کا پائوں اپنے ہاتھ میں لے کر معائنہ کرنے لگا۔ اس نے ہاتھ پر رکھے اس کے پائوں کو کانپتے ہوئے دیکھا اور بے ساختہ اس کی طرف نگاہ اٹھی تھی۔
’’زید… بھائی یہ کیا کررہے ہیں آپ؟‘‘ اس کی آواز بھیگی تھی۔
’’یہ کھال مجھے قینچی سے ہٹانی ہوگی اگر کھال نہ ہٹائی گئی تو زخم خراب ہونے کے ساتھ ساتھ درد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔‘‘
’’نہیں… زید بھائی‘ پائوں ٹھیک ہوجائے گا آپ قینچی استعمال نہ کریں‘ میں دوا لگاتی رہوں گی۔ یہ آبلے ایسے ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ اس کے ہاتھ میں قینچی دیکھ کر وہ رو دی۔
’’بے وقوفی تم پہلے ہی کرچکی ہو‘ پانی نہ ڈالتیں تو یہ آبلے بنتے ہی نہیں‘ اب یہ مردہ کھال ہے اس کو ہٹائے بغیر نہ سکون ملے گا نہ درد کم ہوگا۔‘‘
’’آپ رہنے دیں پلیز۔‘‘ تکلیف کا احساس مستزاد اس کے ہاتھ میں مقید اپنا پائوں اسے عجیب سے احساس سے دوچار کررہا تھا پھر گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بوا بھی عشاء کی نماز کی ادائیگی کے لیے گئی ہوئی تھیں اور کافی دیر بعد بھی آنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
’’آرام سے بیٹھو‘ کیوں اس قدر گھبرا رہی ہو۔ میں تمہارے زخموں کو صاف کرنے آیا ہوں‘ تمہیں کھانے کی نیت نہیں ہے میری۔‘‘ وہ اس کی سراسیمگی و گھبراہٹ سے چڑ کر بولا۔
’’گھر میں کوئی بھی نہیں ہے آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا اگر ممانی اور مائدہ آگئیں تو ایک طوفان آجائے گا گھر میں‘ جانتے ہیں ناں آپ۔‘‘
’’آجانے دو پہلے بھی میری نیت پاک تھی اور اب بھی میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں اور آج گھر میں بوا ہیں وہ ہی بلا کر لائی ہیں مجھے۔ اندر اس لیے نہیں آئی ہیں کہ تمہیں درد سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘ اس نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے قینچی سے آبلوں کی صفائی شروع کردی تھی‘ سودہ بہت ہمت سے کوئی آواز نکالے بغیر بیٹھی رہی تھی۔ وہ بہت مہارت سے قینچی استعمال کررہا تھا اور ابھی وہ ڈریسنگ کررہا تھا تب مدثر صاحب چلے آئے‘ پیچھے بوا بھی آرہی تھیں۔
’’کیسی ہو بیٹا… کس طرح چائے گر گئی؟ زیادہ تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘ وہ پریشان لہجے میں کہتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے‘ اندر زید کو اس کی ڈریسنگ کرتے دیکھ کر ٹھٹک گئے تھے۔ اس کا ہاتھ بھی ان کی غیر متوقع آمد پر لمحے بھر کے لیے رک سا گیا تھا۔
دوسرے پل ان کی آنکھوں میں طمانیت بھری چمک سی ابھری تھی اور وہ سودہ کی پیشانی چومنے کے بعد اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولے۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ ڈریسنگ کرکے کھڑے ہوتے ہوئے زید نے ان کے مصافحے کے لیے بڑھے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ بہت تکلف و اجنبیت تھی طرز تخاطب میں گویا وہ بیٹا نہیں بیگانگی کی سب سے بلند شاخ پر بیٹھا کوئی غیر شخص ہو۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ بہت بے دلی سے ان کے ہاتھ کو چھوکر دور ہوا تھا۔
