Naeyufaq Jul-17

حاضر غائب

زرین قمر

گیری ڈیول اس اپارٹمنٹ کی سجاوٹ سے بہت متاثر ہوا تھا۔ وہ وہاں ملک کے مایا ناز اور سب سے زیادہ مشہور اور مہنگے اداکار سائمن ورک کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں آیا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی اسسٹنٹ تھریسا بھی تھی‘ جس نے ایک ماہ پہلے ہی مغربی لندن کے CSI ڈپارٹمنٹ کو جوائن کیا تھا‘ وہ آثار قدیمہ کی شناخت کی صلاحیت رکھتی تھی اور نوادرات اس کا خاص موضوع تھا۔ اس وقت بھی اس کی نظریں ایک میز پر جمی ہوئی تھیں‘ یہ میز شاید خودکشی کی واردات میں استعمال کی گئی تھی لیکن تھریسیا کچھ اور ہی دیکھ رہی تھی۔
’’اوہ… گیری‘ اس میز کو دیکھو یہ تو آثار قدیمہ میں بہت اہم مقام رکھتی ہوگی۔‘‘ تھریسیا کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔
’’کیا مطلب؟‘‘ گیری نے اس کی بات نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
’’ارے بھئی یہ نپولین بونا پارٹ کے زمانے کی میز ہے اور وہ دیکھو… جس پر سائمن کا کمپیوٹر سیٹ رکھا ہے وہ بھی اس جیسی ہی میز ہے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔ ’’تم نہیں جانتے ہوگے کہ یہ دونوں نادر میزیں فرانس کے ایک تاجر نے ایک زمانے میں ایک نیلامی سے خریدی تھیں۔‘‘
’’مجھے تمہاری آثار قدیمہ کے بارے میں معلومات پر حیر ت ہے لیکن ہم یہاں میزیں دیکھنے نہیں بلکہ ملک کے مشہور اور دولت مند ترین اداکار سائمن ورک کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں آئے ہیں۔‘‘ گیری نے اسے یاد دلایا۔
’’ہاں میں جانتی ہوں۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔ ’’لیکن اس اپارٹمنٹ میں ایسی بہت سی نادر چیزیں نظر آرہی ہیں اس کا مطلب ہے کہ سائمن نوادرات جمع کرنے کا شوقین تھا۔‘‘
’’ہاں‘ ایسا ہی لگتا ہے… تم نے ٹشو پیپرز دیکھے… میں نے اپنی زندگی میں اتنے خوبصورت نرم و گداز ٹشو پیپرز نہیں دیکھے۔‘‘ گیری نے تعریفی انداز میں کہا۔ اس کے ساتھ آنے والا کمپیوٹر ہیکر اسپیڈ اس وقت سائمن ورک کے پرسنل کمپیوٹر پر کام کررہا تھا وہ اس کا ڈیٹا اور ریکارڈ چیک کررہا تھا تاکہ ایسی معلومات جمع کرسکے جس کی مدد سے سائمن کی موت کا معمہ حل ہوسکے اس وقت سائمن ورک کی لاش کمرے کے فرش پر پڑی تھی اور اسے گیری اور اسپیڈ نے مل کر نیچے اتارا تھا ورنہ وہ چھت میں لگے ایک کنڈے سے بندھی ایک رسی کے ذریعے لٹک رہی تھی جو میز تھریسیا کی توجہ کا مرکز بنی تھی وہ سائمن کے پیروں کے نیچے تھی اور سائمن کا جسم کنڈے سے لٹکا جھول رہا تھا‘ سائمن کا کمپیوٹر انہیں آن ملا تھا اور اس کی مونیٹر کا اسکرین روشن تھا‘ کمرے کی لائٹیں آف تھیں اور مانیٹر اسکرین پر ایک این میٹیڈ فلم چل رہی تھی‘ اسپیڈ نے اپنا لیپ ٹاپ بھی سائمن کے کمپیوٹر سے کنیکٹ کیا ہوا تھا اور اس کا سار اڈیٹا کاپی کررہا تھا۔ گیری نے سفید رنگ کے دستانے پہنے ہوئے تھے اور وہ موق پر موجود شواہد جمع کررہا تھا اچانک اس کی نظر میز کی ٹوٹی ہوئی ایک ٹانگ پر پڑی اس کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا قریب ہی پڑا تھا جسے اٹھا کر گیری نے پلاسٹک کے ایک بیگ میں ڈال لیا تھا۔
’’جس میز پر سائمن کا کمپیوٹر رکھا ہے وہ اپنی جگہ پر بھی نہیں ہے یوں لگتا ہے جیسے اسے اس کی جگہ سے کھسکایا گیا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسرے کمرے میں اس کی سیکرٹری کی جو میز رکھی ہے وہ اس کی میز سے بڑی ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ہاں… یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی ہے۔‘‘ تھریسیا نے جواب دیا۔ ’’تم نے ایک اور بات نوٹ کی یہ میز ایک مکینیکل میز ہے اس کی درازیں اس کی سطح سے اوپر اٹھ جاتی ہیں ایسا جب ہوتا ہے جب تم اس میں لگے گیئر کو چھوتے ہو۔‘‘
’’کیا یہ مہنگی ہوگی؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’یقینا‘ کیونکہ یہ بھی نوادرات میں شامل ہے اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوگی۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’اس کی لاش دیکھ کر مجھے عجیب سا لگ رہا ہے یوں پھانسی لگا کر مرنا عجیب سا ہے دیکھو… اس کے ہونٹ نیلے پڑگئے ہیں اور آنکھیں حلقوں سے باہر آگئی ہیں۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’تمہیں اس ادارے کو جوائن کیے ہوئے ایک مہینہ تو ہوگیا ہے اب تک تو تمہیں ایسی باتوں کا عادی ہوجانا چاہیے تھا۔‘‘ گیری نے آہستہ سے کہا اور اسپیڈ سر ہلا کر خاموش ہوگیا‘ وہ اپنے کام میں خاصا منہمک تھا۔
’’یوں لگتا ہے جیسے میز کا ایک پایہ سائمن کے وزن سے ٹوٹا ہوگا۔‘‘ گیری نے کہا اس کی نظریں کمرے میں لگے سیکیورٹی کیمرے کی طرف تھیں ایسے ہی تین مزید کیمرے اور بھی وہاں لگے ہوئے تھے وہ بہترین کیمرے تھے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے استعمال ہونے والے مہنگے ترین کیمروں میں ان کا شمار ہوتا تھا‘ اس میں طاقتور ترین لینس لگے ہوئے تھے جو نقل وحرکت کو خود ہی محسوس کرکے ایکشن لیتے تھے اور ان میں دن اور رات کے حساب سے کام کرنے کا آٹومیٹک سسٹم تھا اندھیرے میں فلم بنانے کے لیے بھی اس میں الگ سے سسٹم موجود تھا۔ گیری پہلے ہی کیمرے کی لی گئی تصاویر اور فلمیں دیکھ چکا تھا اس نے اس فلم میں سائمن ورک کو مرنے کی کیفیت میں محسوس کیا تھا اس کا چہرہ تو نظر نہیں آرہا تھا لیکن اس کا لٹکا ہوا جسم میز گرنے کے بعد ہوا میں لٹک رہا تھا اور اس کے گلے سے نکلتی ہوئی کراہیں سنائی دے رہی تھیں اور پھر ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ اس کا جسم ساکت ہوگیا تھا۔
’’اس کمرے کی شان وشوکت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دولت جس طرح خرچ کرتا تھا اس کے بعد اس کے ساتھ جو ہوا وہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’اسے دولت جمع کرنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا وہ اپنے آسکر ایوارڈ تک بھاری قیمت پر فروخت کردیتا تھا۔‘‘ اسپیڈ نے کہا اس کی نظریں اپنے لیپ ٹاپ پر لگی ہوئی تھیں۔
’’نہیں میرا یہ خیال نہیں۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔ ’’اس کی زیادہ دولت 0n line کی دنیا سے آتی تھی اس کے آفس میں موجود ایک خاص عملہ اس کی فلموں کی آمدنی on line وصول کرتا تھا اس کی دولت کا ایک ذریعہ گرین ٹیکنالوجیز بھی تھیں اور اس کے علاوہ ایرو اسپیس سلائیٹس اور نیرکنٹرول ورکس سے بھی حاصل ہوتی تھی اسے اپنے ہر بزنس سے بے شمار آمدنی ہورہی تھی۔‘‘
’’میراخیال ہے بزنس میں اس کا جڑواں بھائی کرٹس ورک اس کا پارٹنر ہے۔‘‘ تھریسیا نے پوچھا وہ بہت دلچسپی سے گیری اور اسپیڈ کی باتیں سن رہی تھی۔
’’جب یہ حادثہ پیش آیا اس وقت کرٹس ورک ڈربن سے فلائی کرکے واپس آرہا تھا اس نے یہ خبر ابھی میڈیا سے پوشیدہ رکھی ہے‘ وہاں وہ ایک نیا پلانٹ کھولنے گیا تھا جب سائمن کی موت کی اطلاع لوگوں کو ملے گی تو میڈیا میں تو بڑا شور ہوگا وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں تھا۔‘‘ گیری نے کہا وہ اسپیڈ کی طرف مڑا۔ ’’میں وہ فلم دیکھنا چاہتا ہوں جو کمپنی کے منیجر نے سی سی کیمرے میں دیکھی ہے۔‘‘
’’لیکن وہ تمام فلمیں تو منیجر کے دیکھنے کے بعد سیکیورٹی کے پیش نظر لاک ڈائون کردی گئی ہیں اور انہیں باقاعدہ سیل کردیا گیا ہے۔‘‘ اسپیڈ نے بتایا اور اسی وقت اپارٹمنٹ کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔ گیری نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک سیکورٹی گارڈ کھڑا ہوا تھا جس کی ڈیوٹی سائمن کے اپارٹمنٹ ہی پر تھی۔
’’ابھی تک سائمن کی باڈی یہاں کیا کررہی ہے آخر اسے پیتھالوجی فریزر میں کب رکھا جائے گا؟‘‘
’’ایک گھنٹہ تک لگ سکتا ہے۔‘‘ گیری نے کہا اس کی نظریں تھریسیا پر تھیں جس نے ہاتھوں میں نوٹ بک پکڑی ہوئی تھی۔
’’چیف انسپکٹر ورڈن؟‘‘ تھریسیا نے آنے والے کو دیکھ کر کہا۔
’’ہاں میں اس تحقیقات کا انچارج ہوں۔‘‘ آنے والے نے بتایا۔
’’آج صبح تک تم انچارج تھے اور دوپہر سے میں ہوں۔‘‘ گیری نے کہا۔ ’’اور یہ صرف تحققیقات نہیں ہے بلکہ اب ذمہ داری تمہارے ادارے سے لے کر میرے ادارے کو دے دی گئی ہے چنانچہ تم جاسکتے ہو۔‘‘
’’گویا اسپیشل برانچ نے مجھے اس معاملے سے نکال باہر کیا ہے؟ کیوں یہ کیا سیاست ہے؟‘‘ انسپکٹر ورڈن نے کہا۔ ’’تم مجھے نکال کر یہ سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ تعاون کروں گا؟‘‘
’’جب مجھے تمہاری ضرورت ہوگی تو مجھے کیسے تمہارا تعاون حاصل کرنا ہوگا یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں ابھی مجھے تمہاری ضرورت نہیں تم جاسکتے ہو۔‘‘ گیری نے اسے چڑانے والے انداز میں کہا۔
’’بھاڑ میں جائو۔‘‘ انسپکٹر نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ اس نے باہر جاتے ہوئے دروازہ زور سے بند کیا تھا اور تھریسیا اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’ادھر آئو گیری‘ دیکھو میں نے اس کی اہم فائلوں تک رسائی حاصل کرلی… جلدی آئو۔ یہ بند ہورہا ہے۔‘‘ اسپیڈ نے سائمن کے کمپیوٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کسی نے اس کو سیٹ کردیا تھا کہ دوسری بار اگر اسے چلایا جائے تو یہ ایک نئی Key کے تحت صرف دو منٹ چل کر لاک ہوجائے اور پھر ہوا بھی یہی تھا گیری کے کمپیوٹر تک پہنچتے پہنچتے کمپیوٹر پھر لاک ہوگیا تھا۔
’’اوہ شٹ!‘‘ اسپیڈ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’میرا خیال ہے کہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے اگر ہم کورٹ سے رجوع کریں اور فلورنس کے نفسیاتی سینٹر کے لاک اپ میں موجود سپرمیکس کی خدمات حاصل کریں تو یہ کام آسان ہوسکتا ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’اسپیڈ‘ کیا تم اب بھی یہی کہوگے کہ ہمیں اس کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا۔
’’میں نے اس کے ساتھ کام نہیں کیا لیکن لوگوں سے یہی سنا ہے کہ وہ ایسے کیسوں کی گتھیاں بڑے آرام سے سلجھا لیتی ہے وہ اپنے کام میں ماہر ہے اور اسے کسی سپر اسپرٹ کی توجہ حاصل ہے اسی لیے تو اسے سپر میکس کا خطاب دیا گیا ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ہاں ہمیں اس کی ضرورت ہے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے تھریسیا میں تمہیں ذمہ داری دیتا ہوں ’سپر میکس‘ کو وہاں سے باہر نکالو اور اس سلسلے میں جو بھی اقدامات اٹھانے ہیں جلدی کرو۔‘‘ گیری نے کہا اور پھر اسپیڈ کی طرف مڑا۔
’’اس فلم کی ایک کاپی مجھے بھی دو اور دھیان رکھنا کاپی بالکل نیٹ اینڈ کلین ہو یہ فلم خودبخود پانچ سیکنڈ میں ختم ہوجائے گی میں اس کی کاپی محفوظ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آسکے۔‘‘ گیری نے کہا۔ اور دروازے کی طرف بڑھا۔
’’تم کہاں جارہے ہو؟‘‘ تھریسیا جلدی سے بولی۔
’’واپس آفس جارہا ہوں۔‘‘ گیری نے کہا اور تھریسیا بھی اس کے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔
ژ…ژ…ژ
بیڈلم کے نفسیاتی کیئر سینٹر میں بعض اوقات کچھ فیملیز وزٹ کرنے بھی آجاتی تھیں جہاں سلاخوں کے پیچھے بنے ہوئے کمروں میں نفسیاتی مریض موجود ہوتے پھر وہاں کا سیکیورٹی گارڈ ایک ایک مریض کے بارے میں اس کی دلچسپ کہانی آنے والوں کو سناتا ایسے ہی کمروں میں سے ایک کمرے میں اگاتھا وچلے بھی رہتی تھی لیکن اس کا کمرہ دوسروں کے مقابلے میں بہت مختلف تھا اس کا کمرہ صاف ستھرا اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے آراستہ تھا اس کے فرش پر موٹا خوبصورت قالین بچھا ہوا تھا ایک کونے میں ٹی وی رکھا تھا اور دوسرے کونے میں رائٹنگ ٹیبل موجود تھی اس کمرے کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کسی نفسیاتی سینٹر میں موجود ہے‘ ایک دیوار میں شیشہ لگا تھا جو اندر سے باہر کا منظر نہیں دکھاتا تھا بلکہ باہر سے اندر کا منظر صاف نظر آتا تھا اگاتھا وچلے کو ایسی جیکٹ پہنائی گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بازو بندھ گئے تھے اور اس اسٹریٹ جیکٹ کی وجہ سے اسے ڈیوڈ نیوان کے ساتھ رقص کرنے میں مشکل ہوتی تھی۔
