Naeyufaq Jul-17

میں اور میرا تخلیقی عمل

دستگیر شہزاد

ہم وقفے وقفے سے نئے افق کے ابتدائی صفحات اور اپنے کسی لکھنے والے کا تعارف دیتے تھے، ہیں اسے آپ انٹرویو بھی کہہ سکتے ہیں اس کا مقصد لکھنے والے کا اپنے پڑھنے والے سے تعارف ہوتا ہے گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پرانے قلمکار دستگیر شہزاد سے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے انٹرویو سے انکار کرتے ہوئے اپنا تعارف خود کرانے کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے لکھنا کیوں اور کیسے شروع کیا سو ان کا تعارف انہی کی زبانی حاضر ہے۔

ذہن میں کسی نئے خیال کا یوں تیر جانا جیسے فضا میں برف کے گالے اڑتے ہیں لفظوں کا آپ سے آپ قلم کی نوک سے کاغذ تک اترتے جانا جیسے پھولوں پر شبنم بچھتی ہے یہ سب کچھ کیا ہے؟کیونکر ہے؟ کہاں سے آتا ہے کوئی خیال اور اس خیال کو لفظوں میں خوش بو کی طرح بسانے کے لیے ہماری انگلیوں میں وہ جادوئی چھڑی کہاں سے آجاتی ہے جو سفید کاغذ پر کہانیوں کے گل بوٹے کاڑھتی ہے کسی اجاڑ باغ میں پھدکتے ہوئے مینڈکوں کو سنڈریلا کی سنہری بگھی میں چھ مشکی گھوڑوں کا روپ دے دیتی ہے چڑیوں،طوطوں اور بگلوں سے باتیں کراتی ہے اور جیتی جاگتی شہزادیاں اور شہزادے پتھر کے ہوجاتے ہیں لفظوں کی یہ کنچن مالا انگلیاں کیسے پروتی ہیں؟ آخر کیسے پروتی ہیں تخلیق کے اس عمل کے بارے میں سوچتا ہوں تو میری نگاہوں میں وہ لمحہ گھوم جاتا ہے جب میرے والد نے میرا ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر فیصل آبادی مٹی سے لپی ہوئی تختی پر فارسی کا ایک جملہ لکھوایا تھا عرق گلاب میں کھرل کیا ہوا زعفران سفید چینی کی فنجان میں تھا میں اس لمحے کی سنسنی کو آج تک نہیں بھلا سکا ہوں میں نے لرزتی انگلیوں سے سر کنڈھے کا قلم زعفرانی روشنائی میں ڈبو یا تھا اور لالہ کے ہاتھ اپنا ہاتھ دے دیا تھا میرے ہاتھ میں لالا کے ہاتھ کی جنبش کے ساتھ حضرت شرف الدین یحییٰ منیر کے ایک خط کا القاب برادرم شمس الدین و زین الدین اور دوسری سطر میں (قلم گوید کہہ منشاہ جہانم) لکھا تھا فارسی مجھے آج بھی نہیں آتی کہ اس وقت میں بھلا کیا جانتا لالا نے مجھے بتایا تھا کہ یہ مصرع قلم کی بادشاہت کا اعلان ہے شاید اسی لمحے سے میں نے قلم کی قلمرو میں قدم رکھا اور اس کی رعیت بن گیا یہ بیس سال پہلے کا قصہ ہے اس زمانے میں لڑکوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ لکھنا پڑھنا سیکھ کر عمر بھر رزق کا خرچہ چلائیں گے اور لڑکیاں زیادہ سے زیادہ دھوبی کا حساب لکھیں گی ہماری دنیا ابھی جدید نہیں ہوئی تھی لالا نے خواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ وہ جو مجھ سے مثنوی مولانا روم کے شیخ سعدی کے اشعار اور حضرت شرف الدین یحییٰ منیری کے مکتوبات صدی نقل کرنے کی مشق کرا رہے ہیں میں ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دوں گا اور نو برس کی عمر میں ایک رومانی کہانی لکھ ڈالوں گا مجھے اپنی یہ پہلی تحریر پھاڑ کر پھینکنا پڑی اور اس کے بہت دنوں میں نے کوئی کہانی نہیں لکھی لکھنے کاموقع ہی کہاں ملتا تھا لالا مجھے اپنا مرتب کردہ نصاب پڑھا رہے تھے اور اس میں کہانی لکھنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی یوں بھی ان کی خواہش تھی