’’ارے زید میاں… کہاں جارہے ہیں آپ‘ بیٹھیں میں چائے لارہی ہوں۔‘‘ بوا اس کو دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کر کہنے لگی تھیں۔
’’شکریہ بوا…‘‘ وہ نفی میں گردن ہل کر چلا گیا‘ مدثر صاحب کا دل چاہا بڑھ کر اسے روک لیں اور کہیں مدت بعد وہ اسے بدلے روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ روپ جس سے اپنائیت کی خوشبو آرہی ہے‘ بہت مانوس اپنا اپنا لگ رہا ہے وہ ان کے سینے سے لگ جائے کہیں نہ جائے۔ وہ سوچتے رہ گئے اور وہ چلا گیا وہ خود بھی ایسے جذبات سے مغلوب ہوکر گیا تھا اور اس کا دل بھی کہہ رہا تھا گزری سب باتیں بھلا کر ان کے سینے سے لگ جائے اور بتائے اس کو اور مائدہ کو بھی ان سے ایسی ہی محبت درکار ہے جتنی وہ سودہ سے کرتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوا تھا‘ سوچیں صرف ذہنوں تک ہی محدود رہی تھیں نہ انہوں نے پہل کی تھی نہ وہ رکا تھا۔ حسرتیں مزید طویل ہوگئی تھیں‘ محبتیں‘ چاہتیں و اپنائیتیں محض دلوں میں پروان چڑھانے کا دور بیت چکا ہے اب محبتوں کا اقرار‘ چاہتوں کا اظہار اور اپنائیتوں کا انداز رشتوں کو مضبوطی و استحکام بخشتا ہے وگرنہ یہ خاموشی تشنگی بن کر نفرتوں اور فاصلوں کی خلیج بن جاتی ہے۔
’’مدثر میاں… آپ تو یہاں کا راستہ ہی بھول گئے ہیں اگر شاہ زیب میاں سودہ پر گرم چائے گرنے کا نہ بتاتے تو آپ آج بھی نہیں آتے۔‘‘ بوا نے شکایتی انداز میں کہا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے بوا… بس ذرا آج کل بزنس میں مصروف تھا پھر شاہ زیب کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بھی نہیں آسکا تھا۔‘‘
’’ماموں جان… آپ کی طبیعت ٹھیک ہے‘ بہت کمزور ہورہے ہیں؟‘‘ سودہ کو وہ پہلے سے بے حد کمزور لگے تھے۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا‘ آپ آرام کریں بہت درد ہورہا ہوگا‘ پائوں زیادہ جل گیا ہے۔‘‘ وہ محبت سے بولے۔
’’عمرانہ اور مائدہ گھر میں نہیں ہیں؟‘‘
’’جی‘ وہ رضوانہ بیگم کے گھر گئی ہوئی ہیں کل آئیں گی۔‘‘
’’اچھا زید خود ہی ڈریسنگ کرنے آیا تھا یا بلایا تھا؟‘‘
’’ارے وہ خود کہاں آنے والے ہیں‘ میں گئی تھی بلانے۔ سودہ بیٹی کی تکلیف مجھ سے برداشت کہاں ہوتی ہے پھر موقع بھی اچھا تھا عمرانہ بہو گھر پر نہیں تھیں اس لیے میں ان کو خود بلا کر لے آئی تھی۔‘‘ وہ ان کو چائے تھماتی ہوئی بتانے لگیں۔
’’ہاں وہ عورت نما فتنہ ہے اس سے جتنا دور رہا جائے بہتر ہے۔‘‘
’’صالحہ کیسی ہیں؟‘‘ وہ موقع دیکھتے ہی پوچھ بیٹھیں۔
’’ٹھیک ہی ہیں صالحہ بہت چاہتی ہے یہاں آنا آپ لوگوں سے ملنا لیکن عمرانہ کبھی نہیں چاہے گی صالحہ یہاں آئے۔‘‘
ء…/…ء
’’بالی… او بالی… کہاں مر گئی ہے کم بخت؟‘‘ جہاں آرأ کچن میں کام کرتی بالی کو آوازیں دیتی ہوئی آئیں۔
’’پاستا بنا رہی ہے یا پائے؟ تجھے کہا تھا انشراح کو بھیج میرے پاس ابھی تک کمرے میں ہے؟‘‘
’’وہ گھر میں نہیں ہیں۔‘‘ بالی پاستا میں دیگر مصالحوں کو ملاتی ہوئی بولی‘ اس کی بات پر ان کو شاک ہوا تھا۔
’’کہاں گئی ہے اور کب؟ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں اسی ٹائم؟‘‘
’’لاریب صاحب کی کار اندر آئی تھی ان کے اندر جاتے ہی وہ گھر سے چلی گئی تھیں‘ یہ کہہ کر وہ لاریب صاحب کے جانے کے بعد ہی آئیں گی۔‘‘
