Aanchal Dec-17

ممکن نہیں

فرحین اظفر

خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خدائوں جیسی باتیں کرتے ہیں
اک ذرا سی جوت کے بل پر اندھیاروں سے بیر
پاگل دیے ہوائوں جیسی باتیں کرتے ہیں

’’شش‘ دیکھ وہ کھڑا ہے۔‘‘ سعدیہ نے چلتے چلتے اسے ٹہوکا مارا۔
’’اونہہ ہوں۔‘‘ اس نے سخت بدمزہ ہوکر سفید چادر کا پلو سر پہ اور آگے کھینچا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
’’کیا ہے تم تو تیز گام بن گئیں۔‘‘ سعدیہ بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی سی رفتار سے چل رہی تھی۔
چند لمحوں میں کالج گیٹ کراس ہوا تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’کیا ہوا تجھے اب۔‘‘ وہ جانتی تو تھی سعدیہ کیوں ہنس رہی ہے پر صرف یہی کہہ سکی۔ سعدیہ نے نفی میں سر ہلایا مگر مسلسل ہنستی رہی۔
’’بس کردو اب زہر لگ رہی ہو۔‘‘ تنگ آنے پر اسے بولنا ہی پڑا۔
’’کیوں تمہیں کیا تکلیف ہے مجھے تو بے چارے کی شکل یاد آنے پر ہنسی آرہی ہے۔‘‘
’’تو ضرورت کیا تھی اس جوکر کو اتنے غور سے دیکھنے کی۔‘‘ سعدیہ جواب دینے کے بجائے اور زور سے ہنسنے لگی، تو اسے بھی ہنسی آگئی۔
’’آوارہ‘ زمانے بھر کا فارغ نکما۔‘‘ اب وہ اس انجان بندے کی شان میں قصیدہ خوانی کررہی تھی۔ سارا وقت صابرہ کی بکواس جاری رہی اور گھر پہنچی تو اماں نے دھماکہ کر دیا۔
’’نازیہ اپنے بھائی کے لیے کہہ رہی ہے۔‘‘ اماں کا انداز بہت راز دارانہ تھا مگر اس کا دھیان اس وقت صرف ان گدریلے امرودوں پہ تھا، جو اس کا بھائی بہت دن نخرے دکھانے کے بعد لایا تھا۔
اس نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں سے تین امرود اسی وقت چرا کے سائیڈ پہ کر لیے تھے اور اس وقت ان ہی سے انصاف کررہی تھی۔
’’اچھا کیا کہہ رہی تھی… یہی کہہ رہی ہوگی کہ اس نکمے کے لیے دعا کریں کہ اللہ اسے ہدایت دے اور وہ کسی نوکری پہ لگ جائے۔‘‘ اماں کے دھموکے نے اس کی چلتی زبان کو بریک لگائے۔
’’کبھی صبر سے کوئی بات سن بھی لیا کر‘ کیا کہہ رہی تھی۔‘‘ اماں کی جان جل کے رہ گئی‘ منہ بنا کر اس کی نقل اتاری۔
’’نوکری لگ گئی ہے اس کی… تیرے رشتے کے لیے کہہ رہی تھی۔‘‘ امرود اچھا خاصا نرم تھا مگر اس وقت حلق میں پھنس گیا۔ اماں نے ایک نہیں دو دھماکے کیے تھے مگر ان کی تباہی کی شدت سے بے خبر بولے گئیں۔
’’ماشاء اللہ نازیہ بتا رہی تھی بڑی اچھی نوکری لگی ہے پورے پچیس ہزار روپے تنخواہ ہے۔‘‘ اماں پچیس ہزار سے زیادہ ہی متاثر لگ رہی تھیں۔
’’اماں‘ پچیس ہزار ہے… لاکھ نہیں…‘‘ اس نے اپنے تئیں غلط فہمی دور کرنی چاہی مگر فوراً ہی دور ہوگئی، کچھ خبر نہ تھی اماں پھر ہاتھ کی صفائی دکھا جاتیں۔
’’تو مجھے کیا بتا رہی ہے۔‘‘
’’یہی کہ اس سے کہہ دیں اپنا منہ دھو رکھے۔ میری طرف سے صاف انکار ہے۔‘‘ اس نے جس قطعیت سے دائیں بائیں سر ہلایا اس کو دیکھ کے تو اماں بھی سوچ میں پڑ گئیں۔
’’کیوں… اس میں کون سے کیڑے پڑے ہیں۔‘‘ اماں تفصیل سے بات کرنے کے موڈ میں تھیں اور اس کا مسئلہ یہ تھا کہ اسے اس بارے میں بات کرنی ہی نہیں تھی نہ تفصیل سے نہ اختصار سے۔
اسے شروع دن سے اپنی بھابی کے بھائی سے چڑ سی تھی۔ سب سے پہلا اعتراض تو اسے اس کے نام پہ ہی تھا۔