کہ میں وقیع اور تحقیقی مضامین لکھا کروں اپنے دوست ریاض حسین خستہ اور اپنے شناسا انور محمود خالد کی طرح وہ مجھے نقاد یا بھاری بھرکم مصنف دیکھنے کے خواہش مند تھے اپنے عزیز دوست رام ریاض کی کہانیوں کو وہ کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے جو انہوں نے پریم پجاری کے نام سے لکھی تھی میرے مضامین لکھنے کی اصل مشق اسکول میں ہوئی اس مشق کا آغاز استاد محترم نیک محمد نے آٹھویں میں کرایا جو اس وقت مجھے اردو پڑھاتے تھے نویں اور دسویں میں بھی ہم سے ہر ہفتے ایک مضمون لکھوایا جاتا تھا غرض میرے لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ اسکول سے شروع ہوا میری پہلی تحریر ماہنامہ تعلیم و تربیت میں شائع ہوئی اور میں نے پہلا افسانہ 2007ء میں لکھا جو سنہرے دل کے عنوان سے فنون میں شائع ہوا تخلیقی عمل میرے اندر کسی طرح جنم لیتا ہے یا نمو پذیر ہوتا ہے لکھنا ایک فن ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہنر بھی ہے اور ہنر میں کمال دکھانے کا معاملہ قصہ حاتم طائی جیسا ہے کہ جس میں کچھ شرطیں پوری کیے بغیر گوہر مراد ہاتھ نہیں آتا کچھ لکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس بات کو طے کریں کہ اپنا اظہار ہم کس طور کرنا چاہتے ہیں۔ ہم افسانہ، ناول، ڈرامہ، انشائیہ یا فکاہیہ کیا لکھنا چاہتے ہیں ہم جب اپنے اظہار کا میڈیم طے کر لیتے ہیں تو پھر اسی حوالے سے وہ خیال ذہن میں جنم لیتا ہے جس پر ہماری تخلیقی تحریر کی بنیاد رکھی جائے گی کبھی اچانک کوئی خیال ذہن میں کوندے کی طرح لپک جاتا ہے اور اس کی روشنی میں ہم اپنی کہانی بنتے ہیں اور کبھی اس بارے میں ہمیں غور کرنا پڑتا ہے ناول کوئی ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں اچانک ہمیں خیال آجائے اور ہم اسے لکھنے کے لیے بیٹھ جائیں جس قسم کے ناول میں لکھتا ہوں ان کے لیے تو ریسرچ ظاہر ہے کہ بے حد ضروری ہے علاوہ ازیں مصوری، آرٹ، ہسٹری آرکیالوجی اور موسیقی سے میری گہری دلچسپی اس چھان پھٹک میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
جب ہم کسی منظر کسی صورت حال کسی خبر یا کسی ذاتی تجربے سے متاثر ہو کر اسے سپرد قلم کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس خیال کے ساتھ ہم کچھ وقت گزارتے ہیں یوں جیسے کسی بیج کو زمین کے حوالے کردیا جائے اور پھر اسے پانی دیا جائے تو چند دنوں میں ننھا سا اکھوا زمین سے اپنا سر باہر نکال لیتا ہے خیال کے طے پا جانے کے بعد ہم اپنے مشاہدے کو بنیاد بنا کر خیال کے پھیلائو کے لیے کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں عموماً یہ کرایہ دار اپنے ارد گرد سے اٹھائے جاتے ہیں اور ان میں کچھ تبدیلی کر کے انہیں ایک نیا رنگ دیا جاتا ہے یہ مشاہدے کا عمل ہے جو ہماری تخلیق میں کام آتا ہے اسی لیے ہمارا مشاہدہ جتنا گہرا ہوگا ہمارے کردار اتنے ہی جاندار اور زندگی سے قریب تر ہوں گے اب اپنی تخلیق کو کاغذ پر لکھنے کا وقت آتا ہے جس کے لیے زبان کا ماہرانہ استعمال بنیادی چیز ہے جس میں لغزشیں ہمارے کام آتی ہیں اور ایک لفظ کو سو طرح برتنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں زبان کی مہارت اور روانی کے ساتھ ساتھ مطالعے کی رنگا رنگی و لا شعوری طور پر ہماری تخلیق میں لہو بن