Aanchal Jul-17

آنچل کی لاج

زندگی تنویر خلیل

ہمیں ناز ہے اپنی گمراہیوں پر
ندامت نہیں‘ شرمساری نہیں ہے
جو ہم سوچتے ہیں وہی بولتے ہیں
کسی قسم کی راز داری نہیں ہے

بند ہوتی آنکھوں پہ نیند کی پریاں خوشنما خواب ٹانک رہی تھیں۔ مژگان اس بوجھ تلے جھکے تھے۔
’’میں نے آنچل کی لاج رکھی‘ میں نے آنچل تھامے رکھا…‘‘ دریچے سے ہٹ کر اس نے سینے پہ ہاتھ رکھا۔ دل دھک دھک کررہا تھا۔ اس نے جسم کی سنسناہٹ دبانے کے لیے انگلیاں مروڑیں۔
ولید صاحب ابھی بھی پجارو سے ٹیک لگائے کھڑے تھے‘ اس نے سوچا مذاق ہے بھئی‘ اب کاہے کو راہ تکنے لگے امیر زادے… وہ اٹھی اور دریچے بند کیے مگر پھر بھی وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوئی‘ جھروکے سے دیکھا۔ ولید صاحب ابھی بھی کھڑے ہیں‘ قصائی کی دکان کا شٹر بند ہوچکا ہے اور گلی کے نکڑ سے زبیدہ خاتون سبزیاں سنبھالے‘ مٹکتی مٹکتی چلی آرہی ہیں‘ اس نے لاحول ولاقوۃ پڑھا۔
زبیدہ خاتون اتنی افسانہ تراش خاتون تھی کہ اگر کہیں سے انہیں بھنک بھی پڑ جاتی کہ پرائمری اسکول کی استانی جھروکوں سے ہوم منسٹر صاحب کے اکلوتے چشم وچراغ کو تکتی ہے تو ’’استانی جی‘‘ سے شروع ہوجاتی اور اگلے تین منٹ میں افسانے بن جاتے۔
پھر ڈوربیل بجی‘ وہ سہج سہج چلتی دروازے تک آئی‘ دروازہ کھولا‘ ہاکر ہاتھ میں آنچل لیے ہوئے تھا۔
’’بی بی‘ آپ کا رسالہ…‘‘ وہ مسکرائی‘ پیسے تھمائے‘ دروازہ بند کرتے وقت اس نے رک کر اس لڑکے کو دیکھا‘ اور یہ اس کی کتنی فضول عادت تھی اور یہی عادتیں بھی کتنا زچ کیے رکھتی ہیں‘ کبھی چھوٹی سی غلطیاں کرواتی ہیں اور پھر زمانے بھر میں رسوا کردیتی ہیں۔ انسان بھی کتنا غیر جانب دار ہے‘ وہ ہنسی۔
وہ رسالے کی ورق گردانی کررہی تھی‘ شام کی قلفی جمانے والی یخ بستہ ہوائیں کسی کنواری کی طرح مٹکتی مٹکتی نہر کے ساتھ ساتھ قشقہ سجائے بیٹھی تھی۔ اماں کچن کے دروازے میں کھڑی تھیں۔
’’کل کو رضیہ کے بتائے لوگ آرہے ہیں‘ گھر پر رہنا۔‘‘ پھر ڈوئی گھماتے ہوئے کہنے لگیں۔ ’’پچھلی دفعہ ڈھنگ سے تیار نہیں ہوئی تھیں‘ رضیہ نے کہا تھا کہ سلیقے کو گولی مارو‘ لڑکی پہ دھیان دو‘ پلیٹ پلیٹ بھر کے تو چشمے پہن رکھے ہیں۔ آنکھوں کے گرد حلقے کسی درزن کی روح لگتے ہیں۔‘‘ وہ ہنس دی اور بنا رکے ہنستی چلی گئی۔
ماں کہتی ہے کہ پلیٹ بھر کے چشمے اور فہیم کہتا ہے ’’تمہاری نین کٹوروں پہ جیسے برگد درخت کا چھتنار سایہ ہو۔‘‘
فہیم بھی بڑا پاگل تھا‘ گھنٹوں مرثیوں پہ قصیدوں کی ملمع کاری کرتا‘ فہیم اس کے ساتھ ساتھ جاتا‘ جب وہ اسکول کا حنوط زدہ دروازہ کھول کر ذرا ترچھی ہوکر اسے دیکھتی تو گلے میں سانس اٹک جاتی‘ وہ مسکرا دیتا۔
’’چھٹی کے وقت دل کی دنیا آباد کرنا‘ سمجھیں نا؟‘‘
