Aanchal Dec-16

ابو کی پرنسسز

نگہت سیما

خاموش فضا تھی کہیں سایہ بھی نہ تھا
اس شہر میں ہم سا کوئی تنہا بھی نہیں تھا
کس جرم میں چھینی گئی مجھ سے میری ہنسی
میں نے کسی کا دل دکھایا بھی نہیں تھا

وہ اچانک ہی کسی گلی کے موڑ سے نکلی تھی۔ اس کا لباس میلا اور گندا تھا اس کا دوپٹا آدھا کندھے پر اور آدھا زمین پر گھسیٹ رہا تھا۔ اس کے بال یوں بے رنگ اور الجھے ہوئے تھے جیسے مہینوں سے انہیں دھویا نہ گیا ہو نہ کنگھی کی گئی ہو۔ اس کی گھنی پلکیں گرد سے اٹی تھیں ایک پائوں میں ہوائی چپل تھی اور دوسرا پائوں ننگا تھا۔ وہ ہولے ہولے چل رہی تھی کبھی کبھی رک کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتی۔ اس کی آنکھوں میں وحشت تھی اور ایک ابنارمل سی چمک۔ چلتے چلتے وہ پائوں زمین پر اس طرح مارتی جیسے کسی چیز کو جھٹک رہی ہو اس کے رخساروں پر بھی میل کی لکیریں تھیں۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہی تھی یک دم وہ چلتے چلتے رک گئی۔ ایک شاندار گاڑی اس کے پاس سے گزر کر اس کے پیچھے ایک مال کے پارکنگ میں کھڑی ہوگئی تھی۔ اس نے اپنا رخ پارکنگ کی طرف کرلیا تھا۔ اب اس کی پیٹھ سڑک کی طرف تھی اور وہ مال کے پارکنگ کی طرف دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں ایک خالی پن تھا گاڑی سے ایک وجیہہ شخص نکلا تھا۔ وہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے اس کا آدھا چہرہ نظر آرہا تھا اور وہ کھڑکی میں جھکا ڈرائیور سے کچھ کہہ رہا تھا۔
پچھلا دروازہ کھول کر ایک بچہ باہر نکلا تھا چھ سات سال کا بہت پیارا سا بچہ تھا۔ بچے کو دیکھ کر یک دم ہی اس کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔ وہ اسے دیکھتی ہوئی فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ وہ بے حد شاندار مرد بچے کی انگلی پکڑے اندر چلاگیا تھا اور وہ وہاں ہی بیٹھی اس گاڑی کو گھور رہی تھی جس سے ابھی ابھی نکل کر وہ مرد اندر گیا تھا۔ اس کی گدلی آنکھوں میں یک دم پانی بھر گیا تھا۔ پاس سے گزرتے ہوئے ایک شخص نے جھک کر ایک سکہ اس کے قریب فٹ پاتھ پر پھینکا اور آگے بڑھ گیا۔ اب وہ خالی خالی نظروں سے سکے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ شاید کوئی بھکارن تھی۔
/ …/ …/ …/
’’عاشی… عاشی…‘‘ حیدر علی کی آواز پر عائشہ صافی سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کچن سے باہر نکلیں اور حیدر علی کی طرف دیکھا جو لائونج میں کھڑے تھے ان کی آنکھوں میں ایک حیرت بھری مسرت کی چمک تھی اور لبوں پر مسکراہٹ۔
’’کیا ہوا حیدر کیوں بلا رہے تھے؟‘‘
’’عاشی دیکھو ذرا جیا کو کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کیا ہوا اسے؟‘‘ عاشی نے مڑ کر جیا کی طرف دیکھا جو سر اٹھائے ایک ایک قدم اٹھاتی حیدر علی کی طرف آرہی تھی۔
’’دیکھو عاشی اپنی جیا کیسے چل رہی ہے۔ جیسے کوئی پرنسز ہوتی ہے سر اٹھائے وقار سے کسی شہزادی کی طرح۔‘‘ عائشہ کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پھر دو سالہ جیا کی طرف دیکھا۔
’’سب بچے ایسے ہی ہوتے ہیں حیدر۔ ہماری جیا دوسرے بچوں سے مختلف نہیں۔ ردا اور ندا بھی ایسی ہی تھیں دراصل آپ نے ان دونوں کا بچپن نہیں دیکھا۔ کب انہوں نے پہلا لفظ بولا۔ کب پہلا قدم اٹھایا کب چلیں کب پورا جملہ بولا اس لیے آپ کو جیا کی ہر بات حیران کرتی ہے۔‘‘ اور یہ آج کی بات نہیں تھی جب سے وہ پاکستان آئے تھے انہیں رجاء کی ہر بات پر یوں ہی حیرت ہوتی تھی اور وہ یوں ہی خوش ہوتے تھے جب پہلی بار اس نے انہیں بابا کہا تھا تو اس کی حلاوت ان کے اندر تک اتر گئی تھی وہ بار بار اپنی طرف اشارہ کرکے پوچھتے۔
’’میں کون ہوں؟‘‘
’’بابا۔‘‘ وہ کہتی تو وہ اندر تک سرشار ہوجاتے۔ جب پہلی بار اس نے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر ان کے رخسار کو چوما تھا تو اس کے بوسے کا گیلا گیلا لمس وہ کتنے ہی دن محسوس کرتے رہے تھے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے انہوں نے دونوں ہاتھ پھیلائے۔ رجا اس طرح ہولے ہولے چلتی ہوئی ان کے دونوں بازوئوں میں سما گئی تھی۔
’’ابو کی پرنسز۔‘‘ انہوں نے اسے دونوں بازوئوں میں لیتے ہوئے اس کے رخسار پر بوسہ دیا اور مڑ کر عائشہ کی طرف دیکھا۔
’’ہاں شاید تم ٹھیک کہتی ہو لیکن جیا تو میری شہزادی ہے میری پرنسز۔‘‘ عائشہ مدہم مسکراہٹ لبوں پر سجائے واپس کچن میں چلی گئی تھیں اور وہ رجاء کو گود میں اٹھائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔
شادی کے دو سال بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ ردا ان کے جانے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ جب وہ واپس آئے تو ردا پانچ سال کی تھی۔ صرف ایک ماہ رہ کر وہ واپس چلے گئے تھے۔ اپنی شادی کے فوراً بعد زیرا آپا کی شادی پر قرض چڑھ گیا تھا اور پھر والد کی بیماری نے کمر توڑ دی تھی۔ قرض اترنے کے بجائے چڑھتا گیا ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تھا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں۔ یہاں کی محدود تنخواہ میں تو قرض اترنا مشکل تھا۔ سو وہ عاشی کا زیور بیچ کر کسی نہ کسی طرح امریکہ پہنچ گئے تھے۔ پانچ سالوں میں قرض تو اتر گیا تھا لیکن ابا کا علاج جاری تھا۔ مہنگی دوائیاں مہنگا علاج اور پھر وہ اپنے بچوں کے لیے بھی ایک محفوظ مستقبل چاہتے تھے۔ ابھی صرف ایک بچی تھی کل کو مزید بچے بھی ہوجاتے۔ سو وہ عاشی کے اصرار کے باوجود اس کے آنسو نظر انداز کرکے چلے گئے تھے۔ ردا کے بعد ندا کی آمد پر بھی وہ نہیں تھے۔ پانچ سال اور گزر گئے تھے۔ وہ آئے تو ردا دس سال کی اور ندا چار ساڑھے چار سال کی تھی۔ اب کی بار عائشہ بہت روئی تھی۔
’’حیدر میں تنہا ذمہ داریاں سنبھالتے سنبھالتے تھک گئی ہوں۔ قرض اتر گیا ہے۔ دوسری بھی سب سہولتیں ہیں بچیاں اچھے اسکولوں میں ہیں۔ ہم روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کرسکتے ہیں لیکن ہمیں اب آپ کی بہت ضرورت ہے۔‘‘ وہ عاشی کی تکلیف کو سمجھتے تھے یہ بھی جانتے تھے کہ وہ فضول خرچ نہیں اور ان کی بھیجی ہوئی رقم کو بہت احتیاط سے خرچ کرتی ہے اس نے بچت بھی کر رکھی ہے لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ جس طرح ابا کو آپا کی شادی کے لیے ان کی سسرال کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے قرض لینا پڑا تھا انہیں بھی قرض لینا پڑے اور پھر ان کی تو ایک نہیں دو بیٹیاں تھیں۔
’’میں نہیں چاہتا عاشی کہ ہمیں اپنی بچیوں کی شادی کے وقت کوئی مشکل پیش آئے۔ میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں اب کے میں آیا تو پھر تمہیں اکیلا چھوڑ کر واپس نہیں جائوں گا بس آخری بار۔‘‘ وہ عاشی کو تسلی دے کر چلے گئے تھے۔ لیکن ابا کی وفات کے بعد عاشی بالکل اکیلی تھی۔ گھر میں اب کوئی مرد نہیں رہا تھا جب بھی فون پر بات ہوتی عاشی رو پڑتی۔
’’حیدر بچیاں بڑی ہورہی ہیں اور گھر میں کسی مرد کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ابا بیمار تھے چار پائی پر پڑے رہتے تھے لیکن ان کی موجودگی سے بڑا آسرا تھا۔‘‘ اور یہ بات وہ بھی سمجھتے تھے اور انہیں اب واپس وطن آنا ہی تھا۔ وہ باپ کے جنازے کو کندھا تو نہیں دے سکے تھے لیکن انہیں یہ اطمینان تھا کہ انہوں نے ان کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر مہنگے سے مہنگا اسپتال اور پاکستان میں رہ کر یہ ممکن نہ تھا اور اب ابا نہیں رہے تھے عاشی اور بچیاں اکیلی تھیں سو وہ سب کچھ سمیٹ کر پاکستان آگئے تھے۔ تب رجاء صرف دو ماہ کی تھی ان کے سامنے جیسے کسی حیرت کدے کا دروازہ کھل گیا تھا۔ اور جیسے ہر روز سینکڑوں حسرتیں ان کی منتظر ہوتیں۔ وہ ننھی گڑیا ہر لمحہ انہیں حیران کرتی۔ اس کی قلقاریاں اس کا رونا اس کا ہاتھ پائوں مارنا سب ان کے لیے حیران کن تھا وہ بار بار عائشہ کو آواز دے کر اس کی طرف متوجہ کرتے۔ گندمی رنگ اور خوب صورت آنکھوں والی رجاء ان کی پرنسز تھی۔ اپنے ابو کی پرنسز۔ یہ نہیں تھا کہ انہیں ردا اور ندا سے پیار نہیں تھا وہ بھی ان کی جان تھیں لیکن رجاء تو رجاء تھی۔ وہ اپنے ابو کی پرنسز تھی۔
/ …/ …/ …/
دو تین گاڑیاں آگے پیچھے آکر کھڑی ہوگئی تھیں اور ان سے فیشن ایبل خواتین نکل کر اپنے پرس جھلاتی اندر مال کی طرف جارہی تھیں۔ ٹخنوں تک لمبی فراک نما سلیولیس شرٹس پہنے یہ خواتین اسے اچھی نہیں لگی تھیں۔ ان کے آنے سے اس کا ارتکاز ٹوٹ گیا تھا اور وہ سیاہ ہنڈا سٹی بھی جس سے وہ شاندار مرد اتر کر اندر گیا تھا ان کی گاڑیاں کھڑی ہونے کی وجہ سے اب اسے نظر نہیں آرہی تھی۔ اس نے اچک اچک کر اس سیاہ گاڑی کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے نظر نہیں آئی۔ چار انچ اونچی ہیل پہنے دو لڑکیاں ٹک ٹک کرتی ہوئی اس کے پاس سے گزریں اس نے ان کی اونچی ہیل والے جوتوں کی طرف دیکھا اور پھر اپنے ننگے پائوں کی طرف… جس کی ایڑیوں کی پھٹی بوائیوں سے خون رس رہا تھا اور پھر اس سیاہ گاڑی کو دیکھنے کی کوشش کی اور جب وہ نظر نہیں آئی تو گھبرا کر کھڑی ہوگئی اور فٹ پاتھ سے اتر کر تیز تیز چلتی ہوئی پارکنگ کی طرف جانے لگی۔ فٹ پاتھ سے اترتے ہوئے اس کے دوسرے پائوں کی چپل بھی وہیں رہ گئی تھی لیکن اس نے مڑ کر چپل کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ وہ مستجس نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی پھر اسے وہ سیاہ گاڑی نظر آگئی تو وہ تیر کی طرح اس کی طرف بڑھی اور گاڑی پر اس طرح ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی جیسے وہ اس کی حفاظت کررہی ہو اور اب اسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دے گی۔ گن ہاتھوں میں لیے پارکنگ کا چکر لگاتے ہوئے گارڈ نے اسے گاڑی کے پاس کھڑے دیکھا تو تیر کی طرح اس کی طرف لپکا۔
’’ہے… یہاں کیوں کھڑی ہو۔ ہٹو یہاں سے۔‘‘ اس نے نظریں اٹھائیں۔
ان وحشت بھری آنکھوں میں کیا تھا حسرت بے بسی کرب اذیت یا پتا نہیں کیا کہ گارڈ کے لہجے کی درشتی نرمی میں بدل گئی۔
’’بی بی یہاں مت کھڑی ہو۔ صاحب لوگ ناراض ہوں گے۔‘‘ اس نے نظریں جھکالیں اور گاڑی سے ہٹ کر کھڑی ہوگئی اس طرح کہ گاڑی نظروں کے سامنے رہے۔ گارڈ وہاں سے ہٹ کر کہیں اور چلا گیا تھا وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ پھر ہولے ہولے گاڑیوں کے پاس سے گزرتی ہوئی سیڑھیوں کے پاس کھڑی ہوکر سامنے دیکھنے لگی گلاس ڈور کھل بند ہورہے تھے۔
باوردی ملازم ڈور کھولتے اور خواتین اپنے بچوں اور شوہروں کے ساتھ بڑے بڑے شاپنگ بیگ اٹھائے اپنی گاڑیوں کی طرف جارہی تھیں۔ کسی کسی خاتون کا سامان ملازم اٹھا کر گاڑی تک پہنچاتا۔ ادب سے گاڑی کا دروازہ کھولتا۔ خاتون پرس سے کچھ نوٹ نکال کر اسے تھماتیں تو وہ ادب سے سلام کرکے واپس چلا جاتا۔ وہ چند لمحے دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں کی وحشت یکایک جانے کہاں چلی گئی تھیں اب وہاں صرف ملال ودکھ تھا اور کچھ کھو جانے کا احساس۔ پھر اس نے گاڑی سے نظریں ہٹائیں اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ ایک دو تین اور چار سیڑھیاں چڑھ کر اب وہ سامنے شیشے کے دروازوں اور ان کے پیچھے کھڑے گارڈوں کو دیکھ رہی تھی۔ بالکل سامنے والا گلاس ڈور کھلا ایک خاتون اور ایک بچی شاپنگ بیگ اٹھائے باہر نکلیں۔ بچی نے خاتون سے کچھ کہتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیا۔ خاتون نے اس کی طرف دیکھا اور پھر شانے پر لٹکے بیگ سے چھوٹا سا کلچ نکالا اور دس کا ایک نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’نخرے تو دیکھو۔‘‘ خاتون نے بچی سے کہا۔
’’دس روپے کم لگ رہے ہیں اسے۔‘‘ بچی نے جس کی عمر دس گیارہ سال تھی نوٹ اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا جسے اپنے سامنے پھیلائے شاید وہ اپنے ہاتھ کی لکیریں دیکھ رہی تھی وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور ہاتھ نیچے کرلیے۔ نوٹ نیچے گر گیا تھا خاتون اور بچی جاچکی تھیں کچھ دیر وہ یونہی گرے ہوئے نوٹ کو دیکھتی رہی اور اس کی آنکھوں کے رنگ بدلتے رہے کبھی ان میں ایک وحشیانہ سی چمک پیدا ہوجاتی کبھی ملال کے گہرے رنگ جھلکنے لگتے تھے یک دم ہی اس نے کسی خیال سے چونک کر سر اٹھایا اور مڑ کر گاڑی کی طرف دیکھا۔ وہ سیاہ گاڑی اپنی جگہ موجود تھی اس کے سوکھے ہوئے پپڑی زدہ ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری اور آنکھوں میں موجود ملال کے رنگوں پر اطمینان کا رنگ غالب آگیا۔ وہ وہاں سے آگے بڑھی اب وہ ایک گلاس ڈور کے سامنے کھڑی تھی۔ پھر اس کی آنکھوں میں الجھن نظر آئی وہ الجھن سے سب دروازوں کو دیکھنے لگی ایک لائن میں چار پانچ گلاس ڈور تھے کھاڈی ماریہ بی‘ بریزہ‘ وردہ‘ جنید جمشید وہ ایک دروازے کی طرف بڑھتی پھر پیچھے ہٹ جاتی۔ پھر ایک قدم دوسرے دروازے کی طرف اٹھاتی اور پھر پیچھے ہٹ کر الجھن سے سب دروازوں کو دیکھنے لگتی اس کی آنکھوں کی الجھن اور پیشانی کی لکیروں میں اضافہ ہوگیا تھا وہ باری باری ان دروازوں کو کیوں دیکھتی تھی اسے خبر نہیں تھی بس وہ ان دروازوں کو دیکھے جاتی تھی۔ شاید لاشعور میں کہیں اس شاندار مرد اور بچے کو دیکھنے کی خواہش تھی پارکنگ میں گن لیے ٹہلتا گارڈ اسے نظر میں لیے ہوئے تھا جب کچھ دیر دیکھنے کے بعد وہ پھر ایک دروازے کی طرف بڑھی تو اس کا صبر جواب دے گیا۔
’’ہے نیچے اترو یہ بھیک مانگنے کی جگہ نہیں۔‘‘ سیڑھیاں چڑھ کر وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں وہ نوٹ اس طرح زمین پر پڑا تھا اور گارڈ کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
’’یہاں کیا کررہی ہو پھر چلو ہٹو یہاں سے۔‘‘ گارڈ نے گھور کر کہا۔
وہ یہاں کیا کررہی تھی اس کے شعور میں نہیں تھا لیکن وہ یہاں کھڑی تھی کیوں اس کے لاشعور میں یہ خیال تھا کہ گارڈ وہیں کھڑا اسے گھور رہا تھا اور وہ گارڈ کی طرف خوف زدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھی۔
’’رکو پیچھے سیڑھیاں ہیں۔‘‘ گارڈ نے بلند آواز میں کہا لیکن اس کی خوف زدہ نظریں گارڈ پر جمی تھیں وہ سر کے بل پیچھے گری تھی گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ ایک دو گاڑیوں کے ڈرائیور بھی اس کے گرد اکھٹے ہوگئے تھے لیکن وہ فوراً ہی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور متوحش نظروں سے اپنے گرد اکھٹے ہونے والوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنی چوٹ کا احساس نہیں تھا گھبرا کر اس نے اپنا دوپٹا جو نیچے گر گیا تھا اٹھا کر سر پر ڈالا اس طرح کے دوپٹے کا گھونگٹ سا بن گیا تھا جس نے اس کے چہرے کو چھپا لیا تھا۔ جنید جمشید کا دروازہ کھلا اور وہ شاندار مرد ایک ہاتھ میں شاپنگ بیگ اور دوسرے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ تھامے باہر نکلا اور سیڑھیاں اتر کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے وردہ کے سامنے سیڑھیوں کے پاس کھڑے لوگوں پر ایک سرسری سی نظر ڈالی تھی ایک لمحہ کے لیے اس کے قدم جیسے ٹھہر سے گئے تھے۔
’’کوئی پاگل عورت تھی صاحب سیڑھیوں سے گر گئی تھی۔‘‘ پارکنگ کی طرف آتے ایک ڈرائیور نے اسے بتایا تو وہ سر ہلا کر گاڑی کی طرف بڑھا۔ لیکن اس کے قدم جیسے اٹھنے سے انکاری تھے۔ آنکھوں کا حزن بڑھ گیا تھا وہ سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ سارے ڈرائیور آہستہ آہستہ اپنی گاڑیوں کی طرف واپس آگئے تھے اب صرف گارڈ تھا جو ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ یک دم کھڑی ہوئی اور پارکنگ کی اس خالی جگہ کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ کالی گاڑی کھڑی تھی پھر متوحش نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی لیکن اس وقت پارکنگ میں موجود گاڑیوں میں کوئی کالی گاڑی نہ تھی وہ کچھ دیر وہاں ہی کھڑی رہی وہ کالی گاڑی کس کی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔
وہ شاندار مرد جس کی آنکھوں میں بلا کا حزن تھا اور وہ خوشنما آنکھوں والا بچہ کون تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن پھر بھی وہ پارکنگ کی خالی جگہ کو یوں تکتی تھی جیسے اس کی کوئی قیمتی متاع لٹ گئی ہو۔ وہاں کھڑے کھڑے ہی اس کی آنکھوں میں چمک سی لہرائی وحشیانہ سی چمک دیوانگی کا اظہار کرتی چمک۔ وہ مڑ کر سڑک کی طرف دیکھنے لگی۔ سڑک پر ایک کالی گاڑی نظر آئی تو وہ سر پٹ سڑک کی طرف بھاگی۔ گارڈ نے تاسف سے اسے دیکھا۔
’’شاید پاگل ہے بے چاری پگلی۔‘‘ اور وہ پگلی تھی۔
/ …/ …/ …/
اس بھید بھری صبح میں بلا کی اداسی اور خاموشی تھی۔ یا نرسنگ ہاسٹل سے نکل کر تیز تیز چلتی ہوئی اپنے گروپ میں شامل ہوتی قانتہ کو لگی تھی۔ روڈ پر چلتی نرسوں کے ٹولے نے فلیٹ نمبر ۸ کے لان کی طرف دیکھا۔ لیکن خلاف معمول آج لان خالی تھا جب کہ ہر روز یہاں سے گزرتے ہوئے وہ لان چیئر پر بیٹھے شفیق چہرے اور مہربان مسکراہٹ والے شخص کو اخبار پڑھتے دیکھتی تھی اور نیچی سی باڑھ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ چلبلی نرس قانتہ اپنے گروپ سے ذرا سا الگ ہوکر باڑھ پر سے جھانکتے ہوئے اونچی آواز میں سلام کرتی تھی۔
’’السلام علیکم انکل۔‘‘ کی آواز پر وہ اخبار سے نظریں اٹھاتے لبوں پر مدہم سی مسکراہٹ نمودار ہوتی اور آنکھوں میں جیسے شفقت ومحبت کے دریا رواں ہوجاتے اور وہ اتنی ہی بلند آواز میں وعلیکم السلام کہتے ہوئے دعا دیتے۔
’’جیتی رہو بچیو۔ خوش رہو اللہ نصیب اچھا کرے۔‘‘ اور پھر اخبار کی طرف متوجہ ہوجاتے اور اکثر انہوں نے ایک پُرکشش سی لڑکی کو چھوٹا سا بچہ اٹھائے فلیٹ کے دروازے سے باہر نکل کر لان کی طرف آتے دیکھا تھا اور کبھی کبھی اگر وہ کچھ لیٹ ہوجاتیں تو وہ دلکش لڑکی کرسی کے پاس نیچے گھاس پر بیٹھی ہوتی اور وہ چھوٹا سا بچہ لان میں بھاگ رہا ہوتا یا اپنا بڑا سا ٹیڈی بیر اٹھائے اس سے کھیل رہا ہوتا۔ لیکن آج لان خالی تھا۔ قانتہ کے دل پر اداسی کا غبار سا پھیل گیا۔ پتا نہیں کیوں دل جیسے جیتی رہو کی شفقت بھری آواز پر کھل اٹھتا تھا اور سارا دن یہ شفیق آواز اس کی سماعتوں میں رس گھولتی رہتی تھی۔ دعائوں کی بھوکی قانتہ نے پنجوں کے بل اچک کر دیکھا۔ لان خالی تھا فلیٹ کا دروازہ بند تھا اس نے ساتھ والے فلیٹ کے لان پر نظر ڈالی۔ آج وہ بھی خالی تھا۔ عموماً اس وقت ایک ادھیڑ عمر عورت وہاں بیٹھی کبھی چائے پیتی کبھی اخبار پڑھتی نظر آتی تھی سردیوں میں اکثر سوئیٹر بنتی نظر آتی تھی۔ کبھی کبھار وہ چھوٹی سی کین کی باسکٹ میں موتیے کے پھول لیے گجرے بناتی نظر آتی تھی جس کی سوتی پیاری پیاری ساڑھیوں پر وہ تبصرہ کرتی۔ وہ ہنستی کھلکھلاتی ہوئی چلی جاتی تھیں۔ نرسوں کا گروہ آگے نکل گیا تھا۔ قانتہ ابھی تک وہاں ہی پنجوں کے بل کھڑی ہوکر اچک اچک کر لان اور فلیٹ کی لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کو دیکھ رہی تھی۔ موڑ مڑنے سے پہلے اس کی ساتھی نرسوں نے مڑ کر اسے دیکھا اور اشارے سے بلایا تو وہ مایوس ہوکر تیز تیز چلتی ہوئی ان سے جاملی۔ لیکن موڑ مڑنے سے پہلے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا تھا۔ ایگرو فلیٹس کے لان خالی تھے اور دور تک سناٹا تھا اور یہ بھید بھری صبح اپنے اندر نہ جانے کتنے بھید چھپائے ہولے ہولے طلوع ہورہی تھی اور ایگرو فلیٹس کے فلیٹ نمبر 8 میں وہ کارپٹ پر ایسے بیٹھی تھی جیسے کوئی مسافر سب کچھ لٹا کر اسٹیشن پر خالی ہاتھ بیٹھا ہو۔