کر دوڑتی ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ اگر شعوری طور پر زبان کی مہارت اور مطالعے کی وسعت کو برتا جائے مشکل لفظ جان بوجھ کر استعمال کیے جائیں کتابوں میں پڑھی ہوئی باتیں یا تاریخ کے حوالے بلا ضرورت دیے جائیں تو وہ تخلیق سے الگ نظر آتے ہیں اور ان کی حیثیت کو کم کردیتے ہیں ہم موسیقاروں، گلوکاروں خطاطوں یا نقاشوں کے بارے میں سنتے اور پڑھتے ہیں کہ وہ گھنٹوں ستار بجاتے ہیں ریاض کرتے و خطاطی کی مشق جاری رکھتے اور بدن کے ایک ایک حصے کو سو سو مرتبہ نقش کرتے ہیں تب ہی ان کی انگلیوں، ان کی آواز ان کی لکھتے اور ان کے کھینچے ہوئے نقوش میں جان پڑتی ہے بالکل ایسا ہی معاملہ لکھنے کا ہے ہم لکھنے کی جس قدر مشق کریں گے ہماری تحریر میں اتنی ہی روانی اور اتنی ہی جان آئے گی وہ اتنی ہی سجل ہوتی جائے گی اچھا لکھنے کے لیے ہمیں بھی کسی موسیقار یا گلوکار جتنی ریاضت اور اتنے ہی ریاض کی ضرورت ہے۔ مصوری، نقاشی، مجسمہ سازی یا خطاطی سیکھنے والوں سے بڑے کلاسیکی مصوروں مجسمہ سازوں اور خطاطوں کے کام کی انگلیوں اور ان کے ہاتھ میں لوچ اور خطوط میں لچک پید اکرتی ہیں اسی طرح ہم اگر اچھا لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بڑے لکھنے والوں کی تحریروں کے ترجمے کرنے چاہیں یوں ہم ان کو تحریروں کی نزاکتوں اور اسرار و رموز سے لا شعوری طور پر آگاہ ہوتے جاتے ہیں اور ہمیں زبان کو برتنے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے ترجمہ ایک جدید کام ہے اگلے وقتوں کے لوگ کسی کہانی کو سنتے تو اس کو کسی دوسرے انداز میں نئے سرے سے لکھنے بیٹھ جاتے یا کسی دوسری زبان میں اسے نئی فضا اور نئے رنگ میں بیان کرنے کی یہی وجہ ہے کہ پرانی داستانیں اور کہانیاں ہمیں مختلف زبانوں میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نظر آتی ہیں اگلے زمانوں میں یہ کام مترجمین کی بجائے داستان گو کرتے تھے وہ تاروں کی چھائوں اور رات کے سکوت میں لوگوں کا دل دور دراز کی کہانیوں سے بہلانے ایک کارواں سرائے سے دوسری کارواں سرائے ایک بادشاہ کے دربار سے دوسرے امیر کی دہلیز تک پہنچتے کچھ فاصلہ طے ہوتا تو بولی بدل جاتی زبان کچھ سے کچھ ہوجاتی لیکن وہ داستان گو ہی کیا جو کئی زبانیں نہ جانتا ہو آج کے دور میں یہ پرانے داستان گو زندہ ہوتے تو ان بہت سے عالموں کا چراغ ذرا مدہم چلتا جن کی ہفت زبانی کے چرچے ہوتے ہیں یہ نرالے لوگ نئی زبانوں میں ڈوب ڈوب جاتے، فنیقی، سمیری، اشوری اور مصری ملاحوں کی کشتیاں پر شور لہروں سے لڑتی ہوئی ایران، ہندوستان، چین کے ساحلوں سے لگتیں تو ان ملاحوں کی زبانی شراب خانوں اور قہوہ خانوں میں ایک ملک کی کہانی دوسرے ملک کی عورتوں، مردوں، خواجہ سرائوں، جمالوں اور بقالوں تک پہنچتی تو کچھ سے کچھ ہوجاتی مختلف زبانوں کی قصہ کہانیوں اردو میں منتقل کرنے کے کام آج سے دو صدی سے ہو رہا ہے فارسی، سنسکرت، پالی و ترکی، بنگلہ، عبرانی اور لاطینی کی داستانیں اور کہانیاں جانے کن کن راستوں سے ہوتی ہوئی اردو میں منتقل ہوئیں اب تک کہانیاں پنچ تنتر، کتھا، الف لیلیٰ، داستان امیر حمزہ، بوستان خیال اور قصہ چار درویش جس نے اردو میں باغ و بہار کے نام سے بقائے دوام کے دربار میں جگہ پائی میرے یہاں لکھنے کا عمل پڑھنے سے جڑا ہوا ہے میرے لکھنے