Hijaab Dec-18

مسیحا زندہ ہے

شازیہ فاروق

ملک حیدر ایک سرکاری محکمے میں بطور چپڑاسی کام کرتے تھے‘ دمہ اور ٹی بی جیسی مہلک بیماریوں نے عین بڑھاپے کے وقت ایسا حملہ کیا کہ وہ ریٹائر ہوکر بستر نشین ہوگئے‘ ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم ان کے علاج ومعالجے کی نذر ہوگئی تھی‘ ان کا بیٹا ملک زید حیدر جو ابھی میٹرک میں ہی تھا‘ اس نے گھر کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے لی… ملک حیدر کا بیٹے کو کسی اعلیٰ عہدے پر فائز دیکھنے کا خواب ریزہ ریزہ ہوگیا‘ زید ایک مقامی اخبار کے دفتر سے اخباروں کے بنڈل اپنے والد کی سائیکل پر لادتا اور مختلف گھروں میں دے آتا۔ بعد میں وہ ایک فیکٹری میں کام کرنے چلا جاتا جہاں ماہانہ آٹھ ہزار روپے اسے دیے جاتے۔ زندگی نے اتنے جتن کے باوجود کسی بھی طریقے سے لفظ سہل کو جگہ نہ دی تو اس نے ایک بڑے ہوٹل میں برتن دھونے کا کام شروع کردیا اس ڈیوٹی کو وہ رات کے وقت انجام دیتا۔ سحرش حیدر‘ زید حیدر کی چھوٹی بہن نے مڈل تک تعلیم حاصل کرکے سلائی کا کام سیکھا اور یہی کام کرنے لگی۔
چند سال پہلے ملک حیدر کے بڑے بھائی اور بھابی کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا‘ ان کی اکلوتی بیٹی ثمن کا نکاح زید حیدر سے ہوگیا‘ ثمن تین عدد بیٹیوں کی والدہ محترمہ کے عہدے پر فائز تھیں۔
نسیم حیدر اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے ہر دم دعا گو رہتی تھیں‘ وہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی بیماری کسی پر آشکار نہیں کرتیں کیونکہ زید حیدر پہلے ہی اپنے بابا کی دوائیوں پر اپنی رقم خرچ کررہا تھا۔
’’ثمن… کچھ چاہیے تمہیں؟‘‘ زید حیدر نے اچانک اپنی شریک حیات سے پوچھا تو کپڑے استری کرتے ثمن کے ہاتھ چند پل کے لیے لرزے‘ وہ انجان بن کر پھر کپڑے استری کرنے لگی تو زید حیدر مسکرا کر رہ گیا۔
’’تم سے پوچھ رہا ہوں…‘‘ زید حیدر نے ثمن کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر محبت پاش نظروں سے دیکھا تو ثمن نفی میں سر ہلاگئی۔
’’ایسے کیسے… تم بتائو تو سہی۔‘‘ زید حیدر کچھ ضدی لہجہ اپنا کر بولا تو ثمن دھیرے سے مسکرائی۔
’’سحرش کو دیکھنے اگلے ماہ کچھ لوگ آرہے ہیں تو… ہوسکے تو ایک ڈنرسیٹ لے لیجیے گا۔ برتن خاصے پرانے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ ایسی چھوٹی سی بات پر سحرش کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے۔‘‘ ثمن بولتے ہوئے جیسے کل میں پہنچ گئی جہاں شادی کے بعد اکثر لڑکیوں کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر طعنے دیے جاتے ہیں۔ زید حیدر نے وارفتگی سے ثمن کی چہرے کو دیکھا تھا۔

’’بیٹا… ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی؟‘‘ آج اتوار تھا اور زید حیدر اخبار گھر گھر پہنچا کر واپس آچکا تھا۔ اسے بابا کی طبیعت پچھلے کچھ دنوں سے زیادہ بگڑی ہوئی لگ رہی تھی مگر… پیٹ نے کبھی اجازت نہیں دی کہ ایک چھٹی ہی کرلے۔
’’آپ غفلت کیسے برت سکتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کہ انہیں ہر ہفتے چیک اپ کے لیے اسپتال لانا ضروری ہے‘ آپ نے انہیں نہ لاکر جو غلطی کی ہے اس کے نتیجے میں انہیں اسپتال میں ایڈمٹ کرنا پڑے گا۔‘‘ ڈاکٹر حامد نے زید حیدر کو اپنے کمرے میں بلا کر بتایا تو زید حیدر سکتے میں آگیا۔
ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی اماں انہیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسپتال نہیں لائی ہوں اگر اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو سحرش دے دیتی مگر اب… اس غفلت کے پیچھے کیا سبب تھا یہ تو زید حیدر کو بھی معلوم نہ تھا۔
’’آپ کو میں چند روز کی مہلت دے سکتا ہوں‘ اس کے بعد… میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘ ڈاکٹر حامد کے جواب میں زید حیدر نے انہیں تشکر سے دیکھا تھا۔