’’پائوں میں پہلے ہی اتنی تکلیف تھی رات بے دھیانی میں‘ میں اس کے پائوں پر چڑھ گئی تھی‘ خون ہی خون ہوگیا تھا پائوں‘ زخم اور گہرے ہوگئے تھے۔ میں نے تکلیف کی وجہ سے یونیورسٹی بھی نہیں جانے دیا تھا اور اب وہ لاریب کو دیکھ کر ایسے گھر سے گئی ہے جیسے وہ کوئی ڈریکولا ہو۔‘‘
’’ماسی… لاریب صاحب روز روز گھر کیوں آجاتے ہیں؟‘‘
’’اے بذات یہ اب تو فیصلہ کرے گی کہ کون گھر میں کیسے آئے گا؟ اوقات میں رہ اپنی‘ تجھے یہ فیصلہ کرنے کا حق ہی نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے اپنی اوقات یاد رہتی ہے لیکن انشراح آپ کی ان ہی باتوں سے آپ سے دور ہوتی جارہی ہے اس کا خیال کریں ماسی۔‘‘ پاستا تیار کرنے کے بعد وہ کباب فرائی کررہی تھی۔
’’کال کرتی ہوں اسے ابھی۔‘‘
’’وہ موبائل گھر پر ہی چھوڑ کر گئی ہے تاکہ آپ اس کو تنگ نہ کرسکیں۔ میں نے کہا بھی لے جائو‘ لیکن وہ لے کر نہیں گئی۔‘‘ وہ اس کو گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔
لاریب بڑی بے تابی سے دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا اس کی نگاہیں انشراح کی دید کی پیاس سے ترس رہی تھیں اس کی خاطر وہ اپنی بیرونی سرگرمیاں ترک کیے ہوئے تھا۔ جہاں آرأ پر دولت لٹا رہا تھا کہ جانتا تھا اس شاطر و لالچی بڑھیا کو رام کرکے انشراح کو پاسکتا تھا۔ انشراح وہ گولڈ فش تھی جو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی پھسل جاتی تھی۔
’’آپ انشراح کو بلانے گئی تھیں آنٹی… کہاں ہیں وہ؟‘‘ وہ ان کو تنہا آتے دیکھ کر سخت بدمزہ ہوا تھا۔
’’وہ میڈیسن لے کر بے خبر سو رہی ہے‘ بہت درد ہے بچی کے پائوں میں‘ دراصل رات وہ یہاں بیٹھی بالی کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہی تھی‘ لائٹس آف تھیں میں نے یہاں آتے ہوئے دیکھا نہیں اور اس کے زخمی پائوں پر چڑھ گئی اور مت پوچھیں کیا حال ہوا اس کا؟‘‘ وہ ایک جھرجھری لے کر گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’اوہ ویری سیڈ… پھر تو بہت درد ہوا ہوگا؟‘‘
’’تبھی تو نیند کی دوائی دے کر سلایا ہے تاکہ اٹھے تو فریش ہو۔‘‘
’’کب تک بیدار ہوں گی وہ؟ میرا مطلب ہے میرے بہت اعلیٰ و بہترین ڈاکٹر سے تعلقات ہیں میں ان کو وہاں دکھا دیتا۔‘‘
’’شاید… صبح ہی اٹھے گی وہ اور اگر جلد اٹھ بھی گئی تو کسی طور ڈاکٹر کے یہاں جانے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ میں بھی ڈاکٹر سے ہی بینڈیج کروا رہی ہوں۔’’ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی بولیں۔
ء…/…ء
انشراح اس کی جنونیت پر دم بخود کھنچتی چلی آئی تھی پھر اس نے اسے بازو سے اس انداز میں پکڑا کہ دور سے دیکھنے والا یہی سمجھے گا کہ کوئی کپل ایک دوسرے کا بازو تھامے جارہے ہوں۔
’’میں تمہیں جان سے مار دوں گی‘ چھوڑو مجھے…‘‘ حیرانی و بے یقینی کی کیفیت سے وہ باہر نکلی تو تڑپ کر چیخی اور تب تک وہ گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا۔
’’میں کہتی ہوں کار روکو… روکو کار…‘‘