کوشاید میرے پڑھنے نے مہمیز دی گھر میں امی کی ابا کی کتابیں تھیں پڑھنے پر کسی قسم کی پابندی نہ تھی اس لیے ڈپٹی نذیر احمد کی مراۃ العروس اور بنات العش سے لے کر مولانا اشرف تھانوی کے بہشتی زیور تک جو جی چاہا پڑھا بات سمجھ میں آئی یا نہ آئی لیکن آنکھوں سے گزار لی پھر جاسوسی ناولوں کا چسکا لگا تو ابن صفی سے لے کر اے حمید تک سب کو پڑھ ڈالا نہ انتخاب کی فرصت تھی نہ یہ فکر کہ اس طرح پڑھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بس اسی راستے سے گزرتے ہوئے کہانیاں اور مضامین لکھنے کا عمل شروع ہوگیا لکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے اس میں شعر، روغنی تصویریں، موسیقی کی لہریں، ہوا کا چلنا، بادلوں کا برسنا اور پیاسی مٹی اور پانی کے وصال کی سوندھی خوشو آسمان پر اڑتے ہوئے پرندے اور زمین پر تیزی سے لہرا کر چلتی ہوئی گہری ندی سب ہی شامل ہوتے ہیں شعور لا شعور اور تحت الشعور میں سلسلہ خیال کی اشرفیاں جمع ہوجاتی ہیں اور پھر جانے کب ان کا سنہرا پن کہانی میں لشکارے مارنے لگتا ہے اس طرح لکھنا جیسے صفحے پر بارش ہو رہی ہو ادراک و اکتساب، تجربہ، تشریح، ترجمانی، اطلاع، خیر رسانی یہ سب ایک عمل میں شامل ہے کوئی معمولی سا واقعہ پھولوں کی شاخ،گلی میں اکیلا کھڑا ہوا بچہ و رات کے وقت سنسان سڑک پر گزرتی ہوئی روشن بس، خزاں کی ہوائیں دور کی موسیقی، دوپہر کے سناٹے میں کمرے کا سنہرا رنگ اور آپ ایک نئے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں ساری دنیا ساری کائنات کا تجزیہ تو کوئی بھی نہیں کرسکتا مگر تلاش کسی ایک نقطے سے تو شروع کی جاسکتی ہے۔
اسی طرح یہ کتابیں جو ہمیں نرالے آسمانوں اور زمینوں کی سیر کراتی، نئے محسوسات سے آشنا کراتی ہیں نئی حالتوں سے گزارتی ہیں اور پھر جانے کیا ہوتا ہے کہ ان ہی حالتوں اور ان ہی کتابوں سے خیالات کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں نئے گل بوٹے سانس لیتے ہیں شعر العجم حافظ و سعدی کا کلام، شانامہ فردوسی، یونان، مصر کی دیویاں اور دیوتا تاریخ کی کتابیں، کہانیوں کے مجموعے،میر و سودا غالب و انیس و دبیر، طلسم ہو شر با اور الف لیلیٰ و لیلیٰ، رسوی، فرانسیسی اور انگریزی کے ادیب اخباروں کی خبریں بھلا کون سی چیز ہے جو لکھنے کے عمل میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی تخلیقی عمل میں مطالعہ کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے اس بارے میں عالمی ادب کا ایک بڑا نام میکسم گور کی ایک اپنے مضمون ’’آن بک‘‘ میں لکھتا ہے۔
’’ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں انسان کو سمجھنا اس وقت تک نا ممکن ہے جب تک ہم اس کے بارے میں لکھی جانے والی وہ کتابیں نہ پڑھیں جو ادیبوں اور سائنسی شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے لکھی ہیں اپنے اسی مضمون میں وہ آگے چل کر کہتا ہے۔
