Naeyufaq Aug-17

سیانا کوا

ریاض بٹ

امیر لوگوں کے شوق بھی امیرانہ ہوتے ہیں… اپنے پالتو جانوروں کووہ‘ وہ چیزیںکھلاتے ہیں کہ سوچ کرہی لوگ دانتوں میں انگلیاں داب لیتے ہیں۔ یعنی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ ایک دن زیلدار دوست محمد کانوکر رحمت علی تھانے میں آیا… اور بتایا کہ زیلدار صاحب کی گھوڑی چوری ہوگئی ہے … انہوں نے پیغام بھیجا ہے کہ تھانیدار صاحب سے کہنا وہ تھوڑا وقت نکال کر حویلی میں آئیں۔
زیلدار دوست محمد کاتعلق محبت آباد گائوں سے تھا… وہ صحیح معنوں میں انسان دوست تھا‘ اپنے مزارعوں کابہت خیال رکھتاتھا۔ میری اس کے ساتھ ٹھیک ٹھاک سلام دعا تھی۔
میں نے رحمت علی کو اپنے کمرے میں بلالیاتھااور اب وہ میرے سامنے بیٹھا تھا۔
’’رحمت علی! کیا گھوڑی بہت زیادہ قیمتی تھی‘دو دفعہ میں حویلی میں گیاتھا لیکن مجھ سے تو کسی نے گھوڑی کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ آخری بار تقریباً پندرہ دن پہلے حویلی گیاتھا جس کیس کے سلسلے میں گیاتھا اس کاذکر اگلی کہانی میں آئے گا۔
’’تھانیدار صاحب ‘دراصل یہ گھوڑی زیلدار صاحب کی چہیتی گھوڑی تھی۔ اس کی نگہداشت اور ٹیل سیوا(خدمت) کے لیے دو بندے اکبر اور ثانی مامور تھے اور یہ دونوں زیلدار صاحب کے خاص بندے ہیں۔ باقی رہی بات گھوڑی کاذکر نہ کرنے کی تو اس بابت عرض ہے کہ گھوڑی تقریباً دس دن پہلی آئی تھی رحمت کا یہ قدرے طویل بیان اختتام پذیر ہوا تو میں چند لمحے غور سے رحمت کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا پھرگویاہوا۔
’’چلو… یہ تو کوئی ایسی بات نہیں … جس پرزیادہ غور کیاجائے مجھے تم یہ بتائو کہ اکبر یاثانی میں سے کوئی تمہارے ساتھ کیوں نہیں آیا؟‘‘
’’تھانیدارصاحب میں بھی کتنا کملا(جھلا) ہوں‘ دراصل یہ بات مجھے پہلے بتانی چاہیے تھی… گھوڑی کے ساتھ وہ دونوں بھی غائب ہیں… تبھی توزیلدار صاحب نے آپ کو بلایا ہے… وہ خود اس لیے نہیں آئے کہ ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا کوئی قریبی رشتے دار گم ہوگیاہو۔‘‘
’’دونوں بھی غائب ہیں… ‘‘میں نے زیر لب دہرایا…’’اچھا تم باہربیٹھو ہم ابھی تیاری کرکے تمہارے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
اگر گھوڑی کامعاملہ ہوتا تو میں ہیڈ کانسٹیبل اور کوئی سپاہی بھیج دیتا… لیکن یہاں مجھے گھوڑی کی چوری میں کسی سازش کی بو آرہی تھی۔
بہرحال… ضروری تیاری کے بعد میں ہیڈ کانسٹیبل اکبرخان اور سپاہی عارف کے ساتھ زیلدر کی بھیجی ہوئی جیپ میں بیٹھ کر اس کی حویلی پہنچ گیا۔
زیلدار کی حویلی ایسی ہی تھی جیسی اس جیسے زیلداروں اور جاگیر داروں کی ہوتی ہیں۔
اس میں صرف یہ بات منفرد تھی کہ اس کی تعمیر اور

آرائش میں پرانی طرز کے میٹریل کے ساتھ جدید مٹیریل(اس وقت کا) بھی استعمال ہواتھا نوکرہمیں چند لمحوں کی داغ مفارقت دے کرچلاگیا۔
اور جب وہ واپس آیا تو مجھے سیدھا زیلدار کی خواب گاہ میں لے گیا۔ ہیڈ کانسٹیبل اور سپاہی میرے کہنے پرباہر ہی رہ گئے تھے۔
زیلدار نے اپنے بیڈ سے اٹھ کرمیرااستقبال کیا۔
میںنے محسوس کیا کہ اس کاجسم ہولے ہولے لر زرہا ہے۔
اس نے مجھے اپنے ساتھ ہی کنگ سائز کے بیڈ پربٹھالیا۔
’’دوست محمد صاحب آپ نے تو شاید گھوڑی کی چوری کو دل پر ہی لے لیا ہے۔‘ ‘ میں نے مزاح کے رنگ میں کہا۔
’’تھانیدار صاحب… ایک تو گھوڑی مجھے بہت عزیز تھی‘ دوسرے …‘‘چند لمحے اس نے توقف کیا پھر بات کوآگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’مجھے صرف گھوڑی چرانے کاواقعہ نہیں لگتا‘ بلکہ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے اردگرد کسی سازش کاجال بناجارہاہو۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’فی الحال میں اتنا ہی کہہ سکتاہوں… زیلدار نے مردہ سی آواز میں کہا۔
’مجھے یوں محسوس ہورہاتھا کہ جیسے زیلدار جو کچھ کہنا چاہ رہا ہواس کے لیے اسے مناسب الفاظ نہ مل رہے ہوں… یاوہ کچھ چھپانا چاہ رہاہو۔
’’دوست محمد صاحب ذرا کھل کربات کریں۔‘‘
’’جناب… یہ گھوڑی بڑی اڑس پھس(ضد میں) خرید ی گئی تھی۔ذرا ٹھہریے‘ میں ذرا تفصیل سے بتاتاہوں‘ تب بات آپ کے پلے پڑے گی۔‘‘
ہمارے گائوں اور شہر کے درمیان جو وسیع قطعہ خالی ہے‘ وہاں ہر جمعہ کومویشیوں کی منڈی لگتی ہے۔ وہاں یہ گھوڑی برائے فروخت آئی تھی۔ میں منڈی میں شاذو نادر ہی جاتاہوں‘ سارے کام (مویشیوں کی خریدوفروخت) میرے نوکر ہی کرتے ہیں۔ آج سے تقریباً دس دن پہلے بیٹھے بیٹھے میرے دل میں خیال آیا کہ چلو آج منڈی کا ہی ایک چکر لگا لیتے ہیں۔
میں اکبر اور زمرد کوساتھ لے کر گیاتھا۔
وہاں میری اس گھوڑی پرنظرپڑگئی… تھانیدار صاحب‘ میں آپ کو کیابتائوں ؟ کتنی خوبصورت گھوڑی تھی۔ اس کے مالک خیردین نے بتایاتھا کہ یہ اس کی چہیتی گھوڑی ہے‘ اس کی ماںگل گھوٹو کی بیماری کی وجہ سے اس وقت مرگئی تھی جب یہ گھوڑی ابھی صرف چند دن کی تھی پھر اس نے بڑی جان جوکھم سے اسے پالاتھا… یہ باتیں کرتے ہوئے خیر دین کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے … اتنی پیاری اور چہیتی گھوڑی کوبیچنے کی وجہ خیردین نے یہ بتائی کہ اس کی بیوی سخت بیمار ہے اسے شہر میں علاج کے لیے لے جانا ہے۔
بہرحال ابھی ہم اس کے ساتھ بھائو تائو کرہی رہے تھے کہ ایک کڑیل جوان آیااور گھوڑی کو ٹھوک بجا کر دیکھنے لگا۔ پھرہمیں نظرانداز کرتے ہوئے خیر دین سے بولا۔
’’چاچا… اس گھوڑی کے کیا دام ہیں ؟‘‘ اس کے لہجے سے فرعونیت ٹپکتی تھی۔
خیردین نے چند لمحے پلکیں جھپکا کر ہم دونوں کودیکھا پھر نرم لہجے میں بولا۔
’’بیٹا… سب سے پہلے گھوڑی خریدنے کا ان کاحق ہے ۔خیردین نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہااگر ان کے ساتھ میرا سودا نہ بناتو تمہارے ساتھ بات ہوگی۔‘‘
یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ خیردین کی عمر پچپن اور ساٹھ سال کے درمیان تھی۔ وہ شکل سے بھلا مانس لگتاتھا۔
’’دیکھو…چاچا‘ یہ گھوڑی مجھے پسند آگئی ہے‘ اس لیے میں اسے خرید کر رہوں گا۔ ابھی تمہاری بات چیت چل رہی ہے نہ سودا فائنل تو نہیں ہوا۔‘‘
’’بات اصول کی ہے بیٹا‘ خیردین کچھ اور بھی کہنا چاہتاتھا لیکن جوان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے انتہائی بدتمیزی سے کہا۔
’’زیادہ …ایمانداری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے کہہ دیا کہ گھوڑی میں ہی خریدوں گا‘ ورنہ …‘‘
میں نے دیکھا… کہ جوان کے ساتھ تین آدمی اور بھی ہیں… جو کینہ توز اور غصیلی نظروں سے خیردین کو دیکھنے لگے تھے۔
میں نے یہاں دخل دینا مناسب سمجھا… اور جوان کوبغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جوان تم کون ہو… اور بے جاضد کیوں کررہے ہو۔‘‘
’’میرانام چوہدری ماجد ہے‘ اور میں مراد آباد کے…‘‘ میںنے اس کی بات درمیان سے اچکتے ہوئے کہا۔
’’تو گویا چوہدری ساجد کے فرزند ارجمند ہو۔‘‘
’’بالکل… تو آپ انہیں جانتے ہیں؟‘‘
’’بس… اب تم چلتے پھرتے نظرآئو‘ تو بہتر ہے۔ سمجھو گھوڑی میں نے خرید لی ہے۔‘‘
اس نے میری بات کونظرانداز کرتے ہوئے خیردین کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہیں اس گھوڑی کے تیس ہزار روپے دے سکتاہوں۔‘‘
آگے بڑھنے سے پہلے اس کی بات کی وضاحت کردوں کہ جس زمانے کی یہ بات ہے‘ تیس ہزار روپے بہت بڑی رقم تھی اور یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس وقت گھوڑی کی قیمت بیس پچیس ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔
خیردین نے میری طرف دیکھا… اس کی آنکھوں میں یہ سوال تھا کہ اس معاملے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
تھانیدار صاحب ایک تو خیر دین اتنا مجبور تھا کہ اپنی محبوب گھوڑی بیچنے آگیاتھا دوسرے ماجد کی ضد میں‘ میں نے خیردین سے کہا۔
’’بتیس ہزار روپے لواور گھوڑی ہمارے حوالے کرو۔‘‘
اس سے پہلے کہ ماجد کوئی بات کرتا… خیردین نے گھوڑی اکبر کے حوالے کردی‘ زمرد نے اسے بتیس ہزار روپیہ گن کر دے دیا۔
میں نے محسوس کیا کہ ماجد انگاروں پر لوٹ رہاہے۔ اس نے میری طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھا‘ اور پیر پٹختاہوا چلاگیا۔
یہ ہے ساری کہانی … یہ بات بھی بتادوں کہ سارا حساب کتاب زمرد کے پاس ہی ہوتا ہے۔‘‘
’’ہوں‘‘ میں نے ہنکارا بھرا۔ چند لمحے دوست محمد کی طرف دیکھتا رہا پھر بولا۔
’’اب آپ کا خیال یہ ہے کہ گھوڑی چوہدری ساجد کے بیٹے ماجد نے چوری کروائی ہے۔‘‘
’’جناب اس شک کوایک او ربات بھی تقویت دیتی ہے۔‘‘
’’کونسی بات؟‘‘
’’ہمارے خاندان کی چوہدری ساجد کے خاندان کے ساتھ پرانی عداوت چلی آرہی ہے۔‘‘
’’یہ سب باتیں تو اپنی جگہ ہیں لیکن ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آرہی۔‘‘
’’کونسی بات…تھانیدار صاحب؟‘‘ زیلدار دوست محمد نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ کے خاندان کی‘ چوہدری ساجد کے ساتھ دشمنی چلی آرہی ہے‘ اور ماجد آپ کوجانتا تک نہیں۔‘‘
’’اوہ…آپ یہ بات کہہ سکتے ہیں‘ کیونکہ آپ سارے حالات سے واقف نہیں ہیں۔ اصل میں ماجد اپنی پھوپھی کے پاس پلابڑھا ہے‘ وہ سندھ میں رہتی ہے … اس کی کوئی اولاد نہیں ہے … اس لیے بچپن میں ہی وہ اسے لے گئی تھی۔ میں نے اسے بچپن کا دیکھاہواتھا… اور اب وہ ایک گھبرو جوان کے روپ میں میرے سامنے آیاتھا… سترہ اٹھارہ سال عمر ہوگی۔‘‘
بہرحال اس بات پر زیادہ مغز کھپائی کی ضرورت نہیں ہے ‘آپ بالکل بے فکر ہوجائیں اور ہر قسم کے وہموں کو دل سے نکال د یں‘ ایک بات کاذکر کرنا میں پہلے بھول گیاتھا اب کردیتاہوں۔
حویلی میں آنے کے بعد میں نے سب سے پہلے گھوڑی کے لیے مخصوص جگہ کامعائنہ کیاتھا۔
تقریباً دو مرلے قطعہ اراضی کے درمیان ایک کمرہ بنا ہواتھا‘ جو 8×6 فٹ کاتھا… اس کے چہار سو تقریباً پانچ پانچ فٹ اونچی چار دیواری تھی۔ کمرے کا فرش اینٹوں کابناہواتھا‘ جبکہ صحن کچاتھا۔ وہاں ایک بیری کادرخت تھا۔
وہاں پرمجھے دھینگامستی کے کسی قسم کے آثار نظر نہیں آئے تھے۔ جہاں پرگھوڑی بندھی ہوئی تھی۔ وہاں رسی نہیں تھی‘ یوں محسوس ہوتاتھا جیسے جو کوئی بھی گھوڑی کو لے گیاتھا اس نے نہایت اطمینان سے گھوڑی کو کھولاتھا‘ اور لے کررفو چکر ہوگیاتھا۔
لیکن …!
ایک بات حیرانگی اور اچھنبے کی تھی کہ اکبر اور ثانی کدھر تھے‘ان کے متعلق یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ چونکہ گرمیوں کے دن تھے اس لیے چار دیواری کے اندر یعنی صحن میں ہی سوتے تھے۔ جیسا کہ ذکر آچکاہے کمرے کا فرش ا ینٹوں کاتھا‘ اس لیے وہاں کسی قسم کے کھرے ملنے کاامکان نہیں تھا ‘البتہ صحن میں کھرے موجود تھے جو گڈمڈ تھے… اس لیے وہاں کھرے اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا… دوسرے لفظوں میں لوگوں نے کھروں کا ستیاناس کردیاتھا۔
صرف ایک سراغ ملا تھا… ڈیرے کے باہر کسی گاڑی کے پہیوں کے نشان موجود تھے… جو آگے جاکر بڑی سڑک تک چلے گئے تھے۔
تھانے میں واپس آکر میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اے ایس آئی آفاق کو اپنے کمرے میں بلالیا…اورساری صورت حال اس کے سامنے رکھ دی۔
’’سر… سب سے پہلے تو ہمیں اکبر اور ثانی کاسراغ لگاناہے۔ بالکل معقول بات ہے‘ زیلدار نے میرے پوچھنے پر یہ بتایاتھا کہ دونوں میرے بھروسے کے آدمی تھے لیکن میں نے چند لمحے توقف کیا پھراس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’انسان کی فطرت عجیب ہے… اسے میر جعفر اور میر صادق بنتے ہوئے دیر کتنی لگتی ہے؟‘‘
’’یہ بات تو ہے… سرہوسکتاہے کسی گھر بھیدی نے ہی لنکاڈھا دی ہو۔‘‘
اس کے بعد اے ایس آئی چلاگیاتھااور…میں میز پررکھی ڈاک کی طرف متوجہ ہوگیاتھا۔
