Naeyufaq Jul-17

اللہ رکھا

ریاض بٹ

کچھ باتوں کو دہرانے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ تفتیشی کہانی (موجودہ) کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے۔ نومبر 2016ء کے شمارے میں شائع شدہ کہانی پس پردہ میں ایک مخبر عورت کا ذکر آیا تھا نور پری عرف نوراں کا۔ ایک رات میں تھانے سے واپس آکر اپنے کوارٹر میں پہنچا ہی تھا کہ داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ ابھی میں نے وردی نہیں اتاری تھی اس وقت رات کے نو بج چکے تھے تھانے میں مصروفیات اس قسم کی ہوگئی تھیں اس دن کہ میں معمول سے کافی دیر بعد کوارٹر میں پہنچا تھا۔ لیکن اس وقت سوچنے والی بات یہ تھی کہ دروازے پر کون ہے ابھی میں نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ دستک ایک بار پھر سنائی دی۔
میں نے تیز تیز قدموں سے صحن عبور کیا اور دروازے پر پہنچ کرذرا اونچی آواز میں پوچھا۔
’’کون ہے بھئی۔‘‘’’میں ہوں تھانیدار صاحب نور پری۔‘‘ میں نے دروازہ کھول دیا نور پری عرف نوراں تیزی سے اندر داخل ہوگئی۔ میں نے دروازے کو کھلا ہی چھوڑ دیا اور نوراں کو کہا کہ وہ کوارٹر کے کمرے سے دو کرسیاں اٹھا لائے۔ چند ہی منٹوں بعد اس کے سامنے بیٹھا اس کے چہرے کا بغور جائزہ لے رہا تھا صحن میں جلتے ہوئے بلب کی روشنی میں اس کے چہرے کے تاثرات یہ چغلی کھا رہے تھے کہ وہ کوئی کہانی سنانے آئی ہے۔
’’نوراں خیر تو ہے۔‘‘’’خیر کہاں ہے تھانیدار صاحب آج میں اپنا دکھڑا لے کر آئی ہوں۔‘‘
’’اپنا دکھڑا۔‘‘ میں نے زیر لب دہرایا اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’’آپ میرے خاوند کو تو جانتے ہیں نا۔‘‘ اس کے لب ہلے۔
’’بالکل جانتا ہوں اللہ رکھے کو اور تمہارے ہی توسط سے جانتا ہوں۔‘‘
’’اس کو کیا ہوا؟‘‘
’’ابھی تو کچھ نہیں ہوا لیکن میرا دل کہتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔‘‘
’’دیکھو نوراں یہ وقت پہیلیاں بجھوانے کا نہیں ہے صاف صاف اور کم سے کم لفظوں میں اپنا مسئلہ بتائو۔‘‘
’’مجھے لگتا ہے کہ (میرے منہ میں خاک) اسے کوئی نقصان پہنچنے والا ہے۔ اسے کوئی قتل کرسکتا ہے۔‘‘
’’کوئی وجہ تو ہوگی تمہارے دل میں یہ خیال کیوں آیا۔‘‘
’’وجہ آپ کو بتا دیتی ہوں آگے آپ جانیں اور آپ کا کام شاید آپ کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ میرے خاوند کو کتے لڑانے کا شوق ہے حالانکہ میں کئی بار اس کو سمجھا چکی ہوں کہ یہ شوق خطرناک ہے اور دوسرے یہ بے زبانوں پر ظلم بھی ہے لیکن میری باتوں کو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا بلکہ کئی بار غصے میں آکر یہ کہہ دیتا تھا کہ اپنے کام سے کام رکھو کہیں یہ نہ ہو کہ اس گھر میں صرف کتے ہی رہ جائیں اور تم نظر نہ آئو۔ میں نے اس کے ساتھ مغز کھپانا چھوڑ دیا تھا کافی دنوں سے میں نے اس موضوع پر بات نہیں کی تھی۔
لیکن…
کل اس کے دوست اچھو نے مجھے بتایا۔
’’بھابی کل بڑی خطرناک بات ہوگئی تھی۔‘‘
’’کیا کون سی بات۔‘‘
’’کل کتوں کی لڑائی پر بھائی اللہ رکھا کی چوہدری رمیز کے بیٹے سے لڑائی ہوگئی تھی اس نے پستول نکال لیا تھا اگر لوگ بیچ بچائو نہ کراتے تو… دراصل اس کا کہنا یہ تھا کہ لوگوں کے شور مچانے کی وجہ سے اس کا کتا بھاگا تھا حالانکہ یہ بات نہیں تھی سب نے دیکھا تھا کہ بھائی اللہ رکھا کے کتے نے اس کے کتے کی ایسی درگت بنائی تھی کہ وہ بھاگنے پر مجبور ہوگیا تھا ورنہ ہو سکتا تھا جان سے جاتا جب منصفوں نے بھائی اللہ رکھا کے کتے کی جیت کا اعلان کیا تو چوہدری رمیز کے بیٹے محسن سے یہ ہار ہضم نہیں ہوئی وہ بھائی اللہ رکھے کے گلے پڑ گیا کہاں وہ منحنی سا کاغذی پہلوان اور کہاں ماشاء اللہ بھائی، بھائی نے اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا اس نے پستول نکال لیا اگر ایک بندہ بھتی سے اسے پکڑ نہ لیتا تو…!‘‘ وہ بغیر اسٹاپ بولتی جارہی تھی۔
’’میں اسی لیے تو بے وقوف کو سمجھاتی تھی کہ آگ سے نہ کھیلو لیکن مجھ غریب کی کون سنتا ہے۔‘‘ وہ خاموش ہوگئی۔
میں نے اس کے دل کا بھید جاننے کے لیے کہا تھا۔
’’جس بندے نے تمہاری بات نہیں مانی اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اور چین کی بانسری بجائو۔‘‘
’’یہ بات نہ کہیں تھانیدار صاحب اس میں تو میری جان ہے اس کی جیداری ہی تو مجھے پسند ہے آپ نے پنجابی فلمیں نہیں دیکھیں اس میں ہیروئن ہیرو کی جی داری پر ہی تو مرتی ہے جب وہ دس بارہ بندوں کو بھگا دیتا ہے تو…!‘‘ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’تم جائو میں دیکھوں گا کہ اس معاملے میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ میں اس وقت کوئی پنڈورو بکس کھولنا نہیں چاہتا تھا ورنہ مجھے پتا تھا کہ اس کا چرخہ چل پڑا تو بات کہیں سے کہیں پہنچ جائے گی اور آخر میں یہی پتا چلے گا کہ ہم تو وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
بہرحال مجھے حالات ٹھیک نظر نہیں آرہے تھے چوہدریوں کے بگڑے ہوئے شہزادوں سے میرا پالا کئی دفع پڑ چکا تھا پھر جب لوگوں نے بیچ بچائو کرایا تھا تو چوہدری رمیز کے بیٹے محسن نے زمین پر تھوکتے ہوئے کہا تھا آج تو تم بچ گئے ہو لیکن میں دیکھوں گا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔
اس رات مجھے کافی دیر نیند نہ آئی سوچوں کے گھوڑے دوڑاتا رہا۔
اگلی صبح وہی ہوا جس کا خدشہ تھا یعنی کچھ نہ کچھ ہوگا جب پچھلی رات نوراں کوارٹر مٰں آئی تھی تو ایک بات اس نے یہ بھی کہی تھی کہ میرے خاوند کو یہ پتا نہ چلے کہ میں یہاں آئی تھی لیکن اب صبح صبح وہ پریشان چہرے کے ساتھ تھانے میں میرے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔
’’تھانیدار صاحب اللہ رکھا پوری رات گھر نہیں آیا میں نے رات آنکھوں آنکھوں میں کاٹی ہے۔‘‘
’’نوراں ذرا صبر سے کام لو ہوسکتا ہے وہ خود ہی کہیں چلا گیا ہو اور واپس آجائے۔‘‘ میں نے نرم لہجے میں کہا۔
’’تھانیدار صاحب میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے آپ میری طرف سے اس کی گمشدگی کی رپورٹ لکھ لیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم محرر کے پاس جا کر رپورٹ لکھوا دو اگر تم کسی پر شک لکھوانا چاہا تو…!‘‘ میں نے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’مجھے تو چوہدری رمیز کے بیٹے محسن پر ہی شک ہے ویسے میں ان چوہدری وغیرہ سے نہیں ڈرتی ان کے ایسے ایسے راز میرے سینے میں دفن ہیں کہ…!‘‘
’’تم مخبری کرو محسن کی لیکن ایسے طریقے سے کرو کہ اس کو ذرا بھی شک نہ ہو۔‘‘
’’آپ بالکل بے فکر رہیں اس کے فرشتوں کو بھی پتا نہیں چلے گا اور تھانیدار صاحب ایک بات میں کہے دیتی ہوں کہ اگر محسن نے میرے خاوند کے ساتھ کچھ کیا ہے تو میں اس کو زندہ نہیں چھوڑوں گی۔‘‘
