Naeyufaq May-17

درندے

مہتاب خان

تاج گل اٹھارہ برس کا گورا چٹا‘ صحت مند اور قد آور نوجوان تھا۔ اس کاباپ خستہ گل اب کافی بوڑھا ہوگیاتھا۔ تاج گل پیداہی اس وقت ہواتھا جب اس کاباپ اپنی جوانی کا ایک بڑا حصہ گزار چکاتھا۔ تاج گل کی ماںخستہ گل کی دوسری بیوی تھی‘ پہلی بیوی سے اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب تاج گل پیدا ہواتھا اس وقت خستہ گل پینتالیس برس کاتھا۔
تاج سب سے بڑا تھااس کے بعد خستہ گل کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں اوربھی پیدا ہوئی تھیں اور یہ سب اولادیں اس وقت پید اہوئی تھیں جب وہ بڑھاپے کی سرحد کو چھو رہاتھا۔ خستہ گل کوایک طرف اولادوں کی خوشی تھی تو دوسری طرف یہ تشویش بھی تھی کہ اس کے بعد اس کی اولادوں کاکیا ہوگا؟ کیونکہ ابھی وہ سب کم عمر تھیں۔
وادی سوات کے ایک چھوٹے سے خوبصورت گائوں میں یہ خاندان پرسکون زندگی گزار رہاتھا لیکن اب زندگی ان کے لیے روز بروز دشوار ہوتی جارہی تھی۔ خستہ گل یہاں چپلیں بنانے کا کام کرتاتھا۔ ایک زمانہ تھا جب اس کاکاروبار خوب چلتاتھا اور ان کے ہاتھ کی بنائی ہوئی چپلوں کی دھوم تھی۔ پشاور اور آس پاس کے علاقے والے کئی دکاندار اس سے چپلیں خریدتے تھے۔
لیکن اب وقت بدل گیاتھا شہروں کے خریدار اب اس سے مال نہیں خریدتے تھے‘ ان کاکہناتھا کہ اب بہت سے نئے کاریگر میدان میں آگئے ہیں۔ مشینوں کا استعمال بھی زیادہ ہونے لگا ہے‘ اور پھر ان سب باتوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی تھی کہ خستہ گل کے ہاتھوں میں اب پہلے جیسی طاقت نہیں رہی تھی اور بینائی بھی کمزور ہوگئی تھی۔
وہ اکثر اپنے کھردرے ‘سخت اور ہنرمند ہاتھوں کو دیکھتا رہتا جنہوں نے ساری عمر سخت چمڑے سے خوبصورت چپلیں بنائی تھیں لیکن اب ان ہاتھوں میں دم خم نہیں رہاتھا۔ تاج نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی خستہ گل چاہتاتھا کہ وہ شہر جاکر نوکری کرے۔ اس گائوں کے کئی لوگ کراچی میں محنت مزدوری کرکے اچھے خاصے پیسے کمارہے تھے اور ہر ماہ اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجتے تھے ۔ وہ خود کبھی کراچی نہیں گیاتھا مگراس نے سناتھا کہ کراچی بڑا غریب پرور شہر ہے۔ وہاں کوئی شخص بھوکانہیں سوتا‘ہر ایک کووہاں کوئی نہ کوئی روزگار مل ہی جاتا ہے۔ یہی سوچ کر اس نے تاج کو کراچی بھیجنے کا فیصلہ کیاتھا۔
اس بات کاتذکرہ جب اس نے اپنی بیوی سے کیاتووہ بولی۔
’’تاج ابھی بچہ ہے اور پھر… وہ تو آج تک اپنے گائوں سے باہر نہیں گیا وہ اتنے بڑے شہر میں کیسے رہے گا؟‘‘
’’میں مراد خان کوفو ن کروں گا… ‘‘ خستہ گل نے کہا۔ ’’وہ اسی گائوں کاہے اور میرے لیے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے اگروہ تاج کووہاں بلوانے اور روزگار دلوانے کے لیے تیار ہوگیا تو اسے بھیجوں گا۔‘‘
’’ہاں مراد اچھا آدمی ہے اگر وہ تاج کوبلوا کر اپنے ساتھ رکھ سکے تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنے بچے کو اتنی دور نہیں بھیجوں گی۔‘‘
’’مجھے بھی اسے اتنی دور بھیجنے کا شوق نہین ہے کون باپ اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں سے دور کرنا چاہتا ہے؟‘‘خستہ گل نے سرد آہ بھر کے کہا۔ ’’لیکن مجبوری ہے کیا کروں‘ میں اس بڑھاپے میں اور کوئی کام نہیں کرسکتا اور میرے اس کام میں اب پہلے جیسی آمدنی نہیں رہی ہے۔ اتنے بچوں کی پرورش اس آمدنی میں کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تاج میٹرک کرچکاہے۔ یہاں اسے کوئی کام نہیں مل سکے گا لیکن اگر وہ کراچی چلاجائے تو اسے وہاں کوئی نہ کوئی نوکری ضرور مل جائے گی۔‘‘
بیوی بولی۔ ’’اس شہر میں اتنا روزگار کہاں سے آتا ہے؟‘‘
’’خداہی جانتا ہے۔ پچھلی بار مراد خان آیاتھا تو بتارہاتھا ‘ادھر سارے ملک سے لوگ روزگار کی خاطر جاتے ہیں اور تو اور ہمارے پختون لاکھوں کی تعداد میں وہاں آباد ہیں اور وہاں ہماری بستیاں اتنی بڑی بڑی ہیں کہ ایک ایک بستی میں ہمارے جیسے پچاس گائوں سماجائیں۔‘‘
’’کیا کراچی اتنابڑا شہر ہے؟‘‘ وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے کہہ رہی تھی۔
’’ہاں مراد خان تو یہی بتاتا ہے۔‘‘
’’پھر تو تم اس سے آج ہی بات کرلو۔‘‘
خستہ گل نے اسی دن مراد خان سے فون پر بات کی تھی ۔ اس نے اپنی گھریلو پریشانیوں کاتذکرہ کرنے کے بعد اس سے کہا تھا کہ وہ تاج گل کو کراچی بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ کچھ کام کرکے گھر کابوجھ ہلکا کرسکے۔ مراد خان نے اسے بتایاتھا کہ اس مہینے وہ خود گائوں آرہا ہے اور پندرہ دن قیام کے بعد وہ واپسی میں تاج کو اپنے ساتھ راچی لے جائے گا۔
خستہ گل یہ سن کر بہت خوش ہوا پھریہ خوشی کی خبر اس نے اپنی بیوی کو سنائی تووہ بھی خوشی سے نہال ہوگئی۔
’’یہ بھی اچھا ہے کہ وہ خود تاج کو اپنے ساتھ لے جائے گا ورنہ وہ اکیلے سفر کرتا تو مجھے اس کی فکرہی رہتی لیکن ایک بات تو بتائو یہ وہاں جاکر کرے گا کیا‘ اسے تو کوئی کام نہیں آتا۔‘‘
’’مراد نے کہا ہے وہاں کام بہت ہے نوکری نہ بھی ملی تو مزدوری کرلے گا۔‘‘
تاج کو جب یہ معلوم ہوا کہ مراد چاچا کچھ دنوں بعد اسے اپنے ساتھ کراچی لے جائے گاتو وہ بہت خوش ہوااور یہ خبر دوستوں کو سنانے گھرسے نکل گیا۔
اب اسے چاچا مراد کی گائوں آمد کاانتظار تھا وہ ایک ایک دن ایک ایک پل گن گن کر گزار رہاتھا۔ مراد چاچا اسے ایک نئی دنیا میں لے جانے والاتھا۔ ایک ایسی دنیا جس کے بارے میں اس نے بہت کچھ سن رکھاتھا۔
دو ہفتے کے بعد مراد خان آگیا ۔ اس کے آنے کی اتنی زیادہ خوشی شاید اس کے گھر والوں کو بھی نہیں ہوئی ہوگی جتنی خوشی تاج کو ہوئی تھی۔ وہ اس سے دیر تک کراچی کے بارے میں باتیں کرتا رہا۔
’’چاچا کراچی میں سمندر ہے نا؟‘‘ اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’ہاں ہے۔‘‘
’’سناہے سمندر میں بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں جو ہمارے اس مکان کے برابر ہوتے ہیں۔‘‘
’’تم نے ایساکوئی مکان نہیں دیکھا ہوگا جس میں ہزاروں آدمی رہتے ہوں اور سفر کرتے ہوں۔ یہ تم بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھوگے۔‘‘
’’مجھے وہاں جاکر کام کیا کرنا ہوگا چاچا؟‘‘
’’اس کے بارے میں کراچی چل کر ہی سوچیں گے۔‘‘ مراد بے لاپروائی سے کہا۔
’’تم فکرنہ کرو۔‘‘
مراد پندرہ دن گائوں میں گزارنے کے بعد تاج کو اپنے ساتھ لے کر کراچی روانہ ہوگیا۔ روانگی کے وقت تاج کو اس کی ماں اور خستہ گل نے اپنے آنسوئوں اور دعائوں کے ساتھ رخصت کیا۔