ویسے ہم نے زیلدار کے کہنے پر گھوڑی کے ساتھ اکبر اور ثانی کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرلی تھی۔
ابھی ہم نے ایک دم چھوٹے چوہدری ماجد کو نہیں بلاناتھا‘ اور نہ ہی بڑے چوہدری ساجد کوچھیڑناتھا۔
میںنے یہ اندازہ لگایاتھا کہ زیلدار کچھ باتیں چھپارہا ہے ‘چوہدری ساجد کے خاندان کے ساتھ اپنی دشمنی کی وجہ وہ گول کرگیاتھا۔ میرا تجربہ یہ کہتاتھا کہ دشمنی کی وجہ گہری ہے‘ یہ کوئی چھوٹی وجہ نہیں ہے۔
ایسے معاملات‘ کی گہرائی میں جانے کے لیے مخبر ہمارے لیے بہت کارآمد ہوتے ہیں‘ گائوں کانمبردار بھی کام کابندہ ہوتا ہے۔
لیکن کچھ نمبردار ایسے ہوتے ہیں جو کام دکھابھی د یتے ہیں یعنی پولیس کوبھٹکابھی دیتے ہیں۔
اے ایس آئی نے مخبر نوید کواستعمال کرناتھا۔
ویسے ایک بات اور بھی ہوسکتی تھی‘ جانوروں کے متعلق آپ نے بھی اکثر سناہوگا‘ کہ اگر انہیں موقع ملے تووہ اپنے سابقہ مالکوں کے پاس واپس بھی چلے جاتے ہیں… پھر گھوڑی تو خیردین کے ہاتھوں میں جوان ہوئی تھی‘ زیلدار نے باتوں باتوں میں خیردین سے اس کے گائوں کا پتہ پوچھ لیاتھا۔ میں نے سپاہی عارف کوبلا کر خیردین کے گائوں جانے کاحکم دے دیاتھا۔ گائوں ہمارے تھانے کی حدود میں آتاتھا۔
اسے پتہ تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے ؟ اور کیسے کرناہے؟ عارف میں جاسوسی کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی اور وہ کسی جاسوس کی طرح ہی پھرتیلا بھی تھا۔
دو دن اس کیس کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی‘ تھانے میں اور بھی جھمیلے ہوتے ہیں… ان کو نمٹانے میں دودن گزرنے کااحساس ہی نہیں ہوا۔ تیسرے دن اچانک موسم خوشگوار ہوگیا… جب تیز گرمی پڑرہی ہو اور اچانک گھٹائیں امڈ کر آئیں تو موسم خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کاجی یہ گنگنانے کوچاہتاہے کہ
رم جھم‘ رم جھم پڑے پھوار…
اورپھر واقعی پھوار پڑنی شروع ہوگئی… جو بتدریج تیز بارش میں تبدیل ہوگئی۔
پھربارش رک گئی… اور تیز ہوائیں چلنے لگیں۔
میں یہ سارا منظر اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بعد اب اپنی کرسی پربیٹھ چکاتھا۔
اچانک سپاہی عظمت کی شکل دروازے میں نظر آئی۔
’’سر…خیردین آیاہے ۔‘‘
’’خیردین…‘‘ میں اچھل پڑا۔
’’جی سر۔‘‘
’’بھیج دو۔‘‘ میرے لیے یہ بالکل غیر متوقع تھا۔
چندلمحوں کے بعد وہ میرے سامنے تھا۔
خیردین کی عمر ساٹھ سال کے آس پاس ہوگی۔ قد درمیانہ‘ اوررنگ گندمی تھا۔ آنکھیں چندھیائی ہوئی سی لگتی تھیں‘ ویسے خیردین کی عمر کے متعلق آپ پہلے بھی جان چکے ہیں‘ وہ کچھ پریشان سا لگتاتھا… اسے اچانک اور اس حال میں اپنے سامنے دیکھ کر میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔
وہ خیال لفظوں کی صورت میں‘ جب میں نے اس کے کانوں میں انڈیلا تو اس نے اور ہی کہانی سنادی…لیجیے اس کی زبانی سنیے۔
’’تھانیدار صاحب آپ نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ تمہیں چھوٹے چوہدری ماجد نے کوئی ٹیڑھی سڑی(دھمکی) تو نہیں لگائی … ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی… البتہ کل رات ایک حیرت انگیز واقع ضرور ہوا۔
آج کل مویشیوں کی چوری کے بہت واقعات ہورہے ہیں‘ اس لیے میں مویشیوں کے پاس ہی سوتاہوں… مویشی بھی اب کیارہے ہیں… دوبھینسیں اورایک گائے ہی رہ گئی ہے۔
اچانک میں ہڑبڑا کراٹھ بیٹھا … یوں محسوس ہوا جیسے داخلی دروازہ کوئی ہلا رہا ہو۔
میں نے چارپائی سے اٹھ کر پائوں نیچے لٹکائے اور چپل ڈھونڈنے لگا… صحن میں ملگجی روشنی والا بلب جلتا رہتاہے… چپل پائوں میں ڈال کر میں دروازے کے پاس جاکھڑاہوا… اور پوچھا۔
’’کون ہے بھئی؟‘‘
’’خیردین تمہارا ہی نام ہے …‘‘ باہر سے ایک بھاری بھرکم آواز آئی۔
’’میں ہی خیردین ہوں… آپ کون ہیں اور رات کے اس پہر آپ کو مجھ سے کیا کام ہے؟‘‘ میں ڈررہاتھا اورمیںنے واضح طور پر محسوس کیاکہ میری آواز میں کپکپاہٹ ہے۔
’’تم بلاخوف وفکر دروازہ کھول دو… ہمیں چھوٹے چوہدری ماجد نے بھیجا ہے۔‘‘
’’بھائی صبح آنا… اس وقت…‘‘ میں باقاعدہ خوف سے کانپنے لگا۔
’’چوہدری ماجد کانام سن کرمیرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
کیونکہ منڈی میں چھوٹے چوہدری ماجد کی آنکھوں میں مجھے اپنے لیے شعلے نکلتے محسوس ہوئے تھے۔ اور اب یہ خوف دامن گیر ہوگیاتھا کہ یہ لوگ مجھے یاتو قتل کرنے آئے ہیں یا کوئی اور نقصان پہنچانے۔
’’تم دراوزہ کھولتے ہو …یاہم دروازہ توڑ کراندر آجائیں۔‘‘
ساتھ ہی مجھے اپنی گھوڑی کے ہنہنانے کی مخصوص آواز سنائی دی۔ میں نے اس طرح دروازہ کھول دیا…جیسے کسی جن نے مجھ سے یہ کام کروادیاہو۔
وہ تین سیاہ پوش تھے … اور انہوں نے اپنے چہروں کوکالی چادروں سے ڈھانپا ہواتھا… سب سے آگے تھاوہ دراز قد تھا‘ اس نے گھوڑی کی رسی پکڑی ہوئی تھی۔
’’دراز قامت شخص نے منمناتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’یہ لو اپنی گھوڑی… اور آئندہ چوہدری ماجد صاحب کے ساتھ پھڈہ نہیں ڈالنا… ورنہ …‘‘
پھروہ خاموشی سے چلے گئے تھے۔
میں کافی دیر بت بنا اپنی جگہ پرکھڑا رہا… پھرجیسے مجھے یہ احساس ہواکہ طوفان تو گزر چکاہے۔
میں نے محسوس کیا کہ گھوڑی میرا ہاتھ چاٹ رہی ہے۔ مجھے ندامت ہوئی کہ میں نے جس ہاتھ سے اس کی رسی غیر کے حوالے کی تھی یہ بے زبان میرا وہی ہاتھ چاٹ رہی ہے۔
میںنے یہ بھی محسوس کیا کہ جیسے میری محبت اور بے بسی کے وہ آنسو جو کافی دیر سے میری آنکھوں میں تیر رہے تھے ٹپک کر اس کی گردن پر گرچکے ہیں۔
میںنے اسے اس کی مخصوص جگہ پرباندھا۔
اور داخلی دروازہ جو اب تک کھلا ہواتھا بند کرکے چارپائی پر آکربیٹھ گیا۔
میری نیند اڑچکی تھی۔
باقی رات میں نے آنکھوں میں کاٹی‘ صبح میں نے سارا ماجرہ گھر والی کو جاسنایا…!
