NaeyUfaq Dec-18

خالی کرسیاں

رانا زاہد حسین

شوبز کا شعبہ بظاہر بڑا چمک دمک والا نظر آتا ہے جہاں قدم قدم پر مسکراہٹیں اور قہقہے بکھرے محسوس ہوتے ہیں لیکن اس کی تہہ میں کتنے اندھیرے مایوسیاں اور آنسو چھپے ہوتے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آتے۔
شوبز سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرامہ نگار کا المیہ، اس کی محنت اور صلاحیتوں پر کوئی اور ہاتھ صاف کر گیا تھا

آج موسم کافی خوشگوار تھا‘ کافی دنوں سے اس نے ایک لفظ نہیں لکھا تھا لیکن آج سہانے موسم کی وجہ سے اس کاخودبخود لکھنے کو دل کررہاتھا۔ ایک ٹیلی فلم کااسکرپٹ اس نے تقریباً مکمل کرلیاتھا‘ بس اس کاکلائمکس لکھناباقی تھا۔ ٹیلی فلم کاکلائمکس وہ کافی جاندار لکھنا چاہتاتھا لیکن اس کا اختتام اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔ آؔخری سین میں وہ پھنس کررہ گیاتھا۔ آخری سین اس نے تین چار بار لکھا لیکن مطمئن نہ ہوا پھراس نے صفحہ پھاڑا اور پھینک دیا۔ اب فرش پر تین چار کاغذ کی گیندیں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کادوست مدثر آگیا اس نے آتے ہی ان کاغذوں کواکٹھا کیا ‘ کھول کردیکھا اور پڑھنے لگا۔
’’لگتاہے میر ایار آج پھر پھنس گیاہے۔‘‘ مدثر نے کاغذ کی گیند کو ہوامیں اچھالتے ہوئے کہا۔
’’ہاں یار ایساہی ہے کلائمکس سمجھ ہی نہیں آرہا کیا کروں؟‘‘ رمیض نے اپنی بے بسی ظاہر کی۔
’’تم ریلیکس کرو خودبخود سمجھ میں آجائے گا۔‘‘مدثر نے رمیض کومشورہ دیا۔
’’ریلیکس کیسے کروں ؟‘‘ رمیض نے کاغذ قلم میزپررکھتے ہوئے مدثر سے پوچھا۔
’’یار کوئی اچھی سی مووی دیکھتے ہیں ذہن فریش ہوجائے گا۔‘‘
’’یار یہ آج کل کی فلمیں مجھے پسند نہیں میں تو چاہتاہوں میری لکھی ہوئی کوئی فلم سنیما پر لگے۔‘‘
’’یار فلم انڈسٹری تو تقریباً خالی ہوچکی ہے تم ٹی وی کے لیے لکھو ‘پہلے تو صرف سرکاری چینل تھااب توسو سے زائد پرائیویٹ چینلز ہیں کہیں نہ کہیں تو موقع مل ہی جائے گا۔‘‘ مدثر نے کہا۔
’’یار تمہارے کہنے پر ہی ٹیلی فلم لکھ رہاہوں ورنہ میرا تو ارادہ فیچر فلم لکھنے کاتھا بلکہ آدھی سے زیادہ فیچر فلم کا اسکرپٹ میں لکھ بھی چکاہوں۔‘‘ رمیز نے مدثر کوبتایا۔
’’یار یہ تم نے اسکرپٹ لکھنا سیکھا کہاں سے ہے؟‘‘
’’یار سیکھنا کہاں سے تھا‘ یہ کوئی ویلڈنگ کاکام نہیں جو سیکھنے سے آجائے یہ توخداداد صلاحیتیں ہیں‘ ویسے اسکرین پلے میں نے اپنے جولیجنڈ ٹی وی رائٹر گزرے ہیں امجد اسلام امجد‘ بانوقدسیہ‘ اشفاق احمد‘ فاطمہ ثریابجیا‘ یونس جاوید اور مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ڈرامے جو کتابی شکل میں چھپے ہیں ان کوپڑھ پڑھ کر سیکھاہے۔‘‘رمیض نے بتایا۔
’’یار تم کو تھروپراپرچینل چلنا چاہیے تھا۔‘‘ مدثربولا۔
’’تھروپراپرچینل… میں سمجھا نہیں؟‘‘ رمیض حیران ہوا۔
’’پہلے تم ڈائجسٹ میں لکھتے پھر تم ٹی وی کے لیے لکھتے اور پھر فلم لکھتے۔‘‘
’’کچھ ڈائجسٹوں کومیں نے اپنے افسانے بھیجے تھے لیکن وہ انتظار بہت کرواتے ہیں۔ ہرڈائجسٹ میں چند رائٹرز نے اپنی اجارہ داری بنارکھی ہے نئے رائٹرز کے وہ قدم نہیں جمنے دیتے۔‘‘ رمیض نے اپنے تجربات بیان کیے۔
’’تمہاری باتوں سے لگتا ہے ہرجگہ تم قسمت آزمائی کرچکے ہو۔‘‘
’’اب میںنے صرف ٹی وی کے لیے یا فلم کے لیے لکھناہے۔‘‘
’’فلم انڈسٹری اور ڈرامہ انڈسٹری میں بھی نئے رائٹرز کے قدم جمانا بڑامشکل ہوتاہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن اب میںنے فلم رائٹر اور ڈرامہ رائٹر ہی بنناہے۔‘‘ رمیض کو اپنی صلاحیتوں پرپورایقین تھا بس اسے کسی گولڈن چانس کاانتظار تھا۔
’’تم میں ٹیلنٹ توہے لیکن سب سے مشکل کام چانس حاصل کرنا ہے۔‘‘
’’یار تم کرو نہ کچھ میرے لیے ۔‘‘ رمیض کی ایکسائٹ منٹ بڑھ رہی تھی۔
’’یارمیں کیا کروں میں بھی تمہاری طرح بے روزگار ہوں میرے پاس سرمایہ ہوتا‘ میں خود کوئی ٹیلی فلم پروڈیوس کرکے تم کوچانس دے دیتا۔‘‘ مدثر نے اپنی بے بسی ظاہر کی۔
’’اب تمہارا کیا پروگرام ہے؟‘‘ رمیض نے پوچھا۔
’’ابھی تو میں ٹیلی فلم نہیں بناسکتا۔‘‘ مدثر مذاق کرنے لگا۔
’’ٹیلی فلم بنانہیں سکتے تو فیچر فلم دیکھاتوسکتے ہو ابھی کچھ دیر پہلے تم نے ہی فلم دکھانے کی آفر کی تھی مجھے۔‘‘ رمیض نے مدثر کویاد دلایا۔
’’توپھر چلیں فلم دیکھنے۔‘‘ ر میض کابھی دل کرنے لگا فلم دیکھنے کو۔
’’کون سی فلم دیکھنے کاارادہ ہے؟‘‘ رمیض نے پوچھا۔
’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ مدثر نے بتایا۔
’’بڑھاپا پھر نہیںجاتا‘‘ رمیض کے منہ سے اچانک نکلا۔
’’نام تواچھا ہے اس پر فلم کی کہانی لکھنی شروع کردو۔‘‘ مدثر بولا۔
’’کوئی اچھاسا آئیڈیا ذہن میں آیا تو ضرور لکھوں گا۔‘‘ رمیض سوچنے لگا۔
’’اس نام پربڑی اچھی سی کامیڈی فلم بن سکتی ہے۔‘‘ مدثر بولا۔
’’میں پنجاب نہیں جائوں گی۔‘‘
’’یار تم پہلے ہی پنجاب میں ہو‘ ویسے بھی تم لڑکی نہیں لڑکاہو۔‘‘
’’یار میں فلم کی بات کررہاہوں۔‘‘ میںپنجاب نہیں جائوں گی۔ یہ فلم دیکھتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے یہی دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ جوانی پھرنہیں آنی‘‘ میں پنجاب نہیں جائوں گی‘ دونوں ہی سپرہٹ فلمیں ہیں۔‘‘ مدثر نے رمیض کی ہاں میں ہاں ملائی۔
