Aanchal Sep-17

الکوثر

مشتاق احمد قریشی

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر کو پچاس ہزار سال تک قیامت میں کھڑا کیا جائے گا جس طرح سے اس نے دنیا میں کوئی قابلِ قبول عمل اللہ کے لیے نہیں کیا اور وہ کافر جہنم کو دیکھ رہا ہو گا اور سمجھ رہا ہو گا کہ وہ چالیس سال کی مسافت سے مجھے گھیرنے والی ہے۔ (مسند احمد۔ الحاکم۔ ابن جریر)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے متعلق پوچھا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ وہ کتنا طویل دن ہو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کو مومن کے لیے مختصر کیا جائے گا اتنا کہ وہ جتنی دیر میں دنیا میں فرض نماز ادا کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آسان ہوگا۔ (مسند احمد۔ ابن جبان)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ ربّ العالمین کے سامنے مومین کھڑے ہوں گے تو مومن پر قیامت کا دن ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کے برابر ہو گا۔ (اخرجہ احمد‘شعب الایمان‘ ابن جریر‘ درمنشور‘ البدور السافرہ‘ امام سیوطی)
ترجمہ۔ بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے۔ بالیقین آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔
اس سورہِ مبارکہ سے متعلق سببِ نزول اور کچھ تفصیل ابتدائی صفحات میں آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔ حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ طاری ہوئی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الکوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جانتے ہو کوثر کیا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔ (امام احمد‘ مسلم‘ ابو دائود‘ نسائی‘ ابن ابی شعیب‘ ابن الُمنذر‘ ابن مردُویہ‘ بیہقی) یہ سورہ مبارکہ ایک رکوع تین آیات‘ دس کلمات اور اکتالیس حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورہ مکی ہے۔ علامہ سیوطی تحریر فرماتے ہیں کہ اس سورہ کا نام اسی لفظ کوثر سے ماخوذ ہے۔ یہ سورہ قرآن حکیم کی سب سے چھوٹی‘ مختصر سورہ ہے۔ اس سورہ کے تین حصے ہیں جنہیں ہم تین آیات پر منحصر بھی کہہ سکتے ہیں یہ سورہ مبارکہ ایک قرآنی معجزے کی بہترین مثال ہے گو کہ قرآن حکیم خود ایک الٰہی معجزہ ہے اس سورہ مبارکہ کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف تسلی دے رہا ہے بلکہ بُی خوش خبری کی اطلاع دے رہا ہے‘ دوسری آیت شریف میں وہ اپنے محبوب کو انعام حاصل کرنے پر شکر گزاری کے طریقے سے بھی آگاہ کررہا ہے کہ ’’تم اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘ یہ سورۃ مبارک اپنے اندر بہت وسعت و معنی لیے ہوئے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی کے وقت جب کہ محبوب آزردہ و پریشانی کے عالم میں تھے ایسے وقت میں حرفِ تسلی کو بھی اپنی عبادت کو ایثار و قربانی سے مشروط کر کے امت مسلمہ کے لیے یہ چراغ روشن فرما دیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے کچھ انعامات و جزا پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان جو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتّباع کرتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے میں ثابت قدم ہو اسے چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ احکامِ الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے معبود حقیقی اللہ واحد کی عبادت کرے اور راہ حق میں آنے والی مشکلات و مصائب میں ایثار و قربانی سے کام لے۔ ذاتی مفادات کو ذاتی اغراض کو احکامِ الٰہی اور مخلوقِ الٰہی پر ترجیح نہ دے اور صبر و نماز کو اپنا شعائر بنا لے تیسری اور آخری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی کے بعد خوش خبری دی جارہی ہے کہ آپ کا دشمن نیست و نابود ہو جائے گا۔ اُسے جڑ سے ہی اکھاڑ دیا جائے گا۔ یہ سورہ مبارکہ تین آیات پر مشتمل ہے انہیں الگ الگ تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
ترجمہ۔ بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کردی۔
