Aanchal Sep-17

ذرا مسکرا میرے گمشدہ

فاخرہ گل

یوں دیکھنا اس کا کہ کوئی اور نہ دیکھے
انعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھی
کم مایہ تو ہم تھے مگر احساس نہیں تھا
آمد تیری اس گھر کے مقدر سے بڑی تھی

گزشتہ قسط کا خلاصہ
اربش اپنی زندگی کے آغاز میں بہت سی مشکلات میں گھر جاتا ہے ایسے میں اجیہ کو لے کر وہ حسن کے گھر آتا ہے۔ حسن بھی یہ سب جان کر شاکڈ رہ جاتا ہے اور اپنے طور اس کی ہر ممکن مدد کرنے کا یقین دلاتا ہے لیکن اربش اس کا احسان لینا پسند نہیں کرتا ایسے میں وہ معمولی قیمت پر کرائے کا مکان حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جہاں اربش ملازمت کے حصول کی کوشش میں ناکام رہتا ہے لیکن فی الحال محنت مزدوری کے ذریعے گھریلو حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ غزنی حنین کے جذبات سے آگاہ ہونے کے بعد اس سے نکاح کا فیصلہ کرتا ہے اسے حنین کا درد اپنا محسوس ہوتا ہے لیکن وہ اپنے جذبات میں اس سے زیادہ مقدم نظر آتی ہے جبکہ وہ اپنی فطرت سے مجبور اجیہ سے بدلہ لینا چاہتا ہے اور اس بات سے فی الحال کوئی بھی آگاہ نہیں ہوتا۔ غزنی کی اس پیشکش پر حنین بوکھلا جاتی ہے دونوں کا نکاح ہسپتال میں ہوتا ہے لیکن حنین اس بننے والے نئے رشتے کے لیے خود کو آمادہ نہیں کرپاتی اور مزید وقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ غزنی شرمین سے رابطہ کرتا ہے تو اسے اربش کی والدہ اور اجیہ اور اربش کے گھر سے غائب ہونے کا پتا چلتا ہے وہ شرمین پر یہی ظاہر کرتا ہے کہ اسے ان دونوں کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں شرمین اس کے منہ سے سب سن کر شاکڈ رہ جاتی ہے لیکن غزنی کے دل میں جو ہوتا ہے فی الحال اس سے کوئی بھی آگاہی حاصل نہیں کرپاتا۔ سکندر غزنی اور حنین کے رشتے پر بے حد مطمئن نظر آتے ہیں اجیہ کی گمشدگی کے متعلق وہ پولیس والوں سے دریافت کرتے ہیں جہاں انہیں اربش کے گھر تک رسائی مل جاتی ہے‘ انسپکٹر ان کی بیٹی کی پسند کی شادی کا ذکر کرتے کیس ختم کرنے کی بات کرتا ہے اور اربش کی والدہ سے ملنے کا کہتا ہے جس پر سکندر صاحب وہاں جانے کے بجائے اربش کی والدہ کو اپنے گھر آنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ احسن اربش کو باہر جانے کی پیشکش کرتا ہے تاکہ وہ اپنا مستقبل سنوار سکے اس مقصد کے لیے وہ کسی ٹریول ایجنسی کا بھی تذکرہ کرتا ہے‘ اربش اس بات پر کسی حد تک آمادہ ہوتا ہے لیکن اجیہ اربش کے اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتی۔
اب آگے پڑھیے
ء…/…ء
رب کریم سنتا ہے ہر ماں کی بات کو
خالق بھی جانتا ہے سب اس کی صفات کو
اس کا جواب آتا ہے عرش بریں سے پھر
ماں جب کبھی پکارتی ہے پاک ذات کو
آنکھوں میں اپنے بچوں کی آنسو کو دیکھ کر
آہوں سے ہلا دیتی ہے ماں کائنات کو
بچوں کے دکھ میں ماں نہیں سوتی ہے رات بھر
اٹھ اٹھ کے انہیں چومتی ہے آدھی رات کو
یہ رات کا پچھلا پہر تھا اسپتال میں موجود اکثر مریض اور ان کی دیکھ بھال کے لیے موجود گھر کا ایک فرد تقریباً سبھی نیم غنودگی میں تھے‘ اس وقت ویسے بھی نہ تو کسی کی دوا کا وقت تھا اور نہ ہی چیک اپ کا۔ یہی وجہ تھی کہ ریسپشن پر بھی کوئی نرس موجود نہیں تھی بلکہ نائٹ ڈیوٹی پر موجود تمام نرسیں ریسپشن کے پیچھے تھے نرسز کے مشترکہ کمرے میں اونگھ رہی تھیں۔ ایسے میں حنین کی پکارتی آواز نے تو جیسے ایک دم اسپتال کی خاموشی و سوگوار فضا میں ارتعاش پھیلا دیا تھا۔
نرسز کے کمرے سے نرسز گھبرائی حالت میں باہر نکلیں تو ان کے کمروں والی قطار کے بائیں جانب موجود وارڈ میں بھی ہلچل ہوئی‘ سب گھبرا گئے تھے کہ آخر یہ اچانک ہوا کیا ہے ویسے بھی اسپتال کی تو فضا میں ہی بے یقینی کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے کب کوئی روتا ہوا ہنسے اور ہنستا ہوئے رونے لگے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
’’سسٹر جلدی آئیں… جلدی سے آئیں یہ دیکھیں میری امی… امی کی آنکھیں دیکھیں…‘‘ وہ بڑی بے تابی سے لگا تار بلا وقفہ بولتی ہی جارہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو خود بھاگ کر کسی نرس یا ڈاکٹر کو پکڑ لاتی لیکن وہ امی کو چھوڑ کر ایک لمحے کے لیے بھی کہیں نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس کا دل ویسے ہی کمزور تھا اور اب تو پے در پے ہونے والے ان اچانک اور غیر متوقع واقعات نے اسے مکمل طور پر بالکل ہی نڈھال کردیا تھا۔ اسے لاکھ سکندر صاحب سے محبت تھی لیکن وہ امی کو کھونے سے ڈرتی تھی‘ وہ اس بات کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ اگر کبھی خدانخواستہ وہ اسے چھوڑ جائیں تو… وہ اس خدشہ سے بھی دور بھاگتی تھی اور شاید اس کے دل میں چھپا یہی وہم تھا کہ وہ ایک لمحے کو بھی ان سے دور نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہیں دروازے کے بیچ کھڑی کبھی گردن موڑ کر امی کو دیکھتی تو کبھی پھر نرسز کے کمرے کی طرف رخ کرکے انہیں پکارنے لگتی اور بس اس کے بلانے کی ہی دیر تھی سبھی نرسز گھبرا کر ان کے کمرے میں آن موجود ہوئیں۔
’’کیا ہوا حنین… سب خیر تو ہے ناں؟ کیا ہوا ہے آپ کی والدہ کو؟‘‘ نرس نے آتے ہی سب سے پہلے امی کی طرف بڑھتے ہوئے حنین سے سوال کیا۔ ساتھ ساتھ وہ ان کو پہلے سے لگی ہوئی ڈرپ اور دوسری نلکیاں چیک کرنے لگی کہ کہیں ان کے ہل جانے کی وجہ سے تو حنین ان کو نہ بلا رہی ہو۔
’’سسٹر میں امی کے پاس بیٹھی ہوئی ان کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی ان سے باتیں کررہی تھی کہ اچانک میں نے ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے‘ اس کا تو مطلب یہی ہے ناں کہ امی ٹھیک ہوگئی ہیں؟‘‘ حنین حسب عادت رو رہی تھی لیکن اس کے رونے میں بھی خوشی کا عکس نظر آرہا تھا وہ آج بہتے آنسوئوں کے ساتھ مسکرا رہی تھی اس کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی جو سب نے واضح طور پر محسوس کی۔
’’واہ بھئی یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے۔‘‘ نرس نے مسکراتے ہوئے اس کی مزید ہمت بندھائی۔
’’اس کا تو مطلب یہ ہی ہے ناں کہ امی ٹھیک ہوگئی ہیں اور ہم سب کی باتیں سن رہی ہیں؟‘‘
’’بالکل‘ کیوں نہیں اس کا مطلب ہے کہ آپ کی والدہ ٹھیک ہوسکتی ہیں اور ان کا دماغ سننے اور محسوس کرنے کی حد تک کام کررہا ہے لیکن یہ تو میری رائے ہے ناں اور میں کوئی ڈاکٹر تو ہوں نہیں اس لیے مکمل بات تو ڈاکٹرز ہی بتاسکیں گے۔‘‘ نرس نے حنین کی دلجوئی اور اطمینان کی خاطر ان کا بلڈ پریشر‘ ہارٹ بیٹ اور ٹمپریچر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ان کی فائل میں درج کیا جو ان کے بیڈ کے عین اوپر دائیں طرف لگے مانیٹر پر ان کی تمام جسمانی کیفیات خودکار سسٹم کے تحت منتقل ہوئی جارہی تھیں۔
’’ تو پھر آپ ڈاکٹر صاحب کو بلائیں پلیز اور انہیں کہیں کہ آکے فوراً امی کا چیک اپ کریں۔‘‘
’’اس وقت… ابھی تو ڈاکٹر صاحب نہیں آئیں گے ناں۔‘‘ نرس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا اس وقت رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
’’کیوں نہیں آئیں گے؟ انہیں آنا چاہیے‘ امی ان کی مریضہ ہیں وہ ان کا علاج کررہے ہیں انہیں تو فوراً آنا چاہیے ناں۔‘‘
’’صرف آپ کی والدہ کا نہیں حنین‘ وہ باقی بھی تمام مریضوں کا علاج کررہے ہیں‘ اس طرح ہر مریض کی معمولی سی جسمانی تبدیلی پر وہ پانچ پانچ منٹ بعد اسپتال کے چکر نہیں لگا سکتے۔‘‘ باقی نرسز اپنے کمرے میں واپس چلی گئی تھیں۔
’’لیکن سسٹر یہ معمولی تبدیلی تو نہیں ہے ناں‘ ہم سب سمجھ رہے تھے کہ ان کا دماغ مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کے بہتے ہوئے آنسو بہت بڑی تبدیلی ہیں ان کی صحت کے لیے‘ ایسے میں تو انہیں فوراً آجانا چاہیے۔‘‘
’’بڑی تبدیلی تو بلاشبہ ہیں لیکن خدانخواستہ کچھ ایسی ناگہانی تبدیلی تو نہیں ہے ناں کہ…‘‘
’’ہے سسٹر… بہت تحیر متوقع تبدیلی تو ہے ناں‘ پلیز آپ کسی بھی طریقے سے ڈاکٹر صاحب کو بلائیں یا مجھے ان کا نمبر دیں میں خود بات کرتی ہوں۔‘‘ وہ کسی طور بھی سسٹر کی بات سمجھنے کو تیار نہ تھی اور اپنی بات پر مصر رہی کہ کسی بھی طور فوراً سے ڈاکٹر آکر اس کی امی کو دیکھے اور یہ خوش خبری سنائے کہ وہ اگلے کتنے روز میں پہلے کی طرح چلنے پھرنے لگیں گی اور جب نرس نے دیکھا کہ وہ کسی بھی طور بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے تو اس سے جھوٹ بول کر تسلی دینا پڑی۔
’’دیکھو حنین میں اس وقت کبھی بھی ایمرجنسی کے بغیر ڈاکٹر صاحب کو فون کرتی تو نہیں ہوں اور نہ ہی ان کی طرف سے مجھے اجازت ہے لیکن اب آپ کے کہنے پر اور آپ کے اصرار کی وجہ سے میں ابھی نہیں فون کرکے ان کی ساری کنڈیشن بتاتی ہوں پھر اگر تو انہوں نے خیال کیا کہ اسی وقت آنا لازمی ہے تو وہ آجائیں گے ورنہ صبح جس وقت وہ رائونڈ پر آتے ہیں نو بجے تب چیک کرلیں گے‘ ٹھیک ہے ناں؟‘‘
’’ہاں ٹھیک تو ہے لیکن آپ پلیز انہیں یہ ضرور بتائیں کہ امی ابھی رو رہی تھیں اور میں نے خود ان کے آنسو بہتے ہوئے دیکھے ہیں اور یہ بھی کہیے گا کہ ان کا دماغ ہرگز مفلوج نہیں ہوا۔‘‘ وہ بے تابی سے ایک بار پھر ساری بات دہراتے ہوئے بولی۔
’’ہاں ہاں… فکر نہ کرو میں آپ کی ساری کہی ہوئی باتیں بالکل اسی طرح دہرائوں گی‘ تب تک آپ ریلیکس ہوجائو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے امید کی کوئی کرن دکھائی۔‘‘ نرس نے مسکراتے ہوئے ایک نظر امی کو دیکھا جن کے چہرے پر انتہائی سکون تھا‘ واقعی ایسا لگتا تھا جیسے وہ خود اپنی مرضی سے آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوں اور جب ان کا جی چاہے گا وہ آنکھیں کھول لیں گی۔ ایک بار پھر نرس اسے پریشان نہ ہونے کا کہہ کر کمرے سے باہر نکلی تھی۔
حنین ایک بار پھر امی کے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی‘ ان کا ہاتھ حنین کے ہاتھ میں تھا۔ کبھی اسے چومتی کبھی آنکھوں سے لگا لیتی‘ اسے لگتا جیسے امی کہیں جاتے جاتے پھر اس کے پاس لوٹ آئی ہوں شاید اللہ کو اس کے اکیلے پن‘ سوجی ہوئی آنکھوں اور خشک ہونٹوں پر رحم آگیا تھا۔ وہ ان کا ہاتھ تھامے رکھنا چاہتی تھی شاید اس خدشے کے تحت کہ اگر جو اس نے ہاتھ چھوڑا تو کہیں وہ اسے چھوڑ کر چلی نہ جائیں‘ نہیں جانتی تھی کہ جانے کا وقت آجائے تو تھاما ہوا ہاتھ اور حتیٰ کہ پکڑے ہوئے پائوں بھی رستے کی رکاوٹ نہیں بنتے اور جانے والے چلے ہی جاتے ہیں اور جن کی اپنے پیاروں کے سنگ جینے کی مہلت باقی ہو تو پھر وہ موت کے منہ سے بھی واپس لوٹا دیئے جاتے ہیں۔حنین کی نظریں مسلسل ان کے چہرے پر تھیں نہ تو اسے کوئی نیند کا احساس تھا اور نہ ہی رو رو کر آنکھوں کے بوجھل ہونے کا‘ اسے تو بس اس بات کا سکون تھا کہ وہ امی کے پاس ہے ان کے چہرے کو دیکھ رہی ہے اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔
’’اجیہ پتا ہے تم کتنی خوش قسمت ہو؟‘‘ نانا ابو نے ایک مرتبہ پرنسپل کے آفس میں بیٹھے ہوئے اجیہ کو مخاطب کیا تو ان کی گود میں بیٹھی حنین نے سخت ناراضگی دکھائی تھی۔
’’ہاں ٹھیک ہے نانا ابو وہی خوش قسمت ہے میں تو ہوں ہی بدقسمت ناں۔ میں بابا جانی کو بتائوں گی گھر جاکر کہ آپ نے مجھے بدقسمت کہا ہے۔‘‘ اس نے منہ بسورا اور ان کی گود سے اترنے لگی مگر اس کی دی جانے والی دھمکی کچھ ایسی تھی کہ امی اور نانا ابو دونوں ہی پریشان ہوگئے تھے۔
’’ارے نہیں نہیں بیٹا… میں نے ایسا کب کہا اور بھلا بتائو کہ کیا میں ایسا کہہ سکتا ہوں؟‘‘ انہوں نے دوبارہ اسے گود میں بٹھایا لیکن اب تک اس کا موڈ بگڑا ہوا ہی تھا۔
’’دراصل کیونکہ میں بات اجیہ سے کررہا تھا ناں اس لیے اس کا نام لیا ورنہ تو ظاہر سی بات ہے ناں کہ میری دونوں شہزادیاں خوش قسمت ہیں۔‘‘
