Naeyufaq Dec-17

ہم جان

فارس مغل

دو نومبر کو نرمین کی سالگرہ تھی اور میں اسی فکر میں رہتا کہ اسے کیا تحفہ دینا چاہیے ایسی کیا چیز ہو سکتی ہے جسے دیکھ کر وہ حقیقی معنوں میں خوش ہو سکے ایسی خوشی جس میں کوئی مصنوعی پن نہ ہو اور اپنی سالگرہ والے دن وہ سچ مچ کھلا ہوا گلاب دکھائی دے۔
اُس دن بھی میں اسی سوچ میں غلطاں اسکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس نے سوال کیا ’’میری سالگرہ پہ تم مجھے کیا تحفہ دو گے غفران ۔‘‘
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور حیران رہ گیا کہ اسے کیسے خبر ہو گئی کہ میں اس کی سالگرہ کے متعلق ہی سوچ رہا ہوں۔
وہ مونا لیزا کی مسکراہٹ کے ساتھ میری جانب دیکھے جا رہی تھی۔
’’او میرے خدایا سچ بتائوتمہیں کیسے پتہ چل گیا کہ میں اس وقت اسی بارے میں سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’محبت تو تم نے کر لی ہے اب اسے محسوس کرنا بھی سیکھ لو۔‘‘
ایسی قاتلانہ مسکراہٹ میں نے پہلے کبھی اس کے چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔
’’میں نے سوچا ہے کہ اگر میں تمہاری سالگرہ پر تمہیں ایک بہت ہی خوبصورت لباس تحفتاً دوں اور جب تم وہی لباس اپنی سالگرہ والے دن پہن کر آؤ گی تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔۔کیا خیال ہے؟‘‘
’’پوچھتے کیوں ہو۔۔ پوچھو مت ۔۔حکم دو ۔۔مجھے بھی خوشی ہوگی۔‘‘
ایسی محبت بھری شکایت میں نے کبھی نہیں سنی تھی آج تو وہ سراپا محبت کی دیوی بنی بیٹھی تھی۔ میں نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر ہونٹوں کی طرح رکھی ہوئی تھیں فضامیں عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ اچانک اس کی آواز نے ہلچل سی پیدا کر دی۔
’’کیا تم مجھے میری سالگرہ پر میری مرضی کا بھی ایک تحفہ دے سکتے ہو۔‘‘
’’کیوں نہیں؟لیکن جو بھی مانگنا وہ میری اوقات اور حیثیت کو مد نظر رکھ کر۔۔‘‘میرے اندر طبقاتی فرق نے سر اٹھایا۔
اس نے میری طرف گھورتے ہوئے بات کاٹی۔ ’’بہت فضول انسان ہو تم۔‘‘ وہ مسلسل کچھ دیر تک مجھے گھورتی رہی۔
بالآخر میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا’’اچھا بابا ۔معاف کر دو اور بتائو کیا چاہیئے؟‘
اگلے ہی لمحے اس نے گھورنا ترک کر کے آنکھیں جھکا لیں اور اپنے ناخن سے نوٹ بُک کا کونا کریدتے ہوئے کچھ توقف کے بعد لب وا کیئے ’’مجھے تم سے ایک وعدہ چاہیے‘‘
میری نظر اس کی نوٹ بُک کا کونا کریدتے ہوئے ناخن پر تھی اور اس لمحے مجھے یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ابھی اپنے ناخن سے میرے دل کو کرید نے والی ہے
’’ کیسا وعدہ۔‘‘ میرے حلق میں اچانک صدیوں کی پیاس اتر آئی
اس نے میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھوں کو رکھتے ہوئے اداس نظروں سے میری طرف دیکھا ’’وعدہ کرو کہ۔۔‘‘
میری آنکھوں میں نمی کے آثار دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی
میں کہ اس کے ہاتھوں کی زبان سے واقف تھا اور جان چکا تھا کہ اس کے دل میں ضرور کوئی اداس وعدہ لبوں پر آنے کو مچل رہا ہے
’’ مجھ سے وعدہ کرو کہ اگر کبھی میں کہیں کھو گئی تو تم مجھے تلاش نہیں کرو گے اپنی زندگی کو میری گمشدگی کی بھینٹ چڑھا کر اسے برباد نہیں کرو گے۔۔ وعدہ کرو‘‘
میرے پورے وجود کا شہر آن ہی آن میں زلزلے کی نذر ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گیا’’یہ کیسا وعدہ ہے کہاں کھو جائو گی‘‘
’’فکر نہ کرو اتنی جلدی نہیںمرنے والی‘‘
’’کیا تمھاری شادی ہو رہی ہے؟‘‘میں نے ٹہر ٹہر کر استفسار کیا
وہ خاموش ہوگئی۔
’’بتائو نرمین ورنہ میرا دم گھٹ جائے گا‘‘ اس سمے واقعی مجھے اپنا سانس اکھڑتا ہوا محسوس ہوا۔
بے نیاز دکھائی دینے والی محبت در حقیقت کتنی بے بس ہوتی ہے۔ میں جانتا تھا کہ’ کھو جانے‘ سے اس کی کیا مراد ہے لیکن میں چپ چاپ اپنے وجود کے ملبے پر آنسو بہاتا رہا اس نے بڑی مشکل سے اپنے ہاتھ کو اوپر اٹھا کر میری آنکھوں سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی۔
’’وعدہ ہے ناں‘‘اس کی آواز میں لرزش تھی۔
میں نے کافی دیر تک اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا ئے رکھے۔
’’کہا بھی تھا کہ جو کچھ بھی مانگنا وہ میری اوقات اور حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مانگنا لیکن تم نے تو۔۔‘‘ میری آنکھیں اور اس کے ہاتھ آنسوؤں میں بھیگتے چلے گئے۔‘
’’میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔‘‘ انگار کی صورت دہکتا ہوا وعدہ میں نے اپنی زبان پر رکھ دیا۔
میری بے بسی کیمپس کی اداس فضا میں دھنکی ہوئی روئی کی مانند اڑتی ہوئی سدا بہار پائن کے درختوں کے ساتھ ٹکرانے لگی۔۔
…٭…
اس دن کے بعد نرمین بہت کم کم یونیورسٹی آنے لگی تھی میری اس بات پر اس سے بہت لڑائی رہتی لیکن ہر مرتبہ لڑائی میں فتحیاب اس کی مسکان ہو جاتی۔ اس کی سالگرہ میں ابھی دو ہفتے باقی تھے کہ جب میں نے اسے ایک خوبصورت لباس یہ وعدہ یاد دلاتے ہوئے تحفتاً پیش کیا کہ وہ اسی لباس میں اپنی سالگرہ والے دن یونیورسٹی میں داخل ہو گی ورنہ میں بھی اس کا دیا ہوا وعدہ توڑ دوں گا۔
اس کے جواب میں اس نے بہت پیار سے میری آنکھوں میں اپنی آنکھیں رکھتے ہوئے کہا تھا۔ میں اپنی سالگرہ والے دن اگر تم سے ملے بغیر اگر مر بھی گئی تو تمہیں بعد میں پتہ چل جائے گا کہ میں نے اپنے مرن دن پر یہی لباس زیب تن کیا ہواتھا۔‘‘
وہ بہت دیر تک میرے تحفے کو سینے سے لگائے مجھے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں محبت کے اتنے سارے رنگ تھے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔وہ روز بروز کمزور ہوتی جا رہی تھی اورساتھ ہی اس کی باتوں میں کڑواہٹ در آئی تھی وہ بظاہر عام سی بات عام سے لہجے میں ہی کرتی لیکن اس کی باتوں پر دل کو کاٹ کر ٹکڑے کر دینے والے کچھ الفاظ ضرور شامل ہوا کرتے
کبھی کبھی مجھے یوں لگتا تھا کہ جیسے مجھ پر اس کے عشق کا دبدبہ ہے کیونکہ میں اس سے کئی باتیں پوچھنا چاہتا تھا لیکن میری کبھی ہمت نہ ہوئی مثلاً میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس کے علاج کے بارے میں اس سے پوچھوں ،یہ بھی پوچھوں کہ ڈاکٹر اب کیا کہتے ہیں؟میڈیکل سائنس میں اگر اس بیماری کا علاج نہیں تو کسی حکیم، ہومیو پیتھک، پیر، فقیر سے کبھی رجوع کیا؟ تم اپنے باپ کے رویے کی سزا خود کو کیوں دے رہی ہو ؟اورزمانے کی بے رخی کا بدلہ میری محبت سے کیوں لے رہی ہو؟یہ وہ تمام باتیں تھیں جو اسے اداس کر کے اس کے اندر بھرے ہوئے زہر کو باہر کھینچ نکالنے کیلئے کافی تھیں لیکن میں اپنی محبت کے ہاتھوں بے بس و مجبور تھا کہ اس کے نمکین آنسوؤں کے قطرے میرے دل کے زخموں پر گر کے درد کی انتہا کر دیتے!
وہ ایک شاندار لڑکی تھی اندر سے بکھری ہوئی لیکن ظاہری طور پر اپنی شخصیت میں پر وقار، بے مثال ذہین ا ور باکمال اخلاق۔۔وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے بھی اس کی قابلیت کا قد اتنا اونچا تھا کہ کلاس میں لیکچررز اس سے بدکتے تھے وہ اپنے بے پناہ حسن کے ساتھ ایک مکمل زندہ لڑکی تھی لیکن یہ بات صرف میں اور نرگس جانتے تھے کہ وہ اندر سے مر چکی تھی!
…٭…
یکم نومبر والے دن ڈیپارٹمنٹ میں نرمین کی سالگرہ کی تمام تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی تھی کل پروگرام کے مطابق آخری پیریڈ کے اختتام پر کیک کاٹ کر خوب ہلہ گلہ ہونا تھا چونکہ سالگرہ ایک معذور لڑکی کی تھی اس لیے چیئرمین ڈیپارٹمنٹ نے بھی بخوشی اجازت دے دی تھی۔ پڑھے لکھے لوگ ثواب حاصل کرنے کیلئے ایسے مواقع کب ہاتھ سے جانے دیتے ہیں تمام کلاس فیلوز موجود تھے لیکن نرمین پچھلے تین روز سے یونیورسٹی سے غیر حاضر تھی لیکن سب کا یہی خیال تھا کہ آج اسے ضرور آنا چاہیے پہلا پیریڈ ختم ہو گیا لیکن نرمین کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا جب دوسرے پیریڈ کے اختتام تک بھی وہ نہ آئی تو سب کو تشویش ہونے لگی میں نے نرگس کو اس کے گھر فون کرنے کو کہا تب گھر سے معلوم ہوا کہ اس کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے اس لیے وہ یونیورسٹی آنے سے قاصر ہے جب نرگس نے مجھے یہ بات بتائی تو مجھے محسوس ہوا جیسے اس نے آدھی بات چھپائی ہے۔ تمام کلاس فیلوز پہلے ہی سے یہ بات اچھی طرح سے جان چکے تھے کہ بھلے ہی نرمین کا تعلق ماڈرن طبقے سے تھا لیکن وہ آزادانہ طور پر اس کے گھر آ ،جا نہیں سکتے تھے اور اسکی وجہ نرمین کے باپ کی سخت طبیعت تھی۔ جب سب نرمین کی ناساز طبیعت کو ڈسکس کر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ نرگس کچھ زیادہ ہی افسردگی اور گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی میں اس کے قریب کرسی ڈال کر بیٹھ گیا اوروہ میری آنکھوں میں عیاں سوال کو بھانپ گئی کچھ لمحے خاموشی میں گزر گئے اس کے بعد اس نے ایک لحظہ ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہوئے نہایت اداس لہجہ میں کہا۔
دو روز پہلے اس کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی اس لیے اسے کراچی لے گئے ہیں کل اس کا آنا نا ممکن ہے۔‘‘
میں چند لمحے بت بنا اسے تکتا رہا اور جب دل نے بیٹھنا شروع کر دیا تو میں بوجھل قدم اٹھاتا کلاس روم سے باہر نکل گیا۔ ذرا دیر بعد نرگس میرے پیچھے تیز قدم اٹھاتی ہوئی آئی اور ہم ساتھ چلتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ سے دور نکل آئے وہ میری نمناک آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔
’’سب ٹھیک ہو جائے گا بس ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں‘‘
وہ نرمین کے لیے میری محبت کی شدت جانتی تھی اس لیے مجھے بہت دیرتک تسلیاں دیتی رہی!
جب ہم محبت کے عمل میں ہوتے ہیں تو اس کی دو میں سے ایک وجہ ضرور ہوتی ہے یا تو ہم اپنی ذات کی تکمیل کے خواہاں ہوتے ہیں یا پھر اپنے محبوب کے ادھورے وجود کو مکمل کرنا چاہتے ہیں اس کی ذات کے خالی حصوں میں رنگ بھرنے کی خواہش ہمیں ایسا کرنے پر خود بخود مجبور کرتی ہے میں محبت کی دوسری وجہ کا اسیر تھا ۔۔میں نرمین کی ادھوری پھیکی تصویر میں رنگ بھرتے بھرتے اپنی ذات بھی اس میں کہیں گم کر بیٹھا تھا اور اس کا احساس مجھے شدت سے ہو رہا تھا کہ میرے اپنے ہی آنسوؤں پر اختیار نہیں تھامیں اپنے سارے اختیار جانے انجانے میں نرمین کے حوالے کر چکا تھا میں اس کے غم نیت باندھ کر سنتا، فرض نماز کی طرح اس کے درد سہلاتا اور اس کے ہاتھوں پر سجدہ کرتا رہا لیکن آج جب اپنا درد دل کی دیواروں سے ٹکریں مارنے لگا تو معلوم ہوا دل کی کال کوٹھری کے اندر سے غم کی لاش ہی روح کے ساتھ پرواز کرتی ہے۔ جیتے جی غم سے فرار ممکن نہیں ہے۔
میری راہ میں اس کا وعدہ راستہ روکے کھڑا تھا کہ’ اگر کبھی میں کھو جاؤں تو مجھے تلاش مت کرنا ‘لیکن اس کا وعدہ نبھانے کیلئے میرا زندہ رہنا ضروری تھا۔ سو میں نے نرگس کو ٹیلی فون کرکے اس سے گزارش کی کہ وہ کسی بھی طرح سے مجھے کراچی کے اس اسپتال کا پتہ معلوم کر دے جہاں نرمین داخل تھی نرگس جانتی تھی کہ میرے لیے نرمین تک پہنچنا زندگی اور موت کا سوال بن سکتا تھا چنانچہ اس نے دس منٹ بعد ہی مجھے میری منزل کا پتہ سمجھا کر مجھ پر احسانِ عظیم کر دیا !
