Aanchal Dec-18

تلخ و شیریں

رابعہ شاہین

س:۔ کفالت کی ذمہ داری کب سے سنبھالی؟
٭ جب سے ہوش سنبھالا گھر میں غربت کے سائے دیکھے۔ ہمارے بابو جی کو منہ کا کینسر تھا۔۔ بڑی دو بہنوں کی شادی ہوچکی تھی مگر ان کے گھروں میں بھی اتنی غربت تھی کہ وہ آئے دن ہمارے گھر آجاتیں، ایک بہن کے دو بچے تھے‘ دوسری بہن کے ہاں صرف ایک بیٹا تھا۔ مجھ سے چھوٹی بہن کی بھی شادی ہوگئی تھی۔ وہ جدہ میں رہتی تھی۔ شوہر سے چھپ کر وہ کچھ مالی مدد کردیا کرتی تھی۔ بڑا بھائی بینک میں افسر تھا مگر اس کی اپنی فیملی تھی۔ تین چھوٹی بچیاں تھیں۔ وہ کرائے کے گھر میں رہتا تھا تو وہ تھوڑی بہت مدد کردیا کرتا تھا پھر بابو جی کی معمولی سی پنشن تھی تو ماں جی بہت کھینچ تان کر گزارہ کرتی تھیں۔ میں میٹرک میں تھی جب میں نے ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ اس سے صرف یہ فرق پڑا کہ میں نے اپنی پڑھائی کا خرچا خود اٹھا لیا، جب میں نے بی اے کیا تو میری تین چھوٹی بہنیں اور دو بھائی اسکول میں پڑھ رہے تھے مجھ سے چھوٹی بہن کی قرض لے کر شادی کردی گئی تو وہ جدہ چلی گئی۔ گھر کے حالات دگرگوں تھے اور پھر قرض کا بار۔
میں جس زمانے کا ذکر کر رہی ہوں اس وقت فی بچہ پانچ روپے فیس لیتی تھی پھر مجھے ایک گھر میں تین بچیوں کو ٹیوشن پڑھانے کا موقع ملا جہاں سے تیس روپے ملتے تھے تو سب سے پہلے میں نے اپنی تعلیم پر توجہ دی۔ بی اے کے بعد میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔
یونیورسٹی سے گھر آنے کے بجائے میں اکیڈمی میں پڑھانے چلی جاتی‘ وہیں سے شام کو انگریزی کی کلاس اٹینڈ کرتی اور سات آٹھ بجے گھر پہنچتی۔
گھر میں جن بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی‘ انہیں چھوٹی دونوں بہنوں نے سنبھال لیا ۔میں نے خوب محنت اور دل جمعی سے تعلیم حاصل کی یہاں تک کہ انگریزی میں ماسٹر‘ سیکنڈ پوزیشن میں پاس کیا اور سلور میڈل حاصل کیا۔
اسی وجہ سے مجھے اسی کالج میں لیکچرار کی جاب مل گئی جہاں میں خود پڑھتی تھی۔ صبح کالج جاتی وہاں سے فارغ ہو کر پھر اکیڈمی پڑھانے جاتی۔ دو چار بڑے گھروں کی ٹیوشن مل گئی تھی تو باری باری وہاں جاتی۔ یوں صبح ساڑھے سات بجے کی نکلی میں تقریباً رات بارہ بجے گھر واپس پہنچتی۔ اس محنت کا اللہ پاک نے بھی خوب صلہ دیا۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم کا سلسلہ جو وقتی طور پر رک گیا تھا وہ پھر سے شروع ہوگیا اور الحمدللہ قرض بھی اتار دیا۔
س: گھر والوں کی ضروریات جائز طریقے سے پوری کرنے کے لیے آپ نے کیا قربانی دی۔ خود میں کیا تبدیلی لائیں؟
٭ بس اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر گھر والوں کی ضروریات کو مقدم رکھا۔ جب آپ گھر سے باہر جاتے ہیں تو بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اگر آپ ایک خاتون ہیں تو آپ کے ساتھ کام کرنے والی خواتین آپ کے لباس سے آپ کی حیثیت کا اندازہ کر کے آپ کو ڈی گریڈ کرنے کی کوشش کرتی ہیں اس لیے سب سے پہلے مہنگے اور قیمتی لباس پہننا شروع کیے اور پھر ہماری شخصیت ہمارے اسٹوڈنٹ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے تو اچھا لباس خواہش سے زیادہ ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے پھر یہ جھوٹا بھرم بھی رکھنا ہوتا ہے کہ ہمیں نوکری کی ضرورت نہیں ہم شوقیہ کام کرتے ہیں۔
