Naeyufaq Feb-17

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

فروری 2017ء کا نئے افق حاضر مطالعہ ہے۔
ابھی جنوری کے شمارے کی تھکن دور نہ ہوئی کہ سرگزشت کے مدیر ہمارے پیارے بھائی محترم پرویز بلگرامی نے محترم سلیم فاروقی کے انتقال کی اطلاع دی۔ اس خبر پر اب بھی یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا بار بار سلیم فاروقی کا ہنستا مسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے، بہرحال یہ قانون قدرت ہے کہ جو دنیا میں آتا ہے اسے ایک نہ ایک دن واپس بھی جانا ہے اللہ تعالیٰ سلیم فاروقی کو غریق رحمت کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔
اس ماہ امین صدر الدین بھایانی کا خاص افسانہ خیر آباد کا بوڑھا برگد شامل اشاعت ہے۔ محترم امین بھایانی جب بھی اور جو بھی لکھتے ہیں وہ ایسا لگتا ہے کہ لفظ ان پر اوپر سے اترتے ہیں، ان کے کردار ہمیں اپنے ارد گرد چلتے پھرتے محسوس ہی نہیں بلکہ نظر بھی آتے ہیں اس کے علاوہ محترمہ شبینہ گل کا ایک ناول چہرہ بھی شامل اشاعت ہے ان دونوں تحریروں کا تعارف بہت مختصر دیا گیا ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کو تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی جن کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خود آپ اپنا تعارف ہَوا بہار کی ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ ان تحریروں کو دل کی آنکھ سے پڑھیں اور پھر اپنے تاثرات سے آگاہ کریں۔
اب آئیے اپنے تلخ و شیریں ناموں کی طرف
احسن ابرار رضوی …ساہیوال۔ السلام علیکم!اُمید ہے خیریت سے ہوں گے ۔اللہ تعالی اپنے کرم کی بارشیں برسائے رکھے آمین ۔ماہ جنوری 2017ء کا نئے اُفق رُخصت ہوتے دسمبر میں مل گیا۔یہ اپنا معمول نہیں بھولا۔اللہ کرے پابندی وقت قائم رہے ۔آمین ۔آج چھٹی کا دن اور یکم جنوری 2017ء ہے ۔موبائل فون پر اور فیس بک،سال نو کی مبارک باد کے ایس ایم ایس چل رہے ہیں ۔ہر ایرے غیر ے سال 2016ء میں کیے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے اور دُعائوں کے نذرانے پیش ہو کر رہے ہیں ۔جب دِل میں بغض ہو اور ظاہر ی طور پر لاکھ معافیاں مانگی جائیں تو کسی کام کی نہیں۔۔۔یہی حال جنوری 2017کے نئے افق میں نظر آ رہا ہے ۔گفتگو کی محفل یوں گرم ہے جیسے ملک کی باگ ڈور اِنہی کے ہاتھوں میں ہے اور ایک دوسرے سے کرسی چھیننے کی کوشش میں سر گرم عمل ہیں ۔جب ادیب ہی بے ادب ہو جائے ، قوم تو سُدھر گئی ۔شعور کی بلندیوں پر بیٹھے لوگ یوں کرتے ہیں تو اپنے لاکھ سلام ۔یار ایک دوسرے کے دست گریبان ہونے سے پہلے اپنے اردگر د تو دیکھیں ۔انگریز مریخ سے بھی آگے نکل گیا اور ہم خود کو خود میں تلاش نہ کر سکے ۔افسوس!نئے اُفق سال نو کا پرچہ بہترین ہے اور سرورق بھی کمال ہے ۔گفتگو کی محفل سے اختلاف کرتے ہوئے کچھ آگے بڑھے اقراء سے دل کے زنگ اُتار نے کی کوشش کی ۔یاسین صدیق نے ڈاکٹر عبدالرب بھٹی سے ملاقات کروائی ۔انٹرویو بڑا خاصے کا ہے اور میرا نہیں خیال جو یہ انٹرویو پڑھ لے وہ کسی جھگڑے فساد کا سبب بنے ۔خاص کر میرے ادیب حضرات۔تفتیش ،تاریک راہیں ،آب زد،چسکا،دام اجل ،نقلی نوٹ،خاصے کی تحریریں ہیں ۔فن پارے کی تحریریں بھی عمدہ ہیں اور تمام مستقل سلسلے بھی متاثر کن ہیں ۔ڈیول اور ایک سو سولہ چاند کی راتیں ،آگے کو بڑھ رہی ہیں۔اس بار ریاض بٹ کی کہانی نہ پاکر دل پریشان سا ہوا۔اللہ خیر فرمائے آمین۔
ایم…اے …راحیل… آداب!سال نو مبارک کے سندسے سناتا نئے اُفق جاتے دسمبر میں مل گیا۔سرورق جاذب نظر اور دل کش ہے ۔دستک’’یہ تو ہونا ہی تھا‘‘محترم مشتاق احمد قریشی نے خوب لکھا ۔بھارت اور اس جیسے ممالک پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں ۔گفتگو کا آغاز حدیث مبارک ﷺ سے کیا ،عمران احمد کی جگہ اقبال بھٹی براجمان ہیں ۔مدیر بھائی اس سال کو امن و سکون کا سال ثابت ہونے کی دُعا کر رہے ہیں اور گفتگو کی محفل میں ’’جنگ‘‘چھڑی ہوئی ہے ۔مدیر وضاحتیں مانگ رہے ہیں اور مدعی ّ سینہ تان کر کھڑے ہیں اور شاید سولی پر لٹکانے کی قسم اُٹھائے کھڑے ہیں ۔روز ہزاروں کہانیاں لکھی جا رہی ہیں اور روز ہزاروں واقعات پیش آ رہے ہیں ۔کس کو پڑی ہے کہ دوسرے کی طرف توجہ کرے لیکن نئے اُفق کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اپنے من کی آگ ٹھنڈی کی جا رہی ہے ۔ریاض حسین قمر بھائی ،بہت شکریہ آپ نے میرے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو سراہا۔محمد رفاقت آپ کا خط جاندار بھی ہے اور شاندار بھی۔عمر فاروق ارشد کسی کی بڑائی تب نظر آتی ہے جب وہ دوسروں سے ہم کلام ہوتا ہے ،یا اس کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔مجھے آپ کے ساتھ نئے اُفق میں سال ہونے کو ہے ۔آپ کی ذہانت اور قابلیت واضح نظر آتی ہے۔ عنبرین اختر اور غلام اویس بہترین خط لائے ۔غلام یاسین نوناری صاحب،گناہ کیا ہے ؟میں باخوبی جانتا ہوں اور کیا آپ کے پاس ثبوت ہے کہ مسکان بھٹی زنانہ ہے یا مردانہ ۔۔۔۔