’’میں انسانوں کے سوا کسی چیز کو جاننے اور اس کی آگہی رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور انسانوں تک پہنچنے کے لیے کتابوں سے زیادہ دوست دار اور دریا دل رہنما کوئی اور نہیں ہوسکتا لکھتے ہوئے دو چیزیں میرے محسوسات کو سب سے زیادہ مہمیز کرتی ہیں وہ شاعری اور موسیقی ہے اس کے علاوہ کسی فلم میں دیکھا ہوا کوئی منظر کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے میر، سود اور غالب یا جدید شاعروں کے مصرعے میرا تعاقب کرتے رہتے ہیں میں انہیں اپنے اندر دہراتا رہتا ہوں اور پھر کسی ایک روز وہ اپنے آپ کسی افسانے میں نمودار ہوجاتے ہیں یہ ایک لا شعوری عمل ہے میں نہیں جانتا کہ لکھتے ہوئے یہ کیسے ہوتا ہے کہ اچانک کوئی مصرع کوئی بھولا بسرا گیت و افسانے کی بنت میں نمودار ہوجاتا ہے۔
مجھے امی نے کہانیاں سنائیں اور لالا نے کتابیں پڑھائیں کہانیاں میں نے شاید ڈھائی تین برس کی عمر سے سننی شروع کیں اب ان کی کترنیں یاد رہ گئی ہیں چھ سات برس کی عمر سے میں کہانیوں کی، تاریخ اور مذہب کی کتابیں پڑھنے لگا تھا گھر میں ادبی اور نیم ادبی رسالے اور اخبار آتے تھے پڑھنے کا ایسا ہوکا تھا کہ مہینے بھر کا سودا آنے کے بعد امی سے ڈانٹ پھٹکار سننی ضروری تھی ان دنوں پلاسٹک کے تھیلے ایجاد نہیں ہوئے تھے اخبار اور رسالوں کی ردی سے لفافے بنتے تھے میرے لیے ہلدی مرچ دھنیا اور سونف کی پڑیاں و دالوں کے تھیلے اپنے اندر ایک عجیب رمز رکھتے تھے مہینے بھر کا سودا آتے ہی میں انہیں پڑھنے کے لیے بے تاب ہوجاتا ان میں خبروں کی اور کہانیوں کی کترنیں ہوتی تھیں ان نامکمل خبروں یا کہانیوں کو میں پھر سے اپنے انداز میں مکمل کرتا تھا میرے اندر نئی نئی کہانیاں جنم لیتیں میں ان کہانیوں کو اپنی بوا کو سناتا۔
میرے خیال میں کہانیاں لکھنا یا مضامین اور کالم لکھنا میرے لیے ممکن ہی نہ ہوتا اگر میں نے دیوانوں کی طرح پڑھا نہ ہوتا ہم جتنی زیادہ اور مختلف النوع کتابیں پڑھیں گے زندگی کے اتنے ہی گہرے اور آبی رنگ ہمیں اپنی جھلک دکھائیں گے انکل کومس کوبن کو پڑھے بغیر ہم غلامی کے بارے میں بھلا کیا جان سکتے ہیں انسانوں کے ساتھ ان کے رنگ اور نسل کی بنا پر کیسے ستم ہوئے ہیں اسے جاننے کے لیے ایسے ناولوں اور آپ بیتیوں سے گزرنا ہوتا ہے عین اسی زمانے میں یا آس پاس کے زمانوں میں سفید فام خاندان امریکا میں کیسی شانت زندگی گزار رہے تھے اس لیے ہم آگاہ نہیں ہوسکتے اگر دا لٹل وومن نہ پڑھی ہو یہ دو امریکی ناول امریکی سماج کے دو متضاد دھاروں سے ہماری ملاقات کراتے ہیں اور ہم ان کے تضاد سے اپنی اقلیتوں اور اپنے دلتوں کے بارے میں کوئی نئی چیز تخلیق کرتے ہیں لکھنے کے عمل میں زبان دانی سب سے اہم ہے آپ کی رسائی اپنی زبان کے کتنے لفظوں تک ہے ایک ہی بات کو کتنی طرح کہنے کی مہارت ہے ایک لفظ کے کتنے مترادفات آپ کے علم میں ہیں، کتنی نعتیں آپ کی دسترس میں ہیں کتنے محاورے و ضرب المثال، آوارہ گرد اشعار اور کلاسیکی شاعروں کے دیوان تک آپ کی پہنچ ہے آپ کی تحریر میں کسی خاص پیشے سے تعلق رکھنے والے کردار ہیں اور اس پیشے سے متعلق اصلاحات اگر آپ کے علم میں نہیں ہیں تو خود سوچیں کہ ایک نائی و نان بائی یا درزی کے کردار کو کس طرح لکھا جاسکتا ہے نا اگر کسی خاص علاقے کے بارے میں کہانی اور بطور خاص ناول لکھا جا رہا ہے تو اس علاقے کے بارے میں مکمل جغرافیائی تفصیلات علاقے کے لوگوں کا تمدن ان کی لوک روایات اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے آگاہ ہوئے بغیر اوسط درجے کا ناول بھی نہیں لکھا جاسکتا نہ کہ بڑا یا اہم ناول کے لکھنے کی توقع کی جائے شوکت صدیقی جن دنوں جانگلوس لکھ رہے تھے ان کے کمرے میں پنجاب کے ان علاقوں سے متعلق کتابیں جرائد و رسائل گزیٹر اور کمرے کی دیواروں پر اس علاقے کے نقشے آویزاں رہتے تھے۔
