Naeyufaq Feb-17

خیرآبادشہرکابوڑھادرخت

امین صدرالدین بھایانی

خیرآباد سٹی میونسپل کارپوریشن کی عمارت میں میئر کے دفتر کے باہر لگے سْرخ بلب کے روشن ہوتے ہی بند دروازے پر مستعد چپراسی کچھ ایسے چاک وچوبند ہوگیا کہ اگر اب کوئی اندر داخل ہو گیا تو اْسے نوکری سے ہی تو نکال باہر کیا جائے گا۔ سْرخ بلب کے روشن ہونے کا مطلب تو ظاہر ہے یہی تھا کہ میئرکسی انتہائی اہم ترین میٹنگ میں مصروف ہے۔ بظاہر ایسی کوئی خاص بات نہ تھی…..! لیکن کچھ تو ایسا خاص ضرور تھا…..!!!۔
میئر چیدہ چیدہ عمائدینِ شہر، سماجی، سیاسی، مذہبی لیڈران اور اخباری نمائندگان کے ہمراہ محض اِس لیے میٹنگ میں مصروف تھا کہ شہر کا سب سے پرانا اور بوڑھا برگد کا درخت دن بدن زرد پڑتا جا رہا تھا۔
خیرآباد شہر کم وبیش دو ڈھائی کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ آج سے کوئی دو سو برس قبل مچھیروں کے ایک چھوٹے سے قبیلے کے سردار خیربخش نے پچاس پچپن میل طویل ساحلی پٹی کے مغربی سرے پر قائم مچھیروں کی متعدد چھوٹی چھوٹی بستیوں سے کوئی چالیس ایک میل دور جنوبی سرے پر اپنے تمام قبیلے والوں کے ساتھ پڑائو ڈالا۔ تب سے اْن مچھروں نے اِس علاقے کو خیرآباد کے نام سے پکارنا شروع کردیا۔ یہ قبیلہ پہلے بھی ساحل کے قریب اپنے روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہا کرتا۔ البتہ دیگر قبیلوں کے ساتھ روزافزوں بڑھتی مسابقت کے سبب ایک روز سردار نے قبیلے کے سمجھ بوجھ رکھتے بڑے بوڑھوں کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اْنہیں کہیں دور جا کر اپنا پڑائو ڈالنا چاہیے تاکہ مسابقت اور اْس کے نتیجے میں ہونے والی دشمنیوں سے بچا جا سکے۔ قبیلہ جب وہاں آباد ہوا تو انہوں نے ساحل سے چار چھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک بہت گھنا، جٹا دار اور اْونچا برگد کا پیڑ دیکھا۔ یوں اْن کو اپنے فارغ اوقات میں بیٹھک جمانے اور کچیریاں کرنے کے لیے ایک بہترین جگہ میسر آ گئی۔
دن گزرتے گئے۔ خیرآباد ملک کے سب سے بڑے صنعتی وتجارتی شہر میں تبدیل ہوگیا۔ شہر اِس قدر پھیل گیا کہ وہ طویل ساحلی پٹی شہر ہی کا حصہ ٹہری۔ خیرآباد شہر کو صنعتوں کے حوالے سے ملک بھر میں ایک اہم مقام حاصل ہوگیا۔ اب یہاں کی صنعتوں کا تیار کردہ سامان دنیا بھر میں برآمد ہو کر ملک کا نام روشن کر رہا ہے۔
اِس دوران برگد کا وہ پیڑ بھی ایک خاص اہمیت اختیار کرگیا۔ شہر کے قیام کی پچاسویں سالگرہ پرمیونسپل کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا۔ شہر کی تزئین وآرئیش کے لیے جو اقدامات کیے گئے اْن میں ایک تفریحی پارک بھی شامل تھا۔ اِس مقصد کے لیے بھلا اور کون سی جگہ مناسب قرار پا سکتی تھی جہاں وہ گھنا جٹا دار برگد کا پیڑ ایستادہ تھا۔ ویسے بھی وہ جگہ ساحلِ سمندر سے قریب ہونے کے سبب خصوصاً شام سے رات دیر گئے لوگوں کی تفریح کا سبب بنی رہتی۔
پارک میں متعدد اقسام کے درخت اور پھولوں سے لدھی کیاریاں و جھاڑیاں لگائی گئیں۔ پارک کا مرکز پرانا بوڑھا برگد کا درخت ہی تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اْس کی وسعت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوچکا تھا۔ پہلے سے ہی گھنی جٹائیں مزید گھنی ہوچکی تھیں۔ جٹائوں نے زمین میں جڑیں پکڑ لیں اور پرانے تنے کے ساتھ جْڑ کر نئے تنوں کی شکل اختیار کرلی تھی۔ سارے تنے یوں باہم پیوست ہو گئے تھے کہ جیسے ایک ہی تنے کا حصّہ ہوں۔ پیڑ کے گرد ایک بڑا سا گول چبوترا قائم کر کے اْس کے اطراف اور ملحقہ وسیع احاطے میں آہنی بینچ نصب کردیئے گئے جو کہ سارا دن آباد رہتے۔ لوگ باگ پیڑ کی ٹھنڈی چھائوں اور مہک بھری تیز ہوائوں کا لطف اٹھاتے۔ احاطے میں ہمہ وقت بے فکری سے گْڑغْوں گْڑغْوں کرتے کبوترخراماں خراماں چہل قدمی کرتے وہاں آنے والوں کی طرف سے بکھیرے دانے دنکے چْگتے نظر آتے۔ لوگ گھنٹوں بینچوں پر بیٹھ کر دن بھر کے معمولات کی تکان دور کرتے۔ اِرگرد چائے، ٹھنڈے مشروبات، پان، سگریٹ، سموسوں، پکوڑوں، دہی بھلے اور چٹ پٹی چاٹ والے اپنی اور اپنے گھر والوں کی روزی روٹی کا اہتمام کرتے۔
برگد کے پیڑ کی شہرت صرف شہر تک ہی محدود نہ رہ گئی۔ خیرآباد آنے والا کوئی بھی شخص خواہ کسی بھی مقصد سے کیوں نہ آیا ہو۔ ممکن ہی نہ تھا کہ وہاں سیر کو نہ جائے اور برگد کے اطراف لگی بینچوں پر بیٹھ کر حسین ماحول سے لطف اندوز نہ ہو۔ اِس شہرت کے سبب سالوں قبل میونسپل کارپوریشن نے ایک اجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کر کے درخت کو شہر کا امتیازی نشان قرار دے دیا۔ اْس کے عکس کو ایک لوگو کی شکل دے کر خط و کتابت میں استعمال ہونے والی دفتری اسٹیشنری پر چھپوایا گیا۔ مرکزی میونسپل آفس کے باہر خْوبصورت سا چوبی آرائشی نمونہ بھی نصب کردیا گیا۔
اچانک دو تین برس قبل برگد کا بوڑھا درخت مرجھانا شروع ہوگیا۔ جیسا کہ معمول ہے سرکاری ادارے اْس وقت تک کسی بھی بات کا نوٹس نہیں لیتے جب تک معاملہ اخبارات یا میڈیا تک نہ جا پہنچے۔ سو اعلیٰ حکام کے کانوں پر جْوں اْس وقت رینگی جب کثیرالشاعت اخبار’’خیرآباد ٹائمز‘‘ کے ملک گیر شہرت یافتہ کالم نگار اطہر صدیقی نے اپنے کالم ’’آوازِخیر‘‘ میں بڑے ہی پْراثر انداز میں برگد کے تاریخی پسِ منظر اور اْس کی ثقافتی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اطہر صدیقی کوئی معمولی کالم نویس نہ تھا۔ اْس کے لکھے زندگی کے عیاں و پنہاں گوشوں کو وا کرتے چونکا دینے والے کالم ملک بھر میں شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