’’خوب چیخو چلائو‘ بلائو اپنی مدد کے لیے لوگوں کو۔‘‘ وہ ایک ہاتھ سے کار ڈرائیور کررہا تھا دوسرے ہاتھ سے اس کے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو روکتے ہوئے تمسخر سے کہہ رہا تھا۔
’’تم جیسی عورتیں ہوتی ہیں جو مردوں کو سیدھے راستے پر چلنے نہیں دیتیں خود تو غلط ہوتی ہیں ساتھ میں مردوں کو بھی غلط کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔‘‘ وہ زہرخند لہجے میں کہہ رہا تھا۔
’’مجھے نہیں پتا تم کن عورتوں کا ذکر کررہے ہو؟ کس عورت نے تمہیں ذہنی مریض بنادیا ہے کہ ہر لڑکی میں تمہیں وہی نظر آتی ہے یہ کیسا انصاف ہے کہ تم سب کو سزا ایک عورت کی غلطی کی دو گے؟ ہر لڑکی‘ ہر عورت کو غلط سمجھو گے؟‘‘ اس کے آہنی حوصلوں کے آگے اس کی مزاحمت دم توڑ گئی تھی کار میں بلائنڈ گلاسز لگے ہوئے تھے مدد کس سے طلب کرتی؟ دونوں کے درمیان تنفر و غصہ اس قدر تھا کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے آپ کی جگہ تم استعمال کررہے تھے۔
’’ہر لڑکی‘ ہر عورت غلط نہیں ہوتی صرف تم جیسی غلط ہوتی ہیں۔‘‘
’’کیا کیا ہے میں نے تمہارا… کس جرم کی سزا دے رہے ہو؟ کار روکو بہت ہوگیا ہے یہ پاگل پن ختم کرو اب۔‘‘ وہ مچلی۔
’’لاریب کو میں غلط سمجھتا رہا اس کو سمجھاتا رہا کہ وہ عورت کو کھلونا نہ سمجھئے عزت کرے عورت کی لیکن میں یہاں غلط تھا صحیح کرتا ہے وہ جو تم جیسی لڑکیوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے۔‘‘ نوفل اس کی بات کہاں سن رہا تھا وہ کسی اور دنیا میں گم تھا۔ جس شخص کی غلیظ نگاہوں کی حدت سے بچنے کے لیے درد کرتے پائوں کے ساتھ وہ گھر سے نکل آئی تھی اور وہ اس کا ہی حوالہ دے رہا تھا۔
’’تم اور تمہارا وہ کمینہ بھائی دنیا کے ذلیل ترین انسان ہو۔‘‘ وہ نفرت بھرے انداز میں بول گئی۔
’’شٹ اپ… شٹ یو مائوتھ۔‘‘ وہ بری طرح چیخا۔
’’یو شپ اپ اینڈ شٹ یور مائوتھ۔‘‘ وہ اسی انداز میں غرائی۔
’’اس دنیا کو تم لوگوں نے اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔‘‘
’’میرے باپ کا نام مت لو ورنہ میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا۔‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے دھاڑا۔
’’اوکے… نہیں لیتی اب تم بھی کار روکو اور مجھے جانے دو۔‘‘ اس نے سوچا تحمل سے بات کی جائے کہ آگ سے آگ مل کر بھڑکتی ہے بجھتی نہیں ہے پھر وہ خود کو اس کے سامنے کمزور محسوس کررہی تھی اور جس طرح سے وہ گھسیٹ کر لایا تھا پائوں کی انگلیاں مزید گھائل ہوگئی تھیں جن سے خون رسنے کے ساتھ ہی ٹیسیں بھی اٹھنے لگی تھیں۔
’’ابھی تم کہہ رہی تھیں میں دنیا کا ذلیل ترین انسان ہوں اور تم نے اس ذلیل ترین انسان سے یہ اسپیکٹ کس طرح کی کہ میں تمہیں اتنی آسانی سے جانے دوں گا؟‘‘ وہ گئیر بدلتا ہوا اس کی طرف دیکھ کر گمبھیر لہجے میں بولا۔
’’کیا مطلب… کیوں نہیں جانے دیں گے آپ مجھے؟‘‘
’’اوہ آپ…! یہ اچانک اتنی عزت کے لائق کیسے ہوگیا میں؟‘‘ بڑی کاٹ دار مسکراہٹ لبوں پر نمودار ہوئی۔
’’دنیا کا ذلیل ترین انسان بھلا اس قابل کہاں ہوتا ہے کہ اس سے آپ جناب سے گفتگو کی جائے مجھے تم سنگسار کرو۔‘‘
