Aanchal Jul-17

آئینہ

شہلا عمر

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاک نام سے ابتدا ہے جو ارض و سماں کا ملک ہے‘ ہم آپ بہنوں کے مشکور ہیں کہ آپ ہر ماہ بھرپور طریقے سے آنچل کی محفل آئینہ میں حصہ لیتی ہیں اور اس کو اپنے تبصرے سے خوب صورت بناتی ہیں‘ امید ہے کہ اس بار بھی تمام تحریریں آپ کے ذوق پر پورا اتریں گی۔ اب بڑھتے ہیں آپ کے تبصروں کی جانب جو بزم آئینہ میں مصفین کی تحریروں کو حسن بخش رہے ہیں۔
انیلا طالب… گوجرانوالہ۔ السلام علیکم! خوشبوئوں سے مہکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پاک کو چومتا ہوا رمضان المبارک کی مبارک سعادتوں میں بھیجا گیا سلام تمام آنچل رائٹرز‘ ایڈیٹرز کو قبول ہو بالخصوص شہلا آپی کو۔ بہت انتظار اور کئی بارکی نماز حاجت پڑھنے کے بعد محبوب من چمکتا ستارہ آنچل کی صورت 26 مئی کو ملا۔ ماتھا پٹی سے سجی سرورق کی ماڈل کافی پیاری لگی‘ اشتہارات سے جلدی سے گزرتے سرگوشیاں اور حمدونعت سے مستفیض ہوئے‘ درجواب آں میں نازیہ کنول نازی آپی کی والدہ کی علالت کا جان کر بہت دکھ ہوا‘ اللہ انہیں جلد شفاء دے۔ ہمیشہ کی طرح دانش کدہ معلومات سے پُر تھا‘ ہمارا آنچل میں سبھی بہنیں اچھی لگیں۔ امبر اختر بخاری نام اپنا اپنا سا لگا کیونکہ ساتھ بخاری جو لگا تھا اور میں خود نقوی بخاری سید ہوں۔ علینا لیزا بہنا آپ کی طرح مجھے بھی عذاب قبر سے بہت ڈر لگتا ہے‘ جانے کیوں؟ عید ملن سروے پڑھ کے بہت مزہ آیا کیونکہ میں جو شامل تھی اس میں (ہاہاہا)۔ اس کے بعد انتہائی دکھی رنجیدہ اور بوجھل دل سے اپنی موسٹ فیورٹ رائٹر آپی فاخرہ گل کا آرٹیکل پڑھا‘ جانے کیوں ان کی والدہ مجھے بے حد اپنی سی لگیں۔ آپی آپ سے گزارش ہے کہ اپنی والدہ کے بارے میں‘ ان کی ذاتی زندگی کے بارے ایک اور آرٹیکل لکھیں۔ افسانوں میں ’’میں محبت اور تم‘‘ اور ’’وی آئی پی‘‘ دل کو چھو گئے‘ جب میں ’’وی آئی پی‘‘ پڑھ رہی تھی تو رات کافی اندھیری تھی اور باقی سوئے ہوئے تھے‘ روح کا ٹاپک نکلا تو فوراً ڈر کے بند کردیا پھر صبح پڑھا۔ مکمل ناول میں ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ انتہائی دلفریب تھا‘ خاص کر کرداروں کے نام الویرہ‘ یرج‘ رودابہ اور دیگر بھی نئے نئے سے تھے اور پیارے بھی تھے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کی بارش میں بھیگتے ہم بھی مصنوعی بارش سے خاصے لطف اندوز ہوئے۔ ’’حریم عشق‘‘ کی یہ قسط زبردست تھی‘ بس بے چاری حریم کے ساتھ برا ہوا مگر بُرا ہی نہ ہو تو پھر اچھا کیسے ہو کیوں بھئی۔ سمیرا آپی کا ’’جنون سے عشق تک‘‘ سرسری سا جگہ جگہ سے پڑھا‘ اچھا لگا۔ آپی جی اب آپ پر ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے کیونکہ جب انسان ایک شاہکار تخلیق کرنے کے بعد کوئی دوسری تخلیق پیش کرے تو اس سے پہلے شاہکار کی طرح کی امید کی جاتی ہے‘ قلم کو بڑا سوچ کے چلانا پڑتا ہے‘ اللہ آپ کی اس تخلیق کو بھی شہرت دے‘ جیسے ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کو ملی۔ بیاض دل میں گل مینا خان‘ مدیحہ نورین مہک‘ ارم ریاض اور نبیلہ نازکے اشعار دل میں گھر کر گئے۔ ڈش مقابلہ میں صبا فہد چوہدری‘ شاہی سویاں‘ قوامی سویاں کی ریسپیز پسند آئیں۔ نیرنگ خیال میں عرشیہ ہاشمی‘ فرح بھٹو‘ مونا نقوی نے کمال لکھا‘ ڈئیر عائش کشمالے آپ کی بھیجی رقم مجھ تک نہیں پہنچی‘ اپنے مکمل ایڈریس سے اسی ایڈریس پر دوبارہ بھیج دیں۔ پیاری مہوش ظہور مغل آپ بھی رونق آنچل ہیں‘ کوثر خالد آنٹی میری آدھی ادھوری نظم پسند کرنے کا بے حد شکریہ۔ آئینہ میں زندگی تنویر خلیل اور آنٹی کوثر خالد کا تبصرہ بہت پسند آیا۔ زندگی تنویر خلیل کیا یاد کریں گی‘ ایڈریس مکمل بتائیں اپنا‘ میں ناول بھجوادوں گی۔ ہم سے پوچھئے میں سب سوال جواب مزے دار (کھا کے جو دیکھے تھے)۔ انتہائی شدت سے اگلے عید نمبر شمارے کا انتظار رہے گا‘ زندگی رہی تو پھر حاضر ہوں گی اگلے ماہ‘ اللہ حافظ۔
شہزارہ شبیر… دوکھوا۔ السلام علیکم! شہلا آپی کیسی ہیں آپ؟ میری طرف سے تمام قارئین اور آنچل اسٹاف اور رائٹرز کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک ہو۔ جی جناب مابدولت چار ماہ کے بعد حاضر ہوئی ہیں یقینا مجھے کسی نے بھی یاد نہیں کیا ہوگا کیونکہ ابھی میری آنچل میں کوئی دوست ہی نہیں بنی۔ چار ماہ کے بعد اس لیے شرکت کررہی ہوں کہ جنوری میں فرسٹ ٹرم تھے اور مارچ میں باقی ٹیچرز نے پیپرز لیے اور اپریل میں فائنل پیپرز ہوئے۔ اس لیے تمام قارئین سے التجا ہے کہ رمضان کے مبارک مہینے میں دعا کیجیے گا کہ میرا رزلٹ اچھا آئے‘ پلیز۔ ویسے میں آپ کو ایک بات بتائوں میرا جب دسمبر کے شمارے میں خط شائع ہوا تو میرے اردو کے ٹیچر (سربشارت) سب سے زیادہ خوش ہوئے۔ وہ اس طرح خوش ہورہے تھے جیسے میرا خط نہیں بلکہ کوئی ناول شامل ہوگیا ہے‘ ویسے بھی میرے فیورٹ ٹیچرز کی فہرست میں فرسٹ نمبر پر میرے یہی سر ہیں۔ اللہ تعالیٰ میرے تمام ٹیچرز کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے‘ آمین۔ لہٰذا اب بات ہوجائے جون کے شمارے کی سرورق ماہین ویسے تو بہت پیاری ہے لیکن ان کی یہ تصویر پیاری نہیں تھی۔ فہرست پر جب نظر ڈالی تو سمیرا شریف طور کا نام پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ اس لیے سب سے پہلے چھلانگ لگائی ’’جنون سے عشق تک‘‘ زبردست تھا‘ یہ ناول بھی یقینا سمیرا آپی کے دیگر ناولوں کی طرح ہی یادگار ہوگا۔ شیری اور افگن کی لڑائی پڑھ کر مزہ آیا‘ اگر شیری سیر ہے تو افگن صاحب سواسیر‘ اس لیے آگے آگے جب یہ ناول بڑھے گا تو یقینا ہماری دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے‘ ویسے پتا نہیں مجھے کیوں اس ناول میں ’’محبت دھنک رنگ اوڑھ کر‘‘ کی جھلک نظر آئی (تھوڑی سی)۔ اس کے بعد ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ پڑھی‘ یہ ناول بھی دلچسپی کے انتہائی موڑ پر ہے۔ اب فیاض اور میرب کی سزا کا شدت سے انتظار ہے جو سزا شہززاد نے ان کو دینی ہے۔ نازی آپی پلیز صیام اور دری کو کسی قیمت پر بھی الگ مت کیجیے گا کیونکہ یہ دونوں کردار اس کہانی کی جان ہیں‘ سارا کی اصلیت کے بارے میں جان کر سارا پر سخت غصہ آیا جبکہ مریرہ اور صمید سے ہمدردی محسوس ہوئی ویسے اب زاویار صاحب کی بھی عقل ٹھکانے آچکی ہے‘ چلو شکر ہے۔ اس کے بعد ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ پڑھا‘ سودہ اور زید کا ٹاپک سب سے مزے کا ہے‘ مجھے سودہ پر بیک وقت غصہ بھی آیا اور پیار بھی‘ پیار بھی‘ سودہ کو کیا ضرورت ہے زید سے اتنا ڈرنے کی وہ تمہیں کھا تو نہیں جائے گا۔ اب مائدہ بیگم پتا نہیں کیا گل کھلانے والی ہے۔ جنید کو جو دیکھ چکی ہے (لومڑی کہیں کی) اگلی قسط کا انتظار ہے‘ اس کے بعد ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ پڑھا‘ بہت مزے کا ناول تھا ویل ڈن نائلہ آپی۔ حقیقت سے دور لگا لیکن پڑھ کر مزہ آیا‘ میرا تو اس وقت قہقہہ نکل جاتا جب الویرہ صاحبہ کیہان سے ڈرتی تھی‘ ویسے مزہ آیا پڑھ کر۔ اس کے بعد ’’حریم عشق‘‘ پڑھا‘ مجھے تو لگتا ہے یہ ارماہ بیگم‘ ارحام اور حریم میں دراڑ ڈال رہی ہے ویسے رضی کے کارنامے پڑھ کر غصہ آیا۔ رامین کا اتنا غصہ تو بنتا ہے نا رضی جی! ماضی میں آپ نے بڑے اچھے کام کیے ہیں نا جو اب آپ رامین سے محبت اور دوستی کی توقع کررہے ہیں‘ حماد کا فیصلہ پڑھ کر بے ساختہ حماد کو داد دینے کو جی چاہا‘ اب دیکھتے ہیں کہ یہ سب کارنامے کون سر انجام دے رہا ہے‘ ارحام پر بہت زیادہ ترس آتا ہے۔ حریم تم ارحام کے ساتھ اچھا نہیں کررہیں‘ اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔ اس کے بعد ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صائمہ قریشی نے بہت اچھا لکھا۔ سب سے اچھا کردار خاور عباسی کا لگا‘ آج کل تو خاور عباسی جیسے بندے نایاب ہوگئے ہیں‘ افسانے سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ سب سے پیارا افسانہ ’’عید سعید تم سے ہے‘‘ لگا۔ ’’میں محبت اور تم‘‘ میں ہما پر بہت غصہ آیا‘ زہر لگتی ہیں مجھے ہما جیسی لڑکیاں جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی دوسرے کے حق کو غضب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ’’میکے کی عید‘‘ بھی مزے کی تھی‘ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی نزہت آنی رشتوں کو آپس میں جوڑ رہی تھیں‘ بس ایک بات کا دکھ ہوا جب شہاب الدین نے آبگین اور بازف کو کبریٰ بیگم کا آخری دفعہ منہ نہیں دیکھنے دیا‘ بعض دفعہ بے جا انا بھی انسان کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ شکر ہے شہاب صاحب کی عقل ٹھکانے آگئی تھی اس کے بعد ’’وی آئی پی‘‘ زبردست تھا۔ راشدہ رفعت نے تو آخرت کے بارے میں اچھی وضاحت کی‘ ویسے یہ افسانہ پڑھ کر دل دکھی بھی ہوگیا ویسے یہ بات تو سچ ہے نہ کہ ایک نا ایک دن سب نے اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے۔ اس کے بعد ’’عید ملن‘‘ میں سب کے جوابات اچھے تھے‘ بیاض دل میں سب کے اشعار ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ یادگارلمحے بھی اچھے تھے‘ ٹیچر عائشہ رحمن ہنی سے انگلش سیکھ کر مزہ آیا‘ اس کے علاوہ کوثر آنی‘ ملالہ اسلم اور دیگر قارئین کا شکریہ جنہوں نے میرا تعارف پسند کیا ویسے میں چاہتی ہوں کہ میری بھی ڈھیر ساری آنچل فرینڈز ہوں جیسے کہ ارم کمال‘ مشی خان‘ کوثر خالد آنی‘ پروین افضل شاہین آنی‘ ملالہ اسلم‘ نجم انجم‘ مدیحہ نورین مہک تم خاص طور پر کیونکہ تمہارے شہر گجرات میں میری جان صدف عمران (آپی صدو) رہتی ہیں اور مانسہرہ والو! تم سب مجھے اچھے لگتے ہو کیونکہ مانسہرہ دیکھنے کا مجھے بہت شوق ہے۔ فاخرہ آپی کی امی کی وفات کا پڑھ کر بہت دکھ ہوا‘ اللہ تعالیٰ فاخرہ آپی کی امی کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے‘ آمین۔ ویسے بھی ماں باپ کی کمی کوئی بھی پوری نہیں کرسکتا کیونکہ آج کی خود غرض دنیا میں والدین ہی صرف بے لوث اور بے ریا محبت کرتے ہیں‘ اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سب کے والدین کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر دے اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے‘ آمین۔ آخری بات رمشہ منظور اور میری جان زری کو عید مبارک اور بہت سارا پیار‘ زندگی رہی تو اگلے ماہ پھر حاضر ہوں گے‘ اللہ نگہبان۔
اقرأممتاز… سرگودھا۔ پیاری شہلا آپی سلام‘ پہلی دفعہ آئینہ میں شرکت کررہی ہوں امید ہے آپ خوش آمدید کہیں گی۔ میری طرف سے آنچل کے تمام اسٹاف اور قارئین کو عید مبارک‘ اللہ ہم سب کو اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم رکھے‘ آمین۔ آج مجھے جس چیز نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ وہ آپی سمیرا شریف طور ہیں میں ان کی بہت بڑی فین ہوں۔ امید ہے ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی طرح ’’جنون سے عشق تک‘‘ بھی زبردست ہوگا۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ اقرأ صغیر احمد کا ناول ’’میری فیورٹ اسٹوری ہے پلیز آپی نوفل اور انشراح کے ساتھ کچھ بھی برا مت کیجیے گا۔ نوفل اور انشراح میرے بیسٹ کردار ہیں‘ دل کرتا ہے لاریب کو اٹھا کر اسٹوری سے باہر پھینک دیں‘ سودہ تو ہے ہی کیوٹ سی۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ نائلہ طارق کا ناول بھی بڑا جاندار رہا‘ ویسے ایک بات ہے اس کہانی میں نام بڑے مختلف تھے‘ یہ نام تو میں نے کبھی سنے بھی نہیں تھے نائلہ جی اتنے مشکل نام کہاں سے ڈھونڈ نکالے‘ کیہان کی طرح میری پھوپو کا بیٹا فیضان بھی ہے‘ اتنا وائٹ جو بھی دیکھتا ہے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ انیلا طالب آپ کو میری نگارشات پسند آئیں‘ شکریہ۔ یادگار لمحے میں عائشہ رحمٰن ہنی نے انگریزی سکھائی‘ ایسی انگلش اگر ہم پیپر میں لکھ آئیں تو ہم سب اے ون نمبروں سے پاس ہوجائیں‘ ویسے آپس کی بات ہے انگلش ایسی ہی ہونی چاہیے‘ ہاہاہا۔ پیاری ارم کمال آپ ہمیں بہت اچھی لگتی ہیں‘ پتا نہیں کیوں۔
٭ دئیر اقرأ پہلی بار شریک محفل ہونے پر خوش آمدید۔