2015ء کی بات ہے ایک خوبصورت شاعرہ اور مونتاج کی ایڈیٹر منصورہ احمد کا مجھے ایک ای میل ملا ای میل کیا تھا ایک محبت نامہ تھا جو مجھے شرمسار کر رہا تھا صبح کا وقت تھا لیکن اس محبت نامے کی آمد سے میرے آس پاس بہت ساری شام اور اس کا دھندلکا بھی اتر آیا تھا سانجھ کے سائے گم ہونے لگے تو موہ نے مجھے اپنی مٹھیوں میں قید کرلیا پچھم نے شاید اس وقت کوئی دریچہ کھول دیا تھا آکاش لوبان کی طرح سلگتا ہوا اس دریچے سے نظر آرہا تھا وہاں کہیں ضرور اس لوبانی میں ایک بہت بڑا سا قلعہ تھا چھپا ہوا قلعے میں ایک سمندر لہریں مار رہا تھا لہریں گھنٹوں اور شہنائیوں کے لہن میں شاید یہی کہہ رہی تھی اگر اسے دیکھنا ہے واقعی اسے دیکھنا ہے تو اپنے جسم و دل کے اندر دیکھو اے میرے کہانی کار تمہاری کہانیاں تمہاری شاعری ایک بیج ہے اور یہ بیج کائنات ہے اے میرے کہانی کار سچ بتا تو کسی وقت کہانی لکھتا ہے کہ تیری کہانی میں وقت ایک تمثیل نہیں بلکہ خون بن کے دوڑنے لگتا ہے اور اس خون کا رنگ موسم بہار کا لال رنگ نہیں بلکہ موسم خزاں کا زرد اور سنہرا رنگ ہوتا ہے سچ کہانی کار کیا تو کہانی اس وقت لکھتا ہے۔
جب حاملہ زمین اپنے پیٹ کے اندر سے اکھولے نکالنے کے لیے جگہ جگہ تڑخنے لگتی ہے۔
جب مولانا روم شمس تبریز، جامی، خیام، سعدی، ابن عربی اور حافظ کے دامن کی ہوا تیرے دامن کی ہوا سے مل جاتی ہے۔
جب پورا چاند سمندر کے ساحل سے ملنے کی کوشش کرتا ہے فرشتے صف صف کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں تو جنت کی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور زمین مقدس پر سر بسجود ہو جاتی ہے جب ناقدین ادب اپنے اپنے چہرے پر مکھوٹے چڑھا کر دلالی کرنے لگتے ہیں اور سمندر العتش العتش پکارنے لگتا ہے۔
جب سورج ڈرنے لگتے ہیں اور سر سبز اشجار منافقین کے چہروں پر پھونکنے لگتے ہیں جوان عورتیں اپنے اپنے پیٹوں کی قلعی کراتی ہیں اور نامرد اپنے نیفوں میں مردوں کو چھپانے لگتے ہیں۔
جب بوڑھے مرد لونگ کھانے لگتے ہیں۔
اور بوڑھی عورتیں اپنی چھاتیوں سے لونڈوں کو دودھ پلانے کی ناکام کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں۔
جب مگس پھولوں سے رس کشید کرتے ہیں اور پرندے زمین کے قصے دھراتے ہیں جب کلیاں دستک دینے لگتی ہیں اور زخم موسیقی سنانے لگتا ہے
تو اس وقت کہانی لکھتا ہے کیا تو واقعی اس وقت کہانی لکھتا ہے اے میرے کہانی کار میں سوچتی ہوں خزاں کے موسم کا آدمی بنا جب تو ملن کی شدید پیاس لیے ایک انام گپھا کے نزدیک پہنچتا ہے اس گپھا میں مسلسل بارش کا چھم چھم رس بہہ رہا، دبا جا نہیں بج رہا ہے لیکن اس جھنکار کا عود اٹھ رہا ہے دھیان لگا کے اگر اس جھنکار کے عود کو سونگھا جائے تو اس سے کہانیاں اور شاعری صاف سنائی دے رہی ہیں یہ شاعری اور کہانیاں آواز کے پردوں میں مست ناگنوں کی سرسراہٹ گھول رہی ہیں سرسراہٹ کے گھول کے پاس ہی کنول کے پھول بھی کھلے ہوتے ہیں۔ لیکن تالاب غائب ہیں محبوب رحیم و کریم تھا اس لیے تجھ پر مہربان ہوگیا شاید یہی تیری کہانی ہے اور یہی تیری کہانی کا وقت اے میرے کہانی کار دستگیر شہزاد۔