ڈیوڈ نیوان جس کی روح آج بھی وہی رائیل ایئرفورس کا یونیفارم پہنے ہوئی تھی جو اس نے ایک اداکار کی حیثیت سے فلم Amother of life and death میں پہنا تھا یہ فلم 1946 میں بنی تھی اور اس نے بڑی مقبولیت حاصل کی تھی اس فلم میں نیوان نے ایک ایسے عاشق کا کردار ادا کیا تھا جو مرچکا تھا اور اس کی روح اپنی معشوقہ کو اپنے غم سے دور رکھنے اور سکون بخشنے کے لیے واپس آجاتی ہے اس فلم میں ہیروئن کا کردار وقت کی مشہور اداکارہ کم نیٹر نے ادا کیا تھا۔ اگاتھا کسی کی محبت نہیں تھی لیکن وہ یہ جانتی تھی کہ اگر کوئی روح چاہے تو وہ انسانوں کے ساتھ رابطے میں آسکتی ہے نیوان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اگاتھا نے کبھی دانستہ یا نادانستہ طور پر کوشش نہیں کی تھی کہ وہ نیوان کی روح سے رابطہ کرے لیکن وہ خود ہی اس سے رابطے میں رہتی تھی اسے آنے والے حالات کے بارے میں بتاتی تھی اور اگاتھا کو بہت سے کیس سلجھانے میں اس کی مدد کرتی تھی۔ اگاتھا نے CIA کے سیکرٹ سروس کے اسپیشل ڈپارٹمنٹ میں کافی عرصہ ملازمت کی تھی اور بہت سے مشکل کیس سلجھائے تھے لیکن پھر نیوان کے ساتھ اس کی ملاقاتیں اتنی کثرت سے ہونے لگیں کہ پبلک مقامات پر بھی وہ عجیب وغریب حرکتیں کرنے لگی اور اسے نفسیاتی مریض سمجھ کر نفسیاتی کئیر سینٹر بھیج دیا گیا جہاں وہ کافی عرصے سے تھی لیکن کافی علاج کے باوجود اس کی ذہنی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی درحقیقت وہ نفسیاتی مریض تھی ہی نہیں اسی بات کو بنیاد بنا کر تھریسیا نے کاغذات تیار کروائے تھے اور کورٹ سے رضا مندی لینے کے بعد گیری کے حوالے کردیئے تھے اور آج گیری اپنے ساتھیوں کے ساتھ اگاتھا سے ملنے آیا تھا اور کمرے کے باہر موجود تھا وہ دیوار میں لگے شیشے سے اندر دیکھنے کی کوشش کررہے تھے‘ انہیں نظر آرہا تھا کہ اگاتھا جیسے ڈانس کررہی ہو لیکن اس کے دونوں بازو اسٹریٹ جیکٹ میں بندھے ہوئے تھے پھر بھی وہ رقص کے انداز میں گھوم رہی تھی بالکل ایسے جیسے کسی نے اسے رقص کے لیے سہارا دیا ہو اور وہ کسی کی بانہوں کے سہارے رقص کررہی ہو۔
’’تم نے مجھے بتایا نیوان کے مجھ سے ملنے کچھ لوگ آئے ہیں؟‘‘ اگاتھا نے نیوان کے کان میں سرگوشی کی جو اسے بانہوں میں لیے رقص میں مصروف تھا۔
’’ہاں… ڈیئر میں انہیں دیکھ سکتا ہوں… وہ دیوار میں لگے شیشے سے ہمیں دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ نیوان نے کہا۔
’’تمہیں بھی؟‘‘ اگاتھا نے غیر یقینی انداز میں کہا۔ ’’تم تو روح ہونا؟‘‘
’’وہ مجھے نہیں دیکھ سکتے لیکن میں انہیں دیکھ سکتا ہوں کیونکہ مجھے انہیں دیکھنے کے لیے شیشے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔‘‘ نیوان نے کہا اور اگاتھا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی وہ ٹی وی سے آنے والے میوزک کی آواز پر بار بار نیوان کے ساتھ بل کھاتی اور رقص کرتی رہی تھی۔
’’ان میں تین ڈاکٹرز اور ایک بوڑھی نرس بھی ہے۔‘‘ نیوان نے اگاتھا کو بتایا۔ ’’ایک ڈاکٹر اسے کچھ ہدایات بھی دے رہا ہے۔‘‘
’’یقینا وہ ڈاکٹر بی شپ ہوگا۔‘‘ اگاتھا نے کہا بات کرتے وقت وہ اس بات کا خیال رکھ رہی تھی کہ جب اس کی پشت دیوار میں لگے شیشے کی طرف ہو تب وہ نیون سے بات کرے تاکہ باہر موجود لوگ اس کے ہونٹوں کی جنبش نہ دیکھ سکیں۔ وہ جانتی تھی کہ ڈاکٹر بی شپ ہونٹوں کی حرکت سے الفاظ کا اندازہ لگانے کا ماہر ہے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی پرسنل فائل میں اس کے خلاف موجود الزامات میں اضافہ ہو۔
’’ڈاکٹر کچھ خوش نظر آرہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے لیے آئے ہیں۔‘‘ نیوان نے کہا۔
’’ہاں‘ اسے خوش ہونا بھی چاہیے۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور نیوان نے ایک ہاتھ بلند کرکے اپنی مونچھوں کو سہلایا۔
’’ان کی کاریں چند منٹ پہلے ہی باہر آکر رکی تھیں۔‘‘ نیوان نے اگاتھا کو بتایا۔ ’’ڈاکٹرز سارا دن مختلف فون کالز کا جواب دیتے رہے ہیں جو تمہیں یہاں سے لے جانے کے انتظامات کے سلسلے میں کی جاتی رہی ہیں۔‘‘ نیوان آہستہ آہستہ اس سے باتیں کررہا تھا وہ اس کی بانہوں میں جھول رہی تھی اسے دیکھ رہی تھی محسوس کررہی تھی‘ لیکن کمرے کے باہر کھڑے لوگوں کو وہ نظر نہیں آرہا تھا انہیں صرف اگاتھا نظر آرہی تھی جو اکیلی محو رقص تھی۔ پھر رقص کرتے کرتے اس کا چہرہ نیوان نے شیشے کی طرف کردیا تھا اس کے بال سفید تھے اور عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ تھی اس کے باوجود اس کا جسم کسی جوان عورت کی طرح چست اور تھرتیلا تھا۔
’’جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کو بتانا کہ سائمن ورک نے خودکشی کیسے کی۔‘‘ نیوان نے اگاتھا سے کہا۔
’’کیا تم میری مدد کروگے؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’ہوں… ہمیں ان کی مدد کرنا چاہیے۔‘‘ نیوان نے کہا۔
’’تم نے ان کے آنے سے پہلے ہی مجھے ان کے آنے کی خبر دے کر اچھا کیا نیوان۔‘‘ اگاتھا نے خوش دلی سے کہا۔
’’میرا خیال ہے یہی بات بہتر تھی کہ تمہیں بتادیا جائے۔‘‘
’’کیا میں تم سے درخواست کرسکتی ہوں کہ کچھ دیر اور مجھے اپنی بانہوں میں رہنے دو‘ مدتیں ہوگئیں میں نے کسی کے ساتھ یوں ڈانس نہیں کیا۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں میں نے بھی اپنا آخری رقص فلم ’’Better late than never‘‘ کے سیٹ پر میگی اسمتھ کے ساتھ کیا تھا وہ میری زندگی کا آخری رقص تھا۔‘‘
’’ہوں… تم یہ بات کئی بار مجھے بتاچکے ہو۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’تمہیں پتہ ہے باہر کھڑے لوگوں میں کیا بحث ہورہی ہے؟‘‘ نیوان نے اگاتھا سے پوچھا۔
’’نہیں… تم جانتے ہو یہ شیشہ صرف باہر سے اندر کا منظر دکھاتا ہے اندر سے باہر کا نہیں وہ تو صرف تم ہی ایک روح ہونے کے ناطے دیکھ سکتے ہو۔‘‘
’’ہاں‘ تم ٹھیک کہتی ہو اس وقت ڈاکٹر بی شپ غصے میں ہے کیونکہ اس کی مرضی کے خلاف یہ لوگ تمہیں لے جانے آئے ہیں اور انہوں نے تمہارے لے جانے والے ضروری کاغذات بھی اسے دیئے ہیں۔‘‘
’’تم کیا سمجھتے ہو‘ کیا یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’ہاں… ڈاکٹر بی شپ اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ تمہاری ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ تمہیں یہاں سے جانے نہیں دینا چاہتا لیکن وہ کچھ نہیں کرسکے گا۔‘‘ نیوان نے اگاتھا کو سمجھایا اور اسی وقت گیری نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذوں کی ایک موٹی فائل اپنے ساتھ کمرے کے باہر کھڑے ہوئے ڈاکٹر بی شپ کو تھمادی۔
’’تم اس کی حالت دیکھ رہے ہو وہ اب بھی پاگلُوں کی طرح ناچ رہی ہے۔‘‘ ڈاکٹر بی شپ نے دیوار میں لگے شیشے کی طرف اشارہ کیا جہاں اگاتھا اکیلی رقص کرتی نظر آرہی تھی۔
’’کیا اسے اسٹریٹ جیکٹ پہنانا بہت ضروری تھا… میرا مطلب ہے اس عمر میں وہ کسی کو کیا نقصان پہنچاسکے گی۔‘‘ تھریسیا نے کہا جو گیرن کی ساتھ وہاں آئی تھی۔
’’پچھلے منگل کو اگاتھا نے میرے ایک ٹرینی ڈاکٹر کا گھٹنہ توڑ دیا تھا اور دوسرے کے بازو کی ہڈی اتار دی تھی وہ اس وقت دوا کی ان گولیوں کو نکالنے کی کوشش کررہے تھے جو اگاتھا نے کھانے کی بجائے چھپادی تھیں اس نے یہ گولیاں صوفے کے کشن کے نیچے چھپائی تھیں۔‘‘
’’بھلا جیکٹ پہنے پہنے وہ ایسا کیسے کرسکتی ہے اس کے بازو تو بندھے ہوئے ہیں۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’اس نے اپنے ننگے پیروں سے یہ کام کیا تھا خدا جانے اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی۔‘‘ ڈاکٹر بی شپ نے کہا۔
’’تم نے اس کی رہائی کے کاغذات دیکھ لیے؟‘‘ گیری نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
’’ہاں… دیکھ لیے۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تم اس کی اسٹریٹ جیکٹ کی چابیاں مجھے دے دو۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’کیا کسی نے اسرائیلی سفارت خانے کو بتادیا ہے کہ اگاتھا کو رہا کیا جارہا ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا اور گیری نے اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔
’اگاتھا کو انہوں نے ہی یہاں رکھا ہوا تھا… تم احمقوں نے اس کی کیس فائل بھی پڑھی ہے؟ اس نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اسرائیلی وزیراعظم کے باڈی گارڈ پر حملہ کیا تھا وہ وزیراعظم کو اغوا کرنا چاہتی تھی اور اغوا کرکے ہیگ لے جانا چاہتی تھی کیونکہ اس کے خیال میں وہ بہت سے جنگی جرائم کا مرتکب ہوا تھا… یہ جنونی ہے‘ پاگل ہے‘ نفسیاتی ہے‘ اس کے اندر وہ ساری علامات ہیں جو کسی جنونی اور خبطی میں ہوتی ہیں اور وہ عقل سے بالا حرکتیں کرتی ہے وہ اکثر زور زور سے باتیں کرتی ہے اور یوں ظاہر کرتی ہے جیسے وہ جان لینن‘ یا جولیس سیزر سے باتیں کررہی ہو اس پر اکثر ایسے دورے پڑتے ہیں۔ ایک سال سے اس کا علاج ہورہا ہے لیکن اس میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔‘‘
’’اگر تم کوئی اعتراض کروگے تو میرے پاس دوسرا راستہ بھی ہے۔‘‘ گیری کے کمرے کے دروازے کے باہر رکھی ایک میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں کچھ دوائیں ایک سرنج اور اسٹریٹ جیکٹ کی چابی رکھی تھی۔
’’میں یہ سرنچ استعمال کروں گا جو تم اگاتھا کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہو۔‘‘ گیری کی بات پر ڈاکٹر مزید برہم ہوگیا تھا۔
’’مجھے اسرائیلی سفارت خانے سے بھی اجازت لینا ہوگی اگر مجھے وہاں سے تسلی بخش جواب نہیں ملا تو اسرائیلی حکومت سے رابطہ کرنا پڑے گا اور ان کے وکیلوں کے ذریعے تمہیں سبق سکھانا ہوگا۔‘‘ ڈاکٹر نے غصے سے کہا اس کی بات پر گیری طنزیہ انداز میں مسکرایا تھا۔
’’تمہارے اتنے محتاط ہونے کے لیے میں تمہارا مشکور ہوں ڈاکٹر۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ہم خود اس کا کیس ہینڈل کرلیں گے ہمارے پاس ہماری حکومت کی اجازت ہے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
پھر جب تھریسیا اور گیری سیکورٹی یونٹ میں داخل ہوئے تھے تب اگاتھا رقص نہیں کررہی تھی بلکہ اپنے صوفے پر پُرسکون انداز میں بیٹھی ان کا انتظار کررہی تھی اس نے میز پر رکھی کیتلی سے تین کپوں میں چائے انڈیلی اور اس کام کے لیے اس نے اپنے پیروں سے مدد لی تھی کیونکہ اس کے بازو تو اسٹریٹ جیکٹ میں بندھے ہوئے تھے وہ پیروں کی انگلیوں سے اتنی مہارت سے کپوں میں چائے ڈال رہی تھی جیسے کسی ماہر کرتب باز نے اسے یہ کرتب سکھایا ہو۔
’’ہیلو اگاتھا… میں گیری ڈیول ہوں… میرا خیال ہے تم میری ساتھی تھریسیا کو جانتی ہوگی۔‘‘
’’بیٹھ جائو تم لوگ۔‘‘ اگاتھا نے آہستہ سے کہا اس کی آواز میں بلاکی سنجیدگی تھی کہ گیری کو حیرت ہوئی تھی کوئی نفسیاتی مریض اتنی سمجھداری اور سنجیدگی سے بات نہیں کرسکتا تھا۔
’’ہیلو تھریسیا… اگر تمہارے پاس میری اس جیکٹ کی چابی ہے تو مہربانی کرکے اسے کھول دو تاکہ میں تمہیں چاکلیٹ بھی پیش کرسکوں۔‘‘ اگاتھا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ میں تمہیں اس قید تنہائی سے آزدی دلوانے آیا ہوں؟‘‘ گیری نے مسکراتے ہوئے اگاتھا سے پوچھا۔
’’مجھے میرے ملنے والی یہاں آکر نہیں ملتے اور پھر تم نے آفس کا کورٹ پہنا ہوا ہے اور تم مجھے کوئی ماہر نفسیات بھی نہیں لگ رہے ہو۔‘‘ اگاتھا نے آہستہ آہستہ کہا۔
’’تم نے پہلے سے تین کپ تیار کیے ہوئے ہیں تمہارا اندازہ بہت تیز اور درست ہے۔‘‘ تھریسیا نے کہا جس پر اگاتھا صوفے سے پشت لگا کر بیٹھ گئی اور بغور گیری اور تھریسیا کو دیکھنے لگی پھر اس نے پیروں سے پکڑا ہوا کپ گیری کی طرف بڑھایا تھا۔