صائمہ مشتاق… سرگودھا۔ پیاری شہلا آپی! آنچل رائٹر‘ ریڈرز کو میری طرف سے عید مبارک ہو‘ اس دفعہ آنچل 25 کو ملا‘ ٹائٹل گرل کی جیولری بہت پسند آئی۔ حمدونعت دل و روح کو منور کرگئی‘ اس کے بعد درجواب میں آپی جی بہنوں کی محفل سجائے جو بات کہتیں سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ مشتاق احمد قریشی ’’الکوثر‘‘ میں معلومات میں اضافہ کرتے اچھے لگے‘ ہمارا آنچل میں علینا لیزا‘ سیدہ امبر‘ عنبر مجید فرحانہ سے ملاقات اچھی لگی‘ سب سے پہلے رفعت سراج کا ’’چراغ خانہ‘‘ پڑھا۔ رفعت جی کہانی تھوڑی سلو جارہی ہے پلیز اسپیڈ بڑھادیں۔ نائلہ طارق کا مکمل ناول ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ یزدان اور رودابہ کی جوڑے کیہان اور الویرہ کی جوڑی زبردست رہی نائلہ جی اچھی کاوش تھی۔ صائمہ قریشی کا ناولٹ ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ میں یہ لائنیں بہت پسند آئیں ’’کچھ لوگوں کی زندگیاں بہت مشکل ہوتی ہیں‘ ویسے تو زندگی کسی طرح آسان نہیں ہوتی‘ بہت سے نشیب و فراز بہت سی کٹھنائیاں ہر خاص و عام زندگی کا حصہ ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ ہوتے ہیں‘ جن کی زندگی کے اتار چڑھائو اتنے کٹھن ہوتے ہیں کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے وہ نڈھال ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ سیدہ غزل زیدی کا ’’حریم عشق‘‘ زبردست سیدہ غزل جی اس دفعہ تو کہانی میں نیا موڑ آگیا ادھر حریم ارحام کا اعتبار کرنے لگی تھی کہ ارحام کی ماں نے انجانے میں دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردیا۔ دوسری جانب رامین اور علی رضا پلیز سیدہ جی دونوں جوڑیوں کو ضرور ملا دینا‘ باقی ناول سپرہٹ جارہا ہے۔ اقبال بانو کا ’’میں محبت اور تم‘‘ اچھا لگا‘ راشدہ رفعت کا ’’وی آئی پی‘‘ افسانہ نام کی طرح وی آئی پی لگا۔ نزہت جبین ضیاء ’’میکے کی عید‘ بہت پسند آئی‘ فرح بھٹو ’’عید سعید تم سے ہے‘‘ اچھی لگی۔ مہندی کے ڈیزائن بہت پسند آئے‘ بیاض دل میں پروین افضل شاہین‘ سباس گل‘ رائو تہذیب حسین کے شعر پسند آئے۔ ڈش مقابلہ میں تمام ڈشز بیسٹ لگیں‘ دوست کا پیغام آئے میں انیلا طالب نے میرے نام لکھا اچھا لگا‘ آئینہ میں سب کے تبصرے پسند آئے‘ اگلے ماہ کے لیے اجازت چاہوں گی‘ اللہ حافظ۔
عنزہ یونس… حافظ آباد۔ آداب تسلیمات۔
محبت اک سمندر ہے
کہ جتنا بھی کوئی ڈوبے
کنارے پر ہی رہتا ہے
عزیزی آنچل! کیا حال ہے؟ بہت معذرت پیپرز کی وجہ سے کچھ ماہ غائب رہی مگر آنچل پڑھنا بالکل نہیں چھوڑا۔ عزیزی آنچل سے وابستہ ہر فرد کے لیے دل میں بے پناہ محبت موجزن ہے‘ بہت دل چاہ رہا تھا آپ سب سے ملنے کو سو قلم تھامے چلی آئی۔ سب سے پہلے بات کروں گی ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کی‘ اُف کیا بتائوں یہ ناول مجھے بہت پسند ہے اسپیشلی صیام اور درمکنون کی اسٹوری لیکن بہت سلو جارہی ہے پلیز نازیہ آپی میرے فیورٹ کپلز پر زیادہ لکھا کریں۔ ’’چراغ خانہ‘‘ رفعت سراج صاحبہ واقعی اس جیسا ناول چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا‘ ویری گڈ۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ بہترین ناول ہے سودہ اور زید کی محبت بلکہ مشرقی محبت‘ چھپی فیلنگز‘ بہت ہی فنٹاسٹک ہیں۔ ان دونوں کے مضبوط کردار‘ دل میں فٹ ہوگئے ایمان سے۔ سیدہ غزل زیدی کا ناول ’’حریم عشق‘‘ بھی بہت اچھا ہے اور فاخرہ گل صاحبہ آپ نے تو ناول میں گل ہی بھر دیئے‘ بہت ہی مزے کا ناول ہے۔ زندگی کے محبت بھرپور پہلوئوں کی عکاسی کرتا‘ کیپ اٹ اپ۔ باقی تمام افسانے‘ ناول‘ زبردست تھے‘ بیاض دل‘ دوست کا پیغام آئے‘ ڈش مقابلہ‘ ہم سے پوچھئے سب ہی پڑھ کر مزہ آگیا اور ہاں آنچل یوں ہی رہنا پیارا صاف ستھرا۔ مصباح سید کا نام ضرور لوں گی اور ریحانہ آفتاب کا میں نے انہیں ابھی پڑھا ہے مگر دل خوش ہوگیا‘ خوش رہو آپ دونوں۔ اس کے ساتھ ہی اجازت دیجیے کہ پنجاب سے آئی ہوں جانے میں بھی تو ٹائم لگے گا‘ ہاہاہا‘ سو فی امان اللہ۔
٭ ڈئیر عنزہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو کامیاب فرمائے‘ آمین۔
ثوبیہ سحر حسین… بستی ملوک۔ السلام علیکم! میری طرف سے شہلا آپی اور تمام پڑھنے والیوں کو عید مبارک‘ اس دفعہ آنچل 22 کو ہی مل گیا‘ وائو خوب صورت ٹائٹل زبردست ڈریس‘ خوب صورت جیولری‘ پیارا سا میک اپ واقعی یہ عید نمبر لگ رہا تھا۔ سب سے پہلے قیصر آرأ آنٹی کی سرگوشیاں سنیں اس کے بعد دانش کدہ پہنچے جہاں مشتاق انکل نے قیامت کی جو نشانیاں بیان کی‘ وہ پڑھ کر دل میں خوف وحشت سی چھا گئی اس کے بعد حمدونعت سے دل کو منور کیا پھر دوڑ لگائی ’’حریم عشق‘‘ جہاں علی رضا آفندی نے رامین کے ساتھ بہت برا کیا تو اتنی جلدی معافی کا طلب گار کیسے ہوسکتا ہے اور ارحام نے جو پینٹنگ بنائی تھی وہ واقعی شاہکار تھی لیکن نوشی بیگم نے بہت برا کیا‘ ارحام اور حریم کے ساتھ۔ بڑی مشکل سے ان کی دوستی ہوئی تھی‘ اب پھر وہی بدگمانی مجھے لگتا ہے یہ ارماہ بھی اس سازش میں شامل ہے پھر چلے ’’چراغ خانہ‘‘ کی طرف جہاں مشہود کی بدلتی حالت پڑھ کر خوشی ہوئی وہیں پیاری کا رویہ غصہ دلاگیا پتا نہیں بے چارے دانیال کا کیا حال ہوگا گاڑی میں۔ اس کے بعد افسانوں کی دنیا میں پہنچ گئے جہاں اقبال بانو ’’میں‘ محبت اور تم‘‘ لیے حاضر تھیں جسے پڑھ کر دل افسردہ ہوگیا‘ واقعی سمجھوتے کی زندگی میں بے اعتباریوں کے موسم میں مسکرانا پڑتا ہے۔ ’’وی آئی پی‘‘ راشدہ رفعت واقعی وی آئی پی لکھا جسے پڑھتے ہی سحر طاری ہوگیا واقعی سبق آموز افسانہ تھا‘ سچ میں عبدل جیسے لوگ ہی عظیم ہوتے ہیں۔ نزہت جبیں ضیاء ’’میکے کی عید‘‘ پڑھ کر اپیا کی یاد آگئی جو ثمن آرا کی طرح اس بار بھی ہمیشہ میکے کی عید کا انتظار کررہی ہوں گی‘ بھاگ کے گئے ان کی عیدی لے آئے‘ اس کے بعد فرح بھٹو جی سے ملے ’’جو عید سعید تم سے ہے‘‘ بتارہی تھیں‘ بہت شکریہ جی (ہاہاہا‘ ہائے رے خوش فہمی) نور عرش کی نادانیاں اور ابتہاج کا سنجیدہ اور شوخ مزاج کسی اور دنیا میں ہی لے گیا۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ نائلہ طارق کا مکمل ناول بہت زبردست تھا‘ بیان نہیں کرسکتی۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ اور سلسلے وار ناول ابھی نہیں پڑھے ان پر تبصرہ اگلی بار پھر اپنا رخ سخن اپنے وصل کی بارش دے یعنی صائمہ قریشی کی طرف کیا تو ایک دم ہی اچھل پڑی۔ واہ جی صائمہ آپی آپ نے انشراح کی فرینڈ ثوبیہ (یعنی مجھے) بنا کر کمال کردیا سچ میں ہماری فرینڈ شبانہ کے ساتھ بھی انشراح اور علی کی طرح ہوا تھا اور ہم نے بھی ثوبیہ والا کردار ادا کیا تھا (ہاہاہا)۔ اس کے بعد آرٹیکل ماواں ٹھنڈیاں چھاواں فاخرہ گل واقعی ماواں ٹھنڈیاں چھاوا ہوتی ہیں‘ واقعی میں ماں باپ کی محبت کے بدلے بھی ہم پوری زندگی ان کی خدمت کرکے بھی ان کا احسان نہیں چکا سکتے اور اللہ آپ کی امی کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘ آمین۔ اس کے بعد بوجھل دل لیے ہم سے پوچھئے کی طرف آئے تو سویٹ سی فرینڈز کے سوال اور شمائلہ آپی کے جوابات مسکرانے پر مجبور کرگئے‘ باقی سلسلے بھی زبردست تھے۔ آئینہ میں سبھی کے تبصرے چاند کی طرح چمک رہے تھے‘ جن میں زندگی تنویر‘ روبینہ کوثر‘ کوثر خالد کے تبصرے سرفہرست تھے آخر میں اس بات کے ساتھ اجازت دوسروں کو خوشیاں دیں یہی زندگی ہے‘ اللہ حافظ۔