’’پلیز جو ہوا میں اس پر شرمندہ ہوں‘ معذرت کرتی ہوں مجھے جانے دیں۔ میرے گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے‘ بہت وقت گزر گیا ہے۔‘‘ اور اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ کار کس راستے پر لے جارہا تھا‘ البتہ راستہ سنسان و ویران تھا۔ اس کے وجیہہ چہرے پر عجیب وحشت و درندگی چھائی ہوئی تھی اور وہ مارے دہشت کے اس سے چھٹکارا پانا چاہ رہی تھی۔
’’یہ بھی تم جیسی عورت کی چال ہوتی ہے ساری مکاری‘ ساری چالاکی و فریب تم میں اس عورت جیسی بھری ہوئی ہے جس سے میں نفرت سے بھی زیادہ نفرت کرتا ہوں۔ وہ اس وقت میرے ہاتھوں سے بچ گئی تھی کہ میں اس وقت اس قابل نہیں تھا لیکن تم میرے ہاتھوں سے نہیں بچوگی۔‘‘ اس کے لہجے نے اس کی رگ و پے میں سنسنی سی دوڑا دی تھی خوف کی شدید لہر اس کے اندر دوڑتی چلی گئی تھی۔ اس کے وجیہہ چہرے پر نرمی و ملائمت کا شائبہ تک نہیں تھا‘ محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ وہ ہی نوفل ہے جس کے چہرے پر نرمی و انداز میں شائستگی رہتی تھی۔ بے شک وہ صنف مخالف سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتا تھا مگر عاکفہ وغیرہ سے بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں ایسی درندگی و چہرے پر وحشت نہ ہوتی تھی۔
’’پلیز اسٹاپ دا کار۔‘‘ پہلی بار اس کا خوف و بے بسی سے واسطہ پڑا تھا۔
’’خاموش بیٹھی رہو۔‘‘ کار کی اسپیڈ مزید بڑھ گئی تھی۔
’’کہاں لے کر جارہے ہیں؟‘‘
’’دنیا کے اس پار۔‘‘
’’میری مرضی و اجازت کے بنا تم مجھے کہیں نہیں لے جاسکتے سمجھے تم؟‘‘ وہ بپھری ہوئی اس کے ہاتھوں پر جھپٹی اور وہ جو اس سے اس قدر جرأت کی توقع نہیں کررہا تھا۔ سنبھالتے سنبھالتے بھی اسٹیئرنگ اس کے ہاتھوں سے بے قابو ہوا اور کار بے قابو ہوکر ایک ٹیلے سے جاٹکرائی تھی۔
ء…/…ء
’’بھائی جان اتنے دنوں بعد آئے اور اتنی جلدی چلے بھی گئے تھوڑا ہمارے آنے کا انتظار ہی کرلیتے میرا تو بہت دل چاہ رہا تھا ان سے ملنے کے لیے۔‘‘ وہ لوگ گھر آئے تو معلوم ہوا مدثر صاحب آئے تھے اور کچھ دیر سودہ کے پاس بیٹھ کر چلے گئے تب سے صوفیہ کا دل بھائی کی محبت میں تڑپ رہا تھا۔
’’شاہ زیب کے بتانے پر وہ اپنی لاڈلی کی عیادت کو آئے تھے مدثر میاں کی طبیعت بہتر نہ لگ رہی تھی بہت کمزور ہوگئے ہیں وہ۔‘‘ بوا بھی اپنا کام نبٹا کر ان کے درمیان بیٹھ گئی تھیں۔
’’بوا آپ معلوم کرتیں ان سے طبیعت کے بارے میں ایک عرصے سے وہ یہاں آرہے ہیں نہ کوئی رابطہ کیا ہے۔‘‘ زمرد نے کہا۔
’’پوچھا تھا میں نے ٹال گئے تھے مجھے تو۔‘‘
’’عمرانہ بھابی کی وجہ سے ہم صالحہ بھابی سے مل بھی تو نہیں سکتے۔‘‘
’’صالحہ سے مل کر ہم گھر میں نئے فساد کو دعوت دینے کی حماقت نہیں کرسکتے‘ تم بتائو تمہارا کیا ارادہ ہے اچھی بیگم بضد ہے سودہ کو بہو بنانے پر کسی طور ٹل ہی نہیں رہیں؟‘‘ زمرد کشن ٹانگوں کے نیچے رکھتے ہوئے بولیں۔
’’میرے ارادے کی کیا بات کرتی ہیں آپ بھابی‘ اچھی آپا نے ہمیشہ سے ہی ہر چیز پر اپنی اجارہ داری رکھی ہے۔ اب سودہ پر بھی دھونس سے کام لے رہی ہیں‘ محبتوں میں دھونس و زبردستی چلا کرتی ہے بلاوجہ کی دادا گیری میں بات مانی جاسکتی نہ منوائی جاسکتی ہے۔‘‘
’’کچھ لوگوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے پھر بھی تم سوچ لینا صوفیہ‘ اچھی کا بیٹا ماں بہن سے بہت مختلف تھا سلجھا ہوا مہذب و بااخلاق۔‘‘