’’میرا خیال ہے کہ تمہاری والدہ چائنیز تھی اور تمہاری خون میں چائنیز خون شامل ہے۔‘‘ اگاتھا نے بغور گیری کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم الیسکس میں پیدا ہوئے… تم نے ہانک کانگ کی روئیل فورس میں بھی ملازمت کی اور کافی عرصے بعد تم یوکے واپس آگئے اور یہاں پولیس کا محکمہ جوائن کرلیا اور میرا خیال ہے کہ تمہارے تجربے کے مقابلے میں تمہارا عہدہ خاصا چھوٹا ہے۔‘‘
’’تھینک یو ماسٹر نوسٹرا ڈیموس۔‘‘ گیری نے طنزیہ انداز میں اگاتھا سے کہا۔
’’میں برا نہیں مانتی گیری… مجھے خوشی ہے کہ یہاں مارگریٹ نہیں آئی‘ آزاد کروانے کے لیے۔‘‘
’’وہ ریٹائر ہوچکی ہے۔‘‘ گیری نے بتایا‘ مارگریٹ گیری ہی کے ڈیپارٹمنٹ میں تھی اور عرصہ ہوا ریٹائر ہوچکی تھی وہ اگاتھا کی ساتھی تھی جب اگاتھا اس ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی تھی۔ ’’میں سیکشن کا نیا ہیڈ ہوں۔‘‘
’’وہ جہاں بھی ہوگی کچھ اچھا ہی کررہی ہوگی میں اس کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہوں۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور پھر اپنی اسٹریٹ جیکٹ کی طرف دیکھا۔ ’’یہ کب تک یونہی مجھے جکڑے رہے گی؟‘‘ اگاتھا کی بات پر گیری نے تھریسیا کو اشارہ کیا تھا اور اس نے آگے بڑھ کر جکٹ کو ان لاک کرنا چاہا لیکن وہ خود اتر کر نیچے گر گئی تھی اور گیری نے پیر کی ٹھوکر سے اسے کمرے کے کونے کی طرف اچھال دیا تھا۔
’’اگر تم اسے یونہی اتار سکتی تھیں تو ہمارا انتظار کیوں کرتی رہیں؟‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’اگر میں پہلے ایسا کرتی تو آرڈر ملنے پر ملازمین مجھے دوبارہ اس جیکٹ میں قید کردیتے انہیں بار بار یہاں آنا پڑتا جبکہ مجھے ان کا یہاں آنا بالکل پسند نہیں ہے۔ یہاں موجود زیادہ تر مریض نفسیاتی نہیں ہیں۔‘‘
’’ہاں میں جانتا ہوں۔‘‘ گیری نے ایک بیگ اگاتھا کو دیتے ہوئے کہا بیگ میں اگاتھا کا وہ لباس تھا جو اس نے وہاں آتے وقت پہنا ہوا تھا۔
’’شکر ہے کافی عرصے بعد میں کوئی ایسا لباس پہنوں گی جس نے پیچھے سے میرے ہاتھ جکڑے ہوئے نہیں ہوں گے۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور کپڑے لے کر کمرے میں موجود واش روم کی طرف بڑھ گئی کچھ دیر بعد جب وہ باہر آئی تو گیری کو بغور دیکھ رہی تھی۔
’’تم نے یہ ذمہ داری لے تو لی ہے لیکن کیا تم نے ایک رسی کا بھی مطالبہ کیا ہے انتظامیہ سے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’رسی کا مطالبہ؟‘‘ گیری نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں رسی کا… جو تمہاری پسند اور تمہاری مرضی کی ہو اور جس سے بعد میں تم خود کو لٹکا بھی سکو۔‘‘ اس کی بات پر گیری اسے بے یقینی سے دیکھنے لگا۔
’’پروا مت کرو… اگر تمہیں رسی سے لٹکنا نہیں آتا تو میں تمہاری مدد کردوں گی میں بہت اچھی اچھی گرہیں لگانا جانتی ہوں۔‘‘ اس نے مذاق کرنے والے انداز میں کہا۔
’’تم اتنا سب کچھ کرنے کے بجائے ایک کام کردو مجھے قاتل کا نام بتادو۔ ویسے تمہارا کیا خیال ہے کیوں نہ ہم یہاں سے جلدی نکلیں اور تمہیں تمہارے گھر پہنچادیں اس سے پہلے کہ ڈاکٹر بی شپ تمہیں اس سینٹر میں مزید قید رکھنے کا کوئی منصوبہ بنالے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔
ژ…ژ…ژ
گھر پہنچنے کے بعد اگاتھا نے کچھ دیر آرام کیا تھا گیری اسے دوسرے دن آفس پہنچنے کا کہہ کر چلا گیا تھا وہ جب گھر پہنچی تو غیر متوقع طور پر گھر بالکل صاف ستھرا تھا اور گرم گرم کھانا بھی ٹیبل پر موجود تھا اسے نیوان کی موجودگی کا احساس ہوا وہ ہمیشہ ہی اس کے آرام کا خیال رکھتا تھا۔
’’میں جانتی ہوں تم یہاں موجود ہو۔‘‘ اگاتھا نے سرگوشی میں کہا اور تب ہی میز کے گرد رکھی ہوئی کرسیوں میں سے ایک پر نیوان اسے بیٹھا نظر آیا وہ حسب معمول اپنی رائیل ایئرفورس کے یونیفارم میں ملبوس تھا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ میرے ہوتے ہوئے تم گھر آئو اور اتنے عرصے بعد تمہیں یہاں خوش آمدید کرنے والا کوئی نہ ہو‘ گھر کی صفائی تمہارا پسندیدہ‘ گرم گرم کھانا اور تمہارے لیے آرام دہ بستر میری طرف سے ایک حقیر تحفہ ہے۔‘‘ نیوان نے کہا اور اگاتھا مسکرادی اس نے کپڑے تبدیل کرکے کھانا کھایا تھا اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی لیکن نیوان بھی اس کے ساتھ موجود تھا وہ کافی دیر تک اس کے ساتھ باتیں کرتی رہی تھی اور پھر نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔
جب وہ سوکر اٹھی تو شام اپنے پر پھیلا رہی تھی‘ نیوان ایک گل دان میں پھول سجا رہا تھا‘ اس نے مسکرا کر اگاتھا کی طرف دیکھا۔
’’کیا بات ہے اگاتھا آخر مسائل ہمیں ڈھونڈھ کر ہم تک پہنچ ہی جاتے ہیں اس میں پولیس کے محکمے میں تمہاری ماضی کی شہرت کا بہت ہاتھ ہے۔‘‘
’’نہیں نیوان… میں ایسا نہیں سمجھتی‘ میرا خیال ہے لوگ میرا نام بھی بھول گئے ہوں گے اور وقت بہت ظالم ہے ہر چیز کے آثار ونشانات مٹا دیتا ہی کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑے زبردست کارنامے انجام دیئے ہیں جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ سب کچھ مٹ جاتا ہے لوگ سب بھول جاتے ہیں۔‘‘ اگاتھا کے لہجے میں اداسی تھی۔
’’لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا لوگ اتنی جلدی ہمیں نہیں بھول سکیں گے۔‘‘ نیوان نے کہا وہ ہوا میں تیرنے کے انداز میں کمرے میں ٹہل رہا تھا۔
’’تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’اس بار انہیں صرف ہمارے اوپر انحصار کرنا ہوگا۔‘‘ نیوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میرا خیال ہے ہمیشہ کی طرح وہ کیس مجھ پر چھوڑ دیں گے۔‘‘
’’تمہارا جیسا کوئی اور ہے بھی تو نہیں اگاتھا۔‘‘ نیوان نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’میرا شوہر تھا… میرے بچے تھے… بالکل مجھ جیسے۔‘‘ اگاتھا نے دکھ سے کہا۔
’’لیکن اب وہ نہیں ہیں… انہیں یاد کرکے خود کو اداس مت کرو۔‘‘ نیوان نے سمجھایا۔
’’خدا کا شکر ہے کہ تم میرے ساتھ ہو ورنہ میں تو تنہائی کے خوف ہی سے مر جاتی۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ ’’اگر تم نہ ہوتے تو میں کیا کرتی؟‘‘ اگاتھا نے کہا اور میز پر رکھے کاغذات اٹھالے جو کیس کے متعلق تھے اور گیری نے اسے پڑھنے کے لیے دیئے تھے۔
کیس کی تفصیلات پڑھنے کے بعد اگاتھا نے ان پر نیوان سے بھی بات کی تھی جس میں اس نے دلچسپی لی تھی۔
’’ایک مقتول امیر امریکی۔‘‘ نیوان نے زیرلب کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ پرانے دن اچھے تھے جب لوگ اپنے پاس زہر چھپا کر رکھتے تھے اور Slow poisning کے ذریعے لوگوں کو مار دیتے تھے۔‘‘
’’نیوان اگر ہم حال اور ماضی کی بحث میں الجھ گئے تو مستقبل ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘ اگاتھا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے… تو تم نے کہا کہ وہ امیر آدمی… یعنی سائمن ورک کو قتل کیا گیا لیکن وہ تو چھت میں لٹکتا ہوا ملا تھا جس کا مطلب ہے اس نے خودکشی کی تھی‘ یہ قتل کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
’’جب میں کل آفس جائوں گی تب ہی درست بات کہہ سکوں گی۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ ’’اور ہوسکتا ہے اس بار مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ پولیس آفس سے مجھے ایک اسسٹنٹ ملا ہے جو میرا مددگار ہوگا۔‘‘
’’ٹھیک ہے یوں سمجھو کہ ایک کھرب پتی مرچکا ہے ہوسکتا ہے اسے اس کے دشمنوں نے مارا ہو تو اس میں کیا خاص بات ہے؟ تمام امیر لوگوں کے دشمن بھی ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ قتل بھی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف دولت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہوگا۔‘‘ نیوان نے کہا۔ ’’وہ دن گئے جب لوگ مذہب کی خاطر یا دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے قتل کیا کرتے تھے اب تو دولت ہی سب کچھ ہے۔‘‘
’’خیر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے اس بار شاید تمہاری مدد کی ضرورت نہ پڑے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’تو پھر میڈم اگاتھا اور کون تمہاری مدد کرے گا… آفس میں موجود جونیئر بچوں کا عملہ جو تمہارے مقابلے میں بہت ناتجربہ کار ہے؟‘‘ نیوان نے ہنستے ہوئے کہا تھریسیا‘ پولیس یا برطانیہ کی سیکرٹ سروس انٹیلی جنس کا عملہ؟‘‘
’’بھلا کون سائمن کو مارنا چاہے گا؟‘‘ اگاتھا نے فکرمندی سے کہا۔
ژ…ژ…ژ
اگلے روز اگاتھا مقررہ وقت پر برطانوی انٹیلی کی اسپیشل برانچ آفس پہنچ گئی تھی گیری اور تھریسیا اس کے منتظر تھے‘ گیری نے اگاتھا کا تعارف اسپیڈ سے بھی کروایا تھا اور اسپیڈ نے ایک نئی اطلاع گیری کو دی تھی۔
’’گیری تم نے مجھ سے جو فلم مانگی تھی میں نے سیو کرلی ہے یہ فلم تو بلڈنگ سیکیورٹی کیمرہ نے بنائی تھی لیکن وہاں دیواروں میں سائمہ ورک نے بھی خفیہ کیمرے لگائے ہوئے تھے جن میں سے ایک کیمرے سے ہمیں اسی کمرے کی دوسری وڈیو بھی ملی ہے یہ حیرت انگیز ہے یہ دیکھو۔‘‘ اسپیڈ نے کہا اور کمپیوٹر میں وہ ویڈیو چلادی۔
فلم میں دو آدمی نظر آرہے تھے جن کے چہروں پر نقاب تھے اور تیسرا شخص سائمن ورک کے جسم کو ان دونوں کی مدد سے لٹکا رہا تھا اسے لٹکانے کے بعد اس کے پیروں کے نیچے سے میز کو ٹھوکر مار کر ہٹایا گیا تھا اس وقت میز کا ایک پایہ ٹوٹ گیا تھا اور سائمن کا جسم فضا میں جھولنے لگا تھا‘ سائمن کے چہرے پر بھی ایک ماسک تھا پھر تینوں افراد کیمرے کی اسکرین سے غائب ہوگئے تھے‘ کیونکہ وہاں موجود کھڑکی سے باہر نکل گئے تھے اور کھڑکی اپنے پیچھے بند کردی تھی۔‘‘
’’گویا اس کی پراسرا موت کی ہمیں دو ویڈیوز ملی ہیں ایک ظاہر کرتی ہے کہ اس کا قتل کیا گی اور دوسری ظاہر کرتی ہے کہ اس نے خودکشی کی۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ ’’لیکن ان میں سے کون سی درست ہے؟‘‘
’’میں نے بار بار ان ویڈیوز کو چلا کر دیکھا ہے اور میرے مطابق یہ دونوں ٹھیک ہیں کیونکہ سوفٹ وفیئر ان دونوں ہی کو درست بتارہا ہے ان میں سے کوئی بھی Fake نہیں ہے۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’اب میری سمجھ میں آیا کہ تم لوگ مجھے رہا کروا کر کیوں لائے ہو؟‘‘ اگاتھا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تمہاری سمجھ میں کیا آتا ہے؟‘‘ گیری نے اگاتھا سے پوچھا۔
’’میرے خیال میں تو تین وجوہات ہوسکتی ہیں پہلی تو یہ کہ سائمن ورک نے خودکشی کی اور اس نے یا کسی اور نے اس کی موت کو قتل کا کیس بنانا چاہا‘ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اسے قتل کیا گیا اور ظاہر یہ کیا گیا کہ وہ خودخوشی ہے اور تیسری یہ کہ وہ اب بھی زندہ ہو اور دونوں ویڈیوز جھوٹی Fake ہوں۔‘‘ اگاتھا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’اگر سائمن بلڈنگ سیکورٹی پر بھروسہ نہیں کرتا تھا تب ہی اس نے اپنے ذاتی خفیہ کیمرے وہاں لگوائے تھے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ اسے کسی سے خطرہ ہے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ ’’اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ یہ جاننا چاہتا ہو کہ جب وہ وہاں نہیں ہوتا تو اس کی غیر موجودگی میں وہاں کون آتا ہے؟‘‘
’’تم نے جو تیسری صورت حال کی بات کی ہے وہ خاصی حد تک سمجھ میں آتی ہے‘ میں نے ایک شخص کو DNA ٹیسٹ کے لیے کہا ہے سائمن ورک کا جڑواں بھائی بھی ہے کرٹس ورک‘ ہمیں یہ تو پتہ ہونا چاہیے کہ مرنے والا کون تھا سائمن یا کرٹس؟‘‘ گیری نے کہا۔
’’لیکن بھلا سائمن اپنی موت کو Fake کیوں بنائے گا اور غائب ہوجائے گا؟‘‘ اگاتھا نے حیرت سے کہا۔
’’میراخیال ہے ہمیں سائمن کے جڑواں بھائی کرٹس سے ملنا چاہیے‘ میں نے اخبار میں خبر دیکھی ہے کہ کرٹس نے ڈربن میں ہونے والی بزنس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے میرا مشورہ ہے کہ ہمیں فوراً ہی کرٹس سے ملنا چاہیے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’میں اس کا انتظام کرچکا ہوں اس کا گھر سرے میں ہے اور میں ملاقات کا وقت بھی لے چکا ہوں۔‘‘
