Aanchal Jul-17

تیری زلف کے سر ہونے تک ۱۰

اقرا صغیر احمد

ہر ایک نے کہا کیوں تجھے آرام نہیں آیا
ہنستے رہے لب پہ تیرا نام نہ آیا
مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے
یہ دیکھ کہ تجھ پہ کوئی الزام نہ آیا

گزشتہ قسط کا خلاصہ
نوفل خواب سے بیدار ہوتا ہے تو وہ پسینوں میں شرابور ہوتا ہے اس کے حواسوں میں انشراح چھائی ہوتی ہے جس سے نوفل خوف زادہ ہوجاتا ہے۔ سودہ کے ہاتھ سے گرم چائے کا مگ گر کر اس کا پیر جلا دیتا ہے سب اس کی فکر کرنے لگاتے پر زید اطمینان سے بیٹھا چائے پیتا رہتا ہے اور وہ اس وقت بالکل انجان بن جاتا ہے اور سودہ اپنی تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش کرتی ہیں جب کہ اس کے پیر میں بڑے بڑے آبلے بن جاتے ہیں۔ نوفل چند مہمانوں کے ہمراہ شہر کے مہنگے ترین ہوٹل آتا ہے تو وہاں لاریب کے ہمراہ تین خواتین کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا ہے اور بے دلی سے مہمانوں کے ساتھ وقت گزار کر جب وہ گھر آتا ہے اور لاریب سے ملتا ہیں تو اس کو ڈانٹ پھٹکار کرنے لگتا ہے جب کہ لاریب چند لمحات خائف رہنے کے بعد نوفل کو انشراح میں دلچسپی لینی کی بات کہہ کر مزید غصہ دلادیتا ہے اور لاریب اس کے غصہ سے خائف ہوکر جہاں آرأ سے دوبارہ نہ ملنے کا کہہ کر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ انشراح جہاں آرأ سے درشت لہجے میں بات کرتی ہوئے کہتی ہے کہ وہ لاریب کو کیوں کھلے عام گھر آنے دیتی ہیں اور کیوں اس کو اتنا سر چڑھا رہی ہیں جس پر جہاں آرأ آبدیدہ ہوجاتی ہیں اور اپنی مری ہوئی بیٹی کو یاد کرنے لگتی ہیں۔ ادھر کوئی یوسف صاحب کو بلیک میل کرتا ان سے رقم کا مطالبہ کرتا ہے جس کی بھنک نوفل کو مل جاتی ہے اور وہ اس بلیک میلر کا پتا کرنے کی جستجو میں لگا جاتا ہے۔ انشراح لاریب کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر بدمزہ ہوجاتی ہے اور خاموشی سے گھر سے باہر نکل جاتی ہے جہاں اس کا ٹکراؤ نوفل سے ہوجاتا ہے اور نوفل اس کو دیکھ کر بات کرنے روک جاتا ہے اور وہاں باتوں باتوں میں دونوں میں تلخ کلامی ہوجاتی ہے اور نوفل انشراح کو غصہ میں پکڑ کر زبردستی اپنی کار میں بیٹھا کر لے جاتا ہے اور راستہ میں دونوں کی مزید تلخ کلامی اتنا بڑھتی ہے کہ نوفل کی کار کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور انشراح اس کو کار روکنا پر زبردستی کرتی ہے تو کار بے قابو ہوکر ایک ٹیلے سے جاٹکراتی ہے۔ زید سے ملنے اس کا دوست جنید آتا ہے جسے بوا ڈرائنگ روم میں بیٹھا کر مائدہ سے کہتی ہیں کہ زید کو بتانے کا پر مائدہ ڈرائنگ روم کی دروازے سے جھانک کر جیند کو دیکھتی ہیں اور اپنا دل ہار بیٹھتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
ء…/…ء
’’عاکفہ! مجھے تمہاری مدد چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں اضطراب پنہاں تھا۔
’’جی‘ خیریت تو ہے نہ نوفل بھائی؟‘‘ وہ اس کی کال پر گھبرا گئی تھی۔ جواباً اس نے اسے وہ جگہ بتاکر آنے کوکہا اور جب وہ وہاں پہنچی تو بابر بھی اسی لمحے کار سے نکلا تھا۔ وہ بھی اس کی طرح حیران و پریشان تھا‘ نوفل کار سے باہر کھڑا تھا اور انشراح کو اس کی کار میں بیٹھے دیکھ کر وہ دونوں بری طرح چونکے تھے۔ انشراح نے عاکفہ کو دیکھا تو اس کی جان میں جان آئی اور وہ ڈور کھول کر باہر نکلنے کی سعی کرنے لگی۔
’’یااللہ تم نوفل بھائی کے ساتھ ہو۔‘‘ وہ تحیر زدہ لہجے میں کہتی ہوئی اس کو کار سے باہر نکلنے میں مدد دینے لگی تھی۔
پائوں کے زخموں سے وہ پہلے ہی بے حال تھی‘ مستزاد کار ٹیلے سے ٹکرانے کے باعث وہ بے اوسان ہوکر گری تھی اور نامعلوم کتنی دیر تک بے ہوش رہی تھی اور ہوش میں آنے کے بعد نوفل کو خود پر جھکے ہوئے دیکھ کر اس کے ہوش واقعی اڑ گئے تھے۔ نہ جانے وہ کب سے اس کی بے ہوشی کا فائدہ اٹھا رہا تھا اور اس کو ہوش میں آتے دیکھ کر نیک و پارسا بن گیا تھا پھر وہ ہی چوری و سینہ زوری والی دھونس تھی‘ خود کو سچا و بے گناہ ثابت کرنے کے لیے وہی زہریلے لفظ بولنے لگا تھا جو وہ عموماً خود پر مرمٹنے والی لڑکیوں کو سنایا کرتا تھا اور وہ اس کے سامنے خود کو کمزور سمجھتے ہوئے غصے و آنسوئوں کے لاوے کو دل میں دبائے بیٹھی تھی‘ عاکفہ کو قریب دیکھ کر اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ بہت مشکل سے وہ اکڑے ہوئے جسم و لنگڑاتی ہوئی ٹانگ سے باہر آئی اور عاکفہ سے لپٹ کر روتے ہوئے اس کو سب بتاتی چلی گئی۔
’’مائی گڈنیس! مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے تم کیوں غلطی پر غلطی کررہے ہو؟ ایک کا مداوا ہوتا نہیں ہے اور تم دوسری‘ تیسری غلطی پر غلطی کیے جاتے ہو‘ کیا ضرورت تھی تمہیں اس کو اس طرح ہراساں کرنے کی؟‘‘ بابر شاکڈ رہ گیا تھا‘ بہت پُروقار و تمکنیت کے حامل شخص کی یہ ناقابل یقین حرکتیں بہت حیران کن تھیں‘ وہ ہمیشہ ناقابل تسخیر رہا تھا۔
’’پاگل ہوگیا ہوں میں! یہی کہنا چاہ رہے ہو نہ تم؟ پھر یقین کرلو حقیقتاً میں پاگل ہوگیا ہوں۔‘‘ وہ شانے اچکا کر گویا ہوا۔
’’حالت دیکھو اس کی‘ وہ کمزور و عام لڑکی نہیں ہے لیکن وہ جس انداز میں رو رہی ہے تم کس طرح اپنے کلیئر ہونے کا پروف دو گے؟‘‘ اس کی نگاہیں عاکفہ کے شانے سے لگی روتی ہوئی انشراح پر تھیں۔
’’روتی ہوئی عورت بہت جلدی ٹریپ کرلیتی ہے تم جیسے مردں کو‘ مجھ جیسوں کو نہیں اور تم کس پروف کی بات کررہے ہو؟ جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو صفائی کس بات کی پیش کروں؟‘‘ اس نے ایک نگاہ اس طرف نہیں دیکھا اور مضبوط لہجے میں بولا۔
’’نوفل… یہ ٹھیک نہیں ہے‘ تم کسی اور کا بدلہ کسی اور سے لے رہے ہو؟‘‘
’’میں کسی کا بدلہ کسی سے نہیں لے رہا‘ جیسا سوال ہوگا ویسا جواب ہوگا۔‘‘
’’نوفل بھائی… بھائی سمجھتی تھی میں آپ کو‘ بہت بلند مقام تھا میری نگاہوں میں آپ کا لیکن بہت پستی میں گرے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں‘ میرا دل توڑ دیا ہے آپ نے۔‘‘ سہارا دے کر انشراح کو اپنی کار میں بٹھا کر وہ تیز تیز چلتی ہوئی اس کے پاس آکر مضبوط لہجے میں بولی۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کرنے چاہے پھر خاموش ہی کھڑا رہا۔
’’یہ بہت بڑی مس انڈراسٹینڈنگ کری ایٹ ہوئی ہے عاکفہ‘ تم بات تو سنو؟‘‘ اس کو واپس جاتے دیکھ کر بابر آگے بڑھا۔
’’کیا… مس انڈر اسٹینڈنگ… کیا بات کررہے ہو؟ انشراح جیسی لڑکی کیوں جھوٹ بولے گی؟ کیوں خود پر انگلی اٹھوائے گی؟ حالت دیکھو اس کی مہینوں کی بیمار لگ رہی ہے۔‘‘ انشراح کی دگرگوں حالت اور اس کی بتائی ہوئی باتیں اسے سخت مشتعل کررہی تھیں۔
’’نوفل میرے بچپن کا دوست ہے‘ اس کی فطرت سے میں پوری طرح واقف ہوں۔ تمہاری فرینڈ سے زیادہ حسین و خوب صورت لڑکیاں اس کے قرب کے لیے اپنا آپ نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں‘ پورے ہوش و حواس کے ساتھ‘ وہ موقع ہوتے ہوئے بھی ٹھوکر مارتا ہے‘ یہ محض غلط فہمی ہے۔‘‘ اس نے کسی قابل وکیل کی طرح دوست کا دفاع کیا۔
’’ایک دوست دوسرے دوست کا بچائو اسی طرح کرتا ہے جس طرح تم کررہے ہو۔‘‘ وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔ وہ ہونٹ بھینچے دور تک اس کی کار کو جاتے دیکھتا رہا۔
’’واپس آجائو گھر تک پہنچا کر آئو گے کیا؟‘‘ وہ قریب آکر بابر سے مخاطب ہوا جو ابھی تک اس راستے کو گھور رہا تھا جہاں سے عاکفہ کی کار گزری تھی۔
’’یہ ایک بہت بڑا بلنڈر ہوگیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’تم اس لیے ڈسٹرب ہو کہ عاکفہ خفا ہوگئی؟‘‘
’’نہیں‘ بات تمہارے وقار و کردار پر آرہی ہے۔‘‘
’’تو کیا؟‘‘ انداز میں قدرے بے پروائی تھی۔
’’تو کیا… دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا‘ محسوس ہی نہیں کرپا رہے ہو کہ جو ہوا بالکل غلط ہوا ہے۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا۔
’’جب میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا تو پھر مجھے کسی کی پروا نہیں اور نہ تمہیں پروا کرنے کی ضرورت ہے۔ عاکفہ کو یہاں اس لیے بلایا تھا کہ وہ اس مصیبت کو یہاں سے لے کر جائے اس کے سامنے صفائی پیش کرنا مقصد نہیں تھا میرا۔‘‘ وہ کہہ کر کار کی طرف بڑھ گیا تھا۔
ء…/…ء