لکھنے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آئیے ہم دنیا کے سب سے بڑے ناول جنگ اور امن کی بات کریں یہ ناول جو ایک بڑا تخلیقی رزمیہ ہے ٹالسٹائی پر اچانک کسی آسمانی کتب کی طرح نازل نہیں ہوا اسے لکھنے کے لیے اس نے بے پناہ ریاضت کی اس نے نپولین کے محلے کے بارے میں تاریخ کی کتابیں روسی جرنیلوں کی یاد داشتیں فوجی افسران کے درمیان خط و کتابت اور اس عہد کے اخبار و رسائل اور جرائد پڑھنے شروع کیے عرض ہزار ہا صفحوں پر پھیلا ہوا سامان اس نے پڑھ ڈالا اس کی یادداشتیں لکھیں وہ ان روسی بوڑھوں سے جا کر ملا جو نپولین کی افواج سے مختلف محاذوں پر لڑتے تھے جنہوں نے پہلے ماسکو کی فتح اور پھر فرانسیسی افواج کی گرتے پڑتے پسپائی دیکھی تھی پہلے ان کی وردی میں ٹنکے ہوئے بٹن اور سنہری فیتوں پر ابھرتے ہوئے سورج کی تابانی دیکھی تھی اور بعد میں انہیں چیتھڑوں میں لپٹے ہوئے فاقہ زدہ حالات میں فرانس کی طرف واپس جاتے دیکھا تھا وہ ان میدانوں میں گیا جہاں روسی اور فرانسیسی فوجوں کی لڑائیاں ہوئی تھیں اس نے ان میدانوں کی مٹی کو اپنی مٹھی میں اٹھا کر ان کا رنگ دیکھا، انہیں سونگھا، مٹی کی اس خوشبو میں فتح اور شکست کے رنگ یکجا تھے اس مٹی میں روسی اور فرانسیسی سپاہیوں کا خون جذب ہوا تھا ان لق و دق میدانوں میں اس نے چشم تصور سے نپولین کی افواج قاہرہ کی فتح بھی دیکھی ہوگی ان کے ہتھیاروں کی جھنکار بھی سنی ہوگی اور پھر یہ دیکھا ہوگا کہ جنگ کا میدان مغرور گھوڑوں، نخریلے افسروں اور پریشان حال سپاہیوں سے خالی ہے وہ سب اپنے اپنے کردار ادا کر کے عدم کو جا چکے ہیں وہاں تو بس اب فطرت کی رونمائی ہے جو کہیں سبزے کہیں اونچی گھاس اور کہیں گل بوٹوں کی شکل میں نمودار ہوئی ہے اور انسانوں پر ہنستی ہے ٹالسٹائی نے روس پر نپولین کے حملے اور جنگوں کو لکھنے کے لیے اس عہد کو جاننے کا بیڑہ اٹھایا اور وہ اس دور کے بارے میں لکھی جانے والی کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑنے لگا اس نے جب لکھنا شروع کیا تو جنگ اور امن ایسے ضحیم مسودے کو اس نے سات بار بدلا کہیں کچھ بڑھایا کہیں کچھ گھٹا یا کوئی کردار پھر سے لکھا کسی واقعے کو نئے تناظر میں بیان کیا اس نے اپنے اس ناول کے لیے جس قدر کشت اٹھایا، اسے نقاد عظیم ریاضت کے نام سے یاد کرتے ہیں دنیا کا یہ عظیم ناول ریاضت و بے اندازہ مطالعے اور بے پناہ مشاہدے کا شاہکار ہے ایک ایسا ناول جس کے تخلیق و نور کی ساری دنیا میں مثالیں دی جاتی ہوں ایک ایسی عظیم تخلیقی تحریر جسے ہاتھ لگانے سے پہلے باوضو ہونے کو جی چاہے اس کے پیچھے کس قدر غیر تخلیقی عمل شامل تھا اسے لکھنے والوں کو جاننے سمجھنے اور برتنے کی ضرورت ہے خود ٹالسٹائی نے اپنے اس ناول کے بارے میں لکھا ہے فنکار کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخی شخصیات اور واقعات کے مقبول عام تصورکی اساس، خیالی باتوں پر نہیں بلکہ تاریخی دستاویزات پر جنہیں جس حد تک مورخین یکجا کرنے اور ترتیب دینے میں کامیاب رہے ہوتی ہے اگر چہ فنکار ان دستاویزات کو مختلف انداز سے سمجھتا اور پیش کرتا ہے لیکن مورخ کی طرح اسے بھی تاریخی مواد سے رہنمائی حاصل کرنا چاہیے میرے ناول میں جہاں بھی تاریخی شخصیات باتیں کرتی یا روبہ عمل ہوتی ہیں میں نے اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں گھڑی بلکہ میں نے وہ تاریخی مواد جس کی میں نے کتاب کی تحریر کے دوران پوری لائبریری اکٹھا کرلی تھی استعمال کیا ہے۔