ارم کمال… فیصل آباد۔ پیاری سی شہلا جی‘ سدا میٹھی میٹھی خوشیوں کا مزا لوٹیں‘ آمین۔ السلام علیکم! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ خیریت سے ہوں گی‘ میری طرف سے سب کو عید کی سچی اور پرخلوص خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔ 26 تاریخ کو آنچل کا شمارہ ملا‘ عید سے پہلے عید گفٹ سیروں خون بڑھا گیا‘ ٹائٹل بہت ہی جاذب نظر اور دلکش تھا۔ ماڈل کی دلفریبی‘ خوب صورتی پریوں کو پیچھے چھوڑتی نظر آرہی تھی‘ درجواب آں سے ناراض ہوتے ہوئے دانش کدہ میں پہنچے اور کتنی ہی دیر شاک میں رہے کہ اللہ ہم سے کیا چاہ رہا ہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔ ہمارا آنچل میں فرحانہ آپ کا دکھ دل چیر گیا‘ آپ بالکل ہمت نہ ہاریں کیونکہ میرا اس بات پر یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی ہمت سے زیادہ نہیں آزماتا‘ آج سے آپ میری بہن ہیں۔ آپ اپنا ہر دکھ مجھ سے شیئر کیا کریں کیونکہ غم بانٹنے سے آدھا ہوجاتا ہے‘ اپنی بیٹی کو میری طرف سے بہت بہت پیار دیجیے گا۔ سروے عید ملن خوب دلچسپ و مزے دار رہا ویسے زیادہ مزے دار اگلے مہینے ہوجائے گا پوچھئے کیوں؟ رفعت سراج کا ’’چراغ خانہ‘‘ بہت ہی دلآویز اور سبک خرامی سے رواں دواں ہے۔ پیاری کی بے وقوفیاں دانیال کے دل میں بدگمانیاں نہ بھردیں‘ پیاری عقل سے کام لو سب رشتوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں‘ سمیرا شریف طور کا ناول ’’جنون سے عشق تک‘‘ آغاز سے مار دھاڑ سے واسطہ پڑا‘ دیکھیں آگے آگے کیا ہوتا ہے ویسے ذاتی طور پر مجھے بھی افگن کی طرح شہرینہ جیسی لڑکیاں زہر لگتی ہیں۔ راشدہ رفعت کی ’’وی آئی پی‘‘ سب کو آئینہ میں شکل دکھا گئی‘ ہمیں دعا یہ کرنی چاہیے اور اعمال بھی ایسے کرنے چاہئیں کہ اللہ کی نظر میں وی آئی پیز میں سے ہوں۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ نائلہ طارق کی تحریر اے ون رہی (ویل ڈن نائلہ جی)۔ نزہت جبیں ضیاء ہمیشہ کی طرح ’’میکے کی عید‘‘ لائیں اور چھا گئیں (زبردست)۔ ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ میں صائمہ قریشی کا مسیج بہت خوب صورت قوس و قزح کی طرح خوشیاں ان پر برستی رہیں۔ ’’حریم عشق‘‘ میں حریم کی بدگمانیاں اور ارحام کا جنون سب کچھ بہت مسمرائز کررہا ہے۔ فاخرہ گل کا ’’باپ سراں دے تاج محمد ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘ پڑھ کر سارے لفظ بھیگ گئے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دکھ پہاڑوں سے بھی بڑا ہے لیکن اللہ کی مرضی پر سر جھکانا ہے اور اس کی رضا میں راضی رہنا انسان کو اللہ کا پسندیدہ بندہ بنا دیتا ہے۔ بیاض دل میں ثانیہ مسکان‘ ارم ریاض‘ شازیہ ہاشم اور صائمہ نوید کے اشعار نمایاں رہے۔ ڈش مقابلہ میں چکن تکا‘ چاٹ عید کے دن کے لیے سلیکٹ کرلی۔ نیرنگ خیال میں ’’تیری دلاری‘‘ پڑھ کر آنکھیں بھیگ گئیں۔ مجھے بھی اپنے بابا یاد آگئے جو مجھ سے زیادہ میری عید کی خوشیوں کا خیال رکھتے تھے‘ دوست کا پیغام آئے میں سب کے مہکے مہکے پیغامات پڑھ کر دل خوشیوں سے بھرگیا۔ یادگار لمحے میں ارم ریاض‘ نجم انجم اعوان اور رابعہ امرینہ عائشہ کے مراسلات بہترین رہے۔ آئینہ میں زندگی تنویر خلیل کا تبصرہ شاندار رہا۔ کوثر خالد آپ کا تبصرہ تو چھکے پر چھکا مار رہا تھا۔ آپ نے فوزان کے بارے میں پوچھا بہت شکریہ ویسے بتادوں فوزان میرا پہلا نواسہ ہے اس کا پورا نام فوزان رئوف ہے‘ پوتے میں تو ابھی دیر ہے‘ ابھی میرا اکلوتا بیٹا احمد جمال 14 سال کا ہے۔ ہم سے پوچھئے میں مدیحہ نورین مہک‘ سوہائے انشال چڈھر اور ایس این شہزادی کے سوالات اور شمائلہ جی کے جوابات نے اسپائسی عید چاٹ کا مزا دیا‘ عید نمبر ہر لحاظ سے سپر رہا۔
میزاب… قصور۔ السلام علیکم! سبھی ریڈرز کو‘ کیسے ہیں آپ سب؟ امید ہے ٹھیک ٹھاک ہوں گے تقریباً ایک سال بعد میں پھر حاضر ہوں‘ امید ہے تھوڑی کھڑی ہونے کی جگہ مل جائے گی۔ اب آتے ہیں اس ماہ کے آنچل کی طرف تو جب آنچل میرے ہاتھ میں آیا تو مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں بتا نہیں سکتی کیونکہ بھائی کے اتنی منت سماجت کے بعد آنچل جو ملا تھا۔ سب سے پہلے میں نے اپنا فیورٹ ناول پڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ کیا جس کا اتنا انتظار کیا تو وہ تو تھا ہی نہیں۔ جی ہاں ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ وہ تو اپنے نام کی طرح گمشدہ تھا‘ دل ہی ٹوٹ گیا چلو کوئی گل نہیں اس کے بعد نازیہ کنول نازی کے پاس پہنچے اس ناول کے سبھی کرداروں پر خاصا اوکھا وقت چل رہا ہے‘ اللہ ان کے حال پر رحم کرے اس کے بعد ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ میں تو یہی چاہتی ہوں کہ سودہ اور زید کی جوڑی بن جائے مزہ آجائے گا۔ سب سے پہلے تو زید کے اپنے پاپا کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں یہ بھی اپنی ماں بہن کے ہاتھ بے وقوف بنا ہوا ہے‘ باقی سبھی سلسلے وار ناول بہترین جارہے ہیں‘ خاص کرکے ’’حریم عشق‘‘ مجھے لگتا ہے حریم اور ارحام کے درمیان غلط فہمیاں حریم کی دوست پیدا کررہی ہے اور اب اتنی بڑی بات کے ماڈ لنگ کے لیے حریم کا نام دینا مجھے تو آستین کا سانپ یہی لگ رہی ہے۔ باقی سارا آنچل ٹاپ کلاس تھا‘ سب سے زیادہ مجھے مہندی کے ڈیزائن پسند آئے‘ شکریہ سبھی بھیجنے والوں کو‘ اجازت دیں‘ اللہ حافظ‘ اللہ آپ سب کو خوش رکھے‘ آمین۔
