Naeyufaq Apr-17

فن پارے

ادارہ

فن پارے

احساس جرم
نمرا ندیم

وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اور لاڈلی اولاد تھی . وہ ایک راہ راست پر چلنے والی لڑکی تھی . کیونکہ اسے ہمیشہ اپنی حدود میں رہنا سکھایا گیا تھا . لیکن ہاں اس کے والدین نے پڑھائی کے حوالے سے کبھی بھی اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی بلکہ ان کی تو خواہش تھی کے وہ اچھی سی میڈیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے اور اللہ کے فضل و کرم سے اس نے میڈیکل یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا . جس کی وجہ سے اس کے والدین اس سے بہت مسرور ہو رہے تھے . اور اس کے والدین نے اس خوشی میں اسے ایک مہنگا سا موبائل تحفے میں دیا ساتھ میں ایک نصیحت بھی کی۔
بیٹا یہ ضرورت کی چیز ہے تو اسے ضرورت کے تحت ہی استعمال کرنا ” وہ ہمیشہ کی طرح اپنے والدین کی نصیحت کو خاموشی سے سنتی رہی اور ان کی اس نصیحت پر عمل پیرا ہونے کا عہد خود سے باندھنے لگی۔.
اب وہ یونیورسٹی بھی جانے لگی تھی اور آج اس کا پہلا دن تھا . ایک سادہ سے عبایا میں خود کو ملبوس دیکھ کر اسے کچھ شرمندگی سی محسوس ہوئی .کیوں کے اس کے سامنے کھڑی لڑکیاں یونیورسٹی میں مہنگے کپڑے ، جینز اور شرٹ میں ملبوس کھڑی سب کی توجہ کا مرکز بن رہی تھی اور سب کو دعوت نامہ دیتی پھر رہی تھی . اور عنایہ ان سب کے بیچ خود کو کمتر محسوس کرتے ہوئے کلاس روم کی طرف چلی جاتی اور اپنے والدین کی اٹھارہ سالہ محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتی اور پھر iسی طرح اس کی یونیورسٹی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے .
ایک دن وہ اپنے کمرے میں بیٹھی بستر پر نوٹس پھیلائے پڑھ رہی تھی . تبھی اچانک اس کے موبائل کی اسکرین پر ایک انجانا سا نمبر جگمگانے لگا. لیکن رانگ نمبر ہونے کی وجہ سے اس نے موبائل بند کردیا . یہ تو تھا ایک سمجھدار ، عقلمند اور ایک اچھی لڑکی ہونے کاثبوت۔
اب اس کے امتحان ہونے والے تھے اور وہ پڑھائی میں مصروف ہو گئی تھی اور وہ کافی دیر تک جاگ کر پڑھنے لگی تھی تبھی ایک رات اس کے موبائل کی اسکرین پر دوبارہ سے وہ نمبر جگمگانے لگا. اس نے پہلے تو سوچا وہ فون نہ ریسیو کرے اور اس نے پھر اس رانگ نمبر کو اگنور کردیا لیکن آج اس نے موبائل آف نہیں کیا تھا . لیکن جب موبائل دوبارہ بجا تو اس نے بنا کچھ سوچے وہ کال رسیو کر لی اور آگے سے ایک لڑکے کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی اور وہ اپنے کمرے کا جائزہ لینے لگ گئی کہ کہیں کوئی ہے تو نہیں . یہاں اس کی خاموشی کی وجہ سے لڑکے نے دوبارہ اسے پکارا۔
’’ہیلو عنایہ ، پلیز مجھ سے بات کر لیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
اب وہ انجان لڑکا عنایہ کا نام لے رہا تھا . جسے سن کر وہ چونک گئی تھی اور اسے لگا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کردی ہے یہ کال اٹھا کر . اور اس نے وہ کال جھٹ سے مسترد کردی اور وہ دوبارہ اپنی کتابیں لے کر پڑھنے لگ گئی . لیکن اب اس سے بالکل پڑھا نہیں جا رہا تھا اس کا دماغ بار بار یہ سوچنے پر مجبور ہو رہا تھا کہ وہ لڑکا کون تھا ؟ جسے اس کا کا نام بھی معلوم تھا . تھوڑی دیر بعد دوبارہ اس کا موبائل بجا لیکن اب اس رانگ نمبر سے کال نہیں بلکہ ایک میسج آیا تھا .
میں جانتا ہوں آپ عنایہ ہیں دیکھیں پلیز مجھ سے بات کرلیں فون پر . میں جانتا ہوں ایسی حماقت کر کے میں آپ کی نظروں میں بہت غلط ثابت ہو جاونگا لیکن میں کیا کروں میں نے جب سے آپ کو دیکھا ہے میرے دل پر میرا کوئی اختیار نہیں رہا ہر جگہ بس آپ ہی کا چہرہ دکھائی دیتا ہے سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے .
ایسا پیغام عنایہ کے پاس پہلی بار آیا تھا . اور وہ اس میسج کو پڑھنے کے بعد ایک عجیب سے احساس جرم میں مبتلا ہوگئی تھی .اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے اسے زمین سے اٹھا کر ساتویں آسمان پر بٹھا دیا ہو . وہ پوری رات اس میسج کے بارے میں سوچتی رہی یہاں تک کے وہ صبح یونیورسٹی بھی نہیں گئی اور پھر دوبارہ رات کو اس انجانے نمبر سے فون آنے لگا اور اس نے جھٹ سے کال ریسیو کی جیسے کہ وہ اس کال کی ہی منتظر تھی .
وہ فون اٹھاتے ہی پوچھنے لگی .
” آپ مجھے کیوں پسند کرتے ہیں اور وہ اس کے اس سوال کے جواب میں تعریفوں کے پل بناتا گیا اور وہ ان تعریفوں کے پلوں میں ڈوبتی چلی گئی اور اب روز رات یہی ہونے لگا وہ اسے فون کرتا اور پوری رات دونوں فون پر بات کرتے اب عنایہ کا پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا تھا اور وہ یونیورسٹی سے آ کر فورا کمرے میں بند ہوجایا کرتی تھی اب وہ نمازیں بھی قضا کرنے لگی تھی .
اس کے ماں باپ نے یہ سوچ کر نظر انداز کر دیا کہ شاید پڑھائی سخت ہے . اور ایک دن اس لڑکے نے اس سے ملنے کی خواھش ظاہر کی جس کے باعث عنایہ کے اوسان خطا ہوگئے اور اس کے ہاتھ سے موبائل نکل کر بیڈ پر گرا اور وہ سکتے میں آگئی لیکن دوسری طرف سے آوازیں آرہی تھی۔
کیا ہوا عنایہ ؟ کیا ہوا عنایہ ؟ تم ٹھیک تو ہو؟‘‘
خود کو ہوش میں لاتے ہوئے عنایہ نے پھر فون اپنے کان سے لگایا وہ اس کی ڈری ڈری سی آواز سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کی اس بات سے کتنی خوفزدہ ہوئی ہے .
پھر اس لڑکے نے کہنا شروع کیا .
” ارے میری پیاری عنایہ تمھیں تو ایک ذرا سا مذاق برداشت نہیں میں تم سے محبت کرتا ہوں یار ، کوئی ہوس نہیں رکھ کے بیٹھا دل میں جو تم سے ایسی جاہلانہ خواہش کرونگا ، میں بنت آدم حوا کی پاکیزگی اور سادگی سے محبت کرتا ہوں . یونیورسٹی میں پہلے دن جب تمھیں دیکھا تھا نہ سیاہ عبایامیں ملبوس اور تمہاری حیاسے بھری آنکھوں کو تبھی میں تم پر اپنا دل ہار گیا تھا اگر مجھے ایسی ہی خواہش رکھنی ہوتی تو میں تم سے بات ہی نہیں کرتا بلکہ ایسی ہی لڑکی کو ڈھونڈتا جو میرے ساتھ ڈیٹ پر جاتی .
کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں ؟
وہ شیریں بھرے لہجے میں اس سے اب دو ٹوک سوال کر بیٹھا تھا .
اور وہ لرزتی ہوئی آواز کے ساتھ جواب دینے کی تمہید باندھ رہی تھی .
اور پھر اس نے یک دم کہنا شروع کیا . .
’’مجھے تم پر یقین ہے مجھے تم سے ، تمہاری ہر بات سے ، تمہارے ہر احساس سے ، بلکہ خود تم سے بہت محبت ہے . بلکہ مجھے تو یقین ہی نہیں تھا کہ کوئی میری اس پاکیزگی سے اتنی محبت کریگا اب اگر تم مجھے ملنے کے لئے بھی بلاؤ تو مجھے تم پر اس قدر یقین ہے کے میں تم سے ملنے تک آجاؤں۔ اللہ نے آج مجھے بہت بڑی دولت سے نوازا ہے تمہاری صورت میں۔‘‘
اب وہ خاموش ہوگئی تھی اور فجر کی اذانیں ہونے لگی تھیں اور اس لڑکے نے بھی کال کٹ کردی تھی .
اگلی صبح جب عنایہ کلاس روم میں داخل ہوئی تو ہر چہرہ اسے تجسس بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور سامنے بورڈ پر انتہائی سمجھ آنے والے َالفاظ میں لکھا تھا .
Anaya is a fool gril” ”
(عنایہ ایک بیوقوف لڑکی ہے )
اور کہیں دور سے اس کے کانوں میں اس کی خود کی آواز گونجنے لگی .
” میں تم سے محبت کرتی ہوں ” .
وہ سب جو کل رات اس نے ایک نامحرم سے کہا تھا اس کا کہا ہر ایک َالفاظ تیز َآواز میں چل رہا تھا کسی کے موبائل میں .
اور سامنے سے ایک لڑکے سمیت تمام کلاس فیلوز تالیاں بجاتے ہوئے اس کے چاروں اطراف میں دائرہ بنا کر کھڑے ہوگئے تھے اور سب ایک ہی بات کہے جا رہے تھے .
” واہ عنایہ ہمیں نہیں پتا تھا کہ نقاب اور عبایا میں ملبوس لڑکیاں ایسا خراب کردار رکھتی ہیں ، ارے حماد تو تمہارے ساتھ (prank) کر رہا تھا جو کہ اس کی عادت ہے ہمیشہ سے ہم سب کا بھرم توڑنے کی . ہم نے شرط لگائی تھی کے وہ تمھیں نہیں پھنسا سکتا پر تم نے تو تمام لڑکیوں کو ہرا دیا .
پھر کہیں دور سے وہ شخص چلتا ہوا اس کے قریب بڑھ رہا تھا اور جب وہ اس کے قریب آیا تو اس نے ایک زور سے قہقہہ لگایا اور پھر کہنا شروع کیا .
اوہ تم لڑکیاں . ویل میں تم سے محبت، بھول تھی تمہاری . جب تم اپنے ماں باپ کی سگی نہیں ہوئی تو میری کیا ہوگی .
وہ صرف اتنے سے الفاظ کہہ کر اسے پل بھر میں مٹی کا دھیر بنا گیا تھا .
وہ اس کی محبت میں مٹی کا پل ہی تو بن چکی تھی اور اس کچے پل کو ایک دن مٹی کا ڈھیر تو ہونا ہی تھا .
اس نے گھر میں آتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اور خود کو ملامت کر رہی تھی .
عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس نے فورا اٹھ کے نماز پڑھنے کے لئے وضو کیا .اور مصلیٰ بچھا کر نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرنے لگے۔
اے اللہ آپ تو جانتے ہیں نہ ایک عورت درد سہہ لیتی ہے مگر اپنی توہین نہیں . آنسو اس کی تکلیف میں اتنے نہیں نکلتے جتنا اسے وہ الفاظ رلاتے ہیں جس میں اس کی توہین کی گئی ہو، اسے توڑا گیا ہو . لیکن ہاں شاید یہ محبتیں ہمیں اس لیے توڑتی ہیں تاکہ جب ٹوٹے ہوئے وجود کے ساتھ جھکیں تو اللہ سامنے دکھائی دے۔
وہ اللہ تب بھی وہاں موجود تھا جب سرابوں میں تھے . وہ تب بھی وہاں تھا جب میں بت سجائے دل میں آسمانوں میں اڑ رہی تھی اور تو اب بھی یہاں موجود ہے جب میں ٹوٹے ہوئے پروں کے ساتھ زمین پر گر کر چکنا چور ہوگئی ہوں . آخر ہم کیوں نہیں تھام لیتے تیرے مضبوط سہارے کو آخر یہ ٹوٹنا اور بکھرنا کب تک ؟
ہم لڑکیاں چاہیں تو آج بھی اپنے راستے ہدایت والوں کی طرف موڑسکتی ہیں. یقین جانئے ! رب کی مقرر کردہ حدود میں ہی سکون ہے ۔
…٭٭…