’’تو پھر میرا نام لے کر کہیں دوبارہ…‘‘ وہ اٹھلائی۔
’’لو بھئی یہ کون سی بڑی بات ہے اور جھوٹ بھی نہیں کہ ہماری حنین بہت ہی خوش قسمت ہے۔‘‘ نانا ابو نے اشارے سے اجیہ کو بات سمجھنے کا کہا اور وہ ہمیشہ کی طرح سمجھ بھی گئی۔
’’جی یہ ٹھیک بات ہوئی ناں نانا ابو‘ اب بتائیں کہ میں خوش قسمت کیوں ہوں؟‘‘ اس کے سمجھ جانے پر امی نے سکون کا سانس لیا اور سامنے کھڑی اجیہ کو پیار سے ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھالیا‘ سامنے دیوار پر لگے وال کلاک کے مطابق ابھی ان کی ملاقات مزید بیس منٹ تک جاری رہ سکتی تھی کیونکہ اب اگلا پیریڈ گیمز کا تھا اور اس میں حاضر نہ ہونے پر اجیہ یا حنین کی پڑھائی پر کوئی خاص فرق نہ پڑتا۔
’’پتا ہے میں نے تم دونوں کو خوش قسمت کیوں کہا؟‘‘ اجیہ اور حنین نے نفی میں سر ہلایا تو وہ مسکرائے امی کی طرف دیکھا اور پھر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوکر بولے۔
’’اس لیے کہ تمہاری امی تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے پاس ہیں۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی نانا ابو… اس میں کیا خوش قسمتی والی بات ہے۔‘‘ حنین نے منہ بسورا۔
’’یہ تو تم ان سے پوچھو جنہیں اپنی ماں سے دور رہنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ مسکرائے۔
’’اور تمہیں پتا ہے ناں کہ تمہارے تایا ابو اس مرتبہ حج پر جارہے ہیں؟‘‘
’’ہاں یہ تو پتا ہے۔‘‘ اپنی انگلیوں سے کھیلتی حنین نے جواب دیا۔
’’وہ اتنے پیسے لگا کر اور اتنا سفر کرکے اتنے دنوں میں حج کریں گے لیکن جن کی امی ان کے سامنے ہو وہ تو گھر بیٹے بغیر کوئی رقم لگائے حج کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اچھا…! مگر وہ کیسے نانا ابو؟‘‘
’’وہ ایسے کہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنی ماں کے چہرے کو پیار سے دیکھنے والے کو حج کے برابر ثواب عطا کیا جاتا ہے۔‘‘
’’ہیں… کیا واقعی؟‘‘ اجیہ بھی حنین کے ساتھ ساتھ حیران ہوئی۔
’’بالکل اور حج بھی وہ جو اللہ کی طرف سے سو فیصد قبول کرلیا گیا ہو۔‘‘
’’نانا ابو لیکن میں تو ہمیشہ امی کو پیار سے ہی دیکھتی ہوں۔‘‘ اجیہ نے امی کے گرد اپنے بازو لپیٹتے ہوئے کہا۔
’’تو اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی تھوڑی ہے‘ تم سو مرتبہ بھی دن میں پیار سے دیکھو گی تو سو مرتبہ ہی حج کا ثواب ملے گا۔‘‘
’’وائو امی… وائو…‘‘ حنین نے حیرت سے پہلے نانا ابو اور پھر امی کو دیکھا جو خود بھی اکثر اوقات ان دونوں کو اس طرح کی باتیں بتاتیں رہتی تھیں۔
’’واقعی میں اور اجیہ تو بہت خوش قسمت ہیں‘ کاش امی کی اور آپ کی امی بھی ہوتیں۔‘‘ بات کرتے ہوئے وہ نانا ابو کی گود سے اتر کر امی کے سامنے کھڑے ہوکر مسکرانے لگی۔ ایک دو لمحے تک تو ٹھیک تھا لیکن وہ بغیر کچھ کہے بس مسکراتی رہی تو امی کو پوچھنا ہی پڑا۔
’’خیر تو ہے… یہاں کھڑے ہوکر مسکرانے کا مطلب؟‘‘
’’اوہو امی… سمجھا کریں ناں‘ میں آپ کو پیار سے دیکھ رہی تھی۔‘‘ اس کی بات پر نانا ابو بے اختیار ہنسے تو امی بھی اپنی مسکراہٹ پر قابو نہ رکھ پائیں۔
اس وقت امی کے پاس اسپتال میں بیٹھ کر ان کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بھی حنین کو نانا ابو کی ہی بات یاد آئی تھی جس پر اس کے ہونٹ خودبخود مسکرانے لگے۔ گھڑی کی طرف دیکھا‘ ڈاکٹر صاحب ابھی تک نہیں پہنچے تھے اور اسے صرف یہ بے چینی تھی کہ ڈاکٹر ایک بار اس کے سامنے یہ کہہ دے کہ واقعی معاملہ جتنا سیریس اس نے سمجھا تھا اتنا سیریس نہیں ہے اور وہ بہت جلد گھر چلی جائیں گی۔ بار بار نرس سے پوچھنا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ایسے میں اسے سکندر صاحب کا خیال آیا اور اس کا دل چاہا کہ وہ فوراً انہیں بھی بتائے کہ امی کا کیس اتنا پیچیدہ اور خطرناک نہیں ہے بڑے ہی جوش سے وقت کی پروا کیے بغیر فون اٹھایا اور سکندر صاحب کا نمبر ملادیا‘ چند ہی لمحوں بعد اس کے کانوں میں ان کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔
’’ہاں کیا ہوا‘ کیا بات ہے؟‘‘
’’بابا جانی… امی کوئی بہت سیریس حالت میں نہیں ہیں‘ میں نے آج ان کو روتے ہوئے دیکھا ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اس کا مطلب ہے کہ جو ڈاکٹر سمجھ رہے تھے ویسا نہیں ہے اور امی بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘ اس کی آواز خوشی سے لبریز اور لہجہ پُرجوش تھا۔ سکندر صاحب نے موبائل کان سے ہٹا کر پہلے وقت دیکھا اور منہ بسور کر بولے۔
’’تم نے صرف یہ بتانے کے لیے اس وقت میری نیند خراب کی ہے؟‘‘
’’نیند خراب…؟‘‘ بابا کے بے زار سے لہجے سے اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔
’’ہاں تو اور کیا؟ یہ بات تو تم مجھے صبح بھی بتاسکتی تھیں اور میں تو ویسے بھی اٹھتے بیٹھتے دعائیں کررہا ہوں کہ وہ ٹھیک ہوجائے اور جلد از جلد گھر آئے۔‘‘
’’آپ امی کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کررہے ہیں؟‘‘ یہ بات حنین کے لیے حیرت انگیز تھی۔
’’ہاں تو اور کیا‘ ایک رات کا بل دس ہزار روپے دیا ہے کل میں نے اور یہ بھی صرف اور صرف کمرے کا‘ باقی ادویات میں جو ڈرپس اور انجکشن وغیرہ ہیں ان کا بل الگ اور ڈاکٹر کی فیس الگ… میری خون پسینے کی کمائی ہے ایک ایک پیسہ جمع کرکے میں نے یہ سیونگ کی تھیں جو ایک دن میں اتنے زیادہ دینے پڑرہے ہیں‘ میں تو کہتا ہوں کل اس نے ٹھیک ہونا ہے تو آج ہوجائے اور اگر ٹھیک نہیں بھی ہونا تو جلد ہی آر ہو جائے یا پار‘ بس اللہ بہت زیادہ دیر یہ معاملہ نہ لٹکائے کہ سالوں کی جمع پونجی دنوں میں ضائع ہوجائے۔‘‘ سکندر صاحب اس بے کار وجہ پر نیند ٹوٹنے پر اتنے برہم تھے کہ جو بھی کچھ ذہن میں تھا سب کچھ زبان سے باہر نکلتا چلتا گیا‘ ان کی باتوں نے حنین کو بہت بری طرح سے توڑ دیا تھا‘ امی کی بیماری میں سکندر صاحب کا منفی رویہ جتنے واضح انداز میں اس کے سامنے آیا تھا اس نے انہیں حنین کی نظروں میں ایک درجہ کی تنزلی کے ساتھ درجہ دوم پر اول امی کو سونپ دیا تھا‘ جس طرح وہ امی کی صحت و زندگی پر اپنی نام نہاد جمع پونجی کو ترجیح دے رہے تھے وہ حنین کے لیے تکلیف دہ تھا ویسے بھی عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی بیوی بچوں کی خوشی اور جائز خواہشات کی تکمیل پر پیسے ہونے کے باوجود خرچ نہیں کرتے ان کے پیسے پھر اسی طرح ڈاکٹروں‘ بیماریوں یا حادثات وغیرہ پر خرچ ہونے لگتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ سکندر صاحب انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ حنین تو ویسے بھی ذرا ذرا سی بات پر رونے والی تھی لہٰذا بغیر کچھ کہے فون بند کردیا اور بغیر آواز کے چند آنسو اس کے چہرے پر پھیلنے لگے اب جبکہ وہ جانتی تھی اور اسے مکمل یقین تھا کہ امی تمام آوازیں سن رہی ہیں ایسے میں وہ انہیں کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی لیکن جس شخصیت کو ہم اپنے ذہن میں اپنے دل میں سب سے اونچا مقام عطا کریں اور وہ اپنی کسی بھی بات یا عمل سے نیچے آن گرے تو بلاشبہ تکلیف ہوتی ہے اس کا دل بھی سکندر صاحب سے اچاٹ ہوگیا تھا ان کی لالچ اور کنجوسی‘ اجیہ اور امی کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ جسے پہلے وہ اپنی لاابالی طبیعت کی وجہ سے کبھی ذہن میں نہیں لاتی تھی اور اگر ایسا محسوس بھی کرتی تو ان کے حق میں خوامخوہ کی دلیل گھڑنے لگتی‘ اب اس پر ایسا واضح ہوا کہ کسی بھی دلیل کی ضرورت نہ پڑی اور وہ دل سے اتر گئے۔
بھلا ایک انسان جو اپنے ماں باپ اور گھر والوں سے صرف آپ کی خوشی کی خاطر ناطہ توڑے بیٹھا ہے‘ آپ کی ہر جائز ناجائز بات کو برداشت کررہا‘ سہہ رہا ہے اور پھر بھی آپ کے تمام امور سر انجام بھی دیتا جارہا ہے وہی اگر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو تو آپ اس کے جلد از جلد آر پار ہونے کی دعا صرف اس لیے کریں کہ آپ کا روپیہ پیسہ بچ جائے‘ حنین بے آواز آنسو بہا رہی تھی جب اس کا فون بجا‘ دوسری طرف غرنی تھا۔
عام حالات ہوتے تو شاید غزنی کے ساتھ تعلق جڑنے کے بعد اس کے یوں فون کرنے پر اس کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگتیں۔ من چاہے محبوب کا قرب حاصل ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں‘ دنیا میں رہتے ہوئے بھی لوگ خود کو کسی اور جہان کا تصور کرنے لگتے ہیں‘ زمین پر کھڑے ہوکر بھی پائوں زمین پر جمتے محسوس نہیں ہوتے اور یہ کیفیت بھی ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی اور اگر حنین کے حصے میں یہ خوش قسمتی آہی گئی تھی تو اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اسے اپنے اندر گرم جوشی ہی محسوس نہ ہوتی‘ ایسا لگتا کوئی انوکھی بات نہیں ہوئی‘ سبھی کچھ روٹین میں ہے البتہ اگر کچھ مختلف ہوا ہے تو یہ کہ امی مشکل میں ہیں اور اجیہ دور چلی گئی ہے‘ یہی دونوں احساسات اس کی تمام تر کیفیات پر حاوی تھے‘ مسلسل بجتی ہوئی بیل بند ہوکر اب دوبارہ بجنے لگی تھی‘ اس نے فون اٹھایا اور امی سے قدرے فاصلے پر ہوکر سنا۔
’’سوگئی تھیں کیا؟‘‘
’’نہیں‘ امی کے پاس بیٹھی تھی۔‘‘ اس کا دل چاہا کہ وہ غزنی کو بھی امی کی حالت میں تبدیلی کا بتائے لیکن ابھی وہ سکندر صاحب کے مزاج کی سختی کو ہی جھیل رہی تھی اور خدشہ تھا کہ اگر غزنی نے بھی اس کی خوشی کو اس طرح محسوس نہ کیا تو وہ مکمل طور پر مایوس ہی ہوجائے گی لہٰذا اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں وہ خاموش ہی رہی۔
’’کیسی طبیعت ہے ان کی‘ میرا مطلب ہے کوئی حرکت وغیرہ؟‘‘ غزنی نے خود تفصیل جاننا چاہی تو حنین نے ساری بات اسے بڑے جوش سے بتائی اور اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس سے غزنی کی آواز میں بھی اس کی طرح خوشی محسوس کی۔
’’یا اللہ تیرا شکر ہے‘ تمہیں پتا ہے حنین کہ یہ کتنی بڑی خوش خبری ہے اور اس کا مطلب کہ ان کا دماغ کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔‘‘
’’ہاں ناں مجھے بھی تو اسی بات کی خوشی ہے اور یقین کرو مجھ سے تو یہ رات گزار ہی نہیں رہی کہ کب صبح ہو اور ڈاکٹر آکر انہیں دیکھے۔‘‘ غزنی بھی اس کی خوشی میں خوش ہوا تو اسے دگنی خوشی ہوئی۔
’’سچ کہا یہ رات تو گزار ہی نہیں رہی کہ کب صبح ہو اور تمہیں آکر دیکھوں۔‘‘ بات کے آغاز میں حنین کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس انداز میں جملے کو ختم کرے گا۔ اسی لیے آخری الفاظ پر وہ چونکی اور پھر اس کی بات کا مفہوم جان کر دبے دبے انداز میں مسکرائی لیکن انجان ایسے بنی جیسے اس کی لیے تو یہ کوئی اہم بات نہ ہو۔
’’تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے آج سے پہلے کبھی مجھے دیکھا ہی نہیں ہو۔‘‘
’’چاہے ہزار بار دیکھا ہو لیکن اب تو تم بہت خاص ہوگئی ہو ناں میرے لیے‘ اس لیے دیکھنے کا بھی خاص انداز ہونا چاہیے‘ محبت اور اپنائیت بھرا۔‘‘ حنین کے ذہن میں جواب دینے کے لیے بہت سی باتیں آئیں لیکن وہ کہہ نہیں پائی وہ شاید سمجھ نہیں پارہی تھی کہ غزنی جو کچھ کہہ رہا ہے وہ واقعی دل سے کہہ رہا ہے یا بس یونہی اپنے رشتے کی ضرورت پوری کرنے کو اسے یہ سب کہنا پڑرہا ہے اور کیونکہ منگنی والے دن اسے اندازہ ہوا تھا کہ غزنی اجیہ سے محبت کرتا ہے ایسے میں وہ اپنے اور اس کے بن جانے والے تعلق پر کچھ کنفیوژ بھی تھی۔
’’چھوڑو بس رہنے دو یونہی باتیں نہ بنائو۔‘‘
’’تمہیں لگتا ہے کہ میں بس باتیں بنارہا ہوں؟ دل سے نہیں کہہ رہا؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’پتا نہیں‘ شاید ہاں‘ شاید نہیں۔‘‘ وہ اب تک کنفیوژ ہی تھی اور اس کا کوئی جواب سننے کی منتظر تھی کہ دوسری طرف سے رابطہ منقطع ہوگیا‘ بغیر کچھ وضاحت یا صفائی دیئے۔