اگلے ہی روز مئیر نے تمام اخبارات میں ایک عدد پریس ریلیز جاری کردی۔ جس کے مطابق متعلقہ شعبے کے ماہرین کی ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جاری ہے جو پیڑ کی مکمل جانچ، مٹی، درخت کی جڑوں کا گہرائی سے تجزیہ اور تمام متعلقہ لیب ٹیسٹ کے بعد پندرہ روز میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ماہرین کی پیش کردہ سفارشات پر عمل درآمد کروانے کی غرض سے مزید ایک سہ رکنی کمیٹی کا بھی قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جو متاثرہ پیڑ کی مکمل دیکھ بھال ونگرانی کے لیے ماہروتجربہ کار مالیوں ومتعلقہ کارکنوں کا پانچ رکنی اسٹاف بھی مقرر کرے گی۔ ایک پندرہ رکنی کمیٹی مئیر کی سربراہی میں دونوں مذکورہ کمیٹیوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بھی تشکیل دی گئی جس میں شہر کی سماجی، ثقافتی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ صحافیوں کو بھی نمائندگی دی گئی۔ نگران کمیٹی کا اجلاس ہر پندرہ دن کے بعد ہونا قرار پایا۔ اولین اجلاس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی کردیا گیا جس میں اْس وقت تک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان تمام کمیٹیوں کی سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ امور کی انجام دہی کے لیے مالی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر وزیرِاعلیٰ کی آشیرباد سے فوری طور پر پچیس کروڑ روپے کی خطیر رقم کا ہنگامی فنڈ بھی قائم کردیا گیا۔
چار ماہ بیت گئے۔
تمام تدابیر کے باوجود صورت حال بگڑتی ہی جارہی تھی۔ پیڑ تیزی سے زرد وبے رونق ہوکر پژمردگی کا شکار ہوتا چلا جارہا تھا۔ پتے نصف سے بھی زائد جھڑ چکے تھے۔ گھنی جٹائیں ٹوٹ ٹوٹ کر بے ہنگم چھدری سی شکل اختیار کرگئی تھیں۔ سرخی مائل بھورے بڑے بیر نما پھل سیاہ رنگت اختیار کر گئے جن سے ہر وقت سیاہی مائل گاڑھا بدبودار مواد قطرہ قطرہ ٹپک کر اِردگرد کی فضاء کو تعفن زدہ بناتا رہتا۔ اِس دگرگوں صورت حال کے پیشِ نظر کارپوریشن نے پیڑ کے اطراف دائرہ بناتی بینچوں کو خاردار آہنی باڑ لگا کر اْن پر بیٹھنا اور احاطے میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا۔ تیز بْو اور دانہ دنکا نہ ملنے کے سبب وہاں ٹہلتے کبوتر بھی کہیں اورکْوچ کرگئے۔
اطہر صدیقی نے ایک بار پھر اپنے کالموں کا رْخ برگد کے پیڑ کی طرف پھیر دیا۔ کچھ ایسی شعلہ بیانی سے کام لیا کہ پڑھنے والوں نے جانا کہ جیسے اْس ایک درخت کے مٹ جانے سے شہر بھر میں سبزے کا نام ونشان باقی نہ رہے گا اور شہر مہلک وبائوں کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ اِن کالموں نے شہر بھر کی سماجی، ثقافتی حتیٰ کہ سیاسی ومذہبی تنظیموں کے کرتا دھرتائوں کو بھی جگا دیا۔ تنظیمیں اپنے رنگ برنگے بینروں سے لیس کارکنوں سمیت میدان میں کود پڑیں۔ حکومت کی بے حسی کے خلاف احتجاجی جلسے اور دھرنے شروع ہوگئے۔ ٹی وی نیوز چینلوں کی تو جیسے لاٹری ہی نکل آئی ہو۔ بیٹھے بٹھائے مفت کی کوریج میسر آنے لگیں۔ بریکنگ نیوز میں احتجاجی جلسوں کی کوریج کر کے بلیٹنوں کے پیٹ بھرے جانے لگے۔ نیوزاینکرز اور ٹاک شوز کے میزبانوں نے اِس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرکے آتشی لہجوں میں بھرپور زورِبیان صرف کرنا شروع کردیا۔
سیاسی لیڈران نے پیڑ کو لاحق پْراسرار بیماری کو ملک و قوم کی سالمیت سے جا ملایا۔ یہاں تک دعویٰ کردیا کہ یہ پیڑ جو کہ شہر کا امتیازی نشان ہے، نہ رہا تو پھر یہ شہر بھی نہ رہے گا۔ اگر جو شہر نہ رہا تو پھر خدانخواستہ ملک بھی قائم نہ رہ سکے گا۔
مخالف سیاسی لیڈران نے درخت کی بیماری کے ڈانڈے حکومت کی کمزور خارجہ وداخلہ پالیسیوں، اندرونی وبیرونی دشمنانِ وطن کی ناپاک سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے جا ملائے۔ حکومت کو متنبہ کیا جانے لگا کہ اگر اِس سلسلے میں جلد ہی کوئی ٹھوس مثبت قدم نہ اْٹھایا گیا تو طویل مدتی ہڑتالوں اور دھرنوں کی کال دے کر حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اْس کا تختہ اْلٹ دیا جائے گا۔
مذہبی لیڈران نے اپنے ولولہ انگیز خطابات میں پیڑ کو رحمتِ خداوندی اور برکاتِ الہی کے نشان کے طور پر پیش کیا۔ اْس کی بیماری کو دین ومذہب سے دوری، بے پردگی اور مرد وزن کے آزادانہ باہمی اختلاط کے سبب عنقریب آنے والے شدید عذابِ خداوندی کی نشانی قرار دیتے ہوئے اپنے معتقدین کو توبہ و استغفار، خصوصی عبادات اور دعائیں کرنے پر زور دینے لگے۔
باقی رہ گئے شہر بھر کی ثقافتی وسماجی تنظیموں کے کرتا دھرتا۔ سو انھوں نے اِس درخت کو شہر کی آن، بان وشان قرار دیتے ہوئے پْراسرار بیماری کو سماج اور معاشرے کے باطن میں سرایت کر گئیں سماجی و اخلاقی برائیوں، اعلیٰ اقدار اور شرم وحیا سے دوری جیسی خرابیوں کے علاوہ قومی وملکی تشخص سے رْوگردانی کی علامت بتایا۔
