Aanchal Sep-17

ہمارا آنچل

ملیحہ احمد

شازیہ نصیر احمد
آنچل کے تمام لکھنے والوں اور تمام پڑھنے والوں کو میرا خلوص بھرا پیار بھرا سلام قبول ہو۔ جی پہلے تو ہمارا نام شازیہ اختر تھا لیکن اب شازیہ نصیر بن چکا ہے لیکن پھر بھی سب نے اپنی پسند کا نام رکھا ہوا ہے جو نام مجھے بہت پسند ہے وہ ہے حلیمہ جو میرے کزن نے رکھا ہوا ہے 6 جون کو اس دنیا میں انٹری دی ۔ ہم چھ بہن بھائی ہیں‘ دوبہنیں اور چار بھائی میرا نمبر آخری ہے جس کا فائدہ بھی بہت اٹھاتی ہوں‘ بھائیوں سے لڑ کر چیزیں لینا میرا مشغلہ ہے۔ میرے بڑے بھائی امجد اور مزمل کی شادی ہوچکی ہے‘ میری آپی کی بھی شادی ہوچکی ہے میرا بھی نکاح ہوچکا ہے۔ اب بات ہوجائے خامیوں اور خوبیوں کی۔ خامیاں… غصہ بہت آتا ہے لیکن جتنی جلدی آتا ہے اتنی جلدی اتر بھی جاتا ہے ‘ غصے میں نہ جانے کیا کیا بول جاتی ہوں جو بات ہو منہ پر کہہ دیتی ہوں‘ چاہے سامنے والے کو برا لگے یا بھلا۔ خوبیاں… پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتی ہوں اور دوسروں کو بھی کہتی ہوں‘ ہنس مکھ ہوں کوئی بھی میری کمپنی میں بور نہیں ہوتا۔ دوستیں بنانا اچھا لگتا ہے جس سے ایک بارا ملتی ہوں وہ دوسری بار مجھ سے ملنے کی خواہش ضرور کرتا ہے۔ کسی کودکھی نہیں دیکھ سکتی‘ کوشش کرتی ہوں کہ میری وجہ سے کسی کو دکھ نہ ملے (بقول چھوٹی بھابی کے) شازی دل کی بہت صاف ہے ۔ (پسند نا پسند) مجھے بارش بہت اچھی لگتی ہے‘ بارش میں بھیگنا اور دعائیں مانگنا اچھا لگتا ہے کیونکہ بارش میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ رنگوں میں گلابی اور سفید کلر بہت پسند ہے‘ شاعری بہت پسند ہے‘ پڑھتی بھی ہوں اور لکھتی بھی ہوں (بقول نرگس کے) شازی کا انتخاب بہت اچھا ہوتا ہے۔ شاعروں میں نازیہ کنول نازی اور وصی شاہ بہت پسند ہیں اور رائٹرز میں نازیہ کنول‘ عشنا کوثر اور سمیرا شریف طور پسند ہیں۔ نازیہ کنول اور سمیرا پلیز آپ مجھ سے دوستی کریں گی میں آپ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں ۔ میرا تعلق ایک بہت ہی پیارے گائوں نور پور سے ہے۔ عظمیٰ آپی ہمارے گائوں میں رہتی ہیں‘ دوستیں تو بہت سی ہیںلیکن نرگس میری بہت پیاری دوست ہے ایک جان دو قالب والی بات ہے‘ ہم کوئی بات ایک دوسرے سے نہیں چھپاتے۔میری تعلیم کچھ خاص نہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں پڑھ سکی۔ آنچل سے وابستگی کافی عرصے سے ہے پہلے تو مانگ کر گزارا کرتے تھے لیکن اب اپنا لے لیتی ہوں۔ پسندیدہ شخصیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ پسندیدہ کتاب قرآن پاک ہے‘ اپنے اللہ پر بہت بہت یقین ہے میں نے آج تک اپنے رب سے جو بھی مانگا میرے اﷲ نے عطا کیا حتیٰ کہ زندگی کی سب سے بڑی خوشی عطا کی (راز کی بات ہے) دین اسلام سے کافی لگائو ہے‘ دینی کتابیں پڑھنا میرا مشغلہ ہے۔ دین پر کافی عمل کرتی ہوں دوسروں کو بھی بتاتی ہوں جس پر باتیں بھی سننی پڑتی ہیں جس کا میں نے کبھی برا نہیں مانا۔ میری خواہش ہے کہ میں معلمہ بنوں اور دین پھلاسکوں‘ اللہ میری خواہش پوری کرے‘ آمین۔ نازیہ آپی کا ’’جھیل کنارہ کنکر‘‘ سمیرا آپی کا ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ بہت پسند ہے‘ کھانا پکانا بہت اچھا لگتا ہے‘ کھانے میں جو بھی پکا ہو کھالیتی ہوں۔ اپنے والدین سے بہت پیار کرتی ہوں‘ سب قارئین اور رائٹرز سے گزارش ہے کہ میری امی کے لیے دعائے شفا کریں کیونکہ میری امی بہت بیمار ہیں‘ چھوٹے بچوں سے بہت پیار کرتی ہوں خصوصاً اپنے کیوٹ سے بھتیجے معاویہ مزمل اور بھتیجی حمنیٰ احمد میں تو میری جان ہے جب مجھے پھوپو کہہ کر بلاتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔ آخر میں اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گی۔
آسمان پر جتنے تارے ہیں
اور ندی میں جتنے دھارے ہیں
میری آنکھوں میں خواب ہیں جتنے
وہ لفظ تمہارے ہیں
اللہ حافظ‘ فی امان اللہ
صباء زرگر‘ زکاء زرگر
ہم انمول تو نہیں
مگر بارش کے ان
قطروں کی طرح خاص
ضرور ہیں
جو ہاتھ سے گر جائیں تو
پھر کبھی ملا نہیں کرتے
باادب‘ باملاحظہ‘ ہوشیار جوڑہ کی باسیاں اور ماما پاپا کی لاڈلیاں زکاء زرگر تشریف لارہی ہیں۔ تمام آنچل اسٹاف‘ قارئین اور رائٹرز کو محبتوں بھرا سلام قبول ہو۔ ہمارے نام سے تو آپ لوگ بخوبی واقف ہوں گے (الحمدللہ) لیکن پھر بھی تعارف تو بنتا ہے۔ جی تو میں ہوں صباء زرگر میں 21 نومبر کو اس دنیا کو رونق بخشنے آئی تھی‘ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پیار اپنے بھائی عبدالرحمان سے کرتی ہوں ۔ میری دعائیں زیادہ تر رحمن کے لیے ہوتی ہیں‘ اللہ تمہیں صحت و تندرستی والی زندگی دے اور کامیابی ہمیشہ تمہارے قدم چومے‘ آمین۔ آئی لو یو ریحان اینڈ علی مرتضیٰ۔ مما کے گزر جانے کے بعد دادو نے ہماری تربیت ہمیشہ ماں اور دادو دونوں بن کر کی ہے۔ (ارے ارے ذکاء تم کہاں گئیں) جی جناب میں ہوں ذکاء عروج! میں لائف کو انجوائے کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو اس دنیا میں آئی۔ میرا فیورٹ سبجیکٹ انگلش ہے‘ میتھ مجھے اور آپی صباء دونوں کو بور لگتا ہے جس کی وجہ سے ہم دونوں کو گھر میں میتھ فیل کا لقب دیا گیا ہے‘ الحمدللہ پیپرز میں ہم دونوں فل پاس ہوجاتی ہیں اگر کوئی گھر میں ہم سے ضرب کا کوئی سوال پوچھ لے تو ہم دونوں ایسے غائب ہوتی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ (ہاہاہا) البتہ ہماری چھوٹی بہن صدف وہ بہت ذہین ہے‘ دادو زیادہ تر اس سے حساب کرواتی ہیں اور وہ منٹوں میں حل کردیتی ہے بنا کاپی اور کیلکولیٹر کے۔ میں اور آپی صباء صرف بہنیں ہی نہیں بلکہ بیسٹ فرینڈز ہیں‘ ہم ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں اور ماشاء اللہ لڑائی بھی بہت ہوتی ہے‘ ہاہاہا۔ اب بات ہوجائے پسند اور ناپسند کی تو آپی صباء کا فیورٹ کلر وائٹ ہے اور میرا پنک ہے مگر ہم دونوں ہر کلر پہن لیتی ہیں اور سوٹ بھی سارے کلرکرتے ہیں۔ کھانوں میں ہمیں گوشت اور گوشت سے بنی ہر چیز پسند ہے‘ چاول بھی بہت شوقیہ کھاتے ہیں۔ میٹھے میں ہر چیز ہڑپ کرجاتی ہیں‘ ہاہاہا (اب آپ ہمیں کنجوس نہیں سمجھئے گا ہم اتنی بھی کنجوس نہیں ہیں)۔ رائٹرز میں ہماری فیورٹ نازی آپی‘ سمیرا شریف‘ فاخرہ گل‘ سیدہ غزل‘ عشنا کوثر اور اقراء صغیربہت پسند ہیں۔ شاعروں میں فراز احمد‘ فیض احمد فیض ‘ وصی شاہ‘ راشد ترین مظفر گڑھ‘ وقاص عمر حافظ آباد‘ ان کی شاعری کمال کی ہے۔ ہماری فیورٹ شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پاپا جانی ہیں۔ آپی صباء کو کپڑوں میں گھیر والی فراک اور سادہ قمیص شلوار پسند ہیں اور مجھے شارٹ شرٹ‘ ٹرائوزر‘ فراک پسند ہے۔آپی صباء کو جیولری میں ائیر رنگ اور بریسلیٹ بہت پسند ہیں اور جیولری پسند نہیں البتہ واچ فیورٹ ہے (آپی صباء اگر گفٹ کرنی ہے تو کردو میں منع نہیں کروں گی‘ ہاہاہا)۔ آپی صباء کی فرینڈ لسٹ میں ردا‘ رومین اور روبینہ ہیں اور جویریہ تبسم ہیں۔ میری فرینڈ لسٹ میں حمیرا‘ شبنم‘ عیشاء‘ زوہا اور ام حبیبہ ہے اور اروبہ بھی ہے (ماچھن ردا تینوں تے میں پول ہی گئی آں) ۔ ردا ہماری بیسٹ کزن ہے اور ہمارے سب سے زیادہ قریب ہے جب ہم تینوں اکٹھی ہوجائیں تو شیطان ہم پر حاوی نہیں ہوتا بلکہ ہم شیطان پر حاوی ہوجاتی ہیں‘ ہاہاہا۔ بابا سمیت ہم سب بہن بھائی رات کو اکٹھے ہوتے ہیں تو بابا پرانے زمانے کی باتیں بتاتے ہیں اور اپنا بچپن بھی اور ہم سب بہت دلچسپی سے سنتے ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک بہت بڑا میلہ لگتا ہے‘ ہمارا گھر دربار کے ساتھ ہے دربار کی دیوار اور ہمارے گھر کی دیوار ایک ہے۔ہمارے گھر اتنے رشتے دار آتے ہیں (جتنا رش شادی پر بھی نہیں ہوتا) ان دنوں پھوپو کی بیٹیاں بیٹے‘ ماموں کے بیٹے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان دنوں ہمارے دن کیا رات کیا‘ ایک ہی ہوتا ہے خوب ہلہ گلہ ہوتا ہے۔ ان دنوں ہم تینوںکی شرارتوں کی بھرمار ہوتی ہے اور آخر میں پلیز ضرور بتایئے گا کہ ہمارا انٹرویو اچھا تھا یا اقصیٰ و سنیاں زرگر کا اور ہماری طرف سے سب کے لیے۔
سنو
زندگی اپنی ہنس کر بسر کرنا
نفرتوں کے رستے پر نہ سفر کرنا
سنو
وفا نہ ہو تو محبت ادھوری ہے
محبت کے سفر میں وفا کی فکر کرنا
اور سنو
زمانہ جتنا بھی ہو ہمدرد تمہارا
زمانے کو نہ شریک سفر کرنا
اور سنو…
محبت ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتی
ملے جو محبت تو اس کی قدر کرنا
اور سنو…
بس… اپنا خیال رکھنا
اللہ حافظ۔
ارم صابرہ
السلام علیکم!