رحمت یا زحمت
بحیرا نیلم

’’اماں یہ بارش کب رکے گی یہ چھت ٹپکنا کب بند ہو گی۔ مجھے سونا ہے دیکھ میرا سارا بستر گیلا ہو گیا۔ میں کیسے سوئوں گی۔‘‘ اب پانچ سالہ صالحہ ماں کی گود میں دبکی بیٹھی پوچھ رہی تھی حیران سی اداس سی۔
’’نہیں گڑیا تم اداس مت ہو دیکھنا ابھی بارش رک جائے گی پھر تم آ رام سے سو جانا۔‘‘ چھ سالہ فہد مدبر سا بنا بہن کو تسلی دے رہا تھا اور سکینہ کے پاس آنسوئوں کے علاوہ کیا جواب تھا بھلا۔
’’رانی یہ بارش تواللہ کی رحمت ہوتی ہے سکینہ نے سمجھانے کے سے انداز میں کہا اور کیچڑ اور پانی میں لت پت کمرا دیکھ کر ٹھنڈی آہ خارج کی۔
ایک کمرے پر مشتمل مٹی کا گھر بارش آنے کی وجہ سے تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
جگہ جگہ چھت ٹپکنے کے باعث کمرے کی ہر چیز بارش میں بھیگ چکی تھی کمرے میں بھی اچھا خاصا پانی جمع ہو چکا تھا۔
کمرے کی ہر شے پانی میں تیرنے کی وجہ سے عجیب منظر پیش کر رہی تھی۔
بارش اس زور سے جاری تھی کہ پانی نکالنے کا عمل بھی بیکار تھا ننھی صالحہ کب سے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ جوڑے دعا مانگ رہی تھی کہ اللہ میاں بارش کو روک دے کہ اللہ میاں بچوں کی بہت جلد سن لیتا ہے یہ اس کی اماں کہتی تھی۔ اماں اللہ میاں تو بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں نا ان کی دعا فوراً سن لیتے ہیں تو میری دعا کیوں نہیں سن رہے کیا میں اچھی بچی نہیں ہوں۔
’’بتائو نا اماں۔‘‘ صالحہ نے ننھے ہاتھوں سے ماں کا چہرہ اپنی جانب کھینچائوں اپنے معصوم سوالوں کا جواب مانگ رہی تھی ماں کا صبر جواب دے گیا اور وہ اپنے دونوں بچوں کو گلے سے لگا کر خوب روئی۔
پتا نہیں خدا کی رحمت بعض اوقات زحمت کیوں بن جاتی ہے۔ اس گھر سے دو تین محلے چھوڑ کر ایک اور گھر تھا جہاں آبادی نا ہونے کے برابر تھی اس گھر میں کچھ بھی ہو جاتا کسی کو کانوں کان خبر نا ہوتی آج وہ گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔
ارے سنو رشید! اکرم کے گھر کل رات آگ لگ گئی ہجوم سے ملی جلی آوازیں آرہی تھیں۔ ماں باپ تو گھر میں نہیں تھے چھوٹے چھوٹے تین بچے تھے اور ساتھ میں ان کی گیارہ سال کی بڑی بہن تھی آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
چراغ الٹنے کی وجہ سے آگ لگ گئی بچے چیختے چلاتے رہے پر کسی نے آواز نا سنی سب اپنے اپنے گھروں میں تھے سارا سامان جل گیا۔
کوئی بہت تفصیل سے بتا رہا تھا۔
ارے ہاں دیکھو خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے کل رات سبھی بارش کی وجہ سے پریشان تھے کیا پتا تھا اسی تیز بارش میں جو کہ اچانک آ گئی اسی آگ کو بجھانے کے لیے آ گئی تھی۔
خدا نے معصوموں کی جان بچا لی ارے ہاں ہاں ماں باپ تو کسی عزیز کی وفات میں گئے ہوئے تھے ان کو کیا خبر تھی کہ گھر میں قیامت آ چکی ہے بارش نا آتی تو نہ جانے کیا ہو جاتا۔ ہاں بی بی خدا سب کا رکھوالا ہے ہر کوئی اپنا اپنا ایمان تازہ کر رہا تھا۔
بے شک خدا بچوں کی بہت جلد سن لیتا ہے ان کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں تھا پر خدا نے سن لی بے شک وہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے خدا کے ہر کام میں کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے ہے انسان کی نا قص عقل ہے جو دور اندیش نہیں اور سمجھ نہیں پاتے کہ کھیل اور بے شک میرے رب کے کاموں میں مصلحت ہوتی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجیے گا۔
…٭٭…

ایک تھی عورت
رضوانہ صدیقی

زند گی میں دو چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک محبت اور دوسرا یقین۔ جس کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں وہ ایک کامیاب زند گی گزار سکتا ہے ان دونوں جذبوں کے ساتھ ہنستے ہنستے آگ کا دریا بھی پار کرسکتا ہے۔ کل تک وہ سمجھتی تھی کہ وہ یقین اور محبت کے جذبوں سے مالامال ہے اور آج تک جتنی زندگی اس نے گزاری۔۔ انہی کے سہارے گزاری۔۔ اس کا پیارا سا گھر۔ شوہر۔ بچے۔۔ اس کی کل کائنات۔۔ وہ برسوں سے اپنی اسی کائنات کے مدار میں گھوم رہی تھی۔۔اس کے مدار کی کشش وہی محبت تھی۔ .. جو اسے اپنوں سے تھی۔۔ اور وہ یقین جو اپنوں پر تھا۔۔ یہ ایسی طاقتور کشش تھی
جو کبھی بھی اس کو اپنے مدار سے ہٹنے نہیں دیتی تھی۔ بھٹکنے نہیں دیتی تھی۔ اس کی کائنات کے باہر کیا ہے کون ہے۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھی بس وہ اپنے محور کے گردگھومتے خوش تھی مطمئں تھی۔
اللہ نے اسے چار بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائی تھیں۔
بچے چھوٹے تھے تو ان کی نگہداشت ان کی تعلیم وتربیت اس نے جی جان سے کی کہ کہیں ان کے کھانے پینے میں۔ کوئی کمی نہ آجائو ان کو اور تمام گھر والوں کو حفظان صحت کے مطابق خوراک ملے۔۔ کون سے بچے کو کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے اس کو کیا دینا ہے پھر ان کا تعلیمی دور شروع ہوا توگھر کی اورشوہر کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم پر جی جان سے توجہ دینے لگی
میاں جی توصبح کے گئے رات کوگھر آتے۔ ساری ذمہ داریاں اسی پر تھیں۔ اس نے گھر کا ماحول ایسا بنایا کہ بچوں کو خود بخود پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا وہ بچوں کی نوٹ بک خود چیک کرتی ۔ اسکول کے متعلق پوچھتی ان کو پڑھاتی۔ ان کی ٹیچرز کے متعلق اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں کے متعلق بھی ان سے بات چیت کرتی اچھی باتوں میں ان کی حوصلہ افزائی کرتی غلظ باتوں پر ان کو سمجھا کر منع کرتی کہ وہ کیوں غلط ہیں۔
آہستہ آہستہ زندگی گزرتی رہی کیونکہ زندگی کا کام تو گزرنا ہے۔
بچے بڑی کلاسوں میں آگئے اب ان کو اپنے تعلیمی میدان میں یہ طے کرنا تھا کہ ان کو کس شعبے کا انتخاب کرنا ہے اور جس شعبے کا وہ انتخاب کریں گے اس میں وہ کامیابی بھی حاصل کرسکیں گے یا نہیں۔ ان چیزوں کو اس نے ہی دیکھنا تھا۔
ان کے ٹیسٹ ان کے ایڈمیشن اتنے مراحل سب ساجدہ ہی دیکھتی۔ میاں جی تو اپنے کاروبار میں مصروف رہتے بس بچوں کی کامیابیوں کی خبریں سن کر مسکراتے اور خوش ہوتے۔
بڑے بیٹے نے جب اپنی انجینئرنگ مکمل کرلی تو ساجدہ کو ایسا لگا جیسے یہ اسی کی کامیابی ہے۔ دوسرے بیٹے نے جب ایم بی بی ایس مکمل کیا تو اسے لگا وہ ڈاکٹر بن گئی۔
باقی بچے ابھی زیر تعلیم تھے۔ اصغر مزید تعلیم کے لیے باہر چلا گیا بڑے بیٹے یعنی احمر نے شادی کے لیے اپنی کلاس فیلو کو پسند کرلیا۔ ردا بہت قابل اور پیاری بچی تھی اس لیے ساجدہ اور اس کے میاں جی اصغر حسین دونوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔
اور اس کی شادی کرکے خوشی خوشی دلہن گھر لے آئے۔ جلد ہی ان کے گھر میں چھوٹے بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ احمر ایک بیٹی اور ایک بیٹے کا باپ بن گیا ساجدہ کے آنگن میں تو بہار آگئی ان بچوں میں اس کی جان تھی اور بچے بھی اس کے دیوانے تھے۔ اس مقام پر اسے لگا کہ بس اب زندگی مکمل ہوگئی۔ اس نے جتنی تکلیفیں اٹھانی تھیں اٹھالیں اب بس اس کے عیش وآرام کے دن ہیں۔ وہ خوشیوں کے جھولے میں جھولتی رہی۔
اس کی بیٹی۔ غزل جو بھائیوں سے تو چھوٹی تھی لیکن اب وہ بھی ما شاء اللہ بڑی ہو گئی تھی۔ اس کا احساس ساجدہ کو اس وقت ہوا جب ایک شادی کی تقریب میں خواتین اس سے پوچھتی رہیں کہ بہن آپ نے اپنی بیٹی غزل کا رشتہ کہیں کردیا ہے۔ اب بھلا وہ اس کا کیا جواب دیتی اس نے تو ابھی بیٹی کی شادی کے متعلق سوچا ہی نہیں تھا۔ اس کو اب ایک فکر سی لاحق ہوگئی کہ بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کرنا ہے۔ دوسرے دن بھائی آئے تو اس نے ان کے سامنے اپنی پریشانی ظاہر کر دی۔۔ بھا ئی غزل اب بڑی ہوگئی ہے۔ مجھے اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کرنا ہے۔
بھائی نے بہن کی پریشا نی کو دیکھا تو کہا۔ ’’ساجدہ ! تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ اللہ ان شاء اللہ بہتر کرے گا اور مجھے تو غزل ہمیشہ سے اچھی لگتی ہے۔ تم اصغر بھائی سے مشورہ کرلو تو میں اپنے بیٹے حماد کاباقاعدہ رشتہ لے کر آؤں گا۔‘‘
بھائی کی بات سن کر ساجدہ خوش ہوگئی۔ کیونکہ حماد بہت قابل اور پڑھا لکھا لڑکا تھا اور بہت اچھی جاب تھی اس کی۔ اس نے بھائی سے خوش ہوکر اپنے شوہر سے بات کرنے کی ہامی بھرلی۔۔ دو تیں دن تک تو اسے اصغر حسین سے بات کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔۔۔ کیونکہ وہ رات گئے تھکے ہارے گھر آتے اور صبح جلدی جلدی تیار ہوکر نکل جاتے۔۔ با لا خر ایک دن آفس جاتے ہوئے ساجدہ نے انہیں پکڑ ہی لیا : بات سنیں اصغر ! میں نے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے کچھ دیر بیٹھ جائیں آرام سے ، اصغر حسین بڑی جلدی میں تھے لیکن پھر بھی بیٹھ گئے اور بولے۔
کیا بات ہے جلدی بتاؤ مجھے بس جلدی نکلنا ہے ساجدہ نے انہیں بتایا کہ غزل کے لیے بھائی جان نے اپنے بیٹے حماد کے رشتے کے لیے کہا ہے مجھے تو بے حد پسند ہے حماد بہت اچھا بچہ ہے ماشاء￿ اللہ۔۔ یقینا آپ کو بھی اس رشتے سے انکار نہیں ہوگا۔
ساجدہ کی بات سن کر اصغر حسین کے چہرے کے تاثرات یک دم تبد یل ہوگئی ماتھے پر بل ڈال کر سختی سے بولے۔
کیا مطلب تمہیں پسند ہے ؟ غزل میری بیٹی ہے اس کی شادی کہا ں کرنی ہے اس بات کا فیصلہ میں کروں گا۔ تم کون ہوتی ہو یہ فیصلہ کرنے والی؟۔۔ اور تمہا رے بھائی کے گھر ؟۔۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ بھی تمہاری طرح اجڈ گنوار بیک ورڈ ہیں سب۔‘‘ ساجدہ کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔۔ اصغر کا یہ روپ اس نے آج پہلی بار دیکھا۔۔ وہ مزید بولے۔
’’یہ میرا گھر ہے اپنے بچوں کی زندگی کے اہم فیصلے میں خود کروں گا۔‘‘ اس کے زخمی دل پر آخری وار کر تے ہوئے وہ کمرے سے نکل گئے۔
ساجدہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے درو دیوار ہل رہے ہیں۔۔ پیار کاجو تاج محل اس نے برسوں کی ریاضت اور محنت سے کھڑا کیا تھا وہ لرز رہا تھا۔۔ یقین اور محبت کا جو تاج اس نے اپنے سر پر سجایا ہوا تھا وہ گر کر کرچی کرچی ہو چکا تھا اور اس یقین اور محبت کی ٹوٹی ہوئی کرچیاں اس کے دل کو لہو لہان کر رہی تھیں۔ وہ بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹتی ہوئی بیڈ تک لے گئی اور اپنے جسم کو بمشکل اس پر گرادیا۔ اصغر حسین کی باتوں کی گونج اس کے کانوں کو زخمی کیے دے رہی تھیں۔۔ تم کون ہوتی ہو؟ یعنی میں کوئی بھی نہیں۔۔ یہ میرا گھر ہے۔۔ تم جیسے اجڈ گنوار۔۔ یعنی میں کچھ بھی نہیں۔۔ اجڈ گنوارہوں میں ؟۔۔۔۔۔کیونکہ میں نے اپنی زندگی صرف اپنوں کے لیے وقف کردی اسے لگا جیسے اسنے اپنی ساری زندگی بے کار گزار دی۔ اس کی زندگی کا حاصل کیا ہے۔۔ یہ الفاظ جو آج اس کے محبوب شوہر نے اس کے لیے کہے؟۔۔اب وہ کیا کرے۔ کس لیے زندہ رہے؟
اور اب اس کے جینے کا کیا مقصد ہے۔۔ اے میرے اللہ بس بہت جی لی میں۔۔ بس مجھے اپنے پاس بلالے۔۔ کافی دیر تک وہ ایسی ہی منفی سوچیں لیے لیٹی رہی۔۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے رہے۔۔ سر دکھنے لگا اور حلق میں کانٹے چبھنے لگے وہ اٹھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس منہ سے لگالیا۔۔ تھوڑے سے حواس بجا ہوئے۔۔ اسے باہر سے بچوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں وہ اٹھی۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا تو لاؤنج میں اس کی بہو ردا دونوں بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔ اس کا ایک سالہ پوتا اپنی ماں کی گود میں بیٹھا تھا۔ دادی کو کمرے سے نکلتا دیکھا تو خوش ہوگیا اس کی بھوری آنکھیں چمکنے لگیں ہمک ہمک کر دادی کی گود میں آنے کی کوشش کرنے لگا۔ ساجدہ نے بڑھ کر اسے لے لیا اور اپنی گود میں لے کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔ اس کے چہرے پر افسردگی چھائی ہوئی تھی بچے نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے دادی کو دیکھا لیکن جواب میں اسے مسکراہٹ نہ ملی تو وہ بھی افسردہ ہو گیا اپنے منے منے نرم ہاتھ دادی کے افسردہ چہرے پر پھیرنے لگا۔ شاید اس کا معصوم ذہن سوچ رہا تھا اس طرح دادی کے چہرے کی اداسی دور ہوجائے۔ بچے کا پیا ر بھرا لمس محسوس کرکے۔ساجدہ کے چہرے پر خود بخود مسکراہٹ پھیل گئی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے جلدی سے آنسو صاف کیے پوتے کے ننھے ہا تھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیے دادی کو ہنستے دیکھ کر بچہ نے بھی کل کاریاں مارنا شروع کردیں دوسالا پوتی انعم بھی قریب آگئی اور اپنی توتلی زبان میں دادی کو اپنی گڑیا دکھاتے ہوئے باتیں کرنے لگی ساجدہ نے دونوں بچوں کو خود سے قریب کرکے اپنے بازؤں میں بھر لیا۔۔ اپنے سینے سے لگاکر خوب پیار کرنے لگی۔۔ اس کی مایوسی ختم ہوگئی۔۔ یہ ہیں میری زندگی کا حا صل میرے جینے کی وجہ۔۔ میں ان کے سہارے جیوں گی
یہ ہے ایک عورت کی کہانی بلکہ ہر عورت کی کہانی۔۔ جو شدید ما یوسی میں بھی جینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتی ہے اور شدید اندھیرے میں بھی کوئی نہ کوئی رستہ تلاش کر لیتی ہے۔۔ اور یہ رستہ دکھانے والا۔ اس کا مہربان اللہ ہے جو کسی کو بھی اندھیروں میں بھٹکنے نہیں دیتا۔۔ رستہ ڈھونڈنے والوں کو ضرور اچھی راہ دکھاتا ہے۔
…٭٭…

