Aanchal Dec-18

انہونا فیصلہ

ناہید فاطمہ حسنین

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحائی کریں ہم

وہ تھک کر نڈھال ہوچکی تھیں‘ آتے ہی بستر پر ڈھے جانے والے انداز میں گر پڑیں‘ لیٹیں تو نیند نے آلیا۔ افراح نے ان کی تھکن کے خیال سے انہیں نہیں جگایا اور وہ… جو سوئیں تو شام ڈھلے ہی اٹھیں‘ عصر کا وقت نکل چکا تھا اور مغرب کی اذان ہونے والی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں‘ اٹھتے ہی سر پر دوپٹہ جمایا۔
’’افراح کیا مغرب کی اذان ہوگئی؟‘‘
’’نہیں امی… بس ہونے والی ہے۔‘‘ افراح نے کچن سے سر باہر نکال کر جواب دیا۔
اس نے ان کی تھکن کے خیال سے انہیں نہیں جگایا تھا اور بابا کے آتے ہی چائے کا پانی چولہے پر چڑھا دیا تھا۔ ان کی نظر جیسے ہی احمد کمال پر گئی تو وہ چونک کر بولیں۔
’’ہیں…! آپ کب آئے؟‘‘
’’بس تھوڑی ہی دیر ہوئی ہے۔‘‘ احمد کمال نے حسب عادت آتے ہی اخبار سنبھال لیا تھا۔
تب ہی افراح چائے کے ساتھ دیگر لوازمات ٹرے میں سجائے اندر آگئی‘ تینوں چائے پینے لگے۔
’’آج تو تھک کے نڈھال ہوگئی ہوں۔‘‘ وہ جب بھی کوئی رو داد سناتیں اسی طرح بات شروع کرتی تھیں۔
’’کیوں… کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘ احمد کمال نے چشمہ اتار کر اخبار ایک سائیڈ پر رکھا اور چائے کا گھونٹ لیا۔
’’پہلے تو گیس کا بل بھرا‘ آخری تاریخ تھی۔ پھر وہاں سے بجلی کا بل صحیح کروانے گئی… وہاں اللہ جانے آج اتنا رش کیوں تھا… حالانکہ پہلے کبھی اتنا رش نہیں ہوتا تھا پھر میں…‘‘
’’بل بھر دیا؟‘‘ انہوں نے ہمیشہ کی طرح ان کی بات کاٹ کر مطلب کی بات پوچھی۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا کر اپنی بات جاری رکھی۔
’’پھر صدر آپ کے ٹیلر کے پاس گئی… اس سے کپڑے لیے جو آپ کا سوٹ کمبخت نے خراب کردیا تھا‘ وہ اس کے منہ پر مارا… میں نے کہہ دیا مجھے تو نئے سوٹ کا کپڑا چاہیے‘ جو تم نے خراب کیا اسے تم ہی بھگتو… وہاں کم بخت نے اتنی لے دے کی کہ یوں کردیتا ہوں ووں کردیتا ہوں‘ مگر میں نے ایک نہ سنی… سوٹ وہیں چھوڑ کر آگئی۔ پھر شام کے لیے سبزی خریدی…‘‘ وہ اپنی رو میں کہتی چلی جارہی تھیں۔ اس بات سے بے خبر کہ احمد کمال ان کی بات میں کتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔ افراح چائے کے خالی برتن سمیٹ کے لے جاچکی تھی۔
’’بھنڈی پہ تو آگ لگی ہوئی ہے۔‘‘ ابھی وہ سبزی کی تفصیل بتانے لگی تھیں کہ انہیں احمد کمال کی بے توجہی کا اندازہ ہوہی گیا۔
’’اے ہے… یہ میں کسے سنا رہی ہوں دیوار پنکھوں کو…؟ آپ کو تو گھر کے کسی معاملے سے دلچسپی تھی‘ نہ ہے نہ ہوگی۔‘‘ احمد کمال جنہوں نے دوبارہ اخبار اٹھا لیا تھا‘ نظر ہٹا کر دھیرے سے ہنسے۔
