Naeyufaq Jul-17

ایک سوسولہ چاند کی راتیں(قسط نمبر 11)

عشنا کوثر سردار

تیمور نے اپنے طور پر سمجھانے کی کوشش کی تھی اور وہ خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگی تھیں‘ تیمور نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا سوچ رہی ہیں یا ان کا اگلا اقدام کیا ہوگا، مگر وہ بغور ان کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے وہ ان کا چہرہ پڑھنے کی کوشش میں ہوں، مگر نواب زادی کچھ نہیں بولی اور وہ نرمی سے بولے تھے۔
’’آپ کا کوئی بھی اقدام بہت سی زندگیوں کو متاثر کرسکتا ہے نواب زادی‘ آپ کو کوئی بھی فیصلہ بہت محتاط ہوکر لینا پڑے گا اجازت دیجیے۔‘‘ اس نے اجازت چاہی تھی اور پھر مڑ کر چلتا ہوا دور نکلنے لگا تھا۔
عین النور نے جیسے دانستہ ان کی طرف سے رخ پھیر لیا تھا حتیٰ کہ تیمور بہادر یار جنگ چلتے ہوئے احاطے سے نکل گئے تھے اور تب ہی وہ اسی طور کھڑی رہی تھیں۔
/…ؤ …/
’’اگر آپ برا نہ مانیں تو آپ سے ایک گزارش کرنا چاہتے ہیں ہم۔‘‘ حکمت صاحب نے شطرنج کی چال چلتے ہوئے کہا تھا اور نواب سیف الدین نے سر ہلایا تھا گویا وہ ان کو اجازت دے رہے تھے‘ حکمت صاحب نے ان کی طرف چند لمحوں تک خاموشی سے دیکھا اور پھر نرمی سے بولے تھے۔
’’ہمیں بہت دنوں سے آپ سے ایک بات کرنا بھی ہے مگر ہم تذبذب سے نکل نہیں پا رہے تھے کہ آیا ہمیں وہ بات کہنا چاہیے بھی کہ نہیں۔‘‘
’’کہیے حکمت صاحب… آپ کو اجازت کی ضرورت کب سے پڑنے لگی‘ آپ نواب فیملی کا حصہ ہیں آپ کو ہمیشہ بھائی سمجھا ہے برسوں کے مراسم ہیں۔ اب بھی آپ ایسی بات کہیں گے تو باخدا ہمیں بہت ناگوار گزرے گا۔‘‘ نواب صاحب نے متانت سے کہا تھا۔
حکمت صاحب مسکرا دیے تھے پھر قہوے کے سپ لگاتے ہوئے بولے۔
’’ہمیں ڈر تھا نواب صاحب کہیں ہماری بات کو مداخلت نہ سمجھا جائے آپ عزت دیتے ہیں بہت بات ہے آپ کی دوستی گراں قدر ہے‘ نواب صاحب آپ انتہائی نفیس طبیعت کے حامل انسان ہیں میں آپ کے فیصلوں پر تنقید نہیں کرنا چاہتا نا میرا ارادہ ان فیصلوں کو پرکھنا اور آپ کو غلط ثابت کرنا ہے۔ مگر حیدر میاں کے بارے میں جو فیصلہ آپ نے برسوں پہلے لیا تھا وہ ہمیں نامناسب لگتا ہے حیدر میاں کی شہرت کچھ اچھی نہیں ہے‘ عین بیٹی ہمیں بھی اس طور عزیز ہیں مگر مرزا سراج الدولہ یا ان کے سپوت خاص غیر متوازن شخصیات کے حامل ہیں ان میں وہ متانت اور بربادی ناپید ہے جو نواب خاندان کا حصہ ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے ڈھکے چھپے لفظوں میں بات کو نواب صاحب تک پہنچایا تھا نواب صاحب سر ہلانے لگے تھے۔
’’ہم آپ کی بات کو سمجھ رہے ہیں محترم حکمت صاحب یہ تمام چیدہ چیدہ باتیں ہیں جو ہمارے علم میں بھی ہیں مگر بات یہ ہے کہ اگر یہ رشتہ ٹوٹتا ہے تو بات بات دور تک جائے گی ہم نواب خاندان کی عزت اور توقیر کو ملیا میٹ ہوتے نہیں دیکھ پائیں گے۔‘‘ نواب صاحب نے نرمی سے کہا تھا حکمت صاحب مسکرائے تھے۔
’’کیا بات کرتے ہیں نواب صاحب ایک رکھ رکھائو کے لیے اپنی پھول سی بچی کی قسمت ایسے نکمے انسان سے جوڑ دیں گے جو اچھا انسان بھی کہلانے کے لائق نہیں‘ آپ کو علم ہے مرزا صاحب کیسے انسان ہیں؟ ان کے بارے میں ایک بات سننے میں آئی ہے کہتے ہیں ان کی کوئی دختر ہیں جو بازار کی زینت ہیں مگر مرزا صاحب اس بات سے آنکھیں میچے رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ان دختر کو دنیا کے سامنے قبول نہیں کرتے، حکمت صاحب نے ان کو جتایا تھا نواب صاحب چونکتے ہوئے ان کی سمت دیکھنے لگے تھے پھر متانت بھرے لہجے میں بولے۔
’’آپ جانتے ہیں حکمت صاحب امرا کی زندگیوں میں مخفی گوشے ہوتے ہیں اگر مرزا صاحب ان کے بارے میں کوئی بات کرنا نہیں چاہتے تو ہم ان کو تو کریدنا ضروری خیال نہیں کرتے یہ بات مناسب نہیں ہوگی برسوں کے مراسم مٹی میں مل جائیں گے پھر آپ مرزا صاحب کے مزاج سے واقف ہیں وہ بات کو بہت انتہائی سطح پر لیتے ہیں اور ان کا مسئلہ بنا لیتے ہیں‘ ہم ان کی زندگی کے ان پہلوئوں پر بات نہیں کرسکتے ان کی نجی زندگی پر انگلی اٹھانا ان کو آئینہ دکھانا ہے اور آپ جانتے ہیں آئینہ چاہے درست شبیہہ دکھاتا ہو مگر یہ ناقابل قبول لگتا ہے میں ان معاملات سے لاعلم نہیں ہیں ہوں‘ ہم بھی سوچتے رہے ہیں عین ہمیں بہت عزیز ہیں مگر فی الحال تقسیم کی بات زوروں پر ہے اور ہم اس رشتے کے معاملات کو زیادہ ہوا دینا نہیں چاہتے مرزا صاحب کو ایک بات باور کرا دی تھی کہ اگر پاکستان بنتا ہے تو ہم پہلے انسان ہوں گے جو اس منزل کی سمت گامزن ہوں گے ایک بار ہم پاکستان پہنچ گئے تو پھر رشتے کی بات بھی ماضی کا حصہ بن جائے گی… اس سے قبل ہم اس معاملے کو اٹھانا نہیں چاہتے۔‘‘ نواب صاحب بولے اور حکمت صاحب نے قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے سر ہلایا تھا۔
’’ہم آپ کی بات سمجھ رہے ہیں نواب صاحب مگر ہمیں لگا تھا کہ کہیں مرزا صاحب آپ کو کس چال کا حصہ نہ بنالیں ان کا دماغ کانگریس والا ہے نا الٹی چالیں چلتے ہیں۔‘‘ حکمت صاحب مسکراتے ہوئے بولے اور نواب سیف الدین پٹوڈی مسکرا دیے تھے۔
’’ہم مرزا صاحب کے دماغ سے بخوبی واقف ہیں حکمت صاحب درحقیقت ان کے کانگریس والے دماغ میں خناس بھرا ہے فی الحال ان کو چھیڑنا مناسب نہیں وقت آنے دیجیے ہم تمام معاملات کو بہت سلیقے سے نمٹا لیں گے۔‘‘ نواب صاحب بولے اور حکمت صاحب نے دیکھا تھا۔
’’ہمیں امید ہے ایسا ہی ہوگا۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔‘‘ نواب صاحب بولے تھے۔
/…ؤ …/
’’نواب زادی عین النور‘ فتح النساء کے سامنے جا رکی تھیں اور فتح النساء ان کو سر اٹھا کر حیرت سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’نواب زادی آپ یہاں؟‘‘ فتح النساء احتراماً ان کے احترام میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں، عین النور نے ان کی سمت دیکھا تھا۔
ان کی نگاہیں بے تاثر تھیں اور چہرہ سپاٹ وہ جیسے ان کسی بھی قسم کے احساسات سے اس لمحے عاری دکھائی دی تھیں‘ عین نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا جیسے وہ کچھ شرمندہ دکھائی دی تھیں انہوں نے فتح النساء کا ہاتھ تھاما اور مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم اپنے کیے پر شرمندہ ہیں فتح النساء ہمیں آپ پر اس طور شک کرنا نہیں چاہیے تھا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم نے کچھ غلط کیا یا آپ نے ایسا کہہ کر غلط کیا مگر بات کبھی کبھی یہ ہوئی ہے کہ معاملات اس طور الجھے دکھائی دیتے ہیں کہ بات سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔‘‘ وہ جیسے معذرت کے باوجود اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں تھیں اور فتح النساء نے فوری طور پر کچھ نہیں کہا تھا‘ بس کچھ جتائے بنا خاموشی سے دیکھا تھا عین النور نگاہ پھیر گئی تھیں اور نرمی سے بولی تھیں۔
’’آپ جانتی ہیں ہم کسی رشتے کو لے کر کس درجہ حساس ہیں‘ ہم حیدر میاں کے بارے میں کوئی بات غلط سوچنا نہیں چاہتے جو بھی ہے ایک رشتے کا حوالہ درمیان موجود ہے اور وہ رشتہ چاہے جیسا بھی ہو ہم اس کو معتبر دیکھنا چاہتے ہیں یہ ہماری توقعات ہیں یا جو بھی ہے مگر ہم حیدر میاں کے متعلق کچھ ایسا ویسا نہیں سننا چاہتے‘ ہمیں آپ سے کوئی اختلاقف نہیں‘ ہم آپ سے کسی طرح کی کوئی مخالفت نہیں رکھتے، آپ ہماری بچپن کی سہیلی ہیں ہم آپ کے جذبات کو مجروح کرنے پر اور دل دکھانے پر معذرت خواہ ہیں ہمیں آپ کے کہنے پر کوئی شک و شبہ نہیں ایسا یقینا ہوا ہوگا ہم جانتے ہیں کہ آپ جھوٹ نہیں بولتیں۔ ایسا کچھ سلسلہ رہا ضرور ہوگا مگر ہم ان معاملات کی چھان بین کر کے ایک رشتے کی توقیر کرنا نہیں چاہتے‘ پرکھنے سے رشتہ باقی نہیں رہتا‘ کسوٹی بہت سے رشتوں سے ان کا فطری حسن اور حرمت چھین لیتی ہے ہم اس ایک رشتے کو معتبر سمجھتے آئے ہیں‘ ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ آپ سے کیا کہیں یا کون سے الفاظ تلاش کرکے وضاحت دیں مگر ہمارا مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں تھا۔‘‘ عین النور کا لہجہ بہت دھیما اور جذبات سے بوجھل تھا ان کی آنکھوں میں نمی تھی اور فتح النساء نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر ان کی آنکھوں کی نمی صاف کی تھی اور مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’ہمیں اندازہ ہے نواب زادی ہم آپ سے بدگمان نہیں ہیں‘ ہمیں آپ سے کوئی عداوت نہیں‘ ہم آپ کے لیے دل میں کوئی میل نہیں رکھ سکتے، ہم آپ کے خلاف نہیں سوچ سکتے ہیں‘ آپ کے مخالف نہیں جاسکتے‘ ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں ہے‘ آپ کی دوستی اور آپ ہمارے لیے اللہ کا بہترین انعام ہیں‘ ہمیں جتنی محبت اس گھر سے اور اس گھر کے افراد سے ملی ہے۔ ہم اس کے لیے اپنے رب کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔‘‘ فتح النساء نے ان کو جھکنے سے قبل اٹھا دیا تھا اور اس عمل پر عین نے ان کو تھام کر گلے سے لگا لیا تھا فضا صاف ہوگئی دلوں کے میل آنسو کے بہائو میں بہہ کر اپنا وجودکھونے لگے تھے۔
/…ؤ …/
جلال خاموش سا بیٹھا تھا جب نواب صاحب نے آکر ان کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا جلال نے چونک کر ان کی سمت دیکھا تھا۔ مگر جلال فوری طور پر کچھ بولے نہیں تھے اور نواب صاحب جیسے خاموشی میں صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔
’’آپ سوئے نہیں ابا جان؟‘‘ جلال نے قصداً اس خاموشی کو توڑا تھا اور نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’ہم اپنے کمرے کی سمت جا رہے تھے مگر نگاہ آپ پر پڑی تو ہم اس طرف آگئے آپ کا چہرہ بہت متفکر لگ رہا ہے ایسے کیا معاملات میں کہ آپ ہم سے ڈسکس نہیں کررہے؟‘‘ جلال نے چونک کر ان کو دیکھا تھا۔
کیا وہ جانتے تھے کہ گھر میں ان کی شخصیت کو لے کر کیا موضوع زیر بحث تھا‘ کیا جلال کو ان سے رجوع کرنا چاہیے تھا؟