’’بیٹا سحرش‘ پرانی طرز کے کپڑے سیتی ہے اور جدید دور کے کپڑوں نے اس کی سلائی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پچھلے دو ماہ سے تو کپڑے آئے ہی نہیں‘ میں نے بہت بار سوچا کہ سحرش کو سلائی کا کورس کرلینا چاہیے‘ بات پھر پیسے پر آکر ختم ہوتی ہے کہ کورس کے لیے پیسے کہاں سے آئیں؟ میں جانتی ہوں سحرش کے جہیز کی لگ بھگ ساری تیاری ہوچکی ہے پھر بھی پیٹ بھرنے کے لیے تو محنت کرنی چاہیے ناں…‘‘ نسیم حیدر نے بیٹے کے سوال کے جواب میں جس حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا اس کے بعد زید حیدر کے پاس اور کسی سوال کی گنجائش ہی نہ رہی تھی۔
اب ایسا بھی نہ تھا کہ سحرش بالکل پرانی طرز کے کپڑے سیتی تھی‘ فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے پاس کسی ڈیزائنر کا لقب نہیں تھا اور آج کی جہاندیدہ خواتین کو ڈیزائنر سے کپڑے لینے کا چسکا بھی تو لگ چکا ہے جس نے نجانے کتنی مجبور درزنوں کے چولہوں کو ٹھنڈا کرادیا ہے۔
ان کے پاس بیٹھ کر وہ مزید شرمندہ نہیں ہونا چاہتا تھا اس لیے جیسے ہی اس کی دونوں بڑی بیٹیاں‘ ندا اور فضہ دادا‘ دادی کے پاس آئیں تو وہ وہاں سے اٹھ کر صحن میں چلا آیا۔ چارپائی پر ٹانگیں پھیلائیں ہی تھیں کہ سوچوں کا لامتناہی سلسلہ پھر سے جڑ گیا۔
’’آگئے آپ…؟‘‘ زید حیدر کی سوچوں کی ڈور ٹوٹی تو اپنے سامنے مسکراتی ہوئی ثمن کو پایا‘ ایک زخمی سی مسکراہٹ زید حیدر کے وجیہہ چہرے پر پھیل گئی۔ زید حیدر نے اٹھ کر ثمن کے ہاتھوں سے اپنی چھوٹی بیٹی ہنزہ کو لیا اور اس کے ماتھے پر شفقت سے بوسہ دیا۔
’’کیسی طبیعت ہے میری پیاری راج دلاری کی؟‘‘ ہنزہ کو پچھلے چند دنوں سے بخار تھا۔
’’اب بہتر ہے… سنیے پچھلے دنوں آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مجھے کیا چاہیے؟‘‘ ثمن‘ زید حیدر کی اندرونی پریشانی کو جانے بنا پوچھنے لگی تو زید حیدر کو یک دم کئی خیالوں نے آن گھیرا۔
’’کیا ثمن مجھ سے کچھ مانگنے والی ہے؟ کیا میں اس کو بتادوں کہ اب میں اس کی کسی خواہش کو پورا نہیں کرسکتا۔‘‘
’’سنیئے…‘‘
’’ہوں…‘‘ ایک بوجھل سانس زید حیدر نے فضا میں خارج کی۔
’’بابا کو نئی شال کی ضرورت ہے۔‘‘ زید حیدر کے ہاتھ میں ہنزہ کا نرم ہاتھ تھا‘ ثمن کی بات سن کر زید حیدر نے بہت آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ثمن کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’بابا کی شال…‘‘
’’ہاں… مگر ابھی وہ قابل استعمال ہے۔‘‘ ثمن کے دوہرانے پر زید حیدر نے الجھتے ہوئے جواب دیا‘ ثمن خفگی بھری نظروں سے گھورنے لگی۔
’’میں نے بابا کی شال دیکھی ہے‘ ابھی وہ درست حالت میں ہے اور چند سال مزید چل…‘‘
’’وہاں دیکھیے… کیا لگتا ہے کتنے سال چلے گی؟‘‘ ثمن کو اپنی بات کے جواب میں زید حیدر کا یوں اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑانا اچھا نہ لگا اس لیے اس کی بات کاٹ کر خاصے طنزیہ انداز میں جواب دیتی اس کی توجہ اس جانب کر گئی جہاں سحرش تار پر ملک حیدر کی شال کو پھیلا چکی تھی۔ زید حیدر تاسف بھرے انداز میں شال کو تکنے لگا۔
’’وہ آپ پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور آپ نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ گھر کے ابتر حالات جاننے کی۔‘‘ ثمن نے شکوہ کیا۔
’’میں… اتنا بے خبر کیوں رہا؟‘‘ زید حیدر کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں… رہ رہ کر اپنی بے خبری پر ندامت ہورہی تھی۔
زید حیدر نے آنسوئوں سے بھری آنکھوں سے بابا کو دیکھا‘ آج ان کے نحیف سے ہاتھوں میں گول ہرے موتیوں والی تسبیح نہ تھی مگر ان کے لب آج بھی رب کے حضور حمد و ثناء میں مصروف تھے۔ اس نے ان کی دعائیں حسب معمول سمیٹ کر صبح کا آغاز کیا تھا۔

