Naeyufaq May-17

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد

مئی کا شمارہ حاضر ہے ہر ایڈیٹر کو یہ چند سطریں سب سے آخر میں لکھنا ہوتی ہیں پورا پرچا ختم کرنے کے بعد یہ سطریں ہمارے لیے ایک کتاب لکھنے کے برابر محسوس ہوتی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا قارئین سے کیا کہیں؟ کیا باتیں کریں…؟کس کو خوشخبری سنائیں کس سے اپنی کوتاہیوں پر معذرت کریں دور بیٹھے قاری اندازہ نہیں کرسکتے ہماری مشکلات کاکہ دو سو اٹھاون صفحات کی تیاری میں ہمیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں پھر بھی کوئی نہ کوئی چوک ہوجاتی ہے خواہ وہ ٹیم کے کسی بھی رکن سے ہو لیکن ذمہ دار ایڈیٹر ہی کہلاتا ہے معذرت اسے ہی کرنا پڑتی ہے۔ ایسا ہی کچھ اپریل کے شمارہ میں ہوا تفسیر عباس بابر کے ناولٹ دہری چال پر لکھاری کے طور پر غلطی سے مظہر سلیم کا نام چھپ گیا بہرحال ہم نے اس پر تفسیر عباس بابر سے معذرت کرلی تھی اور انہوں نے ہماری مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے خوش دلی سے اسے در گزر کردیا تھا پھر اس غلطی کی نشاندہی قارئین نے بھی کی بعض نے اس پر بڑاسست بھی کہا سو ہم ان قارئین سے بھی معذرت چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہماری مجبوریوں کے پیش نظر ایسی تکنیکی کوتاہیوں کو در گزر کردیاکریں۔
اس ماہ ہمارے دیرینہ اور بزرگ قاری جو ایک عرصہ سے ہمارے ساتھ ہیں منگلا سے ریاض حسین قمر صاحب کی اہلیہ کینسر کے باعث اللہ کو پیاری ہوگئیں، ان للہ و انا علیہ راجعون اللہ رب العزت انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ دے اور ہمارے محترم ریاض حسین قمر اور ان کے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ہماری تمام قارئین سے درخواست ہے کہ وہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ ضرور پڑھیں۔
ریاض حسین قمر…منگلا ڈیم۔ محترم اقبال بھٹی صاحب سلام مسنون امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص پورے گھر کو ہی ویران کر گیا
20 مارچ 2017ء کی صبح میرے گھر پر قیامت صغریٰ بن کر ٹوٹ پڑی جب پینتالیس سال سات ماہ اور بارہ دن زندگی میں ازدواجی ساتھ نبھانے والی اللہ اللہ کے رسول اور والدین ماجدین کے بعد دنیا میں میری سب سے زیادہ پیاری ہستی میری بیوی صابرہ رانی اس دار فانی سے کوچ فرما گئیں دو ماہ کے مسلسل جانگسل ٹیسٹوں کے بعد ان میں چھاتی کے کینسر کی نشاندہی ہوئی تھی سی ایم ایچ راولپنڈی کے ماہر کینسر ڈاکٹر جناب لیفٹیننٹ کرنل احسن محمود صاحب نے سب سے پہلے کیمو تھراپی کے پانچ کورس تجویز کیے تھے جو اکیس اکیس روز کے وقفے سے ہونے تھے پہلا انجکشن 14 مارچ کو لگایا گیا دوسرا انجکشن 4 اپریل کو تجویز کیا گیا ساتھ میں بہت سی اقسام کی گولیاں اور کیپسولز بھی تجویز کیے گئے تھے جو مسلسل انہیں کھلائے جا رہے تھے وہ بستر پر لگ گئی تھیں بھوک کم ہوگئی تھی کمزوری اور نقاہت روز بروز بڑھ رہی تھی انہیں تھوڑی دل کی تکلیف بھی تھی جس کی الگ دوائیں دی جا رہی تھیں 19 مارچ اتوار کے دن ان کی طبیعت کافی سنبھلی سنبھلی سی لگ رہی تھی انہوں نے خلاف معمول بہت کچھ کھایا اور کافی کچھ پیا بھی بعد میں خود مانگ کے تھوڑا جوس بھی پیا ہم مطمئن ہوگئے کہ اب طبیعت سنبھلنے لگی ہے سوموار صبح ساڑھے تین بجے مجھے کہا کہ مجھے اٹھا کر بٹھائو میں نے ان کو اٹھا کر بٹھا دیا چودہ پندرہ منٹ بٹھائے رکھا پھر ان کے کہنے پر لٹا دیا فجر کی اذانیں شروع ہوگئی تھیں میںنماز با جماعت مسجد میں ادا کرتا ہوں اس دن بھی میں مسجد چلا گیا وہ ہلکا ہلکا کراہ رہی تھیں جیسے کوئی تکلیف محسوس کر رہی ہو، نماز پڑھ کر آیا تو وہ سو رہی تھیں روزانہ وہ اس وقت سو جاتی تھیں بڑا بیٹا اس وقت ڈیوٹی پر گیا ہوا تھا اس سے چھوٹے بیٹے نے پاور ہائوس ڈیوٹی پر جانا تھا وہ بھی یہ دیکھ کر کہ امی اب سو رہی ہیں ڈیوٹی پر چلا گیا سب سے چھوٹا بیٹا اپنی ڈیوٹی پر جانے کے لیے اپنی ماں کو اللہ حافظ کہنے آیا اس نے بھی اسے سوتے پایا تو اپنی بہن سے پوچھا کہ امی کو ابھی تک جگایا نہیں انہیں جگاتے اور کچھ کھلاتے ہیں بعد میں دوا بھی دینا ہے سب مل کر اسے جگانے کی کوشش کرنے لگے مگر وہ جاگ نہیں رہی تھیں میں نے ان کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا اور جگانے کی کوشش کرنے لگا مگر انہوں نے نہ آنکھ کھولی نہ لب ہلائے سانس تیز تیز چل رہی تھی پاور ہائوس والے بیٹے کو بلایا گیا پھر ان کی سانس آہستہ ہونی شروع ہوگئی یہ علامت دیکھ کر میرا دل مٹھی میں آگیا اور پھر بتدریج آہستہ ہونی والی سانس رک گئی ان کے سر کا وزن میرے زانو پر قدرے بڑھ گیا اس وقت میری اپنی سانس بھی رکنے لگی جب پاور ہائوس والا بیٹا پہنچا اس کی والدہ ہم سب کو داغ مفارقت دے کر چل دی تھیں یہ سب کچھ آنا فانا ہوگیا تھا واپڈا اسپتال والوں نے اپنی سی کوشش کی کہ دل کی دھڑکن بحال ہوجائے میر پور (آزاد کشمیر) کے امراض قلب کے اسپتال میں بھی بھیجا مگر سب کوششیں رائگاں گئیں یہ سوموار کا دن تھا اور انہیں سوموار کے دن سے بڑا پیار تھا وہ فرمایا کرتی تھیں کہ کوئی نیا کام کرنا ہو سوموار کے دن سے شروع کرنا چاہیے اور ہم نے انہیں سوموار کے دن ہی اپنے اصلی اور حقیقی گھر پہنچا دیا۔ جب 8 اگست 1971ء کو میری شادی ہوئی میں بطور سب انجینئر سیدو شریف سوات میں تعینات تھا ستمبر میں انہیں سوات لے گیا وہاں گزارے ہوئے دن میرے لیے سرمایہ حیات ہیں بلکہ پینتالیس سال سات ماہ اور بارہ دن کا ایک ایک لمحہ میرے لیے سرمایہ حیات ہے اس پورے عرصہ میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جس پر مجھے یا اسے پشیمانی ہوئی ہو میرے ماشاء اللہ تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں اس وقت بیٹوں میں سے دو واپڈا منگلا ڈیم میں بطور ایکس ای این اور ایک بیٹا واپڈا میں ہی بطور سب انجینئر کام کر رہا ہے بیٹیوں میں ایک بیٹی لیڈی ڈاکٹر ہے وہ ما شاء اللہ حافظہ بھی ہے سب سے چھوتی بیٹی ٹیکسٹائل انجینئر ہے اولاد کی پرورش انہوں نے اس انداز سے کی ہے کہ سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے وہ ایک مثالی شریف النفس خاتون تھیں وہ دل کی اتنی صاف تھیں کہ میں نے اپنی برادری میں تو ایک طرف کہیں اور بھی نہیں دیکھیں میں اکثر بڑے پیارے سے اسے کہتا کہ یقیناً آپ اللہ تعالیٰ کی پیاری بندی ہیں اس ذات بابرکات نے آپ کا دنیاوی لحاظ سے بھی مرتبہ بلند فرما دیا ہے آپ افسر کی بیوی ہیں (میں واپڈا کا ایک ریٹائرڈ افسرہوں) آپ افسروں کی ماں ہے (ماشاء اللہ ہمارے دو بیٹے ایکس ای این اور ایک بیٹی لیڈی ڈاکٹر ہیں) اور افسر کی ساس ہیں (ہمارا داماد عثمان بھی ڈاکٹر ہے) وہ جواباً ہلکا سا مسکرا دیتیں انہوں نے پوری زندگی اولاد کی کامیابیوں پر کسی کے آگے ڈینگ نہیں ماری تمام عمر نماز روزہ کی پابندی کی نہ جانے کتنی ضرورت مند عورتوں کی چپکے سے ضرورتیں پوری کرتی کہ ہماری فیملی والوں کو بھی اس کا پتا نہ چلتا۔ غسل دینے کے بعد ان کی میت آخری دیدار کے لیے رکھ دی گئی چہرے پر واضح مسکراہٹ تھی اور چہرہ اتنا پر نور تھا کہ ہر دیکھنے والا حیران تھا ان کا جنازہ واپڈا کالونی میں ہونے والے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا پھر انسانیت کے اس پیکر کو ہم نے منوں مٹی کے نیچے دبا دیا۔ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے رب العزت انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ جناب بھٹی صاحب میں اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا ہوں دل میں اب کچھ نہیں کوئی امنگ کوئی ترنگ اب دل میں باقی نہیں یہ کیفیت کب تک رہتی ہے کچھ معلوم نہیں آپ سے اور تمام قارئین سے گزارش ہے کہ میرے اور میری فیملی کے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں اتنا بڑا صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے آمین۔
عبدالجبار رومی انصاری… لاہور۔
کیا خوب موسم بہار ہے
چھایا عجب خمار ہے
مست نینوں شباب رنگوں میں
رومی پیار ہی بس پیار ہے
جہاں کٹھ پتلی حکومتیں ہوں تو وہ اغیار کے اشارے پر ہی ناچتی ہیں یہی مسئلہ افغانستان کے ساتھ ہے اس کی ڈوریں بھی امریکا اور انڈیا سے ملائی جاتی ہیں تو وہ پاکستان کو کمزور سی آنکھیں دکھانا شروع کردیتا ہے بس شرم تو ان کو مگر آتی نہیں ہے پاکستان میں جو سوگ کی کیفیت ہے اس میں بھی انڈیا براہ راست افغانستان ہی ملوث ہے یہی وجہ ہے کہ اب ٹھیک طرح سے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے جو ضرب عضب کی طرح ’’رد الفساد‘‘ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا کرکٹ کا جنون بھی پاکستانیوں کو پی ایس ایل کے فائنل کی صورت قذاقی اسٹیڈیم لاہور لے آیا ہے امید ہے پاکستان میں کرکٹ کی راہ بھی ہموار ہوگی مجید احمد جائی کا تبصرہ ہے پہلے نمبر پر بہت اچھا رہا مبارک ہو، ساتھ میں صائمہ نور بھی ہنستی مسکراتی عمدہ تبصرہ کر گئیں احسن ابرار رضوی نے بھی بھرپور اور عمدہ تبصرہ پیش کیا ایم اے راحیل اور ظہور احمد صائم ذرا مختصر ہی رہے، اسی طرح انجم فاروق، پرنس افضل شاہین، محمد رفاقت اور عامر خان چاند نے بھی خوب صورت تبصرے کیے باقی سید عبداللہ توفیق، عمر فاروق، ریاض بٹ، ریاض حسین قمر کے بھرپور اور جاندار تبصروں نے محفل کو چار چاند لگا دیے اقرا میں الرحیم کے معنی پر سیر حال گفتگو دنیا و آخرت کے لیے کامیابی سے مامور ہے۔ شبو بھی شب گزیدہ کی نذر ہوگئی اور بے چارہ کرمو رہ گیا اس کی یادیں سہلانے کو مردہ قبرستان اور گائوں میں سنسنی پھیلانے والے چاروں مجرم شاہ صاحب نے تحویل میں لیے تو شب گزیدہ کا طلسم بھی ٹوٹ گیا کہانی انتہائی سنسنی خیز رہی، تیسرا سبق دینے والا بھی کوئی فرشتہ ہی تھا جس نے حنیف اور منصور کی ویرانے میں آکر مدد کی تھی تیسرا سبق عمدہ کہانی تھی زن، زر، زمین میں زن ہی زر کو لے اڑی عبدل محمد جہاز والے نے ایمانداری سے کمایا ہوا پیسہ نیاز سبحانی کو دکھایا تو وہ بھونچکا رہ گیا ویسے عبدل کو اکائونٹ کھلوانا تھا تو ایسے پیسے دکھانے کی کیا ضرورت تھی باقی کی کسر کلثوم بائی نے جوائنٹ اکائونٹ کھلوا کر پوری کردی اور عبدل اینڈ سنز کنگال ہو کر رہ گئے ایک اگر وادی کو بچانے میں مس فرزانہ نے بڑا کام کیا تھا اس نے ایک طرف حمزہ کو بچا لیا تو دوسری طرف بھارتی ایجنٹ کو بھی قابو کروا لیا آزادی کشمیر کے حوالے سے اگر وادی عمدہ تحریر تھی۔ عاشق صبر طلب اور تمنا بے تاب بے بسی ہے لاچارگی ہے محبت سفر میں ہے مگر ایک سو سولہ چاند کی راتوں کی بھی سحر ہونے کو ہے جانے عین کے کاندھے پر کس نے ہاتھ رکھ دیا جنہوں نے سچائی کو قبول کرلیا وہ حضرت نوحؑ کے ساتھ کشتی میں آگئے اور شیطان کے پجاری پانی میں غرقاب ہوگئے طوفان نوح پر تحریر دلچسپ تاریخی منظر نامے سے بھرپور بہت اچھی لگی، بار بار ہاتھ آنے والا چارلی زخمی ہو کر بھی چکما دے جاتا تھا آخر موت سے ہمکنار ہو ہی گیا سمیرا اور عالیہ نے بھی ایک دوسرے کو چن لیا ڈیول کی آخری قسط میں فائٹنگ زیادہ رہی یوں زرین قمر نے بھی کہانی کو سنسنی خیز بنا کے آخری موڑ دے ہی دیا کہانی زبردست رہی زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے ایسے ہی عالیہ نے اپنے دل میں محبت کا چراغ جلایا ہی تھا کہ آصف نما دشمن اٹھ کھڑا ہوا اور پھر عالیہ کو اپنے باپ اور ارباز شاہ کو مرتے دیکھنا پڑا عالیہ کے انتقام نے آصف کو بھی سخت اذیت میں اوپر پہنچا دیا اور آخر کار عالیہ بھی جبر مسلسل کی سی زندگی ہمیشہ کے لیے پا گئی تفسیر عباس بابر کی کہانی بھی عمدہ رہی فن پارے میں سفر محبت، محبت کا سفر ہی پڑھ سکا بہت اچھی تھی ذوق آگہی میں گل مہر، ماریہ کنول، سدرہ کشف اور مبین ناز کے مراسلے اچھے تھے اور خوش بوئے سخن میں فاطمہ عبدالخالق، ایم حسن نظامی، عامر نواز اور عنبرین اختر کا کلام بہت اچھا رہا۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم ماہ اپریل کا شمارہ پچیس مارچ کو ملا خوب صورت سرورق دیکھ کر ایک شعر نوک قلم پر مچل گیا۔
صحن چمن میں اپنی بہاروں پر ناز تھا
وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے
اس بار میری کہانی موجود ہے بہت شکریہ دستک میں اس بار محترم مشتاق احمد قریشی صاحب بھارت کے جنگی جنون کے متعلق بتا رہے تھے بھارت ازل سے اس جنون میںمبتلا ہے یعنی جس دن وہ بھارت بنا تھا امریکا بہادر کو بھی اس کا یہ جنگی جنون نظر تو آیا ہے لیکن مسلم دشمنی میں اس نے جان بوجھ کر اسے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے خیر ہماری مسلح افواج بھی اپنے ملک کی حفاظت کی طرف سے غافل نہیں ہے خدا بزرگ و برتر ہمارے پاک ملک کی حفاظت کرے آمین اور دشمن اپنی آگ میں جل کر خود ہی خاکستر ہوجائے پہلے نمبر پر خط ہے بھائی پرنس افضل شاہین کا آپ کا خط اور شعر خوب صورت ہے اور آپ کی باتیں بھی قابل غور ہیں احسان والی کوئی بات نہیں جو تحریر یا انتخاب میرے دل کو بھاتا ہے اس کی تعریف میں ضرور کرتا ہوں ذوق آگہی میں میرا انتخاب پسند کرنے کا بے حد شکریہ، ایم اے راحیل میرا تبصرہ پسند کرنے کے لیے مہربانی بھائی کبھی کبھی کہانی لیٹ ہوجاتی ہے اور کبھی شاید جگہ فل ہوجاتی ہے بہرحال کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ ہر ماہ کہانی شائع ہو مجید احمد جائی آپ کی محبتوں اور توجہ کا مقروض ہوں کہانی کے متعلق متذکرہ بالا جواب آپ کے لیے بھی ہے اس بار بھی آپ کا تبصرہ خوب ہے صائمہ نور بہن آپ کیسی ہیں مہربانی اور شکریہ ایک ساتھ قبول ہو میرا تبصرہ پسند کرنے پر شکریہ آپ کا تبصرہ بھی اچھا ہے ریاض حسین قمر بھائی آپ کا خط محفل میں دیکھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے بھائی ہمارا تو پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے شاعری کے متعلق آپ کے احساسات اور محسوسات قابل توجہ ہیں اس بار آپ کا تبصرہ ذرا مختصر سا تھا محمد رفاقت صاحب آپ دریا کو کوزے میں بند کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں آپ کو بھی میری تفتیشی کہانی کا انتظار رہتا ہے یہ آپ کا اعلیٰ ذوق اور عنایتیں ہیں حسین خواجہ آپ کا مختصر خط بھی محفل کی شان بڑھا رہا ہے ذوق آگہی میں میرا انتخاب پسند کرنے کا شکریہ ایم حسن نظامی میرا تبصرہ آپ نے بھی پسند کیا بہت مہربانی نوازش، عمر فاروق ارشد بھائی آپ کی دعائوں کا شکریہ اب ہم واقعی بوڑھے ہوگئے ہیں اور یہ کہنا اچھا نہیں لگتا کہ ابھی تو میں جوان ہوں بہت مہربانی عبدالغفار عابد عرصہ بعد آپ کی حاضری اچھی لگی گونا گوں مصروفیات سے وقت نکال کر آتے رہیے بہت شکریہ اب بات ہوجائے کہانیوں کی مظہر سلیم کی دہری چال ایک اچھی تحریر ہے جس میں کاروباری رقابت کو بڑے موثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے لیکن لہو خود بولتا ہے اور مجرم اپنے انجام کو پہنچتا ہے چاہے وہ قدرتی انجام ہو یا جیل کی کال کوٹھڑی عشنا کوثر سردار کی ایک سو سولہ چاند کی راتیں کی آٹھویں قسط شاندر اور جاندار ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ اسیر محبت کی صورت میں مہتاب خان اس بار ایک مجاہد کی کہانی لے کر آئے دل کو چھو لینے والی کہانی ہے اور سب سے بڑھ کر ابدال نے جو کیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے ان شاء اللہ جیت حق کی اس بار خلیل جبار بڑی غلطی لے کر آئے واقعی شارٹ کٹ کے چکر میں شاہ رخ بڑی غلطی کر بیٹھا اس نے جھوٹی محبت کا ڈرامہ رچایا اور لالچ نے جیل کی سلاخیں اس کا مقدر بنا دیں شاہ رخ کا انجام تو یہی ہونا تھا، محمد سلیم اختر کی تحریر انسانیت ایک لہو رنگ تحریر ہے یہ ایسی ہی کہانیاں لکھنے میں ماہر ہیں منی کا کردار خوب ہے جو ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب اس طرح بھی لیا جاتا ہے کہ اپنا خون دے کر ظالم کو بچایا جائے ویل ڈن بوگی نمبر 7 بھی مختصر تحریر ہونے کے باوجود اپنا آپ منا گئی باقی تحریریں ابھی زیر مطالعہ ہیں اس لیے تبصرہ ادھار اب بات ہوجائے باقی سلسلوں کی ذوق آگہی میں گل مہر، پرنس افضل شاہین، عبدالجبار رومی انصاری، سونیا خان، خواجہ حسین، ریاض حسین قمر، جاوید احمد صدیقی کا انتخاب لاجواب ہے خوش بوئے سخن میں سارا انتخاب قابل تعریف ہے کسی ایک کی تعریف کرنا زیادتی ہوگی صفحہ صفحہ بکھری کترنیں بھی پرچے میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں لیجیے جناب تبصرہ تمام ہوا اب اجازت۔ والسلام