’’نہیں ابا جان ایسی کوئی بات نہیں‘ ہم سونے کی کوشش کررہے تھے نیند نہیں آئی تو ہم اٹھ کر باہر آگئے شاید موسم بدل رہا ہے اور اندر ایک گھٹن اسی باعث تھی۔‘‘ جلال نے بات بنادی تھی نواب صاحب جہاندیدہ نگاہوں سے ان کو دیکھ رہے تھے اتنا تو وہ جان گئے تھے کہ معاملات یہ نہیں تھے بات کوئی اور تھی اور جلال دانستہ بات کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔
’’آپ کو لگتا ہے آپ اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ اپنے والد صاحب سے حقائق کو چھپا سکتے ہیں؟‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا اور جلال چونک گئے تھے۔
’’ایسی بات نہیں ہے ابا جان، ہم اپنے دل کی بات آپ سے کہنے کے عادی پہلے ہیں ہم کچھ چھپا نہیں سکتے اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ہم آپ سے براہ راست کہہ دیتے۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور نواب صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے ان کی نظریں جیسے الزام دیتے ہوئی تھیں اور جلال کو اس لمحے اچھا محسوس نہیں ہوا تھا۔ نواب صاحب نے جانے کیا سوچ کر اپنا دست شفقت جلال کے کندھے پر رکھا تھا۔
’’ابا جان ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں‘ آپ سے جو انسیت ہے وہ فطری ہے‘ آپ کی پدرانہ شفقت کا کچھ نعم البدل نہیں‘ آپ کا دست شفقت سر پر ہے تو زندگی میں کچھ بھی کمی نہیں لگتی ہم خود کو اس دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے ساتھ آپ ہیں ابا جان اور ہم چاہتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ آپ کا یہ سایہ ہمارے سر پر اس طور سلامت رہے اور آپ کا دست شفقت اسی طور ہمارے کاندھے پر قائم رہے اور ہم دنیا کے طاقت ور ترین انسان رہیں۔ ہم دنیا پر حکمران کے خواہاں نہیں نا اس طاقت کے بل بوتے پر کوئی ناروا سلوک کسی کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں مگر یہ طاقت ور ہونا ایک اعزاز ہے اور یہ اعزاز آپ کے باعث ہے اور ہم یہ اعزاز ہمیشہ اپنے ہمراہ رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ جلال بولا تھا تو نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا تھا پھر ان کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے سپوت دنیا کے طاقت ور ترین انسان ہیں اور ہمارے وجود کے باعث ہیں ہم آپ کو اس طور مضبوط اور طاقت ور دیکھنے کے خواہاں ہیں‘ ہمیشہ… چاہے ہم آپ کے ساتھ رہیں یا نہ رہیں۔‘‘ نواب صاحب بولے تھے اور جلال کے دل پر جیسے کسی نے انی سے وار کیا تھا وہ فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے تھے۔
’’آپ ہمارے ساتھ رہیں گے ابا جان آپ کا دست شفقت کسی طور پر ہمارے سر پر سلامت رہے گا، ہم ہر دعا میں اللہ سبحان و تعالیٰ سے آپ کی دراز عمر کی دعا مانگیں گے ابا جان‘ ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ابا جان‘ ہم آپ کو ہمیشہ اپنے ہمراہ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں‘ آپ کا وجود ہمارے لیے اس طور قیمتی ہے ہم آج بھی خود کو ویسا ہی ناتواں اور کمزور پاتے ہیں جیسا تب محسوس کرتے تھے جب ایک قدم بھی چل نہیں پاتے تھے‘ آپ نے ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں چلنا سکھایا قدم قدم ہمیں حوصلہ دیا، اس لمحے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ابا جان ہم ان لمحوں کا قرض اتارنے لائق نہیں ہیں۔‘‘ جلال نے کہا تھا ان کا لہجہ جذباتی تھا نواب صاحب نے شفقت سے ان کو دیکھا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’بیٹا والدین کبھی اپنے بچوں پر کوئی احساس نہیں کرتے ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پرورش کریں‘ ان کو پروان چڑھائیں‘ ان کو پھلتا پھولتا دیکھیں‘ والدین تو مال کی مانند ہوتے ہیں ایک چھوٹا سا پودا لگاتے ہیں اور پھر اس ننھے سے پودے کی نشوو نما میں اپنی تمام توجہ صرف کردیتے ہیں‘ ہم اتنی سی بھی غرض نہیں رکھتے کہ ہم اس ننھے پودے کی چھائوں میں بیٹھ کر سستا سکیں میں فقط اس ننھے پودے کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ہی خوش ہوں اس کو نشو و نما پاتا دیکھ کر خوش ہوں ہم اور سدا اس ننھے پودے کو ایک تناور درخت کی مانند مضبوطی سے تنا کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے جلال کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا اور جلال نمی سے بڑی آنکھوں سے ان کے ہاتھ کو تھام کر لبو سے لگاتا ہوا ان کی سمت دیکھنے لگا تھا۔
’’ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں ابا جان۔‘‘ ان کا لہجہ لغزش سے پُر تھا۔
’’یہ معذرت کس باعث ہے نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی۔‘‘
’’ہم نے ایک کوتاہی کی ہے ہم آپ سے کہہ نہیں سکتے مگر ہم نے جو بھی اپنے ذہن میں سوچا ہے وہ ہمیں اس لمحہ بہت شرمندہ کررہا ہے ہم اپنی نظروں میں خود چھوٹا محسوس کررہے ہیں۔ اس عمل کو دیکھتے ہوئے ہم کہنا چاہتے ہیں کہ وہ عمل فقط سوچنے میں ہی ہمارے لیے باعث شرم ہے ہم اپنی سوچ میں ہی گرا ہوا محسوس کررہے ہیں‘ ہمیں معاف کردیں؟‘‘ جلال نے شرمندہ ہوکر ان کی سمت دیکھا تھا انہوں نے سر ہلا دیا تھا۔
’’اب اگر آپ کے دل سے وہ بوجھ سرک گیا ہے تو آپ جاکر منہ دھویے اور سو جائیے ہم آپ کو مزید پریشانی نہیں دیکھ سکتے‘ آپ ہمارے لخت جگر ہیں‘ آپ ذرا سی بھی تکلیف میں ہوتے ہیں تو ہم اس سے زیادہ تکلیف اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔‘‘ ابا جان نے کہا تھا اور جلال شرمندہ ہوکر رہ گئے تھے۔
اسے نہیں لگا تھا ایسے بردبار انسان کبھی ایسے کسی گناہ کے مرتکب رہے ہوں گے وہ ایک خاص چارم اپنی شخصیت میں رکھتے تھے۔ جلال اٹھا تھا اور جانے لگا تھا جب نواب صاحب نے پیچھے سے پکارا تھا۔
’’نواب زادہ جلال الدین۔‘‘ اور وہ رک کر پلٹ کر ان کو دیکھنے لگا تھا نواب سیف الدین نے ان کو دیکھا تھا پھر نرمی سے گویا ہوئے تھے۔
’’جس گناہ کے مرتکب آپ ہمیں سمجھ رہے ہیں وہ ہم سے کبھی سرزد نہیں ہوا‘ ہم آپ کی اماں جان سے ہمیشہ وفادار رہے ہیں‘ ہم نے مکمل دل اور دماغ کے ساتھ اپنی زوجہ کو اس کے حق زوجیت دیا ہے‘ ہم نے اس میں کبھی کسی کو شریک نہیں کیا‘ ہمیں ان خاتون سے محبت ضرور تھی مگر ہم اس محبت کو اس دن فراموش کر بیٹھے تھے جس دن ہم نے آپ کی اماں جان سے نکاح کیا تھا ہم نے فتح النساء کو بیٹی سمجھا ہے‘ اسے بیٹی کی طرح شفقت اور محبت دی ہے‘ وہ ہمارے لیے عین جیسی ہیں‘ ہم ان کے والد کا احسان نہیں بھول سکتے ایک بار ہم پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور اس حملے میں ہمیں محفوظ رکھنے والی اللہ کی ذات کے علاوہ ایک ذات جو شامل تھی وہ فتح النساء کے والد صاحب کی تھی ان کے والد صاحب نے ہمیں اپنا گرویدہ کرلیا تھا۔ وہ ہمارے قریبی دوست تھے ہمیں عزیز تو پہلے بھی تھے مگر اس عمل کے بعد ہمارے دل کے اور بھی قریب ہوگئے ہم نے ان کو بھائی کا درجہ دیا اور ان کی عزت کی ان کی حادثے میں موت کے بعد جیسے ان کی ذمہ داری ہمارا فرض ہوگئی‘ ہم نے فتح النساء کو اپنی اولاد کی طرح سمجھا ان کو شفقت پدرانہ شفقت اور محبت سے نوازا کیونکہ ہمیں یہ ضروری لگا ہم نے یہ کوئی احساس سمجھ کر نہیں اپنا قرض جان کر کیا دنیا اس کہانی کو کسی بھی سمت لے یا کوئی بھی رنگ دے ہمارا دل صاف ہے اور ہم اپنے رب کے سامنے اپنے کسی عمل کے لیے شرمندہ نہیں‘ بے شک اللہ سبحان و تعالیی دلوں کے حال جاننے والا ہے۔‘‘ نواب صاحب بولے تھے اور ان کے لہجے کی متانت اور بردباری سے جیسے جلال پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا ان کا دل چاہا تھا وہ ایک لمحے میں جائیں اور نواب صاحب کے قدموں میں بیٹھ جائیں۔
ان نے دل سے معافی مانگیں انہوں نے اپنے والد محترم سے متعلق کیا کچھ سوچ لیا تھا کیا بھیانک اقدام ان سے سرزد ہوا تھا وہ اپنی نظروں میں گر گئے تھے۔ وہ شرمندہ سے نواب صاحب کی سمت دیکھنے لگے تھے۔
’’ہم آپ سے مافی مانگنے کے لائق بھی نہیں رہے ابا جان، ہم اپنی غلطی اور کوتاہی سے واقف ہیں‘ ہم نے یقینا ایسا سوچ کر بھی آپ کا دل دکھایا ہے اور آپ کی عزت پر انگلی اٹھانا بذات خود ایک مکروہ عمل ٹھہرتا ہے‘ ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ ہم آپ کے متعلق ایسا کچھ قیاس بھی کرسکتے ہم نے آپ پر انگلی اٹھا کر یقینا غلط کیا ہے۔‘‘ جلال شرمندگی سے گویا ہوا تھا۔
نواب صاحب اس وقار سے کھڑے تھے ان کے چہرے پر وہی بردباری تھی وہ متانت سے مسکرائے اور پُرسکون لہجے میں بولے تھے۔
’’کوتاہیاں انسانوں سے ہی سرزد ہوتی ہے برخوردار آپ غلط فہمی کا شکار ہوئے اگر آپ ہمارے ساتھ بات چیت کرتے تو اتنی پیچیدگیاں نہ رہتیں بہرحال ہمیں جو کہنا تھا ہم نے کہہ دیا، ہمارے دل پر کوئی بوجھ نہیں ہے‘ ہم اپنی نظروں میں سر اٹھا کر کھڑے ہیں ابا جان مرحوم کی نصیحت تھی کچھ بھی ہو اپنے آبائو اجداد کا نام نہ ڈوبنے دینا اور بزرگوں کے رتبوں اور عزتوں کو قائم رکھنا ہم نے اپنے آبائو اجداد کا سر اسی طور بلند رکھا ہے‘ حرمت و عزت صرف عورت کی نہیں ہوتی مردوں کی بھی ہوتی ہے‘ ہم اپنی نگاہوں میں آج سرخرو کھڑے ہیں یہ بلندی ہمیں مضبوطی سے کھڑا کیے ہوئے ہے ہم نادم نہیں ہیں۔‘‘ نواب صاحب مضبوط لہجے میں گویا ہوئے تھے اور جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے پھر فوراً آگے بڑھے اور نواب صاحب سے جا کر گلے ملے تھے۔
’’ہم معذرت خواہاں ہیں ہمیں معاف کردیجیے ابا جان۔‘‘ وہ بھیگی آنکھوں سے بولے تھے نواب صاحب ان کا سر شفقت سے تھپکنے لگے تھے۔
/…ؤ …/
’’یہ معاملات کس نے اٹھائے؟‘‘ حکمت صاحب ششدر سے بولے تھے تیمور نے شانے اچکاتے ہوئے حکمت صاحب کو دیکھا تھا۔
’’یہ بات محل میں عام ہے ایسی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔‘‘
بات خاصی حد سے گزر گئی ہے نواب صاحب اور جلال کو بہت بری صورت حال سے گزرنا پڑسکتا ہے اگر ایسا ثابت ہوجاتا ہے کہ فتح النساء نواب صاحب کی اولاد ہیں آپ معاملے کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں نا، فتح النساء کو نواب صاحب کی بیٹی قیاص کیا جارہا ہے اور جلال فتح النساء سے نکاح کرچکے ہیں، ہم نہیں جانتے اگر درست ہے کہ نہیں مگر جلال بہت خطرہ میں ہیں۔‘‘ تیمور نے کہا اور حکمت صاحب سر نفی میں ہلانے لگے تھے۔
