hijaab Dec-17

حسن خیال

جوہی احمد

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! اللہ عزوجل کے بابرکت نام سے ابتدأ ہے جو وحدہ لاشریک ہے۔ سب سے پہلے تو حجاب کے سالگرہ نمبر کو سراہنے‘ پسند کرنے‘ اپنی آرأ و تجاویز سے نوازنے کا بے حد شکریہ۔ آپ کے یہ چند تعریفی کلمات ہمارے لیے بے حد قیمتی اور اہمیت کے حامل ہیں‘ امید ہے دسمبر کا یہ شمارہ بھی آپ کے ادبی ذوق کے عین مطابق ہوگا۔ اپنے تبصروں کے ذریعے اپنی تعریف و تنقید ہم تک پہنچاتے رہیے تاکہ مصنفین کے قلم کا حق بھی وصول ہوسکے‘ آیئے اب چلتے ہیں حسن خیال کی جانب جہاں آپ بہنوں کے خیالات اس محفل کو رونق بخش رہے ہیں۔
ماورا طلحہ… گجرات
سوز فراق یار میں مرنا کمال نہیں
مر مر کے ہجر یار میں جینا کمال ہے
السلام علیکم! سب پڑھنے والوں کو، لکھنے والوں کو اور انتظامیہ کو تہہ دل سے سلام عرض ہے۔ امید کرتی ہوں سب ٹھیک اور زندگی کے ساحل سے خوشیوں کے موتی تلاش کرنے میں مگن ہوں گئے۔ آپ سب کے لیے دعائوں کے خزانے قبول فرمائیے۔ حجاب کی سالگرہ گزر گئی۔ دو سال گزر گئے اور پتا بھی نہیں چلا، ابھی پچھلے دنوں کی بات لگتی ہے جب آنچل میں پڑھا کہ آنچل کی سہیلی حجاب کا اجرا کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے لکھاری بہنوں کا تعاون درکار ہے اور آج ماشاء اللہ حجاب اپنی پہچان بنا چکا ہے۔ حجاب کو یہاں تک لانے میں انتظامیہ کی بھرپور محنت شامل ہے اور وہ اس کے لیے مبارکباد کے حقدار ہیں۔ ٹائیل پہ ماڈل سرخ لہنگا پہنے دلہن بنی براجمان تھی۔ ٹائٹل اچھا تھا مگر پچھلے چند ماہ کے ٹائٹل ایسے زبردست پیش کیے گئے تھے کہ اس ماہ بھی ہم ویسی ہی امید لیے بیٹھے تھے۔ چلیں خیر زندگی کا ساتھ رہنا چاہیے چیزیں اچھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر فہرست کی بات کروں تو فہرست دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ماشاء اللہ نامور لکھاری حجاب سالگرہ نمبر کو رونق بخشے ہوئے تھیں۔ نزہت آپا، رفاقت جاوید، صائمہ آپی، سباس آپی، یاسمین نشاط، طلعت نظامی، رابعہ افتخار، نازیہ جمال، ندا حسنین اور سمیرا غزل۔ ایک سے بڑھ کر ایک نام اور یہ سب نام ایسے ہیں جو کسی بھی ڈائجسٹ کی کامیابی کی ضمانت ہیں اور جب یہ سب ستارے اکھٹے ہو جائیں تو محفل کا عالم کیا ہو گا؟ یہ آپ سب بہتر جانتے ہیں۔ بات چیت میں قیصر آرا آپا حجاب سے متعلق لکھنے والوں کی کاوشوں کو سراہ رہی تھیں۔ نازیہ کنول نازی کو ہماری طرف سے بھی کتاب کے پہلے حصے کی اشاعت پہ مبارک باد اور سلمی فہیم گل کو بھی اس کامیابی پہ ڈھیروں مبارکباد۔ آخر میں آپا نے سوشل میڈیا کے ساتھیوں کو سراہا تو اس میں کچھ حصہ میرا بھی شامل ہے تو اس کے لیے بہت شکریہ آپا، دعائوں میں یاد رکھیے۔ حمد و نعت سے دل منور کیا۔ مہ وش افسر کی حمد کا ہر شعر کمال تھا۔ نعت کی تعریف ممکن ہی نہیں ہر شعر دل میں اتر گیا۔
انہی کی ذات اقدس وجہ تخلیق دو عالم ہے
جو کھاتے پیتے ہیں ہم سب، وہ ہیں صدقات پیغمبر