حنین کو لگا جیسے شاید فون یونہی سگنل پرابلم کی وجہ سے بند ہوا اسی لیے دوبارہ سے کال کی لیکن اس کے دو تین مرتبہ فون کرنے پر بھی غزنی بار بار کال منقطع کرتا رہا تو وہ بوجھل دل کے ساتھ کھڑکی کے ساتھ رکھی کرسی پر ٹک گئی‘ ان چند گھنٹوں میں اس کا موڈ کئی مرتبہ بدلا تھا‘ پہلے امی کی وجہ سے مایوسی پھر حیرت‘ خوشی‘ سکندر صاحب سے بات کرنے کے بعد غصہ بے بسی‘ دل کا دکھنا‘ غزنی سے بات کرنے پر ریلیکس ہونے کا احساس‘ خوشی‘ اپنائیت کا احساس اور پھر دوبارہ دل پر وہی بوجھل پن… یہی سب سوچتے ہوئے وہیں کرسی پر بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی تھی اور ابھی سوئے ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسے لگا کوئی اس کے چہرے پر آئے بالوں کو بڑی ہی آہستگی سے پیچھے ہٹا رہا ہے‘ بال سمیٹنے والی انگلیاں اس کے چہرے سے مس ہوئیں تو اس نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں اور اپنے اس قدر قریب کھڑے غزنی کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’تم… یہاں اور اس وقت‘ خیر تو ہے ناں؟‘‘ وہ چونک کر ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی‘ ایک دم گردن موڑ کر امی کے بیڈ کی طرف دیکھا ان کا چہرہ پہلے کی طرح پُرسکون تھا۔
’’کیوں آئے ہو اس وقت؟‘‘ وہ اب تک حیران تھی کہ رات کے اس پہر جب کچھ ہی دیر میں صبح کی سفیدی رات کے اندھیرے کو مات دینے والی تھی‘ ایسے میں وہ کیوں آگیا؟ اور وہ بھی نیند کی کمی سے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ۔
’’منع ہے اس وقت آنا؟‘‘ بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
’’ہاں مریض سے ملنے کے لیے ایک مخصوص وقت ہوتا ہے۔‘‘ وہ گھبرا رہی تھی‘ اس کا یوں اس وقت آنا اس کی سمجھ سے باہر تھا اس پر اتنا سنجیدہ انداز۔
’’لیکن مریض سے ملنے آیا کون ہے‘ میں تو تم سے ملنے آیا ہوں۔‘‘
’’مجھ سے؟‘‘ اس نے حیرت سے غزنی کو دیکھا وہ واقعی سنجیدہ تھا۔
’’ہاں‘ کچھ باتیں ہیں جو میں چاہتا تھا کہ آج اور ابھی کلیئر ہوجائیں اور پھر اس کے بعد زندگی بھر ہمارے درمیان ان باتوں کی وجہ سے کوئی بحث‘ غلط فہمی یا لڑائی جھگڑا نہ ہو۔‘‘
’’ہمم…‘‘ غزنی کی باتوں کا پس منظر سمجھتے ہوئے اس نے گردن ہلائی۔
’’ادھر آئو‘ یہاں بیٹھو میرے پاس۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں ایک طرف رکھی میز کرسی کی طرف آیا‘ اسے اپنے سامنے کرسی پر بٹھایا اور خود میز پر ٹک گیا۔
’’اب ذرا بات کو وہیں سے شروع کرو جہاں فون پر چھوڑی تھی۔‘‘
’’نہیں‘ وہ بات وہیں ختم ہوگئی تھی۔‘‘ سر جھکاتے ہوئے اس نے اپنی انگلیاں مسلیں۔
’’جھوٹ مت بولو حنین‘ میاں بیوی کا رشتہ بننے کے بعد تو ہم دونوں میں پہلے سے زیادہ دوستی اور اعتماد ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے اس نئے تعلق کی بنیاد شکوے نما غلط فہمیوں پر پروان چڑھے‘ تم سوچو اس طرح کیا ہم زندگی بھر ساتھ نبھائیں گے؟‘‘ حنین نے خاموشی سے نچلے ہونٹ کو اوپر والے ہونٹ سے دبایا اور اسی طرح بیٹھی رہی جیسے اس نے بٹھایا تھا۔
’’تم کچھ کہو گی نہیں؟‘‘ حنین نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کیوں؟‘‘
’’میرے پاس کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں‘ میں کیا کہوں؟‘‘
’’میرے ساتھ تعلق جڑنا کہیں تمہارے لیے پریشانی کا باعث تو نہیں؟‘‘ غزنی کی بات پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’یہ کیسی بات کی تم نے بھلا تمہیں کیا پتا کہ تم میرے لیے کیا ہو‘ میری محبت تمہارے لیے کتنی گہری اور کتنی پرانی ہے اگر تمہیں اس بات کی خبر ہوتی تو کبھی بھی اجیہ کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔ اس کا خیال دل میں نہ لاتے‘ میرے جذبات میری محبت کو محسوس کرتے لیکن تمہیں پتا ہی نہیں کہ تم میرے لیے کیا ہو اور کتنی اہمیت رکھتے ہو۔‘‘ حنین نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دل میں سوچا۔
روح نے تم سے محبت کی ہے
دل ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں سب شہروں میں
ہر کوئی عشق کے رستوں میں نکل پڑتا ہے جیسے چاہے
یہ عجب رسم سی چل نکلی ہے
دل گھسیٹا ہی گیا گلیوں میں
خاک میں خوب ملا
چاہے جانے کی یا پھر چاہتے رہنے کی ہی عادت سی پڑی ہے دل کو
دل تو ہر بات پر رو پڑتا ہے
دل کو اپنے بھی کئی دکھ ہیں کہ جاتے ہی نہیں
دل کی آواز سے دھرتی بھی دہل جاتی ہے
لڑکھڑاتی ہوئی رہتی ہے یہ آواز کبھی
دل محبت سے‘ محبت سے بھرا رہتا ہے
لیکن اس دل میں کئی اور جگہیں ہوتی ہیں
اس میں آتی ہیں کئی صدیاں بھی
اس کی وسعت میں سمندر بھی تو آسکتے ہیں
اس میں گر تم کو بساتے بھی تو
گھل مل کہیں جاتے تم بھی
اس لیے ہم نے تمہیں روح سے اپنایا ہے
روح میں تجھ کو پرو رکھا ہے تسبیح کے دانوں کی طرح
روح تو دل سے کہیں گہری ہے
اس لیے روح نے تم سے محبت کی ہے
غزنی اس کی اپنے لیے محبت کو جانتا تھا‘ اس کی ڈائری نے کچھ بھی تو چھپا رہنے نہیں دیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اس سے صرف اس لیے سننا چاہتا تھا تاکہ اسے بتاسکے کہ اس کے ساتھ نکاح کے چند بول پڑھنے کے بعد وجود میں آئے اس رشتے سے پہلے اس کی جس کسی سے بھی جذباتی وابستگی تھی وہ اب ’’تھی‘‘ میں بدل چکی ہے۔
’’تم خوش ہو ناں حنین؟‘‘ ذرا سا جھک کر وہ اس کے قریب ہوا‘ حنین نے اپنا سر جھکا کر اثبات میں ہلایا۔
’’کوئی خدشہ‘ کوئی گلہ شکوہ‘ کوئی شکایت ہو تو ابھی بتائو‘ میں صرف اور صرف اس لیے اس وقت گھر سے اٹھ کر چلا آیا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ زندگی کا ایک نیا خوب صورت اور حسیں دور شروع کرنے سے پہلے تمہارے دل میں میرے لیے کوئی خدشہ یا شکایت ہو۔‘‘
’’نہیں‘ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘‘
’’اجیہ کے حوالے سے بھی نہیں؟‘‘ بغیر تمہید کے اس نے سیدھی اور صاف بات کرکے حنین کو چونکا دیا تھا۔
’’جھوٹ مت بولنا حنین‘ جو تمہارے دل میں ہو سچ سچ کہنا۔‘‘
’’ہاں‘ تم ٹھیک سمجھے ہو‘ ذہن میں آیا تو تھا کہ جس شدت سے تم اجیہ سے محبت کرتے ہو ایسے میں تمہاری زندگی میں بھلا میری کیا گنجائش بنتی ہے۔‘‘ حنین نے صاف بات کی تو غزنی نے گہری سانس لی۔
’’لمبی چوڑی بات نہیں کروں گا‘ یہ سچ ہے کہ اجیہ سے میں نے بہت محبت کی تھی لیکن اس نے میری محبت کی قدر نہیں کی اور میری اور میرے گھر والوں کی بے عزتی اور جگ ہنسائی بھی کی جس کی وجہ سے اب میں اس سے دوگنی نفرت کرتا ہوں۔ اتنی نفرت جتنی شاید میں نے اس سے محبت بھی نہیں کی ہوگی لیکن آج میں تمہیں یقین دلاتا ہوں حنین کہ اب تم ہی میرے لیے سب کچھ ہو‘ میری محبت‘ چاہت اور توجہ کی حق دار صرف اور صرف تم ہو اور تم ہی رہو گی۔ اب مجھے کسی کی بھی طلب ہے نہ ضرورت۔‘‘ وہ چند لمحوں کے لیے رکا‘ حنین تو یوں بھی اس کی محبت میں گرفتار تھی اب جو اس کی زبان سے اپنے لیے اس قدر محبت بھری باتیں سنیں تو بس سنتی ہی رہ گئی‘ وہ اس کے کہے ایک ایک لفظ پر یقین کررہی تھی‘ آنکھیں بند کرکے مان رہی تھی کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سو فیصد ایسا ہی ہے۔
’’اجیہ کے ساتھ اب میرا جو معاملہ ہے سو ہے لیکن میں تمہارے سامنے جو کہوں گا سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘ وہ مسکرایا اور گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کہ اب میں صرف اور صرف تم سے ہی محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔‘‘ حنین اس کے یوں دیکھنے پر جھجک سی گئی اور دل میں مان گئی تھی کہ واقعی وہ جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔
’’اب تم بھی بتائو ناں‘ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو؟‘‘ کچھ لمحوں کے توقف کے بعد اس نے شرما کر گردن ہلائی تو جیسے غزنی کے دل کو سکون مل گیا‘ ایک دوست کی حیثیت سے تو وہ اس کے قریب تھی ہی لیکن اب تو اس کی اہمیت اور مقام کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا‘ وہ یوں شرما کر سر جھکائے اسے بہت ہی پیاری اور معصوم لگی تھی لہٰذا میز سے اٹھ کر پنجوں کے بل اس کے سامنے جابیٹھا اور شہادت کی انگلی سے اس کی ٹھوڑی اٹھا کر اوپر کرتے ہوئے بولا۔
تمہارا ساتھ تسلسل سے چاہیے مجھ کو
تھکن زمانوں کی لمحوں میں کب اترتی ہے
غزنی کے قرب نے حنین کو آسمانوں تک پہنچادیا تھا‘ مسکراتے ہوئے نظریں اٹھائیں تو اس کے چہرے کو دیکھنے سے پہلے اس کی جیب سے نظر آتی اجیہ کے زیر استعمال چین نے الجھادیا۔
ء…/…ء
حسن کے مشورے پر دونوں نے بہت دیر سوچا اور ہر طرح کی باتیں اور ممکنہ حالات کو زیر غور لانے کے بعد آخرکار یہی سوچا گیا تھا کہ حسن کی اس پُرخلوص آفر اور مشورے کو شکریہ کے ساتھ انکار کردیا جائے کیونکہ فی الحال وہ اجیہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ نیا گھر‘ نیا ماحول‘ ممی کا رویہ اور پھر اس کا ان حالات میں اپنا تمام گھر بار چھوڑ کر آنا‘ اس سب کے بعد اربش کا دل ہی نہ مانتا کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلا جائے اور اگر بالفرض وہ جائے بھی تو اجیہ کو کہاں اور کس کے سہارے چھوڑے‘ آج کل کے حالات میں اکیلی لڑکی کا رہنا کس قدر مشکل ہے یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا لیکن یہ بات بھی اس سے چھپی ہوئی نہیں تھی کہ یہاں رہ کر وہ اجیہ کو زندگی کی وہ تمام سہولیات اور معیار نہیں دے سکتا تھا جو اجیہ کی خواہش تھا‘ ایسے میں اس نے فیصلے کا مکمل اختیار اجیہ ہی کو سونپ دیا اور یہ سوچ لیا تھا کہ جو فیصلہ وہ کرے گی اسے قبول ہوگا۔
’’میں تمہارے بغیر ایک پل بھی زندگی گزارنے کا نہیں سوچ سکتی اربش اور کہاں پورا ایک سال۔‘‘ اجیہ نے اس کا سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنا جواب سنا دیا تھا۔
’’لیکن میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں اجیہ کہ یہ لونگ اسٹینڈرڈ کبھی بھی تمہارا پسندیدہ نہیں رہا جو تمہیں اب میری وجہ سے اپنانا پڑا‘ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ بس دن رات محنت کرکے تمہیں جلد از جلد وہ سب کچھ دے سکوں جس کے تم خواب دیکھتی تھیں۔‘‘
’’مجھے جو کچھ بھی ملا وہ میری قسمت ہے اور مجھے اس پر کوئی شکایت بھی نہیں کیونکہ تمہاری محبت نے مجھے بے مول خرید لیا ہے اربش۔‘‘ اسے محسوس ہوا تھا کہ اربش صرف اس کی وجہ سے خود کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔
’’اور تم یقین کرو کہ تمہارے ساتھ کھائی روکھی سوکھی روٹی بھی میرے لیے کسی ریسٹورنٹ میں اکیلے بیٹھ کر کھانا کھانے سے بہتر ہے اور مجھے نہیں چاہیے کوئی بنگلہ‘ گاڑی‘ روپیہ پیسہ… مجھے ایسا کچھ بھی نہیں چاہیے اربش جو مجھے تم سے دور کردے‘ تمہیں چھوڑ کر نہ تو میں کہیں جانا چاہتی ہوں اور نہ ہی تمہیں کہیں جانے دوں گی‘ یہ بات تم اچھی طرح سن لو۔‘‘ مصنوعی خفگی کا تاثر لیے اس نے اربش کو دیکھا جو محبت پاش نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
’’سن لی محترمہ… بہت اچھی طرح سن لی۔‘‘ چہرے پر آئی اس کے بالوں کی لٹ کو پیار سے ہلکا سا کھینچتے ہوئے اس نے کہا تو وہ بھی مسکرانے لگی۔
’’لیکن جب تمہیں اس چھوٹے سے گھر میں انتہائی معمولی چیزوں کے ساتھ گزارا کرتے دیکھتا ہوں تو یقین مانو بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘‘
’’حالانکہ ہونی نہیں چاہیے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ سمجھا نہیں۔
’’مطلب یہ کہ میری تو زندگی گزری ہی ان حالات میں ہے اس لیے میں تو عادی ہوں ان سب چیزوں کی۔ ہمارا گھر گو کہ بڑا تھا بابا کے پاس پیسے بھی تھے لیکن ہمارے حصے میں شروع سے بس اتنا ہی آیا کہ کسی طرح کھینچ تان کر گزارا کیا جائے‘ اس لیے اصل مسئلہ تو تمہارا ہے کہ میری وجہ سے اتنی عیش و آرام والی زندگی چھوڑ کر یوں اس کچے پکے گھر میں رہ رہے ہو نہ وہ پہلے جیسا کھانا پینا نہ لباس۔ میرے ساتھ ان حالات میں بھی گزارا کرکے اصل قربانی تو تم دے رہے ہو اربش میرے لیے تو سب کچھ ویسا ہی ہے تقریباً۔‘‘