’’مجھے ایک بار پھر سائمن کی خودکشی والی پہلی ویڈیو دکھائو۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور اسپیڈ نے ویڈیو دوبارہ چلادی۔
’’یہاں روک دو۔‘‘ ایک مقام پر اگاتھا تیزی سے بولی اور اسپیڈ نے ویڈیو روک دی۔
’’یہ دیکھو… اس کے پائوں جس طرح حرکت کررہے ہیں…‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’ہاں یوں لگ رہا ہے جیسے لٹکائے جانے کے باوجود وہ زندہ ہو اور تڑپ رہا ہو۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’اس کی اور بھی کوئی رہائش تھی؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’ہاں‘ یہ لندن میں ہائیڈ پارک کے علاقے میں رہتا تھا۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ہمیں وہاں بھی تحقیقات کرنی چاہیے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے لیکن پہلے ہم سائمن کے جڑواں بھائی کرٹس سے ملیں گے۔‘‘ گیری نے کہا۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد گیری‘ اگاتھا‘ تھریسیا اور اسپیڈ کے ساتھ اپنی کار میں کرٹس ورک سے ملنے روانہ ہوگیا تھا اس کا محل نما گھر زمین کے ایک بہت بڑے خطے پر پھیلا ہوا تھا جس کے چاروں طرف اونچی دیواروں کا ایک احاطہ تھا گھر کے بیرونی دروازے پر دو مرد اور دو خواتین سیکیورٹی کے لیے موجود تھے جنہوں نے نیلے رنگ کی جیکٹ اور پتلون پہنی ہوئی تھیں‘ لوہے کے دروازے کی سلاخوں کے پیچھے عمارت کے احاطے کے اندر بھی اسی یونیفارم میں لوگ نظر آرہے تھے گویا یہاں کے مالک کا یہ خُود ساختہ سیکیورٹی سسٹم تھا ان کے پاس گنیں موجود تھیں اور وہ نہایت چوکنے اور چابک دست تھے۔ یہ جگہ ہائی وے سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ آس پاس کوئی بستی یا رہائش نظر نہیں آتی تھی اور دور دور تک کی زمین سائمن اور کرٹس ورک کی ملکیت تھی۔
اپنی کار گیٹ کے قریب روک کر گیری انتظار کررہا تھا کہ سیکیورٹی کا عملہ چیکنگ کرلے تو وہ آگے روانہ ہو ایک گارڈ گیری سے اس کا پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس لے کر سیکیورٹی روم کی طرف بڑھ گیا تھا اور دو گارڈز ہاتھوں میں ایک آلہ لیے کار کے اندر اور باہر کے حصوں کو اسکین کررہے تھے کچھ دیر بعد عمارت کا گیٹ آٹومیٹک سسٹم کے تحت کھل گیا تھا اور گیری کو اس کی چیزیں واپس کردی گئی تھیں اس نے کار آگے بڑھائی تھی۔
’’اب فہرست میں ہمارا نام لکھا جاچکا ہے کہ ہم کہ کس وقت عمارت میں داخل ہوئے اور واپسی پر بھی لکھا جائے گا کہ کب واپس گئے۔‘‘ گیری نے کہا کسی نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
’’کیا تمہاری کار میں چوروں سے بچائوں کا کوئی سسٹم بھی ہے؟‘‘ اچانک اگاتھا نے گیری سے پوچھا۔ اس کے جواب میں گیری نے اپنی جیب سے پستول نکال کر ہوا میں لہرایا تھا۔
’’اگر کسی نے میری کار پر بری نظر ڈالی تو میں اسی مار ڈالوں گا۔‘‘ اس نے جوش سے کہا۔
’’ہوں… لیکن یاد رکھو اگر کرٹس ورک کے سیکیورٹی گارڈ اپنی ڈیوٹیز سے فارغ ہوکر گھر بھی چلے جائیں تب بھی کرٹس پر کوئی قاتلانہ حملہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟ کیا یہ بھی تمہیں تمہارے نیوان نے بتایاہے جو ہر لمحے تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور تمہاری معلومات میں اضافہ کرتا رہتا ہے؟‘‘ گیری نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
’’یہ کامن سینس کی بات ہے گیری… میں نے دونوں بھائیوں کے معمولات زندگی کو چیک کیا ہے کسی کے لیے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ قتل کردینا بہت آسان تھا اور اس کو بڑے آرام سے کسی حادثے کا نام دیا جاسکتا تھا ایک خرچے میں دو کام ہوسکتے تھے وہ حادثہ کسی کار یا جہاز کا حادثہ بھی ہوسکتا تھا۔ زہر دینے کا ہوسکتا تھا‘ اغوا کا ہوسکتا تھا۔‘‘ اگاتھا بول رہی تھی۔
’’ہوسکتا ہے کسی کا پلان دونوں کو الگ الگ قتل کرنے کا ہو۔‘‘ گیری نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’وہ دونوں قتل کی وارداتوں میں کچھ وقفہ دینا چاہتا ہو؟‘‘
’’اب گیری کے جڑواں بھائی کو خطرے کی بو سونگھ لینا چاہیے اور اپنی سیکورٹی بڑھا دینا چاہیے۔‘‘
’’سیکیورٹی تو بہت سخت ہے ابھی ہم نے دیکھا ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’اگر مارنے والوں کا مقصد دولت حاصل کرنا ہے تو سائمن ورک کا قتل کرٹس کے لیے ایک وارننگ ہے کہ وہ اسٹاک مارکٹ سے دستبردار ہوجائے یا اپنے شیئرز کسی کو بھی بیچ کر اپنی جان چھڑالے۔ اسے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ جہاں بھی ہوگا قاتلوں کی پہنچ میں ہوگا اور وہ اس کی موت کو بھی ایک حادثہ ظاہر کریں گے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’یہ تو تمہارا خیال ہے۔‘‘ اگاتھا بولی۔
’’تم اور تمہاری نیوان کی روح اس سلسلے میں کیا کہتی ہے؟‘‘ گیری نے پوچھا۔ ’’کیا نیوان کو کوئی ایسی بات پتا چلی ہے کہ کرٹس کو بھی قتل کیا جانے والا ہے؟‘‘ گیری نے اگاتھا کا مذاق اڑایا۔
’’گیری میں جانتی ہوں تم موت کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں رکھتے۔‘‘ اگاتھا نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
’’نہیں… میں واقعی یقین نہیں رکھتا… بتائو دنیا میں ہزاروں لوگ مرتے ہیں تمہارا رابطہ صرف اور صرف مشہور شخصیات کی روحوں سے ہی کیوں ہوتا ہے؟‘‘
’’اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ ’’روحیں میری مرضی سے مجھ سے رابطہ نہیں کرتیں وہ اس سلسلے میں بااختیار ہوتی ہیں۔‘‘ اگاتھا نے جواب دیا۔
اسی وقت گیری نے اپنی کار ایک تین منزلہ بلند وبالا عمارت کے سامنے روک دی تھی اور کار سے باہر آگیا تھا‘ اس کے ساتھ باقی افراد بھی کار سے باہر آگئے تھے اور مسحور کن انداز میں عمارت کے اطراف لگے ہوئے خوبصورت باغات کو دیکھ رہے تھے۔
’’بہت خوبصورت باغات ہیں۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’ہاں… ان کی دیکھ بھال پر خرچ بھی بہت آتا ہوگا۔‘‘ اسپیڈ نے جواب دیا۔ وہ لوگ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عمارت کے صدر دروازے تک پہنچے تھے اور پھر اگاتھا نے بیل بجانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ دروازہ خودبخود کھلتا چلاگیا تھا ان کے سامنے ایک ملازم بہترین یونیفارم میں موجود تھا جس نے سر کے اشارے سے انہیں اندر آنے کے لیے کہا تھا اور ہاتھ میں پکڑے سیل فون کو کان سے لگالیا تھا۔
’’وہ پہنچ گئے ہیں… تعداد میں چار ہیں… دو مرد اور دو خواتین… کار اب خالی ہے اس میں کوئی ڈرائیور نہیں ہے۔‘‘ ملازم نے فون پر بات کرتے ہوئے استقبالیہ کائونٹر کی طرف اشارہ کیا جہاں کائونٹر کلرک ایک رجسٹر کے ساتھ موجود تھا گیری اور اس کے ساتھیوں نے باری باری رجسٹر پر دستخط کیے تھے۔ ملازم نے صدر دروازہ بند کردیا تھا اور انہیں اپنے ساتھ لے کر ایک بڑے ہال تک لے گیا تھا جہاں پہلے سے سفید بالوں والا ادھیڑ عمر شخص موجود تھا جس نے بہترین سوٹ پہنا ہوا تھا اس نے اپنا تعارف ان لوگوں سے کروانا ضروری نہیں سمجھا تھا۔
’’میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ آدھا گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لیں گے کرٹس ورک کو اور بھی مہمانوں سے ملنا ہے چنانچہ وقت کا خاص خیال رکھیے گا۔‘‘ اس نے بغیر تمہید کے کہا۔
’’اور میرا تم سے یہ کہنا ہے کہ تم ہم سے دور رہنا اور جب تک ہم کرٹس سے ملنا چاہیں ملنے دینا‘ بیچ میں مداخلت مت کرنا جب تک مجھے میرے سارے سوالوں کا جواب نہیں مل جاتا‘ یہ ایک قتل کے کیس کی انکوائری ہے سمجھے؟‘‘ گیری نے غصے سے کہا۔
’’تمہیں ہمارے اصولوں کو ماننا ہوگا۔‘‘ ادھیڑ عمر شخص نے کہا۔
’’تمہارا کام مالک کی حفاظت کرنا ہے چنانچہ وفادار کتوں کی طرح اپنا کام کرتے رہو بس۔‘‘ گیری نے جواب دیا۔
’’میرا خیال ہے اس بے کار کی بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے۔‘‘ اگاتھا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ ادھیڑ عمر شخص انہیں ایک بڑی سی لائبریری میں چھوڑ گیا تھا اور تھریسیا نے لائبریری کا دروازہ اندر سے بند کرلیا تھا‘ کمرے میں چاروں طرف دیواروں میں کتابوں کے لیے الماریاں بنی ہوئی تھیں جن کے شیشوں سے کتابیں جھانک رہی تھیں درمیانی دیوار کے ساتھ ایک ٹیبل اور چند کرسیاں رکھی تھیں ٹیبل پر کمپیوٹر موجود تھا اور ایک کرسی پر کرٹس ورک بیٹھا تھا اور اس کی نظریں اپنے سامنے موجود کھڑکی سے باہر لان کا منظر دیکھ رہی تھیں اس کے چہرے پر اداسی نمایاں تھی۔ اس نے گھر کا عام سا لباس پہنا ہوا تھا اور لائبریری میں اس کے ساتھ کوئی سیکرٹری یا باڈی گارڈ موجود نہیں تھا گیری اور اس کے ساتھیوں کو اندر آنے پر اس نے سر اٹھا کر ایک نظر دیکھا تھا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
’’آپ ہی لوگ اسپیشلسٹ کی ٹیم ہیں جو حکومت برطانیہ کی طرف سے اس کیس پر مقرر کی گئی ہے؟‘‘ کرٹس نے پوچھا تو گیری نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’آپ لوگ بیٹھیں۔‘‘ کرٹس نے نرم لہجے میں کہا۔ ’’میرا خیال ہے آپ لوگ مجھ سے پوچھ گچھ کرنے آئے ہیں لیکن پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ میرے بھائی کی موت کو قتل کیوں سمجھتے ہیں کیا آپ کو کوئی ثبوت ملا ہے جبکہ میرا خیال ہے کہ اس کی موت ایک ناگوار حادثہ ہے۔‘‘ کرٹس نے کہا۔
’’معاف کرنا اس کی موت پر تم مجھے زیادہ اپ سیٹ نہیں لگ رہے ہو۔‘‘ اسپیڈ نے کہا جو بہت دیر سے خاموش تھا۔
’’مجھے برطانوی سول ملازم کی نصیحتوں کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ مجھے بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘‘ کرٹس نے ناگوار لہجے میں کہا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ میں سائمن سے کتنی محبت کرتا ہوں‘ ہم ایک دوسرے سے اتنا ہی قریب تھے جتنا کہ اس دنیا کے کوئی بھی جڑواں بھائی ہوسکتے ہیں لیکن ہم دونوں کے لیے اپنے اپنے کام زیادہ اہمیت رکھتے تھے‘ ہم نے سب کچھ مل کر ایک ساتھ ہی بنایا ہے‘ میں نہیں جانتا کہ اب آگے حالات کیا ہوں گے اس کی موت کی خبر جب دنیا کو ملے گی تو وہ اسے ایک بڑے اداکار کی موت کی طرح منائیں گے یا پھر ایک اہم کاروباری شخصیت کے طور پر…؟‘‘ کرٹس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’میں سمجھتی ہوں کہ تمہاری جان کو بھی خطرہ ہے۔‘‘ اگاتھا نے آگے بڑھ کر کہا اور کرٹس حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
’’کیا مطلب… تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘ کرٹس نے پوچھا۔ ’’اور میں تم لوگوں سے اس بات کی وضاحت بھی چاہتا ہوں کہ تم سائمن کی موت کو قتل کیوں سمجھتے ہو؟‘‘
’’میں جانتا ہوں کہ تمہیں ہماری بات سے اختلاف ہوگا اور تمہیں یہ بات قصے کہانیوں جیسی لگے گی لیکن اس ملاقات میں تمہیں ہمارے سوالوں کے جواب دینا ہیں ہمیں تمہارے سوالوں کے جواب نہیں دینا۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ٹھیک ہے… لندن میں ہمارے اپارٹمنٹ کی ویڈیو کی ایک کاپی میرے پاس بھی ہے‘ میں نے دیکھا ہے کہ میرے بھائی کی موت کس طرح واقع ہوئی ہے اور یہ قتل تھا تو یقینا یہ کوئی چال ہوگی۔‘‘ کرٹس نے کہا۔
’’ہاں‘ تمہارے پاس بھی ویڈیو کی کاپی ہے‘ میرے پاس بھی ویڈیو کی کاپی ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔ ’’لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے ہمیں مجرموں تک پہنچنے کے لیے مزید ثبوت درکار ہوں گے‘ میں ایک اور بات جاننا چاہتا ہوں مسٹر ورک کیا سائمن کے مرنے کے بعد تم دونوں کے کاروبار پر اثر پڑے گا؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’یقینا اثر پڑے گا۔‘‘ کرٹس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ’’جیسے ہی سائمن کی موت کی خبر نشر ہوگی زیادہ دولت مند لوگ ہماری کمپنی کے شیئر سستے داموں خرید لیں گے۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ تم اپنے کاروبار کے ذریعے اسٹاک ایکسچینج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہو؟‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’ہاں‘ لیکن ہم دونوں بھائی مل کر اس پر کام کرتے تھے۔ سائمن کبھی بھی اسٹاک کو میرے اوپر نہیں چھوڑتا تھا وہ اپنی دولت کا زیادہ حصہ رضاکار تنظیموں کو بانٹ دیتا تھا جب ہم نے کمپنی بنائی تھی تو ہم دونوں نے ایک معاہدہ کیا تھا کہ ہم اپنے کاروبار کو کبھی اپنے رشتے کے درمیان نہیں آنے دیں گے۔ کاروبار میں پیسہ بھی آدھا لگائیں گے اور منافع بھی آدھا آدھا ہی لیں گے۔‘‘ کرٹس نے کہا اور میز پر رکھا انٹر کام اٹھا کر کافی کا آرڈر دیا۔