رزق
محمد خالد جاوید

یہ جولائی 1994ء کی بات ہے کہ میری پوسٹنگ بطور ایس ڈی او(سب ڈویژنل آفیسر) ریور سروے (دریائی سروے)
سرگودھا میں ہوئی ..چارج لئے ابھی چند دن ہوئے تھے ..خبر ملی کہ دریاے سندھ نے چشمہ بیراج کے قریب .کلور کوٹ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے .اور ایک رات میں دریا .شہر کا چوتھائی حصہ نگل چکا ہے .مکانوں کی چھتوں پر سوے ہوے لوگوں کو اٹھنے کا موقع بھی نہیں ملا درجنوں مرد ،خواتین …بچے موت کی آغوش میں جا چکے ہیں ..افسران بالا کا حکم ملا ..کہ آج ہی اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچو…اور.سروے کر و ..تا کہ شہر کو بچانے کے لئے ایک (پروٹیکشن وال ).بنائی جا سکے ..اپنے ماتحت سب انجینئرز کے ساتھ میانوالی ..چشمہ بیراج سے ہوتے ہوے جب .کلورکوٹ پنہچے تو رات کے بج رہے تھے .. اور شہر کے تمام مرد و زن ایک ہائی سکول میں پناہ لے چکے تھے
ریسٹ ہاؤس میں ہمارے رہنے کا انتظام تھا ..مگر ساری رات لوگوں کے ساتھ دریا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوے گزر گئی ..دریا تلوار کی طرح زمین کا کٹاؤ کر رہا تھا اور ہر گھنٹے بعد کئی ایکڑ کا ٹکڑا جس میں مکان دکانیں اور سرکاری دفاتر بھی شامل تھے .دریا برد ہو رہے تھے …بہت کرب میں رات کاٹی ۔
یہاں دریا کی چوڑائی 24 کلو میٹر تھی ..جس میں پہلے8 کلومیٹر کی چوڑائی میں پانی چل رہا تھا ..اس کے آگے .بیلا )جنگل3 کلومیٹر چوڑا ..اور پھر اگے پانی …صبح جب میں اپنی ٹیم کے ساتھ ایک کشتی کرایے پر لے کر 8 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بیلے(دریائی جنگل جس میں سرکنڈے کاہی اور کانٹوں بھرے جنگلی خود رو پودے ) شامل تھے
میں داخل ہوا .تا کہ بیلا عبور کر کے ..دوسری جانب سے سروے شروع کروں ..دن کے 9 بجے تھے گرمی ایسے تھی جیسے 12 بجے ہوں ..ہمیں بیلے میں داخل ہو کر احساس ہوا کہ یہ کتنا خوفناک گھنا جنگل ہے… دن میں رات کا سماں لگ رہا تھا اپنے ایک فٹ آگے سے بھی کچھ نظر نہ آتا تھا پودوں کی اونچائی بھی3 فٹ سے کم نہ ہو گی
10 کلومیٹر کا فاصلہ3 گھنٹے میں ہو سکتا تھا … مگر ہمیں اس جنگل میں داخل ہوئے۲ گھنٹے گزر چکے تھے ..شام کے ۴ بج رہے تھے مگر ابھی تک ہم باہر نہیں نکل سکے تھے …بوتلوں میں لیا گیا پانی ختم ہو چکا تھا ..کانٹے لگ لگ کے ہاتھ اور پاؤں زخمی ہو گے .خون رسنے لگا .پاؤں اٹھ نہیں رہے تھے بلکہ گھسٹ رہے تھے .تھکاوٹ سے بدن چور چور تھا
ہمیں شدید خوف محسوس ہونے لگا .کہ اس دریائی بیلے میں سے کوئی بھی درندہ ہم پر حملہ آور ہو سکتا تھا .خاص طور پر
دریاے سندھ کے اس خوفناک بیلے کا سانپ جس کی کئی کہانیاں سن رکھی تھیں … اگر ہم شام سے پہلے اس خوفناک جنگل سے نہ نکلے تو موت یقینی ہے … یہ احساس ہماری ہمّت توڑ رہا تھا ..شام ہونے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ رہ گیا تھا ..
اور ہم راستہ بھٹک چکے تھے …کہاں گوجرانوالہ …سرگودھا ..میانوالی … کلور کوٹ ..دریاے سندھ ..دریاے سندھ کا انتہائی گھنا اور خوفناک بیلہ ..بیلے میں بے یارو مددگار زخموں سے چور کھڑے افراد …خوف اور سراسیمگی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے
میں نیچے بیٹھ گیا .اور آنکھیں بند کر کے اس ہستی کی طرف متوجو ہوا ..
اے دوجہاں کے پالنے والے ..اے رحیم کریم مولا …جس کا کوئی نہ ہو اسکا تو ہوتا ہے ..میں تو تیرا گنہگار بندا شاید اس لایق نہیں کہ تیرے آگے ہاتھ پھیلا سکوں .شرم آتی ہے اپنے اعمال کو دیکھ کر …مگر میرے ساتھیوں میں سے کوئی تو تیرا
پیارا ہو گا تو .اس کے صدقے میں ہماری مدد فرما ..مولا ..تجھ سے نہ کہوں تو کس سے فریاد کروں …اے دو جہانوں کی حفاظت فرمانے والے …ہم تیرے گنہگار بندے ..جھولی پھیلا کر ..تجھ سے ..تیرے کرم کی بھیک مانگتے ہیں
تو دلوں کے راز جانتا ہے ..تو جانتا ہے کہ میں اپنی ماں سے کتنا پیار کرتا ہوں اور وہ مجھ سے …تجھے میری ماں کے قدموں کا واسطہ …اپنے خزانہ غیبی سے ہماری مدد فرما
جب دعا ختم کی تو احساس ہوا کہ میں اونچی آواز میں ہچکیوں سے رو رہا ہوں …بہت دفعہ دعا مانگی ہو گی …مگر جو
دعا دریاے سندھ کے اس بیلے میں مانگی آج تک اس کی کیفیت سے باہر نہیں نکل سکا
ساتھیوں سے کہا کہ جب تک بیہوش ہو کر گر نہیں جاتے ..ہمت نہیں ہارنی…اٹھہ کر پھر پاؤں گھسیٹنے لگے ..
کچھ دیر گزری ہو گی کہ آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گیں ..سامنے ایک منظر جیسے خواب دیکھ رہے ہوں
تقریبا ? ہزار مربعہ فیٹ کی جگہ کو جنگل کاٹ کر صاف میدان کی شکل دی گئی تھی …کافی تعداد میں اونٹ بندھے
تھے ..سامنے کئی چارپائیاں بچھی تھیں ،،جن پر چمکیلے کپڑے پہنے مرد و خواتین بیٹھی
تھیں اور سامنے کئی گوشت اور زردے کی دیگیں پک رہی تھیں . اس سے پہلے کہ مرد ہماری طرف دوڑیں ہم زمین پر گر کر بیہوش ہو چکے تھے
…٭٭…