اس نیک بخت نے مجھے آپ کے پاس آنے کامشورہ دیا… اب میں آپ کے سامنے ہوں۔‘‘
وہ خاموش ہوا‘ تومیں نے نرم لہجے میں کہا۔ خیر دین‘ ہروقت اللہ سے خیر کی توقع رکھنی چاہیے‘ اب تمہاری گھر والی کی طبیعت کیسی ہے ؟‘‘
’’اب تو بہت بہتر ہے جناب عالی۔‘‘
’’اب دو سوالوں کاجواب دے دو… میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پوچھیں تھانیدار صاحب۔‘‘
’’پہلا سوال یہ ہے کہ جب تمہارے پاس تین سیاہ پوش آئے تو کسی لمحے تمہیں محسوس ہوا کہ تم ان سے پہلے بھی مل چکے ہو… خاص طور پر اس دراز قد سیاہ پوش سے جو بولاتھا… اور جس نے گھوڑی کی رسی تمہیں تھمائی تھی۔
’’بالکل نہیں … البتہ یہ محسوس ضرور ہواتھا کہ وہ آوازبدل کربولنے کی کوشش کررہاہے… پھروہ اس طرح میر ی طرف دیکھنے لگا جیسے میرے دوسرے سوال کامنتظر ہو۔
’’اچھا اب تم کیاچاہتے ہو؟‘‘
’’جناب میں نے کیاچاہناہے؟ اب جو کچھ کریں گے آپ کریں گے۔‘‘ خیردین نے آہ بھر کر کہا۔
’’خیردین… میں تمہاری بات سمجھ گیاہوں‘ گھوڑی تو تم بیچ چکے ہو‘ یعنی ا سکے حقوق سے دستبردار ہوچکے ہو‘ اب تم چاہتے ہو کہ تمہیں تحفظ دیاجائے‘ تم گھوڑی واپس کرنے کو تیار ہو۔‘‘
’’بالکل… تھانیدار صاحب اللہ آپ کومزید ترقی دے… اور ہمیشہ خوش وخرم رہیں۔‘‘ خیر دین نے گویادل کی گہرائیوں سے مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو… تم بالکل نہ گھبرائو اورنہ ہی کسی قسم کی فکر کرو… پھرمیں نے کانسٹیبل اکبر خان کوبلا کر خیردین کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
’’اکبر خان… خیردین کو لے جائو‘ اپنی بیرک میں اس کے لیے منجھی بستر ے اور کھانے پینے کابندوبست کرو… اورہاں دیکھو یہ ہمارا مہمان ہے۔‘‘
’’میںبالکل اور سوفیصد سمجھ گیاہوں سر… آپ بالکل بے فکرہوجائیں۔‘‘
اور میں واقعی خیردین کی طرف سے بے فکرہوگیا۔
’’مجھے اب بہت سوچ سمجھ کرقدم اٹھاناتھا۔
یہ تو آپ نے بھی سن رکھا ہوگا کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیوں کی شامت آجاتی ہے اس لیے میں نے خیر دین کوفی الحال تھانہ میں ہی روکنا مناسب سمجھا۔ یہاں بھی مجھے ایسا ہی معاملہ نظر آرہاتھا۔
ابھی میں زیلدار دوست محمد کوبلانے کے متعلق سوچ ہی رہاتھا کہ…
سپاہی شہباز کی شکل دروازے میں نظر آئی۔
’’شہباز آجائو… خیرتو ہے۔‘‘
’’سر…زیلدار دوست محمد کو کسی نے قتل کردیاہے۔ ان کے ساتھ ایک عورت کی لاش بھی ہے۔ لگتاہے وہ بھی وہیں قتل ہوئی ہے۔‘‘
’’کیامطلب…‘‘ میںاچھل پڑا۔
’’سر… دوبندے حویلی سے آئے ہیں یہ اطلاع لے کر۔‘‘
’’ان کوبھیج دو فوراً۔‘‘
یہ سب تو بالکل غیر متوقع تھا۔ ا س کے متعلق تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
بہرحال دونوں بندوں سے چھوٹا ساانٹرویو کرنے کے بعد میں نے ضروری تیاری کاحکم دے دیا۔
پتہ یہ چلاتھا کہ زیلدار اور عورت کی لاش کھیتوں کے پاس بنے ہوئے ڈیرے میں تھی … اس ڈیرے میں فتح محمد عرف پٹھو اور ظریف رہتے تھے۔
کچھ دیر کے بعدہم ڈیرے پر پہنچ گئے …میرے ساتھ سپاہی شہباز اور انور تھے یہ ڈیرہ کم از کم تین مرلے قطعہ زمین پر بناہوا تھا… دو کمرے تھے۔ ایک میں تین چارپائیاں ‘ایک میز دو کرسیاں تھیں… جبکہ دوسرے کمرے میں آلات زراعت رکھے ہوئے تھے۔
لاشیں ایک ہی چارپائی پر تھیں اور جس حالت میں تھیں وہ ان کے آپس کے تعلقات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھیں۔
میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا… کیونکہ ؟ میں نے بغو رلاشوں کاجائزہ لینا شروع کردیا… دونوں کو بڑی بے دردی سے کسی چھری یاخنجر کے پے درپے وار کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ تین زخم زیلدار کی چھاتی پر تھے … ان میں دو زخم یقینادل کے مقام پر تھے… جبکہ تقریباً ایسی ہی حالت عورت کی تھی… یہ کام مشاق ہاتھوں کاتھا۔
زیلدار کے متعلق اس تھانے میں آنے کے بعد جو کچھ مجھے معلوم ہواتھا اس کاخلاصہ یہ تھا۔
وہ ایک حساس دل‘ مہربان اور مزارعوں کے لیے نعمت سے کم نہیں تھا۔
مگر… عورت کے معاملے میں کسی مرد کے متعلق کوئی اندازہ لگانا ناممکن کی حد تک مشکل ہوتا ہے۔
میں نے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے سپاہی شہباز کی نگرانی میں بھجوادیں۔
اس دوران محبت آباد کانمبر دار لیاقت میرے ساتھ ساتھ تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت کردوں کہ لاشوں کی حالت سے یہ بات واضح تھی کہ دونوںکو اسی کمرے اور اسی چارپائی پر قتل کیاگیاہے۔
نمبر دار نے ہمارے بیٹھنے کابندوبست اپنے حجرے میں کردیاتھا‘ اس حجرے کے کمروں کی چھتیں کچی تھیں ‘ دیواروں پر مٹی کا لیپ تھا… یہ قدرتی ایئر کنڈیشن کمرے تھے … اوران کا اپناہی مزہ تھا… ایسی جگہیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔
میں نے سپاہی انور کوحجرے کے باہر ہی رکنے اور اردگرد نظررکھنے کاحکم دیا… اور خود نمبر دار کے ساتھ حجرے میں آکر بیٹھ گیا۔
’’دیکھو… نمبردار صاحب اب تمہاری لیاقت کاامتحان شروع ہوتا ہے۔‘‘
’’جناب… میں تو حکم کاغلام ہوں‘ آپ جو کہیں گے وہ کروں گا۔‘‘
’’لیاقت… تم میری بات سمجھے نہیں‘ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ یہ سب کیا ہے ؟‘‘
’’ویسے تو زیلدار صاحب بہت مہربان اور انسان دوست تھے لیکن …‘‘نمبردار نے بات روک کر میری طرف دیکھا… میں اس کی نگاہوں کامفہوم سمجھتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں بولا۔
’’تم بالکل بے فکر ہوکرسب کچھ بتائو… میں جب تک اس تھانے میں ہوں تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔‘‘
’’دراصل باتیں کچھ ایسی ہیں کہ کہتے ہوئے زبان رک جاتی ہے‘ کسی کی عزت کاسوال ہے۔‘‘
’’اب کونسی عزت رہ جاتی ہے۔ لاشوں کی حالت نے سب کچھ عیاں کردیاہے اور اب تو دوقتل ہوچکے ہیں۔ اس لیے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی دل میں نہ رکھو۔‘‘
’’تھانے دار صاحب… زیلدار صاحب نسیم عرف نمو کے معاملے میں بالکل بے بس تھے … بقول ان کے نسیم نے ان پرجادو سا کیاہوا تھا… جس کی وجہ سے وہ صرف دل سے سوچتے تھے… دماغ کو کام میں نہیں لاتے تھے… حالانکہ ان کی بیوی نورین لاکھوں میں ایک ہے…اورانہوں نے نورین کی خاطر مراد آباد کے چوہدری ساجدسے دشمنی مول لی تھی۔‘‘
’’اوہ …تویہ وجہ ہے دشمنی کی…‘‘ میںنے زیر لب دہرایا۔
پھرنمبردار نے تفصیل سے ساری باتیں بتائی تھیں… ان باتوں کا ذکر آگے آئے گا… اس کے بعد میں نے نمبردار سے جو سوال جواب کیے تھے ان کاذکر کردیتاہوں۔
چلو… یہ سب تو اپنی جگہ پرہے… تم یہ بتائو کہ نسیم کاچکر کب سے چل رہا ہے اور نسیم کاگھر کدھرہے؟‘‘
