Aanchal Nov-17

ذرا مسکرا میرے گمشدہ

فاخرہ گل

آگہی کا عذاب باقی ہے
کھل گئی آنکھ خواب باقی ہے
وقت تتلی تھا اڑ گیا کب کا
ڈائری میں گلاب باقی ہے

گزشتہ قسط کا خلاصہ
اجیہ ڈاکٹر کی بات پر دنگ رہ جاتی ہے اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ یہ خوش خبری کس سے شیئر کرے ایسے میں وہ جلد از جلد اربش سے رابطہ کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے گھر پہنچنا لازمی ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر اسے فی الحال جانے نہیں دیتی، غزنی حنین کے ذریعے اربش کے تمام ڈاکومنٹس حاصل کرتا ہے اور آخر میں یہ بات اس کے لیے بے حد حیران کن ہوتی ہے کہ یہ اربش اجیہ کا شوہر ہے اربش کو اپنے سامنے دیکھ کر غزنیٰ بدلے کی آگ میں جلنے لگتا ہے دوسری طرف شرمین کے لیے بھی یہ خبر کسی انہونی سے کم نہیں ہوتی ایسے میں وہ فوراً اربش کی ممی کو بتاتی ہے کہ اسے اربش کا علم ہوگیا ہے اربش کی ممی اس کی بے حد ممنون نظر آتی ہیں، آفس میں اربش شرمین سے نہیں مل پاتا اور وہ خود بھی اس کے سامنے آنے سے کتراتی ہے۔ اربش کے لیے چند گھنٹے بعد کا سفر بہت سی مشکلات لے کر آتا ہے اجیہ کو سمجھانا اور اس سے رابطہ کرنا بے حد دشوار لگتا ہے ایسے میں وہ اپنے گھر جا کر اپنی ماں کو تمام صورت حال بتانا چاہتا ہے لیکن وہاں موجود سکندر صاحب کو دیکھ کر اور ان کی عامیانہ گفتگو سن کر اسے اپنی ماں پر بے حد غصہ آتا ہے جو چپ چاپ اس شخص کی بات سن رہی تھیں وہ ان سے ملے بغیر واپس گھر لوٹ جاتا ہے جہاں اجیہ ابھی تک لوٹ کر نہیں آتی، غصے میں وہ اجیہ کا فون بھی توڑ ڈالتا ہے اور غزنیٰ کی کال پر جلدی جلدی سامان سمیٹتے سفر کے لیے روانہ ہوجاتا ہے۔ اجیہ گھر لوٹتی ہے تو اسے گھر کی حالت دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ضرور کوئی چوری کی نیت سے یہاں آیا تھا اس کا فون بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہوتا ہے ایسے میں وہ اربش سے رابطہ بھی نہیں کرپاتی۔ سکندر صاحب اربش کی ممی کی خاموشی کو رضا مندی سمجھتے جلد از جلد حنین کی رخصتی کردینا چاہتے ہیں دوسری طرف اپنی بیمار بیوی کو وہ اسپتال میں ہی رکھنے کا ارادہ کیے ہوتے ہیں حنین ان کی جلد بازی پر گھبرا جاتی ہے۔ شرمین اجیہ کے گھر پہنچ کر اسے شاکڈ کردیتی ہے اور اربش کے باہر جانے والے واقعے کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر یہ ظاہر کرتی ہے کہ اربش نے اس کا بدلہ لینے کی خاطر نہ صرف اجیہ سے شادی کی بلکہ اب وہ اپنا مقصد پورا ہونے پر باہر بھی جاچکا ہے ثبوت کے طور پر تمام کاغذات بھی وہ اپنے ساتھ لاتی ہے اجیہ یہ سن کر دنگ رہ جاتی ہے۔ غزنی ائیر پورٹ پہنچ کر احسن سے رابطہ کرتا ہے اور اجیہ اور اپنے بارے میں تفصیل سے بتاتے اسے تمام صورت حال سے آگاہ کرتے اور نیا فون دلانے کی بات کرتا ہے ایسے میں احسن جلد وہاں پہنچ کر اجیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے غزنی اس دوران اربش کو اپنی سازش میں پوری طرح جکڑ لیتا ہے۔
اب آگے پڑھیے
ڑ…/ …‘
بانجھ ارادہ اور کوئی
جھوٹا وعدہ اور کوئی
ہم جیسا کیا دیکھا ہے؟
تم نے سادہ اور کوئی
دل میں سارا کھوٹ ہی کھوٹ
تن میں لبادہ اور کوئی
نکلے تھے ہم اپنے گھر سے
کر کے ارادہ اور کوئی
آخر کس امید پر مانگیں
امجد وعدہ اور کوئی
سکندر صاحب نے ہمیشہ ہی تمام گھر والوں کی امیدوں کے برعکس کام کیا تھا اکثر اوقات ہی ایسا ہوتا کہ ان سے توقع کسی اور عمل کی ہوتی اور ان کے افعال کوئی اور آئینہ دکھا رہے ہوتے لیکن پہلے ان کے والدین ان کی ہر بات کو نظر انداز کرتے چلے آئے تھے اور ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے بڑے بھائی نے بھی والدین ہی کی روش اختیار کیے رکھی وہ ہمیشہ انہیں چھوٹا بھائی ہونے کا فائدہ دیتے چلے آئے تھے لیکن یہ سب تب تک کا معاملہ تھا جب تک سارے معاملات ان تک محدود تھے لیکن اب اولاد کا وقت تھا اور ویسے بھی جب اولاد اپنے قد کے برابر آنے لگے تو ان کی رائے کو اہمیت دینی ہی پڑتی ہے کسی بھی کام کے لیے پاس بٹھا کر مشورہ بھی کیا جاتا ہے اور یہی باشعور اور سمجھدار والدین کی نشانی بھی ہے۔
اور ابا کا بھی یہی وطیرہ تھا گھر کا کوئی بھی اہم معاملہ ہوتا وہ نہ صرف اماں بلکہ غزنی کے سامنے بھی تمام معاملہ رکھتے اور ان دونوں کے مشورے کے بعد ہی کوئی بھی فیصلہ عمل میں لاتے لیکن آج جب ماں نے سکندر صاحب کی خواہش ان تک پہنچائی تو پہلے تو وہ خود بھونچکا رہ گئے کہ آخر یہ کیسی بات کی ہے انہوں نے پھر لہسن، پیاز چھیلتی اماں کو مخاطب کیا۔
’’آپ کو یقین ہے کہ سکندر نے یہ بات مکمل سنجیدگی سے ہی کی تھی؟‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر سکندر صاحب سے سمجھداری کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
’’یقین کیوں نہ ہو مجھے‘ یہ سب کچھ انہوں نے حنین کے سامنے ہی تو کہا تھا اور پھر میرا ان کے ساتھ کون سا مذاق کا رشتہ ہے کہ وہ یوں بیٹھے بٹھائے مجھے لطیفے سنانے لگ جائیں گے۔‘‘
’’اوہو بیگم صاحبہ میں نے ایسا کب کہا؟‘‘ لہجے میں شگفتگی سموئے انہیں اپنی بات کی وضاحت دینی پڑی تھی۔ ’’بھئی دراصل مجھے ہرگز بھی سکندر سے اس حد تک بے حسی کی امید نہیں تھی کہ بیوی زندگی موت کی جنگ لڑتے اسپتال میں پڑی ہو اور وہ اس بات پر اصرار کرنے لگے کہ اس کی بیٹی کی رخصتی ہوجانی چاہیے۔‘‘
’’ہمم… کہتے تو آپ ٹھیک ہی ہیں اور اس وقت جو تاثرات حنین کے چہرے پر میں نے دیکھے تھے آپ یقین کریں میرا دل کٹ کر رہ گیا کیا تھا‘ سوچتی ہوگی وہ کہ اس کے ابا اب اسے ایک بوجھ کی طرح سر سے اتار پھینکنا چاہتے ہیں اور خود اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ بہن اب جتنی جلدی ہوسکے اسے لے جائو۔‘‘ اماں اپنے کام میں مصروف رہ کر بولیں۔
’’ویسے میں یہ سوچتی ہوں تو دل میں شدید گھٹن کا احساس ہوتا ہے کہ کتنی بدنصیب ہوتی ہیں وہ بیٹیاں جنہیں اپنے باپ کی محبت‘ اس کا سہارا اور اعتماد ہی میسر نہ ہو۔‘‘ اماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
ان کی اپنی تو کوئی بیٹی نہیں تھی لیکن آخر وہ خود بھی تو کسی کی بیٹی تھیں اور بیٹیوں کے جذبات اور احساسات خوب سمجھتی تھیں یہی وجہ تھی کہ اب تک ان کے ذہن کے پردے سے حنین کے چہرے پر موجود ان تاثرات کا نقش نہیں اترا تھا جو سکندر صاحب کی بات سنتے ہی فوری طور پر اس کے چہرے پر ابھرے تھے اور وہ لمحات ایسے تھے کہ جب انہیں حنین سے محبت محسوس نہیں ہوئی تھی بلکہ اس پر ترس آیا تھا اس کے لیے دل میں ہمدردی بھی پیدا ہوئی تھی۔
محبت پر رحم غالب آگیا تھا… اور تب انہوں نے اپنے دل میں عہد بھی کیا تھا کہ وہ اپنے جیتے جی حنین کے چہرے پر یہ تاثرات دوبارہ کبھی بھی آنے نہیں دیں گی۔
’’بیگم صاحبہ پہلے ایک بات تو آپ مجھے یہ بتائیں ناں کہ یہ جو آپ کی آنکھوں میں، میں اپنی ان گناہگار آنکھوں سے آنسو دیکھ رہا ہوں تو ان کا سبب سکندر ہے یا پھر یہ پیاز؟‘‘ انہوں نے اٹھ کر ٹیبل سے ٹشو لیا اور انہیں پیش کردیا۔
’’میں اس وقت بہت سنجیدہ ہوں۔‘‘ ان کے ہاتھ سے ٹشو لے کر آنسو صاف کرتے ہوئے وہ بولیں۔
’’میں سمجھ سکتا ہوں، لیکن خیر مذاق تو میں بھی نہیں کررہا ناں بلکہ میں اسی متعلق سوچ رہا ہوں کہ آخر اب کیا کرنا چاہیے؟‘‘ اماں پیاز کاٹ چکی تھیں اور ان کی خوشبو پھیلنے لگی تھی ابا نے قریب رکھی پلیٹ سے انہیں ڈھکتے ہوئے کہا۔
’’آپ کا کیا خیال ہے کیا ہم ان حالات میں حنین کی رخصتی کرائیں گے تو کچھ غیر مناسب تو معلوم نہیں ہوگا۔ آخر ہم کس کس کو بتاتے پھریں گے کہ یہ رخصتی تو خود دلہن کے والد کے اصرار پر کی جارہی ہے۔‘‘ وہ موضوع کی طرف آتے سنجیدگی سے بولے۔
’’میرا تو خیال ہے کہ ہمیں اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے غزنیٰ سے مشورہ کرلینا چاہیے کیونکہ اس کی رائے کے بغیر ہماری اس سوچ بچار کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں۔‘‘ ابا سر ہلاتے ہوئے اماں کی بات سے متفق نظر آئے۔
’’مگر حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ آج سکندر سے میری ملاقات ہوئی تھی اس نے مجھ سے تو ایسا کوئی بھی ذکر نہیں کیا۔‘‘
’’آپ دونوں کہاں ملے۔‘‘ اماں گردن ان کی طرف موڑ کر مکمل متوجہ ہوئیں۔
’’شفیق صاحب کے اسپتال میں کچھ رقم عطیہ کرنے آیا تھا کہ کسی غریب کا علاج ہوجائے۔‘‘
’’ہونہہ یہ تو شروع سے عادت ٹھہری کہ بے شک اپنے گھر والے دس روپے کو ترس رہے ہوں مگر باہر امداد کے طور پر ہزاروں بھی دیتے ہیں ارے میں تو کہتی ہوں کیا فائدہ ایسی خیرات یا صدقے کا جس میں اپنے گھر والوں کی حسرتیں اور جائز خواہش تک لپیٹ کر دے دی جائیں۔ کچھ اللہ کا خوف بھی ہے آپ کے بھائی کو کہ نہیں ہونہہ ساری عمر گزر گئی مگر اب تک ان کا مزاج نہ بدلا دنیا کے لیے بہترین اور گھر والوں کے لیے بد ترین۔‘‘ اماں کو بہت کم ہی غصہ آتا تھا لیکن آج جو غصہ آیا تو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور اس کی وجہ حنین کے وہ تاثرات تھے جو انہوں نے رخصتی کی بات پر اس کے چہرے پر دیکھے ابا کچھ دیر گہری سانس لے کر لب بھینچے انہیں دیکھتے رہے پھر کچھ سوچ کر بولے۔
’’میرا تو خیال ہے کہ اگر سکندر خود کہہ رہا ہے کہ حنین کی رخصتی کردی جائے تو ہمیں فوراً اس کی بات مان لینی چاہے ڈھول ڈھمکے کے بغیر بھی تو یہ کام ہوسکتا ہے اور ویسے بھی نکاح بھی پہلے وہیں اسپتال میں ہوا تھا تو رخصتی بھی وہیں سے کرالیں گے بڑی خاموشی اور سادگی سے اس کے بعد اگر حنین چاہے جو کہ یقینا وہ چاہے گی تو یہاں سے روز اپنی ماں کے پاس اسپتال جاسکتی ہے۔‘‘
’’ہاں میرا بھی یہی خیال ہے بس سکندر یہ چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے اس پر سے یہ ذمہ داری ختم ہو اور پھر بے شک وہ اسپتال میں دن میں بیٹھے یا رات کو تو اسے کسی قسم کی فکر نہ ہو۔‘‘ اماں تلخ تھیں اور یہ تلخی ابھی کچھ دیر اور برقرار رہنی تھی۔
’’تو بس ٹھیک ہے غزنیٰ کے آنے کا انتظار کرو مجھے امید ہے کہ وہ ہماری رائے کا احترام کرے گا اور اگر اسے کوئی اعتراض نہ ہوا تو میں تو کہوں گا کہ آج ہی حنین کو گھر لے آیا جائے باقی اگر اپنے چائو پورے کرنے بھی ہوں تو بعد میں آرام سے ولیمہ پر کرلیں گے۔‘‘ وہ دونوں ایک بات پر متفق ہو چکے تھے اور اب غزنی کے انتظار میں تھے کہ وہ آکر ان کی رائے کو فیصلے کی شکل دے۔
ڑ…/ …‘
ابھی تو رت بدلنی تھی ابھی تو پھول کھلنے تھے
ابھی تو رات ڈھلنی تھی ابھی تو زخم سلنے تھے
ابھی تو سر زمین جاں پر اک بادل کو گھرنا تھا
ابھی تو وصل کی بارش میں ننگے پائوں پھرنا تھا
ابھی تو کشت غم میں اک خوشی کا خواب بونا تھا
ابھی تو سیکڑوں سوچی ہوئی باتوں کو ہونا تھا
ابھی تو ساحلوں پر اک ہوائے شاد چلنی تھی
ابھی جو چل رہی ہے یہ تو کچھ دن بعد چلنی تھی