…٭…
میں اسی شام کراچی جانے والی کوچ میں سوار ہو گیا
جوں جوں کوچ آگے بڑھتی جا رہی تھی میرے انتظار کا پیمانہ بھرنے لگا ایک عجیب سی بے چینی دل کے ساتھ دھڑکتی تھی
ہماری زندگی کتنی پرسکون ہوتی اگر اس میں انتظار نہ ہوتا خوشیوں اور غموں کے وقفے اتنے طویل نہ ہوتے کہ انہی وقفوں کے درمیان انسان بننے اور ٹوٹنے کے عمل سے گزرتا ہے۔کوئٹہ تا کراچی بارہ گھنٹے کے سفر میں مجھے نرمین کا ہجر توڑتا اور انتظار دوبارہ تعمیر کرتا رہا راستے، پہاڑ ،گائوں، شہر، ہوٹلز ،کچے پکے گھروندے مجھے انتظار گاہیں معلوم ہو تی تھیں ۔ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کے انتظار میں ہاتھ بھر فاصلے پر کھڑا تھا۔ آنے والا راستہ جانے والے راستے کا منتظر تھا۔ گائوں کو شہر بننے اور شہر کو بڑا شہر بن جانے کا انتظار تھا۔ہر شے کسی نہ کسی کے انتظار میں مبتلا دکھائی دیتی تھی۔
صبح کے آٹھ بجے کوچ اپنی آخری منزل پر پہنچ گئی۔
میں کوچ سے اتر کر گلشن اقبال کیلئے ٹیکسی میں بیٹھ گیا گلشن میں میرے کزن شاہمیرکی ایک اپارٹمنٹ میں رہائش تھی وہ کراچی میں انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم تھا میری اور اس کی ملاقات بلڈنگ کی سیڑھیوں پر ہی ہو گئی جب وہ نیچے ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے لیئے اتر رہا تھا میری آمد پر حیرت اور خوشی کا ملا جلا اظہار کرتے ہوئے وہ مجھے اوپر اپنے اپارٹمنٹ میں لے گیا ،میرے لیے صاف تولیہ نکالا اور تازہ دم ہونے کی ہدایت کرتا ہوا دوبارہ ناشتہ لانے کیلئے اپارٹمنٹ سے باہر دوڑ گیا ۔میرا بدن واقعی تھکاوٹ سے ٹوٹ چکاتھا اس لیے میں بنا وقت ضائع کیے غسل خانے میں چلا گیا باہر نکلا تو کمرے میں پنکھے تلے ناشتہ چنا ہوا تھا ۔چائے کی پیالی تلے ایک کاغذ پھڑپھڑا رہاتھا ۔میں نے شاہمیر کو ادھر ادھر تلاش کرنے کے بعد کاغذ کو اٹھایا تو اس میں انتہائی عجلت میں لکھی گئی تحریر میری نگاہوں کے سامنے تھے’ آج کالج میں presentation دینی ہے already لیٹ ہو گیاہوں تم ناشتہ کر کے سو جانا afternoon کے بعد ملاقات ہو گی ‘تحریر کے نیچے ایک بڑی سی مسکراہٹ بنی ہوئی تھی۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو وہ ساڑھے نو کا وقت تھا۔ میں نے اطمینان سے پیالی میں چائے انڈیلی اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر چسکیاں لینے لگا۔ دسترخوان پر حلوہ پوریاں بھی اخبار میں لپٹی دھری ہوئیں تھیں لیکن میرا ذہن جو کہ کچھ دیر کیلئے نرمین کو یکسر بھول چکا تھا دھیرے دھیرے واپس اس کی یاد کے حصار میں لوٹنے لگا ۔میٹھی الائچی والی چائے یک دم پھیکی اور بد مزہ سی ہو گئی اضطراب میں اضافہ ہوتا چلا گیا کمرے میں مدھم رفتار سے چلتے ہوئے پنکھے کا ہلکا سا شور میرے ذہن پر حاوی ہونے لگا میں نے چائے کی پیالی دسترخوان پر رکھ کر دیوار کے ساتھ سر ٹکا دیا اور نرمین کے تصور میں آہستہ آہستہ میری آنکھیں بند ہوتی چلی گئیںاورنا جانے کس وقت سفر کی تھکاوٹ نے مجھے نیند کی آغوش میں دے دیا
میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو زمین پر بچھے موٹے گدے پر پایا۔ میں نے نیم وا آنکھوں سے کمپیوٹر کے سامنے شاہمیر کو دیکھا جو کہ اپنا سر کھجا کھجا کر کچھ ٹائپ کرنے میں بے انتہا مگن تھا۔ مجھ پر نیند ابھی غالب تھی کہ اچانک میرے ذہن میں ہزار واٹ کا بلب روشن ہوا اور نرمین کا چہرہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دمکتا ہوا میری نگاہوں کے پردے پر نمودار ہو گیا میں فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ شاہمیر نے پلٹ کر اپنی عینک کے پیچھے سے مجھے دیکھا لیکن میری نظریں وال کلاک پر جم گئیں۔۔ کلاک ساڑھے سات بجے کا اعلان کر رہا تھا میں نے جلدی سے اٹھ کر باہر جھانکا تو روشنی جاچکی تھی
’’سارے گھوڑے بیچ کر اٹھے ہو بھائی‘‘ شاہمیر نے مجھے مخاطب کیا لیکن میں تیزی سے غسل خانے میں گھس گیا
’’کیا میں کراچی سونے آیا تھا؟‘ میں نے غصے میں خودسے سوال کیا ۔غسل خانے سے نکل کر میں جوتے پہننے لگا تو شاہمیر کمپیوٹر کو چھوڑ کر میرے پاس آن بیٹھا۔
’’ہیلو! یہ چکر کیا ہے‘ اس نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے اپنی عینک ماتھے پر چڑھائی
’’کچھ نہیں یار بہت دیر ہو گئی ہے واپس آ کر سارا معاملہ سمجھائوں گا‘میں جوتے پہن کر کھڑا ہو گیا
اس نے چند لمحوں کے لیے کچھ سوچا اور پھر فوراً ایک پرچی پر کچھ لکھ کر میرے ہاتھ میں تھما دیا ’ یہ نیچے درزی کی دکان کا ٹیلی فون نمبر ہے کوئی مسئلہ ہو جائے تو اطلاع کر دینا‘اس کی لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی
میں پرچی کو جلدی سے جینز کی جیب میں ٹھونس کرخدا حافظ کہتا ہوا باہر کی جانب لپکا لیکن میرے قدم رک گئے اور ناجانے میرے دل میں کیا خیال آیا کہ میں پلٹ کر اسکے پاس گیا اور اسے گلے لگا کر کہا ’ یار میری واپسی تک دعا کرتے رہنا کہ۔۔ میری ایک دوست بہت بیمار ہے‘ یہ کہتے ہوئے میں تیزی سی باہر ی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
اپارٹمنٹ سے نکل کر میں تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا یونیورسٹی روڈ کی طرف روانہ تھا جہاں سے مجھے ٹیکسی با آسانی مل جانی تھی۔ کراچی میں رات کا آغاز دن کے مقابل کئی زیادہ دلفریب ہوتا ہے لوگ گھروں کو چھوڑ کر سمندر کی جانب سے آنے والی نم ہواؤں میں گھومنا پھرنا پسند کرتے ہیں سڑکیں، پارک، شاپنگ مال، فوڈ پوائنٹ، ہرجگہ لوگوں کا جم غفیر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ساحل سمندر پر لوگ اپنی پریشانیاں قہقہوں میں اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دن بھر کی تھکن سمندر کے حوالے کر کے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں لیکن میں اپنے اردگرد سے یکسر بے خبر چلتا جا رہا تھا پرانی ریلوے لائن کراس کر کے سامنے اردو سائنس کالج کے سامنے میں ٹیکسی پر سوار ہو گیا۔ راستے میں، میں نے ایک بچے سے سگنل پرتروتازہ گلدستہ خرید لیا ۔جوں جو ں ٹیکسی اسپتال کے قریب ہوتی جا رہی تھی میرے دل پر بوجھ سا بڑھنے لگا۔
اسپتال کے مین گیٹ پر اترتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یکدم میری ٹانگوں نے مزید چلنے سے انکار کر دیا ہو ٹانگوں میں جیسے جان ختم ہو گئی ہو۔ آسمان پر ستارے اور زمین پر بیمار لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے دکھائی دیتے تھے ٹیکسی جا چکی تھی لیکن میں ہاتھوں میں گلدستہ لیئے وہیں کھڑا سوچ رہا تھا انسان بیمار کیوں ہوتے ہیں؟اس میں بیمار کی آزمائش مقصود ہے یا اسکے پیاروں کی؟
آج نرمین کی سالگرہ ہے میرے لبوں پر خود بخود ایک مسکراہٹ سی پھیل گئی اور چلنے کی سکت بھی پیدا ہو گئی میں تیزی سے اسپتال کے اندر داخل ہو گیا یہ کراچی کا ایک بہت نامور پرائیویٹ اسپتال تھا ۔یہاں مجھے نرمین کو تلاش کرنے میں زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا وہ ایک اسپیشل روم میں موجودتھی لیکن استقبالیہ پر چھوٹی سی انکوائری کے بعد وہاں موجود لڑکی نے انٹرکام کے ذریعے نرمین کے روم کا نمبر ملایا اور میرا نام بتایا ۔وہ ابھی اور کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ ایک دم اس کے لبوں کو چپ سی لگ گئی اس نے صرف ’ یس میم‘ کہہ کر ریسیور نیچے رکھا اور ہاتھ کے اشارے سے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوے مجھے مخاطب کیا ’’ فرسٹ فلور پر تشریف لے جائیے روم نمبر 18‘‘
میں’شکریہ‘ادا کر کے سیڑھیوں کی جانب لپکا ۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے پہاڑ پر چڑھنے جیسا احساس ہو نے لگا میرے ذہن میں اچانک نرمین کے کمرے میں موجود اس کے ماں باپ بہن بھائیوں رشتہ داروں کا خیال آیا کہ اگر انہوں نے پوچھ لیا کہ میں اتنی دور سے کس رشتہ کے ناتے نرمین سے ملنے آیا ہوں ؟ اگر صرف دوست ہوں تو باقی کلاس فیلوز کیوں ملنے نہیں آئے؟ کیا میرے ملنے سے نرمین کے باپ کے دل میں نرمین کا امیج خراب نہیں ہو جائیگا؟ اس کے خاندان والے کیا سوچیں گے کہ نرمین یونیورسٹی میں یہ گل کھلانے جایا کرتی تھی؟ ایک معذور لڑکی اور محبت ؟ اس کے رشتہ دار تو توبہ توبہ کرکے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔۔ میرے دماغ پر ہتھوڑے برس رہے تھے اور میں تھک کر آخری سیڑھی پر بیٹھ گیا ۔تازہ گلابوںکا گلدستہ میری جھولی میں تھا اور میں نے آہستہ سے اس پر اپنا سر رکھ دیا ایک نرس نے انتہائی شائستہ انداز میں مجھے مخاطب کیا۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے‘‘ میں نے فوراً سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
’’جی،شکریہ‘‘
نرس مسکرا دی اور تشویش آنکھوں میں رکھ کر آگے بڑھ گئی
میں نے آنکھیں موند کر دل ہی دل میں آوازلگائی ’ اے اﷲ میری مدد فرمانا اور ایک جھٹکے سے اٹھ کر کمرہ نمبر 18 کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ایک منٹ بعد ہی میں کمرہ نمبر 18 کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔ ہلکی سی دستک دی تو ایک خاتون نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا میری نگاہیں اس کے چہرے سے ٹکراتے ہی بیڈ پر لیٹی ہوئی نرمین پر جا گریں اور وہیں پڑی رہ گئیں
’’اندر آ جائو‘‘ خاتون کی آواز سے میرے قدم خود بخود حرکت میں آ گئے اور میں نرمین کے چہرے کو تکتا ہوا اس کے بیڈ کے قریب آ ن پہنچا۔
اس نے اپنی سرخ حاشیوں والی نیم وا آنکھوں سے میری طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’کیسے ہو میرے شاعرِ محبت؟‘‘
وہ معمولی سی کروٹ پر لیٹی ہوئی تھی ۔
گلدستہ اس کے پہلو میں احتیاط سے رکھ کر وہیں کھڑا ہوگیا کہ میں اپنی نگاہ اس کی آ نکھوں سے اب تک نہیں چھڑا سکا تھا جیسے اس کے سارے جسم میں صرف آنکھیں رہ گئی تھیں۔۔ جو کہ زندہ تھیں ۔
میری خاموشی کو بھانپتے ہوئے عقب میں کھڑی ہوئی عورت نے مداخلت کی۔
’’آپ یہاں آرام سے بیٹھ جائیے‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے دیوار کے ساتھ لگے ہوئے صوفوں کی طرف دائیاں ہاتھ پھیلا رکھا تھا۔
’ یہ میری چھوٹی خالہ ہیں ‘ نرمین کی خفیف آوازابھری۔
میں سر ہلا کر صرف ہلکا سا مسکرا سکا اور صوفے پر چپکاسا بیٹھ گیا۔
کمرے میں گہرا سکوت تھا۔
چند لمحوں بعد اس کی خالہ نے مجھے باقاعدہ مخاطب کیا۔
’’عموماً اس وقت ملاقاتیوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن آپ دور سے تشریف لائے ہیں اس لیے اطمینان سے باتیں کر لیجئے‘‘
مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ مجھے کیا باور کروانے کی کوشش کر رہی تھیںبہرحال میں نے نہایت ادب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
’’آپ کا بہت شکریہ مجھے ذرا دیر ہوگئی ورنہ ارادہ شام کو آنے کا تھا‘
خالہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے نرمین کے سرہانے جا بیٹھیں، نہایت پیار سے اس کے ماتھے سے بال پیچھے کیے اور کچھ توقف کے بعد اس کے کان میں چند لمحے سرگوشیاں کرنے کے بعد میں میری طرف اچٹتی سی نظر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں
اب کمرے میں ہم دونوںکے سوا کوئی اور نہیں تھا وہی میں تھا اور وہی نرمین لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے لیئے اجنبی ہوں دونوں کے درمیان ہچکچاہٹ اچانک ناجانے کہاں سے در آئی تھی میرا جی چاہ رہا تھا کہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر بے تحاشا چومنا شروع کردوںمنہ سے ایک لفظ نہ نکالوں بس آنسوئوں سے اس کے زرد رخساروں پر دل کی ساری باتیں لکھ دوں۔
’غفران‘ اس کی آواز نے میرے خیالات میں کنکر پھینکا اور میں نے یوں چونک کر اس کی جانب دیکھا جیسے ابھی نیند سے جگایا گیا ہو۔
’’وہاں مت بیٹھو یہاں آکر میرے پاس بیٹھو۔‘‘ اس نے اپنی نازک سپید انگلی سے بیڈ کی اس جگہ ہاتھ رکھا جہاں تھوڑی دیر پہلے اس کی خالی براجمان تھیں۔
میری نگاہیں بے اختیار دروازے کی جانب اٹھ گئیں تو وہ مسکرا دی’ فکر مت کرو جب تک تم کمرے میں ہو یہاں اب کوئی نہیں آئیگا۔۔ موت کا فرشتہ بھی نہیں۔
میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا اور اس کے چہرے کا طواف کرتاہوا اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’تم نے مجھے سالگرہ کی مبارک نہیں دی‘‘ اسکے ہونٹوں پر شکوہ اور آنکھوں میں مسکان چمکتی تھی۔
’’سالگرہ مبارک ہو نرمین۔‘‘ میں کہ اس کی حالت دیکھ کر تکلیف میں مبتلا تھا بڑی مشکل سے اسے مبارکباد دی۔
وہ میرا درد جان چکی تھی لیکن نظر انداز کرتے ہوئے بولی ’’بندہ کیک ہی لے آتاہے‘‘
اس کی بیمار آنکھیں میرے چہرے پر گویا گڑی ہوئی تھیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ میں دھیرے دھیرے مدہوشی سے ہوش میں آ رہا تھا کہ مجھے نرمین کے دیدار کرنے کے سوا اور کچھ بھی یاد نہیں تھا۔
’’بہت فضول عاشق ہو تم‘‘ اس نے قہقہہ لگانے کی ناکام کوشش کی۔
میں جانتا تھا کہ وہ یہ سب باتیں میرا دھیان اپنی بیماری سے ہٹانے، مجھے بہلانے کے لیے کر رہی تھی لیکن کبھی کبھی انسان کو سب کچھ جاننے کے باوجود بھی انجان بننے کی اداکاری کرنا پڑتی ہے سو وہی میں کرنے لگا۔
’’میں تیری یادسے نکلوں تو کچھ یاد رہے۔‘‘ میرے اندر کے شاعر نے مجبوراً انگڑائی لی حالانکہ میرا دل اسے گلے لگا کر بہت زور زور سے رونے اور چیخنے کو کر رہا تھا ۔
’’کتنی خوبصورتی سے بات کو ٹال دیا ۔۔آخر ہو نا شاعر‘
تری قربت میں آکر سوچتا ہوں
میں شاعر تھا کہ اب شاعر بنا ہوں‘
’میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ تم ضرور آئو گے‘
’میں سنوارد وں اسے تمہاری آنکھوں سا
اگر یہ رات میرے پیار کی گواہی دے‘
’میں جانتی تھی کہ تمہاری محبت کے طوفان کے آگے میرا وعدہ ایک تنکا ثابت ہوگا
’وعدہ کِیا تھا تم سے پر اے جانِ تمنا
وعدہ وفا کروں گا وعدہ نہیں کِیا تھا‘
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی بنا پازیب رقصاں تھی اور میں ہمیشہ کی طرح ذہن میں سیکڑوں سوالات لیے چپ چاپ اپنی دیوی کے سامنے عجز کے ساتھ دوزانو تھا اس کے بے حس و حرکت بدن کو دیکھ کر میرے دل پر چھریاں سی چلتی رہیں لیکن میں لبوں پر مسکراہٹ سجاکر اس کی جانب دیکھنے پر مجبور تھا کہ یہی بیمار پُرسی کی روایت ہے۔
’’جی‘‘ اس نے مجھے کچھ یوں مخاطب کیا کہ ایک لحظہ کے لیے اس کا چہرہ چمک اٹھا۔ ’غفران بہت لمبا نام ہے مجھے اجازت دو کہ میں تمھیں صرف ’جی،کہہ کر پکاروں۔۔پلیز‘‘
’’اجازت مت مانگو۔۔حکم صادر کرو۔‘‘ ظالم نے مانگا بھی تو کیا مانگا کہ وہ سمے تو جان مانگنے تھا
’’تھینک یو‘‘ معصوم سی مسکراہٹ اس کے خشک ہونٹوں پر کِھل کر مرجھا گئی
’ اچھا کیا کہنا چاہ رہی تھی۔۔ جان جی‘
اس نے دو لمحوں کے لیئے آنکھیں موند لیں اور پھر آہستہ سے کہا’یہ میرے اوپر سے سفید چادر کھینچ کر اتار دو گے پلیز‘ اتنے وقت میں اس کے زردی مائل چہرے پر سرخی کی مہین تہہ پہلی بار دکھائی دی
میں نے اس سے پہلے کبھی کسی مریض کے ساتھ اسپتال میں وقت نہیں گزارا تھا اس لیے مریض کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں، اس تجربے سے میں فارغ تھا’الجھن ہو رہی ہے ؟‘میں ذرا سا گھبرا گیا
اس نے پلکیں جھپکا کر ’ہاں‘ کا اشارہ دیا
میں نے انتہائی سلیقے اور آرام کے ساتھ اس کے بدن سے سفید چادر کو اٹھا کر پائنتی کی جانب رکھ دیااور اگلے ہی لمحے میری نگاہیں اس کے سر سے پائوں تک دوڑتی چلی گئیںمیری آنکھوں میں آنسوئوں نے قیامت برپا کردی میرا جی چاہ رہا تھا کہ اسے اپنے ساتھ لپٹا کر اتنا چیخوں کہ سات آسمان ہلا دوں وہ نظارہ جان لیوا تھا محبت کمرے میں اتراتی پھر رہی تھی لیکن میرا دل درد کے پاتال کو چھو رہا تھا