’’میں اس وقت کافی لینا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا پھر وہ گیری کی طرف مڑا۔ ’’آپ لوگ کافی لیں گے؟‘‘ اس نے پوچھا اور گیری نے اثبات میں سر ہلایا جس پر اس نے پانچ کافی کا آرڈر دے دیا تھا۔
’’کیا تم نے اپنی وصیت تیار کرلی ہے؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’سائمن نے شادی نہیں کی تھی‘ لیکن میری بیوی اور بچے ہیں۔ میری آمدنی کا زیدہ حصہ تو رضاکار تنظیموں کو چندے کے طور پر نکل جاتا ہے‘ بیوی بچوں کے حق کے لیے میں نے کاغذات بنوادیئے ہیں جو وقت آنے پر انہیں مل جائیں گے۔‘‘
’’اچھی پلاننگ ہے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’پیسہ‘ ہم دونوں بھائیوں کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا ہم دونوں پچیس برس کے تھے تب ہی کھرب پتی بن گئے تھے اگر ہم اپنی دولت کو شراب‘ نشے‘ جوئے اور عورتوں میں ضائع کرتے تو اب تک ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ گئے ہوتے لیکن ہم دونوں نے اپنے اپنے طور پر جدوجہد جاری رکھی اور کاروبار کو آگے بڑھاتے رہے اگر کوئی بلاوجہ ہمارے کاروبار کو حددرجہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو ہمارے سامنے اس کے علاوہ کیا چارہ رہ جائے گا کہ ہم میز پر چڑھ کر اپنی گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال لیں۔‘‘ کرٹس نے منہ بنا کر کہا۔
’’آپ کا کاروبار آپ کے لیے اتنی اہمیت رکھتا ہے؟‘‘ اسپیڈ نے کہا جس پر کرٹس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ہاں میرے لیے ہی نہیں بلکہ میرے بھائی سائمن کے لیے بھی‘ ہم دونوں نے مل کر اپنے اس کاروبار کی انوکھی دنیا بنائی تھی۔‘‘ کرٹس نے کہا اور اسی وقت دروازے پر دستک سنائی دی‘ ملازم نے دروازہ کھولا اور ایک شخص چائے کی ٹرالی کے ساتھ لائبریری میں داخل ہوا‘ ٹرالی میں چائے اور کافی دونوں موجود تھیں اور اس کے ساتھ مختلف فلیور کے بسکٹ تھے۔
’’آپ کی کمپنی Space Werks کا کاروبار کن کن ممالک میں ہے؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں لیکن وہ ہر ملک میں مختلف نوعیت کے ہیں ہم انڈیا سے چائے گرم مصالحوں وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں‘ روس میں ہم مختلف مقامات پر سیاحوں کو لانے لے جانے کا کاروبار کرتے ہیں‘ چائنا میں ہم ان کے ساتھ مل کر کمیونیکشن سیٹلائٹس کا جال بچھا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’بہت ممکن ہے کہ تمہارے کاروباری حریف میں کوئی تمہارا دشمن ہو اور اس نے ہی سائمن کو قتل کیا ہو۔‘‘ گیری نے کہا جس پر کرٹس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
’’یہ نہیں ہوسکتا‘ تمام تجارتی فرموں میں ہمارا اتنا پیسہ لگا ہوا ہے کہ وہ ہمارا نقصان برداشت نہیں کرسکتے۔ روس اور چائنا کی سیکرٹ سروسز خود ہماری حفاظت کے لیے ایجنٹس بھیجتی ہیں وہ ہماری حفاظت کرتی ہیں‘ ہمیں نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتیں۔‘‘
’’اور اپنے امیر جڑواں بھائیوں کو کسی قسم کی کوئی وارننگ نہیں ملی‘ نہ سائمن کی موت سے پہلے اور نہ بعد میں؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’ہم قسمت پر بھروسہ رکھتے ہیں ہمیں سال بھر میں بے شمار دھمکیاں ملتی ہیں لیکن وہ اب ہمارے لیے معمول کا حصہ بن گئی ہیں اور ان دھمکیوں کے ساتھ مطالبات کی بھی لمبی فہرست ہوتی ہے جنہیں پورا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اگر تم چاہو تو میں اپنی فرم کے فرسٹ سیکرٹری سے کہہ کر تمہیں ایسی ساری دھمکیوں کی میل بھجوادوں گا۔‘‘
’’عام زندگی میں تم اپنے بھائی سے کتنے قریب تھے؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔ ’’کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے کوئی قتل کی دھمکی ملی ہو جس کا ذکر اس نے تم سے نہ کیا ہو؟‘‘
’’جہاں تک ہمارے سسٹم کنٹرول ورکس کا تعلق ہے میں تمام کاروباری معاملات سنبھالتا ہوں جبکہ سائمن ٹیکنالوجیکل معاملات کو دیکھتا تھا لیکن جو کام میں کررہا ہوتا تھا اس میں بھی تقریباً =70/ اس کی دلچسپی ہوتی تھی دراصل ہم الگ الگ میدانوں میں کام کرنے کے باوجود ایک دوسرے کی مدد بھی کررہے ہوتے تھے۔‘‘
’’اور ذاتی مزاج کے بارے میں کیا کہو گے‘ تم دونوں کے مزاج میں کچھ فرق تھا؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’میرے مقابلے میں سائمن خود کو لوگوں سے الگ تھلگ رکھتا تھا‘ پارٹیوں میں بہت کم شرکت کرتا تھا‘ فلمیں اور فنکشنز بھی اس کے لیے غیر دلچسپ ہوتی تھیں ہم زیادہ تر اپنے اسٹاف سے کام لیتے تھے سائمن مجھ سے زیادہ وقت کام کو دیتا تھا جبکہ میں اپنا زیادہ وقت اپنی بیوی اور بچوں کو دیتا ہوں‘ میں اسے بھی مشورہ دیتا تھا کہ اسے اب شادی کرلینا چاہیے تاکہ اس دنیا سے نکل سکے جو اس نے اپنے گرد بنائی ہوئی ہے۔‘‘
’’کوئی ایسا شخص جسے حال میں تمہارے بھائی نے ملازمت سے نکالا ہو؟‘‘ گیری نے پوچھا۔ ’’کوئی ایسا شخص جسے معلوم ہو کہ لندن میں تمہارے اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی سسٹم کہاں کہاں موجود ہے؟‘‘
’’ہم ملازمت دیتے وقت بہترین لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں اس کے بعد انہیں بہترین ٹریننگ دیتے ہیں اور پھر ان کی چوائس پر انہیں ایسے محکمے میں ملازمت دی جاتی ہے جس میں انہیں زیادہ دلچسپی ہو چنانچہ اپنے ملازمین کو کھونا ہمارے لیے بہت مہنگا پڑتا ہے‘ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہم کمپنی میں کم سے کم ملازمین بھرتی کریں چنانچہ کسی کو نکالنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ ہاں کچھ لوگ اپنی ہی کسی مجبوری سے ملازمت چھوڑ جائیں تو الگ بات ہے لیکن ایس ابھی بہت کم ہوتا ہے۔‘‘
’’بہرحال سائمن کے قتل کی وجوہات کچھ بھی ہوں میرا خیال ہے کہ اب تمہیں اور تمہاری فیملی کو بھی خطرہ ہے اور تمہیں اپنی حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’وہ ہم کرچکے ہیں‘ میں نے ایک پرائیویٹ کمپنی کی سیکیورٹی فورس کی ڈیوٹی اپنے ذاتی گھر پر لگادی ہے ویسے تو میں نے ان کی کارکردگی کے معاملے میں معلومات کروالی ہے لیکن اگر پھر بھی میں مطمئن نہ ہوا تو تمہاری گورنمنٹ کی سیکیورٹی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے انہیں پیشگی بل بھجوادوں گا۔‘‘ کرٹس نے جواب دیا۔
’’میرا خیال ہے ہم براہ راست یہ سوال کرلیں کہ تمہارے خیال میں کون تمہارے بھائی کا قاتل ہوسکتا ہے؟ یا تمہیں کس پر شک ہے؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’حقیقت میں پوچھو تو مجھے کسی پر بھی شک نہیں ہے‘ اگر یہ معاملہ کاروباری ہوتا اور کسی ترقی پذیر ملک میں ہمارا سولر سسٹم لگاتے ہوئے پیش آتا یا سائمن اغوا ہوجاتا اس کا پرس چوری ہوجاتا یا اغوا ہونے کی کوشش میں جدوجہد کرتے ہوئے اسے گولی لگ جاتی تب تو یقین کیا جاسکتا تھا لیکن ہمارے ہی ملک میں… لندن میں… اس کے اپارٹمنٹ میں… اس کے اپنے آفس میں؟ میں نہیں مان سکتا اس کی موت کو میں صرف ایک حادثہ سمجھتا ہوں قتل نہیں۔‘‘ کرٹس نے کہا۔ ’’اگر ایسا نہیں ہوتا تو برطانوی انٹیلی جنس فورسز کے لوگ اس کے قاتلوں کو جنگلوں‘ دفتروں‘ سڑکوں پر ہر جگہ ڈھونڈ رہے ہوتے‘ ہمارا کوئی ملازم بھی تفتیش سے نہ بچتا۔‘‘

’’ٹھیک ہے… اب ہم لوگ واپس جارہے ہیں لیکن تمہارے لیے مشورہ ہے کہ تم بلاضرورت شہر سے نہ جانا اور اگر جانا بہت ضروری ہو تو جلد از جلد واپس آنے کی کوشش کرنا‘ تفتیش کے دوران کسی بھی وقت تمہاری ضرورت پڑسکتی ہے۔‘‘ کیری نے کہا تو کرٹس نے اثبات میں سر ہلایا اس کا انداز جان چھڑانے والا تھا۔
ژ…ژ…ژ
گیری نے آفس پہنچنے کے بعد تھریسیا اور اسپیڈ کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ سائمن ورک کے لندن میں موجود ذاتی فلیٹ پر جائیں اور وہاں سے کچھ تصاویر وغیرہ جم کریں جن سے تفتیش میں مدد مل سکے‘ لندن کا یہ فلیٹ ہائیڈ پارک کے قریب واقع تھا اور اس کی کھڑکیوں سے ہائیڈ پارک اور سڑک کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔
’’یہ فلیٹ تو قیمتی اور نادر چیزوں سے بھرا پڑا ہے۔‘‘ تھریسیا نے اندر پہنچنے کے بعد فلیٹ میں موجود چیزوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ وہ قیمتی نمونے مختلف الماریوں‘ شیلف‘ شیشے کے کیسوں میں سجے ہوئے تھے‘ جنہیں قیمتی دھاتوں سونا‘ چاندی‘ پلاٹینم وغیرہ سے بنایا گیا تھا مارکیٹ میں ان کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں تھی‘ فلیٹ کی ہر چیز سے امارت جھلکتی تھی۔
’’مجھے محسوس ہورہا ہے کہ یہاں کوئی کمپیوٹر سسٹم بھی چھپا ہوا ہے میں پہلے اسے ڈھونڈنا چاہوں گا۔ شاید وہاں سے ہمیں کچھ معلومات مل سکیں۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’ہاں ٹھیک ہے تم اپنا کام کرو اور میں ان نوادرات کا جائزہ لیتی ہوں۔‘‘ تھریسیا نے کہا اس کے بعد وہ ان نوادرات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی تصویریں بھی اتارتی رہی تھی۔
’’تمہیں پتہ ہے نوادرات جمع کرنے والوں کی دو اقسام ہوتی ہیں ایک تو وہ جو کسی ماہر کے ذریعے نوادرات خریدتے ہیں اور دوسرے وہ جو نوادرات خریدنے کے لیے انہیں خود پسند کرتے ہیں وہ اس کے رسالوں‘ اخباروں اور نوادرات بیچنے والے اداروں کی کتابیں دیکھتے ہیں اور پھر انہیں خریدتے ہیں اگر تم ذرا سا اندازہ لگائو تو صرف نوادرات کے سجانے کے انداز سے پتہ لگا سکتے ہوکہ اس کا مالک کس شخصیت کا حامل ہے۔‘‘
’’اگر کوئی اپنے نمائندے کو ذمہ دار بنا کر نوادرات کی خریداری کرواتا ہے تو انہیں وہ گھر میں سامنے کے حصے میں نمایاں جگہ پر سجاتا ہے تاکہ ہر کوئی دیکھے اور تعریف کرے لیکن دوسری قسم کے لوگ جو ان نوادرات کی بے حد قدر کرتے ہیں اور لاکھ مصروفیت ہونے کے باوجود بھی ان کی خریداری خود کرتے ہیں وہ ان نوادرات کو ایسی جگہ سجاتے ہیں جہاں انہیں صرف وہی دیکھ سکیں ہر کسی کی نگاہ ان پر نہ پڑے۔‘‘ تھریسیا آپ ہی آپ بولے جارہی تھی۔
’’اچھا‘ سائمن کا تعلق کس قسم کے لوگوں میں کروگی؟‘‘ اسپیڈ نے پوچھا۔
’’وہ نوادرات جمع کرنے والی دوسری قسم سے تعلق رکھتا تھا وہ خود اپنے لیے نوادرات پسند کرتا تھا اور خود ہی ان کی خریداری کرتا تھا۔‘‘ تھریسیا باتیں کرتے ہوئے نوادرات کی تصویریں کھینچتی جارہی تھی پھر وہ دوسرے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی اور اسی وقت اسپیڈ کے فون کی بیل بجی تھی اس نے فون جیب سے نکالا تھا اس کے لیے گیری کا فون تھا جو وہ آفس سے کررہا تھا۔
’کیا تمہیں خفیہ کمپیوٹر کے سراغ مل گئے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ابھی نہیں‘ میں کوشش کررہا ہوں۔‘‘ اسپیڈ نے جواب دیا۔
’’اس کمپیوٹر سے کسی قسم کی خفیہ معلومات Send ہورہی ہیں۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘
’’اگاتھا نے… اور تم جانتے ہو کہ اگاتھا کو کون بتاسکتا ہے؟‘‘ گیری نے کا۔
’’یقینا… اس کی عاشق روح نیوان…‘‘ اسپیڈ نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
’’ہاں… تم پتہ لگائو… وہ کمپیوٹر ہمیں بہت سی معلومات دے سکتا ہے۔‘‘ گیری نے ہدایت کی۔
’’ٹھیک ہے… میں کوشش کررہا ہوں۔‘‘ اسپیڈ نے جواب دیا اور فون بند کردیا دوسرے ہی لمحے میں تھریسیا پھر کمرے میں داخل ہوئی تھی اس بار اس کے ہاتھ میں کچھ کتابیں تھیں جو اس نے لاکر اسپیڈ کے سامنے میز پر رکھ دی تھیں۔