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرما کر ارشاد فرما رہا ہے کہ ہم نے تم کو کوثر عطا کی۔ اللہ تعالیٰ کی اس عطا اس انعام عظیم کو سمجھنے کے لیے ہمیں سورہ الضحیٰ کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ سورہ الضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا تھا جو خوش خبری سنائی تھی وہ تھی۔
ترجمہ۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو (اتنا) دے گا (انعام) سو آپ خوش ہو جائیں گے۔ (سورۃ الضحٰی۔ ۵)
تفسیر۔ اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے فرمایا۔ ’’میں کبھی ہرگز راضی نہیں ہوں گا جب تک کہ اپنی امّت سے ایک ایک کو جنت میں داخل نہ کرا لوں۔‘‘ یہ آیت مبارکہ اللہ کے محبوب و پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فرمائش و خواہش کو پورا کرنے کی نوید دے رہی ہے کہا جارہا ہے ’’آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے محبوب کے لیے ایک بڑا اہم اور وسیع وعدہ ہے حق سبحانہ کی طرف سے ایک عظیم خلعت ہے اپنے محبوب کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بخششیں اور عنایتیں‘ انعامات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کے پیدا ہونے سے لے کر ابتداے بہشت میں داخل ہونے تک جو عطا ہوئے ہیں۔ وہ بیان کی حد سے باہر ہیں۔ کوئی قلم‘ کوئی تحریر ایسی نہیں جو اس کا ادراک کر سکے۔ احاطہ تحریر میں لاسکے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اس آیت مبارکہ کے بارے میں تحریر کرتے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خصوصیات اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے عطا فرمائی گئیں وہ دو قسم کی ہیں۔ پہلی قسم تو وہ ہے جس میں دوسرے انبیاء علیہم السلام بھی شریک ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نعمت سب سے زیادہ عطا کی گئی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و رسل میں سب سے ممتاز اور محبوب ہیں۔ دوسری قسم خصوصیات کی وہ ہیں جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی مخصوص ہیں۔ دوسرا کوئی اس میں آپ کا شریک نہیں۔ حضرت شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ یہاں مختصراً ان دونوں اقسام سے کچھ تھوڑا سا بیان کررہے ہیں تاکہ اس آیت مبارکہ کے معنی اچھی طرح ذہن نشین ہو سکیں۔ ان خصوصیات میں ایک خصوصیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت پر بھی ایسے ہی دیکھ سکتے تھے جیسا ارد گرد دیکھتے تھے۔ ایسے ہی رات کے وقت اور اندھیرے میں ایسے دیکھتے تھے جیسا کہ دن کی روشنی میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک کھارے کڑوے پانی کو میٹھا کردیتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز مبارک اتنی دور تک سنائی دیتی تھی کہ عام آدمی کی آواز اس کے دسویں حصہ تک نہیں پہنچتی تھی۔ نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک مصروف ذکر رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری عمر جمائی نہیں آئی۔ پسینہ مشک سے زیادہ خوشبودار تھا جس راستے سے گزرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو کافی دیر ہوا میں پھیلی رہتی۔ جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس طرف سے ہوا ہے۔ دھوپ کے وقت ہمیشہ بادل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک مبارک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالمِ ارواح میں سب سے پہلے پیدا کیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و رسل میں یہ فوقیت و اہمیت حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج اور براق کی سواری میسر آئی۔ آسمانوں پر جانا‘ وہاں کی سیر کرنا صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی۔ قاب قوسین تک پہنچنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا یہ بھی شرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے چاند کو دو ٹکڑے کرنا اور روز آخرت جب صور پھونکا جائے گا اور مردے اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے اٹھائے جانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدان حشر میں براق پر سوار ہو کر تشریف لائیں گے۔ ستر ہزار فرشتے آپ کے چاروں اطراف مامور ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرش عظیم کے داہنی طرف کرسی پر بیٹھائے جائیں گے اور حمد کا جھنڈا آپ کے دست مبارک میں ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی تمام اولاد اس جھنڈے تلے اور تمام انبیاء السلام اپنی اپنی امتوں کے ساتھ آپ کے پیچھے ہوں گے اور دیدار الٰہی سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے پہلے صراط مستقیم سے گزریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے پہلے بہشت کا دروازہ کھولیں گے اور روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ’’وسیلہ‘‘ کے مرتبے پر فائز کیا جائے گا۔ (وسیلہ ایسا بلند ترین مرتبہ ہے جو تمام مخلوقات میں سے کسی کو میسر نہیں ہوا)
تمام شریعتوں‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت جن باتوں میں مخصوص ہے ان کی گنتی بہت طویل ہے۔ آپ کی شریعت میں کافروں کی غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ تمام زمین کو مسجد بنا دیا گیا یعنی جس جگہ چاہیں نماز پڑھیں۔ زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی ہے یعنی تیمم مشروع ہوا۔ وضو‘ پانچ وقت کی نماز‘ اذان‘ اقامت‘ سورہ فاتحہ‘ آمین‘ جمعہ کا دن‘ مقبولیت کی ساعت جمعہ کے دن میں ہے‘ رمضان‘ شریعت‘ شب قدر کی برکتیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے لیے مخصوص ہیں۔
وہ فضائل و خصوصیات اور کمالات جو اللہ جل شانہ نے خاص اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے اور انبیاء کرام میں سے کسی اور نبی کو ان میں شریک نہیں فرمایا ان کے متعلق حدیث شریف میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے چند چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں دی گئیں۔
(۱) میری بعثت تمام دنیا کی طرف ہوئی۔ مجھ سے پہلے انبیاء صرف اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور میں تمام دنیا کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
(۲) میں خاتم النبین ہوں۔ میری ذات پر سلسلہ انبیاء ختم ہوا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۳) مجھ کو جو امع الکلم عطا کیے گئے یعنی ایسے مختصر اور جامع کلمات کہ الفاظ تو تھوڑے ہوں اور معنی بے شمار (جیسا کہ احادیث نبوی کا مجموعہ)
(۴) مجھے رعب و ہیبت کے ذریعے فتح و نصرت عطا کی گئی۔ بلا اسباب ظاہری کے ایک مہینے کی مسافت تک کے میرے دشمن مجھ سے مرعوب و خوفزدہ رہتے ہیں۔
(۵) تمام روئے زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور مطہر بنا دی گئی یعنی میری امت کو ہر جگہ نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ خواہ مسجد ہو یا غیر مسجد اور میرے لیے پاک مٹّی سے تیمم کا حکم نازل ہوا کہ مجھے ہر جگہ تیمم کی اجازت ہے اور میرے لیے مٹّی کو پانی کی طرح مطہر پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا۔
(۶) مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کے لیے حلال نہیں تھا۔
(۷) میرے پیرو تمام انبیاء و مرسلین کے پیروں سے زیادہ ہوں گے چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جنتیوں کی ۱۲۰ صفیں ہوں گی جن میں سے ۸۰ صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی۔
(۸) مجھے شفاعت کبریٰ کا مرتبہ عطا کیا گیا کہ قیامت کے دن اولین اور آخرین میری طرف رجوع کریں گے اور میں ان کے لیے بارگاہ الٰہی میں شفاعت کروں گا۔
(۹) سب انبیاء و مرسلین سے پہلے میں اپنی امت کو پل صراط سے لے کر گزروں گا۔
(۱۰) سب سے پہلے میں جنت میں داخل ہوں گا اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھا میرے دائیں اور بائیں ہوں گے اور جنت میں ہر نبی کے لیے حوض ہو گی اور میری حوض سب سے وسیع اور پررونق ہو گی۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close