’’مسٹر زید… آپ کو پتہ بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ زید حیدر ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں گھر گھر اخبار ڈال کر اس وقت اخبار والوں کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی بات پر منیجر صاحب کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور گزر گئے۔
’’جی سر…‘‘ مختصر جواب دے کر زید حیدر نے جھکے سر کو مزید جھکایا‘ مبادہ اس کی آنکھوں میں لکھی بے بسی کی تحریر کو نہ پڑھ لیا جائے‘ جس نے اسے آج اس موڑ پر لاکھڑا کیا تھا کہ بونس کے طور پر ملنے والی رقم اس کی ضرورت بن گئی تھی۔
’’مسٹر زید… آپ سالانہ بونس لیتے رہے ہیں لیکن اس سال نہ ملنے کی کئی وجوہات ہیں‘ ای میل اور انٹرنیٹ نے جہاں ہمارے کاروبار کو ٹھپ کیا وہیں اخبارات کی شہ سرخیاں بھی پیچھے نہ رہیں‘ مار دھاڑ‘ ڈکیتیاں‘ قتل اور بنت حوا کی مظلوم بیٹی کی داستانیں صبح صبح پڑھ کر آج کے لوگ اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے‘ مہنگائی نے بھی تو کمر توڑ رکھی ہے‘ لوگ اضافی خرچہ اخبار کی نذر کرنے سے کتراتے ہیں۔ صرف مطالعے کے شوقین لوگوں تک اخبار محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔‘‘ منیجر صاحب کی باتیں سن کر زید حیدر کو واقعی شرمندگی کا احساس ہوا‘ اس کا سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔
’’خیر ان باتوں کو لے کر میں اپنا اور آپ کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا‘ چاہیں تو باہر میرے سیکرٹری سے بات کرکے استعفیٰ دے جائیں‘ مجبوروں کی کمی کم از کم اس ملک میں تو نہیں۔‘‘ جھکے سر کے ساتھ ساری باتیں سن کر زید حیدر خاموشی سے باہر نکل گیا تھا۔
’’سچ ہی تو کہہ رہے تھے منیجر صاحب‘ مہینے کا تین ہزار کچھ کم بھی تو نہیں۔‘‘ سڑک پر سائیکل کو تیزی سے چلاتے زید حیدر سے ہمکلام ہوا۔
’’زید تیرے بابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟‘‘ سلیم نے فیکٹری کا کام کرتے ہوئے زید حیدر سے استفسار کیا۔
’’دعا کرو سلیم میری دنیا وآخرت سنور جائے۔‘‘ زید حیدر بھرائی ہوئی آواز میں بولا تو سلیم کو اس کی آواز میں شکستگی محسوس ہوئی۔
’’اللہ رحیم ہے‘ وہ ضرور کوئی سبب پیدا کرے گا۔‘‘ سلیم بھی زید حیدر کی طرح مجبوریوں کا مارا انسان تھا‘ دونوں کے گھریلو حالات کافی حد تک ایک جیسے تھے اور دونوں کو اللہ کی کریم ذات پر کامل بھروسہ تھا۔