’’تم نے آدھا سچ کہا۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اچھا کو لمبا کھینچ کر وہ استہزائیہ ہنسیں۔
’’وہ آدھا سچ یا باقی جھوٹ کیا ہے؟ وہ آپ بتادیں۔‘‘
’’تم نے کہا مجھے کبھی دلچسپی تھی ہی نہیں یاد کرو الماس بیگم‘ شادی کے سال بعد ہی تمہیں شوق چرایا تھا گھر کا سارا انتظام خود اپنے ہاتھ میں لینے کا۔‘‘
’’ہاں… تو کیا برا تھا… ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے۔‘‘
’’ہمارے ہاں گھر کا انتظام مردوں کے سپرد ہوتا ہے۔‘‘ وہ قطعی سنجیدہ تھے۔ ’’جب تم نے لڑبھڑ کر زور زبردستی دکھا کر گھر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا پھر اختیارات پر غلبہ حاصل کرنے کے چکر میں ہر ذمہ داری سنبھال لی‘ جب عورت مرد کی ذمہ داریاں بھی خود سنبھال لے پھر مرد ہر طرف سے بے فکر ہو جاتا ہے… سو اب شکوہ کیسا؟‘‘ وہ ملائمت سے ہنسے۔ ’’سبزی خریدنے سے بل بھرنے تک اب تم ہی سیاہ سفید کی مالک ہو۔‘‘ وہ اٹھے اور اٹھ کر ٹی وی آن کرلیا۔
افراح چائے کے برتن دھونے کے بعد کچن کی صفائی کر رہی تھی کہ الماس بیگم کا یہی حکم تھا کہ کچن میں نہ تو گندے برتن پڑے رہیں اور نہ ہی کچن گندا نظر آئے‘ ہر کھانے اور چائے کے بعد کچن کی صفائی ضروری تھی۔ احمد صاحب کی توجہ نا پاکر وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھیں۔
/…/…/
شادی کے اوائل دنوں میں انہیں بڑی حیرت ہوتی تھی جب احمد کمال اپنی جیبیں بھری رکھتے۔ انہیں دھنیا آلو پیاز سے لے کر آج کیا پکے گا تک احمد کمال کا منہ دیکھنا پڑتا تھا‘ ان کے میکے میں تو کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ابا تو اماں کے آگے جیبیں جھاڑنے کے بعد بے فکر ہوجاتے تھے۔ سو انہیں بہت الجھن ہوتی تھی۔ احمد کمال بطور جیب خرچ انہیں کچھ پیسے دے دیا کرتے تھے۔ ساس بہت بوڑھی تھیں نظر بھی کم آتا تھا‘ اس لیے وہ بیچاری اپنے کمرے میں ہی رہتیں۔ ایک سال بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے بہت چاہا احمد کمال انہیں خرچہ دے دیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے گھر چلا سکیں مگر اس طرف تو احمد کمال سوچنے کو بھی تیار نہ تھے۔ الماس بیگم نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہر صورت خسارا عورت کی جھولی میں آگرتا ہے۔ وہ خرچہ خود کرے یا اس کا شوہر۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا… احمد کمال کی تنخواہ اپنے ہاتھ میں لے کر گھر کا انتظام چلانے کا شوق زور پکڑتا گیا۔ شادی کے تین سال بعد افراح پیدا ہوئی‘ تب انہیں احساس ہوا‘ اب وہ مکمل ہوگئیں اور گھر میں ان کی حیثیت بھاری بھرکم ہوگئی لہٰذا انہوں نے خرچے کے لیے باقاعدہ جنگ شروع کردی۔