واقعی ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا وہ سب کچھ جو ابھی اجیہ کے تخیل میں تھا اور جو اب تک اس کی زندگی میں نہیں ہوا تھا‘ ابھی تو وہ سب بھی ہونا تھا جو اس کی خواہش تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا تھا اسے اپنا آپ اس مسافر کی طرح لگ رہا تھا جس سے اذان سفر چھین لیا جائے منزل پر پہنچنے سے پہلے پہلا قدم اٹھاتے ہی۔ اسے اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ اس نے اربش سے نکاح کی حامی اس کا اسٹیٹس دیکھ کر بھری تھی لیکن یہ بھی تو ایک زندہ سچ تھا کہ عین اس روز جب وہ صرف اس کی خاطر اپنی ممی کو چھوڑ آیا عیش و عشرت کی زندگی کی پروا نہ کی اور روکھی سوکھی کھا کر اس کے ہی ساتھ رہنا گوارا کیا تب اجیہ کے دل سے بھی آسائشوں کی چاہ نکل گئی تھی اور اربش کی محبت نے یوں اپنی حیثیت واضح کی کہ پھر اس کے دل میں کوئی طلب ہی باقی نہ رہی وہ اس ٹوٹے پھوٹے گھر میں دال کے ساتھ بھی بے حد خوش اس لیے تھی کہ اس کے ساتھ اربش تھا اربش کی محبت نے اسے دنیا کی ہر چیز سے بیگانہ ہی تو کردیا تھا کہ کوئی خواہش ہی نہ رہی‘ وہ جانتی تھی کہ نت نئے کپڑے جوتے وہ افورڈ نہیں کرسکتی تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ کبھی ان چیزوں کی شاپنگ کرے اس کے لیے یہ سب چیزیں اب ثانوی اور نہایت عام سی حیثیت اختیار کرچکی تھیں کیونکہ اس کی کشش کا محور و مرکز اب صرف اور صرف اربش تھا حالات جتنے بھی کٹھن کیوں نہ ہوں وہ اربش کے ساتھ پوری عمر گزارنے پر تیار تھی لیکن یوں اچانک کچھ بھی بغیر بتائے اربش کا چھوڑ جانا اپنی روزمرہ کی تمام اشیا لے جانا اور یہاں تک اپنے اور اجیہ کے درمیان رابطے کا ایک واحد ذریعہ اس کا موبائل فون بھی توڑ دینا اور پھر سونے پر سہاگہ شرمین کا آکر حقیقت سے پردہ اٹھانا یہ سب اجیہ کے دماغ کو بہت زیادہ الجھا رہا تھا وہ اس بات پر تو کسی بھی صورت یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اربش نے اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی دھوکہ کیا کیونکہ اس کی روشن شفاف آنکھوں میں اجیہ نے کبھی کوئی دھوکا‘ کوئی منافقت تو دیکھی ہی نہیں تھی‘ اربش کی باتوں میں اسے کبھی بھی ایسا نہیں لگا تھا کہ وہ یہ سب کچھ اوپری دل سے کہہ رہا تھا بدلہ لینے والے تو کچھ اور ہی ہوتے ہیں اجیہ کا دل کیسے مانتا کہ اربش نے صرف اور صرف شرمین کی خاطر اس سے بدلہ لینے کے لیے پہلے اس سے محبت پھر شادی اور پھر اس کے ساتھ یوں اس چھوٹے سے گھر میں رہنے کا ڈرامہ رچایا اس کا دل کسی بھی طور شرمین کی باتوں پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا۔
لیکن آخر وہ کیا کرتی… کس سے پوچھتی کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کون سا ہے؟
اربش کے حق میں دلائل دیتے اپنے دل کی صفائیوں پر کس سے صداقت کی مہر لگواتی اور پھر اب… زندگی کے اس موڑ پر جبکہ اتنے مشکل دن گزارنے کے بعد اسے ایک مکمل اور بھرپور خوشی ملی تھی وہ ماں بننے والی تھی لیکن اس خوشی کو بھی لمحوں میں گہن لگ گیا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طور کہیں سے بھی اربش کو ڈھونڈ نکالتی اور اسے سارا قصہ سنا کر سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کا کہتی لیکن ایسا کیسے ممکن ہوتا؟ اس کے سامنے تو کوئی بھی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس کے ذریعے وہ اربش کو ڈھونڈتی یا جس کی بدولت وہ اربش سے رابطہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ذرائع اور وسائل دونوں طرف سے وہ خالی ہاتھ تھی نہ تو ہاتھ میں چند روپے تھے کہ آسرا ہوتا اور اگر بالفرض ایسا ہوتا بھی تو بھلا وہ کیا کرتی کہاں جاتی کس سے مدد مانگتی اور اربش کو کیسے اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتی۔
شرمین کے جانے کے بعد اپنے بیڈ پر بیٹھی اجیہ کافی دیر سے گھٹنوں پر تھوڑی رکھے اسی سوچ میں گم تھی ایسا لگتا جیسے کسی ایسی گلی میں آ نکلی ہے جو ہر سمت سے بند ہے‘ جس سے کسی بھی جانب کوئی رستہ نکلتا ہی نہیں بلکہ سامنے جانے کی بھی کوئی صورت حال نہیں‘ اسے میں دیکھنے والوں کو تو شاید یہی لگتا کہ ایسی صورت میں بہترین واپس مڑ جانا ہے لیکن اگر وہ واپس مڑتی بھی تو کہاں، کون ایسا ہوتا جو اسے اپنے پاس رکھتا یا محبت سے اسے قبول کرلیتا۔ پہلا خیال اسے ممی کا ہی آیا تھا لیکن خواب اور خیال دونوں ہی آزاد رو ہیں کچھ بھی اور کسی سے بھی منسلک ہوسکتے ہیں اسے لگتا جیسے وہ اس کے ماں بننے کی خوشی سے جھوم جائیں گی کہ وہ دادی بننے والی ہیں لیکن یہ صرف اور صرف ایک خیال سے بڑھ کر نہیں تھا کیونکہ جانتی تھی کہ اس کی جیب خالی ہے اور ممی کا دل اگر شرمین کے مطابق یہ سارا ڈھونگ رچایا ہی شادی کے لیے گیا تھا تو پھر بھلا انہیں اس بچے کی کیا خوشی ہوتی اور خود اجیہ کو تو وہ یوں بھی رد کرچکی تھیں دوسری صورت میں اس کا میکہ بھی ایک آپشن ہوسکتا تھا لیکن وہ میکے واپس جانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی اسے یقین تھا کہ میکے جانے کی صورت میں اگلے ہی لمحے اس کی موت سکندر صاحب کے ہاتھوں یقینی تھی۔
ویسے بھی وہ ان بدنصیبوں میں سے تھی جنہیں میکے کا مان نہ کبھی شادی سے پہلے ملا اور نہ ہی کبھی بعد میں وہ لڑکیاں اور ہی ہوتی ہوں گی جو میکے کے نام پر سر اٹھا کر بات کرتی ہیں‘ سکندر صاحب کی طرف سے وہ اعتماد تو اسے کبھی ملا ہی نہیں تھا جس کی بنا پر وہ کسی بھی مشکل وقت میں میکے کے بارے میں سوچتی وہاں کا رخ کرتی، ویسے بھی شادی کے بعد میکہ لڑکیوں کی وہ محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے جہاں وہ سسرال میں پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا نامساعد حالات کے بعد فوری طور پر داخل ہوجانے کا سوچتی ہیں لیکن پھر بھی ہر لڑکی کی قسمت میں یہ محفوظ پناہ گاہ نہیں بھی ہوتی اور بعض اوقات ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ پناہ گاہ تو ہوتی ہے لیکن وہاں کوئی حفاظت کرنے والا نہیں ہوتا ایسی لڑکیاں تو پھر ڈرتی ہی رہتی ہیں سسرال کے ناخوشگوار حالات سے میکے کے ناخوشگوار حالات کے درمیان۔ اجیہ شاید کتنی ہی دیر اپنے خیالات میں کھوئی رہتی کہ اچانک اسے دروازے پر کھٹکا سا محسوس ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت دھیمی آواز میں مگر مسلسل اس کے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے غیر محسوس طریقے سے اجیہ اپنے آپ میں مزید سکڑ گئی تھی دونوں بازوئوں سے خود کو پہلے سے زیادہ مضبوطی سے جکڑا اور کان انتہائی حساس ہوکر جیسے دروازے پر ہی لگ گئے تھے۔
آج سے پہلے تک تو اسے ہمیشہ یہی شکوہ ہوا کرتا کہ پلک جھپکتے ہی رات کیوں گزر جاتی ہے سارا سارا دن تو وہ اربش کے انتظار میں وقت شمار کرتی رہتی اور وقت انتہائی سست رفتار سے گزرتا لیکن جیسے ہی اربش گھر میں داخل ہوتا تو ایسا لگتا جیسے وقت کو پر لگ گئے ہوں‘ صرف ان کے کھانا کھانے اور معمولی سی بات چیت کے دوران ہی آدھی رات بیت جاتی اسے ہمیشہ ہی اربش کے ساتھ گزارے گئے وقت کے مختصر ہونے کا شکوہ ہوتا یہی حال اربش کا بھی تھا ہمیشہ یہی کہتا۔
’’سارا دن تو وقت گزرتا ہی نہیں اور جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہوں وقت بھی دوڑنے لگتا ہے اتنے دن ہوگئے ہیں ساتھ رہتے لیکن آج تک تم سے جی بھر کر باتیں ہی نہیں کیں‘ تمہیں آنکھ بھر کر کبھی دیکھا ہی نہیں‘ یہ وقت بھی ناں تمہاری دوسری ساس ثابت ہورہا ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتا۔
’’ساس۔‘‘ وہ ناسمجھی سے مسکراتے ہوئے پوچھتی۔
’’ہاں بھئی آج کل ساسوں کا دل کہاں چاہتا ہے کہ ان کا بیٹا ان کی بہو کے ساتھ بہت سارا وقت گزارے۔‘‘
’’ہاں تمہیں تو جیسے بڑا تجربہ ہے ناں اور ویسے ایک بات کہوں اربش اگر تم مائنڈ نہ کرو تو…‘‘ اس کے چپ ہوتے ہی اربش سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا اور وہ بات جاری رکھتی۔
’’ممی کی نیچر بہت اچھی ہے وہ عام ساسوں، جیسی کبھی بھی ثابت نہ ہوتیں لیکن بس شاید انہیں دکھ اس بات سے پہنچا کہ تم نے ان کے علم میں لائے بغیر اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرلیا اور اس بات کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہی نہیں تھیں۔ شاید کوئی اور بھی عورت ان کی جگہ ہوتی تو اس کا بھی ردعمل یہی ہوتا جو ان کا تھا اس لیے پلیز ان کے لیے اپنے دل میں کبھی بھی کوئی غلط بات نہ لانا۔‘‘
’’بھئی یہ دنیا کی پہلی بہو ہے جو شوہر کے سامنے اپنی ساس کی حمایت میں بول رہی ہے۔‘‘ وہ ہنستا۔
’’اور نہ صرف یہ کہ بول رہی ہے بلکہ شوہر کو اس بات پر اکسا بھی رہی ہے کہ وہ اس کی باتوں کو سو فیصد درست مانے، سچ مانے اور انہیں حقیقت تسلیم کرے… مجھے لگتا ہے اربش جیسے ہم سب ہی حالات کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں کیونکہ تم بھی تو ممی کی پسند کے خلاف انہیں بتائے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے حق میں نہیں تھے ناں… تم تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کبھی اپنی زندگی میں کوئی ایسا کام بھی کرو گے جو ان کی پسند اور مزاج سے متصادم ہو لیکن تمہیں پھر بھی کرنا پڑا اور وہ بھی صرف اس لیے کہ حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے تھے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ تھا۔‘‘ بات کرتے کرتے اجیہ نے سر جھکایا اور دونوں ہتھیلوں کو آپس میں رگڑنے لگی۔
اربش نے مکمل خاموشی سے اسے بات کرنے کا بھرپور موقع دیا۔
’’اور میں… ہونہہ میں نے کب ایسا چاہا تھا کہ مجھے گزارنے کے لیے ایک ایسی زندگی ملے جس میں کوئی بھی میرے قریب نہ ہو میں سب سے بات بھی کرنے کو ترسا کروں باوجود اس کے کہ میں بھرے پرے گھر میں رہنے کی خواہش مند تھی میں چاہتی تھی کہ شادی کے بعد ایسی زندگی گزاروں جو میری پہلے والی زندگی کا‘ میری محرومیوں کا ازالہ کردے لیکن دیکھ لو اپنی زندگی کی تو محرومیاں کیا ہی ختم ہوئیں میں نے تمہاری زندگی سے بھی سب کچھ چھین لیا۔‘‘ اربش نے اجیہ کی آنکھوں میں آنسوئوں کی چمک دیکھی تو نفی میں گردن ہلا کر کچھ کہنا چاہا مگر اجیہ نے اپنی بات جاری رکھی۔
’’میں باپ کے پیار کو ترسی تو اب میری وجہ سے تمہیں ماں کے پیار کو ترسنا پڑ رہا ہے، میں اپنی زندگی میں معاشی طور پر کمزور رہی تو تمہاری زندگی میں آتے ہی تمہیں بھی خالی ہاتھ کردیا میں ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن دیکھ لو حالات نے ایسا کھیل کھیلا کہ میں سمجھ ہی نہیں پائی کہ جن کے مقدر میں ہمیشہ کے لیے شکست لکھ دی گئی ہو وہ کسی بھی طریقے اس ہار کو جیت میں نہیں بدل سکتے اور شاید میں نے اپنے مقدر سے لڑنے کی کوشش کی تھی جس کی سزا نہ صرف مجھے ملی بلکہ میرے ساتھ ساتھ ناکردہ گناہ کی سزا تم بھی بھگتنے پر مجبور ہو۔ میں ان تمام حالات کی وجہ سے تم سے پھر معافی چاہتی ہوں اربش… آج میری وجہ سے تم صرف روزگار کی تلاش میں سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہو اگر میرے پاس وقت کو لوٹانے کا اختیار ہوتا تو یقین کرو کبھی تمہاری زندگی میں شامل نہ ہوتی اور کبھی تمہیں در بدر نہ ہونے دیتی۔‘‘ اجیہ کو احساس تھا کہ وہ صرف اس کی وجہ سے یہ مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہے لہٰذا دل کی بات کہہ دی تو کچھ دیر بعد اربش بولا۔
’’ہم دونوں میں فرق ہی تو اسی سوچ کا ہے ناں تمہارے پاس اگر وقت لوٹانے کا اختیار ہوتا تو کبھی میری زندگی میں شامل نہ ہوتیں لیکن یقین کرو اجیہ کہ اگر میرے پاس وقت لوٹانے کا اختیار ہوتا تو میں پھر بھی زندگی گزارنے کے لیے تمہارا ہی انتخاب کرنا چاہتا‘ چاہے اس کے لیے مجھے کتنی ہی دشوار زندگی کا سامنا کرنا ہوتا۔‘‘ اجیہ نے سامنے بیٹھے اربش کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ جانتی تھی کہ وہ سچ کہہ رہا ہے اسے اس کے الفاظ کی صداقت پر کبھی بھی شک نہیں رہا تھا یہی وجہ ہی تو تھی جس نے اجیہ کے لیے روپیہ‘ پیسہ‘ سہولتیں اور آسائشیں سب کو نچلے درجے پر رکھ کر نہایت عام اور اربش کی محبت کو ہی انتہائی خاص کردیا تھا۔ وہ جان گئی تھی کہ جس دامن میں محبت ہو وہی اس دنیا کا امیر ترین اور خوش نصیب شخص ہے اور یہ دولت حاصل کرنے کے بعد اب حقیقتاً اس کے دل سے روپے پیسے کی خواہش ختم ہوگئی تھی۔
’’مجھے تم سے کوئی بھی شکوہ اس لیے نہیں ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ اسی طرح ہونا طے تھا‘ ہوسکتا ہے ممی ہمارے ساتھ یہ سلوک روا نہ رکھتیں تو ہم ایک دوسرے کے لیے اتنے قریب نہ آتے‘ ہم ایک دوسر سے یوں شدت سے محبت نہ کر پاتے جس طرح اب کرتے ہیں‘ خوشی کے لمحات کی دوستی انسان بھول سکتا ہے لیکن مشکل وقت کا ساتھ مرتے دم تک یاد رہتا ہے اور تم دیکھ لو کہ ان مشکل حالات نے ہمیں جتنا ایک دوسرے کے نزدیک کیا اتنا ہم عام حالات میں شاید ہو ہی نہ پاتے۔‘‘