چندہ اور چکوری
عائشہ بٹ

وہ ایک حبس زدہ شام تھی۔ یعنی ایسی شام ہرگز نہیں تھی کہ کوئی یہ گنگناتا ’’ہوسکے تو میرا ایک کام کرو‘ شام کاایک پہر میرے نام کرو۔ بہرحال فرہاد اپنی امی کی دوائی لینے موٹر سائیکل پربازار جارہاتھا کہ اسے شور سنائی دیا۔ کوئی لڑکی کہہ رہی تھی… وہ میرا پرس لے گئے وہ میر اپرس لے گئے۔ ہے کوئی ان کوپکڑنے والا۔جب فرہاد کو صورت حال کاادراک ہوا تو اس نے اپنی موٹر سائیکل تھوڑی دور جاتی موٹر سائیکل کے پیچھے دوڑادی۔ پرس چھیننے والوں نے اپنے پیچھے آندھی اور طوفان کی طرح آنے والی موٹرسائیکل دیکھی تو اپنی موٹر سائیکل کی رفتار بڑھادی۔ فرہاد کو اندازہ ہوگیا کہ اب ان کوپانا آسان نہیں… لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے دماغ حاضر رکھا اوران کو جالیا۔
فرہاد نے اپنی موٹر سائیکل اسٹینڈ پرکھڑی کی اورا ن سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔
لیکن اس کی حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ کیونکہ … ایک ایسی بات ہوگئی جس کی توقع کم از کم فرہاد کوتو نہ تھی۔ یہ بات تو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی کہ وہ پرس اس کو واپس کرتے ہوئے یہ بات اس کی سماعت کی نذر کریں گے۔
’’بھائی ہمیں معاف کردو‘ دراصل ہم مجبور ہوگئے تھے‘ ہماری ماں اسپتال میں داخل ہے‘ اچانک دوائیوں کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑگئی ہے‘ دوچار دوستوں سے ادھار مانگے لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ فوری طور پر ہمارے ذہن میں یہی خیال آیا ۔‘‘یہ تو فرہاد نے محسوس کرلیاتھا کہ یہ اناڑی ہیں اور یہ ان کی پہلی واردات ہے۔ جب انہوں نے اپنے پیچھے ایک موٹر سائیکل سوار کو آتے دیکھا تو ان کے ہاتھ پائوں پھول گئے تھے۔
فرہاد نے ان سے پرس لے کر اس کے اندر ایک طاہرانہ نظر ڈالی تو اسے احساس ہوگیا کہ لڑکوں نے پرس کو کھولا نہیں۔
دونوں شکل سے بھائی لگتے تھے‘ دونوں کارنگ سانولااور نین نقش واجبی سے تھے۔ وہ شکل سے گھبرائے ہوئے لگتے تھے او روہ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ ان کے اردگرد بھیڑ اکٹھی ہوگئی تھی۔
پولیس کے حوالے کرو‘ ایسے غنڈوں کالحاظ نہیں کرنا چاہیے‘ کچھ لوگ لڑکوں کو مارنے کے لیے آگے بڑھے‘ لیکن فرہاد ان کی راہ میں دیوار بن گیا… اور ان کو دوائی بھی لے کر دی… فرہاد کواس دن تنخواہ ملی تھی۔ اس نے پرس لڑکی کے حوالے کیا۔ وہ بار بار اس کا شکریہ ادا کررہی تھی اور فرہاد اس سے یہ کہہ رہاتھا کہ کوئی بات نہیں ‘ یہ تو میرا اخلاقی فرض تھا۔
بات آئی گئی ہوگئی لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ تقدیر کے ترکش میں ابھی کئی تیر باقی ہیں۔
کوئی دو ہفتے بعد فرہاد گھر میں بیٹھاہواتھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
اس کی امی باورچی خانے میں تھیں۔ شاید کچھ پکارہی تھی باروچی خانے سے امی کی آواز آئی۔
’’بیٹا دیکھنا تو دروازے پر کون ہے؟‘‘
اور…! جب فرہاد نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا۔
دروازے پر ایک بھاری بھرکم عورت کے ساتھ وہی لڑکی سمٹی سمٹائی نگاہیں نیچے کیے کھڑی تھی۔
’’السلام علیکم بیٹا…ہم آپ کے پڑوس میں نئے کرائے دار آئے ہیں۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔ اندر آجائیں آنٹی…‘‘فرہاد نے ان کو راستہ دیتے ہوئے کہا پھر…پڑوسی ہونے کے ناتے ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔
اب لڑکی اکیلی بھی آنے جانے لگی تھی اور اس کانام بھی فرہاد کے کانوں تک پہنچ گیاتھا۔ نہ صرف نام (صنوبر) معلوم ہوگیا تھا بلکہ اس کے گھریلو حالات سے بھی آگاہی ہوگئی تھی۔ صنوبر کے ابو کسی سرکاری محکمے میں ملازم تھے او ران کی ٹرانسفر اس شہر میں ہوئی تھی۔
سفید پوش تھے۔ گزارے لائق تنخواہ تھی۔ صنوبر ان کی اکلوتی اولاد تھی۔
ادھر فرہاد کے والد خدابخش اور فرہاد کاچھوٹا بھائی عماد ایک کار حادثے میںجاں بحق ہوگئے تھے۔ بس تقدیر ہارگئی تھی‘ غلطی بس والے کی تھی‘ یافرہاد کے ابو کی اس کی وجہ جاننے کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ یہ حادثہ فرہاد کی والدہ کو بیوہ اورفرہاد کو بھائی سے محروم کرگیاتھا۔ یہ مکان اچھے وقتوں میں اس کے ابو نے کچھ جمع پونجی سے اور کچھ قرض لے کربنالیاتھا۔ جواب ان ماں بیٹے کے تصرف میں تھا۔ قرض بھی اتر گیاتھا۔
فرہاد نے ایف اے کیا ہواتھا۔ اب ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کررہاتھا۔
آنے جانے کے لیے اس نے موٹر سائیکل لے لی تھی۔فرہاد نے صنوبر کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی کے جذبات دیکھے تھے۔ جب سے صنوبر کے والدین کویہ پتہ چلاتھا کہ فرہاد نے صنوبر کا پرس لڑکوں سے واپس دلوایا تھا وہ فرہاد کے گرویدہ ہوگئے تھے۔
بات تو کسی فلم کی سچویشن والی بن گئی تھی۔ لیکن… فرہاد کو یہ بات اچھی نہیں لگ رہی تھی… کہ جو کام اس نے اپنا اخلاقی فرض سمجھ کر کیاتھا اس کے بدلے وہ ہیرو ہیروئن بن جائے۔ ویسے بھی اس نے سوچ لیاتھا‘شادی اپنی والدہ کی پسند سے کرے گا۔
وہ ان کو کسی امتحان میں ڈالنا نہیں چاہتاتھا۔ اور نہ ہی خود کو کسی آزمائش سے دوچار کرنے کاخواہشمند تھا۔
ایک دن رات کاکھانا کھانے کے بعد اس کی والدہ نے اسے اپنے پاس بلایا‘ اور مسکرا کر اس کوایک ٹک دیکھنے لگیں۔
’’کیا دیکھ رہی ہیں امی! کیاپہلے کبھی نہیں دیکھا؟ فرہاد نے بھی مسکر اکر کہا۔
’’روز دیکھتی ہوں… بھلاتمہیں دیکھے بغیر مجھ کوچین آسکتا ہے لیکن آج ایک خاص مقصد کے لیے دیکھ رہی ہوں۔‘‘
’’خاص… مقصد…؟ ‘‘ فرہاد نے حیران نگاہوں سے اپنی امی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… تم ماشاء اللہ جوان ہوگئے ہو… اور میں بوڑھی…‘‘
’’امی یہ کیابات ہوئی؟‘‘
’’یہی تو ساری بات ہے… بیٹا۔‘‘ اس کی امی نے معنی خیزنگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آج آپ معموں والی باتیں کررہی ہیں امی! لیکن یقین کریں میں نے کبھی کوئی معمہ حل نہیں کیا۔ نہ ہی مجھے دائیں سے بائیں اشاروں سے کوئی دلچسپی ہے۔ ‘‘ فرہاد نے ہنستے ہوئے کہا۔
وہ واقعی حیران تھا کہ آج اس کی امی کیسی باتیں کررہی ہیں ۔
’’بیٹا‘ مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا بیٹااتنا بدھو ہے۔ ارے نادان میرا مقصد ہے تم ماشاء اللہ جوا ن ہوگئے ہو۔ تمہارے سر پر سہرا دیکھنے کی خواہش ہے۔ اب اس عمر میں مجھ سے گھر کا کام نہیں ہوتا۔‘‘
’’اوہ… تو یہ بات ہے۔ امی میں تو پریشان ہورہاتھا‘ ٹھیک ہے آپ اپنی خواہش پوری کرلیں۔‘‘
’’تم… کوئی اپنی پسند بتائو نہ۔‘‘
’’میری کوئی پسند نہیں… جو آپ پسند کریں گی‘ وہی میری پسند ہوگی۔‘‘ فرہاد نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’واہ… یہ کوئی گڈی گڈے کاکھیل نہیں ہے‘ زندگی تم نے گزارنی ہی‘ میں توتمہاری پسند کو ترجیح دوں گی۔‘‘
’’امی… اس مسئلے کو کشمیر کامسئلہ نہ بنائیں… بس بسمہ اللہ کریں۔‘‘ فرہاد نے گویا بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
’’چلوٹھیک ہے تم نے اپنے سارے حقوق مجھے دے دیئے ہیں۔ تو مجھے ہی ہاتھ پائوں مارنے پڑیں گے۔‘‘
اگلے دن سے ہی یہ کام شروع ہوگیا۔
ایک رشتے کروانے والی خالہ گھر میں آنے جانے لگی۔ دودن بعد ہی اس کی امی کوئی رشتہ دیکھنے خالہ کے ساتھ چلی گئیں۔
وہ اتوار کادن تھا‘ فرہاد گھر میں اکیلا تھا۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی‘ فرہاد نے دروازہ کھولا تو اپنے روبرو صنوبر کوپایا۔
وہ کوئی کھانے کی چیز لائی تھی۔ شیشے کی دو خوبصورت پلیٹیں تھیں… جو اس نے ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی تھیں۔
’’کیا لائی ہیں؟‘‘
’’واہ…آپ کو کیوں بتائیں؟‘میں تو اپنی آنٹی کے لیے دودھ والی سوئیاں لائی ہوں۔‘‘ صنوبر نے بھولپن سے کہا۔
’’واہ… واہ کیا کہنے… ا س کو کہتے ہیں کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ صنوبر نے چور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔’’آنٹی کہاں ہیں ؟‘‘
’’وہ تو گھر میں نہیں ہیں۔ آپ مجھے سوئیاں دے جائیں۔ انشاء اللہ ان تک پہنچ جائیں گی۔‘‘
’’میرے خیال میں دودھ کی رکھوالی بلے کوبٹھانا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’توپھر لے جائو… جب تمہاری آنٹی آئیں تو اس وقت آنا۔‘‘ فرہاد نے رکھائی سے کہااور دروازہ بند کرنے لگا۔
’’ٹھہریں… ٹھہریں‘ میں تو خدا کی قسم مذاق کررہی تھی۔ یہ لیں سوئیاں رکھ لیں۔ میں برتن بعد میں لے جائوں گی۔‘‘
فرہاد نے پلیٹیں لے لیں‘ دراصل ایک پلیٹ میں سوئیاں تھیں جبکہ دوسری پلیٹ سے اس کوڈھانپاگیاتھا۔ وہ چلی گئی۔ ویسے ایک بات تھی کہ جونہی فرہاد نے ہاتھ کے اوپر پلیٹیں رکھیں تو اس کی ہتھیلی کسی کاغذ سے ٹکرائی تھی۔
پلیٹیں رکھ کر جب ا س نے کاغذ کو دیکھا… تو یہ ایک چھوٹا سا خط ثابت ہوا۔
فرہاد نے آرام کرسی پربیٹھ کر اسے پڑھا… تو لفظوں کی زبان میں جو تحریر اس کی آنکھوں کے سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی۔
فرہاد صاحب…!
آپ کے دل میں کیا ہے ؟ یہ تو مجھے نہیں پتا… لیکن میں تو اسی دن سے آپ کو پوجنے لگی ہوں جس دن آپ نے مجھے میر اپرس واپس دلوایا تھا۔ عورت کیا چاہتی ہے‘ تحفظ…‘محبت… توجہ… مجھے آپ اچھے لگے ہیں‘ ابھی میں اپنے جذبات آپ تک نہ پہنچاتی لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کی امی آپ کے لیے رشتہ دیکھنے گئی ہیں‘ میں آپ کے سوا کسی کے ساتھ شادی نہیں کروں گی… موقع غنیمت جان کر اپنے دلی جذبات ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں آپ تک پہنچانے کی جسارت کررہی ہوں۔
فقط!
آپ کی دیوانی …!
فرہاد یہ چھوٹا سا خط پڑھ کر کافی دیر یونہی بیٹھا رہا۔ پھر… اسے پرزے پرزے کرکے پانی میں بہادیا۔ وہ نہیں چاہتاتھا کہ دیوانی کے یہ الفاظ کسی کے ہاتھ لگیں اور اس کی بدنامی ہو… ا س نے اپنے دل کو ٹٹولا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا… ہاںالبتہ … اس نے سوچا کہ اگر یہ خط اسے کچھ دن پہلے ملتا… تووہ صنوبر کے بارے میں کچھ سوچتا… لیکن اب تو دیر ہوچکی تھی۔ وہ اپنی ماں کو کہہ چکاتھا‘ اپنے حقوق‘ دے چکاتھا اس نے سوچا… جونہی موقع ملا‘ وہ صنوبر کو سمجھائے گا وہ پاگل تھی … یاچکوری تھی‘ جو چھپ چھپ کے چندا سے پیار کررہی تھی۔
جب اس کی امی واپس آئیں ‘ تو اس نے سوئیاں ان کے سامنے رکھیں… تووہ بولیں ۔
’’یہ کون لایا ہے بیٹا…؟‘‘
’’امی… صنوبر لائی تھی۔‘‘
’’صنوبر… ‘اس کی امی نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اسے کیسے پتہ چلا کہ مجھے دودھ والی سوئیاں پسند ہیں۔‘‘
’’مجھے کیا پتہ‘ امی آپ نے ہی شاید کبھی اس سے یااس کی امی سے ذکر کردیاہوگا۔‘‘
’’ہاں…یہ ممکن ہے۔ بہرحال بڑی اچھی بچی ہے اللہ نصیب اچھے کرے۔‘‘
اب فرہاد اپنی امی کو کیسے بتاتا کہ صنوبر کے دل میں تو… بہرحال اس وقت بات آئی گئی ہوگئی۔ البتہ فرہاد دل میں یہ دعائیں مانگ رہاتھا کہ کاش کوئی ایسی لڑکی اس کی شریک حیات بنے جو اس سے زیادہ اس کی امی کی خدمت کرے‘ ان کاخیال رکھے۔
