Naeyufaq Jul-17

دستک

مشتاق احمد قریشی

کون کتنا پہلوان ہے…؟
ہمارے اہل سیاست ہوں کہ اہل صحافت دونوں اپنی اپنی جگہ شیر ہیں پر سے کوا بنا کر اڑا دینا دونوں کا ہی خاصہ ہو کر رہ گیا۔ اہل سیاست تو اپنی جگہ انہیں عوام کو سنانے بے وقوف بنانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کہنا ہی پڑتا ہے اکثر اہل سیاست تو اپنی بات سنانے سمجھانے کے لیے برقی ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہیں ان میں سے اکثر چینل کا وقت خریدنے کے لیے خاصی رقم ادا بھی کرتے ہیں ٹی وی پر بیٹھ کر میل کا بیل بناکر اپنی ہوشیاری، دانش مندی، با خبری سے زیادہ بے خبری کا اظہار کرتے ہیں ایسے ہی کرم فرمائوں سے بہت سے اہل صحافت کا دال دلیہ چلتا ہے بلکہ قورمہ، بریانی چلتی ہے کچھ تو دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنے کے عادی ہو گئے ہیں چینلز مالکان کو اپنے چینل سے اس قدر آمدنی ہونہ ہو لیکن اینکر محترم کی آمدنی بے حساب ہوتی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہمیں مرنا ہی نہیں ہے نہ روز آخرت ہمارا واسطہ ہمارے اعمال کے حساب کتاب سے ہونا ہے جو کچھ ملنا ہے اسی دنیا میں ملنا ہے کشمیر اور کشمیری عوام جو پاکستان سے اپنا تعلق جوڑنے اور بھارت سے قائم تعلق توڑنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں اور خالی ہاتھوں جدید ترین ہتھیار والوں سے مقابلہ کر رہے ہیں اگر ہم بحیثیت مسلمان دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو کشمیری دور جدید میں ’’جنگ بدر‘‘ کی معرکہ آرائی میں مصروف ہیں جنگ بدر میں تین سو تیرہ بے سر و سامان مسلمانوں نے اپنے سے دس گناہ بڑی اور ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس کفار مکہ کی فوج کا مقابلہ کیا تھا، اس جنگ بدر اور اس جنگ آزادی کشمیر میں یہ فرق ہے کہ وہ جنگ اللہ کے دین کے لیے لڑی گئی تھی اس لیے اللہ نے اپنے بندوں کی مدد کی جنگ آزادی کشمیر بھی لڑی تو کفار سے ہی جا رہی ہے لیکن یہ جنگ اللہ کے دین کی جگہ پاکستان سے الحاق کے لیے لڑی جا رہی ہے جس میں پاکستان کسی بھی طرح ان کا حامی و ناصر نہیں بن رہا وہ اکیلے ہی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں اپنی جانیں اپنی عزت اپنی ناموس دائو پر لگا رہے ہیں ہمارے حکمرانوں کو اپنے ذاتی اور سیاسی مسائل سے اتنی فرصت نہیں کہ ان کی زبانی کلامی ہی حمایت کرسکیں مخالفین بھی الزام لگانے میں کسی سے کم نہیں ان کے خیال میں موجودہ حکمران میاں نواز شریف کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے چونکہ بہت اچھے تعلقات ہیں جو سیاسی سے کہیں زیادہ تجارتی ہیں کیونکہ میاں صاحب کی فیملی کا کاروبار بھارت کے بڑے بڑے تاجروں کے ساتھ ہے اور کئی کے ساتھ تو میاں صاحب کے کاروباری تعلقات بھی مستحکم رہے جس کے باعث میاں صاحب کی زبان تالو سے لگی رہتی ہے اب چونکہ بظاہر الیکشن نزدیک آتا جا رہا ہے میاں صاحب کو آنے والے الیکشن نے گھیر لیا ہے اب وہ رات و دن الیکشن جیتنے کی مہم جوئی میں جت گئے ہیں انہیں ہر طرف