Naeyufaq Jul-17

محبت اور نفرت

دستگیر شہزاد

عدالت کے کمرے میں سناٹا چھایا ہوا تھا تمام لوگ غصیلی نظروں سے مجرم کی طرف دیکھ رہے تھے سامعین کی قطار میں سب سے پہلی صف میں بیٹھے ہوئے مولانا نے تسبیح کے دانوں کو جلد جلد پھیر کر از حد نفرت اور غصے بھری نظروں سے مجرم کی طرف دیکھا اور دانت بھینچ کر کہا۔
’’کافر، نامعقول، کفن چور، یاد رکھ دوزخ کا ایندھن ہوگا تو۔‘‘
’’ہاں تو صاب۔‘‘ قبرستان کے مجاور نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’گزشتہ رات میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اور کمر میں جیسے کسی نے گرم گرم سلاخیں ٹھونس دی ہوں اور صاب آج سے پہلے بھی میں کئی مرتبہ بیمار ہوا تھا لیکن یہ تو مادر بخت ایسی بیماری تھی کہ میرے تو پلے ہی پڑ رہی تھی کہ کیا ہے خدا جانے کیا بات تھی کہ…!‘‘
’’ مطلب کی بات کرو۔‘‘ منصب عدالت نے ٹوکا۔
’’مطلب کی ہی تو کر رہا ہوں۔‘‘ مجاور برا مان گیا۔ ’’ہاں تو صاب بندہ تو چونکہ بیمار تھا اس لیے صاب میں نے مغرب ہی سے اٹوائی کھسٹوائی سنبھالی اور بھوکا پیاسا ہی سو گیا قریب آدھی رات کے میرے آنکھ کھلی میرا کتا شیرو بے تحاشا بھونک رہا تھا یہ تو آپ جانتے ہوں گے صاب کہ ہم مسلمانوں میں کتے پالنا منع ہے کیونکہ یہ ناپاک جانور ہے آپ تو عالم فاضل آدمی ہیں صاب آپ کو تو پتا ہوگا کہ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے تھے نا تب شیطان مادر بخت کتے کے منہ میں گھس گیا تھا اور اس لیے اس کے منہ سے یہ رال نکلتی ہے نا، وہ ناپاک ہوتی ہے اور زبان سے تمام بدن کو چاٹتا ہے سو وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے سوائے پیشانی کے ہاں تو صاب اس کتے کو میں نے پالا نہیں تھا کسی نیکی میں بچا کھچا میں اس کتے کو دے دیتا چنانچہ وہ رات دن میرے دروازے پر پڑا رہتا لیکن قسم خدا کی میں کبھی اسے قبرستان نہیں گھسنے دیا کیونکہ صاب یہ جہاں ہوتا ہے وہاں پر رحمت کے فرشتے نہیں آتے تو صاب کل رات اس کتے کے بھونکنے سے میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو کوئی دو کا عمل ہوگا مجھے بڑا غصہ آیا کہ مادر بخت نے میری نیند خراب کردی مارے غصے کے میں اسے مارنے کے لیے اٹھا اور جب اپنے کمرے سے باہر آیا تو صاب میں نے دیکھا کتا قبرستان میں گھسا بھونک رہا ہے اب تو مجھے اور خار آگئی تو میں ڈانگ لے کر بھاگا کہ اس کی کمر توڑ دوں مردے بیچاروں کی روحیں لزر گئی ہوں گی کتے کو دیکھ کر لیکن صاب جب قبرستان میں گھسا تو مارے ڈر کے میرا تو پیشاب خطا ہوتے ہوتے رہ گیا کیا دیکھتا ہوں کہ قبرستان کے بیچ و بیچ ایک جگہ مدہم سا دیا جل رہا ہے اور میرا کتا اسی سے دس گز کے فاصلے کھڑا بھونک رہا تھا میں نے کہا کہ یا مظہر العجائب یہ کیا اسرار ہے آدھی رات گئے یہ کیا معاملہ ہے قبرستان میں خدا جانے کوئی جان ہے کہ چڑیل ہے کہ بلا ہے، ہے کیا اتنی رات قبرستان میں کوئی انسان آئے تو مارے ہیبت کے وہیں ڈھیر ہوجائے صاب میں ڈرپوک نہیں ہوں لیکن ایسے موقع پر اگر آب بھی ہوتے تو خدا کی قسم یہیں بے ہوش ہوجاتے خیر صاب میں نے کلام پاک کی آیتیں پڑھ کر اپنے پر دم کیں