حالات کی جھیل میں پہلا پتھر اس وقت گرا جب رشتے کروانے والی ماسی نے آکر بتایا کہ لڑکی والے کل فرہاد کو دیکھنے آرہے ہیں۔
اس کے جانے کے بعد جب شام کو فرہاد گھر آیا تو اس کی امی نے یہ بات اسے بتائی۔
بات سنتے ہی فرہاد ہنس کربولا۔
’’پھرتو مجھے کل بیوٹی پارلر جانا ہوگا۔‘‘
’’وہ کس لیے …؟‘‘ اس کی امی نے حیران نگاہوں سے اسے گھورا۔
’’دیکھیں نہ آج کل لوگ ظاہری شکل وصورت پر مرتے ہیں‘ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ آپ کے بیٹے کوریجیکٹ کرجائیں۔ اس لیے اگر میں چہرہ پالش کروالوں تو …‘‘ اس کی امی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے‘ توتو میرا چاند ہے… لیکن ہے بڑا شریر۔‘‘
’’بہرحال امی… دیکھتے ہیں کیاہوتا ہے ؟ ویسے وہ کل کس وقت آئیں گے۔ ‘‘ فرہاد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’میں نے شام کاوقت دیا ہے‘ تم کام سے آتے وقت چائے کے لوازمات لے آنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے امی‘ یہ شادی بیاہ بھی کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
اگلے دن شام کو تین فیشن ایبل عورتیں آئیں۔ ان کی سج دھج دیکھ کر یوں محسوس ہوتاتھا جیسے وہ رشتہ دیکھنے نہیں آئیں بلکہ کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔
یہ مرحلہ بھی ہو اکے جھونکے کی طرح گزر گیا۔
دو دن بعد اس کی امی نے پھر اسے اپنے پاس بٹھایا ہواتھا۔
’’بیٹا… انہو ں نے رشتے پرآمادگی کااظہار کیا ہے لیکن …!‘‘
’’امی… اگر سچ پوچھیں تو مجھے اس لفظ سے چڑہے یہ زندگی کے ہرموڑ پر کسی ٹریفک کانسٹیبل کی طرح آکھڑا ہوتاہے۔ بہرحال یہ لفظ ڈکشنری میں ہے تو اسے استعمال تو کرنا پڑے گاہی۔ آپ بتائیں انہوں نے کیا کہا ہے ۔‘‘
’’دیکھو…بیٹا وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مکان ان کی بیٹی کے نام لگادیں‘ تو انہیںاس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی‘ انہیں اعتماد کی بنیاد پر رشتہ کرنا چاہیے نہ کہ شرطوں کی بنیاد پر۔‘‘
’’بیٹا… لڑکی والے اپنی بیٹی کا تحفظ چاہتے ہیں۔ پھر میں نے کونسا سدا رہنا ہے‘ آج ہوں تو کل نہیں ہوں گی‘ یہ سب کچھ تمہارا اور تمہاری ہونے والی بیوی کا ہی ہے نہ ۔‘‘
’’نہیں امی یہ نہیں ہوگا۔ انہیں اگر اس قسم کا تحفظ ہی چاہیے تو وہ حق مہر کی رقم زیادہ لکھوالیں۔‘‘
بہرحال یہ بیل مونڈھے نہ چڑ ھ سکی۔
فرہاد کے ابو کی اپنے رشتے دارو ں سے شروع سے نہیں بنی تھی‘ اس لیے وہاں کسی کے گھر رشتے کے لیے نظر ڈالنا ممکن نہیں تھا۔
’’اس کی امی ویسے ہی اپنی پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے خاندان سے کٹ گئی تھیں۔
ادھر صنوبر کی شکل اس دن کے بعد سے نظر نہیں آئی تھی۔ البتہ اس کی امی آتی رہتی تھیں‘ اس کے ابو سے بھی سرراہ ملاقات ہوجاتی تھی۔ وہ کئی دفعہ اسے گھر آنے کی دعوت دے چکے تھے‘ مگر…فرہاد ٹال مٹول سے کام لے رہاتھا۔
فرہاد دیکھ رہاتھا کہ اب اس کی امی زیادہ تن دہی سے لڑکی ڈھونڈنے کی تگ ودو میں لگ گئی ہیں۔ آخر ایک دن اس سے نہ رہاگیا‘ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنی امی کے پاس جابیٹھا‘ اوربولا۔
’’امی میں تو کہتا ہوں آپ کچھ دنوں کے لیے آرام سے بیٹھ جائیں… ویسے بھی ہر کام کے ہونے کاایک وقت مقرر ہے۔‘‘
’’ارے بیٹا… تم نے سنا نہیں‘ خدا پرندوں کو بھی رزق دیتا ہے لیکن گھونسلے میں نہیں رکھتا‘ رشتے ڈھونڈنے میں تو جوتیاں گھس جاتی ہیں۔ دیکھو ابھی میری جوتیاں سلامت ہیں۔‘‘
پھراس کی امی نے اسے ازراہ مذاق اپنی جوتیاں دکھائیں‘ فرہاد ہنس کررہ گیا۔
آخر ایک جگہ بات پکی ہوگئی… سارے مراحل طے ہوگئے۔
صرف شادی کے دن طے کرنا باقی تھے لڑکی والوں نے کہا۔
’’آپ ایک ماہ بعد آئیں توہم آپ کو تاریخ دے دیں گے۔‘‘
وہ تو نکاح ابھی کرنا چاہتے تھے ۔
’’مگر فرہاد اور اس کی امی نے انہیں اس بات پر قائل کرلیا کہ بارات کے دن ہی نکاح بھی ہوجائے گا۔
یہ سب کچھ تو ہوگیا…!
اب شادی کی تیاری کرنی تھی۔ اس سلسلے میں صنوبر کی امی پیش پیش تھیں۔ کبھی پشاور کے چکر لگ رہے ہیں کبھی پنڈی کے‘ انہی تیاریوں میں دس دن گزر گئے۔
زیور کے لیے فرہاد کی امی کو فکر کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی‘ کیونکہ ان کے پا س تقریباً سات تولے زیور تھا… جوانہوں نے اسی مقصد کے لیے سنبھال کررکھا ہواتھا۔
ایک دن فرہاد کو یوں محسو س ہوا… جیسے وقت رک گیاہو‘ جی ہاں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔
فرہاداپنی ڈیوٹی سے واپس آرہا تھاکہ رستے میں ایک برقع پوش خاتون نے اسے رکنے کااشارہ کیا۔
پہلے فرہاد کا دل چاہا کہ وہ نکل جائے لیکن پھر اس نے سوچا‘ کہ ہوسکتا ہے خاتون کسی مصیبت میں ہوں اور انہیں مدد کی ضرورت ہو۔
اس نے موٹر سائیکل برقع پوش خاتون کے پاس روک دی۔ ایک پائوں سڑک پررکھا… اور بولا۔
’’محترمہ فرمائیں میں آپ کی کیا مدد کرسکتاہوں؟‘‘
’’میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ آپ کسی ہوٹل کے فیملی کیبن میں مجھے لے جائیں۔ وہیں میں ساری بات آپ کے گوش گزار کروں گی۔‘‘
’’دیکھیں محترمہ‘ میری امی گھر پر میرا انتظار کررہی ہوں گی‘ آپ کو جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دیں۔‘‘
’’دیکھیں‘ میں آپ کو آپ کی امی کا ہی واسطہ دیتی ہوں‘ پلیز میری بات مان لیں‘ بات ذرا لمبی ہے‘ یہاں لب سڑک کہنا ممکن نہیں ہے۔ پھرہم خواہ مخواہ مشکوک ہوجائیں گے۔ ‘‘اس کی بات معقول تھی۔
’’پھراس نے اسے اس کی امی کاواسطہ دیاتھا۔
خیر…قصہ مختصر تقریباً دس منٹ بعد وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ خاتون نے نقاب اٹھادیاتھا وہ تو ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ اس سے دو تین سال چھوٹی ہوگی۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ لیکن اگر وہ خوبصورت نہ بھی ہوتی تو فرہاد کو اس سے کیا غرض ہوسکتی تھی‘ وہ تو یہ چاہتاتھا کہ لڑکی جلد از جلد اس سے جو کچھ کہنا چاہتی ہے کہے تاکہ وہ اپنی امی کے پاس پہنچ سکے۔
یہاںبیٹھنے کے لیے کچھ نہ کچھ منگوانا بھی ضروری تھا۔
فرہاد نے چائے اور سموسوں کا آرڈر دے دیا۔
چائے اور سموسے آنے تک لڑکی خاموشی سے اپنے ناخنوں کو دیکھتی رہی ‘ جیسے ان سے درخواست کررہی ہو… کہ وہی سب کچھ کہہ دیں۔ لیکن ظاہر ہے یہ ممکن نہیں تھا۔
چائے پینے کے دوران لڑکی نے اپنے لب کھولے۔
فرہاد صاحب… مجھے افسوس ہے کہ میںنے آپ کا قیمتی وقت ضائع کیا… بات ہی ایسی ہے… کہ ا س کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا… دراصل میں وہی ہوں جس کے ساتھ آپ کا نصیب باندھاگیا ہے۔ یعنی رشتے کے لیے ہامی بھری گئی ہے۔ میر انام غزالہ ہے۔‘‘
فرہاد پہلے حیران ہواتھا کہ لڑکی کو اس کانام کیسے معلوم ہوا‘ لیکن اب بات کلیئر ہوگئی تھی‘ وہ پوری توجہ اور دل جمعی سے لڑکی کی طرف متوجہ ہوگیاتھا۔ جوکہہ رہی تھی۔
’’آپ خوبصورت بھی ہیں‘ ہینڈسم بھی ہیں ‘ شریف بھی لگتے ہیں‘ کسی بھی لڑکی کاآئیڈیل اور پیار ہوسکتے ہیں لیکن میرا معاملہ ذر امختلف ہے میں دراصل راحیل سے بچپن سے پیا ر کرتی ہوں۔ راحیل میرا تایازاد ہے۔ چونکہ زمین اور جائیداد کی وجہ سے میرے ابو کااپنے بڑے بھائی یعنی میرے تایا کے ساتھ جھگڑاچل رہاہے‘ اس لیے میرا رشتہ باہر دیا جارہا ہے لیکن آپ سمجھ دار لگتے ہیں‘ میری بات بخوبی سمجھ رہے ہوں گے‘ اگر میں آپ کی بیوی بن بھی گئی تو آپ کووہ توجہ ‘ پیار اور محبت نہ دے سکوں گی جس کی ہرشوہر اپنی بیوی سے توقع رکھتا ہے۔اس طرح نہ آپ سکون میں رہ سکیں گے‘نہ میں‘ اورنہ ہی راحیل زندہ رہ سکے گا…!
اب تین زندگیوں کاانحصار آ پ کے رویے یاجواب پر ہے۔‘‘
چند لمحے فرہاد نے غور کیا‘ پھر بولا۔ ’’آپ ہی کیوں انکار نہیں کردیتیں۔ اب میں کیابہانہ کرکے رشتے سے انکار کروں گا۔یہ تو میرے کاندھے پررکھ کر بندوق چلانے والی بات ہے۔‘‘
’’آپ ہی کچھ کریں‘ دیکھیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔‘‘ پھر لڑکی نے ا س کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے ۔
’’محترمہ ہاتھ جوڑنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بادل چند لمحے کے لیے چاند کے سامنے آکر اس کی روشنی روک تو سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے‘ آپ سچائی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں‘ میں بھی سچی بات ماں کوبتادیتاہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ فرہاد صاحب‘ میں آپ کا یہ احسان تاحیات یاد رکھوں گی۔ ویسے بھی اب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کام نہیں چلے گا۔‘‘
فرہاد نے بل ادا کیا اور دونوں ہوٹل سے باہر آگئے۔
لڑکی بولی۔ ‘’’آپ جائیں ‘میں خود ہی گھر چلی جائوں گی۔‘‘
آج فرہاد کو گھرپہنچنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس کی امی بڑی بے چینی سے اس کی منتظر تھیں۔ فرہاد نے انہیں سچی بات بتادی۔
وہ ٹھنڈی سانس لے کر بولیں۔
’’بیٹا… یہ تو ایک طرح سے اچھا ہی ہوا‘ حقیقت اور سچ کڑوا تو ہوتا ہے لیکن اس دوائی کی طرح ہوتا ہے جس سے مرض دور ہوجاتا ہے۔‘‘
’’امی…آپ جاکر سچی بات غزالہ کے والدین کو بتادیں‘ مجھے امید ہے بات ان کی سمجھ میں آجائے گی اوروہ ہوش کے ناخن لیں گے۔‘‘
اگلے دن اس کی امی نے جاکر ساری بات ان کے گوش گزار کردی۔ اس طرح یہ بات ختم ہوگئی۔
لیکن …پھر وہی مسئلہ منہ پھاڑے سامنے کھڑاتھا۔
فرہاد کی شادی کامعاملہ تو ختم نہیں ہوسکتاتھا۔
اس بیل کو کسی منڈھے تو چڑھناتھا … سیانے کہتے ہیں کہ اگر سرہوں توٹوپیوں کی قلت نہیں ہوتی۔
شام کو جب فرہاد گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں سرپکڑکربیٹھی ہوئی ہے‘ موٹر سائیکل کھڑی کرکے وہ تیزی سے اپنی امی کی طرف بڑھا۔ اور ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کربولا۔
’’امی…خیریت ہے… آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ…اگر خدانخواستہ طبیعت خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس اپ کولیے چلتاہوں۔‘‘
’’بیٹا… مجھے ڈاکٹر کی نہیں…عقل کی ضرورت ہے… ‘‘ اس کی ماں نے اس کاہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بٹھالیا۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔‘‘ فرہادحیران وپریشان تھا۔
’’بات یہ ہے … بیٹا کہ میں کوئلے کی کانوں میں ہیرا ڈھونڈتی رہی‘ جبکہ ہیرا تو میرے سامنے تھا۔مجھے ہی نظر نہیں آیا… میں بوڑھی ہوگئی ہوں نہ… ا س لیے ۔اب میں دیر نہیں کروں گی۔‘‘
پھرواقعی دیر نہیں ہوئی… اس کی ماں نے صنوبر کارشتہ مانگااور انہوں (صنوبر کے والدین )نے یہ کہہ کررشتہ دے دیاکہ انہیں اپنی بیٹی کے لیے فرہاد سے اچھا رشتہ کہاں مل سکتا ہے۔
شادی کی پہلی رات کو جب فرہاد نے صنوبر کاگھونگھٹ اٹھایاتووہ شرم سے اپنی بانہوں میں چہرہ چھپائے ہوئے بولی۔
’’دیکھیں… کبھی کبھی چکوری اپنے چاند کو پابھی لیتی ہے۔
…٭٭…