’’ایسا نہیں ہوسکتا یہ فقط کوئی سازش معلوم ہوتی ہے ایسا کچھ کبھی ہوا ہی نہیں اس کے گواہ ہم ہیں ہم نواب صاحب کی زندگی کے تمام مخفی گوشوں سے واقفیت رکھتے ہیں‘ اللہ گواہ ہے ہم کوئی فیور نواب صاحب کو نہیں دے رہے نواب صاحب کی نیک نامی سے ہر کوئی واقف ہے وہ پُر وقار شخصیت کے مالک ہیں‘ نوابی کے باوجود انہوں نے ایک باوقار طرز زندگی جیا ہے وہ عام نوابوں کی طرح عیاش پرستی کے قائل نہیں رہے ہم ان کو برسوں سے جانتے ہیں بچپن ساتھ کھیلا ہے ہم نے اور نوجوانوں سے بڑھاپے تک کا ساتھ ہے ان کے بارے میں ایسی بات سننا ہمارے لیے باعث حیرت ہے اگر ان کے کردار پر شک کیا جارہا ہے تو یہ کوئی گہری سازش ہوسکتی ہے کیونکہ جو بھی نواب صاحب کے قریب دوست احباب ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کا کردار بے داغ رہا ہے وہ جناح صاحب کے فلوور ہیں ان کے اچھے دوستوں میں ہیں ایسے میں ان کی کردار کشی کرنا چہ معنی دارد؟‘‘ حکمت صاحب نے کہا اور تیمور ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’آپ کیا سوچنے لگے؟ یہ نقطہ اٹھایا کسی نے ‘کیا نواب زادہ جلال نے؟‘‘ حکمت صاحب نے پوچھا تیمور نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’نہیں نواب زادہ جلال اس معاملے کو لے کر انتہائی پریشان ہیں انہوں نے یہ نقطہ نہیں اٹھایا انہوں نے فتح النساء سے نکاح کیا تھا کیونکہ نواب صاحب اس نکاح کے لیے عندیہ نہیں دے رہے تھے اور…!‘‘
’’آپ اور نواب صاحب کا اجازت نہ دینا اس قیاس آرائی کو جنم دیتا ہے کہ فتح النساء نواب صاحب کی صاحب زادی ہیں یہ بات مذاق لگتی ہے۔‘‘ حکمت صاحب مسکرائے‘ تیمور نے ان کو حیرت سے دیکھا تھا۔
’’کیا مطلب ڈیڈ… آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ الجھ کر بولے تھے حکمت صاحب مسکرا دیے۔
’’نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی آپ کے احباب کی فہرست میں آتے ہیں آپ کیا ان کے کردار سے واقف نہیں۔‘‘ حکمت صاحب بولے تھے اور تیمور نے چونک کر ان کو دیکھا تھا حکمت صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’معاملہ یہ ہے کہ نواب صاحب فتح النساء کو اپنی صاحبزادی مانتے ہیں اور عین کی طرح ہی انہیں عزیز رکھتے ہیں ان کو نہیں لگا ہوا کہ جلال ان کے لیے مناسب ہے کچھ بگاڑ تو جلال کی شخصیت میں ہے یہ بات اگرچہ ڈھکی چھپی ہے مگر اتنی بھی نہیں کوئی سمجھ نہ سکے چھوٹے نواب کو کوٹھوں پر جاتے دیکھا گیا ہے اگر چہ وہ نیک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں مگر کچھ عیاش پرستی ان کی طبیعت کا خاصا رہی ہے نواب صاحب یقیناً فتح کے لیے ایسا بر منتخب کرنا نہیں چاہتے ہوں گے تبھی انہوں نے ان کے اس اقدام کی مخالفت کی۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا اور تیمور نے سمجھتے ہوئے پُر سوچ انداز میں سر ہلایا اور مدہم آواز میں گویا ہوا تھا۔
’’کیا اس سازش کے پیچھے مرزا سراج الدولہ کا چہرہ ہوسکتا ہے؟‘‘ تیمور نے قیاس کیا تھا حکمت صاحب چونکے تھے اور بیٹے کو دیکھا تھا۔
’’بخدا ہمارا دھیان اس طرح نہیں گیا ایسا ممکن ہے کیونکہ مرزا صاحب دوست نما دشمن ہیں ان کی مخالفت عین ممکن ہے‘ ہوسکتا ہو وہ سیاسی طور پر اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو یا ان کو کوئی مالی فائدہ بھی مل رہا ہے کیونکہ ایک بات تو طے ہے کہ اگر یہ ثابت ہوجاتا یا بات بھی اگر عام ہوجاتی کہ فتح النساء نواب صاحب کی صاحب زادی ہیں اور نواب زادہ نے ان سے نکاح کیا ہے تو یہ نواب خاندان کا سارا وقار تہس نہس ہوجانا ایک فتویٰ بہت سی زندگی کو مشکلات میں ڈال سکتا تھا نواب صاحب کی بنی بنائی عزت کا جنازہ نکل سکتا تھا ان کے اکلوتے وارث کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا سو یہ کھیل شطرنج کی کسی چال کا سا شاطر ہے اور کھیل کھیلنے والا جانتا ہے کہ مقابل کو ناقابل تلافی تلافی کا اضمال ہوگا اللہ غارت کرے مرزا صاحب کو اور ان کے ایسے عزائم کو ہم نے کئی بار نواب صاحب کو جتایا ہے کہ یہ مرزا صاحب مناسب انسان نہیں ہیں ان سے رشتہ رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا مگر وہ سننے کو تیار نہیں۔‘‘ حکمت صاحب بہت ششدر سے بیٹھے تھے تیمور نے سر ہلایا تھا۔
’’ہم نے معاملے کی چھاین بین محل کے ملازمین سے کی ہے گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے ایک پرانے ملازم ہیں افضل صاحب وہ باہر سے سودا سلف لانے کا کام محل میں انجام دیتے ہیں۔ مرزا صاحب نے ان کو مہر بنایا ہے محل میں یہ بات ان ہی کی زبانی پھیلی ہے۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور حکمت صاحب چونکے تھے۔
’’افضل کرم دین اس کا باعث بنے ہیں تو ان پر افسوس ہے کیونکہ نواب صاحب اپنے ملازمین سے بہت خندہ پیشانی سے پیش آتے رہے ہیں انہوں نے گھر کے ملازمین کو کبھی ملازموں کی طرح کوئی تفریق اور تمیز روا نہیں رکھی ہمیں افسوس ہے گھر کے ایک ملازم نے چند پیسوں کے لیے یہ کام کیا اگر یہ معاملہ محل کی دیواروں سے باہر آجاتا تو نواب خاندان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا تھا یہ معاملہ بہت پیچیدہ تھا مگر کیا افضل کرم دین نے اس بات کو قبول کرلیا ہے کہ وہ اس سازش میں شامل رہا ہے اور کیا وہ مرزا صاحب کے خلاف منہ کھول سکنے کی ہمت رکھتا ہے؟‘‘ حکمت صاحب نے معاملہ اٹھایا تھا تیمور نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’نہیں، افضل کرم دین اپنے پکڑے جانے پر حیران ہے شاید اسے خبر نہیں تھی کہ کوئی اسے شناخت کرلے گا یا اس سازش کو بے نقاب کرلے گا جب ہمیں اس معاملے کی خبر ہوئی تو جانے کیوں ہمارا پہلا شک مرزا صاحب کی طرف گیا اور اس کے بعد ہمیں گھر کے ملازمین سے پوچھ گچھ کا خیال آیا چچا سیف آپ کے پرانے دوستوں میں سے ہیں سو ہمیں یہ بات تو کنفرم تھی کہ وہ ایسا اقدام نہیں کرسکتے اگر ان کی زندگی میں ایسا کوئی گوشہ رہا ہوتا تو یقینا آپ اس سے واقف ہوتے ہمیں اس سازش کا یقینی اسی ایک نقطے کے باعث ہوگیا تھا مگر ہمیں اس سازش کو بے نقاب کرنا تھا ہم نے جلال سے اجازت لے کر گھر کے ملازمین سے بات چیت کا آغاز کیا اور معاملے کا سرا افضل کرم دین سے جاملا اور ان سے بات ہوئی تو وہ تو ہکابکا رہ گئے گویا ان کے گمان میں بھی نہیں تھی کہ ایسا کوئی معاملہ اٹھے گا اور اس کی تحقیق ان سے ہوگی اور وہ پکڑے جائیں گے ہمارے ایک دو سوالوں پر ہی انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے معافی تلافی کی درخواست کردی گویا ان کو خبر ہوگئی تھی کہ وہ صاف پکڑے گئے ہیں اور اب ان کے بچے نکلنے کی امید نہیں ہے انہوں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے وعدہ چاہا کہ ان کو سزا نہیں دی جائے گی اور مرزا صاحب تک اس بات کی بھنک نہیں جائے گی تبھی وہ اس سازش کو بے نقاب کرنے کا موجب بنیں گے ہم نے ان کو یقین دلا دیا اور انہوں نے تمام معاملہ کہہ سنایا مرزا صاحب نے سیاسی اور کئی معاملات میں نواب صاحب کو نیچا دکھانا چاہا تھا وہ چاہتے تھے ان کی عزت مٹی میں مل جائے اور یہ خاندان صفحہ ہستی سے مٹ جائے اس کے لیے اس سے بہتر سازش نہیں رچی جاسکتی تھی غالباً وہ کہیں اس بات کی خبر رکھتے تھے کہ نواب زادہ فتح النساء سے نکاؓح کرنا چاہتے ہیں گھر کے ملازمین کو گھر کے معاملات کی خبر سب سے پہلے ہوتی ہے کیونکہ گھر کے افراد معاملات کو زیر بحث لاتے ہوئے دھیان نہیں رکھتے کہ ارد گرد کون ہے شاید وہ گھر کے ملازمین پر ضرورت سے زیادہ اعتبار کرنے لگے ہیں اور افضل کا خاندان تو چھے نسلوں سے اس گھر کے اندر متحرک رہا تھا سو کسی کا شک افضل پر نہیں جانا تھا سو افضل کے لیے یہ معاملات جاننا ان باتوں تک رسائی رکھنا آسان تھا جب کبھی اس نکاح کے منعقد ہونے کے معاملات گھر میں زیر بحث آئے ہوں گے ان کی بھنک افضل یا کسی دوسرے ملازمین کو ہوئی ہوگی اور جب مرزا صاحب نے گھر کے بھیدی کو خریدا ہوگا تو تمام معاملات تک رسائی رکھتے ہوں گے سو اس سازش کو سوچ سمجھ کر آغاز کیا گیا مگر اب یہ بات کھل چکی ہے اور ہم نے تمام جانچ پڑتال کرلی ہے ہم جلال سے بات کرنے والے تھے مگر اس سے قبل آپ سے بات کرنا ضروری خیال کیا۔‘‘ تیمور نے تمام حقیقت کہہ سنائی تھی حکمت صاحب کو اپنے سپوت پر فخر ہوا تھا انہوں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر شاباشی دی تھی۔
’’تیمور بہادر یار جنگ، آپ نے آج اپنے والد کا سر فخر سے مزید بلند کردیا نیک اور صالح اولاد اللہ کا ایک بہترین تحفہ ہے اور آپ نے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے آپ نے جلال سے دوستی نبھا کر ثابت کردیا کہ بہادر یار خاندان اپنے احباب سے وفادار ہے اور نیک نیت ہے ہمیں آپ پر فخر ہے… اللہ تعالیٰ ایسی نیک اولاد سب و عطا فرمائے آمین۔‘‘ وہ فخر سے مسکراتے ہوئے بولے تھے اور تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’تشکرات میرے سپوت، آپ نے ہماری نواب صاحب سے دوستی کو مزید پکا کردیا۔‘‘ حکمت صاحب بولے تھے تیمور دھیمے سے مسکرایا تھا۔
’’ڈیڈ ہم وہی کررہے ہیں جو ہمیں مناسب لگا جلال اور عین سے مخلصی واجب ہے وہ ہمارے احباب میں شمارے ہوتے ہیں اور دوست ہی دوست کی مدد کرتا ہے۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ہم نواب صاحب سے بات کرتے ہیں یہ معاملات ان کی معلومات میں آنا ضروری ہیں تاکہ وہ محتاط رہیں ہم نواب صاحب کی طرف جارہے ہیں آپ بھی جلال کو اعتماد میں لے کر تمام معاملات کہہ سنائیے۔ صد شکر کہ یہ بات محل سے نکل کر باہر نہیں پہنچی ورنہ بہت بڑی قیامت آجانا تھی۔‘‘ حکمت صاحب تیمور کو سمجھاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے ان کو جاتا ہوا دیکھا اور پھر فون اٹھا کر نمبر ملانے لگا تھا۔
/…ؤ …/