فائزہ بھٹی… پتوکی۔ السلام علیکم پاکستان! کیا حال ہیں آپ لوگوں کے‘ رمضان المبارک کے روزے رکھ رہے ہوں گے یقینا‘ گرمی اور پیاس کے بارے میں بات کرنا تو ایویں ہوگا۔ اس ماہ کا شمارہ 26 کو ملا‘ سرورق نارمل تھا‘ فہرست پر نظر دوڑائی تو بہت سے نام دیکھنے کو ملے دل میں ایک خوش کن احساس جاگا‘ سمیرا شریف طور کے نام کی وجہ سے‘ خوش آمدید‘ خوش آمدید۔ فہرست کے بعد سب سے پہلے اپنے خطوط کی تلاش میں دوڑ لگائی مگر حدر درجہ کوفت کا سامنا ہوا‘ خط ندارد۔ مئی کے شمارے میں بھی یہی ہوا تھا حالانکہ مئی کے شمارے کے لیے 29 کو میں نے ڈاک بھیج دی اور جون کے شمارے کے لیے بہت سے ضروری کام پس پشت ڈال کر سب کی نظروں کا سامنا کرتے ہوئے 25 کو ڈاک بھیج دی‘ اب 25 کو بھیجی ڈاک بھی آپ تک نہ پہنچ پائے یہ میں جان نہیں سکتی۔ پہلے تو 5 کو بھیج دیتی وہ شائع ہوجاتی‘ اب دس دن پہلے بھیجنے والی محبت بھی اکارت ہوگئی۔ یہ تو مجھے یقین ہے آپ تک ضرور پہنچ گئی ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی کسی اور جگہ بھیجی ڈاک پہنچ گئی پھر یہاں کیوں نہیں پلیز‘ پلیز وجہ بتادیں میں کیوں نظر انداز ہورہی ہوں‘ آپ تو پھر بھی خط وغیرہ لگادیتی ہیں‘ دوست کا پیغام آئے مسلسل نظر انداز ہورہا ہے۔ میرے خلاف بدگمانیوں کے پہاڑ کھڑے ہورہے ہیں‘ رحم کریں اس کو بھی شائع کردیں‘ اتنی محنت و محبت سے لکھ کر سو منتوں کے بعد بھیجتی ہوں پہلے تو سوچا اس بار لکھوں گی ہی نہیں مگر پھر سوچا دل میں بغض پالنے سے بہتر ہے آپ کو انفارم کردیا جائے۔ آج کل مصروفیت اس قدر ہے کہ کیا بتائوں‘ 10 جون کو پہلا پیپر اور میں جلدی جلدی آنچل پڑھ کر تبصرہ فرمارہی ہوں‘ بہت سی مشکوک نظریں اٹھ رہی ہیں پلیز میری اس محبت کو ضائع نہ ہونے دیجیے‘ اب بھی 28 کو بھیج رہی ہوں پہنچنا یقینی ہے‘ مہربانی ہوگی عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کروں گی۔ اب باقاعدہ تبصرے کی طرف آتی ہوں ’’چراغ خانہ‘‘ رفعت سراج اتنی لمبی کیوں لے کر چل رہی ہیں‘ اب اسے ختم ہوجانا چاہیے اتنے ماہ ہوگئے۔ مشہود کی ناراضگی کو شکر ہے اب اسے عقل آنا شروع ہوگئی‘ اوہ پیاری! تم نے کیوں خود سے بیر لیا ہوا ہے‘ بھائی پہلے ہی اپنا نہیں‘ شوہر بھی کھودو گی (شاباش ہے بھئی)۔ دانیال صبر کر بچہ‘ سعدیہ اب کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کردینا‘ سنبھل کر چلو۔ عالی جاہ تم نے کڑوے کریلے کیوں کھائے ہوئے ہیں (ہاں بولو)۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ صمید حسن میں تو کہوں گی تجھ جیسی محبت کسی کو کسی سے نہ ہو‘ مقابل موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ سارا بیگم تجھے کیا کہوں‘ بھگتو گی اب تم بھی‘ درمکنوں کا ڈپریشن میں آنا سمجھ میں آتا ہے‘ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا‘ صیام اب بتائو چھوڑ کر جائو گے؟ شہرزاد ’’تیری قسمت پر رونا آیا‘‘ شکر ہے عائلہ بھی سامنے آئی‘ زاویار حسن اب اور کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتائو؟ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ پچھلے ماہ کیوں غائب‘ اوہ خر دماغ نوفل صاحب کیوں دلوں سے اترنے پر تلے ہوئے ہو‘ عقل کرو‘ اتنی بے عقلی اچھی نہیں۔ انشراح تم تو خوب پھنسی‘ اب تمہیں اس پھندے سے خدا ہی بچائے اپنے پائوں کی بھی پروا کرلو‘ زید تم کیوں پل میں تولہ پل میں ماشہ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہو‘ اچھے ہو تو اچھے بن کر رہو‘ نہیں تو مکمل بُرے ہوجائو اور تمہاری اماں اور بہن کے لیے تو دعا ہی کرسکتے ہیں‘ سودہ اور کتنے درد سہو گی ہاں؟ ’’میرے گمشدہ‘‘ اس بار واقعی گم شدہ ٹھہری۔ ’’حریم عشق‘‘ یہاں خوب عشق کی حرمت ہورہی ہے‘ ارحام اپنی محبت بچانی ہے تو اس سائکو کیس کو پکڑو جو تمہارے آگے پیچھے پھر رہی ہے (فساد کی جڑ)۔ حریم کا ردعمل حالات کے مطابق ہی ہے رامین بھی خوب پھنسی اور دادو جی آپ کیوں باہر جاکر بیٹھ گئے‘ ادھر ارحام پر مصیبتیں اتر رہی ہیں‘ جلدی آئیں اب آپ نے ہی کچھ کرنا ہے۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ اوہ نخریلی مس شہرینہ اب مسٹر اکڑو ایڈووکیٹ افگن سے پنگا لیا ہے تو سنبھل سنبھل کر چلنا۔ یہ ایڈووکیٹ لوگ بڑے اعلیٰ درجے کے فریبی ہوتے ہیں‘ مقابل کو منٹوں میں چت کرنے سے واقف ویسے شروع میں لگا سمیرا کی کہانی ہے۔ تھانے میں کوئی ایس پی‘ آئی جی ٹائپ کا ہیرو سامنے آئے گا۔ سمیرا کے پولیس آفیسر بڑے پسند ہیں ہمیں‘ چلو یہ ایڈووکیٹ بھی کم نہیں‘ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘ آغاز تو بہت بہتر ہے۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ یہ وائٹ پیس کیا چیز تھا‘ یزدان ہم تو تمہیں پہلے ہی جان گئے‘ کنویں کے پھول اتنے خوب صورت ہوتے ہیں کہ محبت نے انہیں خوب صورتی عطا کی تھی‘ نائلہ طارق تم اچھی کہانی لے کر آتی ہو‘ بوریت سے بچالتی ہو۔ ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ صائمہ قریشی کی کہانی بھی بہت اچھی رہی‘ مزہ آیا۔ علی نکاح میں طاقت ہے یا پھر تم پہلے ہی اتنے رومانٹک تھے‘ شریر تو پہلے ہی سے تھے (کیا غلط کہا)۔ صائمہ قریشی بھی جب آئیں خوب آتی ہیں‘ لگے رہو تم سب لوگ‘ افسانوں کے لیے معذرت۔ نیرنگ خیال انعام یافتہ بہنوں کو مبارک باد‘ دوست کا پیغام آئے سارے دوستوں سے ملاقات رہی۔ آئینہ بہترین اندازِ بیان دیکھنے کو مل رہا ہے‘ ایک سے بڑھ کر ایک تبصرہ نگار بہن سامنے آرہی ہے‘ اس بار ناموں کو پوائنٹ آئوٹ نہیں کیا گیا تھا پتا نہیں چلا‘ کہاں کس نے ختم کیا‘ کہاں کس نے شروع۔ عید مبارک سب کو‘ اس سے پہلے خوب روزے رکھنا‘ تم لوگوں کے گول گول منہ تھوڑے تھوڑے پتلے ہوجائیں گے۔ نازی اللہ پاک تمہاری اماں کو تندرستی سے نوازے۔ صائمہ مشتاق کس چیز نے تمہیں تنگ کیا‘ اسپتال ہی پہنچ گئی‘ جلدی ٹھیک ہوجائو۔ مدیحہ کنول سالگرہ مبارک ہو‘ پہلی شائع نہیں ہوئی دوسری بار مبارک باد بھیج رہی ہوں۔ ہمارا آنچل علینا نور تمہیں پنک گلاب پسند ہے‘ کہو تو بھیجوں۔ سیدہ امبر اختر بخاری‘ اللہ تمہارے خواب پورے کرے‘ سیدوں کی دعا قبول ہوتی ہے تو پھر ایک آدھ دعا میرے لیے بھی کر چھوڑو۔ عنبر مجید مسکرانے سے دکھ ختم ہوجاتے ہیں‘ اچھا پتا ہی نہیں چلا شاید تم ٹھیک کہتی ہو۔ فرحانہ سالگرہ مبارک اور یہ زندگی ہے اور زندگی اپنی اصلیت ضرور دکھاتی ہے‘ اللہ سے دعا ہے وہ تم پر کرم کرے‘ آمین۔ بیاض دل سباس گل کس پتھر سے واسطہ پڑگیا‘ ناہید اختر‘ فائزہ شہزادی‘ ماروی یاسمین نے اچھا لکھا۔ عید سروے سب بہنوں نے اپنے دل کے پرخلوص جذبات کو شیئر کیا اچھا لگا۔ میں نے بھی سروے بھیجا تھا امید کرتی ہوں اسے آئندہ میں لگادیں گے‘ اب اس دعا کے ساتھ اجازت کے اللہ پاک سب پر رحمتوں کا نزول کرے‘ آمین۔ فاخرہ گل آپ کی امی کے لیے مغفرت کی دعا ہے‘ مائیں ہوتی ہی ایسی ہیں‘ یار زندہ صحبت باقی۔
٭ دئیر فائزہ ہم کو جو بھی ڈاک موصول ہوجاتی ہے وہ ہم لازمی شائع کرتے ہیں اور ڈاک کا نظام تو بس کیا کہیں۔