وفا
محمد اسلم آزاد

یہ پیار محبت‘ چاہت ‘وفا‘خلوص سب کیاہیں…؟ مجھے تو ان ناموں سے ایک ڈر سا لگتا ہے۔ خوف سا ہوتا ہے‘ گھٹن سی ہوتی ہے اک درد ساہوتا ہے‘ غم سا ہوتا ہے‘ فکر سی ہوتی ہے کہ شاید ان پاکیزہ ناموں سے میرا جنم جنم کارشتہ ہے اور میری سوچوں میں ‘ فکر میں‘ خیالوں میں‘ جذبوں میں سسی پنوں ‘ہیررانجھا‘شیریں فرہاد‘ لیلیٰ مجنوں کی داستانیں زندہ رہتی ہیں اور میری سانسوں میں خوشبوبن کر کوئی رہتا ہے مگر اس کا وہ پیار تھا‘ چاہت تھی‘ محبت تھی‘ پاگل پن تھا‘ دیوانہ پن یاایک نادانی تھی …؟ مجھے آج تک اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکا نہ میں اس کے درد کو ‘غم کو ‘پیار کوسمجھ سکی کہ مجھے اس بری دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلا گیاہے اور میں اس کی یادوں میں کھوئی کھوئی سی رہتی ہوں‘ الجھی الجھی سی رہتی ہوں‘ نکھری نکھری سی رہتی ہوں‘ جو مجھے گہری نگاہوں سے دیکھتاتھاتو میں اسے اکثر یہ کہا کرتی تھی کہ طارق صاحب اپنی قاتل نگاہوں کوروکو کہیں یہ ہمیں برباد اور رسوا نہ کردیں‘ کیونکہ پیار ‘محبت‘ چاہت‘ تب تک پاکیزہ اور سچے رہتے ہیں کہ جب تک ان پاکیزہ رشتوں کی عزت‘ لاج‘ مان‘ مرتبہ رکھواور اپنی چاہت‘ الفت‘ وفا کے سائے کوچھونا بھی ایک جرم‘ ایک گناہ‘ ایک سزا سمجھو اور اپنے دل میں یہ بات ڈال کررکھو کہ پاکیزہ محبت کی عزت‘ آبرو‘شان ‘مان‘ مرتبہ اور جان فاصلے ‘دوری اور ہجروفراق سے ہوتی ہے بس مجھ سے تم ہمیشہ دورہی رہنا کیونکہ مجھے پیار ‘محبت‘ چاہت‘ وفا‘ خلوص سے کوئی نفرت نہیں ہے اور نہ کوئی غصہ بلکہ ان لوگوں سے سخت نفرت ہے جو اپنی محبت اور وفا کی چادر اور چار دیواری کو میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔
یہ سن کرمسکرا کر کہتاتھا کہ سپنا جی آپ اتنی چھوٹی عمر میں اتنی بڑی باتیں کہتی ہیں مجھے تو بڑی حیرت ہوتی ہے اور یہ احساس بھی کہ کیا میرے دل میں میری آنکھوں میں سچائی اور پاکیزگی ہے یاکہ میلاپن… ؟مجھے تو اپنے آپ سے ڈر سا لگنے لگا ہے کہ اگرمیری آنکھ میلی ہوگئی تو میں تمہاری نظروں سے گرکر جیتے جی مرجائوں گا کیونکہ کسی نے خوب کہا ہے کہ انسان پہاڑ کی بلندی سے گر کر زندہ رہ سکتا ہے مگر کسی کی نظروں سے گر کرزندہ نہیں رہ سکتا۔
طارق کی یہ باتیں سن کرمیں بہت خوش ہوتی اور میں اس کی محبت‘ وفااور دوستی پربہت نازاں ہوجاتی اور فضائوں میں خوشبو کی طرح اڑتی رہتی اور میں اسے بے خود ہو کر یہ کہتی کہ …
اتنی پاکیزہ ہے اپنی محبت اے جان…!
تجھے سوچتے ہیں تو باوضو ہو کر
میر ایہ شعر سن کر وہ بھی ایک شاعر کی آزاد نظم سنادیتا…!
سچی محبت کرنے والوں کے دلوں میں
تصویر صنم
سدامسکراتی رہتی ہے
جی کوبہلاتی رہتی ہے
اور جب بھی
ان کا من کرتا ہے
تو وہ
اپنی آنکھیں بند کرکے
ایک دوسرے کا دیدار کرلیتے ہیں
باتیں ہزار کرلیتے ہیں
مگر!
رفتہ رفتہ جب
فاصلے ختم ہوجاتے ہیں
تو آنکھ میلی ہوجاتی ہے
اور اس تصویر پر
ہوس کی گرد سی آجاتی ہے
تووہ تصویر دھندلاسی جاتی ہے
اور پھر بالاخر
اس کے تمام نقوش مٹ جاتے ہیں
اوراس جگہ پر
ایک سیاہ دھبہ سا لگ جاتا ہے
جو تمام عمر
اس میلی آنکھ کے اشکوں سے
دھونے کے باوجود بھی
ذرا بھر بھی نہیں مٹتا
اوراس محبوب کاچہرہ
بند آنکھ سے تو کیا…؟
کھلی آنکھ سے بھی نہیں دکھتا
بس پاکیزہ محبت کایہی فسانہ ہے
یہی حقیقت ہے …!
یہ نظم سن کر میں خاموش سی ہوجاتی اور آج بھی میرے لبوں پہ ایک چپ کا تالاہے اداسی ہے‘ ویرانی ہے‘ سناٹا ہے اور میرے گھر کی فضا بھی سوگوار ہے ‘ اس شام کی طرح جب برسوں کی دوستی کے بعد طارق نے پہلی بار اپنی محبت کااظہار کیاتھا اور میں حیران ہو کرا س سے لڑپڑی تھی کہ طارق تم میرے بچپن کے دوست اور کلاس فیلو ہواور اس سے آگ کچھ بھی نہیں‘ کیونکہ میری محبت‘ میری زندگی میرا شریک حیات ہی ہوگا کہ جس سے میرا رشتہ بھی طے ہوگیا ہے اب میں اس کے سوا کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہوں اور نہ آپ بھی کچھ سوچا کریں توبہت اچھا ہوگا‘ میری بات سن کر وہ ایک بت سا بن گیا تو میں نے اس سے پھر کہا۔
طارق جی آپ خاموش کیوں ہوگئے ہیں …؟ ذرا کچھ تو بولیں… پھر وہ ایک سرد اہ بھر کر بولا تھا۔
سپنا جی آپ میری پاکیزہ محبت ہیں اور میں پچھلے دس سالوں سے آپ کو چاہتا ہوں مگر میں اپنے دل کی آپ کو کبھی بھی نہ بتاسکا اگر میری محبت میں سچائی اور پاکیزگی ہے تو میں تمہارا دل بھی جیت لوں گا ورنہ ناکامی تو زندگی کاایک حصہ ہے میں ناکام رہ کربھی آپ کی عزت ‘وقار اورخوشی کے لیے دعائیں مانگتا رہوں گااور میںاپنی محبت کا دم بھرتارہوں گا‘ ہاں مجھ پہ اتنی سی عنایت کردو کہ تم مجھ سے کبھی بھی خفا نہ ہونا کہ تم میری محبت اور زندگی ہو…
اب میں بھلا اس نادان کو کیسے سمجھاتی کہ میرا رشتہ بچپن میں وقار سے طے ہوچکاہے اور میں اس کے بعد کسی سے بھی محبت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہوں اور یہ کہ وقار کے علاوہ میری زندگی میں کوئی اور آئے یہ میرے لیے ایک عظیم گناہ تھاکیونکہ میں اپناپیار اپنی زندگی اپنے منگیتر پہ ہی لٹانااپنا فرض سمجھتی تھی مگر نہ جانے کیوں اور کیسے …؟ طارق میری زندگی میں آتاگیااور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں سوچنے لگی اوروہ میری سوچوں‘ خیالوں ‘خوابوں‘ فکر میں‘ درد میں‘ خوشی میں شامل ہونے لگا اوراس کی چاہت کے گیت میرے لبوں پہ سجنے لگے او روہ میرے قریب سے قریب تر ہوتاچلاگیا۔ صبح ہو کہ شام وہ کسی نہ کسی بہانے سے ہمارے گھر آتامجھے محبت بھری نگاہوں سے سلام کرتااور اپنی زندگی اپنے کام میں مصروف ہوجاتا اور اکثر رات گئے تک ہم دونوں فون پر پیار‘ محبت کی باتیں کرتے سدا ساتھ نبھانے کے وعدے کرتے‘ قسمیں کھاتے تووہ التجاً کہہ دیتا پلیز سپناجی میرے بارے میں کچھ سوچو کہ میں آپ کے بغیرز ندہ رہ نہیں سکتا یہ سن کرمیں بھی افسردہ ہوجاتی اور اسے منت کرتے ہوئے کہتی طارق جی میں نے آپ کو پہلے بھی کہاتھا کہ محبت ‘ ووری‘ فاصلے کانام ہی اور یہ کہ میں کسی اور کے نام سے منسلک ہوچکی ہوں اب آپ کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ہوں اور نہ مجھے اتنا مجبور کیاکرو کہ اس طرح تو میری عزت سارے خاندان میں برباد ہوجائے گی اور نہ میں اپنے باپ اور بھائیوں کے سامنے کچھ کہہ بھی سکتی ہوں پلیز میری عزت‘ آبرو رکھو اور آئندہ ایسی بات نہ کرو کیونکہ یہ ضروری تو نہیں کہ جس کے ساتھ محبت کی جائے وہ مل بھی جائے۔
میری بات سن کر طارق ہمیشہ ٹال دیتااور غصہ ہو کرفون کوبند کردیتا پھر رفتہ رفتہ اس کی یہ ضد بڑھتی چلی گئی اور اکیلے میں ملنے کو اصرار کرنے لگاتو میں اس سے تھوڑا سا خفا سی رہنے لگی کہ شاید اسے میری عزت‘ آبرو‘ لاج کا خیال آئی اور میری پاکیزہ محبت کااحساس بھی ہو لیکن اس کے سر پہ تو جیسے ایک بھوت ساسوار تھا کہ میں اس سے ایک رات ملاقات کروں اور اس سے شادی کروں جس کی وجہ سے اس کی ضد غصے میں تبدیل ہوتی گئی او روہ غصہ ایک درد اور پریشانی کاسبب اور اس درد اور پریشانی کودور کرنے کے لیے آہستہ آہستہ نشے کا سہارا لیااور برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر وہ آوارہ‘ لوفر اور نشئی موالی ہوگیااور رات گئے تک اپنے گھر سے دور رہنے لگااور جب کبھی وہ مجھے نظر آتاتو میں موقع پاکر اسے اپنی پاکیزہ محبت اوراس کی تباہ ہونے والی زندگی کااحساس دلانے کی کوشش کرتی تووہ افسردہ ہو کرایک سرد آہ بھر کرکہتا.
سپناجی آپ کو کیا…؟ ہم برباد ہوجائیں یا ہلاک… تمہیں اس سے کیا…؟ طارق کی یہ بات سن کر میں بہت پریشان ہوجاتی اوراس کی منتیں کرنے لگتی کہ پلیز طارق جی اپنی صحت اور زندگی کا خیال رکھوورنہ میں تم سے ناراض ہوجائوں گی تووہ میری بات سن کر غصہ میں آگ بگولا ہوجاتاتو میں خاموش ہو کر رہ جاتی مگر ایک رات تو اس نے حد کردی کہ نشے کی حالت میں ہمارے گھر آگیا تو سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اوروہ نشے کی حالت میں نہ جانے کیا سے کیاباتیں کہتے ہوئے مجھے گالیاں دیتے ہوئے کہنے لگا۔
سپناجی یہ تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا بس دو دن پیار کی باتیں کیں‘ وعدے کیے‘ قسمیں کھائیں اور پھر بھلادیا…! ہاں شاید یہ پیار محبت تمہارے لیے ایک کھیل تماشا ہو کہ تم نے ایک کھیل سمجھ کر میری زندگی او ردل سے کھیل کر اسے تباہ وبرباد کردیا مگر تم بھی یہ یاد رکھو کہ تم بھی اپنی زندگی میں کبھی بھی خوش نہ رہوگی اور جس دن میں اس دنیا میں نہ رہاتو تمہیں میری محبت اور وفاکایقین آجائے گا۔