احمد کمال مزاجاً جھگڑالو نہ تھے لہٰذا تنگ آکر انہوں نے پوری تنخواہ ان کے حوالے کی اور خود چین کی بانسری بجانے لگے اور وہ گھر کا سودا لانے سے لے کر گیس‘ بجلی کے بل‘ دودھ والے کا بل‘ یہاں تک کہ سب ذمہ داریاں خود پر لیتی چلی گئیں۔ جب مہنگائی نے زور پکڑا اور اچھے اچھوں کی کمر توڑ دی‘ تب ان کی ہمت جواب دینے لگی اور انہوں نے چاہا کہ اب کم از کم احمد کمال بل تو بھر دیا کریں‘ گوشت سبزی تو لادیا کریں۔ ادھر احمد کمال کو آزادی اور بے فکری کی جو فضا میسر آئی تو وہ ان جھمیلوں سے بالکل ہی آزاد ہوگئے اور اب وہ ان کے چنگل میں پھنسنے کو قطعی تیار نہ تھے۔
/…/…/
عشاء کی اذان پر وہ بستر سے اتریں گو نماز ادا کرنے کی ہمت بھی تھکن کے سبب جواب دے گئی تھی‘ لیکن نماز تو فرض ہے لہٰذا وہ وضو کرنے اٹھیں‘ ایک نظر افراح پر ڈالی تو وہ کتاب پڑھ رہی تھی‘ انہوں نے اسے پکارا۔
’’بیٹا نماز کے لیے اٹھ جائو۔‘‘ کہتے ہوئے وہ وضو کے لیے باہر صحن میں آئیں‘ یہاں واش بیسن کے نیچے بھی ایک نل لگا تھا تاکہ بیٹھ کر باآسانی وضو کیا جاسکے۔
جاء نماز بچھاتے ہوئے بھی ان کی نظر افراح پر پڑی تو وہ جھلا ہی تو گئیں۔
’’کیا ہوگیا ہے؟ پہلی آواز سنائی ہی نہیں دیتی آج کل کے بچوں کو‘ مجال ہے جو ٹس سے مس ہوں۔‘‘
’’کیا ہوا امی؟‘‘ وہ تنک کر بولی۔
’’ابھی کہا نہیں تھا کہ نماز کے لیے اٹھ جائو۔‘‘
’’ابھی اٹھتی ہوں ناں‘ آپ تو پڑھیں۔‘‘
’’میں پڑھ لوں گی تم تب بھی نہیں اٹھو گی۔‘‘ وہ بہت غصے میں تھیں۔
’’اچھا ناں… آپ چلانا تو بند کریں۔‘‘ اس نے جھنجلاہٹ میں کتاب پٹخی اور اٹھ گئی۔
’’جب تک چیخو نہیں تم کہاں سننے والی ہو۔‘‘ نیت باندھتے باندھتے بھی وہ چلائیں۔
/…/…/
’’اے ہے کیا دکھتا نہیں‘ اندھے ہوگئے ہو؟‘‘ وہ اس زور سے چیختیں کہ دکاندار سمیت وہ شخص جو جوتا خریدنے کے لیے دیکھتے ہوئے بے دھیانی میں بھولے سے افراح کے برابر میں بیٹھ گیا تھا‘ ایک دم گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’معاف کرنا بہن…‘‘ کہتا ہوا سامنے دوسری کرسی پر جا بیٹھا۔
’’ہونہہ…‘‘ انہوں نے غصے میں ہنکارا بھرا۔
’’چلو اٹھو…‘‘ ان کے کہنے پر افراح جو سینڈل پسند کر بیٹھی تھی‘ ایک دم چھوڑ کر بنا لیے ان کے پیچھے پیچھے دکان سے نکل آئی تھی۔
/…/…/
’’ارے سنتے ہو‘ اب تم کم از کم اس کو خریداری تو کروا دیا کرو میری تو ہمت جواب دے گئی ہے۔‘‘ انہوں نے دن کا واقعہ دانستہ احمد کمال سے چھپاتے ہوئے بات بنائی تاکہ باپ کی موجودگی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔
’’قتل ڈاکے‘ لوٹ مار‘ زنا بالجبر کے واقعات‘ بم دھماکے… بس پور ا اخبار انہی خبروں سے بھرا پڑا ہے‘ حادثے سے زیادہ اس کی خبر پھر ہوشربا تفصیل دل دہلا دیتی ہے‘ پھر تصاویر اور دل خراب کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے اخبار ہی غصے میں پٹخ دیا۔
’’اگر خبر کے مرچ مصالحے چھپالیے جائیں تو عوام الناس کو دینے کے لیے اخبار والوں کے پاس ہے ہی کیا۔‘‘ احمد کمال نے چائے کے ساتھ ساتھ سموسوں سے مکمل انصاف کرتے ہوئے کہا۔
’’افراح بیٹی تم آٹا گوندھو‘ میں آکر روٹی پکاتی ہوں۔‘‘ انہوں نے الگنی سے دھلے کپڑے اتار کر تہ کرنا شروع کیے… استری کے لیے کپڑے وہ علیحدہ رکھتی رہیں۔ ان میں یہ عادت بھی تھی وہ دھلے کپڑے فوراً استری کرکے ہینگ کردیتی تھیں… گھر کے زیادہ تر کام وہ خود کرتی تھیں۔ چھوٹے موٹے کام وہ افراح سے کروا لیا کرتی تھیں وہ چونکہ فرسٹ ایئر پری میڈیکل کی طالبہ تھی لہٰذا وہ اسے پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرتی تھیں۔
’’افراح بیٹی مجھے ایک کپ چائے اور دے دو۔‘‘ اخبار کے چکر میں وہ ٹھنڈی ہوگئی تھی‘ جب وہ برتن اٹھانے آئی تب استری کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔
’’ملک فرحان کے ہاں چلی جانا ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘ احمد کمال کو یاد آیا۔
’’ارے… کب…؟‘‘ وہ چونکیں۔ ’’بیچاری بہت عرصے سے بیمار بھی تھیں۔‘‘
’’آج چوتھا دن ہے۔‘‘
’’بہت خوب… شاباش… آج بتا رہے ہو۔‘‘ انہوں نے طنز کیا۔
’’بالکل ذہن سے نکل گیا۔ میں تو اسی روز آفس سے ہی چلا گیا تھا‘ گھر آیا تو تم تھیں نہیں‘ جب تم آئیں تو سر درد کے سبب بتانا ذہن سے نکل گیا۔‘‘
’’اے ہے احمد کمال… بہانے تو کوئی تم سے سیکھے… سر درد نے موت کی اطلاع دینے سے روکے رکھا…‘‘ وہ ہولے سے ہنس دیں۔ ’’صاف کہو اب تمہیں کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔ کسی دن ہم ماں بیٹی کو بھی بھول جانا۔‘‘
’’خیر اب ایسا بھی نہیں…‘‘ احمد کمال بھی ہنس دیے۔
’’سنو…‘‘ وہ جیسے چونکیں۔
’’کہو۔‘‘
’’کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر افراح کے ہاتھ پیلے کردو۔‘‘
’’پاگل تو نہیں ہوگئی ہو‘ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے؟ فرسٹ ایئر میں تو آئی ہے کچھ پڑھ تو لینے دو۔‘‘
’’اپنے میاں کے گھر جاکر پڑھ لے گی۔‘‘
’’جب اپنے ماں باپ نہ پڑھا سکے تو دوسرا کوئی کیوں پڑھائے گا‘ سکون سے بیٹھو اگر ڈاکٹری نہیں پڑھانی تو بی ایس سی تو کرنے دو… ابھی تو بچی ہے‘ کچھ تو عقل آجائے۔‘‘ احمد کمال نے بہت محبت سے افراح کی جانب دیکھا۔ جو باپ کی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی تو احمد کمال کو لگا کوئی ننھی پری پھلجھڑی چھوڑ رہی ہے۔