’’بہو ان کی طبیعت بگڑتی جارہی ہے‘ انہیں اسپتال کیسے لے جائیں میرے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں۔‘‘ نسیم حیدر نے ثمن کو خاصے گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا‘ جو کافی دیر سے اپنی بیٹیوں کے کپڑے دھو رہی تھی۔
’’اماں اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں‘ زید آنے والے ہیں۔‘‘ ثمن نے دلاسہ دینے کے ساتھ گھڑی پر نظر ڈالی‘ شام کے آٹھ بجنے والے تھے‘ زید حیدر کے آنے میں ابھی وقت تھا مگر پھر بھی انہیں تسلی دی اور انہیں لیے کمرے میں آگئی تھی۔

’’سر یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘ آج کا سورج تو زید حیدر کے لیے کچھ زیادہ ہی پریشانیاں لے کر طلوع ہوا تھا۔ فیکٹری مالکان نے بجلی کا رونا رو کر ہاتھ جھاڑ لیے تھے صرف تنخواہ دے کر ٹرخا دیا گیا تو زید حیدر نے دھیمے لہجے میں سپروائزر سے پوچھا۔
’’دیکھیے زید حیدر‘ اگر ہم دو ماہ فیکٹری بند کردیتے تو آپ کہاں جاتے‘ کام ہو یا نہ ہو‘ بجلی آئے یا جائے آپ لوگ ماہانہ لیتے رہے ہیں‘ دوسری فیکٹریز بند کردی جاتی ہیں جب کام نہ ہو‘ وہاں لوگ بونس اور اضافی رقم کے طور پر ہر سال تنخواہ میں اضافے بھی نہیں کرتے۔ بات وہیں کی وہیں آجاتی ہے کہ وہ لوگ اپنے ورکرز کو دو تین ماہ سڑک پر لاکر چھوڑ دیتے ہیں‘ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں لیکن غریب عوام کے رزق کو ہم چھیننا نہیں چاہتے… سو… آپ جیسے لوگ ہی ہمارا سرمایہ کہلائے جاتے ہیں۔‘‘ سپروائزر صاحب نے خاصے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزدوروں کے کام کو بھی سراہا تو زید حیدر نادم سا ہوگیا۔
’’سوری سر…‘‘ زید حیدر محض یہی الفاظ ادا کر پایا تھا۔ زید حیدر نے آٹھ ہزار کو جیب میں احتیاط سے رکھے اور فیکٹری سے باہر نکل گیا۔
آج اسے ہوٹل کے منیجر سے بھی خاص توقع نہیں تھی کہ وہ اضافی رقم بطور بونس دیں گے کیونکہ صبح سے اب تک کئی مسائل اس کے ذہن ودل میں جگہ بنا چکے تھے۔
’’مسٹر زید… یہ رقم بطور بونس اور… یہ تنخواہ‘ اگلے ماہ سے آپ کو پانچ سو مزید دیا جائے گا۔‘‘ زید حیدر نے مشکور نظروں سے منیجر صاحب کو دیکھا‘ اسے امید نہیں تھی کہ ہوٹل سے اسے تین ہزار تنخواہ کے ساتھ ساتھ تین ہزار اور بھی دیئے جائیں گے‘ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’شکریہ سر… آپ کا… بے حد شکریہ۔‘‘ پہلی مسکراہٹ سال کے جاتے لمحوں پر اس کے لبوں پر سجی تھی۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ منیجر صاحب نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے اپنائیت سے جواب دیا۔ زید حیدر کو لگا ساری تھکن اڑنچھو ہوگئی۔
گھر میں قدم رکھتے ہی سحرش اور ثمن نے ملک حیدر اور نسیم حیدر کی اسپتال روانگی کا بتایا تو الٹے قدموں وہ اسپتال چلا آیا۔ نسیم حیدر نے پیسوں کا انتظام بڑی مشکل سے کیا تھا۔ درد سے دہرے ہوتے ملک حیدر کی حالت زید حیدر کی نظروں میں گھوم رہی تھی۔ کمرے تک پہنچنے تک کئی بار وہ اپنے آنسو پونچھ چکا تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ تیزی سے ابا کی طرف بڑھا۔ نسیم حیدر کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔ بائیں جانب بیڈ پر سیدھے لیٹے ملک حیدر کی آنکھیں بھی اشک بار تھیں۔ ڈاکٹر حامد دروازے پر ساکت سے وجود کے ساتھ کھڑے تھے۔