تاج جب کراچی پہنچا تو اچانک اس پر انکشاف ہوا کہ دنیا تو بہت بڑی ہے اور بھری پری ہے گویاابھی تک و ہ کسی مینڈک کی طرح کنوئیں میں رہ رہاتھا۔ اس نے کبھی اپنی زندگی میں اتنے بہت سارے انسانوں کاتصور نہیں کیاتھا جو اسے کراچی کی سڑکوں پر بھاگتے دوڑتے نظر آرہے تھے۔ اسے لوگوں کا یہ ہجوم بڑا عجیب لگاتھا۔
کراچی میں مراد اورنگی ٹائون کے قریب واقع بنارس نامی بستی کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہ رہاتھا۔ اس مکان میں ا س کے علاوہ چند اور لوگ بھی رہتے تھے۔ یہ سب اپنے بیوی بچوں کو اپنے اپنے علاقے میں چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے کراچی آئے ہوئے تھے۔
یہاں اسے بالکل اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ یہاں چاروں طرف اس کے ہم زبان اس کی اپنی قوم کے لوگ تھے۔ یہ بستی بہت بڑی تھی لیکن جب چند روز بعد مراد اسے ساتھ لے کر اس علاقے سے باہر نکلا اوراس نے اسے شہر کے دوسرے حصے دکھائے تو تاج کو احساس ہوا کہ اس وسیع شہر کے اندر کتنی بہت سی الگ الگ دنیا آباد ہیں۔
’’کل ہم کیماڑی چلیں گے ۔‘‘ مراد نے تاج کو بتایا ۔’’میں نے تمہارے لیے نوکری کی بات کی ہے۔ تم کوبندرگاہ میں لوڈر وغیرہ کی نوکری مل جائے گی۔ وہ اسے گودی میں کام کے بارے میں بتانے لگا۔
تاج نے جب سمندر کے کنارے کھڑے ہوئے دیوہیکل اور بھاری بھرکم جہازوں کو اونچی اونچی کرینوں کو اور ان سب سے بڑھ کر ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو دیکھا جس کا کنارا کہیں نظر نہ آتاتھا تو اس پر حیرتوں اور مسرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے چند روز بعد اس نے وہاں کام شروع کردیا‘ وہ وہاں مزدور کی حیثیت سے ملازم تھا۔
ایک ماہ بعد جب تاج کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے کچھ پیسے اپنے خرچ کے لیے رکھ کر باقی اپنے گھر گائوں بھجوادیئے۔ تاج کو یہاں کام کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس عرصے میں اس نے خود کو نئے ماحول میں ڈھال لیاتھا۔ مراد کی کوشش تھی کہ تاج کو آس پاس کے علاقے میں ہی کوئی کام مل جائے کیونکہ اسے کیماڑی جانے میں کافی دقت اور وقت لگتاتھا لیکن فی الحال اسے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی تھی۔
تاج یہاں سخت محنت کررہاتھا۔ پہلے کراچی کے بارے میں اس کے اشتیاق کا عالم کچھ اور تھا لیکن کئی ماہ یہاں رہ کر اور ان تھک کام کرکے وہ تھک جاتاتھا‘ اب اسے گھر کی یاد ستانے لگی تھی۔ وہ مرجھاگیاتھا۔ اس کی صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ چاچا مراد نے اسے سمجھایا تھا کہ کم از کم ایک سال تک وہ برابر کام کرتارہے گا اور گھر جانے کے بارے میں نہیں سوچے گا تو ٹھیک ٹھاک رقم جمع کرلے گا۔
گزشتہ کئی دنوں سے اس کی طبیعت خراب تھی اوراس دن تو کام کے دوران ہی اس کے پیٹ میں درد اٹھا تووہ دوپہر ہی میں کام سے واپس آگیا تھا۔ گھر پہنچ کر چارپائی پر وہ لیٹ گیاتھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے پیٹ کا درد بڑھتا گیا۔
’’کیابات ہے تاج؟‘‘ مراد نے پوچھا جوابھی کچھ دیر پہلے ہی کام سے واپس آیا تھا۔
’’میرے پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘ تاج نے جواب دیا۔
’’گھبرائو نہیں ٹھیک ہوجائے گا۔ آرام کرو۔‘‘ لیکن درد ٹھیک نہیں ہوا۔ تاج جب آہستہ آہستہ کراہنے لگا تو مراد کوتشویش لاحق ہوئی۔
’’کیا زیادہ تکلیف ہو رہی ہے ؟‘‘
’’ہاں چاچا۔‘‘تاج نے کمزور آواز میں کہا۔
’’چلومیں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتاہوں۔‘‘
ڈاکٹر کاکلینک وہاں سے بہت زیادہ دور نہیں تھا۔ تا ج گل آہستہ آہستہ چلتا ہوا مراد خان کے ساتھ وہاں تک کسی نہ کسی طرح پہنچ گیا۔
یہ دو کمروں پرمشتمل ایک چھوٹا سا پرائیویٹ کلینک تھا۔ سامنے دو کمرے کلینک کے لیے استعمال ہوتے تھے اور مکان کا بقیہ حصہ رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتاتھا۔ کلینک کے دروازے پر ایک بورڈ آویزاں تھا۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد ساتھ ہی لمبی چوڑی ڈگریاں لکھی ہوئی تھیں اور اس کے ساتھ ہی کلینک کے اوقات کاردرج تھے ۔ یہ کلینک آبادی سے ذرا ہٹ کر ایک طرف کو واقع تھا۔
ڈاکٹر اشتیاق اس آباد ی کے لیے ایک نعمت سے کم نہ تھا جہاں اکثریت مزدورپیشہ افراد پر مشتمل تھی جوبہت معمولی فیس لے کر دکھی انسانیت کی خدمت کررہاتھا۔ کلینک کے ایک کمرے میں کئی مریض بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کمروں کے درمیان میں ایک دروازہ تھا جس پر ایک بوسیدہ سا پردہ پڑاہواتھا۔ دوسرے کمرے میں ڈاکٹر اشتایق بیٹھے تھے۔
’’کیاتکلیف ہے تمہیں؟‘‘ ڈاکٹر اشتیاق نے تاج گل کی باری آنے پر اس کی صورت دیکھ کر رواں پشتو میں پوچھا۔
تاج گل ڈاکٹر کو پشتو بولتے دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور تفصیل سے اسے حال بتانے لگا۔
’’دوپہر کو کیا کھایاتھا؟‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
’’کوئی خاص چیز نہیں ڈاکٹر صاحب۔‘‘ تاج گل بتانے لگا۔’’کیماڑی کے جس ہوٹل میں روز کھانا کھاتاہوں‘ وہیں کھانا کھایاتھا۔‘‘
’’کیاعمر ہے تمہاری ؟‘‘ ڈاکٹر نے تاج گل کے نوجوان اور صحت مند جسم کو تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اٹھارہ سال۔‘‘ تاج گل نے جواب دیا۔
’’لیکن تم بیس بائیس سال کے لگتے ہو۔ اس سے پہلے کوئی بیماری ہوئی تھی۔‘‘
’’مجھے اس سے پہلے کوئی بیماری نہیں ہوئی ڈاکٹر صاحب۔‘‘ تاج نے فخریہ انداز میں کہا۔
’’بہت اچھی بات ہے‘ میں تمہیں دوا دیتا ہوں انشاء اللہ جلدی ٹھیک ہوجائوگے۔‘‘
ڈاکٹر اشتیاق نے ایک نسخہ لکھااور تاج گل کے ہاتھ میں تھمادیا۔ ’’کائونٹر پر جاکر دوا بنوا لو‘ کل پھر آجانا۔‘‘
ڈاکٹر کے کمرے کاایک حصہ دوائیں بنانے کے لیے وقف تھا اسے ایک پارٹیشن کے ذریعے کمرے سے الگ کردیاگیاتھا۔ تاج گل اور مراد خان نے وہاں سے دوالی پیسے دیئے اور گھر چلے آئے۔
ڈاکٹراشتیاق ضلع ہزارہ کے کسی گائوں کارہنے والا تھا‘ وہ کوئی سند یافتہ باقاعدہ ڈاکٹر نہیں تھا۔ وہ اپنے گائوں میں کسی ڈاکٹر کے پاس کمپائونڈر تھا۔ پھروہ کراچی آگیا‘ یہاں آکر اس نے آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن کاکوئی کورس کیاتھا پھرایک بڑے سرکاری اسپتال میں اسے جاب مل گئی۔ یہاں اس نے کئی سال کام کیا تھا۔ یہاں رہ کر اشتیاق نے بہت کچھ دیکھااور سیکھاتھا۔ اس کے اندر سیکھنے کی صلاحیت قدرتی تھی۔ ذہین تھا‘ اسی لیے اس اسپتال میں رہ کر اس نے بیماریوں‘ ان کے علاج کے طریقوں اور دوائوں وغیرہ کے بارے میں بہت کچھ جان لیا۔ اس نے اتنا تجربہ حاصل کرلیا کہ چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج کرنے لگا۔