نرمین نے وہ لباس پہن رکھا تھا جو میں نے اسے سالگرہ سے پہلے تحفتاً دیا تھا میں نے زبردستی کی بھرپور مسکراہٹ سے اس کا دل رکھتے ہوئے کہا۔’محبت میں پہل میں نے کی تھی لیکن اب تم مجھ سے کوسوں آگے چل رہی ہو نرمین‘‘
’’جی ! خدا کی قسم میری حالت ایسی نہیں کہ میرا جسم یوں سج دھج کے تیار ہو اور اس کے بعد چوبیس گھنٹے بستر پر پڑا رہے لیکن آج خدا جانے کیوں صبح سے میرے دل کی یہ آواز مجھے مسلسل سنائی دے رہی تھی کہ تم ضرور آئو گے ۔۔یقین مانو یہ طاقت مجھے محبت نے ادھار دے کر مجھ سے یہ سب کروایا ہے اور میں۔۔صرف تمھارے لیے، ایک مبہم سی امید کے سہارے یہ لباس پہننے پر آمادہ ہو گئی اور پتہ ہے جی؟میرا تمام تر خوف آج ختم ہو گیا کیونکہ آج میں نے صرف و صرف اپنے دل کی آواز سنی ہے میں جب سے اس اسپتال میں آئی ہوں آج پہلی مرتبہ مجھے سکون نصیب ہوا ہے۔‘‘
وہ سچ مچ اپنی خلوت گاہ میں چت لیٹی ہوئی کسی مُلک کی شہزادی لگ رہی تھی۔
’’تم شاعر ہو،رائٹر ہو لیکن میری یہ بات لکھ لو کہ محبت کوئی بے اختیاری شے ہے یہ بھی خدا کی طرح اَن دیکھی اَن چھوئی سہی لیکن بے حد طاقتور ہے انسان سے وہ سب کچھ کروانے پر قادر ہوتی ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتا یا پھر جسے کرنے کی اس میں ہمت نہیں ہوتی ۔میں اتنے دنوں اس سفید چادر تلے مریضوں والے لباس میں نیم مردہ جسم کے ساتھ بستر پر مشینوں سے مصنوعی سانس لیتی رہی لیکن آج جب تم نے اس سفید کفن کو میرے اوپر سے اتارا تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے محبت نے مجھے چھو لیا ۔۔قسم لے لوسچ مچ چھو لیا ۔۔جیسے موسم ِ برف کے بعد بہار زمین کا بوسہ لیتی ہے اور چاروں جانب پھول ہی پھول کھل اٹھتے ہیں‘‘
وہ سچ کہہ رہی تھی وہ اب واقعی ویسی نہیں دکھائی دیتی تھی جیسا کہ میں نے کمرے میں داخل ہوتے سمے اسے دیکھا تھا اس کی آواز میں واضح فرق آ چکا تھا آنکھوں میں ناقابل بیان خوبصورت چمک اور چہرے پر گہرا سکون اس کے ہونٹوں پر زندگی کا سرخ بوسہ ثبت تھا لیکن اس کے باوجود میں اپنے آنسووؤں کو نہ روک پایا شاید میرے دل کی آنکھوں نے اس کے اندر کے جان لیوا روگ کو دیکھ لیا تھا وہ درد جسے بیان کرنے کے لیے کبھی الفاظ نہیں ملتے اور کبھی آنسو۔۔اس سمے میرے پاس آنسوئوں کی متاع کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا جو میں دیوی کے چرنوں میں چڑھا سکتا’تم نے مجھے تو بتایا ہوتا کیوں ایسے اتنی دور چلی آئیں مجھے اطلاع دینے کے قابل بھی نہیں سمجھا ؟ میری طرف دیکھو نرمین۔۔میں ہوں تمھارا طبیب،قسم لے لو میرے علاوہ تمھیں کوئی اچھا نہیں کر سکتا کہ تمھیں ان مشینوں دوائیوں اسپتالوں کی نہیں صرف محبت کی ضرورت ہے محبت ہی تمھارے درد کا درماںہے محبت کی پناہ گاہ میں تمھیں سکون ملے گا اور محبت ہی تمھارے زخموں کا مرہم ہے ‘
اس کے چہرے پر افسردگی کی دھند اتر آئی’’جی! تم اتنی دور سے میرے پاس رونے اور رلانے آئے ہو ؟پلیز ایسا مت کرو یہ چند گھڑیاں مسکرا کر میرے ساتھ گزار دو‘‘
میں اسے کیا بتا تا کہ آنسوؤں کا موت سے بہت گہرا تعلق ہے موت کی چاپ سن کر بہنے والے آنسوؤں کا ذائقہ بڑا ہی کسیلا ہوتا ہے اور اس وقت ایسا ہی ذائقہ میرے ہونٹوں کے کناروں سے اندر میری زبان کو چھو رہا تھا
’’جی، میرا ہاتھ تھامو‘‘ اس نے اپنے ساکت ہاتھ کی انگلیوں کو جنبش دی۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام لیا اس کے لمس نے اینٹی بائیوٹک کی طرح اثر کرتے ہوئے میرے آنسوؤں کو کافی حد تک روک دیا کچھ دیر تک ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر گہری سوچ کی دہلیز پر بیٹھے رہے اور پھر اس نے بہت آہستہ سے ٹہر ٹہر کر مجھے گزشتہ ماہ لکھی ہوئی میری ہی اک نظم سنائی جس کاعنوان میں نے “یاد” رکھا تھا لیکن اس نے بہت بحث کے بعد بدل کر” تنہائی” رکھ دیا تھا
سحر ہوتی ہے شام ڈھلتی ہے
نہ جی کہیں بہلتا ہے
نہ نگاہ کہیں ٹہرتی ہے
تیری یادوں کے بیابانوں میں
جیسے رُک رُک کے ہوا چلتی ہے
ایسے تھم تھم کے جاں نکلتی ہے
شاعری بھی سو موقعوں پر سو روپ بدلتی ہے جو شعر کسی ایک موقع پر صرف چھو کے گزر جاتا ہے وہی کسی دوسرے موقع پر دل میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتا یہ نظم جو میں نے یادِ یار میں لکھی تھی وہی نظم اس وقت کوئی اور ہی مفہوم بتا رہی تھی
’’جی!میں جانتی ہوں تم بہت اچھے ادیب ہو ،شاعرہو میں نے کبھی تم سے شاعری کے حوالے سے کوئی فرمائش نہیں کی لیکن آج میرا دن ہے میرے لیے کوئی نظم کہو ناں۔ ۔ پلیز‘‘
عمیق اداسی سے ایک پھیکی سی مسکراہٹ ابھر کر خود بخود میرے لبوں پر پھیل گئی اورمیرا ذہن فوراً کسی نظم کا تانا بانا بننے لگا ان گنت الفاظ تتلیوں کی مانند میرے ارد گرد اُڑنے لگے میری سوچ کے ساتھ کمرے کا سکوت بھی گہرا ہوتا چلا گیا اسی اثناء ایک دبلی پتلی نرس دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر ہاتھ میں ٹرے اٹھائے اندر داخل ہو ئی۔ وہ مسکراتے ہوئے نرمین کے بیڈ کے قریب آئی اور ٹرے ایک طرف رکھ کر ا سے مخاطب کیا ’آج تو آپ بالکل گلاب کا پھول بنی ہوئی ہیں‘‘
نرمین نے جواباً مسکرا کر اسے’ شکریہ ‘کہا اور ہلکا سا میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے دبایا
’’نازلی، تم نے دیکھا نہیں کہ آج کون آیا ہوا ہے‘‘ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے نرس کو مخاطب کِیا۔
’’ان سے تو میں غالباً مل چکی ہوں‘‘ ناز لی نے بلڈ پریشر چیک کرنے کی تیاری کرتے ہوئے کہا۔
’’کب؟کہاں۔‘‘ نرمین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
نازلی کی بات سن کر میں نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا اورمیرے ذہن میں نظم کی تعمیر کا کام فوری طور پر رک سا گیا
’’ابھی کچھ دیر پہلے سیڑھیوں پر۔۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا تو مجھے یاد آگیا کہ یہ وہی نرس ہے جس نے مجھے سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھ کر میری طبیعت پوچھی تھی’معذرت چاہتا ہوں، اب یاد آیا‘‘
’معذرت کی ضرورت نہیں ہے سر‘ نازلی کے لہجے میں خلوص تھا
ابھی نرمین نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ ناز لی نے مجھے مسکراتے ہوئے مخاطب کیا ’’اگر میں ایک درخواست کروں آپ برا تو نہیں مانیں گے‘‘
’’نہیں۔ بالکل نہیں ۔۔آپ کہیے‘‘
’’میں نے ان کا بلڈ پریشر چیک کر کے انہیں میڈیسن دینی ہیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو آکسیجن ماسک بھی لگا دوں گی‘‘ ناز لی نے اطمینان سے اپنی بات مکمل کی۔
میں نے آہستہ سے نرمین کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑا کر بیڈ پر رکھا تو وہ مجھے روکتے ہوئے ناز لی سے مخاطب ہوئی’’پلیز نازلی خدا کے لیے۔۔ آج یہ سب رہنے دو۔۔ آج میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ نہیں پلیز آج نہیں‘‘ وہ بچوں کی طرح روہانسی ہو کر ضد کرنے لگی۔
میں اپنے دل پر پتھر رکھ کر کھڑکی کے پاس چلا آیا میری پیٹھ ان دونوں کی جانب اور نگاہیں کھڑکی کے شیشے پر پڑنے والے کمرے کے اندر ہونے والی کاروائی کے دھندلے عکس پر تھیں۔
ناز لی نے اس کے رخسار پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ’ڈیئر۔ میں اپنی ڈیوٹی کے ہاتھوں مجبور ہوں‘‘
’’نہیں ناں ،تمہاری میڈیسن سے مجھے ایک دم نیند آ جاتی ہے اور آج میں سونا نہیں چاہتی۔ پلیز‘‘ نرمین کی آواز گلے میں رندھ گئی
ذرا سی خاموشی کے بعد ناز لی نے جیسے ہار مان لی ’’اچھا ابھی صرف بلڈ پریشر چیک کروا لو اور کمر کے زخموں پر دوا لگانے دو میڈیسن تھوڑی دیر بعد آکر دے دوں گی۔۔اب خوش؟‘
’’تھینک یو، نازلی‘‘ گویا اب نرمین کی جان میں جان آئی ہو
وہ اس کا بلڈ پریشر چیک کرنے لگی اور میری نظریں خود بخود شیشے کے پار ستاروں بھرے آسمان پر جا ٹہریںمیرا ذہن نظم کی دوبارہ تعمیر کرنے لگا اور آنسوئوں کا کاروان ایک مرتبہ پھر میرے گالوں پر خراماں خراماں ان دیکھی منزلوں کی جانب روانہ ہوگیا میری گیلی پلکیں ستاروں پرالفاظ بکھیر رہی تھیں کیا لکھوں کیا نہ لکھوں امید لکھوں یا درد لکھوں دلاسا لکھوں کہ شکوہ لکھوں محبت اے محبت۔۔میری مدد کر ،وہ حرفِ سخن عطا کر کہ جو میری دوست میری جان میری دلربا کو چبھے نہیں دکھ کا باعث نہ بنے مجھ سے اس کا ایک بھی آنسو دیکھ نہیں جائیگا ۔۔برداشت نہیں ہوگا۔
میں دیر تک کسی مجسمے کی مانند کھڑا رہا اور پھراچانک نازلی کی آواز نے چونکا دیا’سنیئے‘
میں جلدی سے اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اس کی جانب مڑا تو وہ مدھم آواز میں بولی’’میں نے ابھی انہیں میڈیسن نہیں دی کچھ دیر بعد آکر دونگی لیکن آپ نے ایک بات کا خیال رکھنا ہے‘‘
میں نے نرمین کی طرف دیکھا تو وہ بالکل کروٹ پر لیٹی ہوئی تھی
’ میں نے ان کی کمر کے زخموں کو صاف کر کے دوا لگا دی ہے بس آپ نے دھیان رکھنا ہے کہ یہ ایک گھنٹے تک کروٹ نہ بدلیں ‘
’’جی بہتر‘‘
’ہاں ایک اور ضروی بات کہ کسی بھی ایمرجینسی کی صورت میں آپ نے فوراً بیڈ کے ساتھ نصب لال بٹن دبا دینا ہے ‘
میں نے محسوس کیا کہ نازلی کا لہجہ کچھ ٹوٹا ہوا ساتھا پیشہ ور نرس ہونے کے باوجود اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ انسان ہونے کے ناتے مریض کی ضد کو بالکل نظر انداز کر نے سے قاصر رہی تھی اس نے مسکرا کر نرمین کی طرف دیکھا اور تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی
میں نرمین کو دیکھ کر یوں مسکرایاجیسے اس پر احسان کر رہا ہوں
’’ادھر آ جائو ۔میرا ہاتھ تھام لو ۔زخموں میں بہت تکلیف ہے‘‘
’’تمام زخم بھر جائیں گے زخموں کو تو بھرنا ہی ہوتا ہے‘‘ میں نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھام لیا وہ دائیں کروٹ پر لیٹی ہوئی تھی بالوں کی لٹ اس کے رخسار پر پڑی ہوئی تھی’ لیکن میرے زخم بھی میری قسمت کی طرح بگڑے ہوئے ہیں ان کا بھر جا نا محال ہے‘
میں نے پیار سے اس کے ہاتھ کو دبایا’ مایوسی کی باتیں مت کرو پلیز‘
اسی لمحے میرے دل نے سینے سے جھانک کر اسے دیکھا اور کہا آہ۔۔کتنی خوبصورت جوان لڑکی بہار کے دنوں میں خزاں کے خوف سے لرز رہی ہے!
’ اچھا چھوڑو ساری باتیں‘ لڑکی کے لہجہ میں یک دم بچوں کی سی معصومیت آگئی
’مجھے نظم سنائو۔۔اگر ابھی نہیں سوچ پائے تو کوئی پرانی ہی سنا دو ‘
میں نے اس کے رخسار سے بالوں کی لٹ کو پیچھے کی طرف سمیٹا اور اپنی پوری ہمت کو یکجا کرتے ہوئے نظم کا آغاز کیا۔۔
اے رفیقِ من، سُن، میری دلربا
مرض کس نے کہا ہے ترا لادوا
گو طبیبوں کے نسخے موثر نہیں
یہ مگر میری جاں حرفِ آخر نہیں
مجھ کو معلوم ہے یہ کٹھن مرحلہ
آزمائے گا پل پل تیرا حوصلہ
کوئی آئے گا پھولوں کی کلیاں لیے
کوئی آئیگا یونہی تسلّیاں لیے
جان کیا ہے خدا کی امانت فقط
مانگ ایمان اپنا سلامت فقط
رکھوں جو تیری روح پر کہیں
وہ مرہم مِرے ہاتھ میں ہی نہیں
ترے درد کی موڑ دے جو مُہار
میری شاعری میں نہیں وہ قرار
تری خوں اُگلتی کہانی کے صدقے
پلکوں پہ ٹہرے پانی کے صدقے
میں صدقے تیری جوانی کے صدقے
آزمائی ہے جس نے تیری بندگی
وہی دے گا تجھے پھر نئی زندگی
اِک دن تیرگی یہ بھی چھٹ جائیگی
چھین کر تیری اُمید سے روشنی
نرمین جو اب تک اپنے دل پر ضبط کا بھاری پتھر رکھے ہوئے تھی یکایک اس کی بندپلکوں سے آنسو ابلنے لگے
میں چپ چاپ سر جھکائے اس کا سرد ہاتھ تھامے بیٹھا تھا
سسکتی ہوئی خوبصورتی قسمت کی غلامی میں رنجور تھی
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیںگیلی پلکوں کے اس طرف غمگین مدھم سی روشنی میرے چہرے پر پڑنے لگی۔
’’جی، تم مجھے بھول جانا، مجنوں جیسی حالت نہ بنا لینا‘ وہ جل تھل آنکھوں سے مسکرا دی
’ تم نے بتایا نہیں کہ نظم تمہیں کیسی لگی‘میں نے موضوع بدل دیا
’ سچ بتا دیا تو تم ناراض ہو جائو گے اور جھوٹی تعریف مجھے نہیں کرنی‘
’سچ بتا دو ۔۔نہیں ہوتا ناراض‘
’ آخری دو مصرعوں کے علاوہ تمام نظم بے انتہا خوبصورت تھی‘ اب اس کا چہرہ گوتم جیسا شانت تھا
میں تڑپ اٹھا’ پھر وہی مایوسی کی باتیں‘
’ نہیں ،سچ میں میری امیدوں کے تمام چراغ بجھ چکے ہیںمیرے درد کا درماں زندگی سے نجات میں پنہاں ہے معذور بیمار جسم کا بوجھ اب نہیں سہا جاتا تھک کے چور ہو گئی ہوں مجھے موت کے اندھیروں میں کوئی امید کی کرن نہیں دیکھنی کہ مجھے موت کا گہرا ہوتا ہوا اندھیرا ہی اب سکون دے گا‘
اس کے ہونٹوں سے موت کا لفظ سن کر میری روح کانپ اٹھی اور آنکھیں بھیگ گئیں’ کیا تم یہ چاہ رہی ہو کہ میں یہاں سے چلا جائوں‘
’نہیں‘ اس نے میرے ہاتھوں کو بمشکل اپنی جانب کھینچتے ہوئے اپنی اداس نگاہیں میری آنکھوں میں رکھتے ہوئے کہا ’میرے قاتل، میرے دلدار، میرے پاس رہو ،تم ہو تو اس سمے میرے پاس موت بھی نہیں آ سکتی‘
میری بے بسی کے آنسو بدستور میرے گالوں پر رینگ رہے تھے وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہو کر کروٹ پر لیٹی ہوئی تھی اور میں اس حالت میں دیکھنے کے سوا اسکے لیئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا اے خدا بس۔۔اب بس کردے۔۔ نازک ناتواں جسموں پر اتنا بوجھ مت ڈال کہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں ۔۔بس اے خدا رحم کر رحم !۔۔میرا دل خدا کے آگے گڑگڑا تارہا لیکن نرمین کا درد کم نہیں ہوا۔
’ جی،کیوں لڑکیوں کی طرح روئے جا رہے ہو Be a brave man ‘
بھیگی آنکھوں میں نرمین کا چہرہ ڈوبتا ہوا دکھائی دیا تو میں نے گھبرا کر فوراً آنسو پونچھ لیے
’جی، تم نہیں چاہتے کہ میں سکون حاصل کروں؟ بولو‘
’ یہ کیسا سوال ہے میں کیوں نہیں چاہوں گا ‘
کچھ توقف کے بعد وہ شکستہ لہجے میں بولی’قسم لے لو،اگر میں جی سکتی تو ضرور جیتی ۔۔میں جان بوجھ کر زندگی سے نجات حاصل کرنا نہیں چاہ رہی یہ تو میرے درد اور تکلیف کی شدت کا تقاضا ہے جو خود بخود میری زبان پر چلا آتا ہے میں مانتی ہوں کہ دنیا میں کوئی شخص سو فیصد اپنی مرضی کی زندگی بسر نہیں کر سکتا لیکن میں کیا کروں کہ لاکھ کوششوں کے باوجود میں اپنے مایوس دل کو یہ بات نہیں سمجھا سکی۔۔ میں جینا چاہتی تھی لیکن نا جانے کب کس گھڑی موت کی الفت میں گرفتار ہوگئی مجھے پتہ ہی نہیں چلا‘
’بس چپ کرو ‘ میری برداشت جواب دے چکی تھی لیکن وہ چپ ہونے پر آمادہ ہی نہیں تھی
’نہیں۔میں تماشا نہیں بننا چاہتی ‘
اس وقت میرے اندر شدید توڑ پھوڑ جاری تھی لیکن میں اپنے جذبات پر قابو رکھے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا’تمہیں کچھ نہیں ہو گا کچھ نہیں‘
’ جی،تم بہت دیر سے ملے ہو کاش تم کچھ سال پہلے میری زندگی میں آ جاتے تو شاید۔۔‘
میں نے اس کے خشک ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ’فیصلے تو خدا کرتا ہے۔ درست فیصلے۔۔ اور تمہیں اسی خدا کا واسطہ مایوسی کی باتیں نہ کرو ‘
’فیصلہ تو ہو چکا ہے ۔۔بس تم ہی بے خبر ہو ‘
میں جانتا تھا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے کہ کبھی کبھی انسان کو اپنی زندگی میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کا پہلے سے علم ہو جاتا ہے لیکن کوئی اسکی بات کا یقین نہیں کرتا یا پھر نہیں کرنا چاہتا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتا ہے ۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ خشک دیمک لگے تیزی سے کھوکھلے ہوتے ہوئے پیڑ کا انجام کیا ہوتا ہے اورمجھے یہ بھی معلوم تھا کہ کبھی ہم جنہیں مایوس سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ در حقیقت مجبور ہوتے ہیں بے انتہا بے بسی کے عالم میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن ان تمام باتوں کے جاننے کے باوجود میں خود اسے تسلیاں دینے پر مجبور تھا کہ میں اس کی محبت کے ہاتھوں بے بس تھا مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں فقط ایک کھوکھلا جسم ہوں اور میری روح میری نگاہوں کے روبرو بیڈ پر کروٹ لیئے پڑی ہے زخم خوردہ، چھلنی،دکھی،مایوس اور ۔۔اور۔۔جاں بلب۔۔آہ!