’’نسیم یہ بھی کوئی نام ہے نرا زنانہ۔‘‘ بھابی نازیہ نے اسی دن اس کی لن ترانیاں سن لی تھیں۔ تب ہی سے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن اسی نسیم سے اسے بیاہ کے چھوڑے گی۔
اس کی اور شبینہ کی کوئی خاص دوستی اسی وجہ سے نہیں ہوسکی تھی۔ نازیہ کا اپنے بھائی کی طرف بڑھا ہوا التفات اس کے گھر آنے پر کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا۔ شبینہ کو دکھا دکھا کے اس کی خاطریں کرتی، وہ بظاہر تو ’’مجھے کیا’’ کی تصویر بنی رہتی مگر اندر ہی اندر جلن کے مارے اس کا حال برا ہوتا۔
’’زمانے بھر کا فارغ ہر دوسرے دن آکر بیٹھ جاتا ہے۔‘‘ بھابی سے بچ بچا کے اس کی بڑبڑ جاری رہتی۔ اماں سن لیتیں تو کبھی جواب دے دیتیں کبھی نظر انداز کردیتیں۔
نسیم نازیہ اور خود سے بڑی دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ شادی میں تھوڑی تاخیر اس لیے ہوئی کہ نوکری نہیں تھی مگر اتنا بھی عمر رسیدہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ جوڑ نہ بن سکتا۔
’’اماں‘ بھول گئی وٹے سٹے کی شادیوں میں کتنا فساد ہوتا ہے۔‘‘ اس نے بہت سوچ سمجھ کے پہلا اور آخری سب سے بھاری جواز سامنے رکھا مگر اماں اس پہ بھی سوچ کے بیٹھی تھیں۔
’’اب وہ زمانے گئے۔ نازیہ ویسے بھی بہت سمجھدار ہے۔‘‘
’’اوئی اللہ سمجھ دار۔‘‘ اسے جیسے بھڑ نے ڈنک مار دیا ہو مگر اماں کے تیور دیکھ کے خاموش ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’بھابی رشتہ لا رہی ہے میرا… اپنے بھائی کے لیے۔‘‘ کل والی بات پر ابھی دل جلا ہوا تھا، اس لیے اس نے اماں ہی کے انداز میں ان کا بم سعدیہ کے سر پہ پھوڑ دیا۔
’’او تیری خیر۔‘‘ حسب توقع وہ اچھل ہی تو پڑی۔ ’’پھر…‘‘
’’پھر کیا میں نے تو صاف انکار رکھا اماں کے ہاتھ پہ۔‘‘
’’پر کیوں…؟‘‘
’’کیوں‘ تو بھی پوچھے گی کیوں‘ پتہ نہیں تجھے بھابی سے میری ایک نہیں بنتی۔‘‘
’’تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس کے بھائی سے بھی نہیں بنے گی۔‘‘
’’دفع دور‘ اتنی بڑی عمر کا آدمی ہے وہ‘ اس کی اور میری جوڑی بھی نہیں بنتی۔‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا۔
’’ہاں بنے گی تو تیری صرف اسی ایک سے‘ لکھ کر رکھ لے میری بات، کسی دن ناں۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ کے معنی خیزی سے اسے دیکھا۔
’’کیا…!‘‘
’’اپنا دل ہاتھ میں لے کے سامنے آکھڑا ہوگا۔‘‘
’’ہاں پر وہ دن تو نہیں دیکھ سکے گی کیوں کہ تو آج ہی میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے گی۔‘‘ وہ خطرناک تیور لیے اس کی طرف بڑھی‘ سعدیہ اچھل کے دور ہٹی مگر چپ نہیں ہوئی۔
’’جس دن تو اسے نظر بھر کے دیکھ لے گی ناں اس دن تو بھی ضائع ہو جائے گی اور تیرا دل بھی۔‘‘ اب کی بار اس نے بات مکمل کرکے رکنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
گھر میں اماں اور اس کی زبردست ٹھنی ہوئی تھی۔ ایسے میں وہ بھابی کے سامنے آنے سے گریز ہی کرتی تھی۔ جو اسے دیکھ کے بلاوجہ نسیم کا ذکر نکال کے جو تعریفوں کے پل باندھنا شروع کرتی تو رکنے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ اماں کے ارادے نیک نظر نہ آتے تھے۔ ایسے میں صرف سعدیہ ہی تھی جس سے وہ دل کی بات کرلیتی تھی۔ ایک دو دن سے اسے موسمی بخار نے آن لیا تو شبینہ کو کالج اکیلے ہی جانا پڑا۔ اس دن بھی وہ واپسی میں دوسرے دن کی چھٹی کا پکا ارادہ باندھتی خود میں مگن چلی جارہی تھی کہ کسی نے نرمی سے اسے پیچھے سے آواز دی۔ اس نے مڑکے دیکھا تو جان نکل گئی کالج والا سڑک چھاپ سامنے کھڑا تھا۔