طارق نشے کی حالت میں نہ جانے کیا سے کیا کہے جارہاتھااور میں سب کچھ سن کر خاموش کھڑی اپنے آپ کو کوس رہی تھی کہ میںنے پیار اور محبت کرنے کی غلطی نہ کی ہوتی تو آج سارے گھر والوں کے سامنے میری رسوائی نہ ہوتی اور سارے محلے میں طارق کی باتیں پہنچتیں نہ میرے گھر والوں کا سر ساری برادری میں جھکا رہ جاتا اور نہ میرے والدبھائی اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر اسے اپنے گھر جانے کا کہتے نہ میری ہڈی پسلی ایک ہوتی اور نہ میں اپنی جان سے پیاری سہیلی وفاجی کو طارق کے پاس بھیجتی کہ وہ اسے سمجھائے کہ طارق تم نے سپنااور اس کے خاندان کی رسوائی کے لیے بہت کچھ کرلیااور پاکیزہ محبت کی سزا اس نے اور اس کے خاندان نے بہت سہہ لی اگر آپ نے ایک با رپھر ہمارے گھر آنے کی غلطی کی تو میں یہ سمجھوں گی کہ تم نے سپنا سے محبت نہیں بلکہ حددرجہ نفرت کی ہے اور اس نفرت کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ جلنے کے لیے مجھے اس کے اندر دھکیل دیاہے اور اس ذلت اور رسوائی کی زندگی سے بہتر ہے کہ میں زہر کھاکرمرجائوں تو پھر شاید تمہیں میری محبت کایقین آئے گا یہ سن کر وہ خاموش ہوگیا تھااور اس نے وفاجی کے ہاتھ ایک تحریر بھیجی تھی جس میں اس نے لکھا تھا…!
ذر اسنو…!
ہمارے درد کو سمجھو
ہمارے غم کو سمجھو
ہمارے خیال کو سمجھو
ہماری فکر کو سمجھو
ہمارے رنج کوسمجھو
ہمارے صدمات کو سمجھو
ہم جس کرب سے گزرتے ہیں
ان در پیش حالات کو سمجھو
تمہارے لیے یہ دوستی اور محبت
اک کھیل تماشا ہوں شاید…
مگر!
میرے ان پاکیزہ جذبات کو سمجھو
میں اکثر جس بات کاروناروتاہوں
میری اس ادنیٰ سی بات کو سمجھو…!
فقط تمہارا طارق!
اس دن کے بعد طارق ہماری گلی تو کیا شہرسے بھی بہت دور چلاگیا اور جب معلوم کیاتو پتہ چلا کہ وہ ایک بزرگ کے دربار پر چلاگیا ہے اور وہیں پر ہی رہنے لگا ہے‘ اس کے گھر والے اس کو لینے کے لئے گئے تھے مگر وہ ناکام لوٹے توان کے گھر والوں پر نہ جانے کیابیتی ہوگی مگر ہمارے گھر میں اب بہت سکون اور خاموشی تھی جبکہ میرے دل میں ایک ڈر اور خوف سا رہنے لگا اور میں اداس اور خاموش رہے لگی‘ کسی آنے والی مصیبت اور دکھوں کے پہاڑ ٹوٹنے کااحساس میرے دل میں رہتا کہ نہ جانے طارق اب کس حال میں ہوگا اور نہ جانے کب اور کس حالت میں لوٹے گا…!
سارہ خان کی شادی کی رات تھی اوراس کے گھر میں خوشیوں کا سماں تھا میری دوست وفا جی اور دعا میرے پاس آئیں تو میں اپنے کمرے میں کمبل اوڑھ کر سوئی ہوئی تھی‘ وہ مجھے سارہ خان کی شادی پر لے جانے کاکہنے لگیں تو میں نے انہیں صاف انکار کردیا تو اس دوران امی جان بھی آگئیں اور مجھے کہنے لگی۔
سپنابیٹی اٹھواوراپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنی کزن کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے چلی جائو ورنہ وہ سب ناراض ہوجائیں گی اور تمہار ی کزن سارہ خان تم سے ساری عمر ناراض رہے گی۔
امی جان کی بات سن کر وفا جی اور دعا بھی بہت ضد کرنے لگیں تو میں اٹھ کر ابھی تیار ہونے لگی تھی کہ میری چھوٹی بہن کی آواز آئی۔
طارق بھائی آگئے…! یہ سن کر تو میری جان سی نکل گئی اور لمحے بھر میں ایک ہنگامہ سابرپاہوگیا او روہ ایک بار پھر نشے میں دھت ہو کر لڑکھڑاتے ہوئے میرے کمرے میں آیا تو اس کے بکھرے ہوئے بال اور سرخ آنکھوں میں ایک وحشت سی دیکھ کر میں سہم کر ٹھہرگئی تو اس دوران بڑے بھیا ‘ابوجان اور ماموں والے آگئے او روہ سب اسے گھسیٹ کر باہر لے جانے لگے تووہ انہیں اور مجھے گالیاں دینے لگا تو یہ سب کچھ میرے بھیا سے برداشت نہ ہوسکااور اس نے طارق کے منہ پر تھپڑوں کی بارش شروع کردی اوربڑی مشکلوں سے اسے گھرسے باہر لے گئے تو سارے محلے میں شور شراباساہوگیا او رجتنے لوگ اتنی باتیں ہونے لگیں کہ سپنا بہت خراب لڑکی ہے جس کی وجہ سے طارق بار باران کے گھر میں آتا ہے یہ باتیں یہ تہمتیں سن کرمیرے منگیتر کے گھرتک بات پہنچ گئی تو اگلے دن وقار کافون آیا اور مجھے کہاکہ پلیز مجھ سے پانچ منٹ کے لیے کسی جگہ ملوتو میں حیران رہ گئی اوراس سے پوچھا کہ آخر آپ کو کیا بات کرنی ہے تو صرف یہی کہتا رہا کہ صرف ایک بار ملو تو میں نے اس کو بہت بار کہا کہ آپ کو جو کچھ کہنا ہے وہ سب کچھ فون پر بتادومگر اس کی ضد تھی کہ شام کو ایک پارک میں ملو تو آخر مجبوراً میں شام کو اس سے ملنے گئی تووہ پہلے ہی میرا منتظر تھا اس کے چہرے سے اداسی اور رنج عیاں تھا‘ مجھے دیکھ کر وہ اورافسردہ ہوگیا اورایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہنے لگا۔
دیکھو سپناجی میں جانتاہوں کہ تم بہت شریف نیک لڑکی ہو اور طارق تمہارا دوست ہے مگر اس کی بے پنا ہ محبت کو دیکھ کر میں نہیں چاہتا کہ آپ دونوں میں جدائی ہو اور غم ہو اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی منگنی توڑدوں اور آپ دونوں کی زندگی سے بہت دور چلاجائوں۔‘‘ یہ سن کر میں حیرانگی سے بولی۔
وقار جی آپ یہ کیسی بات کررہے ہیں ذرا ہوش توکریں …؟ وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولا سپناجی آپ طارق کی زندگی اور محبت ہو اور آپ بھی اس کوچاہتی ہو اب جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تم سچ کہہ دو کہ طارق تمہاری زندگی اور منزل ہے او ر تم دونوں کی منزل سے بہت دور جارہاہوں پلیز مجھے آواز نہ دینا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگیاتو میں خاموش ایک بت بن کر رہ گئی اورجب گھر پہنچی تو وقار کے گھر والے پہنچ چکے تھے اور میرا رشتہ بھی ٹوٹ چکاتھااور سارے گھر میں ایک کہرام سامچاہواتھااور سارے گھر والے مجھے بر ابھلا کہنے لگے کہ تم اگر طارق سے دوستی نہ کرتیں تو آج یہ ذلت اور رسوائی کا دن نہ دیکھنا پڑا اور سارے خاندان کی عزت خاک میںنہ مل جاتی ابوجان تو بہت غصے میں نڈھا ل ہو کر یہاں تک کہہ گئے۔
’’سپنا بیٹی اگر ہم تمہیں پیدا ہوتے ہی مار دیتے تو کم از کم یہ دن تو ہمیں دیکھنا نہ پڑتا۔‘‘ ابوجان کی باتیں سن کرمیں جیتے جی مرسی گئی اور اپنے آپ کو کوسنے لگی اورزاروقطار رونے لگی اور میرا جی چاہنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دفن ہوجائوں یاپھر خود کشی کرکے اس دنیا سے اٹھ جائوں مگرخودکشی بھی توحرام تھی اور ناامیدی کفر او رکفر کرنے والے کی یہ دنیا ہے اور نہ وہ دنیا بلکہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اوربھڑکتے ہوئے شعلے ہیں اور ان بھڑکتے ہوئے شعلوں کے ساتھ سات پشتوں تک لوگوں کے طعنے کہ تمہاری عزت‘ آبرو ‘بیٹی نے کسی آوارہ بدچلن نشئی موالی سے محبت کی تھی اور اس کے پیا رمیں زہر کھا کرخودکشی کرلی تھی بس اسی طعنوں اور تہمتوں کے ڈرسے میں خاموش ہوکررہ گئی اور میں اپنے پاکیزہ پیار کو لوگوں کی نظروں سے گرانا نہیں چاہتی تھی تبھی تو رات بھر روتی رہی ‘ تڑپتی رہی‘ سسکتی رہی اور درد کااظہار کسی کے سامنے نہ کرسکی اور گھٹ گھٹ کر جینے کا تہیہ کرلیا شاید یہ میری زندگی کی سب سے بدترین رات تھی کہ میری زندگی میری محبت طارق ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے روٹھ گیااور ہمارے گھر کے باہر ایک پیپل کادرخت تھا جس پرہم دونوں نے مل کراپنی محبت کانام ’’وفا‘‘ لکھاتھا اس درخت کے سائے میں بیٹھ کر ہم دونوں پیار ‘محبت کی باتیں کرتے تھے ‘وعدے کرتے تھے اور یہی درخت ہم دونوں کی پاکیزہ محبت کاگواہ تھا کہ جس پررات کی تاریکی میں طارق نے آکر اپنے گلے میں رسی ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔
صبح سویرے ہی سارے گائوں میں طارق کی خودکشی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی طارق نے شراب کے نشے میں دھت ہو کرخودکشی کرلی ہے یہ سن کرمیں تو جیسے پاگل سی ہوگئی تھی او رمجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ آخر یہ کس طرح ہوگیا…؟ کیااس کویہ معلوم نہیں ہوا تھاکہ وقار نے منگنی ختم کردی ہے اوراب ہم دونوں کی منزل بہت قریب ہوگی مگر شاید وہ اس دن کے بعد اپنے برے دوستوں کے ساتھ ہی رہااورانہی برے دوستوں کی صحبت نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا اگر وہ اپنے گھر آتا یا کسی رشتے دار سے سلام دعا رکھتا تو اس کو میری منگنی ٹوٹ جانے کا علم ہوجاتا تووہ اتنابڑا قدم نہ اٹھاتا مگر اس نے اتنابڑا قدم اٹھالیاتھا مگر میں تو وہ بدنصیب تھی کہ نہ اس کاآخری دیدار کرسکی اور نہ اس کے لیے دواشک بہاسکی بس میرے لبوں پہ تو جیسے ایک چپ کی مہر تھی‘ درو تھا‘ غم تھا‘ اداسی تھی‘ ویرانی تھی‘ اور آج بھی طارق کی پہلی برسی پر ہر طرف خاموشی اور ویرانی ہے‘ میں ہوں اور میری پاکیزہ محبت کاگواہ پیپل کا درخت ہے کہ جس پر ہم دونوں نے مل کر اپنی محبت کانام وفا لکھاتھامیں اس وفا کو پڑھتی ہوں تو میرے ذہن میں ایک سوال سا آتا ہے کہ یہ پیار‘ محبت‘ چاہت خلوص اور وفا سب کیا ہیں …؟ کیاطارق کی مجھ سے بے پناہ محبت تھی یااس کایہ پاگل پن ‘نادانی ‘ غصہ اور نفرت تھی کہ جس نے میری زندگی کو کانٹوں کی سیج بنادیا۔
…٭٭…