’کاش میں تم سے ملنے سے پہلے مر جاتی۔ کاش‘ وہ اچانک کمر کے بل لیٹ گئی جبکہ نرس نے مجھے سختی سے تاکید کی تھی کہ یہ کروٹ نہ بدلنے پائے
’ دوبارہ کروٹ پر آ جائو نرمین ‘میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا
’نہیں‘ وہ دائیں بائیں اپنا سر ہلاتے ہوئے بولی’ مجھے اسی طرح سکون مل رہا ہے‘
’ تمہاری حالت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی میں نرس کو بلاتا ہوں ‘میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑا کر لال بٹن دبانا چاہا لیکن اس نے منع کر دیا۔
’تمہیں میری قسم جی ،تم کسی کو نہیں بلائو گے بس تم میرے پاس رہو بس تم۔۔تم اور میں‘
اسکی آنکھوں میں مجھے اپنا عکس صاف دکھائی دیتا تھا اسکی نگاہوں سے نگاہیں چرانا میرے لیئے مشکل ہو چکا تھا
’ نرمین۔۔ایسا مت کرو ‘
’بس چپ ،اب کچھ مت کہو بس میری سنو، ایک معذور لڑکی سمجھ کر مجھ پر ترس کھائو اور صرف سنو ‘
میں چپ چاپ بت بنا کھڑا تھا میرے دل جو ذرا ذرا سی بات پر دیواروں سے سر پھوڑنے لگتا تھا اب ایسا شانت ایک کونے میں پڑا تھا جیسے اس نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہو
’سنو !تم شاعر ہو ادیب ہو کل تمہارا سارے زمانے میں نام ہو گا ۔ہاں !میں جانتی ہوں تم شہرت کے آسمان پر بہت جلد چمکنے والے ہو ،جی۔ کبھی وقت ملے توتم مجھ جیسی معذور لڑکیوں کے بارے میں ضرور لکھنا ،پلیز اور اس خود غرض دنیا کو بتانا کہ ہر ایک معذور جسم میں دھڑکنے والا اور محبت کو محسوس کرنے والا دل ہوتا ہے جو ہزاروں غم و الم برداشت کرنے کے باوجود ظالم رویّوں کی ذرا سی ٹھیس لگنے پر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے! تم لکھو گے نا ں؟‘
’ ہاں لکھوں گا۔۔اب مجھے نرس۔۔‘
اس نے میری بات کاٹتے ہوئے آنکھیں موند لیں’اور یہ بھی لکھنا کہ ہم جیسے معذور لوگ وقت سے پہلے صرف اور صرف عدم محبت کا شکار ہو کر مرتے ہیںمعاشرے کے منفی رویوں میں ہمارا دم گھٹتا ہے ہم جس گھر میں ہوں وہاں صف ماتم بچھی رہتی ہے دنیا کی نگاہ میں ہم زمین پر رینگتی ہوئی بیماریاں ہیں ہماری کوئی شناخت نہیں ہوتی، ہمارا کوئی نام نہیں ہوتا ،ہم صرف معذور ہوتے ہیں صرف معذور‘
’ خدا کے لیے چپ کر جائو نرمین ‘میں ہاتھ جوڑ لیئے
’میں چپ نہیں کر سکتی ،جی۔ سمے بہت تھوڑا رہ گیا ہے‘
میری آنکھوں سے آنسو امڈ آئے لیکن وہ انکی پرواہ کیئے بغیر بس اپنی دھن میں بولتی چلی جا رہی تھی
’ تمہیں حیرت نہیں ہوئی ؟‘
میرا حلق جواب سے چکا تھا
’تمہیں حیرت ہونی چاہیے کہ اس مرن گھڑی میں میرے پاس میرے ماں باپ بہن بھائی کوئی بھی تو نہیں‘
’ تمہاری خالہ تو ہیں ناں۔۔میں بلا کر لاتا ہوں خدا کے لیئے مایوسی کی بات تم کو زیب نہیں دے رہیں‘
’میرے پاس رہو‘ اس نے التجاکی میرے قدم رک گئے
’سنو ناں، آج مجھے میری بہن نے فون کیا تھا اور کہہ رہی تھی کہ کل اسکا فائنل پرچہ ہے اسکے بعد وہ کراچی میرے پاس آ کر رہے گی ،میرا بھائی دو دن پہلے مجھ سے بڑے پیار سے اجازت لے کر لاہور گیا ہے کہ وہاں اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ کسی فیسٹیول میں جانا تھا‘اب اسکی آنکھ سے ایک آنسو کنپٹی پر رینگ گیا’اور میری ماں۔۔وہ بیچاری دن کے وقت میرے پاس ہوتی ہے لیکن بلڈ پریشر کی مریضہ ہے تھک جاتی ہے اور شام تک گھر چلی جاتی ہے‘ وہ یک لحظہ چپ ہو گئی’اب پتہ چلا کہ دنیا کے کام کسی کے ہونے نہ ہونے سے نہیں رکتے‘
اب اس کی آنکھیں باقاعدہ نم آلود ہونے لگیں
’ اور تمہارے ابو‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا اور میں خود ہی پشیمان ہوگیا
اسکی آنکھوں کے کنپٹیوں پر آنسوؤں کی دو لکیریں بن چکی تھیں اور کرب کے آثار اسکے چہرے پر ہویدا تھے’ یہ بہت مہنگا اسپتال ہے، جی ۔اس کا ایک دن کا خرچ برداشت کرنا عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا یہ تمام خرچ کون برداشت کر رہا ہے؟ میرا باپ ۔کیا ہوا جو وہ اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے یہاں میرے پاس نہیں ہے کیا یہ کم ہے کہ اس کی دولت کی بدولت ہی تو اس ہسپتال میں مجھے مصنوعی سانس دیا جا رہا ہے، شاید میرا باپ ٹھیک سوچتا ہے مجھے زندہ رہنے کیلئے اس کی محبت کی نہیں بلکہ ایک اچھی نرس کی ضرورت ہے جو میرا خیال رکھ سکے، دن رات میری خدمت میں حاضر رہے‘
’ نرمین پلیز‘ اس بار میں نے ہمت کر کے اسے کروٹ کے بل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ میرے پہلو میں سمٹ گئی لیکن درد اسکی زبان سے بہتا ہی چلا جا رہا تھا
’جی، تم یہ بھی ضرور لکھنا کہ ہم جن پر تمام عمر ساتھ دینے اور رشتے نبھانے کا دھوکا کھائے ہوتے ہیں وہی لوگ ہماری مرن گھڑی میں ہمارے پاس نہیں ہوتے یہ دنیا بڑی بے وفا جگہ ہے یہاں ہر کسی کو تنہا جینا سیکھنا چاہیے رشتوں پر اعتبار کرنا چاہیے لیکن انحصار نہیں سہاروں کے عادی لوگ بے سہارا ہو کر میری طرح بستر مرگ پر اپنے پیاروں کو یاد کریں تو تکلیف دگنی ہو جاتی ہے آخری سانس بھی یادوں کا دامن بڑی ہی مشکل سے چھوڑتی ہے۔ اذیت اُف اذیت‘ اس نے آنسوئوں سے تر چہرہ میرے سینے میں چھپا لیا
اب شاید مجھے بھی یقین ہو چلاتھا کہ یہ گھڑیاں واقعی الوداعی گھڑیاں ہیں میں اس کا زخمی بدن تھامے بیڈ پر بے حس و حرکت بیٹھا رہا میری جبین اس کے سر پر تھی اور آنکھوں سے سیلاب امڈ رہا تھا۔۔کمرے میں میری سسکیوں کی آواز تھی
وہ دیر تک چپ چاپ سمٹی رہی
’ جی، میرے بعد تمہاری زندگی میں جو بھی خوش قسمت لڑکی تمہاری بیوی بنے اسے میرے بارے میں ضرور بتانا‘
میں چپ رہا کہ مجھے لگا اب بولا تو سینہ پھٹ جائیگا
’جانتے ہو کیوں ؟کیونکہ میں چاہتی ہوں اسے پتہ چلے کہ تم کتنے عظیم انسان ہو ایک قبر کے دہانے لیٹی ہوئی معذور بے بس لڑکی کے لیے رو رہے ہو ‘
’ہاں! ہاں! میں تمہاری مایوس باتوں پررو رہا ہوں ‘میرے دل پر جیسے خنجر سے وار ہوا
’یہ تمہاری محبت تمھاری قربت، اس معاشرے کے میرے ساتھ نا روا سلوک کا مداوا ہے‘
’ تم نہیں تو تمہارے بعد کوئی نہیں، نرمین‘
’ پاگل‘اس نے سر اٹھا کر میری جانب نیم بازنظروں سے دیکھا’اپنے ہاتھوں کو میرے لبوں پر رکھ دو ،جی ‘
میرا آنسوؤں سے تر بتر ہاتھ اس کے یخ لبوں پر تھا اس کا سانس اکھڑنے لگا تو میں نے ہاتھوں کو پیچھے کھینچ لیا
’ تم ضرور شادی کرو گے ۔تم زندگی میں مصروف ہو جانا ورنہ جتنا مجھ کو یاد کرو گے میں اتنا ہی بے چین رہوں گی میری دعا ہے خدا تمہیں ایسی بیوی عطا کرے جو تمہیں راحت و سکون دے پیار کرے تمہارے دل کے تخت پر براجمان ہو ۔۔ آمین ‘
میں خاموش رہا میرے پہلو میں میرا آدھا حصہ میرا ہمجان مجھ سے جدا ہو رہا تھا
’کہو ناں۔۔ ثم آمین‘
’ ثم آمین‘
وہ ہلکا سا مسکرا دی اور ساتھ ہی اس کی سانسیں بے قابو ہونے لگیں
’ اب میں تمہاری ایک نہیں سنوں گا ‘میں نے اسے آرام سے بیڈ کر لٹا کر فوراً ہاتھ بڑھا کر لال بٹن دبا دیا
’اب کوئی فائدہ نہیں۔ ۔ رخصت کی گھڑی آن پہنچی ہے‘ اسکے چہرے پر اطمینان اور آواز میں مسرت تھی
’ نہیں نرمین‘میں قریباً چیخ اٹھا
نرس نازلی اور اس کے پیچھے نرمین کی خالہ تیزی سے اندر داخل ہوئی نرس نے فوراً سے پیشتر نرمین کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کے منہ پر آکسیجن ماسک چڑھا دیا نرمین کی سانسیں قابو میں آنے لگیں کچھ توقف کے بعد مجھے محسوس ہوا جیسے نرمین کی خالہ کی نظریں میرے ہاتھوں پر تھیں جن میں نرمین کا ہاتھ تھا میں نے آہستہ سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر نرمین نے ہاتھ کی گرفت اور مضبوط کر لی اس وقت مجھے اپنا آپ مجرم محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں کچھ دیر پہلے ہی نرمین کی ضد نہ مان کر بٹن دبا دیتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔
نرس نازلی بالکل خاموشی سے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اسے اٹینڈ کرنے میں مصروف تھی جبکہ خالہ کا چہرہ پہلے سے زیادہ افسردہ تھا کچھ دیر بعد نرمین نے آکسیجن ماسک ہٹانے کیلئے نرس کو سر ہلا کر آنکھوں سے اشارہ کیا تو اس نے بیڈ کے ساتھ پڑی مشین میں دیکھ کر اس کی بات مان لی آکسیجن ماسک اتر چکا گیانرمین ایک مرتبہ پھر نارمل ہو گئی میری جان میں جان آئی جیسے ماسک اس کے نہیں بلکہ میرے منہ سے اتارا گیا ہو۔
نرس سر ہلاتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی’ تم کمر کے بل کیوں لیٹ گئیں‘
اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس آنکھوں میں خاموش مسکان لیئے میری جانب دیکھتی رہی
اس بارنرس کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا اور اس نے براہ راست سنجیدہ نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا’ کیا آپ تھوڑی دیر کیلئے کمرے سے باہر جائیں گے‘
’ نہیں‘ نرمین کی آہستہ سے آواز ابھری
میں بمشکل اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے چھڑا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ میںکہ نرمین کو نرس کی ہدایات پر عمل کروانے میں بالکل ناکام رہا تھا چند لمحوں بعد خالہ بھی میرے پیچھے آ گئیں ہم دونوں باہر کرسیوں پر خاموش بیٹھے تھے میری پلکیں ابھی تک گیلی تھیں
’ ڈاکٹرز نے دودن سے جواب دے رکھا ہے کہ نرمین کسی بھی وقت۔۔‘ اس کی خالہ کی آواز میں بے انتہاء درد تھا
میں نے دونوں آنکھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا
’ میری لاڈلی بھانجی، ہم اس کے لیے کچھ بھی تو نہیں کر سکتے ۔کچھ بھی نہیں‘ شدت جذبات سے رندھی ہوئی آواز سن کر میرا دل پاش پاش ہوگیا
کمرے کا دروازہ کھلا تو میں نے فوراً سر اٹھا کر دیکھا ایک لمبا چوڑا قد آور ڈاکٹر کمرے میں تیزی سے داخل ہو رہا تھا خالہ فوراً اس کے پیچھے بھاگی میں بھی کمرے کے اندر داخل ہو گیا نرمین کے منہ پر آکسیجن ماسک چڑھا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود سانسیں بے قابو ہوتی چلی جا رہی تھیں اس کی نگاہیں دروازے پر جمی ہوئیں تھیں جہاں پر میں اور میرے سامنے خالہ کھڑی تھیںبیڈ کے آس پاس ڈاکٹر اور اسکا سٹاف دم توڑتے مسافر کو بچانے کی اپنی سی کوششوں میں لگے ہوئے تھے ۔مشین میں سے عجیب و غریب سگنلزکی آوازیں گویا الوداعی دھن کا تاثر دے رہی تھیں بالآخر آکسیجن ماسک اتار دیا گیا میں نے دیکھا نرمین بستر پر بے حس و حرکت پڑی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی
گویا مسیحا کو ہرا کے وہ اپنی جیت پر مسرور تھی!
زندگی سے مایوس لوگ اگر اس وقت نرمین کو دیکھ لیتے تو اتنی خوبصورت موت کو گلے لگانے میں ذرا تاخیر سے کام نہ لیتے
نرس نے اس کی آنکھیں بند کیں تو ایک دم مجھے یوں محسوس ہواجیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہے میری ٹانگوں سے جیسے کسی نے جان کھینچ لی ہے میں بڑی مشکل سے دروازہ کھول کر دیوار کے سہارے واپس کرسی پر جا بیٹھا میرے سر میں شدید درد ہو رہا تھا میں نا جانے کتنی دیر اپنی بدنصیبی پر روتارہا، اپنی حسرتوں کا ماتم اور ادھوری محبت پر غش کھاتا رہا ۔یہاں تک کہ میں بے ہوش ہو گیا !