مگر ایک دن تو غضب ہوگیا تھا‘ دوپہر میں سیب کے مربے کی خوشبو فضاء میں پھیلی ہوئی تھی‘ گاہے بگاہے چند گاڑیاں آتی جارہی تھیں… اس نے گھٹائوں بادلوں کا سا شال اوڑھ رکھا تھا‘ فٹ پاتھ پہ چل رہی تھی تو امی کو میسج بھیجا‘ تب پیچھے سرسراہٹ سی ابھری۔ چلو خیر تھا کہ سرسراہٹ تھی‘ مگر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا… تو حلق میں پسینے کی بوند سی ٹپک گئی۔ فہیم کے ساتھ اس کا دوست تھا۔
’’زیبی… یہ ہے میرا دوست گلزار۔‘‘ وہ رکی نہیں۔ ’’زیبی رکونا… یہ تم سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس نے نہیں چاہا کہ رک جائے مگر نجانے کیوں رک گئی۔ اگر اسے پتا ہوتا کہ یہ رکنا محال ہے تو وہ سر پہ پائوں دھر‘ ہاتھ میں پکڑا پرس بغل میں داب کر یہ جا وہ جا ہوتی مگر وہ تو رک گئی تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’مہذب گھرانے کی لگتی ہے‘ ملی کیسے؟‘‘ ٹٹولتی نظریں تھیں۔
’’ہیرا چمکتا ہے پگلے۔‘‘ فہیم ہنسا‘ زینب شال یوں تھامے کھڑی تھی کہ جیسے بھاگ جانے کی تدبیریں سوچ رہی ہو۔
شام کو گھر میں وہ بہت الجھی ہوئی تھی۔ گردن کے بال جیسے کان کھڑے کیے ہوئے تھے۔ یک دم موبائل تھرتھرا اٹھا۔
’’فہیم یہ اچھا نہیں کیا۔‘‘ اس نے چھوٹتے ہی گلہ کیا۔
’’ہم آپ سے محبت کرتے ہیں مائی باپ اور محبت کی ہے تو جناب والا ہمارے ذات سے منسلک لوگوں کی بھی آپ سے محبت ہوگی‘ یہ فطری امر ہے۔‘‘ اس کے کان سے ایک لٹ الجھی‘ کان کے لو پہ ایک نادم سی تمازت پھیل گئی‘ رعنائیاں سی رعنائیاں تھیں۔
فہیم صحیح کہتا ہے‘ اس نے سوچ لیا‘ لیکن اس سوچ نے بھی کیا غضب ڈھائی‘ کل کو جب اماں کے ساتھ خالہ رضیہ وارد ہوئی‘ تو اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں جابند ہوئی۔
کل آسمان کے ہالے پہ دھند کی ایک موٹی سی تہہ جمی تھی‘ سردی حال سے بے حال کیے ہوئے تھی۔
’’ایم اے انگلش کرنے کے بعد وہ پرائمری میں پڑھاتی ہے۔‘‘ صبح اسکول میں جب وہ بچوں کو اے‘ بی‘ سی پڑھا رہی تھی تو اسی لمحے ماں صاحبہ اپنی بہن سے خوش گوار لہجے میں کہی رہیں تھیں‘ ان کی آنکھوں کے گوشے چمک رہے تھے اور جبڑے خوشی کے مارے ہل رہے تھے۔
گھر آکر جب اسے پتا چلا کہ اس کا خالہ زاد اظہر بمع اپنی والدہ کے ساتھ آیا تھا اور اس کی ماں صاحبہ نے ہاں بھی کردی ہے… تو رات کی سیاہی میں دھڑکتے دل سمیت وہ فہیم سے الجھی تھی۔
’’یہ رشتہ طے ہوجائے گا۔‘‘
’’نہ ہوگا میرے دل کی دھڑکن… دیکھنا ہمارے ملن کے لیے کائنات کیسے سازش کرے گی۔‘‘ مغلئی طرز کی رات میں لہجہ مانند فروزاں شمع کا سا تھا۔
’’یہ بہانے مت گھڑو‘ سیدھی طرح ماں کو بھیجو۔‘‘ داہنی دانت پہ رینگتی سرد سی سنسناہٹ ابھری۔ اس نے منہ ہی بند کرلیا۔
لیکن خیر‘ ہی ہوا کہ فہیم کا منہ بند نہ ہوا۔
’’ذرا سا انتظار کرنا… ماں صاحبہ بیمار ہے اور میرا کاروبار ذرا الجھا ہوا ہے… بس اگلے ہفتے ہی بھجوا رہا ہوں۔‘‘
’’جان جاں امی بدھ کے دن آرہی ہیں۔‘‘
مگر بدھ نہ آیا اور جب اس کی مہندی کے روز وہ کہہ رہا تھا۔
’’امی آرہی ہیں کل صبح ذرا سا تیار ہونا۔‘‘ تب اس نے جانا‘ کیسا سہل جانا تھا۔