’’دیکھو زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے جب تم میرے پاس آ ہی گئی ہو تو باکل مطمئن ہو کر جائو میں قانون کی حفاظت کرنے کے لیے یہاں بیٹھا ہوں پھر نوراں…!‘‘ میں نے چند لمحے توقف کیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم نے خود کئی دفعہ قانون کی مدد کی ہے۔‘‘ وہ کچھ نہ بولی چپ چاپ اٹھ کر چلی گئی۔
لیکن میں چپ کر کے نہیں بیٹھ سکتا تھا میں نے ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان کو بلا کر اچھو کو لانے کے لیے بھیج دیا ایک گھنٹے بعد وہ میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
’’اچھو کو دیکھ کر کسی فٹ بال کا گمان ہوتا تھا عجیب گول مٹول سا بندہ تھا۔
رنگ گندمی اور عمر تیس سال کے اریب قریب ہوگی۔
’’اچھو، تمہارا اصل نام کیا ہے۔‘‘
’’جناب… اصغر۔‘‘
’’تمہارے اتنے اچھے نام کی لوگوں نے مٹی پلید کردی ہے۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بس جناب، جب گھر سے ابتدا ہو تو یہی ہوتا ہے‘ وہ بات آپ نے سنی ہوگی نکلی ہونٹوں چڑھی کوٹھوں (ہونٹوں سے بات نکلنے کی دیر ہوئی ہے‘ ہر سو پھیل جاتی ہے)۔‘‘
’’یہ بات تو تم نے بالکل ٹھیک کہی ہے‘ خیر تم اپنے دوست کے متعلق کچھ بتائو۔‘‘ میں نے اسے اصل موضوع کی طرف لاتے ہوئے کہا۔
’’مجھے پتا چلا ہے کہ وہ غائب ہوگیا ہے۔‘‘
’’تمہیں کیسے پتا چلا؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بھابی نوراں پوچھتی ہوئی ہمارے گھر آئی تھی۔‘‘
’’تم نے کیا بتایا؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! مجھے خود کچھ پتا نہیں‘ میں اسے کیا بتاتا؟‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘ میں نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب تھانیدار صاحب! کیا آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھے پتا ہے وہ کہاں گیا ہے؟‘‘
’’کیا چوہدری رمیز کا بیٹا محسن اسے غائب نہیں کرسکتا۔‘‘
’’چھوٹا چوہدری محسن تو بہت کچھ کرسکتا ہے‘ وہ اپنے دشمن کو زندہ دفن بھی کرواسکتا ہے۔‘‘
’’اتنی اندھیر نگری۔‘‘
’’وہ اپنے آگے کسی کو کچھ سمجھتا ہی نہیں تھانیدار صاحب! میں تو خود ڈر رہا ہوں کہ اگر اسے یہ پتا چل گیا کہ میں نے اس کے خلاف باتیں کی ہیں تو…‘‘ اس نے ایک جھرجھری سی لی اور خاموش ہوگیا۔
’’اب اسے آٹے دال کا بھائو معلوم ہوجائے گا‘ ذرا مجھے اس کے خلاف کوئی ثبوت تو ملنے دو۔ تم بالکل نہ گھبرائو‘ اسے کچھ پتا نہیں چلے گا‘ قانون تمہارے ساتھ ہے۔ تم اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنا جونہی کوئی بات معلوم ہو فوراً مجھے بتانا۔‘‘
’’آپ بالکل فکر ہی نہ کریں تھانیدار صاحب! آپ نے میرا حوصلہ بڑھادیا ہے‘ اب ایک بات میں آپ کو اور بتادیتا ہوں‘ اللہ رکھے اور چھوٹے چوہدری محسن کی دشمنی کی ایک وجہ اور بھی ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ میرے کان کھڑے ہوگئے۔
’’پری بیگم۔‘‘
’’پری بیگم…‘‘ میں اچھل پڑا۔
’’جی ہاں‘ ثاقب چغتائی نے اپنی نوکرانی پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ اس نے اس کی ایک تصویر چوری کرلی ہے۔‘‘
قارئین ثاقب چغتائی اور پری بیگم کے متعلق آپ پچھلی کہانی میں پڑھ چکے ہیں اور یہ بات بھی آپ کے علم میں ہے کہ میں ثاقب چغتائی کے گرد گھیر اتنگ کررہا تھا اور اس کی وجہ تھی نازش علی کی خودکشی۔ اب اچھو ایک نیا انکشاف کررہا تھا‘ میں نے اچھو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم تو بڑے کام کے بندے ہو بھئی! پری بیگم کی کہانی تو مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ تم یہ بتائو کہ پری بیگم کی وجہ سے اللہ رکھے اور محسن کی دشمنی کی وجہ سے ہے؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! دراصل اللہ رکھے نے پری بیگم کو اپنی بہن بنایا ہوا ہے‘ ثاقب چغتائی اور چھوٹا چوہدری ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں یعنی دونوں ہی عورتوں کے شکاری ہیں۔ جب اللہ رکھے کو یہ بات پتا چلی کہ پہلے ثاقب چغتائی نے پری بیگم پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی لیکن جب اس کی دال نہیں گلی تو اس نے کمال ڈھٹائی سے اس پر تصویر کی چوری کا الزام لگادیا تو اللہ رکھے نے ثاقب چغتائی کی خوب بے عزتی کی‘ وہ اس وقت تو خاموش رہا لیکن بعد میں اس نے محسن کو اللہ رکھے کے پیچھے لگادیا‘ کتوں کی لڑائی سے پہلے بھی دو دفعہ ان کی آپس میں لڑائی ہوچکی ہے۔‘‘
’’اوہ تو یہ بات ہے۔‘‘
پھر میں نے اسے رخصت کیا تھا اور اے ایس آئی آفاق کو اپنے کمرے میں بلالیا تھا۔ پچھلی کہانی میں اس بات کا ذکر بھی آیا تھا کہ ثاقب چغتائی اپنے گھر سے فرار ہوگیا تھا۔ اب یہ بات بھی بتادیتا ہوں کہ اس نے چھوٹے چوہدری محسن کے پاس پناہ لی تھی۔
اب حالات بہت آگے بڑھ چکے تھے‘ مجھے یہ خدشہ لگ رہا تھا کہ اب ثاقب چغتائی کا ملنا مشکل ہی تھا لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج تھا‘ میں نے اے ایس آئی کو کہا کہ وہ تین چار اہلکاروں کو ساتھ لے جاتے اور چھوٹے چوہدری اور ثاقب چغتائی اگر مل جائیں تو ساتھ لے آتے۔
دو گھنٹے بعد وہ خالی ہاتھ واپس آگیا نہ چھوٹا چوہدری ملا تھا اور نہ ثاقب چغتائی۔ البتہ چوہدری رمیز ضرور آگیا تھا‘ وہ سیدھا میرے پاس آنا چاہتا تھا لیکن اہلکاروں نے اسے آنے نہیں دیا‘ اے ایس آئی آفاق نے مجھے بتایا۔
’’سر! چوہدری رمیز کو میں نے برآمدے میں بٹھادیا ہے اور دو اہلکاروں کو اس کی نگرانی پر مامور کردیا ہے۔ وہ انگاروں پر لوٹ رہا ہے اور فوری آپ سے ملنا چاہتا ہے۔‘‘
’’اسے ابھی آدھا گھنٹہ اُدھر ہی بٹھائے رکھو‘ تم سپاہی عظمت کو بھیجو کہ وہ اسپتال جاکر نازش علی کے متعلق پتا کر آئے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر!‘‘ آدھے گھنٹے بعد میں نے چوہدری رمیز کو اپنے کمرے میں بلالیا۔
اس کی حالت دیکھنے کے قابل تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی ہی بوٹیاں نوچ رہا ہو۔ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ غصے سے بولا۔
’’میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا‘ صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ میری پہنچ بہت اوپر تک ہے‘ آپ نے میری حویلی میں پولیس بھیج کر اچھا نہیں کیا۔‘‘
’’اوہ‘ چوہدری صاحب ذرا آرام سے بیٹھ کربات کریں۔ میں نے تو ایک مجرم ثاقب چغتائی کی تلاش میں اپنے اہلکار بھیجے تھے۔‘‘ چوہدری بیٹھ گیا اور بولا۔
’’ثاقب چغتائی مصور؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ میں نے اپنی اسٹک کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے کہا۔
’’وہ میرے دوست عاقب چغتائی کا بیٹا ہے اور میرے بیٹے کا دوست ہے‘ بس اتنی سی بات ہے لیکن آپ کو اس کی تلاش کیوں ہے؟‘‘
’’بات اتنی سی نہیں ہے چوہدری صاحب! مجھے تو آپ کے بیٹے کی بھی تلاش ہے۔‘‘ میں نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
’’کس لیے جناب! آخر اس نے کون سا جرم کردیا ہے۔‘‘ چوہدری نے تیکھے لہجے میں کہا۔