’’اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے کچھ بات کرسکتا ہوں۔‘‘ اس نے گھبرا کے دائیں بائیں دیکھا۔ کالج کی لڑکیاں چھٹی کے بعد نکلی تھیں۔ چند ایک تو ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھیں۔ ان میں سے کوئی دیکھ لیتی تو مفت میں مشہوری ہو جانی تھی۔ اس نے لمحوں میں فیصلہ کیا اور برابر والی گلی میں دوڑ لگا دی۔ پیچھے سے کوئی آوازیں دیتا رہ گیا پر اس نے بھی مڑ کے خبر نہ لی۔
٭٭٭…٭٭٭
گھر میں اماں کی زور پکڑتی ضد تھی اور اس کا روز بہ روز بڑھتا انکار۔ ابا کو ابھی تک اماں نے لاعلم رکھا تھا۔ وہ دل سے چاہتی تھیں کہ یہ رشتہ ہوجائے۔ سفید پوش گھرانوں میں تو یوں بھی لڑکیاں کبھی مالی حالات کی مخدوشی اور کبھی محض دبتی رنگت کی وجہ سے بیٹھی ہوئی تھیں اور دونوں ہی باتیں ان کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی تھیں۔ نہ تو گھر کے حالات ڈھکے چھپے تھے نہ شبینہ کی معمولی شکل صورت۔
اماں بھی ٹھان بیٹھی تھیں کہ اس سے ہاں کروا کے ہی چھوڑیں گی۔ روز روز کی کل کل نے اسے اتنا بددل کیا کہ وہ بھی موسمی بخار کی لپیٹ میں آگئی ورنہ اس کے خیال میں تو اس کا امیون سسٹم بہت طاقتور تھا۔
سعدیہ سے پہلے اس کے چھٹی کے سبب اور بعد میں اپنے بخار کی وجہ سے کتنے دن سے بات نہیں ہو پائی تھی۔ اس بیزار سی صبح جب اماں اسے نڈھال دیکھ کے دوا کے ساتھ ساتھ اچھا خاصا لیکچر بھی پلا کے گئی تھیں، سعدیہ کی آمد نے ذرا موڈ بدل دیا تھا۔
’’بڑی حرصیائی ہے تو… مجھے بیمار دیکھ کے خود کو بھی بخار چڑھا کے بیٹھ گئی۔‘‘ اس نے آتے ہی جملہ مارا۔
اس کی بات سن کے شبینہ کی طبیعت بھی بہل گئی۔ تھوڑی دیر اماں اس کے پاس بیٹھیں، ان کے جانے کے بعد اس نے راز داری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میرے پاس ایک چیز ہے تیرے لیے۔‘‘ اس کا انداز بڑا چوکنا تھا۔
’’کیا چیز ہے اور یہ تو بلیوں کی طرح اِدھر اُدھر کیا دیکھ رہی ہے۔‘‘
’’شش… ابھی دکھاتی ہوں۔‘‘ اس نے اسی چوکنے انداز میں اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ایک رقعہ برآمد کیا۔
’’یہ دیکھ… کیا ہے یہ… یہ تیرا پریم پتر ہے، تیرے عاشق نامدار نے بھیجا ہے۔‘‘ شبینہ کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ غم اور غصے سے سارے الفاظ گڈمڈ ہوگئے سمجھ ہی نہیں آیا کیا کہے۔
’’الو کی دم اس نے دیا اور تو نے لے لیا بے شرم کوئی دیکھ لیتا تو کہانی بن جاتی۔‘‘
’’ارے ہٹا بھئی کوئی نہیں بنتی کہانی وہانی‘ لوگوں کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے۔ پکڑ اب جلدی مجھے مروائے گی کیا۔‘‘ اس نے شبینہ کی طرف بڑھایا۔ وہ انکار کرنے لگی کہ باہر سے اماں کی آواز آئی۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کاغذ جھپٹ لیا اور سعدیہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’پیاری شبینہ!
