Naeyufaq Feb-17

دستک

مشتاق احمد قریشی

اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

جناب رئیس امرہوی صاحب نے یہ مصرعہ اردو بولنے والوں کی حمایت میں لکھا تھا (گو کہ آج کل اردو والے خود اپنا جنازہ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں) یہ یونہی نہیں لکھ دیا گیا تھا اس کے پیچھے بہت سے حقائق اس کا موجب تھے وہی عوامل آج بھی کراچی میں آباد اردو بولنے والوں کو درپیش ہیں۔ اس وقت بھی سندھ میں خصوصاً پیپلز پارٹی کی حکومت تھی آج بھی سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جبکہ مرکز میں نواز لیگ حکمران ہے کراچی کی بد نصیبی یہ ہے کہ یہاں اردو بولنے والوں نے اپنی شناخت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنا ووٹ بینک اپنے طریقے سے استعمال کرنا شروع کردیا ہے کراچی میں نہ پیپلز پارٹی کو نہ نواز لیگ کو یا کسی اور سیاسی جماعت کو صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں ہوتی جبکہ مرکز اور صوبوں میں حکومت میں اردو بولنے والے شریک اتحادی کے طور پر شامل تو ہوجاتے ہیں لیکن کراچی کے مسائل اس طرح حل نہیں کر پاتے جس طرح کراچی کی ضروریات اور حق ہے اب موجودہ حکومت سندھ نے بڑی کراہیت کے ساتھ کراچی اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات تو کرا دیے وہ بھی مجبوراً کیونکہ عدالت عظمیٰ کا حکم جو آگیا تھا تمام بڑے اور اہم شہروں میں حکمران جماعت کی تمام تر کوشش کے باوجود اردو بولنے والوں نے میدان مار لیا اور حکمران جماعت اپنا سا منہ لے کر رہ گئی اس باعث وہ بلدیاتی نمائندوں کو نہ تو اختیارات سونپ رہی ہے نہ ہی فنڈ فراہم کر رہی ہے کیونکہ اگر فنڈ اور اختیارات دے دیے جاتے ہیں تو اس کا تمام تر فائدہ اردو بولنے والوں کی جماعت ایم کیو ایم کو پہنچے گا جو سندھ کی حکمران جماعت کو کسی صورت گوارا نہیں پارٹی کا قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے نہ ملنے کا انتقام کراچی سے لیا جا رہا ہے۔
کراچی جو اپنی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے تمام شہروں سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک سے بہت بڑا ہے اسی سبب اس شہر کے شہری مسائل بھی کہیں زیادہ ہی ہیں جن میں حکمران جماعت کی بے اعتنائی نے مزید اضافہ کر دیا ہے سب سے اہم مسئلہ صاف پینے کا پانی کا ہے اور گندے استعمال شدہ پانی کی نکاسی کا ہے اس کے علاوہ کچرے کے ڈھیر جو اٹھانے کے باوجود بڑھتے ہی جا رہے ہیں کراچی میں صرف اردو بولنے والے ہی آباد نہیں ہیں یہاں دیگر زبانیں بولنے والے پاکستان کے طول و ارض میں بسنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں رہتے بستے ہیں کراچی کو دانستہ طور پر سزا دی جا رہی ہے مرکزی حکومت کی جماعت ہو یا صوبائی حکومت کی جماعت دونوں کو ہی کراچی سے قطعی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کراچی ان کے لیے علاقہ غیر کی حیثیت رکھتا ہے شاید اسی باعث کراچی کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں کراچی کے مسائل کے پیش نظر ہی سپریم کورٹ آف پاکستان کو کہنا پڑا ہے کہ کراچی کو پینے کے لیے گٹر کا ملا پانی اور کھارا پانی دیا جا رہا ہے کیونکہ کراچی واٹر بورڈ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ کراچی کی تمام آبی ضروریات بروقت مہیا کرسکے واٹر بورڈ والوں کے مطابق پانی سپلائی کرنے والی تمام مشینری اس قدر پرانی اور خستہ ہوچکی ہے کہ اس کا تبدیل ہونا ضروری ہے لیکن اس کی تبدیلی اس لیے ممکن نہیں کہ حکومت فنڈ فراہم نہیں کر رہی یہی حال تمام بلدیاتی اداروں کا ہے عدالتی حکم پر بلدیاتی انتخابات تو کرا دیے گئے لیکن وہ بے اختیار ہیں نہ انہیں ان کے بلدیاتی اختیار سوپنے گئے اور نہ ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے فنڈ ہی مہیا کیے گئے ہیں حکمران جماعت اور بلدیاتی ارکان کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی ہو رہی ہے جس کا تمام تر نقصان اہل کراچی کو ہو رہا ہے کراچی میں نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ ہی گندے پانی کی نکاسی کا معقول انتظام ہو رہا ہے اور نہ ہی سیوریج کے پانی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جا رہی ہے اور نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہو رہی ہے اور نہ ہی گیس گھریلو صارفین کو پوری طرح فراہم کی جا رہی ہے بس ایک قدرتی ہوا ہے جس پر حکمرانوں کا بس نہیں چل رہا ورنہ وہ بھی پابند کردی جاتی ہاں اس کی شفافیت کو ضرور متاثر کیا جارہا ہے۔ کراچی بذات خود مسائل کا گڑھ بن چکا ہے اور اب سیاسی معاملات کے باعث سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے دو سیاسی جماعتوں کے مفادات کے باعث کراچی زبوں حال ہو رہا ہے کوئی اس کا پرسان حال نہیں ایم کیو ایم جس کی حمایت کی سزا اہل کراچی کو دی جا رہی ہے اسے بھی اہل سیاست کی طاقتور جماعتوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیا ہے کچھ وہ اپنی نادانی یا زیادہ اعتماد کے باعث غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہے ہیں اپنے مخالفین کی توقعات پر پورا اترنے لگے ہیں اب جبکہ نئے انتخابات کی ہَوا چل پڑی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں کمر کسنے لگی ہیں، سندھ کی حکمران جماعت نے بھی نہ صرف آنے والے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے بلکہ اس کو پر اثر کرنے کے لیے اپنے حقیقی سربراہ جناب زرداری صاحب کو بھی وطن واپس بلا لیا ہے تاکہ الیکشن مہم کو بھرپور انداز میں چلایا جاسکے جو کام بلاول بھٹو زرداری نہیں کر پا رہے تھے اسے پورا کرنے کے لیے زرداری صاحب کو اپنی خود اختیار جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس آنا پڑا کیونکہ ان کے اور ان کے رفقا کے خیال کے مطابق بلاول بھٹو ابھی بچہ ہے وہ اپنے حریف سیاسی گرگوں کا اس طرح مقابلہ نہیں کرسکتا جیسا اسے ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر کرنا چاہیے کراچی سندھ کے تمام اہم اور بڑے شہروں میں اردو بولنے والوں کی جماعت ایم کیو ایم لاکھ منتشر اور اختلافات کا شکار ہونے کے باوجود انہیں ڈرا رہی ہے کہ آنے والے انتخابات میں انہیں ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانا پڑے گی کیونکہ انہوں نے بڑے شہروں کے مسائل تو اپنی جگہ دیہی آبادیوں کے مسائل بھی حل کرنے کی کبھی ضرورت نہیں سمجھی، اس لیے ضروری ہے کہ اردو بولنے والوں کی جماعت چاہے جتنے حصوں میں بھی تقسیم ہو اسے آگے نہیں آنے دینا چاہیے یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے خصوصاً کراچی، سکھر، میر پور خاص جہاں جہاں سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور مرکز کو حکمران جماعت نون لیگ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا اب بھی وہ ان علاقوں میں کامیابی حاصل کرنے سے خوف زدہ ہے اس ہی سبب وہ ایم کیو ایم کو گندہ کرنے کے لیے اس کے ووٹ بینک کو اپنی جماعت سے ناراض کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں بلدیاتی نظام کو چوپٹ کر کے رکھ دیا گیا ہے دراصل یہ اردو بولنے والوں کو اپنے حق کے حصول کی کوششوں کی سزا دی جا رہی ہے ایسے سہی حالات نے جناب رئیس امرہوی صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کیا تھا کہ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ اللہ ہمارا ہمارے وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو اور اہل خرد کو عقل سلیم عطا فرمائے، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close