Naeyufaq May-17

دستک

مشتاق احمد قریشی

ناموس رسالت 
سوشل میڈیا ہو، برقی ذرائع ابلاغ ہو یا اخبارات سب جگہ ناموس رسالت کے بارے میں طرح طرح کے بیانات و اعلانات ہو رہے ہیں لیکن متعلقہ افراد کی کہیں کوئی گرفت نہیں ہو رہی اور نہ ہی سوشل میڈیا پر کسی قسم کی قد غن لگائی جا رہی ہے بلکہ طرح طرح کے بیانات سے اہل ایمان کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے اللہ اور رسول اللہ سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ہے اللہ کے رسول پر تو ہماری جان بھی قربان۔ ناموس رسالت کا مسئلہ خالص دینی معاملہ ہے، دیگر تمام معاملات چاہے وہ سیاسی ہوں، معاشرتی ہوں، ثانوی حیثیت رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و محبت کا تقاضہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے آپ سے اپنے مال اپنے ماں باپ اپنی اولاد سے کہیں زیادہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے تب ہی اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات تمام انبیا کرام اور مصلحین سے مفرد ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیا و رسول آئے وہ سب کے سب ایک خاص مدت اور خاص ماحول اور خاص علاقوں کے لیے آئے جب ان کے آنے کے تقاضے بدلے تعلیمات بھی غیر موثر ہوگئیں دوسرے یہ کہ ان کے تمام ہی پیرو کار اپنے انبیاء کی تعلیمات کی درست طریقوں سے حفاظت نہیں کرسکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری پیغمبر کے طور پر تشریف لائے انہیں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ اعزاز بخشا کہ آپ کو امام الانبیا اور خاتم المرسلین کے اعزاز سے نوازا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات رہتی دنیا تک کے لیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا ماخذ اللہ کی کتاب آخری قرآن کریم ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ کریم نے لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی قرآن کریم ایک لفظ تو کیا ایک نقطے کی کمی بیشی یا کسی بھی قسم کی تبدیلی کے بغیر اپنی اصل صورت میں موجود ہے یہ کلام الٰہی کا ہی کمال ہے کہ یہ اپنی تمام تر خوب صورتی اور طوالت کے باوجود مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ رہنے والی عظیم کتاب ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اس عظیم کتاب میں اپنے محبوب اور آخری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جگہ جگہ فرمایا ہے، جیسا کہ سورۃ الاحزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے ترجمہ: ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ (الاحزاب: ۵۷) اسی سورۃ کی اس سے پہلی آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب بندے کے بارے میں ارشاد فرما رہا ہے اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ شخصیت و حیثیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے ایمان والو، تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔‘‘ (الاحزاب ۵۶) اس آیت مبارکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اعلیٰ (آسمانوں) میں حاصل ہے وہ مرتبہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ خود اور اس کے تمام فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا و تعریف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے ان کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام اہل زمین کو حکم صادر فرمایا ہے کہ وہ اس کے محبوب ترین بندے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام بھیجیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہوجائیں، ایسی عظیم ترین شخصیت جس کے لیے رب کائنات خالق و مالک خود ان پر درود و سلام بھیج رہا ہے اس کی عزت و تکریم جتنی کی جائے کم ہے ایسی عظیم ترین اور اللہ کی محبوب ترین شخصیت پر کوئی کس طرح انگلی اٹھائے ان کو کس طرح ایذا پہنچانے کی کوشش کرے جیسا کہ الاحزاب کی آیت (۵۷) میں ارشاد باری تعالیٰ ہو رہا ہے اللہ کو ایذا پہنچانے کا مطلب ان افعال کا ارتکاب کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نا پسند فرماتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو کون کس طرح ایذا پہنچا سکتا ہے؟ جس کا حدیث قدسی میں ارشاد ہوا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ’’ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کی رات و دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الغاشیۃ) مشرکین، یہود و نصاریٰ اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں کلیسا کے چند زر خرید کتے سوشل میڈیا پر اسلام اور داعی اسلام کے خلاف بھونکتے ہیں یہ سب کے سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جو اپنے آقائوں کی ہدایت کے مطابق ناموس رسول پر حملہ آور ہو رہے ہیں، اللہ کے محبوب رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو ایذا پہنچانا دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا الفاظ ادا کرنا، اور کسی بھی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کرنا دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانا ہے ایسے تمام لوگوں کے لیے ہی شدید وعید آئی ہے لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا آپ پر بہتان باندھنا، ناجائز تنقید و توہین کرنا اور ایسی باتیں منسوب کرنا جن کا ارتکاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’نبی نہ اپنی طرف سے کچھ کہتا ہے اور نہ کچھ اپنی طرف سے کرتا ہے۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل تمام حرکات و سکنات اللہ کے ہی حکم کی ترجمان اور نمائندہ ہیں ان پر کسی قسم کی حرف زنی کرنا دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ پر حرف زنی کرنا ہے اللہ جو صاحب قدرت ہے تمام کائنات کا خالق و مالک ہے ہر ہر چیز پر ہر طرح سے قادر ہے جو لوگ آج اپنی اوقات سے بڑھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بھی جیسی بھی ناپاک مذموم حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ اپنی آخرت تو خراب کر رہے ہیں اپنی دنیا بھی خراب کر رہے ہیں ایسے تمام لوگ جو کسی بھی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا ہجو کے مرتکب ہوئے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے یہاں کوئی رحم نہیں کوئی معافی نہیں ان کا جرم نا قابل معافی ہے ان کا مقدر عبرت ناک موت ہے صرف موت۔ کسی بھی طرح کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ ایسے خبیث مجرموں کی سزا معاف کرے یا ان میں تخفیف کرسکے ملکی آئین میں بھی 2 جون 1992ء کو آئین پاکستان میں ایک متفقہ قرار داد شامل کی تھی جس میں ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی ہے توہین رسالت کے مجرموں کے لیے قرآن و سنت اور ملکی قانون کے مطابق سزائے موت ہے ناموس رسالت خالص مذہبی دینی معاملہ ہے اس کے لیے بحیثیت مسلمان بحیثیت پاکستانی ہر مسلمان پاکستانی کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے کہ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کو ملکی قانون کے مطابق جلد از جلد قانونی سزا دلا دی جائے یہ ہر مسلمان پاکستانی کا فرض بنتا ہے سوشل میڈیا کو دراصل ایسے ہی نا ہنجار لوگوں نے اپنی عیاشی کا اڈہ بنا لیا ہے جس کا جو جی چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے بلا تکلف اپنے سفلی خیالات و افکار کا اظہار کرنے لگتا ہے ناموس رسالت کی حفاظت ہر پاکستانی مسلمان کا فرض اولین ہے ایسے تمام بلاگرز اور کلیسا کے جوتے چاٹنے والے کتوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور عبرت ناک سزا قانون کے مطابق دلوانا ضروری ہے تمام بزرگ علما کرام کا متفقہ فیصلہ ہے داعی اسلام پر حملہ آور ہونے والے ان خبیثوں کی پشت پر عالمی کلیسا ہے یہی وجہ ہے جب ان کے لیے خطرات پیدا ہوئے تو انہیں اپنی پناہ گاہ میں بلایا گیا ہے ہمارے حکمران مار پیچھے پکار پر گامزن ہیں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا صرف موت ہے۔ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والوں کو اللہ رسوا کن عذاب سے دوچار کرے گا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت کا معاملہ نہیں کیا جاسکتا ہر مومن مسلمان پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام و تعظیم فرض ہے اس کے بغیر اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جگہ جگہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم و احترام کا حکم دے رہا ہے اس کے حکم کے مطابق بھی اور بطور صاحب ایمان مسلمان ہونے کے ہمارا فرض ہے کہ ہم خود ہر طرح سے احترام رسالت کریں اور دوسروں کو ترغیب دیں اور توہین کے مرتکین کی سرکوبی کریں اللہ تعالیٰ ہماری ہمارے رسول مکرم کی ہمارے وطن عزیز کی ہر طرح حفاظت فرمائے، آمین

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close