’’اب کوئی فائدہ نہیں فہیم‘ کل بارات ہے۔‘‘ فون کے پار شاید آندھی اٹھی تھی۔
’’بارات… تم میری ہو زیبی۔‘‘
’’کاش کہ ہوتی۔‘‘
’’اچھا سنو‘ بہانے نہیں‘ پیار کیا ہے تو نبھانا پڑتا ہے۔ کل رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہم محبت امر کریں گے۔‘‘
اس نے آگے سے کچھ نہیں سنا‘ یہاں بات ختم‘ وہاں فون بند۔ گردن پہ یکایک خوف کا پسینہ بہتا سا محسوس ہوا‘ دل کی دھڑکن جیسے پیوست ہوکر رہ گئی اور دل دھڑکنا بھول گیا۔ اس کے بھرے پرے دماغ سے جانے کیسے فہم کا طائر پر لگا کر اڑ گیا تھا۔
حنائی ہاتھوں پہ اظہر کی مہک پھیلی تھی اور حلق میں سوکھا جنگل اگ آیا تھا۔ احتساب کے کٹہرے میں خود کو جب پایا تو معلوم ہوا کہ ملزم بھی وہ خود ہے… وکیل بھی اور جج بھی۔ پیار زندگی کا انتہائی خوب صورت امر ہے۔ امر اور ماں۔
آنسوئوں کی نمکین جھیل میں غوطہ زنی بتاتی ہے کہ بیوگی کا شال اوڑھ کر‘ سلائی کرتے ہاتھوں کی انگلیوں کا گوشت سوکھ گیا تھا‘ سانسوں میں پیاز کی لچھوں کی بو بسی تھی۔ ژولیدہ حال‘ حال سے بے حال کیے رکھتا تھا۔
پھر چھوڑنا‘ دریچے کے آبگینے پہ عکس درعکس منعکس ہوتے جارہے تھے… وہ کیا کریں؟
اور یہ ’’کیا‘‘ کرنا بھی کیسا غیر جانب دار ہے۔ دس بج چکے تھے اور ذہن میں کیسا عجیب گنجلک پڑگیا اور یہ بات تو چھوڑیے‘ ہوم منسٹر صاحب کے اکلوتے چشم وچراغ بھی آج کل کافی چکر کاٹ رہے تھے۔ کل ہی تو خالہ بتول کہہ رہی تھیں۔
’’غضب اللہ کا‘ مانو یوں لگتا ہے کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا۔ کس کس کی سنے‘ کس کس کے سنائے‘ زمانہ کہتا ہے کہ گھر کی بھاگی سے دنیا بھاگتی ہے مگر کم بخت روزینہ بارہا دھمکیاں دیتی ہے ماں کو گھر سے بھاگ جانے کی۔‘‘ اس نے موبائل چیک کیا۔ پیغامات کا تانتا سا لگ ہوا تھا۔
’’زیبی… جلدی سے سامان سمیٹو…‘‘
’’ایک گھنٹہ ہے۔‘‘
’’تم کیا کررہی ہو؟‘‘
اس نے سامان سمیٹا… مگر رکیے… اگر ایسا ہوتا تو ہماری ہیروئن فہیم کے ساتھ کسی کوارٹر میں رہ رہی ہوتی‘ مگر اس نے عجیب سا کام کیا‘ صبح کا نیا آیا آنچل اٹھایا‘ صفحات الٹاتے ہوئے اس نے بے دلی سے ایک افسانہ پڑھنا شروع کیا۔
{…٭…}
افسانہ ’’بیوہ‘‘
مجھے پڑھتے ہو کیوں لوگو!
مجھے تم مت پڑھو کیونکہ
اداسی ہوں‘ الم ہوں‘ غم زدہ تحریر ہوں میں تو
جسے لکھا گیا‘ رنجیدہ عالم میں
مجھے تم مت سنو لوگو کہ میں تو کرب کے موسم کا نغمہ ہوں!
دکھی بلبل کی آوازوں میں شامل ہیں
کسی ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی آہ ہوں میں تو
کئی روتی ہوئی آنکھوں کا آنسو ہوں
مجھے کیوں دیکھتے ہو تم؟
میں تو پتلی ہوں‘ تماشہ ہوں!
میں لاشہ ہوں!
غموں کو درد کو دل میں چھپائے پھر رہا ہوں میں
مجھے پڑھتے ہوکیوں لوگو!
کہ مجھ کو اس گھڑی لکھا گیا
جب کاتب تحریر کی آنکھوں میں اشکوں کی روانی تھی
وہ تو خود حیران تھا‘ غمگین تھا اور دل گرفتہ تھا!