’’ہمم…‘‘ وہ سنجیدگی سے کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔
’’یہی تو میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے لیے سب کچھ ویسا ہی رہے جیسا پہلے تھا۔‘‘
’’یہ سب قسمت کی بات ہے‘ میں دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ چلی جائوں مجھے یہی سب کچھ ملے گا بھلا تقدیر سے بھی کوئی لڑسکا ہے کیا؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اربش کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اپنے مطمئن ہونے کا یقین دلایا وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کی وجہ سے کسی بھی قسم کے پچھتاوے کا شکار ہوکر خود کو مورد الزام نہ ٹھہرائے۔
’’میں تمہیں وہ سب کچھ لاکر دوں گا اجیہ جس کی تمہیں خواہش تھی‘ میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے ہر خواب کی تعبیر تمہارے سامنے لاکر رہوں گا۔‘‘ اجیہ کے نازک و نرم ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے ایک بار پھر عزم کا اظہار کیا۔
’’وہ تو سب کچھ ہوتا ہی رہے گا لیکن کیا خیال ہے آج گول گپے نہ کھائیں؟‘‘ اربش کے سنجیدہ موڈ کو بدلتے ہوئے اس نے اچانک اور غیر متوقع فرمائش کی تو وہ حیران رہ گیا۔
’’یہ گول گپے کہاں سے آگئے بھئی؟‘‘
’’دل چاہ رہا ہے ناں اربش… اٹھو چلو کھاکے آتے ہیں۔‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھنے کے لیے کھینچا تو وہ خوشی خوشی خود ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تمہارا دل چاہے اور میں منع کردوں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ اجیہ اس کے یوں ایک دم اٹھ کر چلنے پر بچوں کی طرح خوشی ہوگئی تھی‘ جلدی سے باہر کے دروازے کی چابیاں لیں‘ دوپٹہ سہی کیا اور ریڈی ہوگئی۔
’’چلیں؟‘‘
’’اس طرح؟‘‘ اربش نے اسے تنقیدی نظروں سے دیکھا۔
’’ہاں تو کس طرح؟‘‘ اجیہ نے خود کو دیکھا اور پھر سوالیہ نظروں سے اربش کو۔
’’ابھی تو ہماری شادی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے یار اور تم اس طرح اتنی سادگی سے جائو گی؟ بھئی کوئی میک اپ ہوتا ہے کوئی تیاری ہوتی ہے۔‘‘ اربش اسے نئی نویلی دلہنوں کی طرح سجا سنورا دیکھنا چاہتا تھا۔
’’لیکن میک اپ تو میرے پاس ہے ہی نہیں۔‘‘ روانی میں اجیہ نے کہا۔ ’’اور مجھے پسند بھی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کسی بھی قسم کے میک اپ کی کوئی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے اربش کے چہرے پر لکھی سوچ پڑھ کر فوراً سے بات مکمل کی۔
’’لیکن ہاں واقعی کپڑے تبدیل کرنے کا مجھے خیال نہیں آیا‘ وہ میں ایک منٹ میں کرلیتی ہوں۔‘‘ اربش اپنی ہی فرمائش کے بعد خود ہی خاموش ہوگیا تھا‘ اجیہ نے الماری سے کپڑے نکالے اور چند ہی لمحوں میں بدل کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’بتائو کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ فیروزی رنگ کی قمیص کے ساتھ زرد پاجامہ اور دوپٹہ میں وہ خاصی نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔
’’بہت پیاری… بہت خوب صورت۔‘‘
’’دیکھا ناں‘ میں اتنی پیاری ہوں مجھے بھلا میک اپ کی کیا ضرورت؟‘‘ وہ بچہ نہیں تھا جانتا تھا کہ اجیہ صرف اسے ایزی فیل کروانے کے لیے اس طرح کی باتیں کررہی ہے لیکن پھر بھی اسے اس کوشش کو جاری رکھنے پر کچھ ظاہر نہ کیا اور مسکرا دیا۔ شادی کے بعد سے آج پہلی مرتبہ وہ دونوں یوں ایک ساتھ باہر نکلے تھے‘ سب سے پہلے اجیہ کی فرمائش پر گول گپے کھائے گئے پھر وہ دونوں شاپنگ کرنے جا پہنچے‘ دونوں جانتے تھے کہ جیب میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ خریداری کا بوجھ اٹھاسکے۔ اس لیے اجیہ اربش کی اپنے لیے پسند کی گئی مختلف چیزوں میں نقص نکالتی اور ریجیکٹ کرتی رہی اربش کے پاس جو تھوڑے سے پیسے تھے انہیں وہ اپنے ناز نخرے پورے کروانے میں ضائع نہیں کرواسکتی تھی۔
آخر کار جب اربش کی طرف سے کچھ لینے کی ضد بڑھی اور اس کے انکار کو مسلسل دیکھا تو وہ اسے ایک میک اپ کی دکان پر لے گیا‘ دکان میں بے حد رش تھا‘ لڑکیاں مختلف پرفیوم‘ بلشر‘ لپ اسٹکس پسند کرتیں اور خرید رہی تھیں۔
’’اربش… میں نے کہا ناں کہ مجھے فی الحال کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ے اور اگر سچ کہوں تو یہ سب خریدنے کے لیے تو ہمارے پاس ساری عمر پڑی ہے‘ فی الحال ہمیں زندگی گزارنے کے لیے بھی پیسوں کی ضرورت ہے تو ایسے میں ہم یہ فضول خرچیاں برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘ آخر اسے واضح الفاظ میں بات کرنی پڑی۔
’’یہ سب خریدنے کے لیے تو عمر پڑی ہے لیکن عمر میں سے منفی ہوتے یہ دن اور یہ وقت تو دوبارہ آنے والا نہیں ہے ناں۔‘‘ اسے افسوس ہورہا تھا کہ اجیہ کو وہ کوئی بھی چیز لے کر دینے کے اختیار میں نہیں تھا‘ اسے یاد تھا کہ ممی کے ڈریسنگ ٹیبل پر ان کے لوشن‘ پرفیوم‘ لپ اسٹک اور دیگر چیزیں کتنی بڑی اور مہنگی کمپنیوں کی ہوتی تھیں‘ ان کی عادت تھی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی خریدنی ہوتی تو اربش کو ہی ساتھ لے کر جاتیں۔ اس کے بغیر انہیں کہیں جانے کی عادت ہی نہیں تھی اور اسی طرح اربش کو بھی بازاروں میں جانے کی عادت نہیں تھی‘ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ یوں بازار آیا تھا۔
اور اب یوں ایک ایک چیز کو دیکھ کر اسے خریدنے کی خواہش اپنے دل میں دباتے ہوئے اسے اپنے دل پر عجیب بھاری پن محسوس ہورہا تھا‘ وہ جس نے آج تک کبھی شاپنگ کرتے ہوئے چیزوں کی قیمتوں پر دھیان نہیں دیا تھا اب ہر چیز کی قیمت دیکھ رہا تھا اس کا بس چلتا تو دن رات محنت کرکے اجیہ کی زندگی سے یہ محرومی جو اب ممی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی نکال باہر کرتا لیکن ان سب چیزوں کے لیے وقت درکار تھا۔
’’تم کم از کم میری خوشی کے لیے ہی کچھ خرید لو۔‘‘ اور پھر اربش کا دل رکھنے کے لیے اس کے اصرار پر اجیہ نے اس دکان سے صرف ایک لپ اسٹک خریدی تھی۔
’’صرف لپ اسٹک؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’کم از کم میک اپ کی دوچار چیزیں تو اور لو تاکہ جب میں شام کو گھر آئوں تو تم مجھے سجی سنوری نظر آئو۔‘‘
’’بس ایک لپ اسٹک خریدی ہے ناں‘ اب تم دیکھنا اس کا کمال؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ اس لپ اسٹک کو صرف لپ اسٹک نہ سمجھو‘ آئی شیڈ سے لے کر بلشر تک کے سارے کام بڑے آرام سے کرلیتی ہے اور یہ میں تمہیں کرکے دکھائوں گی۔‘‘ اربش مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ تھا‘ وہ دونوں گھر جانے کے لیے بازار سے نکلے‘ اپنی مطلوبہ بس کے انتظار میں کھڑے ہونے سے پہلے ٹھیلے سے چار شامی کباب ایک پلیٹ دال‘ پودینے کی چٹنی اور نان پیک کروائے اور وہیں اسٹاپ پر ہی کھڑے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔
اربش وہاں تھا لیکن نہیں تھا… وہ اجیہ کے ساتھ باتیں کررہا تھا‘ اس کی باتوں کے جواب دے رہا تھا لیکن حقیقتاً وہ اس وقت خاموش اور کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اجیہ اس قدر باتونی نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ اتنا بول رہی تھی کہ لگتا ایک منٹ میں ہزار باتیں کرنا چاہتی ہے تو اس کے پیچھے بھی کوئی وجہ ہے اور یہ وجہ وہ بخوبی سمجھتا تھا لیکن اس نے کہا کچھ نہیں‘ اسے اس کی کوشش میں مشغول رہنے دیا اس کے سامنے سے گاڑیاں فراٹے بھرتی گزر رہی تھیں۔ وقت وقت کی بات تھی کہ آج وہ بس کے انتظار میں کب سے کھڑا تھا گو کہ حسن نے اسے اپنے گھر میں رہنے اور اپنی گاڑی استعمال کرنے پر بہت اصرار کیا تھا لیکن اس نے یہ بات گوارا نہ کی اور ویسے بھی کوئی ایک دو دن کی تو بات نہیں تھی ابھی تو اس کے سامنے ایک لمبا سفر تھا اور منزل بہت دور۔ ایسے میں وہ کسی کا بھی احسان نہیں لینا چاہتا تھا‘ اسے اجیہ کی محبت اور اپنے زور بازو پر بھروسہ تھا۔
ممی کے بغیر ایک وقت کا کھانا نہ کھانے والا اربش اب ان کے بغیر زندگی گزارنے کا عہد کرچکا تھا‘ گاڑیوں میں گھومنے والا اب بس کے انتظار میںکھڑا تھا۔ مہنگی دکانوں سے شاپنگ کرنے والا آج بازار گھوم پھر کر اگر کچھ خرید بھی سکا تو اجیہ کے لیے صرف اور صرف ایک لپ اسٹک‘ ہوٹلوں کے کھانے میں بھی صفائی اور ذائقے کے لحاظ سے بہت نکتہ چینی کرنے والا آج سڑک کنارے موجود ٹھیلے سے رات کا کھانا پیک کروائے کھڑا تھا۔ بھلا کیا وقت یوں اتنی تیزی سے ایک دم بھی بدلتا ہے‘ اس نے گہری سانس لے کر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اجیہ کو جو اس کی دلی کیفیات سے بے خبر اس کے ساتھ باتیں کررہی تھی۔
اگر بات صرف اس تک محدود ہوتی تو قابل برداشت تھی‘ وہ کسی بھی طرح کے حالات میں رہ لیتا‘ گزارا کرلیتا لیکن اجیہ سے اس نے محبت کی تھی اور وہ اسے یوں معمولی چیزوں کے لیے اپنی خواہشوں کو دباتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اسی دوران بس کے ہارن نے اپنی آمد کا احساس دلایا اور وہ دونوں گھر واپسی کے لیے بس میں سوار ہو گئے۔
ء…/…ء
واقعی ممی کو یہ معلوم ہی کب تھا کہ اربش یہ انتہائی قدم اٹھا لے گا اور یوں اجیہ کو ان پر فوقیت دیتے ہوئے سب کچھ چھوڑ جائے گا‘ انہیں تو اپنی ممتا اور اپنی محبت پر بڑا بھروسا‘ بہت مان تھا کہ اربش ان کی خوشی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا لیکن وہ اب تک اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کر پارہی تھیں‘ بوا اور شرمین کے سامنے تو خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتیں لیکن ناکام رہتیں۔ اربش کے جانے کے بعد سے نہ ان کے حلق سے نوالہ اترتا نہ آنکھوں میں نیند آتی۔ انہیں اجیہ سے سخت قسم کی نفرت ہوگئی تھی کہ جس کی وجہ سے ان کا بیٹا انہیں چھوڑ گیا تھا۔ بوا کی حالت بھی ان سے کم نہ تھی آخر انہوں نے اربش کو اپنے ہاتھوں پالا پوسا تھا‘ کیسے بھول جاتیں اسے۔ ہر ہر بات میں اس کی یادیں آتیں تو دل اسے دیکھنے اور اس سے بات کرنے کو بے چین ہونے لگتا لیکن افسوس تو اس بات کا تھا کہ اب ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہ تھا جس کے ذریعے وہ کم از کم اس کی خیریت ہی معلوم کرلیتیں یا ممی کو بتائے بغیر ہی سہی لیکن اس سے بات کرلیتیں۔ فون تک تو اس کا ممی نے رکھوالیا تھا تو پھر دوسرا بھلا کون سا ذریعہ ہوتا اور بوا اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ خود بھی اب پچھتا رہی ہیں۔ رات دس بجے ہی سو جانے والی ممی کے کمرے کی لائٹ اب ساری ساری رات جلتی رہتی‘ زیادہ بے چین ہوتیں تو کمرے سے نکل کر پورے گھر کے چکر لگانے لگتیں‘ کبھی اربش کے کمرے میں جا بیٹھتیں۔ کیا کرتیں آخر ماں تھیں۔ انا کے ہاتھوں جوش اور جذبات میں آکے اسے گھر سے نکال تو دیا تھا لیکن اسی کے لیے اب دل تڑپ رہا تھا‘ اسے دیکھنے اور اس کی آواز سننے کے بدلے اگر کوئی ان سے کچھ بھی مانگتا تو وہ دے دیتیں لیکن شرط صرف وہی کہ اجیہ کا سایہ بھی اس کے ساتھ نظر نہ آئے۔ بیٹے کے لیے چاہے وہ کتنی ہی بے قرار کیوں نہ تھیں لیکن اجیہ انہیں پھر بھی برداشت نہ تھی‘ وہی اجیہ جس کی وجہ سے ہی ان کے گھر پولیس آئی اور جس کے ابا نے اربش پر اپنی بیٹی کے اغوأ کا مقدمہ کر رکھا تھا۔ ان کا بس چلتا تو کسی بھی طرح اربش کو اجیہ کی قید سے چھڑا لاتیں لیکن اب تو وہ خود اس کے نام پتے سے نا واقف تھیں‘ انہیں احساس تھا کہ باقی سب تو ٹھیک لیکن اربش سے فون لے کر انہوں نے بہت بڑی غلطی کی تھی اگر ایسا نہ کرتیں تو کسی تیسرے فریق سے ہی فون کروا کر اس کی خیریت تو معلوم کرپاتیں لیکن فی الحال تو انہیں اجیہ کے ابا سے ملنا تھا اور اس بات پر قائل کرنا تھا کہ وہ اپنا کیس واپس لے لیں اور اربش اور اجیہ کے ہنی مون سے لوٹتے ہی وہ دونوں کے ساتھ ان کے سامنے دوبارہ حاضر ہوں گی اور اجیہ کو انہیں اپنے ہاتھوں سے رخصت کرنے کا موقع دیں گی۔
