Naeyufaq Jul-17

گرداب

عرفان رامے

شکیل احمد نے ائر پورٹ کی عالیشان عمارت سے باہر قدم رکھا تو سوائے بارش کے کوئی اس کے استقبال کے لیے موجود نہیں تھا۔۔۔۔ چنانچہ ایک طائرانہ نظر آسمان پر ڈالنے کے بعد اس نے ٹیکسی لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔
وہ ایک معروف کمپنی میں مارکیٹنگ منیجر تھا اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میںدوسرے شہروں کا دورہ کرنا اس کے فرائض کا حصہ تھا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ا س نے کلائی گھما کر گھڑی پر نظر دوڑا ئی تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ ائر پورٹ سے گھر تک کا سفر ایک گھنٹے پر محیط تھا چنانچہ فی الحال اس نے اپنی بیوی تانیہ کو آمد کی اطلاع دے کر ڈسڑب کرنا مناسب نہ سمجھا اور چند لمحے شیشے کے پار پر نم تاریکی میںجھانکنے کے بعد آنکھیں موند لیں۔
تانیہ اس کی بیوی ہی نہیں دوست بھی تھی۔۔۔۔ دونوں یونیورسٹی دور کے کلاس فیلو تھے ۔ انہوں نے لو میرج کی تھی اور تین سال گزر جانے کے باوجود ایک دوسرے کو نو بیاہتا جوڑے کی طرح چاہتے تھے ۔ ان کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد تانیہ نے شکیل احمد کی اجازت سے ایک پرائیوٹ اسپتال میں ایڈمنسٹریٹر کی ملازمت اختیار کر لی تھی لیکن وہ کسی انتہائی ایمرجنسی کی صورت میںہی رات کو اسپتال جاتی تھی کیوں کہ شکیل احمد کو اس کا نائٹ ڈیوٹی کرنا پسند نہیںتھا۔
گھر کے سامنے پہنچ کر شکیل احمد نے ٹیکسی ڈرائیو ر کو کرایہ ادا کر کے رخصت کیا اور پھر ہاتھ میں دم توڑتے سگریٹ کا آخری طویل کش لینے کے بعد فلٹر کو گیلی سڑک پر اچھال دیا ۔ اب وہ گہرے سانس لے کر ماحول کی تازگی کو اپنے وجودمیں سمونے کی کوشش کر رہا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ تانیہ کو سگریٹ کی بو سخت نا پسند تھی۔۔۔۔خصوصاََ اس وقت جب وہ چندروز گھر سے باہر گزار کر واپس لوٹتا تھا۔
تیز بارش تھم چکی تھی لیکن خنکی کے باوجود ہلکی پھوار بہت فرحت بخش محسوس ہو رہی تھی۔ چند لمحے اس خوشگوار ٹھنڈک کو محسوس کرنے کے بعد وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا آگے بڑھا اور جیب سے چابی نکال کر گیٹ کا لاک کھولنے کے بعد اندر داخل ہو گیا۔
اب وہ چھوٹے سے پورچ میں کھڑی اپنی کارکے قریب سے گزر کر اندرونی عمارت کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔۔اورایک بار پھر چابی لاک میں گھما کر عمارت کے اندر داخل ہو گیا ۔ وہ اکثر وقت بے وقت گھر لوٹتا تھا اس لیے تانیہ کو بے آرام کرنے کے بجائے ڈپلیکیٹ چابی جیب میں رکھنا اس کی عادت بن چکی تھی۔
ایک چھوٹی سی راہداری سے گزر کر شکیل احمد ٹی وی لائونج میں پہنچا تو چند قدم کے فاصلے پر خواب گاہ کے نیم وا دروازے سے نیلی روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی۔ وہ سکون سے چلتا ہوا کمرے کی جانب بڑھا تو سامنے بیڈ پر اپنے مخصو ص سلیپنگ گائون میںملبوس تانیہ دکھائی دی۔اس کے پیروں کی حرکت سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ابھی تک جاگ رہی ہے۔۔۔۔ اسے دیکھ کر شکیل احمد کے ہونٹوںپر بے اختیار محبت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔۔لیکن تھوڑا اور آگے بڑھنے پر جیسے ہی شکیل احمد کی نظر تانیہ کے ساتھ بیڈ پر لیٹے ہوئے مرد پر پڑی اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا ۔
مرد کی پشت شکیل احمد کی جانب تھی اوروہ دھیمی روشنی میں کسی عفریت کی مانند دکھائی دے رہا تھا ۔تانیہ نے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا رکھا تھا ۔جب کہ مرد کے بازوئوںکا حصار اس کی کمرکے گرد تھا ۔ دونوں اس قیامت خیز لمحے سے بے خبر اپنی ہی دھن میں مگن تھے۔ کمرے میں ان کی دھیمی سرگوشیاں بازگشت بن کر گونج رہی تھیں۔۔۔۔ ان آوازوں نے شکیل احمد کے تن بدن میںآگ لگا دی تھی۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ تانیہ اس کے اعتماد کا یوں بے دردی سے خون کر سکتی ہے۔ مگر سب کچھ جاگتی آنکھوںسے دیکھنے کے بعد حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں رہا تھا۔