مجھے پڑھتے ہوئے لوگو مجھے پڑھ کر کہیں تم
مبتلا غم نہ ہوجائو!
مجھے تم مت پڑھو لوگو!
{…٭…}
رات کا پہلا پہر اونگھ رہا تھا‘ کہر میں پھیلی یخ بستہ ہوائیں محو استراحت تھیں‘ زقند بھرتے ابابیلوں کی گہما گہمی معدوم پڑچکی تھی… میرے کمرے میں آج پھر سے سردی کا قیام تھا‘ خاموشی سر نیہواڑے بیٹھی تھی۔ چار پائی پہ میرے دو بچے سو رہے تھے‘ زرد‘ زرد سی رنگت‘ نیلے‘ رعشہ زدہ ہونٹ… وہ میرے پیارے سے بچے تھے‘ جن کی زندگی کا گلاب مرجھایا جارہا تھا۔
اور میں… میں آسیہ فراز بھی تو کوئی ہٹی کٹی نہ تھی۔ مجھے پتا ہے کہ میرے ہمسائے گرم کمروں میں محواستراحت ہوں گے‘ وہ گرم گرم کمبل اوڑھے ہوئے ہوں گے‘ ان کے کمروں میں ہیٹر لگے ہوں گے۔ کمرے کا پلستر ادھڑا ہوا ہے… کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے ہیں‘ میرے دو بچے جو چارپائی پہ لیٹے سو رہے ہیں‘ اس چارپائی کا ایک پایا ٹوٹ چکا ہے اور چند اینٹیں رکھے ہوئے ہیں‘ بچوں پہ ایک گرم چادر پڑی ہے۔
انسان کو اپنی تقدیر کے مطابق ہی ملتا ہے‘ مگر بات یہ ہے کہ کبھی کبھی تقدیر انسان کو موقع دیتی ہے‘ کہ جو کرے‘ اسی کے عوض ملے گا‘ میرے لیے بھی یہ ساعت منتخب ہوئی اور میں نے محبت کے ابریشم ہوا کے سپرد کردیا‘ جو پتا نہیں… کس نگر لے اڑی ہے۔
رات کی سیاہی پہ کسی نے صبح کی سفیدی مل دی تھی‘ مگر نہیں… یاد تھی وہ‘ جس سے منسلک تھی ہر وہ خوشی‘ غم جو میرے ذات میں مقید تھے۔
ہمارے والد محترم اپنے شہر کے مشہور صنعت کار تھے‘ امی کالج میں لیکچرار تھی‘ بھیا جان آئی اسپشلسٹ تھے۔ میں پری میڈیکل کے پہلے سال میں پڑھتی تھی اونچا قد‘ گلابی ہونٹ‘ نسواری آنکھیں اور گوری رنگت… ان دنوں میرے والد کے ڈرائیور کا انتخاب ہونے والا تھا… دراصل ہمارے ڈرائیور کا انتقال ہوگیا تھا۔
میں ٹیرس پہ بیٹھی‘ کمسٹری کے فارمولے رٹنے میں جتی تھی‘ امی کو نجانے کیا سوجھی کہ اوپر چڑھ آئیں۔
’’بازار جانا ہے‘ چلوگی؟‘‘میں نے کتاب بند کی۔
’’کیوں؟‘‘
’’ردا کی شادی ہے‘ ذرا بازار کا رخ روشن دیکھتے ہیں‘ شاپنگ کرتے ہیں۔‘‘
’’چلیں۔‘‘ ہم نے یہاں اوکے کا اشارہ دیا ہی تھا کہ اچانک ڈرائیور محترم کی یاد آئی۔ میں نے پوچھا کہ کون ہے؟ امی محترمہ نے رک کر ذہن کے نہاں خانوں میں ٹٹولا اور پھر شاید یاد آنے پہ کہا۔
’’پتا نہیں‘ کون ہے؟‘‘
میں نے ہونٹ بھینچ لیے‘ ہماری والدہ محترمہ بھی قسم سے ظرافت کی تجوری تھیں۔ رات بھر جب ہم بڑے سے ہال نما کمرے میں اکھٹے ہوجاتے‘ سبز گول دریچے سے معتبر چاند جھانکتا‘ تو تحریلی ہنسیوں کی پھلجڑیاں پھوٹتی‘ والدہ صاحبہ کنارے لگے ساڑھی کا پلو منہ میں داب کر مسکرادیتی اور ہونٹوں کی مخروطی شکل بنا کر کہتیں۔
’’پتا ہے آسیہ‘ یہ جو شوہر ہوتے ہیں نا‘ بڑے ہی دل جلے ہوتے ہیں‘ شام کی مٹتی شفق میں گل رخسار پہ آشیرباد پیش کرتے ہیں اور مظہر تو…‘‘ ساری لڑکیاں کھلکھلاتی‘ مسکراتی‘ اور معنی خیز مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا۔
