Naeyufaq Jul-17

اقرا

طاہر احمد قریشی

المومن
(امن وامان دینے والا)
المومن۔ اس کا مادہ امن ہے اور امن کے معنی خوف سے محفوظ ہونااور مومن وہ ہے جو دوسرے کو امن دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفتِ مومن یوں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو امن د ینے والا ہے۔
المومن۔ اسم فاعل واحد مذکرمرفوع معرفہ ایمان کا مصدر‘ امن دینے والا‘ سکون واطمینان بخشنے والی ذات‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات وہ ذاتِ عالی ہے جو ہر خوف سے محفوظ کرکے امن بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مومن اس لئے کہاگیا ہے کہ وہ اپنی تمام مخلوقات کو امن دیتا ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس خوف واندیشے سے قطعی محفوظ ہے اور اہلِ ایمان کو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کسی بھی مخلوق پر کسی بھی طرح ظلم وزیادتی نہیں کرتاہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ صفت مومن اس کی ذات کی یہ خوبی واضح کرتی ہے کہ وہ ایسی ذاتِ عالی ہے جو نہ توظالم ہے نہ کسی طرح اپنی مخلوق پرظلم کرتی ہے‘ نہ ہی ان کا کسی طرح حق مارتی ہے‘ نہ ان کا اجر کسی طرح ضائع کرتی ہے اور جو وعدے وہ اپنی خلق سے کرتی ہے وہ سچے ہوتے ہیں ان وعدوں کی خلاف ورزی نہیں ہوتی‘ المومن کامفہوم ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ساری کائنات کی ہرہرچیز کوامن دیتی ہے۔
اہلِ ایمان اور متقی بندوں کوبھی اللہ تعالیٰ نے مومن کہہ کر پکارا ہے۔ جس کے معنی ایمان رکھنے والے کے ہیں‘ یقین اور تصدیق کرنے والے کے ہیں۔ اس طرح ایمان کے معنی ہوئے امن وسلامتی‘ اس صفتِ الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی کیا اہمیت ہے‘مومن جو اللہ کے دین پر یقین کرتا ہے اور اللہ کا دینِ اسلام جو ایک تہذیب ہے بھائی چارے امن وسلامتی کی اس طرح مومن ہو کرانسان اللہ کی صفات میں سے ایک صفت کواپنالیتا ہے۔ اور اس پر مومن ہونے کی حیثیت سے لازم آتاہے کہ اسلامی معاشرے میں نظم وضبط امن وامان کی ذمہ داری ادا کرے‘ یوں وہ اپنے مومن ہونے کا فرض ادا کرتا ہے۔
ترجمہ:۔مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘ لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان ملاپ کرادیا کرو‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔ (الحجرات۔۱۰)
تفسیر:۔مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں کیونکہ ان سب کی اصل ایمان ہے اس لئے ان کے ایمان کا تقاضہ ہے کہ وہ آپس میں نہ لڑیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے دست بازو‘ ہمدرد غم گسار‘ مونس وخیرخواہ بن کررہیں۔دینِ اسلام تومومنین(مسلمانوں) کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتاہے‘ اسلام ایک تہذیب ہے شائستگی کانظام ہے جو معاشرے میں بھائی چارہ میل ومحبت کوفروغ دیتا ہے اور ایک عالم گیر برادری قائم کرتا ہے۔ مسلمان ایک دوسر ے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سکھ چین پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں اسلام اپنے ماننے والوں‘ ایمان والے مومنین کے ذریعے ایک پرامن پرسکون معاشرہ تشکیل دیتا ہے اور ہرقسم کے داخلی فتنہ وفساد کو روکتا ہے۔ اس لئے ہی آیت میں ارشاد ہے تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘اگر کسی بھی وجہ سے کسی مومن بھائی کا دوسرے مومن بھائی سے اختلاف یاکوئی جھگڑا ہوجائے تو ان میں ملاپ کرادویعنی فتنہ وفساد ختم کرکے امن و امان کی فضاء قائم کردو اور اللہ کی ذاتِ عالی جو بڑی رحیم وکریم ہے اس سے ڈرتے رہو اور احکامِ الٰہی پرعمل پیرارہو۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’گروہِ اہلِ ا یمان کے ساتھ مومن کا تعلق ایسا ہی ہے جیسے سر کے ساتھ جسم کا ہے۔ وہ ا ہلِ ایمان کی ہر تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سرجسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتا ہے۔(مسند احمد)
جو شخص کسی خوف کے وقت اس صفتِ الٰہی ’’المومن‘‘ کا ورد‘۶۳ مرتبہ کرے گاان شاء اللہ وہ خوف اور نقصان سے محفوظ ر ہے گا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close