رو رو کر اس نے برا حال کرلیا تھا‘ راستہ بھر عاکفہ سمجھاتی آئی تھی کہ جو ہوا اسے بھول جائے اور وہ پہلے ہی انشراح کے الزام کی تردید و تصدیق دل سے نہ کرسکی تھی کہ نوفل کے مزاج سے وہ بھی آگاہی رکھتی تھی۔ وہ مغرور و بد دماغ تھا‘ اکھڑ و بدتمیز تھا تو صرف ان لڑکیوں کے لیے جو اس سے اظہار محبت و پسندیدگی کے لیے مری جاتی تھی وگرنہ مزاجاً وہ بے حد نرم‘ شائستہ و مہذب انسان تھا۔ دوسروں کے کام آنا اس کی زیست کا مشن تھا۔ بہت کم عرصے میں ان کی گہری دوستی ہوئی تھی اور ایک بار بھی اس نے اس میں کوئی ایسی اخلاق باختگی نہ دیکھی تھی کہ جس سے اس کے کردار میں کوئی معمولی سا بھی جھول دکھائی دے یا کوئی کمزوری نظر آئے پھر بابر کی گواہی بھی اہمیت کی حامل تھی‘ اس کا ہر لفظ سچا و کھرا تھا۔
وہ انشراح کو لے کر اس کے گھر ہی آگئی تھی‘ بالی تنہا تھی جہاں آرا کسی فنکشن میں گئیں ہوئیں تھیں۔ عاکفہ نے بالی کے ساتھ مل کر اس کے پائوں کی بینڈیج کرکے پین کلر بھی کھلائی۔
کار مٹی کے ٹیلے سے ٹکرانے سے ان دونوں کو کوئی خاص چوٹیں نہیں آئی تھیں اور کار کو بھی معمولی سے ڈینٹ پڑے تھے‘ اصل زخم اس کی روح پر لگے تھے۔ ایک ناپسندیدہ شخص نے اس کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔
’’تم اس بات کو بار بار کیوں یاد کررہی ہو انشی‘ میں کہہ رہی ہوں نا جو تم سمجھ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہوا ہے‘ وہ ایسے نہیں ہیں۔‘‘ اس کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے بڑبڑاتے دیکھ کر عاکفہ نے کہا۔
’’یہ تم کہہ رہی ہو… تم کہہ سکتی ہو‘ کیونکہ تم اس وحشی پر آنکھیں بند کرکے یقین رکھتی ہو لیکن میں بتارہی ہوں وہ ایک منافق انسان ہے جو معصوم لڑکیوں کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ سب کے سامنے وہ لڑکیوں سے نفرت اور بے زاری کے مظاہرے کرتا ہے ان کو نظرانداز کرکے نفرت جتا کر ہیرو بنتا ہے اور پھر یہی شاطر انسان موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم ایزی ہوجائو‘ میں کسی پر بھی آنکھ بند کرکے یقین کرنے والی نہیں۔ تم ٹھیک ہوجائو زخم بھرجائیں تو ہم پھر ان سے بات کریں گے‘ وہ کس طرح سے ایک جگہ ہیرو اور ولن کا کھیل کھیل سکتے ہیں۔‘‘ عاکفہ نے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے تسلی دی۔
’’میرا دل چاہ رہا ہے میں اس ذلیل آدمی کو شوٹ کردوں یا خود کو ختم کرلوں۔ میں کیوں بے ہوش ہوئی اور اس کو قریب آنے کا موقع دیا‘ نہ بے ہوش ہوتی نہ وہ…‘‘
’’انشراح… کیا نوفل بھائی نے…؟‘‘ عاکفہ اس کے چہرے کو دیکھ کر دانستہ چپ ہوئی تھی۔ اس نے بوجھل آنکھوں سے عاکفہ کی طرح دیکھا‘ ادھوری بات کا مفہوم وہ سمجھ گئی تھی فوری گردن نفی میں ہلا کر بولی۔
’’نہیں… نہیں… مجھے وہ مرکر بھی نہیں پاسکتا۔‘‘
’’پھر… اتنا شور کس بات پر کررہی ہو تم؟‘‘ وہ گویا کسی بوجھ سے آزاد ہوکر حیرانی سے چیخ اٹھی۔
’’اس کے ہاتھوں نے مجھے چھوا ہے۔‘‘
’’تم خود بتا رہی ہو کار ٹکرانے کی وجہ سے خوف کے باعث بے ہوش ہوگئی تھیں اور تمہیں ہوش میں لانے کے لیے ان کو تمہیں چھونا پڑا ہوگا۔‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے اعتماد سے گویا ہوئی۔
’’چھونا پڑا ہوگا؟‘‘ اس کی نگاہوں میں وہ منظر پوری طرح تازہ ہوگیا۔ جب آنکھ کھلنے پر اس کو بے حد قریب پایا تھا اور اس کو آنکھ کھولتے دیکھ کر وہ بھی ایسے گھبرایا تھا جیسے کوئی چور چوری کرتے ہوئے پکڑا جائے۔
’’تمہارا مطلب ہے میں جھوٹ کہہ رہی ہوں؟‘‘ اس کا انداز ہذیانی ہوا۔
’’نہیں‘ تم خود کو ریلیکس کرو‘ اس مسئلے کا حل تب ہی نکلے گا۔‘‘ عاکفہ اس کی جذباتی کیفیت دیکھ کر اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولی۔ بالی نے پُرتکلف چائے کا اہتمام کرلیا تھا کیونکہ کھانے کا دونوں ہی منع کرچکی تھیں پھر عاکفہ اور بالی نے مختلف باتوں میں لگا کر اس کا ذہن بٹایا جس سے کافی حد تک وہ ریلیکس ہوگئی تھی۔
’’مما انتظار کررہی ہیں انشی‘ پلیز میرے جانے کے بعد رونے نہیں بیٹھ جانا‘ میں نے غصے میں نوفل بھائی کو کھری کھری سنائی تھیں اور بے فکر رہو ان کو بخشنے والی میں اب بھی نہیں ہوں۔ بس تم اب کسی الٹی سیدھی سوچ کو دل میں جگہ نہیں دینا مجھے تمہاری فکر رہے گی۔‘‘
’’اس کمینے کا نام مت لو‘ بہت دوغلا بندہ ہے وہ۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ وہ اس سے مل کر چلی گئی بالی گیٹ تک اسے چھوڑنے گئی تھی پھر آکر وہ انشراح کا سر دبانے لگی اور سوچ کر گویا ہوئی۔
’’بے بی‘ تم کو منع بھی کیا تھا مت جائو گھر سے مگر تم کسی کی سنتی کب ہو؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم تھا چھوٹے شیطان سے بچ کر جارہی ہوں باہر بڑا شیطان مل جائے گا‘ خاندانی کمینے لوگ ہیں وہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ذلیل۔‘‘ نوفل کے خلاف اس کا اشتعال کم ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
’’دفع کرو انشی‘ اللہ نے تمہاری عزت محفوظ رکھی یہ بہت شکر ہے اس کا تم ماسی کو کیا جواب دو گی؟ وہ بہت غصے میں تھی پھر بار بار لاریب تمہارا پوچھ رہا تھا اس سے علیحدہ ڈھیروں جھوٹ بولے۔‘‘
’’اب نانی کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ اگر لاریب کو گھر میں آنے کی اجازت دیں گی تو… میں روم سے کسی قیمت پر باہر نہیں آئوں گی۔‘‘
’’ایسا ہوا تو ماسی تمہارا قتل کردے گی۔‘‘
’’ہونہہ‘ مجھے کوئی ڈر نہیں اور سنو‘ جو ابھی تم نے سنا ہے وہ نانی کو بالکل نہیں بتانا خوامخواہ وہ بات کو طول دیں گی۔‘‘
’’میں کب بتانے والی ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
ء…/…ء
وہ حیرانی سے کھڑا ہوا تھا بے تکلف انداز میں سلام کا جواب دیتا ہوا۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ وہ مسکراتی ہوئی اس سے گویا ہوئی۔
’’فائن…‘‘ وہ ابھی تک کھڑا ہوا تھا حیرت کی بات تھی وہ جب بھی اس گھر میں آیا تھا بوڑھی ملازمہ بوا کے علاوہ کوئی بھی اس کے سامنے نہیں آیا تھا ماسوائے ایک بار کے جب زید کی کزن اس کے سامنے آئی تھی بہت گھبرائی بوکھلائی سی تھی وہ کہ فوراً ہی ٹرالی دے کر چلی گئی تھی اور یہ لڑکی بہت اعتماد و بے تکلفی سے سامنے کھڑی تھی۔
’’آپ نے شاید پہچانا نہیں ہے مجھے؟‘‘ مائدہ مسکرائی۔
’’جی۔‘‘ لڑکیوں سے فلرٹ کرنا اس کا شغل تھا لیکن اس ٹائم وہ جہاں تھا۔ وہ اس کے بہترین دوست کا گھر تھا یہاں اس کی جھکی نگاہیں جھکی رہیں۔
’’میں مائدہ ہوں‘ زید بھائی کی بہن یاد آیا آپ کو؟‘‘ اس کے لہجے میں احترام و اجتناب بھرا ہوا تھا۔
’’میں تو آپ کو دیکھتے ہی پہچان گئی تھی کہ آپ جنید ہیں۔‘‘
’’زید کہاں ہیں؟‘‘ اس کو بے تکلفی سے اپنا نام پکارنا عجیب لگا۔
’’ارے آپ ابھی تک کھڑے ہیں‘ بیٹھیں نا۔ بھائی آرہے ہیں وہ فریش ہونے گئے ہیں۔‘‘ وال کلاک دیکھتی ہوئی بتایا۔
’’آپ کیا لیں گے چائے یا کولڈ ڈرنک؟‘‘
’’نہیں‘ شکریہ۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’آپ تکلف کررہے ہیں؟‘‘
’’تکلف کیوں کروں گا؟ زید کا گھر میرا گھر ہے۔‘‘
’’پھر بتائیں کیا لائوں آپ کے لیے؟‘‘ وہ صرار کرنے لگی۔
’’میرا زید کے ساتھ کسی ہوٹل میں ڈنر کا ارادہ ہے‘ وہ آجائے تو ہم نکلیں گے آپ پریشان مت ہوں۔‘‘
’’میں کوئی لائٹ سا ڈرنک لاتی ہوں‘ آپ اس طرح جائیں گے تو بھائی خفا ہوں گے اور بے فکر رہیں ڈرنک سے آپ کا پیٹ نہیں بھرے گا۔‘‘ وہ کہہ کر مسکراتی ہوئی چلی گئی۔ جنید اس کی بے تکلفی پر حیران و پریشان رہ گیا تھا۔
ء…/…ء
کھانے کی ٹیبل پر سب ہی جمع تھے‘ ہلکی پھلکی باتوں کے دوران کھانا کھایا جارہا تھا۔ وہ ماما کے خیال سے ڈنر کے لیے آگیا تھا مگر اس کا دل ہر چیز سے بے زار ہورہا تھا۔ ماما نے اس کی پلیٹ میں روسڈ چکن اور سلاد و رائتہ ڈالتے ہوئے پلیٹ اس کے آگے بڑھائی تھی۔
’’یہ ہنزئی کباب اور چکن چلی رائس بھی امینہ نوفل کو دیں۔‘‘ یوسف صاحب نے کھانا سرو کرتی ملازمہ کو حکم دیا۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے پاپا۔‘‘ وہ امینہ کو ہاتھ کے اشارے سے منع کرتا ہوا بولا۔
’’چکن شاشلک اور ریشمی کباب ٹرائی کرکے تو دیکھیں بیٹا۔‘‘ یوسف صاحب نے بھی شفقت سے کہا۔
’’چچا جان میرا بالکل بھی موڈ نہیں ہے میں تو بس آپ لوگوں کا ساتھ دینے بیٹھ گیا ہوں۔‘‘ اس نے ان سب کی نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ کر نارمل لہجے میں کہا۔
