Aanchal Aug-17

کھلتا ہے دریجہ

حمیرا اعلی

تم بھری دنیا کی نظروں سے بچا لو مجھ کو
اب پناہوں میں ترے دل کی اُترنا ہے مجھے
مرے دشمن ہیں بنے چاہنے والے جاناں
ابھی دشمن کے ارادوں سے گزرنا ہے مجھے

دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
جونہی اس کے موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔ اس نے بے تابانہ قریب رکھا موبائل اٹھا کر میسج دیکھا۔ میسج پڑھتے ہی اس نے برہم ہوکر اپنے بالکل سامنے بیٹھے ضمائر کو خونخوار نظروں سے گھورا۔ وہ بظاہر بے حد انہماک سے گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا لیکن ماورا جانتی تھی وہ اس سے قطعی بے خبر نہیں بلکہ وہ اتنی دیر سے اسی توجہ کا طالب تھا اور آخر اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ ماورا نے نظر اٹھائی اور ضمائر نے دستر خوان پر موجود افراد خانہ کی پروا کیے بغیر سب کو کھانے کی جانب متوجہ دیکھ کر اپنی بائیں آنکھ کو خفیف سی جنبش دی۔ ماورا کا چہرہ غصے سے تپ اٹھا۔ کوئی بھی اس کی جانب متوجہ نہیں تھا اس نے جلدی سے سر جھکالیا۔ وہ جانتی تھی ضمائر کے لب ہی نہیں آنکھیں بھی مسکرا اٹھی ہوں گی۔
غصہ بھری نگاہ کا شکوہ نہیں کوئی
کرتے ہیں اس پہ شکر کہ وہ دیکھتا تو ہے
اس بار میسج پڑھنے کے بعد ماورا نے اس کی جانب نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسے شکیب کے میسج کا شدت سے انتظار تھا مگر سامنے بیٹھا شخص اسے زچ کررہا تھا پھر دوبارہ‘ سہ بارہ اور بار بار موبائل کی اسکرین روشن ہوتی‘ اسکرین کو لب بھینچے دیکھتے رہنے کے باوجود اس نے موبائل نہیں اٹھایا۔ وہ اس کے میسجز پڑھ کر مزید کوفت اور غصے کا شکار نہیں ہونا چاہتی تھی‘ گھر کے باقی افراد سکون اور خاموشی سے کھانا تناول کررہے تھے۔ گھر پہ اباجی موجود نہیں تھے لہٰذا گھر کا ماحول پُرسکون تھا۔ وہ موبائل کی روشن ہوتی اسکرین پہ نظر تک ڈالنے سے گریز برت رہی تھی ہر بار شکیب کے خیال سے اس کا دل دھڑک اٹھتا مگر وہ دل کڑا کرکے اپنی پلیٹ میں موجود چاولوں کو چمچ سے اِدھر اُدھر کرتی رہی اگر سب سے پہلے دستر خوان پہ سے اٹھ کر جاتی تو اماں جان سے سخت سست سننے کو ملتی۔ کھانا کھاتے ہی وہ پڑھنے کے بہانے چھت پہ آگئی۔ رات کے کھانے کے بعد برتن دھونے کی ذمہ داری اس کی تھی مگر اسے کام کی کوئی فکر نہیں تھی اسے پتا تھا اگر اماں جان کو علم ہوگیا کہ وہ چھت پہ ہے تو صرف وہی اسے بلائیں گی باقی اس کی بہنیں اور چچا زاد ترانہ یا عمرانہ بھابی ہرگز نہیں بلائیں گی۔ پہلے اماں جان کی طرح فرزانہ چچی بھی اس پہ شیر کی نگاہ رکھتی تھیں مگر جب سے اس کی نسبت ضمائر کے ساتھ زبانی کلامی ہوئی تھی ان کا رویہ یکسر بدل گیا تھا حالانکہ اماں جان اپنی بہو کے ساتھ کوئی خاص نرمی نہیں برتتی تھیں اور ماورا کی بھابی اماں جان کی بہو عمرانہ چچی جان کی بڑی بیٹی تھیں۔ اسے یقین تھا چچی جان اس سے اپنی بیٹی پہ رواں رکھے جانے والے مظالم کا بدلہ ضرور لیں گی مگر اسے ضمائر کے ساتھ منسوب ہوئے ایک سال ہونے والا تھا۔ چچی کا رویہ اس کے ساتھ یکسر بدل چکا تھا۔
چھت پہ بچھی بان کی کھردری چارپائی اور اکلوتے زرد بلب کی محدود روشنی کو دیکھتے ہوئے اس کا دل ہر چیز سے بے زار ہوگیا۔ اس کے سامنے کھلی کتاب کے ورق ہوا سے پھڑپھڑا رہے تھے مگر اس کی تمام تر توجہ ہاتھ میں موجود موبائل پہ تھی۔ وہ اکتا چکی تھی انتظار اب گراں گزرنے لگا تھا۔ اگر شکیب نے خود فون نہیں کیا تو میں بھی اس سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ اس نے دل ہی دل میں عہد کیا۔ اس نے وقت گزارنے کے لیے ان بکس میں موجود میسج دیکھنا شروع کردیئے ہر طرف ضمائر ہی ضمائر تھا۔
ترے ستم سے خوش ہوں کہ غالباً یوں بھی
مجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے
اس نے بے دلی سے ایک کے بعد ایک تمام میسجز ڈیلیٹ کردیئے۔ یک دم ہی اس کا موبائل بج اٹھا۔ اس نے جلدی سے کال ریسیو کی۔
’’تو پھر کیا فیصلہ کیا تم نے‘ کل مجھ سے ملنے آرہی ہو یا نہیں؟‘‘ وہ بضد تھا جبکہ وہ اسے کہہ چکی تھی کہ اگر یہ بات کرنی ہے تو فون مت کرنا‘ مگر اس وقت وہ ہر بات فراموش کر گئی تھی۔
’’ٹھیک ہے میں آجائوں گی مگر ہم باہر ملیں گے آپ کے گھر پر نہیں۔ میں وہاں نہیں آسکتی۔‘‘ اس نے بہت سوچ کر درمیانہ راستہ نکالا۔
’’کیوں اعتبار نہیں ہے مجھ پہ‘ ڈرتی ہو۔‘‘ شکیب سنجیدہ تھا۔
’’ہاں اعتبار نہیں ہے اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ ڈرتی ہوں۔‘‘ اس نے انکار نہیں کیا۔ دوسری طرف سکوت چھا گیا۔
’’آپ اکیلے رہتے ہیں‘ آپ نے خود بتایا تھا۔‘‘ وہ اس کی خفگی کا خیال کرکے بولی۔
’’اور یہ بات میں نے خود تمہیں بتائی تھی اگر میں کہتا کہ میرے گھر پہ سب موجود ہیں اور تمہیں دھوکے سے بلا لیتا تو تم کیا کرتیں؟ ماورا تم مجھے اچھی طرح جانتی ہو میں کیسا ہوں‘ پھر بھی تمہیں مجھ پہ اعتبار نہیں ہے۔‘‘ وہ نرمی سے استفسار کررہا تھا۔ ماورا الجھ گئی اس سے زیادہ اپنے آپ کو مطمئن کرنا خود کو وضاحت دینا دشوار تھا۔
’’جہاں محبت ہوتی ہے وہاں بے اعتباری بے موت مار دیتی ہے۔‘‘
’’یہ بے اعتباری ہی ہے مگر احتیاط کا دامن تھامے رکھنے میں ہی عقل مندی اور عافیت ہوتی ہے۔‘‘ وہ بردبار انداز میں گویا ہوئی۔ سیڑھیوں پہ مخصوص قدموں کی آہٹ سن کر اس نے فوراً رابطہ منقطع کردیا۔
کام اس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان میں
ہوئے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر
ضمائر نے آتے ہی شوخ انداز میں شعر اس کے گوش گزار کیا۔
’’آپ مجھ سے سیدھی طرح بات نہیں کرسکتے ضروری ہے اپنی داستان محبت سنانا۔‘‘ وہ غصے میں کہہ گئی مگر اس کے ہونٹوں پہ نمودار ہونے والا تبسم دیکھ کر اسے فوراً اپنی حماقت کا احساس ہوگیا۔ دل کی دھڑکنیں بلاوجہ ہی بے ترتیب ہوگئیں اس نے فوراً نگاہ کتاب کے کھلے ہوئے صفحے پہ جمالی۔
’’اگر آپ کو کوئی کام نہیں ہے تو جائیں یہاں سے مجھے پڑھنا ہے۔‘‘ وہ اس کی نگاہوں کے ارتکاز سے جھنجلا کر بولی۔
’’ہاں ایک کپ چائے پلا دو پھر پڑھتی رہنا۔‘‘ وہ اس کی گود میں رکھی کتاب اٹھا کر اس کے نزدیک بیٹھتے ہوئے بولا وہ اپنی جگہ سے جھٹکے سے اٹھ گئی۔
’’ماورا… تم خوش نہیں ہو؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ جاتی ضمائر نے اس کی کلائی پکڑ کر استفسار کیا۔ وہ بے دم ہوگئی پہلے دل کی دھڑکنیں بڑھی… اب یک دم ہی دل رکنے لگا۔ ذہن صاف سلیٹ بن گیا تھا۔
’’ماورا کیا کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ وہ اس کی بے معنی خاموشی سے گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔ ماورا نے بے بسی سے اس کی گرفت میں موجود اپنی کلائی کو دیکھا۔ اس کا ہاتھ نہیں پکڑا تھا اس نے بلکہ اس کا دل اپنی مٹھی میں بند کرلیا تھا ماورا کی سانس رکنے لگی تھیں۔
’’نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس امتحان ہونے والے ہیں ناں اسی لیے پڑھائی کی فکر ہے۔‘‘ اس نے ہمت مجتمع کرکے اسے جواب دیا۔