مدیحہ نورین مہک… گجرات۔ السلام علیکم تمام پڑھنے والوں کو رمضان المبارک کا بابرکت ماہ بہت بہت مبارک ہو‘ 23 کو آنچل ملا بہت خوشی ہوئی ٹائٹل پر موجود ماڈل ماہین پیاری لگ رہی تھی‘ سجی سنوری سی کیوٹ سی فہرست دیکھی سارے نام جانے پہچانے تھے۔ حمدونعت کے تمام حروف خوب صورتی کے ساتھ دل میں اترے دانش کدہ پہلے کی طرح اس دفعہ بھی بہت عمدہ تھا‘ ہمارا آنچل میں عنبر مجید اور امبر اختر کا تعارف اچھا لگا۔ عید سروے میں بہنوں کے جوابات پڑھ کے ان کے متعلق تھوڑا بہت جانا‘ فاخرہ گل کا آرٹیکل بہت اچھا تھا۔ مائوں کے لیے لکھنے بیٹھو تو الفاظ ختم نہیں ہوتے‘ اللہ تعالیٰ سب کی مائوں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے‘ آمین‘ سلسلہ وار ناولز اچھے جارہے ہیں۔ افسانے بھی لاجواب تھے۔ ’’میں محبت اور تم‘‘ اقبال بانو کا افسانہ پسند آیا‘ ہما کو اپنی دوست کے ساتھ اس طرح دھوکہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور شہریار کو اپنی بیوی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بشریٰ نے ہما سے دوستی ختم کرنے کا فیصلہ بالکل درست کیا‘ راشدہ رفعت کا افسانہ ’’وی آئی پی‘‘ بہت ہی عمدہ اور لاجواب تحریر تھی سمجھنے والے کے لیے کافی تھا کہ حقیقی وی آئی پی وہی ہوتا ہے جو اللہ کی نظر میں وی آئی پی ہوتا ہے۔ ’’میکے کی عید‘‘ نزہت آنٹی کا افسانہ بھی کسی سے کم نہ تھا بے شک ہر لڑکی کو اپنے میکے پر بہت مان ہوتا ہے اور آبگین نے بازف کا سا تھ دیا اچھا کیا اور وقت آنے پر شہاب الدین کو اپنی غلطی کا احساس ہو ہی گیا اور انہوں نے بازف اور آبگین کو کھلے دل سے قبول کیا۔ فرح بھٹو کا افسانہ ’’عید سعید تم سے ہے‘‘ نور عرش اور ابتہاج کے درمیان جو دوریاں تھیں وہ ختم ہوگئیں اور ابتہاج نے جس خوب صورتی سے نور عرش کو تمام خدشوں سے نکالا بہت اچھا انداز تھا۔ ’’حریم عشق‘‘ کی یہ قسط بہت اعلیٰ تھی ارحام کی شادی یمنیٰ سے نہ ہو حریم سے ہی ہو اور ارحام کی ماما نے حریم کی تصویر کی بولی لگوائی جو ردعمل حریم کا تھا وہ بالکل درست تھا‘ کوئی بھی لڑکی یہ برداشت نہیں کرسکتی کے یوں سرِ بازار اس کی تصویر کی بولی لگائی جائے اور اس کی تذلیل کی جائے۔ ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ میں حریم کی بار بار ناں نے اسے علی کے لیے ہاں بولنے پر مجبور کر ہی دیا‘ دونوں کا ملاپ زبردست تھا ثوبیہ کی شرارتیں مزے کی تھیں۔ بیاض دل میں عائشہ رحمن‘ ہنی‘ طیبہ خاور سلطان‘ پروین افضل‘ نورین انجم کے اشعار اعلیٰ تھے۔ نیرنگ خیال میں عرشیہ ہاشمی‘ عابدہ سبین اور جہانہ آفتاب کی شاعری عمدہ تھی۔ دوست کا پیغام آئے میں جس نے بھی میرا نام لکھا اس کے نام آداب۔ یادگارلمحے میں ارم کمال‘ نجم انجم‘ عائشہ رحمن ہنی کا انتخاب پسند آیا۔ آئینہ میں طیبہ خاور سلطان‘ ارم کمال‘ انیلا طالب پسندیدگی کا شکریہ۔ ہم سے پوچھئے میں سب کے سوالات مزے دار تھے‘ اللہ تعالیٰ سب کو رمضان کے بابرکت مہینے کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔
فرحت اشرف گھمن… سید والا۔ السلام علیکم! کیسی ہو آنچل کڑیوں؟ آئی ہوپ سب مزے میں ہوں گی اور کیسی گزر رہی ہے آپ سب کی عید؟ اب آتے ہیں تبصرے کی طرف ’’چراغ خانہ‘‘ ایسا لگتا ہے جیسے کہانی ایک ہی جگہ رکی ہوئی ہے پلیز اس کی ذرا اسپیڈ بڑھائیں۔ ’’جنون سے عشق تک‘‘ سمیرا کا ناول ابھی پڑھا نہیں اس لیے تبصرہ سے معذرت۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ سو نائس کیہان جیسی بچی ہمارے محلے میں بھی ہے مجھے تو وہ بہت کیوٹ لگتی ہے۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ زید اور سودہ کا کپل ایک دم پرفیکٹ لگے گا‘ لاریب کو تو انشراح سے دور ہی رکھیے‘ آئی تھنک نوفل اور جہاں آرا کا آپس میں کوئی رشتہ ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ صمید حسن اب پچھتاوے کی آگ میں جل رہے ہیں‘ سب ہی ایک دوسرے سے بدگمان ہیں پلیز نازی زیادہ لمبا نہ کیجئے گا پھر کہانی میں ٹوئسٹ نہیں رہتا‘ خاص کر میری جیسی بندی تو بہت جلد اکتا جاتی ہے۔ باقی ڈائجسٹ ابھی پڑھا نہیں کچھ ایگزام کی مصروفیت پھر روزوں کی ماشاء اللہ۔ نجم انجم آپ کو نئے گھر کی ڈھیروں مبارک ہو‘ ماریہ کنول مجھے تیری دوستی قبول ہے یار ویسے مزے کی بات بہت جلد میں اپنی تشریف آوری سے آپ کے شہر کو رونق بخشنے والی ہوں۔ ماریہ اور نجم آپی تقریباً چوتھی بار لکھ رہی ہوں‘ دوست کا پیغام میں بھی لکھا اور تبصرہ میں بھی لیکن شائع نہیں ہوا۔ روبی علی‘ کوثر خالد‘ شانزے‘ ارم کمال‘ فضہ‘ مائرہ‘ شائستہ اور اقرأ جٹ سب کو میری طرف سے سلام‘ اللہ حافظ۔
کوثر خالد… جڑانوالہ۔
آئینہ پاس رکھا ہے
خود کو دیکھ لیتے ہیں
السلام علیکم ملکہ شہلا اور آنچل پریوں! محفل یاراں میں حاضر ہیں اور دعاگو ہیں کہ جو لوگ روزے دار ہیں ان کے لیے موسم سہانا اور خوشگوار ہوجائے تاکہ روزہ اچھا گزرے۔ ہم نے تو دو روزے رکھ کر وقفہ لیا ہے اب جمعہ جمعہ… تمام کاموں کے ساتھ نماز تسبیح اور تراویح پڑھ لیں گے‘ میرے لیے خوشی کی بات سب سے صلح ہے‘ اور اس بار میری دیورانی مس ناراضگی بنی ہوئی ہے بہن کی وفات والے دن سے اور ہم منانے میں اناڑی پیا ہیں۔ وہ ہمارے گھر آبھی جائے تو ہماری طرف دیکھنے سے گریز کرتی ہے اور ہم محو دعا و محو انتظار ہیں اگر اس نے عید پر بھی صلح نہیں کی تو پھر… آگے ہم سوچنا نہیں چاہتے کیا ہوگا۔ دعا ہے سنبل ملک اعوان سمیت سب کی ناراضگیاں ختم ہوجائیں خودبخود یعنی دونوں فریق دل صاف کرلیں تو صلح خود ہوجاتی ہے۔ ’’نظر سے نظر ملی عید ہوگئی‘‘ چلئے جانب تبصرہ‘ ’’سرگوشیاں‘‘ ہم سراپا عمل بن جائیں‘ حمدونعت بیٹھی آواز کے ساتھ بھی طرز سے پڑھیں اور جلوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مانگی۔ درجواب آں میں نازیہ سے لے کر خزینہ طاہر تک سب کو حسب حال دعائیں حاضر ہیں‘ آپ سب کو سکون اور اطمینان والی روح نصیب ہو پھر ہی خوش رہا جاسکتا ہے کیونکہ زندگی تو دار عمل اور امتحان گاہ ہے اور پرچہ سکون سے کرنے والا ہی صحیح پرچہ حل کرپاتا ہے۔ الکوثر اللہ ہمیں برے اعمال سے دور رکھے اور ہدایت کا حسین چراغ ہمارے دلوں میں جلائے رکھے‘ آمین۔ ہمارا آنچل علینا پری حساس ہونا اچھا لگا‘ شاعری پسند مگر شعر برا لگا باقی من چلے کا سودا ہے۔ سیدہ امبر اختر‘ سیدہ جی بڑی قمیص پہنا کرو‘ فاسٹ میوزک چھوڑ دو‘ عنبر مجید (پاک خوشبو) اسم بامسمیٰ ہو‘ مجھ سے ملتی جلتی ہو‘ خوش رہو۔ فرحانہ دکھ انسان کو مضبوط بناتے ہیں‘ اللہ آخرت میں شاداں و فرحاں ضرور کرے گا‘ ایک بات ہے اگر مان لو فاریہ کا نام فاطمہ رکھ لو‘ اللہ بہتر کرے گا۔ سروے عید ملن نجم انجم ہی چھاگئیں‘ بھئی اپنی ہی ٹنڈ کروا کر آئینہ دیکھ لیا کرو‘ اپنا مکان صحت کے بعد بڑی نعمت ہے۔ تمام شعر بھی اچھے لگے‘ خاص کر عبادت والا اور ذیشان والا‘ انیلا طالب مبارکاں۔ عید تو اصل تمہاری ہے‘ اتنی سی عمر میں اتنی نیکیاں‘ روزے تو میں نے ماں کے گھر رکھے یہاں تو کام کی زیادتی رہی مریضوں کی بہتات رہی اور ہم نہ دنیا کے رہے نہ دین کے۔ پانی کی کمی کا اسم نکالا تو تم بھی پڑھو‘ ملک حمید منعم۔ ماواں ٹھنڈیاں چھاواں فاخرہ گل آپ خود اتنی سمجھ دار ہو ہم بھی ان کے درجات کی دعا ہی کرسکتے ہیں‘ ارے وہ اپنے اصلی گھر گئے ہیں۔ ہم نے بھی وہیں جانا ہے‘ لبیک اللھم لبیک۔ میں ہمیشہ قل شریف ہی پڑھا کرتی ہوں مگر آپ کی ماں کے لیے درود پاک منہ سے جاری ہوگیا شاید وہ درود کی دیوانی تھیں اسی لیے۔ ’’چراغ خانہ‘‘ حقیقت تلخ ہوتی ہے۔