میں نے تمام واقعات اس کے سامنے رکھ دیئے۔ سارے واقعات سننے کے بعد چند لمحے اس نے اپنی تھوڑی کھجائی‘ پھر بولا۔
’’آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ محسن نے ہی اللہ رکھے کو غائب کیا ہے‘ باقی یقین جانیں‘ میں ثاقب کے متعلق صرف اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ میرے مرحوم دوست عاقب کا بیٹا ہونے کے علاوہ…میرے بیٹے کا بھی دوست ہے اور تصویریں وغیرہ بناتا ہے۔‘‘
’’چلیں میں مان لیتا ہوں کہ آپ ہر بات سے بے خبر ہیں لیکن چوہدری صاحب باپوں کو اتنا بے خبر نہیں ہونا چاہیے‘ اب تو آپ کو اپنے بیٹے اور اپنے مرحوم دوست کے بیٹے کا اصل چہرہ موجودہ حالات کے آئینہ میں نظر آگیا ہوگا ۔ اس لیے آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ قانون کی مدد کرتے ہوئے دونوں کو تھانے میں حاضر کردیں‘ مجھے کافی دن پہلے اطلاع مل چکی تھی کہ ثاقب آپ کی حویلی میں چھپا ہوا ہے۔‘‘
’’پھر وہ کہاں ہیں؟ مجھے تو محسن یہ بتا کر گیا ہے کہ وہ شکار پر جارہے ہیں۔‘‘
’’کہاں؟‘‘ میں نے چوہدری کے چہرہ کو بغور دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’نہ میں نے پوچھا اور نہ اس نے بتایا۔‘‘ چوہدری کی اکڑخوں ہوا ہوگئی تھی‘ اس کی جگہ اس کی پیشانی پر غورو فکر کی لکیریں ابھر آئی تھیں‘ لگتا یہی تھا کہ وہ واقعی ’’بے خبر ‘‘ باپ ہے۔ بہرحال میں نے اسے یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ جونہی اس کا شہزادہ اور ثاقب آئے‘ انہیں تھانے میں حاضر کردے۔
اس نے کہاں سے حاضر کرنا تھا؟ مجھے پکا یقین ہوگیا تھا کہ دونوں منظر سے غائب ہوچکے ہیں۔ لیکن مجھے اللہ رکھے کی بھی فکر تھی کہ وہ کہاں اور کس حال میں تھا‘ یہ خدشہ بھی اپنی جگہ پر موجود تھا کہ کہیں اسے قتل کرکے لاش کو غائب نہ کردیا گیا ہو۔ ‘‘
اس دورن سپاہی عظمت آچکا تھا‘ وہ شاید چوہدری کے میرے کمرے سے نکلنے کا منتظر تھا کیونکہ جونہی چوہدری میرے کمرے سے نکلا‘ وہ کر موب کھڑا ہوگیا۔
’’کہو بھئی عظمت! نازش علی کے متعلق کیا خبریں ہیں۔‘‘
’’سر! ابھی بھی اس کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہے۔‘‘
’’عظمت تم اس طرح کرو کہ شہباز کو اسپتال بھیج دو وہ سفید کپڑوں میں اس کی نگرانی حاصل کرے۔‘‘ میں نے میز پر بکھرے کاغذات کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک سے سر! میں ساری بات سمجھ گیا ہوں اور شہبازکو بھی سمجھا کر ابھی اسے اسپتال روانہ کردیتا ہوں۔‘‘ میں نے سر کی جنبش سے اسے جانے کی اجازت دے دی‘ ضروری کاغذات نمٹاتے نمٹاتے شام ہوگئی‘ کوارٹر میں جانے سے پہلے میں نے اے ایس آئی آفاق کو بلا کر اس کی یہ ڈیوٹی لگادی کہ وہ مخبروں کو متحرک کردے‘ ثاقب چغتائی اور محسن کو ہر صورت میں ملنا چاہیے۔
یہ اطلاع مجھے مل چکی تھی کہ دونوں نگرانی کرنے والے مخبر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہوگئے تھے۔ کبھی کبھی ایسے بھی ہوجاتا تھا‘ مجرم توقع سے زیادہ ہوشیار نکل آئے تھے۔
تین دن اس کیس کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی‘ چوتھے دن اطلاع آئی کہ نازش علی زندگی کی بازی ہار گیا ہے‘ یہ ایک افسوس ناک اطلاع دی تھی۔
قارئین ابھی میں نازش علی کی کہانی نہیں سنائوں گا آگے اس کا ذکر آئے گا۔ البتہ یہ بتادیتا ہوں کہ نازش علی کا بڑا بھائی اسپتال میں مجھے ملا تھا‘ اس نے بتایا تھا کہ نازش علی نے شادی نہیں کی تھی جبکہ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا ان کی ایک بہن شاکرہ فیصل آباد میں بیاہی ہوئی تھی۔ ماں باپ فوت ہوچکے تھے یہ پولیس کیس نہیں بنتا تھاکیونکہ مرنے والا یہ بیان دے کر مرا تھا کہ اس نے خودکشی کی ہے‘ زہر خود کھایا ہے‘ حالات جو بھی ہوں۔
یہ اسی دن شام کی بات ہے کہ مجھے سپاہی انور نے آکر بتایا۔
’’سر! ایک عورت آئی ہے وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے۔‘‘
’’بھئی اس سے نام پتا پوچھا ہوتا؟‘‘
’’نام اس نے پری بیگم بتایا ہے اور…‘‘
’’اسے بھیج دو‘ باقی باتیں اس سے میں خود پوچھ لوں گا۔‘‘ ابھی تک میں نے اس کا صرف نام سنا تھا بہ نفیس ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ میرے سامنے آئی تو میں نے بغور اس کا جائزہ لیا‘ وہ تیس بتیس سالہ ایک خوبر و خاتون تھی‘ خدوخال میں جنس مخالف کے لیے بے پناہ کشش تھی۔
’’بی بی! میں تمہیں خود بلانے سے متعلق سوچ رہا تھا‘ یہ تو اچھا ہوا کہ تم خود ہی آگئیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! حکم کریں۔‘‘
’’پہلے تم بتائو کہ کون سی ضرورت تمہیں تھانے تک لے آئی ہے۔‘‘
’’ثاقب نے جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا وہ آپ کے علم میں آچکا ہوگا‘ میں آج کل جہاں ملازمت کررہی ہوں وہ بہت خدا ترس انسان ہیں۔ واقعی کسی نے سچ کہا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں‘ صاحب اور ان کی بیگم ذکیہ بہت اچھی ہیں۔ ان کا ایک بیٹا بھی ہے‘ میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں کہ ذکیہ بیگم آج کل بہت پریشان ہے وہ تو خودکشی کے متعلق سوچ رہی ہیں لیکن پھر ان کو اپنے بیٹے کا خیال آجاتا ہے۔‘‘
’’اوہ‘ آخر اسے کیا پریشانی ہے؟‘‘
’’وہ ایک بلیک میلر کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہیں‘ پہلے تو وہ کسی نہ کسی طرح اس کے مطالبے پوری کرتی رہی ہیں کیونکہ وہ ان کی دسترس میں تھے لیکن اب اس نے ایک لاکھ کا مطالبہ کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ یہ اس کا آخری مطالبہ ہوگا وہ اس کی تصویریں بمع نیگیٹو واپس کردے گا۔‘‘
’’تمہاری مالکن ذکیہ کا شوہر کرتا کیا ہے؟‘‘
’’ان کی شہر میں دو ٹیکسٹائل ملز ہیں‘ محبوب ٹیکسٹائل ملز کے نام سے۔‘‘
’’بڑی اسامی ہے۔‘‘ میں نے چند لمحے سوچا پھر بولا۔
’’رقع یا خط کون لے کر آتا ہے؟‘‘
’’ایک لڑکا لے کر آتا ہے یہی کوئی بارہ تیرہ سال کا ہوگا۔‘‘
’’دیکھو بی بی! ہمیں قانونی تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں‘ بغیر رپورٹ کے ہم کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔‘‘ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدارصاحب! فی الحال ذکیہ بی بی کسی قسم کی رپورٹ درج کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ میں آپ کو ایک اشارہ دے دیتی ہوں پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔‘‘ اور جب پری بیگم نے مجھے اشارہ دیا تو میں نے اسے کہا۔
’’ٹھیک ہے‘ تم کسی طرح ذکیہ بیگم کو مجھ سے ملا دو میں اس سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں اور اسے چند مشورے دینا چاہتا ہوں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! میری ایک سہیلی ہے شبانہ‘ میں اس کے گھر ذکیہ بیگم کو لے جائوں گی اگر آپ شام کو ٹائم نکالیں تو احسان مند ہوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ تم مجھے اپنی سہیلی کی رہائش کے متعلق بتادو۔‘‘