یہ کریہہ منظر دیکھنے کے بعد وہ غصے سے کانپتا ہوا واپس پلٹا اور بے آواز قدموں سے چلتا ہوا دوسرے کمرے کی جانب بڑھا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے الماری سے اپنا ریوالور نکالا اورساتھ پڑے میگزین کیس کو ریوالور کے چیمبر میں فٹ کر کے تیزی سے بیڈ روم کی جانب لوٹ آیا ۔
بیڈ روم کا ماحول ابھی تک جوں کا توں تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں اتنے مدہوش تھے کہ انہیں شکیل احمد کے لوٹ آنے کا احساس تک نہیںہوا تھا۔ان کی بے خبری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شکیل احمد آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
مدھم روشنی میں اسے بیڈ پر لیٹے اجنبی مرد کا سر صاف دکھائی دے رہا تھا جب کہ تانیہ بدستور اس کے سینے میں سر چھپائے دنیا جہان سے بے نیاز تھی۔۔۔۔ قریب پہنچ کر شکیل احمد نے لمحہ بھر کے لیے لذت گناہ میں غرق اس جوڑے کو حقارت اور نفرت بھری نظروں سے گھورا اور پھر مرد کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا۔
سائیلنسر لگے ریوارلور نے ٹریگر دبتے ہی بلا تاخیر ایک دہکتا ہوا انگارہ اُگلا اور مرد چیخ مار کر سر تھامتے ہی بیڈ پر ساکت ہو گیا۔۔۔۔ گولی سیدھی اس کے دماغ میںجا گھسی تھی اور اسے تڑپنے کی مہلت بھی نہ مل سکی تھی۔۔۔۔
پھر اسی لمحے شکیل احمد پر حیرت کا نیا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ کیوںکہ کمرے میں گونجنے والی دوسری نسوانی چیخ تانیہ کی نہیں بلکہ کسی اجنبی لڑکی کی تھی۔۔۔۔ گھٹی گھٹی اجنبی آواز سنتے ہی شکیل احمد تیزی سے لڑکی کی جانب پلٹا مگر اس اچانک نازل ہونے والی آفت سے گھبرا کروہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوںمیںچھپا چکی تھی۔
’’کون ہو تم۔۔۔۔؟‘‘شکیل احمد نے دھڑکتے دل کے ساتھ دھیمے مگر کرخت لہجے میں پوچھا۔
’’عینی۔۔۔‘‘ لڑکی نے دھیرے دھیرے چہرے سے ہاتھ ہٹائے تو شکیل احمد نے آگے بڑھ کر بلب روشن کرنے کے لیے بٹن دبایا ۔۔۔۔ مگر بلب شاید فیوز ہو چکا تھا۔
’’کون عینی۔۔۔‘‘وہ بلب کو کوستا ہوا واپس پلٹا۔مگر مدھم روشنی میں لڑکی کا مرمریں بدن اس کے دل کی دھڑکن کو مزید بڑھا گیا۔ کھلے بالوں کے ساتھ وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
’’تانیہ کی سہیلی ۔۔۔۔اس کے اسپتال میں کام کرتی ہوں۔‘‘
’’ اوہ نو۔۔۔۔میں اس غلط فہمی میں تھا کہ شاید تم میری بیوی ہو،مگر ۔۔۔۔‘ ‘
وہ اپنا جملہ مکمل نہیںکر پایا تھاکہ عینی چہرے پر بکھرے بال سمیٹ کر بستر پر اٹھ بیٹھی۔ وہ اپنے لباس سے ابھی تک بے پروا تھی ۔۔۔۔ چند لمحے توقف کے بعد اس نے مرد کی لاش کو پہلو میں چھوڑا اور بیڈ سے اُترتے ہوئے پر سکون لہجے میں بولی:
’’تم یقینا شکیل احمد ہو۔۔۔۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ شکیل احمد نے مختصر جواب دیا۔ اپنے ہاتھوں قتل کرنے کے بعد وہ بہت پریشان دکھائی دے رہا تھا ۔
’’تانیہ تمہارا بہت ذکر کرتی ہے۔ دیوانی ہے وہ تمہاری۔۔۔۔لیکن آج احساس ہوا ہے کہ اس کا پاگل پن کچھ غلط بھی نہیںہے۔۔۔۔ تم واقعی بہت ہینڈ سم ہو۔ ‘‘وہ یوں مطمئن دکھائی دے رہی تھی جیسے کمرے میں کچھ ہوا ہی نہیں۔
شکیل احمد خود بھی اسے پہچان چکا تھا۔ تانیہ اکثر عینی کا ذکر کرتی رہتی تھی مگر ملاقات کا اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔
’’ تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ مطلب یہ آدمی کون ہے؟‘‘
’’میرا دوست ہے۔۔۔۔بلکہ یو ں سمجھو میرے دوستوںمیں سے تھا۔ فیصل نام تھا مرحوم کا۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے آگے بڑھ کر شکیل احمد کی قمیص کے بٹنوں سے کھیلنے لگی ۔ اس کی بڑی بڑی روشن آنکھوں میں خوف یا شرم کا شائبہ تک نہیں تھا:’’در اصل مجھے دوست بنانے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت شوق ہے ۔۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ دوستی کرنا پسند کروگے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’میںکہتا ہوں بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔۔ سیدھی طرح بتائو کہ اس وقت تم یہاں کیا کر رہی ہو اور میر ی بیوی کہاں ہے۔۔۔۔۔؟‘‘شکیل احمد نے اس کا ہاتھ جھٹک کر کہا تو عینی سہم سی گئی :