’’ان میں سے یہ دو کتابیں اس کے بیڈروم سے ملی ہیں اور ان میں ’’بک مارک‘‘ بھی لگے ہوئے ہیں لگتا ہے وہ آج کل انہیں ہی پڑ ھ رہا تھا۔‘‘ تھریسیا نے ان کتابوں میں سے دو کتابیں اٹھا کر اسپیڈ کی طرف بڑھادیں۔ دونوں کتابوں کے سرورق پر مشہور رائٹر ٹام رابرٹ کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔
’’میں نے کبھی اس رائٹر کے بارے میں نہیں سنا۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’یہ ایک مشہور رائٹر ہے اور زیادہ تر مذہب کے موضوع پر کتابیں لکھتا ہے اس کے کئی مذہبی ٹی وی چینلز بھی چل رہے ہیں جن کا براہ راست تعلق کچھ چرچوں سے ہے اور ٹی وی چینلز کا یہ نیٹ ورک بہت زیادہ آمدنی پیدا کررہا ہے اور یہ ساری کتابیں رابرٹ فائونڈیشن پریس ہی کی ہیں۔‘‘ تھریسیا نے میز پر رکھی کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا وہ صرف پیپر بکس ہی پڑھنے میں دلچسپی رکھتا تھا؟ ای بکس نہیں؟‘‘ اسپیڈ نے پوچھا۔
’’مجھے ابھی تک کوئی ایسی نشانی نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ ای بکس پڑھنے یا فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتا تھا یہاں موجود سب کتابیں مذہبی نوعیت ہی کی ہیں۔‘‘ تھریسیا نے جواب دیا۔
’’ہوں…‘‘ اسپیڈ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ان میں سے کئی کتابوں پر ٹام رابرٹ کے دستخط موجود ہیں جو اس نے اپنے ہاتھ سے کئے ہیں ممکن ہے یہ کتابیں اس نے خود سائمن کو گفٹ کی ہوں۔‘‘ اس کی کتابوں کے تازہ ایڈشنز ہیں۔ یہ ساری کتابیں حالیہ دنوں ہی میں شائع ہوئی ہیں یوں لگتا ہے کہ مذہب کے بارے میں پڑھنے کا رجحان سائمن میں حال ہی میں پیدا ہوا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب ان کتابوں کو واپس رکھ دو اور مجھے میرا کام کرنے دو۔‘‘ اسپیڈ نے کہا اور تھریسیا کتابوں کو واپس لے گئی پھر وہ کتابیں رکھ کر مڑی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔
’’اوہ… کوئی آیا ہے‘ کہیں کوئی مجرم نہ ہو جس کی ہمیں تلاش ہے اور وہ اپنے نشانات مٹانے آیا ہو۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’نہیں… میرا خیال ہے کوئی ہمارے آفس سے ہوسکتا ہے۔‘‘ تھریسیا نے اس کی مخالفت کی اور دونوں فلیٹ کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئے پھر تھریسیا نے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ایک ادھیڑ عمر عورت کالی جیکٹ پہنے کھڑی تھی اس نے آنکھوں پر بڑا سا چشمہ لگایا ہوا تھا۔
’’میں لینوکا ہوں… کیا مسٹر سائمن ورک آج صفائی کا کام کروائیں گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ آج صفائی نہیں کرنا ہے۔‘‘ اس نے ناراضگی سے کہا۔
’’پلیز‘ اندر آجائو۔‘‘ تھریسیا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ہم فلیٹ کو جدید انداز میں سجانے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ آج کل کے جدید زمانے کے تقاضے پورے ہوسکیں۔‘‘ تھریسیا نے کہا لینوکا نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اور ایک دیوار کی طرف بڑھ گئی تھی پھر اس نے دیوار پر ہلکا سا دبائو ڈالا تھا اور دیوار میں ایک الماری کھل گئی تھی جس میں پلاسٹک کی بالٹیاں اور کچھ صفائی کا سامان موجود تھا جس میں سے کافی سامان غیر استعمال شدہ بھی نظر آرہا تھا۔
’’کیا مسٹر سائمن آفس میں موجود ہیں۔‘‘ لینوکا نے پوچھا۔ ’’اگر وہ مصروف ہوں گے تو میں آفس آخر میں صاف کردوں گی۔‘‘
’’وہ یہاں نہیں ہیں… وہ کچھ آرام کے موڈ میں تھے… تمہیں تو پتہ ہے… کچھ وقت سب جھمیلوں سے دور گزارنا چاہتے تھے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’ہاں… مذہبی دلچسپیاں… اس نے کہا تھا کہ وہ کسی مذہبی میٹنگ میں جائیں گے…‘‘ لینوکا نے کہا۔
’’ہاں… یہ میٹنگ شاید امریکہ میں ہے۔‘‘ تھریسیا نے کہا۔ ’’تم مسٹر سائمن کی دلچسپیوں کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتی ہوگی‘ ہماری اب تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے‘ کیا تم کافی عرصے سے ان کے یہاں کام کررہی ہو؟‘‘
’’میں یہاں چار سال سے کام کررہی ہوں میں ایک دن چھوڑ کر ایک دن آتی ہوں۔‘‘
’’ہاں‘ فلیٹ بہت صاف ستھرا ہے… لگتا ہے وہ زیادہ پارٹیاں وغیرہ نہیں کرتا تھا اور اس سے ملنے زیادہ لوگ بھی نہیں آتے تھے۔‘‘ تھریسیا نے پوچھا۔
’’ہاں پچھلے تین سال سے وہ تنہائی کی زندگی گزار رہا ہے‘ اور مذہب کی طرف راغب ہوگیا ہے۔‘‘ لینوکا نے کہا۔
’’اور اس سے پہلے کیا ہوتا تھا؟‘‘
’’اس سے پہلے ایک سال تک فلیٹ بہت گندہ ہوتا تھا‘ یہاں بھانت بھانت کے لوگ آتے تھے‘ عورتیں بھی اور مرد بھی‘ شراب کا بے تحاشہ استعمال ہوتا تھا‘ رنگینیاں ہی رنگینیاں ہوتی تھیں رات رات بھر پارٹیاں چلتی تھیں خوب شور شرابا رہتا تھا‘ عجیب وغریب جملے ایک دوسرے پر کسے جاتے تھے پھر جب میں صفائی کے لیے آتی تھی تو مسٹر سائمن بڑی توجہ سے صفائی کرواتے تھے اور پورے فلیٹ میں کوئی فریش سا روم اسپرے بھی کرواتے تھے۔‘‘
’’کیا تم نے کبھی اسے عبادت کرتے دیکھا؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا۔
’’ہاں… ادھر آئو۔‘‘ لینوکا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوسرے کمرے میں لے گئی جس میں بڑی سی کھڑی تھی جس کا رخ بازار کی سمت تھا‘ سامنے سڑک پار کرکے دکانیں نظر آرہی تھیں‘ کھڑکی کے قریب ایک آرام دہ کرسی رکھی تھی۔
’’وہ یہاں بیٹھ کر اکثر بائبل پڑھا کرتا ہے۔‘‘ لینوکا نے کہا۔
’’ہوں… کبھی اس نے تمہیں کوئی نصیحت کی… اچھی زندگی گزارنے کے لیے…؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا۔
’’پچھلے ایک سال سے وہ اکثر ایسی باتیں کرتا ہے جن میں مرنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار ہوتا ہے میں حیران ہوں اس کے سوچنے کا انداز بالکل بدل گیا ہے۔‘‘ لینوکا نے کہا پھر گھر کی صفائی میں مصروف ہوگئی تھی۔ تھریسیا واپس اسی کمرے میں آگئی تھی جہاں اسپیڈ سائمن کے خفیہ کمپیوٹر سے data کاپی کررہا تھا۔
’’اسپیڈ‘ چیک کرو کہ تمہارا کام کتنا باقی رہے اور پھر فلیٹ کا آخری جائزہ لے لو کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی؟‘‘ تھریسیا نے کہا۔
’’سائمن اپنی زندگی بھر پور انداز میں گزار رہا تھا اس کے پاس سب کچھ تھا پھر وہ کیا چیز تھی جس نے اس کی جان لی؟‘‘ اسپیڈ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’اوہ‘ یہ کتنا خوبصورت ہے۔‘‘ تھریسیا نے ایک قیمتی مجسمے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں پتہ ہے یہ مجسمہ پچھلے سال ایک چائنیز صعنت کار نے دو ملین ڈالرز کا خریدا تھا۔‘‘ تھریسیا نے وہ چھوٹا سا مجسمہ اٹھاتے ہوئے کہا جو ایک سگریٹ کے پیکٹ کے برابر تھا اور اسے اپنے بیگ میں ڈال لیا۔
’’کک… کیا کررہی ہو… تم اسے نہیں لے سکتیں؟‘‘ اسپیڈ نے اسے سمجھایا۔
’’میں لے سکتی ہوں۔‘‘ تھریسیا نے انگلی کے اشارے سے اسپیڈ کو خاموش رہنے کو کہا پھر وہ دوسرے مجسمے کی طرف بڑھی تھی۔
’’نہیں تم یہ نہیں چرا سکتیں۔‘‘ اسپیڈ پھر اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ’’تم پکڑی جائوگی‘ یہاں خفیہ کیمرے لگے ہیں۔‘‘
’’نہیں… میں نہیں پکڑی جائوں گی میں نے احتیاط رکھی ہے میں کیمروں میں نظر نہیں آئوں گی میں نے پہلے ہی ان کی جگہوں کو چیک کرلیا تھا۔‘‘ تھریسیا نے کہا اور اسے وہاں سے واپسی کا اشارہ کرتی ہوئی فلیٹ کے دروازے کی طرف بڑھی اسپیڈ نے بھی اپنا سامان جمع کیا تھا اور وہ بھی اس کے پیچھے فلیٹ سے نکل گیا تھا۔ لینوکا ابھی تک فلیٹ کی صفائی میں مصروف تھی۔
ژ…ژ…ژ
اگاتھا اپنے گھر کے دروازے میں بنے سوراخ سے باہر جھانک رہی تھی ابھی کسی نے دراوزہ کھٹکھٹایا تھا اس سے ملنے بہت کم لوگ آتے تھے وہ جس جگہ رہتی تھی وہاں کے لوگ بھی کبھی اس سے ملنے نہیں آئے تھے وہ حیران تھی کہ یوں اچانک بغیر اطلاع دیئے کون آسکتا ہے‘ اس کے پیچھے کاریڈور میں نیوان کھڑا تھا اس وقت وہ اپنی ایئرفورس کی یونیفارم کے بجائے ایک باورچی کے لباس میں تھا اس نے اپرین پہنی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں سبزی کاٹنے کی بڑی سی چھری تھی جس سے وہ کچھ دیر پہلے سیب کاٹ رہا تھا۔
’’کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے ہم جانتے ہیں اگاتھا؟‘‘ نیوان نے پوچھا۔
’’یوں لگتا ہے جیسے اسپیڈ ہے وہ پولیس آفس میں…‘‘
’’الیکٹرونک ڈپارٹمنٹ میں ہے۔‘‘ نیوان نے اس کی ادھوری بات مکمل کردی۔ ’’میں جانتا ہوں تمہارے ساتھ کرٹس ورک سے ملنے بھی گیا تھا ماہر کمپیوٹر ہیکر ہے‘ آج اس کی ڈیوٹی سائمن ورک کے لندن کے فلیٹ پر تھی تھریسیا کے ساتھ جہاں سے تھریسیا نے دو قیمتی مجسمے بھی چرائے ہیں۔‘‘ نیوان نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے… تم نے تو لمبی تقریر شروع کردی… چلو دروازہ کھولو۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور خود پیچھے ہٹ گئی۔ نیوان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا تھا۔
’’اوہ اسپیڈ… مجھے تمہارے آنے کی امید نہیں تھی۔‘‘ اگاتھا نے آگے بڑھ کر کہا۔ ’’تم نے اپنے آنے کے بارے میں کوئی اطلاع بھی نہیں دی؟‘‘
’’میں اطلاع دینا چاہتا تھا لیکن گیری نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اب سے ماسکو کے اصول استعمال ہوں گے۔‘‘
’’ماسکو کے اصول؟‘‘ اگاتھا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگ ایمرجنسی کی صورت حال میں ہیں اور ہمیں اپنے فون پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے‘ اور بہت زیادہ ضرورت پڑنے پر مختصر بات کرنا چاہیے۔‘‘ اسپیڈ نے جواب دیا۔
’اچھا؟‘‘ اگاتھا نے حیرت سے کہا۔ ’’میں حیران ہوں یہ خیال اس کے دماغ میں کہاں سے آگیا؟‘‘ اگاتھا نے کہا اور اسپیڈ کے ساتھ اپنے لونگ روم میں آگئی‘ اسپیڈ کو نیوان نظر نہیں آرہا تھا جوان کے پیچھے ہی لونگ روم میں آگیا تھا۔
’’یہ… میرا دوست ہے… آج کل میرے کمرے ہی میں رہتا ہے۔‘‘ اگاتھا نے اپنے کتے کا تعارف کروایا اور اسپیڈ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا کتا اس کے ساتھ ساتھ دم ہلاتا پھر رہا تھا۔
’’دراصل یہ برسوں سے میرے ساتھ ہے‘ اور یوں سمجھ لو کہ ہماری آفس کی سرگرمیوں میں بھی میرا ساتھی ہے یہ سب چیزوں سے واقف ہے تم اس کی موجودگی میں خود کو محفوظ سمجھو۔‘‘ اگاتھا نے اسپیڈ کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔
’’دراصل میں تمہارے سوشل نیٹ ورک پر نہیں ہوں۔‘‘ نیوان نے کہا۔ ’’یوں سمجھ لو کہ میں اگاتھا کی ٹیم میں شامل ہوں… میں تمہیں جانتا ہوں تم نے ابھی سال بھر پہلے ہی یہ آفس جوائن کیا ہے ابھی ناتجربہ کار ہو لیکن آہستہ آہستہ سیکھ جائوگے۔‘‘ نیوان نے کہا اور واپس باورچی خانے کی طرف چلاگیا نیوان کی بات اسپیڈ نہیں سن سکا تھا اور نہ وہ اسے نظر آرہا تھا۔ ’’خیال مت کرنا یہ نئے لوگوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آتا ہے۔‘‘ اگاتھا نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں نئے لوگوں سے ملنے کا زیادہ عادی نہیں ہوں۔‘‘ اسپیڈ نے جواب دیا۔
اگاتھا کے لونگ روم میں اس کا جدید کمپیوٹر سسٹم موجود تھا‘ جسے دیکھ کر اسپیڈ کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی اور وہ تعریفی انداز میں اسے دیکھ رہا تھا اگاتھا نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’میرے خیال میں تم آفس سے کوئی خاص خبر لائے ہوگے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘ کچھ کاغذات ہیں۔‘‘ اسپیڈ نے اپنی لیپ ٹاپ کے بیگ سے کاغذات کا ایک بنڈل نکال کر اگاتھا کو تھمایا اور اگاتھا نے اپنی عینک آنکھوں پر لگا کر ان کاغذوں کی ورق گردانی شروع کردی کچھ دیر بعد اس نے کاغذات رکھ دیئے تھے اور اسپیڈ کو مخاطب کیا تھا۔
’’اسپیڈ‘ یہ بتائو کہ کیا ہمیں کنٹرول ورکس کی طرف سے سائمن کے فنانشل ریکارڈ تک پہنچنے کی اجازت مل گئی ہے؟‘‘
’’وہ سوئزرلینڈ میں ہیں اور کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس ریاست کی ذمہ داری میں آتے ہیں چنانچہ ہمیں اس سلسلے میں سائمن کے وکیل سے بات کرنا ہوگی۔‘‘ اسپیڈ نے بتایا۔