گریبان اللہ تعالیٰ اس لیے بنائے تاکہ اس میں جھانک سکوں یہ نہیں کہ فیشن بنا لو۔۔۔کسی پر تنقید کرنے کی بجائے بندہ خود کو دیکھے وہ کتنے پانی میں ہے ۔صائمہ نور آپ کو بھی سال نو عیسوی مبارک ہو ۔مجیداحمد جائی یوں منظر سے غائب نہیں ہوتے بھلے لاکھ مصروفیات کیوں نہ ہوں۔پرنس افضل شاہین آپ نے عمر فاروق کو درست فرمایا ،اللہ کرے عقل سے سوچیں ۔مسکان ظفر بھٹی صاحبہ ۔میرا ایڈریس تو ادارہ کے پاس ہے اپنی فکر کریں ۔کہیں یہ پھندہ آپ کے گلے ہی نہ پڑ جائے ۔آپ کی زبان دوسروں کی طرف بہت چلتی ہے ،میںآپ کے کم از کم باپ کی عمر کا ہی ہوگا ۔میرا نہیں تو اپنے باپ کا خیال کیا ہوتا۔عبدالجبار رومی انصاری ویری گڈ کیا شاندار خط لکھا۔انٹرویو میں یاسین صدیق نے معروف و مشہور ادیبوں سے ملوانے کا بیڑہ ٹھیک اُٹھا یا ہے ۔اللہ تعالیٰ اُن پر رحمتیں برسائے آمین۔کہانیوں میں بے سائبان لوگ،نقلی نوٹ،دام اجل ،چسکا،تفتیش،تاریک راہیں اچھی رہیں۔ قسط وار ابھی پڑھنی باقی ہیں ،فن پارے کی تحریریں بھی قابل ستائش ہیں ۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سخن بھی کمال محنت سے سجائے گئے ہیں۔
صائمہ مجید…ملتان شریف۔آداب!اُمید کرتی ہوں بحیثیت مسلمان دین اسلام کی پیروی کرتے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ صراط مستقیم پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور خوشیوں کا سماں ہر وقت رہے ۔صحت اور امن و سکون کی زندگی بسرکرنے اور دوسروں کے لئے خوشیوں کا سبب بنے رہیں آمین ! سال نو کی مبارک باد دیتا نئے اُفق جنوری 2017ء وقت پر مل گیا ۔سرورق پر بیرون ملک کی دوشیزہ ہاتھوں میں سفید کلر کی بلی اُٹھائے اور شاید ستارے کو قید کرنے کے لئے ہاتھ کو جال بنائے ہوئے ہے ۔کھلے بالوں ،لبوں پر مسکراہٹ اور تیکھی نظروں سے گھورتی بھلی لگ رہی ہے ۔دستک میں انکل مشتاق احمد قریشی بھارت کے اندرونی حالات سے باخبر کر رہے ہیں ۔مکار ہمسائے کی چالاکیاں کس کو پتا نہیں ۔۔ہمسائے اچھے ہوں تو زندگی سہل گزرتی ہے اور اگر ہمسائے خبیث ہوں تو اُس کے شر پھیلانے سے پہلے ہی اُن کا سدباب کر لینا چاہیے ۔پاکستان کو سنجیدہ ہو کر عمل کرنا ہوگا اور بھارت کو دو ٹوک کہنا ہو گا کہ اگر اُس نے پاک سر زمین پر اپنے ہتھکنڈے آزمائے تو ناکوں چنے چبانے پڑیں گے ۔تاریخ شاہد ہے بھارت نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے پھر بھی اسے شرم نہیں آتی۔ گفتگو میں ڈرامہ نگا ر امجد بخاری کی آمد کی نوید سنائی گئی ۔خوش آمدید ۔۔۔ساتھ ہی ایک بار پھر مجیداحمد جائی کووضاحت کرنے کا کہا گیا۔یہ ادیب لوگ ایک دوسرے کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں ۔؟جب دوسروں کی اصلاح کرنے والے ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگ جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پید ا ہو جائے گا جو کہ اچھا نہیں ہے ۔ریاض حسین قمر رنجیدہ سے ہیں ۔بھیا آپ نیٹ سے اگست کا شمارہ پڑھ لیں ۔آپ نے میرے خیالات کو سراہا ،نوازش۔ریاض بٹ صاحب آپ نے میرے خیالات اور کہانی کی پسندیدگی پر مہربانی کا کہا۔۔۔مہربانی کیوں؟قاری کا حق ہوتا ہے ،بلکہ فرض ہوتا ہے کہ وہ کہانی پر اپنے ذہن کے مطابق رائے دے لیکن زیادہ تر لوگ ذاتیات پر تنقید کرنے لگتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے ۔اس طرح نفرتوں کی فضا ء قائم ہو جاتی ہے ۔سدرہ عاقب کے لئے اتنا ہی کہ انکل اقبال بھٹی کو چاہیے کہ جو بھی قاری گفتگو کا حصہ بنے ،پہلے خط کے ساتھ اُس کے آئی ڈی کارڈ کی کاپی لی جائے تاکہ جعلی اور فرضی ناموں سے چھٹکارہ مل جائے ۔ایسے لوگ دو تین خطوط کے بعد منظر عام سے ہٹ جاتے ہیں اور گفتگو کی فضا زہر آلودہ کر جاتے ہیں ۔چند ماہ سے دیکھ رہی ہوں کہ گفتگو میں دوست پرچے پر تبصرہ نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی دم دبانے کے چکر میں لگے ہوتے ہیں ۔ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ کر گناہوں میں اضافہ کررہے ہوتے ہیں حالانکہ زندگی مختصر سی ہے یہاں نیکیاں کرنی چاہیں اور ہم اپنے ہی عمل سے اپنے ہی گلے کا پھندہ تیار کر رہے ہیں ۔۔محمد رفاقت کا خط بہترین تھا ۔عمر فاروق ارشد بھیا ء مجیداحمد جائی کے خلاف ادارے کو حکم دے کر قائل کر رہے ہیں کہ توپ کا رُخ مجیداحمد جائی کی طرف کیا جائے۔۔عنبرین اختر مختصر لیٹر کے ساتھ حاضر ہیں ۔غلام اویس کے لیٹر کی طرف انکل اقبال بھٹی کو توجہ دینی چاہیے ۔غلام یاسین نوناری لگتا ہے آپ مجیداحمد جائی کے دیوانے ہیں جو میرے انداز تحریر کو اُن کے ساتھ ملا رہے ہیں ۔ہمیں اپنی غلطیوں کی طرف نظر کرنی چاہے دوسرے کیا کر رہے ہیں اُن پر چھوڑ دیں ۔۔پرنس افضل شاہین خوبصورت خط کے ساتھ حاضر ہیں ۔شجاعت حسین شجاع بخاری جعفری ،مسکان بھٹی،عبدالجبار رومی انصاری عمدگی کے ساتھ حاضر ہیں ۔اقراء نے ہمیشہ کی طرح متاثر کیا،انٹرویو میں یاسین صدیق اور اُس کے گروپ نے کمال انٹرویو لیا اور ڈاکٹر عبدالرب بھٹی نے خوبصورتی کے ساتھ دالائل بھرے جوابات دئیے ۔اُن کے انٹرویو نے حیران کر دیا۔کہانیوں میں چسکا،دام اجل ،نقلی نوٹ،آب زد،تفتیش،بے سائبان لوگ،تاریک راہیں ،عمدہ تھیں ۔جمہوری انقلاب ،بچوں کی کہانی لومٹری اور بکری انڈین ویڈیو فلم سے اخذ کی گئی لگتی ہے اور قہقہہ بھی دوبارہ اشاعت ہو ئی شاید۔۔۔اس بارے میں پرانے رسالے دیکھ کر آگاہی دوں گی ۔اتنا ضرور ہے یہ نئے افق کے پلیٹ فارم پر دوبارہ پڑھنے کو ملی ہے ۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سخن ،ڈیول ،فن پارے کی تحریریں بھی زبردست تھیں ۔جاتے جاتے گزارش وہی کہ گفتگو کی فضا کو امن پسند بنایا جائے اور ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنا بند کیا جائے ،نہیں تو ہم اچھے اچھے قاری اور لکھاری کھو دیں گے۔