مجیداحمد جائی…ملتان شریف۔ مزاج گرامی !اُمید واثق ہے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں ،نعمتوں کے سائے تلے ہنستے مسکراتے ،خوشیاں بانٹتے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ نے جو زندگی عطا کی ہے ،اُس کو اچھی طرح بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،بے شک ہمارے ذمہ بہت سا کام ہے ،ہم ایک مقصد کے تحت زمین پر اُتارے گئے ،اللہ تعالیٰ اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے اورحقو ق اللہ ،حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔نئے اُفق ماہ اپریل مقررہ وقت پر مل گیا ۔ملتان میں تو سورج شعلے برسانے میں لگا owa ہے ،گندم کی فصل جوبن پر ہے اور جب مئی کا نئے اُفق ہاتھوں میں آئے گا ہم گندم کی کٹائی سے فراغت پا چکے ہوں گے ۔کسانوں کی محنت رنگ لا چکی ہو گی ۔اللہ تعالیٰ محنت کا اجر ضرور بہ ضرور دیتا ہے ۔ماہ مئی یوم مزدور کی یاد دلاتا ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہم مزدور کو اس کا حق دے رہے ہیں ۔اگر سروے کرایا جائے تو نتیجہ صفر نکلے گا۔فائلیں کالی ضرور ہو ں گی اور غریب کا، مزدور کا چولہا قسطوں پر جل رہا ہوگا۔ایک طرف بھتوں پر کام کرتے مزدور ہیں تو دوسری طرف ائیر کنڈیشنر کے مزے لیتے امرا۔ مقام افسوس ہے کہ کھیتوں میں دن رات جتے مزدوروں کو اُن کی اجرت بروقت نہیں ملتی اور ملتی بھی ہے تو اُن کی محنت سے کہیں کم ۔امراء دولت کی ہوس میں انسانیت بھول گئے ہیں۔ شاید ان کو خبر نہیں کہ دِلوں میں رب بستا ہے ۔دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب ’’بھارت کا ہائیڈروجن بم‘‘پڑھ کر مجھے 28مئی کا دن یا د آ رہا ہے جب میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرا کر ملک کو ایٹمی پاور بنا دیا اور پھر پابندیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔امریکا اور اُس کے حامی بڑ ھ چڑھ کر پابندیاں لگوا رہے تھے ،بھارت کی تو بولتی بند ہو گئی تھی ۔لیکن یہ ایسا منافق ہمسایہ ہے کسی لمحے کو رائگاں نہیں جانے دیتا ۔یہ ہمسایہ نہیں شیطان ہے ۔جس کا ہر لفظ ،ہر قدم پاکستان کے خلاف ہوتا ہے ۔یہ انتشار کرانا چاہتا ہے اور پاکستان امن کا خواہاں ہے ۔پاکستان نے مفاہمتی پالیسی کو فروغ دیا ہے لیکن بھارت کے خواب نرالے ہیں جو کبھی بھی پورے نہیں ہو سکتے ۔گفتگو میں اقبال بھٹی کمال محفل سجائے ہوئے ہیں ۔جب تک روشن خیالی کا سر قلم نہیں کیا جائے گا یہ مافیا یونہی دندناتا رہے گے۔اب تو ہم کھل کر مذمت بھی نہیں کر سکتے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا فتنہ ہے ۔پرنس افضل شاہین صدارت مبارک۔آپ نے قارئین کو جو تحفہ دیا ہے وہ میرا آزمودہ عمل ہے ۔اسی طرح آیت الکرسی پڑھ کر خود اور اپنی سواری پر پھونک مار دیں تو ناگہانی آفت سے محفوظ رہتے ہیں اور اگر گھر ،جانور چار دیواری کی طرف پھونک مار دیں تو چوری چکاری کا ڈر نہیں رہتا اور اللہ تعالیٰ مال و جان کی حفاظت فرماتے ہیں ۔ریاض حسین قمر صاحب کیسے ہیں ،مختصر خط خوب رہا ،محمد رفاقت آپ کی محبتیں ہیں ،حسین خواجہ ،ریاض بٹ خط خوبصورت اور کہانی کمال تھی،عمر فاروق ارشد بہترین تبصرے کے ساتھ حاضر تھے اور عبد الغفار عابد غیر حاضری کے بعد حاضر تھے ،خط بھی خوبصورت تھا ۔سلامتی کی دُعائیں ۔اقراء تو میرا فیورٹ ہے ،طاہر قریشی بھائی اس کو جاری رکھیے گا۔انٹرویو کا سلسلہ بحال ہوا اور ابن آس کا معلوماتی انٹرویو دیا گیا ۔زبردست۔کہانیوں میں دُہر ی چال فہر ست میں تفسیر عباس بابر اور کہانی کے ساتھ مظہر سلیم لکھا ہے ،کہانی کس کی ہے بھائی ۔۔۔۔کہیں دُہر ی چال کے ساتھ کوئی چال تو نہیں چل گئی ۔اسیر محبت،بڑی غلطی ،انسانیت ،بوگی نمبر ۷،قیمت ،جرم کہانی ،کفن پوش ،گلشن ہوا لہو لہو،آخری سانس بہترین کہانیاں تھیں ،فن پارے بھی عمدہ تھے ،قسط وار ایک سو سولہ چاند کی راتیں خوب چل رہی ہے اور مستقل سلسلے خوش بوئے سخن ،ذوق آگہی ،بہترین رہے اور کھلاڑی نمبر ۱ زیر مطالعہ ہے ۔
صائمہ نور…ملتان آداب! اُمید کرتی ہوں خیر یت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نئے اُفق کی تمام ٹیم ،اسٹاف ،ریڈرز ،لکھاری اور ملک بلکہ دُنیا کے ہر مومن مسلمان کو دین اسلام کا پیروکار بنائے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات بجا لانے کی توفیق دے ،خوشیوں کے ساتھ دوسروں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ بنائے آمین۔ ماہ اپریل کا نئے اُفق ملا تو ہمارے معاشرے میں پھیلی ناسور بنتی بیماری جھوٹ بولنا یاد آیا۔آج المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے کو صرف یکم اپریل کو جھوٹ بولنے سے احتیاط کا کہہ رہے ہیں ۔اس سے بڑھ کر مقام افسوس اور کیا ہوگا ،یہ ہماری کمزوری نہیں تو کیا ہے ،اس بیماری کا خاتمہ کیونکر ممکن نہیں ہے ۔جس کا علاج دین اسلام نے واضح کر دیا ہے اور نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ پہلے چورچوری کرکے جھوٹ بولتا تھا ،مگر اب بیٹی ماں سے جھوٹ بولی رہی ہے اور ماں بیٹی سے ،باپ بیٹے سے جھوٹ بول رہا ہے تو بیٹا باپ سے ،ہر ادارے ،ہر محکمے میں جھوٹ ایسے بولا جاتا ہے جیسے نہ بولا گیا تو زندگی ختم ،بیچارہ سچ کالی بُکل مارے پانی پانی ہو ا جا رہا ہے ۔حضور اکرم ﷺ نے یہاں تک فرمادیا کہ ماں بچے کو بہلانے کے لئے بھی مذاقاًجھوٹ نہیں بول سکتی ،خود کا احتساب کریں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ دستک میں انکل مشتاق احمد قریشی’’بھارت کا ہائیڈروجن بم ‘‘کے حوالے سے معلوماتی کالم پیش کر رہے ہیں ،انکل سچ تو یہ ہے کہ بھارت چاہیے لاکھوں ہائیڈروجن بم تیار کر لے ،کر کچھ بھی نہیںسکتا ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اسی کے ہائیڈروجن بم اسی کے لئے وبال جان نہ بن جائیں۔