’’دراصل میں یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ پچھلے سال سائمن نے کسی فلاحی تنظیم میں کوئی بڑی رقم تو نہیں دی ہے؟‘‘ اگاتھا نے کاغذات اسپیڈ کو واپس دیتے ہوئے کہا۔ ’’اور ہاں اسپیڈ ایک مشورہ اور بھی ہے کل جب تم آفس جائو تو وہ ساری فوٹوگرافس ڈیلیٹ کردینا جو سائمن کے فلیٹ پر بنائی تھیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ اسپیڈ نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہاں بہت ہی قیمتی نوادرات سجے ہوئے ہیں جنہیں فوٹو لینے سے پہلے اور فوٹو لینے کے بعد بھی انشورنس سراغ رساں چیک کریں گے۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور اسپیڈ حیرت سے اسے دیکھنے لگا کیونکہ اگاتھا کو اس نے ان مجسموں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا جو تھریسیا نے وہاں سے غائب کیے تھے وہ سوچ رہا تھا کہ اگاتھا یہ بات کیسے جان گئی ہے جبکہ وہ وہاں موجود بھی نہیں تھی۔
’’میں آفس بعد میں جائوں گا پہلے میں سائمن کے فلیٹ میں اپنے کل کے کام کو مکمل کروں گا جس میں‘ میں نے وہاں ایک خفیہ کمپیوٹر کا Data محفوظ کیاہے۔‘‘
’’میں نے تمہیں وہ بات بتائی ہے جو تمہیں اور تھریسیا کو پریشانی سی بچا سکتی ہے تم سے زیادہ یہ تھریسیا کے حق میں ہے۔‘‘
’’میرے ساتھ ایک شخص اور تھا فرینک‘ وہ میرے آفس ہی کا ساتھی ہے میں اس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہوں۔‘‘
’’یہ اچھا ہے… ہمیں کام کرتے وقت کسی نہ کسی بااعتماد شخص کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے جس پر تم بھروسہ کرسکو جو تمہارے پیچھے بھی تمہارا دفاع کرسکیں خاص طور سے جب تم آفس کے لیے خدمات انجام دے رہے ہو‘ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔‘‘ اگاتھا نے سمجھایا۔
’’کیا یہ نصیحت ہے ؟‘‘ اسپیڈ نے پوچھا۔
’’ہاں‘ یونہی سمجھ لو۔‘‘
’’اچھا مجھے ایک اور بات بتانا تھی گیری نے کہا ہے کہ کل آپ کو اس کے ساتھ گرین روک کیپٹل کے ہیڈ سے ملنا ہے جس کا انتظام لندن کے کلب میں کیا جارہا ہے اس شخص کا نام ولیم ٹی مکرلی ہے وہ اپنی دولت کے زور پر کنٹرول ورکس کو خریدنا چاہتا ہے۔‘‘ اسپیڈ نے بتایا۔
’’ہوں… وہی ہوا جس کاڈر تھا… مخالفین بہت تیزی سے کام کررہے ہیں تمہیں گیری کے انداز سے کچھ پتہ چلا کہ ولیم اس ملاقات کے لیے کتنا بے چین ہے؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’گیری مجھے کچھ خوش نظر نہیں آرہا تھا… وہ زیادہ تر خوش رہتا بھی نہیں۔‘‘
’’لوگوں کو خوش رکھنا اس کی ڈیوٹی نہیں ہے۔‘‘ اگاتھا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ژ…ژ…ژ
دوسرے روز اگاتھا‘ گیری کے ساتھ مقررہ وقت پر ’’یلوٹو کلب‘‘ پہنچ گئی تھی گیری نے اپنی کار کلب کے باہر سڑک پر ایک درخت کے نیچے پارک کی تھی۔
’’آخر تم نے ولیم ٹی سے ملنے کا فیصلہ کیوں کیا‘ ہم جس کیس پر کام کررہے ہیں اس میں تو اس کا نام کہیں نہیں آتا۔‘‘ اگاتھا نے گیری سے پوچھا۔
’’میں نے فیصلہ نہیں کیا بلکہ ولیم اس معاملے میں خود ہی شامل ہوا ہے وہ ’’سینٹرل ورکس‘‘ کو خریدنا چاہتا ہے اور اس نے اس سلسلے میں کرٹس سے ملنے کی درخواست کی تھی جبکہ کرٹس نے مجھ سے کہا کہ میں اس سے ملوں اور معلوم کروں کہ جب ورکس برادرز نے اپنا کاروبار بیچنے کا کوئی اشتہار نہیں دیا تو کیوں اس معاملے میں پڑ رہا ہے کیا اسے معلوم ہوگیا ہے کہ سائمن اب اس دنیا میں نہیں رہا اور یا پھر وہی کسی نہ کسی طرح اس کی موت کا ذمہ دار ہے۔‘‘ گیری نے وضاحت کی وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کلب کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
’’اگر مسٹر ولیم کو پتہ نہیں ہے کہ سائمن اس دنیا میں نہیں رہا تو ہم اس پر شک نہیں کرسکتے ایسی صورت میں ہمیں اس سے اس خبر کو چھپانا ہوگا۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ اسے پتہ نہیں ہوگا ہم سائمن کے قتل کی تحقیقات کررہے ہیں۔‘‘ گیری نے اپنی جیب سے سٹی آف لندن پولیس کا کارڈ نکال لیا تھا اور بیرونی دروازے پر موجود سیکیورٹی گارڈ کو کارڈ دکھاتا ہوا اندر داخل ہوا تھا اگاتھا بھی اس کے پیچھے ہی اندر استقبالیہ پر کلب کے دو ملازمین نے ان کا استقبال کیا تھا انہوں نے سیاہ یونیفارم پہنا ہوا تھا جس پر گولڈن مونوگرام بنا ہوا تھا دونوں میں سے ایک ملازم گیری کی طرف بڑھا تھا۔
’’آپ مسٹر ولیم کے مہمان ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا تو گیری نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ہم یلوٹو کلب میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘ دوسرے ملازم نے کہا۔ ’’مسٹر ولیم آپ کے منتظر ہیں۔‘‘ پھر وہ دونوں ملازم انہیں اپنے ساتھ ایک ہال میں لے گئے تھے جس سے گزر کر وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کلب کی اوپری منزل میں پہنچے تھے وہ جس کمرے میں پہنچے تھے وہاں شہر کے متمول افراد بیٹھے ناشتے میں مصروف تھے‘ ساتھ ہی کاروباری گفتگو بھی جاری تھی ولیم ایک میز پر تنہا بیٹھا تھا گیری اور اگاتھا کی کرسیاں وہاں موجود تھیں جن پر وہ بیٹھ گئے تھے۔
’’گویا برطانیہ میری دولت میں دلچسپی رکھتا ہے؟‘‘ ولیم نے گیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اور تم… تم یہاں کس لیے ہو؟‘‘ گیری نے اسی کے لہجے میں پوچھا۔
’’میں… میں اپنی دولت حاصل کرنا چاہتا ہوں امریکی دولت جو ایک امریکی کمپنی میں لگائی گئی تھی۔‘‘ ولیم نے کہا۔
’’ایک امریکی کمپنی جو لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ پر ہے اور امریکہ میں بھی۔‘‘ گیری نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’میرا تو خیال ہے کہ آج کل مارکیٹیں اور دولت گلوبل حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں کہ ورکس برادرز منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے وہ جڑواں ہیں اور اپنی ماں کے نام سے شہرت حاصل کی ہے باپ کے نام سے نہیں ان کی نانی مرتے وقت ان کے لیے ڈھیروں دولت چھوڑ گئی تھی جو انہوں نے اپنے اثرورسوخ سے بڑھائی ہے اور ایک سوفٹ ویئر بزنس اسٹارٹ کیا جس نے بڑی جلد استحکام حاصل کرلیا اور مزید دولت کمانے کا ذریعہ بن گیا۔‘‘ ولیم نے کہا۔
’’اور تم…؟ میرا خیال ہے کہ تم تو ایک سیلف میڈ شخص ہو۔‘‘ اگاتھا نے لقمہ دیا۔
’’ہاں‘ تم ٹھیک کہتی ہو… میں نے بہت محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔‘‘ ولیم نے کہا اسی وقت کلب کے ایک ملازم نے ان کے سامنے چائے کی ٹرے لاکر رکھ دی جس کے ساتھ کچھ سینڈوچ بھی تھے۔ گیری نے ہاتھ بڑھا کر ایک سینڈوچ اٹھا لیا تھا جبکہ اگاتھا نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔
’’تمہارا بزنس کیا ہے مسٹر ولیم…‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’میرے اپنے والد کی طرح چائے کے باغات ہیں لیکن یہ بہت محنت کی کمائی ہے ایک ایک پودے پر نظر رکھنا پڑتی ہے پودا لگانے سے چائے بننے تک بہت سے مراحل طے کرنا پڑتے ہیں کبھی فصل بہت اچھی ہوجاتی ہے اور کبھی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے لیکن میرے پاس بہت سے ماہرین موجود ہیں جو مجھ کو مفید مشورے دیتے رہتے ہیں۔‘‘
’’اگر تم کنٹرول ورکس‘ خریدلوگے تو دونوں جڑواں بھائیوں کی حیثیت کیا ہوگی؟‘‘ گیری نے پوچھا۔
’’یہ فیصلہ تو انہیں ہی کرنا ہوگا۔‘‘ ولیم نے جواب دیا۔
’’اور اگر وہ اپنا بزنس بیچنے پر تیار نہ ہوں تو؟‘‘ اگاتھا نے پوچھا۔
’’انہیں راضی کرنا ہمیں آتا ہے۔‘‘ ولیم نے غرور بھرے لہجے میں کہا۔
کچھ دیر بعد اگاتھا اور گیری وہاں سے رخصت ہوگئے تھے اور اپنے آفس جانے کے لیے کلب سے باہر آگئے تھے لیکن باہر آتے ہی گیری کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔
’’اوہ خدایا۔‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا اوراس کی نظریں اس جگہ پر جمی ہوئی تھیں جہاں اس نے کچھ دیر پہلے اپنی کار پارک کی تھی کار اب وہاں نہیں تھی قریب ہی ایک ٹریفک وارڈن موجود تھا۔
’’یہاں میری کار کھڑی تھی ابھی ایک گھنٹہ پہلے کی بات ہے۔‘‘ گیری نے ٹریفک وارڈن سے کہا۔
’’وہ سرمئی رنگ کی پرانی سی کار؟‘‘ وارڈن نے پوچھا اورگیری نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’وہ تو چند منٹ پہلے تین نوجوان لے گئے ہیں۔‘‘ وارڈن نے بتایا۔
’’اوہ… دیکھو… شاید یہ تمہاری کار کا ہی ایئریل ہے۔‘‘ اگاتھا نے زمین سے ٹوٹا ہوا ایئریل اٹھا کر گیری کو دکھاتے ہوئے کہا۔
’’اوہ… ہاں… یہ میری کار کا ہی ہے۔‘‘
’’وہ میرے ہاتھ لگ جائیں تو میں انہیں نہیں چھوڑوں گا… میری بیوی کیا کہے گی کہ کار کہاں گئی… میں اسے کیا جواب دوں گا؟‘‘ گیری ایک دم پریشان ہوگیا تھا اور گیری کی بات پر اگاتھا نے وہیں کھڑے کھڑے آفس کا نمبر ملایا تھا۔
’’ہیلو… میں ایک کار کی چوری کی رپورٹ درج کرانا چاہتی ہوں… کار کا رجسٹریشن نمبر…‘‘ اگاتھا کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا اور مختلف کاروں کی سائرنوں کی آوازیں سنائی دینے لگی لوگوں کی چیخیں بھی نمایاں تھیں یہ آوازیں قریب ہی سے آرہی تھیں اس کے ساتھ ہی گیری کو اپنی کار کے مانوس سائرن کی آواز بھی آرہی تھی اور کچھ فاصلے پر مکانوں اور دکانوں کے پیچھے سے دھواں اور آگ کے شعلے نظر آرہے تھے۔
’’اوہ میری کار۔‘‘ گیری نے افسوس سے کہا اور اسی وقت اس کی نظریں یلوٹو کلب کی کھڑکیوں سے جھانکتے ہوئے چہروں پر پڑیں جن میں ولیم میکارلی کا چہرہ نمایاں تھا اس کے چہرے پر حیرت کے بجائے افسوس کے تاثرات تھے تب گیری کو احساس ہوا کہ وہ قتل کے کیس میں صحیح راستے پر تحقیق کررہا ہے اور اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے پھر اچانک ہی اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا تھا اور اس نے اپنا فون اپنی جیب سے نکال لیا تھا۔
’’جب کوئی تمہاری کار کو بم رکھ کر اڑادے تو سمجھ لو کہ وہ تمہارے ارادے بھانپ گیا ہے۔‘‘ اگاتھا نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اسی وقت اسے اپنے قریب نیوان کی آواز سنائی دی۔
’’جلدی کرو کرٹس کی جان کو بھی خطرہ ہے۔‘‘ اگاتھا نے اس کی طرف دیکھا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ گیری سے کچھ کہتی گیری نے کرٹس ورکس مینش کے نمبر ملائے تھے لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تھا صرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی۔
’’یہ نمبر آئوٹ آف سروس ہے… یہ نمبر آئوٹ آف سروس ہے۔‘‘ گیری نے کال کاٹ کر آفس کا نمبر ملایا تھا جو وہاں پاسپورٹ کنٹرول سوئچ بورڈ پر مسز راجر نے ریسیو کیا تھا۔
’’میری بات اسپیڈ سے کرائو۔‘‘ گیری نے کہا اور دوسرے ہی لمحے اسپیڈ فون پر تھا۔
’’اسپیڈ مجھے کسی بھی طرح کرٹس ورکس تک کمیونیکیشن بائی پاس چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔ پھر بے ساختہ اس سمت کی طرف دوڑنے لگا تھا جہاں سے اس کو دھماکے کی آواز آئی تھی۔ اگاتھا بھی اس کی تقلید میں اس کے پیچھے دوڑی تھی گیری کے ہاتھ میں موبائل تھا جو اس نے کان سے لگایا ہوا تھا۔
’’انجینئرز لاگ سے پتہ لگ رہا ہے کہ لوکل ٹیلی فون ایکسچینج فائبر آپٹک میں خرابی کے باعث کام نہیں کررہا ہے اور ہماری رینج میں آنے والے چار سیل ٹاورز بھی فیل ہوچکے ہیں میں تمہارا رابطہ اس صورت حال میں نہیں کرواسکتا۔‘‘
’’وہاں گھر کے باہر موجود سیکیورٹی کا عملہ تھا اس کی کیا خبر ہے؟‘‘ گیری نے پوچھا۔ وہ دوڑتا ہوا سڑک کا کونا مڑا تھا اور اس کے سامنے اس کی سرمئی رنگ کی کار چند قدم کے فاصلے پر الٹی پڑی تھی اس کے پرخچے اڑگئے تھے اور اس سے دھواں اٹھ رہا تھا‘ اس میں موجود لڑکوں کا بھی کچھ اتہ پتہ نہیں تھا کچھ دکان دار اور راہ گیر زخمی پڑے تھے‘ دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے اور وہاں افراتفری کا عالم تھا کار میں اور اس کے اطراف بہت سے بال بیئرنگ پڑے تھے سڑک میں اس مقام پر گڑھا پڑگیا تھا۔