’’بھابی‘ ہمارے گھر میں بہوئیں بیٹوں کے نکاح میں بندھ کر آتی ہیں مگر حقیقت میں ان کو تعلق سسرالیوں سے استوار کرنے پڑتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ میں نے سودہ کو جنم دیا ہے پالا پوسا آپ نے ہے مجھ سے زیادہ سودہ پر آپ کا اور دونوں بھائیوں کا حق ہے جہاں آپ لوگ مناسب سمجھیں اس کا رشتہ طے کردیں یہ حق میں نے آپ لوگوں کو دیا۔‘‘
’’مناسب کی بات بھی کیا کہی ہے تم نے صوفیہ بیٹی‘ ان بچوں کے علاوہ میری بھی آرزو یہی رہی ہے کہ سودہ اور زید میاں کی جوڑی بن جائے وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوب صورت لگیں گے۔‘‘ بوا نے فوراً کہا۔
’’آئندہ ایسی بات خواب میں بھی مت سوچئے گا بوا…‘‘ صوفیہ منہ بناکر گویا ہوئیں۔
’’عمرانہ جیسی عورت بہو کو بھی ٹی بی لگا کر مار دے گی‘ وہ صرف زید کو اپنی غلامی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے۔ زید کو کسی اور کے ساتھ وہ برداشت ہی نہیں کریں گی اور زید وہ پہلے ہی ماں کے اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچتا ہے وہ وہی کرے گا جو اس کی ماں کہے گی۔‘‘ صوفیہ کے لہجے میں تنفر تھا۔
’’تمہارے خدشے بھی درست ہیں صوفیہ… لیکن بوا نے جو آرزو بیان کی ہے وہ سچ مچ ہمارے دلوں کی اولین خواہش ہے سودہ اور زید کو ساتھ دیکھنا لیکن عمرانہ کسی طور سودہ کو قبول نہیں کرے گی۔ اسی وجہ سے کبھی اس خواہش کو ظاہر ہی نہیں کیا حالانکہ زید کو راضی کرنا مشکل نہیں…‘‘ زمرد نے آہ بھرتے ہوئے دل کی بات کی۔
’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں بڑی بیگم‘ زید میاں میں تبدیلی آرہی ہے جس طرح وہ میرے کہنے پر فوراً چلے آئے تھے سودہ کے چھالے صاف کرنے‘ میں بھی حیران رہ گئی تھی۔‘‘
ء…/…ء
کار ٹیلے سے ٹکرا کر رک گئی اور اس کا سر پوری طاقت سے اسٹیئرنگ سے ٹکرایا تھا چند لمحے اس کا سر چکرا کر رہ گیا تھا مگر پھر فوراً ہی وہ سنبھلا اور انشراح کی طرف دیکھا۔
وہ سیٹ سے تقریباً گری ہوئی بے سدھ تھی اس نے گہری سانس لے کر اپنے منتشر اعصاب کو یکجا کرنے کی سعی کی… اس کی حالت ایسی تھی جیسے بے تحاشا بھاگتے ہوئے طویل سفر کیا ہو۔ سالوں کا سفر‘ اذیت کا سفر‘ ہوش و خرد سے بے گانہ کردینے والی وحشت کا سفر جس کی مسافت خاردار تھی۔ روح کو زخم زخم کرنے والی اور وہ جب اس دشت خار سفر میں سرگرداں ہوتا تھا تو پھر بدل جاتا تھا اس کی شائستگی و مہذب انداز بدل کر رہ جاتا تھا۔ وہ جس جنون میں انشراح کو لے کر آیا تھا وہ اب تحلیل ہوگیا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا وہ کسی ڈرائونے خواب سے بیدار ہوا ہو۔
’’مائی گاڈ… اس بچپن کے آسیب کی قید سے میں کب رہائی پائوں گا؟‘‘ بڑبڑاتے ہوئے وہ انشراح کی طرف دیکھ رہا تھا جو بے ہوش تھی اور بے ترتیب انداز میں گری ہوئی تھی۔ وہ جو جنون میں اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا لے آیا تھا‘ اب حواس ٹھکانے آنے پر وہ اس کو بے ہوشی میں بھی چھونے پر شش و پنج میں مبتلا تھا۔ کچھ دیر تک وہ بیٹھا سوچتا رہا کس طرح ہاتھ لگائے‘ یہ بہت مشکل مرحلہ تھا ماما کے علاوہ وہ گھر کی عورتوں سے بھی فاصلے پر رہتا تھا صرف ایک ماما تھیں۔ جن کے مقدس لمس میں سکون و اپنائیت تھی لیکن اس لڑکی کو ہاتھ لگانا جو غیر و ناپسندیدہ تھی جس کی بولڈ نیس اور کانفیڈنٹ میں اس عورت کی پرچھائیاں دکھائی دیتی تھی اور یہی وجہ بنی تھی اس سے تکرار و نفرت کی جو اس کی دہری شخصیت کی وجہ بنی تھی۔