’’مظہر میرے چچا زاد تھے۔ اونچا قد سبز آنکھیں‘ خم دار مونچھیں‘ اور بڑھی شیو میں دائیں گال پہ سرخ سا نشان یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آسمان کی پری نے اسے زور سے پکڑ کر بھینچ کر گالوں پہ بوسے دیئے ہوں۔‘‘ اور اب اتنی زور کی ہنسی آئی اگر ضبط کرتے تو غافل ہوجاتے… تین منٹ میں تیار ہوکر ہم گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ بیٹھتے ہی کائنات کی گردش تھم سی گئی‘ تھمی تو دھڑکن بھی… سانس بھی‘ سورج کی تابانی میں حب‘ کے سارے موتی سمٹ کر جھولی میں گرنے لگے… خزاں کے موسم میں رت بہار آئی‘ پیڑوں کی شادابی آنکھیں چندھیانے پہ مجبور کررہی تھی۔
مگر رکیے‘ یہ شادابی نہ تھی‘ خزاں کے موسم میں فصل گل کا کیا ملن… دل کی دنیا ٹٹولی اور یہ کہتے پایا۔
’’آسیہ کو اپنے ڈرائیور سے پہلی نظر میں ہی محبت ہوگئی۔‘‘
{…٭…}
آکاش پہ آج دھنک کے رنگ بھرے تھے‘ سیلی سیلی ہوائیں من کو شانت کررہی تھیں‘ درخت سرتانے کھڑے تھے… یہ شاید بصارت کی رنگینی تھی ورنہ خزاں کے موسم میں ایسے موسم جاناں کی امید کاہے کو ہوگی؟ ڈرائیور دھیمے سے گاڑی تارکول بچھے سڑک پہ چلا رہا تھا‘ لیکن اب وہ ڈرائیور کہاں تھا وہ تو دل کی دنیا تھا۔
احساس دلربائی تھا اور… آنکھوں کا حسین خواب تھا۔
کالج میں جب میں اپنی سہیلیوں کو یہ حادثاتی سانحہ نہایت فصاحت وبلاغت سے استعاروں سے لبریز کرکے سنارہی تھی‘ تو فرح نے بے اختیار بیچ میں ٹوک دیا تھا۔
’’تم نے اسے بتایا؟‘‘ میں نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا‘ بال پوائنٹ منہ میں دبائے ہماری اردو کی نہایت ہی خوابیدہ استانی کی طرح دیکھا اس نے دیکھا۔ ’’اری کملی! محبت کرتی ہوں تو بتانا تو پڑے گا ہی۔‘‘
’’مطلب؟‘‘ مجھے ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’’مطلب… کہ جب کوئی محبت کرتا ہے تو اپنے محبوب سے اس کا ذکر بھی کرتا ہے تمہارے بس کا روگ نہیں۔‘‘
لیکن یہ کلموہی گاڑی میں بیٹھی دھوپ کے اجلے پہر میں بتارہی تھی۔
’’ہر کسی کی زندگی محبت اپنے رنگ بکھیرتی ہے۔ چکور اپنے لافانی عشق سے باز نہیں آتا۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ چاند اس کی دسترس میں نہیں… مگر پھر بھی وہ اڑان بھرنے سے باز نہیں آتا۔ دوپل جب کسی کو دیکھ کر یہ لگے کہ رتیں بدل گئی‘ گردش کائنات تھم گئی تو لگتا ہے محترم… کہ ہر راستہ اسی طرف مڑنے لگتا ہے۔‘‘ مسکارے سے لدی مژگاں لرز رہی تھی۔
’’آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں۔‘‘
’’کہہ ہی نہیں سکتی نا۔‘‘ گاڑی نے موڑ کاٹا۔
’’آپ بتادیجیے۔‘‘
’’ہمیں آپ سے محبت ہوگئی۔‘‘ گاڑی کے ٹائر یک دم چرچرائے بریک پہ پائوں بڑے ہی زور سے لگا۔
{…٭…}
’’سیلی سیلی ہوائوں میں نمی کا ظہور آیا ہی تھا کہ من اٹھکیلیاں کرنے لگا… تاجدار سورج تابانی سمیٹے ہوئے تھا اور مغرب سے چاند ابھر کر ہر سو محفل سخن کی روح بن گیا۔
میں فراز کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ مطمئن سرشار… لیکن اس اطمینان کے پیچھے جو تکالیف کارفرما تھیں‘ وہ بڑے ہی پیچیدہ تھے۔
میں نے فراز سے اظہار کردیا‘ وہ خاموش ہوا‘ مگر خاموشی نیم رضامندی ہے۔ میں خاموشی کی ردا اوڑھے اپنی محبت کی رفوگری کرتی اگر جو اس کا خط نہ ملتا…!