زندگی کبھی گل گلزار معلوم ہوتی ہے تو کبھی کانٹوں بھرا راستہ دکھائی دیتی ہے۔ زندگی کو جینے کا ہر انسان کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے اگر آپ کو زندگی کے سفر میں آپ کی فیملی کی صورت میں کبھی کوئی ایسا سائبان ملتا ہے جس کی چھائوں میں پناہ لیتے ہی گویا جنت کا احساس ہوتا ہے اور کبھی ہمیں اپنی فیملی میں ایسے حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ چاہتوں کے آسمان تلے بھی ہم تنہا ہوتے ہیں خیر میں ارم صابرہ اپنی فیملی کے جو کہ پانچ افراد پر مشتمل ہے ابو‘ امی‘ وسیم بھائی‘ نعیم بھائی اور میں یعنی پھولوں کی وادی کی اداس پنچھی ارم صابرہ۔ اپنی فیملی کے بارے میں کیا لکھوں‘ ہر رنگ‘ ہر احساس سے ہمکنار ہوئی ہوں میں۔ کبھی بادلوں اور برسات سے واسطہ پڑا تو کبھی زندگی کی شاہراہ پر گلاب کھل اٹھے۔ میرے ابو ایک ایسے باپ ہیں جن کی شفقت اور پیار تو ہمارا نصیب ہے مگر شاید وہ اظہار کا طریقہ نہیں جانتے۔میری امی جنہوں نے مجھے اور میرے بھائیوں کو آج اس مقام تک پہنچایا ان کی محبت اور اللہ پاک کی مدد سے ہم کامیاب ہوئے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بس اتنا کہوں گی ڈھلتی شام کے انوکھے رنگوں اور ابھرتی سحر کے حسین لمحوں کی طرح کے مزاج کی مالک میری اماں‘ آپ کے پیار کی حصہ دار میں بھی ہوں۔ جی تو اب باری ہے میرے چن ورگے ویر کی‘ صبح کی پہلی کرن جب گھاس کے دامن میں بسے شبنم کے قطرے کو جگانے آتی ہے تو اس وقت اس ننھے قطرے کے وجود سے جو محبتوں کی قوس و قزح جنم لیتی ہے جو پیارا منظر وجود میں آتا ہے بس ویسے ہی ہیں میرے بڑے بھائی وسیم جو ماشاء اللہ پاکستان ائیر فورس کا حصہ ہیں۔ میرے یہ بھائی ایسے جو خود تو مجھے ڈانٹ لیتے ہیں غصے میں مگر گھر میں سب کے سامنے ڈھال بھی وہی بنتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ جس دن تک میرا بھائی میرے ساتھ ہے میں زندہ رہ پائوں گی ورنہ یہ لوگ‘ یہ دنیا مجھے جینے نہیں دے گی۔ بھائی مجھے کبھی تنہا مت چھوڑدیئے گا نہ مجھ سے کبھی بے اعتبار ہویئے گا۔ اب باری آتی ہے بھائی نعیم کی جو کہ ذرا بھی میرے بھائی نہیں لگتے‘ ہر وقت کی لڑائی‘ طعنے اُف‘ کسی پل ہمیں چین نہیں آتا لیکن پتا نہیں کیوں جب وہ گھر آتے ہیں تو میری زبان پر کھجلی ہونے لگتی ہے‘ پریشانی ہونے لگتی ہے کہ ہم کب لڑائی کریں گے‘ بھائی نعیم بھی ائیر فورس میں ہیں۔ اب تشریف لارہی ہیں عزت مآب ارم صابرہ صاحبہ میں اپنے بارے میںکیا لکھوں ایسے الفاظ ہی نہیں اپنی شان کے قابل ہاہاہا۔ میں14 مئی 1996ء کو اس دنیا میں اپنا حسن بکھیرنے آئی‘ دونوں بھائی بڑے ہیں کوئی بہن نہیں ہے اور کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔ اپنے بڑے بھائی اور بڑے ماموں کی بہت لاڈلی ہوں‘ ہر جائز و ناجائز بات منواتی ہوں‘ غصہ اتنا آتا ہے اور جب آتا ہے تو نظر نہیں آتا کہ سامنے کون ہے اکثر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتی ہوں چیزوں کو توڑ کر پھر بعد میں افسوس ہوتا ہے ۔ کھانے میں بہت کم چیزیں پسند ہیں‘ بلیک کافی اور چائے بغیر چینی کے جنون کی حد تک پسند ہے‘ بی کام کی طلبہ ہوں ‘ لاسٹ سمسٹر ہے۔نازی آپی‘ سمیرا آپی کی تحریریں بہت پسند ہیں‘ آنچل تقریباً جب 6 کلاس میں تھی تب سے شروع ہے۔ میری پسندیدہ ہستی میری میڈم جی مس صابرہ صاحبہ ہے‘ جن کا نام میں اپنے نام کے ساتھ لگایا ہوا ہے‘ مجھے ان سے عشق ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے میری دعا ہے کہ میری میڈم صابرہ جی ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہیں وہ ہے تو میری ذات کادیا روشن ہے ورنہ سب ختم‘ آخر میں ایک شعر مس صابرہ جی کے لیے۔
ہم نے کہا ہم کو بھلا سکو تو کمال ہوگا
ہم نے تو فقط بات کی تھی آپ نے تو کمال کردکھایا
اللہ حافظ۔
بسمہ عابد مخدوم
تمام پڑھنے اور سننے والوں کو اس چاند سے چہرے کا شہد سی شیریں آواز میں سلام۔ (سننے والوں کو اس لیے کہ شاید کچھ لوگ میری طرح سب کے تعارف کو اونچی آواز میں پڑھ کر پورے گھر کو سنانے کے عادی ہوں)۔ ارے ارے یہ بندوقیں اور توپیں کس لیے؟ اچھا اچھا سلامی دینے کے لیے‘ دیجیے دیجیے روکا کس نے ہے؟جی تو آپ سب میرے بارے میں جاننا چاہتے ہوں گے کیونکہ نام تو اوپر پڑھ ہی چکے ہیں۔ جی تو ہم ہیں بسمہ عابد مخدوم ‘ اپنے گھر کی سب سے چھوٹی چرا غنی‘ ہم 11 مارچ کو اس ظالم کانٹوں بھری دنیا میں تشریف فرما ہوئے تو ہر جانب پھول ہی پھول کھل گئے (ارے بہار کا موسم تھا نا)۔ میرے نام کا مطلب مسکراہٹ ہے‘ اس لیے میں ہر وقت اپنے چاند سے مکھڑے پر مسکراہٹ سجائے رکھتی ہوں۔ پیار سے مجھے سب ’’موجو‘‘ کہتے ہیں کیونکہ مجھے موجیں کرنے کا بہت شوق ہے‘ ہم پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں بلکہ لمبے لمبے بھائی ہیں‘ دونو ں سب سے چھوٹے مگر مجھ سے بڑے ہیں کیونکہ میں سب سے چھوٹی ہوں اور بہت ہی پیارے پیارے امی ابو ہیں‘ اللہ ان کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے‘ آمین۔ میری ایک ہی دوست ہے جو کہ میری ہم نام ہے‘ وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے مگر اب مجھ سے بچھڑ گئی ہے ارے آپ کیا سمجھ رہے ہیں وہ زندہ ہے‘ اللہ اسے زندہ رکھے بس اسکول بدل گیا ہے۔ میں دہم جماعت کی طالبہ ہوں اور الحمدللہ پوزیشن ہولڈر ہوں‘ (اللہ حاسدوں کی بری نظر سے بچائے) کیونکہ میرے دوست کم اور جلنے والے زیادہ ہیں مجھے ویسے بھی اپنی بہنوں کی طرح ڈھیر ساری سہیلیاں بنانے کی عادت نہیں ہے‘ پتا نہیں وہ میری خوبی ہے کہ خامی (زیبا تو خامی کہتی ہے) اب اگر بات خوبیوں اور خامیوں کی آہی گئی ہے تو وہ بھی بتاتی چلوں۔ خامیاں تو مجھ میں بہت ہیں مثلاً غصہ بہت آتا ہے‘ لڑائی جھگڑا بہت کرتی ہوں اور شک بھی بہت کرتی ہوں اور جھوٹ تو بہت ہی بولتی ہوں۔ خوبی یہی ہے کہ اپنی یہ خامیاں کھلے دل سے تسلیم بھی کرتی ہوں‘ اس کے علاوہ والدین اور اساتذہ کا بہت احترام کرتی ہوں اس کے علاوہ ہر وقت ہنستی رہتی ہوں ‘ میرے بہن بھائی میری مدھر سی ہنسی سے بہت تنگ ہیں‘ پتا نہیں کیوں؟ باقی خوبیاں مجھے یاد نہیں آرہیں بقول زیبا کے ہوں گی تو آئیں گی نا اور وہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ ’’تمہارا دل بہت چھوٹا ہے جو تم جیسے لوگوں کے نزدیک خوبی اور ہم جیسے اچھے لوگوں کے نزدیک خامی ہے‘‘ ہونہہ اچھے لوگ دیکھا میری بہنیں کتنی ظالم ہیں ذرا سا دل بھی نہیں رکھتیں۔اب آتی ہوں مشاغل کی طرف تو میوزک سننا میرا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے‘ تھوڑی بہت فضول قسم کی پینٹنگ بھی کرلیتی ہوں رہی بات مطالعہ کی تو ابھی تک صرف بچوں والی کہانیاں ہی پڑھ سکتی ہوں۔ ارے بھئی چار بڑی بہنوں کی چھوٹی بہن ہوں سمجھ ہی سکتے ہیں کہ مجھ پر کتنی پابندیاں ہوں گی؟ افسانے صرف نصابی کتابوں والے ہی پڑھ سکتی ہوں‘ آنچل میں سے بھی ناول اور افسانے چھوڑ کر اچھی باتیں‘ اقوال زریں‘ حمدونعت‘ دانش کدہ اور دیگر سلسلے پڑھ سکتی ہوں۔ آپ دیکھ لیجے کہ ’’عبد اللہ‘‘ جیسا شریف ناول بھی نہیں پڑھنے دیا گیا‘ ہائے میں بے چاری ‘ اوپر سے آنچل کے یہ چیدہ چیدہ سلسلے پڑھنے کے بھی زیبا مجھ سے پیسے وصولتی ہے (آپ سوچ رہی ہوں گی کہ زیبا کا ذکر بار بار کیوں کررہی ہوں وہ اس لیے کہ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں)اس کی علاوہ مجھے آرمی میں جانے کا بہت شوق ہے‘ اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہید ہونا چاہتی ہوں اس کے علاوہ بڑے ہوکر اس ملک کے غریب لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔میرے خواب پورے ہونے کی دعا کیجیے گا‘ اب اجازت دیجیے آپ کا بہت سر کھالیا حالانکہ یہ میرا حق تھا تعارف کیسا لگا ضرور بتایئے گا‘ اپنا خیال رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close