روحانیت وعملیات کے ماہرین بھی بھلا کہاں پیچھے رہنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے اخبارات میں بیانات پر بیانات جاری کرنا شروع کردئیے۔ جن کے مطابق اِسے جنات و پلید رْوحوں کی کارستانی بتایا جانے لگا۔
ایک روحانی مفکر نے تو یہ دعویٰ کردیا کہ پیڑ کو ملک وقوم کا دکھ کھائے جارہا ہے۔ وہ اْس غم میں روحانی کرب میں مبتلا ہو گیا ہے۔ الغرض جتنے منہ اْتنی باتیں۔
ادباء و شعراء اپنے قلم کا جادو جگانے لگے۔ شہر کے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ادبی جریدے نے پیڑ کو ’’بیمارِشہر‘‘ کا خطاب دے کر ’’بیمارِشہر‘‘ نمبر کی خاص اشاعت کا اعلان کردیا جسے ادبی حلقوں میں بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
پھر ایک نئی بات ہوئی۔
ملک کے بڑے ہی نامور اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب اور شاعر نے پیڑ کی دن بدن بگڑتی صورت حال پر جاری حکومتی بے حسی پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی خاطر کچھ عرصہ قبل ملنے والا سرکاری تمغہِ حسن کارکردگی احتجاجاً واپس کرنے کا اعلان کردیا۔ بس صاحب پھر کیا تھا۔ شہر بھر کے ادباء و شعراء نے بھی اپنے اعزازات واپس کرنے کے نہ صرف اعلانات کرنا شروع کردیئے بلکہ اْس کا بھرپور عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آنے لگا۔
یہ صورت حال دیکھ مئیر نے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی احلاس بلوا لیا۔ جس میں اطہر صدیقی سمیت چنیدہ عمائدینِ شہر، سماجی سیاسی ومذہبی راہنمائوں کو مدعو کیا گیا تاکہ کسی طور اِس حوالے سے شہریوں کی بے چینی واشتعال اور شہر کے امتیازی نشان برگد کے پیڑ کی دگرگوں صورت حال میں کچھ بہتری لائی جاسکے۔ سو اِس وقت مئیر کے کمرے میں وہی اعلیٰ سطحی خصوصی احلاس جاری تھا۔
اجلاس کے ختم ہوتے ہی میئر کے دفتر سے شہر بھر کے اخبارات اور نیوز چینلوں کے لیے اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ جس کے مطابق کافی غور و خوص کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ برگد کے درخت کو لاحق پرْاسرار بیماری کی تحقیق وشافی علاج کی خاطر فوری طور پر دارالحکومت میں مقیم ملک کے مشہور اور قابل ترین ماہرِ زراعت و بناتات ڈاکٹر معراج احمد ربانی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ جو کہ ماہرین کی پہلے سے ہی قائم کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کریں گے۔
مئیر اِس معاملے کو اپنے اگلے انتخاب سے نتھی کررہا تھا۔ خاص دلچسپی لیتے ہوئے اْسی روز اب تک کی جملہ پیش رفت کی مفصل رپورٹیں منسلک کروا کر سرکاری طور پر خیرآباد کے میئر کی حیثیت سے تمام تر شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر معراج احمد ربانی کے نام ماہرین کی ٹیم کی سربراہی کرنے کی استدعا کا خصوصی خط جاری کردیا۔
ڈاکٹر صاحب کا شمار ملک کے نامور ترین زرعی ماہرین میں ہوتا ہے۔ اپنے کم و بیش نصف صدی پر محیط علمی وعملی تجربے کے سبب اب بھی وہ گذشتہ آٹھ برس سے محکمہِ زراعت اور متعلقہ شعبے سے وابستہ حکومتی ونجی اداروں کو اپنے تجربے کی روشنی سے مستفید کرتے رہتے۔ حکومت سے اعلیٰ حسنِ کارکردگی کے اعتراف کا تمغہ بھی حاصل کر چکے تھے۔ ماشاء اللہ ستر سال کی عمر کے باوجود بھی جسمانی و ذہنی لحاظ سے مکمل طور پر فٹ تھے۔ مئیر کا خط پاتے ہی معراج احمد ربانی نے خود میئر کو فون کر کے ماسوائے گاڑی و ڈرائیور دیگر تمام سرکاری پروٹوکول وصول نہ کرنے کی شرط پر آمادگی ظاہر کردی۔
سچ تو یہ ہے کہ خود وہ بھی اِس دعوت کو قبول کر کے کافی اچھا محسوس کررہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اْن کا اپنا تعلق اْسی شہر سے تھا۔ اپنے کیرئیر کے ابتدائی چند برس خیرآباد شہر میں بسلسلہِ ملازمت متعین بھی رہے تھے۔ اْن کا قیام ستر کی دھائی کے اولین پانچ سالوں تک اْسی شہر میں رہا۔ وہ حسین دن اْن کو بھْلائے نہ بْھولتے جو انہوں نے وہاں گزارے۔ پچپن، لڑکپن اور اوائلِ جوانی کی یادیں لہروں کی طرح اْن کے ذہن کے کسی نہاں جزیرے کے ساحلوں سے ٹکراتیں۔ شہر کی صاف ستھری و کشادہ سٹرکیں، سمندر کی شور مچاتی لہریں، ساحلِ سمندر پر خراماں خراماں چلتی ٹھنڈی مخمور ہوائیں، شہر میں بستے گوناگوں ذات، نسل اور طبقات کے افراد کے مابین قائم بھائی چارگی کی پْرتہذیب و پْرخلوص فضاء اور دن کی رونقوں کے بعد رات کی پْرنور روشنیوں میں ڈوب کر شب بھر جاگتا روشنیوں کا شہر بھلا کیسے بھلایا جا سکتا تھا۔
عملی زندگی کی ابتداء اور سستے زمانوں کے سبب بہت سے دوسرے لوگوں کی مانند اْن کی جیب تو بلاشبہ ہمیشہ ہلکی ہی رہا کرتی مگر پھر بھی وقت مزے سے کٹ رہا تھا۔ دفتر وہ شہر میں چلنے والی بسوں سے چلے جایا کرتے۔ واپسی لازماً لوکل ٹرین سے ہی ہوا کرتی۔ صبح کے جن اوقات میں وہ گھر سے نکلتے، ٹرین اْس سے کہیں پہلے نکل جایا کرتی اور اگلی ٹرین کافی دیر بعد آتی۔ لوکل ٹرین اسٹیشن دفتر کے عین سامنے ہی واقع تھا۔ ٹرین کا سفر اْنہیں بہت ہی بھلا معلوم ہوتا۔ لہذا وہ ٹرین میں سوار ہو کر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھاتے پٹریوں کے دونوں اطراف تاحدِنگاہ پھیلے دلکش مناظر کا لطف لیتے گھر واپسی کو ترجیح دیتے۔ گھر سے کوئی میل بھر کی مسافت پر جو ٹرین اسٹیشن تھا وہاں سے اْتر کر مزے سے پیدل چلتے گھر پہنچ جاتے۔