مضبوطی سے لاٹھی ہاتھ میں تھامی اور روشنی کی طرف بڑھنے لگا میرا پورا وزن سو سالہ بوڑھے کی طرح لزر رہا تھا اور صاب لاٹھی تو جیسے میرے ہاتھ سے بھاگی جا رہی تھی جیسے تیسے میں اس روشنی کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ مٹی کے ایک ڈھیر پر ٹارچ جلا کر رکھی ہوئی تھی اور قریب ہی ایک قبر کھلی پڑی ہے اور یہ نوجوان (مجاور نے مجرم کی طرف اشارہ کیا) قبر میں گھسا ہوا ایک نوجوان عورت کی لاش کو قبر سے باہر نکال رہا تھا یہ لاش کل صبح ہی دفنائی گئی تھی میری آنکھوں میں خون اتر آیا میں نے اسے پکڑا اور فوراً تھانے میں پہنچا دیا اور جا کر صبح تک محنت کر کے قبر کو بند کیا اب پتا نہیں یہ شریف زادے وہاں کفن چرانے گئے تھے یا خدا جانے کیا کرنے۔‘‘ مجاور نے اپنا بیان ختم کیا تو عدالت کے کمرے میں ایک ہلڑ مچ گیا۔
’’بڑے شرم کی بات ہے پھانسی پر چڑھا دینا چاہیے نا معقوم کو ایسی جگہ مارو کافر کو جہاں پانی نہ ہو۔ واہ اچھی عزت رکھی ہے کفن چور کون جانے حرامی نے کتنی قبریں کھولی ہوں گی اور کتنی لاشوں کی بے حرمتی کی ہوگی۔ ہاتھ کاٹ ڈالنے چاہیے ایسے لوگوں کے۔‘‘ سب اپنی اپنی کہہ رہے تھے لیکن کوئی کسی کی سنتا نہیں تھا۔
’’آرڈر، آرڈر۔‘‘ یکلخت کمرے میں سناٹا چھا گیا لیکن سب لوگ کھا جانے والی نظروں سے مجرم کو دیکھنے لگے۔
’’مجرم کچھ اپنی صفائی میں کہنا چاہتا ہے تو اجازت ہے۔‘‘ مجرم اٹھا، گورا چٹا رنگ،نیلی کانچ کی گولیوں ایسی آنکھیں گھنگھریالے بالے، بھرا بھرا جسم اور خاصا خوب صورت عمر پچیس سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔
’’خدا کو حاضر ناظر جان کر جو کچھ کہوں گا خدا کو حاضر ناظر جان کر جو کہوں گا سچ کہوں گا۔‘‘ مجرم نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’مائی لارڈ اینڈ جنٹل مین آف دی جیوری۔ میں گناہ کا اقرار کرتا ہوں اور اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں گزشتہ رات میں نے ایک قبر کو کھولا تھا لیکن کسی بری نیت سے نہیں مجاور کے بیان کے مطابق میں ایک نوجوان عورت کو قبر سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا اس بات میں مجاور کو غلط فہمی ہوئی ہے میں لاش کو باہر نکالنا نہیں چاہتا تھا میں تو صرف اسے دیکھ رہا تھا اور یقین مانیے وہ کوئی غیر نہیں تھی میری اپنی بیوی تھی اور کل صبح وہ مر گئی تھی۔ آج سے کوئی چھ ماہ پہلے میری اس کے ساتھ شادی ہوئی تھی ہم دونوں شادی سے پہلے ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور والدین کی مخالفت کے باوجود میں نے اس سے شادی کرلی تھی میری اس حرکت پر والدین مجھ پر بہت خفا ہوئے ان کا بس چلتا تو مجھے زندہ دیوار میں چنوا دیتے لیکن آخر کو ماں باپ تھے چنانچہ انہوں نے مجھے گھر سے نکال دینے پر ہی اکتفا کیا کچھ یہ بات نہیں تھی کہ میری بیوی نیچ ذات تھی وہ یتیم تھی تو کیا ہوا خاندانی تھی اور از حد خوبصورت اپنے چچا کے یہاں رہتی تھی اور انہوں نے اسے اپنی بیٹی کی طرح پالا تھا اور جب میں گڑ گڑا کر اپنی بیوی کے چچا سے اس کے لیے درخواست کی تو وہ راضی ہوگئے لیکن اتنا ضرور کہا بر خوردار پہلے اپنے