رمیض نے اپنی موٹر سائیکل نکالی اورمدثر اس کے پیچھے بیٹھا اب ان کی موٹر سائیکل کارخ لاہور کے اچھے سے سنیما گھر کی طرف تھا۔
؟ …؟ …؟
رمیض فلم دیکھ کرگھر واپس آیاتو آدھی رات گزر چکی تھی اس کے ذہن میں ٹیلی فلم کاکلائمکس آگیاتھا۔وہ کلائمکس ابھی لکھنا چاہتاتھا لیکن اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں اس لیے اس نے جوتے اتارے اور بیڈ پرڈھیر ہوگیا۔ اسے اتنی زور کی نیند آرہی تھی کہ اس نے جرابیں بھی نہ اتاریں اور نیند کی آغوش میں چلاگیا۔ صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ رمیض رات کو جتنی مرضی لیٹ سوتاتھا لیکن صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل جاتی تھی۔آج بھی حسب معمول اس کی آنکھ فجر کی اذان کی ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اس نے اٹھ کر وضو کیا‘ پھر قرآن کی تلاوت کی‘ پھرجب نماز فجر کاٹائم ہوگیاتواس نے مسجد جاکرنمازادا کی۔ مسجد اس کے گھر کے قریب ہی تھی۔ باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد وہ گھر واپس آگیا۔ گھر آتے ہی وہ اپنی راٹنگ ٹیبل پر بیٹھ گیااوراس نے ٹیلی فلم کاکلائمکس لکھ لیا۔ ٹیلی فلم کا اسکرپٹ مکمل کرنے کے بعد اس نے فیچرفلم کاباقی ماندہ اسکرپٹ لکھنا شروع کردیا۔ آج اس کاقلم بڑی روانی سے چل رہاتھا‘ نئے نئے آئیڈیاز کی آمد بھی خوب ہو رہی تھی۔ اس لیے وہ لکھتا ہی چلاجارہاتھا۔ لکھنے میں وقفہ اس نے صرف ناشتہ کرنے کیلئے ہی کیاتھا۔ ناشتہ وہ ہلکاپھلکاہی کرتاتھا دوسلائس اور ساتھ ایک چائے کاکپ‘ لکھتے لکھتے اسے اب دوپہر کاوقت ہوگیاتھا ‘آمد ہو رہی تھی اس لیے اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وقت کتناگزر گیاہے۔ اب لنچ کاٹائم ہوگیاتھا‘ اسے بھوک محسوس ہونے لگی تھی۔ اس لیے اس کاقلم اب رک گیاتھا۔ اگر اسے بھوک زور کی نہ لگتی تو اس نے فیچر فلم کااسکرپٹ بھی مکمل کرکے ہی اٹھناتھا۔ اس نے جلدی جلدی لنچ کیااور پھر اپنی رائٹنگ ٹیبل پرآبیٹھا‘ آج اس کے قلم میں روانی تھی بے ساختہ پن تھا شام تک اس نے فیچر فلم کا اسکرپٹ بھی مکمل کرلیا۔ اسکرپٹ مکمل کر کے اسے بڑی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ اب اسے کسی بڑے اچھے سے فلم پروڈیوسر اور کسی اچھے سے پروڈکشن ہائوس کی تلاش تھی جہاں وہ اپنے اسکرپٹ دے سکے۔ رمیض نے کافی جگہ اپنے اسکرپٹ بھیجے جس سے بھی رابطہ کیا پہلے تو کونٹینٹ والے بڑے اخلاق سے بولتے جب ان کے کہنے پر وہ اسکرپٹ بھیج دیتا تو پھر کونٹینٹ والوں کے لہجے میں اسکرپٹ لینے سے پہلے جو گرمجوشی ہوتی وہ آہستہ آہستہ سرد مہری میں بدلنے لگتی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کال اٹینڈ کرنے کی بھی زحمت گوارہ نہ کی جاتی ۔ وہ جب بار بار فون کرتا تو آخر کار اس کوبلاک کردیاجاتا ‘رمیض کے لیے یہ ساری صورت حال بڑی پریشان کن تھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کرے۔ آخر وہ مایوس ہو کربیٹھ جاتا لیکن دل میں جو ڈرامہ رائٹر اور فلم رائٹربننے کی امنگ تھی وہ ہمیشہ جوان ہی رہتی۔ جب بھی اس کے ذہن میں کوئی نیا آئیڈیا آتاوہ اس کولکھ کررکھ لیتاتھا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پاس بہت سے اسکرپٹ جمع ہوگئے تھے لیکن اسے چانس کہیں بھی نہیں مل رہاتھا۔
؟ …؟ …؟
ایک دن رمیض ٹی وی لائونج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہاتھا ایک چینل پر ایک سنیئر اداکار کا انٹرویو آرہاتھا جو ڈرامے بھی پروڈیوس کرتاتھا۔ اپنے انٹرویو میں وہ پرانے اور مشہور رائٹرز کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ رہاتھا کہ ہمارے پرانے رائٹرز کے پاس نئے آئیڈیاز نہیں ہیں وہ وہی پرانی گھسی پٹی کہانیاں دھرارہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارا ڈرامہ زوال کی طرف گامزن ہے۔ انڈیا کے ساس بہو والے ڈرامے پاکستانی عورتین اب زیادہ دیکھنے لگی ہیں۔ انڈیا والوں نے ڈرامہ بنانا ہم سے سیکھا ہے‘ اب ان کاڈرامہ ہم سے آگے نکلتا جارہاہے‘ یہ سب اسکرپٹ کی کمزوری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انڈین ڈراموں کامقابلہ کرنے کے لیے ہمیں نئے رائٹرز تلاش کرنے ہوں گے۔ اس سنیئر اداکار کی باتیں سن کر رمیض بڑا متاثر ہوا۔ اس سنیئر اداکار کااپناپروڈکشن ہائوس بھی تھا۔ رمیض جومایوس ہوکربالکل گھر بیٹھ گیاتھا ‘کافی عرصہ ہوگیاتھا اس نے کسی ڈرامہ پروڈیوسر سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ اس سنیئر اداکار کے خیالات سن کر رمیض کے دل میں ایک نئی امنگ پیداہوئی اس نے اس سنیئر اداکار سے ملنے کے لیے سورس تلاش کرنے شروع کردیئے تاکہ اسے اپنے اسکرپٹ دے سکے۔ جس طرح کے سنیئر اداکار کے خیالات تھے رمیض یہ خیالات سن کراس سنیئر اداکار سے امید لگابیٹھاتھا کہ وہ ضرور اس کوچانس دے گا جوماضی قریب میں کافی ہٹ ڈرامہ سیریل بناچکاتھا۔ رمیض نے بڑی تگ ودو کے بعد اس سنیئر اداکار کانمبر حاصل کیا جیسے ہی رمیض کواس سنیئر اداکار کانمبر ملااس نے فوراً اس کوکال ملائی‘ اوراس سے وقت لے کراس کے پروڈکشن ہائوس پہنچ گیا۔ اپنے اسکرپٹ کی فائل اس نے بغل میں دبائی ہوئی تھی۔ رمیض نے جاتے ہی سنیئر اداکار کوسلام کیااس نے رمیض کوبیٹھنے کو کہااور چند لمحوں بعد ہی چائے کے ساتھ بسکٹ اور نمکو وغیرہ اس کے سامنے آگئے۔ رمیض نے کچھ بولنا چاہا تو سنیئر اداکار نے اس کوچائے پینے کااشارہ کیا تو رمیض چائے کی چسکیاں لینے لگا۔