’’تھانیدار صاحب ‘نسیم مراد آباد کے ایک غریب اور مسکین سے مزارعے تاج محمد عرف تاجو کی بیٹی ہے… اس کے خاوند عطامحمد نے اسے طلاق دے دی تھی۔‘‘
’’خیر… تم یہ بتائو کہ دوست محمد اور نسیم کے تعلقات کے متعلق کتنے لوگ جانتے ہیں؟‘‘ میں نے ایک اور زاویے سے سوال کیا۔
’’میرے خیال میں‘میرے علاوہ‘ اس کے دو نوکر پھٹو اور ظریف ہی جانتے تھے۔‘‘
’’نسیم کے گھروالے۔‘‘
اس کے متعلق پورے وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہاجاسکتا… ‘‘نمبردار نے اپنی تھوڑی کھجاتے ہوئے کہا۔
’’نسیم کا کوئی جوان بھائی وغیرہ بھی ہے؟‘‘
’’اوہ یہ بتانا تو مجھے یاد ہی نہیں رہا‘ اس کاایک غنڈہ سابھائی بھی ہے‘ نام تو اس کاسجاد ہے… لیکن اپنے ہم نشینوں میں ساقا کے نام سے مشہور ہے۔‘‘ نمبردار نے چونکتے ہوئے کہا۔ؔ
’’کیاوہ ا س قسم کاغیرت مند اوردلیر ہے کہ بہن کے متعلق کسی سے سن کر اس قسم کی واردات کردے… جیسی ہوچکی ہے۔‘‘ میں نے نمبردار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بالکل‘ اتناجیداراور غیرت مند ہے۔‘‘
اس کے بعد میں نے ظریف کوبلالیا… پتھواورظریف سپاہی انور کی زیرنگرانی تھے۔
میراارادہ دونوں سے الگ الگ تفتیش کرنے کاتھا۔
ظریف دبلے پتلے جثے والا بندہ تھا… رنگ صاف‘ بال گھنگھریالے اور آنکھیں بے چین سی تھیں … جیسے انہیں کسی کی تلاش ہو…اس کے چہرے کا رنگ یوں اڑاہواتھا جیسے اسی نے یہ واردات کی ہو۔
’’ظریف… تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟ ‘‘ میںنے اس کی بے چین آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جناب… میں اس لیے گھبرایاہواہوں کہ کہیں آپ مجھ پرہی نہ شک کریں۔‘‘
’’کیاشک کرنے کی وجہ ہے ؟‘‘ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’وجہ تو کوئی نہیں ہے جناب! لیکن میں نے سنا ہے کہ پولیس والی کھمبے سے بھی اقرار جرم کروالیتے ہیں۔‘‘ اس نے مری مری آواز میں کہا۔
’’اچھا… کس سے سنا ہے۔‘‘میں نے ہنستے ہوئے کہاتاکہ وہ مجھ سے بے تکلف ہوجائے۔
’’بس جنا ب لوگ کہتے رہتے ہیں۔‘‘
’’لوگوں کوچھوڑو… اپنی بات کرو۔‘‘
’’میں اگر سچی بات کروں تو مجھے آپ مختلف لگے ہیں۔‘‘
’’اچھا… یہ بتائو زیلدار صاحب اور نسیم کے درمیان رابطے کاکام کون کرتاتھا… تم یافتح محمد۔‘‘
’’جناب ہم میں سے کوئی نہیں کرتاتھا… ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ جس دن نسیم نے آناہوتاتھا‘زیلدار صاحب ہمیںکہتے تھے کہ آج رات دوسرے کمرے میں گزارو… ہم چٹائی اور گدے وغیرہ بچھا کر گزارہ کرلیتے تھے۔‘‘
’’صبح کی کیا روٹین ہوتی تھی؟‘‘
’’صبح ہم سورج نکلنے کے بعد کمرے سے باہر نکلتے تھے‘ اس وقت نسیم جاچکی ہوتی تھی ۔ اور زیلدار صاحب جانے کی تیاری کررہے ہوتے تھے۔‘‘
’’آج صبح کیاہواتھا؟‘‘
’’جناب ہم رات کو کمرے کادروازہ بند کرکے سوتے تھے… کمرے کی دو کھڑکیاں ہیں‘ آپ نے دیکھی ہی ہوں گی… ایک سامنے کی طرف اورایک پچھلی طرف… کیونکہ گرمیوں کے دن ہیں اس لیے ہم دونوں کھڑکیاں کھول کرسوئے تھے… چند لمحے ظریف نے کچھ سوچا پھر یوں بولا جیسے اسے کچھ یاد آگیاہو۔
’’تھانیدار صاحب آج صبح عجیب واقعہ ہوا۔‘‘
’’کونسا واقعہ؟‘‘ میںنے پراشتیاق نگاہیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔
’’ایک تو جب ہم سو کراٹھے تو سورج کافی اوپر آچکاتھا‘ دوسرے ہمارا سر بھاری بھاری تھا… جیسے ہم نے بے ہوشی کی کوئی دوائی پی لی تھی۔‘‘
میں ساری بات سمجھ گیا… کسی نے سپرے گن سے زیادہ دیر انٹاغفیل (گہری نیند) لانے والی کوئی دوائی ان کے چہرے پر سپرے کردی تھی۔
دونوں کھڑکیاں کھلی تھیں…‘میں نے تصدیق کے لیے ظریف سے پوچھا۔
’’کل رات جہاں تمہارے بسترے تھے کیا وہ کسی کھڑکی کے بالکل نیچے تھے۔
’’جی ہاں… تھانیدار صاحب پچھلی رات کھیتوں کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے عین نیچے ہمارے بسترے تھے… کل رات…‘‘ اس کے بعد… میں نے اسے فارغ کرکے فتح محمد کوبلالیا۔
اس نے بھی وہی باتیں بتائیں جو ظریف بتا گیاتھا… میرے صرف ایک سوال کے جواب میں اس نے ایسی بات بتائی کہ مجھے روشنی کی کرن نظر آگئی۔یہ سوال میں نے ظریف سے بھی کیاتھا… لیکن اس نے لاعلمی ظاہر کی تھی۔
تھانیدار صاحب یہ بڑے لوگ عجیب ہوتے ہیں‘ اپنے مقصد کے لیے ہمیں استعمال کرتے ہیں… چونکہ ہم ان کانمک کھارہے ہوتے ہیں اس لیے انکار نہیں کرسکتے بعد میں یہی باتیں ہمارے لیے مصیبت بن جاتی ہیں۔ نسیم سے پیغام ر سانی کاکام میری بیوی کرتی تھی۔‘‘
’’تمہاری بیوی …‘‘ میں نے زیر لب دہرایا… اورپھراس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آج کل تمہاری بیوی کہاں رہ رہی ہے ؟‘‘
’’وہ تو شروع سے گائوں(مراد آباد) میں رہ رہی ہے۔ میں ہفتے دس دن بعد گائوں کاچکرلگا آتا ہوں۔‘‘
اب ہمیں سارا فوکس گائوں مراد آباد پرکرناتھا۔
میں نے فتح محمد کوبھی فارغ کردیا۔
تھانے سے گاڑی آگئی تھی … میں نے سپاہی انور کو ساتھ لیا اور تھانے میں واپس آگیا۔
اگلے دن لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد واپس آگئیں۔
ضروری کاغذی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا لے گئے … اور میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کھول کربیٹھ گیا۔
رپورٹ میں لکھا تھا کہ وارخنجر سے کیے گئے تھے… زیلدار کے سینے پر جو تین وار تھے ان میں سے دو دل تک چلے گئے تھے۔ تیسرا وار ذرا ترچھا لگا تھا۔ یہی عورت کے ساتھ بھی ہواتھا… موت کاوقت رات بارہ بجے سے ایک بجے تھا۔ ابھی میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ پڑھ کرفارغ ہی ہواتھا کہ اے ایس آئی آفاق میرے کمرے میں داخل ہوا۔
’’سر… ابھی ابھی مجھے پتہ چلا ہے… کہ گھوڑی واپس خیردین کے پاس پہنچ چکی ہے اور زیلدار ایک عورت کے ساتھ قتل ہوچکاہے۔
’’بس نہ پوچھو اس کیس میں انہونیاں ہی ہو رہی ہیں‘ یہ کیس ہمیں چکر درچکر راستوں پر لے جارہاہے‘ اور ہمیں انہی چکروں میں سے راستہ ڈھونڈناہے۔‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر… نوید رپورٹ لے آیا ہے۔‘‘
’’اچھا… کیارپورٹ ہے؟‘‘ میں نے دلچسپی کااظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’سر… رپورٹ کاخلاصہ یہ ہے کہ چھوٹا چوہدری واقعی زیادہ تر سندھ میں اپنی پھوپھی کے پاس رہتا ہے‘ اور کبھی کبھی ہی یہاں آتاہے‘ اس لیے دشمنی کی وجہ اس سے پوشیدہ رہنا کوئی اچھنبے یاحیرانگی والی بات نہیں‘ دشمنی کی وجہ نورین ہے۔ نورین پہلے چوہدری ساجد کی منگیتر تھی‘ پھراچانک پتہ چلا کہ نورین کے والدین نے منگنی توڑ کر رشتہ زیلدار کو دے دیاہی‘ دراصل زیلدار چوہدری ساجد سے زیادہ مالدار ہے‘ سناہے زیلدار نے دولت کے بل بوتے پررشتہ لے لیاتھا‘ نورین کے والدین غریب اور لالچی ہیں ۔ سناہے زیلدار نے انہیں کافی نقد روپیہ بھی دیاتھا۔‘‘