اور اربش کی بات سے تو جیسے اجیہ کے دل پر لگی گرہ کھل سی گئی وہ واقعی قدرت کا کھیل اب سمجھی تھی اور اسے یوں لگا جیسے سکون کی ایک ان دیکھی لہر ہے جو اس کے اندر اترتی ہی چلی گئی ہے اپنے حالات اور مقدر سے کیے جانے والے شکوے بھی ختم ہوگئے تھے وہ اب سمجھ گئی تھی کہ واقعی اسے یہ وقتی پریشانی دے کر ہمیشہ کے لیے اربش کی محبت عطا کردی گئی تھی اور ایسا ہی تو تھا کہ اربش کی حقیقی محبت تو اس کے دل میں جاگی ہی تب تھی جب اس نے دیکھا کہ اربش صرف اس کی محبت میں اس کی خاطر ہر قسم کی آسائشوں اور دولت کو ٹھوکر مار آیا ہے۔
محبت کیا ہوتی ہے یہ تو اجیہ کو پتا ہی تب لگا تھا کہ وہ جن آسائشوں اور دولت کے لیے اربش سے شادی کررہی ہے وہ تو محبت کے مقابلے میں ذرہ برابر اہمیت نہیں رکھتیں اور اگر آتے ہی اسے وہ سب مل جاتا جس کی خاطر اس نے اربش کو چنا تھا تو اربش کا مقام اس کے دل میں نہایت عام سا ہوتا جبکہ اب اربش اس کے لیے سب کچھ تھا اور اس کی محبت نے اجیہ کے دل سے دنیاوی خواہشیں تک نکال پھینکیں تھیں۔
’’جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں کسی بھی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، تم پر آنے والی ہر مصیبت اور پریشانی پہلے مجھ پر سے ہوکر گزرے گی سمجھیں تم۔‘‘ اجیہ کی تھوڑی پکڑ کر ننھے بچوں کی طرح اربش نے اس سے پوچھا تو وہ مسکرانے لگی۔
’’اور ممی سے دوری کا معاملہ ہو یا تمہارے گھر والوں سے ملاقات کا میں ان شاء اللہ سب کچھ بہترین طریقے سے طے کرلوں گا تم بس کسی بھی معاملے میں پریشان نہ ہوا کرو‘ بس مجھے تھوڑا سا وقت دو پھر دیکھنا تم جو چاہو گی وہی ہوگا‘ بس تم مجھ پر اعتبار کرو اور اپنی ساری فکریں پریشانیاں مجھے سونپ کر بے فکر ہوجائو۔‘‘ اربش نے اس کا ہاتھ تھام کر یقین دلایا تھا اور واقعی وہ اس کی باتوں پر بچوں کی طرح خوش ہوگئی تھی۔
لیکن اب تو سب کچھ متضاد تھا اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ دروازے پر ہونے والی دستک اب تیز ہونے لگی ہے۔
’’اس وقت کون ہوسکتا ہے؟‘‘ وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے خود سے سوال کیا۔
’’اس گھر میں اس کی موجودگی کے بارے میں شرمین کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اور بھلا شرمین یوں رات گئے دوبارہ اس کے پاس کیوں آئے گی؟ محلے میں کسی کے ساتھ بھی اس کے تعلقات نہیں تھے اس لیے اس سوال کا بھی امکان نہ تھا کہ شاید اہل محلہ میں سے کوئی ہو اور پھر اگر ہو بھی تو یہ وقت ایسا تھا کہ کوئی بھی کسی کے گھر دستک نہ دیتا اور پھر ایک دو مرتبہ نہیں یوں آہستہ آہستہ مسلسل اور پراسرار… پہلے تو اس نے سوچا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلے۔ خاموش رہ کر بیٹھی رہے اس وقت تک جب تک کہ کوئی زور دار طریقے سے دروازہ نہ بجائے یا کسی طریقے سے اندر آنے کی کوشش نہ کرے لیکن یہ خیال آتے ہی اس نے رد کردیا تھا اور اٹھ کر دروازے کے قریب جانے کا فیصلہ کیا تاکہ پوچھے کہ اس وقت کون ہے اور دروازہ کیوں بجا رہا ہے۔ لمحے بعد دروازے کی دستک کی طرف دھیان جاتے ہی وہ بھول گئی کہ وہ ابھی چند لمحوں پہلے کسی وجہ سے پریشان تھی اس وقت اس کی مکمل توجہ دروازے کی طرف تھی ذہن میں کئی طرح کے خیال آرہے تھے۔
’’ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا تھا وہ اس وقت گھر میں اکیلی ہے اگر اس کے ساتھ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا نہ ہی اہل محلہ کسی کو اطلاع کر پائیں گے‘ وہ کون ہے‘ کہاں سے آئی ہے‘ اس کے والدین کہاں ہے‘ شوہر کہاں ہے‘ کوئی اس کے بارے میں کچھ بھی تو نہیں جانتا تھا حتیٰ کہ اس کا نام بھی نہیں۔ ایسے میں اگر اس کے ساتھ کچھ ہوا تو کیا وہ یہاں یونہی لا وارثوں کی طرح پڑی رہے گی؟‘‘ یہ سوچ ذہن میں آتے ہی وہ کانپ گئی تھی۔
اس کے ساتھ ہی باہر ہوتی دستک کی آواز جو پہلے دھیمی تھی اب تیز ہونے لگی دروازہ بجانے کا انداز بھی عام نہ تھا ایسا لگتا جیسے دروازہ بجاتے جاتے کوئی بندہ چابی یا کوئی اور چیز دروازے کی سطح پر پھیرنے لگتا خوف اور پریشانی سے اجیہ کو اپنا خون خشک ہوتا محسوس ہوا ہاتھ پائوں بھی سرد ہو چلے تھے اٹھ کر دروازے تک جائے نہ جائے یہی سوچتے ہوئے کچھ وقت بیتا اور ساتھ دستک مدہم ہونے لگی تو اسے احساس ہوا کہ وہ آج صبح سے ہی بھوکی ہے لیکن کچھ بھی کھانے کی کوئی طلب جاگی نہ خواہش البتہ خوف سے اس کی زبان خشک ہورہی تھی لہٰذا ہمت کرکے پائوں بیڈ سے نیچے اتارے سلیپرز پہنے اور کمرے سے باہر نکلی۔ ہلکی زرد روشنی دیتا بلب صحن کو مزید پراسرار بنا رہا تھا ایک طرف رکھی اینٹوں اور ریت میں اسے یوں لگا جیسے کوئی شخص چھپا بیٹھا ہے یہ سب اس کا وہم تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ اسے صحن میں موجود ایک ایک چیز سے خوف محسوس ہورہا تھا ایسا لگتا جیسے ابھی کسی بھی چیز کے پیچھے سے کوئی نکل آئے گا بمشکل تھوک نگلتی وہ کچن تک پہنچی گلاس میں پانی ڈالا اور جیسے ہی گلاس لے کر پلٹنے لگی تو بیرونی دروازے کے باہر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا دروازہ کیونکہ زمین سے معمولی سا اوپر تھا اس لیے نیم تاریکی میں اسے دروازے کے بالکل ساتھ لگے دو سائے محسوس ہوئے لیکن اس سے پہلے کہ وہ غور سے دیکھتی ایک دم دوبارہ سے دروازہ بجنے لگا اور اچانک چونکنے پر اس کے ہاتھ سے گلاس بھی زمین پر جاگرا تھا۔
ڑ…/ …‘
جس دن سے اربش ان سے روٹھا تھا اور انہوں نے اسے اجیہ سمیت گھر سے نکالا تھا تب سے وہ ایک پل کے لیے بھی سکون حاصل نہیں کرپائی تھیں جذبات اور غصے میں آکر اسے نکال تو دیا تھا اور یہی سوچا تھا کہ ناز و نعم اور عیش و عشرت میں پلا بڑھا اربش دو چار دن حالات کے تھپیڑے کھانے کے بعد پھر واپس آجائے گا لیکن ماں ہونے کے باوجود وہ اس معاملے میں غلطی ثابت ہوگئی تھیں اور وہ درست اندازہ نہ لگا پائی جس کا نتیجہ مستقل پریشانی کی صورت میں سامنے آیا اور پھر ایک پریشانی نے یکے بعد دیگرے کئی پریشانیوں کو جنم دیا اور وہ بھونچکا سی ہوکر رہ گئیں۔ وہ ان معاملات اور اس طرح کے حالات کی تو عادی ہی نہیں تھیں نہ ہی ان کی فطرت میں لڑائی جھگڑا تھا ان کی زندگی اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول تک ہی محیط تھی لیکن اب اجیہ کی ان کی زندگی میں آمد کے ساتھ ہی سب کچھ بدل کر رہ گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اجیہ کو ہی ان تمام معاملات کی ذمہ دار سمجھتی تھیں اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ وہ تو اجیہ کو اپنی بھانجی کی صورت میں بھی قبول نہیں کر پارہی تھیں‘ بہن کی محبت اپنی جگہ لیکن وہ لڑکی جو ان کے اور اربش کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنی‘ جس نے ان کے لاڈلے اور فرماں بردار بیٹے کو ان کے مد مقابل لاکھڑا کیا‘ وہ اسے بھلا کیسے معاف کرسکتی تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ بہن کو ایک نظر دیکھنے‘ ان سے ملنے کو تو تڑپ رہی تھیں لیکن اجیہ کو دیکھنے کی بھی رودار نہ تھیں۔
’’شرمین آئی نہیں ابھی تک۔‘‘ بوا کی نظریں لائونج کے اندرونی دروازے اور سماعت اطلاعی گھنٹی پر مرکوز تھی خود ممی بھی شرمین کے ہی انتظار میں ٹہل رہی تھیں وہ یہ جان لینے کو بے تاب تھیں کہ اربش اس وقت کہاں ہے اور وہ اسے کب مل سکیں گی گلے لگا سکیں گی اتنے دنوں بعد آخر وہ اسے کب جی بھر کر دیکھ سکیں گی۔
’’میں خود بے چین ہوں بوا بس شاید آتی ہی ہوگی۔‘‘
’’اللہ بھلا کرے شرمین کا جس نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا۔‘‘ بوا نے دل سے شرمین کو دعا دی۔
’’واقعی آپ نے سچ کہا یہ لڑکی ہمارے لیے تو فرشتہ بن کر ہماری زندگی میں داخل ہوئی ہے‘ اس کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی بوا اس نے مجھے بن مول کے خرید لیا ہے۔‘‘ ممی کی آوز احساس تشکر سے بھیگنے لگی تھی۔
’’بس دیکھ لو یہ دنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی اور شرمین کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔‘‘ ممی نے مسکرا کر گردن ہلاتے ہوئے ان کی بات کی تائید کی۔
’’میں نے شرمین کے پسندیدہ کوفتے پکائے ہیں‘ آئے گی تو خوش ہوجائے گی لیکن اب بس آبھی جائے یقین مانو مجھ سے تو انتظار ہی نہیں ہورہا کہ کب وہ آئے اور آکر ہمیں بتائے کہ اربش کہاں ہے پھر تم بس دیکھنا مجھے ایک بار یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ہے کہاں پھر تو میں اسے خود جا کر واپس لائوں گی۔‘‘ بوا مستقبل قریب کے تمام منصوبے بنا چکی تھیں اور اب وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی صورت حال سے گزرتی بوا کو اب کسی طریقے چین آتا دکھائی نہ دیا تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور پردہ ہٹا کر کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئیں ابھی انہیں کھڑکی سے بیرونی گیٹ پر نظریں جمائے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اطلاعی گھنٹی کی آواز پر دونوں چونکی تھی بوا گیٹ کھولنے گئیں تو ممی سے بھی رہا نہ گیا اور وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیں۔
ڑ…/ …‘
ائیر پورٹ پر ایک ہجوم تھا جو اب آہستہ آہستہ چھٹ چکا تھا جانے والے مسافروں سے زیادہ انہیں الوداع کہنے والے لوگ تھے‘ ہاتھوں پر مہندی لگے زرق برق لباس پہنے کچھ لڑکیوں کو تو دیکھنے سے ہی اندازہ ہورہا تھا کہ وہ شادی کے بعد اب پہلی مرتبہ بیرون ملک جا رہی ہیں‘ کچھ فیملیز تھیں اور کچھ تن تنہا اپنا بیگ یا اٹیچی گھسیٹتے ائیرپورٹ کے اندرونی حصے میں ایک قطار کی صورت داخل ہورہے تھے۔ اربش اپنے گروپ کے ساتھ ہی تھا وہ سب ایک دوسرے سے بات چیت میں مصروف تھے بورڈنگ کے لیے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے مگر اربش کو ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوئی نہ ہی اس نے باقی سب کی طرح اپنا تعارف کرانا ضروری خیال کیا تھا۔ ویسے بھی اس کے حالات باقی تمام سے مختلف تھے وہ سب اپنے اپنے گھروں سے ہنسی خوشی بہتر مستقبل کے لیے جانے کتنی ہی دعائوں کے حصار میں نکلے تھے جبکہ وہ آتے ہوئے اجیہ سے ملنا تو دور اسے بتا بھی نہیں پایا تھا اور پھر وہ رہ رہ کر خود کو کوستا کہ نہ وہ اس وقت غصے میں موبائل توڑتا اور نہ آج اس صورت حال کا سامنا ہوتا کم از کم وہ اجیہ سے بات تو کرلیتا۔ اب جب تک حسن کا اجیہ سے رابطہ نہ ہوتا وہ پتا نہیں کیا سوچے گی‘ کتنا پریشان ہوگی‘ دعا کے نام پر اربش کے پاس ایک لفظ تک نہ تھا البتہ ممی کی طرف سے بدگمانی ضرور بڑھ گئی تھی‘ وہ جانتا تھا کہ آج کی رات حسن کا کراچی لوٹنا مشکل ہے لیکن اس کی خاطر وہ کل تک اجیہ کو تمام صورت حال سے آگاہ کرکے اس سے بات بھی کرا دے گا لیکن اجیہ پریشان ہے اور پریشانی کی وجہ خود اربش ہے یہ خیال ایسا تھا جو اسے مزید پریشان کررہا تھا۔
گہری سانس لے کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش میں اس نے چاروں طرف نظر دوڑا کر یونہی لوگوں کو دیکھا اس کے ساتھ آنے والے سب لڑکوں کی بورڈنگ ہوچکی تھی غزنیٰ ابھی تک ائیر پورٹ کے اندرونی حصے سے دور اس مقام پر کھڑا تھا جہاں سے اسے بورڈنگ کراتے افراد باآسانی نظر آرہے تھے۔ اس کی ٹریول ایجنسی کے تھرو جانے والے سب لڑکے بورڈنگ ہوجانے پر اسے اوکے کا میسج سینڈ کررہے تھے کہ یہ ہی اس کی ہدایت تھی اب انہیں فلائٹ کا انتظار تھا سو سب ایک ساتھ ائیرپورٹ میں بنی انتظار گاہ کی طرف چل دیے جبکہ اربش ابھی کائونٹر پر ہی موجود تھا۔
’’نام کیا ہے آپ کا؟‘‘ کائونٹر کے اس پار بیٹھی خاتون نے پاسپورٹ پر لگی تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر نظریں جما دیں۔
’’اربش…‘‘ اس نے مختصر سا جواب دیا۔