’’برخوردار بسکٹ بھی لو۔‘‘ سنیئراداکار نے رمیض کی توجہ بسکٹ کی طرف دلائی۔
رمیض چائے کے ساتھ بسکٹ بھی کھانے لگا جب رمیض چائے پی چکاتو سنیئر اداکار بولا۔
’’ہاں برخوردار اب بتائو کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
’’سر! میں نے ٹی وی پر آپ کاانٹرویوسناتھا‘ آپ کے خیالات سن کرمیں بہت متاثر ہوا ہوں‘ میں بھی رائٹر ہوں میرے پاس چند فریش آئیڈیاز ہیں یقینا آپ کوپسند آئیں گے۔‘‘ پھررمیض نے اپنے سکرپٹ والی فائل سنیئراداکار کی طرف بڑھادی۔
’’بیٹا! تمہارا پہلے کوئی ڈرامہ آن ایئر ہوا ہے؟‘‘ سنیئر اداکار نے پوچھا اور رمیض کے اسکرپٹ والی فائل رمیض کی طرف واپس دھکیل دی۔
’’جی ابھی تک تو کوئی نہیں ہوا۔‘‘ ر میض تھوڑا سا مایوس ہوا۔
’’یعنی تم بالکل نئے ہو۔‘‘
’’جی‘ ابھی تک تو نیا ہوں اگرچانس مل گیاتو پرانا بھی ہوجائوں گا۔ اب گھربیٹھے بیٹھے تومیں پرانا نہیں ہوسکتا۔‘‘ رمیض بولا۔
’’بیٹا میرے سیریل میگا پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ میرے سیریل میں سپراسٹار کاسٹ ہوتے ہیں۔ میرے سیریل کابجٹ کروڑوں میں ہوتاہے۔ اس لیے میں نئے رائٹر کارسک نہیں لے سکتا۔ ‘‘
’’لیکن سر چند دن پہلے میں نے آپ کاایک ٹی وی چینل پرانٹرویو دیکھاتھا اس میں تو آپ نئے رائٹرز کی تلاش کی باتیں کررہے تھے۔ انڈین ڈراموں کی مقبولیت کواپنے ڈراے کی اسکرپٹ کی کمزوری بتارہے تھے۔ آپ کہہ رہے تھے پرانے رائٹرز کے پاس اب نئے آئیڈیاز نہیں ہیں اس لیے نئے رائٹرز کوتلاش کیا جائے۔‘‘
’’بیٹا اس طرح کی باتیں کرکے ذر امیڈیا میں واہ واہ ہوجاتی ہے‘ خاص کرانڈیا کے خلاف بات کریں تو الیکٹرانک میڈیااور پرنٹ میڈیا زیادہ کوریج دیتاہے۔‘‘
’’تواس کامطلب ہے آپ بھی روایتی پروڈیوسر ہیں اور نئے رائٹرز کوچانس دینے کے حق میں نہیں ہیں۔‘‘ رمیض سنیئر اداکار پروڈیوسر کی باتیں سن کردنگ رہ گیا۔
’’کیاکریں برخوردار یہ شوبز کی دنیا ہے یہاں کام سے زیادہ نام چلتا ہے۔‘‘
’’بڑا نام چاہے گھسا پٹا اسکرپٹ دے دے آپ قبول کرلیں گے؟‘‘
’’یہ شوبز ہے کہا نا یہاں کام سے زیادہ نام چلتاہے۔‘‘
’’میں تو آپ کاانٹرویو ٹی وی پر دیکھ کرآپ سے امید لگا کرآپ کے پاس آگیاتھا مجھے نہیں پتہ تھا شوبز والے بھی سیاستدانوں کی طرح… آگے رمیض نے جان بوجھ کر اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیااور اپنی اسکرپٹ والی فائل پکڑ کر دفتر سے باہر آگیا۔ اس سنیئر اداکار کے دل میں جو اس کی عزت کامینار بناہواتھا آج وہ دھڑام سے نیچے آگراتھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی لوگوں کے قول وفعل میں اتنا تضاد ہوسکتاہے۔
؟ …؟ …؟
آج سنڈے تھا ہاکر اس کے گھر اخبار صبح صبح ہی پھینک گیاتھا۔ رمیض نے اخبار کی سرخیوں پر سرسری سی نظر ماری‘اخبار سیاستدانوں کے جھوٹے سچے بیانوں سے بھراپڑاتھا بلکہ یہ کہنا چاہیے جھوٹے بیانوں سے بھراہواتھا۔ رمیض کو سیاست سے بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی۔ رمیض نے اخباروں کی سرخیوں کودیکھ کر اخبار ایک طرف رکھ دیا۔ اخبار کے ساتھ سنڈے میگزین بھی تھا۔ رمیض اب میگزین کی ورق گردانی کرنے لگا۔ سنڈے میگزین میں ایک فلم پروڈیوسر کاانٹرویو تھا۔ یہ فلم پروڈیوسر درجنوںسپرہٹ فلمیں بناچکاتھا‘ لیکن اس کی آخری چار فلمیں فلاپ ہوگئی تھیں اور اس فلم پروڈیوسر نے بھی رائٹرز کی کمی کارونا رویاتھا۔ اس نے بھی کہاتھا اب ہم کونئے رائٹرز تلاش کرناچاہیے۔ فیشن کے طورپر نئے رائٹرز کوتلاش کرنے کی بات توہر کوئی کرتاہے لیکن اس پرعمل کوئی نہیں کرتا۔ نئے رائٹرز پررسک کوئی نہیں لیتا حالانکہ آج کل کے جو مشہور رائٹرز ہیں وہ بھی تو کبھی نئے تھے۔ ان کوکام ملاتووہ پرانے ہوئے لیکن نئے رائٹرز سے پہلاسوال یہی پوچھاجاتاہے آپ کا پہلے کوئی ڈرامہ آن ایئر ہوا۔ جب جواب نفی میں ملتاہے تو نئے رائٹرز کوحیلے بہانے سے ٹال دیا جاتاہے۔
اس فلم پروڈیوسر کی باتیں پڑھ کر رمیض اس سے بھی بڑا متاثر ہوا اس نے اس سے بھی ملنے کاارادہ کرلیا۔ اگلے دن ہی رمیض اپنے اسکرپٹ کی فائل لے کر فلم پروڈیوسر کے دفتر چلاگیا۔ فلم پروڈیوسر کے دفتر کی دیواروں پر اس کی سپرہٹ فلموں کے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ رمیض ان فلمی پوسٹروں میںکھوساگیا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا ایک دن اس کی لکھی ہوئی فلم کا پوسٹر بھی یہاں لگے گا۔
’’سرآپ کابہت نام سناہے‘ میں نے آپ کی پروڈیوس کی ہوئی ساری فلمیں دیکھی ہیں میں بھی ایک رائٹرز ہوں میں اپنے چند اسکرپٹ لے کرآپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔‘‘رمیض نے فلم پروڈیوسر کوڈرتے ڈرتے مخاطب کیاجو ایک شوبز رسالے کوپڑھ رہاتھا۔