چھٹی کے روز وہ یا تو ساحلِ سمندر یا دیگر تفریحی مقامات کا رْخ کرتے یا ٹرام سے شہر بھر کی سیر کرتے پھرتے۔ شہر میں چلنے والی ٹرام شہریوں کے لیے آسان اور ارزاں وسیلہِ سفر تھا۔ حب سڑکوں پر عدم گنجائش کا عذر لگا کر ٹرام سروس بند کی جانے لگی تو ایک روز قبل جو کہ اتوار کا دن تھا، یہ سوچ کر اپنے مرحوم والد کے ہمراہ سارا دن ٹرام کی سیر کرتے ہوئے گزرا کہ ٹرام بند ہو جانے کے بعد ویسے بھی ٹرام کی سیر نہ کر پائیں گے، سو یہ سیر ایک یادگار بن جائے گی۔ ایسا ہی ہوا۔ آج چالیس برس بیت جانے کے باوجود بھی اْن کو وہ دن روزِ اول کی طرح سے یاد تھا۔ پھر اْن کا تبادلہ دارالحکومت ہوگیا۔ وہیں اْن کا گھر بھی بس گیا سو وہ وہیں کے ہو رہے۔ کام سے بے لوث لگن اور انتھک محنت نے اْن کو سر اْٹھا کر دیکھنے کی بھی فرصت میسر نہ آنے دی۔ ساتھ اعلیٰ تعلیم وتحقیق سے بھی اپنا دامن جوڑے رکھا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ شبانہ روز کی عرق ریزی سے کیے گئے تحقیقاتی کام اور مختلف موضوعات پر انگنت تحقیقاتی مقالہ جات کو بے انتہا قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا جو کہ ملکی شعبہِ زراعت کے متعدد شعبہ جات میں انقلابی نوعیت کی تبدیلیوں اور بہتریوں کا سبب بنے۔ فصلوں کو لگنے والے کیڑوں، سنڈیوں اور کئی بیماریوں کا خاتمہ ہوا۔ زرعی اجناس کی پیداوار بڑھ کر دوگنی تگنی ہوگئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہیں اپنی بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ویسے بھی پیشہ ورانہ زندگی کے چالیس سال وہاں گزار دیئے تھے۔ اْن کی دوستیاں اور رشتہ داریاں تو پہلے ہی سے تھیں۔ اب تو ماشاء اللہ بچوں کے سبب نئے رشتے بھی استوار ہو چکے تھے۔
اب ایسا بھی نہ تھا کہ اْن گذشتہ برسوں میں وہ خیرآباد شہر نہ گئے ہوں۔ دورانِ ملازمت اکثر کسی کانفرنس میں اپنا مقالہ پیش کرنے یا اِسی نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کے سبب آنا جانا لگا رہا۔ اپنی شدید منصبی مصروفیات کے سبب علی الصباح پہنچے تو رات کی فلائٹ سے واپسی۔ سہ یا ہفت روزہ کانفرنس میں شرکت کرنا مقصود ہوا تو کانفرنس کی کارروائی نبٹا کر موصوف یہ جا اور وہ جا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد تو جیسے وہ اپنے شہر کے ہی ہو کے رہ گئے۔ مقامی طور پر کسی سیمینار یا کانفرنس میں شرکت کرلی تو کبھی کسی سرکاری یا نجی ادارے کی دعوت پر اِدھر اْدھر کا کوئی دورہ کرلیا۔ گذشتہ آٹھ دس برس سے خیرآباد جانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ لہذا اب یہ دعوت اْنہیں موقعہ فراہم کررہی تھی کہ وہ اْس شہر میں جہاں انہوں نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے اولین خوبصورت سال بتائے تھے، کام سے فراغت کے بعد ایک بار پھر اْس کی پرانی رنگینیوں سے لطف اندوز ہوسکیں جو کہ اْن کے ذہن کے نہاں گوشوں میں اب بھی تازہ تھیں۔
خیرآباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ڈومیسٹیک ارائیول لاونج میں پہنچتے ہی انہوں نے ایک باوردی نوجوان ڈرائیور کو اپنے نام کا پلے کارڈ لیے منتظر پایا۔ چند ہی لمحات میں وہ گاڑی میں سوار ائیرپورٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ گو کہ ڈرائیور نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کا مظاہرہ کرتے ہوئے پچھلی نشست کا دروازہ وا کردیا تھا مگر وہ خْود ہی ڈرائیور کے ساتھ والی نشست کا دروازہ کھول کر اندر جا بیٹھے۔ ڈرائیور کو یہ بات عجیب سی محسوس ہوئی مگربناء￿ کچھ کہے اپنی نشست پر آ بیٹھا۔ گاڑی ائیرپورٹ سے باہر آ کر مرکزی شاہراہ پر تیزی سے جاری ٹریفک کی رو میں مدگم ہوتی چلی گئی۔
آسمان ابرآلودہ ہو رہا تھا اور تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ سڑک کے دونوں اطراف اور درمیان کے گرین بیلٹ پر حدِنگاہ تک لگے اونچے اونچے جہازی قامت کے اشتہاری بورڈ لرز رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو وہ دیوہیکل اشتہاری بورڈ بڑے عجیب لگے۔ انہوں نے خیرآباد شہر میں پہلے کبھی اور وہاں دارالحکومت میں تو اب بھی اِس قدر بڑے جہازی قامت کے بورڈ نہیں دیکھے تھے۔ گاڑی آگے بڑھتی جارہی تھی۔ وہ شہر بھر کی دیواروں پر برگد کے پیڑ کے حوالے سے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے پیغامات پڑھ پڑھ کر حیران ہورہے تھے۔ چند مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے برگد کے پیڑ کی صورت حال کے حوالے سے اشتہاراتی بورڈ بھی نصب کیے گے تھے۔
ایک بورڈ کو دیکھ کر تو وہ حیران ہی رہ گئے۔ ایک سیاسی جماعت کے راہنما کی تصویر نمایاں تھی جو کہ اْس بیمار درخت کو بڑی تشویشناک نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ جس کی مٹھی بند تھی ہوا میں یوں لہرا رہا تھا جیسے کوئی نعرہ لگا رہا ہو۔ اْس پر بڑے بڑے جلی حروفوں میں ایک نعرہ درج تھا۔
’’اے خیرآباد شہر گواہ رہنا، اللہ کے فضل وکرم سے ہم تیری، آن، بان اور شان پر قربان ہونے والوں میں سے ہیں‘‘۔
مخالف سیاسی جماعت کا سربراہ تھورے ہی دور لگے بوڑد پر دونوں ہاتھوں کو اْٹھا کر نعرے لگاتا نظر آرہا تھا۔ اْس کے سامنے عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر عالمِ وارفتگی میں محو رقصِ راندانہ تھا۔ بورڈ پر نعرہ درج تھا۔