ایک دن اس کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اپنا ذاتی کلینک کھول لے اورشام کے وقت کلینک میں بیٹھ کر مریضوں کاعلاج کیاکرے ویسے بھی اس علاقے میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے گھر کے بیرونی دروازے پر ایک چھوٹا سابورڈ لگادیا۔’’ڈاکٹراشتیاق احمد‘‘ اور کمرے کے اندر ایک میز اور کرسی ڈال لی۔ سامنے مریضوں کے لیے ایک بینچ اور ایک طرف تھوڑی سی دوائیاں اور خالی شیشیاں رکھ لیں۔ ان میں اکثر دوائیں تووہ تھیں جو اس نے اسپتال سے چوری کی تھیں۔
شروع شروع میں کوئی ایک آدھ مریض ہی اس کے پاس آتاتھا لیکن رفتہ رفتہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ اشتیاق اردو کے علاوہ کئی علاقائی زبانیں بڑی روانی سے بولتاتھا۔
آس پاس غریب اور متوسط طبقے کے لوگ آباد تھے۔ ایک سال کے اندراندر اشتیاق احمد نے اپنی ڈسپنسری کواتنا جمالیا کہ اس کی اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی۔ چند ہی سالوں میں اسے اسپتال سے ملنے والی تنخواہ سے زیادہ آمدنی کلینک سے حاصل ہونے لگی۔ اس نے اسپتال کی ہی ایک نرس سے شادی بھی کرلی تھی۔ فائزہ نامی اس نرس سے ملاقات اسپتال میں دوران ملازمت ہوئی تھی۔ اسپتال سے دوائوں کی چوری میں و ہ اس کی بہت مدد کرتی تھی۔
اب وہ دنوں بنارس کے اس مکان میں رہتے تھے۔جس کے اگلے حصے میں کلینک تھا‘ صبح سے شام تک بہت سے مریض اس کلینک میں آتے تھے اور اشتیاق احمد کی خوب کمائی ہو رہی تھی۔ اسپتال کی جاب اس نے چھوڑ دی تھی۔ اب وہ بے دھڑک اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلواتاتھا اور اپنے بورڈ پربھی نام کے ساتھ بڑی بڑی ڈگریاں لکھوادی تھیں۔
تاج گل ڈاکٹر اشتیاق سے دوا لے کر گیا اوراسے استعمال کیا تو رات بھر میں اس کی طبیعت کافی بحال ہوگئی۔ پیٹ کا معمولی درد تھا اور کوئی خاص پیچیدگی نہیں تھی۔ اگلے دن اگرچہ وہ ٹھیک ہوگیا تھا تاہم مراد خان نے اسے مشورہ دیا کہ وہ چھٹی کرلے اور کام پر نہ جائے اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی کہ شام کو ڈاکٹر کے پاس ضرور چلاجائے اور ایک دن کی اور دوا لے لے۔
’’لیکن اب مجھے دوا کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ تاج گل نے کہا۔ ’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ایک دن کی دوا اور لے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی ہدایت کی تھی۔‘‘
یہ کہہ کرمراد خان کا م پرچلاگیا جبکہ تاج گل سارہ دن گھرپرتنہا رہاسب اپنے اپنے کاموں پر جاچکے تھے‘ شام کو وہ مراد خان کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹر صاحب کے کلینک چلاگیا۔
’’کیا حال ہے تمہارا تاج ؟‘‘
’’میںٹھیک ہوں ڈاکٹر صاحب۔‘‘
تاج گل نے کہا۔ ’’مگر چاچا مراد کاکہنا ہے کہ ایک دن کی دوا اور لے لوں اسی لیے آیاہوں۔‘‘
’’تمہارا چاچا ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر اشتیاق نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’دوا ہمیشہ اس وقت چھوڑنی چاہیے جب ڈاکٹر خود اس کی اجازت دے۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے اندر کیابیماریاں ہیں۔ یہ بات صرف ایک ڈاکٹر ہی جان سکتاہے۔‘‘
’’جی ڈاکٹر صاحب۔‘‘ تاج گل نے سادگی سے کہا۔
’’کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘ اشتیاق نے پوچا۔ تاج گل نے اپنے گائوں اور علاقے کانام بتایا۔
’’کراچی میں کب سے رہ رہے ہو؟‘‘
’’تین چار مہینے ہوگئے ہیں۔‘‘
’’تمہارے گھر والے سب کہاں ہیں۔‘‘
’’وہ سب گائوں میں ہیں۔‘‘
’’یہاں کس کے ساتھ رہتے ہو اور یہ مراد تمہارا سگا چاچا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ تاج نے جواب دیا۔’’ہم ایک ہی گائوں کے رہنے والے ہیں۔‘‘
’’گویاکراچی میں تمہارا کوئی سگا رشتے دار نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں یہاں میرا کوئی رشتے دار نہیں رہتا۔‘‘
’’اچھا‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا‘ زبان دکھائو ‘پھر اس نے کہا تمہارا رنگ مجھے پیلا لگ رہا ہے‘ مجھے شک ہے کہیں تمہیں پیلیا نہ ہواس کے لیے کچھ ضروری ٹیسٹ کروانے ہوں گے۔ تمہیں کچھ دیر انتظار کرناہوگا۔ میںان مریضوں کو دیکھ لوں پھر تمہارا تفصیلی معائنہ کروں گا۔ تم باہر انتظار کرو۔‘‘
تاج گل دوسرے کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ اسے ڈاکٹر بہت اچھا لگاتھا ۔ کتنا نرم دل اور مہربان آدمی تھا اس نے ا س کے بارے میں اس کے خاندان کے بارے میں اور اس کی رو زمرہ زندگی کے بارے میں کتنی باتیں کی تھیں۔ ایسا کوئی ڈاکٹر گائوں میں ہوتو کتنااچھا ہو اس نے سوچا۔
رات کے ساڑھے دس بج گئے تھے اور تاج ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ مراد اس کے انتظار میں جاگ رہاتھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کادوست شیر اکبربھی جاگ رہاتھا جو ان کے ساتھ اسی مکان میں رہتاتھا۔ وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کررہے تھے۔
’’کیابات ہے تاج ابھی تک نہیں آیا؟‘‘
’’ممکن ہے ڈاکٹر کے پاس دیر ہوگئی ہو۔‘‘
’’گیارہ بج گئے ہیں اب تک تو اسے آجانا چاہیے تھا۔‘‘
’’شاید واپسی میں کسی دوست کے ڈیرے پررک گیاہو۔‘‘شیر اکبر بولا۔
’’اتنی رات گئے وہ کسی دوست کے پاس کیوں جائے گاوہ تو بہت جلد سونے کاعادی ہے۔‘‘ وہ تشویش سے بولا۔
’’ڈاکٹر صاحب کاکلینک تو نوبجے بند ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ سخت وحشت زدہ ہو رہاتھا۔’’میں اس کی تلاش میںجارہاہوں۔ معلوم نہیں وہ کہاں رہ گیا۔‘‘
’’چلو۔‘‘شیر اکبر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ’’ میں بھی تمہارے ساتھ چل رہاہوں۔‘‘
وہ دونوں جب گھر سے نکلے تو ہر طرف ہوکاعالم تھا تمام اطراف تاریکی اور خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا۔
’’ہم اسے کہاں تلاش کریں ۔‘‘شیراکبر نے پریشان ہو کر چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’وہ کہاں ہوسکتا ہے؟‘‘
’’میراخیال ہے پہلے ڈاکٹر کی طرف چلتے ہیں۔‘‘ مراد خان خود بھی یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھا کہ اس وقت کس کے دروازے پہ دستک دے۔
وہ دونوں نیم تاریک راستوں سے گزرتے ہوئے اکٹر اشتیاق کے مکان کی طرف بڑھے۔ جب وہ مکان کے قریب پہنچے تو پورا مکان انہیںخاموشی اور تاریکی میں ڈوبانظر آیا۔
