Hijaab Dec-18

حمد و نعت

ماہرالقادری/کوکب مظہر

حاجت روا بھی تو ہے مشکل کشا بھی تو ہے
خلاق دو جہاں ہے سب کا خدا بھی تو ہے
روز ازل بھی تیرا شام ابد بھی تیری
ہر ابتدا بھی تو ہے پر انتہا بھی تو ہے
دکھ درد میں تجھ ہی کو مولا پکارتے ہیں
ٹوٹے ہوئے دلوں کا ہاں آسرا بھی تو ہے
تیری تجلیوں سے روشن ہیں ماہ و انجم
دنیا کی انجمن میں نور و ضیا بھی تو ہے
ہے چارہ ساز بھی تو اور کار ساز بھی تو
آنکھوں کی روشنی ہے دل کی دوا بھی تو ہے

ماہر القادری

جب نظر کے سامنے روضے کا منظر آئے گا
خود بخود میری زباں پر ذکر سرورؐ آئے گا
دیکھنا ہے سایہ احمدؐ تو دیکھو عرش پر
آسماں کا سایہ آخر کیوں زمین پر آئے گا
مجھ کو نسبت ہے محمدؐ سے‘ نہیں دنیا کا خوف
مجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا
تیرگی کو کاٹ دے گی جنبش نوک قلم
روشنی کے ہاتھ میں کرنوں کا خنجر آئے گا
میں ہوں مداح نبی‘ؐ ممکن نہیں مجھ کو زوال
دیکھنا کس اوج پر میرا مقدر آئے گا
جس کے دل میں آئے گا کوکب محمدؐ کا خیال
بخت کی تاریکیوں میں مثل خاور آئے گا

کوکب مظہر

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close