٭٭٭
خزاں کی پہلی شام
ہیلپ کیفے کا آغاز شہر کے وہیل چیئرز پر بیٹھے چند تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اس وقت کیا جب ایک مقامی ریستوران کے مالک نے ان کی وہیل چیئرز کو دروازے سے باہر یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ’معذرت کے ساتھ ،وہیل چیئرز آپ اندر نہیں لا سکتے‘۔مالک کی معذرت نے ان کی عزتِ نفس کو گہری چوٹ پہنچائی اور انہیں یوں محسوس ہواجیسے اس نے کہا ہو’sorry, dogs are not allowed‘
غم ا و رغصہ کے شکار نوجوانوں نے کسی دوسرے ریستوران کا رُخ کرنے کی بجائے شہر کی خوبصورت ٹھنڈی شاہراہ کے کنارے ایستادہ گھنے چنار کے درختوں میں سے ایک درخت کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے سائے میں شام ڈھلے اپنی محفل جمانا شروع کر دی اس محفل میں نوجوان ارد گرد سے بے نیاز اپنی باتوں میں مگن ،زمانے بھر کے قصے،لطیفے،یادداشتیں ایک دوسرے کے گوش گزار کرتے،قہقہے لگاتے کبھی بے حد سنجیدگی سے شاعری افسانہ ناول پر گرما گرم بحث شروع کر دیتے کبھی کسی کی آنکھیں گردشِ حالات کی وجہ سے نم ہونے لگتیں تو باقی اسے ہنسا ہنسا کر اسکا غم غلط کرنے کی کوشش کرتے کبھی خاموشی کے گہرے وقفوں میں شام کی گنگناہٹ سنتے کبھی کوئی زیرِ غور مسئلہ سہانی شام کے حسن کو نگل جاتا اور کبھی معمولی سی خوشی ایک شام کے ہاتھوں سے پھسل کر اگلی کئی شاموں کے ہاتھوں میں اچھلتی پھرتی۔
دور سے گزرتے راہگیراور گاڑیوں سے جھانکتی نظریں انھیں ایسے دیکھتیںجیسے بچے دیو مالائی کہانیوں کی کتاب میں پہلی مرتبہ غیر مرئی مخلوق کی تصاویر دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔وہیل چیئرز پر بیٹھی اس انسان نما مخلوق کی تمام عادات و سکنات،جذبات عام انسانوں جیسے ہی تھے اس کے باوجود نا جانے کیوں ریستوران کے مالک نے انہیں اندر آنے سے روک دیا تھا یہ بھی ممکن ہے اسے کسی نے خواب میں آ کر یہ بات بتائی ہو کہ وہیل چیئرز پر بیٹھے معذور لوگ انسان نہیں بلکہ Aliens ہوتے ہیںذرا ان سے بچ کے رہنا کہیں انہیں دیکھ کر تمھارے سارے گاہک بھاگ نہ کھڑے ہوں اور ریستوران کا مالک سچ مچ ڈر گیا ہو
واقعہ کچھ بھی ہو ریستوران کے مالک کے منفی رویئے نے نوجوانوں میں مایوسی کی بجائے مثبت سوچ کو جنم دیا اور یوں چنار کے درخت تلے قائم اپنی نوعیت کی منفرد محفل ایک دن ’ہیلپ کیفے‘ کے نام سے ایک عمارت میں منتقل ہو گئی جہاں شہر کے تمام افراد باہم معذوری اور دیگر انسان دوست لوگ شام کو اکٹھے ہوتے اپنے خیالات کا اظہار ،تخلیقات کا پرچار کرتے اور درپیش مشکلات کا دیگر ساتھیوں سے حل طلب کرکے گھروں کو لوٹ جایا کرتے
کیفے کے اندر اک عبارت جلی حروف میں تحریر تھی ’تمام انسان کمزور ہیں اور ہر کمزور انسان دوسرے انسان کے تعاون سے ہی زندگی گزارتا ہے۔۔ہم اسی کو معاشرہ کہتے ہیں‘
ویرا بھی اسی کیفے کی ایک فعال ممبر تھی
…٭…
شہر کوئٹہ میں زرد موسم کا راج تھا
کوہِ مہر در کے ماتھے پر ثبت ڈھلتے سورج کا آخری بوسہ رات کی گھنیری زلفوں تلے چھپ چکا تھا کہیں سے ہوا کا تیز خنک جھونکا بار بار آکر درختوں پر لرزتے ہوئے زرد پتوں کو ٹہنیوں کے ہاتھوں سے چھڑا کر آوارہ کردیتا۔ خلاف معمول سڑکوں پر ہجوم کم تھا رات کے وقت زرغون روڈ کی رونق ماند پڑی ہوئی تھی اسمبلی ہال اور ہائی کورٹ کی پرشکوہ عمارتیں اس وقت جنات کے مسکن دکھائی دیتی تھیں سرینا ہوٹل کی خوبصورت مٹیالی عمارت کے عقب سے پت جھڑ کا اداس چاند نکلا ہواتھا دورویہ روشن کشادہ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں وقفے وقفے سے دکھائی دے جاتیں پوسٹ آفس کی عمارت کے سامنے آسمان کی طرف نکلے ہوئے چیڑ کے دیوقامت درخت خنک ہوا میں بازولپیٹے ہوئے کھڑے تھے گورنر ہائوس سے لیکر سریاب پھاٹک تک سارا دن ٹریفک کا بے ہنگم شور رہتا لیکن اس وقت رات کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش سڑک تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے راہ گیروں کو نیند کی ماری آنکھوں سے تکتے ہوئے سونے کی کوشش میں تھی
خزاں کا کوئٹہ شہر سے بہت پراسرار تعلق ہے
وسط اکتوبر سے نومبرکے آخرتک شہر کی فضائوں پر خزاں کا سحر طاری رہتا ہے قبائلی خانہ بدوش اسی موسم میں وادی کوئٹہ سے خیمے اکھاڑکر اپنے مال مویشوں کے ساتھ گرم علاقوں کی طرف کوچ کرجاتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ریلوے اسٹیشن، پی آئی اے اور بس اڈوں کے بکنگ آفس میں لوگوں کا بے تحاشا رش دیکھنے میں آتا ہے خانہ بدوشوں کی طرح شہریوں کی کثیر تعداد بھی اس موسم میں کوئٹہ شہر سے بھاگنے کی تیاریوں میں مصروف رہتے ہیںسرما کے اوائل میں شہر کے تمام سکول کالجز اور یونیورسٹیوں میں تالے لگ جاتے ہیں سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں ملازمین چھٹی کی درخواستیں جمع کروا چکے ہوتے ہیں بازاروں میں فارغ دکاندار اپنے سرد کاروبار دیکھ کر قہوے اور چائے کی چسکیاں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
سردیوں سے نفرت کرنے والوں ،برفیلی ہوا کے شورسے ڈرنے والوں، اَن دیکھے حوادث کا وہم پالنے والوں کے لئے بہترہے وہ کوئٹہ شہر کی پر اسرار وادی سے سندھ پنجاب کے گرم میدانی علاقوں میں رہنے والے اپنے پیاروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوکر یہ بھول جائیں کہ کوہ چلتن کے اس پار رہنے والی ہزارسالہ ضعیف جادوگرنی وادی کوئٹہ کو برفیلی سفید چادر تلے ڈھانپ کر یخ ہوا میں شور مچاتی ہوئی سنسان سڑکوں اور بازاروں میں اپنے سفید بال کھولے گھومتی ہوگی شایدکچھ لوگ ایسا گمان رکھتے ہیں!
دراصل خزاں، گرما اور سرما کے بیچ میں ٹہرے ہوئے وقت کا نام ہے اسی جامد وقت میں سارے مناظر 1935ء کے زلزلے سے پہلے والے کوئٹہ شہر میں تبدیل دکھائی دیتے ہیں بالکل ویسے مناظر جیسے ہر سال 31مئی کے اخبارات میں انگریز ی دور کے خوبصورت صاف ستھرے شہر کوئٹہ کی تصاویر چھپتی ہیں یہی کوئٹہ تھا جسے انگریز منی لندن پکارا کرتے تھے
کوئٹہ کی خزاں ان لوگوں کیلئے پراسرار ہے جو یہیں رہ جاتے ہیںانہیں سرما کی آمد تک عجیب سی چپ لگی رہتی ہے وہ گفتگوکرتے ہیں لیکن اپنے اختیار سے نہیں کرتے ،مریض شفاء نہیں پاتے ،ٹریفک کا بے ہنگم شور تھم سا جاتا ہے، دور کسی ڈھول کے بجنے کی صدا یوں محسوس ہوتی ہے گویا پڑوس میں بج رہا ہو
اس موسم میں انسان اپنے اختیارات سے باہر ہوتاہے کسی نادیدہ قوت کے خوف سے لوگ یہاں سے بھاگتے ہیںخزاں میں اختیار صرف اور صرف شاداب درختوں کے سبزپتوں کے پاس ہوتا ہے جو سبز رنگ سے زرد ہونے تک اپنی مرضی سے کہیں رنگوں میں بدلتے ہیں!
کوہ مہردر کے دامن سے اگر خزاں میں لپٹے کوئٹہ شہر کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ سارا شہر کسی سوگ میں مبتلاہے جوں جوں شہر کا نظارا گہراہوتا جاتا ہے خزاں اپنے جسم پر خنکی کی چادر تان لیتی ہے وہی لوگ جو موسم گرما میں رات گئے تک دکانیں سجائے بیٹھے رہتے خزاں میں بوقتِ مغرب ہی سرپٹ گھروں کی جانب بھاگ نکلتے ہیں جیسے یک دم کسی نادیدہ قوت نے دیرتک بازاروں میں رہنے کا اختیار چھین لیا ہو۔عورتوں کی چھٹی حس بھی اسی موسم میں انتہائی تیز ہوجاتی ہے جب حضرات شانوں پر چادر اوڑھ کر احباب کے ساتھ گھروں سے ہوٹل، سینمایا کسی اور ’پناہ گاہ ‘کا رخ کرتے ہیں اورخزاں کے جامد وقت اور بے اختیاری کے عالم میں کسی محبوب چہرے ،فریب دیتی آنکھوں میں قربت کی گھڑیاں گزار کر واپس گھروں کو لوٹتے ہیں تب دہلیز پر قدم رکھنے کی آہٹ کے ساتھ ہی ان کی بیویوں کی چھٹی حس خطرے کا الارم بجاتی ہے لیکن مشرقی عورت سے خزاں کی بے اختیاری سے بہت پہلے ہراختیار چھین لیا گیا تھا اور خاص کر شہر کوئٹہ کی عورت جو قبائلی نظام میں رائج رسم و رواج کی پاسدار ہے، باحیا اور اپنی زینت کو ڈھانپ کر رکھتی ہے اس میں بڑے جدیدشہروں والی عورت سی تیزی نہیں ہوتی شاید یہ بات اسکی گھٹی میں شامل ہوتی ہے کہ چادر و چاردیواری ہی عورت کا اصل زیور ہے قانون قدرت کے خلاف جاکر وہ کسی صورت بھی مردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس کی عزت و ناموس کی ضمانت حد میں رہ کر زندگی بسر کرنے میں ہی ہے اور اسی حد کی پاسداری کرتے ہوئے۔
اُس روزویرا، ماجد کو زوردار طمانچہ مارکے اسکی گاڑی سے اترکر ٹیکسی میں جا بیٹھی تھی۔
…٭…
وہ۹ نومبر کا دن تھا اس روز یومِ اقبال کی عام تعطیل تھی
ویرا نے اپنے مقابل بیٹھی ہوئی سہیلی میمونہ کو احتیاط سے چائے کی چسکی لیتے دیکھا
میمونہ کی قوتِ بینائی سے محروم بھوری آنکھیںہیلپ کیفے کی کھڑکی سے داخل ہونے والی نومبر کی سنہری دھوپ میں چمکتی تھیں
ویرا چائے کا کپ ہاتھ میں اٹھائے کھڑکی کے کانچ سے باہر چاروں طرف پھیلی روپہلی دھوپ کو دیکھ رہی تھی ایک فوجی ہیلی کاپٹر نیلے کھلے آسمان پر نیچی پرواز کرتا ہوا اپنی منزل کی جانب روانہ تھاایک کوّا اونچے صنوبر کے درخت اوپر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ہیلی کاپٹر کی گڑگڑ کے ساتھ ہی کائیں کائیں کرتا ایک جانب اڑ گیا
کیفے کا باہر کاسارا منظر دلکش تھا مگر کیفے کے اندر ویرا اُداس تھی
اسلام آباد سے واپسی کے دو ہفتے بعد آج دوسرا روز تھا کہ ویرا صبح گیارہ بجے کیفے میں آکر بیٹھ جاتی حالانکہ اسلام آباد جانے سے پہلے وہ ہمیشہ شام کو کیفے کا رُخ کرتی تھی
میمونہ نے چائے کی آخری چسکی لینے کے بعد دونوں ہاتھوں کی مدد سے احتیاط کے ساتھ کپ طشتری میں رکھا اور ٹشو پیپر ہونٹوں کے حاشیوں پر پھیرتے ہوئے ویرا سے مخاطب ہوئی’تم جب سے اسلام آباد سے لوٹ کر آئی ہو بہت چپ چپ رہنے لگی ہو۔سب ٹھیک تو ہے ناں‘
ویرا نے یوں میمونہ کی طرف چونک کر دیکھا جیسے اس نے کہا ہو کہ ’تم جب سے اسلام آباد میں لُٹ کر آئی ہو۔۔۔‘
اسے اپنے دل میں ٹیس سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی’ناجانے کب اس اداسی سے چھٹکارا ملے گا‘ اس نے سوچااور تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بڑی مشکل سے لب کھولے
’میمونہ ایک بات بتائو۔۔کیا واقعی محبت اس روئے زمین پر نا پید ہو چکی ہے؟‘
اس نے ویرا کا میز پر دھرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا’ویرا،کیا بات ہے،مجھے سب ٹھیک نہیں لگ رہا‘
ویرا نے جواباً اپنا دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ’نہیں‘ کہا اور ساتھ ہی کیفے کا جائزہ لینے کے لیے ادھر اُدھر یوں آنکھوں کو حرکت دی جیسے ان میں بننے والے آنسوئوں کے قطروں کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہو تانکہ وہ باہر آکر شور نہ مچا دیں۔اس کی نگاہیں اب دوبارہ میمونہ کے چہرہ پر مرکوز تھیں لیکن اسے اچانک سے کچھ عجیب سا محسوس ہونے لگااسکا ذہن کیفے میں کہیں اٹک چکا تھا بالکل اسی طرح وال کلاک کی بیٹری کا چارج ختم ہو جانے کے بعد اسکی سیکنڈ والی سوئی ایک جگہ اٹک جاتی ہے ایک بے نام سی الجھن نے اسے گھیر رکھاتھا۔
’ویرا‘میمونہ نے اسے مخاطب کیا’خدا کے لیئے چپ نہ رہو،مجھے بتائو کیا معاملہ ہے‘
اس عجیب سی الجھن کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ میمونہ کو اپنی اور ماجد کی کہانی سنانے لگی اور جونہی کہانی محبت کی حدود سے نکل کر ہوس کی سرحد میں داخل ہوئی اسکی آواز گلے میں رندھنے لگی۔میمونہ کی بے نور آنکھوں سے اشک چیختے چلاتے اسکے گالوں پر دوڑ آئے۔
کہانی کے اختتام تک ویرا کا ضبط بھی جواب دے چکا تھاسارا شہر چمکیلی دھوپ میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ کیفے کے اندر زوروں کی بارش ہو رہی تھی دونوں کے ہاتھ میں ٹشو پیپر لرز تا تھا۔
’کیا ہم جیسے لوگوں کا محبت پر کوئی حق نہیں ہوتا‘اسکی آواز سسکیوںسے ابھری
میمونہ اپنی نشست سے اٹھ کر میز کو ٹٹولتی ہوئی اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی اور حوا کی دونوں بیٹیاں ہچکیاں لیتی ہوئیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو گئیں !