یہ اسی شام کی بات ہے‘ میں ذکیہ بیگم کے سامنے بیٹھا اس کا جائزہ لے رہا تھا‘ وہ دھان پان سی پچیس چھبیس سالہ خاتون تھی‘ رنگ گورا اور نین نقش تیکھے تھے۔ اس وقت کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور ہم کمرے میں اکیلے تھے۔
’’بی بی! تم نے وہ بات تو سنی ہوگی جو ڈر گیا وہ مرگیا۔‘‘
’’بات تو سنی ہے تھانیدار صاحب! لیکن اب بات بہت آگے نکل چکی ہے‘ یہ میری شادی سے پہلے کی غلطی ہے ڈھائی سال پہلے کی لیکن تھانیدار صاحب میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ مجھے بے ہوش کرکے میری ایسی تصویریں بنالے گا جو ایک دن مجھے اس مقام تک لے آئیں گی کہ خود کشی کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا حالانکہ میری عصمت کا موتی سلامت تھا لیکن تصویروں کو دیکھ کر کون یقین کرے گا۔‘‘
’’بی بی میرا ایک مشورہ ہے؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! میں تو تنکے کا سہارا ڈھونڈ رہی ہوں آپ حکم کریں۔‘‘ میں نے چند لمحے سوچنے کی اداکاری کی پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بات تو مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے تم اپنے شوہر کو سب کچھ بتادو۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’موجودہ حالات میں اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے‘ مجھے امید ہے اس طرح تم موجودہ اذیت سے نجات حاصل کرلوگی۔‘‘
’’لیکن تھانیدار صاحب! اس طرح تو میں اپنے شوہر کی نظروں میں گر جائوں گی جو میں کسی طرح گوارا نہیں کرسکتی۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘ ‘میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو آگئے ہیں۔
’’مجھے تمہاری نوکرانی پری بیگم نے یہ بتایا تھا کہ محبوب صاحب! تم سے بہت بلکہ والہانہ محبت کرتے ہیں اور وہ ایک روشن خیال ہیں‘ اسی لیے مجھے امید ہے کہ تمہاریا زدواجی زندگی کی عمارت کو کچھ نہیں ہوگا۔ وہ اپنی جگہ برقرار رہے گی‘ ایک بات اور اگر تم نے خودکشی کرلی تو محبوب صاحب کو کتنا دکھ ہوگا۔‘‘ میں نے آخر میں ایک نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب! ٹھیک ہے‘ میں روبرو بیٹھ کر تو ان کو سب کچھ نہیں بتاسکتی‘ البتہ ایک خط میں سب حالات تفصیل سے لکھ کر خط ان کے دفتر کے پتے پر بھیج دوں گی۔‘‘
’’یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ میں اٹھ کھڑا ہوا۔
میرے ساتھ سپاہی شہباز بھی آیا تھا‘ ہم سفید کپڑوں میں تھے‘ اس کے بعد باہر بیٹھے سپاہی کے ساتھ میں تھانے میں واپس آگیا۔ رات جوچکی تھی‘ میں آرام کرتے اپنے کوارٹر میں آگیا۔ اللہ رکھے کا مسئلہ علیحدہ لٹکا ہوا تھا‘ اس بار نوراں کی مخبری بھی ایک جگہ رکی ہوئی تھی۔ ثاقب اور محسن کا کوئی کھرا کھوج نہیں مل رہا تھا بلکہ وہ شاید کچھ کر ہی نہیں رہی تھی کیونکہ کئی بار میرے پاس آکر یہی رونا روئی تھی۔
’’آپ میرے خاوند کو ڈھونڈیں ورنہ میرا جینا محال ہے‘ میرا چھوٹا اظہر بھی رو رو کر بے حال ہورہا ہے۔‘‘
اب میں اسے تسلی دلاسہ دینے کے علاوہ کیا کرسکتا تھا‘ اللہ رکھے کے متعلق وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتاتھا۔ وہ زندہ بھی تھا یا…ثاقب اور محسن کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکا تھا‘ کسی کیس کی تفتیش میں ایسا بہت کم ہوا تھا۔
میری معلومات کے مطابق ثاقب کا اب آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اور محسن کے متعلق میرا اندازہ یہ تھا کہ وہ اس قد بگڑ چکا ہے کہ اگر وہ جلد ہمارے قبصے میں نہ آیا تو کوئی بڑی واردات کرسکتا ہے۔ ابھی میں سوچوں کے یہی تانے بانے بُن رہا تھا کہ سپاہی شہباز نے میرے عرصے میں داخلہ وکر یہ اطلاع دی۔
’’سر! اُدھر مین بازار میں ایک حادثہ ہوگیا ہے۔‘‘
’’کیسا حادثہ شہباز؟‘‘ میں نے بغور اس کے چہرے کی طر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر! اچھو دوران لڑائی بیلچہ لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔‘‘
’’دوران لڑائی… کیا مطلب‘ بات پلے نہیں پُڑی ذرا کھل کر بتائو… ایک منٹ یہا طلاع تم تک کس طرح پہنچی۔‘‘
’’سر! عاشق باہر بیٹھا ہوا ہے وہ یہ اطلاع لے کر آیا ہے۔‘‘
’’اسے میرے پاس بھیجو ذرا!‘‘ سپاہی نے یہ بھی بتایا تھاکہ عاشق ہارڈ وئیر کی دکان پر ملازم ہے۔
’’ٹھیک ہے سر! صرف ایک منٹ میں حاضر کرتا ہوں۔‘‘
پھر واقعی ایک منٹ میں وہ میرے سامنے تھا۔ میں نے غور سے اس کا جائزہ لیا‘ اس کے چہرے پر بارہ بج رہے تھے‘ دہشت اور خوفزدگی کے ملے جلے تاثرات اس کے چہرے پر ثبت ہوکر رہ گئے تھے۔
’’بھئی! عاشق اتنے خوف زدہ کیوں ہو‘ خیر تو ہے۔‘‘ میں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
’’یس تھانیدار صاحب! کیا بتائوں‘ ایسا خوفناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا‘ اچھو کا بھیجہ باہر آگیا ہے۔‘‘
پھر اس نے جو تفصیل بتائی وہ میں مختصراً بتادیتا ہوں۔
عاشق اچھو کا پڑوسی ہونے کے ناطے اسے اچھی طرح جانتا تھا‘ عاشق مین بازار میں اتفاق ہارڈ وئیر کی دکان میں ملازم تھا‘ بازار سے گزرتے ہوئے کئی بار میری نظر اتفاق ہارڈ وئیر پر پڑی تھی‘ بہت بڑی دکان تھی۔ پورے شہر میں اس کی ٹکر کی شاید ہی کوئی کان ہو۔ ان کا ہول سیل کا کام تھا‘ آج حسب معمول دکان میں رش تھا‘ بقول عاشق کے اچانک دو گاہک آپس میں لڑ پڑے ‘ بات بڑھ گئی نوبت گالی گلوچ سے ہوتی ہوئی ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ ایک گاہک نے اچانک بیلچہ اٹھالیا‘ لوگ بیچ بچائو کرانے لگے‘ ان میں اچھو پیش پیش تھا پھر…‘‘
’’عاشق کچھ باتیں غلط طلب ہیں۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا۔
’’کون سی باتیں تھانیدار صاحب؟‘‘
’’ایک تو یہی بات کہ اچھو اس وقت وہاں یعنی دکان میں کیوں موجود تھا؟‘‘
’’جناب وہ ہتھوڑی اور کیلیں لینے آیا تھا۔‘‘
’’کیا تم لوگ پرچون بھی چیزیں بیچتے ہو۔‘‘
’’اچھو چونکہ میرا پڑوسی ہے‘ اس لیے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے‘ تم باہر بیٹھو تھوڑی دیر میں ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
یہ ایک بات کی وضاحت کردوں کہ کچھ لوگ ایسے واقعات میں احتیاط سے کام لیے لیکن مجھے عاشق نے یہ بھی بتایا تھا کہ دکان کے مالک امتیاز نے نہ صرف لوگوں کو روک رکھا تھا بلکہ لاش کے پاس سے لوگوں کو دور کردیا تھا۔ میں نے ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان اور سپاہی انور کو ساتھ لیا اور دکان پر پہنچ گیا۔ دکان کے باہر لوگوں کا ایک جم غفیر تھا لیکن میں نے دیکھا کہ امتیاز کے باقی نوکر داخلی دروازے پر دیوار بنے کھڑے ہیں۔ میں نے ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی کو باہر ہی کھڑا رہنے کا حکم دیا اور خود دکان میں داخل ہوگیا۔ امتیاز نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔
’’تھانیدار صاحب! یہ واقع میری ہی دکان میں ہونا تھا۔‘‘ وہ چہرے سے مضطرب اور پریشان لگتا تھا۔ میں نے اس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا۔
’’امتیاز بھائی! حوصلہ کریں‘ یہ اتفاقات تو ہوتے رہتے ہیں‘ ویسے میں اس بات سے کوش ہوں کہ آپ نے تمام احتیاطی تدابیر اپنائی ہیں۔‘‘ وہ بولا
’’تھانیدار صاحب! یہ تو میرا فرض تھا۔‘‘
میں نے لاشہ کو دیکھا اس کی حالت لفظوں مین بیان کرنا مشکل تھی‘ مختصراً یہ کہ لاش کا بھیجہ باہر نکل آیا تھا۔ میں نے وہاں موجود لوگوں سے حالات معلوم کیے معلوم ہوئے جو عاشق بتا چکا تھا۔
میںنے لاش ہیڈ کانسٹیبل کی میت میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی اور لڑائی کرنے والے دونوں بندوں کو سپاہی انور کی نگرانی میں دیا‘باقی بندوں کے ایڈریس نو کروانے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی اور خود مالک امتیاز کو لے کر کائونٹر کے پیچھے آگیا‘ وہاں تین چار کرسیاں پڑی ہوئی تھیں‘ امتیاز ٹوٹا پھوٹا لگتا تھا۔
’’دیکھیں امتیاز صاحب! اس میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں‘ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! یہ سب میری دکان میں پیش آیا ہے‘ اس لیے میری پریشانی اور فکر فطری بات ہے۔‘‘
’’خیر جو کچھ ہوچکا ہے وہ واپس نہیں آسکتا‘ آپ ہمت سے کام لیں اور اگر کوئی بات آپ کی دل مین ہی تو بتادیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! بات تو کوئی نہیں‘ مجھے زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہے میں تو کائونٹر کے پیچھے بیٹھا ہوتا ہوں۔‘‘
’’دراصل ہمیں کاغذوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے‘ اس لیے آپ کل کسی وقت آکر اپنا بیان لکھوادیجیے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تھانیدار صاحب! آپ بالکل بے فکر ہوجائیں‘ میں کل صبح ان شاء اللہ تھانے میں جاکر بیان محرر کے پاس لکھوادوںگا۔‘‘ اس کے بعد ہم نے لڑائی کرنے والے دونوں بندوں کو ساتھ لیا تھا اور تھانے میں واپس آگئے تھے۔
یہاں اے ایس آئی آفاق میرے کمرے میں بیٹھا میرا انتظار کررہا تھا۔
’’سر سنا ہے اچھوکے ساتھ حادثہ ہوگیا ہے یعنی وہ لڑائی کرنے والے دو بندوں کو چھڑاتے ہوئے سر میں بیلچہ لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔‘‘
’’تم نے ٹھیک سنا ہے آفاق! اچھا ہوا تم آگئے‘ ابھی دونوں سے انٹرویو لینا ہے لیکن… میں نے چند لمحے توقف کیا پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ثاقب اور محسن کا کوئی سراغ ملا؟‘‘
’’سر! ابھی تک تو کوئی سراغ‘ کوئی اشارہ نہیں ملا۔ وہ تو یوں غائب ہوگئے ہیں جیسے گدھ ے کے سرسے سینگ غائب ہوئے تھے‘ ویسے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا ہے۔‘‘
’’آئیڈیا یہی ہے نہ کہ بڑے چوہدری رمیز کو تھانے میں بٹھالیںاور ادھر اُدھر مشہور کروادیں کہ جب تک محسن تھانے میں نہیں آئے گا اس کے باپ کو نہیں چھوڑجائے گا۔‘‘
’’بالکل سر! میرے خیال میں اس حربے کو بھی آزمالیتے ہیں‘ کئی بار اس طرح ہم کامیاب ہوئے تھے۔‘‘
’’لیکن محسن کے معاملے میں یہ نہیں چلے گا‘ وہ خودغرض ہے۔ چوہدری رمیز کی باتوں سے میں نے اندازہ لگالیا تھا کہ محسن اس کے ہاتھوں سے نکل چکاہے۔‘‘ میں نے آفس بوائے کے لیے گھنٹی بجاتے ہوئے کہا۔ دراصل مجھے چائے کی طلب ہورہی تھی‘ کچھ دیر کے بعد ہم چائے پینے کے ساتھ بات چیت کررہے تھے۔
’’ویسے ہوسکتا ہے بات وہی ہو‘ بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں۔‘‘ اے ایس آئی نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
’’یہ ممکن ہے۔‘‘ میرا کپ خالی ہوچکا تھا‘ میں نے اسے ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد ہم نے دونوں بندوں کو بلالیا۔
ایک کی عمر تیس سال اور دوسرے کی پچیس کے اریب قریب ہوگئی‘ دونوں پریشان تھے شاید سوچ رہے تھے کہ یہ کیا ہوگیا۔
’’تمہیں لڑائی کرنے کا بہت شوق ہے۔‘‘ اے ایس آئی نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’بس جناب‘ غلطی ہوگئی۔‘‘ دونوں نے یک زبان ہوکر کہا۔
’’اتنی بڑی غلطی‘ تمہاری اس غلطی نے ایک نسان کی جان لے لی ہے۔‘‘ میں نے خوامخواہ اپنی اسٹک کو اٹھا کر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے کہا۔ دونوں نے خوفزدہ نظروں سے میری اسٹک کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جناب میں نے جان بوجھ کر بندے کو نہیں مارا‘ میری اس کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔ ‘‘ جس کے ہاتھ سے اچھو کو بیلچہ لگا تھا‘ اس نے لرزئی ہوئی آواز میں کہا۔
’’چلو‘ میں مان لیتا ہوں کہ تمہاری اچھو کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی لیکن …‘‘ میں نے چند لمحوں کے لیے اس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھا پھر کٹیلے لہجے میں کہا۔
’’تم دونوں کی آپس میں کیا دشمنی ہے؟‘‘
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتانا مناسب ہوگا کہ ان میں ایک کا نام صفدر جبکہ دوسرے کا عمران معلوم ہوا تھا‘ دونوں چپ ہوگئے۔
’’سر! لگتا ہے ہمیں انگلیاںٹیڑھی کرنی پڑیں گی۔‘‘ اے ایس آئی نے انہیں دبکا مارتے ہوئے کہا۔
’’وہ… جی… بس ہمیں غصہ آگیا تھا۔‘‘
’’صفدر! تمہیں زیادہ غصہ آگیا تھا اور تم نے بیلچہ اٹھالیا تھا اور وہ بھی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے‘ کیوں ہے نہ یہی بات؟‘‘ میں نے حضور کو طنزیہ نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
’’بغیر وجہ کے؟‘‘ اس نے زیرلب دہرایا پھر بولا۔
’’واقعی وجہ تو معمولی ہی تھی‘ دراصل عمران نے میرے پائوں کے اوپر پائوں رکھ دیا تھا‘ میرا یہ پائوں زخمی ہے۔‘‘ مجھے درد ہوا تو میرے منہ سے گالی نکل گئی بس اسی سے بات بڑھ گئی۔
’’ہاں جی‘ عمران صاحب آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔‘‘ میں نے عمران کی طرف نظریں گھماتے ہوئے کہا۔
’’جناب! یہی بات تھی۔‘‘ اس نے مسمی صورت بنائے ہوئے کہا۔
’’دیکھو‘ زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کرو‘ سچی بات بتادو تو فائدے میں رہو گے۔ تم ہمیں بے وقوف نہیں بناسکتے۔‘‘ اے ایس آئی نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’جناب! آپ ہماری بات کا یقین کیوں نہیں کرتے؟‘‘
’’تمہارا لہجہ اس بات کی چغلی کھارہا ہے کہ تم لوگ چکر دینے کی ناکام کوشش کررہے ہو۔‘‘ دونوں خاموش رہے۔
’’سرؔ! یہ بات کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔‘‘ اے ایس آئی نے خونخوار لہجے میں کہا۔
’’میں سمجھ گیا کہ اب دونوں کی خیر نہیں۔‘‘ اے ایس آئی باہر نکل گیا جب وہ واپس آیا تو اس کے ساتھ ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان اور سپاہی عارف تھا۔