’’پہلی مرتبہ جارہے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’ساتھ کون ہے فیملی ممبرز ہیں۔‘‘
’’جی نہیں، اکیلا ہوں۔‘‘
’’لگیج میں کیا ہے آپ کے پاس؟‘‘
’’صرف ایک بیگ۔‘‘ اربش نے اپنے بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔
’’ہینڈ کیری کریں گے یا بک کرانا ہے۔‘‘
’’ہینڈ کیری۔‘‘
’’کتنا وزن ہے اس کا؟ اور اس میں کوئی چھری بلیڈ یا کوئی اور اس طرح کی چیز تو نہیں؟‘‘ خاتون آفیسر نے ایک نظر بیگ کو دیکھا۔
’’جی نہیں، بالکل بھی نہیں۔‘‘
’’اس میں کیا ہے ویسے۔‘‘
’’روز مرہ کی چند چیزیں اور کپڑے۔‘‘ وہ خاتون کی اس جرح پر زچ ہورہا تھا لیکن جانتا تھا کہ حالات اور سیکورٹی کے پیش نظر یہ سب اس کے فرائض میں شامل تھا اسی لیے بڑے آرام اور تحمل سے تمام سوالات کے جوابات دیتا رہا۔
’’اوکے، اسے ذرا بیلٹ پر رکھیں اور یہ ٹیگ لے کر اسے لگا لیں۔‘‘
ہدایات کے عین مطابق اربش نے اپنا بیگ لگیج بیلٹ پر رکھا اور ٹیگ کے ساتھ لگی الاسٹک کی گرہ بنانے لگا تاکہ بیگ پر لگا سکے۔
’’یہ بیگ واقعی آپ کا ہے؟‘‘ خاتون نے ساتھی آفیسر کو اشارے سے بلا کر اسکرین کی طرف متوجہ کیا اربش اسکرین نہیں دیکھ پایا تھا کیونکہ اس کا رخ مسافروں کی طرف تھا آفیسر نے مسکراتے ہوئے کائونٹر پر بیٹھی خاتون کو شاباشی دی۔
’’جی ہاں میرا ہی ہے۔‘‘ وہ ان کے انداز پر چونکا۔
’’آپ ذرا میرے ساتھ آئیے۔‘‘ مرد آفیسر نے اس کا بیگ اٹھایا اور اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا خاتون آفیسر قطار میں کھڑے باقی مسافروں کے کاغذات چیک کرنے لگی تھی کچھ ہی قدم چلنے کے بعد اربش سے رہا نہ گیا تھا سو وہیں رک گیا۔
’’کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں اور آخر اصل معاملہ کیا ہے۔‘‘
’’فکر نہ کریں میرے ساتھ چلتے جائیں ابھی آپ کو سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔‘‘ مرد آفیسر کے کہنے پر وہ ایک بار پھر اس کے ساتھ چلنے لگا‘ وہ خدشات کا شکار ہورہا تھا لیکن اس سے پہلے کہ کسی نتیجے پر پہنچتا آفیسر ایک کمرے میں داخل ہوا اور ایک کائونٹر پر اس کا تمام بیگ خالی کرنے لگا ویسے بھی اس کے بیگ میں کوئی بہت زیادہ سامان تو تھا نہیں بس ایک دو چیزیں نکالنے کے بعد ہی سیاہ شاپر میں لپٹی کوئی چیز اپنے بیگ سے نکلتی دیکھ کر اربش کے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی اور اس سے پہلے کہ آفیسر اس سے کچھ پوچھتا وہ خود فوراً سے بولا۔
’’یہ… یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہی تو آپ سے پوچھنے کے لیے میں آپ کو یہاں اس کمرے تک لایا ہوں۔‘‘ آفیسر نے ہاتھ میں وہ پیکٹ لے کر وزن کا اندازہ کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ اپنے کام میں مصروف ایک اور آفیسر بھی کمپیوٹر کے سامنے سے اٹھ کر ان کے قریب چلا آیا۔
’’لیکن یہ پیکٹ تو میرا نہیں ہے۔‘‘
’’بیگ کس کا ہے۔‘‘
’’بیگ تو ظاہر ہے کہ میرا ہے لیکن آپ میرا یقین کریں کہ یہ پیکٹ میرا نہیں ہے۔‘‘
’’بھئی بیگ آپ کا ہے تو پھر بیگ میں موجود ہر چیز آپ کی ہی ہوئی ناں‘ میں نے آپ کے سامنے ہی بیگ کھولا ہے لہٰذا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے اس میں یہ پیکٹ رکھا۔‘‘
’’نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ اربش حیرت زدہ تھا کہ بیگ تو ہر وقت اس کے ہی پاس تھا پھر بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اس میں یہ پیکٹ رکھ گیا ہو اور اسے پتا بھی نہ چلے۔
’’کب سے کررہے ہو یہ کام؟‘‘ آفیسر نے پیکٹ پر سے سیاہ شاپر ہٹایا تو سفید پائوڈر بالکل سامنے نظر آرہا تھا۔
’’لیکن آپ میرا یقین کریں مجھے نہیں معلوم کہ یہ پیکٹ کہاں سے آیا‘ کس نے رکھا‘ کون میرے خلاف اتنی بڑی سازش کر گیا مجھے واقعی کچھ بھی معلوم نہیں۔ لاکھ سوچنے کے باوجود بھی وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ اس سے دشمنی کرنے والا شخص کون ہے کیونکہ اس کے تو آج تک کسی سے بھی برے تعلقات بنے ہی نہیں‘ جتنے لوگوں کو وہ جانتا تھا سب کو انتہائی اچھی طرح پہچانتا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اتنی گری ہوئی حرکت کرے اور پھر وہ تو سب سے ہی بہت اچھے انداز سے ملتا جلتا تھا حد تو یہ تھی کہ اس وقت کوئی ایسا نام تک ذہن میں نہیں آرہا تھا جس پر وہ شک کرسکتا اور پھر وہ تو گھر سے نکلنے کے بعد کہیں اتنا رکا ہی نہیں تھا کہ کوئی یوں اس کے ساتھ اتنی بڑی حرکت کر جاتا۔
’’صرف آپ ہی نہیں میرے بھائی، ہر ملزم ایسا ہی کہتا ہے سب کے چہروں پر ایسی ہی بے چارگی ہوتی ہے سب یونہی اپنا یقین دلانے کی سر توڑ کوششیں کرتے ہیں لیکن یقین کرو کہ ہم اب اتنے پاگل بھی تو نہیں ہیں کہ سب کا یقین کرلیں۔‘‘ بات ختم کرکے دونوں آفیسرز نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ اربش حیرت اور افسوس کے مارے چپ سا ہوگیا تھا آخر کیا کرتا‘ کیا کہتا کہ یہ پیکٹ آفیسر نے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیگ سے نکالا تھا لہٰذا وہ اربش کو مجرم سمجھنے میں حق بجانب تھا اور اربش بے قصور ہونے کے باوجود اب گناہ گار بنا ان کے سامنے کھڑا تھا اور سب سے پہلا خیال جو اس کے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ ’’اب اجیہ کا کیا ہوگا؟‘‘ منشیات فروشی ایک سنگین جرم تھا اور اس جرم کی سزا کیا ہوگی اس کی نوعیت سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھا اور پھر امید کی کوئی ایک بھی ایسی کرن نہیں تھی جس پر انحصار کیا جاسکتا۔
آفیسرز اپنی کارکردگی پر خوش تھے اور حکام کو اطلاع دینے کے لیے ان سے رابطے کرنے کی کوشش میں تھے جبکہ اربش کا ذہن اس وقت ایک خالی مگر سیاہ سلیٹ کی مانند تھا اجیہ کے علاوہ کوئی سوچ کوئی خیال اس کے ذہن میں نہیں آئی تھی اور وہ یہ بات بھی بخوبی سمجھتا تھا کہ اس کے علاوہ اجیہ کا اب بھری دنیا میں کوئی نہیں وہ اب یہاں سے کب باہر نکل پائے گا وہ نہیں جانتا تھا اجیہ کی خاطر تیز بھاگنے کی خواہش میں پہلے ہی قدم پر ٹھوکر کھا کر گر جانے والا اربش شاید یہ بات جانتا تھا کہ سفر جتنا بھی دشوار ہو‘ راستے جتنے بھی کٹھن ہوں اور منزل کتنے ہی فاصلے پر کیوں نہ ہو کامیابی انہی کا مقدربنتی ہے اور فتح انہی کے قدم چومتی ہے جن کے زاد راہ میں والدین کی دعائیں شامل ہوں اور والدین کی دعائوں کے بغیر شروع کیا جانے والا زندگی کا سفر ہمیشہ کسی نہ کسی طرح بے برکتی کا ہی شکار ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ وہ آنے سے پہلے ممی سے ملنے اور ان سے معافی مانگنے بھی گیا تھا لیکن شاید ابھی اسے چند مزید آزمائشوں سے گزرنا باقی تھا۔
ڑ…/ …‘
’’آئو… آئو شرمین… بھئی آج تو تم نے ہم دونوں کو انتظار کی سولی پر ہی لٹکا دیا تھا۔‘‘ بوا نے بڑی ہی خوش دلی سے گیٹ کھولتے ہوئے شرمین کو دیکھ کر کہا تو وہ مسکرائی۔
’’واہ بھئی میری قسمت آج تو میرا اس شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔‘‘ بوا نے سامنے سے ہٹ کر اسے اندر آنے کی جگہ دی اور گیٹ دوبارہ بند کردیا۔
’’اگر تم یہ جان جائو کہ تمہارا اس دل میں مقام کیا ہے تو یقین مانو رشک کرو اپنی قسمت پر۔‘‘ عقب سے آتی ممی نے شرمین کی بات سن کر کہا۔
’’مجھے اپنی قسمت پر فخر ہے ممی کیونکہ یہ قسمت ہی تو ہے جس نے مجھے آپ جیسے اچھے لوگوں سے ملوایا ورنہ جب تک میں آپ سے نہیں ملی تھی خود اپنی ہی زندگی سے بیزار ہونے لگی تھی اس پر بھائی بھابی کے منفی رویے تو یوں سمجھیں مجھے خود کشی پر بھی مجبور کردیا تھا۔‘‘ ان تینوں کے چہرے پر خوشی کے تاثرات تھے اور وہ مسکراتی ہوئی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ ہمت کی طرح شرمین نے اپنی مظلومیت کا دکھڑا رونا ضروری سمجھا وہ اکثر اوقات ممی اور بوا کے سامنے یہ بات باور کراتی رہتی تھی کہ بھائی اور بھابی اسے ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور وہ زندگی کا خاتمہ کرنے کا سوچ رہی تھی جب اللہ نے مدد کے طور پر اس کی ملاقات ان لوگوں سے کروائی اور اب اسے اپنی زندگی میں بہتری کی امید صرف اور صرف انہی سے ہے۔
’’تم فکر نہ کرو میں ہوں ناں اور میرے ہوتے ہوئے تمہیں اپنے بارے میں کچھ بھی سوچنے یا فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے ممی نے اسے حوصلہ دیا۔
’’تھینک یو سو مچ ممی… اسی لیے تو میں آپ کو اپنی ماں صرف کہتی نہیں سمجھتی بھی ہوں کیونکہ جانتی ہوں کہ اللہ کے بعد اب آپ ہی میری سرپرست ہیں۔‘‘ وہ اسی صوفے پر بیٹھی جس پر ممی بیٹھی تھیں اور دانستہ ان کے قریب بیٹھ کر لاڈ سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
’’اچھا شرمین تم کچھ بتانے والی تھیں اربش کے بارے میں۔‘‘ بوا سے اب مزید صبر نہ ہوا تو پوچھ لیا۔
’’میں نے خاص تمہارے لیے آج نرگسی کوفتے پکائے ہیں لیکن پہلے تم جو بات کرنا چاہ رہی تھیں وہ کرلو تو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘
’’ارے واہ بوا زندہ باد۔‘‘ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا۔
’’کیا معلوم ہوا ہے اربش کے بارے میں کہاں ہے وہ؟‘‘ ممی نے بے تابی سے پوچھا۔ ’’اسی شہر میں ہے ممی اور ایک چھوٹے سے تنگ ڈربے نما گھر میں اجیہ کے ساتھ رہ رہا ہے۔‘‘
’’دڑبے نما گھر میں…؟‘‘ ممی کی حیرت اداسی کی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔
’’جی ہاں ممی آج کل جاب کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہا ہے ایک جگہ معمولی سی نوکری ملی تھی لیکن کسی بات پر تکرار کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا دونوں میاں بیوی یوں سمجھیں کہ ایک وقت کا کھاتے ہیں تو دوسرے وقت بھوکے رہتے ہیں آپ کا دل دکھانے کی خوب سزا بھگت رہا ہے وہ۔‘‘ شرمین نے مزید بڑھا چڑھا کر تمام حالات بیان کیے جس پر ممی سمیت بوا کا بھی دل جیسے کسی نے مٹھی میں جگڑ لیا تھا۔
وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اتنے لوگوں کو نوکری دینے والا اربش خود نوکری کی تلاش میں دھکے کھاتا پھرے گا۔ شرمین کو لگا تھا جیسے ممی اربش کی اس حالت کو اس کی سزا کے طور پر تعبیر کریں گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا کیونکہ شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ ماں ہی ایک ہستی ہے جو اولاد کی تمام تر غلطیوں کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے باوجود اس سے پیار کرتی ہے‘ اسے اپنی آغوش میں لینے کو بے تاب رہتی ہے اور درگزر کرنے کو ہر لمحہ تیار رہتی ہے۔
’’ممی… اربش کو آپ کا دل دکھانے کی سزا ملی ہے شاید۔‘‘ شرمین کی بات پر ممی نے تڑپ کر اسے دیکھا۔
’’اللہ نہ کرے شرمین، ایسا نہ کہو کہ کبھی اسے کوئی سزا ملے بلکہ میں اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتی ہوں کہ اس پر آئی تمام مشکلات مصیبتیں اور مسائل سب دور ہوجائیں۔‘‘ ممی نے بڑے ہی دل سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی جس پر بوا نے آمین کہا۔
’’واقعی ممی ماں ہو تو آپ جیسی کہ ذرا سی اربش پر مشکل کیا آئی فوراً سے ہی دل موم ہوگیا۔‘‘ شرمین نے ستائش سے انہیں دیکھا۔
’’میں نہیں شرمین ساری مائیں ایسی ہوتی ہیں اور میں تو اپنے رب کے آگے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ اے مالک میں نے اربش کو دل سے معاف کیا تو بھی اسے معاف فرما کر اس کی زندگی کی تمام مشکلات دور فرما دے‘ آمین۔‘‘
’’ہمم… آمین۔‘‘ شرمین نے گہری سانس لیتے ہی ان کے ہاتھ پر تھپکی دے کر انہیں اپنے ساتھ کا احساس دلایا اور ساتھ ہی موبائل کی روشن ہوتی اسکرین پر غزنیٰ کی طرف سے نمودار ہونے والا میسج پڑھ کر تو جیسے اس کے چہرے کی چمک میں انوکھا ہی اضافہ ہوا کن اکھیوں سے بوا اور ممی کا چہرہ دیکھا اور گفتگو جاری رکھنے کے لیے مزید الفاظ ترتیب دینے لگی۔