الیکشن میں اپنے مد مقابل عمران خان اور زرداری نظر آرہے ہیں اور کئی لوگوں کے خیال میں تو میاں صاحب آج کل بد خوابی کا شکار ہیں اگر کہیں ان کی آنکھ لگ بھی جاتی ہے تو انہیں خواب میں بھی عمران خان اور زرداری کہیں نہ کہیں جلسہ کرتے ان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن میاں صاحب کو اپنے ارد گرد کی اپنے پڑوسیوں کی کوئی خیر خبر نہیں نہ انہیں کشمیری عوام کی فریادیں سنائی دے رہی ہیں نہ ہی اپنے عوام کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے ان کے کان تو پانامہ لیکس کی جے آئی ٹی کی آواز پر لگے ہوئے ہیں جن سے وہ کسی بڑی خوش خبری کی توقع لگائے بیٹھے ہیں جبکہ ان کی مخالفین کے خیال میں بہت جلد میاں صاحب کی کھاٹ کھڑی ہونے والی ہے۔
وزیر اعظم اپنے ہر جلسے اور تقریر میں اپنے مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں انہیں موٹر وے پر سفر کی دعوت دے رہے ہیں ان کے خیال میں ان کے حریف ان کے ترقیاتی کاموں سے خوف زدہ ہو کر الٹے سیدھے بیانات دے رہے ہیں حالانکہ میاں صاحب خود کلامی کا شکار ہیں کسی نے بھی ان کی مخالف برائے مخالفت نہیں کی ہاں اپنے تحفظات اور خدشات کا ضرور برملا اظہار کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کی گھبراہٹ دیکھ کر ہی ان کے مخالفین کو دال میں کچھ کچھ کالا نظر آنے لگا ہے ابھی تو پانامہ لیکس کے حصار سے میاں صاحب باہر نہیں نکل سکے ہیں میاں صاحب نے جلدی میں میدان انتخاب سجا دیا ہے ان کی دیکھا دیکھی دوسری بڑی جماعتوں نے بھی الیکشن کی تیاری ہی نہیں کی بلکہ وہ بھی میدان میں نکل آئے ہیں اور اب روز خطابت کا مقابلہ شروع ہوچکا ہے دیکھنا ہے کہ کس کے بازوں میں کتنا دم ہے کون عوام کو قائل کرسکتا ہے ویسے تو سب کا ووٹ بینک عوام سے زیادہ خواص کے ہاتھوں میں ہوتا ہے خصوصاً دیہی آبادی اپنے سردار اپنے چوہدری اپنے وڈیرے کو ووٹ دیتی ہے وہ جس کے ساتھ کھڑا ہوجائے وہ سارے ووٹ اسی کو پڑتے ہیں سیاسی جماعتیں عوام سے سودا کرنے کے بجائے چند وڈیروں سرداروں چوہدریوں سے اپنی کامیابی کا سودا کرلیتے ہیں اور یوں الیکشن الیکشن کھیلنے والے جب کہیں شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو بد عنوانی دھاندلی کا شور مچانے لگتے ہیں اور کامیاب ہونے والوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وطن عزیز میں تمام تر احتیاط و انتظام کے باوجود دھاندلی کے الزامات تو لگتے رہے ہیں اور آئندہ بھی لگتے رہیں گے دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ آنے والے انتخابات جس کی تیاری شروع کی جا چکی ہے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کس کے سر پر ہما بیٹھتا ہے کون اقتدار کی مسند پر بیٹھتا ہے ابھی الیکشن کا میدان دور ہے لیکن تمام ہی حلیفوں حریفوں کی دوڑ شروع ہوچکی ہے عوام حیرانگی و پریشانی سے ان تمام ہی اہل سیاست کو تک رہے ہیں اللہ اہل وطن کی وطن کی حفاظت فرمائے اور بد عنوان بدکردار لوگوں سے محفوظ رکھے، آمین۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close