’’ہر سال عکرمہ بھائی کی برسی کے بعد آپ اسی طرح گم صم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ایک عرصہ ہوگیا ہے ان کو ہم سے جدا ہوئے‘ اب تک آپ اس بری طرح اپ سیٹ ہوجاتے ہیں۔‘‘ سامعہ کے لہجے میں بھی ممتا بھرا گداز تھا‘ ماما اور حمرہ بھی اس کو محبت سے دیکھ رہی تھیں۔
’’عکرمہ محبت بھی دل و جان سے کرتا تھا نوفل سے۔‘‘ یوسف صاحب جو آج کل خود کچھ الجھے الجھے تھے‘ بھائی کو یاد کرکے افسردہ ہوگئے اور یہ افسردگی ماحول میں سرایت کرگئی تھی پھر سب کھانے میں مصروف ہوگئے تھے۔
کوئی کچھ نہیں بولا اور نوفل کو کچھ طمانیت محسوس ہوئی تھی کہ وہ اس کی خاموشی کو کچھ اور رنگ دے گئے تھے۔ اس کو ڈر تھا ماما نے اس کی آزردگی کا پوچھا تو وہ ان سے چھپا نہیں سکے گا اور پھر بات کہاں سے کہاں پہنچتی اس کو اندازہ نہ تھا۔ لاریب وہاں بیٹھا بظاہر سر جھکائے کھانا کھارہا تھا مگر ساتھ ہی وہ نوفل کی خود پر پڑنے والی پرتپش نگاہوں کو محسوس کررہا تھا۔
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے میرے روم میں آئو۔‘‘ وہ جاتے ہوئے سرگوشی میں کہہ گیا تھا اور لاریب اندر ہی اندر سہم گیا تھا۔
’’کیا اس کو پتا چل گیا کہ میں انشراح کو فالو کررہا ہوں؟‘‘ وہ نہ اپنے روم میں گیا نہ ہی نوفل کے بلکہ لان کے عقبی حصے میں آگیا تھا جہاں گھنے درختوں کا طویل سلسلہ تھا۔
’’اس نے مجھے سختی سے وارن کیا تھا کہ میں اس کے آس پاس بھی دکھائی نہ دوں‘ ورنہ وہ بہت بُری طرح سے پیش آئے گا۔‘‘ وہ پریشانی سے اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا سبز گھاس اس کے قدموں تلے بری طرح کچلی جارہی تھی معاً کچھ دیر بعد قدموں کی آہٹیں ابھریں اور نوفل اس کے سامنے کھڑا تھا۔
’’میں نے تمہیں روم میں بلایا تھا اور تم یہاں ہو؟‘‘ وہ سینے پر بازو لپیٹے سامنے کھڑا تھا بے حد بگڑے تیوروں کے ساتھ۔
’’وہ… وہ مجھے کھانا ہضم نہیں ہوا عجیب سی طبیعت ہورہی ہے میں نے سوچا واک کرلوں گا تو کچھ بہتر فیل کروں گا۔‘‘ وہ اس کو دیکھ کر سٹپٹا کر گویا ہوا۔
’’ایک بات بتائو سچ سچ؟‘‘ لہجہ ازحد سنجیدہ تھا۔ وہ اس کے پریشان و بوکھلائے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا اور اس کے کانوں میں انشراح کی نفرت آمیز باتیں گونجنے لگی تھیں۔
’’تم اور تمہارا وہ کمینہ بھائی دنیا کے ذلیل ترین انسان ہو۔‘‘
’’تم انشراح کو فالو کررہے ہو؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
’’نہیں‘ وہ اس کی نانی…‘‘
’’میں اس کی بات کررہا ہوں اس کی نانی کی نہیں۔‘‘
’’یہی بتارہا ہوں‘ ایک شام اس کی نانی یعنی آنٹی سے ملاقات ہوگئی تھی وہ زبردستی مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئی تھیں۔‘‘
’’زبردستی… میرا مطلب ہے گن پوائنٹ پر؟‘‘ وہ سخت لہجے میں غرایا۔
’’نہیں‘ وہ کہنے لگیں ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے ہم اکیلی عورتیں ہیں‘ پریشانی ہوتی ہے ہمیں۔ تم میرے بیٹے بن جائو اور میں انکار نہ کرسکا تھا۔‘‘ جلدی جلدی اس نے خود کو کمپوز کیا۔
’’اس بڑھیا کے بیٹے بن کر تم انشراح کے ماموں بن گئے ہو؟‘‘
’’جو ماموں بناتے ہیں وہ ماموں کہاں بنتے ہیں بھائی؟‘‘ اس نے اندر ہی اندر سوچتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
’’ہاں‘ ایسا ہی سمجھ لو تم۔‘‘ آہستگی سے بولا۔
’’اچھا‘ اب تم مجھے ماموں بنانے کی سعی کررہے ہو جس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگے‘ اس کے راستے سے ہٹ جائو۔‘‘
’’اوکے‘ ہٹ گیا سمجھو۔ یہ بتائو مجھے راستے سے ہٹا کر تم اس کے راستے پر چل رہے ہو؟‘‘ وہ غور سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
’’شٹ اپ… فضول بات مت کرو۔‘‘
’’فضول بات نہیں ہے دوسروں کی طرف انگلی وہ اٹھاتے ہیں جن کے اپنے دامن صاف ہوتے ہیں اور تم تو چھپے رستم نکلے یار‘ میں جو ہوں‘ جیسا ہوں سب جانتے ہیں میرے بارے میں‘ تمہاری طرح میں مولانا پن کے ڈھونگ نہیں کرتا ہوں۔‘‘ خوف‘ گھبراہٹ و بے چینی لمحوں میں غائب ہوئی تھی‘ وہ بڑے اعتماد سے کھڑا تھا۔
’’تمہیں خود بھی نہیں معلوم تم کیا بکواس کررہے ہو پھر بھلا مجھ کو کیا سمجھائو گے کیسا مولانا پن؟‘‘ اس کے انداز میں بے پروائی تھی۔
’’یہ اپنے بازو پر دیکھیں لپ اسٹک کے نشان…‘‘ وہ اس کی آستین پر اوپر کے سائیڈ لگے سرخ رنگ کے نشانات کی طرف اشارہ کرکے ذومعنی لہجے میں گویا ہوا اور نوفل چند لمحے لب بھینچے کھڑا رہا۔
’’تم کب سے یہ کھیل کھیلنے لگے؟ مرد ہونے کا ثبوت دے ہی دیا تم نے‘ میں سوچ رہا تھا تم عورت کے لیے نہیں بنے…‘‘ اس نے بھی چونک کر بازو کی طرف دیکھا جہاں دو تین سرخ بے ترتیب سے نشانات تھے لیکن کوئی نشان نقوش کو واضح نہیں کرتا تھا۔
’’کون ہے وہ اپسرا جس نے تم جیسے پتھر کو نرم کردیا؟‘‘ چند لمحے قبل خوف زدہ ہونے والے لاریب میں یک دم ہی اعتماد بھرچکا تھا اور بھرتا کیوں نہیں‘ ایک ایسے شخص کے راز سے وہ آگاہ ہوا تھا جو اس کی عیاشیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔
’’کہیں وہ اپسرا انشراح ہی تو نہیں؟ اس نے ہی تم سے میری شکایت کی ہے‘ ہوں وہ ہی ہوگی اس نے ہی کہا ہے تم سے میرے بارے میں۔ وہ میسنی‘ میرے سامنے نہیں آتی‘ نخرے دکھاتی ہے اور تمہارے ساتھ مزے اڑاتی ہے بچ…‘‘ وہ غصے سے گویا ہوا تھا۔
’’شٹ اپ‘ تم کس طرح کسی لڑکی کو گالی دے سکتے ہو؟‘‘ نوفل نے بھرپور تھپڑ اس کے منہ پر مارتے ہوئے کہا۔
’’اس کی خاطر تم نے مجھے مارا…‘‘ وہ صدمہ سے بولا۔
’’اگر آئندہ تم نے میرا نام کسی لڑکی کے ساتھ انوالو کرنے کی کوشش کی تو میں تم کو جان سے ماردوں گا سمجھے۔‘‘ وہ اشتعال پر قابو نہ پاسکا۔
’’جب تمہارے اور انشراح درمیان کچھ نہیں چل رہا پھر تم اس کی اتنی کئیر کیوں کررہے ہو‘ کیوں سائیڈ لیتے ہو اس کی؟‘‘
’’میں نہیں چاہتا کوئی لڑکی برباد ہو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ یہ بات ذہن میں رکھنا اب تمہیں کوئی رعایت نہیں ملے گی۔‘‘ وہ وارن کرکے چلا گیا۔
’’اس تھپڑ کی قیمت کسی اور کو ادا کرنی ہوگی‘ جلد کرنی ہوگی۔‘‘ وہ عزم سے بڑبڑایا۔
ء…/…ء
اب آیا ہے خوشیاں منانے موسم
بساط محبت بچھانے کا موسم
گلستاں گلستاں چٹکتی ہیں کلیاں
یہ موسم ہے غنچے کھلانے کا موسم
فضائوں میں مستی سی چھائی ہوئی ہے
ہے پھولوں سے آنگن سجانے کا موسم
بڑی نرم رو ہے یہ باد بہاری
ہے صحرا میں سبزہ اگانے کا موسم
جنید کو بار بار آنے والی کال کو بلآخر ریسیو کرنا ہی پڑا۔
’’کب سے کال کررہی ہوں آپ ہیں کہ…‘‘
’’اور میں تمہیں کہہ چکا ہوں پلیز پیچھا چھوڑو میرا‘ مجھے تم سے فرینڈ شپ نہیں کرنی۔‘‘ وہ رسانیت سے اس کو سمجھا رہا تھا۔
’’آپ جانتے ہیں میں زید کی بہن ہوں۔‘‘
’’ہاں‘ زید کی بہن میری بہن ہے۔‘‘
’’شادی سے پہلے سب ہی بہن بھائی ہوتے ہیں یہ معلوم ہوگا آپ کو۔‘‘ وہ کھلکھلائی۔
’’مائدہ…‘‘ شدید تعجب سے وہ بس یہی کہہ سکا۔
’’ہا… آپ کے منہ سے اپنا نام سن کر محسوس ہوا میرا نام کس قدر خوب صورت ہے پلیز پھر پکاریں میرا نام۔‘‘ دوسری طرف سے بے تابی سے کہا گیا تھا‘ جنید سر تھام کر رہ گیا۔
’’میں تم سے کسی صورت بھی دوستی نہیں کرسکتا پلیز‘ اب مذاق کرنا بند کرو‘ پورا ہفتہ ہوگیا ہے تمہیں تنگ کرتے ہوئے مذاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔‘‘
’’مذاق… آپ اس کو مذاق سمجھ رہے ہیں؟ یہ میری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور آپ کو مذاق لگ رہا ہے۔‘‘ اس کی آواز میں رنجیدگی در آئی۔
’’تم بالکل بے وقوف لڑکی ہو ایک ہی بار کسی کو دیکھ کر فدا نہیں ہوا جاتا اور نہ ہی زندگی و موت کا مسئلہ بنتا ہے۔‘‘ اس کی ہٹ دھرمی پر اسے غصہ آنے لگا۔
’’اب مجھے احمق کہیں یا بے وقوف میں ایک نظر کی محبت کا شکار ہوگئی ہوں اور یہ ایک نظر کی محبت صرف ایک بار ہی ہوتی ہے بار بار ہونے والی محبت نہیں ہے یہ۔‘‘
’’میری بہت ساری لڑکیوں سے فرینڈ شپ ہے آل ریڈی میرے پاس ان گنت گرل فرینڈز ہیں اور ان میں تمہاری جگہ ہی نہیں بنتی کہیں بھی۔‘‘ اس نے پیچھا چھڑانے کے لیے سچائی کا سہارا لیا تھا‘ دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
’’تھینکس گاڈ! بات تمہاری سمجھ میں آگئی ہے بائے۔‘‘ لائن ڈسکنکٹ ہونے سے پہلے وہ بول اٹھی۔