’’اس ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارتے اربش سے اجیہ نے تو شادی ہی دولت کے لیے کی تھی ناں ممی اور جب یہ سب اسے حاصل نہ ہوا تو مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ دن رات اربش کو تنگ کرتی رہتی ہے آپ کے نام کے طعنے دیتی ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر مکمل سہولیات والی زندگی حاصل کرنے کے لیے اسے سکون کا سانس تک نہیں لینے دیتی اربش واقعی اس سے شادی کرکے پھنس گیا ہے ممی۔‘‘
’’ہائے میرا بچہ اس اجیہ نے اس کی محبت کی بھی قدر نہ کی کہ اس کی خاطر وہ کیسے اپنی آرام دہ زندگی کو لات مار گیا۔‘‘ اربش کے بارے میں اگر کوئی خیر کی خبر ملتی تو بھی کوئی بات تھی لیکن اس کی مشکلات کے بارے میں جان کر تو ممی کا کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔
’’لیکن شرمین… یہ سب باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں۔‘‘ بوا اجیہ سے مل چکی تھیں اس کا گھر دیکھا تھا اس کی امی سے بات چیت ہوئی تھی اور انہیں ایسا ہرگز نہیں لگا تھا کہ اجیہ کوئی لالچی لڑکی ہے جو صرف روپے پیسے کی خاطر اربش کو مسلسل ذہنی تشدد کا نشانہ بناتی ہوگی۔
’’اسی محلے میں بلکہ اس کے گھر کے سامنے ہمارے دفتر کی صفائی کرنے والی عورت رہتی ہے۔‘‘ شرمین نے جھوٹ گھڑا۔ ’’وہ بتا رہی تھی کہ ان کے گھر سے اکثر لڑائی جھگڑے کی آوازیں آتی ہیں جن میں ہمیشہ گھر سے باہر آتی آواز اجیہ ہی کی ہوتی ہے جو ان باتوں پر چلا رہی ہوتی ہے اور میری اجیہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔‘‘
’’کیا تم اجیہ سے ملی ہو؟ اربش بھی تھا وہاں اس سے بھی مل سکی ہو کیا؟‘‘ یہ جان کر کہ اربش کے گھر کا پتا شرمین کو معلوم ہے اب ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فوراً جا کر اس سے ملیں اور اسے بتائیں کہ اس کے بغیر نہ ان کے گھر میں کوئی رونق باقی رہی ہے نہ زندگی میں۔
’’جی ممی… میں ان کے گھر گئی تھی اجیہ سے ہی ملی اربش موجود نہیں تھا۔‘‘
’’مجھے بھی لے چلو وہاں شرمین میں وہاں بیٹھ کر اربش کے آنے کا انتظار کروں گی اور اس سے مل کر ہی سکون پائوں گی۔‘‘
’’ممی اس وقت تو رات ہوگئی ہے دیر سے گھر گئی تو بھائی غصہ کرے گا اسی لیے ایسا کرتے ہیں کہ میں صبح آفس جانے سے پہلے یہاں آجائوں گی اور پھر ایک ساتھ چلیں گے۔‘‘ اسے اندازہ تھا کہ اب ممی اسی وقت جانے پر اصرار کریں گی اس لیے فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور شولڈر بیگ بھی اٹھالیا۔
’’ارے رکو تو سہی کھانا تو کھالو۔‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی ممی اٹھیں ورنہ بد دلی اس قدر تھی کہ بات کرنے کو بھی جی نہ مانتا۔
’’نہیں بوا پہلے ہی میں آج اجیہ اور اربش کو ڈھونڈنے کے چکروں میں تھک کر چور ہوچکی ہوں۔‘‘ اب وہ جلد از جلد ان کے گھر سے نکلنا چاہتی تھی کیونکہ غزنی نے اسے کوئی خوش خبری دینے کے لیے جلد از جلد فون کرنے کا کہا تھا۔
’’اچھا تم ایک منٹ رکو میں تمہارے لیے کھانا پیک کرکے لے آتی ہوں گھر لے جائو وہاں آرام سے کھا لینا۔‘‘ بوا بڑی برق رفتاری سے کچن کی طرف گئیں تو وہ ممی کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
’’اربش کو آپ سے ملوانا میری ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑا کوئی بھی قدم اٹھانا پڑا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی، بس آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’اللہ تمہیں خوش رکھے۔‘‘ ممی نے اسے گلے لگا کر اللہ حافظ کہا۔
بوا نے اس کے لیے نرگسی کوفتے پیک کردیے تھے جو اسے اپنے ساتھ لانے پڑے ممی کی طرف سے گھر چھوڑنے کے اصرار کے باوجود اس نے انہیں زحمت نہ کرنے کا کہا اور خود گیٹ سے باہر نکل آئی جہاں موٹر سائیکل پر بیٹھا غزنی اس کا ہی انتظار کررہا تھا‘ شرمین نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور بڑے مزے سے موٹر سائیکل پر اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ چند ہی لمحوں میں وہ دونوں سڑک پر جلتی کئی لائٹوں کا حصہ بن چکے تھے۔
ڑ…/ …‘
اکیلے گزرنے والی صرف ایک رات ہی کس قدر طویل ہوسکتی ہے اس بات کا اندازہ اجیہ کو بہت اچھے طریقے سے ہوگیا تھا لیکن پھر بھی وہ یوں کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتی تھی کہ اسے اکیلے ہونے کی بنا پر ہراساں کرے لہٰذا باوجود اس کے کہ وہ سخت خوف زدہ تھی مگر اس نے دروازے تک جانے کا فیصلہ کیا کہ دیکھے اور صبح محلے میں کسی سے شکایت بھی کرے کیونکہ بے شک گلی میں سارے کم آمدنی والے ہی رہائش پزیر تھے مگر سبھی شریف لوگ تھے گلی میں کوئی فضول بات آج تک اجیہ اور اربش نے نوٹ نہیں کی تھی دروازے پر ہونے والی دستک اب تک تھم چکی تھی۔ لہٰذا بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹتے ہوئے پہلے تو اس نے صحن کا زرد بلب بند کیا تاکہ باہر سے کوئی اسے نہ دیکھ سکے اور پھر چاند کی بکھری روشنی میں دبے قدموں دروازے کے پاس پہنچی اور دائیں سائیڈ کی جھری پر آنکھ لگا دی اور یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو مریل سے کتے جو نقاہت کے باعث شاید بھونک بھی نہیں پا رہے تھے موجود تھے جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد دروازے پر کبھی آہستہ اور کبھی زور سے پنجے مارنے لگتے جنہیں اجیہ کوئی پراسرار دستک سمجھنے لگی تھی۔
یہ مسئلہ حل ہوتے ہی اجیہ کو بھوک اور نقاہت کا احساس ہونے لگا تھا لیکن اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ کچن سے کوئی چھوٹی موٹی چیز لے کر کھالے جیسے تیسے کمرے تک پہنچی تو اس کے ذہن میں یہ سوال گردش کررہا تھا کہ اگر کبھی کوئی شخص رات کے وقت اسے تنہا جان کر گھر میں داخل ہوجائے دستک دینے کی زحمت کیے بغیر دیوار ہی پھلانگ کر آجائے تو وہ کیا کرے گی؟ یہ سوال ذہن میں آتے ہی جو پہلی سوچ اس کے ذہن میں آئی وہ یہی تھا کہ اسے صبح ہوتے ہی یہ گھر چھوڑ دینا چاہیے لیکن پھر اس کے بعد وہ جائے گی کہاں بنیادی اور سب سے اہم سوال تو یہی تھا جس کا جواب بہت دیر سوچنے کے بعد صرف اور صرف دارالامان ہی کی صورت میں ملا کیونکہ آج کل جس طرح کے حالات تھے وہ کسی بھی طور اکیلے رہنے کا رسک نہیں لے سکتی وہ بھی اس طرح کے محلے میں جہاں کوئی اس کا جاننے والا یا ہمدرد بھی نہیں تھا۔
وہ رات اس کی زندگی کی مشکل ترین رات تھی جو اس نے جاگتے ہوئے گزاری اور تمام رات ذہن میں اربش سے ہونے والی پہلی ملاقات سے لے کر صبح ہونے والی آخری ملاقات تک کے مناظر گھومتے رہے اس کی ایک ایک بات اجیہ کو یاد آرہی تھی اور اس نے بہت کوشش بھی کی کہ اس کی کسی ایک بات پر ہی شک کرے اور اسے بنیاد بنا کر یہ سوچے کہ واقعی اربش اسے چھوڑ کر جاچکا ہے‘ وہ اس سے بدلہ لینا ہی چاہتا تھا اور کام ہوجانے کی صورت میں اس نے تھکن اتارنے کے لیے بیرون ملک کی اڑان بھرلی تھی‘ اپنی آنکھوں سے اربش کے بیرونی ملک جانے کے دستاویزات دیکھ لینے کے باوجود جانے کیوں وہ یہ بات ماننے کو تیار ہی نہ تھی کہ اربش نے اسے دھوکا دیا ہے‘ جتنی مرتبہ اس نے اس طرز پر سوچنا چاہا دل نے مخالفت کی اور تب اس نے دل اور دل کی تمام تر دلیلوں کے آگے ہار مان لی۔
ثبوت ہونے کے باوجود وہ اسے مجرم قرار نہیں دے پائی تھی۔ لہٰذا تمام تر ہمت جمع کرکے اٹھی اور اپنے کپڑے اور بنیادی ضرورت کی چند چیزیں اسی اٹیچی میں ڈالیں تو دل اربش کا تصور کرکے رو دیا۔ یہ سب اجیہ نے کب سوچا تھا کہ ایسا ہوگا وہ تو اربش کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کی خواہش مند تھی اس نے تو کبھی کسی چیز کی فرمائش یا خواہش تک اربش سے نہیں کی تھی پھر آخر وہ کیوں چھوڑ گیا اسے اور وہ بھی اس کا کوئی بھی قصور کوئی غلطی بتائے بغیر۔
یہ اور بات کہ دشمن میرا ہے آج مگر
وہ میرا دوست تھا کل تک اسے برا نہ کہو
نجانے کون سی مجبوریوں کا قیدی ہو
وہ ساتھ چھوڑ گیا ہے تو بے وفا نہ کہو
اجیہ کے دل کی عدالت نے اربش کو مجرم قرار نہیں دیا تھا مگر اجیہ اس سے سخت خفا تھی جو اسے دنیا کے تھپیڑے کھانے کے لیے بھوکے شیر جیسے حالات کے سامنے ڈال گیا تھا باہر ہلکی روشنی ہونا شروع ہوگئی تھی بمشکل اس نے اپنا اٹیچی بیڈ سے اٹھا کر نیچے رکھا جو کہ بہت وزنی نہیں تھا لیکن کل سے بھوکا ہونے کی وجہ سے اس میں اتنی بھی توانائی نہیں بچی تھی کہ سہولت سے اٹیچی ہی رکھ پاتی اس پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اٹیچی میں پہیے لگے تھے جس کی وجہ سے وہ آرام سے اسے لے کر جاسکتی تھی۔
گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے بڑی سی چادر میں خود کو چھپایا بھیگی ہوئی نظروں سے آخری مرتبہ در و دیوار دیکھے جہاں اس نے اربش کے ساتھ اپنی زندگی کا قیمتی وقت گزارا تھا‘ صحن میں پڑی اینٹیں جن پر اکثر لوڈشیڈنگ کے دوران وہ دونوں آکر بیٹھا کرتے تھے‘ وہ روشن دان جہاں سے آسمان کا ایک ٹکڑا ان دونوں کو دیکھا کرتا تھا وہ ہر ایک چیز سے مانوس ہوچکی تھی کہ اذان سفر آن ملا اور پلکیں جھپکاتے ہوئے چادر کے پلو سے آنکھیں رگڑتی وہ گھر سے باہر گلی میں آگئی وقت چونکہ صبح کا تھا اس لیے گلی میں خاموشی تھی اور یہی وہ چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ لوگ اٹیچی لے کر اسے جاتا دیکھ کر کسی بھی قسم کا کوئی سوال کریں لہٰذا تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ بس اسٹاپ پر جا پہنچی اور یہ جانے بغیر کہ بس کہاں جا رہی ہے اٹیچی سمیت اس میں سوار ہوگئی۔
ویسے بھی وہ یہ بات پوچھتی ہی کیوں کہ بس کی منزل کون سی ہے جبکہ اس کی اپنی کوئی منزل نہیں تھی اور اب بس میں بیٹھ کر ہی اس نے طے کرنا تھا کہ اتنے بڑے شہر کے کون سے دارالامان میں اسے پناہ لینی چاہیے جہاں عزت سے سر چھپایا جاسکے چہرے کو نقاب سے ڈھانپے وہ کھڑکی سے باہر منہ کیے ہوئے تھی کہ ساتھ والی سیٹ پر ایک خاتون دو سالہ بچے کے ساتھ آبیٹھی بس کے ابھی بھرنے کا انتظار کیا جارہا تھا اور خواتین ذرا باتونی قسم کی واقع ہوئی تھیں لہٰذا پہلے تو بچے کے ساتھ مصروف رہیں پھر اسے مخاطب کرلیا اور پہلے اپنے بارے میں تفصیل بتانے لگیں۔
’’میں مہینے کے پہلے ہفتے ہمیشہ آتی ہوں اپنے بھائی کے پاس ہفتہ کا دن بھی ایک ساتھ گزرتا ہے اتوار کا بھی اور پھر پیر کے روز صبح سویرے بھائی بس پر بٹھا جاتا ہے اور میں اپنے گھر پہنچ جاتی ہوں یوں سمجھو مہینے کے دو روز بھائی کے پاس گزار لوں تو باقی پورا ماہ اچھا گزرتا ہے یقین کرو بھائی بھاوج دونوں اتنے اچھے ہیں کہ میں تو سارا سارا دن بھی دعائیں دیتی رہوں تو نہ تھکوں۔‘‘ وقت گزاری کے لیے اجیہ کو بھی ان کا ساتھ بہترین لگا تھا جبھی سر ہلا کر اپنی دلچسپی ظاہر کرتی رہی۔ ’’تم کہاں جا رہی ہو، اکیلی ہو کیا؟‘‘
’’میں وہ… میں بھی اپنی امی کے پاس جا رہی ہوں۔‘‘ اجیہ نے مصلحتاً جھوٹ بولا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اصل بات بتا کر پھر ہمدردی بھرے الفاظ اور ترس والی نظریں برداشت کرتی رہے۔
’’اچھا واہ بھئی واہ اور لگتا ہے مہینہ بھر رہنے جا رہی ہو، اسی لیے اٹیچی بھی ساتھ ہے یہ تمہارا ہی ہے ناں؟‘‘ بات پہلے کی اور تصدیق بعد میں کرنے کا خیال آیا اجیہ کو وہ ایک دلچسپ خاتون لگ رہی تھیں جن کے پاس بیٹھ کر شاید کوئی بور نہ ہو بس ان کی طرح طرح کی باتیں سنتی ہی رہے گی۔
’’جی میرا ہی ہے۔‘‘ اور اس کے بعد خاتون نے جو بولنا شروع کیا تو اپنے گھر سے لے کر خاندان والوں تک کی باتیں کرتی ہی چلی گئیں اجیہ کو لگنے لگا کہ جب یہ بس رک جائے گی تب وہ بھی کسی نہ کسی طور ان کے خاندان کا ہی کوئی فرد لگنے لگے تھی اور اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ بس کا آنے والا اسٹاپ ہی طے کرے گا کہ اس کی زندگی کا اگلا اسٹاپ کہاں ہوگا، ان خاتون سے باتوں میں اس نے جو دار الامان کا پوچھا تھا تو وہ بھی آخری اسٹاپ کے ہی نزدیک تھا۔