زر , زمین اور زندگی
فرح بھٹو

وہ کھڑکی کا پٹ تھامے پردے کی اوٹ میں چھپ کر ہال کمرے سے آتی آوازوں پر کان لگائے کھڑی تھی
پردے کے اس پار بابا سائیں اور بخشل چاچا اس کی آئندہ زندگی کا فیصلہ کرنے پر کمر بستہ تھے
مومل سانسیں روکے ہم تن گوش تھی
ادا سائیں میر داد کے فوت ہوجانے کے بعد اب مومل کے جوڑ کا خاندان میں کوئی مرد نہیں ہے سب وٹے سٹے (ادلے بدلے) میں بیاہے جاچکے ہیں
بخشل چاچا کی آواز گونجی جس پر بابا سائیں نے ہنکارا بھرا
’’مگر بخشل میر داد کے جانے کے بعد مومل کو کسی ٹھکانے تو لگانا ہے نا۔‘‘ بابا سائیں نے بھاری آواز میں کہا۔
’’ادا وٹہ سٹہ ہوچکا تھا میر داد کی بہن آپ کی بہو بنی ہے اب اس کا بھائی مومل سے نکاح سے پہلے چل بسا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘‘ بخشل چاچا نے بے بسی دکھائی۔
’’شاہ میر کے لئے کیا کہتے ہو؟‘‘ بابا سائیں نے ان کے بیٹے کا نام لیا جس پر بخشل چاچا کو سانپ سونگھ گیا
’’ادا سائیں سوہائی بڑی تیز لڑکی ہے وہ کہاں سوکن برداشت کرے گی پھر میری ممتاز اس کے بھائی سے بیاہی ہوئی ہے وہ روٹھ کر گئی تو میری بچی کو وہ میکے بھیج دیں گے۔‘‘
بخشل چاچا کو اپنی فکر ستائی۔
’’تو پھر کیا کیا جائے بخشل اتنی زمینوں کی وارث کو غیروں میں دینے کا رواج نہیں ہے ہمارا؟
بابا سائیں ہنوز فکر مند تھے
ادا سائیں ادی مہرو اور ادی سدوری کی طرح اس کو بھی قرآن کے نام پر بٹھا دیتے ہیں۔‘‘
بخشل چاچا نے سفاکی سے مشورہ دیا۔
کھڑکی سے لگی مومل کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور دل سینے میں زور زور سے دھڑکنے لگا
’’ہمم ٹھیک ہے پھر جیسا نمانی کا نصیب!‘‘
بابا سائیں کے الفاظ تھے یا کوئی بم پھٹا تھا مومل کے پرخچے اڑ گئے اور وہ وہیں زمین پر گرتی چلی گئی۔
اری چھوکری کیا ہوا؟
کسی کام سے گزرتی چاچی نے جو مومل کو ایسے گرے دیکھا تو چلا اٹھی۔
’’نی مومل۔‘‘ وہ اکڑوں زمین پر بیٹھ کر مومل کو ہلانے لگی۔
مومل نے نم آنکھوں اور ماؤف ذہن کے ساتھ چاچی کو دیکھا تھا۔
…٭٭٭…
مومل نے روایتی جاگیردار گھرانے میں آنکھ کھولی تھی اور شعور کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اس سے یہ احساس ہوگیا تھا کہ ان کی بڑی حویلی میں جتنی زمین جائیداد کو اہمیت حاصل ہے اس کے عشر عشیر بھی عورت کو حاصل نہیں, میٹرک تک پڑھا کر دوسری لڑکیوں کی طرح مومل کو آگے تعلیم کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ حویلی کی عورتیں گاؤں سے شہر جاکر نہیں پڑھ سکتی تھیں مومل کو کتابوں سے عشق تھا وہ بہت سارا پڑھنا چاہتی تھی لیکن اس کو گھر بٹھا دیا گیا یہ پہلا صدمہ تھا جو اس کو لگا دوسرا بڑا صدمہ اس کا منگیتر میر داد تھا جو اس کے باپ سے دو ایک سال ہی چھوٹا ہوگا دو بیویاں بھگتانے کے بعد مومل کا نصیب بننے جارہا تھا کہ اس کی بہن مومل کے بڑے بھائی کے ساتھ بیاہی گئی تھی یہ عمر رسیدہ شخص مومل کو بچپن سے نا پسند تھا وہ روتی پیٹتی یا جان ہار دیتی اس کو میر داد کی بیوی بننا تھا سو وہ اس کام پر اتر آئی جو اس کے بس میں تھا اور وہ تھا میر داد کو ڈھیروں بد دعائیں دینا۔
وہ پل پل اس کے مرنے کی دعائیں کرنے لگی آخر قدرت کو اس پر رحم آگیا اور ایک رات میر داد ایسا سویا کہ پھر نہ اٹھ سکا
مومل کے لئے یہ خبر کسی خوش خبری سے کم نہ تھی وہ ہواؤں میں اڑنے لگی تھی لیکن خوشی کا یہ عرصہ بہت مختصر تھا آج اپنی ذات کے متعلق ایسا فیصلہ سنا کہ ہوش ہی گم ہوگئے تھے
…٭٭٭…
اور پھر مومل کو بھی اس کی دونوں پھپیوں کی طرح قرآن کے نام پر زندگی بھر کے لئے بٹھا دیا گیا اس کے بے حد حساب زیور اس کے بدن پر کفن بنا کر چڑھا دیئے گئے تھے اس کے نام کی سیکڑوں ایکڑ اراضی اس کی لحد بنا دی گئی اور وہ خود کو اپنے ان چھوئے جذبوں سمیت فقط بیس سال کی عمر میں قبر میں اترتا دیکھتی رہی۔
…٭٭٭…
دنیا میں رنگ اگر کہیں تھے تو مومل ان کو دیکھنے سے اندھی بنادی گئی تھی دنیا میں خوشی اگر کہیں تھی تو مومل اس کو محسوس کرنے سے معذور بنادی گئی تھی اس کے نوخیز جذبات منہ چھپا کر زار زار روتے رہتے اور وہ خود بہ ظاہر قبر سے نکلی ہوئی کسی لاش کی مانند دکھتی تھی سرد اور خاموش,
مومل نے بچپن سے اپنی دونوں پھپھیوں کو ایک اندھیرے کمرے میں بند باہر کی دنیا سے بیزار دیکھا تھا وہ روشنی کا سامنا کرنے سے کتراتی تھیں وہ اپنی موم ایسی جوانی سورج کی کرنوں سے چھپا کر بھی پگھلنے سے نہ روک پائی تھیں
مومل بھی اب ان میں شامل تھی لیکن اس کو اندھیرے سے وحشت ہوتی تھی وہ نیند سے چیخیں مارتی اٹھ بیٹھتی اس کی ماں اس پر دم درود کرتی رہتی یہاں تک کہ پو پھٹنے لگتی لیکن مومل کی حالت نہ سنبھلتی حویلی کے در و دیوار کے لئے یہ کربناک مناظر نئے نہ تھے برسوں سے ایسا ہوتا چلا آرہا تھا
سو انسانوں کے ساتھ ساتھ ان کو بھی حیرانی نہ ہوتی تھی
…٭٭٭…
یہ بڑی حویلی اب مومل کے واسطے ایک زندان بن گئی تھی جس میں اس کو سانس لینا دشوار تھا جب امید ٹوٹ جائے تو سانسیں بھی بوجھ بن جایا کرتی ہیں آگہی کا عذاب دیمک کی طرح مومل کو چاٹ رہا تھا اس کے فطری جذبوں کو بے دردی سے کچلا گیا تھا دریا کی روانی پر زبردستی بند باندھا گیا تھا مگر دریا کی شوریدہ سری اس کو فطری بہاؤ پر کھینچ رہی تھی اور آخر اس نے بند پر ایک شگاف ڈال ہی دیا۔
…٭٭٭…
شاہ میر مومل کے چچا بخشل کا بیٹا تھا خوبرو اور کڑیل جوان,
دونوں اس حویلی میں ساتھ کھیلتے بڑے ہوئے تھے ان دونوں کے دل ایک تھے پر نصیب الگ بچپن ہی سے دونوں وٹے سٹے کی زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے شاہ میر کی بہن ممتاز بڑی پھوپی حاجرہ مرحومہ کے بیٹے کا نصیب بنی تو مارے باندھے شاہ میر کو اپنی عمر سے کئی گنا بڑی عمر کی عورت سوہائی سے بیاہ کرنا پڑا پر وہ مرد تھا سو اپنی محرومی کا ازالہ کرنا جانتا تھا بڑی عمر کی بیوی محل میں اور دوسری کم عمر کئی لڑکیاں باہر اس کی دوست تھیں اب جو مومل میر داد کے گزرنے کے بعد ایک قبیح رسم کی بھینٹ چڑھی تو شاہ میر کی برسوں پرانی پسندیدگی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی وہ آنے بہانے مومل کے گرد منڈلاتا دکھائی دینے لگا جہاں موقع ملتا وہ اپنی ہمدردی کے پھائے مومل کے رستے زخموں پر رکھنے کی کوشش کرتا تھا شاہ میر کے نرم لفظوں کی پھوار سے مومل پگھلنا شروع ہوگئی تھی وہ جنم جنم کی پیاسی تھر کی دھرتی کی طرح تھی جو رم جھم پھوار کو بھی خوشی سے خوش آمدید کہتی ہے اس آس پر کہ موسلا دھار برکھا کبھی تو برسے گی
شاہ میر سے اس کا التفات سوہائی سے چھپا نہ رہ سکا تھا اور سوہائی ایک لالچی اور کائیاں عورت ثابت ہوئی تھی
…٭٭٭…
’’میرے سر کے سائیں سے مراسم بڑھا رہی ہے تو۔‘‘
ایک روز سوہائی نے مومل کو جا لیا اور اس کا بازو مروڑ کر غصے سے کہا۔ مومل کی آنکھوں میں وحشت ناچنے لگی۔
’’نہیں سوہائی!‘‘ وہ کراہ اٹھی۔
تو شاہ میر سے تو کیا کسی سے بیاہ نہیں کرسکتی جانتی ہے نا؟‘‘
سوہائی نے تنفر سے کہا تو مومل کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں
اگر کسی کو تیرے معاشقے کا پتہ چلا تو انجام جانتی ہے
اب سوہائی نے اس کی چٹیا کھینچی تھی
چھوڑو مجھے مومل درد سے بلبلائی۔
’’ایک شرط پر تیرے میل ملاپ کا یہ قصہ شاہ میر سے چل سکتا ہے!‘‘
سوہائی نے یکایک اس کی چٹیا چھوڑ دی اور کان کے پاس آکر بولی۔
مومل نے حیرت سے اس کے بدلتے رویہ کو دیکھا۔
ہر ملاقات پر تیرا ایک جڑاؤ طلائی سیٹ میرا
ویسے بھی اب یہ زیور تیرے کس کام کا
سوہائی کی آنکھوں میں شاطرانہ چمک لہرائی
لے لو مجھ سے میرا زیور یہ ہار بندے کنگن نہیں سانپ اور بچھو ہیں جنہوں نے میری زندگی کی خوشیاں نگل لی ہیں
مومل کی آواز میں ان دیکھا درد سسک رہا تھا
…٭٭٭…
پھر اگلے دن سوہائی ہر طرف سے اطمینان کرکے مقررہ وقت پر مومل اور شاہ میر کو اپنے کمرے میں ملاقات کی غرض سے بٹھا کر دروازہ بند کرکے باہر نکل آئی اور راہداری میں رکھی ایک کرسی پر چوکسی سے جا بیٹھی پھر ادھر ادھر کا جائزہ لیا اور کرسی سے ٹیک لگا کر اطمینان سے اپنی گود میں رکھی کپڑے کی پوٹلی کی گرہ کھولی ایک خالص سونے کا گلوبند سیٹ اس کی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگا تھا ایک لالچی مسکراہٹ سوہائی کے لبوں پر آئی اور اس نے فاتحانہ نظروں سے بند دروازے کو دیکھا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close