اس نے سر گھٹنوں پر رکھا ہوا تھا اس کے ریشمی سلکی بال اس کی پشت پر اور اس کے دائیں بائیں بکھرے ہوئے کارپٹ کو چھو رہے تھے اس کی پلکیں مسلسل رونے سے جڑ سی گئی تھیں اور آنکھیں خون رنگ ہورہی تھیں لمحہ لمحہ بعد وہ سر اٹھا کر اِدھر اُدھر خالی نظروں سے دیکھتی تھی اس کی آنکھوں میں اتنی ویرانی اتنا کرب تھا جیسے وہ کسی گہرے دکھ سے نبرد آزما ہو۔ لیکن یہ صرف دکھ نہیں تھا اس پر مایوسی گہری مایوسی کا رنگ غالب تھا وہ وقفے وقفے سے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی ایک تصویر کو دیکھتی… اس تصویر میں وہ اکیلی نہیں تھی ایک وجیہہ مسکراتا ہوا شخص اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اور یہ زارون عباس تھا۔
اس وقت اس کی آنکھوں میں وہی کرب مایوسی اور حسرت تھی جو لطیفہ حدانیہ کی آنکھوں میں اپنے محبوب احمعی کی قبر کی طرف دیکھتے ہوئے جھلکتی تھی وہ ایسی ہی نظروں سے زارون عباس کی طرف دیکھتی تھی جیسے اس نے ابھی ابھی اسے دفنایا ہو اور اب اس کی قبر کے پاس ساری پونجی لٹائے بیٹھی ہو۔ اس نے بیڈ پر لیٹے لیٹے کروٹ بدل کر اسے دیکھا اور پھر بیڈ سے اترنے لگا۔ وہ اب بیڈ سے اتر سکتا تھا حالانکہ وہ اسے بیڈ سے اترتے دیکھ کر خوف زدہ ہوکر اس کی طرف لپکتی تھی اور اسے گود میں اٹھا لیتی تھی لیکن اب وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی اس نے بیڈ سے اتر کر فاتحانہ نظروں سے اس کی پشت کی طرف دیکھا اور پھر ڈولتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ کھلے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی چاکلیٹ رنگ آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔ شریر سی چمک یہ اس کا بیڈ روم تھا اور اس کا دروازہ لائونج میں کھلتا تھا۔ لائونج میں قدم رکھنے کے بعد اس نے پھر مڑ کر اسے دیکھا تھا وہ اس طرح گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی اور اس کے گھنے بالوں نے اس کی پشت کو ڈھانپ رکھا تھا۔ سروس اسپتال کی بیک پر بنے یہ ایگرو فلیٹس خاصے کشادہ تھے۔ دو فلیٹ گرائونڈ فلور پر دو فرسٹ فلور اور دو سیکنڈ فلور پر تھے۔ گرائونڈ فلور کے اس فلیٹ میں دو بیڈ روم اٹیج باتھ روم کے ساتھ خاصے کشادہ تھے لائونج اور ڈرائنگ روم بھی خاصا بڑا تھا۔ وہ کچھ دیر لائونج میں رک کر مین ڈور کی طرف بڑھنے لگا۔ جو ٹی وی لائونج کے اختتام پر چھوٹی سی لابی میں کھلتا تھا ایک جگہ کارپٹ کی شکن سے الجھ کر وہ لڑکھڑایا۔
لیکن پھر دونوں بازو فضا میں پھیلا کر اس نے خود کو سنبھالا اور اپنے سنبھل جانے پر جیسے وہ خود ہی محظوظ ہوکر مسکرایا اور اس کی خوب صورت آنکھوں میں جگنو سے چمکنے لگے۔ اب وہ زیادہ اعتماد سے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر دروازے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دھکیلا اور کچھ دیر دھکیلتا رہا۔ جب اس طرح دھکیلنے سے دروازہ نہ کھلا تو اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑنے لگی اس نے ہاتھ دروازے سے ہٹالیے اب وہ واپس مڑ رہا تھا اس نے لائونج کے وسط میں رک کر بیڈ روم کے کھلے دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ اس طرح گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔ وہ ہولے ہولے چلتا ہوا دروازے تک آیا۔
’’ماما… ماما…‘‘ لیکن اس کی ہلکی سی آواز پر تڑپ اٹھنے والی نے سر نہیں اٹھایا تھا اب اس نے رخ بدلا اور سامنے والے بیڈ روم کی طرف دیکھنے لگا تھا‘ اس بیڈ روم کا دروازہ بھی کھلا تھا اس کے لبوں پر یک دم مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
’’ماما… بابا پاس چلیں۔‘‘ اس نے ذرا سا رخ موڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔ ماما نے اس کی طرف توجہ نہیں دی تو وہ پھر مڑ کر دوسرے بیڈ روم کے کھلے دروازے کی طرف دیکھنے لگا اور لمحہ بھر بعد وہ دوسرے بیڈ روم کی طرف بڑھنے لگا۔ اور اس نے یک دم ہی سر اٹھا کر پیچھے دیکھا وہ بابا کے بیڈ روم کی طرف جارہا تھا اسے جیسے بہت دور سے اس کی آواز آئی تھی کیا اس نے اسے بلایا تھا۔ وہ اسے بابا کے بیڈ روم کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی پتا نہیں کب وہ بیڈ سے اترا تھا۔ شاید اس نے اسے بلایا ہو اور اب اس سے مایوس ہوکر بابا کی طرف اس کی شکایت کرنے جارہا ہو۔ آج کی صبح پچھلی طلوع ہونے والی ساری صبحوں سے کتنی مختلف تھی اس فلیٹ کی ہر صبح زندگی سے کتنی بھرپور ہوتی تھی لیکن آج کی صبح۔ اس نے چاروں اور دیکھا۔ ہر طرف موت کی سی ویرانی چھائی ہوئی تھی جیسے آس پاس کہیں عزرائیل کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی ہو اور کافور کی خوشبو بکھری محسوس ہوتی ہو اور کانوں میں بین کرنے کی آوازیں آتی تھیں۔ ہاں موت ہی تو ہوئی تھی محبت اور وفا کی موت۔ اعتبار اور یقین کی موت۔
رات بارہ بجے سے وہ یونہی بیٹھی تھی اور محبت اس کے اندر بال کھولے بین کرتی تھی اپنی مرگ پر اور کیا محبت بھی مر جاتی ہے۔
ایک بار اس نے بابا سے پوچھا تھا اور بابا نے کہا تھا۔
’’نہیں محبت کبھی نہیں مرتی اگر وہ محبت ہے تو۔‘‘
’’لیکن کبھی کبھی محبتیں مر بھی تو جاتی ہیں بابا جیسے…‘‘ اور وہ چپ کر گئی تھی اور اس کی چپ نے بابا کے چہرے پر زردیاں بکھیردی تھیں۔ وہ جو اس نے نہیں کہا تھا انہوں نے جان لیا تھا ان دنوں زارون عباس کی بے اعتنائی کی وجہ سے وہ ٹوٹ رہی تھی اور بابا زارون عباس کی خاموشی سے گھبرا کر ہارون عباس کو فون کرتے تھے اور ہارون انہیں تسلی دیتا۔
’’بس وہ ذرا لاپروا ہے بابا ورنہ وہ اپنی جیاء سے بہت محبت کرتا ہے۔‘‘
’’لیکن شاید وہ محبت نہیں تھی جو زارون عباس نے اس سے کی تھی۔‘‘ اس نے پھر اپنی اور زارون کی تصویر کی طرف دیکھا اس تصویر کو دیکھ کر ہمیشہ ہی اسے تحفظ کا احساس ہوتا تھا یہ تصویر ہارون عباس نے امریکہ جانے سے پہلے بنائی تھی اس نے پھر مڑ کر دیکھا لائونج خالی تھا وہ بابا کے بیڈ روم میں جاچکا تھا۔ کل کی صبح کتنی روشن اور رنگ بھری تھی ایک بھرپور صبح۔ خوشی کی تتلیاں اس کے اندر رقص کرتی تھیں اور زارون عباس کا تصور اسے گدگداتا تھا اور آنکھیں جگ جگ کرنے لگتی تھیں اس نے نماز پڑھ کر چائے دم کی تھی گیراج سے اخبار اٹھا کر بابا کو دیا تھا اور فیڈر تیار کرکے اپنے بیڈ روم میں آئی تھی وہ آنکھیں کھولے لیٹا تھا اس نے اسے گدگدایا تھا اس کی پیشانی چومی تھی اور اسے فیڈر پکڑا کر واپس کچن میں آکر چائے بنا کر لائونج میں اخبار پڑھتے بابا کو دی تھی اور خود واپس اپنے بیڈ روم میں آکر وارڈ روب سے اس کے کپڑے نکالے تھے۔ ہمیشہ کی طرح اس نے فیڈر خالی کرکے شرارت سے اسے بیڈ پر پھینکا۔ اس نے اسے گھورا پھر وہی حرکت۔ جواب میں وہ کھل کھل کرکے ہنسنے لگا اس نے اسے اٹھا کر اس کے کپڑے تبدیل کئے اور لائونج میں آئی۔ بابا اپنی چائے ختم کرکے لان میں جاچکے تھے وہ صرف اس کی تنہائی کے خیال سے اس کے پاس رہ رہے تھے ورنہ بند فلیٹ میں ان کا دل گھبراتا تھا۔ سو صبح و شام و باہر لان میں جاکر بیٹھ جاتے تھے جب زارون عباس اسے فلیٹ میں چھوڑ کر امریکہ چلا گیا تھا تب سے بابا اس کے پاس ہی رہ رہے تھے۔ حالانکہ پھوپو بابا اماں سب نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ بھلا اس کے بغیر فلیٹ میں اکیلی کیسے رہے گی بہتر ہے کہ جب تک اس کے پیپرز نہیں بنتے اور وہ اسے امریکہ نہیں بلواتا وہ اپنے اماں ابا کے گھر میں ہی رہے لیکن زارون نے منع کردیا تھا اور وہ زارون کی مرضی کے بغیر وہاں جاکر اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’تم میری بیوی ہو اور تمہیں شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر رہنا چاہیے نہ کہ اپنے میکے۔‘‘ اور وہ اس سے بحث نہیں کرسکی تھی اور وہ اس سے بحث کر ہی نہیں سکتی تھی زارون چلا گیا تھا اور بابا اس کے پاس آگئے تھے اماں کے پاس ندا اور اس کا شوہر تھا کبھی کبھار وہ دن میں اس کی طرف چکر لگاتی تھیں لیکن ان کا دل بھی بند فلیٹ میں گھبراتا تھا اور شام کو وہ واپس اپنے گھر چلی جاتی تھیں عون زارون کے جانے کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔ تب اماں بمشکل ایک ماہ اس کے پاس رہی تھیں۔ لیکن جب ندا اور اس کا شوہر کینیڈا چلے گئے تو تب اماں اس کے پاس آئی تھیں لیکن دو ماہ بعد اچانک ہارٹ اٹیک ہوا جو اتنا شدید تھا کہ وہ جانبرنہ ہوسکیں۔ تب بابا نے سمن آباد والے اس کشادہ گھر کا گرائونڈ فلور کرائے پر دے دیا تھا۔
جب کہ فرسٹ فلور میں جس میں پہلے ندا اور اس کا شوہر رہتے تھے اپنا سامان منتقل کرلیا تھا لیکن وہ ہمیشہ کہتے زارون آجائے یا تمہیں بلالے تو میں اپنے گھر چلا جائوں گا لیکن زارون عباس تو جیسے اسے وہاں جاکر بھول ہی گیا تھا۔ ہفتوں بعد کبھی ایک فون آجاتا اور مختصر سی بات کرکے بند ہوجاتا۔ نہ آنے کا ذکر نہ بلانے کی بات۔ بابا اس کے لیے پریشان ہوجاتے تھے لیکن اسے زارون کی محبتوں پر یقین تھا بس کبھی کبھی وہ ڈپریس ہوجاتی تھی تو محبتوں سے اس کا یقین اٹھنے لگتا تھا۔ لیکن اب تو پچھلے چند ہفتوں سے زارون باقاعدگی سے فون کرنے لگا تھا۔ عون عباس سے باتیں کرتا۔ دو تین بار اسکائپ پر بھی اس سے بات کی تھی وہ بہت خوش ہوتا اور دن میں کتنی ہی بار ’’میرے پاپا… میلے پاپا…‘‘ دہراتا تھا۔ وہ عون کو اٹھا کر لان میں آئی اور گھاس پر بیٹھ گئی تھی۔ عون اس کی گود سے نکل کر لان میں اپنی بال سے کھیلنے لگا تھا جب بابا نے اخبار سے نظر ہٹا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’رات دیر سے ہارون کا فون آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اور زارون دو ہفتوں تک آرہے ہیں۔‘‘
’’کیا زارون بھی بابا… کیا ہارون بھائی نے کہا زارون بھی اور پھوپو بھی۔‘‘ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن اس کی آنکھیں زارون کی آمد کا سن کر جگمگا اٹھی اور لو دینے لگی تھیں۔ بابا نے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
’’ہاں زارون بھی اور تمہاری پھوپو بھی۔‘‘
اور یہ صبح اسے تمام صحبوں سے زیادہ روشن اور چمکیلی لگی تھی اس نے ساتھ والے فلیٹ کے لان میں بیٹھی مسز بیگ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا تھا۔ دونوں لان آمنے سامنے تھے درمیان میں چھوٹا سا پیسج تھا سامنے ان کے فلیٹ کا دروازہ تھا جب کہ دائیں طرف مسز بیگ کے فلیٹ کا دروازہ تھا مسز بیگ اس فلیٹ میں اپنے ایک بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتی تھیں۔ جبکہ ایک غیر شادی شدہ بیٹا چند ماہ پہلے ہی امریکہ سے آیا تھا اوپر والے فلیٹوں میں ایک میں ان کا ڈاکٹر بیٹا اور بہو رہتے تھے جب کہ ان کی ایک بیٹی لندن میں اور دوسری فرانس میں تھیں۔ وہ کبھی مسز بیگ کے فلیٹ میں نہیں گئی تھی اور نہ ہی کبھی وہ اس کے فلیٹ میں آئی تھیں۔ یہ ساری معلومات کام کرنے والی ماسی کے ذریعے اسے ملی تھیں۔ مسز بیگ سے اکثر اس کی ملاقات آتے جاتے اس پیسج میں ہوتی تھی وہ عون کا گال تھپتھپاتیں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا۔ ایک دوسرے کی خیریت پوچھی جاتی اور وہ اپنے اپنے لان میں چلی جاتیں۔
کبھی اگر وہ پہلے سے ہی اپنے لان میں موجود ہوتیں تو اسے دیکھ کر ہاتھ ضرور ہلاتیں۔ سفید اور سرمئی بالوں والی مسز بیگ ڈھاکہ اور کلکتہ سے منگوائی ہوئی سوتی ساڑھیاں پہنتی تھیں گلے میں کبھی سفید موتیوں کی مالا یا کبھی گولڈ کی نفیس سی چین ہوتی تھی۔ سردیوں میں وہ دھوپ میں بیٹھ کر اپنے نواسے‘ نواسیوں اور پوتے کے لیے سوئیٹر بنتیں جب کہ ہاتھ سے بنے سوئیٹر کا رواج نہیں رہا تھا لیکن وہ پوری سردیاں خوب صورت رنگوں کے سوئیٹر بنتیں اور گرمیوں میں موتیے کے پھولوں سے گجرے بناتی تھیں۔
بہت نفیس سی مسز بیگ کا سلسلہ نسب بہادر شاہ ظفر سے ملتا تھا۔ کل کی اس روشن صبح میں بھی وہ اپنے سامنے باسکٹ میں موتیے کے پھول رکھے گجرا بنا رہی تھیں اور اس کا جی چاہا تھا کہ وہ ان سے کہے وہ آج اسے بھی پھولوں کا ایک گجرا بنا دیں۔ اس روز جب ندا کی مہندی پر اس نے اپنے جوڑے کے گرد موتیے کا ہار لپیٹا تھا تو وہ بالکل اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا تھا تھوڑا سا جھک کر اس نے خوشبو سونگھی تھی۔
’’وائو یہ خوشبو تو مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ موتیے کی خوشبو۔‘‘ اور اس کے جھک کر سیدھا ہونے کے لمحے تک اس کے دل پر قیامتیں گزر گئی تھیں اس کے بالکل قریب کھڑا زارون عباس اور اس کے کلون کی خوشبو کاش لمحے یہاں ہی ساکت ہوجاتے اور وہ ساری زندگی یوں ہی کھڑی رہتی۔
’’تمہارے بال بہت خوب صورت ہیں۔‘‘ وہ ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’اور تمہاری آنکھیں قیامت برپا کرتی ہیں۔‘‘
’’ہارون کہہ رہا تھا وہ سیٹیں بک کروا کے اطلاع دے گا۔‘‘ بابا نے کہا تو وہ چونک کر عون عباس کو دیکھنے لگی تھی جو اس کی گود میں آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی خوب صورت چاکلیٹ رنگ آنکھیں اور ان پر پلکوں کی جھالریں بالکل زارون عباس کی طرح تھیں۔ زارون کی یاد سے مغلوب ہوکر اس نے عون عباس کی آنکھوں کو چوما تھا۔ جب کبھی وہ عون کی آنکھیں چومتی تو بابا کن اکھیوں سے اسے دیکھتے اور ان کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر جاتی جیسے وہ جانتے ہوں کہ وہ عون عباس کی لمبی پلکوں والی آنکھوں کو بے تحاشا کیوں چومتی ہے اور وہ جھینپ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتی تھی آج بھی بابا اسے مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ وہ نظریں چرا کر باہر دیکھنے لگی تھی۔ جہاں سے ہنستی مسکراتی نرسیں اور لڑکیاں گزر رہی تھیں۔
سامنے سروس اسپتال کی بیک تھی اور ساتھ ہی نرسز ہاسٹل تھا۔ جب کبھی نرسوں کا گروپ صبح کے وقت فلیٹوں کے سامنے والی چوڑی سڑک سے گزرتا تو ایک سانولی سلونی سی دبلی پتلی لڑکی باڑ پر جھک کر بابا کو سلام کرتی تھی تو وہ بہت خوش دلی سے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے دعا دیتے تھے۔
لیکن آج وہ لان میں نہیں تھے اور وہ لڑکی قانتہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتی ہوئی چلی گئی تھی اور اندر عون عباس بند دروازے سے مڑکر اور اسے اس طرح بیٹھا دیکھ کر بابا کے بیڈ روم میں چلا گیا تھا اور اب ان کے بیڈ کے پاس کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔ ان کا ایک بازو بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا اور دوسرا سینے پر رکھا تھا۔ اس نے ان کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
’’بابا… بابا جی اٹھو…‘‘ لیکن اسے بے حد چاہنے والے بابا نے آنکھیں نہیں کھولی تھیں اور نہ ہی ’’میری جان‘ میرا شہزادہ‘‘ کہہ کر اسے اپنے بازوؤں میں لیا تھا۔ اس نے بازو سے ہاتھ اٹھا کر ان کے رخسار پر رکھا۔
’’بابا…بابا…!‘‘
بازو کی طرح ان کا چہرہ بھی سرد تھا۔ اس نے یک دم ہاتھ پیچھے کرلیا۔ وہ ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا تھا۔ میت کی ٹھنڈک سے ناآشنا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں خوف نمودار ہوا تھا۔ وہ بیڈ روم سے نیچے آگیا تھا اور لاؤنج میں ماں کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگیا اور بغیر کسی تکلیف اور وجہ کے منہ پھاڑ کر رونے لگا۔ اس کی خوب صورت آنکھوں میں ڈر اور خوف تھا۔ ایک جھٹکے سے اس نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا پھر پاس پڑے فیڈر کو اور پھر کارپٹ کے پھولوں کو دیکھنے لگی تھی۔ وہ رو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی لیکن اس نے اٹھ کر اسے گود میں لینا تھا اور چپ کروانا تھا اسے اس کا احساس نہیں تھا اسے متوجہ نہ پاکر وہ یونہی روتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔
’’ماما… ماما۔‘‘ وہ جیسے اس کی گود میں گھسنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی جڑی جڑی پلکیں اٹھائیں۔ اسے بھوک لگی ہے۔ اسے دودھ چاہیے ہوگا۔ جبکہ اس کی ماں پر کیا قیامت گزر گئی ہے لیکن اسے بھوک نہیں لگی تھی۔ وہ مڑ کر بابا کے بیڈ روم کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’ماما بابا پاس چلو… بابا سو…‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر رخسار کے نیچے رکھ کر سونے کا اشارہ کیا۔ اس نے اسے گود میں لیا لیکن وہ مچل کر اس کی گود سے نکل گیا اور رونے لگا۔
’’بابا پاس…‘‘ اس نے چونک کر اپنے بکھرے بال سمیٹ کر پیچھے کئے اور جوڑا بنایا۔ عون عباس نے اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھا اور اسے ادراک ہوا کہ اس کی ماں رو رہی ہے۔ وہ رونا بھول کر اپنے منے منے ہاتھ اس کے رخساروں پر پھیرنے لگا۔ اس نے اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگائے۔
بابا رات سے ایک بار بھی اس کے کمرے میں نہیں آئے تھے۔ وہ رات بارہ بجے سے یہاں اپنے بیڈ روم میں کارپٹ پر بیٹھی رو رہی تھی۔ رات بارہ بجے وہ عون کو سلا کر بابا کو دودھ گرم کرکے دینے گئی تھی تو فون کی بیل ہورہی تھی۔ بابا کو گلاس پکڑا کر اس نے فون کا ریسیور اٹھایا تھا۔ ددسری طرف زارون تھا۔
’’زریون آپ…؟‘‘ اس کی آنکھیں لو دینے لگی تھیں اور لہجے میں کھلکھلاہٹ اتر آئی تھی۔
’’کیسے ہیں…؟ کتنے عرصے بعد فون کیا ہے آپ نے۔ آپ کو پتا ہے نا کتنا انتظار رہتا ہے بابا کو مجھے اور اب تو عون کو بھی۔ میرا موبائل خراب ہے نا تو وہ اسکرین پر ہاتھ مار کر پاپا پاپا کرتا رہتا ہے۔ بابا لے کر گئے تھے لیکن ٹھیک نہیں ہوا اور ہاں ہارون بھائی کا فون آیا تھا کہ آپ لوگ ایک دو ہفتوں تک آرہے ہیں تو کب کی سیٹس ملی ہیں۔‘‘ بابا نے دودھ کا گھونٹ بھر کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے۔
’’رجاء حیدر…‘‘ زارون عباس کے لہجے میں بلا کی تلخی تھی۔
’’اپنی تقریر ختم کرو میں تمہارے ساتھ مزید زندگی نہیں گزار سکتا۔ میں نے تمہارے ساتھ شادی کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے۔ میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں تھا رجاء حیدر تنگ آگیا ہوں میں ہر وقت کی باز پرس سے کبھی مما کبھی ہارون ہر وقت عدالت لگائے رکھتے ہیں… میں تمہیں طلاق…‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ زور سے چیخی تھی۔
’’اللہ کے لیے میں ایسا مت کریں… مت کریں۔‘‘ اور بابا نے اس کے ہاتھ سے ریسیور لے لیا تھا۔ ان کے مسکراتے لب بھینچ گئے تھے۔ وہ پتا نہیں زارون سے کیا کہہ رہے تھے اور وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ پوری رات گزر گئی تھی اور اسے اب احساس ہوا تھا کہ بابا اس کے پاس نہیں آئے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ بابا اس کے پاس نہ آئیں اپنی لاڈلی اپنی شہزادی کے پاس اس کے آنسو نہ پونچھیں اسے تسلی نہ دیں۔
اسے یک دم کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔ پورے فلیٹ میں موت کا سا سناٹا تھا کافور کی غیر محسوس سی خوشبو تھی۔ وہ عون عباس کو گود میں اٹھائے تیزی سے بابا کے کمرے میں آئی تھی ان کا دروازہ اسی طرح چوپٹ کھلا تھا جس طرح رات وہ چھوڑ کر آئی تھی۔ وہ بیڈ پر سیدھے لیٹے ہوئے تھے۔ بایاں ہاتھ دل پر رکھا ہوا تھا اور دایاں بیڈ سے نیچے لٹکا ہوا تھا اور چہرے پر جیسے کسی نے ہلدی مل دی تھی۔
’’بابا…!‘‘ بے اختیار جھک کر اس نے ان کا بازو اٹھا کر بیڈ پر رکھنا چاہا۔ موت کی خنکی اس کے اندر اترنے لگی۔