’’بہت ظالم ہو تم ۔ جوان لڑکیوں سے تنہائی میں بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا تمہیں تو۔۔۔۔۔ زندہ ہے تمہاری بیوی۔ میرے عاشق کی طرح مر نہیں گئی ۔ وہ ایمرجنسی ڈیوٹی پر ہے۔۔۔۔۔ آج فیصل اچانک ملنے آ گیا تو میں نے تانیہ سے درخواست کر کے کچھ وقت یہاں گزارنے کی اجازت حاصل کر لی۔۔۔۔۔ اس سارے معاملے میں وہ بے قصور ہے۔۔۔۔۔ اسے کنفرم نہیں تھا کہ تم یوں اچانک ٹپکنے والے ہو، ورنہ کبھی ہمیں گھرکی چابی نہ دیتی۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ تانیہ بہت ذہین ہے۔مگر مجھے یقین ہے کہ تم نے یہ شادی اس کی ذہانت سے نہیں بلکہ خوب صورتی سے مرعوب ہو کر کی ہے۔ سچ کہوں! تم تو دیکھنے میں ہی حسن پرست لگتے ہو۔۔۔ کیوں ٹھیک کہا ناں میںنے؟‘‘تانیہ موقع کی نزاکت کو فراموش کر کے اس کے گرد اپنی ادائوں سے جال بُن رہی تھی ۔
شکیل احمد کو اس کے وجود سے گھن محسوس ہونے لگی تھی۔ جب کہ تمام تر بے توجہی کے باوجود عینی اس کے قریب ہونے کی کوشش میں تھی۔ یہاں تک کہ شکیل احمد اب اس کے جسم سے اٹھنے والی مسحور کن خوشبو کو بھی محسوس کرنے لگاتھا۔۔۔۔۔پھر جیسے ہی عینی نے اس کے گلے میں بانہیں ڈالنے کی کوشش کی شکیل احمد نے دھکا دے کر اسے واپس بیڈ پر پٹخ دیا۔اس کی بے اعتنائی دیکھ کر عینی کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ کر بچوںکی طرح پائوںہلانے لگی:
’’ مسٹر اینگری ینگ مین! مت بھولو کہ تم نے ایک جیتے جاگتے انسان کو قتل کیا ہے۔۔۔۔۔ اور وہ بھی اپنے بیڈ روم میں۔‘‘ عینی طنزیہ لہجے میں بولی۔
’’میں کہتا ہوںفوراََ دفع ہو جائو یہاں سے ورنہ ایک کے بجائے دو لاشیں پڑی دکھائی دیں گی یہاں ۔‘‘ وہ غصے سے کانپ رہا تھا۔
اس کی بڑھک سن کر عینی نے مترنم آواز میں قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔ پھروہیں بیٹھے بیٹھے ایک توبہ شکن انگڑائی لی اور بیڈ سے اتر کر کیٹ واک کرتی شکیل احمد کے قریب آ گئی:
’’ضرور مار دینا۔۔۔۔۔مگر ایک آخری خواہش ہے کہ مجھے براہ راست گولی مت مارنا۔۔۔۔۔میںبہت اذیت پسند ہوں۔ مجھے قطرہ قطرہ، سسک سسک کر مرنا بہت اچھا لگے گا۔۔۔۔۔اپنی جان بچانے کے لیے تمہیں اس کار خیر کو انجام دینا ہی ہو گا کیوں کہ تم نے فیصل کو قتل کیا ہے ۔۔۔۔۔اور اس واردات کی عینی شاہد، صرف عینی ہے۔۔۔۔۔کیسا فلمی سین ہو گا وہ جب پولیس تمہیں قتل کے جرم میں گھر سے گرفتار کرے گی اور تانیہ تمہارے جیتے جی بیوہ ہو جائے گی۔ ‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ وہ چونکا۔
’’یہی کہ میں نا تواں سی لڑکی اس بھاری بھرکم لاش کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔اور یقین دلاتی ہوں کہ کبھی کسی کو اس بارے کچھ نہیں بتائوں گی مگر۔۔۔۔۔‘‘عینی نے فقرہ جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ دیا۔
’’اب یقینا تم بلیک میلنگ پر اتر آئو گی۔۔۔۔۔ ‘‘
’’مجھے تمہاری ذہانت پر قطعاََ شک نہیںہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی بیوی کے آنے سے قبل ہی معاملہ طے کر لو۔ورنہ میں فون کر کے اسے سب کچھ بتا نے والی ہوں۔‘‘ عینی خباثت سے اپنی بائیں آنکھ کا کونا دبا کر بولی ۔
’’کیا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔؟‘‘ شکیل احمد نے گہری سانس لی۔
’’ پہلے تم سکون سے بیٹھ جائو ۔۔۔۔۔ لگتا ہے تانیہ خیال نہیں رکھتی تمہارا۔ چہرہ کیسے سرخ ہو رہا ہے ۔ بچوں کی طرح غصہ آتا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔ ‘‘عینی زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’گھبرائو مت ، مجھے بہت کم رقم چاہیے ۔۔۔۔۔ تمہیں فیصل کے بارے پریشان ہونے کی قطعاََ ضرورت نہیں۔ اس کا بندوبست میں خود کر لوںگی۔ ‘‘