ہیلپ کیفے کی یہی بات اچھی تھی یہاں ہمخیال لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر آدمی دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا تھا
’میرا نام ارمان ہے‘ دونوں اس آواز پر چونک اٹھیںویرا کو یوں آواز سنائی دی جیسے اسکی سماعت بحال ہو گئی ہو ۔
ارمان اس نشست پر بر اجمان تھا جہاں پہلے میمونہ بیٹھی ہوئی تھی ویرا نے نم آنکھوں سے کیفے کا جائزہ لیا جہاں ان تینوں کے علاوہ ایک اور ممبر اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا اخبار کے مطالعہ میں غرق تھا جبکہ دور کینٹین کی کھڑکی میں دائیں بازو سے محروم حلیم خان اپنے قوتِ سماعت سے محروم معاون کے ساتھ اشاروں کی زبان میں گفتگو کرنے میں مصروف تھادونوں آدم کے بیٹے ایک ہی کیفے تلے ہوتے ہوئے حوا کی بیٹیوں کے دکھ سے بے خبر تھے۔
کیفے کی دیوار پر نصب گھڑیال سے دن کے بارہ بجنے کا باآوازِ بلند اعلان ہوا
’میں آپ کی تمام کہانی سن چکا ہوں جس کے لیئے میں آپ سے معذرت چاہوں گا‘
ویرا کی گیلی پلکیں ارمان کے ہونٹوں پر مرکوز تھیں
’آپ کون ہیں؟ہم آپ کو نہیں جانتے‘میمونہ نے اسے قدرے غصے سے مخاطب کیا’اور آپ نے یہاں بیٹھنے کی اجازت بھی طلب نہیں کی،یہ آداب کے خلاف ہے‘
’میں پہلے ہی معذرت کر چکا ہوں‘ارمان نے نرمی سے جواب دیا’آپ مجھے غلط نہ سمجھیں میں تو اس دکھ کے ناتے یہاں چلا آیا جو کسی نہ کسی حوالے سے ہم سب کا مشترک دکھ ہے‘
ویرا ابھی تک اجنبی کے چہرہ پر نگاہ جمائے خاموش بیٹھی تھی
’بہرحال اب آپ جبکہ سب کچھ بنا اجازت سن چکے ہیں تو مہربانی فرما کر ہمیں مزید پریشان نہ کریں‘میمونہ نے اپنی نمناک آنکھوں کو بنا جھپکائے دو ٹوک انداز میں کہا
’میں آپ کی دوست سے کچھ کہنا چاہتا ہوں اگر۔۔‘
ویرا کا دل بہت زور سے دھڑکا جیسے کہہ رہا ہو کہ یہاں کچھ گڑ بڑ ہے وہ اچانک میمونہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی’میرا خیال ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہیئے‘اس نے کچھ توقف کے بعد لب کھولے اور اپنے سامنے بیٹھے ہوئے نوجوان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے میمونہ کا ہاتھ تھام کر کینٹین کے کائونٹر پر چائے کا بل ادا کرتے ہوئے کیفے سے باہر نکل گئی
سارا راستہ میمونہ اس سے پوچھ پوچھ تھک گئی کہ آخر یکایک اسے ہوا کیا ہے مگر ویرا پر چپ طاری رہی
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے میں گھس گئی۔ہینڈ بیگ کو میز پر پھینک کر خود بیڈ پر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا چند لمحوں بعد وہ آنکھیں موند کر چت لیٹ گئی
’میرا نام ارمان ہے،کیا میں ویرا سے مل سکتا ہوں؟‘ ویرا کے آلہء سماعت میں جیسے کسی نے سرگوشی کی تھی اس نے فوراً اپنے آلہء سماعت کو چھو کر دیکھا اور اسے کان سے اتار کر تکیے پر اچھال کر دوبارہ آنکھیں موندلیں
کچھ دیر بعد اسکے کمرے کا دروازہ زور زور سے بجنے لگا وہ اپنے دونوں کان ہاتھوں سے ڈھانپتے ہوئے اٹھی اور دروازہ کھولتے ہی ملازمہ کو سامنے پا کر اس پر برس پڑی’یہ دستک دینے کا کون سا طریقہ ہے؟‘
ملازمہ حیران و پریشان اسے ہاتھوں سے کان ڈھانپے دیکھ کر بولی’بے بی ،میں نے تو بہت آہستہ دستک دی تھی‘
آلہء سماعت کے بنا بھی ویرا کو ملازمہ کی آواز بالکل صاف سنائی دی ’یہ کیا ماجرا ہے‘ اس نے سوچا
’بے بی آپ سے کوئی ارمان نام کا نوجوان ملنا چاہ رہا ہے اس سے پہلے اسے کبھی نہیں دیکھا‘ملازمہ نے دروازہ پر دستک کی وجہ بیان کی
ویرا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے،کیا واقعی اسکی سماعت لوٹ آئی ہے؟ اور یہ ارمان ہے کون جو میرے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔۔یہی سوچتے ہوئے بے اختیار اسکے قدم آہستہ آہستہ میں گیٹ کی جانب اٹھنے لگے
ملازمہ باورچی خانے کی جانب چل دی
جوں جوں وہ گیٹ کی جانب بڑھتی چلی گئی اسکے ذہن میں بپا شور کم ہوتا چلا گیااور پھر اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ دروازہ کھول دیا
سفید قمیض اور نیلی جینز میں ملبوس ،ہلکے گندمی رنگت کا نوجوان،جسکی عمر چھبیس،ستائیس سال کے لگ بھگ تھی اپنے ترتیب سے بنائے ہوئے قدرے لمبے سیاہ بالوں کے ساتھ لبوں پر مسکان اور آنکھوں میں ایک خاص چمک لیئے پیروں میں سفید کینوس کے جوتے پہنے کھڑا تھا۔اس نے اپنے بائیں بازو کی آستین ہاتھ سے اوپر چڑھا رکھی تھی جس پر ایک خوبصورت رومال انتہائی سلیقے سے کلائی پر بندھا ہوا تھا۔۔رومال میں نیلا،سبز اور میرون رنگ نمایاں تھے جبکہ دائیں ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی تھی جس میں نیلم جڑا ہوا تھا
’کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘ارمان نے ویرا کی حیران ا ور گم صم آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اجازت طلب کی
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی اور پھر بغیر کچھ کہے ایک طرف ہٹ کر اسے اندر آنے کی اجازت دیدی۔وہ بے تکلفی سے اندر داخل ہو گیا۔
ویرا نے جونہی دروازہ بند کیا دوسرے ہی لمحہ اس پر دوبارہ دستک ہوئی۔اس نے فوراً دروازہ کھولا تو سامنے ایک بوڑھا فقیر ہاتھ میں کشکول لیے صدا لگا رہا تھا’خدا تیری الجھنیں دور کرے بیٹی،بنامِ خدا کچھ دیدے‘
ویرا نے ناگواری سے ’معاف کرو بابا‘ کہہ کر دروازہ بند کر دیا مگر اسے عجیب سا محسوس ہونے لگا جیسے۔۔جیسے۔۔او میرے خدایا،ویرا کے وجود میںاپنی ہی آواز گونجی’وہ فقیر نہیں بلکہ پروفیسر جادوگر تھا‘۔۔اس نے ارمان کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عجلت میں دروازہ کھولا لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا اس نے گلی میں جا کر دائیں بائیں نگاہیں دوڑائیں لیکن ساری گلی سنسان پڑی تھی۔
وہ گھر میں داخل ہوئی تو پریشانی اسکے چہرہ سے عیاں تھی۔ملازمہ ارمان کے عقب میں کھڑی اسے تشویش بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔اس نے ارمان کی طرف دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے ملازمہ کو مخاطب کیا’مائی تم جائو،میں ٹھیک ہوں‘ ملازمہ ارمان کو مشکوک نظروں سے دیکھتی ہوئی اندر باورچی کی جانب روانہ ہو گئی۔
’کون ہو تم‘وہ ارمان کے روبرو کھڑی ہوگئی اسکی آنکھوں میں خوف اور حیرانگی کے ملے جلے تاثرات تھے
’کیا ہم کہیں بیٹھ کر کچھ دیر کے لیئے بات چیت کر سکتے ہیں‘ارمان نے برآمدے میں پڑے کین کے صوفوں کی جانب اشارہ کیا تو ویرا نے نگاہیں اسکے چہرہ سے چھڑاتے ہوئے صوفوں کی طرف اس انداز سے دیکھا جیسے اسے ابھی ابھی معلوم ہوا ہو کہ اس کے گھر میں کین کے صوفے بھی برآمدے میں موجود ہیں
وہ ویرا کے پیچھے چلتا ہوا برآمدے میں داخل ہوا دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔فضا میں عجیب و غریب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔آنگن میں دھوپ کا چمکیلا فرش بچھا تھا جسکی میٹھی میٹھی حدت ہوا کے نرم جھونکوں کے ساتھ برآمدے میں دوڑی چلی آتی۔
ویرا کی نگاہ ارمان کے ہونٹوں پر مرکوز تھی جبکہ وہ آنکھیں جھکائے بیٹھا تھا
’میں تمھارے جواب کی منتظر ہوں۔۔کون ہو تم‘اس نے سوال دہرایا
اس نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنی پلکوں کو اٹھا تے ہوئے نہایت ہی اداس لہجہ میں گویا ہوا’ویرا،میں تمھارا ہمجان ہوں‘
ویرا کے دل کی دھڑکن تیز اور جسم برف ہوچکا تھا
ارمان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا’تم نے مجھے چار منزلہ عمارت سے فٹ پاتھ پر زرد روشنی تلے کھڑا دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا۔۔تمھیں یاد ہے؟‘
ویرا کے خشک حلق سے آواز برآمد ہوئی’لیکن وہ تو۔۔۔‘
’ہاں میں جانتا ہوں‘ارمان نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا
ویرا کے ہونٹ سل چکے تھے وہ بے حس و حرکت کسی مجسمہ کی طرح اسکے سامنے بیٹھی ہوئی تھی
’ویرا ‘اس نے بے تکلفی سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا’میری مختصر سی کہانی سنو‘
اس نے کوئی جواب نہیں دیا اسکی آنکھوں میں حیرانی اور چہرے پر خوف تھا
ارمان نے اطمینان سے کچھ سوچتے ہوئے اپنی کہانی کا آغاز کیا’بازار میں میری کتابوں کی دکان تھی وہاں بیٹھ کر میں فارغ اوقات میں اکثر علمِ فلکیات ا ور علمِ نجوم کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھا کرتا اور رفتہ رفتہ میرا شوق جنون میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔۔اور پھر ایک دن سفید داڑھی والا ادھیڑ عمر آدمی میری دکان میں آیا۔اسے پامسٹری کی کوئی کتاب درکار تھی جو کہ میری دکان میں دستیاب نہیں تھی لیکن وہ کافی دیر تک علمِ ما بعد الطبیعات کی کتب کو باری باری کھول کر ان کے صفحات الٹتا پلٹتا رہا اور جب وہ اکتا کر دکان سے باہر جانے لگا تو مجھے اپنے ہم ذوق سے بات کرنے کو جی چرایا۔۔بس یہی مجھ سے سنگین غلطی سرزد ہو گئی‘وہ سر کو پشیمانی سے ہلانے لگا
ویرا چپ چاپ کہانی سن رہی تھی
’میں نے اسے چائے کے بہانے روک کر کرسی پیش کی ۔وہ سر سے پائوں تک میرا جائزہ لیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔ہم کافی دیر تک علمِ فلکیات و نجوم پر بات کرتے رہے۔اس نے مجھے مابعد الطبعیات کے بارے میں بتایا اور اتنا تفصیل سے سمجھایا کہ میں وہیں بیٹھے بیٹھے اسکا مرید ہوگیااورجب وہ مجھ سے رخصت لے کر جانے لگا تو پتہ نہیں کیوں میرے دماغ میں ایسے ہی اک سوال کوند آیا اور میں اس سے پوچھ بیٹھا ’یہ جو آپ نے ہمجان کے بارے میں بتایا ہے اگر میں اپنے ہمجان سے ملنا چاہوں تو کب ،کہاں اور کیسے مل سکتا ہوں؟‘
میرا سوال سن کر وہ ذرا پریشان سا ہوگیا اس نے بارہا کہا کہ بہتر ہے میں اس سے یہ سوال نہ پوچھوں لیکن میں بضد رہا
اس نے بڑی سوچ بچار کے بعد اپنی آنکھوں کو موند کرمجھے بتایا کہ’ جس روز تمھارا جوتا راہ چلتے ہوئے ٹوٹ جائیگا اسی روز تمھاری ہمجان تمھیں اپنے پاس آنے کا اشارہ کریگی ‘
ارمان خاموش ہوگیا ماحول پر افسردگی چھا گئی
’اس کا نام عبدالعلیم تھا ‘ویرا نے پہلی مرتبہ اپنے لب کھولے
’ہاں ‘
’اور وہ انڈیا کی کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے ‘
’ہاں‘ ارمان نے اپنی بات جاری رکھی ’لیکن عبدالعلیم نے ایک اضافی بات یہ ضرور کی تھی جس کی اس وقت مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی تھی‘
ویرا نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
’اس نے کہاتھا کیا تمہیں راز کی بات بتائوں؟ ۔۔جن لوگوں کی محبتیں کامیاب نہیں ہوپاتیں اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہوتی کہ ان کے ہمجان مرچکے ہوتے ہیں بلکہ وہ لوگ محبت سے ہار مان لیتے ہیںبھلا محبت سے بھی کوئی ہار مانتا ہے ‘
اب ویراکے پورے جسم میں خوف اتر آیا
ارمان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا ’میں بھی مرچکا ہوں ‘
ویرا کا چہرہ ایک دم زرد ہوگیا اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے جسم سے جان کھینچ لی ہووہ چیخنا چاہے بھی تو نہیں چیخ سکتی وہ اٹھ کے بھاگناچاہے بھی تو ٹانگیں گویا مفلوج ہوچکی تھیں۔
’گھبرائو مت ‘ارمان نے اسے نرم لہجے میں مخاطب کیا’تمھیں میری وجہ سے پہلے ہی بہت دکھوں کا سامنا کرنا پڑا ہے،نہ ہی میں پروفیسر سے اپنے ہمجان کے بارے میں سوال پوچھتا اور نہ ہی تم کو معلوم ہوتاکہ بیچ سڑک کے مرنے والا تمھارا ہمجان تھا‘
’اب تم کیا چاہتے ہو‘ویرا کے حلق سے خوف سے لرزتی آواز نکلی
’بس دو روز کے لیئے تمھارا ساتھ‘
’لیکن ۔۔کیوں‘
’یہ میں ابھی نہیں بتا سکتا‘ اس نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھاتے ہوئے کہا
ویراکی حالت یہ سوچ سوچ کر غیر ہوتی جا رہی تھی کہ وہ ایک مردہ انسان کے پاس بیٹھی ہم کلام ہے
’اب مجھے اجازت دو ‘ارمان اپنی نشست سے اٹھااور اس کے سامنے کھڑا ہوگیا’ہم کل شام پھر ملیں گے‘
’نہیں ‘ویرا کی نگاہیں اوپر اسکے چہرے کی جانب اٹھی ہوئی تھیں
ارمان اسکے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکی آنکھوں میں چند لمحے دیکھنے کے بعد بولا’ہم کل شام ہنہ جھیل جائیں گے‘
ویراپر غشی طاری ہونے لگی اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں موند کر اسکی بات دہرائی اور دہراتی چلی گئی’ہم کل شام ہنہ جھیل جائیں گے‘
’شاباش‘ ارمان مسکرا دیا
چندلمحوں بعد یخ ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا جس سے اس کی آنکھیں خودبہ خود کھل گئیںاس نے اپنے ارد گرد یوں دیکھا جیسے ابھی ہوش میں آئی ہو
ارمان جاچکاتھا
آنکھوں کے پردوں پر ایک لمحے کیلئے پروفیسر جادوگر کا مسکراتا ہوا چہرہ نمودار ہو کر غائب ہوگیا۔وہ پہلی بار پروفیسر کا چہرہ دیکھ کر مسکرادی!
…٭…
کوئٹہ شہر سے ہنہ وادی کا فاصلہ 20 کلو میٹر ہے !
اس کے بعد وادی اوڑک کی حدود شروع ہوجاتی ہے ۔ہنہ کے مقام پر ایک خوبصورت جھیل ہے جو ’ہنہ جھیل ‘کے نام سے مشہور ہے۔
جھیل کا پانی سبزی مائل نیلا ہے جس میں سنہری مچھلیاں بہ کثرت پائی جاتی ہے موسم گرما میں اس کے کناروں پر سائبیریاسے چھٹیاں گزارنے کیلئے آئے آبی پرندے اس کے ماحول کو اور دل کش بنادیتے ہیں۔بالعموم کوئٹہ شہر اور بلخصوص پاکستان بھر سے آنے والے لوگ اس خوبصورت جھیل کو اپنے غم ،تھکن،الجھنیں دے کر بدلے میں قہقہے مسکراہٹیں اور رقص و سرور کی کیفیات لے کر واپس اپنے شہروں کو لوٹ جاتے ہیں۔یہ ایک بہترین تفریح گاہ ہے
جھیل کے پس منظر میں خشک خاکستری پہاڑوں کا سلسلہ ہے وہ حصہ جہاں پانی بہت گہرا ہے اس جگہ ایریگیشن ڈیم کسی فوجی قلعہ کی مانند کھڑا ہے۔ جھیل کے مضافات میں اس کو مزید خوبصورت بنانے میں ’مرک مارکر ‘کے تعاون سے شجر کاری کی گئی ہے ۔حیات درانی واٹر اسپورٹس اکیڈمی بلوچستان کا واحد ادارہ ہے جہاں سے لوگ کشتی رانی کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
کوئٹہ کنٹونمنٹ سے ہنہ جھیل کی طرف جانے وال سڑک کے بائیں جانب شفاف پانی سال کے بارہ مہینے بہتا ہے جس کے کنارے لوگ گاڑیاں ، موٹرسائیکلز اور رکشے کھڑے کرکے انہیں نہلاتے دکھائی دیتے ہیںکچھ لوگ ٹھنڈے پانی میں پائوں ڈالے خوش گپیوں میں مصروف غم ِزمانہ کا مذاق اڑاتے ملتے ہیں اطراف میں چائے کے متعددہوٹلز ہیں جن کے چھوٹے چھوٹے باغیچوں میں شام کے وقت شہر کی گھٹی ہوئی فضا سے فرار حاصل کرکے لوگ دوستوں پیاروں کے ساتھ یہاں آتے ہیں اور لڈوبازی کے ساتھ چائے اور قہوے سے لطف اندوز ہوکر واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں
بلند و بالا سنگلاخ پہاڑوں پر منچلے نوجوان گاڑیوں، موٹرسائیکلوں کی دوڑیں لگاتے ہوئے اور کوہ پیمائی کے شوقین دیومالائی پہاڑوں کی چٹانوں میں رینگتے نظر آتے ہیں۔ جمعہ ا ور اتوار کے دنوں میں اس مقام پر بے حد رش ہوتا ہے، جمعہ کے دن کارو باری حضرات بازاروں کو تالے لگاکر اس طرف کا رخ کرتے ہیں جبکہ اتوار کے دن سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین اپنے خاندانوں کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں یہاں تفریح کے غرض سے آتے ہیں۔ یہ کوئٹہ واسیوں کا ایک بہترین پکنک پوائنٹ ہے ہنہ جھیل کے بالکل وسط میں ایک بے حد خوبصورت چھوٹا سا جزیرہ ہے جس نے جھیل کے حسن کو چار چاند لگارکھا ہے برف باری کے موسم میں اس کے دلربا حسن کا بیان ناممکنات میں سے ہے دیکھنے والوں کو فردوس بروئے زمیں کا گمان ہوتا ہے
…٭…
شام کے 4 بجے تھے
شاہراہ گلستان پر ڈیری فارم مسجد سے لیکر آخری موڑ تک خزاں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ بال کھولے شام کی گلابی روشنی میں مدہوش پڑی تھی۔شاہراہ کے دائیں بائیں جانب فوجی کرنیلوں اور برگیڈیئرز کے خوبصورت بنگلے ہیں بائیں جانب کے بنگلوں کے باہر حسین باغیچوں کی قطار ہے جن میں سبز گھاس کی چادر پر خزاں کی زردی غالب آنے کو بیقرار تھی جبکہ دائیں جانب شاہراہ سے ہٹ کر گھنے درختوں تلے کوئٹہ شہر کا سب سے دلکش و دل فریب رومانوی فٹ پاتھ ہے !