کیسی ہیں آپ‘ یقین کیجیے آپ کا نام بھی آپ کی دوست کے ذریعے پتہ چلا ورنہ میں تو شاید زندگی بھر آپ سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا رہ جاتا۔ میں آپ کی دوست کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میری بات سنی‘ سمجھی اور اس خط کے ذریعے مجھے آپ تک رسائی دی۔
مجھے کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کرنی میں تو بس آپ کو اتنا بتانا چاہتا ہوںکہ جس دن سے آپ کو دیکھا ہے میرا چین قرار اور راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ ہر دم نگاہوں میں آپ کا چہرہ گھومتا رہتا ہے۔ دن کا کوئی پل ایسا نہیں گزرتا جس میں آپ کی یاد نہ آتی ہو۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں آپ کی محبت میں بری طرح گرفتار ہوچکا ہوں۔ آپ کی صورت اور آپ کی یاد ہر وقت حواسوں پہ چھائی رہتی ہے۔ میں اس کیفیت سے پریشان تو ہوں مگر پیچھا چھڑانا نہیں چاہتا، دراصل میں آپ کی محبت کی طرح آپ کو اپنے دل اور گھر کی زینت بنانا چاہتا ہوں۔ میں بہت باعزت طریقے سے آپ کو اپنانا چاہتا ہوں اور اس کے لیے آپ کی طرف سے اجازت درکار ہے تاکہ رسمی طریقے سے اپنے گھر والوں کو آپ کی طرف بھیج سکوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گی کیوں کہ مجھے اپنی محبت کی طاقت پہ پورا بھروسہ ہے۔
آپ کے مثبت جواب کا منتظر آپ کا اور فقط آپ کا… اسفندیار۔‘‘
اس کی نظریں سفید کاغذ پر بے خیالی میں بھٹک رہی تھیں۔ تحریر نظروں کے سامنے اپنے پورے مفہوم کے ساتھ کھلی پڑی تھی اور اس کی چشم تصور میں دو گہری آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ اتنی اچھی لکھائی اس قدر خوب صورت الفاظ اتنا پُرامید لہجہ، اتنی سیدھی سادی بات اور اتنے عزت دار انداز میں… وہ یقین نہ کرتی مگر دل ہمک ہمک کے اسے اکسانے لگا تھا۔ ازل سے معصوم حوا کی بیٹی عنکبوت میں الجھنے لگی تھی۔
اسے عادت بھی کہاں تھی۔ پہلے کب اور کتنے لوگوں نے اس سے اس طرح بات کی تھی۔ اسی وقت ایک دیکھا بھالا چہرہ چشم تصور میں ابھرا اور اس کا حلق کڑوا کر گیا۔ وہ اس نئے ذائقے سے آشنائی پاکر دم بخود رہ گئی تھی۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ نسیم کا خیال یوں اس کی رگ رگ میں اکتاہٹ بھر دے۔ تو… تو کیا یہ اس تحریر کا کمال تھا۔ ان لفظوں کی سوغات تھی کہ کل تک جس شخص سے ان دیکھی الجھن محسوس ہوتی تھی، آج اس سے باقاعدہ نفرت سی ہونے لگی تھی۔
’’کیا پتہ وہ واقعی‘ سچ میں…‘‘ اس سے مکمل سوچا بھی نہیں گیا اور ایک نام بے حد آہستگی سے اس کے لبوں کو چھو گیا۔
’’اسفندیار۔‘‘
٭٭٭…٭٭٭
’’اسفندیار… ہممم نام تو واقعی زبردست ہے۔‘‘ سعدیہ نے سن کے تبصرہ کیا۔ اس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔ کالج گرائونڈ میں لڑکیاں شوخ تتلیوں کی طرح اڑتی پھر رہی تھیں۔ ہلکی دھوپ میں چلتی سبک ہوا کے جھونکے نرمی سے بالوں کو چھو کر ایک تازگی کا سا احساس بھر دیتے تھے۔