’’ان کو باہر لان میں لے جائو۔‘‘اے ایس آئی نے ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی کو حکم دیتے ہوئے کہا پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر! آپ بھی آئیں‘ میں ان کو بھوت بنائوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آج دیکھتے ہیں کہ بھوت بن کر انسان کیسا لگتا ہے۔‘‘ ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی دونوں کو دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے‘ تھوڑی دیر بعد عجیب منظر میرے سامنے تھا۔
اے ایس آئی نے دونوں کو ایک ایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
’’دونوں آپس میں سر ٹکرائو‘ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم لڑائی میں کتنے ماہر ہو؟‘‘
’’او جناب! ہم مر جائیں گے۔‘‘ دونوں یک زبان ہوکر منمنائے لیکن انہیں سر تو ٹکرانے ہی پڑے تھے۔ دو تین ٹکروں کے بعد ہی ان کے چہرے خون سے بھرگئے اور وہ واقعی بھوت نظر آنے لگے‘ وہ دونوں بیٹھ گئے اور اس طرح ہانپنے لگے‘ جیسے انہیں کوئی پہاڑ سر کرنا پڑا ہو۔
’’جناب! ہمیں پانی پلادیں۔‘‘صفدر نے مریل سی آواز میں کہا۔
’’پانی بھی ملے گا اور چائے بھی لیکن شرط یہ ہے کہ تم ہمیں الّو بنانے کی بجائے سچ اگل دو ورنہ تمہارا اس سے بھی برا حشر ہوگا۔‘‘ اے ایس آئی نے انہیں کڑے تیوروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب! ہم تو خود الّو بن گئے ہیں بلکہ الو کے پٹھے بن گئے ہیں‘ ساجن نے ہمیں مروادیا۔‘‘ عمران نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔
’’ابھی تم مرے نہیں ہو بلکہ زندہ ہو‘ چلو شروع ہوجائو۔‘‘ میں نے اس بار لہجے کو نرم کرلیا۔
’’یہاں میں آپ کو ایک بات بتادوں کہ ہمیں ان سے دوچار سوالات کرنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اندر خانے کہانی کچھ وار ہے‘ اس لیے ہم نے یہ سب کچھ کیا تھا۔‘‘ صفدر نے ساری بات بتادی اور رحم طلب نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا ویسے وہ دونوں کسی رعایت یا رحم کرنے کے حق دار نہیں تھے۔
’’ان کو فی الحال حوالات میں بند کردو۔‘‘ میں نے ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان اور سپاہی عارف سے کہا۔
’’ٹھیک ہے سر! ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان نے صفدر کا باز پکڑتے ہوئے کہا پھر سپاہی عارف نے عمران کا بازو پکڑا تھا اور دونوں کو دھکیلتے ہوئے لے گئے تھے۔ یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد میں اور اے ایس آئی آفاق دفتر میں آگئے۔
’’سر! یہ ساجن نیا نام سامنے آیا ہے۔‘‘ اے ایس آئی نے بیٹھتے ہی کہا۔
’’دیکھو افاق! میرا تجربہ تو یہ کہتا ہے کہ یہ ساجن نامی بندہ کوئی بڑا جرائم پیشہ ہے اور یہ ہمیں جرائم کی دنیا میں ہی ملے گا تم نے اس کا حلیہ تو ذہن نشین کرلیا ہے نہ۔‘‘
’’بالکل سر! ویسے مجھے یہ شک بھی ہے کہ صفدر اور عمران بھی جرائم کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ساجن کا پتا معلوم ہے۔‘‘
’’میں تمہاری بات سے اتفاق کرتا ہوں۔‘‘ میں نے چند لمحے توقف کیا پھر بولا۔
’’لیکن میں نے جان بوجھ کر پتا معلوم کرنے پر زور نہیں دیا۔‘‘
’’سر! میں سمجھ گیا پہلے یہ بات میرے ذہن میں نہیں آئی تھی‘ ساجن جیسے لوگ باخبر رہتے ہیں ان کی جاسوسی یا مخبری کا نظام ہوتا ہے۔ ان کو پتا چل چکا ہوگا کہ ان کا پلان فیل ہوچکا ہے اور دونوں بندے ہماری پکڑ میں گئے ہیں‘ انہوں نے ٹھکانہ بدل لیا ہوگا۔‘‘
’’بالکل یہی بات ہوئی ہوگی لیکن قانون اتنا بھی بے بس نہیں ہے کہ ساجن جیسے بندے اسے انگلیوں پر نچاسکیں‘ ان شاء اللہ کوئی نہ کوئی راہ نکل آئے گی۔ تم عنایت علی سے رابطہ کرو‘ ایسے بندوں میں وہ گھلا ملا رہتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر! میں آج ہی اس سے رابطہ کرتا ہوں‘ ایک دو کیسوں میں اس نے ہمارے لیے مخبری بھی کی تھی۔‘‘ اے ایس آئی کے جانے کے بعد میں دفتر کے دوسرے جھمیلوں میں الجھ گیا اور وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔
ون دن اسی طرح گزر گیا‘ اگلے دن حسب توقع ٹیکسٹائل ملز کا مالک محبوب مجھ سے ملنے آگیا وہ ایک خوب رو اور ہیڈسم بندہ تھا۔
جب وہ میرے کہنے پر میرے سامنے بیٹھ چکا تو میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا‘ وہاں مجھے شرمندگی اور بے بسی کے تاثرات نظر آئے۔
’’محبوب صاحب‘ کیا حال چال ہیں؟ ‘‘ میں نے بے تکلفانہ انداز میں کہا۔
’’بس جناب! اللہ باری تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ اس نے نظریں نیچی کرلیں‘ وجہ میں سمجھ رہا تھا لیکن میں تو اسے اخلاق اور قانون مدد دینا چاہتا تھا اس لیے لہجے کو حتی الامکان نرم رکھتے ہوئے کہا۔
’’دیکھیں محبوب صاحب‘ انسان کو برائی کو ختم کرنے کے لیے حوصلے اور برداشت سے کام لینا چاہیے ورنہ یہ بلیک میلر شیر ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! میں اس لیے پ کے پاس آی ہوں میں نے ایک لاکھ روپے کا بھی بندوبست کرلیا ہے۔‘‘
’’آپ بالکل بے فکر ہوجائیں۔ ہماری حتی الامکان کوشش یہ ہوگی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی مجرم بھی پکڑئے جائیں اور آپ کی رقم بھی بچ جائے۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! مجھے ایک لاکھ کی کوئی پروا نہیں‘ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ مجرم پکڑے جائیں اور تصویریں بمعہ نیگیٹو ہمیں مل جائیں۔‘‘
’’ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا‘ ویسے تو آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ آپ کے حق حلال سے پیسے بلیک میلر کے پیٹ میں جائیں۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا‘ اس دوران چائے آگئی تھی اور باتوں کے درمیان ہم نے اس سے دو دور ہاتھ کرلیے تھے۔
وہ چلا گیا‘ اس کے جانے کے بعد اے ایس آئی آفاق عنایت علی کو لے کر آگیا ۔ عنایت علی ایک چلتا پُرزہ تھا‘ رنگ گندمی‘ آنکھیں چھوٹی اور ماتھا تھوڑا چوڑا تھا۔
’’عنایت علی! کیا حال چال ہیں؟‘‘ میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’سرکار! ہم تو آپ کے قدموں کی خاک ہیں‘ آپ کے سامنے کیسے بیٹھ سکتے ہیں‘ مجھے پتا تھا کہ اس نے چا پلوسی میں ڈپلومہ کیا ہوا ہے۔
’’اوہ کھوتے کے کھر‘ بیٹھ جائو ورنہ یہ نہ ہو تھانیدارصاحب تمہیں ایسے بٹھائیں کہ کبھی نہ اٹھ سکو۔‘‘ اے ایس آئی نے اسے دبکا مارتے ہوئے کہا۔ وہ ایسے بیٹھ گیا جیسے قریب ہی کہیں دھماکہ ہوا ہو۔
’’تم صرف باتیں ہی کرتے ہو یا کوئی کام بھی کرتے ہو؟‘‘ میں نے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھیں کسی سانپ کی آنکھوں سے مشابہ تھیں۔
’’جناب! میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ سے بات کرسکوں۔‘‘
’’کیسی بات ‘ عنایت علی۔‘‘