’’نہیں بابا آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔ مجھے اس طرح سے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔‘‘
’’بابا… بابا۔‘‘ وہ چلا رہی تھی اور باہر اپنے لان میں موتیے کے پھول چنتی مسز بیگ کے کانوں میں رونے اور چیخنے کی مدھم آوازیں آئی تھیں انہوں نے ساتھ والے لان میں پڑی خالی کرسی کو دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی باسکٹ ٹیبل پر رکھی اور تیزی سے اس کے لان میں آئی تھی۔ بابا کے بیڈ روم کی کھڑکی لان کی طرف کھلتی تھی۔ اب اس کے رونے کی صاف آواز آرہی تھی۔ انہوں نے زور زور سے شیشے پر ہاتھ مارے تھے۔
’’کیا ہوا… بیٹی دروازہ کھولو۔‘‘ بڑی دیر بعد اس کے ذہن میں دستک کی اور ان کی آواز آئی تھی۔ وہ کھڑکی تک آئی اور شیشہ ہٹایا۔ باہر لان میں مسز بیگ کھڑی تھیں۔
’’دروازہ کھولو بیٹی کیا ہوا؟‘‘ اور وہ ایک روبوٹ کی طرح چلتی ہوئی دروازے تک آئی تھی۔ مسز بیگ کو دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔
’’میرے بابا… مسز بیگ میرے بابا کو کچھ ہوگیا ہے۔‘‘ مسز بیگ تیزی سے اس کے ساتھ بیڈ روم میں آئی تھیں اور کمرے میں داخل ہوتے ہی انہیں کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔ وہ تیزی سے پلٹی اور دروازہ کھول کر اپنے بیٹے کو آوازیں دینے لگی تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا چھوٹا بیٹا اور اوپر سے بڑا ڈاکٹر بیٹا آگیا تھا۔ اس نے ایک نظر میں ہی اندازہ تو کرلیا تھا پھر بھی رسمی طور پر ان کی نبض چیک کی اور پھر مسز بیگ کی طرف دیکھا۔
’’یہ اب نہیں رہے ماما۔‘‘ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔
اس کے سلکی بالوں کا جوڑا کھل گیا تھا۔ خوب صورت آنکھوں میں وحشت تھی۔ اس کا دوپٹا اس کے بائیں کندھے پر لٹک رہا تھا اور آنسو خاموشی سے رخساروں پر پھسل رہے تھے۔ مسز بیگ کی نظریں اپنے چھوٹے بیٹے اعظم پر پڑی تھیں۔ جس کی نظریں اس کے دلکش سراپے میں الجھی ہوئی تھیں۔
مسز بیگ نے ایک تنبہیی نظر اس پر ڈالی اس نے اپنی اب تک کی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا تھا۔ بہت بچپن میں انہوں نے اپنے اس بیٹے کو اپنی بہن کو دے دیا تھا جو اپنے اکلوتے بیٹے کی کم عمری میں ہی موت کے بعد بہت اپ سیٹ رہنے لگی تھیں۔ جب انہوں نے مسز بیگ سے اعظم کو مانگا تو وہ انکار نہ کرسکیں۔ کچھ عرصے پہلے مسز بیگ کی بہن اور بہنوئی کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا تھا لیکن اعظم نے وہاں ہی رہنے کو ترجیح دی تھی البتہ سال دو سال بعد چکر لگاتا تھا۔ اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ مسز بیگ کو اس کی بے باکی پسند نہ آئی تھی۔
’’اعظم گھر جاؤ اور اپنی بھابیوں کو بھیج دو۔‘‘ پھر وہ اس کی طرف بڑھی تھیں۔ اسے گلے لگایا تھا۔ وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
’’بیٹا تمہارے کوئی عزیز رشتہ دار ہیں تو ان کا بتاؤ تاکہ انہیں خبر کردیں۔‘‘ اس کی دو شادی شدہ بہنوں میں سے ایک کینیڈا میں تھی اور ایک کراچی میں۔ اس کا شوہر زارون عباس ہارون عباس اور اس کی اکلوتی پھوپو امریکہ میں تھیں۔
’’اماں جان ان سے فون نمبر لے لیں ان کے رشتے داروں کو انفارم کردیتا ہوں۔‘‘ مسز بیگ کا ڈاکٹر بیٹا سر جھکائے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے بابا کی ڈائری نکال کر مسز بیگ کو دی تھی۔
’’اس میں ردا کے نام سے میری بہن کا نمبر ہے وہ کراچی میں ہے۔ آپ انہیں اطلاع کردیں۔ وہ باقی سب کو اطلاع دے دیں گی۔‘‘ مسز بیگ ڈائری کے صفحات پلٹنے لگیں تو اس کی نظر عون عباس پر پڑی تھی جو بیڈ کے ساتھ کونے میں سہما سا کھڑا تھا۔ وہ عون عباس تھا اس کا اور زارون عباس کا بیٹا جسے زریون عباس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور… اس نے یک دم اسے اپنے دونوں بازوؤں میں بھرلیا۔
’’عون… ہمارے بابا ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم کیسے جیئے گے ان کے بغیر؟‘‘ اسے بازوؤں میں بھینچے وہ ایک بار پھر بلند آواز میں رو رہی تھی۔ مسز بیگ اسے تاسف سے دیکھ رہی تھی۔ وہ رجاء عباس تھی۔ زارون عباس کی چاہت اس کی طلب رجاء عباس‘ زارون عباس کی محبت تھی۔
/ …/ …/ …/
وہ اس بڑے مال کے پارکنگ میں کھڑی متجسس نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ پھر یکایک اس کی نظر گارڈ پر پڑی تو وہ خوف زدہ ہوکر تیزی سے پیچھے ہٹ گئی اور فٹ پاتھ پر آکر کھڑی ہوگئی اور آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ اسی مال کے آس پاس نظر آرہی تھی۔ کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھی نظر آتی اور کسی کالی گاڑی کو دیکھ کر یک دم اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگنے لگتی تھی۔ آج اس کے سر پر دوپٹے کے نام پر ایک دھجی تھی۔ پاؤں ننگے تھے اور اپنے جسم کے گرد اس نے آٹے کا ایک خالی تھیلا لپیٹ رکھا تھا جس میں سے جھڑنے والے آٹے کے زرات اس کے ہاتھوں اور کپڑوں میں لگے تھے۔ چہرے پر بالوں پر بھی زرات نظر آرہے تھے شاید اس نے اسے کسی کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا تھا گویا اسے بے خودی میں بھی اس کے لاشعور میں کہیں جسم کو ڈھاپنے کا خیال تھا۔ وہ گارڈ سے خوف زدہ ہوکر فٹ پاتھ پر کھڑی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔ جب کالے رنگ کی کوئی گاڑی نظر آتی وہ تیزی سے اس کی طرف لپکتی لیکن گاڑی پلک جھپکتے ہی نظروں سے اوجھل ہوجاتی تو وہ مایوس ہوکر واپس فٹ پاتھ پر آکر کھڑی ہوجاتی۔
ایک بار کسی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ تھیلا کہیں گر گیا تو اس نے سر پر رکھی دھجی اپنے سینے پر پھیلالی تھی۔ پھر بھی کسی نہ کسی کی غلیظ نظریں لمحہ بھر کے لیے اس کے سراپے میں الجھ جاتی تھیں تو وہ اپنے آپ میں سمٹ جاتی۔ ایک شکل سے ہی لوفر نظر آنے والا لڑکا اس کے پاس آکر رکا اور کچھ کہا لیکن اس نے سنا نہیں اس کا پورا دھیان اشارے پر رکنے والی گاڑی کی طرف تھا لیکن لڑکے کے پیچھے آنے والے بزرگ نے یقینا سن لیا تھا انہوں نے لاحول پڑھتے ہوئے اسے لعن طعن کی تو اس نے ایک غصیلی نظر بزرگ پر ڈالی اور سڑک کی طرف تکتی اپنے دھیان میں مگن اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تو وہ یک دم اسے دھکا دے کر اس کالی گاڑی کی طرف بھاگی اور اب روڈ پر کھڑی گاڑیوں کی لائن کو دیکھ رہی تھی جس میں ایک نہیں تین چار کالی گاڑیاں تھیں کبھی وہ ایک کی طرف قدم اٹھاتی کبھی دوسری کی طرف یک دم اشارہ کھلا۔ رکی ہوئی گاڑیوں میں حرکت ہوئی تو وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گی۔ گاڑیاں اس کے آس پاس سے گزر رہی تھیں اور وہ خوف زدہ سی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے کھڑی تھی پاس سے گزرتی ایک گاڑی سے کسی نے سر باہر نکال کر اس کی طرف دیکھا۔
’’ہے… پاگل ہو ہٹو یہاں سے مرنا ہے…‘‘ اس نے آنکھیں کھول کر گاڑی والے مرد کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں الجھن نظر آئی۔ پھر یہ الجھن خوف میں بدل گئی۔ گاڑی والے مرد کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں اور وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کررہا ہو۔ دونوں کی نظریں ملیں تو وہ ڈر کر پیچھے مڑی اور بھاگنے لگی۔
’’کوئی پاگل ہے شاید…‘‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون نے تبصرہ کیا۔
’’پاگل… نہیں۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’یہ… یہ تو…‘‘ وہ اسے پہچان چکا تھا۔
ساتھ بیٹھی خاتون اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کون ہے یہ؟‘‘
’’شاید کوئی بھکارن۔‘‘ اس نے سر جھٹک کر پاس بیٹھی خاتون کو جواب دیا لیکن اس کے لبوں پر بڑی پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔ وہ اعظم بیگ تھا جس نے زندگی میں جب بھی جو بھی چاہا حاصل کرلیا اور وہ ایک مجبور اور بے بس لڑکی اس سے بچ کر بھاگ گئی تھی۔ لیکن وہ بھی اعظم بیگ تھا۔ اور آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ کسی لڑکی پر اس کا دل آیا ہو اور اس لڑکی کو وہ اپنی خواب گاہ تک نہ لاسکا ہو۔
اس کی آنکھوں میں ایک چمک نمودار ہوئی ایسی چمک جو شکار کو اپنی دسترس میں دیکھ کر شکاری کی آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اسے یاد آیا کہ دو دن پہلے بھی یہاں سے گزرتے ہوئے اس نے اسے یہاں کھڑے ہوئے دیکھا تھا۔ اس نے کن اکھیوں سے اپنے ساتھ بیٹھی خاتون کو دیکھا۔
’’سوری اماں میں رات ماموں کی طرف نہیں ٹھہر سکوں گا آپ کو چھوڑ کر واپس آجاؤں گا۔‘‘ انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا جس کے پل پل بدلتے مزاج کو وہ آج تک نہ سمجھ پائی تھیں۔ یہ اعظم بیگ تھا ان کا بیٹا۔
/ …/ …/ …/
’’یہ کون ہے ماموں؟‘‘ ہارون عباس نے عائشہ مامی کے ساتھ کھڑی ریڈ فراک والی گڑیا سی بچی کو دیکھا۔
’’یہ…‘‘
حیدر علی نے جو ابھی ابھی زہرہ آپا اور ہارون عباس کو ایئر پورٹ سے لے کر گھر آئے تھے۔ اور اپنی آپا کے اس طرح اجڑ کر اچانک آنے پر افسردہ تھے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں لو دینے لگیں۔ بے اختیار ہاتھ بڑھا کر انہوں نے اسے اپنے قریب کیا۔
’’ارے یہ میری پرنسز ہے۔‘‘
’’پرنسز…‘‘ دس سالہ ہارون عباس نے جو بہت پُرشو ق نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا دہرایا۔
’’لیکن اس کا کراؤن کہاں ہے؟‘‘
’’کراؤن تو کوئن پہنتی ہے۔‘‘
وہ بھی رجاء حیدر تھی بلا کی حاضر جواب حالانکہ ابھی وہ صرف پانچ سال کی تھی۔ حیدر کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
’’لیکن پرنسز بھی تو کراؤن پہنتی ہے۔ بس اس کا کراؤن ذرا چھوٹا ہوتا ہے۔‘‘
’’کیوں ماموں؟‘‘ ہارون عباس کی بے حد خوب صورت سیاہ آنکھوں میں بلا کی شرارت تھی۔
’’تو…‘‘ رجاء حیدر نے بہت نخوت سے اسے دیکھا تھا۔
’’میں وہ اسٹوری والی پرنسز نہیں ہوں۔ میں تو اپنے ابو کی پرنسز ہوں۔‘‘
’’ہاں یہ میری پرنسز ہے۔‘‘ حیدر نے جھک کر اس کی پیشانی چومی اور ایک بازو ہارون کے گرد حمائل کرکے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے رجاء حیدر سے اس کا تعارف کروایا۔
’’یہ ہارون عباس ہے… آپ کا بھائی اور یہ اب یہاں رہے گا آپ کے پاس۔‘‘ اور رجاء حیدر کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔ وہ بہت اشتیاق سے ہارون عباس کو دیکھ رہی تھی۔ رجاء حیدر اور ہارون عباس سے نظریں ہٹا کر حیدر علی نے عائشہ کی طرف دیکھا جو زہرا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ چکی تھی اور زہرا ہولے ہولے کچھ کہہ رہی تھی۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی اور حیدر ایئر پورٹ سے گھر آنے تک دکھ کے جس حصار میں گھرے ہوئے تھے ایک بار پھر اسی فضا میں گھر گئے زہرا نے ایئر پورٹ پر ہی مختصراً انہیں بتایا تھا کہ سعدون عباس نے اسے طلاق دے دی ہے۔
’’آپا آپ زارون کو کیوں نہیں لائیں۔ وہ آپ کے بغیر کیسے رہ سکے گا؟‘‘ ہر بات سے انجان عائشہ نے پوچھا تو ہارون عباس کی آنکھوں میںنمی پھیل گئی۔ نیویارک سے یہاں تک کے سفر میں کتنی ہی بار اس نے زارون عباس کو یاد کرتے ہوئے ماما سے چھپ کر آنسو بہائے تھے۔ کبھی رخ موڑ کر کبھی واش روم میں جا کر اور کبھی آنکھیں بند کرکے سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے چہرے کو اپنی کیپ سے چھپا کر زارون عباس جو اس سے پانچ سال چھوٹا تھا اور جس کی آمد کا اس نے بہت شدت سے انتظار کیا تھا۔
’’دعا کرو میری جان اﷲ تمہارے لیے ایک پیاری سی بہن بھیج دے۔‘‘ جب ماما نے اس سے کہا تھا تو اس نے فوراً ہی نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’بہن نہیں ماما مجھے تو بھائی چاہیے۔‘‘ اسے اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے ساتھی چاہیے تھا وہ اپنے اپارٹمنٹ میں سارا دن اکیلا ہی کھلونوں سے کھیلتا تھا اسکول سے آکر ماما اسے پارک میں بھی کھیلنے نہیں جانے دیتی تھیں۔
’’لیکن میرا جی چاہتا ہے اﷲ مجھے ایک بیٹی دے۔ پتا ہے ہارون عباس بیٹیاں ماؤں کی سہیلیاں ہوتی ہیں اور مائیں اپنے دکھ سکھ بیٹیوں سے ہی تو کہتی ہیں۔‘‘
’’کیا میں آپ کی سہیلی نہیں بن سکتا؟‘‘ اور ماما نے اسے یک دم ہی گود میں لے لیا تھا۔
’’کیوں نہیں تم تو میرے بہت ہی پیارے بیٹے ہو۔ میری سہیلی ہو۔‘‘ لیکن اس نے ان کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ لیے تھے۔ جسے انہوں نے چھپانے کی کوشش کی تھی کہ اﷲ میاں اس کی ماما کے لیے ایک بیٹی بھیج دے۔ لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تھی اﷲ میاں نے زارون کو بھیج دیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور ہر روز زہرا سے پوچھتا تھاکہ وہ کب بڑا ہوگا اور کب اس سے کھیلے گا لیکن وہ ماما کے لیے بھی اداس تھا اور ہر روز سونے سے پہلے دعا کرتا تھا کہ اﷲ میاں جلدی سے اسے ایک بہن دے دے جو ماما کی سہیلی ہو اور ماما اس سے اپنے دکھ سکھ کہیں۔ کیونکہ ماما اس سے اپنے دل کی بات نہیں کہتی تھیں۔ اس نے بے شمار بار انہیں چھپ کر آنسو بہاتے دیکھا تھا لیکن وہ اس کے پوچھنے پر بھی کچھ نہیں بتاتی تھیں پھر بھی اسے لگتا تھا کہ ماما اور پاپا کے درمیان کچھ جھگڑا ہے۔
اگرچہ وہ ساتھ والے اپارٹمنٹ میں رہنے والی بنت کور اور اس کے ہسبینڈ کی طرح اونچی آواز میں لڑتے نہیں تھے۔ ایک دوسرے پر چلاتے نہیں تھے۔ نہ ہی پاپا بوبی کے پاپا کی طرح غصے میں برتن اٹھا اٹھا کر پھینکتے تھے لیکن کہیں کچھ تو غلط تھا جو ماما کی آنکھیں ہر لمحہ بھیگی رہتی تھیں اور پاپا سپاٹ چہرے کے ساتھ سرد مہر نظروں سے انہیں دیکھتے تھے۔ اور یہ تو صرف دو ہفتے پہلے ماما نے اسے بتایا تھا۔ شاید انہوں نے بیٹی سے مایوس ہوکر اسے ہی اپنی سہیلی بنا لیا تھا۔
’’تمہارے پاپا ہمیں ساتھ نہیں رکھنا چاہتے ہانی۔ وہ چاہتے ہیں ہم پاکستان واپس چلے جائیں۔ وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ماما اس کا ہاتھ تھامے رو رہی تھیں۔
’’وہ زارون کو ہم سے چھین لیں گے ہانی۔‘‘
’’زارون کو؟‘‘ وہ ششدر سا ہوگیا تھا۔ ان کے آنسوؤں میں شدت آگئی تھی۔
’’وہ بے شک ہمیں پاکستان بھیج دیں۔ شادی کرلیں لیکن زارون کو ہم سے نہ لیں۔‘‘ اور دس سالہ ہارون عباس اس لمحے یک دم ہی جیسے بڑا ہوگیا تھا۔ اور اس نے بہت محبت سے ان کے آنسو پونچھیں تھے۔ ماما نے اسے اپنی سہیلی مان لیا تھا اور اب اس نے ہی ان کے دکھ سکھ بانٹنے تھے۔
’’ماما ہم زارون کو کسی کو نہیںدیں گے۔‘‘ اس نے انہیں یقین دلایا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ جب سعدون عباس کوئی ارادہ کرلے تو اسے اس کے ارادے سے کوئی بھی باز نہیں رکھ سکتا۔ ایک ہفتہ پہلے وہ اس کا اور ماما کا ٹکٹ لے آئے تھے اور اسی رات ہی انہوں نے طلاق کے پیپرز ان کے حوالے کئے تھے۔
’’میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا لیکن فارینہ طلاق کے بعد ہی مجھ سے شادی کرے گی اس لیے میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔ اپنی اور ہارون کی پیکنگ کرلینا۔ اتوار کو چار بجے تمہاری فلائیٹ ہے۔ میں تمہیں ایئر پورٹ ڈراپ کردوں گا۔‘‘
’’اور زارون پاپا… اس کا ٹکٹ کہاں ہے؟‘‘ وہ زہرا کے ساتھ جڑ کر کھڑا تھا۔
’’زارون تمہارے ساتھ نہیں جائے گا۔‘‘ سعدون عباس کے لہجے میں سختی تھی۔ ’’وہ میرا بیٹا ہے میرے پاس رہے گا۔‘‘ سوئے ہوئے زارون عباس کو سعدون عباس نے محبت سے دیکھا تھا۔ انہیں ہارون عباس سے زیادہ لگاؤ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ اپنی ماں پر گیا تھا۔ سانولی سلونی سحر انگیز آنکھیں… اور زہرا انہیں پہلے دن سے ہی اچھی نہیں لگی تھی وہ سمجھتے تھے کہ زہرا کا اور ان کا کوئی جوڑ نہیں اور ان کے والدین نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اپنی ماں کی شباہت کا حامل ہارون ان کی وہ توجہ حاصل نہ کرسکا جس کا وہ حق دار تھا جب کہ زارون سارے کا سارا سعدون عباس پر گیا تھا۔ ویسی ہی سرخ و سپید رنگت‘ چاکلیٹی رنگ کی بے حد خوشنما آنکھیں‘ ویسے ہی سنہری جھلک دیتے براؤن بال۔ اس نے اپنی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔
’’آپ دوسری شادی کررہے ہیں نا پاپا۔ اور اسٹیپ مدر تو سنڈریلا کی مدر کی طرح ہوتی ہے ظالم۔ وہ زارون کو مارا کرے گی۔‘‘ وہ ساکت بیٹھی ماما کی وکالت کررہا تھا۔ اسے کسی بھی طرح پاپا کو قائل کرنا تھا کہ وہ زارون کو ان کے ساتھ جانے دیں۔ لیکن پاپا نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے غصے سے ماما کو دیکھا تھا۔
’’یہ زہر تم نے بھرا ہے اس کے ذہن میں۔‘‘
’’پاپا پلیز… زارون کو ہمارے ساتھ جانے دیں۔ وہ ماما کے بغیر کیسے رہے گا۔ وہ بہت چھوٹا ہے وہ روئے گا پاپا۔‘‘ اس نے پھر منت کی تھی لیکن پاپا نے اس کی بات نہیں مانی اور نہ ہی ماما کا رونا اور تڑپنا ان کا دل نرم کرسکا تھا۔
’’میں زارون کے بغیر نہیں جاؤں گی سعدون۔‘‘ وہ تڑپی تھی… منت سماجت کی تھی لیکن وہ بھی سعدون عباس تھا اس نے زہرا کی منت سماجت اور آنسوؤں کی پروا نہیں کی تھی۔ فون کے تار کاٹ دیئے تھے تاکہ وہ پولیس کو فون نہ کرسکے اور خود صبح سے شام تک لاؤنج میں بیٹھا رہتا۔ ماما کچھ نہیں کرسکی تھیں اور پاپا نے زارون کو ان سے لے لیا تھا۔
اتور کی صبح زارون سو رہا تھا پاپا انہیں ایئر پورٹ چھوڑ گئے تھے اور پانچ سالہ زارون وہاں ہی نیو یارک میں رہ گیا تھا۔ ماما کو اور اسے جاگنے کے بعد نہ پاکر وہ کتنا رویا ہوگا۔
’’ارے بیٹا آپ ابھی تک کھڑے ہو۔‘‘ حیدر علی کی نظر اچانک ہی اس پر پڑی تھی۔ اس نے چونک کر حیدر علی اور پھر ماما کی طرف دیکھا تھا وہ اپنے ابو کی پرنسز اس کی ماما کی گود میں بیٹھی اپنے منے منے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھ رہی تھی۔ اور اسے ماما کی پانچ سال پرانی کہی گئی بات پر یقین آگیا تھا کہ بیٹیاں ماؤں کی سہیلیاں ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے رجاء حیدر کو اپنے دل کے اندر بہت اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیا تھا۔
’’آپا آپ فکر نہ کریں میں بات کروں گا سعدون عباس سے زارون کے لیے۔ وہ ایسے کیسے اسے چھین سکتا ہے میں اس کے والدین سے بھی بات کرتا ہوں۔‘‘ حیدر انہیں تسلی دے رہے تھے اور وہ کچھ مطمئن ہوکر ان کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا اور حیدر علی نے اپنا ایک بازو اس کے گرد حمائل کرکے اسے اپنے ساتھ لگایا اور کہا۔
’’آپ ہارون کی فکر نہ کریں۔ یہ آج سے میرا بیٹا ہے میرا شہزادہ۔ میں بخوشی اس کی تمام ذمہ داریاں اٹھاؤں گا۔‘‘
گو وہ سعدون عباس کو زارون کے لیے قائل نہیں کرسکے تھے۔ انہوں نے کتنے ہی فون کیے واسطے دیئے۔ ان کے والد سے بات کی لیکن بے فائدہ۔ الٹا سعدون نے ہارون کو چھین لینے کی دھمکی دی تو وہ خاموش ہوگئے لیکن ہارون کو انہوں نے ایک بیٹے کی طرح ہی چاہا۔ اور ہارون عباس نے ان کے بیٹے کی کمی پوری کردی تھی۔ ہارون عباس ان کا بیٹا تھا ان کا شہزادہ۔
/ …/ …/ …/
وہ کارپٹ پر بیٹھی تھی اور اس نے اپنا سر گھٹنوں پر رکھا ہوا تھا اور بازو گھٹنوں کے گرد حمائل کئے ہوئے تھے کبھی کبھی وہ سر اٹھا کر بیڈ پر سوئے ہوئے عون عباس کو بھی دیکھ لیتی تھی۔ بابا کے پاس ان کے بیڈ پر سونا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ ضد کرکے ان کے پاس لیٹ جاتا تھا۔ وہ اسے اپنے کمرے میں لے جانا چاہتی تو وہ ان سے لپٹ جاتا تھا۔