والدین سے دریافت کرلو ایسا نہ ہو کہ پیچھے سے جھگڑے اٹھیں اور نوبت کورٹ کچہری تک پہنچے تو تمہاری اور ہماری دونوں کی عزت خاک میں مل جائے مجھے یقین تھا کہ اگر والد صاحب نہ مانے تب بھی اماں جان انہیں جیسے بھی ہوگا منوالیں گے لیکن وہاں کچھ اور ہی گل کھلا ہوا تھا میری بے خبری ہی میری بات میرے ماموں کی لڑکی سے طے ہوچکی تھی جب میں نے انفال کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں کہا تو ابا جان آگ بگولا ہوگئے لیکن غصے کو دبا کر مجھے سمجھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن جب میں کسی صورت نہ مانا تو انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے پیٹنا شروع کیا وہ اماں نے بیچ میں پڑ کر میری جان چھڑائی ورنہ مجھے یقین ہو چکا تھا کہ وہ دن میری زندگی کا آخری دن تھا۔ خیر کئی روز تک اماں مجھے سمجھاتی رہیں۔
’’دیکھو بیٹا ایسی طفلانہ حرکتیں نہیںکرتے تمہاری بات طے ہوچکی ہے اور اگر شادی نہ ہوئی تو پورے خاندان کی ناک کٹ جائے گی۔ ہم تمہارے دشمن نہیں کہ تمہارا برا چاہیں مشعل میں کیا برائی ہے سگھڑ ہے خوب صورت ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بچپن سے تمہارے ساتھ کھیلی ہوئی ہے سچ کہتی ہوں ایسی لڑکی چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی ساری خدائی میں، تم ابھی بچے ہو جتنی عمر اتنی عقل اچھی صورت پر مرے جاتے ہو لیکن یاد رکھو اچھی صورت والی لڑکیاں ہی حرافہ ہوتی ہیں وہ کون جانے کون ہے کون نہیں نہ ماں ہے نہ باپ چچا کے ٹکڑوں پر پلی ہوئی ہے کیا نام بتایا تھا تم نے، انفال ہاں کیا ہے اس میں اللہ رکھے وہ تو میری مشعل کی جوتی کی برابری بھی نہیں کرسکتی تم ہو بے وقوف کہتے ہو، اس سے محبت ہے بڑے شرم کی بات ہے بیٹا آج تک کسی بھی لڑکے نے اپنے والدین کے سامنے ایسی بے حیائی کی بات کی ہے یہ تو انگریزوں میں ایسا رواج ہوگا ہمارے خاندان میں تو شادی سے پہلے میاں بیوی کو ایک دوسرے کی صورت سے بھی اشنا نہیں ہوتے تھے میں نے تعلیم تمہیں اس لیے نہیں دلوائی تھی کہ تم اس سے ایسی واہیات باتیں سیکھو میرا کہنا مانو اور مشعل سے شادی کرلو آج تم جھوٹے کہہ دو تو ابھی تمہاری سچ شادی کردوں۔‘‘
’’مائی لارڈ میں اپنے بیان کی طوالت کی معافی چاہتا ہوں لیکن مجھے اس طرح سے بیان کرنے کی اجازت دیں میرے دل میں ایک طوفان سا اٹھا رہا ہے اور اگر میں نے اسے اندر ہی اندر دبانے کی کوشش کی تومیں پاگل ہوجائوں گا دیواروں سے سر ٹکرانے لگوں گا ہاں تو اماں جان مجھے از حد سمجھایا لیکن میں اپنی بات پر اڑا رہا تھک ہار کر انہوں نے اپنا سر پیٹ لیا اور مجھے بھی دو ہتڑ جما دی والد صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے مجھے آخری نوٹس دے دیا کہ اگر مجھے اس گھر میں رہنا ہو تو مشعل سے ہی شادی کرنی پڑے گی ورنہ میں ان کے لیے گویا پیدا ہی نہیں ہوا تھا میں عشق میں دیوانہ ہو ہی رہا تھا اپنے کپڑے لتے لے کر چلتا بنا اماں نے دروازے سے سر دے دے مارا اور ننگے سر اور ننگے پیر میرے پیچھے دوڑیں لیکن اس وقت میں اس قدر سنگدل ہوگیا تھا کہ میں پیچھے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا میں نے انفال ہی کے محلے میں کرائے پر ایک کمرہ لے لیا اور اس کے چچا سے پھر درخواست کی انہوں نے پوری سرگزشت سنی تو انفال کی شادی پر کسی طرح تیار نہ ہوئے تھے۔