فون کی بجتی ہوئی گھنٹی پر مرزا صاحب نے فون اٹھایا تھا۔
’’ہیلو…!‘‘ وہ بردباری سے بولے تھے مگر ان کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔
’’یہ کیا ہے، تم ایک معاملہ نہیں سنبھال سکے اتنے نالائق ہو، قبول کرنے کی ضرورت کیا تھی ہم نے کہا تھا نا کہ اتنا مال دیں گے کہ تمہاری سات نسلیں راج کریں گی تمہیں منہ کھولنا ہی نہیں چاہیے تھا اب اگر ہمارا نام آیا تو ہمارے خاندان کی خیر نہیں افضل، ہم خود پر بات نہیں آنے دیں گے معاملہ ہماری عزت اور نیک نامی کا ہے اگر ہمارا نام آیا تو ہم آپ کی سات نسلوں کو نہیں بخشیں گے اپنی زبان بند رکھو مکر جائو یا کچھ بھی کہو ہم اپنا نام ان معاملات میں درج نہیں چاہتے نواب صاحب کو ہمارے نام کی بھنک لگی تو تمہاری خیر نہیں، مرزا سراج الدولہ اپنا دفاع کرنا جانتا ہے کچھ بھی کرکے معاملات کو سنبھال لو ورنہ تمہاری اور تمہاری سات پشتوں کی خیر نہیں مرزا کے کرم دیکھے ہیں ابھی تم نے ان کرم نوازیوں کی جگہ جب قہر دیکھو گے تو روح بھی کانپ جائے گی تمہاری۔‘‘ مرزا سراج الدولہ نے غصے سے فون کا سلسلہ منقطع کیا تھا فون کا ریسیور کریڈل پر پخٹتے ہوئے ٹیبل کی سطح سے جگ اٹھا کر پانی گلاس میں انڈیلا تھا اور تمام پانی غٹاغٹ پی گئے تھے حیدر جو وہاں وارد ہوا تھا والد محترم کا یہ حال دیکھ کر رک گیا تھا۔
’’کیا ہوا ابا جان، خیریت ہے آپ اس قدر غصے میں کیوں ہیں، ماجرا کیا ہے؟‘‘ حیدر نے پوچھا تھا اور مرزا صاحب اپنے سپوت کو دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ جیسی نالائق اولاد پیدا کرنے سے بہتر تھا ہم کوئی اور کار خیر کرتے افسوس ہے ہم آپ کو دنیا میں لانے کا موجب بنے۔‘‘ انہوں نے غصے سے بیٹے کو ڈپٹا تھا حیدر جان نہیں پایا تھا معاملہ کیا ہے تبھی گویا ہوا تھا۔
’’ابا جان ہوا کیا ہے ہم نے کیا کیا؟ ہم تو وہی کرتے ہیں جو آپ کہتے ہیں آپ کے فیصلوں پر ہی تو چل رہے ہیں اس سے زیادہ نیک اولاد کہاں ملے گی۔‘‘ حیدر نے احتجاج کیا تھا مگر مرزا صاحب ان کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے تھے حیدر اپنا سا منہ لے کر ان کو جاتا دیکھتا رہا تھا معاملات ان کی سمجھ میں قطعی نہیں آئے تھے۔
/…ؤ …/
’’ہمیں گمان نہیں تھا مرزا صاحب ایسی گہری چال چلیں گے ہم تو انگشت بدنداں رہ گئے ہم مرزا صاحب کی طبیعت سے کچھ کچھ واقف تو رہے ہیں مگر ایسی چال؟‘‘ نواب صاحب بہت ششدر دکھائی دیے تھے حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ایسے انسان کو دوست کہنا دوستی کی توہین ہے نواب صاحب تیمور نے تمام تحقیق سے افضل سے جانچ پڑتال کرکے ثبوت اکٹھا کر لیے ہیں گویا مرزا صاحب نے دوستی کے در پردہ جو گٹھیا چال چلی تھی ان کی وہ چال خود ان پر بھاری پڑ گئی کہیں بیٹھے ان معاملات کی گھتیاں سلجھانے کی تدبیریں سوچ رہیں ہوں گے۔‘‘ حکمت صاحب مسکرائے تھے۔
’’گویا خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا، اللہ کی ذات بے نیاز ہے، وہ دنیا میں ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیتی ہے دیکھیے کیسے عزائم رکھتے تھے مرزا صاحب اور آپ ان کو دوست کہتے ہیں، وہ تو آپ کی عزت کی دھجیاں بکھیرنے چلے تھے ان سے محتاط رہیے وہ ٹھیک انسان نہیں ہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھایا تھا نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ہمیں حیرت نہیں ہے اگر مرزا سراج الدولہ نے ایسا اقدام کیا وہ اس سے پہلے بھی اس سازشوں میں در پردہ ملوث رہے ہیں مگر یہ بہت زیادہ گھنائونی سازش تھی اللہ کا شکر ہے اس نے سب درستگی کی سمت موڑ دیا ورنہ بہت قہر نازل ہوتا ہماری تو خیر تھی مگر ہمارا خاندان جس مصیبت میں گرفتار ہوتا اس کے متعلق سوچ کر ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نرم لہجے میں گویا تھے۔
’’آپ کو مرزا صاحب کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی نواب صاحب ورنہ ان کے عزائم متواتر بڑھتے رہیں گے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا مگر نواب صاحب نے بہت پُرسکون انداز میں سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’نہیں، ہم مرزا کے خلاف کوئی قانونی اقدام کرنا نہیں چاہتے، ان سے خاندانی مراسم رہے ہیں ہمارے آبائو اجداد کے ہم اپنے باپ دادا کی روحوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے مرزا صاحب کے اقدام کا بدلہ ان سے لینا مناسب نہیں ہم تمام معاملات کو اللہ پر ڈالتے ہیں اللہ کی اس شیطان کے لیے لمبی ہوتی ہے مگر ایک دن وہ شکنجے میں ضرور آتا ہے ہم ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہاتھ میلے کرنا نہیں چاہتے مرزا صاحب نے جو کیا وہ ان کا فعل ہے ہم ان کو دل سے معاف کرتے ہیں ہمیں ان سے کوئی شکایت کبھی نہ رہی نا ہوگی، اتنے پرانے مراسم کو ہم اس طرح بے عزت نہیں کرسکتے آپ تیمور بیٹا سے کہہ دیجیے وہ افضل کے معاملے کے ثبوت اپنے طاس محفوظ رکھیں مگر ان کے متعلق کوئی قانونی اقدام کرنے سے گریز کریں۔‘‘ نواب صاحب نے پُرسکون لہجے میں کہا تھا حکمت صاحب نے ان کو حیرت سے دیکھا تھا پھر بولے تھے۔
’’نواب صاحب آپ کا دل بہت بڑا ہے مگر مرزا صاحب کو اس بار معاف کرنا مناسب نہیں ہوگا اگر آپ اسی طرح خاموش رہیں گے تو اگلی بار وہ اس سے بڑی سازش کا موجب بنیں گے برائی کا سر بروقت کچلنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھانے کی کوشش کی تھی نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’بچکانہ شرارتو کو کھیل نہیں کہتے حکمت صاحب یہ چٹکلے ہیں ان کو ایک کان سے سنیے اور دوسرے سے رفع کردیجئے ہمارے نزدیک ان باتوں کی اہمیت ثانوی ہے ہم نے جو عزت کمائی ہے اس کے متعلق تمام لوگ واقف ہیں لیکن پھر بھی اگر ہم کسی مصیبت میں گرفار ہو بھی جاتے تو ہم اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کردیتے وہ سب سے بڑا منصف ہے۔‘‘ وہ پُرسکون انداز میں مسکراتے ہوئے بولے تھے حکمت صاحب نے سر ہلا دیا تھا۔
’’بے شک۔ نواب صاحب آپ بے مثال شخصیت ہیں آپ کا ثانی نہیں ہمیں فخر ہے آپ ہمارے قریبی دوست ہیں۔‘‘ حکمت صاحب کے کہنے پر نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’فخر تو ہمیں آپ پر اور اس دوستی پر ہے حکمت صاحب جس طرح آپ ہمارا ساتھ دیتے ہیں کوئی بھائی کسی بھائی کا بھی نہیں دیتا، آپ سے ایک درخواست کرنا چاہیں گے اگر ہمیں کوئی ناگہانی آفت آن گھیرے تو ہمارے سپوت کا ساتھ دیجیے گا انہیں خبر نہیں ہو کہ ان کے والد محترم ان کے ساتھ نہیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا اور حکمت صاحب نے فوراً ان کی بات کاٹی تھی۔
’’گستاخی معاف نواب صاحب آپ کی بات منقطع کررہا ہوں مگر اللہ آپ کو محفوظ رکھے اور درازی عمر دے آپ اپنے سپوت کی رہنمائی کرنے کے لیے قدم قدم اس کے ہمراہ رہیں، آمین۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’سیاست کی زندگی میں مخلص دوست نہیں ملتے ہم خوش نصیب ہیں کہ آپ ہماری زندگی کا حصہ ہیں ہم آپ پر بہت اعتبار کرتے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ہم اس اعتبار اور اعتماد کو ہمیشہ قائم رکھیں گے نواب صاحب ہمیں بھی فخر ہے کہ آپ جیسا عظیم دوست ہم پر اس درجہ اعتبار کرتا ہے سلامت رہیے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا نواب صاحب بہت مطمئن سے قہوے کی چسکیاں لینے لگے تھے۔
/…ؤ …/
’’ہمیں یقین نہیں ہوتا تیمور گھر کے ملازمین اس سازش سے واقف تھے اور اس کا حصہ رہے ہیں افضل کرم دین کی چھے نسلیں اس گھر کی وفادار رہیں ہیں ابا جان تو ان سے بہت نرمی سے اور حلاوت سے پیش آتے رہیں ہیں ان سے ہی کیا… ابا جان محل کے تمام ملازمین کا خیال اپنے بچوں جیسا رکھتے ہیں۔‘‘ جلال نے کہا تھا۔ تیمور خاموش رہا تھا پھر بردباری سے گویا ہوا تھا۔
’’ہم حیران نہیں ہیں جلال ملازمین اکثر ایسی محلاتی سازشوں کا حصہ بنتے ہیں کیونکہ ان کے پاس گھر کے اہم راز ہوتے ہیں بہرحال افضل کے متعلق جو بھی کرنا ہے اس کے متعلق آپ یا نواب چاچا کوئی فیصلہ لے گی ہم نے معاملات کی تہہ تک پہنچ کر ہر چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ یقیناً مرزا انکل بھی پیچ تاب کھا رہے ہوں گے کہ ان کی گہری چال کا سرا ہاتھ کیسے لگا۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا جلال نے ان کو سوچتی نظروں سے دیکھا تھا پھر بولے تھے۔
’’ہم ابا جان سے اس متعلق کہتے آئے ہیں کہ مرزا چاچا ٹھیک انسان نہیں ہیں، ہم نے حیدر کی مخالفت بھی کی ہے مگر ابا جان جانے کیوں مرزا صاحب سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ان کی باتوں کو کوئی اہمیت دنیا نہیں چاہتے۔‘‘ جلال کے کہنے پر تیمور نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’ایسا نہیں ہے جلال، نواب چچا خوفزدہ نہیں ہے، وہ کھلے دل اور نیک نیت رکھنے والے انسان ہیں وہ خود فرشتہ صفت ہیں سو وہ کسی اور کے متعلق کوئی غلط رائے نہیں رکھتے، وہ رواداری نبھانے والوں میں ہیں۔‘‘ تیمور نے حتمی رائے دی تھی، جلال نے سر ہلایا تھا۔
’’ایسا ہے مگر کسی غلط انسان کی غلط روش کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں غلط انسان کبھی کچھ اچھا نہیں کرسکتا ہمیں حیدر میاں کو لے کر بھی کئی خدشے رہے ہیں عین کا رشتہ ایسے شخص سے قائم رکھنا مناسب نہیں ہوگا ہم اپنی ہمشیرہ کو کسی مشکل میں دیکھنا نہیں چاہیں گے، ابا کی متانت اور میانہ روی عین کے حق میں غلط ثابت ہوگئی تو ہمیں اس کا افسوس رہے گا۔‘‘ جلال نے خدشہ بیان کیا تھا تیمور نے فوری طور پر کوئی رائے دینا مناسب خیال نہیں کیا تھا وہ عین کی زندگی کو حیدر سے جڑتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے مگر وہ کھل کر اس بات کا اظہار کرنے سے گریز کررہے تھے وہ اپنے اندرونی معاملات کی خبر دانستہ عام ہونے سے خوفزدہ تھے جیسے عین کے لیے ان کی محسوسات اور جذبات اگر منظر عام پر آجاتے تو یقینا عین کی عزت پر حرف آتا اور وہ ایسا کچھ نہیں چاہتے تھے سو انہوں نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی رائے زنی سے گریز کیا تھا۔