مجیداحمد جائی…ملتان شریف۔مزاج گرامی !میں خط لکھ رہا ہوں تو اذان عشاء ہو رہی ہے۔اُسی رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔جس نے زمین پر بھیج کر بے شمار نعمتوں ،رحمتوں سے نوازہ ہے ۔اُمید کرتا ہوں ،ذات رحیمی و کریمی کے فضل و کرم سے خوشحال زندگی بسر کرتے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ خوشیوں بھری زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو خوش رکھنے اور خدمت خلق کی توفیق عطا فرمائے رکھے آمین ثم آمین ! ما ہ جنوری 2017ء کا سال نو کی مبارک دیتا نئے اُفق ملا ،سرورق دیکھ کر دل خوش ہوا،دستک میں مشتاق احمد قریشی کا قلم نڈر اور دلیر ہے ۔جس بھی موضوع پر اُٹھے حقائق سامنے لاتے ہیں ۔گفتگومیں پہنچا تو یہ جان کر دل مغموم ہوا کہ میرے خصوصی دوست دل آزاری کی آخری حد بھی کراس کر رہے ہیں ۔یہ خط میں صرف اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ادارہ نے وضاحت طلب کی ،ورنہ میں نے تبصرہ نگاری چھوڑ دی ہے ۔چھوڑنے کی وجہ بھی وضاحت کردوں کہ سال بھر باریک بینی سے رسالے پڑھو پھر عرق ریزی سے تبصرہ کرو تو دوست کہتے ہیں بس تعریفیں ہی ہوں ۔۔۔لیکن میں حق سچ کہنے ،سننے والا ہوں ۔۔۔اب وضاحت کی طرف آتا ہوں۔میرے لکھاری دوست عمرفاروق ارشدنے نہ صرف الزامات کے انبارلگا دئیے ہیں بلکہ ڈھٹائی سے دھمکی بھی صادر فرما دی کہ اس شخص کو بچ کر جانے نہیں دوں گا۔میرے بھائی میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔عمر فاروق ارشدنے الزامات لگاتے ہوئے فرمایا :’’ہر کتاب ،رسالے کے شروع میں لکھا ہوتا ہے ،جملہ حقوق محفوظ ہیں ‘‘اور ادارہ پر زور دیا بلکہ حکم صادر کیا کہ میرے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ،آپ نے ثبوت بھی فراہم کیے۔عرض کروں گا میرے بھائی شاید آپ نے ہر کہانی کے شروع ہونے سے پہلے یہ نہیں پڑھا’’اس کہانی کے کردار،نام ،جگہیں ،مقامات ،واقعات کا کسی سے ان کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی جس کا لکھاری اور ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا‘‘۔آج تک نہیں پڑھا تو ادارہ سے رابطہ کریں اور کسی بڑے منصف سے معلوم کر لیں ۔۔۔آپ کی ان الفاظ پر نظر پڑتی تو یوںبرہم نہ ہوتے ۔۔۔میں اقبال بھٹی صاحب سے عرض کروں گا دونوں کہانیوں ’’لغزش‘‘اور ’’انگور کی بیٹی ‘‘بغور مطالعہ کریں اور پھر منصف کے طور پر فیصلہ کریں ۔۔۔دُرست کیا ہے ۔؟چوری یا نقل کرنا وہ ہوتا ہے ۔۔جو۔۔ہو بہو ،من و عن حروف ،جملے لکھیں جائیں ۔۔۔جس کا عمر فاروق ارشد صاحب نے لکھا ہے ۔’’انگور کی بیٹی‘‘میں کوئی ایسا جملہ بتادیں جو میں نے لغزش سے چوری یا نقل کیا ہو ۔۔۔؟میرے بھائی چوری اور نقل کے مفہوم کو سمجھیں اور پھر الزامات کی بوچھاڑ بھی کریں ۔۔۔اگر میں چورہوتاتو آپ کی کہانی کیوں چُراتا ،اشفاق احمد ،ممتاز مفتی ،شوکت صدیقی، پریم چند،کرشن چندر ،احمد ندیم قاسمی جیسے کسی بڑے لکھاری کی تحریر چُراتا ۔۔ الحمداللہ! میں نئے اُفق کا نہ صرف لکھاری ہوں بلکہ ریگولر قاری بھی ہوں ۔اس کے علاوہ عرصہ سولہ سال سے کالم نگار ،اور افسانہ نگار کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں ،اخبارات اور مشہورومعروف رسائل یونہی میری تحریریں شائع نہیںکر رہے اور معاوضہ بھی دے رہے ہیں۔ ملتان کے رسالے کرن کرن روشنی ڈائجسٹ کا ایڈیٹر بھی ہوں۔۔۔میں چوری اور نقل کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتا ہوں، میرا مطالعہ زیادہ ہوتا ہے اور لکھتا کم ہوں۔۔۔ہر ماہ دس ڈائی جسٹ زیرمطالعہ ہوتے ہیں اور جب تک کوئی کتاب نہ پڑھوں تو نیند نہیں آتی ۔۔۔رہی بات چرب زبانی کی ۔۔۔میرے بھائی ۔۔۔میں کیا ۔۔۔میر ی اوقات کیا ۔۔؟نہ ہی مجھے چرب زبانی کرنے کا شوق ہے نہ ہی عادت اور میں اِنسانوں کے آگے نہیں روتا۔۔۔۔میں صرف اور صرف اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے روتا ہوں ۔۔اُس کے سامنے رونے سے آپ کیا،کوئی بھی نہیں روک سکتا۔۔۔اُسی رب کی عدالت میں اپنے فیصلے چھوڑ دیتا ہوں ،وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔۔۔میں اُسی سے انصاف مانگتا بھی ہوں ۔۔۔میں اُس کی عدالت سے کبھی مایوس نہیں لوٹا۔۔میرے بھائی آپ گھبرائیں مت ،میں کوہ قاف سے کچھ نہیں لانے والا،نہ ہی کوئی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہوں ۔۔۔