س: اس سارے عرصے میں گھر والوں کا رویہ کیسا رہا؟
میں صبح کی نکلی رات کو گھر واپس پہنچتی تھی تو تھکن سے برا حال ہوتا تھا۔ بابو جی بیمار تھے تو وہ جلد سو جاتے تھے۔ چھوٹے بہن بھائی بھی سوتے ہوئے ملتے لیکن ماں جی میرے انتظار میں جاگ رہی ہوتی تھیں۔ وہ میرے بغیر کھانا نہیں کھاتی تھیں۔ میں دن بھر بسکٹ وغیرہ سے کام چلاتی تو رات کو بھوک بھی لگ رہی ہوتی تھی پھر ہم ماں بیٹی رات کو کھانا کھاتے۔ میں انہیں دن بھر کی روداد سناتی۔ کبھی وہ شرمندہ ہوتیں کہ مجھے اتنی محنت کرنا پڑ رہی ہے اور کبھی میں کمزور پڑتی تو میری ہمت بندھاتیں۔ ماں جی کا سہارا نہ ہوتا تو شاید میں آدھے راستے میں ہی تھک کر گر جاتی۔ چھٹی والے دن بھی میری بہنیں مجھے گھر کا کام نہ کرنے دیتیں‘ سب میرے آرام و سکون کا خیال رکھتے تھے۔
س: کبھی ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اور اس موقع پر آپ نے کیا طرز عمل اختیار کیا؟
٭ نہ آپ لوگوں کی زبانیں روک سکتے ہیں نہ ہر ایک کو اپنی شرافت کا یقین دلا سکتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ جس طرح مائیں اپنی بیٹیوں کی تربیت کرتی ہیں‘ انہیں شرافت سکھاتی ہیں اسی طرح انہیں بیٹوں کی تربیت بھی کرنی چاہیے انہیں خواتین کی عزت کرنا، سکھانا چاہیے۔ انہیں بھی نظریں نیچی رکھنے کی تعلیم دینی چاہیے۔ جب تک ہم بیٹوں کی تربیت اس طرح نہیں کریں گے جس طرح قدم قدم پر بیٹیوں کی کرتے ہیں‘ انہیں اچھے برے کی پہچان بتاتے ہیں تب تک ہر اس خاتون کو جو اپنے گھر کی معاشی ضرورت پورے کرنے کے لیے باہر نکلتی ہے ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا تو پڑے گا اور طرز عمل کیا اختیار کریں؟ ایک شریف خاتون سوائے خاموشی اور صبر کے کیا کرسکتی ہے۔
س: کہتے ہیں کہ آپ اچھے تو جگ اچھا تو کیا واقعی ایسا ہی ہے۔ محض آپ کا اچھا ہونا کافی ہے؟
٭ اگر اس دنیا میں ہر شخص اپنی جگہ اچھا ہو تو یہ دنیا جنت نہ بن جائے۔
س: کبھی پیشہ وارانہ رقابت کا شکار ہوئیں؟
بہت دفعہ‘ کالج میں جب غیر نصابی سرگرمیوں کا ہفتہ منایا جاتا تو ادبی سرگرمیوں کی ذمہ داری مجھے سونپ دی جاتی تو مختلف مقابلوں کے انعقاد کے سلسلے میں جس خاتون کو ہمارے مقابل ذمہ داری دی جاتی تو وہ کھیلوں کو کھیل سمجھنے کے بجائے ذاتی اناکا مسئلہ بنا لیتیں بعد میں بھی بہت دن تک ان کا منہ پھولا رہتا۔ اب سوچتی ہوں تو سارے جھگڑے بچکانہ لگتے ہیں اور ہنسی بھی آتی ہے کیو نکہ میں بھی خم ٹھونک کر میدان میں اتر جاتی تھی۔
س: اپنے جونیئر اور سینئرز کے ساتھ آپ کا کیا رویہ رہا؟