’’اچھاتو تم رائٹر ہو پہلے تمہاری لکھی کوئی فلم ریلیز ہوئی ہے۔ کوئی ڈرامہ آن ایئر ہوا ہے؟‘‘ رمیض یہ سوال سن سن کر تنگ آچکاتھا۔ آج بھی اس سے پہلا سوال یہی پوچھا گیاتھا۔
’’نہیں سر ابھی تو میرا کوئی ڈرامہ آن ایئر نہیں ہوااورنہ ہی میری لکھی کوئی فلم ریلیز ہوئی ہے۔‘‘
’’یعنی تم نئے رائٹر ہو؟‘‘
’’جی ابھی تک تونیاہی ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا میں پرانا کب ہوں گا۔‘‘
’’دو تین ڈرامے اور دو تین فلمیں لکھ لوگے تو پرانے ہوجائوگے۔‘‘
’’میں نے تو کافی ساری فلمیں اور کافی سارے ڈراموں کے اسکرپٹ لکھ کر الماری میں رکھے ہوئے ہیں لیکن …‘‘
’’میں تمہاری بات سمجھ گیاہوں برخوردار فلم کروڑوں میں بنتی ہے اور اسکرپٹ فلم یاڈرامے کی بنیاد ہوتاہے‘ اسی لیے ہر کوئی نئے رائٹرز پررسک لینے سے گھبراتا ہے۔‘‘ فلم پروڈیوسر رمیض کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
’’سر! آپ نے جو فلمیں پروڈیوس کی ہیں وہ فلمیں جن رائٹرز نے لکھی ہیں وہ بھی کسی وقت نئے ہوں گے ان کوچانس ملا تو وہ پرانے ہوئے۔‘‘ رمیض نے دلائل دے کرفلم پروڈیوسر کوقائل کرنے کی کوشش کی۔
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن نئے رائٹر سے اسکرپٹ لینابڑے دل گردے کاکام ہے۔‘‘
’’سر ابھی کل اخبار میں آپ کاانٹرویو چھپاہے اس میں آپ نے نئے رائٹرز کوچانس دینے کے حق میں بات کی ہے۔ یہ دیکھئے یہ آپ کاہی انٹرویو ہے نہ۔‘‘ رمیض نے سنڈے میگزین فلم پروڈیوسر کے آگے رکھ دیا۔ جووہ اپنے اسکرپٹ والی فائل میں رکھ کر ساتھ ہی لے آیا تھا۔
’’انٹرویو میں کی گئی ساری باتیں درست تھوڑی ہوتی ہیں۔‘‘
’’اس میں جو باتیں لکھی ہیں وہ آپ نے نہیں کی تھیں؟‘‘
’’کی ہیں لیکن اخبار والے کچھ اپنی طرف سے بھی نمک مرچ لگادیتے ہیں۔‘‘
’’نئے رائٹرز کوچانس دینے والی بات آپ نے نہیں کی؟‘‘ رمیض حیران ہوا۔
’’کی ہوں گی لیکن یہ انٹرویو تو اخبار والوں نے ایک مہینہ پہلے لیاتھا چھاپا اب ہے۔ میں نے کیا باتیں اس وقت کی تھیں اب تو میں بالکل بھول گیاہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر میں ایسے ہی آپ سے امید لگا کر آگیاتھا۔‘‘ رمیض اٹھتے ہوئے بولا۔
’’رمیض اٹھ کرجانے لگا تو ملک کاایک مشہور رائٹر فلم پروڈیوسر کے دفتر میں حاضرہوا اس کے ساتھ اس کاسیکرٹری بھی تھا جس نے چند فائلیں اٹھارکھی تھیں۔
’’آئیے آئیے کاظمی صاحب میں آپ کاہی انتظار کررہاتھا۔‘‘ کاظمی صاحب کود یکھ کر فلم پروڈیوسر اٹھ کرکھڑا ہوگیا جبکہ جب رمیض فلم پروڈیوسر کے دفتر میں داخل ہواتھاتوفلم پروڈیوسر نے رمیض کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیاتھا اور اپنی نظریں شوبز کے رسالے پر ہی مرکوز رکھی تھیں۔
’’ملک صاحب سناہے اب آپ نے ڈرامہ انڈسٹری میں کام کرنے کاارادہ کرلیاہے۔‘‘ کاظمی صاحب کرسی پربیٹھتے ہوئے بولے۔
’’ٹھیک سناہے آپ نے کاظمی صاحب فلموں کاتو آج کل براحال ہے میں نے سوچا کیوںنہ کوئی اچھا ساڈرامہ سیریل ہی بنایاجائے۔‘‘ فلم پروڈیوسر نے جواب دیا۔
’’سر! میرے پاس دوبڑے اچھے ڈرامہ سیریل کے اسکرپٹ بھی لکھے پڑے ہیں اگر آپ پڑھنا چاہیں تو میں لے کرحاضر ہوجائوں گا۔‘‘ رمیض جاتے جاتے رک گیاتھا۔
’’ٹھیک ہے تم اپنانمبر مجھے دے جائو اگر ضرورت پڑی تو تم کوبلالوں گا۔‘‘ فلم پروڈیوسر نے بڑی بے رخی سے جواب دیا۔
’’سرلکھ لیں میرانمبر‘‘ رمیض بڑے پرجوش انداز میں بولا یکدم رمیض کے دل میں ایک امید سی پیداہوگئی کہ ایک بڑے فلم پروڈیوسر نے اس سے نمبر مانگا ہے۔
’’تم نے اپنا وزیٹنگ کارڈ نہیں چھپوایا؟‘‘ فلم پروڈیوسر حیران ہوا۔
’’نہیں سر ابھی تک تو نہیں چھپوایا‘ سوچتاہوں میں کارڈ پر لکھوائوں گا کیا۔‘‘ رمیض بولا۔
’’بھئی بڑے فخر سے لکھوڈرامہ نگار محمد رمیض۔‘‘
’’میں ابھی ڈرامہ نگار نہیں بنا پھراپنے کارڈ پر ڈرامہ نگار کیسے لکھ لوں۔‘‘
’’تم تو کہتے ہو میں نے بہت سے ڈراموں کے اسکرپٹ لکھ کرالماری میں رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
’’لکھ کر ہی رکھے ہوئے ہیں کوئی ان میں آن ایئر نہیں گیا اس لیے مناسب نہیں سمجھتا کہ ابھی اپنے نام کے ساتھ ڈرامہ نگار لکھوں۔‘‘
’’آدمی تو تم مجھے سچے کھرے‘ صاف گواور اصول پسند لگتے ہو۔ ٹھیک ہے اپنانمبر لکھوائو۔‘‘
رمیض نے اپناموبائل نمبر لکھوایا جو فلم پروڈیوسر نے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا او رپھر فلم پروڈیوسر نے اپناوزیٹنگ کارڈ رمیض کودیا جس پرفلم پروڈیوسر کانام جلی حروف میں لکھاہواتھا‘ کارڈ پر ان ایوارڈز کی تصاویر بھی بنی ہوئی تھیں جوفلم پروڈیوسر حاصل کرچکاتھا۔ رمیض نے فلم پروڈیوسر کاکارڈ جیب میں ڈالا تو اس کے دل میں امید کی نئی کونپلیں پھوٹ پڑیں۔ رمیض فلم پروڈیوسر کاکارڈ لے کردفتر سے نکل گیا۔
’’یہ کون تھا ملک صاحب؟‘‘ رمیض دفتر سے نکل گیاتو کاظمی صاحب ‘ملک صاحب سے مخاطب ہوئے۔
’’اس کادعویٰ ہے یہ بھی فلم رائٹر اور ڈرامہ رائٹر ہے اوراس کے پاس بڑے یونیک قسم کے آئیڈیاز ہیں۔‘‘ ملک صاحب کالہجہ کافی تمسخرانہ تھا۔
’’ اس جیسے میںنے بہت سے رائٹر دیکھے ہیں جوبغلوں میں فائلیں دبائے مارے مارے پھرتے ہیں اور ہر کوئی اپنے آپ کومنٹو ہی سمجھتا ہے۔‘‘ کاظمی صاحب بھی رمیض کامذاق اڑانے لگے۔