’’اوہوووو… آج تو ہنسی آئے جارہی ہے کل تک اس کے نام سے ہی منہ بنا لیتی تھی۔‘‘ سعدیہ اس کایا پلٹ پہ حیران تھی۔ اس لیے چھیڑنا بنتا تھا۔
’’ہاں تو نام بھی تو دیکھو کتنا رومانوی ہے بالکل افسانوں کے ہیرو جیسا۔‘‘ اس نے بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
’’تو پھر کیا خیال ہے کہہ دوں دروازے کھلے ہیں جب چاہے تشریف لے آئے۔‘‘ سعدیہ کی بات نے اسے کسی خواب سے نکال کے حقیقت میں پٹخ دیا۔
’’اونہوں ابھی اماں کے سر سے اس نسیم کا تو بھوت اتر جائے۔‘‘
’’لو پاگل ہوئی ہو۔ یہی تو وقت ہے، اماں کے سامنے دوسرا آپشن ہوگا تو ہی وہ سوچیں گی ناں۔‘‘ سعدیہ کی بات نے اسے سوچنے پہ مجبور کردیا۔
’’بس تو پھر ڈن ہوگیا بلکہ ڈن ڈنا ڈن ہوگیا۔‘‘ دونوں کی ہنسی ایک ساتھ گونجی۔
٭٭٭…٭٭٭
سعدیہ نے پتہ نہیں کب کیا اور کس طرح بات کی کہ اس نے ہفتے بھر کا ٹائم مانگا۔ ادھر اس کی طرف سے سگنل ملا اور ادھر اماں کو تائو آگیا۔
’’میں کل نازیہ کے گھر والوں کو بلا رہی ہوں۔‘‘ انہوں نے کمرے میں آکے اچانک کہا۔ اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
’’ام… ماں اتنی جلدی۔‘‘ بوکھلا کے وہ صرف یہی کہہ سکی۔
’’یہ جلدی ہے… مہینہ بھر سے کہہ رکھا ہے نازی نے بس اب میں نے اس کا دل خراب نہیں کرنا۔‘‘
’’ہاں بھلے میری زندگی خراب ہو جائے پر آپ کی لاڈو کا دل خراب نہ ہو۔‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’چل دفع ہو مردود‘ آگ لگے تیری زبان کو‘ کیوں ہونے لگی زندگی خراب، اتنا بیبا بچہ، صرف نوکری کی وجہ سے در در دھکے کھاتا رہا۔‘‘
’’ہوں‘ بڑا آیا نیک پروین۔‘‘
’’ناں تو مجھے ایک بات بتا۔ تجھے کاہے کی تکلیف ہے۔‘‘
’’خود ہی سوچیں جس بندے کا مجھے نام بھی نہیں پسند وہ خود کیا خاک پسند ہوگا۔‘‘
’’تو نے مرنا ہے میرے ہاتھوں۔‘‘ اماں نے مرچیں چبائیں۔ اس نے چند لمحے سوچا۔ پھر بولی۔
’’اچھا آپ ایک ہفتے رک جائیں۔ سعدرہ شہر سے باہر گئی ہوئی ہے وہ آئے گی تو میں فیشل کروائوں گی۔ اس کے بعد۔‘‘ اماں بے یقین نظروں سے اسے دیکھتی رہیں۔ کہاں تو اتنا بدک رہی تھی اور کہاں اب فیشل‘ مگر یہی بہت تھا کہ وہ راضی ہوگئی تھی۔ یقین تو نہ آتا تھا مگر پھر بھی اس کی خاطر مان گئیں۔
٭٭٭…٭٭٭
ہفتہ اپنی رفتار سے کہیں سست گزرا۔ کبھی تو اسے لگتا گھڑی کی سوئیاں چل رہی ہیں پر وقت ٹھہر گیا ہے اور کبھی سمے چل پڑتا تو پہر ٹھہر جاتے۔ اپنی کیفیت خود اس کے لیے حیران کن تھی۔ کل تک جس شخص کی شکل دیکھے بنا ہی اس کا منہ بگڑ جاتا تھا آج، اسی کے لیے منہ پہ رگڑا لگوا کے آئی تھی اور صبح سے گنگناتی پھر رہی تھی۔ مہمانوں کی آمد کے بارے میں صرف اسی کو پتہ تھا۔ پہلے سے گھر پہ کیا بتاتی۔ یہ الگ بات کہ اس کے کھلے کھلے ہونٹ اور بے وجہ کی گنگناہٹیں آپ اپنا تعارف بن گئی تھیں۔ کئی بار اماں اور بھابی نے اس کی خاص الخاص صفائیوں کو نوٹ کیا پر منہ سے کچھ کہنے سے پرہیز ہی کیا۔ مقررہ وقت پر دروازہ بجا۔ اماں نے کھولا تو اجنبی عورتیں منہ بنائے کھڑی تھیں۔ بنا بلائے چارہ نہ تھا۔