’’اچھا میری جان پھر تم پڑھائی کرو۔ تمہارے ہاتھ کی چائے اب تمہارے امتحانات ختم ہونے کے بعد سہی۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے دل کی دگرگوں‘ نڈھال حالت سے بے خبر‘ وہ اپنی کمزوری پہ کڑھتی ہوئی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔
’’میں کس قدر دھوکے باز اور بے اعتبار لڑکی ہوں۔ مفاد پرست‘ سطحی ذہن کی مالک‘ اف ضمائر میں کیسے بتائوں آپ کو میں اب بدل چکی ہوں۔ حقیقت پسند اور خود غرض ہوگئی ہوں میں۔‘‘ اس نے اپنی جلتی کلائی پہ دائیں ہاتھ کی انگلیاں پھیریں۔ اس کے لمس کی حدت سے صرف کلائی ہی نہیں بلکہ جسم وجان سلگ اٹھے تھے۔ اس نے بے ساختہ بے خود ہوکر اپنی کلائی پہ اپنے جلتے لب رکھ دیئے۔ وہ اس سے بے وفائی کی مرتکب ہورہی تھی اور اپنے ہی ضمیر کی خلش اسے اذیت سے دوچار کررہی تھی بے بسی کی انتہا پہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ژ…٭…ژ
ضمائر‘ ماورا کا چچا زاد تھا۔ بہن بھائیوں میں ضمائر کا نمبر دوسرا تھا۔ اس سے بڑی عمرانہ شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھیں۔ ماورا کا بھائی حازق غصے کا تیز اور سہل پسند انسان تھا۔
’’عمرانہ بھابی اور حازق بھائی کا کیا جوڑ تھا آخر حازق بھائی میں احساس ذمہ داری تک نہیں ہے۔ ابھی تو دونوں بچے بالترتیب تین اور ایک سال کی عمر کے ہیں مگر کچھ دن بعد انہیں اسکول میں بھی داخل کرانا پڑے گا بچوں کی دیگر ضروریات اور تعلیمی اخراجات کے لیے انہیں مستقل مزاجی سے کوئی نوکری کرنی چاہیے‘ مگر وہ ہیں کہ ہر وقت چارپائی توڑنے کے علاوہ بے چاری عمرانہ بھابی کو تختہ مشق بنا کر رکھتے ہیں۔ آخر آپ بھائی کو کچھ کہتی کیوں نہیں ہیں؟‘‘ گھر میں جب بھی کبھی ہنگامہ ہوتا وہ اماں جان کے سامنے پھٹ پڑتی تھی۔ نتیجہ اماں جان اس پہ شروع ہوجاتیں‘ اگر وہ قریب ہوتی تو دو چار تھپڑوں سے بھی اس کی تواضع ہوجاتی۔
’’بڑا بھائی ہے۔ ادب لحاظ نہیں ہے اس کا‘ بھابی کی فکر ہے بہت۔‘‘ اماں جان غضب ناک ہوجاتیں۔
’’بھائی میں ایسا ہے ہی کیا جو میں فکر کروں۔ کام چور‘ مفت خور تھے وہ پہلے‘ اب جواری بھی بن جائیں گے۔‘‘ اس نے حازق کو محلے کے بدقماش اور بدنام زمانہ لڑکوں کے ساتھ دیکھا تھا لہٰذا تلملا کر بولی۔ اماں جان نے پائوں سے جوتی نکال کر اسے کھینچ ماری۔
’’چپ کر جا بے دید لڑکی۔ اپنے ہی بھائی کے خلاف بول رہی ہے۔‘‘ مگر اماں جان کی ڈانٹ پھٹکار اس کی زبان نہیں بند کرسکتی تھی۔ گھر میں غربت کے ساتھ ساتھ بے حسی وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔ ابا جان کی چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی جس پہ ابا جان کے علاوہ صرف ضمائر ہی بیٹھا کرتا تھا۔ حازق بھائی وہاں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ شہریار چچا کی عادت واطوار کم وبیش حازق بھائی جیسی ہی تھیں یا پھر حازق بھائی نے وراثت میں ہوبہو چچا جان کی عادت واطوار لے لی تھیں۔ شہریار چچا نے ساری زندگی لگ کر نوکری نہیں کی۔ مڈل تک تعلیم غربت اور تنگ دستی میں کاروبار کے خواب دیکھتے رہے اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے کہ اچانک ان کے ہاتھ کوئی جادو کا چراغ لگ جائے اور وہ راتوں رات کسی خزانے کے مالک بن جائیں مگر بدقسمتی سے ایسا کوئی جادوئی چراغ ان کے ہاتھ کبھی نہیں لگا۔ چار سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہوکر مزید چڑچڑے‘ بدمزاج اور تند خو ہوگئے تھے۔ پہلے بھی فرزانہ چچی ان کے عتاب ک انشانہ بنتی تھیں اب بھی وہ انہیں ایک ٹانگ پہ کھڑا رکھتے تھے۔ ویسے تو گھر میں اماں جان کی حکومت چلتی تھی مگر ابا جان کے آتے ہی وہ بھی سوکھے پتے کی مانند کانپنے لگتی تھیں پتا نہیں کب ابا کو کوئی بات ناگوار گزر جائے۔ ابا جان بھی تندو تیز زبان اور آتشی مزاج کے حامل تھے۔ جب تک سدرہ باجی اور فائزہ کی شادی نہیں ہوئی تھی وہ اماں جان کے سامنے زبان کھولنے سے احتراز ہی برتتی تھی مگر اب ایسا ممکن نہیں تھا۔ سدرہ باجی تو خیر اس سے بڑی تھیں‘ ان کی شادی کو آٹھ سال ہوچکے تھے۔ چار بیٹیاں تھیں ان کی جن کی وجہ سے وہ ساس اور شوہر کی ہی نہیں بلکہ دو نندوں سمیت پورے سسرال کی تنقید کا نشانہ بنتی تھیں۔ بظاہر کھاتے پیتے اور مقدور بھر دینی ودنیاوی تعلیم سے آراستہ لوگوں کو بیٹیاں بوجھ لگتی تھیں۔ سدرہ باجی قصور وار=
’’اونہہ چار چار بیٹیاں میرے بیٹے کے تو کندھے ہی اس بوجھ سے جھک گئے۔ اب کی بار اگر بیٹا نہیں ہوا تو میں اس کا فیصلہ کراکے اپنے بیٹے کی دوسری شادی کردوںگی۔ ویسے بھی یہ گھنی میسنی لڑکی مجھے پسند نہیں۔ زبان سے کچھ نہیں کہتی مگر مجھے پتا ہے ہمارے خلاف اس کے دل میں کتنا زہر ہوگا‘ میں تو پچھتاتی ہوں اس رشتے پہ‘ میرا بیٹا تو راضی ہی نہیں تھا کاش ملیحہ سے کردی ہوتی اس کی شادی‘ آج تین بیٹوں کا باپ ہوتا مگر میں نے شوہر کی بھانجی پہ اپنی بھانجی کو ترجیح دی‘ ہائے کیا ملا مجھے نیکی کا صلہ۔‘‘ سدرہ باجی کی ساس ہاتھ ملتیں‘ شوہر ماتھے پہ بل ڈالے بیٹھے رہتے۔
ڈیڑھ سال پہلے ماورا سے چھوٹی فائزہ کو نسیمہ پھوپو کے اکلوتے بیٹے کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ یہاں بھی صورت حال مختلف نہیں تھی۔ پتا نہیں بیٹے کی ماں کو کس بات کا غرور ہوتا ہے۔ ڈیڑھ سال میں فائزہ بے چاری تین چار بار ہی میکے آئی تھی۔ شادی کے دس ماہ بعد ہی اس کی گود میں بیٹا آگیا۔ ماورا کا خیال تھا شاید نسیمہ پھوپو اور ایاز بھائی خوش ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے سدرہ کے سسرال والے بیٹے کے نہ ہونے کا رونا روتے رہتے تھے مگر نہیں‘ نسیمہ پھوپو نے پوتے کی پیدائش کے بعد عقیقے کے بہانے ماورا کے خیالات پہ پانی پھیر دیا۔ بے چاری فائزہ کی خوشی بھی ملیامیٹ کردی۔ انہیں عقیقے پہ ان کے حسب منشاء تحائف سے نہیں نوازا گیا تھا ایسا ان کا اور نسیمہ پھوپو کے سسرالی رشتے داروں کا کہنا تھا۔ جبکہ ماورا اچھی طرح جانتی تھی اماں جان نے اپنی پوری پینتیس ہزار کی بی سی فائزہ کے بچے اور سسرال والوں کے لیے کپڑے وغیرہ خریدنے میں ختم کردی تھی۔ اماں جان نے یہ بی سی ڈالی ہی اس نیت سے تھی۔ ہزار روپے مہینہ‘ ماورا کو سوچ سوچ کر افسوس ہوتا تھا۔ اماں جان کس طرح پائی پائی جوڑ کر سدرہ باجی اور فائزہ کے سسرال میں لین دین کرتی تھیں مگر ان کے مزاج ہی نہیں ملتے تھے۔ آج کل وہ شدومد سے اس کے لیے جوڑ توڑ کررہی تھیں۔ اسے پتا تھا عمرانہ کی طرح چار لوگوں کو بلا کر اس کا نکاح اور رخصتی کردی جائے گی آخر یہ گھر کا معاملہ تھا۔ مگر پھر بھی اماں جان آنے والے چند مہمانوں کے کھانے اور اس کے لیے چار جوڑے اور اتنے ہی برتن خریدنے کی فکر میں ہلکان نظر آتی تھیں۔ اس کے بعد فاخرہ اور جاسرہ کے بھی ہاتھ پیلے کرنے کی فکر تھی اماں جان کو۔ چچی جان ایک بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہوچکی تھیں۔ ترانہ اپنے ماموں کے بیٹے سے منسوب تھی۔ ابرار ان کا سب سے چھوٹا بیٹا‘ ابھی دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس گھر میں ماسوائے ماورا کے کوئی یونیورسٹی تک نہیں پہنچا تھا۔ ایک تو گھر کے حالات اور تنگدستی اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی دوسرا بچوں کو خاص شوق بھی نہیں تھا۔ اماں اور چچی لڑکیوں کے زیادہ پڑھنے کے حق میں نہیں تھیں۔ حازق بھائی بڑے تھے مگر ان کا رجحان پڑھائی کی طرف نہیں تھا ۔ ضمائر کو پڑھنے کا شوق تھا مگر اس پہ گھر کی ذمہ داریاں تھیں۔ میٹرک کے بعد اس نے ٹیوشن پڑھا پڑھا کر گریجویشن تک تعلیم حاصل کی تھی۔ اباجان کی دکان پہ بھی جاتا تھا۔ ماورا کی پڑھائی کی وجہ سے وہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکا تھا گھر کے حالات اس بات کے متحمل نہیں تھے کہ وہ خود بھی پڑھتا اور ماورا کے بھی تعلیمی اخراجات اٹھاتا۔