’’بابا کو تنگ نہیں کرو عون۔‘‘ وہ اسے گھورتی۔ ’’چلو… اپنے روم میں۔‘‘ وہ ان کی بغل میں منہ چھپا لیتا۔ بابا مسکرا کر اسے دیکھتے۔
’’رہنے دو میرے پاس ہی سوجائے گا۔‘‘
’’آپ کو تنگ کرے گا بابا۔‘‘
’’میں نہیں تنگ ہوتا۔‘‘ بابا اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتے۔
’’یہ تو میرا شہزادہ ہے میرا راجا بیٹا۔‘‘ اور آج وہ بابا کے بیڈ پر سونے کے لیے تیار ہی نہیں تھا بس اس کی گود میں گھسا جا رہا تھا اور وہ اسے اپنے کمرے میں خوف محسوس ہورہا تھا۔ سو شام گہری ہوتے ہی وہ بابا کے کمرے میں آگئی تھی۔ لاؤنج‘ کچن‘ گیراج سب کی لائٹیں جل رہی تھیں پھر بھی اسے ڈر لگ رہا تھا بابا کے بعد آج پہلی رات تھی جب وہ یہاں اس گھر میں اکیلی تھی۔ آج صبح ہی ردا واپس کراچی چلی گئی تھی۔ بابا کو اس دنیا سے رخصت ہوئے صرف چند دن ہوئے تھے چھ دن جیسے چھ صدیاں۔
’’آپی پلیز مجھے اس طرح اکیلا چھوڑ کر مت جائیں۔‘‘ وہ رو پڑی تھی۔ ردا نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا۔
’’خالد بہت خفا ہورہے ہیں اتنے دن بھی میں ضد کرکے رہی ہوں۔ وہ تو جنازے کے بعد مجھے بھی ساتھ ہی لے جانا چاہتے تھے تمہیں نہیں پتا وہ اپنے بچوں کے لیے کتنے ٹچی ہیں۔ ان کے پیپرز ہورہے ہیں نا۔ رات بھی خفا ہورہے تھے کہ مجھے بچوں کی پروا نہیں ہے اور یہ کہ وہ آفس سے روز روز چھٹی نہیں کرسکتے۔ چند دن کی بات ہے ہارون بھائی زاورن اور پھوپو آجائیں گے۔‘‘
’’انہیں آنا ہوتا تو اب تک آچکے ہوتے آپی۔‘‘ اس کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ اس نے ردا کو نہیں بتایا تھا کہ اس رات زارون نے اس سے کیا بات کی تھی۔ اور پھر بابا سے اس نے جو کچھ بھی کہا تھا وہ دل میں ہی لیے چلے گئے تھے اور اس نے بابا سے کیا کہا ہوگا وہ صرف اندازہ کرسکتی تھی۔
’’میری جان… میری گڑیا میری مجبوریوں کو سمجھو۔ خالد بہت گرم مزاج ہے۔ ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اور اپنا گھر بچانے کے لیے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ جب اپنے تین جوان ہوتے ہوئے بچوں کی طرف دیکھتی ہوں تو خالد کی غلط بات پر بھی سر جھکا دیتی ہوں۔‘‘ ردا رو رہی تھی۔
’’اور اس کا گھر… پتا نہیں وہ ٹوٹ چکا تھا یا…‘‘ بابا کچھ بتائے بنا ہی چلے گئے تھے۔ اور اس نے ردا کی خاطر اپنے آنسو پونچھ لیے تھے اور دل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی تھی۔
’’ٹھیک ہے آپی آپ چلی جائیں۔‘‘
’’میری بات پھوپو سے ہوئی ہے۔ دراصل زارون کہیں گیا ہوا ہے اور ان کا اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا اور پھوپو زارون کو ساتھ لے کر ہی آنا چاہتی ہیں ورنہ انہیں تمہارا بہت خیال ہے۔‘‘
’’زارون…‘‘ اس کے اندر تلخی سی گھلتی چلی گئی تھی۔ ’’وہ تو اس کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتا تھا وہ تو…‘‘ اس کی آنکھوں میں پھر نمی پھیل گئی تھی۔
’’میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتی رجاء ورنہ پھوپو وغیرہ کے آنے تک میں تمہیں ساتھ ہی لے جاتی کبھی اکیلا نہ چھوڑتی۔‘‘ ردا کی آنکھوں میں پھر سے بے بسی جھلکنے لگی تھی۔
’’وہاں کراچی میں صرف دو کمروں کا فلیٹ ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ خالد چار سال پہلے اپنے بھائی‘ بھابی اور والد سے جھگڑ کر الگ ہوگئے تھے اور پھر یہ فلیٹ لے لیا۔ وہاں تم محفوظ نہیں رہو گی رجاء۔‘‘ ردا کی نظریں جھک گئی تھیں۔
’’میں نے کرائے داروں کو فون کردیا ہے کہ وہ ہمارا گھر خالی کردیں تمہارے لیے وہ گھر بہت محفوظ ہے وہاں آس پاس سب جاننے والے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر پھوپو کو آنے میں دیر ہوجائے تو تم وہاں چلی جانا۔ پتا نہیں مجھے پھوپو پریشان سی لگی۔ میں زارون کی طرف سے کچھ مطمئن نہیں ہوں رجاء… پھر بھی تم زیادہ سے زیادہ ہفتہ بھر انتظار کرو پھر سمن آباد چلی جانا۔ ماسی زیناں سے میں نے بات کرلی ہے وہ رات کو تمہارے پاس آجایا کریں گی۔ میں بھی بچوں کے پیپرز کے فوراً بعد چکر لگاؤں گی۔‘‘
عون سوتے میں کچھ بڑبڑایا تو اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ گہری نیند میں تھا۔ اس نے اٹھ کر ذرا سا پردا سرکایا۔ باہر ابھی ملگجا سا اندھیرا تھا۔ اس نے پوری رات وہاں ہی بیٹھے بیٹھے گزار دی تھی اور بابا اس وقت اٹھ جاتے تھے۔ وہ کیا کرے… اﷲ وہ کیا کرے کہاں جائے اس کی خشک آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ آئی تھی اور اب بابا کے بیڈ پر بیٹھی ان کے تکیے پر ہولے ہولے ہاتھ پھیرتی ہوئی رو رہی تھی۔ اس نے تکیے کو اٹھا کر چہرے سے لگایا۔ بابا کی خوشبو آرہی تھی۔
’’بابا… میرے بابا… میرے ابو۔‘‘ وہ تڑپ رہی تھی رو رہی تھی۔ خشک آنکھوں میں پھر سے پانی کے سوتے پھوٹ پڑے تھے۔ جانے کتنی دیر تک وہ یونہی تکیے میں منہ چھپائے روتی رہی۔ عون عباس کسمسایا تو اس نے اسے تھپکا اور کھڑکی کی طرف دیکھا۔ جس کے شیشوں سے روشنی اندر آرہی تھی۔ باہر سورج نکل آیا تھا اور روڈ پر ہنستی مسکراتی چہلیں کرتی نرسیں گزر رہی تھی اور سب سے آخر میں سر جھکائے آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی قانتہ نورین تھی۔ وہ فلیٹ نمبر آٹھ کے لان کے باہر رک گئی تھی اور باڑ سے جھانک رہی تھی۔
لان ویران پڑا تھا لمحہ بھر وہ یونہی دیکھتی رہی۔ پھر سر اٹھایا تو ساتھ والے لان پر نظر پڑی۔ خوب صورت ساڑھیاں باندھنے والی وہ باوقار خاتون ٹہل رہی تھی۔ اس نے مڑ کر اپنی ساتھی نرسوں کو دیکھا وہ مڑ چکی تھیں۔ لمحہ بھر سوچنے کے بعد وہ دوسرے فلیٹ کے لان کے باہر آئی اور باڑ پر سے جھانکا۔
’’ایکس کیوز می میم!‘‘ مسز بیگ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’یہ…‘‘ اس نے دوسرے لان کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ادھر جو انکل اس وقت بیٹھے ہوتے تھے کیا وہ یہاں سے چلے گئے ہیں؟‘‘
’’ان کی تو چند دن پہلے ڈیتھ ہوگئی ہے۔‘‘ مسز بیگ نے بغور اسے دیکھا۔
’’اوہ…!‘‘ اس کے اندر کن من ہونے لگی تھی۔
’’وہ بچہ اور اس کی ماں… کیا وہ یہاں ہی ہیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ مسز بیگ کی نظروں میں الجھن تھی۔ ’’ان کی بیٹی اور نواسا ابھی تو یہاں ہی ہیں۔ شاید وہ جلد ہی یہاں سے چلے جائیں لیکن آپ…‘‘ اور قانتہ نے ان کی آنکھوں میں لکھی الجھن پڑھتے ہوئے خود ہی اپنے متعلق بتادیا کہ اس کا تو صرف دعا اور سلام کا رشتہ تھا۔ مسز بیگ سر ہلا کر پھر سے چہل قدمی کرنے لگی تھیں۔ وہ بھاری قدموں سے فلیٹ کے مین گیٹ تک آئی اور پھر بیل پر ہاتھ رکھا۔ کچھ دیر بعد جب وہ مایوس ہوکر جانے لگی تو دروازہ کھل گیا۔ اندر موجود لڑکی نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور کپڑے شکن آلود تھے پلکیں بھیگی بھیگی سی تھیں۔ قانتہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔
’’میں انکل کا افسوس کرنے آئی ہوں۔‘‘ اس نے ایک طرف ہوکر اسے راستہ دیا وہ ہولے ہولے چلتی ہوئی لاؤنج میں آئی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’میں قانتہ ہوں… اور نرسنگ ہاسٹل میں رہتی ہوں۔ ہر روز صبح یہاں سے گزرتے ہوئے میں انکل کو دیکھتی تھی۔ جب پہلی بار میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے دعائیں دی تھی۔ مجھے اپنے ماں باپ کے متعلق کچھ علم نہیں شاید میں بہت چھوٹی تھی جب وہ اس دنیا سے گزر گئے تھے۔ پھر کسی عزیز نے مجھے یتیم خانے میں داخل کروا دیا تھا۔‘‘ آنسو قانتہ کے رخساروں پر پھسل آئے تھے۔
’’میں آپ کے دکھ اور کرب کو محسوس کرسکتی ہوں۔ وہ آپ کے تو والد تھے میرے تو کوئی بھی نہیں تھے پھر بھی مجھے لگ رہا ہے جیسے میں بھی بے سائبان سی ہوگئی ہوں جیسے کوئی مجھے دعا نہیں دے گا۔‘‘ اب وہ دونوں رو رہی تھیں جانے سے پہلے قانتہ نے اسے گلے لگایا اور اپنے کمرے کا نمبر بتایا تھا۔
’’یہاں پیچھے ہی ہمارا ہاسٹل ہے اگر کبھی آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو پلیز مجھے ضرور بتائیے گا میں اگر آپ کے کام آسکی تو مجھے خوشی ہوگی۔ آپ کا بیٹا کہاں ہے۔ میں جب باہر سے اسے دیکھتی تھی تو میرا بہت جی چاہتا تھا کہ اسے گود میں لے کر پیار کروں۔‘‘
’’وہ سو رہا ہے۔‘‘
اس نے بتایا تو قانتہ نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی کبھار اس سے ملنے آسکتی ہے۔ اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا اور وہ اللہ حافظ کہہ کر چلی گئی۔ وہ دروازے پر کھڑی اسے جاتے دیکھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ یہ قانتہ نورین تھی ایک یتیم اور بے سہارا لڑکی۔
/ …/ …/ …/
وہ روڈ پر ذرا ہٹ کر اس بڑے مال کی طرف رخ کیے کھڑی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ اپنا ایک پاؤں اٹھا کر دوسرے پر رگڑتی تھی اور جب جب اس کی نظریں مال کی طرف اٹھتی تھی ان میں چمک سی پیدا ہوتی اور خشک پڑتے زرد ہونٹوں پر مسکراہٹ سی نمودار ہوکر معدوم ہوجاتی تھی۔ رات ہورہی تھی ہر طرف تیز روشنیاں جل رہی تھیں۔ مال کے اندر باہر اور آس پاس کی مارکیٹوں میں جلتی فینسی لائٹوں کی روشنیاں آنکھیں چندھیا دے رہیں تھیں۔ امیر گھرانوں کی عورتیں دن بھر آرام کرنے کے بعد اب شاپنگ کے لیے نکلی تھیں۔ وہ خواتین کے ساتھ آنے والے مردوں اور بچوں کو بہت غور سے دیکھتی تھی۔ اس کے لاشعور میں کچھ اٹک رہا تھا وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کئی دنوں سے لگا تار یہاں کیوں آرہی ہے۔ لیکن وہ کسی نہ کسی طرح نظر بچا کر باہر نکل آتی تھی۔ اور شام کو واپسی پر خاموشی سے نگران عورت کی ڈانٹ سن لیتی تھی۔ لیکن آج بہت دیر ہوگئی تھی اور آج تو کوئی اسے اندر بھی نہیں گھسنے دے گا۔ اس کے شعور میں تھا پھر بھی وہ وہاں پارکنگ کی طرف دیکھ رہی تھی گارڈ اسے وہاں کھڑے دیکھ کر اس کے قریب آیا۔
’’ہے… ہٹو یہاں سے روز یہاں کیوں آجاتی ہو؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ اس کے پاس اس کیوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی لیکن گارڈ اس کی آنکھوں کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا اس کی نظریں اس کا جسم ٹٹول رہی تھیں۔ شام کو جب وہ ڈر کر بھاگی تھی تو کپڑے کی وہ دھجی بھی کہیں گر گئی تھی اس نے گارڈ کی نظریں محسوس کرکے دونوں ہاتھوں سے خود کو چھپایا تھا۔ اور دو قدم پیچھے ہٹی۔
’’ڈرو نہیں بیٹھ جاؤ ایک طرف۔‘‘ گارڈ کے لہجے میں اب کے نرمی سی تھی اور اس نے بڑی میٹھی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’لیکن دیکھو کسی گاڑی کے قریب مت جانا یہ بڑے لوگ برا مناتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر بعد مال بند ہوجائے گا اور…‘‘ گارڈ نے واپس مڑتے ہوئے سوچا وہ اس کی سوچ سے بے خبر تھی لیکن گارڈ کے مڑتے ہی وہ تیزی سے وہاں سے ہٹ گئی تھی اور اب تیز تیز فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔ اس کا ذہن الجھا ہوا تھا اور اسے ڈر لگ رہا تھا۔
آج شام بھی وہ کسی سے ڈر کر بھاگی تھی تو مارکیٹوں کے پیچھے ایک رہائشی علاقے میں ایک گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔ حتی کے اندھیرا ہوگیا تھا۔ ایک بلی کسی دیوار سے کودی تو وہ ڈر کر کھڑی ہوگئی تھی اور جدھر سے آئی تھی اسی طرف واپس چل پڑی تھی اور جب اسے مال کی روشنیاں نظر آئیں تو اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں لیکن مال کا وہ گارڈ… اس کی نظریں۔ اس نے جھرجھری سی لی۔ لمحہ بھر کو رک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسے کہاں جانا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اسے بھوک بھی لگ رہی تھی اور نیند بھی آرہی تھی وہ سر جھکائے فٹ پاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے ہولے ہولے چل رہی تھی جب ایک گاڑی کے بریک چرچرائے کوئی گاڑی فٹ پاتھ کے قریب رکی تھی اور اس سے اترتے مرد کو دیکھ کر اس نے یک دم دوڑ لگادی۔ بھاگتے بھاگتے وہ مڑ کر دیکھتی تھی اور پھر بھاگنے لگتی تھی وہ بہت اطمینان سے لمبے لمبے قدم اٹھاتا اس کے پیچھے آرہا تھا۔ آس پاس سے گزرتے لوگوں اور مارکیٹوں کے باہر چکر لگاتے گارڈ نے سرسری نظروں سے اس پگلی کو بھاگتے ہوئے دیکھا جو پچھلے ایک ماہ سے یہاں اکثر گاڑیوں کے پیچھے بھاگتی نظر آتی تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک خوف زدہ ہرنی تھی اور اس کا تعاقب کرتا وہ ایک بھیڑیا تھا۔
/ …/ …/ …/
ہارون عباس کے لیے وہ ننھی سی گڑیا صرف رجاء حیدر نہیں تھی اپنے ابو کی پرنسز وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔ وہ اس کی وہ دعا تھی جو ماما اسے کرنے کو کہتی تھی جسے ماما کی سہیلی بننا تھا اور ان کے دکھ درد بانٹنے تھے وہ اس کی دوست تھی جس سے وہ زارون کی باتیں کرتا تھا اور وہ ہاتھوں کے پیالے میں تھوڑی ٹکائے بہت غور سے اس کی باتیں سنتی تھی۔ وہ اس کے لیے زارون کا نعم البدل تھی بلکہ وہ اس کے لیے زارون ہی تھی اور وہ اس کا ایسے خیال رکھتا تھا جیسے اپنے سے پانچ سال چھوٹے زارون کا رکھتا تھا۔ زارون اور رجاء حیدر ہم عمر ہی تھے۔ ماما کہتی تھی وہ بڑا ہے اور اسے ہی زارون کا خیال رکھنا ہے اب زارون نہیں تھا تو وہ اس کا خیال رکھ رہا تھا۔
جب حیدر ان کے اسکول کے پاس انہیں اتارتے تو وہ خود ہی اس کا بیگ اٹھا لیتا اور وہ شہزادیوں کی سی شان سے سر اٹھائے آگے آگے چلتی رہتی۔ اس کی کلاس میں اس کا بیگ رکھنے کے بعد اپنی کلاس میں جاتا۔ بریک میں اسے اپنے پاس بٹھا کر لنچ کرواتا بالکل ایسے ہی جیسے نیویارک میں اپنے اسکول میں زاورن کو کرواتا تھا۔ کینٹین سے اسے چیزیں لے کر دیتا اپنی پاکٹ منی سے بھی اسے چاکلیٹ اور آئس کریم لے کر دیتا۔ وہ جب تھک جاتی تو اس کا ہوم ورک بھی کردیتا تھا۔ وہ تھی بھی تو بہت نازک مزاج ذرا سا لکھنے سے اس کے ہاتھ تھک جاتے تھے۔ وہ ذرا سا بیمار پڑتی تو اس کی جان پر بن آتی تھی اور وہ اس کی پٹی سے لگ کر بیٹھ جاتا تھا۔ وہ اس کی آنکھ میں ایک آنسو تک نہیں دیکھ سکتا تھا اور ذرا سی خلاف مرضی بات پر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی تھیں۔ وہ کسی ملکہ کی طرح اس پر حکم چلاتی تھی اور وہ کسی غلام کی طرح اس کا حکم بجا لاتا تھا۔ عائشہ ہمیشہ ٹوکتیں۔
’’ایک اس کے ابو کم ہیں کیا اس کے ناز اٹھانے کے لیے جو تم بھی اسے سر پر چڑھا رہے ہو۔‘‘ اور وہ مسکرا دیتا وہ اس کے لیے صرف رجاء حیدر تو نہیں تھی وہ اس کے لیے زارون عباس بھی تو تھی جسے یاد کرکے وہ اب بھی رو پڑتا تھا۔
وہ اپنی آدھی سے زیادہ پاکٹ منی اس پر خرچ کردیتا۔ ایک بار عید پر وہ حیدر کے ساتھ شاپنگ کرنے گیا تو اس کے لیے کراؤن کی شکل کا بالوں میں لگانے ولا ایک کیچر لے لیا۔ جس میں چھوٹے چھوٹے سفید نگینے لگے ہوئے تھے اور ان سے ست رنگی روشنیاں نکلتی تھیں۔ تب وہ پندرہ سال کا اور رجاء دس سال کی تھی اور جب وہ اسے اپنے بالوں میں سجاتی تو کوئین لگتی تھی اور وہ کوئین ہی تو تھی صرف ہارون عباس ہی نہیں رجاء حیدر بھی اس کی دیوانی تھی۔ ہمہ وقت اس کے گرد چکر لگاتی رہتی۔ ندا اور ردا سے زیادہ وہ ہارون کے ساتھ وقت گزارتی تھی۔ جو ہارون کو پسند تھا اسے بھی پسند تھا۔ وہ ہر بات میں ہارون کی نقل کرتی تھی۔
ہارون انجیئیر بن رہا تھا اسے بھی انجیئر بننا تھا۔ ہارون کے ساتھ کرکٹ کے بجائے فٹ بال کے سارے میچز دیکھتی۔ ہارون حیدر کو بابا کہتا تھا۔ وہ بھی ابو کی جگہ انہیں بابا کہنے لگی تھی۔ اور حیدر کی جان دونوں میں اٹکی ہوئی تھی۔ عائشہ کبھی کبھی پریشان ہوجاتیں۔
’’اگر کبھی ہارون اپنے باپ کے پاس چلا گیا تو آپ اور رجاء…‘‘ اور حیدر انہیں بات مکمل ہی نہ کرنے دیتے۔
’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… ہارون میرا بیٹا ہے۔‘‘ اور عائشہ خاموش ہوجاتیں کہ شاید وقت کے ساتھ خود ہی سب ٹھیک ہوجائے لیکن گزرتے وقت نے اس کی شدت کو کم نہیں کیا تھا بلکہ بڑھایا ہی تھی۔
رجاء ایف ایس سی میں پہنچ گئی تھی اور ہارون نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب کرلی تھی لیکن وہ اب بھی رجاء کے منہ سے نکلنے والی ہر بات کو پورا کرنا فرض سمجھتا تھا۔ چاہے وہ کتنا ہی تھکا ہوا آفس سے آتا اور رجاء کوئی فرمائش کرتی تو الٹے قدموں واپس مڑجاتا۔
ردا کی شادی ہوگئی تھی اور وہ شادی کے بعد کراچی چلی گئی تھی گھر میں ندا اکیلی ہوگئی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ ندا کے مقابلے میں ہارون کے زیادہ قریب تھی اور اپنی ہر بات ہارون سے ہی شیئر کرتی تھی حالانکہ عائشہ چاہتی تھی کہ وہ ندا کے ساتھ زیادہ وقت گزارے۔ لیکن وہ رجاء حیدر تھی اپنے ابو کی پرنسز اپنی مرضی کی مالک۔
’’آپا آپ ہارون کو سمجھائیں اس کے اتنے زیادہ ناز نہ اٹھایا کرے۔ یہ فرمائشیں پوری نہ کرے۔ آخر کو اسے پرائے گھر بھی جانا ہے وہاں اس کی خدانخواستہ فرمائشیں پوری نہ ہوئیں کوئی ناز اٹھانے والا نہ ہوا تو…‘‘ عائشہ ماں تھی رجاء کے لیے پریشان ہوئیں تو ایک روز زہرا سے کہہ بیٹھیں۔
’’ارے پرائے گھر کیوں جائے گی رجا کو میں اپنے ہانی کی دلہن بناؤں گی اور میرا ہانی ساری عمر اس کی فرمائشیں پوری کرے گا اور اس کے نخرے اٹھائے گا۔‘‘ انہیں خود بھی تو رجاء بہت پیاری تھی۔
عائشہ چپ کرگئی تھیں اور زہرا نے اسی رات ہارون عباس سے پوچھ لیا تھا۔
’’اگر تمہیں ساری زندگی رجا کی فرمائشیں پوری کرنی پڑیں تو اس کے ناز اٹھانا پڑیں تو کرلو گے؟‘‘
’’کیوں نہیں ماما… وہ تو ہماری شہزادی ہے حکم دینا اور ناز کرنا تو اسے ہی سجتا ہے۔‘‘
’’تو…‘‘ زہرا کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
’’میں آج ہی حیدر بھائی سے بات کرکے اسے تمہارے لیے مانگ لیتی ہوں پھر ساری زندگی اٹھاتے رہنا اس کے ناز۔‘‘ اور زہرا کی بات کا مطلب سمجھتے ہی اس کے اندر جلترنگ سے بج اٹھے تھے۔ اب سے پہلے تو اس نے رجاء کے لیے اس طرح کبھی نہیں سوچا تھا یعنی ایسا بھی ہوسکتا ہے اور رجاء کے ساتھ کے تصور نے اس کے اندر چراغاں کردیا تھا اور کیوں نہ ہوتا وہ تو اس کے دل کی ملکہ تھی۔ رجاء حیدر ہارون عباس کی کوئین تھی۔
/ …/ …/ …/
وہ کارپٹ پر بیٹھی عون عباس کو بے بسی سے دیکھ رہی تھی جو پاس ہی صوفے پر ہونٹ لٹکائے بیٹھا تھا اور ناراضگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے کپڑے تبدیل کرنا چاہ رہی تھی اور وہ مچل کر اس کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ ان دنوں وہ بے حد ضدی اور چڑچڑا ہوگیا تھا وہ پہلے تو ایسا نہیں تھا لیکن اب ہوگیا تھا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اپنی کیفیات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا لیکن وہ یقینا بابا کو مس کررہا تھا۔
’’عون میری جان آؤ دیکھو نا آپ کی شرٹ کتنی گندی ہوگئی ہے چھی۔‘‘ لیکن اس نے غصے سے پاس پڑا اپنا ٹیڈی بیر نیچے پھینک دیا۔ اب وہ کشن اٹھا رہا تھا کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو پکڑا تو وہ چیخ چیخ کر رونے لگا وہ بابا کو پکار رہا تھا۔
وہ اس کا بازو چھوڑ کر ایک بار پھر بے بسی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کی خوب صورت آنکھوں میں ناراضگی اور غصہ تھا۔ اور پلکوں کی جھالروں میں موتی پروئے ہوئے تھے۔ زارون کو بھی جب غصہ آتا تھا تو وہ یونہی ہاتھ میں پکڑی چیز اٹھا کر پھینک دیتا تھا اور اس کی آنکھوں سے بھی ایسے ہی غصہ جھلکتا تھا۔