گفتگو کی بزم بہت پیاری لگ رہی تھی ،پرنس افضل شاہین صدارت پر فائز ہوئے ،ایم اے راحیل ،مجیداحمد جائی ،ریاض حسین قمر،محمد رفاقت ،حسین خواجہ ،ریاض بٹ ،عمر فاروق ارشد،کے خطوط اچھے رہے ،عبدالغفار عابد طویل غیر حاضری کے بعد لوٹے ، اقراء زبردست سلسلہ ہے ،انٹرویو میں ابن آس کے بارے میں ذخیرہ معلومات ملا۔کہانیوں میں سب سے پہلے جرم کہانی پڑھی ،ہمیشہ کی طرح متاثر کن کہانی تھی۔کفن پوش کا پہلا حصہ خوب رہا ،بڑی غلطی ،دہری چال،اسیر محبت ،گلشن ہوا لہو لہو،بوگی نمبر7عمدہ رہیں،فن پارے کی کہانیاں اچھی لگیں اور خوش بوئے سخن ،ذوق آگہی ،کھلاڑی نمبر 1خوشبو بکھیرتی نظر آئیں۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ امید کرتا ہوں کہ مزاج بخیر ہوں گے لیکن جس طرح گرمیاں سر پر چڑھتی آرہی ہیں لگ رہا ہے کہ آئندہ مزاج کا بینڈ بجنے والا ہے بہرحال جس حال میں خدا رکھے وہ حال اچھا ہے سرورق کی حسینہ غالباً گھر سے جھگڑا کرنے کے بعد کپڑوں سے باہر ہونے کی کوشش کر رہی تھی پچھلے چند ماہ سے مشرقی طرز کے سرورق بن رہے تھے اور دل کو سکون بخش رہے تھے لیکن اس بار آپ نے کچھ زیادہ ہی بولڈ دھماکا کردیا ہے (واللہ) اندر داخل ہوئے تو بڑے قریشی صاحب بھارت کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف تھے میں یہی کہوں گا کہ بھارت کے سنگین منصوبے اور اسرائیل امریکا و بھارت کی تکون کوئی نئی نہیں ہے یہ عرصہ دراز سے سازشیں چل رہی ہیں اور پاکستانی ارباب اختیار بخوبی واقف ہیں مگر یہ ملک بے چارہ ہمیشہ سے کاروباری اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا آرہا ہے اللہ آسانیاں پیدا فرمائے گفتگو کی محفل اس دفعہ کچھ روکھی پھیکی سی لگی پرانے چلبلے ساتھی نجانے کدھر غائب ہوگئے ہیں گفتگو میں تبصرے کا مقصد ہوتا ہے کہ آپس میں نوک جھونک ہو میگزین کے متعلق نکتہ چینی اور اصلاحی تنقید کی جائے مگر یہاں ما شاء اللہ معاملہ ہی الٹ نظر آتا ہے ہر بندہ نصیحت میاں بنا گھوم رہا ہے لمبے لمبے لیکچر جھاڑے جا رہے ہیں کہ جی معاشرہ ڈوب رہا ہے لوگ یہ کر رہے ہیں وہ کر رہے ہیں بس ابھی کہ ابھی آسمان سے بجلی ٹوٹ کر گرے گی اور ان معصوم لیکچرار کے علاوہ سبھی جل کر راکھ ہو جائیں گے یار خدا کا خوف کرو، کیوں لوگوں میں مایوسیاں پھیلا رہے ہو کوئی تو اچھائی بیان کرو، کبھی تو مثبت دیکھو شاید تمہاری آنکھوں میں کسی اڑیل اونٹ کا بلا گھسا ہوا ہے تمہیں ہر چیز الٹی نظر آتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ گفتگو کی محفل میں کسی کو بھی سیاسی و معاشرتی ٹھیکیدار نہیں بننا چاہیے یہاں جس نے بات کرنی ہے صرف میگزین پر کرے معاشرتی ناہمواریوں پر ٹسوے بہانے کے لیے اور اصلاح کے لیے کہانیاں ہوتی ہیں جسے زیادہ شوق چڑھا ہوا ہے وہ کہانی لکھے ابتدائی صفحات پر محترم تفسیر عباس کی کہانی پر کسی اور کا نام لکھا ہوا تھا۔ تفسیر صاحب نے جرم و سزا کے موضوع پر لکھنے کا حق ادا کردیا دلچسپی اور تجسس آخر تک برقرار رہا یہی کسی کہانی کا خاصہ ہوتا ہے خلیل جبار صاحب بڑے لکھاری بن چکے ہیں اور اسی مناسبت سے تحریر میں نکھار آچکا ہے ہمیشہ کی طرح کورٹ کی ڈائری لے کر حاضر ہوئے اور ایک عبرتناک واقعہ قارئین کی نذر کیا بہت ہی عمدہ اور سبق آموز کہانی تھی عشنا کوثر کا ناول بڑے دلچسپ موڑ میں داخل ہوچکا ہے بلکہ اگر کہوں کہ شروع سے ہی اس ناول نے اپنے سحر میں جکڑے رکھا تو غلط نہ ہوگا شہاب کے کردار نے کہانی میں ایک نیا ٹوئسٹ ڈالا ہے اور مجھے امید ہے کہ آگے چل کر یہ کردار مزید کئی ہنگاموں کا باعث بنے گا ڈیول کے اختتام کے بعد زرین قمر ترجمے کے ساتھ حاضر ہوئیں اچھی کاوش تھی اور جملوں کا اتار چڑھائو بتا رہا تھا کہ ترجمہ پوری محنت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسیر محبت ایک نہایت ہی عامیانہ سے پلاٹ کے ساتھ لکھی گئی عجیب و غریب کہانی تھی میں حیران ہوں کہ اگر یہی عشق و محبت کے چونچلے لڑانے ہونے ہیں تو ہمارے لکھاری کشمیر جیسے پاکیزہ اور اہم ایشو کو کیوں رگیدتے ہیں غیر ذمہ داری کی بھی حد ہوتی ہے اگر آپ کشمیر کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں تو کشمیریوں کی جدوجہد پر کہانی لکھیں ان کے لہو رنگ گریباں کو موضوع بنائیں قربانیوں کی ایک طویل داستان کو زیر بحث لائیں آپ محبت و عشق جیسے گھسے پٹے ٹاپک پر کہانی لکھ رہے ہیں اور رگڑ رہے ہیں کشمیر جیسے حساس معاملے کو یہ تو سراسر زیادتی ہے اللہ ہدایت دے فاطمہ عبدالخالق نئے افق میں ایک اچھا اضافہ ہیں گویا وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کرلیا نہایت اہم موضوع پر لکھا اور خوب لکھا خاص طور پر کہانی کا اختتام بڑا ہی کمال کا تھا ہمیشہ یاد رہے گا امید ہے کہ آئندہ بھی حاضری لگواتی رہیں گی کچھ بات خوش بوئے سخن کی ہوجائے آغاز میں ہی ماجد نقوی صاحب کی موٹی تازی اور تگڑی آزاد نظم منتظمین کا منہ چڑا رہی تھی اس طرح کے انتخابات پر نوشین اقبال صاحبہ کو زور دار سیلوٹ، لگی رہیں سباس گل نے اچھا لکھا سب سے زیادہ غزل ریاض قمر اور نیئر رضوی صاحب کی پسند آئی خاص طور پر رضوی صاحب کی غزل کا آخری شعر دل کو چھو گیا سید عبداللہ توفیق صاحب آپ نے جتنی ثقیل اور گاڑھی اردو کا رگڑا لگایا واللہ ہمارے تو سر سے گزر گیا پیارے بھائی اچھی غزل لکھنے کے لیے ضروری تو نہیں کہ آپ اپنی قابلیت اور علمیت کا مصنوعی رعب ڈالنے کے لیے غیر ضروری طور پر غیر متعلقہ الفاظ استعمال کریں غالب و اقبال کی فارسی سمجھنے والا مجھ سا فقیر شخص آپ کی غزل نہ سمجھ سکا (ہاہاہاہا) بہرحال تمام ساتھیوں نے عمدہ لکھا خوش رہیں دعائوں میں یاد رکھیے گا۔