اماں جان اور اباجان کی سخت مخالفت کے باوجود اس نے ماورا کا ساتھ دیا اور پہلے کالج اور پھر یونیورسٹی میں اس کا داخلہ کرایا۔ اس کے پاس بیچلرز کی ڈگری تھی۔ بیس ہزار سیلری۔ بوسیدہ مکان تنگ وتاریک گلیاں… گھٹا ہوا ماحول‘ اماں جان کی روک ٹوک‘ چچی جان کی تنقید گھر میں ہونے والے لڑائی جھگڑے‘ گھر کے ہر کونے سے جھانکتی غربت وہ ابتدا سے ہی اس ماحول سے بے زار تھی۔ غربت اور بے بسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کے اندھیروں میں اس کے دل میں کسی نئے جذبے کا ایک دریچہ وا ہوگیا اور دریچے سے نظر آنے والا پہلا ہی چہرہ اسے مبہوت کر گیا۔ وہ اس کے اردگرد ہی تو موجود تھا۔ ہر وقت بے حد مصروف مگر گھر کے ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنے والا‘ اباجان‘ شہریار چچا اور حازق بھائی سے بالکل مختلف‘ بے نیاز اور جفاکش… اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھا۔ وہ ماورا سے عمر میں تین سال بڑا تھا۔ اپنی عمر کے لڑکوں سے بالکل مختلف نہ ہی وہ لاپروا تھا اور نہ ہی غیر ذمہ دار۔ ماورا کو یاد نہیں تھا کہ پہلی بار کب اس نے اس کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کی اپنے دل میں موجودگی کو تسلیم کیا تھا۔ اس گھر میں کھل کر بات کرنے کی اپنی پسند ناپسند ظاہر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ماورا نے درمیانی راستہ نکال لیا وہ کم عمر ی سے ہی اپنے احساسات‘ اپنے جذبات کو لکھنے کی عادی بن گئی۔ وہ باتیں جو وہ کسی سے نہیں کہتی تھی اپنی ڈائری میں لکھ دیتی۔ اس نے کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی کسی بھی ڈائری میں اپنی باتیں تھی ہی نہیں اس کی تین چار ڈائریاں صرف ایک نام سے بھرچکی تھیں۔ ضمائر شہریار‘ وہ شخص بالکل بے خبر تھا۔ وہ محبت جو ماورا اسرار کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند تھی۔ بہت جلد ماورا کا سانس بھی لینا محال کرنے لگی۔ اس نے اپنے گھر میں موجود لوگوں کو دیکھا اور پھر باہر کی دنیا کو… حقیقت تو یہ تھی کہ وہ یہاں زندگی بھر نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اس نے شکیب اعوان سے ملنے کے بعد بہت خاموشی سے اپنی تمام ڈائریاں اٹھا کر ایک لکڑی کے صندوق میں بند کیں اور کاٹھ کباڑ سے اٹے چھوٹے سے اسٹور میں ڈال آئی۔ کاش وہ انہیں پھاڑ کر سمندر میں ڈال آتی‘ کاش وہ انہیں جلا کر ہوا برد کردیتی‘ کاش وہ نادانستگی میں انہیں سنبھال کر نہیں رکھتی۔ شکیب اعوان اس کی سہیلی شرمین کا تایازاد تھا۔ ایک بار شرمین کے گھر میں سرسری سی ملاقات ہوئی اور شناسائی کا مرحلہ شکیب اعوان کی دیوانگی نے آسان بنادیا وہ روزانہ اس کی یونیورسٹی شرمین کو پک کرنے کے بہانے آجاتا۔ وہ پاکستان میں تنہا رہائش پذیر تھا اس کے والدین اور دو بہنیں کینیڈا میں مقیم تھے۔ دونوں کے ماحول اور طبقات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ دونوں کی شناسائی دو سال قبل ہوئی تھی۔ وہ بہت تیزی سے اپنی پہلی محبت‘ پہلی خواہش ضمائر شہریار کو بھول کر شکیب اعوان کی گرویدہ ہوگئی۔ زندگی یک دم ہی پہلے سے زیادہ خوب صورت ہوگئی۔ شکیب اعوان ایک کامیاب بزنس مین کا نام تھا۔ وہ اس سے عمر میں کم وبیش دس سال بڑا تھا۔ سحر انگیز شخصیت کا مالک۔ دنیا ایک اشارے میں جس کے قدموں میں خوشیاں نچھاور کرنے کو بے تاب دکھائی دیتی تھی۔ اس کی قیمتی گاڑی‘ اس کے وجود سے اٹھتی مہنگے ترین کلون کی خوشبو۔ اس کا شستہ انگریزی لب ولہجہ اس کا کروفر اور اس کے والٹ میں رکھے کریڈٹ کارڈز اس سے متاثر ہونے کی انگنت وجوہات تھیں۔ کچھ اس کی کم عمری کا قصور تھا کچھ کم عقلی اور سطحی ذہنیت کا خاصہ… باقی کمال اس کی حقیقت پسندی نے دکھایا۔ وہ بھول گئی کہ اس کے دل کی سلطنت کا مالک و مختار کوئی اور تھا اس شہزادے کو فراموش کرکے وہ خوش آئند مستقبل کے خواب دیکھنے میں محو ہوگئی۔ ابھی پلکیں ان خوابوں کے بوجھ سے تھک کر بند بھی نہیں ہوئی تھیں اس سے پہلے سارا کھیل بگڑ گیا۔ اس کی بھولی بسری محبت کا راز طشت از بام ہوگیا۔ اس نے یک طرفہ محبت سے کچھ عرصے دل کو بہلایا پھر اکتا کر اس کتاب کو بند کردیا۔ مگر بدقسمتی سے اس کی ڈائری ضمائر کے ہاتھ لگ گئی۔ بلکہ شاید کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ اماں جان نے اسے اس دن زبردستی ترانہ کے ساتھ گھر کی صفائی میں لگادیا وہ بددلی سے کام نمٹانے لگی۔
’’ایسا کرو تم یہ گدے اور رضائیاں اسٹور میں رکھ آئو۔ ویسے بھی اب سردیاں ختم ہی ہونے والی ہیں اور یہ اضافی گدے اور رضائیاں ہیں جن کی ضرورت نہیں۔ اس نے ترانہ کی ہدایت پہ اسٹور کا رخ کیا۔ اسے صرف ٹرنک کھولنا تھا باقی گدے رضائیاں لانے کا حکم وہ ابرار کو دے کر آگئی تھی۔ اس نے سامان رکھ کر ٹرنک بند کیا‘ نگاہ اس صندوق کی طرف چلی گئی جس پہ اس نے چھوٹا سا تالا بھی ڈال رکھا تھا۔ کسی کو کیا پڑی تھی جو کھول کر دیکھتا۔ سب کا خیال تھا اس میں اس کی پرانی کورس کی کتابیں ہیں۔ وہ انہیں بھی اسی طرح سنبھال کر رکھتی تھی۔ وہیں کہیں سے اس نے چابی برآمد کی۔ سیاہ‘ بادامی اور سرخ کور والی کئی ڈائریاں اس کی آنکھوں کے سامنے موجود تھیں۔ ایک کے بعد ایک اس نے ہر ڈائری کے صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ لفظ اب تک تازہ تھے یوں بھی سال پہلے کی تو بات تھی۔ کون سی صدیاں بیت گئی تھیں۔ اس خزانے کو مقفل ہوئے۔ اماں جان کی آواز پہ وہ صندوق اسی طرح کھلا چھوڑ کر چلی گئی۔ اگر وہ نہ جاتی تو یقینا اماں جان آموجود ہوتیں۔ واپس آئی تو ضمائر کے ہاتھ میں اس کی بہت پرانی ڈائری تھی۔ اس کا دل دہل گیا۔ ضمائر کے چہرے پہ حیرانی اور لبوں پہ دل آویز تبسم تھا۔ کسے چاہے جانا اچھا نہیں لگتا اور چاہت بھی ایسی جسے کسی متاع کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھا گیا ہو۔
’’ضمائر کے لیے میں کیا محسوس کرتی ہوں لفظوں میں بتانا مشکل ہے۔ شاید میں ان سے یہ بات کبھی نہ کہہ سکوں کہ مجھے دنیا میں ان جیسا کوئی نہیں لگتا۔ کیا ایسا سوچنا ہی محبت ہے؟ ہاں یقینا کیونکہ میری نظر ان کے علاوہ کسی چہرے پہ اگر پڑبھی جاتی ہے تو دل اداس ہوجاتا ہے۔ دل چاہتا ہے ہر وقت انہیں دیکھتی رہوں۔ انہیں سوچتی رہوں اور انہیں اللہ سے مانگتی رہوں۔‘‘ بہت معصوم سا اظہار تھا‘ وہ اپنی جگہ جم کر رہ گئی۔ ہمت ہی نہیں ہوئی کہ آگے بڑھ کر ضمائر کے ہاتھ سے اپنی ڈائری لے لے۔ اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھا۔