یہ خاموش دوپہر کا وقت تھا‘ جب سارے لوگ سستانے کی غرض سے اپنے اپنے آشیانوںمیں دبکے تھے اور میں ’’شام کے بعد‘‘ میں کھوئی تھی۔
سنبل کے درخت پہ طائروں کی محفل سخن ٹھمک کے جمی تھی۔ چہچہاہٹ‘ فسوں خیز‘ محصور کردینے والی شاعری اور مستزاد اس پہ اس کا خط…!
’’پیاری آسیہ! آپ کی طرف سے پروین شاکر کا ’’خوشبو‘‘ موصول ہوا اور یقین جانیے‘ دل کو تمازت بخشنے کا خوب اہتمام کیا تھا آپ نے‘ اظہار محبت کا انوکھا خیال‘ لیکن تخیل کی رنگینی سے نکلیے اور ذرا سا فضا میں معلق غیرمرئی نقطے سے نظریں ہٹائیے‘ حقیقت کو قبول کرنے کی کوشش ہی کرلیجیے… ایک ڈرائیور‘ جو ماں کی وفات کے بعد ایک ایسے امیر شخص کے ہاں نوکری کرتا ہے‘ جس کی کڑک آواز ایوان زیریں میں گونجتی ہے… ان کی صاحبزادی اسی ڈرائیور سے محبت کرنے لگی ہے اور حسن اتفاق سے ڈرائیور محترم بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے‘ دونوں میں کافی حد تک سمجھداری ہوتی ہے اور دونوں شادی کرلیتے ہیں… ڈرائیور کو صاحب کی جانب سے بنگلہ‘ گاڑی‘ نوکری مل جاتی ہے۔ دونوں خوشی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ محبت کو سائیڈ ٹیبل پہ رکھ لیجیے اور سوچیے…یہ ممکن ہے؟ اول… تو ایسا ہوگا نہیں اور اگر ہو بھی جائے تو نبھانا مشکل امر… آپ لاڈو میں پلی ہیں اور میری استطاعت ایک کورے کاغذ کی سی ہے‘ جہاں اگر آپ کا خم دار قلم کوئی موتی صفحہ قرطاس پہ بکھیرے گا تو قلم بار بار پھسلے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ محبت انتہائی گھٹیا فعل ہے‘ میں تو آپ کے نہایت رنگین خیال کو ایک ایسے آدرش کے روبرو کرنا چاہتا ہوں‘ جہاں حقیقت کے ناگ پھنکارتے ہیں‘ لیکن یہ الگ بات ہے کہ ڈستے کوئی نہیں…! آپ حالت حاضرہ پہ نظر ڈالیے اور آنے والے وقت پہ بھی… کہ وقت ہر کسی کو ایک جیسا نہیں پرکھتا… میں یہ بھی نہیں کہتا کہ مجھے آپ سے محبت نہیں… محبت ہے‘ مگر میں چکور نہیں بننا چاہتا کہ چاند ہمیشہ دسترس میں نہیں آتا…!
فقط
فراز!‘‘
اس خط نے مجھے نئی زندگی دی‘ حوصلہ دیا‘ میں نے جواباً ایک چھوٹا سا رقعہ بھیجا۔
’’پیارے فراز!
شاد رہو‘ تمہاری جانب سے خط کیا‘ زندگی تھی‘ خوشبو تھی‘ جس نے میرے روم روم کو مہکادیا ہے‘ میں نے محبت کی ہے آپ سے‘ محبت آگ کا دریا ہے جس میں تیرنا نہیں ڈوب جانا ہوتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں ہرپل‘ ہر لمحہ محبت کرتا رہتا ہے اور یہ محبت اتنی حاوی ہوجاتی ہے کہ رہ رہ کر محبت کی دیوی کو پوجنے کو من کرتا ہے۔ میں نے زیادہ فلسفہ بگھار دیا ہے‘ مختصراً میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں… میرا من جواب چاہتا ہے کہ اقرار ہے دل کی دنیا…!
تمہاری محض تمہاری
آسیہ!
اس نے بھی مثبت جواب ہی دیا تھا مگر یہاں معاملہ پنڈولم کی طرح تھا… بیچ میں حائل‘ ہوا میں معلق کہیں…!