’’یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے کلینک نہ جانے کب کابند ہوچکاہے۔‘‘
’’کہیں ایسا نہ ہو کہ تاج یہاں آیا ہی نہ ہو۔‘‘ مراد نے کہا۔
’’میں جب گھر پہنچا تو تاج گھر پر نہیں تھا۔‘‘ شیر اکبر نے کہا۔
’’شاید وہ کہیں سیرسپاٹے پرنکل گیاہو‘ صبح وہ بالکل ٹھیک تھا۔‘‘ مراد نے کہا لیکن وہ مجھے بغیر بتائے کہیں نہیں گیا پھر آج … بارہ بج گئے ہیں اس وقت ڈاکٹر صاحب کو اٹھانا بھی ٹھیک نہیں۔‘‘ مراد خان نے کہا۔ ’’اب تو واپس چل کر ہی اس کاانتظار کرسکتے ہیں‘ صبح تک اگر وہ نہیں آیا تو پھر اسے ڈھونڈیں گے۔‘‘
’’یہی کرسکتے ہیں۔‘‘
وہ دونوں واپس گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ وپسی پر ان دونوں نے ایک دو ایسے لوگوں کو جگا کر تاج کے بارے میں استفسار کیا جہاں تاج گل کاآناجانا تھا۔ لیکن نیند میں ڈوبے ہوئے لوگ اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکے۔
شیراکبر تو واپس آکرسوگیامگر مراد خان نے وہ پوری رات جاگ کر کاٹی۔ اگر تاج کو کچھ ہوگیا تو وہ خستہ گل کو کیامنہ دکھائے گا۔ وہ سوچ رہاتھا‘ وہ اپنی ذمے داری پر اسے یہاں لایا تھا اوراب اچانک وہ نہ جانے کہاں غائب ہوگیا تھا۔
ساری رات گزر گئی تاج واپس نہیں آیا۔ صبح صبح مراد خان اور اس کے ساتھ رہنے والے دوسرے لوگ تاج گل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے آس پاس کے تمام لوگوں سے ‘جاننے والوں سے اور اس کے دوستوں سے اس کے بارے میں پوچھا لیکن کچھ پتا نہیں چل سکا۔
نوبجے کے قریب مراد اور شیر اکبر ڈاکٹر اشتیاق کی کلینک پرپہنچے۔ اس وقت کلینک کھل چکاتھا اور ڈاکٹر اپنی کرسی پربیٹھا تھا۔
’’کون تاج‘‘ ڈاکٹر نے مراد کی طرف دیکھا۔
’’وہ میرا بھتیجا ہے ڈاکٹر صاحب جسے میں پرسوں آپ کے پاس لایا تھا۔ جس کے پیٹ میں درد تھا۔ پھر وہ کل شام آپ کے پاس آیاہوگا۔‘‘
’’ہاں ہاں یاد آگیا وہ آیا تھا پھر کیاہوااس کو اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’وہ کل رات سے گھر نہیں پہنچا۔‘‘
’’وہ میرے پاس سے دوا لے کر اسی وقت چلاگیاتھا۔‘‘ ڈاکٹر نے مراد خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’ ارے بھائی آج کل کے نوجوانوں میں ذمہ داری کابالکل احساس نہیں کسی دوست کے پاس گیا ہوگا ‘گھر میں تو بتا کر جاناچاہیے تھا ۔ معلوم کرو کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔‘‘
’’آپ کہتے ہیں کہ وہ دوا لے کر گیاتھا مگر وہ گھر نہیں پہنچا اس کامطلب تو یہی ہوا کہ وہ بیچ میں ہی کہیں چلاگیا۔ مگر کہاں ؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہم نے ہر جگہ اسے تلاش کرلیاہے۔‘‘
’’ان حالات میں میں تمہیں کیا مشورہ دے سکتاہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے نرمی سے کہا۔ ’’مناسب سمجھو تو اسپتالوں وغیرہ میں چیک کرو کہیں کوئی ایکسیڈنٹ نہ ہوگیا ہو۔‘‘
ان دونوں نے ڈاکٹر کاشکریہ ادا کیااور چلے گئے۔ مراد خان بالکل حواس باختہ ہورہاتھا ‘شیر اکبر نے اسے سنبھالا۔
تلاش اور بھاگ دوڑ کرتے کرتے دوپہر ہوگئی۔ پھر شام ہوگئی ۔ مراد خان کے علاوہ دوسرے ساتھ رہنے والے بھی کام پر نہیں گئے تھے پورے دن وہ اسے تلاش کرتے رہے تھے۔
’’چلو تھانے چلتے ہیں۔‘‘ شیر اکبر نے تھک ہار کر کہا۔ ’’اس کے علاوہ او رکوئی صورت نہیں ہے کہ پولیس میں اس کی گمشدگی درج کرادی جائے۔ ہوسکتا ہے پولیس اس کا پتہ چلا لے۔‘‘
وہ دونوں تھانے پہنچے اور مراد خان نے ڈیوٹی پر موجود اے ایس آئی کو تاج گل کی گمشدگی کے بارے میں بتایا۔ یہاں اسے ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرناپرا جو اس کے لیے غیر متوقع تھی اور جس نے اس کی پریشانی میںمزید اضافہ کردیا۔
سوالات کاایک لامتناہی سلسلہ تھا جو شروع ہوگیاتھااور کسی طرح ختم ہونے میں نہ آتاتھا‘ پولیس افسر مراد خان سے اس کی پوری نسل کی تاریخ پوچھنے پر تل گیاتھا۔ مراد خان کو اس سے پہلے کبھی پولیس سے سابقہ نہیں پڑاتھا۔
خداخدا کرکے تھانے سے جان چھوٹی تو مراد خان نے سیدھا گھر پہنچ کر دم لیا۔ وہ اتنا پریشان اوربے دم ہوگیاتھا کہ جاتے ہی چار پائی پر گر گیا۔
’’شیر اکبر‘‘ کچھ دیربعد اس نے کہا۔ ’’کیا میں اس کے باپ کو فون کرکے بتادوں؟‘‘
’’ابھی نہیں میرا خیال ہے ایک دو دن رک جائو۔‘‘ اکبر نے مشورہ دیا’’اللہ پر بھروسہ رکھو ہوسکتا ہے وہ صحیح سلامت مل جائے۔‘‘
m…m٭m…m
محمد یوسف نے لانچ کاانجن اسٹارٹ کیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ ایک بار جال اور سامان وغیرہ کاجائزہ لے لے کوئی چیز رہ تو نہیں گئی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی پرائیویٹ لانچ تھی جو کراچی کے ساحلوں کے قریب مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ صبح کا وقت تھا اور لانچ گڈانی کے پاس پہنچی تھی۔ یہاں سمندر کافی گہراتھا اور ساحل پتھریلی چٹانوں پر مشتمل تھا۔
وہ لوگ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ اچانک یوسف کاساتھی ایک چٹان کی طرف غور سے دیکھنے لگا‘ اسے چٹان پر کوئی چیز پڑی ہوئی نظر آئی تھی۔
’’وہ ادھر دیکھو یوسف۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’اس چٹان کے اوپر۔‘‘
محمد یوسف ادھر غور سے دیکھنے لگا۔’’یہ تو کوئی آدمی معلوم ہوتا ہے یار۔‘‘ اس نے کہا اور لانچ کارخ چٹان کی طرف موڑ دیا۔
چٹان کے قریب لاکر یوسف نے لانچ روک دی۔ ان کے سامنے چٹان پر کسی انسان کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی۔ اس کانچلا دھڑ غائب تھا اوروہ بری طرح پھولی ہوئی تھی۔ لاش کو سمندری جانوروں نے جگہ جگہ سے کھایا ہواتھاالبتہ اس کاچہرہ کافی حد تک درست حالت میں تھااور بالکل سفید ہو رہا تھا۔
’’ارے باپ رے ‘‘ یوسف کا ساتھی بولا۔ ’’ہمیں فوراً پولیس کو اطلاع دینا چاہیے نہ جانے کون ہے بے چارہ جو ڈوب کرہلاک ہوا ہے۔‘‘کچھ دیر کے بعد پولیس نے لاش قبضے میں لے لی۔ ابتدائی کارروائی کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھجوادیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق یہ کسی اٹھارہ انیس سالہ لڑکے کی لاش تھی۔ جس کی موت ڈوبنے سے پہلے واقع ہوچکی تھی۔ اس کے جسم میں خون کاایک قطرہ نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہوتاتھا کہ اس شخص کو کہیں اور قتل کرکے لاش سمندر میں پھینکی گئی تھی۔ جو بہتے بہتے گڈانی تک آپہنچی اور یہاں ایک چٹان میں پھنس کر رک گئی تھی۔