’’زندہ ہے برگد…..!، زندہ ہے ….. !!!‘‘۔
اگلے بورڈ پر ایک سیاسی راہنما فرماتے نظر آرہے تھے۔
’’ہم پیڑ بچانے آ نہیں رہے….. !، آ چکے ہیں….. !!!‘‘۔
ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھے تو ایک اور بورڈ نظر آیا۔ اِس بورڈ پر ایک مذہبی تنظیم کے مرکزی راہنما کی بہت بڑی تصویر نمایاں تھی۔ اْس کے ہاتھ میں بہت ساری سْلگتی اگربتیاں تھیں جن کے دھویں نے درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اِس بورڈ پر بھی ایک نعرہ درج تھا۔
’’اِس عظیم پیڑ کی بقاء کے لیے آخری دم تک جہاد….. !، ہر اہل ایمان کا فرض…..!!!‘‘۔
مخالف فرقے کے مذہبی و سیاسی راہنما جس کا ایک ہاتھ اپنی ڈارھی اور دوسرا موٹی توند پر تھا، اِس نعرے کے ہمراہ بورڈ پر جلوہ افروز تھا۔
’’خیرِ آباد شہر کو ہمارے فرقے ’صراط المستقمیہ‘ کے بزرگوں نے آباد کیا تھا اور اِس شہر کے نشان کو بھی ان شاء اللہ العزیز ہم ہی بچائیں گے ‘‘۔
کچھ ہی آگے ایک بہت بڑی این جی او کی طرف سے ایک بورڈ نصب کیا گیا تھا۔ جس میں اْس کے چار پانچ کرتا دھرتا درخت کو سلامی دے رہے تھے اور اْس بورڈ پر اْن کا نعرہ کچھ یوں درج تھا۔
’’یہ درخت ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اِس کے‘‘۔
اگلا بورڈ شہر کی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے نصب کیا گیا تھا جس میں برگد کے پیڑ کے اچھے دنوں کی ہری بھری بے حد خوبصورت سی تصویر تھی اور شہریوں کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا۔
’’خیرآباد میونسپل کارپوریشن شہر کے فخر و افتخار پر کوئی آنچ نہ آنے دے گی‘‘۔
اگلا بورڈ شہر کے ایوانِ صنعت و تحارت کا تھا۔
’’خیرآباد شہر کے افتخار برگد کے پیڑ کو سربلند رکھنے کے لیے ہماری جانب سے شہریوں کے لیے پانچ کروڑ کا حقیر تحفہ‘‘۔
شہرکے محنت کشوں کی یونینوں کی فیڈریشن کی جانب سے بھی ایک بڑا سا بورڈ نصب کیا گیا تھا جس میں بہت سارے محنت کشوں کو ہاتھوں میں ہتھوڑے، درانتیاں، کْدال و پھاوڑے سمیت دیگر اوزار پکڑے درخت کو گھیرے دکھایا گیا تھا۔ ساتھ یہ نعرہ درج تھا۔
’’ہمیں قسم ہے اپنی محنت کی…..، ہم اپنے خون پسینے کا آخری قطرہ تک بہانے سے گریز نہ کریں گے‘‘۔
یہ سارے بورڈ ڈاکٹر معراج یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے آٹھواں عجوبہ دیکھ لیا ہو۔ ’’یہ سب کیا ہے ؟‘‘۔ ایک بڑبڑاہٹ سی اْن کے منہ سے برآمد ہوئی۔ ’’صاحب، کیا آپ نہیں جانتے سارا شہر اِس برگد کے بوڑھے درخت سے کس قدر عقیدت رکھتا ہے؟ بس یہ اْسی عقیدت و احترام کا مظاہرہ ہے‘‘۔ ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے فخریہ لہجے میں کہا۔ ’’ہاں مجھے اندازہ ہورہا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب محض بڑبڑا کر رہ گئے۔
’’ویسے صاحب جی، یہ میرے لیے پہلا موقعہ ہے کہ میں اس طرح اکیلا کسی بڑے افسر کو لینے آیا ہوں۔ ورنہ تو کوئی چھوٹے سے چھوٹا افسر بھی کسی دوسرے شہر سے آئے تو کچھ اور نہ سہی، کم ازکم دفتر والے ہی استقبال کرنے آ پہنچتے ہیں۔ چار پانچ گاڑیوں کے جلو میں افسر کی گاڑی ائیرپورٹ سے برآمد ہوتی ہے‘‘۔
’’میں ان سب باتوں کو قومی دولت کا ضیاع سمجھتا ہوں اور میرے ہی کہنے پرکوئی لینے نہیں…..! ارے ارے …..! یہ کیا کر رہے ہو؟…..!!!‘‘۔ ڈاکٹر معراج اپنی جاری بات کو کاٹ کر بے اختیار چیخ پڑے۔ سامنے ٹریفک اشارے پر بتی سْرخ تھی۔ ڈرائیور نے سْرخ بتی کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا اور رفتار مزید بڑھتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا۔
’’ارے صاحب، آپ فکر نہ کریں ہماری گاڑی پر ویسے بھی سرکاری نمبر پلیٹ نصب ہے۔ کوئی مائی کا لال روکنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ یہ خیرآباد شہر ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں اِن چھوٹی موٹی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔ ڈرائیور دانت نکالتا ہوا بولا۔ ’’ویسے بھی سْرخ بتی پرکوئی رْکا تھا کیا…..؟ تو بھلا میں رْک کر کیوں آپ کا قیمتی وقت کیوں برباد کرتا؟‘‘۔
’’خبردار جو آئندہ کبھی ایسی کوئی حرکت کی…!‘‘ ڈاکٹر معراج کی آواز میں ایک واضح خفگی تھی۔
’’مگر…..! دوسرے صاحب لوگ تو اِس بات پر خْوش ہو کر مجھے شاباشی دیا کرتے ہیں اور آپ تو ناراض…..!!!‘‘۔ ڈرائیور نے اپنی بات ادھوری ہی چھوڑ دی۔
’’مجھے یہ سب کچھ بالکل پسند نہیں۔ تم گاڑی بھی حدِ رفتار سے کہیں تیز اور اِدھر اْدھر لہرا لہرا کر چلا رہے ہو۔ آہستہ اورسیدھے اپنی لین میں چلو‘‘۔
’’مگر صاحب لین میں کیسے چلوں…..؟ آپ خْود دیکھ لیں کہ سٹرک پرکوئی ایک گاڑی ہے جو اپنی لین میں اور مقررہ رفتار پر چل رہی ہو؟‘‘۔ ڈرائیور کی آواز میں احتجاج تھا۔
اب جو ڈاکٹر معراج نے غور سے سٹرک پر دیکھا تو احساس ہوا کہ ساری کی ساری سٹرک ایک طوفانِ بدتمیزی کا مظاہرہ پیش کررہی ہے۔ گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور رکشے بناء کسی لین کی پروا کیے من چاہی رفتار میں جہاں جگہ میسر آئے اِدھر اْدھر کٹی پتنگ کی طرح ڈول رہے ہیں۔ ’’یہ آج ٹریفک کو کیا ہوا ہے جو اِس بے ترتیبی اور بے ھنگم انداز میں جدھر سینگ سمائے اْدھر کو جارہا ہے ؟‘‘۔
’’ہونا کیا ہے صاحب، یہ تو روز کا معمول ہے ‘‘۔