’’آپ کی دوستی ساری دنیا کی لڑکیوں سے کیوں نہ ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ آپ کی فرینڈز ہیں اور میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ محبت کا پھول کانٹوں میں کھلتا ہے اور میں بھی آپ کی فرینڈز کو کانٹوں کی طرح برداشت کرلوں گی لیکن آپ سے دست بردار ہونا میرے لیے موت ہے۔‘‘ بڑی شدتوں سے محبت کا اظہار کرکے فون بند ہوگیا تھا۔
موبائل اس کے ہاتھ سے جھوٹ گیا تھا پچھلے ہفتے سے وہ سخت ڈپریشن میں تھا۔ زید کے گھر ہونے والی مائدہ سے ملاقات وبال جان بن گئی تھی۔ مائدہ کو اس نے زید کی بہن کی طرح ہی عزت و توقیر دی تھی۔ وہ دل پھینک قسم کا فلرٹی نوجوان تھا لیکن یہاں زید کی دوستی کا پاس رکھا تھا‘ اپنی نگاہوں کو بے حجاب نہیں ہونے دیا مگر معاملہ الٹ نکلا تھا۔
مائدہ کا پہلی ملاقات میں اتنا فری ہونا اسے عجیب سا لگا تھا کیونکہ زید جیسے باکردار و شریف نوجوان کی بہن ہونے کے ناطے وہ اسے بھی اپنی بہن سمجھتا تھا اور ایک غلط نظر بھی اس کی طرف نہ اٹھی تھی جبکہ اس نے اس دن بے تکلف ہونے کی کوشش کی تھی‘ گریز و اجتناب کے باوجود وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی اور پھر زید کے موبائل سے اس کا نمبر لے کر وہ ہفتے بھر سے متواتر کالز کررہی تھی۔ پہلے پہل اس نے نرمی سے سمجھایا پھر غصے سے سمجھانے کی سعی کی اور وہ نہ سمجھنے کا تہیہ کیے بیٹھی تھی۔ اس کو یہی خوف کسی ناگ کی مانند ڈس رہا تھا کہ زید کو معلوم ہوا تو وہ کیا ری ایکٹ کرے گا؟ پہلے ہی وہ اس کی فلرٹ طبیعت سے بے زار تھا‘ دوسری لڑکیوں کی حمایت میں اسے سدھرنے کی ہدایت کرتا تھا اور اس کو اپنی بہن کے افیئر کا معلوم ہوگا تو وہ کس طرح اس کو بے قصور سمجھے گا؟ وہ کس طرح یقین کرے گا کہ یہاں وہ سراسر بے خطا ہے؟ وہ جو دوسروں کی بہنوں کی خاطر اس سے لڑا کرتا تھا‘ جب اپنی بہن کے متعلق جانے گا تو پھر… کسی صورت وہ معاف کرنے والا نہیں تھا یہی سوچ اسی فکر نے اس کو متوحش کرکے رکھا ہوا تھا ساری سرگرمیاں گم ہوگئی تھیں۔
’’صاحب… وہ زید صاحب آئے ہیں۔‘‘ ملازم نے آکر اطلاع دی۔
’’ز… ید… زید آیا ہے؟‘‘ اس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا۔ ’’جاکر کہہ دو میں گھر میں نہیں ہوں۔‘‘ اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا‘ زید کو معلوم ہوگیا تھا۔
’’صاحب! میں نے تو کہہ دیا آپ گھر میں ہیں۔‘‘ ملازم پریشان ہوا۔
’’ایڈیٹ… مجھ سے پوچھا نہیں تم نے‘ کیوں؟‘‘ وہ آپے سے باہر ہوا۔
’’صاحب… آپ نے پہلے کہا ہی نہیں۔‘‘ ملازم حیران و پریشان تھا کہ پہلے کبھی بھی اس طرح اعتراض نہیں ہوا تھا۔
ء…/…ء
بلا سوچے سمجھے کیے گئے کام کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتے‘ یہی اس کے ساتھ ہوا تھا کہ وہ جس شدت کے ساتھ انشراح سے دور بھاگنا چاہتا تھا وہ اتنی ہی سرعت سے کسی نہ کسی اتفاق سے قریب آرہی تھی‘ کوئی نہ کوئی حادثہ‘ کوئی نہ کوئی بے ساختگی اس طرح سرزد ہوجاتی تھی کہ وہ دنوں اضطراب میں مبتلا رہتا اور اب بھی ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ اس کے اور انشراح کے درمیان ہونے والی غلط فہمی کو ہفتہ ہوچکا تھا‘ کچھ دن بعد سے ہی اس نے یونیورسٹی آنا شروع کردیا تھا‘ پائوں کا زخم اس کا ٹھیک ہوچکا تھا لیکن مزاج ابھی تک خراب ہی تھے۔ جس راستے پر وہ ہوتا تھا‘ انشراح وہ راستہ ہی چھوڑ دیا کرتی۔
پہلی دفعہ اس کو احساس ہوا تھا‘ حقارت سے کسی کو ٹھکرانا‘ نفرت سے نظر انداز کردینا کس بری طرح سے ڈسٹرب کردیتا ہے‘ انسان قصوروار نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہے‘ ویسے بائی نیچر وہ اس کو خاطر میں لانے والا نہ تھا‘ بس اتفاقیہ ہی ڈیپارٹمنٹ سے گزرتے ہوئے ان کی نظریں ٹکرائی تھیں اور اس کی نگاہوں میں جو اپنے لیے نفرت و حقارت دیکھی تھی وہ اس کو جھنجھوڑ گئی تھی جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔
’’وہ ایک بدکردار و بے حمیت انسان ہے۔‘‘ وہ ایک لمحہ اس کی حیات پر بھاری گزرا تھا‘ مضبوط کردار اور بے داغ ماضی ایک دم ہی کھوکھلا و ناپائیدار محسوس ہونے لگا تھا‘ وہ وہاں سے ایسے منہ بناکر گزری تھی گویا کوئی سٹراند زدہ جگہ ہو۔ عاکفہ بھی بڑی ثابت قدمی سے دوست کا ساتھ دے رہی تھی اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے اس نے بات چیت بند کر رکھی تھی۔
بابر آتے جاتے طنز کے تیر برسانا اپنا جائز حق سمجھتا تھا‘ ان سب رویوں نے اسے ان سب سے دور و بے زار کر ڈالا تھا‘ پھر اسے یاد آیا‘ یہ سب مکافات عمل ہے‘ کل اس نے چال چلی تھی اور انشراح کو سب سے دور کردیا تھا اور آج وہ اپنی ہی بے وقوفی کے ہاتھوں سب سے دور ہوگیا تھا‘ جو سب سے زیادہ بے چین کررہا تھا وہ بابر کا غصہ اور عاکفہ کی خفگی تھی۔ نامعلوم کب سادہ لوح‘ خوش مزاج اور حساس طبیعت کی مالک عاکفہ اس کو سچ مچ بہنوں کی طرح عزیز ہوگئی تھی‘ وہ جو کسی کے آگے غلط بیانی کرنے یا صفائی پیش کرنے کو پسند نہ کرتا تھا‘ عاکفہ کے سامنے ہر بات صاف صاف کہہ گیا تھا۔
’’میری بات پر اب بھی یقین نہیں کیا تم کو عاکفہ؟‘‘ اس کو خاموشی سے سر جھکائے دیکھ کر نوفل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’یہ بات نہیں ہے نوفل بھائی‘ دراصل آپ سے میں شرمندہ ہوں کہ انشی کی حالت دیکھ کر میں اتنی اپ سیٹ ہوگئی تھی کہ کچھ سوچے سمجھے بنا ہی میں آپ سے بدگمان ہوگئی۔‘‘ وہ سخت شرمندہ ہورہی تھی۔
’’اٹس اوکے‘ مجھے آئیڈیا ہے تمہاری اس وقت کی فیلنگز کا اس لیے میں نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا تھا کہ بعض اوقات خاموشی چبھتی تو ہے مگر وقت گزرنے پر سود مند محسوس ہوتی ہے۔‘‘ وہ کہہ کر کولڈ ڈرنک پینے لگا۔
’’معاملہ عاکفہ کے سامنے کلیئر ہونے کا کوئی رزلٹ نہیں نکلے گا‘ سارا معاملہ انشراح کے سامنے کلیئر کرنے کا۔ غلط فہمی کا شکار وہ ہوئی ہے اور بہت عجیب سا بی ہیوئیر میں دور سے ہی اس میں محسوس کررہا ہوں وہ ان کانفیڈنٹ ہوگئی ہے۔‘‘ وہاں موجود بابر نے کہا۔
’’ہاں‘ وہ وہموں کا شکار بن گئی ہے دراصل اس کو جب ہوش آیا تو وہ آپ کے اتنی قریب تھی تب سے ہی اس کو لگتا ہے‘ اس کی بے ہوشی سے ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے‘ کوشش کے باوجود اس ڈپریشن سے باہر نہیں نکل پارہی۔‘‘ عاکفہ نے حیا کی چادر کو تھامے ہوئے انشراح کی کیفیت بیان کردی۔
’’شاید اس کو کہتے ہیں نیکی گلے پڑنا‘ گر کوئی مررہا ہو تو اس کو مرنے دو نہیں تو وہ آپ کو زندہ نہیں رہنے دے گا ہونہہ اسٹوپڈ۔‘‘ غصے سے اس کا وجیہہ چہرہ قندھاری انار بن گیا تھا۔
’’غلطی تمہاری ہے بھگتنی تمہیں ہی پڑے گی‘ اب بھگتو ہر وقت تمہارے اندر اشتعال کا جو ایندھن جلتا رہتا ہے یہ سب اس کا ہی کمال ہے۔‘‘
’’تم خاموش رہو پلیز۔‘‘ اس نے خفگی سے کہا۔
’’آپ اس سے ایک بار سوری کرلیں نوفل بھائی…‘‘
’’میں اور اس سے سوری کرلوں؟‘‘ اس کی پیشانی شکن آلود ہوئی۔
’’ہوں‘ کیا حرج ہے؟‘‘ بابر نے شانے اچکائے۔
’’نو… نیور۔‘‘ وہ عاکفہ کے جانے کے بعد وہیں کیفے میں بیٹھے تھے۔
’’یہ ہٹ دھرمی سوٹ نہیں کررہی تمہیں اس معاملے میں۔‘‘
’’جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے پھر معافی کس بات کی؟‘‘
’’تم نے کچھ نہیں کیا‘ اس بات کو میں بھی مانتا ہوں اور عاکفہ بھی یقین کرتی ہے مگر میری جان‘ اصل یقین جس ہستی کو کرنا ہے وہ ہی جب یقین نہیں کررہی‘ تو پھر تم پر کون یقین کرے گا؟ خاصے قابل اعتراض وقت میں اس کو ہوش آیا تھا اور سچ یہ ہے کہ اس سچ پر یقین کرنا بھی ناممکن سا ہے۔‘‘
’’جھوٹ ایک بے جان وجود کی مانند ہوتا ہے جو وقت پڑنے پر حق کی صدا بلند نہیں کرسکتا اور پکڑا جاتا ہے مگر سچ وہ طاقت ہے جو نہ ماننے والے کو بھی ماننے پر مجبور کردیتا ہے اور میرے سچ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ خود کو منوالے گا آج نہیں تو کل میرا دعویٰ ہے۔‘‘ اس نے پُریقین لہجے میں کہا اور بابر سر ہلا کر رہ گیا۔
ء…/…ء
اگر کسی کی آنکھ جو پُر نم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے
میں تم کو چاہ کر پچھتا رہا ہوں
کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے
’’زید… کچھ ٹائم ہوگا آپ کے پاس ضروری مشورہ لینا ہے۔‘‘ منور صاحب نے اس کو آج آفس سے جلدی آتے دیکھ کر محبت سے کہا۔