’’سوری میں نے بلا اجازت تمہاری ڈائری پڑھ لی۔‘‘ اس نے ڈائری بند کرکے بہت شرافت سے اس کی طرف بڑھادی۔ ماورا کا دل کسی پاتال سے ڈوب کر ابھرا تھا۔
’’آپ کو مجھ سے پوچھے بغیر نہیں پڑھنی چاہیے تھی۔‘‘ اسے شدید احساس بے بسی نے غصہ دلا گیا۔ اس کی آواز ہی نہیں ڈائری کو تھامنے والے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔
’’اوکے۔ آئندہ تم سے پوچھ کر پڑھوں گا۔‘‘ اس کا انداز پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا مگر آنکھیں جیسے اس کے اردگرد روشنی کا ہالہ بننے لگی تھیں۔ وہ سرتا پا جگمگا اٹھی۔ نگاہیں کسی مجرم کی طرح جھکائے وہ شدت سے اس کے جانے کی منتظر تھی۔ وہ کچھ دیر اس کے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر جیسے اس کی حالت پہ رحم کھا کر چلا گیا۔ ماورا ریت کے مجسمے کی مانند زمین پہ گری۔ اس کی توجہ کے ایک سبک خرام جھونکے نے ماورا کی ذات کو تہہ وبالا کرکے بکھیر دیا تھا۔
ضمائر نے ماورا کی محبت پہ سر تسلیم خم کردیا تھا۔ وہ اس کی معصوم‘ پوشیدہ اور ان کہی محبت کا اسیر ہوگیا تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ماورا نے زبان سے اقرار نہیں کیا تھا وہ فقط ڈائری میں لکھے لفظوں پہ ایمان لے آیا اور پہلی ہی دستک پہ اپنے دل کا در ماورا کے لیے وا کر دیا تھا۔ وہ پورے طمطراق سے اس کے دل کی سلطنت میں داخل ہوگئی۔ اماں جان‘ اباجان‘ فرزانہ چچی اور شہریار چچا کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ ضمائر کے لیے تمام مراحل طے کرنا آسان ثابت ہوا۔ اس نے فقط ایک بار فرزانہ چچی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوراً بیٹے کا منہ چوم کر خوشی خوشی رضامندی دے دی۔ شہریار چچا کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ اماں جان پہلے ہی اس کے لیے فکر مند تھیں اس سے چھوٹی فائزہ کی شادی کو چھ ماہ گزر چکے تھے۔ اگر ماورا خود منع نہ کرتی تو اماں جان پہلے چھوٹی کی شادی کرنے کے بجائے اس کے ہاتھ پیلے کرتیں… مگر اس وقت اس نے پڑھائی کا بہانہ بنا لیا تھا۔ اماں جان تو اس کی ایک نہ سنتیں مگر ضمائر نے انہیں زبردستی اس کی شادی کرنے سے روک دیا تھا۔ اس وقت ضمائر کے ذہن میں کوئی دوسری بات نہیں تھی ماسوائے اس کے کہ اسے پڑھنے کا شوق ہے۔ اس نے شکیب اعوان سے کچھ نہیں چھپایا حالانکہ ضمائر سے نسبت طے ہوجانے پہ اس کی انگلی میں ایک چاندی کا چھلا تک نہیں ڈالا گیا تھا مگر پھر بھی اسے شکیب اعوان کو دھوکا دینا گوارہ نہیں تھا۔ اگر وہ کسی کو دھوکا دے رہی تھی تو خود کو‘ ضمائر کو۔ وہ حقیقت پسند تھی خالی محبت نہ ہی انسان کا پیٹ بھر سکتی ہے نہ ہی بلند معیار زندگی کی خواہش پوری کرسکتی ہے۔ اس نے اپنی ترجیحات کی فہرست سے محبت کو یکسر نکال دیا۔ اسے کسی نے ورغلایا یا اکسایا نہیں تھا مگر ہر کسی کو زندگی میں ایک ہی موقع ملتا ہے۔ آگے بڑھنے کا‘ بلند معیار زندگی‘ اس کی ہر خواہش کی تکمیل‘ اس کے ہر خواب کی تعبیر شکیب اعوان کے ساتھ کی بدولت لمحوں میں پوری ہوسکتی تھی۔ زندگی شکیب اعوان کی جنبش ابرو سے اس پہ مہربان ہوجاتی وہ شکیب اعوان کو گنوانا نہیں چاہتی تھی۔
ژ…٭…ژ
کون سی چیز تھی جو پورے دو سال تک اس کے پیروں کی بیڑی بنی رہی۔ ضمائر کی محبت تو ہرگز نہیں‘ اسے وہ پہلے ہی ایک صندوق میں مقفل کرچکی تھی۔ اماں جان کی عقابی نگاہیں‘ گھر کی دہلیز تک ہی اس کا پیچھا کرتی تھیں اس گھر کی دہلیز کو پار کرتے ہی ہر چیز پیچھے چھوٹ جاتی تھی۔ سارے ڈر‘ سب محبتیں اور سارے اندیشے۔ اگر کچھ ساتھ رہ جاتا تھا تو گھٹی میں ڈالی گئی اماں جان کی تربیت۔ راستے میں نظر جھکا کر چلنا‘ کسی کی طرف ہنس کر مت دیکھنا‘ اول فول دوستیاں گانٹھنے کی ضرورت نہیں‘ کسی سے زیادہ فالتو بات مت کرنا‘ وہ اتنی تابعدار کہاں تھی۔ چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں وہ چٹکی بجاتے کر گزرتی۔ اس کی ساری سہیلیاں ایک سے بڑھ کر ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ خود کو یونیورسٹی کے بعد پڑھائی کے بہانے کسی بھی سہیلی کے گھر جانے کی ترجیح دیتی تھی۔ مگر اس طرح شکیب اعوان سے ملاقات‘ وہ اس سے ہمیشہ شرمین کے گھر پہ یا پھر یونیورسٹی میں ملی تھی۔ فون پہ بات کرنا اور تنہا باقاعدہ ملنے جانا دو مختلف باتیں تھیں۔ فون پہ بھی اس نے فقط تین چار بار ہی بات کی تھی۔ وہ لاشعوری طور پر اس سے ملنے اور فون پہ بات کرنے سے اجتناب برتتی تھی۔ فون بھی اباجان نے ایک ماہ پہلے ہی اس کی ضد پہ لاکر دیا تھا۔ شکیب اعوان کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف اس نے کبھی قبول نہیں کیے تھے۔ ایک بار اس کی سالگرہ کے موقع پر اور پچھلے سال اس کا پریویس کا رزلٹ اچھا آنے پہ اس نے تحفہ دینے کی کوشش کی تھی مگر ماورا نے بلا ہچکچاہٹ اس کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر اس کے تحائف لوٹا دیئے تھے۔ شکیب اعوان اس کے رویے سے اذیت محسوس کرتا تھا۔
’’تمہیں مجھ پہ اعتبار نہیں ہے۔‘‘ وہ ہر بار یہی جملہ کہتا۔
اور وہ بے بسی سے اپنے دل کو ٹٹولتی رہ جاتی۔
ژ…٭…ژ
وہ اپنی خواہشات کے منہ زور گھوڑے پہ سوار اپنی لغزش کو اپنے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش قرار دے کر اپنے ضمیر کی چیخوں کو نظرانداز کرکے آگئی تھی۔
(اگر میں اتنی ہی بہادر ہوں تو یہاں آکر اپنے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کرنے کے بجائے ضمائر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے شادی کرنے سے انکار کرنا چاہیے تھا مجھے‘ کیا وہ میری بات نہیں سمجھتے؟ میں ان سے منسوب ہوں ان کی پشت پہ کسی اور شخص سے مل کر ان کے اعتبار واعتماد کاخون کررہی ہوں)
ہوٹل کے خواب ناک ماحول میں بیٹھ کر وہ اعصابی خلجان کا شکار ہوکر سامنے بیٹھے شخص پہ نظر تک ڈالا نا بھول گئی تھی جو بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’کیا سوچ رہی تھیں؟‘‘ کتنی دیر بعد اس نے چونک کر سر اٹھایا اور وہ جیسے منتظر تھا۔
’’آپ کو کیا بات کرنی تھی؟‘‘ وہ جلد از جلد اس لمحے سے رہائی کی خواہ تھی جو اسے کسی عفریت کی مانند خود پہ مسلط ہوتا محسوس ہورہا تھا۔
’’تم یہاں آکر خوش نہیں ہو ناں۔ میں نے زبردستی ہی تمہیں مجبور کیا؟‘‘ شکیب بے دلی سے بولا۔
’’میرے لیے یہاں آنا آسان نہیں تھا مگر اب آگئی ہوں تو پلیز آپ وہ بات کریں جس کے لیے میں نے خود کو بہت تکلیف دی ہے۔‘‘ وہ پست آواز میں گویا ہوئی۔
’’تم نے میری خوشی کے لیے خود کو تکلیف دی ہے کیا میں تمہیں اتنا عزیز ہوگیا ہوں کہ تم میرے لیے اپنی خوشیاں تیاگ سکتی ہو؟‘‘ شکیب خوش دلی سے بولا۔
’’میں آپ سے پہلی اور آخری بار اس طرح ملنے آئی ہوں اس کے بعد آپ ضد مت کیجیے گا۔‘‘ وہ اکھڑے لہجے میں باور کرا گئی۔ وہ ہنس دیا۔
’’تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو میری توجہ اور التفات پہ اپنا آپ مجھ پہ نچھاور کردیتی۔‘‘ وہ روکھی ہوگئی۔