لاش کئی دن پرانی تھی۔ پولیس نے اپنی تفتیش شروع کردی۔ تین دن پہلے مراد خان نامی ایک شخص نے تاج گل نامی ایک نوجوان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔ پولیس کاایک ہیڈ کانسٹیبل مراد خان کے گھر پہنچااور اسے ایک لاش کی دریافت کے بارے میں بتایا جس کے جسم پر گہرے نیلے رنگ کا لباس تھا اور جو ایک نوجوان لڑکے کی لاش تھی۔
’’تاج گل اس دن اسی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔‘‘مراد خان نے ڈوبتے ہوئے دل سے کہا۔
’’تمہیں اسپتال چلناہوگا۔‘‘ پولیس کانسٹیبل نے کہا۔ ’’وہ لاش مردہ خانے میں رکھی ہے ۔ چل کر اسے پہچانو۔‘‘
’’خدانہ کرے خدانہ کرے۔‘‘ مراد خان نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا جب وہ چلنے کے لیے اٹھاتو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
مراد خان کے ساتھ اس کے دوسرے ساتھی بھی اسپتال پہنچے جو اس کے ساتھ رہتے تھے۔
’’ہاں یہ تاج گل ہی ہے۔‘‘ مراد خان نے اس کے بچے کھچے مردہ جسم کو دیکھنے کے بعد بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
پولیس نے نامعلوم قاتل کے خلاف تاج گل کے قتل کامقدمہ درج کرلیا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے تفصیلی پوچھ گچھ کاآغاز مراد خان سے ہوا اور مراد خان کو اسپتال سے سیدھا تھانے لے گئے۔
مراد خان کی حالت اس قدر خراب ہو رہی تھی کہ حواس ساتھ چھوڑنے لگے تھے تاہم وہ پولیس کے سوالات کے جوابات دیتا رہا۔
تاج کی کس کس سے دشمنی تھی؟ گائوں میں کسی سے جھگڑا تو نہیں ہوا تھا؟ کوئی خاندانی دشمنی تو نہیں تھی۔ اس قسم کے بے شمار سوالات کا وہ سامنا کررہاتھا۔
’’کسی سے دشمنی کاتو سوال ہی نہیں اس کی تو کسی سے زبانی کلامی بھی بحث نہیں ہوتی تھی اس کے علاوہ اس کاباپ خستہ گل بھی بہت شریف آدمی ہے۔‘‘ مراد خان نے بتایا۔
’’تاج جب گھر سے نکلا تو اس کے پاس کتنی رقم تھی اوراس کاموبائل وغیر ہ کیونکہ ا سکی قمیص کی جیب خالی تھی۔‘‘ پولیس افسر نے مراد سے پوچھا۔
موبائل فون اس کے پاس نہیں تھا اس کے لیے وہ پیسے جمع کررہاتھااور وہ زیادہ رقم اپنی جیب میں رکھتا بھی نہیں تھا اس کے پاس سو پچاس ہی روپے ہوں گے۔ وہ اپنے سارے پیسے میرے پاس رکھواتاتھا۔‘‘
’’پھرتمہارے خیال میں اس کے قتل کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟‘‘ پولیس افسر نے مراد کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی لڑکی وڑکی کا تو چکر نہیں ؟‘‘
’’نہیں صاحب۔‘‘ مراد نے فوراً کہا کچھ عرصہ پہلے ہی تووہ گائوں سے آیا ہے۔ ایساکوئی چکر نہیں تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تم جاسکتے ہو۔‘‘ پولیس افسر نے کہا۔ ’’لیکن جب بھی تمہاری ضرورت پڑے گی تمہیں بلایا جائے گا۔شہر سے باہر بغیر اطلاع کے مت جانا۔‘‘
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم ہواتھا کہ مقتول کی موت جسم سے زیادہ خون بہہ جانے ے واقع ہوئی ہے۔ ایسا لگتا تھا گویا مرنے سے پہلے اس کے جسم کاسارا خون بہہ گیا ہو۔
تاج گل ایک عام سا غریب مزدور تھا… ارباب اختیار کو اس کی موت سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ اس کا پوسٹ مارٹم بھی سرسری ہی ہوا تھا۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی لاش مراد خان کے حوالے کردی او رمراد خان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسے اس کے گھر بھیجنے کاانتظام کردیا۔ پولیس نے کچھ دنوں تک تاج گل کے قتل کی تفتیش کی مگر کوئی سراغ ہاتھ نہیں آیا‘ تاج کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اس کی جیب میں زیادہ رقم نہیں تھی‘ کسی سے جھگڑا بھی نہیں ہواتھا اور اس کاکسی لڑکی سے کوئی چکر بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اسے بے دردی سے ہلاک کردیاگیاتھا۔
خستہ گل کے گھر کاچراغ گل ہوگیااور بڑھاپے میں اس کی کمر ٹوٹ گئی۔ تاج کی موت کی اطلاع جب اس کے گھر والوں کو ملی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ اس کی ماں کی حالت پاگلوں جیسی ہوگئی تھی وہ اس دن کوکوستے تھے جب ان لوگوں نے تاج کو کراچی بھیجنے کافیصلہ کیاتھا۔
کافی تفتیش کے بعد جب کوئی بھی سراغ نہ مل سکاتو اس کیس میںپولیس کی دلچسپی ختم ہوگئی۔
کتنے ہی قتل ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ قاتل اپنا کام کرکے فرار ہوجاتا ہے اور اپنے پیچھے کوئی سراغ نہیں چھوڑتا تاج کا قتل بھی ایک ایسا ہی قتل تھا‘ پولیس اس قتل کا سبب تک تلاش نہیں کرسکتی۔
m…m٭m…m
سراج الدین ستائیس سالہ نوجوان تھا جس کی بنارس کے قریب ہی دودھ دہی کی دکان تھی وہ دوسال پہلے گوجرانوالہ سے تلاش معاش کے سلسلے میں کراچی آیا تھا۔ اپنے پاس موجود تھوڑی سی رقم سے اس نے یہ دکان حاصل کی تھی اور دودوھ دہی کا کاروبار کرنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کاکاروبار چلنے لگا اور اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی۔ وہ اپنے بیوی بچوں کو یہیں بلوانا چاہتاتھا یہاں اس نے ایک مکان خریدنے کی بات کی ہوئی تھی اور اگلے ہفتے وہ اس کے لیے رقم ادا کرنے والاتھا۔
چند روز پہلے اسے اچانک بخار آگیا‘ لیکن طبیعت اتنی زیادہ خراب نہیں ہوئی تھی کہ وہ دکان بند کرکے بسترسے لگ جاتا۔ وہ رات دکان میں ہی سوجاتاتھا۔ کام کافی بڑھ گیاتھا اسی لیے ا س نے ایک لڑکے کو بھی ملازم رکھ لیاتھاجو صبح آتااور شام کو چلاجاتاتھا۔ لڑکا آٹھ بجے چلا جاتاتھااور سراج اگلی صبح کے لیے کونڈوں میں دہی جماتاتھا۔ان سارے کاموں میں اسے اچھاخاصا وقت لگ جاتاتھا اور بستر پرجاتے جاتے ساڑھے دس گیارہ بج جاتے تھے۔ دوسرے دن وہ علی الصباح بیدار ہوجاتاتھا کچھ دیر بعد ملازم لڑکا بھی آجاتاتھا۔ پھر دودھ دینے کے لیے سوزوکی آجاتی تھی اوربڑے بڑے دودھ کے ڈبے دکان کے سامنے اتار کر آگے بڑھ جاتی۔
m…m٭m…m
اس دن جب ملازم لڑکا دکان پر پہنچا تو دیکھا کہ تالا لگا ہوا ہے۔ وہ ایک سال سے یہاں کام کررہاتھا اس دوران کسی ایک دن کے لیے بھی دکان بند نہیں ہوئی تھی۔ عید بقرعید بھی دکان کھلی رہتی تھی۔
سراج بھائی نے تو نہیں بتایا تھا کہ اسے کہیں جانا ہے اوردکان نہیں کھولے گایادیر سے کھولے گا؟ لڑکے نے دل میں سوچاابھی وہ دکان کے پاس کھڑا سوچ ہی رہاتھا کہ دودھ والی سوزوکی وہاں آپہنچی اور دکان کے سامنے بریک لگائے۔
’’کیوں بھئی یہ دکان کیوں بند ہے سراج بھائی کدھر ہے ؟‘‘
’’مجھے پتا نہیں۔‘‘ ملازم لڑکے نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’میں ابھی آیا ہوں تو دکان بند ملی ہے۔‘‘