’’ہم اس وقت صرف شارٹ رینج ریڈیو سے کام چلاسکتے ہیں۔‘‘ اسپیڈ نے کہا۔
’’ہمیں ہر حال میں فوراً کرٹس ورک تک پہنچنا ہے وہ خطرے میں ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔ ’’کہیں اسے بھی اس کے بھائی کی طرح نہ مار دیا جائے امدادی ٹیموں کو وہاں بھی بھیجو۔‘‘ گیری نے کہا اور فون بند کردیا سڑک پر بہت سی ایمبولینسز آگئی تھیں جن کے سائرنوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی وہ زخمیوں کو اٹھا کر اسپتال لے جارہی تھیں کچھ ہی دیر میں ایئر ایمبولینس کے طور پر ایک ہیلی کاپٹر فضا میں نظر آیا تھا اور اسے سڑک پر اتارنے کی جگہ فراہم کی گئی تھی وہ بھی طبی امدادی ٹیم کے ساتھ آیا تھا۔
’’اگر کرٹس کی جان کو خطرہ ہے تو اس کی سیکیورٹی ٹیم کیا کررہی ہے؟‘‘ اگاتھا نے گیری سے کہا۔
’’وہاں سے کوئی جواب نہیں آرہا… یوں لگتا ہے وہاں کوئی فون ریسیو کرنی والا بھی نہیں ہے۔‘‘
’’گیری… چلو ہم دونوں تو چلتے ہیں۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’ہم دونوں؟‘‘ گیری نے حیرت سے کہا انداز ایسا ہی تھا جیسے اگاتھا سے اسے کوئی امید نہ ہو بہرحال وہ کافی عمر رسیدہ تھی اور اسے ریٹائر ہوئے بھی عرصہ ہوچکا تھا۔
’’کوئی شک؟‘‘ اگاتھا نے اس کا ذہن پڑھتے ہوئے کہا تو گیری مسکرادیا لیکن اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔
’’تم جانتے ہو میں اکیلی نہیں… میں کبھی اکیلی نہیں ہوتی۔‘‘ اگاتھا نے پریقین لہجے میں کہا۔
’’نیوان…؟‘‘ گیری نے پوچھا اور اگاتھا نے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’اس لیے ہی تو تم لوگوں نے میری خدمات لیں اس کی خاطر ہی مجھے نفسیاتی سینٹر سے رہائی دلائی تو اب تو یہ نیوان کا بھی فرض بنتا ہے کہ تمہارا ساتھ دے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے… چلو جلدی کرو۔‘‘ گیری نے کہا اور ایک ٹیکسی میں اگاتھا کے ساتھ بیٹھ کر کرٹس کی رہائش کی طرف روانہ ہوگیا۔
ژ…ژ…ژ
تھریسیا کو اسپیڈ نے آفس ہی میں صورت حال سمجھا کر کچھ فائٹرز کے ساتھ کرٹس کی رہائش گاہ پر بھیج دیا تھا وہاں پہنچنے کے بعد تھریسیا نے اطراف کا جائزہ لیا تھا ماحول بالکل مختلف تھا جب وہ پہلے گیری کے ساتھ وہاں آئی تھی تو رہائش گاہ کے باہر چپے چپے پر سیکیورٹی گارڈ موجود تھے لیکن حیرت انگیز طور پر اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا۔ شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا تھریسیا کے ساتھ جو فائٹرز تھے انہوں نے سیاہ وردیاں پہنی ہوئی تھیں اور تھریسیا نے انہیں رہائش گاہ کے احاطے کے اندر جانے کے بعد مختلف سمتوں میں بکھر جانے کے لیے کہا تھا اور خود بیرونی صدر دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ پھر جب اس نے اندر داخل ہونا چاہا تھا تو اسے احساس ہوا تھا کہ دروازہ اندر سے لاک تھا۔ تھریسیا نے اپنے بیگ سے اسپیشل کی بنچ نکالا تھا اور کسی ماہر کی طرح دروازے کا لاک کھول لیا تھا۔ وہ بہت آہستگی سے اندر داخل ہوئی تھی اور اپنے پیچھے دروازہ بند کردیا تھا پھر وہ دھیرے دھیرے چلتی ہال سے گزرتی لائبریری کی طرف بڑھی تھی کیونکہ اسے وہاں کچھ روشنی نظر آرہی تھی اس نے لائبریری کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر اندر جھانکا تھا۔ وہاں کم پاور کے بلب کی روشنی تھی لیکن کمرے میں کسی کی موجودگی کے آثار نہیں تھے وہ آہستہ سے اندر داخل ہوئی تھی اور پھر اچانک اس کی نظر کمرے کے درمیانی دیوار میں بنی بڑی سی کھڑکی کے قریب رکھی آرام دہ کرسی پر پڑی تھی جو خالی تھی اور جہاں اکثر کرٹس بیٹھا کرتا تھا اس وقت کرسی خالی تھی لیکن اس کے قریب فرش پر اس بوڑھے ملازم کی لاش پڑی تھی جس سے تھریسیا اور گیری کی ملاقات پہلے روز یہاں آنے پر ہوئی تھی۔
’’اوہ… بے ساختہ تھریسیا کے منہ سے نکلا… یہ تو کرٹس کا خاص ملازم ہے… خدا جانے یہاں کیا ہوا ہے؟‘‘ تھریسیا نے زیر لب کہا پھر اس نے اس ملازم کی نبض محسوس کرنے کی کوشش کی تھی جو چل رہی تھی اس کا مطلب تھا کہ وہ صرف بے ہوش ہوا تھا لیکن اس کے سر سے اچھی خاصی تعداد میں خون بہہ چکا تھا تھریسیا نے قریب رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈھیلا اور ملازم کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی اچانک ہی اس نے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھول دی تھیں اور حیرت سے چاروں طرف دیکھنے لگا تھا۔
’’کیا ہوا ہے… میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے غنودگی کے عالم میں پوچھا۔
’’ہیلو… ادھر دیکھو… میری طرف… تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ تھریسیا نے پوچھا۔
’’مم… میں… جیری… لیکن آپ کون ہیں؟‘‘ جیری نے پوچھا۔
’’میں اسپیشل برانچ سے آئی ہوں… یہ بتائو یہاں کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کچھ سمجھ نہیں آرہا… ایک کار میں چار پانچ افراد آئے تھے ان کے آتے ہی رہائش گاہ کے اطراف میں کئی دھماکے ہوئے ہم نے مدد کے لیے فون کرنا چاہے تو فون ڈیڈ تھے‘ ہماری کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔‘‘
’’کرٹس مارک کہاں ہے؟‘‘
’’وہ… وہ میرے ساتھ لائبریری میں ہی تھے پھر دو سیاہ پوش یہاں آئے تھے اور انہوں نے مالک کی کنپٹی پر گن رکھ دی تھی۔ میں نے مداخلت کرنا چاہی تو کسی نے پیچھے سے میرے سر پر کوئی بھاری چیز ماری تھی اور میں اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔‘‘
’’اوہ…‘‘ تھریسیا کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا پھر اس نے جیری کو زمین سے اٹھنے میں مدد دی تھی اور اسی وقت گیری اگاتھا کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تھا۔
’’کیا ہوا… صورت حال کچھ سمجھ میں آئی؟‘‘ اس نے تھریسیا سے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے کرٹس کو اغوا کیا گیا ہے… میں ابھی یہاں پہنچی ہوں تو مجھے جیری زخمی او ربے ہوش ملا تھا اس نے بتایا ہے کہ سیاہ وردی میں ملبوس پانچ افراد ایک کار میں آئے تھے اور کرٹس کو شاید اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔‘‘
’’شاید؟‘‘ گیری نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’دراصل اس نے صرف اتنا ہی دیکھا تھا کہ دو افراد کمرے میں آئے تھے ان میں سے ایک نے کرٹس کی کنپٹی پرگن رکھی تھی اور دوسرے نے کوئی بھاری چیز مار کر جیری کو بے ہوش کردیا تھا اب اس عمارت میں کوئی نہیں ہے سیکیورٹی گارڈ بھی نہیں۔‘‘ تھریسیا نے بتایا۔
’’اسے کس نے اغوا کیا ہوگا؟‘‘ تھریسیا نے حیرت سے پوچھا۔
’’جو اس کا بزنس خریدنا چاہتا ہے اور جس نے اس کے جڑواں بھائی کو قتل کیا ہے۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’ولیم ٹی مکرلی۔‘‘ اگاتھا نے زیرلب کہا۔ ’’وہ اس وقت کلب میں نہیں ہے جب ہم وہاں سے روانہ ہوئے تب ایک ہیلی کاپٹر میں کرٹس کو یلوٹو کلب کی چھت پر لایا گیا تھا چند لمحوں کے لیے اس کے اغوا کرنے والے اس کے ساتھ موجود تھے پھر ولیم بھی اس ہیلی کاپٹر میں سوار ہوگیا اور اس وقت وہ ہیلی کاپٹر فضائوں میں ہے اور امریکہ کی طرف سفر کررہا ہے۔‘‘ اگاتھا یوں بول رہی تھی جیسے ٹرانس میں ہو‘ نیوان اس کے کان میں اسے معلومات دے رہا تھا اور وہ بتارہی تھی لیکن نیوان سب کی نظروں سے اوجھل تھا اور وہاں اس کی موجودگی کو کوئی بھی محسوس نہیں کرسکتا تھا نیوان نے اپنی بات ختم کرکے آہستہ سے اگاتھا کے گال کو سہلایا تھا اور جیسے وہ ہوش میں آگئی تھی۔
’’انہیں سفر کرتے ہوئے صرف آدھا گھنٹہ ہوا ہے۔‘‘ اگاتھا نے کہا اور اسی وقت گیری نے اہم اطلاع اپنے فون پر پولیس ہیڈ کوارٹر کی اسپیشل برانچ کو دے دی‘ موقع واردات سے انہیں کوئی خاص ثبوت نہیں ملا تھا۔
’’اتنی سیکیورٹی کو کیا ہوا؟ میں حیران ہوں۔‘‘ گیری نے کہا۔
’’انہیں خریدلیا گیا… ولیم نے کرٹس سے زیادہ بھاری رقم دے کر سیکیورٹی گارڈز کے ہیڈ کو خرید لیا اور انہوں نے موقع پر کرٹس کا ساتھ دینے کے بجائے ولیم کا ساتھ دیا۔‘‘ اگاتھا نے کا۔
’’لیکن اس نے تو ہمیں یلوٹو کلب بلایا تھا کرٹس کے کاروبار کا سودا کرنے کے لیے۔‘‘ گیری نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں ضرور بلوایا تھا لیکن اس کے سامنے دو آپشن تھے ایک تو یہ کہ سودا ہوجائے گا اس صورت میں اسے مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن سودانہ ہونے کی صورت میں اس نے جو پلان بنایا تھا وہ اس پر عمل کررہا ہے اب وہ کرٹس کو اغوا کرکے اس کی فیملی پر زور ڈالے گا کہ اسے تاوان میں بھاری رقم دی جائے‘ کاروبار کا سودا کیا جائے۔‘‘ اگاتھا نے کہا۔ نیوان برابر اس کے کان میں معلومات دے رہا تھا۔
’’تم بڑے کام کی چیز ہو اگاتھا۔ تمہاری مدد کرنے والی روح تمہاری بڑی وفادار ہے وہ ہمیشہ تمہاری مدد کرتی ہے اسی لیے تو محکمے نے دوبارہ تمہاری خدمات حاصل کی ہیں۔‘‘ تھریسیا نے مسکرا کر کہا جس پر نیوان نے برا سا منہ بنایا لیکن کوئی اس کی یہ حرکت نہیں دیکھ سکا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ آفس کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔ اسپیشل برانچ کی انویسٹی گیشن ٹیم وہاں پہنچ گئی تھی جو وہاں سے کمپیوٹر سسٹم اور نیٹ ورک سسٹم سے معلومات اکٹھی کررہی تھی راستے میں گیری کو اطلاع ملی تھی کہ ولیم کے ہیلی کاپٹر کو برطانیہ کی حدود ہی میں اتار لیا گیا تھا اور کرٹس بخیریت تھا اب انہیں سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپیشل برانچ آفس لایا جارہا تھا۔ گیری نے یہ خوش خبری سب کو سنائی تھی۔
’’مجھے میرے گھر پر ڈراپ کردو میں کل وقت پر آفس پہنچ جائوں گی۔‘‘ اگاتھا نے گیری سے کہا جو تھریسیا کی کار ڈرائیو کررہا تھا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا تھا اور اگاتھا کو ڈراپ کرنے کے بعد آفس کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔
اگاتھا اپنے گھر کا دروازہ کھول کر اندرداخل ہوئی تو نیوان اس کے ساتھ تھا جس نے بڑی محبت سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا ہوا تھا۔
’’تھک گئی ہو… کچھ پیوگی؟‘‘ نیوان نے محبت سے بھرے لہجے میں پوچھا اور اگاتھا نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ اسے چھوڑ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اگاتھا کپڑے تبدیل کرکے نائٹ گائون پہن چکی تھی رات خاصی بیت گئی تھی اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھیں۔
’’تم آج بھی بہت خوبصورت ہو اگاتھا۔‘‘ نیوان نے جوس کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
’’یہ تمہارا خیال ہے نیوان… اب مجھ میں خوبصورتی نام کی کوئی چیز کہاں میں تقریباً ادھیڑ عمر کی ہوچکی ہوں نہ وہ خوبصورتی ہے اور نہ وہ طاقت… صرف تمہاری مدد کی وجہ سے مجھے میرے آفس کے لوگوں نے بھی یاد رکھا ہوا ہے۔‘‘ اگاتھا نے دکھ سے کہا۔
’’اور میرا وعدہ ہے کہ جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں انہیں تمہاری مدد کی ضرورت پڑتی رہے گی اور وہ تمہیں یاد رکھنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘ نیوان نے جوس کا خالی گلاس اگاتھا کے ہاتھ سے لے کر میز پر رکھتے ہوئے کہا اور اگاتھا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کرلیا پھر اس کے ایک اشارے پر کمرے میں موجود ٹیپ ریکارڈ پر ایک رقص کی دھن بجنے لگی تھی اور اس نے اگاتھا کے ساتھ رقص شروع کردیا تھا وہ اس کے ساتھ گھوم رہی تھی‘ جھوم رہی تھی‘ بل کھاتی‘ مسکراتی جارہی تھی اس کی آنکھوں میں نیند بھری تھی‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت سمجھ رہی تھی اوریہ صرف اور صرف نیوان جیسے ان دیکھے ساتھی کا کمال تھا جو موجود بھی تھا اور نہیں بھی‘ جو سکون بھی بخشتا تھا اس کاخیال بھی کرتا تھا‘ اور اس کی کوئی ڈیمانڈ بھی نہیں تھی جو اگاتھا کا اس بڑھاپے اور تنہائی میں واحد سہارا تھا جو غائب بھی تھا اور حاضر بھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close