’’تم دانت بند کرو۔‘‘ وہ افراح پر چڑھ دوڑیں۔ ’’دیکھو حالات بہت خراب ہیں۔‘‘ انہیں جیسے وحشت نے آن گھیرا۔
’’خراب حالات سب کے لیے ہیں‘ یہ صرف ہمارے لیے تو نہیں۔‘‘
’’جب اغوأ‘ ڈکیتی‘ بم دھماکے اور قتل کی خبریں پڑھتی ہوں تو ہول اٹھنے لگتے ہیں دل عجیب وسوسوِں میں گھر جاتا ہے۔‘‘
’’گھر میں سکون سے رہو تو بم دھماکوں سے بچا جاسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے چوٹ کی۔ ’’اور اغوأ وغیرہ ذاتی دشمنیوں کے نتیجے ہیں۔‘‘
’’دیکھو احمد کمال… میں تم سے کہہ رہی ہوں بچی کی شادی کرنی ہے… تو کرنی ہے نہ جانے کیوں آج وہ بری طرح الجھیں…‘‘ احمد کمال نے ہنستے ہوئے ٹیلی ویژن آن کیا اور نیوز سننے میں منہمک ہوگئے۔
/…/…/
آج افراح کا آخری پیپر تھا‘ احمد کمال کو آفس میں کچھ کام تھا جس کے سبب وہ افراح کو سینٹر سے نہیں لاسکتے تھے لہٰذا یہ ذمے داری بھی وہ الماس بیگم کو سونپ کر مطمئن ہوگئے تھے۔
ادھر وہ سوچوں میں گم تھیں… ان کی نند اپنی نند سے ملنے شارجہ جارہی تھیں‘ الماس بیگم نے نند‘ نندوئی اور بچوں کے لیے سامان خریدا تھا جو آج ہی دینا ضروری تھا۔ الماس بیگم نے ہمیشہ سسرال کو میکے پر فوقیت دی سو سب ان کا دم بھرتے تھے۔ اپنی بچت سے انہوں نے نند اور اس کی فیملی کے لیے تحائف خرید لیے تھے‘ اگر آج وہ تحائف نہ پہنچتے تو سب بیکار تھا۔ اپنی الجھن کا ذکر احمد کمال سے کیا‘ تو انہوں نے چٹکی بجاتے حل پیش کردیا تھا۔
’’ارے بھئی افراح کو سینٹر سے لیتی ہوئی فریحہ کے ہاں چلی جانا‘ سامان دے کر الٹے قدموں لوٹ آنا۔‘‘
’’ارے بھئی تم نے تو اپنی جان چھڑالی‘ میری تھکن کا کوئی خیال نہیں۔‘‘
’’ارے بابا‘ تم تھکتی کہاں ہو‘ تم تو جن ہو جن‘ چٹکی بھر میں سارے کام نمٹا لیتی ہو۔‘‘ احمد کمال ہنس دیے جسے انہوں نے نظر انداز کردیا۔
’’افراح بھوکی پیاسی ہوگی‘ پھر مجھے رنگ ساز سے دوپٹے بھی لینے ہیں…‘‘ وہ ہمیشہ دس کاموں کا دم چھلا لے کر گھر سے نکلتی تھیں۔
’’بھئی میں نہیں آسکتا… تم کچھ نہ کچھ ایڈجسٹ کرلینا… افراح کو راستے سے کچھ کھلا دینا… کہیں بھوک میں چکرا نہ جائے۔‘‘ وہ قطعیت سے کہہ کر گھر سے نکل گئے تھے۔
/…/…/
افراح کو لے کر وہ جونہی رکشہ میں بیٹھیں‘ محبت پاش نگاہوں سے انہوں نے اپنی ننھی پری کو دیکھا‘ جسے اکثر ان کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا رہتا تھا۔ دھوپ کی تمازت سے گال انگارے کی طرح دہک رہے تھے۔
’’بھوک تو نہیں لگ رہی؟‘‘ انہوں نے وہیں رکشہ میں بیٹھے ہوئے اس کے کئی بوسے لے ڈالے… اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’آگے کوئی دکان آئی تو بن کباب لے دوں گی۔‘‘