میں اپنے چچازاد سے منسوب تھی اور بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں گھر سے باہر شادی کا کوئی رواج ہی نہیں تھا مگر محبت کی آگ دھیرے دھیرے دل پگھلا رہی تھی… اور من پگھلنا کس کو گوارا ہے…؟
ہم نے بذات خود امی صاحبہ سے بات کرنے کی ٹھانی مگر کسی کو کیا پتا تھا کہ محبت کسی زہریلے کیڑے کی مانند نس نس میں زہر انڈیلتی ہے۔ اس دن گہرے سیاہ سحاب چھائے ہوئے تھے… ابو صاحب نوشہرہ گئے تھے‘ بھیا کسی ملک کے دورے پہ گئے تھے‘ سبز گول دریچے پہ محبت گلابی دھند تانے جارہی تھی اور اندر کمرے میں دھڑکتے دل کے ساتھ آسیہ ماں سے کہہ رہی تھی۔
’’امی! ایک بات کہنی تھی۔‘‘ خلیل جبران کی موٹی کتاب نشان لگا کر بند کی۔
’’تمہید کاہے کو باندھتی ہو۔‘‘
’’تمہید نہیں باندھتی امی‘ بات کرنی ہے۔‘‘ ہاتھوں پہ پسینے کی بوند چمکنے لگی۔
’’تو کہو۔‘‘
’’امی میں فراز سے شاد ی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ ہاتھ سے خلیل جبران کی کتاب گر گئی اور موٹے گتے پہ نظریں جمائے میں خواہشوں کی نمکین جھیل بن گئی‘ ہماری ظرافت کی تجوری ماں نے کچھ نہ کہا۔ کچھ کہتی بھی کیسے؟ جب سارے دلائل‘ اس ایک جملے کی تپش میں بہتے گئے‘ اب ہمارے دلائل شاید خاموش ہوگئے کیونکہ اسے موقع ہی نہیں ملا… ہمارے محبت نامے زور پکڑنے لگے۔ شعر پہ شعر گڑتے گئے۔ پھر ابو بھی آگئے‘ بھیا بھی سیاہ سوٹ میں ملبوس‘ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے آگئے۔ چچا کو امی نے انکار کردیا تھا اور ابو سے ان کی سرگوشیاں زور پکڑنے لگیں۔ دسمبر کی منہدم ہوتی تاجدار سورج کی نارنجی روشنیاں آلکسی کے تمام منازل طے کرتی اونگھتی جارہی تھی۔ شام کی شفقت اوپر ٹیرس کے سنگ مرمر کے فرش پہ پھسلتی جارہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی چینی آرٹسٹ سے اپنی چندھیائیں آنکھوں میں دبیز دھندلکے کی وجہ سے سارے قوس وقزح کے فرش پہ پھسل گئے ہوں… اس دن امی نے مجھے سبز گول دریچے اور فرنگی دروازے پہ ایستادہ ہوتے پکارا۔
’’آسیہ سنو‘ تمہارے ابو حضور بلا رہے ہیں۔‘‘ مٹتی شفق پہ حائل ہوتی تاریکی سمٹی جارہی تھی۔
’’ایسا ہے کہ آسیہ تمہیں ہماری عزت شاید زیادہ عزیز نہیں اور محبت کئی گنا‘ تو سنو‘ اگلے ہفتے تمہارا نکاح ہے‘ جہیز ہر چیز تمہیں ملے گی‘ گھر بھی مگر سب کواڑ بند ہوچلے ہیں‘ ہمیں بھول جانا‘ ہم بھول گئے کہ ہماری بھی کوئی بیٹی تھی۔‘‘ رات کا پچھلا پہر تھا کہ میری حالت بگڑنے لگی‘ دو سال بعد میں امید سے تھی‘ فراز نے مجھے ہرممکن سہولت دی‘ ہاں مگر میرا نہ کوئی سسرال ہے اور نہ ہی میکہ… جب میں موت و زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی تب… (روتے ہوئے آسیہ کے زرد گالوں پہ آنسو کسی درد کی مانند نکل کھڑے ہوئے تھے) فراز کو اس روشنیوں کے شہر میں‘ ہاں یہیں اس کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ ٹھنڈے یخ بستہ اسپتال میں دو جڑواں بچوں کو جنم دے کر میں بغیر کمبل کے ٹھٹھراے جارہی تھی کہ کسی ماں والی نے ایک گرم شال مجھ پہ ڈال دی۔ فراز کا جنازہ محلے والوں نے ادا کیا تھا۔
چند ہفتوں تک آس پڑوس سے کھانا وغیرہ ملتا رہا مگر پھر لوگ بھول گئے…!
آج چار سال بعد…!
