Naeyufaq Aug-17

سنہرے لوگ

سلیم اختر

ان دنوں میں ایف اے کررہی تھی۔ اکلوتی ہونے کی وجہ سے امی ابو مجھے بے حد پیار کرتے تھے‘ اباجان ایک نیم سرکاری ادارے میں کام کرتے تھے… مجھے بچپن ہی سے ڈاکٹر بننے کاشوق تھا۔ اسکول کے دنوں میں ایک مرتبہ میڈیکل کالج دیکھنے کااتفاق ہوا… وہاں لڑکیاں سفید سفید اجلے کوٹ پہنے اور گلے میں سیٹھی سکوپ ڈالے گھوم رہی تھیں۔ مجھے وہ بہت اچھی لگیں… یہی وجہ تھی کہ کالج میں داخلہ لیتے وقت میں نے میڈیکل کے مضامین منتخب کیے۔ فرسٹ ایئر کاامتحان میں نے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ ٹیچر کہتی تھیں کہ میں بورڈ کے امتحان میں پوزیشن لے کر کالج کانام روشن کروں گی… لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی … یہ بادشاہوں کوگدااور گدائوں کو بادشاہ بنا دیتا ہے…میرے امتحان سے چند ماہ قبل اباجان بیمار پڑگئے… گھر میں امی کے سوا کوئی خبر گیری کرنے والا نہ تھا۔ اباجان دوماہ دفتر نہ جاسکے تو فرم نے نوکری سے جواب دے دیا تھا… بیماری تھی کہ ختم ہونے کانام ہی نہ لے رہی تھی… اس کے ساتھ ہماری مالی حالت بھی پتلی ہوتی چلی گئی… ادھر امتحان سرپہ تھا… میں پڑھنے کی بہت کوشش کرتی … مگر گھریلو پریشانیوں نے ذہن مفلوج کرکے رکھ دیا… کچھ بھی پلے نہ پڑتا‘ بدقسمتی سے ہمارا کوئی قریبی عزیز بھی نہ تھا… جواس برے وقت میں ہمارا ساتھ دیتا… نتیجہ یہ کہ گھر چلانے کی ذمہ داری امی پر آن پڑی… امی بڑے دل گردے کی مالک تھیں… ان کی تعلیم کچھ زیاہ نہ تھی لیکن سلائی کڑھائی کاکام بخوبی جانتی تھیں… انہوں نے ایک سلائی اسکول میں ملازمت کرلی اور ہمیں دو وقت کی روٹی ملنے لگی… میں نے کئی بار امی سے کہا کہ مجھے بھی ملازمت کی اجازت دے دیں مگر ہربار انہوں نے سختی سے جھڑک دیا… اباجان فالج کے باعث ہلنے جلنے سے معذور تھے … کالج سے آکر میںان کی دیکھ بھال میں مصروف ہوجاتی‘ امی شام ڈھلے گھر لوٹتیں‘ توانہیں کھانا تیار ملتا… رات کو سب سوجاتے تو میں کتابیں لے کربیٹھ جاتی اور بارہ ایک بجے تک پڑھتی رہتی… میراخیال تھا‘ ایف ایس سی کرنے کے بعد ملازمت کرلوں گی تاکہ امی کابوجھ کم ہوسکے … لیکن تقدیر کالکھا کون مٹا سکتا ہے… یہ میری دکھی زندگی میں ایک اور خطرناک موڑ آیا اور ایک حادثے نے میری زندگی اور بھی تلخ بنادی۔
{…٭…}
اس روز اباجان کوقدرے افاقہ تھا اور امید تھی کہ وہ جلد صحت یاب ہوجائیں گے ۔ صبح سویرے صحن میں انہیں چھڑی کے سہارے چلتا دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی۔ کالج میں بھی سہیلیوں کو یہ خبر سنائی توسب نے مبارک باد دی… پیریڈ ختم ہونے پر کیمسٹری کاپریکٹیکل شروع ہوا… میں بڑے انہماک سے تجربے میں مصروف تھی۔ اچانک ساتھ والی میز پر ایک دھماکا ہوا… اسپرٹ لیمپ پھٹ گیا تھا۔ ایک لڑکی ڈر کر پیچھے ہٹی اور بے خبری میں مجھ سے ٹکراگئی… میرے ہاتھ میں تیزاب کی بوتل تھی … دھکالگنے سے میں فرش پرگر پڑی اوراس سے پہلے کہ بوتل سنبھالتی… کھولتا ہوا تیزاب میرے چہرے پر اپنا کام کرگیا… درد کی شدت سے میری چیخیں نکل گئیں… سب سے زیادہ تکلیف آنکھوں میں تھی … یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے کسی نے آنکھوں میں دہکتے ہوئے انگارے بھردیئے ہوں… مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا… دفعتاً پروفیسر کی آواز سنائی دی۔
’’یہ روزی کو کیاہوا؟‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جومیں سن سکی تھی… اس کے بعد تکلیف کی شدت سے میں نیم پاگل ہوگئی اور اپنے بال نوچنے لگی۔ کسی نے میرے سر پر پانی کی بالٹی انڈیل دی۔ اگلے ہی ثانیے مجھ پر بے ہوشی طاری ہوچکی تھی۔
آنکھ کھلی تو خود کو اسپتال میں پایا۔ ڈاکٹر اور نرسیں مجھ پر جھکی ہوئی تھیں۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اشارے سے منع کردیا… جلد ہی میں دووبارہ بے ہوش ہوگئی۔جانے کب تک میں بے ہوش رہی… اوسان بحال ہوئے تو بائیں آنکھ اور ماتھے میں شدید درد کااحساس ہوا… میں نے ہاتھ لگا کردیکھا… پتہ چلا کہ دائیں آنکھ کے سوا سارے چہرے پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں… تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کامہربان اور شفیق چہرہ دکھائی دیا۔