’’اچھا حیرت ہے کہاں چلاگیا سراج بھائی، اس نے کبھی دکان بند نہیں کی۔‘‘ وہ چند منٹ وہاںرکا رہا پھربولا’’میں اب آگے جارہاہوں‘ دوسرے دکاندار انتظار کررہے ہوں گے۔ واپسی میں ادھر ہوتاہوا جائوں گا۔ شاید اس وقت تک سراج بھائی آجائے۔‘‘
اس نے اپنی سوزوکی اسٹارٹ کی اور وہاں سے چلا گیا۔ لڑکا دکان کے سامنے بچھے لکڑی کے تخت پربیٹھ گیا۔ کئی گاہک آئے اور کچھ دیر انتظار کرکے لوٹ گئے۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعدسوزوکی والا آیا تو اس نے دکان کو اس وقت بھی بند پایاملازم لڑکا سامنے تخت پر بیٹھاہواتھا۔
’’کیاہوا؟ نہیں آیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ لڑکے نے جواب دیا۔
’’کمال ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’اب میں اس دودھ کا کیا کروں ؟ یہ تو خراب ہوجائے گا۔‘‘
لڑکے کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
’’خیر دیکھتا ہوں کسی اور سے بات کرتاہوں شاید ہوٹل والے کو ضرورت ہو۔‘‘ وہ بڑبڑاتا ہوا وہاں سے چلاگیا۔
لڑکا دس گیارہ بجے تک دکان کے سامنے بیٹھا رہا لیکن سراج نہیں آیا آس پاس کے دوسر ے دکاندار بھی اس کے اچانک جانے پرحیران تھے۔
کوئی تین دن گزر گئے اور سراج کی دکان بدستوربند رہی تو محلے والوں اور آس پاس کے دکانداروں کوتشویش ہوئی انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کیا کہ اس کی اطلاع پولیس کو دے دی جائے ۔ سراج یہاں بالکل اکیلاتھا‘ اس کا کوئی رشتہ دار اورعزیز یہاں موجود نہیں تھا‘ وہاں آس پاس کے لوگوں کومعلوم تھاکہ وہ اکیلا رہتا ہے اور دکان میں ہی سوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ مکان خریدناچاہتا ہے اس لیے اس کے پاس اچھی خاصی رقم بھی تھی۔ دکان کاتالا چونکہ باہر سے بند تھااس لیے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ دکان بند کرکے کہیں گیا ہے پھرواپس نہیں آیا چنانچہ اہل محلہ اس کی اطلاع دینے کے لیے تھانے پہنچے۔
پولیس آفیسر خرم نہایت ذہین تھااورحال ہی میں اس تھانے میں اس کی تقرری ہوئی تھی۔ اس نے ان محلے والوں سے ملاقات کی تھی اور ان کی بات غور سے سنی تھی۔
گزشتہ ایک ماہ میں اس تھانے میں درج کرائی جانے والی گمشدگی کی یہ دوسری رپورٹ تھی۔ تاج گل کی گمشدگی کی رپورٹ کے اندراج کو تقریباً ایک ماہ ہوگیا تھا مگر گمشدگی کے چند ہی دنوں بعد اس کی لاش دریافت ہوگئی تھی۔ اب اسی علاقے سے سراج نامی ایک اور شخص غائب تھا۔
دودن بعد سراج کی لاش گجرنالے کے کنارے سے دریافت ہوئی تھی جسے وہاں قریب ہی رہنے والے کسی رہائشی نے دیکھاتھا۔ لاش بری طرح مسخ ہوچکی تھی اورا س سے سخت تعفن اٹھ رہاتھا۔ لاش کی شناخت اس کے بری طرح پھٹے ہوئے کپڑوں کی جیب میں موجود شناختی کارڈ سے ہوئی تھی جیب میں موجود نوٹ پانی اور کیچڑ میں بھیگے ہوئے تھے۔قتل کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی تھی پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردی تھی۔
پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ سراج کو قتل کرکے گجرنالے میں پھینکا گیاتھا۔اس کی موت جسم سے بھاری مقدار میں خون بہہ جانے سے واقع ہوئی تھی۔پولیس نے سراج کے قتل کامقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ پولیس افسر خرم کو اس کیس کی تفتیش پرمامور کیاگیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے دکان کاتفصیلی جائزہ لیا تھا‘دکان سے کوئی چیز غائب نہیں تھی اور مقتول کی رقم بھی دکان سے برآمد ہوئی تھی یعنی یہ ڈکیتی یا چوری وغیرہ کی واردات نہیں تھی۔ پھر خرم نے آس پاس کے دکانداروں سے سراج کے بارے میں معلومات کیں تو پتہ چلا کہ وہ دو ایک دن سے بیمار تھا اس کی دکان کے برابر والی بیکری کے مالک نے بتایا کہ وہ کہہ رہاتھا کہ وہ رات ڈاکٹر کے پاس دوالینے جائے گا۔
کئی ہفتوں کی مسلسل بھاگ دوڑ کے باوجود خرم اس الجھی ہوئی ڈور کا سرا تلاش نہ کرسکا۔ تاج گل کے قتل کی طرح سراج کا قتل بھی ایک معمہ بن گیا تھا جس کا کوئی حل نظر نہیں آرہاتھا اور نہ ہی کوئی سراغ ملاتھا۔
ابھی سراج کے قتل کی فائل بند بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ اسی علاقے سے ایک اور شخص غائب ہوگیا۔ اس کانام رحمت خان تھااور وہ ایک پینٹ بنانے والی فیکٹری میں ملازم تھا۔ ان دونوں کی طرح وہ بھی کراچی میں اکیلا تھااوراس کی فیملی پشاور میں آباد تھی۔ یہاں وہ کرائے کے چھوٹے سے گھر میں تنہا رہتاتھا۔
محلے میں رہنے والے اس کے دوستوں نے دودن بعد اس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانے میں درج کروائی تھی۔
m…m٭m…m
فیروز کا گھر نارتھ کراچی کے قریب واقع کٹی پہاڑی نامی علاقے میں تھا۔ پہاڑی کے کنارے بے شمار جھاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ چلاگیاتھا۔ فیروز اس طرف سے تقریباً روز ہی گزرتاتھا۔
اس دن بھی وہ اس طرف سے گزر رہاتھا کہ اسے گھنی جھاڑیوں کے پیچھے کوئی چیز حرکت کرتی ہوئی نظر آئی۔ اس کے ذہن میں تجسس ابھراوہ جیسے ہی جھاڑیوں کے قریب پہنچا‘ایک بڑا سا کتا اس کے قدموں کی آہٹ پاکر وہاں سے بھاگ نکلا اس کے پیچھے ایک دو کتے اور تھے‘ پھراچانک اس کی نظر ایک انسانی پائوں پرپڑی جو جھاڑیوں کے اندر سے جھانک رہاتھا‘ اس کے سارے جسم میں خوف اور دہشت کی ایک سرد لہر دوڑگئی۔
وہ ڈرتے ڈرتے اس جگہ کے اور قریب گیا اوراس نے جھاڑیوں کوہٹا کراندر جھانکا۔ وہاں ایک پوری انسانی لاش پڑی ہوئی تھی۔
وہ چند لمحے خوف اور حیرت کے ساتھ اسے دیکھتا رہا ۔ لاش کی گردن اور چہرے کاگوشت جگہ جگہ سے غائب ہوچکاتھا جوشاید کتوں کی غذا بن گیاتھا۔
اچانک فیروز کوجیسے ہوش آگیا وہ تیزی سے پلٹا اور اپنے گھر کی طرف دوڑ لگادی۔ فیروز گھر پہنچا اور ہانپتے ہوئے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اپنے والد کو جھاڑیوں میں پڑی ہوئی لاش کے بارے میں بتایا۔
’’ہمیں اس بارے میں فوراً پولیس کو مطلع کرناچاہیے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔ وہ فیروز کو ساتھ لیے تھانے جاپہنچے جہاں فیروز نے پولیس کوتفصیل سے لاش کے بارے میںبتایا۔ کچھ دیر بعد پولیس نے جھاڑیوں سے لاش برآمد کرلی۔
موقع پرابتدائی معائنہ سے اندازہ ہوا کہ یہ ایک نوجوان کی لاش تھی۔ لاش کئی دن پرانی معلوم ہوتی تھی اس میں سے تعفن اٹھ رہاتھا۔ جانوروں نے اس کے چہرے اور گردن کاگوشت ادھیڑ ڈالا تھا۔