’’بن کباب…؟‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا۔ ’’برگر لوں گی‘ زنگر برگر…‘‘
’’کھلے پیسے نہیں ہیں…‘‘ انہوں نے ٹالنا چاہا۔
’’کوئی بات نہیں‘ برگر شاپ سے کھلا مل جائے گا۔‘‘ اس کے کہنے پر انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
میکڈونلڈ پر رکشہ رکوا کر وہ افراح کو ساتھ لیے برگر لینے اتریں۔
’’میں یہیں بیٹھی ہوئی ہوں‘ بہت تھک گئی ہوں آپ اکیلی جا کر لے آئیں۔‘‘ اس نے اپنا ہاتھ چھڑا کر رکشہ ہی میں بیٹھے رہنا چاہا۔
’’ارے چلو…‘‘ انہوں نے زور لگا کر اسے کھینچ کر رکشہ سے اتارا۔
’’زمانے کا کچھ پتہ ہے نہیں…‘‘ انہیں غصہ تھا۔
’’آپ اکیلی جاکر لے آئیں۔‘‘ انہوں نے راستہ چلتے میں کہنی چبھا کر اس کی نقل اتاری۔
’’چلو بھائی…‘‘ وہ رکشہ میں آبیٹھیں اور رکشہ پھر اپنے بے ہنگم شور کے ساتھ منزل پر رواں دواں ہوگیا۔
’’توبہ ہے… رفتار سے زیادہ تو اس پرانے چھکڑے کی آواز ہے…‘‘ وہ بھلا کب چپ رہنے والی تھیں۔
رکشے والے نے ناگواری سے انہیں شیشے میں سے دیکھا۔ اس نے ایک تنگ گلی میں رکشہ موڑا۔
’’ہے… ہے… کہاں جارہے ہو؟‘‘ وہ آگے کھسک کر باہر کی جانب دیکھنے لگیں۔
’’آگے پمپ ہے ناں… آگے سے شاٹ کٹ لوں گا‘ فیول کم ہے رکشے میں اماں۔‘‘ تنگ گلی ختم ہوتے ہی اس نے کچی اور ناہموار سڑک پر رکشے کو اتارا‘ وہ چونکہ تمام راستوں سے واقف تھیں لہٰذا چپ رہیں۔ وہ جانتی تھیں کہ واقعی یہ راستہ انہیں جلد منزل مقصود تک پہنچا دے گا‘ مگر وہ اس راستے سے کبھی آئی نہیں تھیں۔ اب رکشہ ایک کم چوڑے روڈ پر رواں تھا۔ جو جگہ جگہ سے ادھڑا ہوا تھا۔ رکشے نے جھٹکے کھانے شروع کردیے۔ رکشے والا گویا رکشہ کو پوری قوت سے کھینچ رہا تھا مگر کچھ دور جاکر رکشہ بند ہوگیا۔
’’کیا ہوا بھئی؟‘‘ وہ چپ رہا اور اتر کر رکشے کو چیک کرنے لگا۔
انہوں نے ایک اچٹتی نظر افراح پر ڈالی‘ جو چھوٹے چھوٹے بائٹ مزے سے اب تک لے رہی تھی۔ اسے اس بات سے کوئی مطلب نہ تھا کہ رکشہ خراب ہوگیا ہے۔
’’کیا ہوا بھئی‘ کچھ بولتا کیوں نہیں؟‘‘ ان پر سخت طیش سوار تھا۔
وہ بدستور انجن میں سر دیئے رہا کبھی پلگ چیک کرتا کبھی دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش… سب بے سود رہا پھر سر اٹھا کر بولا۔
’’آپ دوسری سواری پکڑ لو… رکشہ آگے نہیں جاسکے گا… بے کار آپ کا ٹائم بھی خراب ہوگا… فیول بھی نہیں ہے ابھی۔‘‘ وہ چپ چاپ پیسے ادا کرکے اتر گئیں۔ رکشہ والا پیدل رکشہ کو گھسیٹتا ہوا آگے بڑھ گیا‘ وہ وہیں کھڑی دوسری سواری کا انتظار کرنے لگیں۔