میرے دونوں بچے سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں‘ اسکول سے آکر ایک ورکشاپ میں امیر زادوں کی گاڑیاں دھوتے ہیں۔ میں‘ آسیہ جو کہ ملک کے مشہور صنعت کار کی اکلوتی بیٹی ہوں‘ صبح کے وقت چند بنگلوں میں کام کرتی ہوں… ڈیڑھ بجے ایک اسکول کے آگے آلو کے چپس بیچتی ہوں‘ سوچا تھا کہ کسی اسکول میں معلمی شروع کروں مگر منہ کی کھانی پڑی… کہیں سے اڑتی خبر آئی تھی کہ بھیا نے ردانیہ جو کہ میری سہیلی تھی سے شادی کرلی۔ ابو شاید بوڑھے ہوچکے ہوں گے اور امی شاید ان کے اعصاب پہ قارون کا خزانہ لدا ہو۔
سوچتی ہوں کہ امی کے ہاں جائوں مگر وہاں تو سب کواڑ بند ہوچکے ہیں‘ مگر وہ امی ہیں جن کی انا میری حالت دیکھتے ٹوٹ جائے گی‘ جیسے میری ٹوٹتی ہے‘ ابو باپ ہیں‘ معاف کرسکتے ہیں‘ سنا ہے باپ کے دل بڑے وسیع سمندر کی مانند ہوتے ہیں‘ جن میں کوئی موج اچھل کر خود کو ظاہر کرنے کی سعی کرتی ہے۔
رات کے اس پہلے پہر میں فراز کے دل پہ لگی گولی اور اس سے بہتے خون کے دریا کو یاد کرتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ضبط کرتی ہوں مگر واللہ ضبط ہوتا ہی نہیں۔
{…٭…}
رات کے ساڑھے دس بج گئے تھے۔ ہاتھ میں پکڑا آنچل بھیگتا جارہا تھا… بے دردی سے آنسو ہتھیلی سے رگڑتے ہوئے اس نے موبائل اٹھایا۔ ان گنت پیغامات… مضطربانہ لہجے…!
’’زیب ساڑھے دس بج چکے ہیں۔‘‘
’’زیبی میں گھر کے باہر بائیک پہ منتظر ہوں۔‘‘
’’زیبی چلو۔‘‘
’’جلدی کرونا۔‘‘ اس نے میسج کیا۔
’’جان تمنا! صبر کرو‘ آرہی ہوں مگر غضب یہ ہے کہ میرا منگیتر جو میرا شوہر بننے جارہا ہے‘ گھر پہ ہے… اور ذرا سا صبر…‘‘
منگیتر کا نام آتے ہی لبوں پہ دلبرانہ مسکراہٹ رینگ گئی۔ پلیٹ بھر کے چشموں کے پار سنجیونی بوٹی والی آنکھیں کسی کنواری کی طرح جو شب زفاف کو یاد کرتے خود میں سمٹی جاتی ہے‘ شرمانے لگی… آنکھوں میں محبت کے عکس منعکس تھے اور اس دل کے نقش ہوائوں کی سر زمین پہ منقش تھے۔
پھر کسی خیال سے چونکی‘ جلدی سے کھڑکی کھولی‘ کھڑکی کے عین سامنے وہ بائیک پہ بیٹھا تھا‘ اسٹریٹ لائٹ کی روشنی‘ سنسان سڑک پہ پھیلی آلکسی سے محواستراحت تھی‘ اس نے ساتھ پڑے‘ شیشے کے گلاس کو اٹھا کر پوری قوت سے اس کی جانب پھینک دیا جو بائیک کے ٹائر پہ لگا‘ اس نے متوحش ہوکر بائیک اسٹارٹ کی اور چند لمحوں میں وہ جگہ خالی تھی۔ اسٹریٹ لائٹ کی مدھم مدھم روشنی اٹھ چکی تھی اور سنجیونی بوٹی کی سی آنکھوں والی‘ جس پہ کسی برگزیدہ برگد کا چھتنار سایہ تھا… مسکرا رہی تھی… منہ پہ ہاتھ رکھے… ہنستی جارہی تھی۔
مگر پھر عجیب واقعہ ہوا‘ موبائل بج اٹھا اور ’’نیو میسج ریسیوڈ‘‘ جگمگا رہا تھا۔ دل پسینہ پسینہ ہوا۔
’’ہماری استانی سے گزارش ہے کہ ایچ بی ایل بینک کے اس منیجر پہ ذرا سی نگاہ شوق ڈالے تو قسم سے چشمے خودبخود پگھل جائیں گے۔ ادنیٰ سا‘ آپ کا مستقبل کا غلام…‘‘ استانی صاحبہ پہ حیا کی لالی بکھرنے لگی۔
اسے اپنے شباب کا احساس ہوا… بند ہوتی آنکھوں پہ نیند کی پریاں خوشنما خواب ٹانک رہی تھی… لانبی مژگاں اسی بوجھ تلے جھکے تھے…!
’’شکر ہے میں نے آنچل کی لاج رکھ لی‘ میں نے ’’آنچل‘‘ تھامے رکھا۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close