’’کیا مطلب…..؟ یہاں روز سٹرکوں پر ٹریفک اِسی بے ہنگم اور بے ترتیب انداز میں چلا کرتا ہے؟‘‘۔ ڈرائیور نے سٹرک پر نگاہیں جمائے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔ ’’کمال ہے …..! یہ ٹریفک پولیس محض کھڑی تماشہ ہی دیکھ رہی ہے….. !!!‘‘۔ ڈاکٹرمعراج کے ہونٹوں سے ایک بڑبڑاہٹ سی برآمد ہوئی۔ ’’ یہ ٹریفک پولیس والے تو فقط بیس روْپلی کے ایک پتے کی مار ہیں‘‘۔ ڈرائیور کے لہجے میں بلا کا تمسخر تھا۔
ابھی وہ اِس دھچکے کے اثرات کو جذب کرنے کی کوشش میں ہی مصروف تھے کہ اْن کی نظر شاہراہ کی بائیں جانب سٹرک کے ساتھ متوازی چلتی دھوپ میں چمکتی ریل کی پٹریوں پر پڑی۔ اْنہیں یاد آیا کہ وہ اِنہی پٹریوں پر دوڑتی ریل سے ہر شام دفتر سے واپس گھر جایا کرتے تھے۔ ’’ارے میاں ڈرائیور، اب تو پہلے کی نسبت زیادہ تعداد اور کم کم وقفوں سے لوکل ٹرینیں چلا کرتی ہوں گی؟‘‘۔
’’لوکل ٹرین…؟‘‘ ڈرائیور کے لہجے میں شدید حیرت تھی۔
’’کس زمانے کی بات کررہے ہیں صاحب، کونسی لوکل ٹرین…..؟۔ کم از کم میں نے تو ہوش سنبھالنے کے بعد سے یہاں شہر میں کبھی کوئی لوکل ٹرین چلتی نہیں دیکھی…..!!!‘‘۔
’’اوہ اچھا، سمجھا سمجھا…..‘‘ڈاکٹر صاحب سر ہلاتے ہوئے بولے۔ ’’بھلا لوکل ٹرین کون کہتا ہے۔ اب تو دنیا بھر میں میڑو کہا جاتا ہے۔ سو یہاں بھی میڑو ہی کہتے ہوں گے…..، ہیں نا؟‘‘۔
’’صاحب یہاں نہ لوکل ٹرین چلتی ہے نہ ہی میٹرو۔ شہر بھر میں چنگ چیوں کا راج ہے‘‘۔ ڈرائیور کا لہجہ سپاٹ تھا۔
’’چنگ چیوں کا راج…..!!!‘‘۔ ڈاکٹر نے حیرت بھرے لہجے میں دھرایا۔
’’چنگ چی…..! یہ کیا بلا ہے ؟…..!!!‘‘۔
’’یہ دیکھیں، یہ آپ کے برابر سے جو چیز گزر رہی ہے نا، اِسے ہی چنگ چی کہتے ہیں‘‘۔ اْس رکشہ نما شئے کو دیکھ کر تو ڈاکٹر صاحب کے ہوش ہی اْڑ گئے۔ دیکھنے میں تو رکشہ ہی لگتا تھا مگر اس میں اضافی سیٹیں جوڑ کر کوئی دس بارہ لوگوں کو ڈھونس دیا گیا تھا۔ دو سواریاں تو آگے ڈرائیور کے پہلووں سے لگ کر یوں چپکی بیٹھی تھیں کہ جانو جیسے ابھی تیز رفتاری سے چلتے رکشہ سے کسی بھی لمحے باہر ہی تو گر پڑیں گی۔ رکشہ کے آخری سرے پر سڑک کے رْخ جو سیٹیں نصب تھیں ان پر تین خواتین براجمان تو تھی ہی مگر ساتھ ہی تین دوسری خواتین رکشے کی چھت کو دونوں ہاتھوں سے تھامے پائیدان پر کھڑے ہو کر بھی سفر کررہی تھیں۔ ’’اوہ خدایا…..، اِس کبوتر کی کابْک سے رکشے میں ظالموں نے بھیٹر بکریوں کی طرح سے سواریوں کو بھر رکھا ہے۔ اللہ کی پناہ خواتین پائیدان پر کھڑی ہیں۔ میں نے ایسا منظر آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔ وہ ایسے بولے جیسے کوئی خواب دیکھ رہے ہوں۔
’’صاحب جی، آپ دارالحکومت سے آئے ہیں اور روز موٹر وے پر سفر کرتے ہیں جہاں موٹروے پولیس قانون پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کرواتی ہے۔ اِسی لیے یہ سب آپ کو عجیب لگ رہا ہے۔ ورنہ خیرآباد شہر کے شہریوں کے لیے تو یہ ایک عام سی بات ہے‘‘۔
’’ پبلک بسیں بھی نظر نہیں آ رہیں؟‘‘۔
’بسیں…..!‘‘ ڈرائیور ایک طویل سانس لیتا ہوا بولا۔ ’’صاحب…..! آپ شہر میں امن وامان کے مسائل سے واقف ہی ہوں گے۔ آئے دن کی ہڑتالوں، مظاہروں اور دنگے فساد میں مظاہرین اور فسادی سب سے پہلے اِن بسوں ہی کو تو آگ لگاتے ہیں۔ سو بس مالکان نے بھی اپنی اچھی بسیں اندرون ملک بھجوا کر وہاں کے مقامی روٹوں پر چلانا شروع کردی ہیں جہاں اْن کی بسیں محفوظ رہتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے غنڈوں کو بھتہ شتہ بھی نہیں دینا پڑتا تو رقم بھی اچھی کما لیتے ہیں۔ یہاں تو بس اب بسوں کے نام پر شہر میں کچھ اکا دکا پرانے ٹوٹے پھوٹے چھکڑے ہی چلتے ہیں۔ بندے کا اسٹاپوں پر کھڑے کھڑے دم ہی نکل جاتا ہے مگر بسیں آ کر نہیں دیتیں۔ البتہ ویگنیں قدرے زیادہ تعداد میں ہیں۔ مگر دو کروڑ کی آبادی والے شہر میں یہ چند ٹوٹی پھوٹی بسیں اور ویگنیں عوام کی آمدورفت کا مسئلہ حل کرنے کے قابل کہاں…..! ارے ارے …..! یہ دیکھیں صاحب…..! یہ رہی وہ آپ کی ویگن اور اْس کے پیچھے آتی چھکڑا بس۔ خود ہی دیکھ لیں چھتیں تک لوگوں سے کچھا کھچ بھریں ہوئی ہیں‘‘۔ ڈاکٹرمعراج کو وہ منظر دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ’’گولی ماریں صاحب، ان بسوں اور چنگ چیوں کو۔ ذرا دیکھیں تو، خیرآباد شہر نے کتنی ترقی کرلی ہے۔ یہ فلائی اورز اور انڈر پاس دیکھ رہے ہیں….؟ اب تو یہاں باہر جیسے بڑے بڑے شاندار شاپنگ مال بھی بن گئے ہیں‘‘۔ ڈرائیور نے بڑے ہی فخریہ لہجے مہں کہا۔
’’یہ چند مٹی، گارے اور پتھر کے فلائی اورزاور انڈر پاس۔ آٹے میں نمک کے تناسب سے کروڑوں کی عوام میں موجود چند مراعات یافتہ طبقوں کے لیے اْونچے اْونچے اور مہنگے ترین شاپنگ مال جہاں غریب آدمی قدم تک نہیں رکھ سکتا، بنا کر یہ سمجھ لیا ہے کہ شہر ترقی کر گیا ہے۔ عوام کو تو بسوں کی چھتوں اور چنگ چیوں پر چڑھا رکھا ہے۔ سڑکوں کے کناروں اور گرین بیلٹ سے درخت کاٹ کاٹ کر اْن کی جگہ دیوہیکل اشتہاری بورڈ نصف کردیے ہیں۔ جگہ جگہ تعفن زدہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر بکھرے پڑے ہیں۔ تھوڑی بہت جو کسر باقی رہ گئی ہے وہ آدھی سٹرک گھیرتی ناجائز تجاوزات نے پوری کردی ہے۔ ٹریفک قوانین کو بیس بیس روپوں میں خرید لیا گیا ہے۔ یہ بھلا کس قسم کی ترقی ہے…..؟‘‘۔ ڈاکٹر ربانی کی بڑبڑاہٹ میں بے حد تلخی تھی۔