لیکن ان کی باتیں سنتے ہوئے اچانک سے اجیہ کو جانے کیا ہوا کہ وہ مکمل طور پر ان خاتون پر لڑھک گئی پہلے تو اس نے خوب کوشش کی کہ کسی طریقے اجیہ ہوش میں آئے لیکن جب ایسا نہ ہوا تو وہ کھڑی ہوکر شور مچانے لگی اور ڈرائیور سے درخواست کی کہ کسی بھی نزدیکی اسپتال کے سامنے اسے اتار دے۔ ڈرائیور بھی کوئی اللہ کا ایسا بندہ تھا جس کے دل میں ابھی اللہ کا خوف موجود تھا لہٰذا اپنے طے شدہ روٹ میں تبدیلی کرکے بس کو اس سڑک پر ڈالی جہاں کم سے کم وقت میں اسپتال تک جاسکتا ہو سارے مسافر ڈرائیور کو سراہ رہے تھے اور اسے بتا رہے تھے کہ اگر انہیں اپنے اپنے اسٹاپ پر پہنچنے میں کچھ تاخیر بھی ہوجائے تو خیر ہے لیکن اس نے بس کو اسپتال کی طرف موڑ کر بہترین کام کیا ہے۔ چند ہی منٹوں میں بس اسپتال کے بالکل سامنے آرکی ایک مسافر برق رفتاری سے اسپتال کے اندر سے اسٹریچر لے آیا اجیہ کو خواتین کی مدد سے باہر نکالا گیا اور پھر اسٹریچر پر لیٹایا گیا۔ وہ ابھی تک بے ہوش تھی مسافروں کو کہہ کر خاتون نے اس کا اٹیچی بھی اتروایا اور اسٹریچر کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی اسپتال میں داخل ہوئی لیکن نہیں جانتی تھیں کہ اب کرنا کیا ہے اور اسٹریچر لے کر جانا کہاں ہے ابھی وہ اسپتال کے اندرونی حصے میں داخل ہوکر اس سے پہلے کہ کسی نرس کی طرف متوجہ ہوتی سامنے سے آتی حنین کو دیکھا تو لپک کر بولی۔
’’بہن سنو… میں بس میں جا رہی تھی یہ لڑکی میرے ساتھ بیٹھی تھی بے ہوش ہوگئی تو دوسرے مسافروں کی مدد سے اسے یہاں لے آئی ہوں مگر اب میں نے بھی گھر جانا ہے بس پہلے ہی جاچکی ہے اب دوسری بس پکڑوں گی وقت پر نہ پہنچ سکی تو میرے شوہر بہت پریشان ہوں گے کہ وہاں سے تو بھائی نے بٹھا دیا تھا تو پھر میں گھر کیوں نہیں پہنچ سکی ننھے بچے کا ساتھ ہے اتنی دیر یہاں وہاں آنے جانے پر یہ بیمار نہ ہوجائے اور میرا تو پہلے بھی ایک ہی بیٹا ہے شادی کے چار سال بعد ہی تو پیدا…‘‘ ابھی ان کی باتیں جاری تھیں کہ حنین کو ٹوکنا پڑا۔
’’ان سب باتوں سے میرا کیا واسطہ ہے آپ کیوں مجھے یہ کہانی سنا رہی ہیں۔‘‘
’’صرف اس لیے کہ اسے اسپتال میں داخل کرا دو باقی نرسیں خود دیکھ لیں گی۔‘‘ ابھی ان خاتون نے اتنا ہی کہا تھا کہ کائونٹر پر موجود نرسز اور وارڈ بوائز متوجہ ہوئے اور اس سے پہلے کہ وہ قریب آکر کوئی سوال جواب کرتے جس طرح بوکھلاہٹ میں حنین نے اسے داخل ہوتے دیکھا تھا اس سے کہیں زیادہ بوکھلاہٹ کے ساتھ بچے کو سنبھالا اور منظر سے غائب ہوگئی۔
’’سسٹر یہ لڑکی شاید بس میں بے ہوش ہوگئی تھی اور یہ خاتون کسی طرح اسے یہاں لے آئیں۔‘‘ اس سے پہلے کہ نرس پوچھتی حنین نے خود ہی آگاہ کردیا تھا ویسے بھی وہ کافی دنوں سے اسپتال میں تھی اور تمام اسٹاف سے اس کی اچھی خاصی واقفیت ہوچکی تھی اس وقت کمرے کی صفائی کا وقت ہوا تو وہ چار پانچ منٹ کے لیے کمرے سے نکل آئی تھی۔
’’اوہ مائی گاڈ لیکن اس کی کوئی شناخت وغیرہ؟‘‘ نرس نے پریشانی سے اس کے چہرے پر پڑی چادر ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا تو جیسے حنین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا واقعی اس وقت اس کے سامنے اجیہ ہی ہے اور ہاں اگر وہ سو فیصد اجیہ ہی ہے تو یوں اس حالت میں، حنین حیرت سے گنگ کھڑی تھی جب وارڈ بوائے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’سسٹر میرا خیال ہے شناخت بعد میں معلوم کرلیں گے لیکن پہلے ضروری ہے کہ مریض کو کم از کم ابتدائی طبی امداد تو دی جائے ہوش میں لانے کی کوشش سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘
’’سسٹر… یہ… یہ بہن ہے میری میں جانتی ہوں اسے یہ میری سگی بہن ہے۔ اجیہ… اجیہ سکندر نام ہے اس کا پلیز آپ لوگ اسے فوری طور پر چیک کریں میں اس کی بہن ہوں حنین سکندر۔‘‘ اس کی بات سنتے ہی اسٹریچر کو ایمرجنسی کی طرف دوڑا دیا گیا تھا وارڈ بوائے نے کوریڈور کے بیچوں بیچ رکھے اٹیچی کو اٹھا کر کائونٹر پر موجود نرس کے حوالے کیا اور خود اپنی دیگر پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوا حنین البتہ اسٹریچر پر لیٹی اجیہ کے ساتھ ہی تھی اور وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اربش جیسے امیر کبیر انسان کے ساتھ شادی کرنے کے بعد اجیہ اس حالت تک کیسے پہنچی اور پھر اس کا حلیہ تو کسی بھی عام مڈل کلاس لڑکی جیسا تھا اسے دیکھ کر تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ ایک اونچے اور کھاتے پیتے گھرانے کی اکلوتی بہو ہے۔
’’کیا اجیہ کی آزمائش ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔‘‘ اجیہ کے زرد چہرے پر نظریں جمائے حنین نے خود سے سوال کیا آنسو اس کی آنکھوں سے کسی لڑی کی طرح مسلسل بہہ رہے تھے لیکن اس کے باوجود دل ہلکا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اجیہ کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روئے کہ کسی طور اسے صبر آتا نرسز نے فوری طور پر اجیہ کا ٹمپریچر بلڈ پریشر اور شوگر لیول چیک کرکے اسے ڈرپ لگا دی تھی۔ حنین اب تک اجیہ کے پاس ہی تھی اور مسلسل رو رہی تھی جب ایک نرس جو اب تک اس کی دوست بن چکی تھی کمرے میں آئی۔
’’حنین کمرے کی صفائی ہوگئی ہے آپ چاہیں تو کمرے میں جاسکتی ہیں کیونکہ ابھی میں نے آپ کے ہسبینڈ کو بھی کمرے میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔‘‘ حنین نے سر ہلاتے ہوئے آنسو پوچھے۔
’’یہ پیشنٹ میری سگی بہن ہے اور اس کا نام اجیہ سکندر ہے جیسے ہی اسے ہوش آئے پلیز مجھے فوراً بتا دینا۔‘‘ اس کے انداز میں بے تابی تھی۔
’’ہاں ضرور کیوں نہیں، میں خود بتانے آجائوں گی۔‘‘ نرس کے تسلی دینے پر وہ لب بھینچے کمرے سے نکلی تو غزنیٰ کو یہ خبر دینے کے لیے بے چین تھی اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طور یہیں کھڑے کھڑے غزنی کو آواز دے کر بتائے کہ یہ دیکھو اجیہ اس کے سامنے ہے اور یہ سب یقینا اسی لیے تھا کہ وہ نہیں جانتی تھی کہ غزنی اس وقت اجیہ کے معاملے میں کہاں تک انوالو ہے۔
ڑ…/ …‘
اربش اس وقت ائیرپورٹ کے اسی کمرے میں موجود تھا جہاں اسے کل لایا گیا تھا اور اب تک نہ تو کوئی کارروائی شروع کی گئی تھی اور نہ ہی مزید کسی بھی قسم کی تفتیش ہوئی تھی‘ شام سے رات اور رات سے اب صبح ہوگئی تھی مگر وہ اس خالی کمرے میں چند کمپیوٹرز کے ساتھ ایک کرسی پر بیٹھا تھا کبھی اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگتا اور کبھی پھر سے اسی کرسی پر آبیٹھتا اس کا فون بھی لے لیا گیا تھا ورنہ کم از کم حسن کو فون کرکے اس کے کراچی پہنچنے کے بارے میں ہی معلوم کرلیتا اور پھر اس کے ذریعے اجیہ کی خیریت کا پتا چلتا تو پُرسکون ہوجاتا مگر ایسا نہ ہوا۔ اور اب یہ حالت تھی کہ اس کی کمر شدید درد کررہی تھی ساری رات اسے کوئی جگہ نہ ملی جہاں دو گھڑی ہی سہی مگر وہ لیٹ جاتا۔
وہ بالکل بھی یہ سب سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ پہلے اس کے بیگ سے اس پیکٹ کا نکلنا ہی غلط پھر اس کے بعد کوئی قانونی کارروائی نہ ہونا اور یوں اسے کمرے میں بند کردیا جانا اربش کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا۔ ابھی وہ انہی سب باتوں پر غور کر رہا تھا کہ وہی دو آفیسرز جو کل اس کے پاس تھے۔ ایک دم سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔
’’ہاں بھئی کیسے ہیں آپ؟‘‘ ایک آفیسر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اربش الجھن کا شکار تھا اور یہ الجھن اب اس کے چہرے سے بھی عیاں تھی۔
’’کیا ہوا… کیا ہورہا ہے؟‘‘ دوسرے آفیسر نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا۔
’’پہلی بات تو یہ کہ وہ پیکٹ میرا نہیں ہے اور میں یہ بات کل سے آپ کو کئی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ میرا یقین کیجیے۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے کرلیا یقین اور دوسری بات؟‘‘ آفیسر مذاق کے موڈ میں تھا جبکہ تمام رات جاگنے کی وجہ سے اربش کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔
’’دیکھیے میں سنجیدہ ہوں۔‘‘
’’تو ہم کون سا یہاں اسٹیج ڈرامہ کررہے ہیں ہم بھی تو سنجیدہ ہی ہیں ناں آپ اپنی بات مکمل کریں۔‘‘ اربش نے اس کی بات پر ناپسندیدگی سے اسے دیکھا مگر وہ مزید بحث کرکے معاملہ بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔
’’اور دوسری بات یہ کہ تمام رات مجھے اس کمرے میں بند رکھنے کا مقصد کیا ہے پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’اعتراض تمام رات بند رکھنے پر ہے یا پھر اس کمرے میں بند رکھنے پر؟‘‘
’’دیکھیں میں آپ سے درخواست کرتا ہوں خدارا میرے ساتھ انصاف کیجیے میں قصور وار نہیں ہوں لیکن مجھے زبردستی اس کیس میں پھنسایا جارہا ہے۔‘‘
’’کون پھنسا رہا ہے آپ کو ایسا کون ہے جو آپ کو اتنے بڑے جرم میں ملوث کررہا ہے۔‘‘ آفیسر نے ایک نظر دوسرے آفیسر کو دیکھا اور پھر اربش کے چہرے پر اپنی نظریں مرکوز کردیں۔
’’یہی تو سارا مسئلہ ہے کہ مجھے تو کسی پر شک بھی نہیں ہے کیونکہ میری آج تک کسی سے دشمنی تو دور کی بات لڑائی تک نہیں ہوئی اور اسی لیے تو مجھے سخت حیرت ہے کہ پھر ایسا کون ہے جو میرے خلاف اس حد تک جارہا ہے۔‘‘
’’ہمم… ڈونٹ وری… سب بہتر ہوجائے گا پہلے تو آپ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ آپ کو کم از کم اس کمرے سے نجات ملے۔‘‘
’’لیکن کہاں؟‘‘ وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’یہ بتانا ضروری نہیں ہے میں آگے چلوں گا اور آپ مجھے فالو کریں گے آپ کے پیچھے یہ چلیں گے اس لیے کسی بھی قسم کی چالاکی یا بھاگ دوڑ کا خیال بھی دل میں لانے کی ضرورت نہیں ہے اگر کوئی شور شرابا ہوا تو نتائج کی ذمہ داری آپ کی ہی ہوگی سمجھے۔‘‘ اربش کو سمجھ تو نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے لیکن پھر بھی اس نے صرف یہاں سے نکلنے کے خیال سے ہی خوش ہوتے گردن ہلا دی، کیونکہ یہ تو وہ خود بھی چاہتا تھا کہ کسی طور اس کا معاملہ اس کمرے سے نکل کر پولیس اسٹیشن یا عدالت تک جائے تاکہ اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ملے وہاں جاکر وہ کم از کم حسن سے بھی رابطہ کرسکتا تھا اور اسے تمام صورت حال بتا کر معاملہ حل کرانے کی کوشش کا بھی کہہ سکتا تھا۔ سب سے پہلے آفیسر نے کمرے سے باہر نکل کر دائیں بائیں دیکھا اور پھر بڑی ہی خود اعتمادی کے ساتھ باہر نکلا۔
اربش سمیت دوسرے آفیسر نے بھی اس کی تقلید کی تھی اور وہ تینوں تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے ائیرپورٹ کے بیرونی حصے تک آپہنچے چلتے چلتے کہاں سے وہ لوگ یوں ایک دم ائیرپورٹ سے باہر نکل آئے تھے یہ اربش کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔ سامنے ہی ایک چھوٹی سی گاڑی تھی جسے کھول کر وہ خود بھی اس میں بیٹھے اور پچھلی سیٹ پر اسے بھی بٹھا لیا تھا۔
’’کیا ہم پولیس اسٹیشن جا رہے ہیں؟‘‘ اس کی بات پر ان دونوں نے زیرلب مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک نے ڈرائیونگ شروع کرتے ہوئے عقبی شیشہ سیٹ کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
’’جہاں جا رہے ہیں وہ جگہ دیکھ لو گے تم بھی بس اب زیادہ سوال جواب کرکے میرا دماغ مت کھانا۔‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس کی بات چیت کا انداز ہی بدل گیا تھا اور وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ سب کچھ جو بھی ہورہا ہے غلط ہورہا ہے اور قانون کا اس تمام معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں ہے لہٰذا آر یا پار ہونے کا سوچتے ہوئے اس کے ذہن میں یہی خیال آیا کہ چلتی گاڑی سے کود جائے تاکہ ان دونوں سے بھی نجات مل سکے۔ ابھی وہ یہ بات سوچ ہی رہا تھا کہ آگے بیٹھے ہوئے دونوں افراد میں سے ایک نے اپنا مکمل رخ اس کی طرف کیا اور بولا۔