’’میں اتنی بے وقعت ہوں اور نہ ہی معمولی۔ آپ جیسے بہت ہوں گے اس دنیا میں‘ مگر میں ماورا اسرار ہوں‘ اگر آپ میری جگہ کسی اور لڑکی کو بیٹھا دیکھنے کی خواہشمند ہیں تو اس لڑکی کو ساتھ لے کر آتے‘ مجھے لاکر یہ گھٹیا بات کہنے کا مطلب کیا ہے؟‘‘ وہ بھڑک اٹھی۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم جیسی لڑکی کوئی اور نہیں ہے۔ ماورا… میں نے برسوں دربدر کی خاک چھانی ہے‘ صدیاں گزاری ہیں اس دشت کی سیاحی میں مگر تم… تم نے مجھے باندھ لیا۔ میرے قدم منجمد ہوگئے اور نگاہ ساکت اب کسی اور کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ بے ساختہ شکیب کا ہاتھ میز کی سطح پہ رکھے اس کے ہاتھ پہ آٹھہرا۔ اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اس کی پیشانی پہ پسینے کی بوندیں چمک اٹھیں۔ ہوٹل کی سرد‘ دلفریب اور راحت بخش فضاء میں اس کی پیشانی پہ چمک اٹھنے والیں بوندیں اسے خود گھبراہٹ میں مبتلا کر گئیں۔ یہ گھبراہٹ کوئی روایتی شرم وحیا کے زیر اثر اس پہ وارد نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی بدحواسی کی وجہ شرمندگی اور اندر اٹھنے والی ناگواری کی شدید لہر تھی۔ کل رات ضمائر شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور اس وقت اس کے دل کی کیفیت یکسر مختلف تھی۔ وہ فوراً کھڑی ہوگئی۔
’’کیا ہوا تم ابھی ابھی تو آئی تھیں؟‘‘ شکیب حیران رہ گیا۔
’’کہاں یہ لمحات تو صدیوں پہ محیط لگ رہے ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں‘ خوشگوار وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے اور مشکل وقت ٹھہر سا جاتا ہے۔ اس نے شکیب اعوان کی لفٹ کی پیشکش مسترد کردی۔ دل کا سکون غارت ہوگیا تھا۔ اس کی روح ان دیکھے بوجھ تلے دب گئی تھی۔ اس کی حالت کسی چور جیسی تھی۔ گھر آنے کے بعد اس نے گھنٹوں کسی سے آنکھ ملا کر بات نہیں کی اور ضمائر کے آنے سے پہلے وہ طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے کمرے میں بند ہوگئی مگر چھوٹے سے گھر میں آوازیں دروازوں کے پیچھے دب نہیں جاتیں۔
ضمائر اماں جان سے اسی کے متعلق پوچھ رہا تھا۔ ترانہ نے اسے آتے ہی بتادیا تھا کہ ماورا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
’’اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو میں اسے کلینک لے جاتا ہوں۔‘‘ وہ متفکر ہوا۔ اس کی بھاری مردانہ آواز ماورا کے اعصاب پہ کوڑے برسانے لگی اس نے کھینچ کر تکیہ اپنے سر پہ رکھ لیا دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال لیں مگر دل چیخ چیخ کر اسے بے وفا اور بے اعتبار گردان رہا تھا۔ حالانکہ اس نے کون سا ضمائر سے وعدے کیے تھے‘ مگر محبت تو کی تھی ناں اور اگر وہ یہ بات فراموش کرچکی تھی اور اس کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی تو بھی وہ اس سے منسوب تھی اور یہ بات نظر انداز کرنا اس کے لیے مشکل ترین تھا۔
ژ…٭…ژ
’’میری شادی‘ اس طرح اچانک ایسا کیسے ممکن ہے اماں جان۔ کیا عمرانہ بھابی واقعی سچ کہہ رہی ہیں؟‘‘ وہ بھاگم بھاگ اماں جان کے پاس آئی تھی۔ اس کی واپسی یونیورسٹی سے ابھی ہوئی تھی اور اس خبر نے اس کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ اماں جان اس کی زبان کی رفتار سے عاجز تھیں گھور کر دیکھا۔
’’توبہ ہے لڑکی کچھ حیا و شرم بھی ہے تم میں۔‘‘ اماں جان نے فرزانہ چچی اور ان کے لخت جگر ضمائر کی موجودگی کا احساس دلانہ چاہا مگر اسے کسی کی پروا نہیں تھی۔
’’اماں جان‘ ابھی تو میرے امتحان بھی نہیں ہوئے۔ ابھی سے اور آپ…‘‘ وہ ضمائر سے مخاطب ہوئی۔ ’’آپ نے تو کہا تھا ابھی شادی کی بات نہیں ہوگی۔ ترانہ کی شادی سے پہلے تو بالکل نہیں۔‘‘ اس نے کان میں پڑ جانے والی باتوں پہ باز پرس شروع کردی۔ براہ راست اس موضوع پہ ضمائر سے بات ہی کب ہوئی تھی۔ اماں جان دانت پیستی رہ گئیں۔
’’ترانہ کی شادی بھی ہوجائے گی کچھ دنوں بعد۔ ہماری شادی ہونا تھی ابھی سہی۔ کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘ وہ اس کی وسیع النظری کی قائل تھی اس وقت ماورا کے استفسار اور جرأت پہ وہ مسکرا کر اسے مشکل سے دو چار کر گیا تھا۔ اماں جان کی کڑی نگاہوں کا پہرہ‘ فرزانہ چچی اور عمرانہ بھابی کی موجودگی وہ ہاتھ ملتی رہ گئی۔
’’اسے کیوں اعتراض ہوگا بھلا‘ تم دونوں کا نکاح جمعہ کے مبارک دن ہی ہوگا۔‘‘ اور درمیان میں فقط ایک دن تھا۔ اس کے سارے خواب چکنا چور ہونے والے تھے۔
’’تائی جان… اس کی مرضی سب سے زیادہ اہم ہے۔ میری مرضی سے بھی زیادہ۔‘‘ وہ مہربان تھا اور منتظر بھی۔
’’ماورا تمہاری خوشی سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘ اسے مستقل خاموش دیکھ کر وہ مزید بولا۔
’’اونہہ… اس طرح گردن پہ چھری رکھ کر مرضی پوچھی جاتی ہے۔ رشتے کے لیے عندیہ دینے سے قبل رشتہ طے کرتے وقت اور پورے سال بھر کے درمیانی عرصے میں کبھی آپ کو میری مرضی جاننے کا خیال تک نہیں آیا۔ آج زیادہ اہم ہوگئی میری مرضی۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی۔
’’لو میں نے کیا پہلے اپنی دو بیٹیوں سے پوچھ کر شادی کی ہے بھلا اور تمہاری ماں نے کون سا عمرانہ سے اس کی رضا پوچھی تھی یا ترانہ کا رشتہ طے کرتے ہوئے اس سے پوچھا یہ کہاں کی شہزادی ہے جو اس کی خوشی اور مرضی اہم ہوگئی۔‘‘ اماں جان برہمی سے بولیں۔
’’میں نے تو ترانہ اور فائزہ کے لیے کہا تھا کہ ان سے پوچھ لیں باقی آپ لوگوں نے ہی اسے اہم خیال نہیں کیا۔ یہ میرا معاملہ ہے اور مجھے ماورا کی خوشی عزیز ہے۔‘‘ ابا جان کے آجانے سے بات آئی گئی ہوگئی۔ ماورا دل مسوس کے رہ گئی۔ کیسا سنہری موقع گنوا دیا تھا اس نے‘ کاش وہ اسے کہہ دیتی۔
’’میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے شادی نہیں کرنی آپ سے۔‘‘ وہ پچھتا رہی تھی۔
ژ…٭…ژ
وہ فیصلہ کرچکی تھی اسے آگے پڑھنا تھا۔ شکیب اعوان کے ساتھ پوری دنیا گھومنی تھی۔ مصائب وآلام جھیلتے چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کے لیے محنت کرنا مشکل زندگی گزارنا اسے گوارا نہیں تھا۔ آسان اور خوب صورت ترین زندگی اس کی منتظر تھی۔ ایک پورا دن اس کی مہلت کا آخری دن گزر گیا۔ وہ یونیورسٹی نہیں جاسکی تھی اماں جان نے منع کردیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا وہ سخت پہرے میں ہے۔ رات کو اس کی شکیب سے بات ہوئی تھی۔ اس کے پاس اس صورت حال کا واحد حل کورٹ میرج تھا۔
’’جب تم میں گھر والوں سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ مجھے بھی یہ روٹھنے منانے کے جھمیلوں سے چڑ ہوتی ہے۔ مڈل کلاس فیملیز کے ٹیپیکل مسائل…‘‘ وہ سن ہی کہاں رہی تھی اس کا ذہن تو لفظ ’’ہمت‘‘ میں اٹک کر رہ گیا تھا۔
’’ٹھیک ہے ہم کل صبح کورٹ میرج کریں گے بس تمہیں گھر سے کسی طرح نکلنا ہوگا۔ باقی میرا کام ہے۔‘‘ شکیب نے چٹکیوں میں مسئلہ حل کردیا۔ کل شام اس کا نکاح تھا‘ قریبی رشتے داروں کو نکاح میں شرکت کی دعوت دی جاچکی تھی۔ محلے داروں کی شمولیت بھی لازمی تھی مگر ماورا کو کسی بات کی فکر نہیں تھی۔ اسے صبح کسی بہانے گھر سے باہر جانا تھا پھر کبھی نہ آنے کے لیے۔
ژ…٭…ژ