بقول آپ کے ،میں نئے افق سے مواد چُرا کر اپنے نام سے چھپوانے کا عادی ہو چکا ہوں ۔۔۔میرے بھائی کیوں بہتان باندھتے ہو۔۔۔حقائق سامنے لائیں ۔۔۔آپ نے خط لکھتے ہوئے جذبات کا اثر لیا ہے اور غصے کی لہروں میں پور پور ڈوب چکے تھے اور غصے میں عقل کام نہیں کرتی۔۔۔۔ ٹھنڈے دماغ سے میری باتوں پر غور کیجئے گا ہو سکتا ہے کوئی پہلو آپ کی سمجھ میں آجائے۔۔۔آپ نے قارئین سے اپیل نہ کرکے خود ہی اپیل کر دی ۔۔۔ہر ماہ نئے افق کے خطوط کا بغور مطالعہ کریں حقائق کیا ہیں معلوم ہو جائیں گے ۔۔۔میرے بھائی کسی کا بھلا نہیں کرسکتے تو اُس کی راہوں میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کرتے ہو۔۔۔اگر ادارہ وضاحت نہ مانگتا تو شاید میں آپ کو ۔کوئی جواب بھی نہ دیتا ۔۔۔کیوں کے میرے پاس اتناوقت نہیں ہوتا۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو حق اور سچ کی راہ پر گامزن رکھے آمین ۔ادارہ سے توقعات ہیں کہ حق اور سچ کی کسوٹی پر فیصلہ کرے گا۔۔۔۔ریاض حسین قمر بھائی میرے پاس اگست کا ایک شمارہ ریکارڈ میں موجود ہے ورنہ بھیج دیتا ۔۔۔کوشش کرتا ہوں فوٹو کاپی کروا کر بھیج سکوں ۔۔مصروفیات اتنی ہیں کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ۔۔۔شہر میں جس دن بھی چکر لگا تو یہ کام پہلے ۔۔۔غلام یاسین نوناری ۔۔۔اپنی عمر سے بڑی باتیں نہ کیا کرو۔۔۔۔غلط کیا دُرست کیا ۔۔۔اس کسوٹی پر ابھی تم نہیں پہنچے ۔۔۔اور فیصلہ رب کرنے والا ہے تمھیں کوئی اختیار نہیں ۔۔۔مجھے ایسا شخص بتادیں جس پر کبھی بھی کوئی الزام نہ لگا ہو۔۔۔اِنسان خطا کا پتلا ہے ۔قرآن مجید میں واضح ارشادہوا ۔۔۔میں بھی اِنسان ہوں ۔۔۔اپنے رب کے حضور ،اپنے سر کو جھکاتا ہوں اور اپنی خطائوں کی معافی مانگتا رہتا ہوں ۔۔۔بس اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہ کرے۔پرنس افضل شاہین ،آپ کی درخواست اپنی جگہ دُرست ہے لیکن کیا کریں ۔۔۔مجبوریاں۔۔۔ظہور احمد صائم بھائی ،میں انسان ہوں حیوانوں والے کام مجھ سے کیوں کروانے کا سوچ رہے ہیں ۔۔۔میں خود تو چُھرے سے زخمی ضرور ہوتا ہوں کسی کو چُھرا گھونپنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔باتیں بہت سی ہیں ۔لیکن طوالت بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔اجازت چاہوں گا۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ محترم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب جناب عمران احمد جناب اقبال بھٹی السلام وعلیکم، اس بار نئے افق 27 دسمبر کو ملا سرورق پر نیلی روشنائی بہت استعمال کی گئی جو کہ آنکھوں کو بھی بھلی لگی خوب صورت دوشیزہ نے بلی کو گلے سے لگایا ہوا تھا ایک ہاتھ میں چمکتا ہوا ہیرا تھا ہمیں ایسا لگا جیسے وہ کہیں کہہ رہی ہو،
سنہرے خواب دے دیں گے حِس تعبیر دے دیں گے
محبت سے جو مانگو گے تو ہر جاگیر دے دیں گے
دستک میں آپ بھارت کے لتے لے رہے تھے ان شاء اللہ تعالیٰ پاکستان رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا بھارت کو جواب دینے کے لیے ہمیں چین ہی کافی ہے کیونکہ چین سے دوستی ہماری ہمالیہ سے بھی بلند اور چٹان سے زیادہ مضبوط ہے گفتگو میں آپ مجید احمد جائی کے بارے میں بتا رہے تھے ان کے بارے میں آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہوگا کیونکہ آپ ہم سے بہتر اور زیادہ جانتے ہیں میری نگارشات اور خط پسند فرمانے پر ریاض حسین قمر، ریاض بٹ، شجاعت حسین شجاع بخاری، عبدالجبار رومی کا شکریہ، آپ لوگوں کے خطوط بھی اور مسکان ظفر بھٹی، صائمہ نور، غلام یاسین نوناری، عمر فاروق ارشد، محمد رفاقت کے خطوط بھی کمال کے تھے اقرا میں طاہر احمد قریشی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام الرب کے بارے میں بتا رہے تھے ڈاکٹر عبدالرب بھٹی کا انٹرویو واقعی بھرپور تھا ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملا کہانیوں میں دام اجل، آب زد، تفتیش، بے سائبان لوگ، تاریک راہیں پسند آئیں۔ ذوق آگہی میں اسما بنت حسن، احسان سحر، حسین جاوید، طیب خان، سیدہ سحر، محمد کمال، خوش بوئے سخن میں عاکف غنی، عمر فاروق ارشد، عبدالجبار رومی، جازیہ عباسی، وسیم علی، صائمہ ناز چھائے رہے اس بار خطوط کی تعداد بہت ہی کم تھی کیا خطوط ہی آپ کو کم ملے تھے یا آپ نے ہی خطوط کے لیے مخصوص صفحات کی تعداد کم کردی ہے ویسے ایک بات ماننی پڑے گی نئے افق کا سرورق بنانے والے مصور کمال کا سرورق بناتے ہیں ہر سرورق پہلے سے بڑھ کر دلکش اور خوب صورت ہوتا ہے۔ اجازت دیں دعا ہے نئے افق اور ترقی کرے، آمین