’’ہم تو بہن بیٹے کی ضد سے مجبور ہو کے آئے ہیں۔‘‘ آمد کے سبب کے ساتھ ہی انہوں نے مجبوری بھی بیان کردی۔
’’پھر بھی بہن میں تو یہی کہوں گی کہ ہم نے تو آنے پہ مجبور نہیں کیا ناں، اب یہ تو آپ کا اور آپ کے بیٹے کا معاملہ ہے۔‘‘ بات شروع ہی غلط انداز میں ہوئی تھی اور اب کس طرف جارہی تھی وہ، بوکھلا سی گئی تھی۔
اماں کی شکل سے ظاہر تھا کہ وہ ان کو کس مشکل سے برداشت کررہی ہیں۔ جیسے آنے والیاں زبردستی بھیجی گئیں تھیں۔
’’یہی تو مسئلہ ہے بہن کہ آج کل کی اولاد بالکل ہی ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ یہ تو ہم پہ ہی احسان ہے کہ ہمیں بھیج دیا ورنہ سارے معاملات بالا ہی بالا ہوجاتے تو بھی ہم کیا کرسکتے تھے۔‘‘ آنے والی ایک خاتون جنہوں نے خود کو اسفند کی والدہ بتایا تھا ہلکا سا قہقہہ لگا کے اپنے تئیں مذاق کررہی تھیں یا شکر میں لپیٹ کے جوتا مار رہی تھیں صاف ظاہر ہی تھا۔
اسے بے حد غصہ آیا۔ اس کا خیال تھا کہ اماں اس جملے پہ بھڑک کے کچھ بولیں گی مگر اماں کی ایک ٹھنڈی سانس اور طویل خاموشی نے اسے بت بنا دیا۔ وہ لوگ کب واپس گئیں۔ اماں نے کیا کہا، اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ اس کے ذہن میں تو بس اماں کی بے بس خاموشی چبھ کے رہ گئی۔ نازیہ کے تیور تو اسی وقت بدل گئے تھے جب، ان کی آمد کا مقصد پتہ چلا تھا۔ ان کے جانے کے بعد بھی اماں چپ چاپ ہی رہیں۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ اسے ایک بار پھر پھٹکار پڑے گی، شدید بے چین ہوگئی سچ تو یہ تھا کہ اس اچھی شکل صورت والے اسفند یار کے گھر کی خواتین نے اسے بری طرح مایوس کیا تھا۔ لیکن اماں کی خاموشی نے اسے خوف زدہ کردیا تھا۔
’’اماں خوامخواہ میں ہی پریشان تھیں۔ تم نے تو خود ہی اپنا بندوبست کرکے رکھا ہوا تھا۔‘‘ نازیہ برتن اٹھانے آئی تو اس کے برف سے لہجے میں اتنی آگ تھی کہ اس کا دل جھلس کے رہ گیا۔ لیکن اس وقت اس پر اماں کی ناراضگی سوار تھی، اس لیے وہ کچھ بول سکی نہ پوچھ سکی مگر صرف ایک رشتہ آجانے سے سب اس کے خلاف کیوں ہوگئے تھے آخر اس کا قصور کیا تھا۔
قصور تو سامنے تھا مگر اس کا ناقص ذہن فی الحال قبول کرنے سے قاصر تھا۔ زندگی کا اتنا بڑا اور اہم فیصلہ بالا ہی بالا کرنے کے لیے کسی کی حوصلہ افزائی کرنا، یہاں تک کہ بڑوں کو گھر تک بلا لینا اور ماں باپ کو خبر ہی نہیں۔ اسے چاہیے تھا کہ اگر کسی کا ایسا ارادہ بن بھی رہا تھا تو سب سے پہلے اپنے ماں باپ کو خبر دیتی۔ والد بھی حیات تھے اور بھائی بھی سلامت تھے۔ اگر وہ اپنے طور پہ سوچ سمجھ کے ان کو گھر بلاتے تو اس وقت صورت حال مختلف ہوتی۔ اس کا اپنا آپ ایسے چور بنا نہ کھڑا ہوتا۔