’’روزی! تم بہت خوش قسمت ہو… بائیں آنکھ بال بال بچ گئی… لڑکیوں نے عقل مندی سے کام لیا جو تمہارا چہرہ دھوڈالا۔ اچھا یہ بتائو… تکلیف تو نہیں ہو رہی ؟‘‘
’’بائیں آنکھ میں درد ہو رہا ہے۔‘‘
’’چند روز تک ٹھیک ہوجائوگی۔ جہاں تک ہوسکے خوش رہنے کی کوشش کرو… خدا کا شکر ادا کرو کہ تم اس حادثے سے بچ نکلیں۔‘‘
یہ کہہ کر ڈاکٹر مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا… میں ایک بار پھر تفکرات کی دنیا میں گھر گئی… گھر کی حالت جانے کیا ہوگی؟ ابا بے چارے یہاں نہیں آسکتے… امی بھی مصروف ہوں گی‘ لڑکیاں امتحان کی تیاری کررہی ہوں گی اور میں اسپتال میں مجبوروبے بس پڑی ہوں۔ میں پڑھنا چاہتی تھی تاکہ امتحان کے بعد گھر کابوجھ اٹھاسکوں… مگر اس حادثے نے مجھے کہیں کانہ چھوڑا‘ چہرے پربندھی ہوئی پٹیوں سے اندازہ ہوتاتھا کہ ابھی مجھے خاصے دن یہیں رہنا ہوگا… میں نے داہنی آنکھ بند کرلی اور آنسوئوں کا سیلاب روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
دن گزرتے چلے گئے … امی بے چاری ہرشام وقت نکال کر آتیں اور پاس بیٹھ کر تسلیاں دیتیں… ایک بار ابا بھی آئے … پڑوس کے دو لڑکے انہیں سہارا دے کر لائے تھے… مجھے آزردہ دیکھ کربولے۔
’’میری بچی … میں تمہارے غم سے واقف ہوں… لیکن دنیا میں سکھی کون ہے … غم اور خوشی تو زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں‘ کامیاب لوگ وہی ہیں جو مستقل مزاجی سے غم سہتے ہیں اور مستقبل سے مایوس نہیں ہوتے … یاد رکھو ا س ظالم آسمان کے اوپر ایک مہربان ہستی بھی ہے جو سب کچھ دیکھتی اور سنتی ہے… اس کے ہاں دیر ہے … اندھیر نہیں‘ وہ اپنے بندوں کاامتحان لیتی ہے … میری طرف دیکھو… آٹھ ماہ سے گھر میں اپاہج پڑاہوں‘ جانتاہوں میری وجہ سے تمہیں اور تمہاری امی کومشکلات کا سامناکرناپڑا‘ اس کے باوجود کبھی میر ی زبان پر حرف شکایت نہیں آیا… حوصلہ رکھو… دس پندرہ روز تک تم صحت یاب ہوجائوگی… ابھی امتحان میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے …تم ایک مہینہ پڑھ کر بھی امتحان دے سکتی ہو۔‘‘
ابو کی باتیں سن کرمجھے کچھ تسلی ہوئی۔ روز بروز میری تکلیف کم ہوتی جارہی تھی… اسپتال میں رہتے ہوئے دو ہفتے گزر گئے تھے۔ ایک ڈاکٹر نیازی میرے پاس آئے اور بڑی شفقت سے بولے۔
’’دیکھو بیٹی… تمہیںکل اسپتال سے چھٹی مل جائے گی‘ میں آج تم سے چند ضروری باتیں کہنا چاہتاہوں۔‘‘
’’فرمائیے۔‘‘ میں نے ہمہ تن گوش ہو کرکہا… بیماری کے دوران انہوں نے بڑی محبت سے میرا علاج کیاتھا… اس لیے میرے دل میں ان کے لیے بدرجہ اتم احترام موجود تھا۔
’’تم یہاں آئیں توہم سب تمہاری آنکھ کے بارے میںفکرمند تھے‘ اس لیے چہرے کی طرف زیاہ دھیان نہ دے سکے ۔تین دن بعد آنکھ کی طرف سے اطمینان ہواتو پتہ چلا کہ چہرے پر گھائو پڑگئے ہیں اور کنپٹی سے ٹھوڑی تک بایاں رخسار جل کر سیاہ ہوگیاہے۔‘‘
’’آپ کامطلب ہے میرے چہرے پرہمیشہ گھائو رہیں گے؟‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔
جواب میں ڈاکٹر نے اثبات میں سرہلایا۔
’’ڈاکٹر صاحب! میں اپنی صورت دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’سردست… یہ بہت مشکل ہے ‘ ایک دن اور انتظار کرلو… کل صبح تمہارے چہر ے کی پٹیاں کھول دی جائیں گی۔‘‘ اس رات مجھے بڑے خوفناک خواب دکھائی دیئے … کئی بار ڈر کر اٹھ کربیٹھ گئی… ایک بھیانک چڑیل قہقہے لگاتی ہوئی میراتعاقب کررہی تھی … غو رسے دیکھا تووہ چڑیل میں خود تھی … اف میرے خدا! سارا بدن وحشت سے کانپ اٹھا۔ جوں توں کرکے رات کٹی۔ صبح ناشتے کے بعد دل ڈوبنے لگا… وقت گزرنے کانام نہ لے رہاتھا۔ زندگی میں پہلی بار پتہ چلا کہ انتظار کیسے کہتے ہیں۔ ڈاکٹر کو دس بجے آنا تھا۔ جب بھی دروازہ کھلتا میں اٹھ بیٹھتی… میں نے ایک نرس سے کہہ کر اپنے سامان میں سے آئینہ نکلوالیاتھا۔ کئی بار چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر سفید سفید پٹیوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا… آخر بہت سے قدموں کی چاپ سنائی دی… شاید ڈاکٹر صاحب آگئے تھے … نرسوں کے تیز تیز بولنے کی آوازیں مریضوں کی دبی دبی سرگوشیاں… ڈاکٹر صاحب باری باری ہرمریض کا حال پوچھ رہے تھے… جانے میری باری کب آئے گی ؟ میں نے آئینہ نکال کر سامنے رکھ لیاتھا۔ مجھے زیادہ دیر انتظار نہ کرناپڑا‘ ایک نرس نے قریب آکر اٹھنے کااشارہ کیا… اور بولی۔ ’’پٹی دوسرے کمرے میں کھلے گی۔‘‘