یہ صرف ان کے ذہن کا ایک پروگرام تھا اور بس‘ وہ اربش پر سے پولیس کیس ختم کروانا چاہتی تھیں باقی ہنی مون سے واپسی اور ان کے ہاتھوں سے رخصت کیے جانے والا تو بس یوں ہی وقتی قصہ تھا۔
’’بوا… آپ تیار ہوگئیں؟‘‘ وہ ساڑھی درست کرتے ہوئے کمرے سے نکلیں اور سیڑھیاں اترتے ہوئے آواز دے کر پوچھا۔
’’ہاں میں لائونج میں ہوں تم آجائو۔‘‘ انہوں نے نیچے صوفے پر بیٹھے بیٹھے جواب دیا‘ شرمین آج اپنے گھر جاچکی تھی اور وہ دونوں اجیہ کے گھر جارہی تھیں‘ پولیس اسٹیشن سے ان کی درخواست پر دو لیڈی کانسٹیبلز بھی سول کپڑوں میں بھیجی گئی تھیں جنہیں وہ اجیہ کے گھر ساتھ لے جانا چاہتی تھیں‘ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئیں تو وہ دونوں بھی بوا کے ساتھ موجود تھیں‘ ممی کے آتے ہی روانگی کے لیے اٹھ گئیں۔
ممی کو چونکہ جگہ کا معلوم نہیں تھا اس لیے لیڈی کانسٹیبلز نے انہی کی گاڑی میں بیٹھ کر رستہ سمجھانا شروع کیا‘ طے یہی پایا تھا کہ ممی اور بوا گھر کے اندر جائیں گی اور آرام و سکون سے تمام بات چیت کریں گی تب تک وہ ان کا باہر ہی انتظار کریں گی اور اگر انہیں مناسب لگا یا ضرورت محسوس ہوئی تو اندر چلے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ممی جیسے جیسے گاڑی ڈرائیو کرکے اجیہ کے گھر کے نزدیک ہوتی جارہی تھیں انہیں یاد آرہا تھا کہ اس دن اربش کے ساتھ کتنے جوش و خروش سے وہ سب انہی رستوں پر اس کا رشتہ لینے آئے تھے کہ شرمین کے بھتیجے کے گم ہوجانے کے باعث باہر سے ہی گاڑی واپس موڑنا پڑی لیکن آج ایسا نہ تھا۔
مین سڑک سے ملتی یہ ایک کشادہ گلی تھی جس کے دائیں بائیں پرانی طرز کے مگر بڑے بڑے مکانات بنے ہوئے تھے۔ گلی اتنی کشادہ تھی کہ ایک ساتھ دو گاڑیاں آرام سے گزر جاتیں‘ گلی کے ذرا سا اندر جاکر پولیس کانسٹیبلز نے ممی کو گاڑی روکنے کا کہا۔
’’بس یہ دائیں طرف والا گھر ہی اجیہ کا ہے۔‘‘ ممی نے گاڑی کو روکا اور ہمت کرکے بوا کو دیکھا وہ کچھ پڑھتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
’’ابھی آپ دونوں گاڑی میں ہی تشریف رکھیں‘ پہلے ہم خود جائزہ لے کر آتے ہیں گاڑی گھر سے چار پانچ فٹ کے فاصلے پر کھڑی کی گئی تھی‘ دونوں اہلکار گاڑی سے اتر کر گھر کے سامنے کھڑی ہوگئیں اور بیل بجانے کے بعد گیٹ کھلتے ہی اندر داخل ہوگئیں۔
’’کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اربش جس کی بچپن میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے کبھی شکایت نہ آئی‘ اس پر کوئی اغوأ کا کیس کردے گا‘ بس بوا آپ دعا کریں کہ اس کا باپ مان جائے اور پھر کہیں سے میرے بیٹے کا بھی کوئی سراغ مل جائے۔‘‘ بوا نے سر ہلایا۔ وہ نکاح کے روز اربش کے ساتھ بھی یہاں آئی تھیں اور اس کے بعد آج بھی اسی طرح ہی پریشانی میں آنا پڑا تھا‘ وہ مسلسل تسبیح اور دعا میں مصروف تھیں کہ تمام معاملہ آسانی سے حل ہوجائے۔
’’محترمہ آجائیں۔‘‘ اس آواز پر ممی نے بوا سے ساتھ چلنے کو کہا لیکن انہوں نے وہیں بیٹھ کر دعا مانگنے اور تسبیح کرنے کو ترجیح دی‘ ممی گاڑی سے اتر کر گھر کی جانب جانے لگیں تو ایک اہلکار نے کہا۔
’’آپ کی بوا نہیں جائیں گی آپ کے ساتھ؟‘‘
’’نہیں‘ وہ گاڑی میں ہی بیٹھیں گی۔‘‘ ممی نے کہا۔
’’تو ہم دونوں بھی گاڑی میں ہی بیٹھتی ہیں‘ آپ آرام سے بات کرلیں جاکر اور یہ موبائل لے جائیں‘ اگر اندر کوئی مسئلہ ہوا تو صرف اس ہرے بٹن کو دبا دیجیے گا ہمیں پتا چل جائے گا ویسے بہت سلجھے ہوئے اور انتہائی شریف النفس ہیں‘ ہمیں امید ہے کہ معاملات آسانی سے طے پاجائیں گے۔‘‘ ایک خاتون اہلکار نے ہاتھ میں پکڑا موبائل ان کی طرف بڑھایا جسے لے کر وہ گھر کے کھلے ہوئے گیٹ میں بڑے اعتماد سے داخل ہوئیں۔
ء…/…ء
چند دن کی کوششوں اور دیہاڑیاں لگانے کے بعد آخرکار اربش کو ایک عارضی نوکری مل ہی گئی تھی‘ یہ ایک جوتوں کی دکان تھی جہاں ضرورت برائے سیلز مین کا بورڈ لگا دیکھ کر اس نے خود ہی ان سے بات کی تھی۔
’’پہلے بھی کہیں نوکری کرچکے ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’جی نہیں‘ یہ پہلی مرتبہ ہے۔‘‘
’’کوئی گارنٹی… مطلب کوئی ایسا شخص جو تمہارا ضامن بن سکے؟‘‘
’’جی نہیں‘ کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’تو پھر تمہیں کس بھروسے پر نوکری دے دیں؟‘‘
’’آپ مجھ پر اعتبار کریں‘ میں آپ کے یقین کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائوں گا۔‘‘
اور یوں چند لمحے سوچنے کے بعد وہ اسے سیلز مین رکھنے پر تیار ہوگئے‘ یہ کوئی برانڈڈ دکان نہیں تھی بلکہ ایک درمیانے درجے کی دکان تھی جو مختلف کمپنیوں کے جوتے اپنی دکان پر لاکر بیچا کرتے‘ اسے ماہانہ صرف چار ہزار روپے پر نوکری دی گئی تھی جسے اربش نے فی الحال قبول کرلیا تھا سوچا یہی تھا کہ ساتھ ساتھ کسی دوسری نوکری کی تلاش بھی جاری رکھے گا لیکن ہمیشہ وہی تو نہیں ہوتا جو انسان چاہتا ہے بلکہ کبھی کبھار تو سب کچھ اتنا غیر متوقع ہوجاتا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ سب ہوکیا رہا ہے؟ اور اس سب میں اب کرنا کیا چاہیے کچھ ایسا ہی اربش کے ساتھ بھی ہوا تھا۔
آج کل دکان پر باقی بازار کی طرح بے حد رش تھا‘ آج بھی صبح سے مختلف کسٹمرز کا آنا جانا لگا ہوا تھا اور سیل بہت اچھی ہورہی تھی جب دکان کے مالک کو کسی کام سے دکان سے باہر جانا پڑا۔ وہ باقی سیلز مینز کی طرح کسٹمرز کو بہتر سے بہترین طریقے سے ڈیل کرنے کی کوشش تو کررہا تھا لیکن ظاہر ہے کہ ابھی اس میں ان کی طرح پرفیکشن نہیں تھی‘ نہ جوتوں کی کوالٹی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے آتے نہ کسٹمرز کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرنی آتی تھیں ایسے میں وہ ہوگیا جو اس کے لیے کسی بھی طور قابل برداشت نہیں تھا۔ دکان کے کائونٹر سے پیسے چوری ہوگئے تھے‘ کس نے کیے‘ کیسے کیے اور کس وقت کیے یہ کوئی نہیں جانتا تھا البتہ اتنا تھا کہ دکان کا مالک سب پر برس رہا تھا‘ فرداً فرداً سب سے بات کرتا‘ چوری شدہ پیسوں کے متعلق پوچھتا اور کوئی سرا نہ ملنے پر گالیاں دینے لگتا لیکن جیسے ہی اربش کو اس نے غصے میں بات کرتے ہوئے پہلی گالی دی‘ اربش نے اس کا منہ دبوچ لیا اور دوسری مرتبہ گالی دینے کی صورت میں گردن مروڑ دینے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔ ساتھ کام کرنے والوں میں سے کوئی بھی اسے چھڑوانے کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا اور بڑھتا بھی کیوں‘ سبھی اس شخص سے بے زار لیکن بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور تھے ورنہ وہ جس طرح کا سلوک روا رکھتا تھا کوئی بھی اس کے پاس کام نہ کرتا۔ اربش کی طرف سے اس شدید ردعمل کے بعد اس نے وہیں کھڑے کھڑے اسے کام سے نکال دیا تھا اور آئندہ کبھی اس طرف کا رخ بھی کرنے سے سنگین نتاؓج بھگتنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے کسی ایسی جگہ کام کرنے کا جہاں انسان کو انسان ہی نہ سمجھا جائے۔‘‘ اربش نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اسے کہا۔
’’انسان بنے گا تو سمجھا جائے گا ناں‘ چل نکل یہاں سے اور آج کے بعد اگر میری دکان کے آس پاس بھی نظر آیا تو دیکھنا میں تیری ٹانگیں تڑوادوں گا۔‘‘ اس نے بھی دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’پیسے نکالو میرے۔‘‘ اربش نے کہا۔
’’کون سے پیسے؟‘‘
’’وہی پیسے جو میری حق حلال کی کمائی کے ہیں‘ جتنے دن میں نے تمہارے پاس کام کیا ہے ان دنوں کے پیسے مانگ رہا ہوں تم سے۔‘‘ اربش نے لفظ چبائے۔ ’’جو تمہیں دینے پڑیں گے کیونکہ یہ میرا حق ہے‘ میں تم سے خیرات نہیں مانگ رہا۔‘‘
’’ہاہاہا‘ خیرات تو میں تم جیسوں کو دیتا ہی نہیں ہوں۔‘‘ وہ قہقہہ لگا کر یوں ہنسا جیسے کوئی لطیفہ سنایا گیا ہو۔
’’چلو چلو نکلو یہاں سے اور اپنا رستہ ناپو۔‘‘
’’میں اس طرح نہیں جائوں گا جب تک کہ مجھے پیسے نہیں ملیں گے۔ میں نے محنت کی ہے‘ کام کیا ہے تمہارے پاس۔ تم یوں میری حق حلال کی روزی ہڑپ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ تم نے میرے پاس کام کیا ہے؟ ہونہہ یقینا کوئی نہیں لیکن یاد رکھنا میرے پاس کئی ثبوت مل جائیں گے اس بات کے کہ میری دکان سے رقم تم نے ہی چرائی ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر رعونیت اور انداز میں ہٹ دھرمی تھی۔
’’میں تمہارے خلاف کیس کروں گا کہ تم مجھے میری مزدوری نہیں دے رہے ہو میں… میں پولیس اسٹیشن جائوں گا لیکن تم سے پیسے لے کر رہوں گا‘ دیکھنا تم۔‘‘ اربش اس وقت شدید غصے میں تھا وجہ یہ بھی تھی کہ اب تک ان کے پاس جو رقم تھی وہ آہستہ آہستہ خرچ ہوتی جارہی تھی اور اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر یہاں سے اسے اس کی محنت کی ادائیگی نہ کی گئی تو وہ گھر کیسے چلائے گا اور اجیہ کو کیا جواب دے گا۔
’’جائو شاباش جائو‘ کیس کرنے کا شوق بھی پورا کرلو‘ لگتا ہے پاکستان سے کہیں باہر کھڑا ہے جو مزدوری نہ ملنے پر کیس کرنے کی دھمکی د ے رہا ہے۔ پاکستان میں رہتا ہوتا تو کبھی یہ دھمکی نہ دیتا۔‘‘ اس نے گہرے طنز کے ساتھ اسے غصہ دلایا۔ ’’ابے چل نکل یہاں سے نہیں تو چوری کے الزام میں اندر نہ کروایا تو میرا نام بدل دینا۔‘‘ اس کی غراہٹ کے ساتھ ہی اربش کو وہاں سے نکلنا پڑا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مزید لڑائی بڑھنے کی صورت میں اگر پولیس کو طلب کرلیا گیا یا بالفرض پولیس والے اسے لے گئے تو اجیہ اکیلی کیسے رہ پائے گی۔
واقعی یہ حقیقت ہی تو تھی کہ انسان اپنے سے زیادہ اپنے سے جڑے رشتوں کی خاطر مجبور ہوجاتا ہے‘ کتنی ہی جگہوں پر ان رشتوں کی خاطر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے‘ جھکنا پڑتا ہے‘ خاموش رہنا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اپنا من مارنا پڑتا ہے اور آج اربش کو محسوس ہوا تھا کہ اپنا من مارنا کوئی آسان بات نہیں۔ گھر آیا تو اس کی خواہش کے عین مطابق وہ اسے بڑی ہی نفاست سے تیار ملی۔
دن بھر چاہے وہ اپنی امی اور حنین کو یاد کرکے آنسو بہاتی رہتی ہو لیکن اربش کے آنے کا وقت ہوتے ہی اٹھ کر ہاتھ منہ دھوتی‘ کپڑے بدلتی‘ بال بناتی‘ اس دن اربش کے اصرار پر خریدی گئی لپ اسٹک ہونٹوں پر لگانے کے بعد اسے ہی ذرا سا بلینڈ کرکے اپنے گالوں پر بلشر کے طور پر لگاتی تھوڑی سی لپ اسٹک انگلی کے کناروں پر لگا کر وہی کنارہ آنکھوں پر آئی شیڈ کے طور پر لگا کر کاجل لگالیتی۔ اسے ذاتی طور پر بہت زیادہ میک اپ کرنا پسند نہیں تھا لیکن اب شادی کے بعد اربش کی خواہش ہوتی کہ وہ اسے تیار نظر آیا کرے لہٰذا اربش کی خواہش کو اس نے اپنے پر فرض کرلیا تھا اور یہی اس کا اربش کا استقبال کرنے کا طریقہ تھا جس کی بناء پر وہ باہر سے کتنا بھی تھکا ہوا کیوں نہ آتا۔ گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی فریش ہوجاتا‘ اربش نے اس کی خاطر اپنی عیش و آرام والی زندگی چھوڑ کر تو جیسے اسے خرید ہی لیا تھا‘ اب چاہے اس کی خاطر اجیہ کو کچھ بھی کرنا پڑتا تو وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔
دکان سے نکال دیئے جانے کے بعد وہ گھر آیا تو ذہن پر واقعی بوجھ تھا اور پھر اجیہ کو دیکھ کر اسے مزید گلٹی فیل ہوا تھا اور اس لمحے اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ بیرون ملک ضرور جائے گا کیونکہ اسے اجیہ کے ہونٹوں پر آئی یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم رکھنی تھی لہٰذا حسن کو فوراً میسج کرکے صبح ٹریول ایجنسی چلنے کا کہا۔