فی الوقت اس کا دماغ ان باتوں کو سمجھ نہیں رہا تھا۔ رہ رہ کر اماں کی کٹیلی نظریں یاد آتیں تو تن من میں ایک بے چینی سی سرائیت کر جاتی۔ اسی بے چینی کے زیر اثر اٹھ کے اندر کمرے میں آئی تو اس کے قدموں تک سے بوجھل پن ٹپک رہا تھا۔ اس نے اماں کو دیکھا۔
الجھے الجھے انداز میں کسی پرانی قمیص کو ادھیڑتے ہوئے، وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار لگ رہی تھیں۔ انھوں نے اس کے آنے اور قریب بیٹھنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ شبینہ کے لیے ان کا طرز عمل بہت اضطراب کا باعث بن رہا تھا۔ وہ ان کے قریب بیٹھ کے انگلیاں چٹخاتی رہی پھر بڑی ہمت کرکے بات شروع کی۔
’’اماں… اماں آج جو لوگ آئے تھے… میں انھیں نہیں جانتی تھی۔‘‘ اماں نے فوراً ہی قہر بھری نظروں سے اسے گھورا۔
’’قسم لے لیں میں نے تو ان کے بیٹے کو کبھی دیکھا تک نہیں میں تو…‘‘ اس کی بات ادھوری رہ گئی اماں بہت سرد اور سخت آواز میں اس کی بات کاٹ کے بولیں۔
’’اسی لیے صبح سے تیاریاں کررہی تھی۔‘‘ اس کے حلق میں کانٹے پڑ ئے۔ وہ بے یقین نظروں سے انہیں دیکھتی رہ گئی بات کس رخ پہ چلی گئی تھی اس کا تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔
’’آخر میرا قصور کیا ہے؟‘‘ وہ چاہنے کے باوجود پوچھ نہ سکی اور اماں اٹھ گئیں۔
٭٭٭…٭٭٭
سعدیہ نے ساری بات سن کے سر جھکا لیا۔ اس نہج پہ تو اس نے بھی نہیں سوچا تھا۔
’’اب کیا ہوگا شبی؟‘‘
’’ہونا کیا ہے میں صاف منع کردوں گی اماں کو کہ خبردار ان لوگوں کے بارے میں سوچا یا دوبارہ بلایا تو۔‘‘
’’ہیں…!‘‘ سعدیہ ایک بار پھر اس کایا پلٹ پہ حیران رہ گئی۔
’’اور نہیں تو کیا… پتہ نہیں کس قسم کی عورتیں تھیں ابھی دہلیز پہ تھیں تو میرا کردار مشکوک کردیا۔ سب لوگ سمجھ رہے ہیں جیسے میں نے ان کو دعوت دے کے بلایا ہو۔‘‘
’’خیر بلایا تو… تو نے ہی تھا۔‘‘ سعدیہ منمنائی۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میں نے بلایا تھا؟ اور مجھے اس سب کے لیے تحریک کس نے دی تھی۔ سارے فساد کی جڑ تو… تُو ہے‘ خبردار۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کے وارننگ دی۔
’’خبردار جو اب تو نے اس لچر کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہا تو…‘‘ سعدیہ چپکی سی ہوگئی اور وہ کلاس روم کی طرف بڑھتے ہوئے دل ہی دل میں پلان کرنے لگی کہ اماں کو کیسے منایا جائے۔
٭٭٭…٭٭٭
اماں کو منانے کی نوبت نہ آسکی، اس سے پہلے ہی نازیہ نے اسے آڑے ہاتھوں لے لیا۔ وہ تو اس دن سے اس سے بات بھی نہیں کررہی تھی جس، دن سے اسفند کی اماں ان کے گھر سے ہوکر گئی تھیں۔ یہ تو اسی کی شامت نے آواز دی جو میکے جانے کو تیار بیٹھی نازیہ سے سب کو سلام کہنے کا کہہ بیٹھی۔