’’زارون۔‘‘ اس نے سسکی لی۔ ’’تم نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ۔‘‘ اس نے گھٹنوں پر سر رکھ لیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ رو رہی تھی۔
زارون‘ زہرا پھوپو کا بیٹا تھا۔ ہارون سے پانچ سال چھوٹا اور جسے سعدون عباس نے زہرا پھوپو سے چھین لیا تھا۔ تب پانچ سال کا تھا وہ اور ہارون نے اتنی بار اس کا ذکر کیا تھا اور اس کی ایک ایک حرکت کو اتنی بار دہرایا تھا کہ بن دیکھے ہی رجاء حیدر جانتی تھی کہ وہ کیسا ہے۔
’’وہ ہنستا ہے تو اس کے دائیں رخسار میں بہت گہرا ڈمپل پرتا ہے یوں جیسے پانی میں بھنور بنتا ہے۔ اس کی پلکیں بہت لمبی ہیں اور آنکھوں کا رنگ چاکلیٹ جیسا ہے اور اس کی رنگت سرخ و سپید ہے بالکل اپنے پاپا کی طرح ہے۔‘‘ وہ ہارون عباس کو بہت پیارا تھا وہ اسے یاد کرکے اداس ہوتا تو وہ فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیتی۔
’’یااﷲ ہمارے زاورن کو ہمارے پاس بھیج دے۔‘‘ زارون عباس ہارون عباس کا تھا تو جس طرح ہارون کی ہر چیز اس کی تھی یہ حق اسے ہارون نے ہی دیا تھا اس طرح زارون بھی اس کا تھا وہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتی تو ہارون بھی دل ہی دل میں اس کے الفاظ دہراتا جاتا تھا۔ پھر اﷲ نے اس کی دعا قبول کرلی اور زارون عباس کو اﷲ نے ان کے پاس بھیج دیا تھا۔
زارون عباس کو سعدون عباس نے چودہ سال بعد زہرا کے پاس بھیج دیا تھا۔ جب اس نے حیدر کے ساتھ لاؤنج میں قدم رکھا تھا وہ مبہوت سی اسے دیکھنے لگی تھی۔ حیدر کو سعدون عباس نے اس کے آنے کے متعلق اطلاع دی تھی اور حیدر جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتے تھے وہاں سے ہی کسی کو بتائے بغیر اسے لینے چلے گئے تھے۔ شاید انہیں سعدون عباس پر اعتبار نہیں تھا۔
وہ مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھی وہ یقینا زارون تھا اور ہارون عباس جو آج آفس نہیں گیا تھا اس وقت لاؤنج میں بیٹھا رجاء کی پریکٹیکل کی کاپی پر ڈائیگرام بنا رہا تھا۔ اسے پہنچاننے میں صرف چند لمحے لگے تھے حالانکہ اب وہ پانچ سالہ زاورن نہیں تھا۔ انیس سال کا تھا لیکن وہ سعدون عباس کی کاپی تھا۔
’’زارون…!‘‘ ہارون کے لبوں سے بے اختیار نکلا اور اس نے تیزی سے اٹھ کر اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا تھا۔
’’میرا بھائی… میرا یار… جیا ہمارا زاورن آگیا… اﷲ نے تمہاری دعائیں سن لیں… ماما… ماما دیکھیں کون آیا ہے؟‘‘ وہ اسے بازوؤں میں لیے خوشی سے بے قابو ہورہا تھا۔
’’زارون میرے بھائی میں نے تمہیں بہت یاد کیا بہت رویا۔‘‘ اب وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے کہہ رہا تھا لیکن زارون کے انداز میں وہ گرم جوشی نہیں تھی اس کی چاکلیٹ رنگ آنکھوں میں غصہ اور نارضگی ہلکورے لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں سب ہی لاؤنج میں اکھٹے ہوگئے تھے۔ زہرا کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے لیکن زارون ان سے بھی تکلف سے ملا تھا اتنے عرصے بعد ماں سے ملنے کی کوئی گرم جوشی اس کے رویے میں نظر نہیں آئی تھی۔ وہ سب اس کے اس طرح اچانک آنے پر بے حد خوش تھے لیکن وہ خوش نظر نہیں آتا تھا بے حد سنجیدہ اور خفا سا لگتا تھا۔ وہ اے لیول کرکے آیا تھا بہت کم کسی سے بات کرتا تھا اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ اچانک سعدون عباس نے اسے کیسے آنے کی اجازت دے دی۔
زہرا فکرمند تھیں کہ کہیں زارون کو بھیج کر ہارون کو تو بلوانا نہیں چاہتا اور اگر ہارون باپ سے ملنے گیا اور اس نے اسے وہاں ہی روک لیا تو لیکن ایسا نہیں تھا اسے ہارون سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک روز اس نے خود ہی حیدر کو فون کرکے بتادیا کہ زارون کو اس نے ہمیشہ کے لیے بھیج دیا ہے۔
’’اب وہ وہاں ہی رہے گا اپنی ماں کے پاس۔ دراصل زارون کی اپنی اسٹیپ مدر کے ساتھ نہیں بنتی۔ اتنے عرصہ تک میں نے کوشش کی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو قبول کرلیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔‘‘
’’اور یہ آپ کو اب پتا چلا چودہ سالوں بعد۔ چودہ سال سے میری بہن اپنے بچے کے لیے تڑپ رہی تھی۔‘‘ حیدر کے لبوں سے بے اختیار نکلا تھا۔ لیکن سعدون نے ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی تھی۔
’’زارون کی وجہ سے میرے گھر کا ماحول خراب ہورہا ہے۔ میں روز روز کی چیخ چیخ سے تنگ آچکا ہوں میرے بچے زارون اور اپنی اسٹیپ مدر کے ہر روز کی لڑائی جھگڑوں سے ڈسٹرب ہورہے ہیں میں اس کے تعلیمی اخراجات کے لیے ایک معقول رقم اسے بھجوا دوں گا۔‘‘ حیدر نے اس کی بات پر کوئی بھی تبصرہ کیے بغیر فون بند کردیا تھا۔ اس خبر نے سب کو ہی خوش کردیا تھا لیکن زارون خوش نہیں تھا اسے زہرا سے بہت گلے تھے۔
’’آپ مجھے وہاں چھوڑ آئی تھیں کیونکہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں تھی۔‘‘
’’نہیں ایسا نہیں تھا میری جان تمہارے پاپا نے تمہیں مجھ سے چھین لیا تھا میں نے ان کی بہت منتیں کی تھیں کہ وہ تمہیں مجھے دے دیں۔‘‘
’’پاپا نے ہارون کو کیوں نہیں چھینا؟‘‘ وہ زہرا کی بات پر یقین نہیں کرتا تھا۔
’’اس لیے کہ وہ تم سے زیادہ محبت کرتے تھے۔‘‘ زہرا اسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتی تھیں۔
’’نہیں آپ نے ہارون کو چنا تھا حالانکہ مجھے آپ کی زیادہ ضرورت تھی۔‘‘ وہ مطمئن ہی نہیں ہوتا تھا اس کے اندر بہت غصہ اور ناراضگی تھی۔ سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے ندا اور عائشہ بھی اس کی دلداری کرتیں لیکن پھر بھی چھوٹی سی بات پر اسے غصہ آجاتا اور اس کی چاکلیٹ رنگ آنکھیں خون رنگ ہوجاتیں۔
رجاء نے اسے اینگری ینگ مین کا نام دیا تھا۔ اس روز وہ اپنا آخری پریکٹیکل دے کر آئی تھی اور لائونج میں ہارون عباس کے ساتھ بیٹھی ٹی وی پر فٹ بال کا میچ دیکھ رہی تھی اور زارون انہیں لائونج میں بیٹھے دیکھ کر تیوری چڑھائے واپس مڑ گیا تھا۔
’’آپ کا بھائی اینگری ینگ مین لگتا ہے۔‘‘
’’وہ صرف میرا بھائی نہیں ہے جیا وہ ہمارا ہے۔ ہمارا زارون تم ہی کہتی تھیں۔‘‘ ہارون نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔ اور اس کے اندر دور تک روشنیاں سی جل اٹھیں۔ جب سے زہرا نے اس سے بات کی تھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے یوں ہی اندر چراغاں ہوجاتا۔
’’اوکے ہمارا زارون ہم سب سے اتنا خفا کیوں رہتا ہے۔‘‘ وہ ہنسی تھی۔ اور ہارون عباس نے اس کی ہنسی کے سحر سے بمشکل خود کو نکالتے ہوئے کہا تھا۔
’’اس نے بہت مشکل وقت گزارا ہے جیا چھوٹی ماما اسے پسند نہیں کرتی تھیں روز اول ہی انہوں نے پاپا سے کہہ دیا تھا کہ وہ زارون کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتیں لیکن انہوں نے صرف ماما کو تکلیف دینے کے لیے ان کی ضد میں اسے رکھ لیا تھا اور نو سال کی عمر تک صبح آفس جاتے ہوئے وہ اسے ایک ڈے کیئر سینٹر میں چھوڑ جاتے تھے اور جب وہ دس سال کا ہوا تو اسے ایک بورڈنگ اسکول میں داخل کرا دیا اور جب کبھی ویک اینڈ پر وہ گھر آجاتا تو چھوٹی ماما ذرا سی بات پر اسے سزا دیتیں باتھ روم میں بند کردیتیں اور اسے کھانا نہیں دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہاری ماں تمہیں جان بوجھ کر چھوڑ گئی ہے اس لیے وہ مجھ سے اور ماما سے ناراض ہے کہ ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ جب اسے ہماری بات پر یقین آجائے گا تو اس کی ساری ناراضی دور ہوجائے گی جیا پلیز تم زارون کا خیال رکھا کرو۔‘‘
اور رجاء حیدر اس کا بہت خیال رکھتی کیونکہ ہارون چاہتا تھا ایسا… جب اس کا رزلٹ آیا تو حیدر نے زارون کو جو اپنا اے لیول کرکے آیا تھا اسی کے کالج میں داخل کروا دیا۔ اب دونوں گورنمنٹ کالج سے بی ایس سی کررہے تھے۔ حیدر صبح آفس جاتے ہوئے انہیں ڈراپ کر جاتے اور واپسی پر ہارون انہیں پک کرلیتا یا پھر گاڑی بھیج دیتا۔ اسے آفس کی طرف سے گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت ملی ہوئی تھی اور رجاء حیدر کو پتا ہی نہیں چلا تھا کہ زارون کا خیال رکھتے رکھتے کب محبت نے اس کے دل میں قدغن لگائی اور کب زارون عباس کے لیے اس کے دل نے نئے انداز سے دھڑکنا شروع کیا۔
وہ تو دو سال تک ہی سمجھتی رہی کہ وہ زارون عباس کا خیال رکھ رہی ہے کہ اس نے ماں سے اور بھائی سے بچھڑ کر بہت مشکل وقت گزارا ہے اور یہ تو ندا کی مہندی والی شام تھی جب زارون عباس نے اس کے سلکی بالوں کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس کے کان میں فسوں پھینکا تھا۔
’’تم بہت پیاری ہو جیا اور مجھے لگتا ہے جیسے میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوگیا ہوں۔ بالوں کو موتیے کے پھولوں سے سجائے تم اس وقت دنیا کی سب سے خوب صورت لڑکی لگ رہی ہو۔‘‘
اور رجاء حیدر نے اس وقت خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی سمجھا تھا کہ وہ زارون عباس کی محبت تھی اور اس روز اس نے زارون عباس کی نظروں کو ہر جگہ اپنا تعاقب کرتے پایا تھا لیکن زہرا‘ ہارون اور رجاء کو دیکھ کر کچھ اور ہی سوچ رہی تھیں اور اپنی سوچ کا اظہار انہوں نے ہارون سے بھی کردیا تھا۔
’’ہانی میں سوچ رہی ہوں ندا کی شادی کے ساتھ تمہاری اور رجاء کی منگنی کا بھی چھوٹا سا فنکشن رکھ دیا جائے تاکہ سب کو پتا چل جائے۔ پتا ہے آج مہندی کے فنکشن میں دو تین خواتین نے اس کے متعلق پوچھا۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی کہ بیٹوں کی مائوں کی نظریں اس پر ٹھہر جاتی تھیں۔‘‘
’’اور آپ نے بھی بیٹے کی ماں بن کر اسے دیکھا۔‘‘ ہارون کا چہرہ چمک اٹھا تھا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ زارون کے بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں جو بظاہر اپنے فون کے ساتھ مصروف تھا لیکن اس کے چہرے کے عضلات تن گئے تھے۔
’’بلکہ میں سوچ رہی ہوں کہ فی الحال منگنی کا باضابطہ طور پر اعلان کردیں اور پھر دو تین ماہ بعد اس کے گریجویشن کے بعد شادی ہوجائے۔ ماشاء اللہ تم اچھی جاب پر ہو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہو تو شادی بھی ہوجانی چاہیے۔‘‘ اور اپنے دلی جذبات پر قابو پاتے ہوئے ہارون عباس مدھم سا مسکرایا تھا۔
’’لیکن ماما… ابھی وہ پڑھ رہی ہے اور پھر اسے ماسٹر کرنے کا شوق ہے۔‘‘
’’تو کیا تم اسے پڑھنے سے منع کردوگے۔ پڑھتی رہے گی۔‘‘
’’وہ ڈسٹرب ہوجائے گی ماما۔‘‘ ہارون عباس کو اپنی خوشی سے زیادہ اس کا احساس تھا۔
’’تمہارے ساتھ ڈسٹرب نہیں ہوگی ہارون۔‘‘ زہرا ہنسی تھیں۔
’’اس کے حصے کی آدھی پڑھائی تو تم کرو گے نا۔‘‘ اور ہارون کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔
’’ٹھیک ہے ماما جیسے آپ کی مرضی۔‘‘ اور اپنے بیڈ پر بیٹھے زارون نے ہاتھ میں پکڑا فون بیڈ پر پٹخا تھا۔ غیر ارادی طور پر اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں اور اس کی خوب صورت آنکھوں سے ناراضی کے رنگ جھلکنے لگے تھے۔
’’کیا ہوا زارون؟‘‘ ہارون نے پوچھا تھا۔
’’کچھ نہیں سگنل نہیں آرہے۔‘‘ وہ فون اٹھا کر لائونج میں چلا گیا اور زہرا بھی ہارون کی پیشانی چوم کر باہر نکل گئیں۔ یہ ہارون اور زارون کا کمرہ تھا۔ زارون جب سے آیا تھا ہارون کے کمرے میں ہی حیدر نے ایک اور سنگل بیڈ ڈلوا دیا تھا۔
زہرا لائونج میں بیٹھے زارون کے پاس آکر رکی تھیں اور ہر شب کی طرح اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کی پیشانی چومی تھی اس نے بیزاری سے ان کے ہاتھ ہٹا دیئے۔
’’کیا ہوا زارون تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ انہوں نے پریشان ہوکر اس کی طرف دیکھا اور بہت عرصہ بعد آج پھر انہیں اس کی آنکھوں میں خفگی اور ناراضگی نظر آئی تھی کہیں سعدون نے اسے واپس تو نہیں بلالیا۔ وہ گھبرائیں۔ جانتی تھی کبھی کبھار سعدون سے اس کی بات ہوتی ہے۔
’’زارون میری جان کیا بات ہے؟‘‘ وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔
’’ماما پلیز میرے لیے پریشان مت ہوا کریں۔ ہارون کی فکر کریں۔‘‘ اس کے لہجے میں بیزاری تھی۔
’’کیسی باتیں کررہے ہو زارون کیا مجھے تمہاری فکر نہیں ہوسکتی‘ کیا میں صرف ہارون کی ماں ہوں۔‘‘
’’ہاں‘ آپ صرف ہارون کی ماں ہیں مجھے تو وہاں ہی چھوڑ آئی تھیں۔‘‘ اس نے پھر سے گلہ کیا۔
’’ایسا مت کہو زارون تم دونوں ہی میرے دل کے ٹکڑے ہو ہارون میرے پاس تھا تم دور تھے تو میں تمہارے لیے زیادہ تڑپی ہوں۔‘‘
’’کہنے سے کیا ہوتا ہے ماما اگر آپ مجھے بھی ہارون کی طرح چاہتی ہیں تو ماموں سے میرے لیے رجا کی بات کریں۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہو زارون؟‘‘ زہرا کو لگا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔
’’ماما میں کہہ رہا ہوں کہ مجھے جیا سے شادی کرنی ہے۔‘‘
’’لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے زارون میں نے دو سال پہلے عائشہ اور حیدر سے رجاء اور ہارون کی بات کی تھی۔ بس باضابطہ منگنی نہیں کی تھی کہ رجاء ابھی چھوٹی تھی اور حیدر کا خیال تھا کہ خوامخواہ بچوں کو ڈسٹرب نہ کیا جائے بس شادی سے کچھ ماہ پہلے انائونس کردیں گے۔‘‘ زہرا نے تفصیل سے اسے بتایا۔
’’مجھے پہلے ہی علم تھا کہ آپ میری بات نہیں مانیں گی حالانکہ صرف بات ہی تو ہوئی ہے نا کون سا نکاح ہوا ہے کہ…‘‘
’’لیکن ہارون اور رجا پسند کرتے ہیں ایک دوسرے کو…‘‘
’’میں بھی محبت کرتا ہوں رجاء سے اور رجاء…‘‘ اس کے ہونٹوں کے گوشوں میں ایک طنزیہ سی مسکراہٹ ٹھہر سی گئی۔
’’وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اور آپ کی محبت اب کیا فیصلہ کرتی ہے دیکھتا ہوں۔‘‘ اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا اور زہرا بیگم ساکت سی صوفے پر بیٹھی رہ گئی تھیں۔ کیا زارون ان کی مامتا کا امتحان لے رہا تھا۔ اور یہ کس امتحان میں ڈال دیا تھا اس نے اور پھر یہ کیا کہہ رہا ہے کہ رجاء اس سے محبت کرتی ہے بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ رجاء اور ہارون تو بچپن سے ہی ساتھ تھے ہارون دس سال کا ہی تو تھا جب وہ یہاں آئی تھیں اور رجاء پانچ سال کی تھی۔ وہ پوری رات سو نہیں سکی تھیں اور پوری رات جاگنے کے باوجود وہ یہ فیصلہ نہیں کر پائی تھیں کہ وہ ہارون اور حیدر سے زارون کے متعلق بات کریں یا نہ کریں۔ اسی کشمکش میں ندا کی شادی بھی گزر گئی۔ وہ اپنی پریشانی میں تھیں اور ہارون بے حد مصروف ایک بیٹے کی طرح حیدر کے بہت سے کام اس نے اپنے ذمے لے رکھے تھے کبھی کیٹرنگ والوں کی طرف جارہا ہے اور کبھی ہال کی ڈیکوریشن کروا رہا ہے انہیں احساس تک نہ ہوا کہ ندا کی شادی کے ہر فنکشن میں زارون رجاء کے ساتھ ساتھ ہی رہا۔ والہانہ نظروں سے اسے تکتا۔ جذبات میں ہلچل مچا دینے والی سرگوشیاں کرتا۔ اپنی محبتوں کا اعتراف کرتا۔ اور رجاء حیدر ایک لڑکی ہی تو تھی اس کی خوب صورت شخصیت اور خوب صورت باتوں کے سحر میں ڈوبتی چلی گئی ہارون اس کا بہت خیال رکھتا تھا بہت محبت کرتا تھا لیکن اس نے کبھی رجاء کے سامنے اپنے جذبوں کا اس طرح اظہار نہیں کیا تھا حالانکہ زہرا نے حیدر سے بات بھی کرلی تھی تب بھی اس نے اپنی کسی بات اور عمل سے کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ لیکن یہ زارون عباس ہارون سے بالکل مختلف اس نے صرف بیس دنوں میں رجاء حیدر کو اپنا دیوانہ بنالیا تھا۔ ندا کی شادی ہوگئی تھی وہ دونوں فارغ تھے اور اپنے بی ایس سی کے رزلٹ کا انتظار کررہے تھے زارون اپنا زیادہ وقت رجاء کے ساتھ گزارتا۔ کبھی دونوں بیٹھے کیرم کھیل رہے ہوتے کبھی لائونج میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے۔ غیر محسوس طور پر رجاء کی پسند نا پسند بدل گئی تھی۔ اب وہ فٹ بال کے بجائے کرکٹ میچ دیکھتی تھی کیونکہ زارون کو پسند تھا۔ وہ کھانے جو پہلے اسے پھیکے لگتے تھے اب اسے پسند تھے کیونکہ زارون کو پسند تھے اور اس ساری صورت حال سے بے خبر ہارون ان دنوں اپنا گھر بنانے کی تنگ و دو میں تھا وہ رجاء کو شادی کے بعد اپنے گھر لے کر جانا چاہتا تھا بھلے بعد میں جہاں وہ رہنا چاہے رہ لے سو اپنی جاب کے علاوہ وہ ایک پرائیویٹ کنسٹریکشن کمپنی کے لیے بھی کام کررہا تھا اور اس نے فیصل ٹائون میں ایک پانچ مرلے کا گھر دیکھ لیا تھا اور اسے پسند بھی آیا تھا اور وہ اسے خرید سکتا تھا۔ اس روز گھر دیکھ کر وہ کچھ جلدی گھر آگیا تھا وہ دونوں ٹی وی لائونج میں بیٹھے انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے وہ حیران ہوا۔
’’حیرت ہے جیا یہ تمہیں کرکٹ سے کیسے دلچسپی ہوگئی۔‘‘
’’بس اچھا لگتا ہے اب دیکھنا۔‘‘
’’وقت کے ساتھ انسان کی سوچ اور پسند میں کچھ تبدیلی آہی جاتی ہے بھائی اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔‘‘ زارون مسکرایا تھا۔
’’ہاں شاید۔‘‘ وہ کچھ الجھ سا گیا تھا۔ اس نے رجاء کی طرف دیکھا اس کے لبوں پر شرمگیں سی مسکراہٹ تھی اور وہ زارون عباس کو دیکھ رہی تھی اس نے ہارون عباس کی طرف نہیں دیکھا تھا اس نے اسے نظر انداز کیا تھا وہ الجھا الجھا سا زہرا کے کمرے میں آیا تو زہرا کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
’’کیا ہوا ماما آپ کچھ پریشان ہیں؟‘‘
انہوں نے چونک کر ہارون عباس کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں نمی سی پھیل گئی اور اتنے دنوں سے جو بات وہ خود سے بھی کہتے ہوئے ڈر رہی تھیں وہ انہوں نے ہارون سے کہہ دی۔ ہارون ساکت سا کھڑا تھا۔ انہوں نے ہارون کی طرف دیکھا اور رونے لگیں۔ ہارون نے انہیں روتے دیکھا تو چونک کر ان کی طرف بڑھا۔ اور ان کے بیڈ پر ان کے پاس بیٹھتے ہوئے اس نے ان کے گرد اپنا بازو حمائل کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ لگایا تو وہ زیادہ شدت سے رونے لگیں‘ اور وہ ہولے ہولے انہیں تھپکتے ہوئے اپنا ضبط آزمانے لگا۔
’’میں کیا کروں ہانی میرے بچے وہ مجھے اس طرح کیوں آزما رہا ہے کیا مامتا کو بھی آزمائش کی ضرورت ہوتی ہے کیا اسے بھی کسی پیمانے میں ناپا جاسکتا ہے۔ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن اس کی ایک غلط بات کیسے مان سکتی ہوں میں حیدر سے تمہارے لیے بات کرچکی ہوں۔‘‘
’’اس نے بہت محروم زندگی گزاری ہے۔ آپ کی محبتوں سے محروم اور پاپا نے بھی اسے وہ شفقت اور محبت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی اگر اس کی خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ مزید ٹوٹ جائے گا۔‘‘
’’لیکن وہ رجاء سے محبت نہیں کرتا ہارون وہ صرف میری مامتا کو آزما رہا ہے۔‘‘ وہ ماں تھیں اس کے اندر تک جھانک سکتی تھیں۔ ’’کم از کم وہ اس سے اس طرح محبت نہیں کرتا جس طرح تم کرتے ہو۔‘‘ ہارون نے اپنے دل سے اٹھتی ٹیسوں پر قابو پانے کے لیے اپنا ہونٹ کچل ڈالا۔
’’وہ سمجھتا ہے کہ رجاء اس سے محبت کرتی ہے لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے ہارون؟‘‘ زہرا نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو لائونج کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ رجاء بدل گئی تھی۔ بدل رہی تھی اور اسے اپنی مصروفیات میں پتا ہی نہیں چلا۔ چودہ سالوں میں پہلی بار وہ رجاء سے اس طرح غافل ہوا تھا ورنہ تو اس کی ہر بات اس کی نظر میں ہوتی۔ اس نے آج صحیح طرح سے ناشتہ نہیں کیا۔ آج اس کا موڈ خراب تھا آج اس کے بالوں کا اسٹائل پہلے سے مختلف تھا۔