ء…/…ء
صاف ستھرے کشادہ صحن سے بڑے پُروقار انداز میں چلتی ہوئی ممی لائونج میں داخل ہوئیں اور اندر بیٹھے ہوئے سکندر صاحب کو سلام کرکے صوفے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ جیسے انہیں کرنٹ سا لگا ہو وہ جہاں تھیں وہیں رک گئی تھیں ایک بار پھر انہوں نے سکندر صاحب کو دیکھا اور جیسے حیرت زدہ رہ گئیں اور صرف وہی نہیں خود سکندر صاحب کا بھی یہی حال تھا۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس سے تقریباً دو دہائیوں پہلے وہ عشق کیا کرتے تھے اور جو اُن کی طرف سے شادی کی آفر کو ٹھکرا کر ماں باپ کے مشورے سے رات کے اندھیرے میں کہیں چلی گئی تھی لیکن جو کچھ بھی ہوا یہ سچ تھا کہ انہیں دیکھتے ہی سکندر صاحب کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل ضرور ہوگئی تھی‘ دل کے جس کونے میں وہ رہتی تھیں وہ جگہ آج بھی خالی تھی اور شادی ہوجانے کے باوجود بھی وہ… وہ جگہ کسی کو نہیں دے پائے تھے۔
’’تم…؟‘‘ بالآخر ممی نے درمیان کی بوجھل خاموشی توڑنے میں پہل کی۔
’’ہاں میں ہی سکندر ہوں‘ اجیہ کا باپ۔‘‘ ان کے کہنے کے بعد ممی کو لگا جیسے اب کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا ہو‘ اس لیے خاموشی اختیار کی۔ وہ سوچ رہی تھیں کہ اب انہیں بات کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔
’’بیٹھو گی نہیں؟ میرا نہیں تو اپنی بہن کا گھر سمجھ کر ہی بیٹھ جائو۔‘‘ اس مرتبہ ان کے لہجے میں التجا تھی‘ جس سے ممی کے ذہن پر جو ایک دم خوف طاری ہوا تھا وہ دور ہونے لگا اور وہ صوفے کے ایک کنارے پر سمٹ کر بیٹھ گئیں۔
’’اجیہ بھی بالکل تم پر گئی ہے‘ شکل میں بھی اور دیکھو لو عادتوں میں بھی۔‘‘ ممی نے خاموش رہ کر انہیں بولنے کا موقع دیا‘ وہ لائونج میں رکھی ایک ایک شے میں اپنی بہن کی موجودگی محسوس کررہی تھیں اور منتظر تھیں کہ کسی کمرے سے وہ بھی نکل کر ان کے پاس بیٹھیں‘ گلے ملیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹ لیں۔
’’جیسے تم گھر سے بھاگ گئی تھیں ناں ویسے ہی اجیہ بھی ہمیں چھوڑ کر جاچکی ہے اور نہ ہی وہ ہم میں سے کسی کا فون اٹھانا چاہتی ہے کہ بات ہوسکے۔‘‘ انہوں نے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بولا۔
’’میں دراصل اسی لیے آئی تھی کہ آپ… اربش یعنی میرے بیٹے پر کیا گیا کیس واپس لے لیں۔ دراصل وہ دونوں ہی مون پر ہیں جیسے ہی واپس آئیں گے میں خود اجیہ کو لے کر یہاں آئوں گی تاکہ آپ اسے اپنی دعائوں میں رخصت کریں۔‘‘ وہ سکندر صاحب سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں انہیں دیکھنا گوارا نہ کرتی تھیں لیکن اربش کی خاطر وہ نہ صرف یہ کہ ان سے بات کررہی تھیں بلکہ درخواست کررہی تھیں۔ سچ ہی تو ہے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا کیا معلوم آج خوشی ہے تو کل غم آپ کی دہلیز کے پار منتظر ملے۔
’’یہ باتیں بھی ہوتی رہیں گی پہلے کچھ اپنے بارے میں بتائو کہ آج تک کہاں رہیں… صرف ایک ہی بیٹا ہے یا…؟‘‘
’’ہاں اربش ہی میرا اکلوتا بیٹا ہے۔‘‘ انہوں نے مختصراً جواب دیا۔
’’شوہر تو تمہارا بہت پہلے ہی سنا ہے مر گیا تھا۔‘‘ سکندر صاحب نے ان سے تائید چاہی تو ممی نے گہری سانس لے کر ہاں میںسر ہلادیا۔
’’اب اکیلی رہتی ہو؟‘‘ سکندر صاحب ان سے باتیں کرنا چاہتے تھے لیکن ممی کے چہرے پر بے زاریت تھی‘ وہ ان سے بات چیت کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھیں۔
’’بوا ہوتی ہیں میرے پاس‘ اکیلی نہیں ہوں اور پھر اربش بھی میرے ساتھ ہی رہتا ہے ابھی بھی صرف ہنی مون کی خاطر گیا ورنہ ایک دو ہفتوں میں تو وہ بھی واپس آجائے گا۔‘‘
’’شوہر کے بغیر تنہائی یا اس کی کمی تو محسوس ہوگی؟‘‘ اس سوال پر ممی نے انہیں دیکھا تو چہرے پر غصہ نمایاں تھا۔
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
سکندر صاحب نے مسکراتے ہوئے شعر پڑھا‘ وہ جانتے تھے کہ اس وقت وہ چاہیں بھی تو یہاں سے اٹھ کر‘ انہیں جھڑک کر نہیں جاسکتی کہ آخر کو ان کے بیٹے کا معاملہ تھا اور ممی کی طرف سے کسی بھی سخت ردعمل کی صورت میں سکندر صاحب کو کوئی بھی عمل کرنے کی مکمل آزادی تھی۔
’’جانتی ہو تمہارے جانے کے بعد میں تمہاری یاد میں کتنا تڑپتا تھا‘ تم سے میری محبت سچی تھی لیکن تم ناقدری اور ناشکری نکلیں‘ میری محبت اور میرے جذبات کی تم نے کوئی قدر ہی نہ کی ورنہ قسم ہے کہ تمہیں اتنے عیش کرواتا کہ دنیا والے تمہاری قسمت پر رشک کرتے۔‘‘
’’سکندر صاحب… میرا خیال ہے اب آپ کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں‘ عمر کے جس حصے میں‘ میں اور آپ ہیں اس میں اس طرح کی باتیں کرنے پر دنیا والے تھوتھو کرتے ہیں۔‘‘ آخری حد تک الفاظ کو نرم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے سکندر صاحب کو ان کی عمر‘ مقام اور وقت یاد دلانے کی کوشش کی تو وہ ہنسنے لگے۔
’’تب دنیا والوں نے کیا تم پر تھوتھو نہیں کی ہوگی جب رات کے اندھیرے میں گھر سے…‘‘
’’سکندر صاحب…‘‘ ممی نے بلند آواز سے ان کی بات کاٹی۔ ’’میں آپ سے صرف اور صرف اربش کی ماں کے حوالے سے بات کرنے آئی ہوں اس کے علاوہ میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں اور میں چاہوں گی کہ آپ ماضی پر بات کرنے کے بجائے حال میں تشریف لے آئیں تاکہ میرے آنے کا مقصد پورا ہونے یا نہ ہونے کا معلوم ہو۔‘‘ ممی کے سخت لہجے پر سکندر صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔
’’اتنی خود غرض تو تم کبھی بھی نہیں تھیں کہ اپنی بہن کا بھی نہ پوچھا میرے بارے میں نہ سہی تو چلو اس کے بارے میں ہی بات کرلو‘ کم از کم اتنا تو پوچھ لو کہ وہ اس دنیا میں ہے یا گزر گئی؟‘‘ سکندر صاحب کے آخری جملے پر وہ دہل گئی تھیں۔
’’اللہ نہ کرے کبھی انہیں کچھ ہو۔‘‘
’’اسے کچھ ہو بھی نہیں سکتا فکر نہ کرو‘ بڑی ہی سخت جان ہے جب سے اجیہ گئی ہے زندگی اور موت کی کشمکش میں اسپتال میں پڑی ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ بس اب گزر ہی جائے گی لیکن پھر ڈاکٹرز نے امید دلادی ہے کہ وہ خطرہ سے باہر ہے کیونکہ اس کا دماغ مکمل طور پر فعال ہے۔‘‘ ممی کا دل تو چاہا کہ وہ سکندر صاحب سے پوچھیں کہ آخر وہ کون سے اسپتال میں ہیں تاکہ وہ ایک بار اپنی بہن کو دیکھ تو سکتیں‘ انہیں گلے لگاتیں‘ ان کا چہرہ ان کے ہاتھ چومتیں لیکن سکندر صاحب کے ساتھ بات کو طول دینے کو ان کا دل نہ مانا۔
’’لیکن سچ کہوں تو مجھے تمہارے بعد اس کا نظر آنا بھی سزا لگتا تھا‘ میں نے اس کے ساتھ جس طرح زندگی گزاری ہے تمہیں بتائوں تو حیران ہوجائو کہ وہ کس قدر بوگس بلکہ ٹھس عورت ہے۔‘‘
’’باقی سب باتوں کو ایک طرف رکھ کر میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اربش پر دائر کیا گیا اغوأ کا کیس واپس لے لیں کیونکہ میں اپنے بچے کو کسی مشکل یا پریشانی میں نہیں دیکھ سکتی پھر یہ بات آپ خود بھی جانتے ہیں کہ اجیہ نے یہ شادی اپنی مرضی اور پسند سے کی ہے‘ اس کے ساتھ کسی نے کوئی زور یا زبردستی نہیں کی اور اس کے ثبوت کے طور پر میں آپ کو یقین دلاتی ہوں اور آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ خود اسے آپ کے پاس لائوں گی بلکہ آپ کے حوالے کردوں گی اور پھر آپ اسے اپنی خوشی کے ساتھ اربش کے ہمراہ رخصت کیجیے گا۔‘‘
’’ہمم…‘‘ سکندر صاحب نے ایک گہری سانس لی۔ ’’میں تمہاری خاطر یہ کیس واپس لے سکتا ہوں اگر…‘‘ خاموش ہوکر وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور جس صوفے پر ممی بیٹھی تھیں اسی صوفے کے دوسرے کنارے پر آبیٹھے‘ ان کے یوں معنی خیز انداز میں جملہ ادھورا چھوڑنے پر ممی نے نا سمجھی سے انہیں اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے دیکھا اور ان کے بیٹھنے پر اپنی جگہ مزید سمٹ کر لاشعوری طور پر ساڑھی کا پلو سمیٹا۔
’’تم بھی میری خاطر کچھ کرنے کا وعدہ کرو۔‘‘
’’میں… میں آپ کے لیے کیا کرسکتی ہوں سکندر صاحب!‘‘ وہ حیران تھیں‘ سکندر صاحب نے کوئی بھی جواب دیئے بغیر خاموشی سے ریمورٹ اٹھایا اور ٹی وی پر نیوز چینل لگادیا۔
’’ایک تو یہ نیوز چینل والے دنیا کا ناممکن ترین کام بھی ممکن بنادیتے ہیں‘ اب یہی دیکھ لو جس کی کوئی نہ سنے اس کی میڈیا سن کر اس طرح معاملے کو اچھالتا ہے کہ مدعی کا کیس پولیس کے بجائے میڈیا کے ذریعے جلدی حل ہوجاتا ہے۔‘‘ ممی ان کی بات کے جواب میں خاموش مگر ان کے نیم رضا مندی ظاہر کیے گئے جملے کو ادھورا چھوڑنے پر الجھی ہوئی تھیں۔
’’کوئی لڑکی گھر سے بھاگ جائے یا پولیس آپ کی کسی بھی کیس کے معاملے میں قانونی مدد نہیں کررہی تو آج کل میڈیا اس معاملے کو بڑا مصالحہ لگا کر پیش کرتا ہے اب چاہے دوسرا فریق سچا ہی کیوں نہ ہو لیکن جگ ہنسائی اور بدنامی تو ہو ہی جاتی ہے ناں‘ کیا خیال ہے؟‘‘ ممی نے تائید میں گردن ہلائی وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھیں کہ آخر ان کی اس تمہید کا مقصد کیا ہے یقینی طور پر ان کے ادھورے چھوڑے گئے جملے کی تکمیل میں کچھ ایسا تھا جس کے باعث وہ انہیں ذہنی طور پر تیار کررہے تھے کہ ان کی کہی گئی بات کو نہ ماننے کی صورت میں ان کے پاس میڈیا میں جانے کا بھی آپشن موجود ہے۔
’’اچھا چلو چھوڑو ان میڈیا والوں کے پاس تو کام ہی یہی ہے کہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے پھریں۔‘‘ ریمورٹ سے ٹی وی کی آواز بند کی۔
’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں تمہاری بات نہیں ٹال سکتا کیونکہ بے شک تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور میں نے تمہاری بہن سے نکاح کرلیا لیکن یقین کرو کہ ایک دن کے لیے تمہاری یاد دل سے محو نہیں ہوسکی اور نہ ہی آج تک تمہارے لیے میری محبت میں ذرا بھی کمی آئی ہے۔‘‘
’’سکندر صاحب میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ اس طرح کی باتیں کرکے آپ میرا اور اپنا وقت ضائع کررہے ہیں اور بس ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس دور کی بات آپ کررہے ہیں وہ گزر چکا ہے اور اب کسی طور بھی واپس نہیں آسکتا۔‘‘ وہ آخرکار زچ ہوگئی تھیں۔
’’وہ وقت واپس کیسے نہیں آسکتا؟ جب کہ تم بھی یہیں ہو اور میں بھی۔‘‘ ممی نے چونک کر ان کی آنکھوں میں ابھرتے سوال کو پڑھنا چاہا تو کانپ گئیں۔
’’میں تمہیں کبھی کسی قسم کے غلط کام کے لیے فورس نہیں کروں گا لیکن ہاں یہ بات کہنے کا حق میں ضرور رکھتا ہوں کہ تمہارے لیے میری سوچ جو کل تھی آج بھی وہی ہے اور میں اربش کے خلاف ابھی اور اسی وقت اپنا کیس واپس لینے کو تیار ہوں اور اجیہ کو بھی اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیتا ہوں اگر تم میری برسوں پرانی خواہش پوری کردو۔‘‘ ممی نے سراسیمگی سے انہیں دیکھا۔
’’میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ سکندر صاحب کے منہ سے نکلے جملے تھے یا کوئی ایٹم بم جو عین ان کے سر کے اوپر آکر پھٹا تھا‘ انہیں اپنے جسم پر ایک دم پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوتے محسوس ہوئے تھے‘ ایسا لگتا تھا جیسے پورے کمرے میں ایک لمحے میں ہی اندھیرا چھا گیا ہو اور اگر واضح تھا تو صرف اور صرف سکندر صاحب کا چہرہ‘ جو بغور ان کی کیفیت کا جائزہ لے رہے تھے۔
یہ کیا کہہ دیا تھا انہوں نے‘ اربش کے جاں خلاصی کا تاوان اور وہ بھی اتنا بھاری۔ ممی تو اس تصور سے ہی کانپ اٹھی تھیں کہ جب سکندر صاحب کی اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
’’یہ سب کچھ اتنا انہونی نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو اور آخر تم ماں ہو اس کی‘ کیا اس کے لیے صرف اتنا نہیں کرسکتیں؟‘‘