’’جی‘ آپ کہیے کیا مشورہ کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ بریف کیس اور کوٹ وہیں رکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’اپنی سودہ ہے نہ‘ اس کی پھوپو کو آپ جانتے ہیں وہ ایک عرصے سے سودہ کا رشتہ اپنے بیٹے پیارے میاں سے کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔‘‘
’’جی‘ اچھی آپا سے واقف ہوں مگر کبھی پیارے صاحب سے ملنا نہیں ہوا۔‘‘ وہ بے حد سنجیدہ تھا۔
’’پرسوں ہی ہم گئے تھے وہاں ملاقات ہوئی تھی‘ ماں باپ اور بہنوں کی بہ نسبت بہت سلجھا ہوا بااخلاق بچہ ہے۔ شارجہ کی کسی بڑی آئل ریفائنری میں انجینئر ہے‘ دولت کی کمی نہیں اور بندہ بھی نائس ہے۔‘‘ وہ بڑے متاثر لگ رہے تھے‘ زید ہونٹ بھینچے خاموش رہا۔
’’میں یہی مشورہ لینا چاہ رہا تھا‘ آپ کی کیا مرضی ہے پیارے میاں کا رشتہ قبول کرلیا جائے یا نہیں‘ آپ کی کیا رائے ہے بیٹا؟‘‘ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا‘ ہر سمت دھواں دھواں لگ رہا تھا۔ زبان اکڑ کر خشک ہوگئی۔
’’بوا… پانی لائیں۔‘‘ ازحد شدت سے پیاس جاگی تھی بوا جھٹ سے پانی کا ٹھنڈا ٹھار گلاس لے کر آئی تھیں۔
’’چائے لائوں بیٹا؟ صوفیہ بیٹی نے پکوڑے اور سموسے بھی تیار کیے ہیں۔‘‘ وہ خالی گلاس لیتے ہوئے دلار سے پوچھنے لگی تھیں۔
’’ارے بوا‘ نیکی اور پوچھ پوچھ؟ پہلی فرصت میں لے آئیں۔‘‘ منور چٹورے پن سے گویا ہوئے اور بوا مسکراتی ہوئیں چلی گئیں۔
’’تایا جان‘ آپ اس بارے میں پاپا سے مشورہ کرلیں تو بہتر ہوگا۔ میں بھلا کیا بتائوں آپ کو‘ مجھے تو تجربہ بالکل بھی نہیں ہے اس معاملہ میں۔ پاپا ویسے بھی اس معاملے کو اچھی طرح ہینڈل کریں گے۔‘‘ زیادہ دیر خاموش رہنا اس کو مناسب نہیں لگا۔
’’بھائی جان سے بات ہوئی ہے میری‘ انہوں نے کہا ہے کہ آپ سے مشورہ کروں اور جو آپ کا فیصلہ ہوگا وہ ہی ان کا اور میرا بھی فیصلہ ہوگا۔‘‘
’’میرا فیصلہ؟‘‘ اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
’’جی آپ کا… بی کوز آپ بھی اس گھر کے بیٹے ہیں آپ کی رائے اور مشورے کی بھی بڑی اہمیت ہے۔‘‘ ان کے انداز میں خوشدلی تھی۔
’’لیکن اتنی جلدی کیوں کررہے ہیں ابھی وہ پڑھ رہی ہے۔‘‘
’’یہ اس کا لاسٹ ائیر ہے صوفیہ جلد از جلد اس کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتی ہے اور ابھی صرف منگنی ہوگی‘ چھ ماہ بعد شادی کردیں گے یتیم بچی ہے وہ‘ وقت پر رخصت ہوجانا ہی اس کے حق میں بہتر ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر‘ اس پرپوزل کو قبول کرلیجیے۔‘‘
ء…/…ء
مدثر صاحب نے موبائل بڑی بے دلی سے رکھا اور لیٹ گئے تھے۔ ان کے چہرے پر افسردگی و ملال کے گہرے رنگ چھائے ہوئے تھے قریب بیٹھی عروسہ نے شوہر کے تاثرات شدت سے نوٹ کیے تھے جو منور کی کال آنے پر بے حد اداس ہوگئے تھے۔
’’آپ اتنے اپ سیٹ کیوں ہوگئے ہیں؟ جبکہ آپ کو پہلے سے اندازہ تھا کہ زید کا جواب یہی ہوگا وہ سودہ کو کبھی پسند نہیں کریں گے۔‘‘
’’اندازہ تھا مجھے لیکن نہ جانے کیوں اس دن زید کو سودہ کے پائوں کی بینڈیج کرتے دیکھ کر دل میں ایک خیال سا آیا تھا شاید اس کے دل میں سودہ کے لیے کوئی سوفٹ کارنر پیدا ہوگیا ہے وگرنہ میں جانتا ہوں۔ وہ جتنی نفرت مجھ سے کرتا ہے اتنی ہی سودہ سے نفرت اس کے دل میں ہے۔‘‘
’’پھر آپ نے کیوں منور بھائی سے کہا زید سے مشورہ کرنے کا خوامخواہ خود نے بھی اس کی ڈور تھام کر رکھی اور منور بھائی سے بھی اصرار کیا اور اب یہاں خود رنجیدہ ہورہے ہیں وہاں وہ ہوں گے۔‘‘ عروسہ کا لہجہ ہمدردی و تفکر لیے ہوئے تھا۔
’’خواہش ہم سب کی یہی ہے زید و سودہ کو ساتھ دیکھیں اسی آرزو نے امید کا دامن تھام لیا تھا کہ شاید… زید عمرانہ کے سحر سے آزاد ہوچکا ہے‘ ماں کی اصلیت سے آگاہی مل گئی ہے اسے مگر…‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر گہرے گہرے سانس لینے لگے تھے۔
’’پلیز مدثر‘ کام ڈائون‘ ڈاکٹر نے آپ کو ڈپریشن سے بالکل دور رہنے کا کہا ہے آپ کچھ بھی نہ سوچیں‘ جو بات آپ کے اختیار میں نہیں اس کے متعلق سوچنا آپ کے دل کی تکلیف کو بڑھانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا اور یہ سوچ کر آپ زیادتی کررہے ہیں کہ زید ماں سے متنفر ہوجائیں گے۔ ماں کیسی بھی ہو بچوں کے لیے ماں سے بڑھ کر پیار کرنے والا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’کیسی عورت ہو عروسہ‘ ہمیشہ اس عورت کی حمایت لیتی ہو جو تمہارا نام بھی سننا گوارا نہیں کرتی‘ یہاں رہ کر بھی تم وہاں کے لوگوں سے واقف ہو‘ حالات و واقعات سے باخبر رہتی ہو‘ سب سے محبت کرتی ہو۔‘‘ انہوں نے محبت سے ان کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’آپ کے اپنے لوگ میرے اپنے ہیں‘ آپ کے حوالے سے مجھے بے حد عزیز ہیں۔ منور بھائی کو کال بیک کرکے کہہ دیں وہ بھی اداس نہ ہوں۔‘‘
ء…/…ء
یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
’’اس بکواس کی وجہ صاف صاف بتادو تو بہتر ہے تمہارے حق میں۔‘‘ وہ موبائل پر سرد مہری سے گویا ہوئے۔
’’میرے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا نہیں‘ یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے‘ البتہ آپ نے میرے پیچھے نوفل کو لگا کر اپنے حق میں برا کیا ہے۔‘‘
’’میں نے نوفل سے کچھ نہیں کہا۔‘‘
’’پھر وہ کیوں میرا پیچھا کررہا ہے‘ اس کے خوف سے میں سرحد پار بیٹھا ہوں لیکن یہاں بھی میں خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا۔ ہر لمحہ ڈر رہتا ہے کہ وہ آئے گا اور مجھے ڈھونڈ نکالے گا۔‘‘ اس کا لہجہ اضطرابی تھا۔
’’ہاں‘ نوفل ایسا ہے وہ تم کو دنیا کے آخری کونے سے بھی ڈھونڈ سکتا ہے۔ تم نے غلط آدمی سے پنگا لیا ہے ابھی بھی وقت ہے دُم دبا کر بھاگ جائو وگرنہ بھاگنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔‘‘ ان کے لہجے میں نوفل کے لیے فخر و انبساط تھا۔
’’میں بھاگتا نہیں ہوں بلکہ بھاگنے پر مجبور کردیتا ہوں ابھی تک صرف میں اس لیے بھاگ رہا ہوں کیونکہ میں نے آپ کے ماضی کی داستاں نوفل کو نہیں سنائی اور سنادی تو پھر کون بھاگے گا یہ آپ اچھی طرح جان سکتے ہیں۔‘‘ دوسری جانب سے سیف فاروقی کے لہجے میں دھمکی آمیز طنز تھا۔
’’یہ گیڈر بھبھکیاں کسی اور کو دو‘ میرا ماضی چاند کی مانند روشن تھا۔‘‘
’’چاند کی مانند ہاہاہا… بھول گئے چاند میں بھی داغ ہوتا ہے اور داغ چاند میں ہو یا کردار میں سب داغ دار کردیتا ہے۔‘‘ یوسف صاحب چپ ہوگئے تھے ذہن میں آندھیوں کے جھکڑ چلنے لگے تھے۔
’’لگتا ہے ماضی کے بجھے ہوئے چراغ جلنے لگے ہیں‘ آنکھوں میں چھائے خود فریبی کے اندھیرے مٹنے لگے ہیں ڈیٹس گڈ‘ اب میرا کام ہوگا نہ میں پچھلے کئی ماہ سے جس کوشش میں تھا وہ اب بار آور ہوتی لگ رہی ہے۔‘‘
’’شٹ اپ یو ایڈیٹ…‘‘ انہوں نے غصے سے کہہ کر فون رکھ دیا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ماضی کا وہ حصہ جو انہوں نے سب کی نگاہوں سے چھپا کر رکھا تھا وہ اب نمودار ہونے لگا تھا۔
ء…/…ء
’’انشراح… تم کچن میں کام مت کیا کرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ یہ تمہارے نازک اور خوب صورت ہاتھ کام کے لیے نہیں بنے ہیں۔‘‘ وہ میکرونی بوائل کررہی تھی معاً نانی نے وہاں آکر کہا۔
’’ارے میں کہاں کام کرتی ہوں نانی‘ بس ذرا کبھی کوکنگ کرنے کی کوشش کرتی ہوں‘ وہ بھی پاستا یا پھر میکرونی وغیرہ ہی بناتی ہوں۔‘‘ وہ ساس پین میں چمچ چلاتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’اتنا بھی کرتی ہو تو بہت ہے ورنہ آج کل لڑکیوں کو انڈہ تک ابالنا نہیں آتا اور فیشن دنیا جہاں کے کرالو کم بختوں سے۔‘‘
’’چلو چھوڑو یہ سب بالی خود کرلے گی‘ تم میرے ساتھ اندر چلو اور تو میرے لیے ایک کپ کڑک چائے لے کر لا فٹافٹ۔‘‘ وہ وہاں موجود بالی سے کہہ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی تھیں بالی نے پیچھے سے مسکراتے ہوئے خطرے کا نشان بنایا تھا اور وہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔
’’میں دیکھ رہی ہوں کچھ دنوں سے تم بہت خاموش اور الجھی الجھی رہتی ہو۔ کیا بات ہے مجھے نہیں بتائو گی؟ ایسی کیا بات ہے جو مجھ سے بھی چھپا رہی ہو؟‘‘ ایک عرصے بعد نانی اس سے خوشگوار موڈ میں گویا ہوئی تھیں جب سے لاریب ان کے درمیان آیا تھا دونوں کے تعلقات کشیدہ ہی رہا کرتے تھے۔
’’آج کتنے ٹائم کے بعد آپ میری نانی لگ رہی ہیں ورنہ آپ تو مجھے پیار ہی کرنا بھول گئی تھیں‘ مجھے ہر وقت آپ کی ضرورت رہتی ہے نانی جان۔‘‘ وہ ان سے لپٹ گئی اور انہوں نے بھی اس کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