جنگ اور امن چونکہ تاریخی ناول ہے اس لیے ٹالسٹائی کو یہ ریاضت کرنی پڑی لیکن یہ بتائیے کہ کیا ٹالسٹائی کا ہی اینا کرینا ایسا روح میں اتر جانے والا عشق بلا خیر، مشاہدے، مطالعے اور کرداروں کی تعمیر کی ریاضت کے بغیر لکھا جاسکتا تھا کیا قرۃ العین حیدر آگ کا دریا یا گردش رنگ چمن بے پناہ مطالعے اور گہرے مشاہدے کے بغیر لکھ سکتی تھیں آپ کا دل جب مصوری یا مجسمہ سازی کے لیے چاہتا ہے کہ موسم بہار کی ایک صبح آپ نے مو قلم اٹھایا رنگ نکالے اور کینوس پر ایک شاہکار بنتا چلا گیا اسی طرح اگر مجسمہ بنایا جا رہا ہے تو پتھر یا لکڑی میں سے اس کی چہرہ کشائی کس قدر ریاض اور ریاضت کی طلبگار ہے یہ وہی جانتے ہیں جو ان مرحلوں سے گزرتے ہیں آپ یقین کیجیے ناکام اور کامیاب اور لائق اور نالائق شخص میں صرف محنت کا فرق ہوتا ہے لائق اور کامیاب لوگ اپنا میجر ٹائم اپنے کام اور اپنے پروفیشن کو دیتے ہیں جبکہ ناکام اور نالائق لوگوں کا قیمتی وقت فضول ضائع ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کی نظر لائق و نالائق دونوں برابر ہوتے ہیں قدرت دونوں کو اپنا بندہ سمجھتی ہے کامیابی کے لیے صرف دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اللہ کا کرم اور محنت دنیا میں اللہ کے کرم سے بڑی کوئی طاقت اور محنت سے بڑا کوئی استاد نہیں ہوتا۔
ہم لوگ زندگی بھر اپنی جس عادت کو اپنا مشغلہ اپنا شوق سمجھتے رہتے ہیں میرے پاس اللہ کا کرم اور محنت کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور یہ انسان کا وہ اثاثہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی کیونکہ دنیا کی دس ہزار سال کی ریکارڈ ہسٹری میں آج تک کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے محنت اور اللہ سے دعا کرنے کا حق نہیں چھین سکامحنت وہ عطیہ ہے جس کے ذریعے انسان پتھر کو ہیرا اور ہیرے کو شیشہ بنا سکتا ہے اور اللہ کا کرم وہ طاقت ہے جو نمرود کی آگ کو بھی گلزار بنا دیتی ہے چنانچہ آپ محنت اور اللہ کے کرم کو اپنا سہارا بنا لیں یقین کیجیے دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیابی کی چوٹی تک پہنچنے سے نہیں روک سکے گی میں نے تین ناول لکھے ہیں۔
بات ہے رسوائی کی، چشم دید گواہ، خواب سارے عذاب سارے۔
یہ ناول بڑی مشکل سے چھپے تھے کچھ مٹی کے گولک کے پیسوں سے کچھ میرے استادوں کے پیسوں سے کچھ میرے باپ کے تہجد سے لے کر جاگتی ہوئی راتوں سے اور کچھ پیسے میری ماں کے آنچل کے بندھے ہوئے تھے ان سب کو ملا کے یہ ناول چھپے ہیں تخلیق و عشق کا معاملہ ہے اس میں اتائولے ہونے سے کام نہیں چلتا عشق بھلا کو اپنے در پر آسانی سے شرف باریابی بخشتا ہے۔ اس کے لیے زندگی صرف کرنی پڑتی ہے جگر خون ہوجاتا ہے۔
غالب نے شاید اسی کیفیت کو اپنے شعر میں بیان کیا ہے کہ
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
لوگ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ان سب کے نام کس کو معلوم نہیں اسی طرح میں بھی دو لاکھ 48 ہزار ادیبوں میں آیا ہوں ہوسکتا ہے کہ کل کلاں کو کوئی میرا نام بھی نہ جانے مگر میرے لیے یہ احساس ہی بڑا قیمتی ہے کہ کل آنے والا ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close