’’صرف…؟‘‘ ممی نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے بمشکل یہ الفاظ ادا کیے۔
’’دوسری صورت میں تم دیکھنا کہ میں اس کا کیا حشر کرتا ہوں‘ عدالت اور تھانے میں اتنا رگڑوں گا کہ تم تو ویسے بھی اس کی شکل دیکھنے کو ترس جائو گی اور جہاں تک رہ گئی بات اجیہ کی‘ اس کو تو میں عبرت کا وہ نشان بنادوں گا کہ پھر رات کے اندھیرے یا دن کے اجالے میں ماں باپ کی عزت نیلام کرکے گھر سے بھاگتی لڑکیوں میں دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوگی۔ اب فیصلہ تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے‘ چاہو تو اپنا بیٹا بچالو‘ اس کی محبت اجیہ کو محفوظ کرلو یا میری بات مان کر میری یہ جائز خواہش پوری کردو۔‘‘ ممی کو تو جیسے ان کی باتوں سے سکتہ ہوگیا تھا‘ خاموش برف کا بُت بنی جو اُن کے چہرے پر نظریں جمائیں تو پھر ہٹائی ہی نہ گئیں۔
’’میں کوئی اتنا برا انسان نہیں ہوں جتنا تم مجھے سمجھتی ہو‘ مجھ سے حلف لے لو کہ ساری زندگی تم سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کروں گا‘ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا اور اگر میں نے کبھی ایسا کیا تو سزا دینے کا مکمل اختیار تمہارے پاس ہوگا۔‘‘ وہ چند لمحے رکے کہ شاید ان کی طرف سے کوئی جواب آئے لیکن وہ ہنوز ساکت اور خاموش تھیں۔
’’میں تمہاری بہن سے ویسے بھی تنگ آچکا ہوں اور اسے چھوڑنے میں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوگی بس تم ایک بار میری ماننے کی حامی بھرو ورنہ اربش کا دلخراش انجام میرے ہاتھوں ہونا بھی کوئی بعید نہیں ہے کہ میری فطرت سے تو تم بخوبی واقف ہو۔‘‘ بات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے گلاس میں پانی ڈالا اور خود ہی پینے لگے۔
ممی کے لیے یہ وقت ان کی آج تک کی زندگی کا سب سے مشکل ترین وقت تھا اور سکندر صاحب کے سوال کا جواب انہیں اب تک کا پیچیدہ ترین سوال لگا تھا‘ وہ اپنے بیٹے اربش کی خوشیاں اور زندگی بچائیں یا سکندر صاحب سے چھٹکارا پاتے ہوئے انہیں صاف جواب دے کر اربش کو ان کی جلاد صفت طبیعت کے آگے تنہا چھوڑدیں ان دونوں آپشنز میں سے ایک تو انہیں چننا ہی تھی۔
ء…/…ء
امی کی حالت کو ڈاکٹرز نے تسلی بخش قرار دے دیا تھا‘ ان کا خیال یہی تھا کہ ان کے دماغ پر فالج کا بہت معمولی سا حملہ ہوا تھا جسے بروقت طبی امداد نے فوراً ہی کنٹرول کرلیا‘ اب تک انہوں نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کی طبیعت کو امید افزا قرار دے کر ڈاکٹرز نے جہاں ان کی ادویات میں تبدیلی کی تھی وہیں نرس کو کچھ ایکسر سائز بھی بتائی تھیں جو وہ مقررہ وقت پر انہیں کروانے آتی۔ اس تمام صورت حال میں حنین کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا‘ ہر وقت انہیں دیکھ کر روتے رہنے والی حنین اب ان کے پاس بیٹھی بات بات پر مسکرانے لگتی۔ غزنی نے اسے اس پریشانی میں جس طرح سنبھالا تھا‘ اس کے باعث اس کے دل میں غزنی کی محبت پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی ویسے بھی اب اس کی محبت پر اس کا حق تھا‘ بے یقینی کی کیفیت ختم ہوچکی تھی اور وہ جانتی تھی کہ غزنی اب صرف اور صرف اسی کا ہے اس کے پاس موجود اجیہ کی ہر وقت پہنے جانی والی چین کو دیکھ کر اسے اچھا تو نہیں لگا تھا لیکن پھر بھی اس نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا تھا‘ اسے یقین تھا کہ جس طرح غزنی کا اس کا ہونا ممکن ہوا تھا اسی طرح اس کے دل پر بھی مکمل طور پر غزنی کا قبضہ ہوگا‘ وہ اپنی محبت اور چاہت سے اس کے گرد ایسا حصار قائم کردے گی کہ پھر وہ کسی دوسرے کی طرف دیکھنا تو دور کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا اور اب جس محبت کا اظہار وہ اس کے لیے کرچکا تھا حنین نے وہ محبت آنسو کی اوٹ میں نہیں بلکہ اپنا حق سمجھ کر وصول کرنی تھی۔
آج اماں اسپتال پہنچیں تو اسے اور غزنی کو زبردستی کہیں آئوٹنگ پر جانے کو کہا۔
’’تائی امی… میں یہیں ٹھیک ہوں امی کے پاس‘ آپ نہ اصرار کریں۔‘‘ اسے یوں غزنی کے ساتھ اکیلے کہیں جاتے ہوئے شرم آرہی تھی اسی لیے ذرا ہچکچائی۔
’’کیوں… تمہارا دل نہیں چاہتا میرے ساتھ باہر جانے کی لیے؟‘‘ غزنی نے اماں کی بات پر حوصلہ پاکر اس سے پوچھا اور خود اس کا کئی مرتبہ دل چاہا تھا کہ اسے کہیں اپنے ساتھ باہر لے کر جائے لیکن پھر اپنی سوچ پر جھجک کر رہ جاتا کہ اماں یا حنین کیا سوچیں گی کہ اسپتال کے بیڈ پر لیٹی امی کو چھوڑ کر اسے گھومنے پھرنے کی پڑی ہے۔
’’نہیں… وہ بات نہیں ہے۔‘‘ حنین نے غزنی کو جواب دیا پھر اماں کی طرف دیکھا۔ ’’دراصل امی ابھی اس کنڈیشن میں ہیں ناں تو میرا دل نہیں چاہتا کہ انہیں چھوڑ کر کہیں نکلوں۔‘‘
’’بیٹا اللہ کا شکر ہے کہ تمہاری ماں ڈاکٹروں کے مطابق اب خطرے سے باہر ہے‘ اس لیے تم اب بے فکر ہوجائو اور اب تم…‘‘ بات کرتے کرتے وہ ذرا رکیں۔
’’غزنی تم ذرا باہر جائو۔‘‘
’’ارے وہ کیوں؟ ہم تو باہر جانے کی بات کررہے تھے ناں اماں…! اب اس میں ایسا کون سا سیکرٹ پہلو ہے جو آپ مجھ سے چھپانا چاہتی ہیں؟‘‘
’’بس تمہیں باہر جانے کا کہا ہے تو تم چلے جائو زیادہ سوال جواب نہ کرو۔‘‘
’’باہر ہی تو جانا چاہتا ہوں لیکن اس کے ساتھ۔‘‘ وہ مسکرایا اور شرارت بھری نظروں سے حنین کو دیکھا جو جان بوجھ کر اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔
’’کہا ناں باہر جائو۔‘‘ اماں نے ایک بار پھر کہا تو وہ فوراً ہاتھ میں موٹر سائیکل کی چابی لے کر کھڑا ہوا اور حنین کے سامنے آکر اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے جانے لگا۔
’’آجائو‘ چلیں۔‘‘ حنین اس کی غیر متوقع حرکت پر اپنی ہنسی چھپا نہیں سکی تھی البتہ اماں چونکہ قریب ہی تھیں اس لیے حنین کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف بٹھالیا۔
’’کہا ہے ناں تم جائو تھوڑی دیر کے لیے باہر انتظار کرو میں اسے ابھی بھیج رہی ہوں۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہیں آپ میری ماں ہیں تو آپ کا اعتبار کرلیتا ہوں‘ کیا یاد کریں گی آپ بھی۔‘‘ وہ جان بوجھ کر انہیں چھیڑ رہا تھا‘ گھر میں بھی ان ماں بیٹے کا آپس میں یہی رویہ ہوتا البتہ ابا کے سامنے وہ نسبتاً محتاط ہوجاتا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکلا تو اماں حنین کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’دیکھو بیٹا‘ میں نے تم سے صرف اور صرف ایک ہی بات کہنی ہے اور وہ یہ کہ شرعی اب تم دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے‘ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں ساتھ دینا‘ جذبات کی قدر کرنا اور ایک دوسرے کو اہمیت دینا تمہیں ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب لاسکتا ہے۔ اس وقت فرض کرو تمہارا دل نہیں بھی چاہ رہا باہر جانے کو تو پھر بھی تم جائو صرف اس لیے کہ غزنی کا دل چاہ رہا ہے‘ میاں بیوی کا رشتہ نبھانا بالکل بھی مشکل نہیں ہے بس اگر ایک دوسرے کے مزاج کا‘ لحاظ رائے کا احترام کیا جائے تو‘ ’میں یہ چاہتی ہوں میری بات ہی ٹھیک ہے‘ میرا یہ دل نہیں چاہ رہا میں ایسے کروں‘ جیسے جملے ہی میاں بیوی کو دور کردیتے ہیں‘ شوہر کو معاشرے نے مجازی خدا کا درجہ ایسے ہی نہیں دے دیا اگر اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کیے جانے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر کو کہا جاتا۔ یہ باتیں یونہی نہیں کہیں گئیں بلکہ اس میں اشارہ ہے کہ زندگی میں کبھی بھی کسی بھی موقع پر شوہر کی جائز بات کے خلاف نہ جائو اور حنین یقین کرنا اگر تم نے ایسا ہی کیا تو غزنی اور تمہاری جوڑی محبت میں مثال بن جائے گی اور غزنی تمہارے علاوہ کبھی کسی کو دیکھے گا بھی نہیں۔‘‘ حنین کو اس لمحے ان پر بہت پیار آیا تھا۔
اسے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اس کی ساس ہیں بھلا کیا ساسیں ایسی بھی ہوتی ہیں؟ اتنی محبت کرنے والی جو خود اپنی بہو کو طریقے بتارہی ہیں کہ ان کے بیٹے کو کس طرح قابو کیا جائے اور اسے خود سے نزدیک کرنے کے گُر ہیں‘ وہ مسکراتے ہوئے بے اختیار ان کے گلے لگ گئی۔
’’سدا سہاگن رہو‘ اللہ تم دونوں کے نصیب بلند کرے‘ آمین۔‘‘ تائی اماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اسی لمحے غزنی ایک بار پھر کمرے میں آیا۔
’’توبہ توبہ… ساس بہو کو یوں گلے ملتا دیکھ کر یہ کمرے میں چھت بھی نہ ہلی۔‘‘ اس نے چھیڑا تو تائی اماں بے اختیار ہنسنے لگیں۔
’’جائو حنین جائو اس کے ساتھ‘ جاکر ذرا آج باہر گھوم پھر آئو اور یہاں اپنی امی کی فکر نہ کرنا‘ میں ہوں ان کے پاس‘ سمجھیں؟‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے غزنی کو دیکھ کر انہیں جواب دیا۔
’’اماں… اماں… یہ میرے ساتھ بس تھوڑی سی دیر کے لیے باہر گھومنے جارہی ہے کوئی محاذ جنگ پر نہیں جارہی جو ایک گھنٹہ پہلے سے آپ نے اسے نصیحتیں کرنا شروع کردی ہیں۔‘‘
’’ماں بیٹی کی ہزار باتیں ہوتی ہیں آپس کی‘ تمہیں کیا پتا‘ چلو بس جائو اب۔‘‘ اور یوں وہ غزنی کے ساتھ باہر گئی تو خود اسے اپنے نصیبوں پر یقین نہیں آرہا تھا‘ آج پہلی بار وہ اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھی تھی اور اس کے اتنا قریب ہوکر اس کے دل کی حالت عجیب تھی‘ خود غزنی کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسے ساتھ لیے یوں ہی سڑکوں پر بغیر کسی وجہ کے گھومتا رہے۔
وہ دن حنین کی زندگی کا یادگار ترین دن تھا اس نے آج زندگی میں پہلی مرتبہ کسی بڑے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا تھا ورنہ سکندر صاحب تو باہر سے دس روپے کا ایک سموسہ تک نہ لاتے تھے اور پھر ویسے بھی وہ ان لوگوں کو کالج کے علاوہ کہیں باہر نکلنے ہی کب دیتے تھے جو اس طرح کی عیاشیوں کے بارے میں سوچا جاتا لیکن غزنی آج اسے اس خوب صورت ریسٹورنٹ میں لے آیا تھا‘ باہر چلبلاتی دھوپ اور سخت گرمی کے بعد جب وہ ریسٹورنٹ کی ٹھنڈک اور نیم تاریکی والے ماحول میں داخل ہوئی تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ غزنی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ غزنی نے کھانا آرڈر کرنے کا مکمل اختیار حنین کو دیا۔
’’لو بھئی مینو کارڈ‘ جو چاہو منگوائو۔‘‘
’’میں… نہیں‘ نہیں تم نے جو کھانا ہے وہ منگوالو‘ میں بھی تمہارے ساتھ وہی کھالوں گی۔‘‘ اس نے مینو کارڈ واپس غزنی کی طرف سرکایا جو اس نے قبول نہ کرتے ہوئے پھر سامنے رکھ دیا۔
’’جب رخصتی کے بعد تم میرے گھر آجائو گی تو روز وہی پکائو گی ناں جو تمہارا دل چاہے گا تو بس میں آج سے ہی یہ عادت ڈال رہا ہوں کہ جو تم چاہو وہ میں کھائوں۔‘‘
’’جی نہیں… بالکل بھی نہیں بلکہ میں گھر میں وہی چیز پکایا کروں گی جو تمہیں پسند ہوا کرے گی اس لیے زیادہ باتیں نہیں‘ تم کھانا آرڈر کرو کیونکہ آج تم مجھے اپنے ساتھ لائے ہو اس لیے سب کچھ تمہاری مرضی سے ہوگا۔‘‘
’’واقعی‘ جو کچھ میری مرضی ہوگی وہ سب ہوگا؟‘‘ حنین کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے غزنی نے حنین کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ بلش ہوگئی۔
کھانے کے بعد غزنی نے اسے اپنی پسند کی شاپنگ کروائی اور واپس جاتے ہوئے موتیے کے گجرے خرید کر اپنے ہاتھوں سے اس کی کلائی میں پہنائے تو وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی تھی۔
ء…/…ء
اربش بیرون ملک جانے کا فیصلہ تو کر ہی چکا تھا لیکن اصل مسئلہ اجیہ کو اس فیصلے پر راضی کرنا تھا جو اس کے نزدیک ایک مشکل ترین کام تھا لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں تھا اسے پاکستان میں رہ کر جو مقام تین سالوں میں ملتا وہ بیرون ملک جاکر صرف ایک سال کے محدود عرصے میں مل سکتا تھا‘ معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لیے بھی یہ ایک اچھا موقع تھا جسے وہ ضائع کرنے کے حق میں نہیں تھا۔