اب یہ ایک نئی مصیبت آن پڑی تھی اور میں دھوبی کا کتا ہو کر رہ گیا تھا اور عجب دیوانوں کی سی حالت ہوگئی تھی نہ کھانے کی فکر تھی نہ ملازمت کی بس خیال تھا تو ایک ہی کہ کسی صورت انفال سے شادی کرلو ادھر انفال کی حالت مجھ سے بد تر تھی اس نے تنگ آکر جب زہر کھانے کی دھمکی دی تو اس کے چچا نے مجبوراً ہم دونوں کی شادی کردی میں از حد خوش تھا مجھے جیسے ساری دنیا کی دولت مل گئی تھی ہمارا ایک چھوٹا سا گھر تھا اور تھوڑا بہت سامان ملازمت سے آتا تو انفال مسکرا کر میرا استقبال کرتی گرم گرم چائے اور ناشتہ فوراً میرے سامنے رکھ دیتی اور ہم دونوں ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتے کہتے ہیں شادی کے بعد محبت کم ہوجاتی ہے اور بڑھاپے میں تو میاں بیوی روازنہ آپس میں جھگڑے رہتے ہیں لیکن میں اس کو نہیں مانتا ہماری محبت روز بروز بڑھتی رہی اور اگر انفال زندہ ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ ہم بڑھاپے میں بھی ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکتے دنیا مافیا سے بے خبر ہم ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے کہ ایک دن انفال نے مجھے خوش خبری سنائی کہ وہ حمل سے ہے ہماری خوشی انتہا کو پہنچ گئی اور مجھ سے زیادہ خوش قسمت شخص مجھے دنیا میں کوئی اور نظر نہیں آتا تھا اور مارے غرور کہ میرے پیر زمین پر نہیں ٹکتے تھے ہم رات گئے تک ہونے والے بچے کے بارے میں باتیں کرتے رہتے اور نام کے بارے میں لڑکا ہوگا لڑکی اس بات پر بہت لمبی چوڑی بے مقصد بحثیں کر ڈالتے اور یوں مزے مزے میں دن گزرے جا رہے تھے کہ قدرت نے میری زندگی میں زہر گھول دیا انفال کو مس ریڈ ہوگیا مرا ہوا بچہ پیدا ہوا میں نے شہر بھر کے ڈاکٹروں کو جمع کرلیا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا لیکن مرے ہوئے بچے کا زہر انفال کے تمام جسم میں پھیل گیا تھا ڈاکٹرز نے بہت سر مارا لیکن وہ اسے نہ بچا سکے اور کل پرسوں رات کو انفال مر گئی کل صبح لوگوں نے اسے دفنا دیا اور میں نے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا میرا دماغ سن ہوگیا تھا اور کلیجہ پھٹا جاتا تھا انفال کی صورت آنکھوں کے سامنے سے ہٹتی نہ تھی اور اس کی مترنم آواز میرے کانوں سے پردوں سے مسلسل ٹکرا رہی تھی میرا جی چاہتا تھا کہ میں خود کشی کرلوں اور کوشش بھی کی لیکن مائی لارڈ اپنے آپ کی جان لینا بہت بہت مشکل ہے یہاں بڑے بڑے سورمائوں کے دل دہل جاتے ہیں میری بھی ہمت نہ پڑی اور میں بے تحاشا رونے لگا آپ میری اس وقت کی حالت کا بہتر اندازہ اپنے تصور میں لگا سکتے ہیں میں الفاظ میں اسے بیان نہیں کر سکتا اب کوئی مجھے دلاسا دینے والا نہیں مجھے یقین تھا کہ میرے والدین مجھے ڈھارس بندھانے ضرور آئیں گے لیکن خدا جانے وہ اس حادثے سے بے خبر تھے یا ان کے دل پتھر ہوگئے تھے بہرحال رات کے بارہ بجے تک میں یونہی کچھ کھانے پیے بغیر