’’گاڑی کے پچھلے دونوں دروازے خراب ہیں اور صرف باہر سے ہی کھل سکتے ہیں اگر تم اندر سے انہیں کھول پائو تو یقینا یہ ایک معجزہ ہوگا۔‘‘ اس کی بات سن کر اربش کے ذہن میں آیا منصوبہ وہیں دم توڑ گیا تھا۔
’’لیکن آپ لوگ یہ سب کیوں کررہے ہیں میرے ساتھ، آخر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے پلیز مجھے کچھ تو بتائیں کہ میری غلطی میرا قصور کیا ہے جس کی سزا مجھے دی جا رہی ہے۔ میں نے ایسا کیا کردیا ہے۔‘‘
’’تم بس خاموش رہو ابھی کچھ ہی دیر میں ساری حقیقت تم پر واضح کردی جائے گی تم ہمارے پاس صرف چند گھنٹوں کے ہی مہمان ہو شاید۔‘‘
’’چند گھنٹوں کے؟‘‘ اربش نے باہر دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کو دیکھا اور حسرت سے پوچھا۔
’’یار کہا ناں زیادہ باتیں مت کرو چپ کرکے خود بھی بیٹھو اور ہمیں بھی ہمارا کام کرنے دو۔‘‘ وہ اکتایا ہوا تھا لہٰذا کئی سوالات ذہن میں لیے اربش کو خاموش ہونا ہی پڑا۔
ڑ…/ …‘
صبح ہوتے ہی ممی اور بوا شرمین کا انتظار کرنے لگی تھیں کیونکہ وہ کل رات یہ کہہ کر گئی تھی کہ صبح آکر ان دونوں کو ساتھ لے کر جائے گی اور پھر سب مل کر اربش کے گھر چلیں گے ان دونوں سے تو رات کا کھانا کھایا جاسکا نہ صبح ناشتے کے لیے چند لقمے حلق سے اترے بس یہی بے چینی تھی کہ کسی طور جلد از جلد اربش سے ملیں اور اسی بے چینی میں صبح سے دو تین مرتبہ شرمین کو فون بھی کرچکی تھیں اور اب شرمین نے بتایا کہ وہ گھر سے نکل چکی ہے اور بس ان کے پاس پہنچنے ہی والی ہے اس لیے وہ دونوں تیار رہیں۔ اور تیار ہونے کے بعد وقت تھا کہ گزر ہی نہیں رہا تھا اور ٹہلتے ہوئے بھی ممی تھکنے لگی تھی کہ اچانک گیٹ پر اطلاعی گھنٹی بجنے سے دونوں ایک دم چونک گئیں۔
’’بوا، میں گاڑی نکالتی ہوں آپ لائونج کو تالا لگا دیں۔‘‘ ممی جلدی سے چابی لے کر نکلیں بوا نے بھی بڑی برق رفتاری سے تالا لگایا اسی دوران دو تین مرتبہ دوبارہ بیل ہونے لگی ممی گاڑی کا رخ گیٹ کی طرف کرچکی تھیں مگر بوا کو گیٹ کھولنے میں وقت لگتا اس لیے خود نیچے اتر کر گیٹ کھولا اور عین سامنے سکندر صاحب کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
’’آپ…! اس وقت؟‘‘
’’ہاں بس اب وقت گزرتا ہی نہیں اور نہ ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ دن ہے یا رات گھر پر اکیلا تھا اور اب اکیلا پن مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ گلی محلے کے آوارہ عاشقوں کی طرح دھیمی دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجائے خوامخواہ رومانٹک تاثر دینے کی کوشش میں ہلکان ہورہے تھے۔
’’لو بھئی، یہ صبح ہی صبح کہاں سے آکر رستہ کاٹ گیا اب بس اللہ ہم پر رحم ہی کرے اور دن اچھے طریقے سے گزر جائے۔‘‘ آہستہ قدموں سے چلتی بوا نے انہیں دیکھ کر گاڑی کے پاس ہی رکنے کو ترجیح دیتے ہوئے خود کلامی کی۔
’’سکندر صاحب آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی عمر کا کچھ لحاظ کرلیا کریں آپ کی عمر میں یہ چونچلے انتہائی واہیات معلوم ہوتے ہیں سمجھے آپ؟‘‘
’’سمجھ تو میں گیا ہوں لیکن جو عمر ان چونچلوں کی تھی وہ تو تم نے ضائع کرا دی تو پھر اس میں قصووار کون ہوا میں یا تم؟‘‘ وہ تو شاید فارغ ہوکر آئے تھے اور لمبی بات چیت کے موڈ میں تھے جبکہ ممی جلدی میں تھیں اس لیے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولیں۔
’’میں اس وقت کہیں جا رہی ہوں، بہتر ہوگا کہ آپ رستہ چھوڑ دیں۔‘‘
’’اتنی صبح کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’میں آپ کو بتانے کی پابند نہیں ہوں سکندر صاحب۔‘‘ وہ ان کی ہٹ دھرمی سے زچ ہوئیں۔
’’میں بھی صبح صبح اسپتال ہی جارہا ہوں حنین اپنی ماں کے پاس اسپتال میں ہی رہتی ہے اکثر… تو میں پھر حنین کی خیریت معلوم کرنے چلا جاتا ہوں۔‘‘ انہوں نے بغیر ممی کے پوچھے خود ہی بتایا۔
’’صرف حنین کی؟‘‘
’’ہاں کیونکہ اس عورت میں مجھے اول روز سے ہی کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوئی۔‘‘
’’ہمم…‘‘ ممی نے گہرا سانس لیتے ہوئے کچھ سوچا اور پھر بولیں۔
’’کون سے اسپتال میں ہے حنین اور اس کی ماں۔‘‘ جان بوجھ کر ممی نے اپنے لہجے میں ان دونوں ماں بیٹی کے لیے کھردرا پن نمایاں کیا تھا تاکہ سکندر صاحب کو ان کی طرف سے کوئی ہمدردی والی فیلنگ نہ آئے اور یہی ہوا جس کھردرے پن کے ساتھ ممی نے پوچھا تھا اسے بڑھ کر رکھائی سے جواب ملا تو ممی کو یوں لگا جیسے سارے خزانے ملنے کا دن آج ہی ہے۔
انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے ہی ذہن میں وقت کو ترتیب دیا کہ آج سب سے پہلے اربش کے گھر جا کر اس کے بعد وہ اپنی بہن سے ملنے اسپتال جائیں گی۔ البتہ اسکول کی وائس پرنسپل کو اپنے تاخیر سے پہنچنے کے بارے میں وہ رات کو ہی آگاہ کرچکی تھیں لہٰذا بے فکر تھیں۔ اسی دوران انہیں شرمین رکشے میں بیٹھ کر آتی نظر آئی تو سکندر صاحب کو اللہ حافظ کہہ کر وہاں سے بمشکل ہٹایا اور وقت ضائع کیے بغیر شرمین کو بھی ساتھ لیا اور گاڑی سڑک کی طرف لے آئیں۔
ڑ…/ …‘
جب سے حنین اجیہ کو چھوڑ کر اپنے کمرے میں آئی تھی اس وقت سے مسلسل ہی دعائیں کیے جا رہی تھی، ساتھ ہی آنسو بھی جاری تھے اور دعائیں بھی اور یہ دعائیں وہ باآواز بلند کررہی تھی کیونکہ کمرے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے امی کو بتایا تھا کہ اجیہ بھی اسی اسپتال میں ہے اور اسے دعائوں کی سخت ضرورت ہے اور وہ آواز کے ساتھ دعا مانگ بھی اسی لیے رہی تھی کہ امی کم از کم دل ہی دل میں آمین کہہ دیں۔ اور اسے مکمل یقین تھا کہ امی اس کی ہر ہر دعا پر دل میں اور دل سے آمین ضرور کہہ رہی ہیں اور ماں کی دعا تو بنا کسی رکاوٹ عرش تک پہنچتی ہے وہ دونوں ہاتھ دعا کے لیے پھیلا کر اجیہ کی صحت و سلامتی کے لیے دعا مانگ رہی تھی جب نرس نے اسے کمرے میں آکر بتایا۔
’’مریض کو ہوش آگیا ہے۔‘‘
’’اوہ میرے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ حنین نے جذبات میں آکر فوراً ہی امی کا ہاتھ چوم لیا تھا۔
’’امی، میں اجیہ کو دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘ حنین کی بے چینی عروج پر تھی اس نے امی کے سامنے اس بات کا تو اظہار کیا تھا کہ اجیہ بھی اسی اسپتال میں ہے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کن حالات میں اسے دیکھ کر آئی ہے۔
لہٰذا تقریبا بھاگتے ہوئے وہ اجیہ کے پاس پہنچی جو جرنل وارڈ کے ایک بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ زرد چہرہ اور آنکھوں تلے حلقے یہ وہ اجیہ تو نہیں تھی جسے انہوں نے اربش کے ساتھ رخصت کیا تھا اجیہ کو یوں کمزوری میں دیکھ کر حنین کے دل کو کچھ ہوا۔ ایک بازو پر ڈرپ لگی تھی سو حنین نے دوسرے ہاتھ کو جیسے ہی ہاتھ میں لیا اجیہ نے گھبرا کر ایک دم آنکھیں کھول دیں۔ اور ایسی آنکھیں کھولیں کہ بس پھر کھلی کی کھلی ہی رہ گئیں، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے یا یہ سب حقیقت میں ہورہا ہے جذبات میں آکر ایک دم اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو ڈرپ کی سوئی نے چبھ کر اسے لیٹے رہنے کا حکم دیا۔
’’حنین کیا یہ تم ہو…! کیا کیا میں واقعی تمہیں دیکھ رہی ہوں؟‘‘ خوشی اور حیرت سے اس کی آواز کانپ رہی تھی اور تقریباً یہی کیفیت حنین کی بھی تھی۔
’’ہاں اجیہ میری بہن یہ میں ہی ہوں، اللہ نے ہماری ملاقات کرائی ہے لیکن دیکھو تو کس مقام پر…‘‘ وہ رونے لگی۔
’’لیکن تم یہاں کیوں ہو، کون ہے اسپتال میں اور مجھے یہاں کون لایا؟ میں تو بس میں بیٹھی تھی ناں اور… اور میرے ساتھ میرا اٹیچی کیس بھی تھا۔‘‘ اجیہ نے اٹیچی کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔
’’تمہارا اٹیچی میرے پاس ہے اور تمہیں یہاں تک ایک خاتون چھوڑ کر گئی تھیں جن کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا تم بس میں بے ہوش ہوگئی تھیں اور جب کسی طریقے ہوش میں نہ آئیں تو وہ تمہیں اسپتال پہنچانے پر مجبور ہوگئیں۔‘‘
’’اوہ ہاں…‘‘ اجیہ کو وہ خاتون یاد آگئی تھیں اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ اگر وہ اسے اسپتال نہ لاتیں اور وہیں سیٹ پر چھوڑ کر اپنے اسٹاپ پر اتر جاتیں تو کیا ہوتا پھر نجانے وہ جس کو نظر آتی وہ بھی اسی طرح اسپتال لاتا یا نہ لاتا۔
’’یا اللہ تیرا شکر ہے اللہ اسے جزائے خیر عطا کرے۔‘‘ اجیہ نے دل سے اس خاتون کے لیے دعا کی۔
’’لیکن اجیہ تم اور یہ سب… تمہارے سسرال والے کہاں ہیں جو تم یوں اکیلی بسوں کے دھکے کھا رہی ہو؟‘‘ حنین کے آنسو تو ویسے بھی مشہور تھے کہ ذرا ذرا سی بات پر رونے لگتی لیکن آج تو اجیہ کو دیکھنے کے بعد واقعی اس کے آنسو نہیں رک رہے تھے اجیہ لیٹی ہوئی تھی اور وہ اس پر جھک کر اس کے گلے لگ گئی تھی اجیہ نے اپنا دوسرا بازو اس کے گرد لپیٹا اور ہاتھ سے اس کی کمر سہلانے لگی۔
’’پہلے تم اپنا رونا دھونا بند کرو۔ ورنہ میں بھی یہاں رونے لگ گئی ناں تو وارڈ میں موجود سب مریض گھبرا جائیں گے۔‘‘ اجیہ اسے خاموش کرا رہی تھی حنین نے سر اٹھا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور ہٹ کر بیڈ کے ساتھ رکھے اسٹول پر بیٹھنے سے پہلے نظر گھما کر چاروں اطراف دیکھا۔
یہ زنانہ جنرل وارڈ تھا اور واقعی تمام خواتین بڑی دلچسپی سے یہ مناظر دیکھ رہی تھیں، حنین نے اپنی آنکھیں پونچھیں اور خاموشی سے اجیہ کو دیکھنے لگی اتنے دنوں بعد اجیہ کو دیکھ کر وہ چاہ کر بھی اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہی تھی۔
’’میرے متعلق تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے یہ بتائو کہ تم یہاں اسپتال میں صبح ہی صبح کیا کررہی تھی جو مجھے دیکھ لیا۔‘‘ اجیہ کے سوال پر حنین نے چند لمحوں تک خاموش رہ کر سوچا کہ اب کیا کیا جائے وہ اسے مکمل صورت حال بتائے یا نہ بتائے۔
’’بتائو ناں حنین تم کچھ بولتی کیوں نہیں؟‘‘ اجیہ کی آواز سے وہ چونکی اور پھر آخرکار سب کچھ بتانے کا فیصلہ کرلیا۔
’’میں یہاں آج سے نہیں ہوں اجیہ اس دن سے اسپتال میں ہوں جس دن تم رخصت ہوکر گھر سے گئی تھیں۔‘‘
’’اس دن سے یہاں ہو، کیا مطلب ہے تمہارا کیوں اس دن سے یہاں ہو تم؟‘‘
’’دراصل تمہارے جانے کے بعد بابا جانی نے گھر میں بہت ہنگامہ کھڑا کردیا تھا اور امی کو بھی بے نقط سنائیں اور پھر بس امی کی برداشت ختم ہوگئی ان کے اعصاب مزید بوجھ نہ سہار پائے اور جواب دے گئے وہ بے ہوش ہوگئی تھیں۔‘‘
’’کیا… کیا… کہہ رہی ہو تم حنین امی تب سے اسپتال میں ہیں؟‘‘ اجیہ کو امی کی حالت کے بارے میں جان کر بہت صدمہ ہوا تھا اور اس کا بس چلتا تو ابھی بھاگ کر ان کے پاس پہنچ جاتی۔
’’ہاں تبھی سے اسپتال میں ہی ہیں شروع میں تو حواس بالکل کام نہیں کررہے تھے مگر اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ سننے کی اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو استعمال کر رہی ہیں لیکن اب تک آنکھیں نہیں کھول پا رہیں۔‘‘
’’سسٹر… سسٹر…‘‘ حنین کی بات کے جواب میں اجیہ نے پاس سے گزرتی نرس کو آواز دے کر پاس بلایا۔
’’کیا بات ہے۔‘‘ وہ دوسرے بیڈ پر مریضہ کو انجکشن لگانے جا رہی تھی اس کے بلانے پر بدمزہ ہوئی جو اس کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہورہا تھا۔
’’کیا میں یہ ڈرپ اتار سکتی ہوں؟‘‘
’’خیریت، واش روم جانا ہے کیا۔‘‘
’’نہیں لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ میری ڈرپ اتار دیں مجھے اب اس کی ضرورت نہیں ہے میں بیڈ سے اترنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’بی بی مریض ہو تو مریض ہی رہو خود کو ڈاکٹر سمجھنے کی غلطی نہ کرو۔‘‘
’’نہیں، نہیں… ایسا تو بالکل بھی نہیں ہے لیکن پلیز آپ میری پرابلم سمجھیں میری ماں بھی اسی اسپتال میں ہے اور سخت بیمار ہے میں ان سے ملنا چاہتی ہوں فار گاڈ سیک میری ڈرپ اتار دیں۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی تھی اور جب سے اسے پتا چلا تھا کہ امی بھی اسی اسپتال میں ہیں تو اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود ہی اپنے بازو میں لگی سوئی کھینچ پھینکے۔