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم جناب اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم جناب اس سال کا پہلا شمارا ملا پڑھ کر خوشی ہوئی میری طرف سے آپ کو آپ کے تمام اسٹاف کو دل کی گہرائیوں سے نیا سال مبارک ہو اور آپ تمام اسٹاف کو خدا سدا خوش رکھے، آمین، گفتگو میں اپنا خط پڑھ کر بہت خوشی ہوئی میں ہر ماہ نئے افق کا بے چینی سے انتظار کرتا ہوں اور جب شمارہ مل جاتا ہے تو اسے مکمل پڑھ کر ہی چین لیتا ہوں اس دفعہ کی کہانیاں دام اجل، نقلی نوٹ، چسکا، آب زد، تفتیش، قہقہہ، جمہوری انقلاب، تاریک راہیں، سب ہی اچھی کہانیاں تھیں اور تمام حضرات نے بہت محنت سے لکھی ہیں میری طرف سے سب کو مبارکباد قبول ہو اس دفعہ ریاض بٹ حسن ابدال والے نظر نہیں آئے ان کی کمی محسوس ہوئی سلسلے وار کہانی بے سائبان لوگ اچھا سلسلہ ہے آتے ہیں خط کی جانب، جناب ریاض حسین قمر صاحب اور ریاض بٹ صاحب نے میرے خط کی تعریف کی جس کے لیے میں ان کا احسان مند ہوں شکریہ، پرچے میں فن پارے، خوش بوئے سخن، ذوق آگہی، اقرا بھی اپنی مثال آپ تھیں اس سے بھی پرچے کی رونق میں اضافہ ہوا، ڈیول بھی اچھی کہانی تھی عرض یہ کہ اس پرچے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے امید ہے کہ ہمیں ایسا ہی پرچہ ہر ماہ ملتا رہے گا، اجازت والسلام۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم۔ جنوری کا نئے افق وقت پر ہاتھ آگیا اللہ کرم کرے بک اسٹال پر بے چارے اندھی دھند میں لاہور جا کے ہمارے لیے میگزین لے آتے ہیں اور جو ذرا لیٹ ہوجائے تو ہزاروں صلواتیں بھی سماعت فرماتے ہیں ٹائٹل سال نو کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے اچھا لگا، حسینہ اپنی بلی سمیت معصوم لگ رہی تھی، مشتاق قریشی صاحب نے اپنے پسندیدہ موضوع پر خوب لکھا۔ انڈین لابی پوری دنیا میں پاکستان کے متعلق بہت ہی خوفناک پراپیگنڈہ کرتی پھر رہی ہے جس کا ادراک ہمارے کرتا دھرتائوں کو شاید نہیں ہے، گفتگو میں اس دفعہ بہت پھیکا پن تھا بجائے اس کے گزشتہ شمارے پر بھرپور تبصرہ کیا جائے لوگ یہاں اپنی حاضری لگوانے کے چکر میں رہے ہیں حاضری تب واقعی ضروری ہے جب آپ میگزین پر اظہار رائے کریں بصورت دیگر آپ دوسرے کا حق مار رہے ہیں، مولا خوش رکھے، ان چیزوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ریاض قمر بھائی میں نے آپ کو ڈائجسٹ بھیج دیا ہے اور یہ سطور لکھتے وقت اس بات کو ایک ماہ ہوچکا ہے آپ کو ملا یا نہیں یہ محکمہ ڈاک کی چابکدستی پر منحصر ہے باقی آپ نے لوگوں کی بے حسی کا ذکر کیا تو اس بات سے میں متفق ہوں لوگ واقعی صرف اپنے مفاد کے وقت رابطہ کرتے ہیں ان میں ہم بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ دلوں میں محبت پیدا فرمائے، عبدالجبار رومی صاحب چوہنگ میں اللہ کے فضل سے میرے چکر لگتے رہتے ہیں کیونکہ ٹھوکر نیاز بیگ تعلیمی وجوہات کی بنا پر اکثر آنا جانا رہتا ہے۔ اگر کبھی آئے تو مالمو کی مٹھائی ضرور کھا کے جائیں گے مولا خوش رکھے۔ کہانیوں کی طرف بڑھتے ہیں، عشنا کوثر کا ناول اس بار کم صفحات پر شائع کیا گیا اس لیے تشنگی رہ گئی اس طرح کے ناول کے صفحات کافی زیادہ ہونا چاہئیں تاکہ قاری کی ادبی پیاس بجھ سکے عارف شیخ صاحب مختصر پیرائے میں لکھتے ہیں اور کمال کردیتے ہیں کہانی میں لومڑی سے لے کر گدھے تک جو کردار بیان کیے گئے ان کی اوریجنل کاپی میں آپ کو پاکستانی سیاست میں دکھا سکتا ہوں اس طرح کی ایک آدھ کہانی ہر دفعہ موجود ہونی چاہیے امجد جاوید صاحب قسط وار ناولز سے ہٹ کر بھی اچھا لکھتے ہیں اس دفعہ بھی جاندار کہانی تھی اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، ناظم بخاری کا ناول مختلف اتار چڑھائو کے ساتھ بہترین جا رہا ہے اور معاشرتی سوراخوں کی نشاندہی اچھی طرح کی جا رہی ہے جنہیں ہم اپنی جہالت سے خوفناک سرنگوں میں تبدیل کردیتے ہیں امید ہے کہ اگلے ماہ ناول کا اختتام بھی شاندار ہوگا، یاسین صدیق بھائی نے انٹرویو والا سلسلہ شروع کر کے گویا ہم غریبوں پر احسان کردیا ہے اور اب تو وہ بڑے بڑے نامور لکھاریوں کو جھپا ڈالنے لگے ہیں ان کی ہمت کی داد دینا ہوگی ڈاکٹر بھٹی صاحب کا انٹرویو بلا مبالغہ ایک شاندار نسخہ جاں فزا تھا جو کہ ہم جیسے نومولود میرا مطلب نوآموز رائٹر کے لیے بڑے کام کی چیز ہے یاسین صدیق صاحب سے عرض کروں گا کہ براہ مہربانی اب کسی طرح طاہر جاوید مغل اور احمد اقبال صاحب کو گھیر گھار کر لے آئیں تاکہ سونے پر سہاگہ چل سکے، نوازش ہوگی، بھٹی صاحب اندرون سندھ کی پیداوار ہیں اور سندھ کے وڈیرہ کلچر کو اندر تک جانتے ہیں یہی ایک وجہ ہے کہ میں ان کو بڑے شوق سے پڑھتا ہوں ریاض بٹ صاحب غیر حاضر تھے لگتا ہے تفتیش کی گاڑی میں پیٹرول ختم ہوگیا ہے دیگر تمام ساتھیوں کی کہانیاں عمدہ تھیں، لکھتے رہیں۔ خوش بو سخن میں نوشین بہنا اچھے انتخاب کے ساتھ موجود تھیں، اس دفعہ غزلیں ایک نئے انداز کے ساتھ کمپوز کی گئی تھیں سو دل کو بھلی لگیں ریاض قمر غالباً واحد شاعر ہیں جن کی غزل ڈھونڈ کر پڑھتا ہوں اس بار بھی امیدوں پر پورا اترے۔ نوشین اقبال صاحب نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر کبھی کبھی معیار پر سمجھوتہ بھی کرلیتی ہیں جو کہ ان کے اعلیٰ ظرف ہونے کی دلیل ہے اللہ بہنا کو مزید عزت و احترام سے نوازے، نیر بھائی آف کراچی بھی اس دفعہ غائب تھے کدھر ہو یار کوئی غزل لے کر آئو خیر مجموعی طور پر شمارہ بہترین رہا آخر میں گزارش کروں گا کہ مجید جائی کی چربہ سازی کے خلاف دیگر لوگ بھی اس دفعہ احتجاج کناں تھے اس لیے اب حق بنتا ہے کہ ان کو بلیک لسٹ کردیا جائے باقی میرا ان سے کوئی ذاتی عناد نہیں میں چاہتا ہوں کہ ان کی یہ بری عادت چھوٹ جائے تاکہ ادب کے میدان میں آگے چل کر ان کو ذلت نہ اٹھانی پڑے مجھے یقین ہے کہ ان کا ایک لمبا صفائیوں بھرا تبصرہ جلد ہی نئے افق کی زینت بنے گا جس میں وہی دکھڑے ہوں گے مولا خوش رکھے، والسلام۔