شیشے میں بال آئے تو جاتا نہیں ہے
خدا ہے جو توبہ سے کردیتا ہے معاف اکثر
’’جنون سے عشق تک‘‘ سر پھرے لڑکے تو دیکھے ہیں یہ لڑکی؟ اللہ ہدایت دے ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔ ’’وی آئی پی‘‘ شاندار قلم قانون فطرت کا احاطہ ہر کسی کا کام تو نہیں۔ راشدہ رفعت کون ہیں‘ نام سنا سنا لگتا ہے۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ نائلہ طارق ماضی میں لے گئیں‘ ہمارے محلے میں بھی ایک ایسا سفید بھورا چاند تھا اور ہم حیرت سے تکا کرتے تھے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ بہت دیر سے ہورہی ہے اور دیر تک ہوگی۔ ’’میکے کی عید‘‘ دیوانی ہوتی ہے‘ ’’اپنے وصل کی بارش دے‘‘ صائمہ قریشی پھر اناڑی پیا کو کھلاڑی بنارہی ہیں۔ ’’عید سعید تم سے‘‘ فرح بھٹو باورچی بنارہی ہیں اناڑی لڑکیوں کو۔ ’’حریم عشق‘‘ ابھی تو جاری و ساری ہے‘ ہومیو کارنر اللہ ایسی صورت حال کسی کو نہ دکھائے۔ بیاض دل شازیہ ہاشم اول‘ ہنی عائشہ دوم اور ناہید اختر سوم رہیں باقی ٹھیک۔ ہماری ناہید اختر کمالیہ میں گم ہوگئی‘ کچن اور بیوٹی کی ضرورت نہیں کہ ہم سادہ ہیں۔ نیرنگ خیال انعام والوں کو مبارک ہو‘ عرشیہ ہاشمی اور فرح بھٹو کی شاعری اچھی لگی اور افشاں شاہد کی شاعری کے لیے شعر اترا ہے۔
خود یتیم ہوکر بھی یتیموں کا احساس نہ ہو
ایسا بھی ہوتا ہے ایسا کیونکر ہوتا ہے
برائی مار ڈالوں میں اپنی ہو یا اوروں کی
ایسا کیوں نہیں ہوتا ویسا کیونکر ہوتا ہے
اب سنیں ہماری عید۔
کسی کا بابل نہیں کسی کا ساجن نہیں
یہی دیکھتی رہی اور عید کبھی سنائی نہیں
خوشیوں میں ہر پل ہی غموں کو یاد رکھا
غموں میں رو رو دکھائی ایسی غمی آئی نہیں
خدا کی رضائوں پر سر جھکائے عمر گزری
کام کام اور بس کام‘ کام سے فرصت پائی نہیں
دوست کا پیغام‘ ساریہ کے نام۔
ساریہ کو سارے رنگ ملیں
سارے ہی تیرے سنگ چلیں
تم ساری عمر گزارو یوں
پھول سارے انگ انگ کھلیں
سنبل ملک کے نام۔
سنبل رابطہ نہ بھی ہو تو ہم بھولا نہیں کرتے
جسے ایک بار مل لیں گے اسے چھوڑا نہیں کرتے
دل کے دریچوں کو وا رکھو اور ہم سے مل لو
ہم مر تو سکتے ہیں مگر کسی سے دھوکا نہیں کرتے
بحیرا نیلم ایسا لگا جیسے میری شمع کی شاگرد کوئی اس سے مخاطب ہو پروین افضل‘ ذرا میرے بچوں سے پوچھو ویسے دوسروں نے تو ہمیں ملکہ ہی سمجھا‘ بس گھر کی مرضی۔ مہوش ظہور‘ بھئی تم بھی جان ہی لوگی جلد ہمیں اور دوستی ہماری تو سبھی سے ہے۔ مہوش بے غرض لوگ تو دل کی مسند پر شاہ بن کر رہتے ہیں۔
مجھے دوستی میں شک کی فضا پسند نہیں
ظاہری رابطہ نہ بھی ہو باطنی کرنا بند نہیں
گلے شکوئوں سے دور رہنا ہی دوستی ہے
خود غرضی میں تو خود سے بھی کوئی سمبندھ نہیں
یادگارلمحے‘ بھئی یاد بھی رہا کرو ناں‘ اتنے زیادہ ہیں‘ البتہ موقع محل سے یاد آہی جاتے ہو‘ دل میں رچ بس جاتے ہیں۔ نورین انجم کی ٹرین بڑی پیاری لگی‘ زندہ باد‘ عید تو بچپن کی ہوتی ہے بس۔ آئینہ بس تنویر‘ طویل فراق سب اچھا لگا طویل خط کا ہر حرف بس لگ رہو‘ ہمیں تو…
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند
کوثر خالد کے خط میں ساس کو سعد لکھ دیا (قارئین) فریدہ فری آپ کا ہنستا کھلکھلاتا فون آئے دیر ہوئی خیر ہو۔ صائمہ مشتاق شکریہ‘ تو کب لکھ رہی ہو افسانہ جس میں ہو پرانا زمانہ۔ ارم کمال سے طیبہ‘ انیلا اور لائبہ سمیت ہزاروں پرستار آنچل کو میرا سلام قبول ہو اور عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔ پروین جی نجم جٹھانی اب ہمیںکیا بنائو گی؟ ہم سے پوچھئے‘ کیا پوچھیں سمجھ ہی نہیں آتا۔ چلئے شہلا جی سے معذرت کرتے ہیں کہ شاید خط طویل ہوگیا‘ آپ کا شکریہ۔ دوستانہ ماحول میں تبصرہ کی اجازت دیئے رکھیے گا‘ حمدونعت الگ سے بھیجتی ہوں اس بار اگر لگ جائے تو نوازش‘ دیر ہوجائے تو عین نوازش‘ نہ لگی تو نوازش نوازش کہ جو رب چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ناں‘ اللہ حافظ و ناصر۔
سمعیہ رانی… ملتان۔ تمام اہل آنچل کو محبتوں سے لبریز‘ وفا کی چاشنی میں گھلا سلام عید۔ سب کو عید کی خوشیاں بہت مبارک ہوں‘ آمین۔ جون کی اس چلچلاتی دھوپ میں ایک ہی ٹھنڈے جھونکے کا انتظار تھا جسے دیکھ کر گرمی کی ساری حدت و تمازت رفو چکر ہوگئی اور وہ جھونکا مابدولت کو مئی کی 28 کو ملا البتہ پچھلی دفعہ جلدی ملا تھا اور میں بڑے جوش و خروش سے تبصرہ لکھ کر لشتم پشتم میاں کے پیچھے بائیک پر لیٹر پوسٹ کرنے کے لیے بیٹھی ہی تھی کہ دھم کی آواز کے ساتھ سارا سحر ٹوٹ گیا تھا ہاں جی میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا‘ میاں جی بھی بچ گئے اور اللہ نے مجھے بھی بچالیا خیر چوٹیں تو بہت آئیں مگر ہنس کر سہہ گئے اور اب دوبارہ حاضر خدمت ہوں۔ مسکراتی ماڈل ہمیں عید ویلکم کرتی نظر آئی‘ مدیرہ جی کی سرگوشیاں سنیں‘ حمدونعت سے جہاں دل کو منور کیا وہاں الکوثر پڑھ کر دل کو ایک تسکین حاصل ہوئی‘ تھوڑا سے پیچھے مڑ کر درجواب میں حاضری دی‘ سب بہنوں کا احوال پڑھا کچھ دکھی تھیں تو کچھ خوش۔ اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘ آمین۔ شاہ زندگی کو اللہ اپنے جوار رحمت میں جگہ دے‘ ثم آمین اور فاخرہ گل جی تعزیت کے لیے الفاظ ہی نہیں مل رہے‘ اللہ آپ کی والدہ کو جنت الفردوس میں اونچا مقام عطا فرمائے‘ آمین۔ تعارف چاروں بہنوں کا اچھا رہا‘ فرحانہ بہن اللہ آپ کو ہمت و استقلال دے‘ آمین۔ اس کے بعد لمبی جست لگانی پڑی بھلا کیا پڑھا سمیرا شریف طور کو جو دل کے نہاں خانوں میں بس گئیں‘ جیتی رہیے رائٹر صاحبہ اب شہری کو سدھارنے کا سہرا آپ کے سر اور یہ افگن کسی کھیت کی مولی ہے‘ دونوں ایک دوسرے کے کس بل نکال رہے ہیں‘ ہاہاہا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ کیا کہیے دانیال بھائی بس یہی کہوں گی آپ کے لیے۔