میں اٹھ کر اس کے ساتھ ہولی۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر بھی آگئے۔ پٹیاں کھل رہی تھیں اور میرااشتیاق بڑھ رہاتھا کہ ڈاکٹر نیازی کی آواز کان میںپڑی۔
’’لوبیٹی … اب تم گھر جاسکتی ہو۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب! میں آئینہ دیکھنا چاہتی ہوں‘‘
’’ضرور دیکھو… مگر میری ایک بات غُور سے سن لو… زندگی اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے‘ ہمیں ہرحال میں قادر مطلق کاشکر گزار رہناچاہیے …ہمارے اردگرد بیسیوں لوگ ہیں جن کی آنکھیں نہیں ہیں‘ ہاتھ پائوں بھی نہیں‘ یاوہ جسم کے کسی اور حصے سے محروم ہیں۔ آخر وہ لوگ بھی تو زندگی بسر کررہے ہیں… اگر چہرے پر زخم کانشان رہ گیاہے تو کیاہوا… تمہیں دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے … خوبصورتی انسان کے دل میں ہوتی ہے جسم میں نہیں … دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئوگی تو کوئی یہ نہ کہے گا کہ تمہارے رخسار پرزخم کیسا ہے … لیکن اگر تم خود ہی پژمردہ اور سوگوار رہیں تو ہرشخص تم سے کنی کترائے گا… خواہ تم جسمانی طور پر کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ بن جائو… لو اب آئینہ دیکھ لو۔‘‘
میں نے لرزتے ہاتھوں سے آئینہ اٹھایااور آنکھوں کے سامنے کیا… خوف کی ایک لہر میرے سارے بدن میں دوڑ گئی… یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے بلندیوں سے انتہائی پستی میں دھکیل دیاہو…جی چاہا زور زور سے چلائوں‘ سر پیٹوں اور بال نوچ ڈالوں‘ پیشانی سے تھوڑی تک بایا ںرخسار بری طرح جل گیاتھا ‘جلد پر جابجا گہرے گھائوتھے‘ بائیں کنپٹی پر ایسا زخم آیا تھا‘ جس نے آنکھ سے ملحق گوشت اپنی طرف کھینچ لیاتھا… نتیجتاً بائیں آنکھ دائیں کی نسبت لمبی نظر آتی تھی۔ میں نے آئینہ فرش پر دے مارااور پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔
{…٭…}
’’روزی! دل میلا نہ کرو ‘تمہارا چہرہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گا۔ درحقیقت زخم ابھی پوری طرح نہیں بھرے۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب! یہ سب کچھ مجھ سے نہیں دیکھا جاتا‘ اپنے آپ سے ڈر لگ رہا ہے … خدا کے لیے میرا چہرہ درست کردیں ‘میں یہ منہ لے کر کہاں جائوں‘ لوگ مجھ سے خوف کھائیں گے … ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔‘‘
’’میںنے تمہیں پہلے بھی سمجھایاتھا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے‘ تمہیں ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ویسے تمہارے زخم لاعلاج نہیں ہیں ہمارے ہاں پلاسٹک سرجری پوری طرح متعارف نہیں یورپ اور امریکا میں یہ سرجری اپنے عروج پر ہے‘ اگر کسی طرح وہاں جاسکو تو تمہارا چہرہ درست ہوسکتاہے مجھے علم ہے تمہارے والد صاحب فراش ہیں اور زیادہ اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے‘ تمہیں کچھ عرصہ صبر سے کام لینا چاہیے جوں ہی گھر کے حالات بہتر ہوں‘ علاج کے لیے باہر چلی جانا۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے میرا کندھا تھپتھپایا اور باہر نکل گئے۔
{…٭…}
میں بت بنی بیٹھی رہی ایک نرس نے ہاتھ سے پکڑ کراٹھایا اور وارڈ میں میں لے آئی۔ وارڈ میں آکر یوں محسوس ہواکہ جیسے سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں… میں نے چہرہ دوپٹے میں چھپالیااور جلدی جلدی چیزیں اکٹھی کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد امی آگئیں… وہ مجھے حسب معمول تسلیاں دینے لگیں… لیکن میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور میںاسپتال کے برآمدے میں ہی رونے لگی۔
گھر پہنچی تو ہرشے بدلی بدلی دکھائی دے رہی تھی۔ ماں کی محبت اورباپ کی شفقت بھی مجھے نہ آسودگی دے سکی۔ میں اندرہی اندر خاموش چتا کی مانند جل رہی تھی۔ دوسروں کاسامنا کرنے سے گریزاں اور زندگی کی تمام خوشیوں سے دستبردار ہوچکی تھی۔ اسپتال سے لوٹنے پر امی نے بہت زور دیاکہ میں اگلے روز کالج جائوں مگر میں نے کوئی جواب نہ دیا… ایسا خوفناک چہرہ لے کر کالج جانے کی ہمت نہ پڑتی تھی … اسپتال میں چند سہیلیاں ملنے آئی تھیں لیکن اس وقت میرے چہرے پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں … گھر پہنچ کرمیں نے ارادہ مصمم کرلیا کہ اگر کوئی ملنے آیا تو صا ف انکار کردوں گی… پھرجلد ہی ایک ایسا واقعہ پیش آگیا جس نے ایک بار پھر میری روح کو زخمی اور بے چین کردیا۔