٭ میں نے ہمیشہ اپنے بڑوں کا ادب کیا اور جونیئرز کے ساتھ میں خود بھی جونیئر بن جاتی تھی۔ بچوں کو پڑھاتی تھی تو ان کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر خود بھی بچہ بن جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جونیئرز سے ہمیشہ دوستی رہی اور تمام اسٹوڈنٹس میرے گرویدہ رہے۔
س: کبھی عزت نفس کا سودا کیا؟
٭ آہ…!! چھوڑیں اس بات کو جانے دیں۔
س: ملازمت کے لیے محض ایمان داری کافی نہیں‘ خوشامد اور چاپلوسی بھی ضروری ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
٭ ہاہاہاہا… یہ سب سے دلچسپ سوال ہے۔ ایماندار آدمی کی اس دنیا میں جگہ ہی کہاں ہے۔ بندہ یا تو ایمان داری دکھالے یا پھر نوکری کرلے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ جسے مسکرانا نہیں آتا اسے دکانداری نہیں کرنا چاہیے اسی طرح میں کہتی ہوں کہ جسے خوشامد اور چاپلوسی کرنا نہیں آتی اسے نوکری نہیں کرنا چاہیے۔
س: اگر آپ نے اپنے ہداف اور مقاصد حاؒصل کرلیے تو اب گھر والوں کا رویہ کیسا ہے؟ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو طمانیت کا احساس ہوتا ہے یا رائیگانی کا؟
٭ جس وقت میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ بابو جی کی بیماری آخری اسٹیج پر تھی ۔جتنا ہمارے بس میں تھا ہم نے ان کا علاج کرایا مگر بابو جی کو بچا نہ سکے‘ اس کا قلق آج تک ہے۔ کاش بابو جی کا اچھا سا علاج کرا سکتی۔ خیر بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی شادی کردی ہے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں میں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں اکیلی رہتی ہوں، اب بھی ٹیوشن پڑھاتی ہوں اور بہت کم فیس لیتی ہوں تو اسٹوڈنٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے تو اس مصروفیت میں اچھا وقت گزر جاتا ہے۔ تنہائی کا زیادہ احساس نہیں ہوتا۔ پھر ہر دس پندرہ دن بعد سارے بہن بھائی میرے گھر میں جمع ہوتے ہیں خوب رونق لگتی ہے۔ بہنوں کا تو یہ میکہ ہے۔ ماں جی کے جانے کے بعد سب نے مجھے ماں کا درجہ دے دیا ہے چھوٹے بھائی بھی بہت عزت کرتے ہیں۔ بڑے بھائی تو بہت ضد کرتے ہیں کہ ان کے گھر آجائوں ۔ان کی بھی تینوں بچیوں کی شادی ہوگئی ہے مگر یہ گھر میرے ماں باپ کا گھر ہے‘ میں جب تک زندہ ہوں میرے بہن بھائیوں کے لیے یہ ماں باپ کا گھر رہے گا۔ وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں ہماری باتوں میں زندہ رہیں گے اور یہ گھر سونا ہوگیا تو یادیں مر جائیں گی۔
اور جب رات کو سونے لیٹتی ہوں تو چپکے سے پتا نہیں ماں جی کہاں سے آجاتی ہیں۔ انہیں پھر سے دن بھر کی روداد سناتی ہوں وہ پھر سے میری ہمت بندھاتی ہیں۔ بڑی بہنوں کے حالات بھی بدل گئے ہیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے حوصلہ اور ہمت دی کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے کام آسکی ۔دعا ہے کہ اللہ ان سب کی خوشیوں کو یوں ہی سلامت رکھے کہ دنیا میں بہن بھائیوں سے بڑھ کر آپ کا کوئی خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔

 

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close