Aanchal Nov-17

الکوثر

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو ‘ تو دیکھتا کہ خوفِ الٰہی سے وہ پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ (سورۃ الحشر۔۲۱)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور اپنی عطاء کا ذکر فرما کر اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت و ادراک کا اظہار فرما رہا ہے کہ ہم نے اپنے محبوب کو کتنا قوی کتنا ادراک فہم عطا کیا۔ وہ اتنا عظیم ہے کہ پہاڑ جو اپنی سختی و مضبوطی میں دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہ بھی میرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت و ادراک کے سامنے بالکل پست ہے اگر ہم قرآن کو اتارنے کے لیے پہاڑ میں بھی فہم و ادراک پیدا کردیتے وہ صلاحیت جو ہم نے انسان میں رکھی ہے وہ بھی پیدا کردیتے تو قرآن حکیم کی بلاغت و فصاحت قوت و استدلال اور وعظ تذکرے کے ایسے پہلو ہیں جنہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت و بلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ اس آیتِ مبارکہ میں خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ قرآن مجید نازل کیا جو ایسی عظمت و شان کا حامل ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا احسان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز (قرآن حکیم) کی قوت کو برداشت کرلیا جس کی طاقت پہاڑ میں نہیں ہے۔ (فتح القدیر) یہ آیت مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر فرد کے سمجھنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو عقل و فہم کی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ قرآن حکیم کے مواعظ سے نصیحت حاصل کریں اور نافرمانیوں سے اجتناب کریں یہاں عام انسانوں کے لیے نصیحت ہے انہیں سمجھایا ڈرایا جارہا ہے کہ وہ کلام الٰہی کو خوب سمجھ لیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صحیح پیروی کریں اور رحمت اللعالمین کی رحمت کے سائے میں اپنی آخرت کا سامان کر لیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا انعامِ عام ہے کہ انہوں نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ عطا کر کے مبعوث فرمایا جو اس سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیا گیا۔ ایک اور بڑی عظیم الشان نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہونے والی معراج کی سعادت ہے۔ یہ انعام حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک پر ایک مرصّع تاج کی مانند چمکتا دمکتا نظر آتا ہے۔ ایسا تاج جو تمام انبیاء السلام سمیت تمام تاریخ انسانی کے کسی اور فرد کی حیات و سیرت میں نظر نہیں آتا۔ اس کا ذکر اللہ ربّ العّزت نے قرآنِ حکیم میں سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں فرمایا ہے۔ معراج کا واقعہ درحقیقت تاریخ انسانی کے ان بڑے اہم واقعات میں سے ہے جنہوں نے زمانے کی رفتار ہی بدل ڈالی اور تاریخ پر اپنا مستقل اثر چھوڑا ہے۔ یہ امّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔
ترجمہ۔ پاک ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے‘ اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض مشاہدے دکھائیں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔۱)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا ذکر فرمایا ہے جو ناصرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں بھی واقعہ معراج دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی و تسلی کا ذریعہ ہی ہے کیونکہ جس روز اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ اور قریش کو دعوت حق دی تھی اسی روز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنانِ حق اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ہر طرف سے مصائب و آلام کا سیلاب امڈ آیا تھا اور ہر روز رنج و غم میں اضافہ ہوتا جارہا تھا بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیق و مہربان سر پرست چچا ابو طالب وفات پا گئے۔ ابھی اس صدمے کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مونس و ہمدم رفیقۂ حیات ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے بھی اِسی سال اس جہانِ فانی سے کوچ فرما لیا۔ (ابن البّر کے مطابق مقاطعہ اور محصوری کے خاتمے کے بعد شعیب سے نکلنے کے چھ ماہ بعد ہوئی اور ان کے تین دن بعد اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا جبکہ ابن سعد لکھتے ہیں ابوطالب کی عمر انتقال کے وقت اسی برس تھی ان کے ایک مہینہ پانچ دن بعد اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئی اس وقت اُن کی عمر ۶۵ برس تھی۔ حکیم بن حزام کے حوالے سے بلاذری نے ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی تاریخ وفات سن ۱۰ رمضان ۱۰ بعد بعثت نبوی لکھی ہے) اس سے قبل آپ کے دونوں صاحبزادے یکے بعد دیگرے کمسنی میں وفات پا گئے تو ان جانکاہ حادثوں پر اہلِ مکہ کو ذرا رنج نہ ہوا بلکہ انہوں نے اطمینان کا سانس لیا اور خوشی کے شادیانے بجائے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا ان کا لڑکا تو کوئی رہا نہیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دنیا میں نہیں رہیں گے تو یہ سلسلہ خود بہ خود ختم ہو جائے گا۔ اس طرح انہوں نے اپنے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اہلِ مکہ کے ایسے ہی رویوں‘ ماحول اور حالات سے مایوس ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے طائف تشریف لے گئے کہ شاید وہاں کے لوگ دعوتِ حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ لیکن وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک اختیار کیا گیا اس نے سابقہ زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ ان حالات میں جب ہر طرف سے بہ ظاہر مایوسی ناامیدی کا سامنا ہورہا تھا تب رحمتِ الٰہی نے اپنی عظمت و کبریائی کا مشاہدہ کرانے کے لیے اپنے محبوب بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم بالا کی سیر کے لیے بلا لیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طبیعت پر جو تکدّر کا غبار محسوس فرما رہے ہیں اسے دُور کردیا جائے اگر غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سفرِ معراج کے لیے اس سے موزوں وقت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ (معراج کا واقعہ داقدی کے مطابق جسے ابن سعد نے نقل کیا ہے ۱۷ رمضان المبارک ۱۲ بعد بعثت نبوی یعنی ہجرت سے اٹھارہ مہینے پہلے پیش آیا ابن سعدؓ کے حوالے سے ہی ایک اور روایت ہے جس میں معراج کا واقعہ ۱۷ ربیع الاول بعد بعثت یعنی ہجرت سے ایک سال قبل بیان کیا ہے۔ بہقی نے موسیٰ وب عقبہ اور انہوں نے امام زُہری کے حوالے سے معراج کی ہی تاریخ بیان کی ہے)
سبحٰن‘ سبح کا مصدر ہے اس کے معنی تسبیح یعنی پاکی بیان کرنے کے ہیں امام سیوطیؒ الاتقان میں لکھتے ہیں سبحٰن اللہ (اللہ پاک ہے) اور سبحان الذی اسریٰ پاک ہے وہ ذات جو لے گیا۔ سبحٰن اللہ یعنی کہ میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور برأت کرتا ہوں۔ اسریٰ کے معنی رات کو لے جانا اور ’’لیل‘‘ اس لیے استعمال ہوا تاکہ رات کی قلت واضح ہو جائے اس لیے وہ نکرہ ہے۔ یعنی رات کے ایک حصے میں یا کچھ حصے میں۔ تقریباً چالیس راتوں کا طویل ترین سفر پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصے میں طے ہوا۔ یہاں واقعہ معراج کو انتہائی اختصار سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ویسے تو یہ مسافت بہت طویل ہے اس پر محققین نے بہت کچھ اور بہت سا تحریر کیا ہے۔ اس سفر میں پیش آنے والا ہر واقعہ بلاشبہ اپنی جگہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ سفرِ معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل اور بعض روایت کے مطابق اٹھارہ ماہ قبل پیش آیا۔ اس سفرِ مبارک کے بارے میں مسلمانوں کا ایک گروہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسمانی طور پر ہوئی۔ وہ اسے حالتِ خواب سے تعبیر کرتے ہیں۔ معراج جسمانی تھی یا روحانی اس سلسلے میں بڑی تفصیلی بحث کتب میں موجود ہے۔ جبکہ اہلِ مکہ کفارِ قریش اس کا مضحکہ اڑاتے اور اس کی تکذیب کرتے اور ثبوت طلب کرتے تھے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بنی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم پر اور اُس توسط سے پوری مسلم اُمّت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام بھی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور علم و دانائی اہلِ ایمان پر آشکارہ کرنے کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سفرِ معراج کرایا۔ کیونکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت سے قبل جو آیاتِ قرآنی آپ پر نازل کی گئیں اُن کی تعداد ۶۵ ہیں اور وہ سب کی سب اللہ کی وحدانیت اللہ کی قوت و حکمت و اقتدار سے متعلق ہیں یہی وجہ ہے کہ مکی اور مدنی سورتوں کا پس منظر‘ طرز بیان‘ اسلوب و آہنگ ایک دوسرے سے مختلف ہے مکی سورتیں عموماً اصولی تعلیمات پر مشتمل ہیں ان میں زیادہ زور عقائد اور اخلاق پر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ان میں توحید‘ رسالت‘ آخرت‘ تقویٰ‘ صبر و ثبات‘ فدا کاری‘ انفاق فی سبیل اللہ‘ راہِ حق سے منہ موڑنے والوں کا انجام اس کی مثالیں کفار و مشرکین کے الزامات کے جوابات بڑی خوبصورتی اور خوبی سے دئے گئے ہیں۔ یہ تمام سورتیں مختصر اور پر جوش ہیں ان میں چھوٹے چھوٹے جملوں میں مطالب ادا کئے گئے ہیں اور ان میں پوری انسانیت کو مخاطب کیا گیا ہے۔
چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی نمونے کے طور پر بھی ہر چیز کا مشاہدہ کرانا تھا اور قرآنِ حکیم میں آگے آنے والی آیات جن میں لوگوں کو قوانینِ الٰہی سکھانے اور سمجھانے تھے اور اُن کو نہ ماننے کی سزا سے اور ماننے کی جزا سے آگاہی کے ساتھ ساتھ خوف بھی پیدا کرنا مقصود تھا۔ جنت‘ دوزخ اور ہر اعمال کی تفصیلی جزا و سزا کا ادراک بھی کرانا تھا۔ جن کا ذکر اس سفرِ معراج کے بعد قرآنِ حکیم میں آیا۔ وہ تمام واقعات و اعمال جن کا ذکر قرآنِ حکیم میں آیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے سفرِ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم دید کراکے اس پر آپ کو گواہ بھی بنا دیا۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں سورۃ الاحزاب کی آیات ۴۵ اور ۴۶ میں کہا گیا ہے۔ ’’اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم کو گواہ اور خوش خبری دینے والا ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ اس سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کا سفر ان کے پورے ہوش و حواس اور توانائیوں کے ساتھ کرایا۔ تاکہ جب آپ اس سفر کی تفصیل سے اہلِ مکہ اور کفارِ قریش کو آگاہ کریں تو وہ اس پر اپنے ردِ عمل کا فوری اظہار کریں اور پھر جب وقتاً فوقتاً وہ تمام باتیں جو سالوں بعد قرآنِ حکیم کی آیات کے ذریعے ان تک پہنچیں تو وہ ذہنی طور پر پہلے سے تیار ہوں اور اُن کی صداقت پر انہیں کوئی وسوسہ‘ شک و شبہہ نہ رہے۔ آیاتِ قرآنی احکامِ الٰہی کی ہیبت و قوت اُن پر طاری ہوجائے اور قرآنی احکام کی چشم دید گواہی کا احوال وہ پہلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج میں سن چکے تھے۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اُن احادیث مبارکہ کا ایک جامع خلاصہ پیش کردیا جائے جن میں معراجِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محیرالعقول سفر کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی کہ معراج سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پیغام اللہ کی جانب سے ملا تھا وہ دنیا کے سامنے کس طرح پیش کیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ پیغمبری پر فائز ہوئے تقریباً بارہ سال گزرے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارکہ اس وقت باون برس کی تھی۔ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں استراحت فرما رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کیا اور نیم غنودگی کے عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہ زم زم پر لے گئے۔ وہاں حکمِ الٰہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کر کے آب زم زم سے دھویا اور علم برد باری‘ دانائی اور ایمان و یقین سے بھر دیا۔ (بخاری‘ مسلم‘ مسند احمد‘ حاکم‘ ابن جریر‘ ابن ابی حاتم‘ طبرانی‘ راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ایک سفید رنگ کا جانور براق پیش کیا گیا جو قد میں گو گدھے سے بڑا تھا اور خچر سے کسی قدر چھوٹا جو برق کی رفتار سے چلتا تھا برّاق کا لفظ برق (بجلی) سے ماخوذ ہے اس کی رفتار برق کی مانند تھی اس لیے اسے برّاق کہا گیا محقیقن کے مطابق اس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ اس کا ہر قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا۔ (جہاں تک ہماری نگاہ کام کرتی ہے یعنی ننگی آنکھوں سے ہم چاند‘ سورج‘ ستارے دور دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے براق کی رفتار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج جو مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے جاتے ہیں ان سے بھی کہیں زیادہ اس کی رفتار ہے) اسی نسبت سے اس کا نام براق تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس پر سوار ہونے لگے تو وہ چمکا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے تھپکی دے کر کہا۔ ’’دیکھ کیا کرتا ہے‘ آج تک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا۔‘‘ اس پر براق شرمندہ ہو کر پسینے پسینے ہو گیا۔ (مسند احمد‘ ترمذی‘ ابن حبان‘ ابن جریر‘ ابن اسحاق‘ ابن سعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے تو وہ چلا حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلے (ابن جریر‘ بیہقی‘ نسائی‘ حاکم‘ ابن ابی حاتم‘ طبرانی‘بزار اور ابن سعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سفر کی پہلی منزل مدینہ منورہ کی تھی جہاں اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آئیں گے دوسری منزل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طور سینا کی تھی جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری منزل بیت اللحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے‘ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا جہاں براق کا یہ سفر ختم ہوا۔ واقعاتِ معراج میں سواری یعنی براق کا استعمال سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا اور خود سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت جو سفرِ معراج پر سند ہے اس میں اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے۔ ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا اور سورۃ میں عبد کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو روح مع الجسد یہ سفر کرایا گیا۔ ورنہ تو لفظ عبد کی جگہ روح یا اس کے مماثل کوئی لفظ استعمال کیا جاتا۔ ایسی برق رفتار سواری کا سوار بھی ایسا ہی قوی اور مضبوط ہونا چاہیے تب ہی تو ایک کڑور گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار فی گھنٹہ رفتار رکھنے والی سواری پر سفر کرسکتا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت اور مضبوطی کا اظہار اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الحشر کی آیت ۲۱ میں بیان فرمایا ہے۔ ’’اگر ہم اس قرآن کی کسی پہاڑ پر اُتارتے تو‘ تو دیکھتا کہ وہ خوفِ الٰہی سے پست ہوکر ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ اس سے بھی یہ بات واضح اور ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مکمل جسمانی طور پر یہ سفرِ معراج فرمایا اس کے علاوہ بھی اگر ذیل کی احادیثِ مبارکہ پر غور کیا جائے تو بات صاف ہوجاتی ہے اللہ کے لیے سب کچھ کرنا ممکن ہے اللہ جو صرف اپنے ارادے سے سب کچھ کرسکتا ہے۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close