اس شام میں حسب معمول اپنے کمرے میں کھڑی کے پاس کرسی ڈالے بیٹھی تھی ‘ کمرہ دوسری منزل پر تھااور کھڑکی میں سے سڑک کامنظر دکھائی دیتاتھا… سڑک پرخوب چہل پہل تھی۔ میں اپنے خیالات میں گم تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلااور میری چند سہیلیاں اندر آگئیں… میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا مسخ چہرہ چھپانے کی کوشش کی مگر وہ سب کچھ دیکھ چکی تھیں۔
’’روزی! یہ تمہیں کیاہوا؟‘‘ وہ یک زبان ہو کربولیں۔
میں خوف اور شرم کے مارے زمین میں گڑ گئی۔ سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ انہیں کیاجواب دوں۔ وہ بار بار میری طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’اب درد تو نہیں ہوتا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔
’’ذرا ہاتھ اوپر اٹھانا۔‘‘
بادل نخواستہ مجھے چہرہ کھولناپڑا۔
’’چچ چچ… یہ تو بہت براہوا تمہارا چہرہ تو دیکھا نہیں جاتا۔‘‘
میںنے لپک کر دوپٹہ اٹھایااور منہ چھپا کررونے لگی۔ کچھ دیر وہ خاموش رہیں پھر کالج کی باتیں کرنے لگیں۔ انہوں نے مجھے بھی باتوں میں شریک کرناچاہا لیکن میں کوشش کے باوجود کوئی بات نہ کرسکی۔ سورج غروب ہونے کو تھا اس لیے وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں… چلتے چلتے راحیلہ بولی۔
’’روزی… کالج آئوگی نا؟‘‘
میںنے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ انہو ں نے بھی انتظار کی زحمت گوارہ نہ کی اور تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگیں۔ اچانک سعدیہ کی آواز سنائی دی۔
’’تم لوگ بھی بڑی بدھوہو… بھلااس مسخ شدہ چہرے کے ساتھ وہ کالج کیسے آسکتی ہے… اف میرے خدا‘ بالکل چڑیل لگتی ہے ‘مجھے تو اسے دیکھ کر خوف ہی آگیاتھا۔‘‘
میںنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور بستر پر اوندھے منہ گر پڑی۔
{…٭…}
ایک ماہ گزر گیا… میں نے گھر سے باہر قدم تک نہ رکھا… صبح سے شام تک کمرے کے دروازے بند کرکے بیٹھی رہتی ‘ امی سلائی کے اسکول سے واپس آکر کھانا تیار کرتیں تو میں دوچار لقمے زہرمار کرلیتی… کبھی کبھی ابا مجھے اپنے پاس بلاتے اور حوصلے سے کام لینے کی نصیحت کرتے… لیکن مجھ پر کسی بات کااثر نہ ہوتا… میں نے اپنی سب تصویریں دیواروں سے اتار کرٹرنک میں بند کردیں‘ ہنستی کھیلتی‘ جیتی جاگتی تصویریں دیکھ کرمیر ادکھ تازہ ہوجاتاتھا۔ میں دنیا سے کٹ کر رہ گئی تھی۔ مگر ڈاکٹر نیازی نے ایک بار پھر مجھے لوگوں کے سامنے آنے پرمجبور کردیا… ایک شام امی گھر لوٹیں تو ڈاکٹر نیازی ان کے ہمراہ تھے … میرے کمرے میںآتے ہی بولے۔
’’روزی! سناہے تم کالج نہیں جاتیں‘‘
میںنے کوئی جواب نہ دیا … امی ان کے لیے چائے بنانے باورچی خانے میں چلی گئیں۔
’’بیٹی! میں نے تمہیں پہلے بھی کہاتھا کہ اپنے آپ کو سزا نہ دو… تمہاری امی سے معلوم ہوا ہے کہ تم ہر وقت گھر میں پڑی رہتی ہو۔ یہ صور ت حال تشویش ناک ہے اس طرح تمہاری صحت مزید خراب ہوجائے گی… میں چاہتاہوں تم کمرے سے باہر نکلو اور گھوموپھرو…اپنے چہرے کا داغ چھپانے کے بجائے حقیقت کاسامنا کرو… کالج جانے کے لیے تم تیار نہیں … ہم نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیاہے کہ تمہیں ملازمت کرلینی چاہیے۔‘‘
’’یہ… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟‘‘
’’میں ٹھیک کہہ رہاہوں ہم تمہاری ملازمت کی بات کرچکے ہیں۔ عادل صاحب میرے دوستوں میں سے ہیں… بہت شریف اور نیک آدمی ہیں۔ گزشتہ سال ان کی بیگم کاانتقال ہوگیاتھا… بچوں کی نگہداشت کے لیے کوئی عورت نہیں… خود عادل صاحب بہت مصروف آدمی ہیں‘ صبح دفتر جاتے ہیں اور رات گئے گھر لوٹتے ہیں… باورچی اور بوڑھے مالی کے سوا اور کوئی نہیں ہے گھر میں… تم کل صبح وہاں پہنچ جانا میں عادل صاحب کوفون کرکے تمہارے آنے کی اطلاع کردوں گا۔‘‘