’’یہ کتنا عرصہ پہلے کی بات ہے؟‘‘
تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے۔‘‘
’’دس سال پہلے کی… یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
’’کیوں سر… میں سمجھانہیں … ‘‘ اے ایس آئی نے حیران نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ بات ذہن میں رکھو کہ چوہدری ساجد کابیٹا ماجد(میری معلومات کے مطابق) سترہ اٹھارہ سال کاہے۔ اس کامطلب ہے چوہدری ساجد کی شادی کم از کم انیس سال پہلے ہوچکی تھی پھر یہ منگنی وغیرہ کاکیاچکر تھا؟‘‘
’’سر… آپ کا حیران ہونا بالکل بجاہے‘ بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان سوچنے پرمجبور ہوجاتاہے‘ لیکن نوید نے ساری بات واضح کردی ہے اے ایس آئی تھوڑی دیر کے لیے رکا۔
لیکن میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ اسی کے مزیدبولنے کامنتظررہا۔
’’دراصل اس وقت چوہدری ساجد کی بیوی فوت ہوگئی تھی اوراس وقت ماجد کی عمر آٹھ سال ہوگی‘ اور وہ ویسے بھی اپنی پھوپھی کے پاس رہ رہا تھا اس لیے منگنی نورین سے ہوگئی لیکن جب نورین کے لالچی ماں باپ کوزیلدار جیسا چوہدری ساجس سے بھی موٹامرغا ملاتو انہوں نے آم کے ساتھ گٹھلیوں کے دام بھی وصول کرلیے۔‘‘
’’اوہ… تویہ ہے ساری کہانی…‘‘ میں نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’اب سر… کیاکرناہے؟‘ ماجدتواس دوران سندھ جاچکاہے۔‘‘
’’کب گیاہے؟‘‘
’’تین دن ہوگئے ہیں سر۔‘‘
’’تمہارے خیال میں اتنے عرصے بعد چوہدری ساجد زیلدار پر وار کر سکتاہے۔‘‘
’’سر… اس معاملے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی… کیونکہ کچھ لوگ موقع کی تاک میں رہتے ہیں‘ وہ کئی لوگوں کے سامنے یہ بات دہرا چکاتھا کہ کبھی نہ کبھی مجھے زیلدار کو عبرت کانشان بنانے کاموقع ضرور ملے گا۔‘‘
’’اچھا…تم اکبرخان اور سپاہی عارف کومیرے پاس بھیج دو۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر۔‘‘
آدھے گھنٹے بعدہم ضروری تیاری کے بعد سرکاری جیپ میں مراد آباد کی طرف جارہے تھے۔
جب چوہدری ساجد کو ہمارے آنے کاپتہ چلا تو وہ خود حویلی کے دروازے پر ہمارے استقبال کے لیے آیا۔
میں اسے پہلی بار دیکھ رہاتھا… اس کی عمر چوالیس سال کے اریب قریب ہوگی‘ صحت قابل رشک تھی… اور مضبوط کاٹھی کامالک تھا۔ میں نے اکبر خان اورعارف کوگاڑی کے پا س ہی چھوڑا اور خود چوہدری کے ساتھ اس کی حویلی میں آگیا۔
چوہدری ساجد کی حویلی چھوٹی سی تھی… لیکن سامان سے اس کا اعلیٰ ذوق جھلکتاتھا۔
ایک نوکر ٹائپ بندہ ہمارے ساتھ ہی آگیاتھا… چوہدری نے میرے منع کرنے کے باوجود اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھوغفورے… ٹھنڈا دودھ اور ٹھنڈے آم لے آئو… اور ہاں‘ باہر جیپ میں بھی دو مہمان ہیں۔‘‘
’’میں بالکل ہربات سمجھ گیاہوں چوہدری صاحب‘ آپ رتی برابر چنتا(فکر )نہ کریں۔‘‘
’’تھانیدارصاحب… یہ سب انڈیا کی فلمیں دیکھنے کااثر ہے کہ ہماری زبان میں بھی چنتا‘ وچن اور پریم جیسے لفظ آگئے ہیں۔‘‘
یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے چوہدری صاحب‘ ہندو ازل سے ہمارا دشمن ہے اور ابد تک رہے گا‘ ہم اس کی فلموں کے ذریعے س کاکلچر اپنے اندر اتار رہے ہیں اور یہ وہ زہر ہے جوہماری نسل کو ڈس رہا ہے۔‘‘ میں نے چوہدری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کے بعد یہ بحث لمبی ہوگئی تھی۔ یہ وہی باتیں ہیں جو آپ اکثر پڑھتے رہتے ہیں۔
بہرحال اتنی دیرمیں ہم آموں اور دودھ سے مستفید ہوچکے تھے۔ اوراب جس مقصد کے لیے ہم آئے تھے اس کے لیے میدان تیار ہوچکاتھا۔
’’چوہدری صاحب …آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں ؟‘‘
’’مجھے پتہ تھا کہ آپ ضرور آئیں گے۔ اس لیے میری تیاری مکمل ہے۔‘‘ چوہدری نے خوشگوار موڈ میں کہا۔
’’کیامطلب …؟‘‘ میں نے مصنوعی حیرت کااظہا رکیا۔
’’مجھ تک یہ بات پہنچ چکی ہے کہ زیلدار دوست محمد اپنی محبوبہ کے ساتھ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوچکاہے۔‘‘
’’اور یہ آپ کی خواہش بھی تھی۔‘‘ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’کیوں کیایہ غیر فطری خواہش تھی؟ میرے خیال میں سب باتیں آپ کے علم میں آچکی ہوں گی۔اس پربحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں …چوہدری صاحب…‘‘
پھرمیں نے گھوڑی والا واقعہ اس کے گوش گزار کیاتھا۔ قصہ سن کرچوہدری نے زوردار قہقہہ لگایا اور پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’تھانیدار صاحب میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ زیلدار کے ساتھ دشمنی کے متعلق ماجد کوبالکل پتہ نہیں ہے ‘ اگر اسے دشمنی کے متعلق پتہ ہوتاتو وہ ہرقیمت پر گھوڑی خریدتا… اس نے گھر آکر مجھ سے ذکر کیاتھا‘ کہ اس حلیے کے بندے نے اس کے ساتھ گھوڑی کے معاملے میں اڑس پھس(ضد) کی تھی۔ میں نے اسے کہاتھادفعہ کرو… میں نے اسے پھربھی زیلدار کے متعلق صرف اتنا کہا تھا کہ وہ میرے جاننے والا ہے۔‘‘
چوہدری صاحب آپ سمجھ دار بندے ہیں۔ ماجد بالکل نوجوان خون ہے اس نے ہوسکتا ہے بات دل میں رکھ لی ہو‘ اور خریدی ہوئی گھوڑی پہلے چوری کروائی اور پھر خیردین کوواپس کروا دی اور اپنا نام استعمال کروایا۔‘‘ چوہدری نے اپنی طرف سے طنز کیا… کیا یہ بچکانہ حرکت نہیں لگتی تھانیدار صاحب ۔
’’نوجوان بے وقوفی کی حد تک دلیر ہوتے ہیں وہ اپنی انا کی تسکین کی خاطر اس قسم کے بچکانہ کام کرتے رہتے ہیں۔‘‘ میں نے ایک دلیل دی۔
’’جناب… میری عقل یہ بالکل تسلیم نہیں کرتی… ویسے تھانیدار صاحب یہ بھی حیرانگی والی بات ہے کہ جس رات گھوڑی واپس کی گئی ‘ اسی رات قتل بھی ہوئے … اور ماجد اس وقت(رات) سندھ میں پہنچ گیاتھا۔
’’پھر آپ کے خیال میں یہ حرکت نسیم کے بھائی کی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’یہ ممکن توہے جناب… لیکن اس سیٹ اپ میں گھوڑی کی واپسی والا معاملہ کسی طرح فٹ نہیں آرہا…‘‘ چوہدری نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ بہرحال تھانیدار صاحب میں ہر طرح سے حاضر ہوں… میں اس بات سے البتہ خوش ہوں کہ سانپ بھی مرگیا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔‘‘ چوہدری نے تقریباً سارے شک رفع کردیئے تھے‘ لیکن میں ابھی اسے مشتبوں کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔بہرحال کچھ شک اور تحفظات ابھی میرے ذہن میں تھے۔
ہم جب تھانے میں واپس ائے تو ایک او رحیرت انگیز خبر ہماری منتظر تھی۔
مجھے بتایا گیا کہ اکبر اور ثانی آئے ہیں اور مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