مسکان ظفر بھٹی… شام کے بھٹیاں، لاہور۔ محترم انکل اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم، نئے افق ملتے ہی خوشیوں کی پھوار سے کپڑے گیلے ہونے لگتے ہیں، محترم بزرگوار مشتاق احمد قریشی صاحب دستک اور اقرا کے جناب طاہر قریشی صاحب کو محبتوں اور مفصل، مدلل باتوں اور علمی نچوڑ کے درختوں تلے آکر سکھ اور سکون کا سانس لیتی ہوں، سرورق کی باجی بلی کو کاندھے پر بٹھائے بڑی مسرور نظر آرہی تھی۔ دستک میں بہت کچھ کہا گیا لیکن افسوس اب تو بھارت دریائوں کا پانی بھی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا لیکن میڈیا کے علاوہ حکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی ہے بلکہ شادی پر آنے کے شکریے کے ساتھ تحائف بھیجے جا رہے ہیں کلبھوشن یادیوں، بارڈر پر در اندازی کشمیر میں خون کی ہولی سر عام کھیلی جا رہی ہے مگر یہاں ایک چپ ہزار سکھ۔ گفتگو میں انکل اقبال بھٹی ذہانت کے پھول برسانے کے ساتھ قارئین کی کڑوی کسیلی باتیں سنتے نظر آئے، عمر فاروق کی محبت سے تخلیق کی گئی لغزش کی چوری کو صرف شکایت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے، مجید احمد موصوف پرانے چوری کرنے والے ادیب لگتے ہیں اور اپنی تعریف کے لیے ایم اے راحیل، احسن ابرار رضوی، صائمہ نور، بشریٰ کنول، عمر فاروق ارشد، احسان سحر، علی حسنین تابش، ممتاز احمد، عیشال نواب، ڈاکٹر خادم حسین کھیڑا کی فوج ظفر موج پال رکھی ہے اگر یہ ادیبوں کو پانی بھر کر نہلانے والا سقہ بھی ہو تو اب ادیب کا نام کرے، غلام یاسین نوناری آپ نے کیا خوب صورت دس مرلے کا جملہ موصوف کی شان میں لکھا افضل شاہین اگر آپ نے وکالت کرنی ہے تو ایم اے راحیل کے شناختی کارڈ کی کاپی ادارے کے دفتر بھیجو، انعام نہ ملے تو میں ہزار روپے دوں گی۔ آخر میں مجید جائی سے التماس ہے ادب کی دنیا میں کافی ذلیل ہوچکے ہو اب نئے آنے والوں کے لیے جگہ چھوڑ دو، عبدالرب بھٹی سے ملاقات کر کے جی نہال ہوگیا کیا ادب کا درخشندہ ستارہ ہیں جناب امجد بخاری کیا خوب اغوا کی روداد لائے عمیر اسلام استادوں کے استاد نے خوب جیب گرم کی، خلیل جبار کے چسکے میں بہت سبق ہے عورت کو پانی کی طرح بغیر بند باندھے چھوڑنے والوں کے لیے عارف رمضان نے نام نہاد مسلمانوں کا حقیقی چہرہ دکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ قابل قدر اقبال بھٹی صاحب آداب عرض، سلام عقیدت امید ہے آپ اور نئے افق سے جڑے سبھی احباب بخیریت ہوں گے سال نو کا تازہ شمارہ ملا سبھی ساتھیوں کو نیا سال مبارک ہو، قابل قدر عمر فاروق ارشد نے مجید احمد جائی کے بارے میں جو انکشاف کیے وہ نا صرف مجھے بلکہ ادب پڑھنے والوں کے لیے چونکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ ایک نہایت افسوسناک اور قابل مذمت قدم ہے جو موصوف نے نہایت دیدہ دلیری سے اٹھایا اور تمام لکھنے والوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ موصوف مجید جائی کے بارے میں جو میں جانتا ہوں وہ تمام قارئین کے سامنے عیاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں، مجید جائی کو لکھنے کے میدان میں ابھی سات آٹھ سال کا ہی مختصر عرصہ گزرا ہے، انہوں نے میرے استاد محترم، آداب عرض کی دنیا کے نامور لکھاری جناب ریاض حسین شاہد کی ایک کاوش پل صراط عشق کی چھ اقساط ابھی چند ماہ قبل نئے افق کی زینت بنی ہے۔ ان کی بطور استاد شاگردی حاصل کی بلکہ انہیں ایک بلند مقام بھی دیا مجھے اچھی طرح یاد ہے ساہیوال کے ایک مشاعرے میں جس کی صدارت جناب ریاض حسین شاہد کر رہے تھے مجید احمد جائی بھی وہاں موجود تھا جب ریاض شاہد صاحب مشاعرے کے آخر میں اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے تو جتنی دیر وہ مائیک پر بولتے رہے مجید جائی اپنی نشست چھوڑ کر ان کے ادب و احترام میں کھڑا رہا وہاں موجود سبھی شعرا نے اس کے اپنے استاد کے ادب کو ادب کی نگاہ سے دیکھا پھر 2014ء میں مجید جائی کی شادی پر میرے استاد محترم نے مجید جائی کے سر پر دست پدری رکھا اور چار دن تک شرکت کی اور اسے ذرہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ یتیم ہے 2013ء میں ریشم رائٹرز تقریب میں ریاض حسین شاہد صاحب مجید احمد جائی کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے گئے وہاں نامور لکھاری جناب سلیم اختر صاحب نے ان کی مہمان نوازی کی اپنی گاڑی میں لے کر انہیں اسلام آباد ND4 لے گئے اور تقریب سے واپسی پر رات گئے واپس لا کر اپنے ہاں ان کا قیام رکھا یوں استاد