’’سرکار! ساجن جرائم کی دنیا کابہت بڑا استاد ہے‘ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ وہ مجھے تو چٹکیوں میں مسل دے گا ویسے اتنا میں بتاسکتا ہوں کہ اس ک اصل نام سجاد عرف شبرائی ہے کیونکہ اس کی آنکھیں شراب کی رنگت جیسی ہیں اور اس نے کئی مجرموں کو پناہ دی ہوئی ہے اور آپ کے لیے پریشانی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کا ڈیرہ آپ کی نگرمی سے باہر ہے۔‘‘ میں اس کی بات سمجھ گیا‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا ڈیرہ ہمارے تھانے کی حدد سے باہر تھا۔
’’تم عنایت علی اس بات کو چھوڑو کہ اس کا ڈیرہ کہاں ہے؟ بس مجھے اس کے ڈیرے کا پتا بتادو۔‘‘ اس نے پتا بتادیا میں نے اے ایس آئی سے کہا۔
’’بھئی کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے اب تم صفدر سے ساجن کے ڈیرہ کا پتا معلوم کرو۔‘‘ اس نے آکر وہی پتا بتایا جو عنایت علی نے بتایا تھا۔
’’عنایت علی! تم جکر اپنے ذرائع سے پتا کرو کہ کیا آج کل بھی ساجن اس ڈیرے میں رہتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سرکار! لیکن میری حفاظت؟‘‘
’’تمہاری حفاظت کا بندوبست ہوجائے گا۔‘‘ لیکن پھر وہ غائب ہوگیا‘ دو دن‘ تین دن اور پھر چار دن اس کی شکل نظر نہ آئی۔ لگتا یہ تھا کہ مجرم بہت باخبر اور چالاک ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر بھی تھے۔
ہم نے عنایت علی سے یہ کہا تھا کہ وہ آج گھر جائے اور سوچے کہ اس نے کام کیسے کرنا ہے‘ کل سے سادہ کپڑوں میں دو اہلکاروں اس کے ساتھ ہوں گے۔قارئین یہاں اس بات کی وضاحت کروں کہ ہمیں خفیہ رکھنا پڑتا ہے اور یہ اہلکار ایسے ہوتے یہیں جنہیں پولیس اہلکاروں کی حیثیت سے کوئی بھی نہیں پہچان سکتا تھا۔
مجھے یہ شک بھی پڑگیا تھا کہ کہیں عنایت علی مجرموں کے ہتھے نہ چڑھ گیا ہو۔ ویسے یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ ڈر کے مارے خود ہی کہیں روپوش ہوگیا ہو۔
اس رات میری طبیعت ذرا بوجھل بوجھل تھی‘ ابھی میں آرام کرنے کے لیے چار پائی پر لیٹا ہی تھا کہ داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے چارپائی سے اتر کر گھر میں پہنے والے چپل پائوں میں پہنے حفظ ماتقدم کے طور پر سرور ریوالور ہاتھ میں لیا اور داخلی دروازے کے پاس جاکر اونچی واز میں کہا۔
’’کون ہے بھئی؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! دروازہ کھولیں‘ میں اللہ رکھا ہوں۔‘‘
’’اللہ رکھا…‘‘ میں اچھل پڑا اور دروازہ کھول دیا۔ میں نے کوارٹر کے برآمدے میں لگے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ اللہ رکھے نے کالی چادر سے منہ سر لپٹا ہوا ہے۔ میں اسے اندر کمرے میں لے گیا اور چارپائی پر بیٹھنے کے لیے کہا اس نے چادر اتار کر ایک طرف رکھی اور سامنے میز پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر غٹا غٹ پی گیا اور ایسے ہانپنے لگا جیسے اسے یہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی پہاڑ سر کرنا پڑا ہو۔ تقریباً دس منٹ بعد اس کی حالت سنبھلی اور وہ بولا۔
’’تھانیدار صاحب! حیران نہ ہوں‘ میں اللہ رکھا ہی ہوں ۔ اس کا بھوت نہیں ہوں میں صرف ثاقب چغتائی اور محسن کا کھوج لگانے کے لیے غائب ہوا تھا۔‘‘
’’میں تمہیں بھوت تو نہیں سمجھ رہا‘ البتہ اپنے سامنے زندہ دیکھ کر حیران ضرور ہوں۔‘‘ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب! باقی باتیں بعد میں ہوں گی اس وقت آپ مجرموں کو پکڑے کی تیاری کریں‘ ساجن کا موجودہ ڈیرہ میں نے ڈھونڈ لیا ہے مجھے امید ہے وہاں آپ کو بہت کچھ ملے گا۔ اگر وہ عنایت علی کو پکڑوانے کی غلطی نہ کرتا تو شاید ابھی میں کامیاب نہ ہوتا۔‘‘
’’تمہاری ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے‘ تم گھر جائو تمہاری بیوی پریشان ہے۔‘‘ میں نے اللہ رکھے سے کہا۔
’’نہیں تھانیدار صاحب! میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ جائوں گا‘ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘’
’’ٹھیک ہے تم قبرستان کے پاس انتظار کرو‘ میں تھانے سے نفری لے کر آتا ہوں لیکن ذرا یہ تو بتائو کہ عنایت علی تو چار دن سے غائب ہے اور…‘‘ میں نے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’تھانیدار صاحب! یہ تو مجھی پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں غائب تھا البتہ اسے ساجن کے بندوں نے آج ہی اسلحہ کے کے زور پر ڈیری پر پہنچایا ہے۔‘‘
میں نے تھانے میں جاکر آٹھ پھرتیلے اور جنگ کے مہر اہلکاروں کو تیار کیا اور ہم ڈیرے پر پہنچ گئے میرے پاس سروس ریوالور اور ان کے پاس اسلحہ موجود تھا۔
یہاں یہ بات بتادوں کہ ساجن کا موجودہ ڈیرہ ہمارے تھانے کی حدود میں آتا تھا۔ وہاں پہنچ کر ہیڈ کانسٹیبل دیوار پھاند کر اندر کود گیا اور اس نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا۔ جس مقابلے کی ہمیں توقع تھی وہ نہیں ہوا۔
اس وقت رات کے بارہ بج چکے تھے‘ رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی‘ سب بے خبر سورہے تھے کہ ہم نے انہیں جالیا تھا۔
پھر ظاہر ہے ہم انہیں لے کر تھانے میں آگئے تھے۔ وہ کہیں ہیں نہ کہ اگر نیت صاف ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی مدد فرمادیئے ہیں۔ ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اتنی آسانی سے اتنے بڑے مجرموں کو چھپا لیں گے۔
مجرموں میں ساجن کے علاوہ ثاقب چغتائی ‘ چھوٹا چوہدری محسن‘ چار ساجن کے گر گے اور دو مفرور قاتل تھے۔ ایک کمرے سے عنایت علی بھی رسیوں میں جکڑا برآمد ہوگیا تھا۔ جتنی اسانی سے سب ہمارے ہاتھ آئے تھے اتنی آسانی سے انہوں نے اپنے جرم نہیں قبولے تھے۔ ہمیں کافی محنت کرنی پڑی تھی ۔
قارئین اب وہ مرحلہ آگیا ہے کہ انکشافات کا پنڈورہ بکس کھولا جائے‘ ساجن کا اصل نام اور عرفیت آپ کے علم میں آچکی ہے۔ ساجن نام اسے جرائم پیشہ اور مفرور مجرموں نے دیا تھا کیونکہ وہ واقعی ان کا ساجن تھا اور انہیں پناہ دیتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بہت چالاک اور دلیر سمجھتا تھا اور جب کوئی مجرم کپڑوں سے باہر ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پولیس کو چیلنج کرتا ہے تو… اس نے بھی عنایت علی کو پکڑوا کر پولیس کو چیلنج کیا تھا۔ اس کے جرائم اور حماقتوں کی ایک طویل فہرست ہے بہرحال وہ پکڑا گیا تھا اور اسے اپنے جرائم کی سزا بھگتنی تھی۔
اب میں آپ کو ثاقب چغتائی اور چھوٹے چوہدری کے جرائم کی کہانی سناد یاتا ہوں۔ بات نازش علی سے شروع کرتا ہوں‘ نازش علی کو بچپن سے تصویریں بنانے کا شوق تھا وہ آڑھی ترچھی لکیریں اور شکلیں بناتا رہتا تھا پھر اسے ایک استاد مل گیا‘ گوہر رحمانی جس نے نازش علی کا شوق لگن اور ٹیلنٹ دیکھتے ہوئے اسے مصور بنادیا لیکن نازش علی کے پاس وسائل نہیں تھے۔