مجھے ان دونوں کی تلاش تھی‘ کیونکہ گھوڑی کے ساتھ یہ بھی گم ہوگئے تھے پھر چند لمحوں بعدسپاہی شہبازان دونوں کو لے کرمیرے پاس آیاتھا۔
میں نے سپاہی شہباز کو کمرے میں ہی رکنے کااشارہ کیااوران دونوں کوگھورتے ہوئے کہا۔
’’تم دونوں اب تک کہاں تھے؟ دیکھو سچ بولنا‘ ورنہ میں تم دونوں کابہت برا حشر کروں گا۔‘‘
’’جناب… آپ کے سامنے ہماری اوقات ہی کیاہے۔ ہم آپ کے سامنے کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں۔ دراصل ہم اس رات بے خبر سورہے تھے کہ اچانک میری چارپائی پر ٹھوکر لگی… میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا… میں نے دیکھاکہ تین سیاہ پوش بلب کی ملگجی روشنی میں میرے سامنے کھڑے ہیں‘ میں نے دوسری چارپائی کی طرف دیکھا کہ ثانی بھی اٹھ بیٹھا ہے اور خوفزدہ نظرُں سے سیاہ پوشوں کو دیکھ رہا ہے … ان میں ایک سیاہ پوش نے بیٹھی ہوئی آواز میں کہا۔
’’تم دونوں اٹھ کرباہر گاڑی میں بیٹھ جائو دیکھو آواز نہ نکلے … ورنہ یہیں ختم کردوں گا۔‘‘
میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پستول یاریوالور دباہواہے اور ا سکارخ ہم دونوں کی طرف ہے۔ اس کالہجہ کہہ رہاتھا کہ وہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنادے گا۔
’’تھانیدارصاحب… یقین کریں ہمارااس وقت وہی حال تھا‘ جواچانک گہری نیند سے اٹھائے گئے بندوں کاہوتاہی‘ ہماری تو گویا گھگھی بندھ گئی تھی۔ ہم نے بے چوں چراں ان کے کہنے پر عمل کیا۔
یہ ایک منی ٹرک تھا… گاڑی میں لاکر ریوالور یاپستول بردار نے ہمیں وہاں پڑی رسیوں سے باندھ دیا… اور ہمارے منہ میں کپڑ اٹھونس دیا۔
’’کچھ دیر کے بعد ہم نے دیکھا… کہ گھوڑی کوبھی گاڑی میں لاکرباندھ دیا گیاہے… اکبر کابیان ابھی جاری تھا کہ میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’آگے تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو… میں سمجھ گیاہوں… تم یہ بتائو کہ پھریہاں کیسے نظر آرہے ہو؟‘‘
’’کل رات ہم اس مکان میں ہی سوئے تھے جس میں ہمیں رکھاگیاتھا…لیکن آج صبح ہماری آنکھ ایک پارک میں کھلی ہے‘ ہم زیلدر صاحب کے ساتھ تھانے کے پاس سے کئی بار گزرے تھے… ہم نے آپس میں مشورہ کیا…اور یہاں آگئے… ہم نے سوچا زیلدار صاحب ہمار ی بات کاشاید یقین نہ کریں… ‘‘ اکبر نے جواب دیا۔
’’تمہارے زیلدار صاحب… اب کچھ سمجھنے اور کہنے کی حد سے گزر چکے ہیں۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیامطلب…؟ ‘‘ وہ یوں اچھلا جیسے جس کرسی پروہ بیٹھا ہوا ہے اس نے اچانک اسے اچھلنے پرمجبور کردیاہو…
میں نے ثانی کی طرف دیکھا‘ وہ بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہاتھا۔
میں نے انہیں حالات سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔
’’تھانیدار صاحب! یہ کیسے ہوا؟ اور کس نے یہ ظلم کیا؟ ‘‘ دونوں نے یک زبان ہو کرکہا۔
’’ابھی قاتل یاقاتلوں کی مجھے تلاش ہے۔ تم اس عورت کے متعلق کچھ جانتے ہو جو زیلدار صاحب کے ساتھ قتل ہوئی ہے۔‘‘
’’بالکل نہیں جناب… ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ زیلدار صاحب نرم دل اور غریبوں مجبوروں کے ہمدرد تھے … اوران کے کام آتے رہتے تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے ہیں اس ل یے میرا اندازہ یہ ہے کہ عورت خود ہی ان کے گلے پڑگئی ہوگی۔‘‘ اکبر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
اس کی بات میں وزن تھا۔ سیانے کہتے ہیں کہ نہ اتنے میٹھے بن جائو کہ لوگ تمہیں نگل جائیں اور نہ اتنے کڑوے کہ تھوک دیں۔
پھراگرعورت چاہے تو بڑے بڑے پارسائوں کے دل پرقبضہ کرلے اور انہیں انجام کی طرف سے غافل کردے۔
خیرجوکچھ بھی تھا… مجھے تو قاتلوں کی تلاش تھی۔
جس بندے نے نسیم (مقتولہ ) کوطلاق دی تھی … میں نے اس کو بھی ذہن میں رکھاہواتھا… نسیم کابھائی بھی مشتبہ افراد میں شامل تھا… اس گھوڑی کی چوری نے تو مجھے ایسے چکر دیئے تھے کہ میرے دماغ کو بھی چکرآگئے تھے… یہاںیہ بات بھی بتادوں کہ خیردین کو میں نے بھیج دیاتھا۔ میں نے محسوس کیاتھا کہ اکبر ذہین اور عقلمند ہے‘جبکہ ثانی بے وقوف سالگتاتھا… اس لیے میں نے اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’تم نے بتایا ہے کہ تین سیاہ پوشوں میں سے ایک بیٹھی ہوئی آواز میں بول رہاتھا… تم نے کیا محسوس کیا تھا… اس کی آواز کسی وجہ سے بیٹھی ہوئی تھی یا… ؟‘‘
’’تھانیدار صاحب… صرف وہی بول رہاتھا اورمیرے اندازے کے مطابق وہ آواز بدل کر بول رہاتھا۔
’’بہت خوب تم واقعی ذہین ہو… اکبر تمہیں کچھ شک ہے کہ یہ بندہ تمہارا جاناپہچاناہے… بے شک سوچ لو… پھر بتائو…‘‘
اکبر چند لمحوں کے لے سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں چلاگیا… پھر… بولا۔
’’تھانیدار صاحب کچھ سمجھ نہیں آرہی… لیکن …؟‘‘
’’لیکن کیا… اکبر؟ میں نے اشتیاق سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’جو بھی بات ‘ جوبھی خیال ‘یاواہمہ تمہارے ذہن میں آرہا ہے بتادو۔‘‘
’’مجھے موہوم سا خیال آتا ہے کہ وہ سیاہ پوش…ہوسکتاہے‘‘ میں اچھل پڑا… اس کی طرف تو میرا دھیان گیا ہی نہیں تھا۔ پھرتھانے دار صاحب… ایک بات اور بھی ہے… زیلدار صاحب کہتے تھے کہ یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے … میراایک راز اس کے پاس ہے۔جس نے میرے پائوں میں مجبوریوں کی زنجیریں ڈال دی ہیں۔‘‘
میرا دماغ روشن ہوگیاتھا… ابھی میں اس بندے کانام نہیں بتائوں گا‘ آپ سوچیں اور اندازے لگائیں۔
میں نے اکبر اور ثانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تم دونوں بے فکر ہوکرجائو اور اپنی مالکن(مقتول کی بیوہ) کو ساری رام کہانی سنادو۔ تمہیں کچھ نہیں کہے گی اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو میرے پاس آجانا۔‘‘
ان کورخصت کرنے کے بعد میں نے سپاہی عظمت اور عارف کوبلا کر انہیں مطلوبہ بندہ لانے کے لیے بھیج دیا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد بندہ ہمارے سامنے تھا… بندے کو کمرے میں سپاہی عارف لے کرآیاتھا۔
’’عارف تم کمرے کے باہر کھڑے ہوجائو‘ ہوسکتا ہے‘ گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے اور انگلیوں کو ٹیڑھا کرناپڑے۔‘‘
وہ چلاگیا۔
’’ہاں تو جناب… آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں ؟‘‘ میں نے توتمہیں صرف گپ شپ کے لیے بلایاہے۔‘‘
’’گپ شپ کے لیے۔‘‘ اس نے زیر لب دہراتے ہوئے کہا۔
’’بالکل… میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
میں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا ہے۔
’’گھوڑی کا کیا قصہ ہے ؟‘‘
’’وہ تو میری معلومات کے مطابق خیردین کے پاس…‘‘ وہ اچانک چپ ہوگیا… میں نے گرم لوہے پر چوٹ لگاتے ہوئے کہا۔