عبدالغفار عابد… چیچہ وطنی۔ محترم اقبال بھٹی اور محفل گفتگو کے تمام ساتھیوں کو میرا سلام یوم پاکستان کے حوالے سے 23 مارچ کو محمد سلیم انجم (چیف ایڈیٹر ہفت روزہ صدائے ظفر) نے چیچہ وطنی میں ایک چھوٹا سا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا اس تقریب میں میری شرکت بھی ضروری تھی دوران تقریب بھائی نوید احتشام (ڈپٹی ایڈیٹر صدائے ظفر) نے مجھے اپریل کا نئے افق دیا گھر آکر اس کا مطالعہ کیا محفل گفتگو میں سبھی دوست اپنے مخصوص انداز میں اپنی رائے کا اظہار فرما رہے تھے محترم ریاض بٹ کے لیے بہت سی دعائیں اللہ تعالیٰ صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین۔ امید ہے کسی دن جعلی رائٹرز کو بھی کٹہرے میںلائیں گے ایم حسن نظامی جو اپنے اساتذہ پر کیچڑ اچھالتے ہیں کامیابی کی منزل ان سے بہت دور ہوجاتی ہے نظامی بھائی جو آپ نے اپنے کاندھے پے بندوق اٹھا رکھی ہے ادب کے ڈاکو اس سے خوفزدہ ہیں۔ حسین خواجہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جو بھی اس حد کو کراس کرتا ہے لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار بن جاتا ہے چکوال سے فروا بٹ نے فون پر تبصرے کی تعریف کی سسٹر حوصلہ افزائی کا شکریہ بہن ادب کے فسادیوں کی نشاندہی میرا فرض ہے ان کے خلاف آپریشن رد الفساد ادارے کی ذمہ داری ہے آپ باقاعدگی سے نئے افق پڑھتی ہیں اس کے لیے لکھا بھی کریں۔ عمر فاروق، ریاض حسین قمر اور پرنس افضل شاہین اچھا لکھتے ہیں انکل مشتاق احمد قریشی، دشمن کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کر رہے تھے شبیہہ مظفر رانجھا کو آداب عرض کے بعد پہلی دفعہ نئے افق میں پڑھا کفن پوش آزادی کشمیر کی تحریک کو حوصلہ دے گی ہمارے ساٹھ ہزار فوجی شہید ہوچکے ہیں اس کے باوجود دشمن کے آگے سینہ تان کے کھڑے ہیں ہمارے یہ بہادر سپاہی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جی رہے ہیں دوسروں کے لیے جینا ہی اس زندگی کا اصل مقصد ہے باجی میرا موبائل نمبر یہ ہے اس پر رابطہ کریں۔ 0300-4319264 دوسرے حصے پر تفصیلی تبصرہ اگلے ماہ کروں گا محترم سلیم اختر نے اپنی تحریر میں ثابت کیا کہ اصل عبادت انسانیت کی خدمت ہے بہت عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے انسانیت کو زندہ کرتے ہیں بشریٰ کو اپنوں نے ٹھکرایا مگر مایوس نہیں ہوئی پختہ ارادے اس کو منزل مقصود تک لے گئے ویل ڈن بھائی سلیم، اللہ آپ کو نظر بد سے بچائے عشنا کوثر سردار کی سلسلے وار تحریر ’’ایک سو سولہ چاند کی راتیں‘‘ آٹھویں قسط پڑھی محبت کی کوئی اکائی نہیں ہوتی بعض اوقات محبت کا احساس ہونے سے پہلے محبت ہوجاتی ہے محبت کے معاملے میں انسان بے اختیار ہے اگر محبت پر کسی کا اختیار ہوتا تو جہاں زمین کی تقسیم کو ضرور ذہن میں رکھا جاتا وقار الرحمان نے اپنی تحریر بوگی نمبر 7 میں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جذبات میں کیے فیصلوں پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے تفسیر عباس نے بہت اہم موضوع پر روشنی ڈالی بھوک ایسی لڑائی ہے جس میں عزت، غیرت سب کچھ ہار دیا جاتا ہے کچھ لوگ بھوک کے نہ ہوتے بھی یکطرفہ لڑائی لڑتے ہیں اور ایسے میں اسے خود پر طاری کرلیتے ہیں بھوک کی بھی ایک حد ہوتی ہے بہت زیادہ بھوک انسان کی بھوک کو کھا جاتی ہے دہری چالیں انسانیت کو مار دیتی ہیں زرین قمر حسب معمول ایک جاندار تحریر لے کر آئیں کھلاڑی نمبر 1 اچھی کہانی تھی وسوسے کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اسیر محبت یہ تحریر ہے مہتاب خان کی محبت پر بہت لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ انسان ایک لفظ محبت کو سمجھ لے تاکہ محبت رسوائی سے بچ جائے محمد شعیب کی گلشن ہوا لہو لہو نے آنکھوں میں آنسو سجا دیے ہمارے بہادر فوجی سپاہیوں نے انسانیت کے دشمنوں کو شکست دینے کی ٹھان لی ہے پروردگار ضرور کامیابی دے گا ریاض بٹ کی جرم کہانی دستگیر شہزاد کی قیمت اور خلیل جبار کی بڑی غلطی بھی اچھی تحریریں تھیں فن پاروں میں رضوانہ صدیقی ایک بہادر عورت کی تعریف کر رہی تھی یہ حقیقت ہے کہ کوشش کرنے سے حالات کو اپنے حق میں بدلا جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں آزماتا۔ نمرہ ندیم نے اپنی تحریر ’’احساس جرم‘‘ مفاد پرستی کی محبت کوموضوع بنایا سب کچھ لٹا کر ہوش میں آنا عقل مندی نہیں عائشہ بٹ نے چندہ اورچکوری میں کامیاب محبت کی جنگ جیتنا بہت ہوتاہے محمد اسلم آزاد کی وفا پڑھی تو مایوسی ہوئی یہاں محبت کو شکست ہوئی بلکہ یہ محبت بدنامی کا باعث بنی ذوق آگہی میں سبھی دوستوں کے خیالات اچھے تھے خوش بوئے سخن میں نوشین اقبال نوشی کی یادیں، ریاض حسین قمر کی غزل بہت اچھی تھیں نیکیوں اور دعائوں کو فنا نہیں یہ ہماری نسلوں تک ساتھ چلتی ہیں اور انہیں اپنی حفاظت میں لیے رکھتی ہیں میری دعا ہے کہ اللہ آپ کی صحت، عمر، ایمان اور عزت و احترام میں اضافہ فرمائے بے انتہا خوشیاں آپ کا نصیب ہوں آمین، اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
کوئی جنت کا طالب ہے تو کوئی غم سے پریشان اقبال
ضرورتیں سجدہ کراتی ہیں عبادت کون کرتا ہے