’لیکن میں ملازمت نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’دیکھو بیٹی! تمہارے ابا بیمار ہیں اور امی دن بھرسلائی کے اسکول میں سر کھپاتی ہیں… ایک تم ہو کہ صبح سے شام تک کمرے میں پڑی رہتی ہو…تمہاری امی عمر کی اس منزل میں ہیں جہاں انسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے‘ کیا تمہارا فرض نہیں کہ روز افزوں اخراجات میں ماں کاہاتھ بٹائو۔‘‘
’’مگر…مگر باہر کیسے نکل سکتی ہوں‘ڈاکٹر صاحب؟ میر اچہرہ۔‘‘
’’وہاں زیادہ لوگ نہیں ہیں۔‘‘
طوعاً و کرہاً وعدہ کرلیا کہ میں مقررہ وقت پر عادل صاحب کے ہاں پہنچ جائوگی… لیکن جوں ہی ڈاکٹر صاحب کمرے سے نکلے میں نے اندر سے چٹخنی لگالی۔ صبح اسکول جانے سے پہلے امی نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا‘ لیکن میں زور زور سے رونے لگی اور دروازہ نہیں کھولا… اور وہ مایوس ہو کرچلی گئیں… پانچ چھ دن گزرگئے‘ ایک دن امی اسکول سے آئیں توان کاچہرہ اتراہواتھا‘ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے ایک کاغذ میرے سامنے رکھ دیا… میرے پائوں تلے سے زمین کھسک گئی‘ امی کواسکول سے برطرفی کانوٹس مل گیاتھا۔
اگلے روز میں نے بڑے سے مفلر سے چہرہ چھپایا اور امی سے پتا پوچھ کر عادل صاحب کے ہاںپہنچ گئی۔کوٹھی میں داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار دکھائی دیا… میں نے اسے اپنا نام بتایا‘ وہ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندر چلاگیا… تھوڑی دیر بعد عادل صاحب کمرے میں داخل ہوئے‘ پچا س سال کے لگ بھگ عمر‘ سنہری فریم کی عینک لگائے سر کے بال کھچڑی‘ گفتگو میں نرمی اور شائستگی… بڑی شفقت سے ملے‘میں نے چہرہ اسی طرح چھپارکھاتھا کہ صرف آنکھیں نظر آتی تھیں… ڈر تھا کہیں وہ چہرہ چھپانے کی وجہ نہ پوچھ لیں… مگر انہوں نے کچھ نہ کہا۔
’’ڈاکٹر نیازی نے آپ کی بہت تعریف کی ہے … بچے ناشتہ کررہے ہیں‘ ابھی حاضر ہوتے ہیں۔‘‘
عادل صاحب کی دوبچیاں تھیں … ایک پانچ سال کی اور دوسری سات برس کی… ایک دس سالہ بیٹابھی تھا… بڑے ہی خوبصورت بچے تھے‘ عادل صاحب چھوٹی بچی میرے سپرد کرتے ہوئے بولے۔
’’آپ میری بیٹی کے برابر ہیں… بچوں کابڑی بہن کی طرح خیال رکھیں گی تو جلد آپ سے گھل مل جائیں گے۔ کوئی دقت پیش آئے تو مجھے فون کردینا… لیجیے سنبھالیے انہیں… مجھے اب دفتر جاناہے۔‘‘
کچھ دیر تو بچے جھجکتے رہے‘ پھرمجھ سے مانوس ہوگئے… اس ڈر سے کہ کہیں وہ میر اچہرہ نہ دیکھ لیں‘ میں نے ابھی تک مفلر نہیں اتاراتھا۔ سب سے پہلے بڑے بچے نے محسوس کیااور بڑی معصومیت سے بولا۔
’’آپ کوزکام لگاہے کیا؟‘‘
میںنے جواب میں صرف مسکرانے پراکتفا کیا۔
’’میرے پاس زکام کی بڑی اچھی دوا ہے۔ آپ کہیں تو لائوں؟‘‘
’’لائو۔‘‘ میں نے اثبات میں سرکو جنبش دی۔
وہ جلد ہی سفید سفیدگولیاں لے آیا۔ میں نے اس کا دل رکھنے کے لیے ایک گولی منہ میں ڈال لی۔ دوپہر سے پہلے بچوں کے کپڑے تبدیل کروائے… باورچی خانی کی نگرانی کی اور پھر تینوں کو پڑھانے بیٹھ گئی… پڑھتے پڑھتے اچانک چھوٹی بچی رونے لگی…شاید اس کی بڑی بہن نے چٹکی لی تھی … میں نے اسے گود میں لے لیا… اچانک اس نے ایک ہاتھ مارا اور میر امفلر زمین پرآرہا… میں گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور بچی کوکرسی پربٹھادیا… تینوں بچے بڑے غور سے میری طرف دیکھ رہے تھے … چند لمحے خاموشی رہی … پھربڑی بچی بولی۔
’’باجی! آپ کو یہ چوٹ کیسے لگی ؟‘‘
اس سوال کاجواب دینا میرے لیے ممکن نہ تھا… میری آنکھوں میں آنسو آگئے بڑے لڑکے نے میرے قریب آکر پوچھا۔
’’آپ کے زخموں میں درد تو نہیں ہوتا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ایک منٹ انتظا رکریں میں ابھی امی کی الماری سے مرہم لے کر آتاہوں۔‘‘ؔ
میں نے مرہم لگایا دوبارہ پڑھانے لگی۔ بچوں نے میرے چہرے کے زخم قبول کرلیے تھے… انہوں نے اس پرزیادہ توجہ نہ دی۔ مصروفیت کی وجہ سے میں کچھ دیر کے لیے سارے دکھ درد بھول گئی… شام کوگھر جاتے وقت مفلر چہرے پرلپیٹااور گھر آگئی۔ آتے وقت بچوں سے یہ وعدہ کرناپڑا کہ اگلے روز صبح سویرے آجائوں گی… میں بہت خوش تھی ‘گھر کے سارے مسائل حل ہوچکے تھے اور عادل صاحب کے ہاں بھی کوئی دشواری پیش نہ آئی تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دن بھر مجھے اپنے چہرے کاخیال نہ آتاتھا… امی سے ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں…اب میں باقاعدگی کے ساتھ عادل صاب کے گھر جانے لگی۔ ان کارویہ بے حد مشفقانہ تھا… ہمیشہ بیٹی کہہ کرمخاطب کرتے… مجھے تنخواہ کے طور پر جتنی رقم ملتی … وہ گھر کے اخراجات کے لیے کافی تھی… آہستہ آہستہ میں نئے ماحول کی عادی ہوتی چلی گئی… دن بھر بچوں کے سامنے کھلے منہ پھرتی لیکن جوں ہی کئی ملنے والا آتا‘ جھٹ اندر بھاگ جاتی …صبح منہ اندھیرے گھرسے نکلتی اور رات گئے گھر لوٹتی… اندھرے میں لوگ مجھے اچھی طرح نہ دیکھ سکتے تھے … اپنے گھر کے بعد عادل صاحب کابنگلہ میرے لیے ایک حفاظت گاہ بن گیا‘ بچے بھی مجھ سے مانوس ہوچکے تھے۔ ساتھ پڑھتے‘کھیلتے اور گپیں مارتے… لیکن شاید قدرت کو میری یہ خوشی ایک آنکھ نہ بھائی… ایک دن عادل صاحب کے ہاں پہنچی تو ملازم نے ایک لفافہ دیا… ایک سادہ سے کاغذ پر لکھاتھا۔
’’بعض وجود کی بنا پر‘ میں نے یہ فیصلہ کیاہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت کا کام آپ سے واپس لے لیاجائے۔ آپ کی جگہ ایک نئی خاتون یہاں آجائیں گی۔‘‘
میری آنکھوں میں آنسو آگئے… سوچا شاید مجھ سے کوئی بھول ہوئی ہے … میں نے عادل صاحب سے دریافت کیا وہ حسب معمول بڑی شفقت سے پیش آئے اور محبت بھرے لہجے میں بولے۔
’’آپ غلط سمجھیں… مجھے آپ کی خدمات کاتہہ دل سے اعتراف ہے … معذرت تو مجھے کرنی چاہیے‘ میں جانتاہوں بچے آپ کے بغیر اداس ہوجائیں گے۔‘‘
’’توپھرآپ نے یہ فیصلہ کیوں کیاہے ؟‘‘
’’یہ سب کچھ آپ کی بہتری کے لیے ہے … آج آپ میری بات نہیں سمجھ سکتیں لیکن ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ محسوس کریں گی کہ میں نے کوئی زیادتی نہیں کی… ویسے کہیں اور کام کرنے کاارادہ ہو تو مجھے بتادینا… میں اس کابندوبست کردوں گا۔‘‘
بوجھل دل سے گھر لوٹی… امی سے بات کرنے کی ہمت نہ پڑی… اپنے کمرے میں جاکر اندر سے دروازہ بند کرلیااور اپنی بدقسمتی پرآنسو بہانے لگی… زندگی سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی … جی میں آیا کہ خودکشی کرلوں مگر امی اور ابا کی مصیبتوں کا خیال آگیا… کلیجہ مسوس کررہ گئی… ایک ہفتہ گزر گیا… میں پھرکمرے میں بند ہوکررہ گئی تھی۔ کبھی کبھار ابا بلابھیجتے … انہیں دیکھ کراور تکلیف ہوتی… امی صبح وشام کھانا کمرے میں لے آتیں اور میں تھوڑابہت کھالیتی …ایک شام وہ دیر تک کھانانہ لائیں… یہ سوچ کر کہ کہیں بیمار نہ ہوں‘ کمرے سے نکلی اور باورچی خانے میں چلی گئی… وہ فرش پر سر جھکائے بیٹھی تھیں… میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں اور پھر کچھ کہے سنے بغیر اندازہ ہوگیا کہ کھانا کیوں نہیں پکا… رات بھرنیند نہ آئی … گھر کی حالت پریشانی میں اضافہ کررہی تھی… صبح اٹھتے ہی میں عادل صاحب کے گھر پہنچ گئی …وہ بہت اچھی طرح ملے… میں نے ملازمت کی خواہش ظاہر کی تو بولے ۔
’’ٹھیک ہے اپ کل صبح مل لیں‘ کوئی نہ کوئی بندوبست ہوجائے گا۔‘‘
میں نے شکریہ ادا کیااور گھر لوٹ آئی…لوٹی تو امی کہیں گئی ہوئی تھیں… ابا حسب معمول اپنے بستر پرلیٹے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی بولے۔
’’روزی! ذرا بات سننا۔‘‘ میں ان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’میراخیال ہے یہ مکان فروخت کردیاجائے‘ مگر تمہاری امی نہیں مانتی۔‘‘
’’اباجی! وہ ٹھیک کہتی ہیں مکا ن بیچ کر ہم کہاں جائیں گے؟‘‘
’’کوئی چھوٹا موٹا مکان کرایہ پر لیاجاسکتاہے… چند ماہ تو آسانی سے گزر جائیں گے… تب تک میں ٹھیک ہوجائوں گااور دوبارہ ملازمت بھی کرسکوں گا۔‘‘
’’نہیں اباجان… خداکے لیے یو ں مت سوچیے…میں نے ملازمت کرلی ہے ہم مکان فروخت نہیں کریں گے۔‘‘
اگلی صبح میں اورامی عادل صاحب کے ہاں کھڑے تھے‘ میں بچوں سے ملنانہیں چاہتی تھی س لیے برآمدے میں بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد عادل صاحب تیار ہو کر نکلے۔ ان کی گاڑی میں بیٹھ کرہم منزل مقصود تک پہنچے۔ گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہی میں کانپ اٹھی… ہم بچوں کے اسکول کے سامنے کھڑے تھے۔
’’آئو… آئو رک کیوں گئیں؟‘‘
’’مجھے اسکول میں پڑھانا ہوگاکیا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
میرے قدم رک گئے… اسکول میںسیکڑوں بچیاں بچے ہوں گے … ’’نہیں …نہیں میں بچوں کو نہیں پڑھاسکتی… مجھے ایسا کام چاہیے جس میں زیادہ لوگوں سے ملنانہ پڑے۔‘‘