’’ہارون ایسا نہیں ہوسکتا نا ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں؟‘‘
’’ہو بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ ہارون نے چونک کر انہیں دیکھا اور کھڑا ہوگیا۔
’’آپ بابا سے بات کرکے دیکھیں تو۔‘‘ اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا اسے لگا تھا جیسے اس کا دل بند ہونے لگا ہو۔ زہرا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ زندگی میں زہرا کے لیے اس سے بڑا امتحان اور کوئی نہیں تھا۔ اتنے بڑے امتحان کا سامنا انہیں کبھی نہیں کرنا پڑا تھا وہ جانتی تھیں ہارون کے لیے رجاء کیا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ زارون شکلاً ہی نہیں عادتاً بھی اپنے باپ پر گیا ہے۔ ضدی خود غرض اور خود سر انہوں نے اگر اس کی بات نہ مانی تو ممکن ہے وہ انہیں چھوڑ کر چلا جائے وہ جذباتی بھی ہے کہیں کچھ کر نہ بیٹھے۔ نہیں وہ ایک بار پھر اس کی جدائی کا دکھ برداشت نہیں کرسکتیں۔ ہارون بڑا ہے سمجھ دار ہے اس کا دل بھی بڑا ہے اور ظرف بھی۔ وہ شاید اس دکھ کو سہہ لے لیکن زارون نہیں سہہ سکے گا۔ ہارون صحیح کہتا ہے کہ وہ ٹوٹ جائے گا تب بے حد دکھے دل کے ساتھ انہوں نے حیدر سے سب کچھ کہہ دیا۔ حیدر حیرانی سے انہیں دیکھتے رہ گئے۔
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے آپا؟ میں نے تو ہمیشہ ہارون اور رجاء کے متعلق سوچا ہے؟‘‘ زارون بھی ان کا بھانجا تھا انہیں پیارا تھا لیکن ہارون تو ہارون تھا ان کا بیٹا ان کا لاڈلا۔
’’وہ کہتا ہے رجاء بھی ایسا ہی چاہتی ہے۔ وہ بھی زارون سے…‘‘ زہرا بیگم نے نگاہیں جھکالی تھیں اور آنسو ان کے رخساروں پر پھسل آئے تھے اور حیدر کے لیے رجاء کی مرضی اس کی آرزو اس کی خواہش تو سب سے اہم تھی۔
’’ٹھیک ہے آپا فیصلہ رجاء پر چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ اور رجاء نے زارون کے حق میں فیصلہ دیا تھا کیونکہ زارون نے اس کے دل کو نئے انداز میں دھڑکنا سکھایا تھا۔ زارون اور رجاء کی منگنی ہوگئی اور شادی دو سال بعد طے پائی تھی۔ ہارون پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا تھا ایک حزن سا اس کی آنکھوں میں ٹھہر گیا تھا لیکن وہ اب بھی رجاء کا اتنا ہی خیال رکھتا تھا اور رجاء بھی ہر کام اسی سے کہتی تھی اور یہ بات زارون کو اچھی نہیں لگتی تھی اس نے سال بعد ہی شادی کا شور مچا دیا تھا۔
’’لیکن تم اپنی تعلیم مکمل کرلو زارون اور رجاء بھی۔ ایک سال ہی تو رہتا ہے۔‘‘ زہرا نے سمجھایا۔
’’جیا کو پڑھائی سے دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ اس نے پھر رجاء کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی تھی۔ ’’رہا میں تو شادی کے بعد بھی اپنی ایجوکیشن کمپلیٹ کرسکتا ہوں یوں اگر وہ چاہے تو وہ بھی پڑھ سکتی ہے۔‘‘
زہرا چاہتی تھیں کہ ہارون بڑا ہے برسر روزگار ہے اور زارون کے ساتھ ساتھ اگر اس کی بھی شادی ہوجائے۔ عائشہ کی بھانجی انہیں پسند تھی لیکن ہارون نے منع کردیا۔
’’میں نے اسکالرشپ کے لیے اپلائی کیا ہے اور دو تین ماہ تک میں ایم ایس سی کے لیے باہر چلا جائوں گا اس لیے آپ زارون کی شادی کردیں مجھے فی الحال نہیں کرنی۔‘‘ یوں زارون اور رجاء شادی کے خوب صورت بندھن میں بندھ گئے تھے زارون نے شادی سے پہلے شادمان میں ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا اور رجاء کو وہ وہاں ہی رخصت کروا کے لے گیا تھا زہرا بھی اس کے ساتھ ہی آگئی تھیں۔
’’شادی کے بعد لڑکیاں اگر میکے میں ہی رہیں تو ان کی عزت نہیں رہتی۔ مجھے گھر داماد بن کے رہنا پسند نہیں ہے جیا۔‘‘ اس نے رجاء سے کہا تھا اور حیدر اور عائشہ کو اس کی یہ بات پسند آئی تھی انہیں لگا تھا کہ وہ شادی کی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے۔ وہ رجاء کو خوش رکھے گا رجاء خوش تھی تو وہ سب خوش تھے۔ ہارون چھ ماہ بعد ہی امریکہ چلا گیا تھا۔ وہ وہاں پڑھائی کے ساتھ ساتھ جاب بھی کررہا تھا زارون نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب کرلی تھی اچھی سیلری تھی حیدر مطمئن تھے۔ عائشہ اور زہرا بھی زارون اور رجاء کی شادی کے لیے دل سے رضامند نہیں تھیں اب مطمئن تھیں۔ کچھ عرصے بعد ہاورن نے زہرا کو بھی اپنے پاس بلالیا تھا۔ زہرا کے پاس امریکن پاسپورٹ تھا انہیں وہاں جانے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن وہ خود ہی نہیں جانا چاہتی تھیں۔ حالانکہ ہارون تو ساتھ ہی لے جانا چاہتا تھا مگر اب اس کے بار بار کے اصرار پر مجبور ہوگئیں کچھ عرصہ بعد زاورن نے بھی امریکہ جانے کا پروگرام بنا لیا۔ رجاء گھبرا گئی۔
’’میں ساری زندگی کرائے کے گھر میں نہیں رہ سکتا جیا اور یہاں رہ کر میں وہ سب کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔ پاپا اور چھوٹی ماما بھی اب چاہتی ہیں کہ میں وہاں ہی سیٹل ہوجاؤں۔‘‘
’’اور میں… میں یہاں اکیلی کیسے رہوں گی تمہارے بغیر؟‘‘ وہ رو پڑی تھی۔
’’میں جلد تمہیں بلوالوں گا۔‘‘ اس نے اسے تسلی دی تھی۔
’’بس کچھ وقت لگے گا میں جاتے ہی تمہارے پیپرز جمع کروا دوں گا۔ لیکن تم یہاں ہی رہوگی اسی گھر میں شادی کے بعد شوہر کا ہی گھر عورت کا گھر ہوتا ہے مجھے نہیں پسند کہ میرے چلے جانے کے بعد تم میکے میں جا کر رہو۔‘‘
اور یوں اس کی تنہائی کے خیال سے حیدر اس کے پاس آگئے تھے۔ عون اس کے جانے کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔ اور عائشہ کی وفات کے بعد حیدر اپنا گھر کرائے پر دے کر اس کے پاس مستقل آگئے تھے۔ لیکن انہیں مستقل یہاں نہیں رہنا تھا۔ وہ زارون کو فون کرکے واپس آنے کا کہتے تو وہ انکار کردیتا۔ رجاء کو اپنے پاس بلانے کا کہتے تو وہ ٹال دیتا کہ اس نے پیپرز جمع کروا رکھے ہیں۔ تب حیدر نے اس کے رویے سے پریشان ہوکر زہرا اور ہارون سے بات کی تو ہارون نے انہیں تسلی دی تھی۔
’’بابا آپ پریشان نہ ہوں وہ اگرچہ یہاں نہیں نیویارک میں رہتا ہے وہاں ہی اس کی جاب ہے لیکن تقریباً مہینے بعد وہ نیوجرسی آتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی ماما نے اس سے بات کی تھی وہ اتنا لاپروا ہے کہ اس نے ابھی تک جیاء کے پیپرز ہی جمع نہیں کروائے۔ میں اب خود جاکر جمع کرواتا ہوں۔ وکیل سے بات کرلی ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔ میں ماما اور زارون دو تین ہفتوں تک آرہے ہیں۔ میں تو دس دن بعد واپس آجاؤں گا لیکن زاورن اور ماما وہاں ہی رہیں گے۔‘‘ ہارون نے تفصیل سے بات کی تو حیدر کو تسلی ہوئی تھی اور وہ مطمئن ہوگئے تھے۔
’’ماما… ماما۔‘‘ اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ عون اس کے بازو پر ہاتھ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھ اس کے رخساروں پر پھیرنے لگا۔
’’عون… میری جان کیوں تنگ کرتے ہو اپنی ماما کو۔‘‘ اس نے عون کو اپنے دونوں بازوؤں میں بھینچ لیا۔
’’اب نہیں تنگ کروں گا۔‘‘ وہ ابھی دو سال کا نہیں ہوا تھا لیکن بہت صاف بولتا تھا۔ عون نے اس کے رخساروں پر پیار کیا۔ اور پھر اس کے بازوؤں کے حلقے سے نکل کر صوفے پر پڑے اپنے کپڑے اٹھا کر لے آیا۔
’’اچھے کپڑے۔‘‘
’’عون… میری جان۔‘‘ وہ ایک بار پھر اسے اپنے بازوئوں میں لیے رو رہی تھی زارون نے اس سے محبت کی تھی پھر کیوں اسے اپنی زندگی سے نکال دیا تھا۔ کیوں اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وہ زارون عباس کی محبت تھی لیکن نہیں وہ زارون عباس کی محبت نہیں اس کی ضد تھی۔ رجاء حیدر زارون عباس کی ضد تھی۔
/ …/ …/ …/
بھاگتے بھاگتے اس کے پائوں میں کانچ کا کوئی ٹکڑا چبھا تھا۔ ایک سسکاری سی اس کے لہوں سے نکلی اور وہ یک دم بیٹھ گئی۔ اس نے پائوں سے کانچ کا ٹکڑا کھینچ کر نکالا تو خون بھل بھل کرکے اس کے پائوں کے تلوے سے بہہ نکلا۔ وہ پائوں پر ہاتھ رکھے متوحش نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی یہ بڑی مارکیٹ کی بیک سائیڈ تھی جس کے سامنے والے فٹ پاتھ سے بھاگ کر وہ گلی کی طرف مڑی تھی۔ سامنے دو تین دکانوں کے پچھلے دروازوں پر ہلکی روشنی کے بلب جل رہے تھے۔ آس پاس اِدھر اُدھر کوئی نہیں تھا۔ وہ سر جھکا کر پھر پائوں سے بہتے خون کو دیکھنے لگی تھی جب اس نے گلی میں قدم رکھا لمحہ بھر رک کر چاروں طرف دیکھا اور پھر اس کی نظروں نے اسے زمین پر بیٹھتے دیکھ لیا اس کے باریک ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور یہ اس کی چھٹی حس تھی کہ یک دم اس نے سر موڑ کر پیچھے دیکھا اور پائوں سے بہتے خون کی پروا کئے بغیر اٹھ کر بھاگ پڑی۔ وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے بہت اطمینان سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے پیچھے آرہا تھا۔ جانتا تھا کہ اب اسے اس سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وہ اس کی دسترس میں تھی اس کے قریب پہنچ کر اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو پکڑا اس کی چیخ نکل گئی۔
’’ش…‘‘ اس نے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھی۔ ’’آواز نکلی تو گلا گھونٹ دوں گا۔‘‘ اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ کے برعکس اس کی آواز میں بلا کی سفاکی تھی۔ تب ہی دائیں طرف والا دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلی۔ یہ ایک کلینک کا پچھلا دروازہ تھا اور وہ عموماً شارٹ کٹ کے لیے اسی دروازے کو استعمال کرتی تھی۔ اسی گلی سے نکل کر روڈ کراس کرکے وہ ایک پرائیویٹ ورکنگ ویمن ہاسٹل میں رہتی تھی۔ اس نے بلب کی روشنی میں اپنے سامنے کھڑے مرد کو دیکھا اور پھر اس عورت کو جس کا بازو اس نے پکڑ رکھا تھا اور اسے پہچاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی یہ تو وہی تھا بھیڑیا اور وہ ننگے سر کھڑی عورت۔
’’نہیں۔‘‘ اس کے لبوں سے نکلا۔
’’ہے… چھوڑو اسے غلیظ انسان۔‘‘ وہاں ہی کھڑے کھڑے اس نے کہا تو اس مرد نے مڑ کر اسے استہزائیہ نظروں سے دیکھا۔
’’جائو جائو بی بی اپنا کام کرو۔ اپنی راہ لو دوسروں کے معاملات میں دخل مت دو۔ میری بیوی ہے۔ پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں اسے۔ اسی حالت میں گھر سے نکل آئی ہے۔‘‘
’’دوسروں کے معاملات۔‘‘ اس نے مرد کی طرف دیکھا۔ کلینک کے دروازے پر لگے بلب کی روشنی سیدھی مرد کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
’’عدیل‘ عمر‘ شفقت ہیلپ می۔‘‘ وہ پوری طاقت سے چلائی اور کلینک کے ادھ کھلے دروازے سے یک بعد دیگرے تین افراد نمودار ہوئے۔
’’کیا ہوا میم؟‘‘ تینوں کے لبوں سے ایک ساتھ نکلا۔
’’یہ…‘‘ اس نے مرد کی طرف اشارہ کیا جس نے ان تینوں کو دیکھتے ہی گھبرا کر پگلی کا بازو چھوڑ دیا تھا۔
’’یہ ان کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ میری کزن ہے اس کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔‘‘
’’عدیل یہ بکواس کررہا ہے کچھ دیر پہلے یہ اسے بیوی کہہ رہا تھا۔ یہ میری وہی آپی ہیں جن کا میں نے تم سے ذکر کیا تھا۔‘‘
’’غلیظ انسان۔‘‘ عدیل اور عمر تیر کی طرح اس کی طرف بڑھے۔ چند سال پہلے عدیل کی گیارہ سالہ ابنارمل بہن یوں ہی گلی میں اس جیسے کسی انسان کی درندگی کا شکار ہوئی تھی۔ سو اسے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ کچھ کہے بنا ہی وہ سمجھ گیا تھا وہ تیزی سے اس کے قریب آئی جو وہاں ہی ساکت کھڑی اپنے پائوں سے بہتے خون کو دیکھ رہی تھی۔
’’آپی… آپی کہاں چلی گئی تھیں آپ کتنا ڈھونڈا میں نے آپ کو۔‘‘ وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں پہچان کے رنگ نہیں تھے لیکن ان میں اب پہلی سی وحشت اور ڈر بھی نہیں تھا۔
’’آپی…‘‘ اس نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اس کی نظر اس کے پائوں پر گئی خون اس طرح پائوں کے تلوے سے بہہ بہہ کر پائوں کے ارد گرد اکٹھا ہورہا تھا۔
’’اوہ… مائی گاڈ۔ شفقت… شفقت پلیز ویل چیئر لے آئو۔ ان کا پائوں زخمی ہے بہت بلیڈنگ ہورہی ہے۔‘‘ اس نے شفقت سے کہا اور مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں تکلیف کے آثار تھے لیکن وہ دلچسپی سے عدیل اور عمر کو اس کی پٹائی کرتے دیکھ رہی تھی۔ شفقت فوراً ہی چیئر لے آیا تھا۔ اس نے اس کے کندھوں پر دبائو ڈال کر اسے بیٹھایا اور کلینک میں لے آئی۔ کلینک میں داخل ہوتے ہوئے اس نے مڑ کر اسے دیکھا وہ لڑکھڑاتا ہوا جارہا تھا۔ عدیل نے ٹھیک ٹھاک اس کی دھنائی کی تھی۔
’’میں نے آپ کو بہت ڈھونڈا آپی۔ جب سے لیبیا سے آئی ہوں تب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ نیچے زمین پر بیٹھی اس کے پائوں کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’یہ آپ کی سگی بہن ہے سسٹر۔‘‘ شفقت نے اسپرٹ میں بھیگی ہوئی روئی اسے پکڑاتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ اس کی سگی بہن نہیں تھی لیکن اسے اس کا خیال رکھنا تھا اس کا علاج کروانا تھا اس کی دیکھ بھال کرنی تھی اور اس کے اپنوں کو ڈھونڈنا تھا وہ صرف ان دعائوں کی ہی قرض دار نہیں تھی جو اس کے بابا اسے دیا کرتے تھے بلکہ وہ اس کی بھی قرض دار تھی۔ وہ قانتہ نورین تھی اس کی قرض دار۔
/ …/ …/ …/
’’میں اسے کہاں ڈھونڈوں کہاں تلاش کروں۔‘‘ عون عباس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے ہارون عباس کا دل جیسے پگھل کر پانی ہوا۔ دنیا کی بھیڑ میں وہ جانے کہاں کھو گئی تھی۔ ساڑھے چار سال پہلے جب اس نے بمشکل زارون عباس کو پاکستان آنے کے لیے تیار کیا تھا اور ابھی وہ پاکستان آنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ ردا نے اسے حیدر کی ڈیتھ کی اطلاع دی تو وہ بلک بلک کر رویا تھا۔ حیدر نے اسے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔ وہ ان کا لاڈلا تھا اور اتنے سالوں سے ان سے ملنے نہیں گیا تھا تو صرف اس لیے کہ وہ ابھی تک رجاء حیدر کا خیال دل سے نکال نہیں پایا تھا وہ اس طرح اس کے دل کے سنگھاسن پر قبضہ جمائے بیٹھی تھی اور وہ خود سے ڈرتا تھا کہ کہیں رجاء کو سامنے دیکھ کر اس کا دل بے اختیار نہ ہوجائے وہ اب اس کے پیارے بھائی زارون کی بیوی تھی۔ اور اس نے بابا کے ساتھ زیادتی کردی تھی انہوں نے کبھی اس کی بات نہیں ٹالی تھی۔ جب وہ رجاء اور زارون کی شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے تذبذب تھے تو یہ وہی تھا جس نے انہیں راضی کیا تھا۔
’’زندگی میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا بابا جیسا ہم چاہتے ہیں۔ زارون اور جیا ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہیں گے۔‘‘ لیکن ایسا نہیں ہوسکا تھا۔ حیدر کے خدشات صحیح تھے۔ زارون امریکہ آکر رجاء کو فراموش کر بیٹھا تھا۔ زہرا اور ہارون اسے کچھ کہتے تو وہ چڑ جاتا۔
’’اگر وہ اکیلی ہے تو کیا ہوا۔ بلوا لوں گا اسے۔ باپ ہے نا اس کے پاس۔‘‘
’’اب وہ تمہاری ذمہ داری ہے زارون‘ حیدر کی نہیں۔‘‘ اس سنڈے وہ آیا تو زہرا نے سمجھایا تھا۔
’’آپ کو بھی ذمہ داری کا پتا ہے آپ تو میری ذمہ داری سے جان چھڑا کر چلی گئی تھیں تو جو کام آپ نے نہیں کیا اس کا سبق مجھے مت دیا کریں۔‘‘ وہ تلخ ہوا تھا اور اس روز وہ بہت روئی تھیں۔ اس کا ذہن اتنا زہر آلود ہوچکا تھا کہ ان کی محبتیں ہارون کی قربانی کچھ بھی اس زہر کا تریاق نہیں بن سکا تھا۔ ہارون حیدر کو تسلیاں دیتا لیکن خود مطمئن نہیں تھا وہ زارون سے پیپرز جمع کروانے کے لیے اصرار کرتا تو وہ چڑ جاتا۔
’’آپ کو کیوں بے چینی ہے۔ نہیں بلوانا مجھے اسے۔‘‘ پھر بھی اس نے کسی نہ کسی طرح خود زارون کو ساتھ لے جاکر اس کے پیپرز جمع کروائے تھے۔ اور پاکستان جانے کے لیے اسے تیار بھی کیا تھا۔
’’جیاء کی تمہیں پروا نہ ہو زارون لیکن عون تو تمہارا بیٹا ہے نا۔‘‘ اور اس بار زارون خاموش ہوگیا تھا۔ وہ سب کتنے خوش تھے۔ زہرا کے ساتھ جاکر اس نے رجاء اور عون کے لیے ڈھیروں شاپنگ کی تھی۔ لیکن زارون وعدہ کرکے پھر غائب ہوگیا تھا۔ وہ اس کے منتظر تھے کہ کراچی سے ردا کا فون آگیا۔ وہ اڑ کر پہنچنا چاہتا تھا لیکن زہرا زارون کے بغیر نہیں جانا چاہتی تھیں۔
’’اگر ہم چلے گئے تو پھر شاید وہ کبھی واپس پاکستان نہ جائے میں حیدر کا منہ نہیں دیکھ سکی اب چار دن بعد چلے جائیں تو کیا۔ لیکن زارون کو ساتھ ہی لے کر جانا ہے ایک بار عون کو گود میں لے گا تو اس کی محبت اسے ضرور زنجیر کردے گی یہ اولاد کی محبت اتنی ہی ظالم ہوتی ہے ہارون۔‘‘ لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ زنجیریں تو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہے۔
ہارون بے بس تھا تڑپ رہا تھا۔ رجاء بالکل اکیلی تھی تنہا تھی اور وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ ردا اس کے لیے پریشان تھی بار بار پوچھتی وہ کب پاکستان جارہا ہے۔ زارون کا فون بند تھا۔ وہ نیویارک جاکر بھی دیکھ آیا تھا اس کے فلیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔ لینڈ لیڈی نے بتایا تھا کہ وہ گھر چھوڑ کر شاید واشنگٹن چلا گیا ہے۔ تب اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب انتظار فضول ہے۔
’’میں سیٹیں بک کروانے جارہا ہوں ماما۔ پندرہ دن ہوگئے ہیں بابا کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم یہاں بلاوجہ ہی زارون کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘
/ …/ …/ …/
’’بابا…‘‘ عون نے یک دم ہی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
’’میں نے کیا کہا تھا کہ آنکھیں بند کرکے سوجائیں۔‘‘ اس نے چونک کر عون عباس کی طرف دیکھا۔
’’میں نے آنکھیں بند کیں لیکن نیند نہیں آئی۔‘‘ وہ معصومیت سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
’’کوشش کرو نیند آجائے۔‘‘
’’لیکن مجھے اِدھر نہیں سونا۔ مجھے آج دادو کے پاس سونا ہے انہوں نے پرامس کیا تھا کہ وہ آج مجھے کہانی سنائیں گی۔‘‘
’’تو میں کہانی سناتا ہوں اپنی جان کو۔‘‘
’’آپ کو اچھی کہانی نہیں آتی۔‘‘ وہ بیڈ سے نیچے اترا۔ چند قدم چلا اور پھر مڑ کر اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں بلا کی چمک تھی۔
’’مجھے آپ کو کچھ دکھانا بھی تھا۔‘‘ اسے جیسے اچانک یاد آیا تھا اب وہ ہولے ہولے وارڈ روب کی طرف جارہا تھا۔ اس نے وارڈ روب کی دراز کھولی کچھ نکالا اور پھر اس کی طرف رخ کرتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیے اور ہولے ہولے چلتا ہوا اس کے بیڈ کے قریب آیا۔
’’بتائیں میرے پاس کیا ہے؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’میں بتائو کیا ہے… یہ…‘‘ اس نے ہاتھ آگے کیے۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کا میٹل کالا ہوگیا تھا لیکن اس کے نگینے اس طرح چمک رہے تھے یہ کرائون تھا۔ اس کی کوئین کا کرائون۔
/ …/ …/ …/
’’اور تمہارا فون کیا ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا۔‘‘
’’نہیں۔ بابا نے کہا تھا وہ کسی اور کو دکھائیں گے لیکن بابا…‘‘ وہ رونے لگی۔ ہارون سے اس کا رونا برداشت نہیں ہوا۔
’’ماما سے بات کرو۔‘‘ اور وہ پھوپو سے بات کر ہی رہی تھی کہ فون بند ہوگیا ریسیور کریڈل پر ڈال کر وہ واپس آئی تو عون اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’آپ کی دادو اور انکل آرہے ہیں عون۔‘‘ وہ کئی بار اسکائپ پر زہرا سے بات کرچکا تھا البتہ ہارون سے کم ہی بات ہوتی تھی اس کی۔ وہ اسکائپ آن کرکے زہرا کے حوالے فون کرکے خود منظر سے غائب ہوجاتا تھا۔
’’کیا پاپا اور بابا بھی۔‘‘ عون نے خوش ہوکر پوچھا۔