’’آپ بتائیں لائے ہیں کسی ڈرامہ سیریل کا اسکرپٹ۔‘‘ ملک صاحب نے کاظمی صاحب سے پوچھا۔
’’ملک صاحب میں آج کل بہت بزی ہوں مجھ سے اسکرپٹ لیناہے تو تین چار ماہ تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘
’’تین چار ماہ تک۔‘‘ ملک صاحب نے کاظمی صاحب کاجملہ حیران ہو کردہرایا۔
’’جی ملک صاحب تین چینلز پر میرے ڈرامے چل رہے ہیں اوراس وقت میں تین ڈرامہ سیریل کے اسکرپٹ لکھ رہاہوں‘ تین چار ماہ تک تو میرے پاس بالکل ٹائم نہیں۔‘‘ کاظمی صاحب نے صاف او رکورا جواب ملک صاحب کودے دیا۔
’’تین چار ماہ تک تومیں انتظار نہیں کرسکتا۔‘‘ ملک صاحب کالہجہ بھی تھوڑا سخت ہوگیا۔
’’نہیں کرسکتے تو نہ کریں میں چلتاہوں۔‘‘ کاظمی صاحب اٹھ کرکھڑے ہوگئے۔
’’ان فائلوں میں کیاہے؟‘‘ ملک صاحب نے ان فائلوں کی طرف اشارہ کیا جو ان کاسیکرٹری حنیف پکڑے کھڑاتھا۔
’’ان فائلوں میں بھی اسکرپٹ ہی ہیں یہ میں نے آج ہی مکمل کیے ہیں یہ میںنے باجوہ صاحب کودینے ہیں۔‘‘ کاظمی صاحب نے بتایا۔
’’باجوہ صاحب کاڈرامہ تو آج کل بڑاہٹ جارہاہے سنا ہے بڑی ریٹنگ لے رہاہے۔‘‘ ملک صاحب باجوہ صاحب کانام سن کر تھوڑا مرعوب ہوئے۔
’’آپ ڈرامہ سیریل’’میرے ہمسفر‘‘ کی بات کررہے ہیں۔‘‘ کاظمی نے پوچھا۔
’’جی بالکل’’میرے ہمسفر‘‘ کی ہی بات کررہاہوں۔‘‘
’’وہ بھی میرا ہی لکھا ہوا ہے اس وقت ریٹنگ میں نمبر ون ہے۔‘‘ کاظمی صاحب نے بڑے فخر سے بتایا۔
’’آپ کاوہ ڈرامہ ’’زندگی برباد ہے ‘‘ توبالکل ہی فلاپ گیا۔‘‘ ملک صاحب نے کاظمی صاحب کے غبارے سے ہوانکالنے کی کوشش کی جومیرے ہمسفر کی کامیابی پربڑے خوش ہو رہے تھے۔
’’وہ تو کامیڈی ڈرامہ تھااور عمیرہ احمد کے سپرہٹ ڈرامے’’ زندگی گلزارہے‘‘ کی پیروڈی تھا۔
’’کاظمی صاحب یہ تو آپ کوماننا پڑے گا کہ آپ مزاحیہ اسکرپٹ اچھانہیں لکھ سکتے۔‘‘ ملک صاحب نے جان بوجھ کر کاظمی صاحب کی دکھتی رگ پرہاتھ رکھا۔
’’اب تو اچھا مزاحیہ اسکرپٹ ڈاکٹر یونس بٹ سے نہیں لکھا جارہا۔‘‘ کاظمی صاحب نے اپنے دفاع میں بے تکی دلیل دی۔
’’ڈاکٹر یونس بٹ نے بہت سے ہٹ ڈرامے لکھے ہیں۔‘‘
’’آپ نے مجھ سے مزاحیہ اسکرپٹ لکھواناہے یاسنجیدہ؟‘‘
’’میںنے تو سنجیدہ ہی لکھواناہے۔‘‘
’’پھرآپ کوچار ماہ تک انتظار کرناپڑے گا۔‘‘ کاظمی صاحب نے ملک صاحب کوصاف جواب دے دیا۔
’’واہ مولا‘ تیرے رنگ ہیں کوئی اسکرپٹ دینے کے لیے میرے ترلے منتیں کررہاتھااور کسی کے پاس اسکرپٹ لکھنے کے لیے ٹائم نہیں ہے اور میں اسکرپٹ لینے کے لیے اس کے ترلے کررہاہوں۔‘‘
’’ملک صاحب صبر کرلیں صبرکاپھل میٹھا ہوتاہے۔‘‘ کاظمی صاحب نے یہ جملہ بولا اوران کے دفتر سے باہر نکل گیا۔
کاظمی صاحب جب آپ نے اسکرپٹ ملک صاحب کودینے ہی نہیں تھے تو ان کو گاڑی میں ہی رہنے دیتے۔ ‘‘ کاظمی صاحب کا سیکرٹری عثمان دفتر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے بولا۔
’’عثمان! تم میر اطریقہ واردات نہیں سمجھتے‘ اس طرح کرنے سے پروڈیوسر پررائٹر کارعب پڑتاہے۔ پھروہ رائٹر کومنہ مانگا معاوضہ دینے پرراضی ہوجاتا ہے۔ تم نے دیکھا نہیں ملک صاحب اسکرپٹ لینے کے لیے کتنا تڑپ رہے تھے۔‘‘
’’کاظمی صاحب یہ نہ ہوملک صاحب چار ماہ انتظار نہ کریں اور کسی نئے رائٹر سے اسکرپٹ لے لیں۔ ابھی ملک صاحب کے پاس سے ایک نیا رائٹر ہوکربھی گیاہے۔‘‘ کاظمی صاحب کے سیکرٹری نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’میں شوبز کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی سائیکی بڑی اچھی طرح سمجھتاہوں یہ نامور رائٹر سے گھساپٹا اسکرپٹ لے لیں گے لیکن نئے رائٹر کایونیک قسم کا سکرپٹ بھی ری جیکٹ کردیں گے۔‘‘
’’ہاں کاظمی صاحب آپ کی یہ بات توسوفیصد درست ہے۔‘‘ عثمان نے کاظمی کی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’میرے پاس کئی نئے رائٹر اپنے اسکرپٹ لے کرآتے ہیں میںان کے اسکرپٹ پڑھ کرحیران رہ جاتاہوں‘ ایک سے بڑھ کر ایک اسکرپٹ ہوتا ہے پھریہی اسکرپٹ لے کرجب نیا رائٹر کسی پروڈکشن ہائوس میں جاتاہے تو اس کا اسکرپٹ یہ سوچ کر ری جیکٹ کردیتے ہیں کہ یہ نیا رائٹر ہے‘ اس کے کریڈٹ پر کوئی ہٹ ڈرامہ سیریل نہیں ہے۔ ان لکیر کے فقیر پروڈیوسروں کی وجہ سے مجھ جیسے سنیئر رائٹر کی روزی روٹی چل رہی ہے جونئے رائٹرز پر اعتماد کرنے کوتیار نہیں۔‘‘
دونوں اب چلتے چلتے سڑک پر آگئے تھے جہاں کاظمی صاحب کی کار اک درخت کے نیچے کھڑی تھی۔ اچانک ہی آسمان پرکالے بادل چھاگئے او رتیزبارش شروع ہوگئی۔ کاظمی صاحب اوراس کے سیکرٹری نے گاڑی کے دروازے کھولے اور جلدی جلدی گاڑی کے اندر بیٹھ گئے۔ بارش بہت تیز ہورہی تھی۔ رمیض بھی سڑک کے کنارے کھڑا ویگن کے انتظار میں تھا‘ بارش شروع ہوئی تو رمیض بھی اس درخت کے نیچے آکرکھڑاہوگیا جس کے نیچے کاظمی صاحب کی گاڑی کھڑی تھی۔ بارش بہت تیز تھی جس کی وجہ سے کاظمی صاحب نے اپنے سیکرٹری کوابھی گاڑی اسٹارٹ کرنے سے منع کردیا کیونکہ تیز بارش کی وجہ سے بیس قدم آگے دیکھنامشکل ہورہاتھا۔ اوپر سے سیاہ کالے بادلوں سے آسمان بھرگیاتھا جس کی وجہ سے دوپہر کاوقت بھی شام کاوقت لگ رہاتھا۔ چند مٹ تک تو جس درخت کے نیچے رمیض کھڑاتھا اس درخت نے رمیض کو بارش سے بچائے رکھا لیکن پھر درخت کی شاخوں سے بھی پانی گرنے لگا۔ رمیض کواپنے بھیگنے کا کوئی ڈرنہیں تھا لیکن اس کے ہاتھ میں جو اسکرپٹ والی فائل تھی وہ اس کواپنی جان سے بھی پیاری تھی اس کواپنے اسکرپٹ اپنی جان سے بھی پیارے تھے کیونکہ وہ اسکرپٹ اس نے بڑی محنت سے اور مغز ماری کرکے لکھے تھے۔ اس سے اسکرپٹ کوئی لیتاتو نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ اسکرپٹ اس کے لیے سرمایہ تھے۔ اب درخت کی شاخوں سے پانی بہت زیادہ گرنے لگاتھا‘ رمیض وہ فائل کبھی قمیض کے نیچے کرتاکبھی بغل میں لے لیتا لیکن اب پانی اتنا زیادہ برس رہاتھا کہ فائل کوبھیگنے سے بچانامشکل ہو رہاتھا۔ اگر فائل بھیگ جاتی تو اس کاسارا اسکرپٹ ضائع ہونے کاخدشہ تھا‘ کیونکہ اس اسکرپٹ کی اس نے ابھی تک کوئی فوٹو کاپی بھی ابھی نہیں کروائی تھی یہ اسکرپٹ اس نے چند دن پہلے ہی مکمل کیاتھا‘ بارش کم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھی۔ جب رمیض کومحسوس ہوگیا کہ اب اپنے اسکرپٹ کوبارش سے بچانا اس کے لیے ناممکن ہے تواس نے کاظمی صاحب کی گاڑی کادروازہ کھولااور اندر جاکرپچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کیونکہ گاڑی کی پچھلی سیٹ خالی تھی جبکہ اگلی سیٹ پر کاظمی صاحب اور اس کا سیکرٹری عثمان ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھاتھا جوبارش کم ہونے کاانتظار کررہے تھے۔
’’کون ہو تم بھئی بلااجازت گاڑی میں کیوں گھس آئے ہو؟‘‘ کاظمی صاحب نے گردن گھما کرگاڑی کی پچھلی سیٹ کودیکھا جہاں رمیض بھیگے کپڑوں کی ساتھ بیٹھاتھا لیکن اس نے اپنے اسکرپٹ کو بھیگنے سے ابھی تک بچایاہواتھا۔
’’جی میرا نام رمیض ہے‘ میں ایک رائٹر ہوں‘ میرے پاس میرا اسکرپٹ ہے۔ اسکرپٹ بارش میں بھیگ نہ جائے اس لیے بلااجازت آپ کی گاڑی میں آبیٹھاہوں۔‘‘
’’تم وہی ہو نہ جومیرے آنے سے پہلے ملک صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے؟‘‘
’’جی جی میں وہی ہوں کاظمی صاحب آپ کاتوبڑا نام ہے میر ابھی کسی جگہ اسکرپٹ اپروو کروادیں ساری عمر آپ کااحسان مند رہوں گا۔‘‘ رمیض نے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
’’ٹھیک ہے تم اپنا اسکرپٹ مجھے دے جائو میں کسی جگہ بات کروں گا۔‘‘
رمیض کوامید نہیں تھی اتنی جلدی اس کی امید برآئے گی۔ اس نے اپنے اسکرپٹ والی فائل کاظمی صاحب کودے دی۔
’’مسٹر تم رہتے کہاںہو؟‘‘ کاظمی صاحب نے رمیض سے فائل لیتے ہوئے پوچھا۔
’’میراایڈریس اور میرا فون نمبر فائل کے اندر لکھاہے۔‘‘ رمیض نے خوش ہو کر بتایا۔
اب بارش تھم چکی تھی بارش اتنی زیادہ ہوئی تھی کہ ہرطرف سڑکوں پرپانی ہی پانی نظرآرہاتھا‘ چند منچلے نوجوان گھروں سے نکل کراس پانی میں نہارہے تھے۔ سڑک پر لگے درخت بارش میں دھل کرمزید سرسبز لگ رہے تھے۔ درختوں کاسبز رنگ مزید نکھرگیاتھا۔ رمیض نے کاظمی صاحب کوسلام کیا اور گاڑی سے نکل آیا‘ تو کاظمی صاحب کے سیکرٹری نے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی‘ رمیض نے گاڑی کودھکا لگایا تو گاڑی اسٹارٹ ہوگئی۔
؟ …؟ …؟
’’ہاں بھئی میرے سعادت حسن منٹو میرے منشی پریم چند میرے راجندرسنگھ بیدی آج کل کیا لکھ رہے ہو؟‘‘ رمیض ابھی ابھی اپنے بھیگے ہوئے کپڑے بدل کراپنی رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھاہی تھا کہ اس کابے تکلف دوست مدثر آگیا۔
’’یاران ناموں کے ساتھ تم خلیل الرحمن قمر کانام بھی لے لیتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔‘‘
’’خلیل الرحمن قمر تو ڈرامہ انڈسٹری کانمبر ون اور سب سے مہنگا رائٹر ہے۔ جس کے پیچھے ہر ڈرامہ پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پھرتاہے جبکہ تم ہرپروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے پیچھے پٖھرتے ہو۔‘‘
’’اڑالو میرامذاق ایک دن میرا بھی آئے گا‘ پھرتم نے میرا آٹوگراف لینے کوترسناہے۔‘‘
اودن ڈبا‘ جدوں گھوڑی چڑھیاکبا‘‘
’’یہ کبا تم کو ایک دن گھوڑی چڑھ کر دکھائے گا۔‘‘
’’وہ گھوڑی ابھی پیدا نہیں ہوئی جس پرتم نے چڑھنا ہے۔‘‘مدثر رمیض سے کچھ زیادہ ہی بے تکلف تھا۔
’’آج میں ملک کے مشہور ڈرامہ رائٹر کواپنا اسکرپٹ دے کرآیاہوں۔‘‘ رمیض نے بتایا۔
’’خلیل الرحمن قمر کودے آئے ہو اپنا اسکرپٹ۔‘‘ مدثر نے فوراً اندازہ لگایا۔
’’نہیں کوئی کاظمی صاحب ہیں۔‘‘
’’پورانام تم کوپتہ نہیں ہے اور اپنا اسکرپٹ تم اس کودے آئے ہو اگراس نے تمہارا اسکرپٹ چوری کرلیا توکیا کروگے۔‘‘
’’ایسابھی ہوجاتاہے؟‘‘ ر میض حیران ہوا۔
’’نئے رائٹر کے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوتاہے۔‘‘
’’نہیں کاظمی صاحب مجھے ایسے نہیں لگتے۔‘‘
’’اللہ کرے تمہارا اندازہ درست ہو۔‘‘
؟ …؟ …؟
’’ہاں بھئی عثمان صاحب کیسا لگا تم کونئے رائٹر کا اسکرپٹ؟‘‘ کاظمی صاحب نے رمیض کا اسکرپٹ اپنے سیکرٹری عثمان کو دے دیاتھا تاکہ وہ یہ اسکرپٹ پڑھ کراپنی رائے دے۔