’’حیدر میاں انتہائی نا معقول انسان ہیں ہمیں خبر نہیں ابا جان کو ان کی کوئی برائی دکھائی کیوں نہیں دیتیں کئی بار ابا جان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے مگر وہ کوئی اقدام کرنے سے گریز پائی برت رہے ہیں ان کو نام نہاد خاندان مراسم کا خیال ہے اب اگر مرزا چاچا کی ایسی سازش بے نقاب ہونے کے بعد بھی خاموش رہیں گے تو یہ کسی بہت بڑے خطرے کو دعوت دینا ہوگی ایسی سازشیں کرنے والے باز نہیں آتے ابا جان ایسے لوگوں کو مروت دکھا رہے ہیں جو اس قابل نہیں۔‘‘ جلال نے برہم لہجے میں کہا تھا تیمور نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’نواب چاچا جان دل کشادہ رکھتے ہیں اور ایسے لوگوں کا ساتھ اللہ دیتا ہے جو کسی کے ساتھ غلط نہیں ہونے دیتا، ان کے ساتھ کبھی غلط نہیں ہوتا خاطر جمع رکھیے سب ٹھیک ہوگا۔‘‘ تیمور نے ان کو سمجھایا تھا جلال اس کے متفق دکھائی دیے تھے۔
’’ایسا یقینا ہے مگر ابا جان کو ایسے رشتوں کی کانٹ چھانٹ کرنا ضروری ہے کم از کم مرزا صاحب کو خبر ہونا ضروری ہے کہ کوئی ان کی ایسی گھٹیا چالوں کی خبر رکھتا ہے مگر مرورت اور لحاظ برت رہا ہے۔‘‘ تیمور کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔
’’جلال ایسے لوگ بے نقاب ہونے پر اور بھی کھل جاتے ہیں جیسے ان کو خبر ہوجائے کہ اب ان کو خبر تو ہو ہی گئی ہے سو کیا فرق پڑتا ہے اگر کھل کا خباثت کی جائے۔‘‘ تیمور کے کہنے پر جلال نے سر ہلایا تھا اور پھر تیمور کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا۔
’’تیمور آپ کی معاونت کے لیے ہم مشکور ہیں آپ نے اس سازش کو بے نقاب کرنے میں بہت مدد دی۔‘‘ وہ بہت مشکور دکھائی دیے تھے تیمور نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’جلال کوئی بڑی بات نہیں ہے ہم نے وہی کیا جو ہمیں ضرور لگا یہ کوئی احسان نہیں اچھا یہ بتائیے کوئی اقدام کرنا ہے یا افضل کو معاف کرکے چلتا کرنا ہے ہم نے ان کو محل کے ایک کمرے میں رکھوایا ہے ہمیں گمان تھا وہ معاملات کھلنے پر یہاں سے فرار ہونا چاہیں گے ان کا فرار ہونا خطرے سے خالی نہیں تھا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا تبھی جلال بولے تھے۔
’’ہم افضل کرم دین سے ملنا چاہیں گے ان کو کچھ دن تک اس کمرے میں رکھنا ضروری ہے ہم جانتے ہیں وہ ضرور اب ابھی مرزا صاحب سے رابطہ میں ہوں گے محل کے اندر کالے بھیڑوں کی کمی نہیں ابھی صرف ایک کالی بھیڑ بے نقاب ہوئی ہے۔‘‘ جلال نے خدشہ بیان کیا تھا۔
’’آپ درست کہہ رہے ہیں جلال یقینا کوئی ایک کالی بھیڑ نہیں ہے مگر تمام ملازمین کو چلتا کر دینا بھی مناسب نہیں، پانچوں انگلیاں یقینا برابر نہیں ہوتیں اگر کچھ ملازمین وفادار ہیں تو کچھ ایسے مخالفین کی فہرست میں بھی ضرور آئیں گے بہرحال آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا جلال متفق دکھائی دیے تھے۔
/…ؤ …/
’’نواب صاحب مزاج گرامی کیسے ہیں آپ تو عید کا چاند ہوجاتے ہیں اماں کبھی دوستوں کی خبر بھی لے لیا کریں پہلے ہی دوستی میں شر پھیلانے والوں کی کمی نہیں ہے۔‘‘ مرزا نے مصافحہ کرتے ہوئے شکوہ کیا تھا اندر کا زہر ان کو چھپانا خوب آتا تھا نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’مرزا صاحب ہم ایسے احباب کی فکر نہیں کرتے شر پھیلانے والوں پر اعتبار نہ کیا جائے تو ان کے ادارے ملیا میٹ ہوجاتے ہیں آپ ایسے لوگوں کی فکر نہ کیا کریں خاطر جمع رکھتے اور دل کشادہ رکھیں۔‘‘ نواب صاحب نے متانت سے کہا تھا مرزا صاحب کمال مہارت سے مسکرائے تھے۔
’’ہم آپ کی دوستی کی قدر کرتے ہیں نواب صاحب آپ باکمال انسان ہیں ایسے دوستوں کا فہرست میں شامل ہونا بھی جزا ہے اللہ ایسے دوستے تبھی نوازتا ہے جب گناہ معاف کرنے کا قصد کرتا ہے آپ کا ہمارے ہمراہ ہونا ہمارا حوصلے بڑھاتا ہے باقی جن سازشوں کی خبر عام ہے وہ ہم سے منسلک کرنا مناسب نہیں ہمارے آبائو اجداد کے روابط آپ کے خاندان سے وابستہ رہے ہیں ابا جان مرحوم فرماتے تھے خاندان مراسم ایک خاص توجہ کے مرہون منت ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قدر نہ کرنے والے ناقدرے لوگوں کو معافی بھی نہیں ملتی، ہم نے زندگی میں نیکیاں پہلے ہی بہت کم کمائی ہیں سیاست کی زندگی میں قدم رکھ کر گویا ہم نے جھوٹ کی زندگی کا لباس پہننا ہے اس جھوٹے کی دنیا میں ہر لمحہ جھوٹ کا سہارا لینا پڑا ہے، ہم مزید خطا وار ہوسکتے آپ سے خاندان مراسم کی قدر کرتے ہیں نواب صاحب نیک نیتی سے اس دوستی کی قدر کرتے ہیں بخدا آپ کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے کوئی دشمن ہے جو شر پھیلانے کے در پے ہے کوئی مخالفت ہے جو سازشوں پر مائل ہے اور ان برسوں کے مراسم کو ختم کرنا چاہتا ہے ہم کو مل کر ان سازشوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا نواب صاحب برائے کرم ہماری طرف سے دل صاف کریں ہم یہ معاملہ سن کر ہی شرم سے پانی پانی۔ جب تک زندگی ہے ہم آپ سے وفادار ہیں نواب صاحب ہم آپ سے مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتے ہمارا یقین کیجیے۔‘‘ مرزا صاحب نے نواب صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی اور نواب صاحب پُرسکون انداز میں ان کی سمت دیکھتے ہوئے مسکراتے تھے۔
’’جانے دیجئے مرزا صاحب ان باتوں کو بھول جائیے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں آپ کی وفا داری پر کوئی شک نہیں دنیا کی جانے دیجئے ہم کسی کا یقین نہیں کررہے بے فکر رہیے۔‘‘ نواب صاحب کے پُرسکون انداز پر مرزا صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ہم آپ کے خلاف سازشو پر مائل ہیں۔‘‘ مرزا صاحب نے پوچھا تھا نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے سر انکار میں ہلا دیا تھا اور ان کے شانے پر دوستانہ انداز میں ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ہوئے تھے۔
’’اللہ بہتر جانتا ہے اور تمام معاملات اس کے سامنے ہیں ہم آپ پر شک نہیں کرسکتے آپ اچھے دوستوں میں سے ہیں دنیا کی جانے دیجئے دنیا تو درانتی سے زیادہ بری ہے… درانتی ایک طرف سے کاٹتی ہے اور دنیا دونوں سمت سے تیز دھار رکھتی ہے۔‘‘ نواب صاحب نے دانستہ بات کو مزاح کا رنگ دیا تھا اور بولے تھے۔
’’آئیے بیٹھیے بہت دن ہوئے ساتھ مل کر نہیں بیٹھے آئیے چائے کی چسکیوں کے ساتھ ایک بازی شطرنج کی لگاتے ہیں لوگوں کی بات کرنا بے معنی ہے لوگوں کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے ان کی باتوں میں نہ آئیے باتوں باتوں میں یاد آیا دہلی کی پرانی حویلی کو بیچنے کا ارادہ بن رہا تھا آپ کا اس کا کیا بنا؟‘‘ وہ ان کو لے کر بیٹھک میں آن بیٹھے تھے مرزا صاحب کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا مگر وہ متمول کے مطابق گفتگو کررہے تھے مگر ان کا لہجہ صاف لغزش سے بھرا تھا۔
’’نواب صاحب آپ یقین کیجیے ہمیں آپ سے کوئی پُرخاش نہیں ہم آپ کے مرید ہیں آپ جیسا نام اور عزت کمانا چاہتے ہیں ہم کہاں آپ کی مخالفت کرسکتے ہیں جو شہرت عزت اور نیک نامی اللہ نے آپ کو بخشی ہے وہ کسی کسی کے نصیب میں ہی آتی ہے۔‘‘ وہ مسکرا رہے تھے ان کا لہجہ دوستانہ تھا مگر آواز پر لغزش تھی نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’جانے بھی دیجیے میاں کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے آپ۔‘‘ انہوں نے گویا معاملہ سمیت کر ملازم کی طرف دیکھا تھا۔
’’ایسے کھڑے ہمارا منہ کیا دیکھ رہے ہیں میاں، جائیے چائے کے ساتھ لوازمات لائیے دیکھ نہیں رہے آپ ہمارے بہترین رفیق تشریف لائے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو مرزا صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے وہ اپنے کیے پر شاید شرمندہ اب بھی نہیں تھے مگر نواب صاحب کے ظرف نے ان کو انگشت بدنداں ضرور کردیا تھا۔
/…ؤ …/
’’یہ کہانی کس نے پھیلائی ہے اب؟‘‘ عین تمام بات سن کر حیران ہوئی تھی جلال نے ان کو شانوں سے تھام کر بیٹھایا تھا اور ان کو پانی کا گلاس پیش کیا تھا اور تسلی سے بولے تھے۔
’’یہ کس کی پھیلائی ہوئی کہانی نہیں ہے عین یہ سچ ہے ابا جان کے خلاف سازش ہوئی ہے اور اس سازش کا محرک اسی گھر میں موجود ہمارا ایک ملازم افضل کرم دین ہے۔‘‘ جلال نے بہن کو سمجھانا چاہا تھا۔
’’مگر بھائی اس سازش کا سبب کیا تھا اور اس کا سلسلہ مرزا چاچا سے جوڑنا کیا مناسب ہے ہوسکتا ہے وہ ملازم خود کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہو ہمیں اس طرح ابا جان کے ان دوست پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔‘‘ وہ روانی سے بولی تھیں جب جلال نے ان کو مزید بات کرنے سے روک دیا تھا۔
’’ہم مرزا سراج الدولہ پر اس لیے الزام نہیں لگا سکتے کیونکہ وہ حیدر میاں کے والد محترم ہیں عین النور آپ جانتی ہیں آپ کس کی حمایت کرسکتی ہیں وہ شخص آپ کے ابا جان کے خلاف سازش کرتا ہے اور اس سازش کا محرک اسی گھر میں موجود ہمارا ایک ملازم افضل کرم دین ہے۔‘‘ جلال نے بہن کو سمجھانا چاہا تھا۔
’’مگر بھائی اس سازش کا سبب کیا تھا اور اس کا سلسلہ مرزا چاچا سے جوڑنا کیا مناسب ہے ہوسکتا ہے وہ ملازم خود کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہو ہمیں اس طرح ابا جان کے ان دوست پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔‘‘ وہ روانی سے بولی تھیں جب جلال نے ان کو مزید بات کرنے سے روک دیا تھا۔
’’ہم مرزا سراج الدولہ پر اس لیے الزام نہیں لگا سکتے کیونکہ وہ حیدر میاں کے والد محترم ہیں عین النور آپ جانتی ہیں آپ کس کی حماقت کرسکتی ہیں؟ وہ شخص آپ کے ابا جان کے خلاف گھنائونی سازش رچا رہا ہے اور آپ اس کی طرف داری کررہی ہیں کیا یہ مناسب ہے۔‘‘ جلال نے ان کو ڈپٹا تھا وہ خاموشی ہوکر ان کی طرف دیکھنے لگی تھیں پھر گردن موڑ کر بولی تھیں۔
’’ہم ابا سے بہت پیار کرتے ہیں ابا کو مصیبت میں نہیں دیکھ سکتے وہ بہترین والد ہیں مگر ہم…!‘‘ وہ جیسے سوچ کو مختلف سمتوں میں جا نکلنے سے نہیں روک پائی تھیں جلال نے ان کو بغور دیکھا تھا۔