’’ہاں شاید پاپا بھی۔‘‘ ردا نے بتایا تو تھا کہ پھوپو زارون کو ساتھ ہی لے کر آنا چاہتی ہیں۔
’’بابا بھی… بابا بھی۔‘‘ وہ اچھلنے لگا تھا۔
’’بابا نہیں آئیں گے عون۔ بابا اب کبھی نہیں آئیں گے۔‘‘ وہ اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ کر رونے لگی تھی۔ عون نے اچھلنا بند کردیا تھا اور ماں کو دیکھ رہا تھا۔ تب ہی بیل ہوئی۔ وہ یک دم خوف زدہ ہوکر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔ بیل پھر ہوئی تو وہ ڈرتی ڈرتی دروازے تک آئی۔ ڈور آئی سے باہر دیکھا۔ زارون ہینڈ کیری کا ہینڈل پکڑے کھڑا تھا اس نے دروازہ کھول دیا۔
’’زارون…!‘‘ اسے دیکھتے ہی اس کی آنسو بہنے لگے۔
’’بابا چلے گئی زارون۔‘‘ اس کے قدم اندر رکھتے ہی وہ یک دم اس سے لپٹ کر رونے لگی۔ زارون نے ناگواری سے اسے الگ کیا اور ہینڈ کیری دھکیلتا لائونج کے وسط میں آیا۔ اب وہ دلچسپی سے صوفے پر بیٹھے عون عباس کو دیکھ رہا تھا اور عون عباس اسے۔ پھر وہ مسکرایا اور انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا۔
’’پاپا…‘‘
’’پاپا کی جان۔‘‘
یک دم ہینڈ کیری کا ہینڈل چھوڑ کر اس نے نیچے کارپٹ پر بیٹھے ہوئے بچے کے لیے اپنے بازو پھیلائے۔ عون عباس صوفے سے اتر کر اس کی بانہوں میں سما گیا۔ وہ کتنا پیارا تھا۔ کتنا کیوٹ تھا اس کا بیٹا جسے وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا اور جسے اس نے ان دو سالوں میں ایک بار بھی دیکھنے کی خواہش نہیں کی تھی۔
رجاء اب بھی کھڑی آنسو بہا رہی تھی وہ عون عباس کو لے کر صوفے پر بیٹھ گیا اور اسے چومنے لگا۔ اس کے ہاتھوں کو اس کی پیشانی کو رخساروں کو اور یہ کتنا خوب صورت منظر تھا۔ رجاء اس منظر میں کھو سی گئی آج بابا ہوتے تو زارون کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتے اور بابا کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ اس رات زارون نے کیا کہا تھا۔
’’آپ نے مجھ سے وہ سب کیوں کہا تھا زارون۔‘‘ اس رات کی بات یاد آتے ہی وہ گلہ کر بیٹھی۔
’’اس لیے کہ میں تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا۔ کیا تمہیں ابھی تک پیپرز نہیں ملے حیرت ہے۔‘‘
’’کیسے پیپرز۔‘‘ اس کی آنکھوں میں غم‘ دکھ حیرانی سب کچھ تھا۔
’’طلاق کے پیپرز…‘‘ زارون نے نظریں چرائیں۔
’’کیا تمہیں بابا نے نہیں بتایا تھا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے اور پیپرز بھجوارہا ہوں۔‘‘ اس کی رنگت سپید پڑگئی تھی اور ہونٹ لرزنے لگے تھے۔ سر غیر ارادی طور پر نفی میں ہل رہا تھا۔
’’اوہ اگر بابا نے نہیں بتایا تو سن لو میں نے تمہیں بقائمی ہوش و حواس میں طلاق دی تھی۔‘‘
’’تو اس رات…‘‘ اس کی آنکھیں خون رنگ ہوگئیں اور اس نے انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا۔
’’تم قاتل ہو میرے بابا کے قاتل… زارون عباس میرے گھر سے نکل جاؤ ابھی اور اسی وقت۔‘‘
’’میں یہاں رہنے نہیں آیا۔‘‘
’’تو پھر کیا کرنے آئے ہو؟‘‘
’’اپنے بیٹے کو لینے…‘‘ وہ عون عباس کو اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔
’’نہیں یہ میرا بیٹا ہے تمہارا کوئی حق نہیں ہے اس پر۔‘‘ وہ عون کو اس سے چھیننے لگی۔
’’تم نے میرے بابا کو مارا ہے قاتل ہو تم۔ میرا بیٹا مجھے دو۔‘‘
’’پیچھے ہٹو…‘‘ زارون نے اسے ہلکا سا دھکا دیا تو وہ پیچھے صوفے سے ٹکرائی اور وہ ایک ہاتھ سے ہینڈ کیری کا ہینڈل پکڑتا اور دوسرے ہاتھ میں اسے اٹھائے تیزی سے دروازے سے باہر نکل گیا۔
’’ماما… ماما۔‘‘ عون رونے لگا۔ وہ پیچھے بھاگی۔
’’میرا بیٹا… میرا بچہ مجھے دے دو۔ مجھ پر ظلم نہ کرو۔‘‘ وہ روتی ہوئی روڈ تک اس کے پیچھے آئی تھی لیکن اسی اثنا میں وہ ٹیکسی روک کر اس میں بیٹھ چکا تھا وہ سڑک پر اکیلی کھڑی رہ گئی تھی۔ عون کے رونے کی آواز اس کے کانوں میں آرہی تھی۔ وہ رات کے اس وقت وہاں اکیلی تھی۔ یک دم وہ خوف زدہ ہوکر روتے ہوئے مڑی۔
اس نے روم کی کھڑکی سے اسے دیکھا تھا جب وہ زاورن کو پکارتی ہوئی باہر نکل کر اس کے پیچھے بھاگی تھی اور اب وہ اسے روتے ہوئے واپس آتے دیکھ رہا تھا اس نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکا اور اپنے روم سے نکلا۔ لاؤنج خالی پڑا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی سب سوچکے تھے دبے قدموں وہ باہر نکلا اور چند لمحے ساتھ والے دروازے پر کھڑا رہا۔ اور پھر بیل دینے کے لیے اس نے ہاتھ اوپر کیا ہی تھا کہ اسے لگا دروازہ کھلا ہوا ہے اس میں ہلکی سی جھری تھی اس نے دروازہ ٹھیک طرح سے بند نہیں کیا تھا کہ لاک ہوجاتا۔ وہ لاؤنج کے وسط میں گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی اس نے اس کے پیچھے جاکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’زارون۔‘‘ اس کے لبوں سے نکلا اور اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
’’آپ؟‘‘
’’سوری میں نے آپ کو روتے ہوئے گھر آتے دیکھا تو خیریت پوچھنے چلا آیا سب خیریت ہے ناں؟‘‘
’’خیریت… خیریت کہاں ہے۔‘‘ وہ ذرا سی ہمدردی پا کر بکھر گئی تھی۔
’’وہ… زارون میرا بیٹا چھین کر لے گیا ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ اس کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔
وہ ٹوٹ رہی تھی بکھر رہی تھی۔ اور وہ اس کے سامنے کھڑا بہت ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’زاورن نے مجھے طلاق دے دی اور میرے بیٹے کو چھین کر لے گیا ہے۔‘‘ وہ زار وقطار رو رہی تھی۔ وہ اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا تھا سوائے اس کے کہ وہ یہاں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھی اور اس کا شوہر کہیں باہر ہوتا تھا۔ اس کی آنکھیں یک دم چمک اٹھیں تھیں۔ یہ اس کے سامنے بیٹھی آنسو بہاتی عورت پہلے ہی دن سے اسے بھاگئی تھی اس وقت تنہا تھی اکیلی تھی اور دکھ سے ٹوٹ رہی تھی۔ ایسی عورت بہت آسان شکار ہوتی ہے۔
’’پلیز بیٹھیں۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے اور ہلکا سا دباؤ ڈال کر اسے صوفے پر بٹھایا۔
’’اور مجھے بتائیں میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ اسی طرح زارو قطار رو رہی تھی۔ وہ مڑا اور کچن سے پانی لے آیا۔
’’پلیز یہ پانی پی لیں اور مجھے ساری بات بتائیں کہ وہ بچے کو لے کر کہاں گیا ہے۔‘‘ اس نے روتے روتے نفی میں سر ہلایا اور اس کی نظر صوفے پر فیڈر پر پڑی۔
’’وہ دودھ نہیں پی رہا تھا کیونکہ اسے چپس کھانے تھے۔‘‘ وہ اور شدت سے رونے لگی۔ وہ اس کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گیا اور گلاس اس کے منہ سے لگایا۔ اس نے ایک گھونٹ بھر کر گلاس پرے کردیا۔ اسے احساس نہیں تھا کہ ایک اجنبی فرد اس کے اتنے قریب بیٹھا ہے۔ اس نے اٹھ کر گلاس سینٹر ٹیبل پر رکھا اور ایک بار پھر صوفے پر اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’آپ کے شوہر کب سے باہر ہیں؟‘‘
’’وہ عون کی پیدائش سے پہلے ہی چلے گئے تھے اور عون اب دو سال کا ہونے والا ہے۔‘‘ اس نے لبوں پر زبان پھیری۔ اسے زیر کرنا تو بہت آسان ہوگا۔
’’پھر اب آپ نے کیا سوچا ہے…؟‘‘ وہ ذرا سا اس کے قریب کھسکا۔
’’ہارون بھائی اور میری پھوپو کل آرہی ہیں وہ خود ہی زارون سے بات کرلیں گے۔‘‘ ان کا خیال آنے پر اس نے ذرا سا اطمینان محسوس کیا تھا۔ اس کے ایک آنسو پر تڑپ اٹھنے والا ہارون بھلا اسے یوں تڑپتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔ وہ عون عباس کو لے آئے گا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ بے چین ہوگئی تھی۔
’’میرے بغیر وہ کیسے رہے گا۔ وہ بہت رو رہا ہوگا۔ میرا عون۔‘‘ ایک بار پھر آنسو اسی روانی سے بہنے لگے تھے۔
’’کل کس وقت؟‘‘ وہ ذرا سا اور اس کے قریب ہوا۔
’’یعنی آج ہی موقع ہے۔‘‘ اس کا ہوس زدہ دل اس کی قربت کے لیے تڑپ رہا تھا۔ یک دم ہاتھ بڑھا کر اس نے اسے اپنے قریب کرلیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے۔
’’مت روئیں پلیز آپ کے رونے سے میرے دل کو کچھ ہورہا ہے۔‘‘ ایک جھٹکے سے اس نے خود کو اس کے بازو کے حلقے سے نکالا اور خوف زدہ نظروں سے اس کی آنکھوں میں ناچتی ہوس کو دیکھا۔ اور کھڑی ہوگئی۔ وہ اطمینان سے صوفے پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ بھلا یہ کمزور سی لڑکی اس سے بچ کر کہاں جاسکتی تھی۔
’’آپ پلیز گھر جائیں۔‘‘
’’میں جانے کے لیے نہیں آیا سوئیٹی۔‘‘ اس نے بیٹھے بیٹھے ہی اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔
’’شٹ اپ۔‘‘ اس نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
’’آج تک کسی نے اعظم بیگ کو شٹ اپ نہیں کہا ڈارلنگ لیکن تمہارے منہ سے برا نہیں لگا۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ…‘‘
وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور دروازے کے لاک کو پریس کرکے گھمایا۔ وہ یک دم اٹھا اور اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو دروازہ پورا کھل گیا۔
’’چھوڑ دو… چھوڑ دو مجھے ورنہ میں ابھی مسز بیگ کو آواز دیتی ہوں… مسز بیگ۔‘‘ وہ پوری طاقت سے چلائی لیکن فوراً ہی اس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔ اس کی توقع کے بالکل خلاف رجاء نے دروازے کے پاس لابی میں پڑا بھاری گل دان اٹھا کر اسے مارا جو اس کے ماتھے پر لگا۔ غیر ارادی طور پر اس کا بازو چھوڑ کر اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ تیزی سے کھلے دروازے سے باہر نکلی اور بھاگنے لگی۔ ماتھے کی چوٹ بھول کر وہ اس کے پیچھے لپکا لیکن اس اثناء میں وہ فلیٹوں کا درمیانی راستہ طے کرکے روڈ پر پہنچ چکی تھی اور اب اسپتال کی دیوار کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی۔
بغیر سوچے سمجھے بھاگئے جارہی تھی وہ روڈ کراس کرکے اس کے پیچھے جانا ہی چاہتا تھا کہ ساتھ والی گلی سے ایک ایمبولینس ہارن بجاتی ہوئی نکلی اسے رکنا پڑا۔ ایمبولینس کے پیچھے ہی ایک گاڑی بھی کسی سمت سے آگئی تھی اور جب اس نے ان کے جانے کے بعد سامنے دیکھا تو وہ اسے نظر نہیں آئی۔ خیر کہاں جائے گی ابھی کچھ دیر بعد واپس ہی آئے گی اور اسے کچھ دیر کا انتظار کرنا تھا وہ مڑ کر اپنے لان میں پڑی چیئر پر بیٹھ کر اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔ وہ اندھا دھند اسپتال کی دیوار کے ساتھ ساتھ بھاگتی جارہی تھی۔ اس نے ایک جگہ رک کر سانس درست کیا اور سوچا کہ جیسے ہی اسپتال کا کوئی گیٹ نظر آتا ہے تو وہ اندر جا کر باہر لان میں‘ لاؤنج میں کہیں بھی بیٹھے مریضوں کے تیمارداروں کے پاس بیٹھ جائے گی اور پھر صبح ہی گھر واپس آئے گی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا پیچھے کوئی نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ تقریباً بھاگ رہی تھی۔ جب اچانک ہی اسے ایک چھوٹا سا گیٹ نظر آیا اور اس سے باہر آتی قانتہ نورین جو رات کے بارہ بجے اپنی ڈیوٹی دے کر ہاسٹل جارہی تھی۔
’’قانتہ…‘‘ وہ پوری طاقت سے چلائی۔
’’ہیلپ می پلیز۔‘‘ قانتہ نے مڑ کر اسے دیکھا اور لپک کر اس کے قریب آئی۔
’’کیا ہوا…‘‘
’’قانتہ…‘‘ وہ اس کے بازوؤں میں جھول گئی۔ قانتہ نے اپنی ساتھی نرس کی مدد سے اسے اندر پہنچایا لیکن وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا اس کا بیٹا کہاں تھا۔ اس کا شوہر اور دوسرے عزیز کہاں تھے۔ قانتہ نہیں جانتی تھی لیکن رات کے اس پہر وہ اس طرح… کہیں کچھ غلط ضرور تھا۔ اسے پوری رات ہوش نہیں آیا تھا۔ اور قانتہ اس کے پاس ہی وارڈ میں رہی تھی۔
اگلے دن بھی اسے پوری طرح ہوش نہیں آیا تھا۔ ایک دو بار اس نے آنکھیں کھولی تھیں۔ اور عون کو پکارا تھا۔ زارون کا نام لیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا چھین کر لے گیا ہے اور پھر ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی تھی۔
’’اسے کوئی شدید صدمہ پہنچا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حارث نے قانتہ سے کہا۔
زارون نے اسے طلاق دے دی تھی۔ یہ صدمہ کم نہیں تھا اور وہ عون کو بھی چھین کر لے گیا تھا۔ یہ دوہرا صدمہ تھا اور پھر اعظم بیگم کا گھر میں گھس آنا اور پھر وہ پہلے ہی صدمے سے دو چار تھی اس کا ذہن برداشت نہیں کرسکا تھا اور وہ مکمل طور پر ہوش میں نہیں آرہی تھی۔ وہ تیسری رات تھی جب اسے ہوش آیا تھا۔ قانتہ اپنی ڈیوٹی ختم کرکے اسی وقت اس کے پاس آئی تھی اسے دیکھتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’میں یہاں کیسے؟‘‘
اور پھر اسے سب کچھ یاد آگیا اور وہ رونے لگی۔ قانتہ نے اسے گلے لگا لیا اور پیار کیا۔
’’آپی پلیز کیا ہوا مجھے بتائیں؟‘‘
اور تب اس نے سب کچھ بتادیا اور جب اسے پتا چلا کہ آج اس کی یہاں تیسری رات ہے تو وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
’’وہ آگئے ہوں گے میری پھوپو اور ہارون بھائی مجھے ابھی گھر جانا ہے پلیز مجھے گھر لے چلو۔‘‘ قانتہ نے ایک بار پھر اسے گلے لگا لیا تھا اور اس کے ساتھ چل پڑی تھی۔
’’یہ دنیا بڑی ظالم ہے رجاء آپی۔ اکیلی عورت ہر ایک کے لیے آسان شکار ہوتی ہے۔ میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ میرا کوئی نہیں ہے۔ پھر بھی ایک شخص میرے پیچھے پڑگیا ہے۔ یہاں انتظامیہ کے ایک شخص کے پاس آتا جاتا ہے۔ بڑا زمین دار ہے۔ مجھے دھمکیاں دیتا ہے کہ اٹھوالے گا۔ اسی لیے میں نے اپنی ٹریننگ ختم ہوتے ہی لیبیا کے لیے جو نرسز کی بھرتی ہورہی تھی اس کے لیے انٹرویو دے دیا تھا۔ انہوں نے مجھے پاسپورٹ بنوانے کے لیے کہا ہے ایک دو روز میں مل جائے گا۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے وہ بتارہی تھی لیکن رجاء دھیان سے اس کی بات نہیں سن رہی تھی وہ تو عون‘ پھوپو اور ہارون عباس کے متعلق سوچ رہی تھی۔
’’وہ کیا سوچتے ہوں گے میں کہاں چلی گئی۔ ہارون بھائی تو مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ کیا خبر وہ سمن آباد چلے گئے ہوں۔‘‘
’’سنو قانتہ اگر پھوپو اور ہارون وہاں نہ ہوئے تو تم مجھے ابھی سمن آباد چھوڑ آؤ گی نا؟‘‘ قانتہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’سمن آباد میں کون رہتا ہے؟‘‘
’’وہاں ہمارا گھر ہے۔ میرا میکہ مگر کرائے پر دیا ہوا ہے۔ لیکن اوپر کا پورشن تو خالی ہی ہے کیا خبر پھوپو ادھر ہی چلی گئی ہوں۔‘‘ قانتہ نے اسٹریٹ لائٹیس کی روشنی میں اسے دیکھا۔ وہ بالکل زرد ہورہی تھی اور برسوں کی مریض نظر آتی تھی۔
’’ٹھیک ہے ایک وارڈ بوائے ہے ادھر مجھے اپنی بہن ہی سمجھتا ہے۔ بہت عزت کرتا ہے میری ڈیوٹی پر ہوگا اسے ساتھ لے لیں گے۔ ورنہ اکیلے اس وقت سمن آباد جانا بہت مشکل ہے۔‘‘
اس نے کلائی موڑ کے وقت دیکھا ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور وہ دونوں اب اسپتال کی پچھلی دیوار کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ بالکل سامنے ایگرو فلیٹس کی قطار نظر آرہی تھی۔ وہ بے چین ہوکر تیز تیز چلنے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے فلیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ کتنی ہی دیر تک وہ بیل دیتی رہی لیکن دروازہ نہیں کھلا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آخر انہوں نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا۔ یہاں میرے گھر میں رہ کر انہیں میرا انتظار کرنا چائیے تھا۔ ایک لمحہ کے لیے اس نے مسز بیگ کے گھر کی بیل بجانے کا سوچا۔ وہ ضرور مسز بیگ سے کچھ کہہ گئے ہوں گے۔ کوئی پیغام دے گئے ہوں گے لیکن پھر خوف زدہ ہوگئی۔ نہیں کیا خبر دروازہ ان کا بیٹا کھولے وہ درندہ صفت شخص۔
’’مجھے سمن آباد جانا ہے قانتہ پلیز۔‘‘
’’اوکے چلتے ہیں بس ذرا اسپتال سے منظور کو لے لیں گے۔ تمہیں چھوڑ کر میں اکیلی واپس نہیں آسکتی۔‘‘ وہ اب دونوں واپس جارہی تھیں۔ یہ مین روڈ نہیں تھی اس لیے ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ دن کے وقت بھی اکا دکا گاڑیاں اور رکشے‘ ٹیکسیاں نظر آتی تھیں۔ اور اب تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ روڈ ویران تھی۔
’’اس وقت ہمیں رکشہ روڈ سے ہی ملے گا۔ منظور کو اجازت مل جائے آج اس کی نائیٹ ڈیوٹی ہے۔‘‘ قانتہ ساتھ چلتے ہوئے بتارہی تھی۔ اب اچانک فلیٹوں کے درمیان والی گلی سے ایک گاڑی نکل کر تیزی سے روڈ کی طرف آئی تھی۔ دونوں نے ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیا تھا۔ لیکن مہران ذرا سا آگے جا کر رک گئی تھی اور اس میں سے نکلنے والا شخص نے قانتہ کا بازو پکڑ کر کھینچا تھا۔ رجاء چونکی اور دوسرے ہی لمحے وہ قانتہ کو پکڑ کر کھینچنے لگی۔
’’چھوڑو… چھوڑو اسے۔‘‘
’’اس دوسری کو بھی اندر ڈالو۔‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے بلند آواز میں کہا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ پوری طاقت سے قانتہ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی جب اس شخص نے اسے زور سے دھکا دیا وہ اچھل کر روڈ پر گری۔ اور اچانک روڈ پر نمودار ہونے والی گاڑی کے بمپر نے ایک بار پھر اسے اچھال کر گرایا۔ اس کا سر سڑک سے ٹکرایا۔ قانتہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ قریبی گلی سے چوکی دار آواز لگاتا آرہا تھا۔ اس شخص نے قانتہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تو قانتہ چیختی ہوئی رجاء کی طرف بھاگی۔ گاڑی والا کوئی شریف انسان تھا اور گاڑی سے اتر کر رجاء کے پاس بیٹھا تاسف سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر اس کی مدد سے وہ اسے اسپتال لائی تھی۔ رجاء کے دماغ پر بہت شدید چوٹ لگی تھی اور وہ ہوش میں نہیں تھی۔ ڈاکٹروں کے خیال کے مطابق اس کی بے ہوشی طویل بھی ہوسکتی تھی کتنی طویل اس کے متعلق انہوں نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
قانتہ اس کا خیال رکھ رہی تھی اور اسے ہی اس کا خیال رکھنا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے اس حال میں پہنچی تھی۔ وہ دوبارہ اس کے فلیٹ پر بھی گئی تھی لیکن وہ لاک تھا۔ اور مسز بیگ کا فلیٹ بھی لاک تھا۔ وہ جب مسز بیگ کے دروازے پر کھڑی تھی تو سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آتی کام والی ماسی نے اسے بتایا تھا کہ۔
’’مسز بیگ تو اپنی بیٹی کے پاس فرانس چلی گئی ہیں۔ ایک ماہ کے لیے اس کے بچے کی پیدائش کے بعد ہی واپس آئیں گی۔‘‘
’’اور یہ آٹھ نمبر فلیٹ والوں کے متعلق کچھ پتا ہے؟‘‘
’’نہ جی… یہ فلیٹ تو بہت دنوں سے بند ہے۔‘‘ اس نے قانتہ کو بتایا تھا اس کی عزت اور زندگی کو۔ وہ اس کے لیے کیا کرے کیسے اس کے عزیزوں کو تلاش کرے۔ اس نے آس پاس کے ایک دو فلیٹوں سے پوچھا تھا لیکن اس کا کہیں آنا جانا نہیں تھا۔ اس کے عزیزوں کے متعلق کوئی نہیں جانتا تھا بس ایک مسز بیگ تھیں جن سے کچھ پتا چل سکتا تھا اور اسے ان کی واپسی کا انتظار کرنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا ویزا اور ٹکٹ آگیا تھا۔
وہ ہوش میں نہیں آئی تھی اور اسے لیبیا جانا تھا دو سال کا کنٹریکٹ تھا وہ مجبور تھی اس نے سسٹر مارتھا کی منت کی تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں وہ اس کا خیال رکھے گی۔ وہ اس کے علاج کے لیے رقم بھجواتی رہے گی۔ اس نے ڈاکٹر حارث کی بھی منت کی تھی کہ وہ اس کا خیال رکھیں۔ اس نے اپنے پاس جمع رقم کا کافی حصہ اسپتال میں اس کے علاج کے لیے جمع کروایا تھا۔ وہ چلی گئی تھی اور اس کے جانے کے صرف چھ دن بعد وہ ہوش میں آگئی تھی لیکن دماغ پر لگنے والی چوٹ سے اس کا ذہنی توازن خراب ہوگیا تھا۔