عائشہ بٹ… واہ کینٹ۔ السلام علیکم انکل میں صرف آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے یہ خط لکھ رہی ہوں آپ نے میری پہلی کہانی شائع کر کے میرے اندر لکھنے کی ایک جوت جگا دی ہے میری کافی عرصے سے یہ خواہش تھی کہ میں بھی اپنے ابو کے پسندیدہ رسالے (نئے افق) میں کچھ تحریر کروں جی ہاں میرے ابو (ریاض بٹ) ریگولر لکھتے ہیں نئے افق میں اس سلسلے میں میرا شوق دیکھ کر میرے ابو نے میری کافی رہنمائی کی ہے تب میں یہ ٹوٹے پھوتے لفظ لکھنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم جناب اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم میری طرف سے آپ کی تمام ٹیم کو بہت بہت مبارک قبول ہو، آپ کی اور آپ کی تمام ٹیم نئے افق جریدہ کو خوب سے خوب تر بنانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ان ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ نئے افق پاکستان کا پہلے نمبر پر آنے والا رسالہ بن گیا ہے میں مسلسل اس کو پڑھ رہا ہوں دوسرے رسالوںکا مطالعہ کرنے کے بعد ہی میں اس کا فین ہوگیا ہوں 23مارچ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن دن ہے اس دن پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا اور پھر بھرپور جدوجہد سے پاکستان وجود میں آیا ہمیں اب بھی اسی جذبہ سے کام کرنا چاہیے ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے پاکستان بنانے والوں کا احسان پوری اسلامی جمہوریہ پاکستان پر ہے جس میں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں اور اپنی عبادت میں بھی کوئی خلل نہیں ہے اور پوری آزادی سے اس میں مشغول ہیں اللہ تعالی ان سب کو اجر عظیم عطا کرے، آمین، میری ایک گزارش ہے کہ آپ ایک ایسا سلسلہ شروع کریں جس میں قارئین اپنے اپنے علاقوں کے مسائل لکھیں اور ان کو حل کرنے کے لیے مشورے بھی مانگیں تاکہ جو مسائل حل ہونے ہوں وہ جلد سے جلد ہوجائیں باقی کے مسائل جو عوام نہ حل کرسکیں وہ حکومت کی ذمہ داری میں آجائیں اچھے خط کا سلسلہ پھر سے شروع کریں تاکہ جو لوگ اچھے خط لکھتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں خط لکھیں پرچہ دیر سے ملتا ہے اس کو بروقت آنا چاہیے تاکہ ہم سب قارئین اس کو سکون سے پڑھ سکیں اور اپنی رائے بھی اچھے انداز میں پیش کرسکیں، باقی کہانیاں اس دفعہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک تھیں جن میں محترم مظہر سلیم کی دہری چال، مہتاب خان کی اسیر محبت، خلیل جبار کی بڑی غلطی محمد سلیم اختر کی انسانیت وقار الرحمان کی بوگی نمبر 7 دستگیر شہزاد کی قیمت شبیہہ مظہر رانجھا کی کفن پوش ریاض بٹ کی جرم کہانی فاطمہ عبدالخالق کی آخری سانس، محمد شعیب کی گلشن ہوا لہو لہو زریں قمر کی کھلاڑی نمبر 1 بہت پسند آئیں۔ فن پاروں میں بھی احساس جرم، رحمت یا زحمت ایک تھی عورت چندا چکورہ وفا بہت ہی پسند آئیں ہیں۔ بہت سے قارئین نے میرے خط کو پسند کیا ہے جن میں قابل ذکر مجید احمد جائی، ریاض بٹ، ایم اے راحیل، سب کا شکریہ اور تمام دوستوں کا بھی میں شکر گزار ہوں، اجازت چاہوں گا ان شاء اللہ اگلے ماہ پھر آپ سب دوستوں سے ملاقات ہوگی۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ سلام خلوص امید ہے آپ سبھی احباب خیریت سے ہوں گے پرچہ اپنی تمام رعنائیوں سمیت جلوہ گر ہوا اور سبھی ساتھیوں نے اپنی پختہ اور انمول تحریروں سے اسے سجا کر بے پناہ الفتوں اور محبتوں کا ثبوت دیا اور رائٹرز نے اپنی خوب صورت اور پر معنی تحریروں سے اسے نکھارنے میں عمدہ کردار ادا کیا تبھی یہ نئے افق بن کر افق کی بلندیوں پر چمکتا ہوا ستارہ کہلایا جس کی چمک دمک ہر سو اپنا تاثر دکھا رہی ہے۔ پرنس افضل شاہین ایم اے راحیل ریاض حسین قمر، حسین خواجہ محمد رفاقت ریاض بٹ عمر فاروق ارشد عبدالغفار عابد سر طاہر قریشی صاحب تفسیر عباس بابر، وقار الرحمان، سلیم اختر، صداقت حسین ساجد، سباس گل اور دوسرے کئی ایک ساتھیوں نے اسے سجانے سنوارنے میں اہم اور موثر کردار ادا کیا بھائی عبدالغفار عابد آپ کی ساری باتیں پر شفاف آئینوں کی طرح تھیں جن میں سچائی کا بھرپور عکس دکھائی دے رہا تھا مگر جن کے اپنے چہرے جھوٹ کی سیاہی سے بد نما ہوں ان کو آئینے بھی پس آئینہ دکھائی دیا کرتے ہیں۔ دکھاوے اور جھوٹی شہرت کا جادو تو فرعون کے جادوگروں کا بھی سر چڑھ کر بولتا تھا مگر جب سچائی کا عصا ان پر پڑا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے آپ کیوں بھول گئے ہیں کہ کاغذی پھول جتنے رنگوں سے بھی سجے ہوں ان میں خوش بو کا گزر قطعی نہیں ہوسکتا پلاسٹک کے گجرے اور گلدستے کبھی گلابوں کا بدل نہیں ہوسکتے اسی طرح جھوٹی شہرت کے چراغ بھی زیادہ دیرجلا نہیں کرتے فطرت کبھی بدل نہیں سکتی۔ دانائوں کا قول ہے جس برتن میں جو چیز رکھی ہوئی ہے اس میں جب بھی ہاتھ ڈالا جائے اس میں سے وہی چیز برآمد ہوگی جو اس میں موجود ہے شہد کی مکھی اور بھڑ دونوں گلوں کا رس چوستے ہیں مگر مکھی شہد اگلتی ہے اور بھڑ زہر، بس یہ اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی فطرت کی بات ہے مگر… بندہ جو کچھ بوتا ہے آنے والے وقتوں میں وہی سب کاٹنے پر مجبور بھی ہوتا ہے کیکر کی آبیاری کر کے آنگن میں گلاب ہر گز نہیںمہکائے جا سکتے کانٹے ہی ملتے ہیں۔ نئے افق کے بقیہ سلسلے کترنیں، استعارے اور لطائف سبھی اپنی اپنی جگہ فٹ پائے میری طرف سے اس قدر عمدہ پرچہ سجانے پر ڈھیروں مبارکباد قبول فرمائیں۔