’’معاملہ اپنے گھر کا ہو تو کسی کی بے جا حمایت کرنا حمایت ہوتی ہے نواب زادی آپ کسی کو ہمیشہ اتنی چھوٹ نہیں دے سکتیں، ہماری اپنی بقا کسی کی بقا سے ضروری ہو تو طرف داری صرف اپنی کرنی پرتی ہے سوچیے اگر جال بنا گیا تھا وہ واقعی بھی ہوجاتا تو ابا اور ہم کہیں کے نہیں رہتے فتویٰ جاری ہونا تھا ہمارے خلاف بہن سے نکاح کے جرم میں ہم نے سزا کا مرتکب ٹھہرنا تھا یہ بات معمولی نہیں ہے ابا جان کی تمام عزت مٹی میں مل جانا تھی۔ چلو مان بھی لیا کہ اس سازش کے پیچھے آپ کے ہونے والے سسر محترم کا ہاتھ نہیں تو جس کسی نے بھی یہ کیا کیا یہ عمل قابل ستائش ہے؟‘‘ جلال نے جتایا تھا عین النور اپنی جگہ شرمندہ ہوکر رہ گئی تھیں۔
’’ہم ایسا نہیں کہہ رہے تھے جلال بھائی ہمارا مقصد یہ نہیں تھا۔ ہم نے مرزا چاچا کی طرف داری نہیں کی۔‘‘ وہ مدہم آواز میں جھکا کر پلٹی تھیں اور جلال اٹھ کر چلتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے تھے عین کو شدید افسوس اور شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔
/…ؤ …/
’’جب معاملہ اپنے گھر کا ہو تو کسی اور کے گھر کی سمت دھیان کرنا اپنے گھر کو نظر انداز کرنا کہلاتا ہے محترم نواب زادی عین النور ہم نے جلال کی مدد کرکے کچھ غلط نہیں کیا آپ کو احسان مند ہونا چاہیے کہ ہم نے ایک بڑی قیامت کو آنے سے روک دیا ہے آپ الٹا ہمیں الزام دے رہی ہیں۔‘‘ تیمور کو افسوس ہوا تھا عین شرمندہ ہو کر رہ گئی تھی پھر مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’آپ سب ہمیں ہی غلط کیوں سمجھ رہے ہیں ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کیا نہ ہم کسی کی بے جا حمایت کر رہے ہیں ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ کھڑے ہیں آپ باتوں کو الگ رنگ کیوں دے رہے ہیں، اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے ایسا کوئی کارنامہ کرکے نواب خاندان پر احسان کر دیا ہے تو ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔‘‘ وہ جلے لہجے میں بولی تھیں تیمور بہت ضبط سے ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’آپ کو شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے نواب زادی ہم نے جو کیا وہ نواب چاچا کے لیے اور جلال کے لیے کیا آپ کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘ تیمور نے جتایا تھا عین ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی وہ رخ موڑ کر جاچکے تھے یقینا وہ ان کی بات پر برہم ہوئے تھے اور ان کا غصہ واضح ان کے چہرے پر دکھائی دیا تھا ان کے چہرے اور پیشانی کی تنی ہوئی رگیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں وہ بہت سلجھے ہوئے مزاج کے نوجوان تھے ان کو اپنے احساسات اور جذبات پر یقین بہت اچھا کنٹرول تھا مگر اس لمحے وہ کسی قدر اچھے دکھائی دیے تھے عین کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تھا تبھی اس لمحے چوڑے شخص کی سمت دیکھتے ہوئے مدہم انداز میں گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم معذرت خواہ ہیں تیمور بہادر یار جنگ ہمیں آپ سے اس طرح بات نہیں کرنا چاہیے تھی مگر ہمار مقصد آپ پر شک کرنا یا آپ کی نیک نیتی کو چیلنج کرنا نہیں تھا ہم جانتے ہیں آپ اس خاندان سے کس درجہ مخلص ہیں اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ عین نے نرمی سے کہا تھا تیمور ان کو دیکھتا رہ گئے تھے۔
’’عین کسی ایک انسان کو اتنی رعایت دینا کبھی کبھی بہت بڑے خطرات کو خود آپ اٹھا لانا ہوتا ہے اگر آپ ہم سے کہیں یا پوچھیں تو ہم آپ کو آگاہ کریں گے کہ آپ کس درجہ غلط انسان کا ساتھ دے کر کس درجہ حمایت کر رہی ہیں جبکہ آپ جانتی ہیں کہ در حقیقت آپ کو ان سے محبت بھی نہیں بلکہ آپ محض Pretend کررہی ہیں کہ آپ کو ان سے محبت ہے۔‘‘ یہ صرف آپ محض خود کو باور کرا رہی ہیں۔‘‘ تیمور نے جیسے غصے میں ایک بڑے راز سے پردہ اٹھایا تھا اور عین حیرت زدہ سی ان کی سمت دیکھنے لگی تھی۔
’’یہ کیا مذاق ہے تیمور آپ سے ایسا کس نے کہا کہ ہمیں محبت نہیں۔‘‘ وہ احتجاجاً بولی تھی اور تب تیمور ان کی سمت مضبوطی سے قدم اٹھاتا ہوا قریب آن رکا تھا اور ان کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
’’کیا یہ محبت ہے؟‘‘ ان کے لہجے کا یقین عین کو اپنی جگہ ساکت کر گیا تھا وہ جیسے سراسمیگی سے ان کی سمت سے نگاہ ہٹا گئی تھیں اور تیمور اس سکون سے ان کی سمت دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ جانتی ہیں نواب زادی آپ کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ آپ کو مرزا حیدر سراج الدولہ سے محبت نہیں ہے آپ کے اندر اس سچائی کی گونج اکثر ابھرتی ہے تو آواز پر سمت دور تک جاتی ہے اور آپ ہراساں سی ہوکر اس کی نفی کرنے لگتی ہیں۔‘‘ وہ اس درجہ یقین سے کہہ رہا تھا کہ وہ ششدر سی ان کی سمت دیکھنے لگی تھی۔
’’ایسا… ایسا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مدہم لہجے میں جیسے ایک کمزور سی وضاحت دینا چاہی تھی۔
’’ہم حیدر میاں سے وفادار ہیں ہماری مخلصی پر شک کرنے والے کون ہوتے ہیں، اس وفاداری پر سوال اٹھانا ہی آپ کی حمایت ہے۔‘‘ وہ کمزور سے لہجے میں کہتی ہوئی نگاہ پھیر گئی تھی اور تیمور اس چہرے کو بغور دیکھنے لگا تھا۔
’’آپ کی ان پلکوں کا جھکنا ان کی لرزش اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ خود سے بھی اس گھڑی سچ نہیں بول رہیں، کم از کم آپ کو خود سے سچ کہنے کی ہمت تو کرنا چاہیے نواب زادی۔‘‘ وہ جیسے پُرسکون لہجے میں اسے للکار رہا تھا عین اسے گھورنے لگی تھی۔
’’اچھا اگر ہمیں حیدر سے محبت نہیں ہے تو پھر کس سے ہے۔‘‘ انہوں نے جذؓباتیت سے روانی میں پوچھ ڈالا تھا اور تیمور ان کی سمت جس طور دیکھنے لگے تھے وہ عین کا تمام اعماد بہا لے گیا تھا۔
’’یہ بات آپ کو معلوم ہو نواب زادی کے آپ کے دل میں کون ہے جو ہے اس کی پردہ داری آپ تمام دنیا سے کرنا چاہتی ہیں مگر خود سے بھی اسے چھپا کر رکھنا چاہتی ہیں آپ کی یہ محبت آپ کو ہی بزدل بنا رہی ہے دیکھیے آپ کی نظر میں کیسی چور ہورہی ہیں آپ ہم سے نگاہ نہیں ملا پا رہیں اور شاید خود سے بھی نگاہ ملانے کی ہمت ناپید ہے آپ میں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور ان کو اس حیرت میں مبتلا چھوڑ کر وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے عین نیم جان سی وہیں بیٹھ گئی تھیں۔
انہوں نے ایک لمحے کو سامنے لگے آئینے میں خود کو دیکھا تھا ان کو اپنے چہرے اور آنکھوں پر کسی اجنبی کا گمان ہوا تھا جیسے ان کا چہرہ ان کا نہ ہو، یا وہ آنکھیں کسی اور کی ہوں جو کوئی ان کے چہرے پر چھوڑ گیا ہو۔
’’یہ کیا ہے، ہم کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ وہ الجھ کر اپنے چہرے اور آنکھوں کو چھوتے ہوئے دیکھنے لگی تھیں جیسے وہ پر یقین نہ ہوں کہ یہ خدوخال ان کے ہیں کہ کسی اور کے عین نے بغور دیکھا تھا انہیں آئینے میں تیمور دکھائی دیے تھے۔
’’تیمور۔‘‘ انہوں نے بے ساختہ پکارا تھا اور خود حیرت زدہ سی رہ گئی تھیں۔
/…ؤ …/
’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ آپ نواب زادی سے محبت کرتے ہیں نا؟ پھر خوش بخت سے اچانک رشتہ جوڑنے کے بارے میں سوچنا تیمور اس کے لیے آپ پر دبائو کس نے ڈالا، ہم آپ کی والدہ ہیں جب ہم نے اس معاملے میں آپ کی خواہش کا احترام کرکے آپ پر کوئی دبائو نہیں ڈالا تو اب پھر؟‘‘ بیگم حکمت بیٹے کی بدلی روش دیکھ کر حیران ہوئی تھیں تیمور بہت الجھے ہوئے دکھائی دیے تھے۔
’’اس قدر غصہ کس بات پر ہے اس سے قبل تم نے اتنا غصہ کبھی نہیں کیا تیمور یہ تمہارا مزاج نہیں ہے اپنی ماں کو نہیں بتائو کہ معاملہ کیا ہے؟‘‘ بیگم حکمت نے بیٹے کو بغور جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا مگر وہ کچھ نہیں بولے تھے۔
’’آپ کی کس بات سے مخالفت کرنا کیا ثابت کرتا ہے تیمور کس کے کیے کے باعث اپنا ضبط کھونا کیا ردا ہے میں نے آپ کو ایسا نہیں سکھایا یہ پانی کا گلاس لو اور پی کر تمام سوالوں کا جواب دو۔ جب تک تم ان سوالوں کے جواب نہیں دو گے میں تم سے بات نہیں کروں گی۔‘‘ بیگم حکمت نے کہا تھا اور تیمور ماں کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔
’’تم اچانک سے یہ سب کیوں چاہ رہے ہو کیا اس کی وجہ عین النور ہیں؟‘‘ بیگم حکمت نے کہا تھا مگر وہ قطعی لہجے میں بولے تھے۔
’’ہم آپ کے ان سوالات کے جوابات نہیں دے سکتے، معذرت چاہتے ہیں پلیز اس معاملہ میں باز پرس رکھیے میں خوش بخت سے نکاح کرنے کو تیار ہوں اور رشتے میں پیش رفت چاہتا ہوں۔‘‘ تیمور نے مضبوط لہجے میں کہا تھا اور بیگم حکمت بیٹے کو دیکھ کر رہ گئی تھیں پھر مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’آپ ہمارے بیٹے ہو اور ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ آپ اپنے اندرونی خلفشار کے لیے کسی اور کی زندگی کو تختہ مشق بنا ڈالو ہمیں یہ قبول نہیں ہوگا نہ یہ آپ کو زیب دیتا ہے آپ تیمور بہادر یار جنگ ہیں اور یہ آپ کے مزاج کا حصہ نہیں ہے۔‘‘ بیگم حکمت نے انہیں باور کردیا تھا۔
’’ہم ایسا نہیں کریں گے ہم کسی کی زندگی کو تختہ مشق نہیں بنائیں گے آپ اس طرف سے بے فکر رہیں۔‘‘ تیمور نے جتایا تھا اور پھر معذرت چاہتے ہوئے چلتے ہوئے وہاں سے نکل گئے تھے۔ بیگم حکمت بیٹے کے بدلے ہوئے مزاج پر حیران رہ گئی تھیں۔ وہ تادیر اس متعلق سوچتی رہی تھیں مگر کوئی سرا ان کے ہاتھ نہیں آیا تھا مگر اس صورت حال نے ان کو بہت پریشان کر دیا تھا۔
/…ؤ …/