’’اماں جان… شرمین میری واحد قریبی سہیلی ہے‘ اگر میں نے اسے نہیں بلایا تو وہ ناراض ہوجائے گی۔ جانے دیں ناں مجھے۔‘‘ صبح وہ ماں کی منتیں کررہی تھی۔ شرمین کا گھر باقی سہیلیوں سے قریب تھا وہاں جانے کی اجازت مل سکتی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی شرمین کینیڈا میں ہے۔
’’جانے دیں بھابی… بچی ہے اس کے بھی شوق ہوںگے۔ سہیلیاں ہی رونق بڑھاتی ہیں۔ ایسے موقعوں پہ‘ جائو بیٹا تم اور ترانہ کو بھی ساتھ لے جانا اور جلدی آنا۔‘‘ چچی جان نے اجازت دے دی۔ شرمین کا گھر دو بڑی بڑی سڑکیں پار کرنے کے بعد قریباً پندرہ منٹ کی پیدل مسافت پہ تھا۔
’’ترانہ… تم ایسا کرو روبی بھابی کی طرف چکر لگالو انہیں میں نے ایک ہفتے پہلے اپنا سوٹ سینے کے لیے دیا تھا انہوں نے اب تک واپس نہیں دیا۔‘‘ اس نے بہانے سے ترانہ کو بھیج دیا۔ جب تک ترانہ واپس گلی میں نہیں مڑ گئی ماورا اس وقت تک کھڑی دیکھتی رہی اور جب اس کی تسلی ہوگئی کہ ترانہ چلی گئی وہ خود بھی تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی کھلی سڑک پہ آگئی اس نے ایک سڑک پار کی تھی دوسری طرف شکیب کی گاڑی موجود تھی وہ اس میں جابیٹھی۔
ژ…٭…ژ
وہ خستہ حال گھر‘ تنگ وتاریک بوسیدہ گلیاں‘ اماں جان کے اندیشے‘ روک ٹوک اور تربیت‘ اباجان کا غصہ اور ایک پرانی صندوق میں بند محبت وہ ہر چیز پیچھے چھوڑ آئی تھی۔
’’آخر تمہیں میری محبت پہ یقین آہی گیا۔‘‘ شکیب اعوان نے جتایا۔
’’مجھے ابھی تک اپنی جرأت پہ یقین نہیں آرہا۔ مجھے یقین نہیں آرہا میں ان سب کو چھوڑ کر آگئی ہوں مگر میرے پاس اس کنوئیں سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں سدرہ باجی‘ عمرانہ بھابی اور فائزہ نہیں تھی۔ نہ ہی مجھ میں ان سب جیسی برداشت اور صبر…‘‘ اس نے خود کو تاویل دی۔
’’کہاں جارہے ہیں ہم؟‘‘ اس نے سوچوں سے پیچھا چھڑا کرپوچھا۔
’’میرے گھر… میں نے وہاں ہمارے نکاح کے تمام انتظامات کردیئے ہیں۔‘‘ شکیب نے اطمینان سے بتایا۔
’’مگر گھر پہ…‘‘ وہ شش وپنج کا شکار وہاں جانے سے گریزاں تھی۔
’’تمہیں مجھ پہ اعتبار کرنا پڑے گا ماورا۔‘‘ شکیب کڑے لہجے میں بولا۔ ماورا کے ماتھے پہ بل پڑگئے۔
’’انسان اعتبار اور محبت جیسی چیزوں کے لیے اپنے دل کو مجبور نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ برہمی سے بولی۔ موبائل پہ ہونے والی وائبریشن نے اسے چونکایا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل پہ آنے والے میسج کو یکھا۔
آسماں میری نظر میں کلبہ تاریک ہے
گر نہ دیکھوں تجھ کو اے چشم وچراغ زندگی
حسب سابق ضمائر کا میسج تھا۔ اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ گاڑی تیزی سے منزل مقصود کی جانب گامزن تھی۔ پیچھے رہ جانے والے راستے اور مناظر معدوم ہوتے جارہے تھے۔ سامنے کے تمام راستے بے حد واضح اور شفاف تھے۔
ژ…٭…ژ
’’کہاں تھیں تم آخر؟ اماں جان اور تائی جان نے میری دوڑیں لگوا دیں۔ ترانہ کو بھی تم ساتھ لے کر نہیں گئیں اور کیا نام ہے تمہاری سہیلی کا ہاں شرمین… اس کے گھر کا کوئی فرد بھی گھر پہ موجود نہیں ہے۔ غالباً وہ لوگ اپنے کسی عزیز کے ہاں گئے ہوئے ہیں۔‘‘ وہ اسے سڑک کے اس پار ملا تھا۔ وہ شرمین کے گھر سے پلٹ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر اپنی بائیک روک لی۔ شکر تھا کہ وہ بہت پہلے ہی رکشے سے اتر گئی تھی۔ طویل راستہ پیدل طے کرنے کی وجہ سے نہیں اعصابی دبائو کی وجہ سے وہ نڈھال اور پژمردہ نظر آرہی تھی۔ جیسے صدیوں کی مسافت طے کرکے آئی ہو۔
’’کیا ہوا کہاں چلی گئی تھیں تم؟‘‘ وہ فکر مند تھا۔
’’کہیں نہیں‘ بس بے سمت چلتے چلتے بہت دور نکل گئی تھی۔ واپسی میں دیر ہوگئی۔‘‘ اس نے پست آواز میں جواب دیا۔
’’کوئی بات نہیں۔ چلو اب گھر چلیں ورنہ نکاح کے دن بھی ڈانٹ پڑ جائے گی تمہیں۔‘‘ وہ شریر وشوخ انداز میں مسکرایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ہی دھن میں آگے بڑھا مگر وہ ایک قدم بھی نہیں چل سکی۔
’’کیا ہوا ماورا؟‘‘ وہ متوحش سا مڑا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔ آنکھیں لبالب بھر گئیں۔
’’ماورا… تمہیں اعتراض ہے کیا؟ یار میں بہت جلدی کررہا ہوں ناں۔ اچھا اگر تم خوش نہیں ہو تو میں منع کردیتا ہوں۔ ابھی نہیں کرتے شادی۔ جب تم کہوگی دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس وقت۔‘‘ بے تحاشہ ٹریفک کے شور میں وہ اس کی آواز باآسانی سن رہی تھی۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں… میں خوش ہوں۔‘‘ وہ مستحکم آواز میں بولی۔
’’دل کی پوری آمادگی کے ساتھ۔‘‘ ضمائر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مزید اگلوانا چاہا۔ اس کی زبان سے کچھ سنا ہی کب تھا اس نے۔ وہ گڑبڑا کر نظر جھکا گئی۔ تیز رفتار گاڑیوں کا شور‘ راہ گیروں‘ فٹ پاتھ پہ بیٹھے دو ہٹے کٹے فقیر‘ بس کا انتظار کرتی خواتین اور سڑک کے دوسری طرف بنے کیبن والے کی موجودگی کو فراموش کیے اپنی آنکھوں میں وارفتگی سمیٹے وہ اس سے کچھ ہی فاصلے پہ کھڑا اسے مشکل میں ڈال گیا۔
’’میں آپ کو ہر بات بتانے کی پابند نہیں ہوں۔ اب چلیں سب ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں۔‘‘ وہ مدھم آواز میں بولی۔
’’ہمیں کوئی گھور گھور کر نہیں دیکھ رہا اور اگر دیکھ بھی رہا ہے تو دیکھنے دو۔ شام تک تم میری پابند ہو جائوگی‘ پھر میں تم سے اپنے ہر سوال کا جواب باآسانی اپنے طریقے سے اگلوالوں گا۔‘‘ اس کی آواز‘ اس کے انداز اور اس کی پُرتپش نگاہیں ماورا کی نظریں خودبخود اس کے قدموں سے الجھ گئیں۔ اس کے سامنے اس کی اعتماد کی چادر یونہی سرکنے لگتی تھی۔ اس کی ساری طراری دور سے ہی سلام کرکے رخصت ہوجاتی تھی۔ وہ خاموش تھی۔ ضمائر اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا تو اسے بھی اس کی تقلید کرنی پڑی۔ دل تو برسوں سے اس کا پابند تھا۔
ژ…٭…ژ
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد گام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرہ پہ کہر ہونے تک
اس نے لب کچلتے ہوئے ضمائر کا میسج پڑھا۔ (ہر خواہش پوری نہیں ہوتی اور میری سوچ میں کتنا سطحی پن ہے میں جس شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں اس سے میں نے کبھی محبت نہیں کی‘ نہ ہی کرسکتی ہوں‘ میں سمندر کو مٹھی میں بند کرنے کی خواہش میں اپنا سب کچھ سمندر برد کرنے نکل کھڑی ہوئی ہوں۔ دنیا کو جس قدر بھی حاصل کرلو کم لگتی ہے۔ سمندر کے کھارے پانی سے میری تشنگی کبھی نہیں مٹ سکتی۔ محبت‘ محبت پہ ہی قانع ہوتی ہے۔ میں اباجان‘ اماں جان اور ضمائر شہریار کی محبت کو ٹھکرا کر ان کے اعتماد کو پاش پاش کرکے کبھی خوش نہیں رہ سکوں گی) اس نے اعتراف کرتے ہی شکیب اعوان کو گاڑی روکنے کے لیے کہا تھا۔ گاڑی فوراً ہی رک گئی۔ سامنے بہت بڑا سنہری رنگ کا آہنی دروازہ تھا۔ جس کے پیچھے ایک بالکل نئی دنیا اس کی منتظر تھی۔