’’تمہاری معلومات کاذریعہ کیا ہے بھولے بادشاہ۔‘‘
’’وہ… وہ… میں نے ادھر ادھر سے سناہی‘ وہ مکمل میری گرفت میں آچکاتھا۔
’’تم سنا ہے آواز بڑی اچھی بدل لیتے ہو… کبھی بیٹھی ہوئی‘ کبھی ممیائی ہوئی آواز نکالتے ہو۔‘‘
پھروہ ہوگیا جس کی مجھے توقع تھی۔
مطلوبہ بندے نے دروازے کی طرف دوڑ لگادی۔ وہ اس طرح میری گرفت میں آچکاتھا کہ اس کے ذہن سے یہ بات نکل ہی گئی تھی کہ سپاہی دروازے میں کھڑا ہے۔
اس کااحساس اسے اس وقت ہوا جب وہ سپاہی کی لات کھا کر اوندھے منہ فرش پرآگرا۔
اس کے پیچھے سپاہی بھی آگیاتھا۔ اس نے اس کی پنڈلی پر اپنے بوٹ کی ٹھوکر لگائی‘ تووہ کسی زخمی بیل کی طرح ڈکراتا ہوا پنڈلی پکڑے دہراہوگیا۔
پنڈلی کی چوٹ ویسے بھی بڑے بڑے سورمائوں کو چھٹی کادودھ یاد دلادیتی ہے۔
میں نے سپاہی کی طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہاہوں کہ تم نے بڑا لاجواب جام کیاہے۔
سپاہی نے میری ہلہ شیری سے مزید شیر ہوتے ہوئے اسے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کردیا… اوراس کا منہ میری طرف کرتے ہوئے کہا۔
’’صاحب … کے سوالوں کے سیدھے سیدھے جواب دو‘ورنہ تمہاری ایک ایک ہڈی بول اٹھے گی۔‘‘
میںنے دیکھا کہ اس کی پیشانی پھٹ گئی ہے اور اس سے خون رس رہا ہے۔ اوراس کے چہرے پر اذیت کے آثار ہیں۔
پھراس نے ہمیں سب کچھ بتانے میں ہی عافیت سمجھی۔
لیکن جس شخصیت کے کہنے پر اس نے یہ کچھ کیاتھا‘ اس کانام سن کرمیں بھونچکارہ گیا۔
یہ سب انسانی نفسیات کاکرشمہ تھا ‘ انا کی تسکین کامسئلہ تھا ‘ کچلی ہوئی خواہشات کاشاخسانہ تھا۔
سب سے پہلے مطلوبہ بندے کا تعارف کروادوں۔
’’یہ زمرد تھا… جی ہاں… زیلدار کامنشی… اسے شراب اور شباب سے رغبت تھی… اور اکثر زیلدار کے پیسوں میں ہیراپھیری کرکے اپنے شوق پورے کرتارہتاتھا۔ کہتے ہیں چوری اور رنڈی بازی زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی… اور پیسوں کی ہیراپھیری بھی ایک دن ظاہر ہوجاتی ہے۔ زیلدار کو بھی پتہ چل گیا… وہ اس سے باز پرس کرنے لگا… ادھر شومئی تقدیر زمرد کونسیم کے متعلق پتہ چل گیا… اوراس نے زیلدار کو راز رافشاں کرنے کی دھمکی دے کرنہ صرف… خاموش رہنے پرمجبور کردیا بلکہ اس سے مزید پیسے اینٹھنے لگا۔
پھرزیلدار کی گھوڑی چوری ہوگئی… زیلدار پریشان ہوگیا‘ اس نے مجھے بلایا…!
میرے اوراس کے درمیان جو گفتگو ہوئی تھی اور جن خدشات کا اس نے اظہار کیاتھا‘ وہ آپ نے پڑھ لیا ہے۔
بقول زمرد کے اس نے کبھی سوچابھی نہیں تھا کہ وہ زیلدار کو قتل کرے گا… لیکن ہونی ہو کررہ تی ہے… ایک دن زیلدارنی(نورین) نے اسے اپنے پاس بلایااور کہا۔
’’دیکھو…زمرد مجھے چکر دینے کی کوشش نہ کرنا… مجھے اپنے شوہر اور تمہارے کرتوتوں کا پتہ چل گیا ہے‘ تم حساب کتاب میں ہیرا پھیری کررہے ہو اور تمہارے دوست محمد صاحب نسیم نامی عورت کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہیں… ویسے تو یہ کام تم بھی کرتے ہو… اوریہ بھی ممکن ہے کہ تم نے ہی نسیم کو دوست محمد صاحب سے ملوایاہو۔
’’بی بی جی میں بڑی سے بڑی قسم کھانے کوتیار ہوں‘ کہ میں نے نسیم کو زیلدار صاحب سے نہیں ملوایا … البتہ …‘‘
’’تم نے حساب کتاب میں ہیراپھیری ضرور کی ہے ۔‘‘
’’بی بی جی… بس غلطی ہوگئی ہے اب آئندہ کے لیے میں توبہ کرتاہوں۔‘‘
’’آئندہ کی تو بعد میں سوچیں گے پہلے تم یہ گند تو صاف کرو۔‘‘
نورین نے معنی خیز نظروں سے زمرد کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیامطلب ’بی بی جی …‘‘
’’مجھے دوست محمد صاحب کااور نسیم کاپتہ صاف چاہیے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘
’’میںنے کسی ایسی زبان میں بات نہیں کی جو تمہاری سمجھ میں نہ آسکے۔ اچھی طرح سوچ لو‘ ورنہ جیل تو ویسے بھی تمہارا مقدر ہوگی۔‘‘
’’بی بی جی اس طرح تو میں سیدھا پھانسی کے تختے تک پہنچ جائوں گا۔‘‘
’’ارے بے وقوف تھوڑی عقل بھی استعمال کرو… تمہیں پتہ ہے کہ زیلدار صاحب کی مراد آباد کے چوہدری ساجد سے کھٹ پٹ ہے‘ تم جس رات وہ کمینی بھی دوست محمد کے ساتھ ہو‘ دونوں کو اس طرح قتل کرنا کہ سارا شک چوہدری ساجد پر جائے… اب بھی سمجھ میں بات آئی کہ نہیں …؟‘‘
’’اس کے لیے مجھے پہلے میدان بنانا پڑے گا… بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اور خرچہ … بھی ہوگا۔‘‘
’’تم خرچے کی پرواہ نہ کرو‘ تم یہ کام کردو… میں تمہیں پچاس ہزار روپیہ دوں گی‘یہاں یہ بات بھی بتادوں کہ اس وقت تک گھوڑی آچکی تھی… اس طرح زمرد نے دو بندوں کو اور اپنے ساتھ ملایا… اور کام شروع کردیا… پھر شک کی توپوں کا رخ چوہدری ساجد کی طرف موڑنے کے لیے ا س نے گھوڑی چوری کرکے واپس کرنے کاجو ڈرامہ کیا… وہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں… اور اکبر اور ثانی کو اغوا کرنے کے بعد چھوڑنے والی کہانی بھی آپ کے علم میں آچکی ہے۔
یہ سب میرے خیال میں بچکانہ باتیں تھیں… یہ سارا سیٹ اپ ہی احمقانہ تھا۔
اصل میں زمرد اپنی طرف سے سیانا کوا بناتھا۔ اور گندگی میںجامنہ ماراتھا۔
اب جاتے جاتے نورین کے متعلق بھی سن لیجیے… اس کو میں نے تھانے بلوا کر پوچھ گچھ کی تھی۔
لیجیے مختصراً آپ بھی سن لیجیے‘ میرا مطلب ہے پڑھ لیجیے۔
’’تھانے دار صاحب… یہ زمرد کمینہ اور خود غرض ہے‘ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی… مجھے تو دوست محمد صاحب اور کسی نسیم کے تعلقات کا کوئی علم نہیں تھااور نہ میں یہ بات جانتی ہوں کہ یہ دوست محمد صاحب کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا رہا ہے۔ آپ اسے پھانسی کی سزا دلوائیں۔‘‘
عدالت نے میرے کہنے پر یانورین کے کہنے پر سزا نہیں دینی تھی‘ بلکہ قانون کے مطابق سزا دینی تھی… میں نے زمرد کے شراکت داروں کو بھی گرفتار کروانے کے بعد چاروں کے نام پرچہ کاٹ کر انہیں حوالہ عدالت کردیاتھا۔ عدالت میں بھی نورین اپنے بیان پر قائم رہی تھی… زمرد کاوکیل کوئی ایسا گواہ عدالت میں پیش نہیں کرسکاتھا… جس کے سامنے نورین نے کہاہو کہ زمرد دوست محمد کواور نسیم کودنیا کے تختے سے اٹھادے۔
اس طرح کے کاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے ۔
عدالت نے زمرد کوعمر قید اور اس کے ساتھیوں کو دس دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
نورین کو عدالت نے باعزت بری کردیاتھا۔
بہرحال ایک بات طے تھی …کہ زمرد نے سیانا کوا بننے کی کوشش کی تھی…اور جاتے جاتے گھوڑی کے متعلق بھی عرض کردوں ‘نورین نے گھوڑی خیردین کے پاس ہی رہنے دی تھی… اس نے کہا تھا کہ کسی سے اس کی محبوب چیز نہیں چھینی چاہیے… کسی قیمت پر نہیں… یہ بھی ایک ذو معنی فقرہ تھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close