’’ہم یہ سوچ کر ہی شرمندہ ہیں کہ نواب زادہ نے ہم سے اپنا رشتہ جانے بنا ہم سے نکاح کیا شاید وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے مگر ہم جانتے تھے ہمیں اس راز سے آگاہ کرنے والے حیدر میاں تھے ہم نہیں جانتے کہ یہ سچ تھا یا کوئی چال مگر انہوں نے ہمارے دل و دماغ میں یہ بیج بو دیا تھا کہ ہم نواب صاحب سے کوئی رشتے تو ضرور رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہیارا یہ شک مزید پختہ ہوتا گیا ہم نہیں جانتے ہم نے محض ایسا سوچ کر اس شک کو ا پنے اندر تقویت دی مگر ہم یہ بات بہت بار آپ سے بھی پوچھنا چاہتے تھے مگر ہم نہیں پوچھ سکے۔‘‘ فتح النساء الجھ کر بولی تھیں اور بوا ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں، پھر مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’اگر آپ شک کے بیج اندر بو کر ان کی آبیاری میں لگی رہیں گی تو وہ بیج ایک دن تناور درخت ضرور بن جائے گا فتح النساء۔‘‘ بوا نے جتایا تھا۔ فتح النساء نے خاموشی سے انہیں دیکھا تھا۔
’’آپ تو نواب چاچا کے بارے میں بہت جانتی ہیں بوا ان کی پرانی ملازمہ ہیں آپ تو اس حقیقت کے بارے میں ضرور کچھ جانتی ہوں گی نا؟‘ فتح النساء نے پہلی بار کھل کر بات کرنا ضرور خیال کیا تھا بوا نے ان کو تحمل سے سن کر سر انکار میں ہلادیا تھا۔
’’نہیں میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا نواب سیف صاحب ایک نیک انسان ہیں ان کے بارے میں آپ کسی سے بھی پوچھیں گی تو آپ کو یہی جواب ملے گا ان کے بارے میں ایسی باتیں پھیلانے والوں کون ہے اور اس کے شر سے اسے کیا فائدہ ملتا ہے یہ تو وہی شخص بتا سکتا ہے مگر جہاں تک میں جانتی ہوں نواب صاحب ایسے کسی معاملے میں ملوث نہیں پائے گئے وہ نیک فطرت انسان ہیں انہوں نے آپ پر ہی نہیں کئی بچوں پر احسانات کیے ہیں مگر وہ نیکی کا عمل اس درجہ خاموشی سے کرنے کے قائل ہیں کہ کسی اور کو اس کی قطعاً خبر نہ ہو وہ کئی بچوں کی کفالت اور تعلیم کے اخراجات اٹھاتے رہیں ہیں۔ کئی بچے تو بیرون ملک بھی تعلیم کی غرض سے گئے ہیں نواب صاحب کئی بچوں کو ان کی سمت دکھانے میں معاون رہے ہیں نواب صاحب کی شخصیت پر شک کرنا مناسب نہیں۔‘‘ بوا نے سمجھایا تھا فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’نواب صاحب ایمان داری اور وفاداری سے رشتے نبھانے کے قائل رہے ہیں اگر آپ سے ان کا کوئی خون کا رشتہ ہوتا تو وہ آپ کو ڈنکے کی چوٹ پر دنیا کے سامنے قبول کرتے بیٹی کو قبول کرنا کوئی گناہ نہیں ہے آپ نواب صاحب کی صاحب زادی نہیں ہیں مگر انہوں نے آپ کو اپنی صاحب زادی سمجھا ہے اور ہمیشہ نواب زادی کے برابر کی اہمیت دیتے ہیں محل میں آپ کی اہمیت اس طور ہے میں نہیں جانتی کون سی بات ایسے خیالات کا موجب بنا مگر یہ درست نہیں ہے۔‘‘ بوا نے کہا نہیں پھر اٹھ کر چلتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھیں فتح النساء خیالوں میں کھوئی وہیں بیٹھی رہی تھی۔
/…ؤ …/
تیمور خاموشی سے بالکونی میں کھڑا تھا جب قدموں کی آہٹ پر انہوں نے چونک کر دیکھا تھا وہاں ہلکا گلابی آنچل لہرایا تھا تیمور جاننے کو متجسس نہیں تھا مگر جانے کیوں نگاہ وہاں بندھ گئی تھی اور حیرت تب اور بھی بڑھ گئی تھی جب وہ گلابی ملبوس وجود سامنے آگیا تھا وہ چونکے تھے نواب زادی عین النور ان کے سامنے تھی مگر انہوں نے حیرت کے باوجود زبان سے کچھ نہیں کہا تھا اور پلٹ کر دوبارہ بالکونی میں جا رکے تھے اور نگاہ تاریکی میں مرکوز کرتے ہوئے سگریٹ سلگانے لگے تھے۔ مگر یک دم ایک نازک سا ہاتھ ان کی سمت بڑھا تھا اور ان کے لبوں میں دبا سگریٹ نکال لیا تھا تیمور چونکے تھے ایسا کرنے والی کوئی اور نہیں تھی عین النور تھیں لمحہ بھر کو ان کو گمان ہوا تھا۔ جیسے یہ کوئی خواب یا خیال تھا شاید یہی سوچ کر انہوں نے عین کی طرف دیکھا تھا مگر عین النور ان کی طرف سے نگاہ پھیر کر دیکھنے لگی تھی اور پھر اس نے وہ سگریٹ دیکھتے ہی دیکھتے بالکونی کی ریلنگ سے نیچے اچھال دیا تھا تیمور نے حیرت سے رخ کی سمت دیکھا تھا۔
’’ایسا غصہ آپ کو کب سے آنے لگا؟ آپ کو غصہ کرنے کے عادی نہیں ہیں تیمور۔‘‘ نواب زادی نے ان کی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تھا۔
تیمور سمجھ نہیں پائے تھے کہ گویا حقیقت تھی یا گمان مگر وہ اپنی سگریٹ ریلنگ سے اچھالے جانے پر گویا ہوئے تھے۔
’’آپ نے سگریٹ ریلنگ سے دوسری سمت کیوں اچھا دی؟‘‘ ان کا لہجہ برہمی اور خفگی لیے ہوئے تھے اور عین خاموشی سے ان کی سمت دیکھنے لگی تھی پھر بہت پر اعتمادی سے شانے اچکا کر بولی تھی۔
’’سگریٹ صحت کے لیے مناسب نہیں آپ کو احتیاط برتنا چاہیے یوں بھی آپ کے مزاج کو یہ سگریٹ سگار سوٹ نہیں کرتے انگلستان سے اعلیٰ تعلیم لے کر لوٹے ہیں آپ مسلم لیگ کے سرگرم رکن ہیں آپ ایسی ذمہ دار شخصیت کیا ایسی بے پروائی کرتی اچھی لگتی ہے؟ کئی ذمہ داریاں میں آپ کے کاندھوں پر سنا نہیں آپ نے سگریٹ نوشی کرنے سے سینے کے امراض لاحق ہوجاتے ہیں۔ اور بڑھاپا کھانستے گزرنا ہے اگر آپ کی زوجہ محترمہ کو آپ کا کھانسنا قبول نہ ہوا تو آپ سے قطع تعلق کرکے گھر سے باہر کردیں گی نا، ایسا کیا قابل قبول ہوگا آپ کو؟‘‘ نواب زادی عین النور بولی تھیں ان کی روشن چمکتی آنکھوں میں ایک خاص روشنی پھوٹتی محسوس ہوئی تھی غالباً یہ ان کے مسکرانے کا باعث تھی تیمور ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے اور نگاہ بدلتے ہوئے مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’یہاں آنے کا سبب کیا ہے اگر آپ خواب و خیال ہیں تو لوٹ جائیے ہمیں آپ کی سمت نگاہ نہیں کرنی کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ تیمور برہمی سے بولے تھے نواب زادی اطمینان اور مکمل پُرسکون انداز میں ان کی سمت تکتے ہوئے مسکرا دی تھیں۔
’’اگر آپ جتانا چاہتے ہیں کہ آپ کسی بات سے خفا ہیں تو یہ کوئی بڑا جواز نہیں ہے۔‘‘ عین نے شانے اچکا کر بے تاثر انداز سے کہا تھا۔
’’آپ نے ہماری سگریٹ کیوں پھینک دی۔‘‘
’’تاکہ آپ کو زندگی کی خوب صورتی کا احساس اس غصے کی کیفیت میں بھی ہوسکے۔‘‘
’’ہمیں کوئی احساس نہیں کرنا۔‘‘ وہ اسی برہمی سے بولے تھے۔
’’اگر زندگی میں موجود وجود ان کی اہمیت کا اندازہ ہے تو آپ سگریٹ کو ہاتھ لگانا ضرور خیال نہیں کریں گے۔‘‘ عین النور نے جتایا تھا۔
’’ہم چیزوں کا موازنہ نہیں کرتے یہ واجب نہیں ہے۔‘‘ تیمور نے بے تاثر انداز میں کہا تھا۔
’’موازنہ کرنے سے ہی اہمیت کا احساس ہوتا ہے تیمور۔‘‘
’’اور آپ یہاں کیوں آئیں۔‘‘
’’کیونکہ آپ ہمارے دوست ہیں اور ہم آپ کے خیر خواہ ہیں۔‘‘
’’ہمیں آپ کی خیر خواہی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔‘‘
’’واسطہ تو ہونا چاہیے تیمور، دوستوں کی ناقدری نہیں کرتے۔‘‘ عین مسکرائی تھی وہ غالباً ان کی خفگی اور برہمی کم کرنا چاہ رہی تھی مگر تیمور نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’آپ ہمیں ایسی الزام دیتی نظروں سے کیوں دیکھ رہے ہیں، ایک سگریٹ ہی تو ریلنگ سے باہر اچھالی ہے نا۔ آپ کی کائنات تو نہیں۔ آپ تو ایسے برہمی دکھا رہے ہیں جیسے ہم نے آپ کی دنیا کی ہر شے تہس نہس کر ڈالی ہو۔‘‘ عین النور نے اکتا کر ان کی طرف دیکھا تھا تیمور ان کو خاموشی سے دیکھنے لگے تھے ان کو اب تک اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ در حقیقت اس جگہ ان کے گھر تشریف لائی تھیں یا یہ محض ان کا وہم تھا۔
’’آپ ہمیں اجنبی نظروں سے کیوں دیکھ رہے ہیں تیمور ہم آپ کی دوست ہیں برسوں کا تعلق یک دم فراموش کردیا آپ نے۔‘‘ وہ مسکرائی تھیں۔
تیمور نے سر انکار میں ہلایا تھا اور پھر نگاہ پھیر کر بالکونی سے اس طرف چھائی تاریکی کو گھورتے ہوئے جیسے خود کلامی میں بولا تھا۔
’’دور کھڑا آپ کو خاموشی سے دیکھتا رہوں گا مگر آپ کی سمت تب تک قدم نہیں بڑھائوں گا جب تک آپ میری طرف نگاہ نہیں کرتیں اور وہ نگاہ اشاروں کنائیوں میں یہ نہیں کہتی کہ انہیں میری اسی طور ضرورت ہے جس طور مجھے میں تب تک آپ کی سمت قدم نہیں بڑھائوں گا جب تک کہ آپ جتا نہ دیتیں کہ محبت ہم دونوں کے لیے ضروری ہے اور ہم ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں۔ میں یہ بات آپ کی بولتی آنکھوں سے سننا چاہتا ہوں اور اس قدر خاموشی اور راز داری سے کہ جہاں کو بھی اس کی خبر نہ ہو۔‘‘ تیمور کا لہجہ بہت مدہم تھا عجیب خود کلامی جیسا عین کچھ نہ سمجھتے ہوئے الجھن سے پر نظروں سے ان کی سمت دیکھنے لگی تھیں۔
’’معذرت خواں ہیں آپ کی آواز مدہم تھی ہم سمجھ نہیں سکے کہ آپ کے تخاطب ہم ہیں یا کوئی اور؟‘‘ وہ الجھ کر بولی تھیں۔
تیمور نے ان کی سمت دیکھنے بنا سر نفی میں ہلا دیا تھا گویا وہ دانستہ ان کی سمت دیکھنے سے گریزاں تھے۔
تیمور کو لگا تھا وہ خیال میں اور ابھی تحلیل ہوجائیں گی مگر یک دم سماعتوں سے بیگم حکمت کی آواز ٹکرائی تھی اور وہ اس جانب متوجہ ہوئے تھے تب بھی نواب زادی عین اسی طور وہاں کھڑی دکھائی دی تھیں۔
’’نواب زادی آپ یہاں ہیں آپ کی والدہ محترم بیگم آپ کے متعلق پوچھ رہی ہیں۔‘‘ بیگم حکمت بولی تھیں مگر نواب زادی کی توجہ ہر بات سے ہٹ کر خوش بخت پر مرکوز ہوئی تھی جو اس لمحے ان کے ہمراہ کھڑی تھیں اور بیگم حکمت اپنے ہونہار سپوت کی سمت دیکھتیں ہوئی کہہ رہی تھیں۔
’’تیمور خوش بخت کو آپ سے ملنا تھا غالباً کوئی ضروری بات کرنا تھی۔‘‘ تیمور مڑا تھا اور اس حکم کی پابندی کرتے ہوئے خوش بخت کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گیا تھا دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے حد نگاہ تک عین کی توجہ کا مرکز رہے تھے بیگم حکمت نے ان کی جانب توجہ کرکے ان کو چونکایا تھا۔
نواب زادی آپ فہرست طعام میں کسی خاص شے کا اندراج چاہتی ہیں تو آگاہ کردیجیے ہم ملازم سے کہہ کر شامل کرا دیتے ہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے خاص مروت سے مسکراتے ہوئے کہا تھا مگر عین کی نگاہ متواتر وہیں تھیں یہاں تیمور اور خوش بخت گئے تھے۔
’’یہ… یہ کون ہیں چچی جان ہم نے پہلے کبھی ان محترمہ کو اس گھر میں نہیں دیکھا۔‘‘ نواب زادی نے دریافت کیا تھا اور بیگم حکمت پُرسکون انداز میں مسکرا دی تھیں۔
’’یہ خوش بخت ہیں ہم ان کو تیمور کے لیے منتخب کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے آگاہ کیا تھا۔
