Naeyufaq May-17

اقرا

طاہر قریشی

القدوس
(نہایت پاک)

القدوس یہ مبالغے کا صیغہ ہے اس کے معنی بہت پاک‘برکت والا‘ ذاتِ مبارک اس کا مادہ قدس ہے‘ جس کے معنی تمام بری صفات سے پاک ومنزہ ہونا۔ اور قدوس کامطلب ہے کہ وہ اس سے بدرجہاں بالاوبرتر ہے کہ اس کی ذات میں کوئی عیب‘یانقص‘یاکوئی قبیح صفت پائی جائے۔ وہ ایک ایسی پاکیزہ ہستی ہے جس کے بارے میں کسی برائی کا تصور تک نہیں کیاجاسکتا۔قدوسیت درحقیقت حاکمیت کے اولین لوازم میں سے ہے۔ انسان کی عقل اور فطرت یہ مانتی ہے کہ حاکمیت کی حامل کوئی ایسی ہستی ہوجسے حاکمیت کامرکز قرار دیاجاسکے جس کے اقتدار میں محکوموں کوبھلائی نصیب ہو‘ کسی قسم کی برائی کا قطعی خطرہ لاحق نہ ہو۔ کیونکہ قدوسیت کے بغیر اقتدار ِمطلق ناقابلِ تصور ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی ظاہر ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوادرحقیقت کوئی بھی نہ مقتدرِاعلی اور نہ قدوس ہوسکتا ہے۔ شخصی بادشاہی یاجمہوری حاکمیت میں یااشتراکی نظام کی فرمانروائی‘یاانسانی حکومت کی کوئی دوسری شکل‘ چاہے کسی کی بھی حکومت ہو ان سب میں قدوسیت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔
القدوس۔ اللہ تعالیٰ کی صفتِ جمالی ہے‘ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ترین ہستی ہے۔ اس سے بڑھ کر پاکیزہ کو ئی اور ہستی نہیں ہے‘ اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی کواس کی پیدا کی ہوئی کوئی مخلوق نہیں پہنچ سکتی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی پاکیزگی تو اس کی صفتِ رحمانیت اور وجاہتِ سبحانی ہے کہ جس کے باعث وہ سب سے زیادہ پاک‘ طاہر‘ صاف‘ ستھرا ہے اس کی پاکیزگی میں حسن وجمال بھی شامل ہے اور ندرت وپاکیزگی بھی۔
ترجمہ:۔وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ بادشاہ ہے نہایت پاک۔ (الحشر۔۲۳)
تفسیر:۔آیت ِمبارک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دوٹوک انداز میں ارشاد فرمادیاہے کہ اس ذاتِ عالی کے سوا کوئی معبود نہیں‘کوئی کسی بھی طرح سے‘کسی بھی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ہے۔آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم صفت الملک استعمال ہوئی ہے جس کامطلب اصل بادشاہ کے ہیں یعنی مطلقاً بادشاہی کے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور نہ اصل حکمران ہے نہ معبود وہ جوہرچیز کامالک ہے‘ بلاشرکت پوری کائنات پرپورا پوراتصرف اسی کوحاصل ہے‘ وہی ذات ہے پاک یعنی قدوس۔ اس کی پاکی کی صفت بھی سب سے منفرد واعلیٰ ترین ہے وہ ایسا عظیم ترین پاکیزہ بادشاہ ہے کہ اس کی بادشاہی‘ اس کی عظیم ہستی کسی بھی قسم کے معمولی سے معمولی عیب ونقص سے بھی ہر طرح پاک ومنزہ ہے۔ یہ لفظ انتہائی پاکی کامظہر ہے‘ طہارت مطلقہ‘ اللہ تعالیٰ قدوس ہے۔ تو اللہ کے بندوں کا دل بھی پاک وصا ف ہونا چاہئے تاکہ اس پاک صاف دل میں اللہ تعالیٰ کی پاک تعلیمات بیٹھ سکیں اور اس پراللہ کی جانب سے فیوض وبرکات کانزول ہوسکے اور بندہ اپنے پاک دل‘ پاک زبان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی پورے اخلاص سے بیان کرسکے۔
آیتِ مبارکہ میں اللہ جلِ شانہُ نے اپنی بادشاہی‘اپنی پاکی اور اپنے معبودِ حقیقی ہونے کا اعلان فرمایا ہے‘ ایک اہلِ ایمان ایک ایسے عظیم ترین بادشاہ جواحکم الحاکمین ہے کاجب تصور کرتاہے‘ذکر کرتا ہے تو اسے ایک یقین واعتماد حاصل ہوتا ہے‘ تحفظ کا‘حفاظت وپرورش کا‘ اس کاذاتِ الٰہی پریقین پختہ ہوجاتاہے۔ اسے یقین ہوتاہے کہ وہ سب بادشاہوں کے بادشاہ کا غلام ہے‘ بندہ ہے‘ ایسے عظیم بادشاہ کا خوف اس کے دل سے تمام قسم کے زمینی بادشاہوں حکمرانوں کاخوف ختم کردیتا ہے وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتا۔ پوری یکسوئی سے اپنے معبودِ حقیقی اپنے بادشاہ کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہے اور ہر قسم کی مدد ودعا اس ایک اکیلے احکم الحاکمین سے مانگتا ہے۔
ہرروز نماز ِفجر کے بعد اگر کثرت سے’’یاقدوس‘‘ کا ورد کیاجائے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا افلاس دور کردیتا ہے اور وہ غنی ہوجاتا ہے۔ اوراس کا دل ہر قسم کی گندگی ناپاکی سے پاک صاف ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔
اس صفتِ الٰہی کامسلسل ورد کرنے والا اللہ کے حکم سے ہر قسم کے گناہ کبیرہ صغیرہ سے بالخصوص جھوٹ‘ چوری‘ زنا‘ بے ہودہ گفتگو‘شراب نوشی سے بچارہتا ہے۔ ہرقسم کے حسد‘ عداوت وکینہ سے خود کو بچانے محفوظ رکھنے کے لئے یاقدوس کا ورد صبح وشام کرے تو اس کی مراد برآئے گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close