Aanchal Jul-17

بیاض دل

میمونہ رومان

اقراء جٹ… منچن آباد
توں نہ آیوں تیری یاد آکے تیرا وعدہ یاد وفا کرگئی
رہی مسلسل کمی باقی تیری میرا امن تے چین حرام کرگئی
بوھا نینا وا کھڑا کیا کیں واری مین سمجھایا اثر دعا کرگئی
باہر جاکے بیٹھا نا صر مرے نال مذاق ہوا کرگئی

وقاص عمر… حافظ آباد

تمہاری دید ہی میری عید ہے
تم آئو تو میری عید ہو

ماہ رخ سیال… سرگودھا

ڈوب جا عشق خدا میں سب کچھ بھول کر اے انسان
کسی اور نے پائی ہے یہ دنیا کی محبت جو تُو پائے گا

مدیحہ کنول سرور… چشتیاں

بہاریں اتریں تیرے آنگن میں
ہر سو خوشیوں کی نوید ہو
غم کا سایہ کبھی چھو کر نہ گزرے
تیری ہر صبح مثل روز عید ہو

روبی علی… سید والا

گریزاں ہیں آج جو ہماری محبت کی شدتوں سے
کل وہ ہم سے زیادہ ہمارے طلب گار ہوا کرتے تھے

صباء زرگر‘ ذکاء زرگر… جوڑہ

مجھے ہی نہیں رہا شوق اے محب ورنہ…!
تیرے شہر کی کھڑکیاں اشارہ اب بھی کرتی ہیں

مہوش ظہور مغل… گوپی پور

ہماری نماز جنازہ پڑھائی غیروں نے
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

عظمیٰ شفیق… جڑانوالہ

جلاتا ہے جو رات میں یادوں کے دیپ
شامل میرے جیون میں کیوں وہ تارا نہیں ہوتا

ثانیہ مسکان… گوجر خان

محفل زیست میں پھر عید کی آہٹ پاکر
آج کچھ زخم مرے دل کے مہک اٹھے ہیں
گلشن دل میں تمنائوں کے آزردہ تیور
مژدہ عید سے شہ پا کے چہک اٹھے ہیں

ثوبیہ سحر… بستی ملوک

نیند آئی نہ رات بھر مجھ کو سحر
خواب بیٹھے رہے قطاروں میں

سعدیہ حورعین حوری… بنوں‘ کے پی کے

میرے دکھوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے
سنا ہے تیرے شہر میں پھر عید آرہی ہے

مشی خان… بھیرکنڈ‘ مانسہرہ

تنہا اداس چاند کو سمجھو نہ بے خبر
ہر بات سن رہا ہے مگر بولتا نہیں

تھری اسٹار گروپ… بھیرکنڈ

اپنے تو وہ ہوتے ہیں جن کو درد کا ہو احساس
ورنہ حال تو رستوں پر چلنے و الے بھی پوچھ لیا کرتے ہیں

نبیلہ ناز… ٹھینگ موڑ الٰہ آباد

آج تو دل کچھ یوں اداس ہے ناز
جیسے تنہا کشتی کی سمندر میں شام ہوگئی

کرن شہزادی… مانسہرہ

وہ کر نہیں رہا تھامیری بات کا یقین
پھر یوں ہوا کہ مرکے دکھانا پڑا مجھے
اک اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے

کبریٰ مہتاب رانا… بوسال سکھا

تمہاری تو عید گزرے گی
ناجانے ہم پہ کیا گزرے گی

علیشبہ نور… بھیرکنڈ

نہ دنیا سے نہ دولت سے نہ گھر آباد کرنے سے
تسلی دل کو ملتی ہے خدا کو یاد کرنے سے

اقراء لیاقت… حافظ آباد

الجھنیں میں نے کئی جھک کر بھی سلجھائی ہیں
لوگ سارے تو نہیں قد کے برابر ہوتے

عابد مقبول چوہدری…

ہمارا خون بھی شامل ہے وطن کی آبیاری میں
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

عنزہ یونس… حافظ آباد

جنہیں ہم زہر لگتے ہیں
وہ زہر پی کیوں نہیں لیتے

شبنم دل… خواجگان‘ مانسہرہ

تجھے اس طرح چاہوں کہ آخر تو میرا ہوجائے
پھر زمانے کو تیرے لیے تڑپتا دیکھوں

ناری مغل… خواجگان مانسہرہ

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ ‘ کیا چاہتا ہوں

یاسمین کنول… پسرور

روک لیتی ہیں چلتے راہی کو
کچھ صدائیں عجیب ہوتی ہیں
ہاتھ اٹھتے ہیں لب نہیں ہلتے
کچھ دعائیں عجیب ہوتی ہیں

ارم کمال… فیصل آباد

کہاں ممکن تھا میں دل سے تیری یادیں مٹادیتا
بھلا کیسے میں جیتا پھر اگر تجھ کو بھلادیتا
تیری رسوائی کے ڈر سے لبوں کو سی لیا ورنہ
تیرے شہر منافق کی میں بنیادیں ہلادیتا

تبسم شہزادی… فیصل آباد

آنکھوں سے پڑھی جاتی ہے حیا کی کہانی
نقاب ڈال کر کوئی پارسا نہیں ہوتا

کوثر خالد … جڑانوالہ

مرجائے تو بڑھ جاتی ہے انسان کی قیمت
زندہ رہیں تو جینے کی سزا دیتے ہیں لوگ

پروین افضل شاہین…بہاولنگر

مجھے حیرت ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں بچتا
میں اپنی ذات سے جب بھی تمہیں تفریق کرتا ہوں

حیرا قریشی …ملتان

کہہ رہی ہے فضا کی خاموشی
ان دنوں تم اداس ہو شاید

راؤ رفافت علی…دنیاپور

لگتا ہے آج ہر تعلق مٹ گیا فرہاد
اس نے مجھے دیکھا مگر پہچانا نہیں

ریما رضوان …کراچی

بس یہی عادت اس کی مجھے اچھی لگتی ہے
اداس کرکے کہتا ہے ناراض تو نہیں ہو؟

سحر حسین…ڈنگہ

اک نظر مجھے دیکھ کر آزاد کردے محسن
کہ میں آج تک تیری پہلی نگاہ کی قید میں ہوں

دلکش مریم…چنیوٹ

وہ بولے محبت کا سمندر بہت گہرا ہوتا ہے
ہم نے بھی کہہ دیا ڈوبنے والے سوچا نہیں کرتے

آمنہ رحمان… ربالی مری

سکون زیست کی راہ میں کھوگئے اکثر
ہنستے ہنستے کئی بار ایسا ہوا ہم روپڑے اکثر
جن پر تھا بھروسہ ساحل پر لے جائیں گے دعاؔ
وہی ملاح بے وفا ہم کو ڈبو گئے اکثر

گل مینا خان… مانہسرہ

زندگی کیا ہے تیرے بنا اے دوست
کسی پھول کو اس کی شاخ سے الگ کرکے دیکھ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close