علی اصغر انصاری… منچن آباد۔ سلام عرض جناب اقبال بھٹی صاحب ایک بار پھر سے محفل میں حاضر ہوں امید کرتا ہوں ویلکم کیا جائوں گا زندگی کی کشمکش میں نئے افق کے لیے وقت ہی نہیں ملتا دراصل میں مزدور طبقے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں روز صبح جلدی اٹھنے کا تصور ہوتا ہے لیکن سونے کا نہیں ہوتا زندگی کی بھاگ دوڑ میں اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ محفل میں حاضر ہو سکوں مجھے نئے افق سے متعارف کرانے والے میرے عزیز دوست جناب بھائی خواجہ حسین ہیں اور آج سے پہلے بھی چار پانچ مرتبہ میں محفل میں حاضر ہوچکا ہوں میں لیکن اپنی مصروفیت کے باعث لکھنے سے قاصر ہوں میں نئے افق مسلسل ایک سال سے پڑھ رہا ہو جسم جب مزدوری کے درد سے چور ہو تو مطالعہ کرنے کا بھی دل نہیں کرتا لیکن اپنے فرصت کے لمحات کو میں نئے افق کے نام ضرور کرتا ہوں۔ سرورق کی کیا تعریف کرنی یہ تو ہمیشہ کی طرح دیدہ زیب ہے بھارت کا ہائیڈرو جب بم ہاہاہاہا ہم مسلمان جذبہ ایمان سے مسل دیں گے اقرا سبحان اللہ طاہر قریشی صاحب مالک آپ کو جزا عطا کرے آمین کہانیاں سبھی شاندار ہیں ہمیشہ کی طرح نئے افق کا منہ بولتا معیار ہے کسی بھی آنکھ سے چھپا ہوا نہیں ہے ریاض بٹ صاحب نمبر ون مہتاب خان نمبر ٹو سلیم اختر نمبر تھری فن پارے نمرہ ندیم نمبر ون رضوانہ صدیقی نمبر ٹو خالد جاوید نمبر تھری فرح بھٹو نمبر فور ذوق آگہی زبردست سلسلہ اور خوش بوئے سخن لا جواب شاعری پرنس افضل شاہین بہت اچھا خط ہے آپ کا بھائی ریاض حسین قمر صاحب ماشاء اللہ دل باغ باغ ہوگیا ایم رفاقت بھائی آپ تو مجھ سے بھی زیادہ مصروف نکلے اتنا مختصر خط بھیا ایم حسن نظامی جانی آپ کی اردو بہت اچھی ہے آپ نے اپنے خط کی شان بڑھا دی ہے ریاض بٹ صاحب تو کمال کے بندے ہیں اللہ پاک آپ کو لمبی زندگی عطا فرمائے آمین۔ بھائی عمر فاروق ارشد صاحب آپ نے بجا فرمایا کہ ریاض بٹ صاحب کے دشمن تو جوان ہیں خیر ایسی کوئی بات نہیں لوگ جوانی میں بھی مرتے رہتے ہیں ہم اپنے بھائی کے دشمن کو جوانی میں مار دیں گے عمر بھائی آپ کا خط سولہ آنے ہے اچھا جی تو آخری خط استادوں کے استاد عبدالغفار عابد صاحب کا ہے جی سبحان اللہ حضور آپ نے تو لا جواب تبصرہ کیا ہے اتنی میٹھی میٹھی انسلٹ کرنا تو کوئی آپ سے سیکھے جناب آپ نے تو چور کی داڑھی میں تنکا والی بات کی ہے خیر میری تو دعا ہے کہ مالک ادب کے دشمنوں کو غیرت عطا کریں آمین بے شک کچھ لوگ ادب کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اس امر میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ کچھ لوگ فرضی ناموں سے لکھ رہے ہیں جعلی خط والا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور اب آخر میں تلاش گمشدہ بھائی عامر زمان عامر جناب مہر پرویز ڈھلو شیر ملک صاحب پیارے منشی صاحب پلیز دو ماہ بعد ضرور حاضری لگوا دیا کرو آپ احباب کی کمی محسوس ہوتی ہے تنقید تو سبھی کرلیتے ہیں لیکن تبصرہ کوئی کوئی کرنا جانتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہو، آمین۔
حسین خواجہ… منچن آباد۔ محترم طاہر قریشی و مکرمی اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم محفل دوستاں میں ایک بار پھر حاضر ہوں امید کرتا ہوں میری آمد سے احباب کو خوشی ہوگی۔ سرورق منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ جاذب نظر بھی تھا میرا خیال ہے کہ آج کے دور میں گیسٹوفل کی 99 فیصد لوگوں کو ضرورت ہے کیونکہ ملاوٹ والی اشیا کھا کھا کر انسانی معدے خراب ہوچکے ہیں اپریل 2017ء کا آنچل اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا بہنوں کے لیے بہترین شمارہ ہے پیہم خیال کی اشاعت پر محترم مشتاق احمد قریشی صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد آپ سلامت رہیں ہزار برس اور ہر برس کے دن ہوں ہزار برس آمین لگتا ہے اپریل 2017ء حجاب لینا ہی پڑے گا اقبال شاپنگ سینٹر نام ہی کافی ہے دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب بھارت کے ہائیڈروجن بم کا ذکر کر رہے ہیں جناب بہت اعلیٰ بہت خوب بس اب تو بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے پاک چین دوستی زندہ باد پرنس افضل شاہین صاحب بہت خوب،جناب ریاض حسین قمر آپ نے لا جواب تبصرہ کیا ہے برادر محمد رفاقت آپ کا مختصر خط اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ مصروف ہو ہر دل عزیز ایم حسن نظامی صاحب آپ نے بہت زبردست تبصرہ کیا ہے آپ کی آمد نے چارچاند لگا دیے ریاض بٹ صاحب مجھے آپ کی اگلی کہانی کا بڑی بے صبری سے انتظار ہے آپ کا تبصرہ بہت اعلیٰ ہے نئے افق کے سینئر رائٹرز اور ہر دل عزیز جناب عبدالغفار عابد آپ کا تبصرہ قابل داد ہے واہ بھئی واہ آپ نے تو کمال ہی کردیا آپ جیسے اہل ادب کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے آپ لوگ تو نئے افق کا سرمایہ ہیں میرے محسن جناب طاہر قریشی صاحب اقرا میں ہماری رہنمائی فرما رہے ہیں اللہ پاک آپ کی عمر و صحت میں اضافہ فرمائے آمین، انٹرویو ابن آس بے شک کسی تعارف کا محتاج نہیں جرم کہانی ریاض بٹ صاحب لا جواب اور سبق آموز تحریر ہے آخری سانس محترمہ فاطمہ عبدالخالق کی زبردست تخلیق ہے انسانیت سلیم اختر صاحب کی بہت عمدہ کہانی ہے کفن پوش مظہر رانجھا کی تحریر مثالی ہے محترمہ مہتاب خان کی کہانی اسیر محبت غضب کا شاہکار ہے فن پارے احساس جرم بہن نمرہ ندیم صاحبہ کی کہانی بہت شاندار ہے اور ایک تھی عورت محترمہ رضوانہ صدیقی نے عورت کی حقیقت بڑے احسن طریقے سے بیان کی، ذوق آگہی میں بہن گل مہر ہر بار کی طرح اس بار بھی بازی لے گئیں جاوید احمد صدیقی صاحب افتخار احمد رومی انصاری اور ایس حبیب خان لاجواب انتخاب ہیں خوش بوئے سخن آل ہٹ عامر زمان صاحب کی تلاش جاری ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close