’’کیا… کیا مطلب؟‘‘ نواب زادی نے چونک کر پوچھا تھا مگر احساس ہونے پر لب بھینچ کر کچھ لمحوں تک خاموش رہی تھیں پھر گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم سمجھے نہیں۔‘‘ اگر چہ بات تو کسی قدر واضح تھی مگر نواب زادی نے پوچھا تھا اور بیگم حکمت نرمی سے مسکرا دی تھیں۔
’’خوش بخت کو تیمور نے اپنے لیے چنا ہے۔‘‘ ان کی وضاحت سے ہم غلط فہمی جاتی رہی تھی عین ششدر میں ان کی سمت دیکھ رہی تھی پھر سنبھل کر مروت سے مسکرائی تھیں اور خشک لبوں کو تر کرتی ہوئیں گویا ہوئی تھیں۔
’’یہ کب ہوا ہمارا مطلب ہے تیمور نے اس کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی اگر چہ ہم اچھے دوست ہیں۔‘‘ نواب زادی نے بات بنائی تھی بیگم حکمت مروت سے مسکرائی تھیں۔
’’ہم اس متعلق واقف نہیں بیٹا مگر ہم نے خوش بخت کو کچھ عرصہ قبل تیمور کے لیے چنا تھا مگر تب تیمور ایسی کوئی دلچسپی ظاہر کرنے میں پیش رفت نہیں دکھا رہے تھے مگر کل اچانک انہوں نے مطلع کیا کہ ان کو خوش بخت بطور شریک حیات قبول ہیں اور یہ کہ ہم معاملات کو مثبت طریقے سے آگے بڑھائیں۔‘‘ بیگم حکمت نے آگاہ کیا تھا نواب زادی ان کی سمت خاموشی سے دیکھتی رہی تھیں بیگم حکمت ان کی کسی کیفیت سے قطعی بے خبر گویا ہوئی تھیں۔
’’خوش بخت ایک ذہین دوشیزہ ہیں زمانے کے اطوار سمجھتی ہیں پڑھی لکھی ہیں اور ہر لحاظ سے تیمور کے لیے ایک اچھا انتخاب ہیں مگر تیمور نے اس سے قبل اس رشتے کی مخالفت کی تھی مگر کل اچانک کہا آپ بات آگے بڑھائیں۔‘‘ بیگم حکمت نے کہہ کر شانے اچکائے تھے پھر نرمی سے پوچھنے لگی تھیں۔
’’آپ سے فہرست طعام کے بارے میں پوچھا تھا۔‘‘
’’نہیں… ہم گھر جانا چاہیں گے اماں جان کو کسی ضروری کام سے خالہ سے ملنے بھی جانا ہے۔‘‘ عین نے بروقت ایک معقول جواز ڈھونڈا تھا اور پھر یک دم چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھیں۔ بیگم حکمت ان کو دیکھتی رہ گئی تھیں۔
/…ؤ …/
’’بال بال بچ گئے اگر چہ ہم نے بات سنبھالنے کی کوشش تو کی تھی مگر ہم نہیں جانتے نواب صاحب مطمئن ہوئے کہ نہیں مگر ایک پل کو تو عالم وہ تھا کہ لگا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ہم پر اتنا گھڑوں پانی کبھی نہیں پڑا جتنا آج محسوس ہوا گویا ہم ان کی نگاہ میں صاف مجرم تھے اور ان کی نگاہ ہمیں بغور جائزہ لیتے ہوئے بھی جیسے رعایت دے رہی تھی نواب صاحب کی یہ مروت ہمیں ایک آنکھ نہیں بھائی ان کی اس بات سے ہمیں چڑ ہوتی ہے خود کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے انتہائی فرشتہ صفت ہوں، ماں ان کا کردار بے داغ رہا ہے مگر ایسی بھی کیا دنیا داری کے اچھائی کا پرچار کرنے کو محترم خود کو انسانیت کی عظموں کے اعلیٰ مقام پر فائز کرنے کا سوچنے لگیں مانا انسانیت ہیں ان میں مگر ان کا طریقہ عجب نیچا دکھاتا ہوا سا لگتا ہے۔‘‘ مرزا سراج الدولہ سلگتے ہوئے لہجے میں بولے تھے ان کی بیگم نے ان کو پُرسکون رہنے کی ہدایت کی تھی اور نرمی سے گویا ہوئی تھیں۔
’’آپ نے مناسب نہیں کیا مرزا صاحب وہ آپ کے سمدھی ہیں ان کی عزت ملیامیٹ کرنے کے بارے میں سوچنا بھی ایک برا حوالہ رکھتا تھا آپ کو ایسا اقدام کرنے سے قبل سوچنا چاہیے تھا سوچیے اگر اس کوئی نئی سازش انہوں نے آپ کے خلاف رچائی ہوتی تو آپ کیا کرتے، ان سے ہماری رشتے داری ہے اور رشتے داری میں کسی کو محض نیچا دکھانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنانے کے لیے ہم آپ کو قطعاً نہیں سراہیں گے۔‘‘ بیگم کا لہجہ کس قدر تلخ ہوا تھا مرزا نے زوجہ محترمہ کو گھورا تھا۔
’’آپ کو ان معاملات کی کیا خبر ہر بات میں آپ کا بولنا ضروری ہے بیگم آپ خاموش سادھ کر باورچی خانے کا رخ کریں اور ہمارے لیے قہوہ بنوائیے دماغ دکھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے بیگم کو ڈپٹ کر رخصت کرنا چاہا تھا وہ خاموشی سے انہیں دیکھ کر باہر نکل گئی تھیں اور مرزا صاحب منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگے تھے۔
’’کبھی کبھی کسی کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی انسانی فطرت ہے یہ ہم کوئی فرشتہ نہیں ہیں بندہ بشر ہیں ہم ایسے اعلیٰ انسان نہیں یا انسانیت کا تاج پہننا چاہتے ہیں ہم نے جو کیا ہم اس پر قطعاً شرمندہ نہیں، نواب صاحب کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے تھے کیونکہ ہمیں ان کی کامیابی اور مقبولیت ایک آنکھ نہیں بھائی، ایسے فرشتہ ہیں تو رہیں فرشتہ ہمیں کیا، مگر دوسروں کو احساس کمتری دنیا محض اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے کیا یہ عمل مناسب ہے؟ کتنا اچھا ہوجاتا جو اگر یہ سب ثابت ہوجاتا آہ ایسی جگ ہنسائی ہوتی محترم کی کہ انگشت بدنداں رہ جاتے اب سازش کامیاب ہونے سے قبل سب ثبوت اکٹھا کرکے ہمیں شرمندہ کرنے کے در پے ہیں پھر وہی ان کا اعلیٰ افضل ہونا اور ہمارا پست قامت، نواب صاحب کو بھی جسے کو عارضہ لاحق ہے۔‘‘ وہ چڑ کر بولے تھے اور پھر سگریٹ سلگا کر اس نے کش لینے لگے تھے۔
/…ؤ …/
نواب صاحب چلتے ہوئے آئے تھے عین بہت کھوئی کھوئی سی بیٹھی تھیں وہ ان کی کیفیت کو اس موجودہ صورت حال سے منسلک کرتے ہوئے کسی قدر متفکر ہوئے تھے۔
’’عین بیٹا کیا ہوا؟ آپ کس بات کو سوچ رہی ہیں آپ کی تشویش اب کوئی معنی نہیں رکھتی سو اب مزید کچھ سوچیے ہم نے رشتوں کے وقار کو بکھرنے نہیں دیا کچھ بھی ہوجائے رشتوں کا وقار مجروح نہیں ہونا چاہیے چہرے اور رشتے دونوں بدنما دکھائی دینے لگتے ہیں ہم نے ہر احساس کو ایک طرف رکھ کر رشتوں کے تقدس کو بچایا ہے اور کس تعلق پر آن نہیں آنے دی۔‘‘ نواب صاحب مدہم لہجے میں گویا تھے عین نے بنا کچھ کہے اٹھ کر ان کے شانے پر سر رکھ دیا تھا انہوں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بیٹی کو دیکھا تھا اور اپنا دست شفقت ان کے سر پر رکھ دیا تھا۔
’’ابا جان ہم یہ نکاح نہیں کرنا چاہتے اس خاندان سے کوئی رشتہ باقی رکھنا نہیں چاہتے مرزا چاچا نے آپ پر اتنا بڑا الزام لگایا آپ کی عزت کی پرخچے اڑا دینا چاہیے ہم ایسے شخص کے بیٹے سے زندگی کا ناطہ نہیں جوڑ سکتے۔‘‘ وہ آنکھوں میں نمی لیے مدہم لہجے میں گویا تھیں۔ نواب صاحب نے ان کے سر پر بوسہ دیا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’بیٹا انسان کے اعمال اس کا زادہ راہ ہوتے ہیں، جو انسان اچھائی یا برائی کا مرتکب ہوتا ہے وہ کسی اور کے لیے نہیں در حقیقت اپنے لیے گڑھا کھودتا ہے ہر انسان اپنے اعمال کا کیا بھگتے گا ہم انسانوں کو کوئی اختیار نہیں کی ہم ان کے اعمال کی جانچ پڑتال کریں یا ان کے لیے سزائیں تجویز کریں اس عمل کو اللہ پر چھڑ دینا بہترین عمل ہے اللہ اسے معاف کرنا ہے کہ نہیں یہ اللہ اور بندے کا آپس کا معاملہ ہے ہم اس بارے میں بحث کرتے یا جانچ ہڑتال کرتے مناسب دکھائی نہیں دیتے انسان کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں سو ہم نے مرزا صاحب کو معاف کردیا ہے ہمیں ان سے کوئی پُرخاش نہیں ہے انہوں نے اگر کوئی برا عمل کیا بھی ہے تو ان کا اپنا فعل ہے اس کے لیے وہ اپنے رب کو جواب دے ہوں گے، اس کے متعلق ہمیں بات کرنا زیب نہیں دیتا عیب کرنے سے یا دوسروں کے عیب گننے سے ہمارے اعمال بھی جانچ پڑتال کا باعث بنتے ہیں جب ہم کسی اور کو ان کو برے اعمال کے لیے زیر بحث لاتے ہیں تو ہم دراصل وہ عیب اپنے نام سے درج کراتے ہیں، برائی کرانے والا محض برا نہیں ہوتا غیبت کرنے والا اور معاف نہ کرنے والا بھی اتنا ہی برا قرار پاتا ہے۔‘‘ نواب صاحب بیٹی کے آنسو پونچھتے ہوئے بولے تھے نواب زادی نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’ابا جان آپ کا ظرف بڑا ہے اور دل کشادہ مگر ہم ایسے چال باز شخص کے صاحب زادے سے کوئی رشتہ نہیں چاہتے ہم اس احساس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے کہ ہمارے خاوند اس شخص کے سپوت ہیں جنہوں نے ہمارے والوں کے خلاف اتنی بڑی سازش رچائی۔‘‘ عین النور فیصلہ کن انداز میں گویا ہوئی تھیں نواب صاحب نے ان کو اپنے مقابل بٹھایا تھا اور ان کے سامنے بیٹھ کر پُرشفقت لہجے میں بولے تھے۔
’’بیٹا زندگی میں اس سے بڑی سازشیں ہوتے دیکھی نہیں لوگ تختے الٹ دیتے ہیں یہ سازش تو کامیاب ہونے سے قبل بے نقاب ہوگئی، ہمیں تو اس کے لیے اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے اچھے لوگوں کی مدد ہمیشہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر ہمارا کوئی عمل نیک اور صالح تھا تو اس کے بدلے ہمیں اللہ نے بچا لیا ہے ہمیں مرزا صاحب سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ انسان کی فطرت میں حسد اور دیگر خامیاں پایا جانا باعث حیرت نہیں ہے انسانی فطرت کو جھٹلایا یا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں انسانوں سے نہیں اپنے رب سے امید رکھنا چاہیے مرزا صاحب دوست ہیں احباب سے شکوے کرنا مناسب نہیں اگر وہ خود اپنے کیے پر شرمندہ ہیں تو ان کی معافی ممکن ہے اگر وہ نیک راہ اختیار کرتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی مگر ایسے لوگ کب اچھائی کی سمت قدم بڑھائیں یا ایسی سازشوں کو جاری رکھیں؟ اس کے متعلق خبر نہیں ہوتی ہمیں ان کو معاف کرنا تھا ہم نے دل سے ان سے حسن سلوک کرتا ان کو شرمندہ نہیں ہونے دیا نہ جھکنے نہیں دیا دوستوں کی قدر کرنا ہماری روایت ہے آپ بھی مرزا صاحب کے عمل کو بھول جائیے، حیدر میاں پڑھے لکھے انسان ہیں یقیناً ان کی فطرت اپنے والد محترم کی فطرت سے مختلف ہوگی، آپ مرزا صاحب کی خطا کو حیدر میاں سے منسلک مت کریں یہ مناسب عمل نہیں ہے… ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے از سر نو سوچیے آپ کو حیدر میاں اس سازش کا حصہ نظر نہیں آئیں گے۔ ان کا کردار اور اعمال اپنے والد محترم سے قطعاً مختلف ہیں، یوں بھی ہم کسی اور کے کئے کی سزا کسی دوسرے کو نہیں دے سکتے… آپ ہماری بات سمجھ رہی ہیں نا؟‘‘ نواب صاحب نے پوچھا تھا عین نے والد محترم کو خاموشی سے دیکھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close