ویرا اور ارمان اسی فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب روانہ تھے ان کے قدموں تلے انمول قدیم پیڑوں کے طلائی اوراق بچھے ہوئے تھے ۔سرد ہوا مٹی کی خوشبو کے بوسوں سے لجائی ہوئی تھی فضائوں میں جادو گھلا ہواتھا جو زخمی روحوں کی مسیحائی میں مشغول تھا
سڑک کنارے ایک مالی اپنی سائیکل پر خشک گھاس کا گٹھہ باندھنے میں مگن تھا
’اگرہمارے چلنے کی رفتار یہی رہی تو ہم کل شام تک ہی جھیل پہنچ پائیں گے ‘ویرا نے چنار کے اس پیڑ کے پاس پہنچ کر ارمان کو مخاطب کیا جہاں مینائوں کا بے تحاشا شور تھا
اس نے مسکراکر ویراکی طرف دیکھا اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے یونہی ٹہلتے ٹہلتے ایک جگہ تھم گیا’کیا واقعی گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ وقت بھی گزرتا رہتا ہے‘ اس نے چہرہ اٹھا کر درخت کی نیم برہنہ شاخوں کو دیکھا
’مجھے نہیں معلوم ۔۔لیکن میری بات کا اس سوال سے کیا تعلق ؟‘ ویرا نے سنجیدگی سے استفسار کیا
’تعلق شاید کوئی نہیں،ویسے ہی ایک خیال ذہن میں آیا تھا‘اس نے کاندھے اچکا کر کہا
’ٹائم پاس کرنا چاہ رہے ہو؟‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ارمان چلتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا ’دراصل جب ہم اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں اس وقت ننانوے فیصد لوگوں کا دھیان دھیرے دھیرے منزل سے ہٹ کر وقت کی ٹک ٹک پر مرکوز ہوجاتا ہے اور پھر وہ کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ۔۔جانتی ہوں کیوں ؟‘
ویرا نے آہستہ سے نفی میں سرہلایا
’کیونکہ وقت ایک آسیب ہے، عفریت کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ رہتاہے ‘
ویراکو اس کی بات بہت عجیب معلوم ہوئی لیکن اس نے اس کا اظہار نہیں کیا
ارمان نے اچھل کر درخت کی ایک ٹہنی کو ہاتھ لگاتے ہوئے بات جاری رکھی’اسی لیے تو ہر معاشرے میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں سب لوگ ’کامیاب انسان‘کہنے پر متفق ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ منزل کی جانب روانہ ہوتے ہیں تو ان کا دھیان کبھی بھی وقت کے مایا جال میں نہیں پھنستا‘
’میں نے تو ہمیشہ یہی سنا ہے کہ انسان کو وقت کی قدر کرنی چائیے کیا یہ سب فضول باتیں ہیں؟‘
’ہاں واقعی فضول بات ہے‘ اس نے سرہلایا ’انسان کو ہمیشہ اپنی اور اپنے مقصد کی قدرکرنی چاہئے ‘
’تو پھر وقت گزارنا کسے کہتے ہیں؟‘اس بار ویرا نے دلچسپی لی
’وقت ایک کھلا دھوکا ہے ‘ارمان بے حد سنجیدہ ہوگیا ویراکو یوں محسوس ہواجیسے وہ پروفیسر جادوگر سے ہم کلام ہے
’انسان ہمیشہ امید اور انتظار کے وقفے میں زندگی گزارتاہے اپنے خوابوں ارادوں ،مقاصد کو پالینے کی امید۔۔ اور موت کا انتظار ۔۔وہ ساری عمر امید پر گزارتا ہے لیکن آخری عمر میں امید اس سے رخصت لے لیتی ہے اور اسکی جگہ انتظار لے لیتا ہے بس حضرتِ انسان کی اتنی سی کہانی ہے‘
سرد ہوا کے جھونکے نے اچانک ڈھیروں طلائی اوراق پیڑوں کی شاخوں سے جداکر ڈالے۔ویرانے ٹہر کر اپنی شال پر چپکے ہوئے خشک پتوں کو سلیقے سے اتارا اور بولی’یہ تو آئن اسٹائن بہت پہلے کہہ چکا ہے کہ وقت ایک فریب ہے‘
’درست،دیکھویہ شام کا وقت کل پھر آئیگا ۔شام کے بعد رات اور صبح کے بعد دوبارہ شام۔ ایسی خزاں اگلے برس پھر آئے گی ۔خزاں کے بعد سرمااور گرماکے بعد دوبارہ خزاں ۔یہ طے شدہ عمل ہے لیکن ہم نے بدل جانا ہے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہونا ہے واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔وقت تو ویسے ہی گول گول چکر کاٹ رہا ہے درحقیقت کائنات کا مرکزی کردار انسان ہے قدرت ہمیں صرف مواقع فراہم کرتی ہے اور ہم انہیں مواقعوں کو چوبیس گھنٹوں میں تقسیم کرکے خود کو اپنے آقا ’وقت‘ کا غلام مان لیتے ہیں وہ آقا جسے آج تک کوئی دیکھ سکا ہے اور نہ ہی کوئی چھوسکاہے !
’کیا تم یہ کہنے کی کوشش کررہے ہو کہ وقت کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں ‘
’آج ہم دونوں اس خوبصورت فٹ پاتھ پر اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں یہ خزاں رسیدہ پتوں کی سرسراہٹ یہ چڑیوں کا شور ،آسمان میں بادلوں کی ٹکڑیاں ، قدموں تلے بھیگا ہوا رستہ۔۔ شاید یہ ایک نہ بھولنے والی شام ہے لیکن ابھی رات اترے گی اور اس شام کو ماضی کی ایک یادگار شام میں تبدیل کردیگی پھر صبح ہوگی اور ایک نئے دن کا آغاز ہوجائے گی اور اس اگلے روز کی شام ہرگز ایسی نہیں ہو گی سب کچھ ایسا نہیں ہوگا کل اس فٹ پاتھ پر ارمان اور ویرازرد سوکھے پتوں پر نہیں چلیں گے آج کے تندرست ا ورتوانا خدا جانے کتنے لوگ کل بسترِ علالت پر ہونگے ،نا جانے کتنے افراد اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکے ہونگے ،ہمارا مستقبل ہماری نگاہوں کے سامنے ہم سے چھین لیاجائیگا اور ہم کچھ بھی نہیں کرپائیں گے جو لوگ لمحہٗ موجود میں زندگی بسر کرتے ہیں انہیں ماضی اور مستقبل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور جو لوگ ہاتھ میں ہاتھ لیئے ساحل کے گیلی ریت پر دور تک ساتھ چلتے ہوئے بھی بار بار اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہیں ان کیلئے ایسی حسین شامیں کبھی یاد گار نہیں بن سکتیںیہ لمحات ان کے نزدیک محض’چھ بجکر پندرہ منٹ‘ یا’سات بجکر پینتیس منٹ‘ کے علاوہ کچھ اہمیت نہیں رکھتے ان کیلئے وقت اہم ہے لمحہء موجود کے حسن کو کھاجانے والاوقت !
ویرا کچھ دیر سوچنے کے بعد گویاہوئی’ اگر وقت کا وجود نہ ہوتا تو ہمیں کیسے پتہ چلتا کہ ہم نے صبح آٹھ بجے کالج پہنچنا ہے دوبجے والی پوائنٹ پر بیٹھ کر واپس گھروں کو لوٹنا ہے ہماری زندگیوں میں ٹائم ٹیبل نہ ہوتو زندگی درہم برہم ہوکے رہ جائے وقت ہمارے معمولات زندگی کو منظم کرتا ہے وقت تو سرمایا ہے اس کی ٹھیک جگہ سرمایا کاری کرنے والاہی نفع کمائے گا اور یہی قدرت کا اصول ہے‘
ارمان نے ایک لمبی سانس بھر کر آسمان کی طرف دیکھا’ اچھا مجھے تم یہ بتائو کہ کل یعنی آنے والے کل میں جب تم صبح برش سے اپنے دانت صاف کررہی ہوگی تو گھڑی میں کیا وقت ہوگا‘
ویرا کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی ’کل کی کسے خبر۔۔کل کا چہرہ دیکھنا نصیب میں ہے بھی یانہیں ‘
’مان لو کہ نصیب میں ہے اب بتائو ‘
’یہی کوئی سات سوا سات کا وقت ہوگا ‘
’نہیں یوں بتائو جیسے اس وقت جب تم نے ٹہرکر اپنی چادر سے خشک پتے اتارے تھے تو گھڑی میں چار بجکر بیس منٹ اور دس سیکنڈ ہورہے تھے ‘
’ایسا بتانا تو مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے ‘
اچھا یہ بتائوکہ کل یعنی گزشتہ کل جب میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ میں تمہارا ہمجان ہوں تو اس لمحے گھڑی میں وقت کیا شور مچارہا تھا ‘
’بالکل کوئی اندازہ نہیں‘ اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا
’حالانکہ وہ لمحہ تمہارے کیلئے کتنا اہم تھا کہ جب تم پر ایک سربستہ راز افشاہواتھا جس کا تمہاری ذات سے گہرا تعلق ہے ‘
’اب صرف یہ بتائو کہ۔۔۔‘
ویرانے مسکراتے ہوئے اسکی بات کاٹ دی’ بس اب تم بتائو۔میں ہمہ تن گوش ہوں‘
’سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم نے کیوں وقت کو چوبیس گھنٹوں میں بانٹ کر خودکو ایک مشین کے حوالے کردیا ہے‘ اس نے ویرا کی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف اشارہ کیا ’جبکہ ہم ماضی قریب ماضی بعید سے لیکر آنے والے پل اور مستقبل کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ فلاںعمل، واقعہ، حادثہ، ہماری زندگی میں کتنے بجکر کتنے منٹ پر رونما ہوا تھا‘
’ ماضی کے ایک حادثے کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ کتنے بجکر کتنے منٹ پر رونماہواتھا ‘ویرانے مسکراتی نظروںسے اس کی طرف دیکھا
ارمان بھی دھیما سا مسکرادیاجیسے وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کہنے جا رہی ہے
’اکتیس مئی 1935ء میں جب رات کے وقت کوئٹہ شہر زلزلے کی زد میں آکر ملبے کا ڈھیر بن چکاتھا تو اس ملبے میں سے ایک گھڑیال برآمد ہوا جس کی سوئیاں تین بجکر دومنٹ پر جامد تھیں‘
ارمان نے قہقہہ لگایا’ اور اب ہر سال اکتیس مئی کو پورے کوئٹہ میں یہ افواہ گردش میں رہتی ہے کہ جیسے History Repeats It Self اسی طرح سے Earth Quake Also Repeats It Self At The Same Time and Day ۔۔۔اور ہوتا کچھ بھی نہیں ہے نہ ملبے سے گھڑیال ملتا اور نہ ہرسال تیس مئی کی شب کوئٹہ کے شہریوں کی نیندیںحرام ہوتیں‘
اب کے ویرا نے ہلکاسا قہقہہ فضا میں بلند کیا
’میں وقت کے وجود سے انکار نہیں کررہا لیکن صرف اتنا سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ وقت صرف اور صرف لمحہ موجود کا دوسرا نام ہے جس کا ماضی و مستقبل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا‘ ارمان نے سنجیدگی سے کہا’فجر کی اذان کا گھڑی کی ٹک ٹک سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ساڑھے چودہ سو سال پہلے کا موذن بھی نورکا تڑکا لگتے ہی مومنوں کو بیدار کرنے لگتا اور آج کاموذن بھی یہی کرتا ہے اور اسی طرح مغرب کی اذان غروب آفتاب کی منتظر رہتی ہے‘
’تو پھر آخر یہ وقت ہے کیا ‘ویرا نے گویا حتمی سوال کیا
’وقت ایک بہلاوا ہے‘اس نے تحمل سے جواب دیا ’جب کوئی دوست رشتہ دارآپ کو راستے میں اچانک مل جائے اور وہ یہ کہے کہ اسے آپ کے گھر آنے یا ملاقات کا وقت نہیں ملتا تو درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ آپ سے ملنے کی خواہش نہیں رکھتا لیکن آپ با آسانی وقت کے فریب میں آجاتے ہیں ‘
خزاں رسیدہ پتے مستقل دونوں کے پیروں کا طواف کررہے تھے
’کیا تم یہ بات جانتی ہو ویرا ‘ارمان کی آنکھوں میں چمک اترآئی’ جب گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ صبح بیدار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں شیطان کا چہرہ نظر آتا ہے اور وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا وقت ہوا ہے؟اور شیطان مسکراکرجواب دیتاہے بتائو تمیں کتنا وقت چاہیئے پیارے؟‘
ویراکو یہ بات بہت ہی عجیب لگی
تھوڑی دیر بعد اسے یوں محسوس ہوا جیسے شہر بالکل خالی ہوچکا ہے کافی دیر سے کوئی گاڑی ، موٹرسائیکل یا سائیکل سڑک سے نہیں گزری اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو فٹ پاتھ دور تک زرد پتوںکا قبرستان بناہوا تھا ہوا کافی حد تک سرد ہوچکی تھی۔ ہنہ جھیل اس جگہ سے بہت دور تھی اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ آج کی تاریخ میں اس طرح ٹہلتے ہوئے کیسے جھیل تک پہنچ سکتے ہیں اور جونہی اس نے دوبارہ یہ سوال ارمان سے کرنے کا سوچا اچانک بہت تیز اور سرد ہوا نے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ویرانے اپنے دونوں بازو اپنے چہرے کے سامنے ڈھال بنالیئے فضامیں لاتعداد پتے پروانوں کی طرح اڑنے لگے ارمان آنکھیں موند کر ساکت کھڑا تھا ذرا دیر بعد جب ہوا تھم گئی اور ویرا نے آہستہ سے اپنے بازو چہرے کے سامنے سے ہٹاکر نیچے کیئے تو منظر بدل چکاتھا
اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ واقعی اس وقت ہنہ جھیل کے اس پار کھڑی ہے جہاں جنگی طیارے کا بڑا سا ماڈل نصب ہے دائیں طرف بینچ پر ارمان بیٹھا تھا اور سامنے خوبصورت نیلی جھیل میں سورج کی کرنیں تیر تی تھیں وہ حیرت میں گم آہستہ آہستہ بینچ کی طرف بڑھنے لگی جیسے خواب میں چل رہی ہو !