اس کی آنکھوں میں محبت کا ایک ستارہ ہے
نازیہ کنول نازی کب ہوگی ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ ذرا جلدی کیجیے ناں‘ شہرزاد کو ملک فیاض کے ساتھ برداشت کرنا مشکل ہے‘ اسے عبدالہادی کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ صائمہ قریشی ہمیشہ کی طرح مسکراتی ہوئی وصل کی بارش کرتی نظر آئیں‘ افسانے سارے ہی اچھے رہے۔ ’’وی آئی پی‘‘ یہ سمجھانے کے لیے کافی تھا کہ اللہ کے نزدیک امیر کی قدر و منزلت نہیں بلکہ صرف اعمال کی ہے‘ سبق آموز‘ محترمہ اقبال بانو کا اقبال بلند رہا۔ افسانہ تو زبردست تھا مگر اینڈ میں بشی کے دل میں خلاء رہ گیا‘ جو نکلنا چاہیے تھا۔ ’’میکہ کی عید‘‘ سب شادی شدہ بہنوں کو انتظار ہے‘ زبردست۔ نیرنگ خیال میں دلاری اور عید کا دن واقعی انعامات کے حقدار ٹھہرے۔ بحیرہ نیلم یار یہ تو بتادو کس بحیرے کی نیلم ہو‘ ہاہاہا۔ تبصرہ میں سارے ہی اچھے رہے مگر پہلا اور دوسرا تبصرہ محفل کی جان تھے (مہوش مغل اور کوثر خالد صاحبہ کا)۔ کوثر خالد صاحبہ آپ نے پچھلی مرتبہ بجا فرمایا تھا کہ میں حرا جی سے مل سکتی ہوں مگر اتا پتا درکار ہے (حرا جی دے دیجیے ناں) اور کوثر خالد صاحبہ آپ بھی ہمارے لیے قابل عزت اور قابل احترام ہستی ہیں‘ آپ کی محبت و شفقت اور رہنمائی کی‘ ہمیں ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ اللہ آپ کو صحت کاملہ اور لمبی عمر عطا فرمائے‘ آمین‘ مجھے آپ کا رابطہ نمبر چاہیے۔ باقی سلسلے بھی اچھے رہے‘ اس کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گی‘ اللہ حافظ‘ زندگی بخیر تو دوبارہ ملیں گے۔
ثانیہ مسکان… گوجر خان۔ سلام ٹو آل پاکستان میری جانب سے تمام پاکستانیوں کو دل کی گہرائی سے عید الفطر مبارک‘ اللہ ہم سب کو میٹھی عید کی میٹھی خوشیاں منانا نصیب فرمائے اور بانٹنا بھی۔ اب آتے ہیں اپنے سویٹ اور امیزنگ سے آنچل کی جانب۔ جون کا شمارہ حسب معمول زبردست رہا‘ قیصر آنی کی سرگوشیاں سے عمدہ نصائح پلو سے باندھے تو مشتاق انکل کے دانش کدہ سے ایمانی قوت سے خود کو جلا بخشی‘ سرورق پر ماہین کی آنکھوں کی شفافیت نے دل جکڑلیا۔ سب سے پہلے بات کروں گی ’’حریم عشق‘‘ کی‘ یہ قسط پچھلی تمام اقساط پر حاوی ہوگئی۔ ارحام کے ساتھ بہت برا ہوا اور وہ بھی اس کی سگی ماں کے ہاتھوں۔ کاش ارحام اپنے جذبات اپنی مدر سے شیئر کرے ورنہ اس کی اماں جان اس کی محبت میں اس کا کباڑا کردیں گی‘ رضی تو ابھی مجھے بے حد زہر لگ رہا ہے۔ حماد کو رامین سے رشتہ ختم نہیں کرنا چاہیے تھا‘ رضی کو اچھی سزا ملتی۔ رفعت آپی! پیاری کو اتنا سنگ دل مت بنایئے دانیال کے معاملے‘ ہمارا نازک سا دل اتنی محبت کے بدلے میں اتنی بے رخی برداشت نہیں کرسکتا۔ اقرأ آنی کے ناول پر تبصرہ ادھار۔ ’’تیرہ شبوں کا حاصل چاند‘‘ نائلہ طارق بہت زبردست‘ اقبال بانو اور راشدہ رفعت کے افسانے بھی زبردست رہے۔ سیدہ امبر کا تعارف اچھا لگا‘ فرحانہ آپ کے حالات جان کر بے حد اداسی ہوئی۔ آپ یقینا ایک مضبوط عورت ہیں‘ ایک عام عورت شاید اتنا سب جھیل نہ پائے‘ آپ لائق ستائش ہیں‘ اللہ آپ کو اور آپ کی بیٹی کو بے پناہ خوشیاں نصیب فرمائے اور مزید کوئی محرومی آپ کا مقدر نہ بنے‘ آمین۔ بیاض دل میں فائزہ بھٹی‘ رومیہ اور انوشہ کی بیاض اچھی لگی۔ ارم کمال‘ نجم انجم اور عائشہ رحمن نے لمحوں کو یادگار بنادیا۔ نیرنگ خیال میں مونا نقوی‘ ہالہ نور اور ناہید اختر کے خیالات اچھے لگے‘ اب بالکل فرصت میں ہم ہماری ہر دلعزیز سمیرا آپی کے ناول سے سطر سطر‘ لفظ لفظ انصاف کریں گے سو اس پر تبصرہ اگلے ماہ‘ گڈ بائے۔
مریم عنایت… فم کسر‘ چکوال۔ السلام علیکم آپی! کیا حال ہے آپ سب کا؟ جون کا شمارہ ہاتھ میں کیا آیا کہ خوشیوں نے میرے چہرے کا احاطہ کرلیا‘ سب سے پہلے سرگوشیں سنیں پھر درجوب آں کی طرف بڑھے یہ کیا میری کہانی کا نام و نشان نہیں‘ مدیرہ جی میری کہانیاں جلد پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ کریں پلیز پھر ’’ہمارا آنچل‘‘ میں پہنچے تو سب کے تعارف اچھے لگے‘ علینا لیزا کا نام بہت اچھا لگا۔ فاخرہ گل کی والدہ کا انتقال ہوگیا یہ سن کر بہت افسوس ہوا‘ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین۔ سمیرا شریف میری فیورٹ رائٹر ہیں اس لیے سب سے پہلے ان کا نیا ناول پڑھا‘ زبردست ویل ڈن سمیرا جی۔ اللہ آپ کو ہمیشہ کامیاب کرے‘ آمین پھر بھاگے اپنے فیورٹ ناول ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کی طرف‘ نازیہ آپی پلیز شہرزاد کے ساتھ کچھ غلط مت کیجیے گا۔ آپ نے اچھے موضوع پر قلم اٹھایا ہے اللہ آپ کو اس مقصد میں کامیاب کرے‘ آمین۔ آپی ایک بات پوچھنی تھی‘ بتایئے گا ضرور کہ آپ کا ناول ’’آنسو جو پتھر ہوئے‘‘ جو آپ نے لکھنا تھا لیکن آپ نے لکھا نہیں ہے‘ وہ آپ کب لکھیں گی؟ بتایئے گا ضرور‘ پھر پڑھا ’’حریم عشق‘‘ زبردست‘ سیدہ غزل زیدی آپ بہت اچھا لکھتی ہیں۔ ’’چراغ خانہ‘‘ بہت اچھی اسٹوری ہے‘ رفعت سراج آپ بہت تھوڑا کیوں لکھتی ہیں۔ ’’تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ میری موسٹ فیورٹ ہے‘ آپی پلیز نوفل کو ٹھیک کردیں اور لاریب کو انشی سے دور رکھیں‘ آنچل میں قسط وار ناولز بہت اچھے ہیں‘ مہندی کے ڈیزائن بھی بہت اچھے لگے۔ اس ماہ کا شمارہ بہت اچھا لیکن ایک کمی تھی‘ ظاہر سی بات ہے میری تحریر جو نہیں تھی اس لیے‘ سب خوش رہیں‘ دوسروں کو خوش رکھیں کیونکہ دوسروں کے لیے جینا ہی اصل جینا ہے اینڈ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ مجھے شمع مسکان‘ لاریب انشال‘ انا احب اور سونی علی سے دوستی کرنی ہے‘ آپ سے ریکوئسٹ ہے میری اس آفر کو ضرورقبول کیجیے گا‘ سمیری کوئی بہن نہیں ہے اس لیے ایک بہن جیسی دوست بنانا چاہتی ہوں پلیز بتایئے گا ضرور کہ آپ مجھ سے دوستی کریں گی یا نہیں‘ اچھا جی اب اپنا خیال رکھیے گا اور اپنے سے زیادہ دوسروں کا اور مجھے بھی دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔
٭ اب اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ رب العزت ملک پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہم مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت و وسعت عطا فرمائے اور غلطیاں درگزر کرنے کی توفیق دے‘ آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close