کچھ منٹ اور اس تگ و دو میںگزرے تھے‘ آس پاس کوئی نہیں تھا۔ چھوٹے بڑے ٹیلوں اور خودرو جھاڑیوں و پیڑوں سے یہ کچا پکا علاقہ بھرا پڑا تھا۔ آبادی کا دور دور تک نشان نہ تھا‘ کوئی مدد کے لیے دستیاب نہ تھا نا چار یہ ناپسندیدہ کام اسے ہی کرنا تھا‘ اس نے جھجکتے ہوئے بے حد آہستگی سے اس کے بازو پکڑتے ہوئے سیدھا کیا تھا۔ اس کا چہرہ بازو پر آکر ٹک گیا تھا‘ اسے بے حد عجیب سا فیل ہوا‘ وہ بدتمیز و مغرور لڑکی اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کی سانسیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھی۔ بڑی بے بس و بے خبر حالت میں تھی‘ لمبی زبان و مشعل کی طرح روشن آنکھیں بند تھیں‘ وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ استہزائیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر در آئی۔
’’بچ گئی تم‘ بچت ہوگئی تمہاری‘ نوفل عکرمہ ابھی ماضی کے جنون و کرب سے آزاد حال میں موجود ہے اگر ماضی کی آگ میں جلتا ہوا نوفل ہوتا تو تم کو بھی جلا کر خاک و راکھ کردیتا۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا۔ وہ اس کو ابھی اپنے بازو سے علیحدہ کرنا ہی چاہتا تھا معاً اس نے آنکھیں کھول دی تھیں وہ گویا شاکڈ ہوگئی چند لمحے سوئے ذہن کے ساتھ وہ اسے دیکھتی رہی اور پھر جیسے ہی شعور بیدار ہوا تو اس کی سوئی سوئی آنکھوں میں پہلے تحیر پھر اشتعال پھیلتا چلا گیا۔
’’تم…؟‘‘ اس نے ایک جھٹکے سے خود کو اس کے بازو سے علیحدہ کرتے ہوئے دور کیا اور وہ جو اس کو ہوش میں دیکھ کر بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا تھا چونک کر دور ہوا۔ چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
’’سوری جو تم سمجھ رہی ہو‘ ایسا کچھ نہیں تھا وہ…‘‘
’’بکواس بند کرو‘ تمہیں جرأت کیسے ہوئی مجھے ٹچ کرنے کی؟‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر غصہ سے چیخی۔
’’تم بکواس بند کرو اپنی‘ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم کو ٹچ کرنے کا ہونہہ‘ تم جیسی لڑکیوں سے تو ہمدردی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ مر رہی ہوں تو مر جانے دینا چاہیے‘ یہی غلطی ہوگئی ہے مجھ سے بے ہوش دیکھ کر ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا اور تم سمجھ رہی ہو کہ میں تم پر مرمٹا ہوں‘ تمہیں چھونے کو بے قرار ہوں‘ مائی فٹ۔‘‘ اس نے پُرطیش لہجے میں کہتے ہوئے کار اسٹاٹ کی۔
’’تم کیا چیز‘ ہو… تمہاری پرچھائیں سے بھی میں دور رہنا چاہتا ہوں‘ سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہوں میں تم کو۔‘‘ وہ لفظوں کی گولہ باری کرتا ہوا کار ہوائوں کے دوش پر اڑا رہا تھا اس کے چہرے پر اس قدر اشتعال انگیزی و سختی تھی کہ محسوس ہورہا تھا وہ کوئی انسان نہیں پتھر سے بنا ہوا کوئی مجسمہ ہے۔
ء…/…ء