لاش کوپوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردیااور پولیس نے اپنی تفتیش شروع کردی۔ اس کے فنگرپرنٹس سے اس کی شناخت ہوگئی تھی یہ بنارس کے اسی علاقے سے گمشدہ ہونے والے رحمت خان کی لاش تھی۔
پے درپے ہونے والے تین قتل‘ تین پراسرار اوربے مقصد قتل اس علاقے کے لیے ایک معمہ بن گئے تھے اور ساتھ ہی ایک چیلنج بھی۔ ڈی ایس پی نے تھانے کے سنیئر افسروں کی ایک میٹنگ طلب کی۔ خرم بھی اس میٹنگ میں موجود تھا۔
’’میں نے ایک عجیب سی بات نوٹ کی ہے سر۔‘‘ خرم نے ڈی ایس پی سے کہا‘ ان تینوں افراد کے قتل میں جہاںبہت سی باتیں مشترک ہیں وہاں ایک بات یہ بھی مشترک ہے کہ یہ تینوں ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور کم از کم دو مقتولین کے بارے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ قتل ہونے سے پہلے بیمار تھے۔ یقینا وہ اس علاقے کے کسی ڈاکٹر کے پاس گئے ہوں گے۔ تاج کے بارے میں تو پتاچل گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر اشتیاق کے زیر علاج تھا۔‘‘
’’پھراس سے کیا ہوتا ہے ‘بیمار انسان ڈاکٹر کے پاس ہی علاج کے لیے جاتا ہے۔‘‘ ڈی ایس پی نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’تینوں کیسوں میں میں نے جتنی بھی تفتیش کی ہے اور جتنی بھی شہادتیں میں نے حاصل کی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر کے کلینک گئے پھر واپس نہیں آئے۔‘‘
’’یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے۔ یہ تینوں بالکل معمولی درجے کے غریب نوجوان تھے۔ سراج البتہ کچھ کھاتا پیتاآدمی تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کے قتل سے بھی ڈاکٹر کوکیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ آخر ایک ڈاکٹر اپنے مریض کو کیوں قتل کرے گا؟‘‘
’’آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے سر۔‘‘ خرم نے کہا۔’ ’میرے پاس ڈاکٹر اشتیاق پر شبہ کرنے کا کوئی ٹھوس اور معقول جواز تو موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی میں سمجھتاہوں کہ ہمیں اس شخص کونظر میں رکھنا چاہیے۔‘‘
’’تم اس کے خلاف کیا کارروائی کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’سب سے پہلے تو میں اس کے بارے میں پورا پچھلا ریکارڈ حاصل کرناچاہتا ہوں اور اس کے ساتھ خاموشی سے اس کی نگرانی کرنا چاہتاہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ڈی ایس پی نے کہا۔ ’’تم اپنا کام شروع کرسکتے ہو تمہیں ضروری امداد فراہم کردی جائے گی۔‘‘
اسی وقت ڈی ایس پی صاحب کے فون کی گھنٹی بجی۔ وہ کچھ دیر فون پر بات کرتے رہے اور دوسری طرف کی بات سنتے رہے پھر فون بند کیااور خرم سے کہا۔
’’تمہارا شک صحیح نکلا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آگئی ہے‘ تیسری لاش کا چہرہ اورگردن مسخ تھا مگر اس کا باقی جسم سلامت تھا۔ شاید قاتل جلد بازی میں اسے ٹھیک سے ٹھکانے نہیں لگا سکے۔ بہرحال پتاچلا ہے کہ لاش کے دونوں گردے نکال دیئے گئے تھے اور یہ کام ایک ڈاکٹر ہی کرسکتاہے۔تم اس کے بارے میں مکمل چھان بین کرکے اس کے خلاف ضروری کارروائی کرو اور اسے گرفتار کرلو۔ اس سفاک قاتل کا مزیددندناتے رہنا لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
ڈاکٹر اشتیاق کے بارے میں پولیس افسر خرم کی رپورٹ بڑی جاندار تھی۔ اس نے دیگر اداروں اور لوگوں کی مدد سے اشتیاق کے بارے میں اس کے آبائی علاقے تک سے خفیہ طور پر معلومات حاصل کرلی تھیں‘ اس کی بیوی کے بارے میں بھی ا س نے مکمل معلومات حاصل کرلی تھیں۔
’’ڈاکٹر اشتیاق کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوگیا ہے سر۔‘‘ ڈی ایس پی سیْ دوسری ملاقات ہونے پر بتایا۔’’سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر اشتیاق سرے سے ڈاکٹر ہی نہیں ہے… وہ صرف آپریشن تھیٹر میں ٹیکنیشن تھااوراس کااوراس کی بیوی کا پچھلاریکارڈ بھی بہت خراب ہے۔ یہ دونوں مل کر سرکاری اسپتال سے دوائیاں اور آلات وغیرہ چوری کرتے رہے ہیں اور ایک دوبارہ پکڑے بھی گئے تھے۔‘‘ پھراس نے مزید بتایا۔ ’’میں نے اسپیشل پولیس کے اے ایس آئی اور ہیڈ کانسٹیبل کی ڈیوٹی لگادی ہے جو دن رات ان کی نگرانی کررہے ہیں۔ ڈاکٹر اشتیاق یقینا یہ کام اکیلا نہیں کررہاہوگا‘ میں اس کواس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کرناچاہتاہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے خیال رہے کہ کسی اور معصوم کے قتل کی نوبت نہ آئے۔‘‘
’’جی سر ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیاہواہے۔‘‘
اے ایس آئی اور ہیڈ کانسٹیبل ایک ہفتے سے ان کی نگرانی کررہے تھے لیکن اس دوران کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوئی تھی۔ اشتیاق اور اس کی بیوی دوپہر کے دو ڈھائی بجے تک تو گھر میں رہتے تھے اس کے بعد اکثر وہ گاڑی میں باہر نکل جاتے تھے اور شام کے چار ساڑھے چار بجے واپس آجاتے تھے۔ اس کے کوئی ایک گھنٹے بعد کلینک دوبارہ کھول دیا جاتاتھا۔ جس وقت وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کرباہر نکلتے تھے دونوں پولیس افسر انکا تعاقب کرتے تھے۔
تعاقب کے دورا ن صرف ایک دن انہوں نے ایک اہم بات نوٹ کی اور وہ یہ کہ اشتیاق کلفٹن کے علاقے میں واقع ایک شخص جبار کے بنگلے پر گیاتھااور وہاں تقریباً ایک گھنٹے رکاتھا۔
خرم نے جب جبار کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتاچلا کہ وہ ایک بدنام زمانہ آدمی ہے۔ بہ ظاہر تووہ امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتاتھا لیکن اس کااصل دھندہ اسمگلنگ تھا۔ اس سے پہلے ایک دوبار اس کے گوداموں میں چھاپے بھی پڑچکے تھے۔ وہ ایک دولت مند اور بارسوخ آدمی ہونے کے باعث ہربار صاف بچ گیاتھا۔
اشتیاق کے گھر کی مسلسل نگرانی ہو رہی تھی۔ سادہ لباس میں پولیس مریضوں کے بھیس میںکلینک میں بھی بیٹھی رہتی اور رات میں خاموشی سے اس کی نگرانی کرتے تھے۔
خرم کو اس دن بڑی کامیابی ملی جب مریض کے بھیس میں پولیس کے ایک سپاہی پر اشتیاق نے اپنا جال پھینک دیا۔انسپکٹر خرم کو جس لمحہ کاانتظار تھا وہ وقت آگیاتھا۔ انسپکٹر خرم نے سپاہی کوسمجھادیاتھا کہ وہ اشتیاق کو شک کاذرابھی موقع نہ دے۔ اشتیاق نے اس رات سپاہی کو رکنے کے لیے کہاتھا۔