پڑا رہا اور پھر ایک دم سے انفال کی محبت نے جوش مارا اس کی صورت اس کا جسم اور اس کی باتیں مجھے یاد آئیں اور میں بے چین ہوگیا ایک دم سے میرے سر پر بھوت سوار ہوگیا میں نے بیلچہ اور ٹارج لی اور قبرستان میں جا پہنچا جنازے میں تو شریک نہیں ہوا تھا اس لیے ہر ایک قبر کو بڑے غور سے دیکھنے لگا اور آخر ایک تازہ بنی ہوئی قبر پر پہنچ کر رک گیا یقین ہوگیا کہ یہ انفال کی قبر ہے ٹارچ لگا کر ایک طرف رکھ دی اور پاگلوں کی طرح بیلچہ چلانے لگا تھوڑی ہی دیر میں بیلچہ پتھر تک پہنچ گیا اور جب میں نے پتھر ہٹائے تو اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی انفال کی لاش پڑی تھی انفال میری بیوی جو سلوٹوں والے بستر پر نہیں سو سکتی تھی جسے سلوٹوں پڑے بستر پر نیند نہیں آتی تھی کنکر پر پڑی ہوئی تھی یہ خیال آتے ہی میں بے تحاشا رونے لگا کچھ دیر کے بعد میں اٹھا قبر میں اتر کر میں نے انفال کے منہ سے کفن سرکایا تو تیز بدبو نے میرا دماغ پراگندہ کردیا میں بھونچکا رہ گیا ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ انفال کے منہ سے بدبودار سیاہ لعاب بہہ رہا تھا اور نیلے موٹے چیونٹے اس کے منہ اور ناک میں چل رہے تھے مائی لارڈ ان ہونٹوں کو میں نے چوما تھا اور اس منہ سے کسی زمانے میں سونف اور الائچی کی خوشبو آتی تھی چومنے کا خیال آتے ہی میں لرز اٹھا ریڑھ کی ہڈی میں ٹھنڈک کی ایک لہر دوڑ گئی انفال کا وہ خوب صورت جسم جو میری بانہوں میں سیماب کی طرح پھیلا کرتا تھا نیلا پڑ گیا تھا اور اس پر چیونٹیاں رینگ رہی تھیں اور خوب صورت آنکھوں میں چیونٹے لگے اپنی تیز تیز ٹانگوں سے دیدے کرید رہے تھے اور تم جسم سے بے پناہ بدبو اٹھ اٹھ کر میرا دماغ پراگندہ کر رہی تھی اس جسم کو میں نے اپنی بانہوں میں لیا تھا یہ ہونٹ میں نے چومے تھے میں نے سوچا اور انفال کی محبت میرے دل سے ہوا ہوگئی میرا جی متلانے لگا اور انفال کے خلاف شدید نفرت نے میرے دل میں اپنے پنجے گاڑھ دیے میں لاش کو چھوڑ کر بھاگنے والا تھا کہ مجاور نے مجھے پکڑ لیا جی ہاں میں مجرم ہوں گناہگار ہوں آپ کا بھی اور انفال کا بھی آپ کا اس لیے کہ میں نے ایک قبر کھولی اور انفال کا اس لیے کہ اب مجھے اس سے محبت نہیں رہی۔ میں لاکھ چاہتا ہوں کہ اس کے مردہ جسم کو بھول کر زندہ جسم کو یاد کروں لیکن ہمیشہ مجھے اس کا متعفن جسم ہی یاد آتا ہے اور میرا جی متلانے لگتا ہے اگر میں نے قبر نہ کھولی ہوتی تو انفال کو قیامت تک نہ بھولتا آپ جو چاہے سزا دیں میں اپنے آپ کو بہت بڑا مجرم سمجھتا ہوں انفال میں اسے بھولنا چاہتا ہوں لیکن مرتے دم تک سجانا چاہتا ہوں لیکن یہ بھی نہیں کرسکتا میں اس نفرت کو جو انفال کے لیے میرے دل میں آکر جم گئی نکالنا چاہتا ہوں لیکن نہیں نکال سکتا میں کیا کروں میں مر جائوں گا۔ خدا کی قسم دیوانہ ہوجائوں گا۔‘‘
وہ رو پڑا عدالت میں سناٹ چھایا ہوا تھا اور تمام خجالت سے جھکی ہوئی تھیں مولانا برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے تسبیح جیب میں رکھی اور آنکھیں پونچھتے ہوئے باہر چل دیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close