’’روزی بیٹی! یہ گونگے اور بہرے بچوں کااسکول ہے… یہ بچے تمہاری محبت کے مستحق ہیں۔ انہیں پیار دوگی تو تم اپنا غم بھول جائوگی۔‘‘
میں اب بھی ہچکچارہی تھی۔ امی بولیں۔ ’’عادل صاحب! روزی ملازمت نہیں کرناچاہتی تو نہ سہی۔ آپ مجھے یہاںرکھوادیں۔‘‘
میںنے امی کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
’’میں ملازمت کروںگی۔‘‘ میں نے کہااور ہم اسکول میں داخل ہوگئے۔
عادل صاحب نے ٹھیک کہاتھا… گونگے اور بہرے بچوں کے اسکول میں کسی نے میرے چہرے کے زخم پر زیادہ توجہ نہ دی۔ یہاں بچے بھی تھے اور بچیاں بھی … لیکن کھوئے کھوئے سے ‘بہت کم بچوں میں شوخی اور چلبلاپن تھا… جوعام اسکول کے بچوں میں ہوتا ہے… میں نے پرنسپل سے مل کر کھیلوں کابندوبست کرایا… پڑھائی کے دوران وقفہ منظور ہوا‘ سب بچے گرائونڈ میں جاکر کھیلتے… جلد ہی میں نے محسوس کرلیا کہ بچے مجھ سے محبت کرتے ہیں … ان میں سے بیشتر بول نہیں سکتے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں میرے لیے محبت اور احترام کے جذبات تھے … میں بھی اپنا دکھ بھول کر ان میں کھوگئی… یہ ایک نرالی دنیاتھی… یہ وہ بچے تھے جنہیں معاشرے نے دھتکار دیاتھااور جنہیں عام بچے نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے … لیکن یہ اندازہ کرنامشکل نہ تھا کہ ان کے دلوںمیں بھی خواہشات اور امنگوں کاایک بحربیکراں موجزن ہے… وہ بھی چاہتے تھے کہ لوگ ان سے محبت کریں‘ اسکول میں میرے علاوہ اور استانیاں بھی تھیں لیکن میں نے ان سے زیادہ راہ ورسم نہ رکھی تھی … میں ابھی تک عام لوگوں سے کتراتی تھی … اب یہ بچے میری دنیا تھے اور میں اس دنیا میں مگن تھی … جو لوگ یہاں آتے میری طرف عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے…مگر اب مجھے ان کی پروا نہ تھی … وقت گزرتاچلاگیا… مجھے اس اسکول میں پڑھاتے ہوئے چھ ماہ ہوچکے تھے کہ اچانک بیٹھے بٹھائے ایک مصیبت آن پڑی… اسکول کاانتظام ایک انجمن کے سپرد تھا جس میں شہر کے مخیر لوگ شامل تھے … حکومت بھی مالی امداد دیتی تھی… پرنسپل میرے کام سے بہت خوش تھی اس نے میری سالانہ کارکردگی کی رپورٹ بھیجی‘ جواے پلس تھی … اس رپورٹ پر کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ مجھے ترقی دے کر دوسرے اسکول میں بھیج دیاجائے … جہاں صحت مند بچے پڑھتے ہیں … میں نے بہت احتجاج کیا کہ میری تبدیلی نہ کریں مگر پرنسپل نے میری ایک نہ سنی۔
’’مس روزی! فیصلہ ہوچکاہے‘ آپ کودوسرے اسکول میںجانا ہی ہوگا۔آپ کوتوخو ش ہوناچاہیے کہ اتنی جلدی ترقی مل گئی۔‘‘ میں نے عادل صاحب سے مدد چاہی توانہوں نے معذوری ظاہر کی…امی سے ذکرکیا تو وہ خاموش رہیں… میں کسی قیمت پر ملازمت چھوڑنا نہیں چاہتی تھی… اس لیے ہر طرف سے مجبور ہو کر دوسرے اسکول جانے کافیصلہ کرلیا۔
نئے اسکول میں لوگوں کی نگاہیں میرا تعاقب کرتیں… بچے بری طرح خوف کھاتے… اسٹاف روم میں استانیاں بالکل الگ تھلگ رہتیں… اس سلوک سے میر ادل ڈوبنے لگا‘ کئی بار جی چاہا نوکری چھوڑ دوں مگر گھر کی حالت دیکھ کر ارادہ ترک کرناپڑا‘ شروع میں…میں خود بھی خوفزدہ سی رہتی‘ ایک دن سب استانیاں مل کرپکنک کاپروگرام بنارہی تھیں‘ میں پاس بیٹھی مطالعے میں مصروف تھی اور معمول کے مطابق چہرہ مفلر میںچھپا ہواتھا… استانیوں میں سے ایک کی پشت میری طرف تھی…شاید وہ میری موجودگی سے بے خبر تھی …ناموں کی فہرست تیار کرتے ہوئے بولی۔
’’اس منہ جلی کو ساتھ لے جانا ہے ؟‘‘
میری آنکھوںمیں آنسو آگئے۔
’’نہ بابا… وہ تو بالکل ڈریکولا لگتی ہے اسے ساتھ لے جاکر اچھی بھلی تفریح کیوں خراب کریں۔‘‘ میں کرسی پر بت بنی بیٹھی رہی… آنکھوں کے سامنے اندھیراچھاگیا… سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ یہ سب میرے پیچھے کیوں پڑگئی ہیں… میں نے ان کاکیابگاڑا ہے… ان میں سے کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچی تھی … پھروہ مجھ سے نفرت کیوں کرتی ہیں؟ جی چاہا بلک بلک کرروئوں… مگراس خیال سے خاموش رہی کہ ان کومیری موجودگی کاعلم ہوجائے گا۔
’’شکیلہ! تمہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ آخراس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے … وہ بھی کبھی تمہاری طرح تھی ایک حادثے میں اس کے چہرے پر تیزاب گر گیا تھا… خدا سے ڈر و جانتی ہو کسی کامذاق اڑانا کتنابڑا گناہ ہے ۔‘‘ یہ مس نورین کی آواز تھی۔