’’تم ہی مجھ سے دور ہوگئی تھیں بیٹا‘ ہمارا ہے ہی کون‘ روشن سات سمندر پار ہے یہاں ہم ہی ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ وقتی سہارے کے لیے میں اِدھر اُدھر لوگوں سے میل ملاپ رکھتی ہوں پھر یہ ضروری بھی ہے لوگوں سے ہم دوستی نہیں کریں گے تو وہ خوامخوہ ہی ہمارے دشمن بن جائیں گے۔ دشمن بنانے سے بہتر ہے دوست بنایا جائے۔‘‘
’’آپ اچھے لوگوں سے دوستی کریں‘ لاریب جیسے شخص سے نہیں۔‘‘ وہ دوستانہ موڈ میں تھیں اس کی بات سن کر ہنس کر بولیں۔
’’کیوں دشمن بنتی ہو اس کی میری بچی بہت اچھا لڑکا ہے وہ بہت خیال کرتا ہے بہت فراغ دل ہے اس دور میں کون کس کو پوچھتا ہے۔‘‘
’’نہ پوچھیں وہ… ہمیں کیا فرق پڑتا ہے بہت پیسہ ہے ہمارے پاس‘ اس گرے ہوئے شخص کی کسی عنایت کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کی نگاہوں میں نوفل کا چہرہ آگیا تھا پھر لہجہ ازخود ہی آگ برسانے لگا تھا‘ دونوں بھائی ایک ہی کٹیگری سے تعلق رکھتے تھے‘ بس فرق یہ تھا کہ ایک پارسائی و شرافت کا لیبل لگا کر موقع سے فائدہ اٹھاتا تھا‘ دوسرا بے خوفی سے لوٹنے کی تاک میں رہتا تھا۔
’’اب مجھے نہیں معلوم تم کس کا غصہ اس بچے پر نکال رہی ہو لیکن میرا تجربہ کہتا ہے‘ لاریب کچھ نظر باز ضرور ہے عموماً اس عمر میں لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں ورنہ وہ بہت نائس ہے میری تو بے حد عزت کرتا ہے۔‘‘
’’نظر بازی اچھی عادت ہے؟ وہ میرے گھر میں آکر مجھے بھوکے کتے کی طرح گھورتا ہے اور میرا دل کرتا ہے اس کی آنکھیں نکال لوں۔‘‘
’’کچھ مردوں میں ایسی خصلت ہوتی ہے ہمیں کیا لینا اس کی عادت سے۔‘‘ ابھی اس موضوع پر طویل بحث چلتی کہ نانی سے کوئی خاتون ملنے کے لیے آگئیں تو وہ اٹھ کر چلی گئیں۔
’’ماسی کا موڈ جب اچھا ہوتا ہے تو کتنی اچھی لگتی ہیں‘ آج کتنے دنوں بعد وہ اپنے پرانے موڈ میں آئی ہیں۔‘‘ بالی اس کے لیے میکرونی تیار کرکے لے آئی تھی‘ ٹرے اس کے آگے رکھتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’نانی خود کو غیر محفوظ اور کمزور سمجھنے لگی ہیں‘ یہی وجہ ہے جو وہ لاریب کو فری کررہی ہیں۔ ان کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ گھر کی حفاظت صرف گھر کے مرد ہی کرتے ہیں‘ باہر کے مرد صرف لٹیرے ہوتے ہیں۔‘‘
’’دفع کرو لاریب کو‘ تم یہ میکرونی کھائو بہت اسپائسی ہے۔‘‘
’’میرا دل نہیں چاہ رہا تم کھالو۔‘‘ اس نے ٹرے اس کی طرف کھسکائی۔
’’ارے کیا ہوا؟ ابھی تو بھوک بھوک کررہی تھیں اور اب اپ سیٹ ہوگئی ہو‘ کیا ماسی نے کوئی بات کہہ دی ہے؟‘‘ اس کے بدلتے موڈ پر وہ پریشان ہوکر پوچھنے لگی۔
’’میں کیا کروں بالی‘ میرے دل سے نوفل کی وہ حرکت نہیں نکل رہی… میں بھول کر بھی نہیں بھول پارہی ہوں۔‘‘ وہ اس سے لپٹ کر سسکنے لگی‘ اندر آتی نانی شاکڈ رہ گئیں۔
ء…/…ء
سودہ کا جلا ہوا پائوں خاصی حد تک ٹھیک ہوچکا تھا اور حسب عادت وہ گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی تھی۔ آج اس نے لان میں رکھے گملوں پر کلر کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ مالی بابا سے سرخ رنگ کا پینٹ منگوایا اور ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی‘ ڈبہ ہاتھ سے چھوٹ کر عمرانہ کی لیمن کلر کی ساڑھی پر گرا اور اسے سرخ کر گیا تھا۔ یہ سب آناً فاناً لمحے بھر میں ہوا تھا مائدہ کی بے پروائی تھی جو ملازمہ سے پریس کروا کر ساڑھی ہینگر سمیت کوریڈور میں ہی رکھ کر چلی گئی تھی۔ سودہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا لمحے بھر کو دل چاہا وہ یہاں سے اتنی دور بھاگ جائے کہ کوئی ڈھونڈ نہ پائے لیکن خواہش کب سچ ہوتی ہے؟ مصیبت آگئی تھی عمرانہ اس وقت وہاں درآمد ہوئیں اور ساڑھی کا حشر دیکھ کر وہ بے ساختہ چیخ اٹھیں۔
’’مائی گاڈ… میری اتنی قیمتی ساڑھی کا کیا حال کردیا تم نے؟‘‘
’’میں… میں نے کچھ نہیں کیا ممانی جان…‘‘
’’کچھ نہیں کیا کی بچی‘ اس پر کلر جن بھوت ڈال گئے ہیں؟ جان کر میری ساڑھی خراب کی ہے تُو نے کمینی‘ میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ وہ حواس باختہ سودہ کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھی تھیں معاً پیچھے آتی زمرد درمیان میں آگئیں۔
’’ہاتھ قابو میں رکھو اپنے عمرانہ‘ سودہ نے جان کر کلر نہیں گرایا۔‘‘ ماں کی چیخ سن کر زید بھی نیچے آگیا تھا مگر معاملے کی نوعیت سمجھ کر وہ آگے نہیں بڑھا‘ صوفیہ کو بوا نے آگے بڑھنے نہیں دیا تھا۔
’’اس کے حمایتی سب ہی بن جاتے ہیں یہ گھنی میسنی ہر کام کرکے مظلوم بن جاتی ہے جب سے اس گھر میں آئی ہے میرا سکون غارت کردیا ہے یہ اپیا نے دبئی سے لاکر دی تھی ایسی ساڑھی یہاں ملے گی بھی نہیں۔‘‘ وہ فق چہرہ و خشک ہونٹ لیے کھڑی سودہ کو کھا جانے والی نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ زمرد نے سودہ کا ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے کہا۔
’’پاکستان میں اس سے بھی بہترین و نفیس ساڑھیاں مل جاتی ہیں زید بیٹا‘ اپنی ماں کو دلا کر لایئے۔‘‘ وہ زید سے کہتی ہوئی چلی گئیں۔ زید غصے سے چیختی چلاتی ماں کو لے کر اوپر آگیا تھا۔
’’پلیز مما… اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا آپ کیوں دل جلا رہی ہیں‘ چلیں میں آپ کو دوسری ساڑھیاں لے دیتا ہوں۔‘‘
’’وہ کوئی عام ساڑھی نہیں تھی میری بہن نے دی تھی‘ جس محبت سے انہوں نے دی تھی۔ اس کا کوئی بدل ہی ممکن نہیں ہے لاکھوں ساڑھیاں اس ایک ساڑھی کے سامنے ہیچ ہیں۔‘‘ وہ گردن جھٹک کر بولیں۔
’’ساڑھی وہاں گئی کیسے؟‘‘ وہ اندر آتی مائدہ سے مخاطب ہوا۔
’’میں بھول کر آگئی تھی بھائی‘ مجھے نہیں معلوم تھا وہ ایسا کرے گی۔‘‘ اس نے جھٹ اپنی صفائی پیش کی۔
’’کیا کرتی ہو تم؟ کسی کام کی ذمہ داری نہیں ہے تم پر پھر بھی مما کا ایک آدھ کام بھی تم کو بھول جاتا ہے؟‘‘ اس نے سرزنش کی۔
’’ایک آدھ کام کیا میرے سارے کام میری بچی کرتی ہے اور کون پوچھ رہا ہے مجھے‘ بوا رات دن ان کی غلامی میں لگی رہتی ہیں اور دوسری ملازمائیں بھی کہاں سنتی ہیں۔‘‘ وہ منہ بناکر گویا ہوئیں۔
’’چلیں ہم شاپنگ پر چلتے ہیں آپ اپنی پسند کی شاپنگ کیجیے گا۔‘‘ وہ جانتا تھا اس کی ماں دماغی مریضہ تھی معمولی سی بات برداشت کرنے کی اہلیت نہ رہی تھی ان میں ذرا ذرا سی بات ان کے کمزور اعصاب پر قیامت بن کر گرتی تھی اور پھر وہ ہذیان بکنے لگتی تھیں ان کو اس ڈپریشن سے نکالنے کے لیے اس نے شاپنگ کا ارادہ کیا تھا۔
انہوں نے پہلے رضوانہ کے گھر جاکر اسے ساتھ لینے کا ارادہ ظاہر کیا‘ وہ ان کو وہاں لے آیا تو سر درد کا کہہ کر عروہ کو ساتھ لے جانے کا کہا تھا۔ محبت خواہ کسی بھی رشتے میں ملفوف ہوکر سامنے آئے اپنا خراج ضرور مانگتی ہے اور یہ خراج محبت کرنے والوں کو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔ شاپنگ سے اسے چڑ تھی لیکن ماں کی محبت میں وہ تیار ہوگیا تھا۔
’’زید بیٹا‘ آپ کے گھر والوں نے میری بہن کا یہ حال کردیا ہے اور جو کسر رہ گئی ہے وہ اس لڑکی نے پوری کردی۔ میں کہتی ہوں اس سے پہلے کہ عمرانہ کو کچھ اور ہو آپ علیحدہ گھر لے کر دور رہیں ان سے۔‘‘ رضوانہ نے بہن کی محبت میں جذباتی لہجے کہا۔
عمرانہ نے بہن کا ساتھ دیتے ہوئے سودہ و صوفیہ کے خلاف محاذ قائم کرلیے۔ کولڈ ڈرنک کا گھونٹ زہر بن گیا تھا ماں اور خالہ کی باتیں اس کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھیں لیکن محبت تاوان وصول کرتی ہے وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کون غلط ہے؟ کون صحیح؟ بظاہر تو سب کے ہی چہرے اجلے و روشن تھے تایا و تائی جان‘ صوفیہ پھوپو جو مزاج کی کڑک تھیں مگر اس سے کبھی بھی سخت لہجے میں بات نہیں کی اور ایک وہ جھکی جھکی پلکوں و خاموش لبوں سے سارے گھر میں کسی بے کل روح کی مانند سردگراں رہنے والی لڑکی‘ جس میں کچھ ایسی کشش و سحر تھا کہ ہزار ہا کوششوں کے باوجود بھی وہ اس پر نگاہ ڈالنے پر مجبور تھے اور وہ بے خبر تھی‘ جنہیں اپنی خبر نہ ہوں وہ کسی کو نقصان کیونکر پہنچاسکتے ہیں؟ پھر ماں کی حالت بھی اس کے سامنے تھی۔ وہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟
’’ارے آپ نے تو کولڈ ڈرنک بھی ایسے ہی رکھ دی یہ ٹرالی تو ابھی لوازمات سے بھری ہوئی ہے یہ سب بھی کھانا ہے آپ کو۔‘‘ اس کو گلاس واپس رکھتے دیکھ کر رضوانہ حیرانی سے گویا ہوئیں۔
’’سوری خالہ جان‘ میں کچھ نہ کھاسکوں گا سوری اگین۔‘‘
’’اچھاص اچھا کوئی بات نہیں‘ ڈنر تو آج ہمارے ساتھ ہی کریں گے۔‘‘ مسلسل بولتی رضوانہ نے عمرانہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کرکے خوشدلی سے کہا۔
’’مما‘ ہم شاپنگ کیوں نہ اس دن کریں جب آپ کا موڈ ہو‘ میں چاہتا ہوں شاپنگ آپ کی پسند کی ہو۔‘‘ وہ پُرامید لہجے میں بولا۔
’’عروہ میری چوائس کی ہر چیز لائے گی وہ میری پسند سے واقف ہے۔‘‘ اس کی ایک نہ چلی۔ چند لمحوں بعد نک سک سے تیار عروہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی پوچھ رہی تھی۔
’’آپ اتنے کم فہم نہیں ہیں جتنا میرے سامنے پوز کرتے ہیں۔‘‘ اس کی مسلسل خاموشی پر وہ چوٹ کرتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’مجھے لگتا ہے آپ کو ممی اور آنٹی کا سودہ کے خلاف بولنا برا لگا ہے‘ آپ نے نہ کولڈ ڈرنک پی‘ نہ کچھ کھایا۔ آپ ہمارے گھر آکر اتنے ایٹی ٹیوڈ کیوں دکھاتے ہیں؟‘‘ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی۔ جواباً اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اسپیڈ بڑھادی تھی۔
ء…/…ء
نوفل کے ذہن میں عجیب و نافہم سی بے چینی و بے کلی سرائیت کر گئی تھی۔ لاریب کے انشراح کے متعلق خیالات جان کر اور انشراح کی غصے میں کہی گئی لاریب اور خود اپنے مطابق خیالات نے جتنا اشتعال دلایا تھا‘ اتنا ہی وہ چونک گیا تھا کہ لاریب کی رگ رگ سے وہ واقف تھا اس کا بھرپور پلاننگ کے ساتھ انشراح کی نانی کے گرد گھیرا ڈالنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ انشراح کا شکار کرنے کے لیے جال بچھاتا آرہا ہے۔ اس نے تہیہ کرلیا تھا وہ انشراح سے دشمنی ہونے کے باوجود اس کو اس کا شکار نہیں بننے دے گا۔ اس کی نقل و حرکت جاننے کے لیے اس کی ایک بہت بڑی کمزوری اس کے ہاتھ میں تھی۔ رات نیند میں وہ بولنے کا عادی تھا اور اس دوران وہ ساری باتیں بول دیا کرتا تھا اور اس نے اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی تھی اور اس کے لیے اس نے اپنے ساتھ اس گھر کی سب سے پرانی و وفادار ملازمہ امینہ کو شریک راز بنالیا تھا پھر امینہ یوں بھی کارآمد تھی کہ لاریب کے کام وہ ہی کیا کرتی تھی۔ لاریب کے کمرے میں آنے جانے کی اس کو آزادی تھی۔ وائس ریکارڈنگ کے ذریعے وہ آسانی سے لاریب کے شب و روز کے معمولات سے آگاہ ہونے لگا تھا جس میں اس کے کام کی باتیں کم ہوتی تھیں۔ فضول باتیں زیادہ وہ ان ہی غلط راستوں کا راہی تھا۔
یوسف صاحب پہلی بار زرقا بیگم کو لے کر عمرے کی سعادت حاصل کرنے گئے تھے دوسری بیوی حمرہ اپنے والدین کے پاس امریکہ گئی ہوئی تھیں۔ ایک عرصے بعد سوکن کو اس کا حق ملتے دیکھ کر ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھی جس کو بجھانے کے لیے ان کو یہ ملک ہی چھوڑنا پڑا تھا۔ یوسف صاحب جاتے ہوئے اس کو سمجھا گئے تھے کہ سیف فاروقی سے الجھنے کی کوشش نہ کرے اس جیسے کے منہ لگنا ان کے شایان شان نہیں ہے لیکن وہ عہد کرچکا تھا کہ سیف فاروقی سے سچ اگلوائے بنا پیچھا نہیں چھوڑے گا کچھ نہ کچھ تو ایسا تھا جس کی بیس پر وہ بلیک میل کررہا تھا اگر کچھ بھی نہیں تھا تو پھر اس نے خود سے دشمنی کرلی تھی۔
ماما کے جانے کے بعد ہر سو ایک سناٹا چھاگیا تھا اور وہ اس خاموشی سے دور رہنے کے لیے بابر کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہا تھا اب بھی اس کے پاس جانے کے لیے گھر سے نکلا تھا معاً ایک اجنبی نمبر سے کال آئی تھی اور پراسرار انداز میں ملنے کے لیے دعوت دی گئی تھی۔
’’کون ہیں آپ‘ کیوں ملنا چاہتے ہیں مجھ سے؟‘‘
’’گھبرایئے نہیں نہ ہی خوف زدہ ہوں‘ ہم آپ کے خیر خواہ نہیں چاہنے والے ہیں۔‘‘ دوسری طرف لہجہ بھاری و بارعب تھا۔
’’شٹ اپ‘ مجھے نہیں ملنا کسی سے بھی۔‘‘
’’ہاہاہا… ڈر گئے؟ چہرے سے تو بڑے بہادر لگتے ہو۔‘‘
’’میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں اور تم جیسوں سے بالکل بھی نہیں۔‘‘ وہ دائیں ہاتھ سے کار ڈرائیور کرتا دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے بات کررہا تھا چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
’’ہم جیسوں سے مطلب محبت کرنے والوں سے ڈرنا بھی نہیں چاہیے‘ ہمارے پاس آپ کے کچھ راز ہیں چاہتے ہیں ان کا سودہ صرف آپ سے ہی ہو‘ ویسے اس سودے کے خریدار بہت ہیں لیکن ہم نہیں چاہتے آپ کی رسوائی ہو‘ بدنام ہوجائیں آپ‘ پوری دنیا میں آپ اور آپ کے ڈیڈی کی عزت و شہرت‘ نیک نامی خاک ہوجائے۔‘‘ اس کا دماغ گھوم گیا تھا یہ نیا گورکھ دھندہ شروع ہوا تھا۔
’’کون ہو تم؟‘‘ وہ خونخوار لہجے میں بولا۔
’’بتایا تھا نہ ابھی‘ خیر خواہ ہوں۔‘‘
’’کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’ڈیل… پھر اندر کی بات اندر ہی رہے گی۔‘‘
’’اوکے‘ آرہا ہوں جگہ بتائو۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولا۔ جواباً اس کو ایک عام سے ہوٹل کا ایڈریس دیا گیا تھا اس نے سوچا بابر کو انفارم کرے لیکن پھر تنہا ہی جانے کا فیصلہ کرلیا تھا کہ نامعلوم کیا بات ہو‘ کیسے لوگ ہوں وہ اپنے ساتھ اس کو مصیبت میں نہیں ڈال سکتا تھا۔
ہوٹل اوسط درجے کا تھا آبادی سے دور وہ کار پارک کرکے اندر داخل ہوا۔ پرائیوٹ روم تک اس کی رہنمائی ویٹر نے کی‘ وہ اندر داخل ہوا اور وہاں موجود ہستی کو دیکھ کر حیرت سے کنگ کھڑا رہ گیا۔
’’مرحبا… مرحبا… مرحبا‘ یقین تھا کچی ڈور سے کھنچے چلے آئیں گے‘ معاملہ ہی کچھ اس نوعیت کا ہے کہ آپ کو بھاگ کر آنا ہی تھا۔‘‘
پرپل و گولڈن بنارسی ساڑھی‘ میچنگ جیولری‘ پرپل ہی لپ اسٹک سے رنگے ہونٹ معنی خیز مسکراہٹ سے چمک رہے تھے وہ اس کو بڑے کروفر سے دیکھ رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ہی گہرے رنگ کے سوٹ میں ملبوس لمبا چوڑا مرد بیٹھا ہوا تھا‘ جس کے سانولے چہرے پر بے ترتیب مونچھیں و سختی اس کے متلق کوئی اچھا تاثر نہیں دے رہی تھی وہ گردن اکڑائے بیٹھا تھا۔
’’آپ نے کال کروائی ہے؟‘‘ اس نے جہاں آرا کو دیکھتا ہوا پوچھا۔
’’ہاں‘ میں نے کال کروائی ہے اور یہاں بلوایا ہے‘ آپ بیٹھیں نہ پلیز۔‘‘ جہاں آرا ایک دم ہی بہت مہذب و خوش اخلاق بن گئی تھیں۔
’’نو تھینکس‘ اس تھرڈ کلاس ہوٹل میں بلوانے کا مقصد بھی یقینا کوئی تھرڈ کلاس منصوبہ ہی ہوگا آپ کا۔‘‘ وہ بہت حیران تھا اور شاکڈ بھی انشراح کی نانی کو دیکھ کر کئی اندیشے سر اٹھاتے چلے گئے تھے۔
’’بیٹا… یہ آپ کو معلوم ہی ہوگا ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے‘ جیسا بیج بوتے ہیں ویسی ہی فصل کاٹتے ہیں۔ جیسی حرکت آپ نے کی ہے ویسا ہی ہر جانہ بھی ادا کرنا ہوگا اور رہا سوال اس گھٹیا ہوٹل میں بلانے کا تو میں اس شہر کے سب سے بہترین ہوٹل میں بھی آپ کو بلا سکتی تھی۔ صرف آپ کی رسوائی کے خوف سے نہ بلاسکی کہ…‘‘
’’میں یہاں کوئی بکواس سننے نہیں آیا… صرف کام کی بات کرو‘ کیا چاہتی ہو‘ یہاں بلانے کا مقصد کیا ہے؟‘‘ وہ بات کاٹ کر سرد لہجے میں غرایا‘ جہاں آرا کے برابر میں براجمان مرد نے اسے گھورا‘ جہاں آرا نے اسے ٹھنڈا رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے جو میری بچی انشراح کے ساتھ کیا وہ سب مجھے بتاچکی ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب آکر لفظ لفظ جما کر بول رہیں تھیں۔
’’کیا کیا ہے میں نے اس کے ساتھ؟‘‘ وہ بے خوفی سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اطمینان سے گویا ہوا۔
’’عصمت لوٹی ہے آپ نے اس کی… زیادتی کی ہے…‘‘ اس کی شخصیت کے رعب کا کمال تھا کہ وہ اس کو تم کہہ کر نہیں پکار رہی تھی۔
’’اوہ… کیا پروف ہے آپ کے اس الزام کا آپ کے پاس؟‘‘
’’میڈیکل کروا رہی ہوں اس کا۔‘‘ ان کے سخت لہجے میں دھمکی دی۔
’’جی… جی بالکل بڑے شوق سے کروایئے‘ وہ آپ کی بچی ہے آپ کا حق ہے جو بھی آپ اس کے ساتھ کروائیں مگر مجھے یہاں بلانے کا مقصد؟‘‘
’’آپا… لگتا ہے گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا۔‘‘ وہ گھورتا ہوا آدمی نوفل کو بے خوف و بے فکر دیکھ کر جہاں آرا سے مخاطب ہوا۔
’’ارے نہیں سراج… ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ بھی اپنا بچہ ہے۔‘‘