یہ چاند کی وسطی تاریخیں تھیں اور چاروں طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ رات کے تقریباً گیارہ بجے تھے جب خرم نے جو دوربین لگائے اشتیاق کے گھر کارخ کیے بیٹھاتھا اچانک دیکھا کہ اشتیاق کے گھر کاگیٹ کھلا اس میں سے کار باہر نکلی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر اشتیاق اور برابر میں اس کی بیوی بیٹھی تھی جبکہ پچھلی نشست پر سپاہی لیٹا ہواتھا جسے غالباً خواب آور دوا دی گئی تھی۔ کار کارخ کلفٹن کی جانب تھا‘ انسپکٹر خرم اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کاتعاقب کررہے تھے۔
کار جبا رکے بنگلے کے احاطے میں داخل ہوگئی۔ انسپکٹر خرم نے پولیس کی بھاری نفری پہلے ہی طلب کرلی تھی جس نے جبار کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیاتھا۔ سپاہی کی جان خطرے میں تھی انہیں فوراً ہی کارروائی کرنی تھی۔
بنگلے کے گیٹ پر موجود چوکیدار کو حراست میں لے کرپولیس انسپکٹر خرم کی قیادت میں بنگلے کے اندر پہنچ گئی۔ اندر ہر طرف ہوکاعالم تھااورکوئی ذی روح دکھائی نہ دیتاتھا۔ آخر وہ اس کمرے تک پہنچ ہی گئے جس کوان لوگوں نے آپریشن تھیٹر کی شکل دی ہوئی تھی۔
یہاں وہ تینوں موجود تھے۔ سپاہی آپریشن ٹیبل پر بے ہوش لیٹاہواتھا جبکہ اشتیاق آپریشن کی تیاریاں کررہاتھا۔ انسپکٹر خرم نے ریوالور اشتیاق کے سرپررکھی اوربولا۔
’’ذراسی حرکت کی تو گولی ماردوں گا۔ ہاتھ اوپر کرو۔ دوسرے سپاہیوں نے جباراور اشتیاق کی بیوی کوقابو میں کرلیاتھا۔
انسپکٹر خرم نے نفرت بھری نظروں سے ان تینوں کو باری بار ی دیکھا۔
’’کیا کررہے تھے تم ؟‘‘
اسی وقت اچانک جبار نے چھلانگ لگائی اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسی وقت ایک سپاہی نے لپک کر اس کی گردن پکڑی۔
’’ہتھکڑی لگادو ان سب کو۔‘‘ انسپکٹر خرم نے حکم دیا۔
بے ہوش سپاہی کو فوری طور پر اسپتال پہنچادیاگیا جہاں کچھ دیر بعد اسے ہوش آگیاتھا۔
m…m٭m…m
جبار کافی عرصے سے اسمگلنگ کررہاتھااس کے ایک اسمگلر ساتھی نے اسے انسانی اعضا کی خریدوفروخت کے بارے میں بتایا تھا کہ اس میں بڑا فائدہ ہے۔ جبار جیسے سفاک انسان کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ کسی دوست کے ذریعے اسے اشتیاق کے بارے میں پتاچلا تواس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی اشتیاق مجرمانہ ذہن رکھنے والا لالچی انسان تھااور اس کی بیوی بھی اسی جیسی تھی۔
’’ملک سے باہر انسانی اعضاء کی بڑی مانگ ہے‘ بہت پیسے ملیں گے۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ہم دونوں اس کام میں ففٹی ففٹی کے پارٹنر ہوں گے۔ گردوں کی فراہمی کابندوبست تم کروگے اور ان کا سودا میں کروں گا۔‘‘جبار نے تنہائی کی ایک ملاقات میں اشتیاق کو آفر دی تھی جو اس نے قبول کرلی تھی۔
اس کے لیے انہیں صحت مند اور نوجوان انسان درکار تھے جن کاانتظام کرنا اشتیاق کے لیے مشکل نہیں تھا۔ اس کے کلینک میں دن بھر بے شمار مریض آتے تھے۔ وہ ان میں سے باآسانی اپنے مطلب کے نوجوانوں کومنتخب کرلیتاتھا۔ پھروہ انہیں کسی نہ کسی بہانے رات گئے تک روک لیتاتھا۔ آخری اور مشکل کام لاش کو ٹھکانے لگانے کاتھا۔ سو یہ بھی ان کے لیے مشکل ثابت نہیں ہوا تھا‘ لاشوں کو وہ زیادہ تر سمندر یا ندی میں پھینک دیتے تھے‘ پانی میں لاش جلدی گل سڑجاتی تھی اور ناقابل شناخت ہوجاتی تھی۔ جب تک وہ دریافت ہوتی تھی اس کی حالت تباہ ہوچکی ہوتی تھی۔
تاج گل اشتیاق کاسب سے پہلااور عمدہ شکار ثابت ہواتھا۔اشتیاق نے اسے انجکشن دے کر بے ہوش کردیاتھا پھر وہ اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر جبار کے بنگلے پر لے آیا تھا جہاں انہوں نے آپریشن تھیٹر بنایاہواتھا۔
تاج گل کی لاش کی دریافت نے ان کوچوکنا اور فکرمند کردیاتھا۔ انہیں امید نہیں تھی کہ لاش نیٹے جیٹی سے بہتی ہوئی گڈانی کی چٹانوں میں جاپھنسے گی۔ سراج کی لاش کوٹھکانے لگانے میں انہوں نے بڑی احتیاط سے کام لیاتھامگر وہ بھی جلد ہی دریافت ہوگئی تھی۔ تیسری لاش کوٹھکانے لگاناان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیاتھا کیونکہ اس رات شہر میں بم بلاسٹ کے نتیجے میں جگہ جگہ پولیس گاڑیوں کی چیکنگ کررہی تھی۔ اس لیے مجبوراً اشتیاق کو لاش کٹی پہاڑی کے قریب جھاڑیوں میں پھینکنی پڑی تھی۔ یہی لاش اسے لے ڈوبی تھی اور یوں پولیس اس تک پہنچ گئی تھی۔
اشتیاق احمد کااعتراف جرم سن کرکمرے میں موجود سارے لوگ تصویر حیرت بن کررہ گئے تھے ۔ کافی دیر کمرے میں مکمل سناٹا چھایارہا۔ بالاخر اس بوجھل سکوت کو انسپکٹر خرم کی بھاری آواز نے توڑا۔
’’میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ ان وارداتوں کے پیچھے اس قدر سفاکانہ اور گھنائونا مقصد کارفرما ہے۔‘‘ اس نے ان کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔’’تم نے چند ٹکوں کی خاطر تین معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تین گھرانوں کو تباہ کردیا لعنت ہو تم پر۔‘‘
وہ تینوں مجرم گردن جھکائے خاموش کھڑے رہے۔ جبار کے گھر سے آپریشن میں کام آنے والے اوزار اور دیگر سازوسامان برآمد کرکے پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا۔
اشتیاق احمد او ر اس کی بیوی کے ہولناک جرائم کے بارے میں خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سب کومعلوم ہوگیا کہ نام نہاد ڈاکٹر اوراس کی ب یوی کس طرح علاقے کے لوگوں کے قتل میں مصروف ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے اشتیاق کے مکان کے گرد لوگوں کاہجوم اکھٹا ہوگیا۔ پولیس نے مکان کوبند کرکے سیل کردیاتھا۔ پولیس مکان کے باہر موجود تھی۔ جب ہجوم میں سے کسی نے ایک بڑ اساپتھر مار کر اشتیاق کے مکان کی پہلی کھڑکی توڑی اوراس کے بعد توجیسے پتھروں کی بارش ہوگئی۔
پولیس نے غضب ناک مجمعے کو روکنے کی کوشش کی لیکن کوئی شخص ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف سے اشتیاق کے مکان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی اور ایک کھڑکی کا شیشہ بھی سلامت نہ رہا۔
’’آگ لگادو۔‘‘ کسی ایک طرف سے غصے سے بپھری ہوئی آواز آئی اور پھر نہ جانے کہاں سے پٹرول کاکنستر آگیا ‘ چند آدمی دوڑتے ہوئے گئے اور پیٹرول کومکان کے کلینک والے حصے کے اوپر الٹ دیا اور آگ لگادی۔آناً فاناًآگ بھڑک اٹھی۔
پولیس والے ہجوم کو روکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے اور چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ مجرموں کوقانون خود سزا دے لیکن عوام کے انصاف کاطریقہ الگ ہوتا ہے۔ اگراس وقت مجرم بھی سامنے ہوتے تووہ انہیں مار ڈالتے۔
فائیر بریگیڈ کے آنے سے پہلے اشتیاق کا مکان معہ سازوسامان کے جل کر تباہ ہوگیاتھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close