’’کتنی رقم چاہیے ؟‘‘ شکیل احمد اس کی آنکھوںمیںجھانکتے ہوئے بولا۔
’’صرف ایک لاکھ۔۔۔وہ بھی نقد۔ویسے جان بچانے کے لیے یہ رقم کچھ زیادہ نہیںہے۔‘‘
’’ اس مصیبت سے کس طرح چھٹکارہ پائو گی ۔۔۔۔۔؟ ‘‘ شکیل احمد نے لاش کی جانب اشارہ کیا۔
’’یہ میرا مسئلہ ہے۔ تمہیں اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ‘‘
عینی نے کورے لہجے میںجواب دیا۔۔۔۔۔ اور کلاک کی جانب دیکھ کر بولی:
’’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔۔۔۔۔تم جلدی سے رقم نکال لائو۔مجھے معلوم ہے نئے گھر کے ایڈوانس کے لیے تم نے رقم اپنی تجوری میں محفوظ کر رکھی ہے ۔۔۔۔۔لہٰذا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ ‘‘یہ کہہ کر عینی اپنی جگہ سے اٹھی اور خون آلود بیڈ شیٹ اکٹھی کر کے لاش کے سر اور جسم کے گرد لپیٹنے لگی۔
’’کتنی مکاری اور کمینہ پن ہے تمہاری ذات میں۔۔۔۔۔‘‘شکیل احمد اس کی جرأت دیکھ کر بڑبڑایا توعینی قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
بیڈ روم سے نکل کر شکیل احمد اسٹڈی کی جانب بڑھا اور تجوری سے ایک لاکھ ر وپے نکا ل لایا۔ اس اثنا میں عینی لاش کا سر بیڈ شیٹ میں اچھی طرح لپیٹ چکی تھی۔
’’اٹھائوپیسے اور فوراََ یہاں سے دفع ہو جائو۔ ‘‘ ‘‘ شکیل احمد نے ایک لاکھ روپے اس کے سامنے بیڈ پر پھینکے۔
’’کیا تم محبت سے رخصت بھی نہیں کرو گے۔۔۔۔۔؟‘‘ عینی نے رقم سمیٹ کر ادا سے کہا۔
’’بکواس بندکرو۔۔۔۔۔اور نکل جائو یہاںسے۔ورنہ تمہیں بھی یہیں ڈھیر کردوں گا۔‘‘ وہ غرایا۔
’’تمہاری یہ عادت مجھے بہت پسند آئی ہے کہ شیر کی طرح غراتے رہتے ہو۔۔۔۔۔ کاش تم سرکس کے شیر ہوتے اور بلی کی طرح میرے تلوے چاٹتے ۔۔۔۔۔‘‘عادت کے ہاتھوں مجبور عینی نے جملہ چست کیا اور پرس سے برش نکال کر بال سنوارنے لگی:
’’ باہر سڑک کے کنارے میری گاڑی کھڑی ہے ۔ اسے ریورس کر کے گیٹ کے پاس لے آئو۔تاکہ لاش ٹھونسنے میں آسانی رہے۔۔۔۔۔ تب تک میں اپنا میک اپ ٹھیک کر لوں۔ ممکن ہے راستے میں کسی پولیس انسپکٹر کو پٹانا پڑ جائے۔‘‘
عینی نے پرس سے کار کی چابی نکال کر اس کی طرف اچھالی اور گاڑی کا نمبر بتا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ شکیل احمد کا خون اس کی حرکت دیکھ کر کھول گیا تھا ۔۔۔۔۔مگر مرتا کیا نہ کرتا، چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔
کچھ دیر میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے اور شکیل احمد نے عینی کی مدد سے لاش کو کار کے پچھلی سیٹوں کے درمیان ٹھونس کر اوپر سے چادر دے دی۔
اگلے ہی لمحے عینی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور شیشہ نیچے کر کے اسے قریب بلایا:
’’تانیہ آئے تو اسے کہنا کہ ہم تمہارے آتے ہی نکل گئے تھے ۔۔۔۔۔ اور ہاں پریشان مت ہونا۔ سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ اب تم سکون سے واپس جائو۔۔۔۔۔میرا لمس ابھی تک خواب گاہ کے بستر میں تمہارا منتظر ہے ۔‘ ‘ عینی نے ایک ہوائی بوسہ اس کی طرف اچھالا او ر ایکسیلیٹر پر پائوں کا دبائو بڑھا دیا۔
…٭…٭…
عینی کو رخصت کر کے شکیل احمد کمرے میں آیااور بے دلی سے کپڑے تبدیل کر کے آرام کرسی پر بیٹھ گیا ۔ اس کا ذہن تیزی سے صورت حال کا جائزہ لے رہا تھا۔ فی الحال وہ تانیہ کو فون کرنے کے موڈ میںنہیں تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ تانیہ کی آمد سے قبل ہی اپنی بد حواسیوں پر قابو پا کر پھر سے ہشاش بشاش دکھائی دینے لگے۔
عینی کی باتوں سے اسے یہ اندازہ بھی ہو گیا تھا کہ تانیہ بے قصور ہے اور محض مروت میں اجازت دے کر پھنس گئی۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک بیڈ روم کا دروازہ کھلا اور تانیہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہو ئی۔ شکیل احمد نے جوابی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کیا تو وہ اپنا پرس صوفے پر پھینک کر شوہر کی بانہوں میں سمٹ گئی:
’’تم نے بتایا ہی نہیں کہ آج واپس آنے والے ہو۔۔۔۔۔؟‘‘ لہجے میں محبت بھرا شکوہ تھا ۔
’’بس اچانک واپسی کا پروگرام بن گیا۔سوچا تمہیں سرپرائز دوں گا مگر۔۔۔۔۔ ‘‘
’’ مگر مجھے گھر میں نہ پا کر پریشان ہو گئے ۔۔۔۔۔اور موڈ آف ہو گیا۔‘‘ تانیہ نے اس کی بات کاٹی۔
’’ہاں بہت۔۔۔۔۔ایک اداسی برس رہی تھی درو دیوار سے تمہارے بنا ۔ ‘‘وہ نظریںچراتے ہوئے بولا۔
’’سوری ڈیر۔۔۔۔۔ایک ایمرجنسی ہو گئی تھی۔ اس لیے جانا پڑا ۔‘‘
’’اٹس اوکے۔۔۔۔۔‘‘ وہ مسکرا کر تانیہ کے گھنے بالوںمیں انگلیاں پھیرنے لگا۔نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں تانیہ کے بالوں کی رنگت بالکل عینی کے بالوں کی سی تھی۔وہ تانیہ کو قتل کے بارے بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
’’چائے پیو گے۔۔۔۔۔لمبے سفر سے آئے ہو۔۔۔۔۔‘‘ وہ اس کی بانہوں میں آتے ہی مدہوش سی ہو گئی۔
’’تھکن ہی تو اتار رہا ہوں۔۔۔۔۔تم ساحسین وجمیل ہمسفر میسر آ جائے تو زندگی میں تھکن کی گنجائش نہیںرہتی۔‘‘ شکیل احمد نے ماحول کو خوشگوا ر بنانا چاہا۔
’’ایک بات بتائو۔۔۔۔۔کیا میںہمیشہ تمہاری نظروںمیں پر کشش رہوں گی؟‘‘ تانیہ نے پوچھا۔
’’تمہارا حسن بے مثال ہے جانِ من ۔۔۔تم کبھی نہیںبدلو گی۔خدا نے تمہیں خاص میرے لیے بنایا ہے ۔۔۔۔۔اور میں تمہیںکبھی ماند نہیںپڑنے دوں گا۔‘‘ شکیل احمد بھی اس کی قربت میں سب کچھ بھول گیا تھا ۔
’’اور تمہیںمیرے لیے۔۔۔۔۔ لیکن جانے کیوں بعض اوقات میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔‘‘ تانیہ نے اس کے کاندھے سے سر اٹھایا۔
’’وہ کیوں۔۔۔۔۔؟‘‘ شکیل احمد چونکا۔
’’اس لیے کہ تم کام کے سلسلے میں اکثر گھر سے باہر رہتے ہو۔اگر تمہارا د ل کسی اور نے چُرا لیا تو۔۔۔۔۔ میں جیتے جی مر جائوں گی شکیل۔‘‘تانیہ کے لہجے میں خوف سا تھا۔
’’فضول باتیں مت سوچا کرو ۔۔۔۔اب جائو اور اچھی سی چائے بنا لائو۔‘‘ شکیل احمد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔ دلاسہ سن کر تانیہ کچن کی جانب بڑھی اور پھر کچھ یاد آنے پر پلٹتے ہوئے بولی:
’’تمہاری ملاقات عینی اور فیصل سے ہوئی تھی؟‘‘
’’ہاں ۔۔۔۔۔میرے آتے ہی وہ لوگ یہاں سے رفو چکر ہو گئے تھے۔‘‘ اس نے بے پروائی سے جواب دیا۔
’’ظاہر ہے تم نے رنگ میں بھنگ جو ڈال دیا ہو گا۔۔۔۔۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی اور قریب پہنچ کر بولی: ’’تمہیںیاد ہے نا شادی سے پہلے ہم بھی کئی مرتبہ اپنے ایک دوست کے گھر ملے تھے۔‘‘
’’ہاں یاد ہے ۔۔۔۔۔مگر جانے کیوں ان کا یہاں رکنا مجھے کچھ اچھا نہیں لگا۔‘‘
’’یوں نہیں سوچتے۔۔۔۔۔ وہ دونوں بہت اچھے ہیں۔ فیصل ایک سلجھا ہوالڑکا ہے۔ وہ تمہاری جاب سے بہت متاثر ہے۔ میں نے اسے بتایا تھا تم مجھ سے بہت محبت کرتے ہو اور مجھ پر اعتماد ہے۔ میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ شکیل میرے بارے میں اتنا جذباتی ہے کہ جو شخص میرے قریب آنا چاہے گا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔‘‘ وہ فخر سے بولی۔
’’اچھا ۔۔۔۔۔اور کیا بتایا ؟‘‘ شکیل احمد نے اسے اکسایا ۔
’’ یہ بھی کہ ہم نئے گھر کا ایڈوانس بھی دینے والے ہیں۔۔۔۔۔ جو ہمارے خوابوں کی تعبیر ہو گا۔‘‘
’’تمہیں یہ سب نہیں بتانا چاہیے تھا۔‘‘ شکیل احمد نے برا منایا۔
’’ مگر کیوں۔۔۔۔۔وہ دونوں کوئی غیر تو نہیں۔‘‘
’’تم لوگوں کی نفسیات نہیں سمجھتیں۔۔۔۔۔لوگ اسی طرح دوسروںکو کرید کر ان کی مالی حیثیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں جس سے جرائم میںمدد ملتی ہے۔۔۔۔۔احتیاط کیا کرو میری معصوم بیوی ۔ ‘‘
شکیل احمد سمجھ گیا تھا کہ عینی نے تانیہ کی مہیا کردہ معلومات سے فائدہ اٹھا کر ایک لاکھ روپے ہتھیائے تھے۔ یہ رقم انہوں نے گھر میں رکھ کر غلطی کی تھی۔
…٭…٭…
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔
شکیل احمد اور تانیہ ٹی وی لائونج میںبیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔تانیہ نے آگے بڑھ کرریسور اٹھا یا۔۔۔۔۔ اور پھر پلٹ کر شکیل احمد کا گہری نظر سے جائزہ لیتے ہوئے بولی:
’’کوئی لڑکی ہے۔۔۔۔۔تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔‘‘
شکیل احمد اٹھ کر اس کے پاس پہنچ گیا اور ریسیور تھامتے ہوئے بولا:
’’یس شکیل احمد سپیکنگ!‘‘
’’کیسے ہو شکیل احمد۔۔۔۔۔‘‘دوسری جانب سے عینی کی آواز سنائی دیتے ہی اس کے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی۔’’جی فر مائیے مس طاہرہ خیریت! آپ نے اس وقت فون کیوں کیا۔۔۔۔۔ ؟‘‘
عینی نے شکیل احمد کی بد حواسی سے محظوظ ہو کر قہقہہ لگایا :’’تم اچھے شوہر ہی نہیں، بہترین اداکار بھی ہو۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے تانیہ تمہارے پاس ہی کھڑی ہو گی۔‘‘
’’ہاں یقینا۔۔۔۔۔‘‘
’’یعنی اب مجھے فون پر بھی آواز دھیمی رکھنا پڑے گی۔۔۔۔۔یہ تو بہت نا انصافی ہے ڈارلنگ۔‘‘ وہ اپنی حرکتوں پر اتر آ ئی تھی ۔
’’ مس طاہر ہ! جب تک آپ کام کی نوعیت نہیں بتائیں گی میں مدد نہیںکر سکوں گا ۔‘‘ وہ دل میں اسے کوستا ہوا بولا۔
’’ تم پچاس ہزار روپے لے کر سیدھے میرے فلیٹ میں آجائو۔ میں وہیں تمہاری منتظر ہوں۔۔۔۔۔یاد رہے اگر تم ایک گھنٹہ کے اندر نہ پہنچے تو اس کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔‘‘عینی نے غرا تے ہوئے دھمکی دی اور رابطہ منقطع ہو گیا۔
’’اوکے۔۔۔۔۔‘‘ شکیل احمد نے بھی ریسیور کریڈل پر رکھ دیا اور اپنے چہرے کے تاثرات چھپانے کے لیے دوسری طرف دیکھنے لگا۔
’’خیریت تو ہے؟‘‘تانیہ نے کے لہجے میں تشویش تھی۔
’’مجھے فوری دفتر جانا ہوگا۔۔۔۔۔‘‘باوجود کوشش کے وہ اپنی آواز میں لرزش نہیں چھپا سکا تھا۔
’’مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو؟‘‘ تانیہ عقب سے نکل کر اس کے روبرو آ گئی۔۔۔۔۔پھر اچانک کوئی نیا خیال ذہن میں آتے ہی اس کے چہرے کی رنگت زرد پڑ گئی:
’’سچ بتانا ۔۔۔۔۔کسی دوسری عورت کا معاملہ تو نہیںہے؟‘‘
’’اپنے ذہن میں وہم مت پالو۔ایسی کوئی بات نہیںہے۔‘‘ وہ جھنجلایا۔
’’ پھر تم الجھے الجھے کیوں ہو؟‘‘
’’یقین کرو مجھے دفتر والوں نے بلایا ہے۔میںبھلا تم سے کیوںجھوٹ بولوں گا۔‘‘شکیل احمد نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوںمیںلیتے ہوئے کہا۔
’’پھر وہ کون تھی جس نے تمہیں فون کیا۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے وہ طاہرہ نہیںتھی۔تم نے اس کا غلط نام لیا ہے۔طاہرہ کی آواز میں اچھی طرح پہچانتی ہوں اور وہ بھی مجھے جانتی ہے۔ یہ کوئی اور لڑکی تھی جو آواز بدل کر بولنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اپنی شناخت مجھ سے پوشیدہ رکھناچاہتی ہو۔۔۔۔۔بولو کون تھی وہ؟‘‘ تانیہ باقاعدہ تفتیش پر اُتر آئی ۔
شکیل احمد کافی دیر اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔مگر جب تانیہ کسی بات پر مطمئن نہ ہوئی تو وہ سب کچھ سچ سچ بتانے پر مجبور ہو گیا۔۔۔۔۔وہ مزید جھوٹ بول کر گھر کا ماحول خراب نہیںکرنا چاہتا تھا۔ تانیہ بد گمان ہو ، یہ کسی طور اسے منظور نہیں تھا ۔چنانچہ اس نے تانیہ کو سب کچھ سچ سچ بتادیا۔
’’تم رقم دے کر اس کا منہ بند کردو۔۔۔۔۔‘‘تانیہ ساری کہانی سن کر بے اختیار رو دی ’’تم فوراََ رقم لے جائو اس کے پاس۔میںتمہیں کسی قیمت پر کھونانہیںچاہتی۔۔۔۔۔ میںتمہارے بغیر جی نہیں سکوں گی۔‘‘
’’ مگر وہ رقم ہم نے گھر خریدنے کے لیے بہت محنت سے جمع کی ہے ۔۔۔۔۔اور میںپراپرٹی ڈیلر سے بات بھی کر چکا ہوں۔‘‘ شکیل نے سے سمجھانا چاہا۔
’’میرے ہر خواب کی تعبیر صرف تم ہو شکیل۔مجھے اس نیند سے زبردستی جگانے کی کوشش مت کرو جومجھے جاگتی آنکھوں سے اپنے گھر کی تباہی دیکھنے پر مجبور کر دے۔۔۔۔۔پلیز تم رقم اسے دے آئو۔ ہم یہ شہر چھوڑ کر کسی ایسی جگہ جا بسیں گے جہاں کوئی ہمیں نہ جانتا ہو۔‘‘
تانیہ نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میںسرہلاتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔ رقم تجوری سے نکالتے ہوئے بھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ عینی یقینا تانیہ کو ورغلا کر پوچھ چکی ہو گی کہ ہمارے پاس کل کتنی رقم موجودہے۔۔۔۔۔ اور وہ اسی رقم کو ذہن میں رکھ کرفائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔
عینی ایک ناگن صفت عورت تھی۔ مگر شکیل احمد بھی اتنا کمزور نہیں تھا کہ ہر بار اس کے ڈنک کا نشانہ بنے ۔ چنانچہ اس مرتبہ رقم لے جانے کے بجائے اس نے معاملے کو جڑ سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا او ر پھر ریوالور لوڈ کر کے گھر سے باہر نکل گیا۔
…٭…٭…
عینی کا فلیٹ وہاں سے پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔ وہ ذہنی طور پر ہر طرح کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔منزل پر پہنچ کر کار پارک کرنے کے بعد شکیل احمد لفٹ کے ذریعے تیسرے فلور پر جا پہنچا۔۔۔۔۔ جلد ہی وہ عینی کے فلیٹ کے سامنے موجود تھا۔
’’دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔۔‘‘
کال بیل کا بٹن دباتے ہی انٹر کام بیل سے عینی کی مدھر آواز سنائی دی تو وہ دروازہ کھو ل کر بلا جھجک اندر چلا گیا۔فلیٹ میں مدہم روشنی تھی اور دھیما میوزک بج رہا تھا۔ لیکن عینی کہیںدکھائی نہیں دے رہی تھی۔ وہ میوزک کی آواز کے تعاقب میں آگے بڑھا اور ایک کمرے میں داخل ہو گیا جسے خواب گاہ کے طور پرترتیب دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ کمرے میں دودھیا روشنی پھیلی ہوئی تھی اور سامنے بیڈ پر عینی شب خوابی کا لباس پہنے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی ۔
’’ویلکم ۔۔۔۔۔‘‘ وہ شکیل احمد کو دیکھ کر خوشدلی سے مسکرائی۔ ’’جانے کیوں مجھے وہم سا تھا کہ تم نہیں آئو گے۔ لیکن اچھا لگا تمہیںسامنے دیکھ کر۔۔۔۔۔‘‘
شکیل احمد نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔
’’ اب آ گئے ہو تو دور کیوںکھڑے ہو۔۔۔۔۔ آئو میرے پاس بیٹھو۔آج بہت سی باتیں کرنا چاہتی ہوں تم سے ۔‘‘ عینی اسے دیکھ کر کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔
مگر شکیل احمد باتوں میں وقت برباد کرنے کے بجائے کام نمٹانے کا فیصلہ کر کے آیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عینی کو سامنے دیکھتے ہی اس نے کوٹ کی جیب سے ریوالورنکال لیا۔
عینی کی آنکھیں اب ریوالور کی نال پر مرکوز تھیں۔ خطرہ محسوس کرتے ہی وہ سنبھل کر اٹھ بیٹھی اور پھر خوفزدہ ہو کرچلائی ۔
’’ گولی مت چلانا شکیل ۔۔۔۔۔دیکھو پلیز! ایسا مت کرنا۔‘‘ عینی کی آواز کانپ رہی تھی ۔
’’مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے۔۔۔۔۔تم جیسی جھوٹی ،مکار اور حرافہ یہ سمجھتی ہے کہ میں بے وقوف ہوںاور جب بھی رقم مانگو گی میں آسانی سے تمہارے ہاتھ میں تھما کر گڑگڑائوں گا کہ پولیس کو میرے راز سے آگاہ مت کرنا۔۔۔۔۔تم مجھے ساری زندگی بلیک میل کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھی ہو شاید۔ تمہارے دماغ میں بھس بھرا ہوا ہے عینی ۔۔۔۔۔آج میں ہر صورت تمہارا بندوبست کر کے جائوںگا۔‘‘
جیسے ہی عینی دوڑتی ہوئی اس کے قریب پہنچی شکیل احمد نے ایک زور دار گھونسااس کے پیٹ میں رسید کیا اور وہ اچھل کرکئی فٹ دور جا گری۔
’’ تم پاگل ہوئے چلے جا رہے ہو۔۔۔۔۔دیکھو تم ایسا کچھ نہیںکرو گے جس سے مجھے نقصان پہنچے۔‘‘ عینی درد کی شدت سے دوہری ہورہی تھی مگر نظریں بدستور شکیل احمدکے ہاتھ میںپکڑے ہوئے ریوالور پر مرکوز تھیں۔
’’شکیل احمد پلیز۔۔۔۔۔گولی مت چلانا۔۔۔۔۔ میری بات سنو پلیز۔‘‘
عینی شدید تکلیف کے باعث یہی کہہ پائی تھی کہ شکیل احمد کو اپنے عقب میں کسی آہٹ کا احساس ہوا۔ خطرے کی بو پاتے ہی اس نے تیزی سے گھوم کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔۔ مگر اسی لمحے ایک شدید ضرب لگتے ہی ہاتھ میں پکڑا ہوا ریوالور گرفت سے آزاد ہو کر فرش پر جا گرا۔ ساتھ ہی دوسرا گھونسا شکیل احمد کے جبڑے پر پڑاتو اس کی آنکھوںکے سامنے تارے ناچنے لگے۔۔۔۔۔ وہ منہ میں اپنے ہی گرم گرم خون کا نمکین ذائقہ محسوس کرنے لگا تھا۔
