Naeyufaq Feb-17

اقرا

طاہر قریشی

الرحمان
(بے حد مہربان)

رحمن کے معنی ہیں بڑا مہربان‘بہت بخشش کرنے والا‘ اس لفظ رحمن کے معنی صرف ذات الٰہی پر ہی صادق آتے ہیں‘ اس لئے یہ اسم وصفتِ الٰہی کسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مشتق ہے اور مبالغہ پرمبنی ہے‘ اس کے معنی رحمت والے‘ کے ہیں‘ اس سلسلے میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ لفظ رحمن کی نہ تثنیہ ہے نہ ہی جمع ہے۔ اسلام سے پہلے یہ لفظ عربوں میں مستعمل نہیں تھا صرف یہود ونصاریٰ اور بعض دیگر مذاہب کے لوگ بولتے تھے۔ اس لئے ابتدائے اسلام کے وقت جب اللہ کا یہ نام رحمن لیا گیا تو قریش کو بڑی حیرت ہوئی تھی کہ یہ کونسا نیا نام ہے‘صلح حدیبیہ کے وقت جب حضرت علی وجہہ رضی اللہ عنہ نے عہدنامہ کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تو قریش نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔ کہ ہم رحمن کو نہیں مانتے۔
رحمن اور رحیم دونوں کے ایک ہی معنی ہیں او ران دونوں کاایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ وہ تاکید کے لئے ہے یابااعتبار تعلق‘ دونوں میں باہم مغائرت یعنی اجنبیت ہے۔ صفتِ رحمن دنیا کے لئے ہے اور رحیم آخرت کے لئے ہے‘ کیونکہ دنیا میں اللہ کی رحمت مومن‘ کافر سب کے لئے عام ہے اور آخرت میں صرف مومن کے لئے مخصوص ہوگی‘مغائرت کسی اور پہلو سے ہے۔ رحمن تو اس حیثیت سے زیادہ بلیغ ہے کہ وہ بڑی بڑی نعمتوں اور ان کے اصولوں پر مشتمل ہے۔
علامہ ابن خالویہ لغوی کے مطابق رحمن کو رحیم پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے کہ رحمن اللہ تعالیٰ کااسمِ خاص ہے اور رحیم اسمِ مشترک ہے‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رحمن اور رحیم دو ایسے اسم ہیں جن میں رقت کے معنی ہیں اور ایک میں دوسرے کی نسبت رقت کامفہوم زیادہ ہے۔ رحمن میں مدح زیادہ ہے رحیم میں رقت زیادہ ہے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رحمن اور رحیم دونوں نعمتیں ہیں۔ رحمن کااشتقاق رحمت سے ہے اور یہ عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ اللہ کی طرح ذاتِ باری کا علم ہوگا۔ قرآنِ حکیم میں یہ لفظ ترپن (۵۳) مقامات پر آیا ہے۔بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے اس کا استعمال بطور صفت نہیں بلکہ بطور علم ہوا ہے-(لغات القرآن)
ترجمہ:۔ہمیشہ ر ہنے والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعدہ‘ اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے ہی والا ہے۔ (مریم۔۶۱)
یعنی جو لوگ اللہ کے غائبانہ وعدے پر ہی اس کے حصول کے لئے ایمان وتقویٰ کا راستہ اپنالیتے ہیں یہ ان کے ایمان کی پختگی اور یقین کی علامت ہے کہ انہوں نے جنت کو د یکھا بھی نہیں اور صرف اللہ کے وعدے پر ہی سیدھی راہ اختیار کرلی۔
ترجمہ:۔ جورحمن ہے‘(وہ) عرش پر قائم ہے۔ (طہ۔۵)
اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ رحمن کے ساتھ اپنے تخت پر جلوہ افروز ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس نے اس عظیم کائنات کو پیدا کیااور جاکر اپنے تخت پر آرام کرنے بیٹھ گیا ہو بلکہ اپنے تخلیق کردہ اس کارخانۂ قدرت کو‘ اس کے سارے انتظام کو خود چلارہا ہے‘ خود اس بے کراں سلطنتِ الٰہی کی فرمانروائی کررہا ہے۔ وہ خالق ہی نہیں بالفعل حکمران بھی ہے۔
ترجمہ:۔رحمن نے‘ قرآن سکھایا(تعلیم دی) اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ اوراسے بولنا سکھایا۔ (الرحمن۔۱تا۴)
دوردور تک پھیلنے والی یہ آواز الرحمن نہایت بلند آواز ہے۔ یہ تمام مخلوقاتِ الٰہی سے مخاطب ہے۔ زمین آسمان کو اپنی گونج سے بھردیتی ہے اور ہر کان اور ہردل تک پہنچ جاتی ہے۔یہ گنگناتی بے قید آواز پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے‘ یہ مطلع ہے اس لفظ کا جواسم ذاتِ الٰہی ہے۔ رحمت وہ صفتِ الٰہی ہے جو اس کے رحم وکرم‘اس کی بخشش وعطا سے منسلک ہے‘اللہ الرحمن کے بے پناہ انعامات اور نعمتوں کی بخشش وعطا کا مظہر ہے۔ اللہ رحمن کاانسانوں پر یہ بھی احسانِ عظیم ہے کہ اس نے انہیں زندگی بسر کرنے کے لئے قرآنِ حکیم کی صورت میں ایک ضابطۂ حیات ایک ضابطۂ اخلاق اور نظام قانون کی صورت عطا کیا۔درحقیقت قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پرایک عظیم رحمت اور نعمت ہے۔ قرآنِ حکیم الٰہی فطرت کاترجمان ہے اور تمام انسانیت کے لئے ایک روشن ہدایت ہے جو انسان کو فطرتِ الٰہی سے قریب کرتاہے‘ ناموسِ فطرت کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔ قرآن نے ہی انسان کو آگاہ کیا کہ وہ زمین پر رحمن کاخلیفہ ہے اور اللہ کے نزدیک اشرف ومکرم ہے۔
انسان کیاہے؟ اُس کی اصلیت کیا ہے؟ اسے کس طرح پیدا کیا گیا ہے اور کیسے بولنا سکھایاہے؟ انسان رحمان کی مصنوعات میں سے ایک ہے۔ انسان کی تمام صلاحیتیں‘دیکھنا‘ سونگھنا‘ چھونا‘ شعور والہام یہ سب کچھ اُسے رحمن سے ملا ہے‘یہ سب اُس کی عطا ومہربانی و بخشش ہے۔
ترجمہ:۔اس نہایت مہربان پروردگار کی طرف سے جو زمین اور آسمان اور ان کے درمیان ہرچیز کا مالک ہے۔ (النباء۔۳۷)
یہ اُس عظیم حقیقت کابیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت زمین وآسمان پرحاوی ہے۔ اللہ کی رحمت‘ربوبیت بڑی ہی رحیمانہ ہے۔ اہلِ تقویٰ‘اہلِ ایمان کو ان کے اعمال وافعال کی جزا‘ اللہ کی رحمت کانتیجہ ہے اور احکامِ الٰہی سے انحراف وبغاوت کا نتیجہ سزا‘ یہ اللہ کی رحمت کاہی تقاضہ ہے کہ سرکشوں کوجہنم میں جھونکاجائے۔کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ سرکشوں کو ان کے شرکی سزا ملے‘ اس لئے کہ خیروشر برابر نہ ہو ورنہ تو ظلم ہوگا۔ اللہ کی رحمت اپنے اندرجلال لئے ہوئے ہے۔
فضائل واعمال۔روز ہرنماز کے بعد ایک تسبیح (سومرتبہ) یارحمن پڑھنے والے کے دل سے ہر قسم کی سختی اورغفلت اللہ تعالیٰ دور کردیتاہے اور ذہانت اور یادداشت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close