’’رمیض نے اسکرپٹ توبڑے کمال کالکھا ہے بس اس اسکرپٹ میںایک کمی ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ کاظمی صاحب نے حیرت کے سمندر میں گرتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ یہ کہ اس اسکرپٹ پرآپ کانام ہوناچاہیے‘ اگر اس سکرپٹ پر آپ کانام آجائے تو یہ اسکرپٹ چٹکی بجاتے ہی بک جائے گا اوراس اسکپرٹ پربننے والا ڈرامہ سیریل میگاہٹ ہوگا۔ یہ سکرپٹ تو امجد اسلام امجد کے ڈرامے وارث کی یادیں تازہ کردے گا۔‘‘
’’عثمان صاحب آپ زیادہ مبالغے سے کام نہیں لے رہے۔‘‘
’’کاظمی صاحب آپ بھی اسے پڑھیں گے تو آپ بھی میری رائے سے اتفاق کریں گے۔‘‘
’’اچھایہ بات ہے۔‘‘
’’یہ لڑکا نیچرل رائٹر ہے اس میں اچھارائٹر بننے کی قدرتی صلاحیتیں ہیں جوچیز گاڈ گفٹڈ ہوتی ہے اس کاکوئی مقابلہ نہیں ہوتا میری سمجھ سے یہ بات باہرہے کہ اتنا اچھا اسکرپٹ لکھ کر یہ لڑکا دردر ٹھوکریں کھاتا پھررہاہے۔ دنیا کی ہر منڈی میں مال کی کوالٹی چیک کی جاتی ہے جبکہ شوبز واحد ایسی منڈی ہے جس میں مال کی کوالٹی نہیں صرف نام دیکھا جاتاہے۔‘‘
’’عثمان صاحب آپ میرے سیکرٹری ہیں یارمیض کے۔‘‘
’’سیکرٹری تو کاظمی صاحب میں آپ کاہوں لیکن جو حقیقت تھی وہ میں نے بیان کردی۔ مجھے تو اس لڑکے میں بہت بڑا رائٹر نظر آرہاہے۔‘‘
’’یعنی یہ لڑکا ہمارے گٹے گوڈوں میں بیٹھے گا۔‘‘ کاظمی صاحب نے خطرے کی بومحسوس کی۔
’’کاظمی صاحب اچھے ٹیلنٹ کوپرموٹ کرنا چاہیے‘ آپ اس لڑکے کے لیے کچھ کریں۔‘‘
’’اس کامطلب ہے میں اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارلوں۔‘‘
’’اس کواگر ایک چانس مل گیاتو پھریہ لڑکا اپنی جگہ خود بناتا جائے گا‘ اور یہ کام آپ کرسکتے ہیں۔‘‘
’’آبیل مجھے مار یہ کام میں نہیں کرسکتا۔‘‘
کاظمی صاحب کاموبائل بجنے لگا کاظمی صاحب نے نمبر دیکھا رمیض کی کال تھی کاظمی نے موبائل عثمان کوپکڑادیا۔
’’کیاکہوں اس کو؟‘‘ عثمان نے پوچھا۔
’’کہہ دو کاظمی صاحب مصروف ہیں ابھی بات نہیں کرسکتے۔‘‘
عثمان نے کال پک کی تو رمیض السلام علیکم کہنے کے بعد کاظمی صاحب کاپوچھا تو عثمان بولا۔
’’رمیض صاحب کاظمی صاحب اس وقت بہت مصروف ہیں آپ کل بات کیجیے گا میں ان کا سیکرٹری عثمان بول رہاہوں۔‘‘
’’عثمان صاحب میرا اسکرپٹ کیسا لگا آپ کو؟‘‘
’’رمیض صاحب آپ کا سکرپٹ بہت اچھاہے۔ ‘‘عثمان نے اتنابولا تو کاظمی صاحب نے عثمان کوگھور کردیکھا۔
’’میرے اسکرپٹ کے بارے میں کاظمی صاحب نے کسی سے بات کی ؟‘‘
’’آپ کا اسکرپٹ اب اتنابھی اچھا نہیں کہ کسی سے بات کی جائے۔‘‘عثمان نے یہ جملہ دل پرپتھر رکھ کربولا کیونکہ کاظمی صاحب عثمان کومسلسل گھور رہے تھے پھر کاظمی صاحب کے اشارے پرعثمان نے کال منقطع کردی۔
؟ …؟ …؟
رمیض عثمان کاجواب سن کربہت زیادہ مایوس ہوگیا‘اب اس نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا وہ لاہور شہر میں اپنی قسمت آزمانے آیا تھا‘ اصل میں وہ ایک گائوں کا رہائشی تھا‘ یہ مکان اس نے کرائے پر لے رکھاتھا جس کاکرایہ وہ پانچ ہزار روپے ماہانہ ادا کرتاتھا‘اسے رائٹر بننے کاجنون تھا لیکن اس کے ٹیلنٹ کے سامنے بہت سے پتھرگرتے رہتے تھے وہ ان پتھروں سے اپنے لیے کامیابی کاپل نہ بناسکابلکہ یہ سارے پتھراس کے سامنے اس کی ناکامی کی دیوار بن گئے اور پھراس کے لیے اس دیوار کو پھلانگنا بہت مشکل ہوگیا کہتے ہیں مایوسی گناہ ہے لیکن آج رمیض سے یہ گناہ ہوگیاتھااس نے اپنے گائوں واپس جانے کافیصلہ کر لیا تھا۔ رمیض نے اپنامختصر سا سامان سمیٹااور گائوں جانے کی تیاری کرنے لگا۔
’’آج کس پروڈیوسر کے گھر جانے کی تیاری ہے؟‘‘ اچانک ہی مدثرآگیا۔
’’کسی پروڈیوسر کے نہیں میں گائوں واپس جارہاہوں۔‘‘ رمیض نے بیگ کندھے پرلٹکایا جس میں کپڑے کم تھے اور اسکرپٹ زیادہ تھے۔
’’تم جو یہاں نوکری کی تلاش میں تھے اس کاکیاہوگا؟‘‘
’’مدثر صاحب تیرے شہر کے لوگ بڑے ظالم ہیں‘ انہوں نے مجھے نوکری دی اور نہ ہی میرے ٹیلنٹ کی قدر کی اب بہت ہوچکا میرے ساتھ میں واپس گائوں جارہاہوں‘ میرے گائوں میں ایک پرائیویٹ اسکول کھلا ہے وہاں سے مجھے آفر آئی ہے فی الحال بیس ہزار روپے تنخواہ دے رہے ہیں۔‘‘
’’اگریہ بات ہے تو پھر تو میں تجھے نہیں روکوں گا۔‘‘ مدثر رمیض کی نوکری والی بات سن کر لاجواب ہوگیا۔ رمیض نے اپنا بھاری بھرکم بیگ کندھے پر لٹکایااور جانے لگا تو مالک مکان آگیا اس نے آتے ہی کرائے کاتقاضہ کیا رمیض کی جیب سے صرف تین ہزارروپے نکلے دو ہزار روپے اس کومدثر نے دیئے اس طرح پانچ ہزار روپے مکان کاکرایہ پورا ہوا۔ جب رمیض جانے لگا تو ایک ہزار روپے کانوٹ مدثر نے زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا تاکہ وہ اپنے گائوں پہنچ جائے رمیض چلاگیا تواس کے جاتے ہی ایک نیا کرایہ دار آگیا اتفاق سے اس کرائے دار کانام بھی رمیض ہی تھا‘ یہ رمیض نامی لڑکا شہر پڑھنے آیاتھا‘ ایک مہینہ وہ اس مکان میں رہا پھرایک دن اس کاایکسیڈنٹ ہوااور وہ سڑک پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ ایک دن کاظمی صاحب کی گاڑی رمیض کے گھر کے سامنے آکررکی‘ رمیض کے گھر پرتالا لگاہواتھا۔ کاظمی صاحب کی گاڑی کودیکھ کر مالک مکان بھاگابھاگا آیا۔
’’صاحب جی آپ کومکان کرایہ پرچاہیے۔‘‘ مالک مکان نے کاظمی صاحب کی گاڑی کے پاس آتے ہی پوچھا۔