محترم نے جائی کی ایم سلیم اختر سے پہچان کرائی پھر سلیم اختر صاحب نے مجید جائی کو لاہور سے شائع ہونے والے ایک ماہنامہ ساگر ڈائجسٹ میں متعارف کرایا اس فرشتہ صفت انسان کا بدلہ جائی صاحب نے یہ چکایا کہ ساگر ڈائجسٹ میں سلیم اختر کی ایک کہانی شائع ہوئی جس پر موصوف جائی نے طارق اسماعیل ساگر کو خط لکھا کہ سلیم اختر کی تحریر بوریت سے دوچار ہے اس کہانی کا نہ سر ہے اور نہ پائوں وہ ایک بے ربط تحریر ہے، ایڈیٹر صاحب نے سلیم اختر کو کال کر کے ساری تفصیل بتائی تو سلیم اختر نے کال کر کے میرے استاد محترم ریاض حسین شاہد کو بتایا کہ آپ اپنے شاگرد سے میری اچھی تواضع کرائی ہے تب میرے استاد نے مجید جائی کو کال پر پوچھا کہ یہ بات کہاں تک سچ ہے بجائے نادم اور پشیمان ہونے کے اس نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا کہ استاد محترم یہ تحریر قطعی بے ربط اور بے معنی تھی میں نے تو سچ بات کی ہے میں صاف گو آدمی ہوں۔ تب ریاض صاحب نے اس کا دماغ واش کرتے ہوئے کہا ابھی تمہیں آئے ادبی دنیا میں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور تم اپنے آپ کو بہت بڑا رائٹر سمجھنے لگے ہو اگر مجھے استاد سمجھتے ہو تو سلیم اختر بھی تمہارا استاد ہے اور تم نے یہ انسلٹ سلیم اختر کی نہیں کی یہ میری توہین کی ہے بیٹا ابھی پیدا تو ہو لو پھر بڑوں کے پیر کھینچنا تب موصوف جائی نے نہایت ہٹ دھرمی سے جواب دیا کہ میں آپ کو سوری کرسکتا ہوں سلیم اختر کو نہیں تب استاد صاحب نے اسے کہہ دیا جائو تم زندگی میں کبھی عزت نہیں پائو گے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ استاد صاحب کی بد دعا کا ہی اثر ہے کہ اس دن سے آج تک یہ ہر پرچے میں رسوائی اور بے عزتی کرا رہا ہے اور پھر منہ چھپا کر معافیاں مانگتے ہوئے دوبارہ آن وارد ہوتا ہے۔ ہم تو آج بھی اپنے استادوں اور سینئرز سے اصلاح لیتے ہیں اور جو لوگ اپنے استادوں اور بڑوں کا احترام نہیں کرتے وہ سدا راندہ درگاہ ہوا کرتے ہیں بقول میاں صاحب،
بے ادباں مقصود نہ حاصل نہ درگاہیں ڈھوئی
باجھ ادب دے منزل تیکر پہنچ نہ سکیا کوئی
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم! نئے سال جنوری 2017ء کا شمارہ 24 دسمبر کو ملا سرورق خوب صورت تھا اشتہارات کو دیکھتے ہوئے میں نے حسب معمول محترم مشتاق احمد قریشی صاحب کی دستک کو بغور پڑھا بڑے اچھے اور موثر الفاظ میں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کی جو جگ ہنسائی ہو رہی ہے اس پر روشنی ڈالی ہے ہماری تو ہر وقت دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ باری تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے اور دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے اب بڑھتے ہیں اپنی محفل کی طرف کرسئی صدارت پر پیارے اور ہر دلعزیز دوست ریاض حسین قمر براجمان ہیں بہت عمدہ تبصرہ ہے آپ نے دودھ اور پانی کی جو مثال تحریر کی ہے بہن حسب حال ہے آپ جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں لکھ دیتے ہیں آپ کی گرفت قلم پر مضبوط ہوئی ہے میرا خط اور تفتیشی کہانی پسند کرنے کا شکریہ سدرہ عاقب جن گمنام کہانیوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے اگر ان کے نام اور لکھاری کا نام بھی آئندہ لکھ دیں تو ادارہ ان کے خلاف کارورائی کرسکتا ہے محمد رفاقت صاحب اس بار آپ نے جی خوش کردیا بڑا اچھا اور بہترین تبصرہ ہے اب آپ قدم قدم آگے بڑھ رہے ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ میری کہانی حسب معمول آپ کے ذوق پر پوری اتری جس کے لیے مہربانی عمر فاروق ارشد بھائی میں آپ کی اگلی کہانی کا منتظر ہوں آپ اچھا لکھتے ہیں عنبرین اختر بہن کیسی ہو میری کہانی آپ کو اچھی لگی یہ میرے لیے باعث اطمینان بات ہے آپ کا بھی شکریہ، غلام یاسین نوناری بھائی آپ کا خط بھی قابل تعریف ہے صائمہ نور بہن سب سے پہلے بھائی کی طرف سے پر خلوص سلام قبول کریں، آپ کے احساسات اپنی مثال آپ اور انمول ہیں پرنس افضل شاہین بھائی آپ کا قطعہ قابل تعریف ہے آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ آپ کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں اللہ آپ کی دعائیں قبول کرے آمین، میرا خط ذوق آگہی میں انتخاب اور تفتیشی کہانی ونجلی والا پسند کرنے کا شکریہ۔ ظہور عالم میں آپ کے ذوق کی داد نہ دوں تو زیادتی ہوگی، اچھے لوگ اچھی کہانیاں ہی پسند کرتے ہیں میری اتنی زیادہ حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ۔ شجاعت حسین جعفری بھائی آپ کی بھی مہربانی شکریہ اور نوازش کہ آپ نے میرا خط اور کہانی ونجلی والا پسند کی مسکان ظفر بھٹی آپ کے خط اور تبصرے کے کیا کہنے باقی بھائی ذرا حوصلے سے کام لیں بے شک آگ گرم پانی سے بھی بجھ جاتی ہے لیکن ٹھنڈے پانی کے کیا کہنے امید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ میری تحریر کردہ کہانی آپ نے بھی پسند کی جس نے میرے اندر مزید لکھنے کی جستجو جگا دی عبدالجبار رومی انصاری آپ نے بھی بہت خوب لکھا ہے ہر بات پر روشنی ڈالی ہے آپ نے نئے سپہ سالار (فوج) سے جو توقعات وابستہ کی ہیں مجھے امید ہے وہ ہماری توقعات پر ضرور پورے اتریں گے (ان شاء اللہ) آپ نے جن الفاظ میں میری تفتیشی کہانی کی تعریف کی ہے اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اب ذرا بات ہوجائے یاسین صدیق صاحب سے بھائی آپ نے حسب معمول محترم ڈاکٹر عبدالرب بھٹی صاحب سے بہت اچھا انٹرویو کیا ہر طرف سے ان پر سوالات کی پھوار برسائی، کچھ سوال برف کی طرح سرد بھی تھے کچھ گرم پانی کی طرح تھے بھٹی صاحب نے بڑے تحمل اور برد باری سے سوالات کے جواب دیے جنہوں نے پردوں میں لپٹی (میرے جیسوں کے لیے) ان کی شخصیت کو اجاگر کر کے ہمارے سامنے لا کھڑا کیا باقیوں کی اپنی رائے ہوگی لیکن میری رائے میں آپ نے نہ صرف ایک منجھے ہوئے رائٹر ہی نہیں ہیں بلکہ ایک سچے کھرے اور مخلص انسان بھی ہیں اسی ماہ آپ کی ایک کہانی سسپنس میں پڑھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا آپ کے الفاظ نے میرے حساس دل میں بھی دو کیلیں ٹھونک دیں اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف امجد بخاری کی دام اجل ایک پر اسرار کہانی ہے نقلی نوٹ عمیر اسلم کی لکھی ایک مختصر سی کہانی ہے یہ کہانی چوروں کو پڑ گئے مور کی عملی تفسیر پیش کر رہی ہے تفتیش ایک زبردست کہانی ہے جسے عارف رمضان جتوئی نے اچھے طریقے سے لکھا جب انسان کا ضمیر جاگتا ہے تو ایسی ہی کہانیوں کو جنم دیتا ہے جمہوری انقلاب عارف شیخ کی طنز کے نشتر چلاتی تحریر ہے اور سمجھنے والوں کے لیے ایک سبق ہے لیکن جن سیاستدانوں کے لیے ہے وہ عبدالخالق کی تاریک راہیں دل و دماغ کو جھنجوڑنے والی تحریر ہے تاریک راہوں پر بھٹکنے والوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے باقی تحریریں ابھی زیر مطالعہ ہیں اب بات ہوجائے باقی سلسلوں کی ذوق آگہی میں سارا انتخاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے خوش بوئے سخن میں کنول خان، ظریف احسن، پرنس افضل شاہین، عمر فاروق ارشد، ریاض حسین قمر، عبدالجبار رومی انصاری، سید عبداللہ توفیق اور صائمہ نور کا انتخاب لاجواب ہے صفحہ صفحہ بکھری کترنیں پرچے کی شان بڑھا رہی ہیں اب اجازت یار زندہ صحبت باقی۔
محمد اسحاق انجم… کنگن پور۔ السلام علیکم امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے، ایک عرصہ کے بعد آپ کی محفل میں حاضر ہوں شمارہ دسمبر 2016ء خوب صورت سرورق کے ساتھ میرے پاس ہے کچھ دن پہلے ملا کافی تبدیلیاں آچکی ہیں نئے لکھنے والے بھی اچھے ساتھی نئے افق میں محفل سجائے ہوئے ہیں سب کوخلوص دل سے سلام، کچھ پرانے لکھنے والے نظر نہیں آرہے کہاں غائب ہیں آجائو بھی اب تو نئے افق کے رنگ ہی نرالے ہوچکے ہیں۔ محبت سے نفرت، جال، ونجلی والا، ڈیول، تحریریں پسند آئیں ابھی باقی پرچہ باقی ہے۔
عبدالجبار رومی انصاری… لاہور۔
عجب ہے منظر ساحرانہ
دوشیزہ کا انداز بھی ہے جداگانہ
سرورق پہ چھایا ہے جادو کا اثر
اس کے سحر میں کھو جائو کرو نہ بہانہ
نئے سال کی مبارک یاد دیتا نئے افق کا سرورق بہت اچھا لگا دستک کی اہم بات جو پاکستان میں نہایت پر اثر طریقے سے دستک دے چکی ہے وہ ہے سی پیک منصوبہ جو پاکستان کے لیے تو سود مند ہے تو اس کے لیے ایران اور روس بھی پاکستان سے ہاتھ ملانے آگئے ہیں جو بہت ہی خوش آئند بات ہے بھارت جو سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہا تھا اور ابھی بھی سازشوں سے باز نہیں آرہا خود اس کے اندر سے اب آواز اٹھ رہی ہے کہ مودی سرکار سی پیک کی سازشوں سے باز آجائے اور اس سے فائدہ اٹھائے لیکن یہ سب تو تبھی ہوگا جب بھارت جھوٹ اور مکرو فریب اور کشمیر میں اپنی دہشت گردی ختم کرے گا تبھی خطے میں امن قائم ہوگا لیکن بغل میں چھری منہ میں رام رام جپنے والا بھارت یہ سب سمجھنے کو تیار نہیں ہوگا اور وہ یہ بھی یاد رکھے پاکستان کے خلاف جتنی مرضی سازشیں کرے مگر یہ پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا گفتگو میں ریاض حسین قمر کا مدلل تبصرہ بہت اچھا لگا ریاض بٹ کا بھرپور انداز میں محبت نامہ بھی عمدہ رہا سدرہ عاقب نے نشاندہی تو کی پر اتنا مختصر تبصرہ؟ غلام یاسین نوناری کہاں رہ گئے تھے بھئی بہت اچھا تبصرہ ہے صائمہ نے بھی مصروفیت میں حاضری لگوائی بہت اچھے جی پرنس افضل شاہین بھی شاعری کے ساتھ زبردست رہے شجاعت حسین ہاشمی، غلام اویس عنبرین اختر اور عمر فاروق ارشد نے بھی عمدہ تبصرہ نگاری کی ساتھ میں ظہور احمد صائم اور مسکان ظفر بھٹی کی تنقید بھی خوب رہی، اقرا کی روشنی دل و جان کو معطر کر گئی اور ہزار شکر اس رب کا جس نے ہمیں ایک جان سے پیدا کیا اور دنیا میں رہنے کا سلیقہ دیا۔ بڑے سے اخبار میں چھوٹی سی خبر بن جائو گے ناقابل یقین داستان نے عرفان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا دام اجل حیران کردینے والی اچھی اسٹوری تھی خوش نما نے عین کو عین موقع پر بچا لیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close