’’ایکسکیوزمی‘ میں آپ جیسے گھٹیا و ذلیل لوگوں سے کوئی تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا۔ میں باعزت و معزز گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔‘‘
’’معلوم ہے‘ آپ کی فیملی کی عزت کا خیال کرکے ہی آپ کو یہاں بلوایا ہے۔ بات ساری یہ ہے کہ مرا ہوا بندہ اور لٹی ہوئی عزت کبھی واپس نہیں آتی‘ میری بچی کا مستقبل تباہ ہوگیا اب کون شادی کرے گا اس سے؟ کون عزت سے بیاہ کر لے جائے گا؟‘‘ انہوں نے رونا شروع کردیا تھا۔ نوفل سمجھ نہیں پارہا تھا اس کو کیا کرنا چاہیے؟
ء…/…ء
’’پلیز زید… اسپیڈ کم کریں مجھے ڈر لگ رہا ہے‘ کار ٹکرا جائے گی۔‘‘ عروہ خطرناک حد تک کار کی تیز رفتار سے گھبرا کر بولی۔
’’مجھے خوف نہیں آتا میں ایسا ہی ہوں‘ میرے ساتھ آنے سے قبل تم کو ہزار بار سوچنا چاہیے تھا‘ اب آگئی ہو تو برداشت کرو۔‘‘ اس نے رفتار کم کیے بغیر سپاٹ لہجے میں کہا اور عروہ جو خوش گمانی کی نشیمن میں گم ہوگئی تھی کہ شاید وہ اس کے ساتھ آنے پر راضی ہوا ہے تو شاید دل کی کوئی کلی کھل ہی گئی مگر…
’’ایم سوری‘ میں آنٹی کے خیال سے آئی ہوں‘ انہوں نے مجبور کیا تھا آپ جانتے ہیں وہ کس قدر ڈپریسڈ تھیں۔ سودہ اور اس کی ممی جان کر ان کو تنگ کرتی ہیں تاکہ وہ تندرست نہ رہ سکیں‘ بیمار ہوجائیں۔ ڈاکٹر نے ان کو خوش رکھنے کی ہدایت کی ہے اور ان کو کوئی خوش رکھنا نہیں چاہتا ہے اگر ہم بھی ان کا خیال نہیں رکھیں گے‘ ان کی بات نہیں مانیں گے پھر وہ کہاں جائیں گی… کس کو اپناکہیں گی؟‘‘ بہت عقل مندی سے عروہ نے اپنا دفاع کیا تھا اس کی کمزوری‘ اس کی دکھتی رگ اپنے ہاتھ میں لے لی تھی اور ہمیشہ کی طرح وہ ماں کے نام پر موم بن گیا یہ کس طرح ممکن تھا جو اس کی ماں کا خیال رکھے‘ محبت کرے وہ اس سے کس طرح سختی برت سکتا تھا‘ رویہ لچک دار ہوتا چلا گیا تھا۔
’’سوری‘ میں نے تمہیں ہرٹ کیا اینڈ تھینکس تمہیں میری مما کا اتنا خیال ہے۔‘‘ اس نے رفتار درمیانی کرتے ہوئے نرمی سے کہا۔
’’یہ کیا بات کی آپ نے زید‘ آپ کی مما میری خالہ بھی ہیں۔‘‘ زید کا نرم لہجے میں بات کرنا اس کی پہلی کامیابی تھی اور یہ اس کو معلوم ہوگیا تھا وہ عمرانہ کا جتنا خیال کرے گی اتنا ہی اس کے قریب ہوتی جائے گی۔ وہ مسرور سی دل ہی دل میں پلاننگ کرنے لگی تھی‘ چند گھنٹوں بعد واپسی پر وہ عمرانہ کے ساتھ مائدہ کی بھی بھرپور شاپنگ کرکے لائی تھی۔ پہلی بار اس نے زید کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھی تھی گوکہ ایک خلش دل میں خار بن کر چبھ گئی تھی کہ اس نے تکلفاً بھی اس کو شاپنگ کی دعوت نہ دی تھی مگر اس نے یہ سوچ کر صبر کرلیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب صرف وہ اپنی شاپنگ کرے گی ابھی زید کی اتنی ہی عنایت بہت تھی کہ وہ اس کے ساتھ تھا۔
ء…/…ء
’’آپا… میں کہتا ہوں‘ رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا۔ لڑکی کی ہماری زندگی خراب ہوگئی ہے‘ کسی شریف آدمی سے شادی کے وہ لائق ہی نہیں رہی‘ تم اس سے پیسہ لو اور ہم یہ ملک ہی چھوڑ دیں گے‘ باہر ہمیں کوئی پہچانے گا نہیں وہاں ہی عزت سے وہ بیاہی جاسکتی ہے۔‘‘ سراج نے اٹھ کر جہاں آرا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھایا۔
’’میری بیٹی کی زندگی تباہ ہوئی ہے اس کی زندگی بہتر بنانے کے لیے مجھ بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔‘‘ وہ رنجیدگی سے گویا ہوئیں۔
’’تم لوگ عصمتوں کے سودا گر ہو‘ یہی کاروبار ہے تم لوگوں کا۔‘‘
’’ایک تو بدمعاشی کرتے ہو پھر آنکھیں بھی دکھاتے ہو‘ لگتا ہے سیدھے طریقے سے ماننے والے نہیں ہو۔‘‘
’’شٹ اپ‘ منہ بند رکھو اپنا۔ میری ایک کال پر اسپیشل فورس تم لوگوں کو گرفتار کرکے لے جائے گی اور ساری زندگی تم لوگوں کی جیل میں سڑتے ہوئے گزرے گی‘ تم جیسے لوگوں کو ہینڈل کرنا آتا ہے مجھے۔‘‘ اسے ان کے ناپاک عزم سے واقف ہونے میں دیر نہیں لگی تھی۔
جہاں آرا کی لالچی و حریص طبیعت سے وہ اچھی طرح واقف تھا‘ لیکن اس کو جو دلی صدمہ ہوا تھا وہ یہ جان کر کہ انشراح بھی ان سے ملی ہوئی تھی۔ ایک معمولی سی بے احتیاطی کو اس نے کس طرح حیا سوز کہانی میں بدلا تھا۔ بظاہر شریف و معصوم لگنے والی لڑکی کا باطن کتنا سیاہ و بدبودار تھا۔ کس قدر بے حیائی سے اس نے ان کے ساتھ مل کر اسے بلیک میل کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
’’دیکھ بیٹا… شرافت سے ہماری منہ مانگی رقم ہمیں دے دو نہیں تو کل میں تمام اخبارات و میڈیا میں تمہارے اور تمہارے خاندان کی عزت کی دھجیاں اڑا دوں گی۔ یوسف صاحب کو لوگ آج بھی اتنی اچھی طرح جانتے ہیں جتنا آج سے بیس سال پہلے جانتے تھے اور ان کے حوالے سے تمہاری بھی ایک اچھی شناخت ہے معاشرے میں۔‘‘ جہاں آرا کا سنگین لہجہ بتارہا تھا وہ پیسوں کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے پھر وہ اسے سوچنے کا ٹائم دے کر سراج کے ساتھ چلی گئی تھیں وہ بھی گم صم سا واپس آگیا تھا۔
اس بے ضمیر عورت نے یوسف صاحب کا نام لے کر اس کو شش و پنج میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ یوسف صاحب پہلے ہی سیف فاروقی کی بلیک میلنگ سے اپ سیٹ تھے مستزاد اس نئے مسئلے کو وہ کسی طور بھی برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ جہاں آرا پیسہ بٹورنے کی خاطر اپنی دی گئی ہر دھمکی پر من و عن عمل کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرے گی اور ہر سمت رسوائی و جگ ہنسائی ان کے لیے شروع ہوجائے گی جو کسی صورت ان کو گوارا نہ تھی۔
اس نے بابر سے ملاقات کا ارادہ ملتوی کیا اور بہت سوچ و بچار کے بعد یہی فیصلہ کیا تھا کہ رقم ہی ادا کرکے جان چھڑائے پھر اس نے سراج کو کال کرکے رقم پہچانے کی جگہ معلوم کی تھی‘ اس کی کوٹھی سے کچھ فاصلے پر ہی وہ لین دین مکمل ہوا تھا۔
’’یہ میرے کسی گناہ کا تاوان نہیں ہے‘ یہ میں تمہیں اللہ کے نام پر دے رہا ہوں‘ اگلی دفعہ یہاں کا رخ خواب میں بھی نہیں کرنا۔‘‘ ڈالرز سے بھرا بریف کیس لیتے ہوئے ان کی زبانوں نے ساتھ نہیں دیا تھا وہ صرف گردنیں جھکانے پر اکتفا کرسکے تھے۔
ء…/…ء
’’مما! آپ گھر کیوں نہیں چلتی؟ اپنا گھر ہوتے ہوئے ہم یہاں کیوں رہ رہے ہیں؟‘‘ عمرانہ کے ہتک آمیز رویے نے اس کا دل اس حد تک بدظن و گھائل کردیا تھا کہ وہ ماں سے سوال کرنے لگی تھی۔
’’تمہارے باپ کا سایہ تمہارے سر پر نہیں ہے اس وجہ سے یہاں رہ رہے ہیں۔‘‘ ان کا دل خود بیٹی کی تذلیل پر خون کے آنسو رو رہا تھا مگر وہ اس کے سامنے رو کر اسے مزید دکھی کرنا نہیں چاہتی تھی سو ضبط سے کہہ گئیں۔
’’میں اب بڑی ہوگئی ہوں ممی‘ میں آپ کا سہارا بنوں گی ہم یہاں نہیں رہیں گے‘ اپنے گھر میں زندگی گزاریں گے۔‘‘ وہ ہاتھ پکڑ کر ضد کرنے لگی۔
’’عمرانہ بھابی کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا کرو‘ وہ شروع سے ایسی ہی بدمزاج و بدلحاظ ہیں اور باقی تو سب بہت پیار کرتے ہیں تم سے سودہ‘ ایک کی خاطر سب کی محبتوں کو کیوں الزام دے رہی ہو۔ بڑی بھابی اور دونوں بھائیوں نے کتنا پیار دیا ہے تمہیں۔‘‘
’’ممی… ایک نفرت ہزار محبتوں پر بھاری ہوتی ہے میں بڑے ماموں سے کہنے جارہی ہوں کہ وہ ہمیں جانے کی اجازت دیں۔‘‘
’’میری بات بھائیوں نے کبھی مانی نہیں ہے تم جاکر بات کرو‘ اگر راضی ہوجائیں تو میں تمہارے ساتھ ہوں بیٹی۔‘‘ آس بھرے لہجے میں انہوں نے اس کو اجازت دی تو وہ ان کے کمرے میں چلی آئی جہاں بہت ہلکی سبز روشنی تھی اے سی کی کولنگ ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ بڑے ماموں چیئر پر بیٹھے ٹیبل پر جھکے کچھ لکھ رہے تھے‘ لیمپ کا شیڈ ٹیبل پر جھکا ہوا تھا۔ وہاں آتے ہی اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور روتے روتے اس نے ان سے یہاں سے جانے کی اجازت مانگی تھی۔ نہ عمرانہ کی نفرت کا اظہار کیا نہ مائدہ کی لاتعلقی کا ذکر کیا۔
’’پلیز بڑے ماموں… آپ اجازت دے دیں میں اب اس گھر میں رہنا چاہتی ہوں جہاں میرے بابا رہا کرتے تھے۔ میں ان کی خوشبو کو محسوس کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھوں سے ان کو تھامتے ہوئے کہا اور دوسرے لمحے لگا یہ وجود بڑے ماموں کا نہیں ہے وہ جو انہیں چیئر کے پیچھے سے تھامے کھڑی تھی جھک کر دیکھا تو دیکھتی رہ گئی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close