اچانک گاڑی ایک زوردار جھٹکے سے رک گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ہڑبڑاتے ہوئے باہر دیکھا تو آگے تمام تر ٹریفک بْری طرح جام تھا۔ ڈرائیور نے سرعت کے ساتھ گاڑی کو سٹرک کی مخالف سمت موڑنے کی کوشش کی مگر پیچھے اِس قدر ٹریفک جمع ہوچکا تھا کہ گاڑی کو پیچھے لے جانے کی کوئی صورت باقی بچ نہ رہی تھی۔ قدرے دور سے اِسی سمت آتی ٹریفک نے جب یہ منظر دیکھا تو وہیں سے گاڑیوں کا رْخ مخالف سمت موڑ دیا۔ مگر اْن کی یہ تدبیر بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی۔ تھوڑی ہی دیر میں ساری سٹرک تاحدِنگاہ شدید ٹریفک جام سے اٹی پڑی نظرآرہی تھی۔ کچھ ٹریفک سٹرک کی سیدھی سمت اور اْن کی گاڑی سمیت کچھ مخالف سمت ایک دوسرے کے مقابل کھڑا تھا۔ کان پھاڑ دینے والے ہارنوں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ لوگ باگ اپنی سواریوں سے نکل نکل کر ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کرصورت حال کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ بات کرخت لہجوں سے گالی گلوچ اور پھر ایک دوسرے کے گریبانوں تک جا پہنچی۔ معاملات مزید سنگینی اختیار کرجاتے مگر چند بھلے مانسوں نے فوری طور پر بیچ بچائو کروا دیا۔
یہ ہنگامہِ محشر کسی قدر تھما تو لوگوں کو احساس ہوا کہ ٹریفک میں پھنسی ایک ایمبولنس مسلسل سائرن بجا کر اپنی موجودگی کا احساس دلوانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ ایمبولنس کو خالی دیکھ کر لوگ ڈرائیور پر برس پڑے۔ جس پر اْس نے بتایا کہ کوئی تین چار کلومیٹر آگے تیز ہوائوں کے سبب ایک بہت بڑا اشتہاری بورڈ سڑک پر چلتی گاڑیوں پر آ گرا ہے جس سے متعدد لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ میں وقوعے پر جانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر اِس شدید ٹریفک جام کے سبب یہیں پھنس کر رہ گیا ہوں۔ زخمیوں میں سے چند کی حالت بے حد تشویشناک ہے اور اگر اْنہیں جلد از جلد اسپتال نہ پہنچایا گیا تو…..!!!۔
یہ سارا منظر دیکھ اور آگے ہوئے حادثے کے بارے جان میں کر ڈاکٹر معراج کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا۔ فضاء میں اردگرد پھیلے گاڑیوں کے سیاہ بدبودار دھویں سے سانس لینا مشکل تھا۔ ڈرائیور نے صورت حال جاننے کی غرض سے اتارے گئے گاڑی کے خْودکار شیشے چڑھا کر اے سی تیز کر دیا۔
’’اْف خدیا….. ! اِتنا شدید حادثہ ہوگیا ہے۔ نہ معلوم کتنی معصوم جانیں دائو پر لگی ہوں گی اور یہاں ایمبولنس اِس بے مقصد ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی ہے۔ کسی کو اِس بات کی پروا تک نہیں۔ سب کو اپنی پڑی ہے کہ کسی طرح سے میری گاڑی کسی کونے کھدرے، کسی فٹ پاتھ، سروس روڈ اور نہیں تو رانگ سائیڈ سے ہی نکل جائے۔ غضب خدا کا چلتی سٹرک پر گاڑیاں موڑ کر مخالف سمت جانے کے چکر میں اِس شدید ترین ٹریفک جام کا مزید بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ کوئی ایمبولنس تک کو راستہ دینے کو تیار نہیں‘‘۔ ڈاکٹر معراج کی آواز میں شدید افسوس تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی رو ہی تو پڑیں گے۔
’’ارے صاحب، آپ تو جذبانی ہوگئے۔ یہ تو خیرآباد شہر میں روز کا معمول ہے۔ اِیسے ٹریفک جاموں میں نجانے کتنے مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ایمبولنسوں ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔ اْن کے ساتھ بیٹھے عزیز واقارب دھائیاں دیتے رہ جاتے ہیں۔ کسی کے کان پرجْوں تک نہیں رینگتی‘‘۔ ڈرائیور نے یوں بے پروائی سے بتایا جیسے یہ کوئی بہت ہی معمولی سی بات ہو۔
’’اْف خدایا…..!‘‘۔ ڈاکٹر معراج کی زبان سے بے اختیار نکلا۔ ’’کس قدر بے حس ہوچکے ہیں لوگ۔ اپنی ذرا سی جلدی کے لیے سْرخ بتی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ رانگ سائیڈ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ جانتے بھی ہو سْرخ بتی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’ہاں صاحب، جانتا ہوں، کیوں نہیں جانتا۔ سرخ بتی کا مطلب ہوتا ہے رْکنا‘‘۔ ڈرائیور نے فخر سے گردن اکڑاتے ہوئے کہا۔
’’رکنا… مگر کیوں؟‘‘ شدتِ جذبات سے وہ چیخ پڑے۔ ’’تاکہ سٹرک پر سارا ٹریفک ایک وقت میں ہی کسی جگہ پر اکٹھا نہ ہوجائے۔ گاڑیاں مناسب وقفہ لیں اور اِس دوران مخالف سمت کی گاڑیاں دوسری طرف کو جا سکیں۔ لال بتی پر رکی گاڑیوں کو آگے جانے کے لیے مطلوبہ جگہ میسر آ سکے۔ سٹرک پر ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ اِس جلدبازی اور سْرخ بتی کی خلاف ورزی کے سبب ہی تو ٹریفک جام ہوتا ہے۔ پھر سٹرک کی مخالف سمت گاڑیاں دوڑا کر نکل جانے کے چکر میں ٹریفک مزید جام کردیتے ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسی کسی ایمبولنس میں کوئی مریض مر جائے تو کس قدر بے حسی سے کہتے ہو یہ خیر آباد شہر ہے۔ یہ تو یہاں کا روز کا معمول ہے…! استغفراللہ…! استغفراللہ…!!!‘‘