’’شکیب میں نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کردی۔ میں آپ کے ساتھ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی۔ میں نے اپنی اندھی خواہشات کے پیچھے خاردار راستوں پہ بھاگتے رہنے کا انتخاب خود کیا تھا مگر میں اور آگے نہیں بڑھ سکتی اپنے والدین کے اعتبار واعتماد کی دھجیاں اڑا کر‘ ضمائر تو یہی سمجھیں گے میں ایک دھوکے باز اور سطحی ذہنیت کی حامل لڑکی ہوں حالانکہ میں نے ہمیشہ صرف ان سے ہی محبت کی ہے۔‘‘ شکیب حیران رہ گیا۔
’’پاگل ہوگئی ہو تم یہاں تک آنے کے بعد واپس جانے کی باتیں کررہی ہو۔ میں تمہیں کبھی بھی ایسا نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ وہ بھڑک اٹھا۔ ماورا گھبرا گئی۔
’’ضروری تو نہیں میں چند سال بعد پچھتا کر واپس جائوں جبکہ میں اچھی طرح جان چکی ہوں میں آپ کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی اور کبھی ناں کبھی مجھے پلٹنا پڑے گا پھر ابھی کیوں نہیں۔‘‘ وہ بے خوفی سے بولی۔ گیٹ کھل چکا تھا گاڑی اندر داخل ہوگئی۔
’’پلیز شکیب… میں واپس جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کا دل کسی پرندے کی مانند اس کے سینے میں پھڑپھڑا رہا تھا جیسے کسی نے اس کی گردن پہ تیز دھار چھری رکھ دی ہو اوربس شہ رگ کٹنے ہی والی ہو۔
’’شکیب… اماں جان اور اباجان نے تمام رشتے داروں کو خبر دے دی ہے ہمارے نکاح کی‘ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا۔ عین نکاح کے دن گھر چھوڑ کر چلے جانے کا مطلب فقط بدنامی ہے۔ میرے اباجان تو مر جائیں گے یا پھر اماں جان کا گلہ دبا دیں گے۔ وہ سب کو کیا جواب دیں گے؟‘‘ وہ جیسے ابھی ابھی گہری نیند سے بیدار ہوئی تھی مگر شکیب کو پروا ہی نہیں تھی۔ اس کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا۔ سب لوگ بھول جائیں گے‘ تم پریشان نہیں ہو۔‘‘ وہ اطمینان سے گاڑی سے اتر کر دوسری طرف آیا۔ ماورا کے لیے باقاعدہ دروازہ کھولا۔ وہ متردد تھی مگر پھر گاڑی سے باہر آئی۔
’’مجھے واپس جانا ہے۔‘‘ وہ کھلے دروازے کی طرف پلٹنے لگی مگر شکیب نے اس کا بازو سختی سے دبوچ لیا۔
’’میں شرافت کا مظاہرہ کررہا ہوں اور تم ہوکے آپے سے باہر ہوئے جارہی ہو۔ تم جیسی لڑکیاں میرے ایک اشارے پہ اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ تم سے تو میں پھر بھی نکاح کررہا ہوں۔‘‘ دھڑ دھڑ دھڑ وہ چاروں طرف سے بلند وبالا پہاڑوں کو خود پہ گرتے محسوس کررہی تھی۔ یہی الفاظ اس نے ہوٹل میں ہونے والی ملاقات میں کہے تھے اور آج الفاظ ہی نہیں اس کا لہجہ اور انداز دونوں اس کی سوچ اور کردار کی پستی کے عکاس بن کر ماورا کو حقیقت کا آئینہ دکھا گئے۔ وہ پہلے دن سے اسے باہر ملنے کے لیے آمادہ کررہا تھا۔ شرمین اس کی کوئی ایسی قریبی سہیلی بھی نہیں تھی مگر اس کا رہن سہن‘ شرمین آزاد ماحول کی پروردہ تھی وہ جانتی تھی پھر وہ کیوں کر اس کی امارت اور چمک دمک کے دام میں گرفتار ہوگئی۔ اس نے بے یقینی سے شکیب اعوان کی بظاہر اجلی نکھری شخصیت کو دیکھا۔
’’چلو شاباش ضد نہیں کرو۔ یہاں تک آگئی ہو تو اب بات مان لو‘ مجھے اور انتظار نہیں کرائو۔‘‘ وہ کسی برزخ میں راہ بھول کر آگئی تھی۔ پتا نہیں اندر کوئی اور تھا بھی یا نہیں۔ پتا نہیں اس کا ارادہ نکاح کرنے کا تھا بھی یا نہیں۔ ماورا کا دل حلق میں آگیا۔ سوچیں تھیں یا طوفان… اندیشے وسوسے اس کی ذات کو تنکے سے بھی ہلکا کر گئے تھے۔
’’میری جان… میں تمہیں سب کچھ دوں گا۔ محبت‘ دولت اور وہ سب جس کی تمہیں خواہش ہے۔‘‘ وہ اپنی جگہ جم کر کھڑی تھی۔ شکیب اعوان اسے اندر کی طرف لے جانا چاہتا تھا اور جب وہ خود سے آنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئی اس نے اسے بے رحمی سے اندر کی طرف گھسیٹا۔ اس میں پتا نہیں کہاں سے اتنی طاقت آگئی تھی وہ پورا زور لگا کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے بیرونی دروازے کی سمت بھاگی۔ چوکیدار نے دروازہ اب تک پوری طرح بند نہیں کیا تھا۔ اس کی تمام تر توجہ ان دونوں کی جانب تھی۔
’’دروازہ بند کرو۔ پکڑو اسے۔‘‘ شکیب چیخا مگر چوکیدار نے اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کی۔ وہ اس وقت تک بھاگتی رہی جب تک کھلی سڑک پہ نہیں آگئی۔ پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے ایک رکشے کو روکا اور بجلی کی سی تیزی سے اندر بیٹھ گئی۔ اس نے بھاگتے ہوئے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا شکیب اس کے پیچھے آیا تھا مگر زیادہ دور اس کے پیچھے نہیں بھاگا تھا۔ اس نے رکشے میں بیٹھنے کے بعد بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ پورے راستے روتی رہی‘ اگر وہ واپسی کا فیصلہ نہیں کرتی تو اس پہ کس وقت شکیب اعوان کی اصلیت آشکار ہوتی‘ سوچ کر ہی اس کی روح کانپ اٹھی۔ شاید اپنا سب کچھ گنوا دینے کے بعد وہ اپنے والدین کی عزت کو روندنے چلی تھی۔
واپسی کے سفر میں اس کی روح تک لہولہان تھی۔ اگر وہ بچ کر واپس آگئی تھی تو اس میں اس کا اپنا کوئی کمال نہیں تھا۔ یقینا اللہ نے ہی اس کی مدد کی تھی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر اس نے زندگی کا بدترین چہرہ بھی دیکھ لیا تھا اور وہ سمجھتی تھی کہ اس کے پاس اس کے والدین کے پاس سوائے غربت کے کچھ نہیں حالانکہ اس کی قیمتی متاع اس کے والدین کا اعتبار واعتماد‘ عزت وناموس اور ضمائر شہریار کی محبت تھی‘ جسے اس نے خود صندوق میں مقفل کیا تھا اور اس نے سوچ لیا تھا وہ زندگی بھر اپنی ہر قیمتی متاع کو سنبھال کر رکھے گی۔
ژ…٭…ژ
گھر میں خوب گہما گہمی اور رونق تھی۔ اس کی دونوں شادی شدہ بہنیں آچکی تھیں۔ ان کے بچے گھر میں خوب شور مچا رہے تھے۔ بہنوئی گردن اکڑائے بیٹھے تھے۔ اماں جان کے عتاب سے اسے ضمائر نے بچا لیا تھا وہ بلاوجہ ہی اماں جان سے لپٹ گئی۔
’’اماں جان… مجھے معاف کردیں۔ بہت تنگ کرتی ہوں ناں میں آپ کو۔‘‘ وہ رقت آمیز لہجے میں بولی۔ اماں جان بھی آبدیدہ ہوگئیں۔
’’باقی دو بچیوں کو بھی رخصت کیا ہے‘ ابھی دو کو اور کرنا ہے مگر مجھے کیا پتا تھا جو میری جان سے جونک کی طرح چمٹی ہے اسے اتنی دور بھیجنا پڑے گا۔ سات سمندر پار۔‘‘ اماں جان کی بات پہ اس نے دھیان ہی نہیں دیا۔
’’تائی جان… لندن کوئی ایسا بھی سات سمندر پار نہیں… آپ جب کہیں گی میں اسے آپ سے ملانے لے آئوں گا۔‘‘ وہ ہنس دیا۔ ماورا نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اسے ترقی مل گئی ہے‘ اس کی کمپنی اسے باہر بھیج رہی ہے دو مہینے کا وقت ہے اس کے پاس نکاح کے بعد تمہارے کاغذات بھی بن جائیں گے تو تم بھی اس کے ساتھ جا سکو گی۔‘‘ سدرہ باجی نے اطلاع دی۔ وہ لب بستہ اس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ وہ گہری مسکراہٹ کے ہمراہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ماورا سر جھکا گئی۔
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
سب مہمان جاچکے تھے اور گھر کے افراد دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھک کر سوگئے تھے۔ مگر ان دونوں کی آنکھوں میں دور دور تک نیند کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ضمائر چھت کی چھوٹی سی بانڈری وال کے ساتھ پشت ٹکا کر سینے پہ دونوں ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ وہ کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔
’’تم خوش ہو۔‘‘ ضمائر کے استفسار پہ اس نے زچ ہوکر اس کی طرف دیکھا۔
’’آپ بار بار ایک ہی سوال کیوں کرتے رہتے ہیں۔ اب تو ہمارا نکاح ہوچکا ہے۔ اس سوال کا مطلب…‘‘ اس نے برہمی سے کہا۔
’’اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تمہاری خوشی کی فکر ہے۔‘‘ وہ فوراً بولا۔
’’یہ بات بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پتا ہے مجھے۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔ ضمائر ہنس دیا۔
’’میں ڈر گیا تھا تمہاری خاموشی سے‘ پتا نہیں کیوں وہم ہونے لگا تھا کہ تم خوش نہیں ہو۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’میں کیوں خوش نہیں ہوں گی۔ آپ میرے دل کی اولین خوشی اور خواہش تھے۔ آپ بھی مجھے چاہنے لگیں گے ایسا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ میں آپ کی محبت اور توجہ کے لائق تھی ہی نہیں۔‘‘ اس کی پلکیں بھیگنے لگیں۔ وہ مسکرادیا۔
’’تم کس لائق ہو یہ مجھ سے پوچھو۔‘‘ اس نے پوروں پہ اس کی آنکھوں کی نمی سمیٹ لی۔
’’یہ لندن جانے کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ وہ اس کی پُرتپش نگاہوں سے پگھلنے لگی تھی۔ گھبرا کر اس کا دھیان خود پہ سے ہٹانا چاہا۔
’’میں جس سوفٹ ویئر کمپنی میں دو سال سے کام کررہا ہوں اس کی مین برانچ لندن میں ہے۔ کمپنی کے پانچ بندوں کو وہاں اچھی کارکردگی کی وجہ سے بھیجا جارہا ہے۔ ان میں سے ایک میں بھی ہوں وہاں ترقی کے اور آگے تعلیم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ہیں۔ رہائش کا بندوبست بھی کمپنی کی طرف سے ہے۔ فیملی کو ساتھ لے جانے کی سہولت اور اجازت بھی۔ سارا خرچا کمپنی برداشت کرے گی۔ لہٰذا میں نے وقت ضائع کیے بغیر فوراً نکاح کی ضد کی تاکہ تمہیں اپنے ساتھ لے جاسکوں۔‘‘ وہ خوش دلی سے بولا۔
’’پہلے کیوں نہیں بتایا تھا آپ نے؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’یار… تم قابو ہی کب آتی تھیں۔ تمہارا گریز‘ کترانا‘ گھبرانا اور شرمانا‘ اتنی اجازت ہی کب دیتا تھا بلکہ تم نے کبھی بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ دراصل ماورا اسی شرم وحیا نے مجھے تمہاری انمول محبت کا اسیر بنایا۔ مجھے تو کبھی تمہاری کسی ادا سے معمولی سا شائبہ بھی محسوس نہیں ہوا کہ تم مجھے چاہتی ہو اور مجھے تمہاری اس شرم‘ معصومیت اور محبت پہ فخر ہے اور تمہاری محبت کا علم اس ڈائری کو پڑھ کر ہوا تھا۔ میں خود تم سے اس مضبوط رشتے میں جڑ جانے کے بعد براہ راست اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا مجھے طویل انتظار کرنا پڑا۔ البتہ تمہیں تنگ کرنے کے لیے میں نے پچھلے دنوں تمہارے موبائل پہ میسجز بہت کیے ہیں‘ مگر یار اتنا تو میرا حق تھا ناں یا نہیں۔ آخر اس محبت میں تمہاری ڈائریوں کے علاوہ میری طرف سے بھی تو کچھ یادگار بلکہ رومینٹک ہونا چاہیے تھا۔‘‘
(میری حماقت مجھے ذلت کے گڑھے میں دھکیلنے والی تھی ہمیشہ کے لیے۔ تیرہ بختی کو میرا نصیب بنانے والی تھی آپ کے اس میسج نے ہی مجھے یاد دلایا تھا کہ اگر میری زندگی میں آپ نہیں ہوں گے تو میرے لیے بھی یہ دنیا تاریک اوربے کشش ہوجائے گی)
’’ضمائر میں پانی کا ایک سادہ قطرہ ہوں فقط۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ایک احساس جرم اور احساس ندامت اسے ضمائر کے سامنے آنکھ اٹھانے نہیں دے رہا تھا۔
’’فقط ایک سادہ قطرہ نہیں گوہر نایاب ہو تم۔ کچھ اسی طرح تم نے اپنی محبت سنبھال کر رکھی تھی جیسے سیپ میں بند موتی مگر اب نہیں وہ کیا کہا ہے شاعر نے کہ۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا۔
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو‘ مجھے پاگل کردو
’’ماورا… میں تمہیں بتائوں کہ میں تمہیں کس قدر چاہتا ہوں۔‘‘ اس کی آواز ماورا کا دل دھڑکا گئی۔ اس نے محجوب ہوکر پہلے نفی میں سر ہلایا پھر آہستگی سے ضمائر کا ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’ضمائر… ہمیشہ مجھ سے اتنی ہی محبت کیجیے گا۔‘‘ اس نے نظر اٹھائے بغیر کہا۔
’’جی نہیں مسز ضمائر… ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے اس محبت سے زیادہ محبت کرنی ہوگی میں اتنی ہی محبت پہ ہرگز اکتفا نہیں کروں گا۔‘‘ وہ شرارت سے بائیں آنکھ کو دبا کر بولا تو وہ مسکرادی۔
ژ…٭…ژ
ان لوگوں کو لندن آئے ہوئے تین سال ہوگئے تھے۔ سب کچھ پہلے سے زیادہ بہتر اور خوب صورت ہوگیا تھا۔ ماورا کہتی تھی۔
’’مجھے میری خواہشات سے زیادہ ملا ہے۔ اتنی محبت‘ اتنی خوشیاں کہ کبھی کبھی دامن تنگ پڑنے کا اندیشہ ہونے لگتا۔‘‘ مگر ضمائر جواباً ہمیشہ مسکرا کر کہتا۔
’’میری جان… میں اتنی پہ اکتفا نہیں کرسکتا۔ مجھے بہت ساری محبت اور خوشیوں سے اپنی اور تمہاری زندگی کو یادگار اور خوشگوار بنانا ہے۔‘‘ وہ شرم سے سرخ پڑجاتی۔ ضمائر کی محبت‘ اس کی وارفتگی اور اس کا ساتھ ماورا کے لیے کسی خوب صورت خواب سے بھی زیادہ خوب صورت حقیقت تھا۔ لندن آنے کے بعد ان کی زندگی بدل گئی تھی۔ شادی کے ڈیڑھ سال بعد ان کی زندگی میں ایک بے حد پیاری اور معصوم سی پری آگئی تھی۔ جس کا نام ضمائر نے چاہت رکھا تھا۔ وہ محنت کررہا تھا۔ وہ دونوں اپنی بیٹی کے ہمراہ تین ماہ قبل پاکستان ہوکر آئے تھے۔ نہ ہی وہ گھر تھا‘ نہ ہی وہ محلہ‘ مناسب رہائش‘ اچھا محلہ‘ گھر میں کئی سہولتوں کا اضافہ ہوچکا تھا‘ پُرسکون ماحول تھا‘ حازق بھائی نے بھی کام کرنا شروع کردیا تھا۔ ضمائر انہیں بہت سمجھاتا تھا اور ان کا ساتھ بھی دے رہا تھا۔ ضمائر بیڈ پہ پائوں پھیلائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا اس کے نزدیک اس کی بیٹی سو رہی تھی۔ چاہت کو وہ خود سے ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں کرتا تھا۔ آفس میں جو وقت گزرتا اس میں بھی وہ بار بار فون کرکے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا۔ ماورا سنگل صوفے پہ براجمان تھی۔ اس کی گود میں سیاہ کور والی ڈائری رکھی تھی۔ اس نے نکاح کے اگلے دن ہی اپنی ساری ڈائریاں نکال لی تھیں اور دوبارہ ڈائری لکھنی شروع کردی تھی۔ وہ ضمائر کو یک ٹک تک رہی تھی۔ ضمائر نے نظر اٹھا کر دیکھا مگر اس نے پلک تک نہیں جھپکی۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ماورا کے نزدیک رکھا موبائل وائبریٹ ہوا۔ اس نے چونک کر موبائل اٹھایا۔ ضمائر کا میسج پڑھ کر اس کے لبوں پہ مسکراہٹ در آئی۔ اس کی انگلیاں خودبخود موبائل کی شفاف چکنی سطح پر نظر آتے لفظوں کو چھونے لگیں۔
دلوں کو فکر دو عالم سے کردیا آزاد
تیرے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
اس نے میسج ٹائپ کرنے کے بعد ضمائر کے نمبر پہ بھیج دیا اور خود اپنی ڈائری کی طرف متوجہ ہوگئی۔
عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے
اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا
اس نے ڈائری کے سادہ صفحے پہ شعر لکھا اور پین کا آخری سرا دانتوں میں دبا کر مسکرادی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close