’گھبرائو مت ‘ارمان نے بنا اس کی طرف دیکھے اسے مخاطب کیا جبکہ اس کی نگاہیں دور افق میںگڑی ہوئی تھیں’بیٹھ جائو ‘
ویراچند لمحے اس کے چہرے کو بغوردیکھنے کے بعد بینچ کے دوسرے کونے پر بیٹھ گئی
موسم خزاں میں جھیل کا رخ بہت ہی کم لوگ کرتے ہیں اور اس سمے جھیل پر پراسرار سناٹا چھایاہوا تھا۔ اب ویرا سمجھ چکی تھی کہ ارمان نے وقت کا موضوع اس لیئے چھیڑ رکھا تھا کہ اسے سمجھنے میں آسانی ہو کہ وہ اس وقت ایک روح کے ساتھ سفر کررہی ہے اور جیسے وہ بچپن سے سنتی آئی تھی کہ روحیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں اورسب کچھ کرسکتی ہے وہ کوہ ِتکتو سے کوہ ِزرغون پر منٹوں میں چھلانگ لگاکر پہنچ سکتی ہیں بنددروازے کھولے بغیر اندر داخل ہو سکتی ہیں کسی سے بدلہ لے سکتی ہیں اور کسی پر عاشق ہوسکتی ہیں
خاموشی کا وقفہ طویل ہوگیا تو ارمان نے سکوت توڑا’ اس وقت تم میرے ساتھ اس بینچ پر بیٹھی ہو یہ لمحہ ٗموجود تمہاری زندگی کا حقیقی لمحہ ہے یہ لمحات تمہاری مٹھی میں ہیں اور اسی کو تم بصد شوق وقت کہہ سکتی ہو۔ابھی تھوڑی دیرپہلے تم میرے ساتھ ٹہل رہی تھی لیکن وہ سب یاد کے قبرستان میں دفن ہوچکا ہے تمہاری عمر بڑھ چکی ہے ،بہت معمولی ہی سہی لیکن بڑھی ضرورہے اب تمہاری وہ عمر نہیں ہے جو سوکھے پتوں پر ٹہلتے سمے تھی۔ وہ عمر تم اپنی گھڑی کے مطابق پانچ منٹ پیچھے چھوڑ آئی ہو اب تمہاری عمر میںپانچ منٹ کا اضافہ ہوچکا ہے اور اضافے کے ساتھ تمہاری سوچ میں بھی پختگی آچکی ہے ‘
…٭…
جھیل کے اس پار چیڑ کے درختوں تلے کوئی منچلاریڈیوپراستاد نصرت فتح علی خاں کی قوالی سن رہا تھا
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے ۔۔۔یہ تیری نظر کا قصور ہے
قوالی کے بول ہواکے جھونکوں کے ساتھ پانی پر رقص کرتے ہوئے چند لمحوں کیلئے اس پار آ کر خاکستری پہاڑیوں کی طرف جانکلتے۔۔ ارمان ویرا کا ہاتھ تھام کرآ ہستہ سے اٹھا اور جھیل کے کنارے کی جانب چل دیا۔شام اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جھیل پر چھائی ہوئی تھی ۔پانی کی سطح پرسکون تھی سورج کی کرنوں کے بھیگے ہونٹوں نے اسکے بدن کو چوم چوم کر لال کررکھاتھا گویا اب کے ہم بچھڑے پھر ملیں نہ ملیں۔
کنارے پرپہنچ کے خنکی کااحساس شدت سے ہونے لگا ۔شمال کی جانب سے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور ویرا کے ریشمی بالوں کو چہرے پر پھیلاکر آگے نکل گیا اس نے ایک جھرجھری سی لی۔ ارمان نے ایک چھوٹا سا پتھر جھیل کی سطح پر پوری قوت سے یوں پھینکا کہ پتھرتین چھلانگیں لگاکر چوتھی چھلانگ پر پانی میں ڈوب گیا۔ اس نے ویرا کی جانب دیکھا تو اس کی نظریں وہاں جمی ہوئی تھی جہاں پتھر کے سوگ میں پانی نے ایک دائرہ بنارکھا تھا
’آئو‘ ارمان نے اپنا دایا ںہاتھ ویرا کے سامنے پھیلاتے ہوئے کہا
’کہاں‘ ویرا نے چونک کر پوچھا
ارمان نے جھیل کے وسط میں کسی ملکہ کے تاج کی طرح ابھرے ہوئے جزیرہ کی طرف دیکھا’ وہاں ‘
ویرانے اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائی اس کے چہرہ پر خوف و حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے ’ابھی کچھ دیر میں اندھیرا ہوجائے گا ‘اس نے آہستہ سے کہا لیکن ارمان کا ہاتھ بدستور اس کے سامنے پھیلارہا وہ خاموش کھڑا اس کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھے جارہا تھا ۔ویرا اپنے دونوں بازوآغوش میں سمیٹے چند لمحے اسے دیکھ کر کچھ سوچتی رہی اور پھر فیصلہ کن انداز میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میںرکھ دیا
’آنکھیں بند کرلو ویرا ‘اس نے نرم لہجے میں کہا
ویرا نے آنکھیں موندلیں
اس نے پانی کی سطح پر قدم رکھا اور دونوں جھیل کی پرسکون سطح پر چلتے ہوئے جزیرے پر پہنچ گئے’ اب آنکھیں کھول سکتی ہو‘ ارمان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا
ویرانے آہستہ سے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنی گردن کو ہلکا سا خم دے کر پیچھے کی جانب نگاہ کی اور خوفزدہ ہوکر ڈگمگانے لگی ارمان نے اسے سہارا دیا اور دونوں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے جزیرے کے سرے پر جاکر بیٹھ گئے ۔
جھیل کی ہلکی مستی بھری لہریں جزیرے کے کناروں سے ٹکراکر واپس لوٹ جاتیں۔شام تقریباً ڈھل چکی تھی چیڑکے درختوں کے لمبے سائے غائب ہونے کو تیار تھے ۔جھیل کے کنارے گہرے سرمئی اور ہوا باقاعدہ سرد ہوچکی تھی ارمان نے اپنا گرم گوٹ اتارکر اسے پہنادیاویرا کے کانپتے بدن کو یکایک جیسے سکون آگیا لیکن اس کے کان ٹھنڈسے گلابی ہورہے تھے ارمان نے اپنی کلائی سے ریشمی رومال کھول کر اس کے سرپر اسکارف کی طرح باندھ کر اس کے کان ڈھانپ دیئے۔
وہ کچھ دیر گھٹنوں پر سر رکھے ارمان کی باتوں کے متعلق سوچتی رہی تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد اس نے اچانک گھٹنوں سے سراٹھا کر اس کی طرف نم آنکھوں سے دیکھا ’یہ محبت کا حصول اتنا کٹھن کیوں ہوتا ہے ارمان ‘
’میں جانتا تھا کہ تم کبھی نا کبھی یہ سوال ضرور کروگی ‘
اسے سمجھ نہیں آیاکہ ارمان کی بات کا مطلب کیا ہے ’میں سمجھی نہیں‘
’محبت نہ ملنے کی دوجوہات ہوتی ہیں ویرا‘اس نے اپنی انگوٹھی کو انگلی میں گھماتے ہوئے کہا
’پہلی وجہ یہ کہ ہم خود سے محبت نہیں کرتے اور دوسری یہ کہ۔۔ ہم اپنی گزشتہ محبتوں کے زخموں کو بھرنے میں ناکام رہتے ہیں ‘
ویرا کے سینے میں ایک ٹیس اٹھی اور چہرہ اتر گیا
’محبت کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہوتا ہے ‘ارمان نے اس کی طرف سنجیدہ نگاہوں سے دیکھا ’محبت اپنی ذات کی ضرورتوں کو محبوب کی مجبوریوں پر قربان کرنے کا نام ہے جب محبت جسم تک محدود ہوکر رہ جائے تو ہمیں لینے پر اکساتی ہے جس طرح ہم جسم کی زیبائش کیلئے کپڑے ، زیورات ، جوتے بازار سے خریدکر لاتے ہیں اور جسم کے تقاضے اورضروریات کو پورا کرتے ہیں اور اسی طرح اگر محبت روح میں مقیم ہوتو ہمیں دینے کا درس دیتی ہے جس طرح ہم اپنی روح کی آرائش کیلئے صدقہ ، خیرات ، زکوۃ سے غرباء کی امداد کرکے اپنے رب کو راضی کرتے ہیں اور ہمیں روحانی طور پر تسکین ملتی ہے ‘
ماحول پر خاموش اداسی چھا ئی ہوئی تھی
’کیا تم واقعی میرے ہمجان ہو ارمان ‘ ویرا نے ایک بار پھر اپنا شک دور کرنا چاہا
ارمان نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں محبت کا رنگ دیکھا اور یوں آہستہ سے سرہلاتے ہوئے ’ہاں‘ کہا جیسے جھوٹ بول رہا ہو۔حالانکہ حقیقت یہی تھی
’لیکن تم تو ۔۔‘وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی اور پلکیں جھکا لیں
’ہاں میں جانتا ہوں کہ میں مرچکا ہوں‘ اس نے سورج کی الوداعی روشنی کو دیکھتے ہوئے کہا ’ویرا کیا تم جانتی ہوکہ ہمجان کیا ہوتا ہے‘
’ہمارا آدھا حصہ‘ اسکی نظریں ارمان کے چہرے پر جم گئیں ’وہ جسے آسمانوں میں ہمارے لئے منتخب کیا جاچکا ہوتا ہے‘
ارمان کچھ دیر کیلئے خاموش ہوگیا
ویرا کو اس کی خاموشی چبھنے لگی’کیا Soulmateہمارا کھویا ہوا حصہ نہیں ہوتا؟‘
’ہمجان وہ ہوتا ہے جو ہماری خاموشی کی زبان سمجھتا ہے‘ ارمان نے لب کھولے ’اس دنیا میں ہماری سب سے پہلی ہمجان ہماری ماں ہوتی ہے‘ ویرا کیلئے یہ بات حیران کن تھی اس سے پہلے اس نے ہمجان کی یہ تعریف کبھی نہیں سنی تھی
’برداری کے تمام لوگوں میں سے ایک یا دو افراد میں ہم کشش محسوس کرکے ان سے دل کی بات کہتے ہیں ۔سب بچوں میں سے ایک بچہ باقی بچوں میں سے زیادہ ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے ۔چار بیویوں میں سے صرف ایک بیوی سے آدمی بے پناہ محبت کا دعوٰی کرتا ہے۔ ہم تمام بہن بھائیوں میں سے صرف ایک بہن یا بھائی سے زیادہ قربت رکھتے ہیں۔ دوستوں میں سے ایک کو اپنا ہمراز بنانا پسند کرتے ہیں ۔جانتی ہو کیوں ؟‘
ویرا حیرت میں گم نفی میں سر ہلانے لگی
’کیونکہ جن لوگوں سے ہماری سوچ کی فریکینسی میچ ہوتی ہے وہ لوگ لاکھوں کے ہجوم میں بھی ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروالیتے ہیں۔ ہمیں ان سے ملکر سکون ملتا ہے ہماری شخصیت مکمل ہونے لگتی ہے ہماری غمی اور خوشی میں ان کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ہماری ذات کو مضبوط کرنے میں یہ لوگ پیش پیش ہوتے ہیں۔ہم انہی لوگوں سے متاثر ہوکر انہیں زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں شامل رکھتے ہیں۔ہاں !ہم ان کے بغیر ادھورے رہتے ہیں۔ یہی ہمارا آدھاحصہ ہوتے ہیں ‘
ہنہ جھیل کی سرمئی شام کا نظارہ اب بدل چکا تھا
تیرھویں کا سرد چاند آسمان پر چمکنے لگا اسکا عکس پانی پر نقرئی چاندی کی مانند پگھلاہوا تھاخاکستری پہاڑ چاندنی میں یوں اوندھے پڑے ہوئے تھے جیسے مغربی ممالک کے ساحلوں پر حسینائیں دنیا و مافیہا سے بے خبر دھوپ میں لیٹی ہوتی ہیںسردی کے باوجود جھیل کے جزیرے پر محبت کا معتدل موسم اترا ہوا تھا
’اور ایک شخص ایسا بھی تو ہوتا ہے جس کے پائوں پر ہماری محبت شدتِ جذبات سے سر شار ہو کر سجدہ کرتی ہے‘ویرا نے ہولے سے اپنا سر ارمان کے کاندھے پر رکھتے ہوئے کہا’جو ہمارے جسم کا آقا اور روح کا مسیحا ہوتا ہے‘
’وہ لوگ جنکی محبت کا دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے یا وہ جنکی شادیاں دیرپا نہیں رہتیں یا پھر وہ جو ساری عمر ایک بستر پر سوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی محبت میں بیدار نہیں ہو پاتے اسکی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کوغلط فیصلوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہوتے ہیںیہ مجبور لوگ ہوتے ہیںدل کی زبان سے ناآشنا لوگ‘
’تو پھر وہ کون خوش بخت ہوتے ہیں جنہیں انکا ہمجان مل جاتا ہے ارمان؟‘
’جنکا نفس انکے قابو میں ہوتا ہے جن کی خواہشات انکے تابع ہوتی ہیں جو پہلی بار نگاہیں ملنے پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے رستے یوں ایک دوجے کی روح میں اترتے ہیں کہ انہیں یہ دھیان تک نہیں رہتا میرے محبوب کی آنکھوں کا رنگ کیسا ہے۔وہی ایک دوسرے کے اصل ہمجان ہوتے ہیں‘
ویرا نے آنکھیں موند لیں اور ارمان نے اپنا گال اس کے سر پر ٹکا دیا
’ایک بات بتائوں‘اس نے گہری خاموشی کے بعد اسے مخاطب کیا
ویرا نے بہت آہستہ سے ’ہوں‘ میں جواب دیا
’کل کیفے میں جب تم سسکیوں کے ساتھ زار و قطار رو رہی تھیں اس وقت مجھے حکم ہوا کہ میں عالمِ ارواح سے دوبارہ اس دنیا میں جا کر تمھاری اشکبار آنکھوں کو مسکراتی نگاہوں میں بدل دوں ،تمھیں محبت کی حقیقت سے آشنا کروں‘ویرا نے دھیرے سے اپنی بند آنکھوں کو کھولا اور اسکے شانے سے سر اٹھا کر اسکے چہرہ پر نگاہیں جما دیں’کیا ایسا ممکن ہے؟‘
’ہاںایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم جو مر چکے ہوتے ہیں کوئی ادھورا کام مکمل کرنے کے لیئے دوبارہ زمین پر بھیجے جاتے ہیں اور کام کی تکمیل کے بعد لوٹ جاتے ہیں‘
’تم بھی لوٹ جائو گے‘اسکے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی
’ہاں‘ ارمان نے نظریں جھکا تے ہوئے سر ہلایا’یہ میری انگلی میں انگوٹھی دیکھ رہی ہو؟‘ اس نے اپنا ہاتھ چاند کے سامنے فضا میں اٹھایا تو انگوٹھی میں جڑا نیلم چاندنی میں جگمگانے لگا
ویرا کی نگاہ انگوٹھی پر مرکوز تھی
’جس روز یہ انگوٹھی میری انگلی سے نکل کر تمھاری مٹھی میں ہو گی اس روز میں عالمِ ارواح میں لوٹ چکا ہونگا‘
’ایسا کب ہو گا ارمان‘
’مقصد کی تکمیل کے بعد‘
’پھر تو میں کبھی بھی نہ مسکرائوں گی‘وہ ارمان کے اور قریب ہو گئی اور اسکا ہوا میں معلق ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے دوبارہ اپنا سر اسکے شانے پر ٹکا دیا
’میں اب اس دنیا میں نہیں ہوں ویرا‘
’اسی دنیا میں ہو اور اس وقت میرے بہت پاس ہو‘
ارمان خاموش ہو گیا وہ جانتا تھا کہ ویرا اندر سے چُور چُور ہے وہ چپ رہا
’دنیا میں لاکھوں لوگ اپنی ادھوری محبت کے غم میں آنسو بہاتے ہیں تو خدا سب کے لیئے تم جیسا مسیحا زمین پر بھیجتا ہے ارمان؟جو انکے دکھوں کا مداوا کر سکے‘ویرا کی نگاہیں چاند پر ٹکی ہوئی تھیں
’ہاں۔بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ ضروری نہیں ہر مسیحا عالمِ ارواح سے ہی دنیا میں بھیجا جائے ابھی دل کے زخموں پر مرہم رکھنے والوں سے دنیا خالی نہیں ہوئی‘
’کیا خدا تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں‘وہ اپنا ہاتھ ارمان کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے بولی
’اچھا یہ بتائو کہ جو لوگ مر چکے ہوتے ہیں ہم انکی واپسی کا انتظار کیوں نہیں کرتے‘ارمان نے موضوع بدلتے ہوئے کہا
’کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ لوٹ کر نہیں آ سکتے‘
ارمان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسکے کان میں سر گوشی کی’کیونکہ ہم اب انہیں زندہ نہیں دیکھ سکتے۔مرنے والوں کی یہی بات تو اچھی ہوتی ہے کہ وہ انتظار کا عذاب سونپ کر نہیں بچھڑتے‘
’ہمیں مرنے والوں کے واپس لوٹ کر نہ آ نے پر اعتبار کیسے آ جاتا ہے ارمان‘
’کیا اس دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو روزانہ صبح اٹھ کر یہ دیکھتا ہو کہ کہیں آج سورج مغرب سے تو نہیں نکل رہا‘
’ایسا تو کوئی دیوانہ ہی کرتا ہو گا‘
’ہاں۔کیونکہ یہ ایک آفاقی سچائی ہے کہ سورج نے مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہونا ہے‘
’اسی لیئے تمام مذاہب کو موت کی وفا پر اعتبار آ چکا ہے‘
جھیل کا سناٹا بڑھتا جا رہا تھا
کچھ لمحوںتک ویرا کسی گہرے خیال میں ڈوبی ارمان کی انگلی میں چاندی کی انگوٹھی کو گھماتی رہی اور پھر اچانک بے حد سنجیدہ ہو کر بولی’تم بھی مجھ سے وفا کرو گے ناں ۔ارمان‘
’میں تمھارا ہمجان تھا لیکن مر چکا ہوں‘
’جب تم لوٹ جائو گے تو کیا میں تمام عمر تنہا بسر کرونگی یا پھر کسی ایسے آدمی سے شادی کا فیصلہ کر کے ساری عمر عذاب میں گزار دونگی جو میرا ہمجان نہیں ہے‘
ارمان اسے پیار سے الگ کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا’اس سوال کا جواب میں تمھیں کل دونگا‘
’کیوں۔آج کیوں نہیں‘اس نے احتجاج کیا
ارمان نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اوپر اٹھنے میں مدد دی’کیونکہ اس سوال کا جواب ہماری جدائی سے جڑا ہے‘
ویرا کی آنکھوں میں نم اترآیا’پتہ نہیں یہ جدائی میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی۔۔پہلے امی ابو جدا ہوگئے پھر مجھ سے میری سماعت رخصت ہوئی پھر میرا ہمجان جدا ہوا اسکے بعد ماجد قریب آکر۔۔‘
’تمھارے سوال کے جواب کے بعد ہم پھر کبھی نہیں مل سکیں گے لیکن ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمھارے تمام دکھوں کا مدوا ہوجائے گا‘ارمان نے مسکراتے ہوئے کہا
ــــ’نہیں تمھارا جواب مجھے کبھی نہیں سننا‘
’آئو‘ ارمان اسکا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ جزیرے سے اترنے لگا اور جونہی دونوں نیچے کنارے پر پہنچے تو ویرا نے اپنے قدم روک کر مضبوطی سے اسکا بازو پکڑ لیا ارمان نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھااسکے سر سے ریشمی رومال سرک کر گلے میں لٹک گیا ،سیاہ زلف چہرے کے سامنے لہرا گئی اور اسکی خوبصورت آنکھوں میں ہلکا سا خوف تیر نے لگا
’آئو۔ڈرو مت ‘ارمان نے سرگوشی کی
’میں آنکھیں بند کر لوں‘اس نے ایک نظر پانی کی جانب دیکھا
’نہیں‘ارمان نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے آہستہ سے سر ہلایا
ویرا نے ایک لحظہ کے لیئے سانس روک لی کیونکہ اسے اپنے پائوں ٹھنڈے نرم گداز کمخواب پر محسوس ہوئے۔
وہ ارمان کے تھوڑی دیر قبل پہنائے گئے سیاہ کوٹ تلے ہلکے نیلے رنگ پر سرخ پھلکاری سے مزیّن لباس اورشانوں کے گرد سفید شال میں ملبوس بے انتہا خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔گلے میں ریشمی رومال اسکی زلفوں کے ساتھ ہوا میں لہراتا تھا
ارمان سردی کے احساس سے بے نیازسفید قمیض اور ہلکے نیلے رنگ کی جینز میں ملبوس اپنے ہمجان کو پہلو میں لیئے گویا دل کے ارمانوں کو اس وقت حقیقت میں پورا ہوتا دیکھ رہا تھاقربت کی گھڑیاں بہت مختصر سہی لیکن اسکا احساس صدیوں پر محیط تھا دونوں نے ایک دوسرے کو تھام رکھا تھاوہ جھیل کی سطح پر یوں چلتے تھے جیسے وسیع ڈانسنگ فلور پر کسی انتہائی دھیمے سُروں میں ترتیب دی گئی رومانوی دھن پر کوئی شادی شدہ جوڑا بانہوں میں بانہیں ڈال کر ایک دوسرے کی خوشبو میں گم ناچ رہا ہو
جہاں جہاں انکے قدم پڑتے جھیل کی سطح پر گول گول دائرے بنتے چلے جاتے ان دائروں تلے سنہری مچھلیاں انکے ساتھ ساتھ تیر نے لگیںچاند چیڑ کے بلند درختوں کی اوٹ سے چھپ چھپ کر انہیں جھانکنے لگا۔جھیل کی سطح پر سفیدگلاب کی پنکھڑی کا گمان ہو تاتھاوہ دونوں یخ ہوا کی ہولناکی سے بے نیازآنکھوں کے رستے ایک دوسرے کے اندر بہت دور تک اتر چکے تھے۔
ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور ویرا کے چہرے پر سیاہ زلفوں کا جال سا بچھ گیا۔ارمان نے بہت پیار سے اسکے چہرہ سے بکھرے ہوئے بال ہٹا کر اسکے کان میں سرگوشی کی’ڈر تو نہیں لگ رہا‘
’بس!تمہاری جدائی سے ‘اس نے اپنی نم آلود آنکھوں کو موند کر یکدم اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا ارمان نے اسے اپنے بازوئوں میں اٹھا لیا ویرا نے اپنی بانہیں اور سر پیچھے کی جانب ڈال کر اپنا وجود اس کے حوالے کر دیا۔ارمان کے قدم پوری جھیل پر گول گول دائرے بنانے لگے ایک جوان روح کی بانہوں میں ایک زندہ جوان لڑکی مدہوش تھی گناہ و سزا کے تمام فیصلے خاکستری پہاڑوں پر کھڑے انہیں حیرت سے تکنے لگے لیکن کسی فیصلے میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ انہیں ایسا کرنے سے روک سکتا
حقیقی محبت ،جھیل کی سطح پر رقصاںتھی !
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close