لیکن اس موقع پر شکیل احمد نے وقت ضائع کرنے یا حواس کھونے کے بجائے۔ تیزی سے ہوا میں غوطہ لگایا اور کچھ فاصلے پر پڑے ریوالور کو دوبارہ اٹھانے میںکامیاب ہو گیا۔۔۔۔۔ریوالور اٹھا کر اس نے پر اعتماد نظروں سے حملہ آور نوجوان کی طرف دیکھا اور بلا تاخیرنشانہ باندھ کر ٹریگر دبا دیا۔
فائر ہوتے ہی کمرے میں ایک بھیانک چیخ گونجی اور وہ آدمی کٹے ہوئے شہتیر کی طرح ڈھیرہو گیا ۔ اسے گرتا دیکھ کر شکیل احمد نے گہری سانس لی اور بغورمرنے والے کا چہرہ دیکھنے لگا۔
ادھر عینی بھی تیزی سے نوجوان کے پاس پہنچ گئی۔ اس کے لب تھرتھرا رہے تھے ، جسم بری طرح کانپ رہا تھا اور ہونٹوں سے سسکیاںاُبل رہی تھیں۔
’’فیصل ۔۔۔۔۔فیصل ۔۔۔۔۔‘‘
وہ بے سدھ نوجوان کو جھنجوڑ رہی تھی جو اس فانی دنیا سے بہت دور جا چکا تھا۔
’’فیصل۔۔۔۔۔کون فیصل۔۔۔۔۔؟‘ شکیل بری طرح چونکا۔
’’میںنے یہی سب بتانے کے لیے تمہیں یہاںبلایا تھا کہ فیصل مرا نہیںتھا۔۔۔۔۔ یہ سب تمہیں پھنسانے کے لیے ایک چال تھی۔ ‘‘عینی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’لیکن میںنے تو اسے قتل کر دیا تھا۔۔۔۔۔‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’ نہیں۔۔۔۔۔تم نے اسے نہیں مارا تھا۔۔۔۔۔ اس رات تمہارے ریوالور میں موجود گولیاں نقلی تھیں۔ فیصل کو یقین تھا کہ تم ہمیںبسترپر دیکھتے ہی گولی چلا دو گے لہٰذا اس نے گولیاں تبدیل کر دی تھیں۔ میں نے جان بوجھ کر تانیہ کا سلیپنگ گائون پہنا تھا تاکہ تمہارا ذہن مائوف ہو جائے اور تم یہی سمجھو کہ میں تانیہ ہوں۔۔۔۔۔نتیجہ ہماری توقع کے عین مطابق رہا اور تم نے ہمیںدیکھتے ہی فائر کر دیا ۔۔۔۔۔ قتل کے بعد میں نے تمہیں لاش سے دور ہی رکھا تم خون اور رنگ کا فرق محسوس نہ کر سکو۔اس مقصد کے حصول میں تمہارے بیڈ روم کی ہلکی نیلی روشنی نے ہماری بہت مدد کی ۔۔۔۔۔‘‘ عینی مسلسل روئے چلی جا رہی تھی۔
’’کیوںکیا تم نے یہ سب۔۔۔۔۔‘‘ شکیل احمد سر تھام کر اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔
’’تمہاری بیوی تانیہ کے کہنے پر۔۔۔۔‘۔‘
’’’کک ۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ‘‘ اسے زمین گھومتی محسوس ہوئی ۔
’’سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔اور میں نے بھی بنا عقل استعمال کیے اس احمقانہ سازش میں ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا۔۔۔۔۔کیوں آ گئی میں اس کی باتوںمیں۔۔۔۔۔‘‘ وہ فیصل کا سر گود میں رکھ کر بین کرنے لگی۔
’’تانیہ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ تم ایک بار پھر جھوٹ بول کر الجھانا چاہتی ہو مجھے۔‘‘ تانیہ کا نام سن کرشکیل احمد نے کہا۔
’’فیصل کی قسم میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے۔ وہ فیصل کو پسند کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ میں دھیرے دھیرے تمہار ی جیب سے اس کے لیے رقم نکلوائوں۔تاکہ معقول رقم جمع ہوتے ہی وہ تم پر کوئی بڑا الزام لگا کر علیحدگی حاصل کر لے اور فیصل سے شادی کر نے کے بعد یہ ملک چھوڑ جائے۔۔۔۔۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر وہ بنا کسی جواز کے خلع مانگے گی تو تم اسے پھوٹی کوڑی نہیں دو گے۔ اسی لیے تانیہ نے یہ چال چلی اور مجھے بھی معقول رقم کا لالچ دیا۔۔۔۔۔۔مگر اسی دوران مجھے فیصل سے محبت ہو گئی۔ وہ بھی مجھے پسندکرنے لگا تھا۔ چنانچہ ہم دونوںنے یہی فیصلہ کیا کہ تمہیں یہاں بلا کر حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے ۔ کیوںکہ آج رات ہم دونوں یہ شہر چھوڑ کر بہت دور جانے والے تھے۔مگر تمہاری جلد بازی نے ہمیں بربا د کر دیا شکیل احمد۔۔۔۔۔‘‘
عینی ایک مرتبہ پھر فیصل کے سینے پر سر رکھے بین کررہی تھی۔۔۔۔۔ شکیل احمد دیر تک بت بنا ان دونوں کے پاس بیٹھا رہا ۔پھر اس نے فیصل کی نیم وا بے نور آنکھیں اپنے ہاتھوں سے بند کیںاور اٹھ کر ٹیلی فون کی جانب بڑھا تاکہ پولیس اسٹیشن میں قتل کی اس واردات کی اطلاع دے سکے اعتراف جرم کرلے۔
/

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close