کافی دیر گزرنے کے باوجود کوئی سواری نہیں گزری… اب جو انہوں نے غور کیا تو سڑک بالکل سنسان تھی‘ اس کم چوڑی سڑک کے ایک طرف ناہموار میدان تھا‘ دوسری طرف گندا نالہ بہہ رہا تھا۔ مڑ کر رکشہ والے کو دیکھا‘ وہ ایک نقطہ کی مانند بہت دور جاتا دکھائی دیا۔ سامنے سے ایک بجری ریتی کا ٹرک آتے دیکھ کر گھبرا کر انہوں نے افراح کو تکا… سفید یونیفارم میں وہ کوئی حور پری لگی جو برگر کھاچکنے کے بعد ٹشو سے منہ صاف کررہی تھی۔
’’ہم رکشہ والے کے ساتھ ساتھ نکل جاتے تو کم از کم اب تک مین روڈ پر تو پہنچ جاتے…‘‘ انہیں اب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے افراح سے کہا۔ زن سے ٹرک تو گزر گیا مگر کچھ ریت ان کی آنکھوں میں جھونک گیا۔
انہوں نے آنکھیں مسل کر افراح کو دیکھا‘ زمانے بھر کی معصومیت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ جی چاہا اسے خود میں سمولیں‘ وہ ڈرپوک تو قطعاً نہ تھیں مگر جانے کیوں آج دل عجیب بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا۔
رکشہ کی بے ہنگم گھڑگھڑاہٹ پر انہوں نے سامنے کی طرف دیکھ کر ہاتھ کا اشارہ دیا‘ رکشہ میں پہلے سے سواری موجود تھی وہ نہ رکا اور آگے بڑھ گیا۔ اسی کے پیچھے سرخ رنگ کی کار بھی زن سے گزر گئی‘ وہ پھر رخ موڑ کر جہاں سے رکشہ آیا تھا‘ اسی جانب دیکھنے لگیں‘ تب ہی انتہائی قریب کار کے ٹائر چرچرائے وہ اچھل پڑیں۔ دل بھی اچھل کے گویا حلق میں آگیا‘ وہی سرخ کار ریورس ہوئی تھی۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر دو نوجوان اترے۔
’’کہاں جانا ہے آپ کو ہم مدد کردیں؟‘‘
’’کہیں نہیں آپ لوگ جائیں۔‘‘ منٹ میں انہوں نے خطرے کو بھانپا‘ خطرے کی گھنٹی تو پہلے ہی محسوس کرچکی تھیں‘ انہوں نے آواز میں کرختگی پیدا کی‘ مگر دونوں نوجوان آگے بڑھے۔
’’افراح… بچ کے… پتھر اٹھالو۔‘‘ وہ انتہائی زیرک تھیں اور وہ فیصلے کرلیتی تھیں جو خطرے میں گھر کر کوئی عورت تو کیا کوئی آدمی شاید فوری طور پر کرسکے… وہ نہ صرف بہت زور سے چلائیں بلکہ نوجوانوں کی سی پھرتی سے انہوں نے ناہموار سڑک کے کنارے پڑے موٹے موٹے بلاک نما پتھر اٹھالیے۔
افراح سہم گئی… ہاتھ سے پانی کی بوتل چھوٹ گئی‘ جواس نے پینے کے لیے کھولی تھی۔ انہوں نے تیزی سے افراح کو کھینچ کر پیچھے کیا… وہ یہی کرسکتی تھیں۔
’’کیا ہے… جاتے کیوں نہیں… کون ہو تم لوگ…؟‘‘ وہ پوری شدت سے چیخ رہی تھیں۔ انہوں نے لمحہ بھر میں اردگرد نظر دوڑائی… بہت دور دو آدمی جارہے تھے۔ وہ کتنا بھی شدت سے چیختیں وہ مدد کے لیے نہیں آسکتے تھے۔
نوجوان بنا بولے افراح کی طرف بڑھے۔ انہوں نے پتھر پر گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ قریب آنے والے کی ناک اور ہونٹ کے درمیان مارا اور فوراً ہی دوسرا وار اس کی آنکھوں کے درمیان کر ڈالا‘ خون کا فوارہ پھوٹ نکلا۔ شاید وہ نوجوان ان کی دلیری کو جانچ نہیں پایا تھا… تیورا کے پیچھے لڑھک گیا… خون اس کی آنکھوں میں بھرگیا۔