آج پھر لائٹ گئی ہوئی تھی اور لائٹ گئی بھی کس وقت جب وہ دونوں کمرے میں بیٹھ کر کھانا شروع کرنے ہی والے تھے لیکن لائٹ جانے کے بعد دونوں نے پلیٹیں ڈھکیں اور پہلے کی طرح صحن میں آبیٹھے۔ ایک طرف ایمرجنسی لائٹ آن کرکے رکھی گئی تھی۔
’’بیرون ممالک میں یہ بڑی سہولت ہے‘ کم از کم لوڈ شیڈنگ تو نہیں ہوتی ناں۔‘‘ اربش نے تمہید باندھنا شروع کی۔
’’ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’ویسے بھی کرنسی ریٹ کے واضح فرق کی وجہ سے بھی جو لوگ بیرون ملک جاب کرتے ہیں وہ پاکستان میں تو کروڑ پتی ہی کہلاتے ہیں۔‘‘
’’ہاں بالکل۔‘‘
’’میرے جاننے والا ایک لڑکا ہے‘ اس نے صرف تین سال اپنے تایا کے پاس شاید کینیڈا میں گزارے تھے‘ وہاں خوب کام کیا اور پھر پاکستان آکر اپنا ڈیپارٹمنٹل اسٹور بنالیا‘ اب تو خوب کمارہا ہے اس اسٹور سے۔‘‘
’’ہمم… اس نے تین سالوں میں صرف بچت ہی کی ہوگی ناں‘ خرچ نہیں کیا ہوگا اپنی کمائی سے۔‘‘
’’ہاں ایسا ہی تھا لیکن دیکھ لو آج کل ایک اور اسٹور خریدنے کے بارے میں سوچ رہا تھا جب پچھلی مرتبہ میں اس سے ملا تھا۔‘‘
’’ان شاء اللہ ہم بھی بہت جلد اپنا ذاتی کام شروع کریں گے اربش… بلکہ میں خود کل سے سوچ رہی ہوں کہ…‘‘
’’میں بھی کچھ سوچ رہا ہوں اجیہ…‘‘ اربش نے اس کی بات کاٹی تھی۔ اجیہ نے رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’لیکن مجھے تمہاری اجازت چاہیے۔‘‘
’’اجازت… کس چیز کی؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’میں بیرون ملک جانا چاہتا ہوں اجیہ… لیکن صرف اس صورت میں اگر تم خوشی سے اجازت دو۔‘‘ روشنی اتنی نہیں تھی کہ اسے اجیہ کے چہرے کے تاثرات واضح نظر آپاتے لیکن پھر بھی اربش نے کوشش کی تھی اور اسے لگا تھا جیسے اس کی بات کے ساتھ ہی اجیہ کے چہرے پر سناٹا اتر آیا ہو۔
’’میرے بغیر پورا ایک سال گزار لو گے تم؟‘‘ اجیہ نے اِدھر اُدھر کی کوئی بھی بات کیے بغیر براہ راست سوال کرکے اسے جیسے خاموش ہی کروا دیا تھا۔
’’اور اربش کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے بغیر یوں اکیلے پورا ایک سال رہ سکتی ہوں؟‘‘ اجیہ کی بات پر اربش کو لگا جیسے کوئی اس کا دل مٹھی میں لے رہا ہو‘ یہ کیسا سوال کردیا تھا اجیہ نے کہ جواب میں اربش کے پاس خاموشی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’میں تمہارے بغیر ایک لمحے کا بھی تصور نہیں کرسکتا اجیہ اور یہ بات تم بھی اچھی طرح جانتی ہو ناں۔‘‘ اجیہ نے لب بھینچ کر سر ہلایا۔
’’لیکن میں کیا کروں اس احساس کو جو ہر وقت میرے دل میں کچوکے لگاتا رہتا ہے اور مجھے بار بار جتاتا ہے کہ شاید میں نے تمہیں آسمان کے خواب دکھا کر زمین پر لا بٹھایا ہے‘ تمہیں مایوس کیا ہے۔ میں تمہیں کچھ بھی نہیں دے پارہا اجیہ جبکہ میں تمہارے سب خوابوں سے واقف بھی ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ مجھے ایک سال صرف اور صرف ایک سال تم سے دور رہنے کی قربانی دینی پڑے گی‘ وہاں خوب محنت کرکے پیسے کمائوں گا تو یہاں آکر میں اور تم اپنا کوئی بھی چھوٹا موٹا کام شروع کرسکتے ہیں۔‘‘
’’لیکن تم اب بھی جاب تو کررہے ہو ناں‘ تنخواہ کم ہے تو کیا ہوا‘ مجھے تو کوئی بھی شکوہ نہیں… تمہارے بغیر ملنے والی دو روٹیوں سے کہیں بہتر وہ آدھی روٹی ہے جو مجھے تمہارے ساتھ بیٹھ کر کھانے کو ملے۔‘‘
’’وہ جاب بھی نہیں رہی ہے اب۔‘‘ اربش نے گہرا سانس لیا۔
’’کیا…! کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ وہ چونکی اور اس کی طرف رخ موڑ کر پوچھا۔
’’مطلب یہ کہ نہ جاب باقی رہی ہے اور نہ ہی اتنے دن کام کرنے کا کوئی معاوضہ ملے گا۔‘‘ اربش نے دکان پر پیش آنے والی تمام صورت حال سے اجیہ کو آگاہ کیا تو وہ حقیقی معنوں میں افسردہ ہوگئی۔
بیت سارے لمحے دونوں کے درمیان خاموشی سے گزرے۔
یہ کیسے گھر سے نکلے
اور بند دروازے کو کھولے
گلی میں جھانک کر دیکھے
میری آواز کو الفاظ کا رستہ نہیں ملتا
مجھے ڈر ہے کہیں یہ ان کہے لفظوں کے جنگل میں
یونہی دب کر نہ مر جائے
مجھے تنہا نہ کر جائے
ادھوری بات اک دکھ ہے
اسے اس دکھ کو سہنا ہے
بساطِ جاں الٹنے تک
اسی زنداں میں رہنا ہے
اجیہ اسے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن خاموش رہی کیونکہ جانتی تھی کہ اربش صرف اور صرف اس کی خوشی کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھانا چاہ رہا ہے‘ وہ بہت خواہش کے باوجود بھی اسے یہ نہیں سمجھا پارہی تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی آسائشوں کے بغیر بھی صرف اور صرف اس کے قریب رہ کر بہت خوش ہے اور خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتی ہے لیکن بہت سی باتیں اس کے دل میں ہی ادھوری رہ گئی تھیں۔
’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے بغیر اس محلے میں اکیلی رہ پائوں گی؟‘‘ وہ بہت دیر کے بعد بولی بھی تو صرف ہی ایک سوال کرسکی۔
’’میں تمہیں حسن کے گھر چھوڑ جائوں گا‘ اس کی والدہ بہت محبت کرنے والی خاتون ہیں اور خود حسن مجھ سے اس بات پر کئی مرتبہ اصرار کرچکا ہے کہ اس کا گھر ہوتے ہوئے بھی میں تمہیں اس گھر میں رکھ رہا ہوں۔‘‘
’’نہیں… مجھے کسی کے گھر بھی جانے کی ضرورت نہیں‘ یہ گھر جیسا بھی ہے لیکن ہے تو ہمارا اپنا۔ میں اسی گھر میں تمہارا انتظار کروں گی۔‘‘ تھکے ہوئے لہجے میں بات کرتے ہوئے اس نے اربش کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا‘ اربش کی بازو کے حصار میں اسے بے حد تحفظ محسوس ہورہا تھا۔
’’ایک سال یوں چٹکی بجاتے گزر جائے گا اور پھر تم اور میں اپنی زندگی کا ایک خوب صورت آغاز کریں گے بالکل اسی انداز میں جو تم چاہتی تھیں۔ میں ایک ایک کرکے تمہارے تمام خواب پورے کروںگا‘ یہ میرا تم سے وعدہ اب بھی برقرار ہے۔‘‘ دائیں بازو کو اس کے گرد لپیٹتے اربش نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’محلے کے لوگ سب بہت اچھے ہیں اور خاص طور پر ہمارے پڑوسی بھی خیال کرنے والے ہیں اس لیے تم میری فکر نہ کرنا اور دھیان سے اپنے کام پر توجہ رکھنا ویسے بھی فون تو ہم دونوں کے پاس ہیں ہی‘ تم جیسے ہی کام سے فارغ ہوجائو گے پھر سارا سارا دن اور ساری ساری رات باتیں کیا کریں گے۔‘‘ اس نے صرف اربش کی خوشی کے لیے اسے مضبوط کرنے کے لیے یہ بات کی تھی ورنہ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اربش کے جانے کے بعد اکیلے رہنے کے تصور سے بہت خوف زدہ اور سہمی ہوئی تھی۔
میں اب کے لوٹا تو صدیوں کی عمر لائوں گا
کہ تیرے ساتھ مجھے مختصر نہیں رہنا…!
اربش نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے شعر پڑھا تو اس کی جدائی کے خیال سے ہی اجیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں لیکن نیم تاریکی کی مہربانی سے اربش اس کی آنکھوں کی اداسی پڑھ نہیں پایا تھا اور یہی اجیہ چاہتی بھی تھی کہ اس کا کوئی دکھ اربش تک پہنچ کر اسے دکھی نہ کرے۔
’’تم میری فکر ہرگز نہ کرنا اربش‘ میں نے آج تک بہت کچھ سہا ہے‘ ہر قسم کے حالات دیکھے ہیں اور اتنا کچھ دیکھ لینے کے بعد میں بہت مضبوط ہوچکی ہوں اس لیے صرف اور صرف اپنے کام پر دھیان دینا۔‘‘
’’شکریہ اجیہ… تمہاری یہی سپورٹ میرا سہارا ہے اور تمہاری محبت ہی میرا سرمایہ۔‘‘
’’کتنا ٹائم لگے گا اس تمام پروسس میں؟‘‘ اجیہ نے پوچھا۔
’’میرے ڈاکومینٹس تو حسن تقریباً مکمل کرواچکا ہے میرے منع کرنے کے باوجود اس نے سب کچھ انتظام کر رکھا تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ کمپنی ویزہ بھیج رہی ہے یعنی کہ جاتے ہی جاب مل جائے گی اور اسی ماہ سے تنخواہ اور دیگر سہولیات بھی ملنا شروع ہوجائیں گی۔ مجھے صرف تمہاری اجازت کا انتظار تھا‘ اب کل ٹریول ایجنسی جاکر دیکھتا ہوں کہ کس دن کی سیٹ ملتی ہے۔‘‘ اربش نے مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔
’’اور ٹکٹ کے پیسے‘ اتنے پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوگا؟‘‘
’’حسن ٹکٹ کے پیسے ادا کرے گا میں تو اس حق میں نہیں تھا لیکن انکار کی صورت میں اس نے تمام عمر بات نہ کرنے کی دھمکی دی تو مجھے مجبور ہونا پڑا ویسے بھی ہمارے پاس تو اتنی رقم تھی بھی نہیں‘ بس اسی لیے ادھار سمجھ کر اسے ٹکٹ کے پیسے دینے کی اجازت تو دی ہے لیکن ارادہ یہی ہے کہ اس کے یہ پیسے واپس ضرور کرنے ہیں۔ ٹکٹ کے کہہ کر نہ کیے تو کسی اور طریقے سے لیکن لوٹائوں گا ضرور۔‘‘ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہی گہری خاموشی دونوں کے درمیان آن ٹھہری تھی‘ اسی دوران حسن کا فون آیا‘ وہ اربش کو بتارہا تھا کہ اسے کچھ دن کے لیے شہر سے باہر جانا پڑ رہا ہے اس لیے اگر اس کی اجیہ سے بیرون ممالک جانے کے معاملے پر بات ہو جائے تو وہ اس کے گھر سے کاغذات لے سکتا ہے۔
حسن اور اربش کی ہونے والی بات چیت کے دوران ہی دوبارہ لائٹ آگئی تھی سو وہ دونوں صحن سے اٹھ کر کمرے میں چلے آئے جہاں کھانا ٹھنڈا ہوچکا تھا اور اجیہ کے اصرار کے باوجود اربش نے کھانا گرم کرنے میں وقت ضائع کرنے سے منع کردیا تھا ویسے بھی آج کل اجیہ کی طبیعت کچھ بہتر نہیں رہتی تھی‘ نہ کھانے پینے کو دل چاہتا نہ ہی کوئی کام کرنے کو۔ عجیب سستی اور کسلمندی چھائی رہتی تھی‘ پہلے تو کچھ دن نظر انداز کیا لیکن کوئی بہتری کی صورت نظر نہ آئی۔ اربش کے آنے پر وہ صاف ستھرا لباس پہن کر تیار تو ضروری ہوتی لیکن اپنی طبیعت کے خلاف‘ دل مارنے کے بعد ورنہ حالت تو یہ تھی کہ کپڑے بدلنے کا بھی جی نہ چاہتا۔ پہلے سوچا کہ ار بش کو اپنی طبیعت کی خرابی کا بتائے پھر اس کی پریشانی کے ڈر سے چپ رہی‘ جانتی تھی کہ آج کل وہ ویسے ہی ٹینشن میں ہے اور اسپتال یوں بھی ان کے گھر سے نزدیک ہی تھا لہٰذا صبح جب اربش کسی کام سے نکلا تو وہ اسپتال چلی آئی تاکہ ڈاکٹر سے دوائی لے سکے پر اسپتال اتنا بھی نزدیک نہ تھا کہ پیدل جایا جاسکتا۔ وہاں تک جانے کے لیے بھی اسے بس میں ہی بیٹھنا پڑتا اور عین اس وقت جب بس میں بیٹھی اور بس چلنے لگی تو اسے یاد آیا کہ اپنا موبائل تو وہ گھر ہی بھول آئی ہے مگر تب تک بس چلنے لگی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔
اسپتال میں بھی حسب معمول انتہائی رش تھا۔ چیک اپ کروانے والی خواتین کی قطاریں لگی ہوئی تھیں‘ ویسے بھی یہ ایک نیم سرکاری اسپتال تھا جہاں پر ڈاکٹرز کی فیس نہ ہونے کے برابر تھی اور اتنے رش کی اصل وجہ بھی یہی تھی۔ عام طور پر اربش کے گھر سے باہر جانے کے بعد گھر واپسی تک وہ کئی مرتبہ اسے فون کیا کرتی تھی کبھی دو منٹ بات ہوتی تو کبھی دس منٹ لیکن وہ دونوں سارا دن ایک دوسرے سے رابطے میں رہا کرتے‘ یہی وجہ تھی کہ آج اس کے پاس فون نہیں تھا تو اسے سخت بے چینی ہورہی تھی۔ کبھی دل چاہتا کسی اور سے فون لے کر اربش کو کال کرلے لیکن یہ بھی اس لیے ممکن نہ تھا کہ اسے اربش کا فون نمبر ہی یاد نہیں تھا۔
’’بی بی اندر جائو تمہاری باری آگئی ہے۔‘‘ نرس کی آواز کے ساتھ ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ڈاکٹر ایک ادھیڑ عمر خاتون تھی جو بڑے ہی دوستانہ انداز میں اجیہ سے ملی۔
مکمل توجہ کے ساتھ انہوں نے اجیہ کی علامات سنیں اور چیک اپ کے بعد اسے جو اطلاع دی تو وہ یوں ہونق ہوئی گویا اس کے قدموں تلے کسی نے زمین ہی کھینچ لی ہو۔
’’وہ ماں بننے والی تھی۔‘‘ اور یہ خبر اتنی غیر متوقع تھی کہ اسے خوش ہونا بھی یاد نہ رہا تھا‘ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو اس نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر نے بڑی محبت و شفقت سے کچھ لمحوں کے لیے اسے بیڈ پر لٹادیا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close