ایک دن اس کی ملاقات ثاقب چغتائی سے ہوگئی اور جب ثاقب چغتائی کو اس بات کا علم ہوا کہ نازش علی تصویریں بناتا ہے تو اس کے ہاتھ گویا گوہر فراد آگیا جیسا کہ یہ بات آپ کے علم میں آچکی ہے کہ ثاقب چغتائی عورتوں کا رسیا تھا اور چھوٹا چوہدری اس کا ہانڈی والا (شراکت دار) تھا۔ نازش علی بنائے گا‘ نام ثابت چغتائی کا ہوگا اور نازش علی کو ٹھیک ٹھاک معاوضہ دیا جائے گا۔ نازش علی غربت کی وجہ سے راضی ہوگیا یہاں یہ بات بھی بتادوں کہ ثاقب چغتائی مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔ مردوں میں ایسا حسن کم ہی ہوتا ہے‘ عورتیں اس پر مرتی ہیں اور وہ جعلی مصور بننے کے بعد دو آتشہ ہوگیا تھا اگر بات یہاں تک ہی رہتی تو شاید گاڑی چلتی رہتی لیکن چھوٹے چوہدری کے شیطانی ذہن نے ثاقب چغتائی کو مشورہ دیا کہ عورتوں کی کیمرے سے تصویریں بنا کر انہیں نہ صرف بلیک میل کیا جائے بلکہ اپنی مٹھی میں بھی رکھا جائے عرصہ تین چار سال سے وہ یہ دھندا کررہے تھے۔
پھر وہ دن آیا جب ان سے پری بیگم والی حماقت ہوگئی لیکن اس سلسلے میں ان کو منہ کی کھانی پڑی اور ثاقب چغتائی نہ صرف پولیس کی نظروں میں آگیا بلکہ اللہ رکھا کو اپنا دشمن بھی بنالیا پھر کتوں کی لڑائی پر محسن کی لڑائی اللہ رکھے سے ہوگئی اور نوراں میرے پاس آگئی‘ اللہ رکھے کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ ثاقب چغتائی اور محسن کو پکڑوانے کے لیے خود ہی غائب ہوگیا تھامنظر سے۔اب تو پولیس پوری تند ہی سے انہیں تلاش کرے گی‘ نازش علی کی وجہ سے ثاقب چغتائی پہلے ہی چوہدری رمیز کی حویلی میں چھپنے پر مجبور ہوگیا تھا ویسے ثاقب چغتائی کو یقین تھا کہ نازش علی یا تو ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑدے گا‘ یا پھر اسے صرف اتنی ہی مہلت ملے گی کہ وہ یہ بیان دے سکے کہ اس نے خود زہر کھایا ہے لیکن جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے‘ ساجن چھوٹے چوہدری محسن کا دوست بنا ہوا تھا اور اسے تحفظ دیتا رہتا تھا۔ ثاقب چغتائی اور محسن نے جاکر وہاں پناہ لے لی کیونکہ اللہ رکھے کی وجہ سے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ پولیس اب سیدھی حویلی کی طرف آئے گا۔ نازش علی نے خودکشی کیوں کی تھی؟ اب اس طرف آتا ہوں‘ نازش علی اچھا خاصہ ڈرائیور بھی تھا۔ ایک دن وہ ثاقب چغتائی کی کار ڈرائیور کررہا تھا۔ ثاقب بھی کار میں موجود تھا کہ نازش علی سے ایکسیڈنٹ ہوگیا ایک عورت کار کے نیچے آکر کچلی گئی۔ سڑک اس وقت سنسان تھی‘ ثاقب چغتائی نے نازش علی سے کہاا۔
’’یہ نہ دیکھو کہ عورت مرگئی ہے یا زندہ ہے‘ جلدی سے گاڑی بھگالے جائو۔‘‘ نازش علی کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے تھے‘ اس نے فوراً اس کے کہنے پر عمل کردیا۔
نازش علی ایک لڑکی سنبل سے محبت کرتا تھا وہ کبھی کبھی اس سے ملنے آتی رہتی تھی‘ نازش علی کے زہر کانے سے چند دن پہلے وہ نازش علی سے رہتی تھی۔ نازش علی کے زہر کھانے سے چند دن پہلے وہ نازش علی سے ملنے آئی تو ثاقب چغتائی کی نظر اس پر پڑگئی اور اس کی رال ٹپکنے لگی‘ ویسے نازش علی کی محبت کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا۔سنبل کے جانے کے بعد ثاقب چغتائی نے نازش علی کو اپنے پاس بٹھالی اور بولا۔
’’نازش علی اگر تم اس لڑکی کو ہمارے بستر کی زینت بنادو تو میں اور محسن تمہاری جھولی نوٹوں سے بھردیں گے۔‘‘نازش علی کو غصہ تو بہت آیا لیکن وہ خون کے گھونٹ پیتے ہوئے بولا۔
’’ثاقب صاحب! سنبل میری محبت ہے‘ میں آج تک آپ کے اشاروں پر ناچاہتا رہا ہوں لیکن آپ حد سے بڑھ رہے ہیں‘ آئندہ آپ ایسی بات نہ کریں تو بہتر ہے۔‘‘
’’اچھا تو تم کیا کرلو گے؟دیکھو جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو ہمیں انگلی ٹیڑھی ہی کرنا بھی آتا ہے۔ جب تم نے ایک عور کو کچل دیا تھا اس وقت کی تصویر میرے پاس محفوظ ہے اگر تم نے ہمارے کہنے پر عمل نہ کیا تو آگے خود سمجھ دار ہو؟‘‘ آگے سنانے سے پہلے یہ وضاحت کردوں کہ ثاقب چغتائی نے جھوٹ بولا تھا‘ میرے سوال کے جواب میں اس نے بتایا تھا کہ اس وقت یہ ممکن نہیں تھا جب ایکسیڈنٹ ہوا تھا بہرحال نازش علی اس وقت خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ نازش علی نے اپنے بیان میں مجھے بتایا تھا کہ ثاقب اور محسن ایسی مکڑیاں تھیں جنہوں نے پوری طرح اسے اپنی شکنجے میں جکڑلیا تھا لیکن وہ ثاقب چغتائی کا یہ مطالبہ تو کسی صورت نہیں مان سکتا تھا بقول اس کے وہ بند گلی میں آگیا تھا اور اسے خودکشی کی علاوہ کوئی راستہ سجھائی نہیں دیا تھا۔
اب بات ہوجائے اچھو کی‘ اللہ رکھے کو وہ واقعی مار ڈالنا چاہتا تھا لیکن وہ غائب ہوگیا تھا۔ جب وہ ساجن کے پاس چلے گئے تو ان کی ڈوریاں گویا اس کے ہاتھ میں آگئیں اس نے اپنے شیطانی ذہن میں یہ پلان ہی کردیا جائے ورنہ ہمارے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔ ان کو بہت دیر بعد خیال آیا تھا ورنہ ہمارے لیے مصیبت بن سکتا ہے ان کو بہت دیر خیال آیا تھا اچھو کو جو کچھ معلوم تھا وہ مجھے بتاچکا تھا‘ انہوں نے اپنی طرف سے ایسا پلان بتایا کہ یہ قتل نہ لگے بلکہ حادثاتی موت لگے۔ اسی سلسلے میں صفدر اور عمران جو ساجن کے کارندے تھے۔ چھو کے پیچھے لگے ہوئے تھے آخرہارڈویئر کی دکان میں انہیں اپنے پلان پر عمل کرنے کا موقع مل گیا لیکن وہ شاید یہ بھول گئے تھے کہ پولیس کو سچ اگلوانا آتا ہے۔
ساجن نے ہی انہیں مشورہ دیا تھا کہ ذکیہ کو ایک ہی دفع ذبح کردو یعنی ایک لاکھ کا مطالبہ کردو ‘ جی ہاں ثاقب چغتائی ہی ذکیہ کو بلیک میل کررہا تھا لیکن ایک لاکھ وصول کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔مجرموں کے گرفتار ہونی کے بعد دونوں میاں بیوی (محبوب اور ذکیہ) میرے پاس آئے تھے اور میرا شکریہ ادا کیا تھا اور ڈھیروں دعائیں دی تھی‘ ہم نے بلیک میلنگ کا سارا سامان اور تصویریں قبضے میں لے لی تھیں ۔ یہ کہانی نوراں کے میرے پاس کوارٹر میں آنے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی اور انجام اس کے خاوند اللہ رکھے نے کروایا تھا۔ نوراں ہماری مخبر بھی تھی اس لیے اس کے بے حد اصرار پر میں اور اے ایس آئی آفاق اک شام اس کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے‘ اس نے کھانے کا بندوبست کیا تھا۔
کھانا کھانے کے بعد جب قہوے کا دور چلا تو میں نے نوراں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اب تو اللہ رکھے کی جیداری پر مہر ثبت ہوگئی ہے‘ اس نے مجرموں کو گرفتار کروانے میں بڑی جیداری کا ثبوت دیا ہے اور ہمارے ساتھ بھی گیا ہے۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! مجرموں نے تو اسے مارنے کا پکا ارادہ کیا ہوا تھا لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے پھر اس کا تونام ہی اللہ رکھاہے اور ساتھ ہی اس نے پیار بھری نظروں سے اللہ رکھے کی طرف دیکھا‘ اس کیس کے بعد اعلیٰ افسران کی سفارش پر مجھے انعام و اکرام سے نواز گیا تھا لیکن میں نے اصرار کرتے انعام اللہ رکھے اور نوراں کو دے دیا تھا کیونکہ میرے خیال میں وہ وہی اس کے حق دار تھے ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close