’’صاحب، معلوم ہوتا ہے شاید آپ کو اِس شہر کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں‘‘۔ ڈاکٹر کی اِس قدر جذبانی تقریر کے باوجود بھی ڈرائیور کا لہحہ بالکل پْرسکون تھا۔ ’’ٹریفک جام میں دو ایک مریضوں کی موت، ٹریفک حادثات میں مرنے والے والے آٹھ دس لوگ، لوٹ ماروچھینا جھپٹی کی وارداتوں میں مرنے والے دو پانچ لوگ، راہ چلتے گولی کا نشانہ بن کر اور کسی دہشت گردی کی واردات میں پچیس پچاس لوگوں کے مرنے سے خیرآباد کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لوگ مرتے رہتے ہیں اور خیرآباد کے لوگ اپنی زندگیوں میں مگن سرجھکائے چلتے رہتے ہیں کہ یہ تو یہاں روز کا معمول ہے۔ آپ نے اخبارات میں پچھلے ماہِ رمضان میں گرمی کی شدت سے پیدا شدہ امراض سے صرف تین روز میں مرنے والے سولہ سو افراد کے بارے میں کچھ نہیں پڑھا کیا…..؟ ابھی کچھ ہی روز پہلے ایک چند ماہ کی بیمار ننھی بچی نے فقط اِس سبب اپنے مجبور باپ کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی کہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کا بیٹا اسپتال میں کسی نئی عمارت کا افتتاح کرنے آیا تو سیکورٹی کے لیے اسپتال کے اطراف کو پولیس نے عام آدمی کی آمدورفت کے لیے ممنوع قرار دے دیا۔ کوئی شور ہوا…..؟ کوئی کچھ بولا…..؟ کسی پر کچھ بھی اثر ہوا…..؟ لوگ اْن سولہ سو لوگ اور اْس ننھی بیمار بچی کے مرنے سے پہلے جیسے جیا کرتے تھے اْس کے بعد بھی ویسے ہی تو جی رہے ہیں…..!‘‘۔ ڈاکٹر معراج آنکھیں پھاڑے ڈرائیور کے پْرسکون چہرے کو دیکھتے ہوئے یہ ساری باتیں یوں سْن رہے تھے جیسے ننھا بچہ کوئی طلسمِ ہوش رْبا کا کوئی دیومالائی قصہ سْن رہا ہو۔
کچھ دیر فضاء میں ایک بوجھل سا سناٹا چھایا رہا۔ پھر ڈاکٹر معراج نے سر کو جھٹکتے ہوئے چند گہرے گہرے سانس لیے اور دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکل پڑے۔ ساتھ کھڑی گاڑی جس میں چار نوجوان سوار تھے کی کھڑکی کا شیشہ اپنی انگلی سے بجانا شروع کردیا۔ گاڑی کا شیشہ فوری طور پر کھلا۔ انہوں نے نجانے کیا کہا کہ فوری طور پر وہ چاروں نوجوان گاڑی سے باہر آ گئے۔ اب وہ ایمبولینس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ قریب پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کا اشارہ پاتے ہی اْن چاروں نوجوانوں نے ایمبولنس کے اطراف میں کھڑی دوسری گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے ایمبولنس کو جانے کے لیے رستہ دینے کی درخواست کرنا شروع کردی۔ یہ دیکھ چند اور گاڑیوں سے بھی لڑکے بالے اْن کی تقلید میں اْتر پڑے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ڈاکٹر صاحب کی کمان و ہدایات میں کام کرتے پندہ بیس نوجوان ایک تربیت یافتہ کارکنان کی ٹیم کا منظر پیش کررہے تھے۔ جس گاڑی کو جس قدر جگہ میسر آئی اْدھر اْدھر کھسکتی چلی گئی۔ کچھ ہی دیر میں ٹریفک سے گھری سٹرک کے درمیان اس قدر جگہ بن گئی کہ ایمبولنس گزر جائے۔ چند نوجوان ایمبولینس کے آگے آگے موٹر سائیکل پر ہاتھ ہلا ہلا کر مزید آگے رْکی گاڑیوں کو ایک جانب ہو کر جگہ دینے کا اشارہ کرتے بالکل یوں چل رہے تھے جیسے حکمرانی کے خمار میں مدہوش طبقے کی سواری کے آگے باوردی پولیس والے موٹر سائیکلوں پر عوامی سواریوں کو روکتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ وہاں ٹریفک میں پھنسی ایک نیوز ٹی وی کی رپورٹنگ ٹیم نے عکسبندی شروع کردی۔ ایمبولینس کے روانہ ہوتے ہی وہ سارے نوجوان ڈاکٹر معراج کی قیادت میں سٹرک پر پھنسی دوسری گاڑیوں کو آگے جانے کا راستہ فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد رکا ہوا ٹریفک سٹرک پر یوں رواں دواں تھا کہ جیسے کبھی رْکا ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر معراج جب گاڑی میں داخل ہوئے تو تھکن اْن کے چہرے سے عیاں تو ضرور تھی مگر ہونٹوں پرمسکراہٹ اور آنکھوں میں بھرپور چمک تھی۔ ’’اس سے پہلے کہ یہ نیوز ٹیم میری جان کو آ جائے، فوری طور پر نکل چلو…!!!‘‘
ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ ابھی کچھ ہی آگے گئے ہوں گے تو سامنے سٹرک پر دھواں سا اْٹھتا دکھائی دیا۔ معلوم ہوا کہ کسی سیاسی تنظیم کے کارکنان نے سٹرک کے عین بیچوں بیچ بہت سارے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کردی ہے۔ اچانک ڈرائیور کے سیل فون کی گھنٹی بج اْٹھی۔ ڈرائیور نے سیل فون کان سے لگا کر ہیلو کہا۔
’’اوہ…! اچھا…! کب؟…! کیسے ؟…!!‘‘ ڈرائیور مزید کچھ دیر تک فون سْنتا رہا اور پھر تھکے تھکے انداز میں فون بند کردیا۔ ’’کیا ہوا میاں ڈرائیور…، سب خیریت تو ہے نا؟‘‘ ڈاکٹر معراج نے اْس کے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔
’’نہیں خیرت ہی تو نہیں صاحب…..!‘‘۔ ڈرائیور کے لہجے میں زمانے بھر کا ملال اور آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں۔ ’’سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے جگہ جگہ احتجاج شروع کردیا ہے۔ شہر کے حساس علاقوں میں تو دکانیں بند کروانے، پتھرائو، توڑ پھوڑ، جلائو گھیرائو اور نہ معلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع بھی ہوگیا ہے۔ لوگ زخمی اور جاں بحق بھی ہوئے ہیں…!‘‘
’’مگر کیوں…! ایسا کیا ہوا بھلا؟…!‘‘ ڈاکٹر صاحب نے حیرت بھرے سوالیہ لہجے میں دریافت کیا۔
’’صاحب…! ابھی چار گھنٹے قبل شہر بھر میں جو تیز ہوائیں چل رہی تھیں نا…! اْن کی زد میں آ کر برگد کا بوڑھا پیڑ گرگیا…!‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close