’’ایک پل کو مجھے لگا کہ میں نے بابا کو… کھو… دیا۔‘‘ چند منٹ بعد زید حیدر کی خوف زدہ سی آواز کمرے میں گونجی۔
ڈاکٹر حامد ایک بیٹے کی اپنے والدین سے اس قدر محبت دیکھ کر مہوت رہ گئے‘ وہ ڈاکٹر تھے کئی بیٹوں کو اپنے والدین کے ساتھ اسپتال کے انہی کمروں میں دیکھ چکے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ والدین قریب المرگ ہوتے تو کچھ بیٹے چہرے پر بیزاری سجائے ان کی تیمار داری کرتے‘ کچھ بیٹے اپنے والدین کے ساتھ نیم رضا مندی کے ساتھ پیش آتے‘ بہت کم اولادیں ڈاکٹر حامد کی نظروں میں ایسی آئی تھیں جو حقیقتاً اپنے والدین کے لیے متفکر تھیں‘ ان کے لیے پریشان تھیں۔ زید حیدر بھی انہی چند خوش نصیب اولادوں میں سے ایک تھا جو والدین کے بچھڑنے کے خیال سے ہی خوف زدہ تھا۔
’’جس انسان کی تجھ جیسی سعادت مند اولاد ہو وہ بھلا اپنی اولاد کو خدمت کا موقع دیئے بغیر مر سکتا ہے؟‘‘ نسیم حیدر نے اپنے بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
نسیم حیدر نے زید حیدر سے آج کے دن کے متعلق سوال کیا تو زید حیدر نے اخبار کے دفتر سے لے کر ہوٹل منیجر تک ساری کہانی انہیں سنا ڈالی‘ ڈاکٹر حامد اب بھی کسی سنگی مجسمے کی مانند دروازے کی چوکھٹ پر ایستادہ تھے۔
’’اماں کتنی خواہشیں تھیں جو ایک ہی ضرب سے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئیں۔ چند دن پہلے میں نے سوچا تھا ایک ڈنر سیٹ لوں گا تاکہ سحرش کو دیکھنے آنے والے لوگ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں‘ ثمن کے بتانے پر پتا چلا بابا کی شال پھٹ چکی ہے‘ مجھے آپ دونوں سے گلہ ہے‘ آپ مجھ سے ہر بات چھپاتے رہے۔ اماں… انسان دوسروں سے امیدیں کیوں وابستہ کرلیتا ہے؟‘‘ نسیم حیدر کی آنکھیں بیٹے کی مجبوریوں پر پھر سے جل تھل ہوگئیں۔ ڈاکٹر حامد خاموشی سے چلے گئے تھے۔

’’مسٹر زید یہ… بابا کے لیے‘ یہ اماں کے لیے اور یہ آپ کے لیے۔‘‘ نئے سال کی صبح خاصی چمک دار‘ روشن اور خوشیوں بھری تھی۔ ڈاکٹر حامد نے زید حیدر کے والدین کو اپنے اماں بابا کی جگہ دے دی اور ان کے لیے ہی نہیں بلکہ زید حیدر کے لیے بھی ایک عدد شال لائے تھے۔
ڈاکٹر حامد نے فیس کی رقم لوٹاتے وقت دس ہزار روپے الگ سے دیئے جنہیں کافی ہچکچاہٹ اور اماں ابا کی رضا مندی کے بعد قبول کر لیا گیا‘ ملک حیدر کا علاج ڈاکٹر حامد نے اپنے ذمہ لیتے ہوئے زید حیدر کو اس ذمہ داری سے بھی آزاد کردیا تھا۔ زید حیدر کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو بے پناہ تشکر سمیٹے ہوئے تھے۔
’’ابھی اس دنیا میں مسیحا زندہ ہیں۔‘‘ زید حیدر نے محبت پاش نظروں سے ڈاکٹر حامد کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close