ڈاکٹر حارث نے مارتھا سے کہا کہ وہ اسے گھر لے جاسکتی ہیں لیکن مارتھا ایک چھوٹے سے کوارٹر میں اپنے چھ افراد کے خاندان کے ساتھ رہتی تھی اور وہاں کسی ساتویں کی گنجائش نہیں تھی۔ دو تین روز تک وہ وارڈ میں اِدھر اُدھر چکراتی پھری۔ پھر انتظامیہ نے اسے ایک ادارے میں بھیج دیا جہاں ایسے بیمار‘ معذور اور لاوارث رہتے تھے۔ وہ جو اپنے ابو کی پرنسز اور ہارون عباس کی کوئین تھی اب لاوارث تھی۔
/ …/ …/ …/
وہ لان میں چیئر پر بیٹھی تھی سامنے پلاسٹک کی ٹیبل پر چھوٹی سی کین کی خالی باسکٹ پڑی تھی اور وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی جب اس نے باڑ کے اوپر جھانکا۔
’’السلام وعلیکم مسز بیگ کیا میں آپ سے بات کرسکتی ہوں۔‘‘ انہوں نے اجنبی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سر ہلایا۔
اور وہ فوراً ہی باڑ کے پیچھے سے ہٹ کر ان کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔ مسز بیگ بالکل ویسی ہی تھیں نیلے چھوٹے چھوٹے پھولوں والی سفید کلف لگی ساڑھی میں ملبوس۔ ہاں ان کے بال پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ سفید ہوگئے تھے۔
’’میں قانتہ ہوں… قانتہ نورین۔ اڑھائی سال پہلے میں آپ کے پاس رجاء عباس کا پتا کرنے آئی تھی اور آپ نے بتایا تھا کہ رجاء عباس کے عزیز بھی اسے ڈھونڈ رہے ہیں اور انہوں نے اپنا نمبر بھی آپ کو دے رکھا ہے کہ اگر کبھی آپ کو رجاء کے متعلق کچھ بھی معلوم ہو تو آپ انہیں اطلاع کردیں۔ کیا آپ کے پاس وہ نمبر ہے ابھی بھی؟‘‘
اس نے تمہید میں وقت ضائع کئے بغیر اپنا مدعا بیان کیا تو وہ چونکیں۔ انہوں نے اسے پہچان لیا تھا۔ اڑھائی سال پہلے وہ رجاء کا پتا کرنے آئی تھی۔ گو اب اس کا جسم کچھ گداز ہوگیا تھا اور رنگ بھی پہلے کے مقابلے میں صاف ہوگئی تھی۔
’’ہاں ہے… اس کا کزن پندرہ بیس دنوں بعد چکر لگاتا رہتا ہے کیا تمہیں اس کے متعلق کچھ پتا چلا؟‘‘
’’کیا آپ مجھے ان کا نمبر دے سکتی ہیں۔‘‘ اس نے ان کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے بے تابی سے پوچھا۔
’’کیوں نہیں… آپ بیٹھو میں نمبر لے کر آتی ہوں میری ڈائری میں لکھا ہے۔‘‘ مسز بیگ اپنے فلیٹ میں چلی گئیں تو اس نے ساتھ والے لان پر نظر ڈالی۔ لان کی گھاس سوکھی ہوئی تھی اور وہاں ویرانی سی تھی۔ بچوں کے ٹوٹے کھلونے اِدھر اُدھر پڑے تھے۔ لگتا تھا مکین لان کا اس طرح خیال نہیں رکھتے تھے جس طرح رجاء عباس رکھتی تھی۔
وہ دو سال بعد لیبیا سے آئی تو رجاء کا پتا کرنے آئی تھی تب مسز بیگ نے بتایا تھا کہ اس فلیٹ میں نئے لوگ آگئے ہیں۔ مارتھا نے اسے بتایا تھا کہ رجاء کو کسی ادارے میں بھیج دیا گیا تھا وہ شرمندہ تھی اور جب اس ادارے میں گئی تو پتا چلا کہ وہ ایک روز نظر بچا کر نکل گئی تھی پھر پتا نہیں چل سکا۔ تب اس نے لاہور میں موجود اس طرح کے ان سارے اداروں کے چکر لگائے تھے جن کے متعلق اسے پتا چلا تھا لیکن رجاء نہیں مل سکی تھی۔
’’شکریہ مسز بیگ۔‘‘ اس نے مسز بیگ سے کاغذ کا ٹکڑا پکڑ کر اپنے بیگ میں رکھا۔
’’بیٹھو چائے پیو؟‘‘
’’نہیں مسز بیگ مجھے اپنی ڈیوٹی پر جانا ہے ان شاء اﷲ پھر کبھی آپ کے ساتھ چائے پیوں گی۔‘‘ وہ جانے کے لیے مڑی تب ہی دروازہ کھول کر وہ باہر آیا اور باڑ کے باہر مسز بیگ کو پکارا۔
’’مما۔‘‘
’’یہ میرا بیٹا ہے کل رات اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔‘‘ اسے اس کی طرف دیکھتے پا کر مسز بیگ نے بتایا۔
اس کی دائیں آنکھ کے نیچے گہرا نیل پڑا تھا ناک سوجی ہوئی تھی رخساروں پر بھی نیل تھے۔
’’ایکسیڈنٹ…!‘‘ اس نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر مسز بیگ کی طرف دیکھا۔ ’’نہیں مسز بیگ کل رات کچھ لوگوں نے اس کی پٹائی کی تھی کیونکہ یہ ایک نیم پاگل عورت کو ہراساں کررہا تھا بلکہ زبردستی اسے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔‘‘
اس نے چونک کر اس لڑکی کی طرف دیکھا۔ کیا یہ وہی کل رات والی لڑکی تھی۔ وہ اسے پہچان نہیں پایا تھا کیونکہ وہ اس وقت یونیفارم میں نہیں تھی۔
مسز بیگ کی آنکھوں کے سامنے کل شام کا سارا منظر آگیا تھا۔ سگنل پر کھڑی وہ پاگل عورت اور پھر اعظم کا انہیں چھوڑ کر عجلت میں واپس آنا۔ اور رات کو فون کرنا کہ وہ کسی کے ساتھ آجائیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے تاسف سے اسے دیکھا جو قہر آلود نظروں سے قانتہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’یہی نہیں مسز بیگ رجاء عباس کو اس رات جو گھر سے بھاگنا پڑا تھا تو اس کا سبب بھی آپ کا یہی بیٹا تھا۔‘‘ اپنی بات کہہ کر قانتہ رکی نہیں تھی۔ انہوں نے اس کی طرف دیکھا۔ جو ان کے چھوٹے بیٹے اور بہو کے سعودیہ جانے کے بعد ان کے پاس ہی رہ گیا تھا۔
’’مجھے شرمندگی ہے کہ تم میرے بیٹے ہو۔‘‘ وہ اس کی ماں تھیں۔ اعظم بیگ کی ماں لیکن وہ اس کی ماں ہونے پر شرمندہ تھیں۔
/ …/ …/ …/
اور پتا نہیں رجاء عباس کہاں تھی… تھی بھی یا نہیں۔ اس رات جب وہ زارون کے پیچھے عون کو لینے بھاگی تھی تو اس اندھیری سڑک پر اس کے ساتھ کیا حادثہ ہوا تھا۔ اس کا جواب ساڑھے چار سالوں میں بھی ہارون کو نہیں مل سکا تھا۔ وہ آج بھی رجاء کا منتظر تھا۔ رجاء عباس جسے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی بھول نہیں پایا تھا اس رات جب وہ ایگرو فلیٹس کے فلیٹ نمبر آٹھ کے سامنے کھڑا بیل دے رہا تھا تو اس کا دل جیسے دھڑک دھڑک کر سینے سے باہر آجانے کو بے تاب ہورہا تھا۔
تین سال پہلے وہ رجاء کو ہنستا مسکراتا چھوڑ کر گیا تھا اب وہ اس کو روتا ہوا کیسے دیکھے گا۔ کیسے اس کی خوب صورت آنکھوں میں آنسو برداشت کر پائے گا۔ لیکن بیل ہوتی رہی دروازہ نہیں کھلا تھا۔ لمحہ بہ لمحہ تشویش بڑھتی جارہی تھی۔ اسے بھلا کہاں جانا تھا وہ کہاں جاسکتی تھی اسے پتا تھا کہ ہم آنے والے ہیں اس نے ساتھ والے دروازے پر بیل دی ایک شخص دروازے پر آیا اس نے رجاء کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے دروازہ بند کردیا۔
وہ شخص جانتا تھا کہ جب وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا تو اس کے زور سے دروازہ بند کرنے سے آٹو میٹک لاک خودبخود لاک ہوگیا تھا۔ لیکن یہ بات وہ انہیں نہیں بتاسکتا تھا کہ وہ اندر نہیں ہے سو وہ اطمینان سے جاکر سوگیا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا بے حس اور خود غرض۔ تب ہارون نے نڈھال سی زہرا کو وہاں بٹھا کر ایک اور فیلٹ کے دروازے پر دستک دی اور صورت حال بتائی تو اس گھر کے دو لڑکے ساتھ ہی چلے آئے اور ایک لڑکا گیراج کی طرف سے اندر کودا۔ رجاء کے بیڈ روم کا دروازہ گیراج کی طرف کھلتا تھا اور اتفاق سے وہ اندر سے لاک نہیں تھا۔ لڑکے نے بیڈ روم سے نکل کر لاؤنج میں آکر اندر سے مین گیٹ کھول دیا تھا ہارون رجاء کو آوازیں دیتا اندر آیا تھا۔ لیکن پورا گھر سائیں سائیں کررہا تھا۔
رجاء وہاں نہیں تھی گھر کی چابیاں ٹی وی ٹرالی پر پڑی تھیں اور مین ڈور کے نیچے سے کسی نے ایک لفافہ اندر سرکایا تھا۔ اس نے لفافہ اٹھایا وہ زارون نے بھیجا تھا اور زہرا کو صوفے پر بٹھا کر ان لڑکوں کا شکریہ ادا کیا۔
’’لگتا ہے باجی کسی کام سے باہر گئی ہوں گی تو جلدی میں چابیاں اندر ہی رہ گئی ہوگی تو شاید کسی عزیز کی طرف چلی گئی ہوں کہ صبح آکر لاک کھلوالیں گی۔‘‘ ایک لڑکے نے خیال ظاہر کیا تو ہارون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
’’ہوسکتا ہے۔ میں اپنے عزیزوں کے گھر فون کرکے پتا کرتا ہوں۔‘‘ ان کے جاتے ہی وہ زہرا کے گلے لگ کر رونے لگا۔
’’وہ کہاں چلی گئی… وہ کہاں جاسکتی ہے؟ اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے ماما ابھی کل ہی تو ہماری بات ہوئی تھی اس سے۔‘‘
اس نے نیچے گرے ہوئے کرسٹل کے گل دان کو دیکھا اور صوفے پر پڑا دودھ سے بھرا فیڈر بھی اور بلک بلک کر رونے لگا۔ بہت دیر بعد وہ سنبھلا تھا اور اس نے زارون کا بھیجا ہوا خط کھولا اور ایک بار پھر زہرا سے لپٹ کر رونے لگا۔
’’ماما زارون نے اسے طلاق دے دی ہے کیوں کیا اس نے ایسا…؟‘‘
وہ رات بہت بھیانک رات تھی اس رات نہ وہ سویا تھا اور نہ زہرا… اور اگلے کئی دن تک وہ رجاء کو ڈھونڈتا رہا۔ دیوانوں کی طرح چکراتا پھرا۔ زارون سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن اس کا فون بند تھا۔ اس نے ردا کو فون کیا تو وہ چند دن کے لیے آگئی۔
’’ردا تمہیں اسے یوں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔‘‘ اس نے گلہ کیا۔
’’میں کیا کرتی ہارون مجھے خالد پر اعتبار نہیں ہے میں اسے وہاں نہیں لے جاسکتی تھی اور یہاں مجھے خالد نہیں رہنے دیتا تھا۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔
وہ رپورٹ لکھوانا چاہتا تھا اخبار میں اشتہار دینا چاہتا تھا لیکن ردا نے سختی سے منع کردیا اور ندا نے بھی اس کی تائید کی تھی۔
’’ہمارے ماں باپ نہیں ہیں… ہمارے شوہر طعنے دے دے کر ہمارا جینا دوبھر کردیں گے۔ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ جیا کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے وہ اپنی مرضی کے رنگ بھریں گے کہانی میں۔ ہمیں اپنے گھروں کو ٹوٹنے سے بچانا ہے ہارون خدا کے لیے ایسا کچھ مت کرنا۔‘‘
اور وہ کچھ نہیں کرسکا تھا۔ ندا اور ردا ہی تو اس کے جان سے زیادہ عزیز بابا کی بیٹیاں تھیں اور دو دن بعد چلی گئی تھیں۔ مالک مکان نے فلیٹ خالی کروالیا تھا وہ سمن آباد آگئے تھے۔ لیکن وہ شادمان چکر لگاتا رہتا تھا۔ ایک ماہ بعد زارون سے رابطہ ہوا تو اس نے گلہ کیا۔
’’تم نے جیا کو بلا قصور طلاق دے دی زارون۔ کتنا ظلم کیا تم نے۔ تمہیں عون کا بھی خیال نہیں آیا تمہارا بیٹا ہے وہ۔‘‘
’’کیوں نہیں ہے مجھے عون کا خیال۔ نہ ہوتا تو اسے ساتھ لے کر نہ آتا۔ اور میں نے نتاشہ سے شادی کرلی ہے ماما کی بھتیجی ہے ماما پاپا بہت خوش ہیں اور…‘‘ وہ خوشی خوشی بتا رہا تھا۔ ہارون نے اسے ٹوک دیا۔
’’عون تمہارے پاس ہے اور رجاء… رجاء کہاں ہے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘ اور زارون نے اس کے اصرار پر اس رات کی تفصیل بتائی تو ہارون کا دل پھٹنے لگا تھا۔
’’کچھ تو خیال کیا ہوتا تم نے زارون رات کے اس پہر سڑک پر…‘‘
’’ایسی بھی رات نہیں ہوئی تھی اور سڑک پار ہی تو اس نے جانا تھا کوئی جنات اٹھا کر نہیں لے گئے ہوں گے اپنی مرضی سے کہیں گئی ہوگی۔‘‘ زارون نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فون بند کردیا تھا۔
اس کی چھٹی ختم ہوگئی تھی لیکن وہ واپس نہیں گیا تھا۔ وہ رجاء کو ڈھونڈے بغیر کیسے جاسکتا تھا وہ رجاء کے بغیر نہیں جاسکتا تھا۔ اس نے یہاں ہی جاب کرلی اور رجاء کو ڈھونڈنے لگا۔
’’بابا… بابا۔‘‘ عون نے سوتے سوتے کروٹ بدل کر اسے بلاتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا تو ہارون عباس نے چونک کر اسے دیکھا۔ اور اسے اپنے قریب کرتے ہوئے تکیے سے قریب پڑا ہوا کراؤن اٹھالیا۔ اور کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ وہ یہ کراؤن لگا کر کتنا خوش ہوئی تھی۔
’’اب میں لگتی ہوں نا سچ مچ کی پرنسز۔‘‘
’’لگنے کی کیا بات ہے تم ہوہی پرنسز۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
کراؤن ہاتھ میں لیے لیے رجاء سے وابستہ کتنی ہی یادوں کے در کھل گئے تھے۔ اور آنکھیں نم ہوگئی تھیں بستر جھٹک کر اس نے خود کو ان یادوں کے حصار سے باہر نکالا۔ آہستگی سے عون عباس کا ہاتھ نیچے بیڈ پر رکھا۔ اور محبت سے اسے دیکھنے لگا۔ عون عباس اس کی زندگی تھا اور اگر عون عباس نہ ہوتا تو شاید وہ جی نہیں پاتا۔
زارون چھ ماہ بعد ہی عون کو لے آیا تھا۔ وہ بے حد شرمندہ تھا۔
’’میں نے رجاء کے ساتھ وہی کیا جو پاپا نے ماما کے ساتھ کیا تھا اور میں نے عون عباس کے ساتھ بھی وہی کیا جو پاپا نے میرے ساتھ کیا تھا۔ لیکن میں اسے اب آپ کے پاس لے آیا ہوں۔ آپ اسے رجاء کے حوالے کردیں۔ نتاشہ اسے پسند نہیں کرتی۔ وہ کہتی ہے کہ میں اسے اس کی ماں کے حوالے کردوں اور یہاں میں نے پاپا کی طرح نہیں کیا۔ میں اسے لے آیا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میری طرح غیر متوازن شخصیت بنے اور اس کے ساتھ بھی وہی ہو جو میرے ساتھ ہوا تھا۔‘‘ وہ رو رہا تھا۔ زارون عباس بھی رو رہا تھا جس نے سب کو رلا دیا تھا۔ زہرا نے عون کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
’’تم عون کی طرف سے بے فکر ہوجاؤ لیکن زاورن تم نے رجاء کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ تم نے اگر رجاء کو چھوڑنا ہی تھا تو پھر اسے اپنایا ہی کیوں تھا؟‘‘
اور اس نے سر جھکالیا تھا۔ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔ وہ تو ہمیشہ سے نتاشہ کو پسند کرتا تھا اور اسی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن چھوٹی ماما ایسا نہیں چاہتی تھی حالانکہ نتاشہ بھی ایسا ہی چاہتی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ اور اب جب نتاشہ کو شادی کے صرف دو ماہ بعد طلاق ہوگئی تو ماما اور پاپا نے خود اسے نتاشہ سے شادی کے لیے کہا تھا۔
زارون عون کو چھوڑ کر چلا گیا تھا اور وہ ہارون عباس کی جان تھا۔ ہارون نے آہستگی سے اٹھتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ صبح آنکھ کھلتے ہی اس کے بیڈ پر آکر سوگیا تھا۔ اگر کبھی وہ کہانی سننے کی لالچ میں زہرا کے پاس سوتا تو صبح اٹھ کر اس کے پاس آجاتا تھا۔
ہاتھ میں پکڑا کراؤن اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھ دیا اور خود آفس جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔ تیار ہوکر جب باہر آیا تو عون ابھی تک سو رہا تھا۔ آج اس کے اسکول کی چھٹی تھی۔ زہرا نے ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا تھا اور اب اس کا انتظار کررہی تھی۔
’’اب تم نے کیا سوچا ہے ہارون؟‘‘ آملیٹ کی پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
’’کس کے متعلق ماما؟‘‘
’’شادی کے متعلق۔ سارا اچھی لڑکی ہے اگر تم کہو تو بات کروں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑا سلائس نیچے رکھ دیا اور بے حد زخمی نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ جانتی ہیں ماما پھر کیوں زخم کریدتی ہیں؟‘‘
’’بیٹا چار سال ہوگئے ہیں وہ اگر اب تک نہیں ملی تو…‘‘
’’مل جائے گی ماما۔‘‘ ہارون نے ان کی بات کاٹی۔
’’اور نہ ملی تو عون ہے نا میرے پاس۔‘‘
’’لیکن ایسے زندگی نہیں گزرتی۔‘‘ زہرا نے بے حد دکھ سے اسے دیکھا۔
’’میری زندگی گزر جائے گی ماما۔‘‘ اس نے چائے کا کپ ایک طرف کھسکایا۔ تب ہی اس کے موبائل کی بیل ہوئی۔ اس نے اپنے سامنے ہی ٹیبل پر رکھے اپنے فون کی طرف دیکھا کوئی اجنبی نمبر تھا۔ لمحہ بھر سوچنے کے بعد اس نے فون آن کیا۔
’’میں قانتہ ہوں۔ قانتہ نورین۔‘‘ دوسری طرف اس نے سلام کے جواب کے ساتھ ہی اپنا تعارف کروایا۔
’’مجھے رجاء کے متعلق بات کرنی ہے۔‘‘
’’رجاء کے متعلق…‘‘ اس کا ہر عضو سماعت بن گیا تھا اور دل سینے کے اندر دھڑک دھڑک کر باہر نکلنے کو بے تاب تھا۔
’’آپ رجاء عباس کے کون ہیں اور وہ کیا لگتی ہے آپ کی؟‘‘
دوسری طرف سے لڑکی پوچھ رہی تھی اور اس کا جی چاہا کہ وہ کہے رجاء عباس اس کی کوئین تھی اور وہ اس کا غلام تھا۔
/ …/ …/ …/
وہ رجاء عباس تھی اور صوفے پر گردن اٹھائے بیٹھی تھی۔ زہرا نے ابھی اس کے گھنے سلکی بالوں میں تیل لگایا تھا اور گھنٹے بھر بعد باتھ لینے کو کہا تھا سو وہ صوفے پر بیٹھی خالی خالی نظروں سے سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔ کبھی کبھی اس کا ذہن یوں بھی خالی خالی ہوجاتا تھا بالکل شفاف سلیٹ کی طرح۔ حالانکہ پچھلے دو سالوں سے ہارون نے کوئی نیروسرجن نہیں چھوڑا تھا جس سے اس کا چیک اپ نہ کروایا ہو۔ ڈاکٹروں کا بورڈ بٹھایا۔ ملک سے باہر لے گیا۔ ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی کہ چوٹ لگنے سے دماغ کے ایک حصے میں سوجن ہوگئی ہے۔ وہ مکمل ٹھیک ہوجائے گی اس کے متعلق وہ پُریقین نہ تھے۔ تاہم سب نے ہی اسے بہتری کی امید دلائی تھی۔ لیکن اسے یقین تھا کہ جب اﷲ نے اسے رجاء سے ملوایا ہے وہ ایک روز اسے ٹھیک بھی کردے گا۔ اﷲ نے اس کا یقین ٹوٹنے نہیں دیا تھا۔ وہ ٹھیک ہوگئی تھی اس نے زہرا‘ ہارون اور عون کو بھی پہچان لیا تھا۔ ندا اور ردا نے ان دو سالوں میں دو چکر لگائے تھے۔ پہلی بار تو نہیں لیکن دوسری بار اس نے انہیں پہچان لیا تھا۔
ہارون اور زہرا کے یاد دلانے پر اسے پرانی باتیں یاد آجاتیں لیکن کچھ دیر بعد بھول جاتی۔ زہرا کی ان تھک محنت سے اس کے سلکی بالوں کی چمک لوٹ آئی تھی۔ رخساروں کی زردیوں میں سرخیاں گھل گئی تھیں۔ چھ ماہ پہلے سادگی سے ہارون کا اور اس کا نکاح ہوگیا تھا۔ وہ بظاہر نارمل تھی لیکن کبھی کبھی اس کا ذہن بلینک ہوجاتا تھا۔
ہارون کو یقین تھا کہ مسلسل علاج سے ایک روز یہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ وہ خالی خالی نظروں سے دیوار کو دیکھ رہی تھی جب عون عباس کے ساتھ ہارون اندر داخل ہوا۔ عون عباس دوڑ کر اس کے بازوؤں میں سمٹ گیا۔ اس نے اسے بوسہ دیا۔ وہ عون عباس تھا اس کا بیٹا لیکن اس وقت اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کون ہے۔
’’بابا کراؤن۔‘‘ عون عباس مسکرایا۔
’’ہاں کراؤن یہ رہا۔‘‘ ہارون نے کراؤن اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کی آنکھوں میں پہچان کے رنگ بن اور بگڑ رہے تھے۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔
’’یہ کراؤن ہے ماما… بابا کی پرنسز کا کراؤن۔‘‘
’’پرنسز کا کراؤن۔‘‘ اس نے زیر لب دہرایا۔
’’لیکن کراؤن تو کوئین لگاتی ہے؟‘‘ لاشعور کے کسی کونے میں موجود یہ جملہ اس کے ہونٹوں سے پھسلا۔
’’نہیں… پرنسز بھی لگاتی ہے۔‘‘ ہارون کے لبوں پر بڑی جان دار مسکراہٹ تھی۔ اس نے ایک قدم بڑھا کر اس کے ہاتھ سے کراؤن لے کر اس کے بالوں میں لگادیا۔
’’اور تم صرف پرنسز نہیں ہو رجاء… تم کوئین بھی ہو۔ میری کوئین۔‘‘
’’آ… بیوٹی فل کوئین… آ… بیوٹی فل پرنسز۔‘‘ عون نے صوفے پر اچھلتے ہوئے دہرایا۔
ہارون عباس نیچے کارپٹ پر اس کے قریب بیٹھ گیا اور اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ رجاء کی پلکیں لرزنے لگیں اور رخساروں پر شفق اتر آئی۔
’’تھینک گاڈ تم مجھے مل گئیں رجاء… تمہارے بغیر میں زندہ نہیں تھا جیا‘ بس ماما اور عون کی خاطر جی رہا تھا۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں جیا بہت۔‘‘ رجاء نے بوجھل پلکیں اٹھائیں اور اپنے گھٹنوں پر رکھے ہارون کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس کی آنکھوں میں اب خالی پن نہیں تھا۔ زندگی تھی روشنی تھی۔ عون صوفے سے چھلانگ لگا کر اب اس کے والے صوفے پر کھڑا ہوکر اس کے کھلے بالوں میں اٹکے کراؤن کو درست کررہا تھا۔
’’ماما… ماما ہیں کوئیں۔‘‘ وہ کلکھلا کر ہنسا تو اس نے ہارون کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ اٹھا کر عون عباس کی طرف دیکھا اور اسے اپنے بازوؤں میں بھرلیا۔
’’یہ عون عباس تھا اس کا بیٹا… اور وہ عون عباس کی ماں تھی۔ وہ ابو کی پرنسز اور ہارون عباس کی کوئین۔‘‘
زارون عباس کی ضد تھی۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ عون عباس کی ماں تھی وہ اسے دونوں بازوؤں میں لیے بے تحاشہ چوم رہی تھی اور ہارون عباس خوشی بھری نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close