’’دیکھو، بی بی مانتی ہوں کہ تمہاری ماں بیمار ہے لیکن تم خود سوچو کہ تم بھی تو ماں بننے کے عمل سے گزر رہی ہو، اگر تمہیں کچھ ہوا تو براہ راست اثر تمہارے بچے پر ہی پڑے گا۔‘‘
’’اجیہ… کیا واقعی… میں خالہ بننے والی ہوں؟‘‘ حنین کے چہرے سے چند لمحوں پہلے والی اداسی دور ہوگئی تھی اور اس کا چہرہ خوشی سے یوں دمک رہا تھا کہ نرس بھی مسکرانے لگی۔
’’ہاں بھئی تم خالہ بننے والی ہو اس لیے اپنی بہن کو سمجھائو کہ اپنا خیال پہلی ترجیح کے طور پر رکھے اپنے لیے نہ سہی تو اپنے ہونے والے بچے کی خاطر ہی سہی۔‘‘ اجیہ کا بازو محبت سے تھپتھپاتے ہوئے نرس مسکرائی اور آگے چل دی۔
’’بہت بہت مبارک ہو اجیہ، اتنے سارے مشکل دنوں کے درمیان اس خوشی کی خبر نے تو سمجھو مجھے ہوائوں میں اڑا ڈالا ہے۔‘‘ اور واقعی یہ خبر تھی ہی ایسی کہ حنین نے اس سے مزید کچھ بھی پوچھنے کے بجائے باقی تمام معاملات کو کسی اور وقت کے لیے موخر کردیا اجیہ بھی مسکرانے لگی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ کچھ ہی دیر بعد حنین دوبارہ اس سے اس کے سسرال کے متعلق سوال کرے گی‘ اربش کے بارے میں پوچھے گی اور بھلا وہ اربش کے بارے میں اسے کیا بتا پائے گی جبکہ وہ خود اس بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی ڈرپ کے ذریعے قطرہ قطرہ توانائی اس کے اندر انڈیلی جارہی تھی مگر حقیقت تو یہ تھی کہ حنین کو دیکھنے اور امی کو دیکھ لینے کی امید سے ہی اس کے اندر ایک نئی قوت کا اضافہ ہوا تھا وہ خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا محسوس کررہی تھی اور جانتی تھی کہ آج اگر وہ خیریت سے دوبار حنین کے سامنے موجود ہے تو اس میں صرف اور صرف امی کی دعائوں کی ہی طاقت ہے ورنہ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں انسانوں کا سمندر موجود ہو ایک بار کسی سے بچھڑ کر یوں مل جانا بڑی بات ہے ورنہ انسانوں کے اس ہجوم میں کچھ بھیڑیا صفت لوگ بھی ہر وقت تاک میں رہتے ہیں کہ کب کوئی نیا شکار ہاتھ لگے ایسے میں اگر اس کی ملاقات اس فرشتہ صفت خاتون سے ہوئی جو اسے اسپتال تک چھوڑ گئی تو پھر یہ دعائوں کی بدولت پیش آنے والی کوئی کرامت نہیں تھی تو بھلا کیا تھا۔
ڑ…/ …‘
شرمین ممی اور بوا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی اب اجیہ کے گھر کی طرف روانہ تھی وہ انہیں رستہ بتاتی جا رہی تھی اور ممی اس کی ہدایت کے عین مطابق گاڑی کا رخ موڑتی جاتیں آخر مین روڈ سے اتر کر ان کی گاڑی نسبتاً تنگ یک طرفہ سڑک پر چلنے لگی اور وہاں شرمین نے انہیں تھوڑی ہی دیر بعد رکنے کا کہا۔
’’اب آگے گاڑی نہیں جا پائے گی ہمیں پیدل چلنا پڑے گا۔‘‘
’’اسی گلی میں رہتا ہے اربش؟‘‘ بوا نے گلی کے باہر ہی موجود کچرے کے ڈھیر پر بھنبھناتی مکھیوں اور پاس ہی کھیلتے بچوں کو دیکھ کر پوچھا۔
’’جی بوا، اسی گلی میں، بس تھوڑا سا اندر جا کے۔‘‘ وہ بوا کے ساتھ گاڑی سے باہر آچکی تھی ممی بھی گاڑی لاک کر کے ان کے ساتھ ہی آکھڑی ہوئیں۔
’’ممی ہمیں گلی کے کچھ اندر تک جانا ہوگا اجیہ اور اربش وہیں رہتے ہیں۔‘‘ جواب میں ممی ارد گرد دیکھتے ہوئے خاموش ہی رہیں اور گلی کی طرف قدم بڑھا دیے وہ یہ حقیقت قبول ہی نہیں کر پا رہی تھیں کہ انتہائی نفاست پسند اربش روزانہ اس کچرے کے ڈھیرے کے قریب سے یوں گزر کر آتا جاتا ہوگا وہ تو بچپن میں بھی صفائی کا اس قدر دھیان رکھنے والوں میں سے تھا کہ کھانا کھاتے ہوئے کپڑوں پر پانی بھی گر جاتا تو اس وقت تک دوبار کھانا کھانا شروع نہ کرتا جب تک ممی سے اپنے کپڑے نہ بدلوا لیتا، یہ بچوں کے اسکول جانے کا وقت تھا لہٰذا گلی میں بچوں کی آمد و رفت کی وجہ سے خوب رونق تھی اور سبھی ان تینوں کو یوں غور سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی عجیب سی مخلوق ہوں۔
کچھ عورتیں دروازے پر لٹکتے پردوں کی اوٹ سے ان تینوں خوش لباس خواتین کو دیکھ کر حیرت سے سوچ میں تھیں کہ ان کی آمد گلی کے کون سے گھر میں متوقع ہوسکتی ہے اور پھر ذرا سا باہر نکل کر اس وقت تک دیکھتی جب تک کہ سامنے سے کوئی مرد نہ آتا دکھائی دے۔ گلی کے ذرا سا اندر جا کر شرمین ایک گھر کے سامنے جا رکی۔
’’یہی گھر ہے اربش کا۔‘‘ گھر کی بیرونی حالت کچھ اتنی اطمینان بخش نہیں تھی شرمین نے ذرا سا دروازے پر دبائو ڈالا ہی تھا کہ وہ کھلتا ہی چلا گیا اور خود صحن میں داخل ہوتے ہوئے اس نے ممی اور بوا کو بھی اندر آنے کا اشارہ کیا۔
’’گھر کیا تھا بس ممی کا تو دل ہی بند ہونے لگا تھا وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ اربش یہاں اس گھر میں رہتا ہوگا، یہ زیر تعمیر مکان جو ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا ممی کے قدم تو وہیں صحن میں پڑی اینٹوں اور بجری سیمنٹ نے روک رکھے تھے ان کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی کہ آگے بڑھتیں اور کمرے تک جاتیں انہیں معلوم تھا کہ اربش کو گھر سجانے کا کتنا شوق تھا اور گھر میں ذرا سا پھیلا سامان بھی دیکھ کر اس کے چہرے پر کیسی ناپسندیدگی کے آثار ہوا کرتے تھے اور اب یہاں اس گھر میں وہ بھلا کس دل سے رہ رہا ہوگا۔
’’آخر اجیہ گئی کہاں؟‘‘ شرمین کمرے سے نکلی تو خود کلامی کرتے ہوئے بلند آواز میں بولی۔
بوا کچن میں رکھی ایک ننھی سی دیگچی دو پلیٹوں دو چمچوں اور پانی کی آدھی بوتل کو دیکھ کر دل گرفتہ تھیں حالات ایک شہزادے کی آن بان سے زندگی گزارنے والے اربش کو کس مقام پر لے آئے تھے وہ جو اکثر اپنی فرمائش پر بوا سے اپنی پسندیدہ چیزیں پکوایا کرتا تھا اب کیا کھاتا ہوگا یہ سب تو باورچی خانے کی حالت دیکھ کر ہی واضح ہورہا تھا۔
دنیا تمہیں اس موڑ پر لے آئے گی اک دن
ہنسنا تو بڑی بات ہے رو بھی نہ سکو گے
بوا کا دل اس قدر بوجھل ہورہا تھا کہ واقعی ان کی آنکھ میں آنسو بھی نہیں آرہے تھے اور نہ ہی وہ اس وقت آنسو بہا کر ممی کو مزید پریشان کرنا چاہتی تھیں۔
’’کیا مطلب ہے شرمین، کہاں ہے اجیہ اور اربش؟‘‘ ممی نے وہیں ان بد رنگ اینٹوں کے پاس کھڑے کھڑے سوال کیا۔
’’اجیہ نہیں ہے کمرے میں اور نہ صرف یہ کہ اجیہ نہیں ہے بلکہ اس کے استعمال کی کوئی بھی چیز اس وقت گھر پر نہیں ہے۔‘‘
’’مطلب…!‘‘
’’مطلب یہ کہ ممی وہ اپنا سامان سمیٹ کر کہیں چلی گئی ہے چھوڑ گئی ہے یہ گھر ورنہ ابھی کل تک تو وہ بھی یہیں تھے اور اس کا سب سامان بھی میں خود ملی تھی اس سے۔‘‘
’’اور میرا اربش وہ کہاں ہے شرمین مجھے ایک بار اس سے ملوا دو پلیز صرف ایک بار…‘‘ ممی اب پچھتا رہی تھیں۔
پہلے گلی پھر گھر کی حالت دیکھ کر وہ انتہائی دل گرفتہ تھیں اور خود کو الزام دے رہی تھیں کہ آج اگر اربش اتنی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہوا تو اس کی وجہ صرف اور صرف وہ خود تھیں آخر کیوں ماں ہوتے ہوئے بھی انہوں نے در گزر سے کام نہ لیا اس مسئلے کا یقینی طور پر کوئی بہتر حل بھی نکل سکتا تھا پھر کیوں انہوں نے کسی اور آپشن پر غور نہ کیا جس بیٹے کی خاطر وہ پوری زندگی تیاگ سکتی تھیں اس کی خاطر اس کی خوشی کے لیے وہ اس کی پسند پر کمپرو مائز کیوں نہ کرسکیں اپنی انا کا بت اپنے ہی بیٹے کے سامنے کیوں کھڑا کردیا اور پھر اس ساری جنگ میں کیا ہاتھ آیا نہ دل کو سکون حاصل رہا اور نہ ہی بیٹے کو کوئی خوشی ملی صرف ان کی ضد کی وجہ سے آج چار افراد بے سکونی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
ایک استاد کے طور پر دوسروں کو سمجھانے ہونے والی وہ یہ بات کیوں یاد نہ رکھ سکیں کہ چھوٹے تو غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہوتے ہیں اب یہ ذمہ داری تو بڑوں کے سر ڈالی گئی ہے کہ وہ ان کی غلطیوں کو اس خوب صورتی سے ہینڈل کریں کہ اس کے تمام نقصانات چھوٹوں کے سامنے یوں ظاہر کریں کہ وہ ان کے بڑے پن کو سلام کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ معاف کرنے کی صفت بھی تو بڑوں ہی کی نشانی ہے کہ جب چھوٹے اپنی کسی غلطی کے بعد سر جھکائے انہیں معاف کرنے کی درخواست کریں تو وہ دھتکاریں مت کسی قسم کے طنز و طعنوں سے پرہیز کریں اور انہیں اس حد تک برا بھلا نہ کہیں کہ پھر ضد میں آکر یا تو دونوں کے درمیان سے لحاظ اور ادب کا رشتہ ختم ہوجائے اور یا پھر وہ غصے میں آکر اس سے بھی بڑی غلطی کر بیٹھیں۔
’’مجھے تو خود سمجھ نہیں آرہا کہ اربش کہاں ہے بلکہ میں تو اجیہ کے لیے بھی حیران ہوں میں نے خود اسے رات کو یہاں کمرے میں بیٹھا بھی دیکھا تھا اور میں اس کے پاس بیٹھ کر باتیں بھی کرتی رہتی تھی۔‘‘ اجیہ غیر متوقع طور پر گھر سے غائب ہوئی تھی اس لیے خود شرمین حیرت میں تھی۔
’’تم اجیہ کے لیے پریشان نہ ہو شرمین، اربش کا بتائو اور اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرو اس کے ملنے پر اجیہ کا خودبخود پتا چل جائے گا۔‘‘ ممی اب اربش سے جلد از جلد ملنا چاہتی تھیں۔
اسی دوران شرمین کا فون بجنے لگا تھا پرس میں سے فون نکال کر دیکھا تو دوسری طرف غزنیٰ تھا ذرا سا فاصلے پر ہوکر اس نے فون سنا اور چند لمحوں بعد ممی کے پاس آئی اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی مگر یہ مسکراہٹ ممی اور بوا کی آنکھوں سے چھپی ہوئی تھی ویسے بھی جس سے ہم محبت کرتے ہیں جسے اپنا سمجھتے ہیں تو اعتماد کی پٹی یوں آنکھوں پر بندھ جاتی ہے کہ پھر اس کا جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے شرمین پر بھی ممی اور بوا نے اسی طرح کا اعتماد کر رکھا تھا کہ اگر وہ دن کو رات بھی کہتی تو وہ مان سکتی تھیں۔
’’کیا ہوا، کس کا فون تھا شرمین۔‘‘ ممی کے پوچھنے پر وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی۔
’’سمجھ نہیں آرہا کہ بات شروع کیسے کروں ممی؟‘‘ ٹینشن ظاہر کرنے کے لیے اس نے خوامخواہ انگلیاں چٹخانی شروع کردی تھیں۔
’’کیا بات ہے شرمین سب ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘
’’سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ممی یہی تو مسئلہ ہے۔‘‘ اس نے باری باری ممی اور بوا کو دیکھا۔
’’کچھ بتائو گی بھی یا یونہی پہیلیاں بجھواتی رہو گی؟‘‘ بوا نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔
’’میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے شرمین جو کچھ بھی ہے جلدی سے بتائو۔‘‘
’’ممی… اربش کا پتا چل گیا ہے۔‘‘
’’اوہ میرے اللہ تیرا شکر ہے… تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے ہماری دعائیں سن لیں۔‘‘ ممی اور بوا دونوں نے فرط جذبات سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔
’’وہ تو سب ٹھیک ہے ممی مگر مجھے افسوس ہے کہ خوشی کی یہ خبر ابھی ادھوری ہے اور اس کے ساتھ جو اگلی خبر میں آپ کو بتانے والی ہوں وہ سن کر شاید آپ کی اس خوشی پر اوس پڑ جائے۔‘‘
’’میرے اعصاب کو مت آزمائو شرمین جو بھی بات ہے سیدھے اور صاف طریقے سے ایک ہی مرتبہ بتا دو۔‘‘ ممی نے دو ٹوک لہجہ اپنایا۔
’’ہمم… تو پھر صاف اور مختصر بات یہ ہے ممی کہ اجیہ کو عیش و آرام دینے اور اس کی روز روز کی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر اربش نے شارٹ کٹ اپنانے کا تو سوچا مگر…‘‘ وہ پھر رکی تھی۔
’’مگر…؟‘‘ ممی کا لہجہ سخت تھا۔
’’مگر یہ کہ وہ ائیرپورٹ پر منشیات اسمگلنگ کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔‘‘
’’کیا…! یہ کیسے ہوسکتا ہے…؟‘‘ ممی وہیں ایک طرف رکھی اینٹوں کا سہارا لے کر سیمنٹ پر ہی بیٹھ گئیں بوا بھی دل تھامے جہاں کھڑی تھیں وہیں کھڑی رہ گئیں۔
شرمین نے چہرے پر اترتے اطمینان کو چھپانے کی کوشش کی کیونکہ جانتی تھی اس کی منزل اب صرف دو قدم کے فاصلے پر موجود ہے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close