’’کیوں آج تمہیں کیسے خیال آگیا۔ آج سے پہلے تو تم نے کبھی میرے گھر والوں کو سلام نہیں کہلوایا۔‘‘ وہ تنک سی گئی شبینہ حیران پریشان اس کی شکل دیکھنے لگی۔
’’تو اب تو آگیا ناں خیال‘ دعا تو جب خیال آئے دے دینی چاہیے بھابی۔‘‘ اس نے جان کے بات کو ہلکا رنگ دینا چاہا لیکن نازیہ ہلکے موڈ میں نہیں تھی۔
’’کیوں اب کیا میرے گھر والوں کا پرائز بانڈ نکل آیا ہے…‘‘
’’آج کیسی باتیں کررہی ہو بھابی۔‘‘
’’جیسی تمہیں پسند ہیں۔‘‘ ترنت جواب آیا۔ ساتھ ہی اس نے پیروں سے لپٹتے بچے کو دو ہتڑ رسید کردیا۔ وہ اپنا سا منہ لے کے کمرے میں آگئی اماں ابا کی پائینتی کے پاس خاموش سی بیٹھی تھیں۔ اس نے ایک نظر انھیں دیکھا پھر ابا کو اور سر جھکا کے باہر آگئی۔
باورچی خانے میں آکر چپ چاپ آٹا گوندھنے لگی۔ پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ نکلنے لگے۔ اماں کسی کام سے اندر آئیں۔ اس نے جھکی نظروں سے ان کے قدموں کو قریب آتے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے وہ پرات ایک طرف کرکے ان کے قدموں سے لپٹی دھاڑیں مار رہی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
کتنے دن ایک دوسرے کا پیچھا کرتے نکل چکے تھے۔ اماں اور نازیہ کی طرف نسیم کے رشتے والی بات پہ مکمل خاموشی تھی۔ خاموشی ٹوٹی اور نسیم کا رشتہ تو نہ آیا، اس کی منگنی کی مٹھائی ضرور آگئی۔ اسے لگتا تھا اماں ایک بار پھر اس سے ناراض ہوں گی پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ انہوں نے معمول کے انداز میں بھابی کو مبارک باد اور دعائیں دیں۔
وہ اماں کے رویے پہ متعجب تھی۔ جب پورے چوبیس گھنٹے گزر گئے اور اماں نے کوئی بات نہ کی تو رات کو سونے سے پہلے اس نے خود ہی تذکرہ چھیڑ دیا۔
’’پاگل ہے کیا تو… اب وہ کیوں کرنے لگی اپنے بھائی سے تیرا رشتہ۔‘‘ الفاظ کے برعکس ان کا لہجہ بہت نرم تھا۔
’’عورت کی عزت شیشے جیسی نازک ہوتی ہے۔ ایک بار بال آجائے تو منہ دیکھنے کے قابل نہیں رہتا، میں نہیں چاہتی کہ کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو نازیہ وہی شیشہ اپنے بھائی کے آگے رکھ دے اور وہ زندگی بھر اسی میں تیرا عکس دیکھتا رہے۔ اب اگر وہ کہتی بھی تو میں خود ہی منع کردیتی‘ اچھا ہوا جو ہوا۔‘‘ وہ ہونق بنی نیم اندھیرے میں اماں کا منہ دیکھتی رہی۔ اماں نے اسے دیکھا پھر مسکرائیں۔
’’ماں ہوں تیری کوئی دشمن نہیں اور پھر جس بندے کا نام ہی میری بیٹی کو پسند نہیں وہ خود کیسے پسند آئے گا۔‘‘ اماں نے اس کا ڈائیلاگ دہرایا۔
’’ان شاء اللہ میری بیٹی کا نصیب خود چل کے آئے گا اور اتنا اچھا ہوگا کہ لوگ رشک کریں گے۔‘‘ اس کو اپنے کھلے ہوئے منہ کا احساس ہوا تو جلدی سے اماں کے پہلو میں منہ چھپا لیا۔
’’ماں سے بڑھ کے بھی کوئی اور محبت کرسکتا ہے۔ کم از کم دنیا میں تو ممکن نہیں۔‘‘ طمانیت سے نیند کی آغوش میں سر رکھتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close