’’اس مکان میں ایک لڑکا رہتاتھا وہ کہاں گیا؟‘‘
’’آپ رمیض کاپوچھ رہے ہیں؟‘‘ مالک مکان نے پوچھا۔
’’جی میں رمیض کاہی پوچھ رہاہوں۔‘‘
’’د س دن پہلے اس کاانتقال ہوگیا۔‘‘
’’کیاہوااسے؟‘ ‘کاظمی صاحب کوایک جھٹکا لگا۔
’’ایکسیڈنٹ موٹر سائیکل پرجارہاتھا ایک ویگن اس کی موٹر سائیکل پر چڑھ گئی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔‘‘
کاظمی صاحب نے اسے وہی رمیض سمجھا جو اس کو اسکرپٹ دے کرگیاتھا‘ کاظمی صاحب نے اب دل ہی دل میں ایک نیا پلان بنالیاتھا آج گھرواپس پہنچتے ہی انہوں نے رمیض کا اسکرپٹ اپنی سیف سے نکال کرپڑھنا شرو ع کردیا۔ کاظمی صاحب جیسے جیسے اسکرپٹ پڑھتے جارہے تھے انہیں اپنے سیکرٹری عثمان کی رائے حرف بحرف سچ لگ رہی تھی۔ اب اس اسکرپٹ کاتخلیق کار ان کی نظر میں اس دنیا میں نہیں تھاکیونکہ رمیض شہر سے جانے کے بعد اتنا بد دل ہواتھا کہ اس نے کاظمی صاحب کودوبارہ کبھی فون بھی نہیں کیاتھا۔ اس لیے کاظمی صاحب کورمیض کی موت کایقین ہوگیاتھا۔ کاظمی صاحب نے رمیض کے اسکرپٹ پر سے رمیض کانام کاٹااس پر اپنانام لکھااور یہ اسکرپٹ ملک صاحب کودے دیا۔ ایک سال کے قلیل عرصے میں یہ اسکرپٹ جس کانام ’’لاوارث‘‘ تھا تیار ہو کر آن ایئر ہونابھی شروع ہوگیا۔ ’’لاوارث‘‘ ڈرامہ سیریل کی کل اقساط چھبیس تھیں اس کی پہلی قسط نے ناظرین کواپنے سحر میں جکڑ لیاتھا‘ اس ڈرامے کے مکالمے اتنے اچھے تھے کہ ہرکوئی ان مکالموں کی تعریف کررہاتھا۔ مدثر نے جب اس ڈرامے کی پہلی قسط دیکھی تواس کاماتھا ٹھنکاتھا‘ کیونکہ اس نے رمیض سے یہ اسکرپٹ لے کرسارا پڑھاہواتھا پھرجیسے جیسے اس کی اقساط آن ایئر ہوتی گئیں تواس کویقین ہوگیایہ تو رمیض کاہی اسکرپٹ ہے۔ جس دن ’’لاوارث‘‘ ڈرامے کی آخری قسط آن ایئر ہونی تھی اس نے رمیض کوفون کیا۔
’’کیسے ہومیرے منٹو؟‘‘ رمیض نے کال پک کی تو مدثر فوراً بولا۔
’’ٹھیک ہوں یار تم سنائو کیسی گزررہی ہے اور آج ڈیڑھ سال بعد مجھے فون کرنے کاخیال تم کوکیسے آگیا؟‘‘
’’یار تم ڈرامہ لاوارث دیکھ رہے ہوریٹنگ کے اعتبار سے نمبر ون جارہاہے۔‘‘
’’جب سے میںنے ڈرامے لکھنے چھوڑے ہیں ڈرامے دیکھنے بھی چھوڑ دیئے۔‘‘
’’لاوارث ڈرامہ تو ضرور دیکھو آج اسکی آخری قسط آن ایئر ہونی ہے۔‘‘ مدثر نے کہا۔
’’اس ڈرامے میں کیا خاص بات ہے؟‘‘
’’بس ہے خاص بات دیکھوگے تو پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’پھربھی کیا خاص بات ہے؟‘‘ رمیض نے اصرار کیا۔
’’یار یہ سارا ڈرامہ سیریل تمہارے اسکرپٹ لاوارث کی کاپی ہے۔ اس کے رائٹر نے اس کانام تبدیل کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔‘‘
’’لاوارث ڈرامہ لکھا کس نے ہے؟‘‘
’’اختر کاظمی صاحب نے۔‘‘
اختر کاظمی صاحب کانام سن کر رمیض کوساری بات سمجھ میں آگئی۔ کیونکہ اس نے کاظمی صاحب کو جو اسکرپٹ دیاتھااس کانام لاوارث ہی تھا پھررمیض نے رات آٹھ بجے لاوارث ڈرامے کی آخری قسط دیکھی تو وہ ہو بہو بالکل اس کالکھاہی سکرپٹ تھا تین ماہ بعد ہی ملک کاسب سے بڑا ایوارڈشوہونے والا تھا جس میں بیسٹ ڈرامہ سیریل رائٹر کے نام سے اختر کاظمی کی نامزدگی بھی شامل تھی۔ رمیض کے ڈرامہ اسکرپٹ کانام لاوارث تھا اور اس کو لاوارث سمجھ کرہی اختر کاظمی اس کا وارث بن گیا تھا۔ پورے پاکستان میں مدثر اور عثمان کے بعد کوئی اور نہیں جانتاتھا کہ اس ڈرامہ سیریل کااصل رائٹر محمد رمیض ہے۔
تین ماہ بعد جب ایوارڈ کی تقریب لاہور میں ہوئی تو مدثر زبردستی رمیض کوگائوں سے لے کرشہر آیا تھا اوراس نے زبردستی رمیض کواس ایوارڈ شو میں شرکت کروائی تاکہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے لیکن رمیض بہت بددل ہوچکاتھا وہ کوئی بات نہیں کرناچاہتاتھا کیونکہ اسے پتہ تھااس کی بات کاکوئی یقین نہیں کرے گا کیونکہ اس فیلڈ میںاختر کاظمی کابڑانام تھا اوررمیض کو ڈرامہ انڈسٹری میں کوئی بھی نہیں جانتاتھا۔
جب بیسٹ ڈرامہ سیریل رائٹر کے لیے اختر کاظمی صاحب کانام پکاراگیاتو سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا‘ سارا ہال تالیاں بجا کر اختر کاظمی کوداد دے رہاتھا۔ اس ہال میں صرف مدثر اور عثمان کے ہاتھ ساکت تھے ان کوپتہ تھا جس ڈرامے کا اسکرپٹ کااخترکاظمی آج وارث بنابیٹھا ہے وہ اسکرپٹ اس کانہیں ہے جیسے ہی اختر کاظمی کے ایوارڈ کااعلان ہوا مدثر نے زبردستی دھکیل کر رمیض کواسٹیج پرپہنچادیا اسٹیج پر رمیض کودیکھ کراختر کاظمی کا رنگ اڑ گیا۔ اسٹیج پر پہنچ کررمیض نے بڑا شور مچایا کہ جس اسکرپٹ پر اختر کاظمی کوایوارڈ دیاجارہاہے وہ اصل میں میرا لکھاہوا ہے ۔ رمیض کی آواز تالیوں کے شور میں دب گئی۔ کسی نے بھی رمیض کی بات کایقین نہ کیا۔ اختر کاظمی تالیوں کے شور میں ایوارڈ وصول کرکے ہال سے نکل گیااس کے بعد بیسٹ ڈرامہ ایکٹر اورایکٹریس کے ایوارڈ دیئے گئے پھر یہ ایوارڈ تقریب اپنے اختتام کوپہنچی لوگ آہستہ آہستہ ہال سے نکل گئے۔ اب سارا ہال خالی ہوچکاتھا‘ رمیض اسٹیج پرکھڑاتھا۔ سارے ہال کی کرسیاں خالی تھیں‘ صرف دو کرسیوں پر مدثر اور عثمان بیٹھے تھے جو رمیض کے کرب کااندازہ لگاسکتے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close