ان کی باتیں سن کرمیں اپنی سسکیاں ضبط نہ کرسکی… اور بلند آواز میں رونے لگی …وہ سب اٹھ کھڑی ہوئیں اور میری طرف حیرت سے دیکھنے لگیں… مس نورین اور کئی دوسری استانیاں مجھے چپ کرانے کی کوشش کررہی تھیں مگر آنسو تھے کہ تھمنے کانام نہ لیتے تھے … آخر میں اٹھی اور اسٹاف روم سے باہر نکل آئی… اور سیدھی گھر آگئی۔ کمرے میں بند ہو کربے تحاشاروئی …آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہوگئے مگر دل کاغبار نہ چھٹ سکا… شام تک تیز بخار نے آلیا۔
آنکھ کھلی …تو سورج سر پر تھا…امی میرے سرہانے بیٹھی تھیں… میز پر کچھ دوائیں پڑی تھیں ‘ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور اگلے ہی لمحے ہماری پرنسپل ‘مس نورین اور دوسری استانیوں کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئیں‘ میں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا… سب استانیاں مجھ سے معافی مانگ رہی تھیں اور میرایہ حال تھا کہ روتے روتے میرا تکیہ بھیگ چکاتھا۔ اگلے روز میر ابخار اتر گیا اور میں دوبارہ اسکول جانے لگی … دن یوں ہی گزرنے لگے … سات سال کاعرصہ گزر گیا… اس دوران میں نے پہلے ایف۔ایس ۔ سی پھر بی۔ اے اوربی ایڈ کرلیا۔ میں نے ہر امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کی۔ اس دوران میں ماں کی ممتااور باپ کی شفقت سے محروم ہوگئی… بی ایڈ کرنے کے بعد مجھے دوبارہ گونگے اور بہرے بچوں کے اسکول میں پرنسپل بنا کربھیجا گیا… یہ سب میری محنت اور لگن کاپھل تھا۔
اسی دوران میری ملاقات جواد صاحب سے ہوئی ان کابیٹاگونگا تھااور اسی اسکول میں پڑھتاتھا‘اس لیے وہ اسکول آتے جاتے رہتے تھے۔ ایک روز ان کافون آیا تو انہوں نے مجھے شادی کی پیشکش کرڈالی… ان کی بیوی فوت ہوچکی تھی اور اس گونگے بچے کے سواان کاکوئی نہ تھا… ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا… ا ن کابچہ علی مجھ سے بہت مانوس تھا… میں حیران اور پریشان ہو کررہ گئی … اوران سے سوچنے کی مہلت مانگی … سمجھ نہیں آرہاتھا کہ میں ان کو کیا جواب دوں۔ وہ مجھ جیسی منہ جلی کو کیسے بیوی کے طو رپر قبول کریں گے … میںنے اس سلسلے میں ڈاکٹر نیازی صاحب سے مشورہ کیا‘کیونکہ اب وہی میرے ہمدرد اور غم خوار تھے۔ انہوں نے جواد صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا اور یوں ایک سادہ اور مختصر تقریب میں… میں مسز جواد بن گئی ۔ انہو ں نے مجھے بھرپور پیار دیااور میرابہت زیادہ خیال رکھا… کہ میں ماضی کاہر دکھ اور غم بھول گئی… پھروہ مجھے اپنے ساتھ امریکا لے گئے… جہاں انہوں نے میری پلاسٹک سرجری کرائی … تومیرا حسن اور جوانی لوٹ آئی… میں اب بھی اسی سکول میں پرنسپل ہوں… دوبچوں کی ماں ہوں …جواد نے مجھے بہت پیار اور مان دیا ہے وہ بہت ہی عظیم ہیں… جنہوںنے مجھے ذرے سے آفتاب بنادیاہے۔
ڈاکٹر نیازی اور عادل صاحب سے ہمارے گھریلو تعلقات ہیں اور کبھی کبھی ملنے آتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر نیازی صاحب عادل صاحب اور جواد… سنہرے لوگ ہیں… احترام کے قابل ہیں مجھے تو بعد میں معلوم ہواتھا کہ مجھے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے امی اور ڈاکٹر صاحب نے کتنی کوششیں کی تھیں۔ عادل صاحب نے ڈاکٹر نیازی کے کہنے پر مجھے ملازمت سے جواب دیاتھا… اسکول کی ملازمت بھی انہوں نے امی کے مشورے سے تجویز کی تھی تاکہ میں اپنے اندر دوسرے لوگوں سے ملنے کی ہمت پیدا کروں اور آخر میں صحت مند بچوں کے اسکول میں میرا تبادلہ بھی ڈاکٹر نیازی صاحب نے ہی کرایاتھا… وہ خود اس کمیٹی کے ممبر ہیں جواسکول کا نظام سنبھالتی ہے … امی نے دیدہ دانستہ سلائی کے اسکول میں جانا ترک کردیاتھاتاکہ مجھے گھر سے باہر نکلنے پرمجبور کرسکیں …میں ڈاکٹرنیازی اورعادل صاحب کی احسان مند ہوں کہ انہوں نے مجھے جینے کاسلیقہ دیا… مجھے زندگی نے جو سبق دیا ہے وہ یہی ہے کہ انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر حوصلہ ہار کرنہ بیٹھ جائے بلکہ مستقل مزاجی اور نرمی سے کام لے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہوجاتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close