’’مار… مار…‘‘ کراہتا ہوا وہ چیخا اور زمین پر لوٹنے لگا۔
دوسرے نے بہت پھرتی سے افراح کا ہاتھ کھینچا… انہوں نے افراح سے پتھر چھین کر اسے بھی کھینچ مارا… وہ چوکنا تھا… پہلے والے کا انجام دیکھ چکا تھا‘ جھکائی دے گیا۔ پوری شدت سے اس نے الماس کو مکا رسید کیا… وہ افراح کو کھینچنے کو ترچھی ہوئی تھیں قسمت سے بچ گئیں ورنہ مکا اپنا کام کر گیا ہوتا پھر بھی انہیں چھوتا ہوا گزر گیا۔
وہ نوجوانوں کی پھرتی سے ایک اور پتھر اٹھا چکی تھیں یہ وہ دوسرا پتھر تھا جو افراح کے ہاتھ سے گرا تھا۔
’’الوکے پٹھے… حرام… کمین…‘‘ وہ فراٹے سے گالیاں دینے لگیں۔ اس نے بھی جواباً گالیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ ٹی ٹی نکال لی تھی۔ وہ افراح کو کھینچ رہا تھا۔
انہوں نے دوسرا پتھر اس کے منہ پر مارا۔ بچتے بچتے بھی اس کی آنکھ سے ذر اوپر لگا… وہ طیش میں آگیا… افراح پر اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی انہوں نے افراح کو کھینچا… اس نے الماس کا نشانہ لے کر تین چار فائر کیے۔
وہ نادان نہ تھیں‘ لڑکوں کی نیت اور پستول دیکھ کر ان کا ارادہ بھانپ گئیں تھیں‘ لمحہ بھر بھی نہ لگا انہیں فیصلہ کرتے کہ اس فیصلے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ جان گئی تھیں‘ اس چٹیل میدان میں ان کی مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔ جونہی اس نے ان پر فائر کیا انہوں نے بجلی کی سی تیز ی سے افراح کو سامنے کردیا۔ تینوں فائر افراح کو لگے اس نے زور دار چیخ ماری اور لہولہان ہوکر ان پر جھول گئی۔ نوجوان حواس باختہ ہوگیا۔
’’بھاگ عامر… بھاگ…‘‘ اس نے زخمی دوست کو کھینچ کر گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ہوا ہوگئی۔
وہ بت بنیں افراح کو تک رہی تھیں… ایک گولی افراح کو لگی اسے گرتا دیکھ کر انہوں نے چیخ ماری۔
’’میری جان… میری بیٹی… میری شہزادی…‘‘ وہ ہذیانی کیفیت میں افراح سے لپٹی رو رہی تھیں۔ وہ چیخیں مار رہی تھیں اور افراح کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔
’’ام… امی… مجھے کیوں مارا… آپ نے…‘‘ وہ بہ مشکل بول پائی‘ اس کی گردن لڑھک گئی آنکھ پتھرا گئی‘ سانس ساکن ہوگئی۔ وہ چیخیں مار مار کر رو رہی تھیں اور جھک جھک کر اسے چوم رہی تھیں۔
’’میری جان… مجھ سے بدظن ہوکر تو نہ جا‘ میں نے تجھے مارا نہیں… میں نے تجھے روز روز مرنے سے بچایا ہے۔‘‘ وہ اس کی لاش پر جھکی اسے دیوانہ وار چوم رہی تھیں‘ پھر سینے پر دو ہتھڑ مارتی مٹی اٹھا کر سر میں ڈالنے لگی تھیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close