مائدہ… صبح میں آپ کو کالج ڈراپ کروں گا وین ہٹا دی ہے میں نے۔‘‘
’’وین کیوں ہٹادی ہے بھائی آپ نے؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’روز کالج کے قریب سے ہی جانا ہوتا ہے تو سوچا بلاوجہ کیوں وین میں جائو میں ڈراپ کروں گا اور پک بھی کرلوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں وہی نرمی و ملائمت تھی جو اس سے بات کرتے وقت ہوتی تھی مگر اس نے محسوس کیا محبت کی مہک یا اعتماد کی خوشبو مفقود تھی۔
’’ٹھیک ہے بھائی لیکن ایک بات پوچھوں آپ سے؟‘‘ وہ ڈرتے ڈرتے گویا ہوئی‘ جب سے تھپڑ کھایا تھا وہ فاصلے پر رہتی تھی۔
’’ہوں… کیا پوچھنا ہے تم کو؟‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’بھائی… آپ کو مجھ پر ابھی بھی اعتبار نہیں آیا؟‘‘ وہ خاموش رہا بعض دفعہ لفظ گونگے ہوجاتے ہیں‘ پتھر بن جاتے ہیں۔
’’آپ نے سودہ کی بات پر یقین کیا… میری بات پر یقین نہیں کیا آپ نے بھائی‘ کیا میں آپ کی بہن نہیں ہوں‘ سودہ…‘‘
’’بار بار نام مت لو اس کا۔‘‘ غصہ مشکل سے ضبط کیا۔
’’میں تم سے ناراض نہیں ہوں‘ صبح جلدی ریڈی ہوجانا۔‘‘
’’لیکن سودہ کالج نہیں جائے گی پائوں جلنے کی وجہ سے‘ پھر میں جاکر کیا کروں گی؟ وہ ٹھیک ہوجائے گی تو ہم ساتھ ہی جائیں گے۔‘‘
’’اس کو ابھی کچھ دن لگیں گے تب تک پڑھائی کا بہت نقصان ہوگا۔‘‘
’’سودہ زیادہ دن کالج سے دور نہیں رہ سکتی‘ وہ دو دن بھی رکی تو بڑی بات ہے ابھی بھی کتاب اس کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے اس کی اچھائی بیان کرنے پر مجبور تھی۔
’’لاسٹ سمسٹرز ہونے والے ہیں دل لگا کر پڑھائی کرو‘ دیکھ رہا ہوں ایک عرصے سے پوزیشن بہت ویک چل رہی ہے تمہاری۔‘‘ وہ اثبات میں گردن ہلاتی چلی گئی تھی اور دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچ رہی تھی ایک ہی دل ہے کہاں کہاں لگائے اور کس کس کے ساتھ؟
’’مائدہ بیٹی‘ زید میاں کے دوست جنید آئے ہیں‘ میں نے ان کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا ہے‘ میں کچن میں جارہی ہوں آپ ان کو بتادیں۔‘‘ بوا اس کو بتاکر عجلت میں چلی گئی تھیں‘ اس نے پلٹ کر دیکھا زید کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ ابھی آفس سے آیا تھا اور یقینا شاور لے رہا ہوگا‘ اس کو یاد آیا ڈیڑھ دو سال قبل اس نے سرسری طور پر جنید کو دیکھا تھا تب بھی وہ خاصا ہینڈسم لگا تھا اور اس وقت ان جذبوں سے آشنائی نہیں تھی اور یہ سوچ کر خوش تھی کہ اس کے بھائی کا دوست بھائی کی طرح ہی خوب صورت و پُرکشش ہے لیکن اب دل کی حالت ہی بدل گئی تھی جو خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہمکتا رہتا تھا۔
وہ دبے قدموں سے چلتی ہوئی آئی پھر کھڑکی سے اندر جھانکا تھا‘ لائٹ کلر کے تھری پیس سوٹ میں وہ بیٹھا میگزین دیکھ رہا تھا۔ سپید رنگت‘ جاذب نظر نقوش‘ کشادہ پیشانی و گھنی مونچھیں۔ وہ ایک دل موہ لینے والی پرسنلٹی کا مالک تھا اس نے دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی تھی وہ ایسا ہی تھا جس کو پانے کی تمنا زندگی کا حاصل لگا کرتی ہے اور وہ سچ مچ اس پر دل ہار گئی تھی۔
(ان شا ء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close