اب چلتے ہیں حجاب کی پریوں کی طرف‘ مہوش نواز، شازیہ لطیف، راحیلہ بتول اور انیقہ بشیر اپنا تعارف لیے حاضر تھیں۔ مہوش آپ اور میں ایک ہی سال دنیا میں تشریف لائے تھے بس آپ کا مہینہ تھوڑا آگے ہے۔ آپ کے پسندیدہ ناول واقعی پسند کیے جانے کے قابل ہیں۔ شازیہ بہت اچھا لگا آپ کے متعلق جان کر، آپ کی پسندیدہ رائیٹرز کس کو نہیں پسند اور آپ کا پسندیدہ شعر تو میری بھی پسند ہے۔ راحیلہ بتول آپ اور میں ایک دن ہی پیدا ہوئے اور ضلع بھی ایک ہی ہے، مبارک ہو ہم دونوں کو(ہاہاہا)۔ انیقہ آپ کے متعلق پڑھ کر خوشی ہوئی بہن بھائیوں کا پیار بہت انمول ہوتا ہے خدا سلامت رکھے۔ رخ سخن میں فہمی فردوس جلوہ افروز تھیں۔ فہمی کو جاسوسی گروپ میں بحث و مباحثہ کرتے اکثر دیکھا ہے اور دور سے ہی دیکھا ہے مگر آپ کے متعلق بہت اچھی رائے ہے۔ ہمیشہ خوش رہیں اور آگے بڑھتی جائیں۔ ’’سالگرہ کا دن آیا ہے‘‘ سروے میں حجاب کے متعلق سب کے جواب پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب حجاب ہر کسی کے دل میں جگہ بنا چکا ہو گا۔ رفاقت جاوید کا ناولٹ بہت اچھا لگا۔ ناولٹ کا نام بہت منفرد لگا اور کہانی بھی زبردست تھی۔ رفاقت آپا کی کہانیوں کا ابتدائیہ بہت زبردست ہوتا ہے اور یہ ہی چیز قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ آپا آپ کے لیے ڈھیروں نیک تمنائیں۔ یاسمین نشاط بہت اچھا لکھتی ہیں اور یہ کہانی اس کا ثبوت ہے۔ آج کل یہ حالات ہر جگہ دیکھنے میں آ رہی ہے، ہماری ضعیف الاعتقادی جاہل لوگوں کو ذیادہ منافع دیتی ہے۔ یہ کہانی تو ہر گلی محلے کی ہے اور اگر اس کے خلاف بولنے کی جرات کریں تو ردعمل میں ہم سے مسلمان ہونے کا حق چھین کر کافر منافق اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی سب کو ہدایت دیں اور اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔ ’’شبنم بدست لوگ‘‘ طلعت آپا پہلے تو خوبصورت نام کے لیے داد قبول کریں۔ نام سے کہانی کا کوئی اور رخ سوچا تھا مگر پڑھ کے اندازہ ہوا کہانی کچھ اور ہے۔ آپ نے بہت اچھی طرح اپنا نقطہ نظر واضح کیا اور میرے خیال میں یہ ہی سوچ ہے جو لڑکیوں کے بگاڑ کا سبب بن رہی ہے۔ اخلاق کو پس پشت ڈال کر شکل و صورت پہ مرنے والے لوگ بہت سے اچھے لوگوں کی دل آزاری کر جاتے ہیں۔ رابعہ افتخار کی کہانیاں آج کل کے پریشان کن حالات میں تھوڑے ہلکے پھلکے موضوعات لیے ہوئے ہوتی ہیں اور یہ ہی چیز خوش کرتی ہے۔ گھریلو ماحول، محبت اور رشتوں سے گندھی کہانی بہت اچھی لگی۔ رابعہ آپی کرداروں کی منظر کشی بہت اچھے سے کرتی ہیں یوں لگتا ہے کہ ان کے لکھے کردار سامنے گھوم رہے ہوں۔ آپ کے لیے بہت سی نیک تمنائیں۔ ’’میرا عشق بھی تو‘‘ نزہت آپا کامیاب ناول کے لیے بہت سی مبارک باد قبول کریں۔ آپ کے افسانے اور ناولٹ تو پڑھ چکی تھی مگر ناول پہلا پڑھا ہے اور بہت بہت اچھا لگا۔ انشال کا احساس ذمہ داری اور اس کی کاوشیں دل کو چھو گئی مگر اسے مصطفی کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ وہ تو صد شکر کہ مصطفی آ گیا ورنہ ہمارے ہاتھوں اس کی خیر نہیں تھی۔ آپا ایسا ہی اچھا اچھا لکھتی رہیں۔ نازیہ جمال کمال لکھنے والی لکھاری ہیں کم لکھتی ہیں مگر خوب لکھتی ہیں۔ کافی عرصے بعد نازیہ کا لکھا پڑھا اور بہت اچھا لگا۔ نازیہ آپ کے قاری آپ کو پڑھنا چاہتے ہیں پلیز زیادہ زیادہ لکھیں۔ آپ کا افسانہ بہت اچھا تھا۔ قول و فعل میں تضاد پہ لکھی آپ کی تحریر کامیاب ٹھہری، آپ کے لیے بہت سی دعائیں۔ ’’محبت میری آخری شرارت تھی‘‘ شکر ہے دوسری قسط ملی۔ صائمہ آپی کہانی بہت اچھی جا رہی ہے اور اب تو ماہ گل اور ماہ روش کا قصہ بھی کھل گیا ہے۔ دیکھتے ہیں اب گل میر صاحب کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ’’دھڑکنو، تخلیہ‘ ’’محبت میری آخری شرارت تھی‘‘ واہ یہ سطر تو دل میں اودھم مچا گئی۔ آگے کے لیے نیک تمنائیں۔ ویسے اس دفعہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہر کہانی کا عنوان کمال تھا۔ ہر عنوان چونکانے کی صلاحیت سے بھرپور اور اس میں اضافہ کیا عنقا نے۔ ندا آپی کمال کر دیا۔ سارا افسانہ چشم بدور تھا مگر کچھ پیراگراف تو افسانے کو عروج پہ لے گئے۔ علامتی اور ذومعنی جملوں نے افسانے کو چار چاند لگا دئیے اور مجھے یقین ہے یہ افسانہ آپ کے فینز میں اور اضافہ کرنے والا ہے۔ سباس آپی بہت اچھا ناولٹ لکھا آپ نے۔ بزرگ گھروں کے لیے بہت گھنے سایہ دار درخت ہوتے ہیں اور ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ پلیز ہم منتظر ہیں کوئی اچھا سا ناول لے کر آئیے۔ کافی عرصے سے افسانوں پہ صبر کیے بیٹھے ہیں۔ سمیرا کا چھوٹا سا افسانہ بھی اچھا لگا۔ مزاح کی جھلک نے زیادہ مزا دیا اور ہلکے پھلکے انداز میں سبق آموز باتیں بھی تھیں۔ خواب پچھلی شب کا ثنا نے اچھا لکھا۔ خواب زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں مگر آخر میں ترکی کی ٹکس تو میرا بھی دل خراب کر گئی۔ بھائی گھومنے پھرنے کی جنونی ہوں ایسی باتیں پڑھ کے کچھ کچھ تو ہو گا ناں۔ اب بات ہو جائے قسط وار ناولز کی تو ہر لکھنے والا چاہتا ہے کہ اس کا لکھا سراہا جائے اور اتنے طویل تبصرے کے بعد خود ہی شرمندگی ہوتی ہے کہ سب کہانیوں پہ تبصرہ کیا قسط وار رہ گئیں مگر آپ سب کے بہت اچھے نام اور کام ہیں اور آپ سب کے لیے نیک تمنائیں۔ ان شاء اللہ ناول آنے پہ ضرور پڑھوں گئی۔ اللہ تعالی آپ سب کو کامیاب کریں۔ ’’حجاب نگری‘‘ صرف اس محبت کے زیر اثر لکھا جو آنچل اور حجاب سے وابستہ سب لوگوں نے دی (اور بہت خوب لکھا) مجھے بولتے ہوئے واقعی پتا نہیں چلتا اگر کسی کو برا لگا ہو تو معذرت خصوصاً صبا آپی کی کافی تعریف کی اور تب سے مجھے گھوریوں سے نواز رہی ہیں۔ ’’مظلوم مسلمان‘‘ ماہم آپ نے جس موضوع پہ قلم اٹھایا یہ سب مسلمانوں کی تکلیف کا باعث ہے اور ہم اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں کے لیے فقط دعا کر سکتے ہیں اللہ تعالی قبول کریں۔ رفاقت آپا کے قلم کی دھار جیسا میں نے دیکھا میں واضح نظر آتی ہے۔ آپا آپ کا ہر انتخاب کمال تھا اور پروین شاکر کا لکھا ہر لفظ ہی تعریف کے قابل ہے۔
وہ تو خوشبو ہے ہوائوں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
یہ غزل جب جب پڑھو تب تب خیالات میں اودھم مچا دیتی ہے۔ بزم سخن میں سب کا انتخاب بہت اچھا تھا مگر کنول نایاب اور حنا ملک کا انتخاب زیادہ پسند آیا۔ کچن کارنر‘ زہرہ جبین میں منتظر ہوں آسان سی ترکیب کی مگر آپ میری صلاحیتیں آزمانے پہ مائل ہیں اب تو کچھ آزمانا پڑے گا(ہی ہی ہی)۔ آرائش حسن بھی اچھا سلسلہ ہے مگر وہ کیا ہے کہ ہم قدرتی حسین ہیں۔ عالم میں انتخاب میرا پسندیدہ سلسلہ ہے۔ زبردست انتخاب پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس مرتبہ مجھے اپنا انتخاب ہی بہترین لگا کیونکہ فیض محمد سر کی نظم واقعی کمال ہے۔ حجاب کا ہر سلسلہ مجھے بہت پسند ہے۔ آپ کی محنت ہے اور ہماری داد اس محنت کو اور نکھارتی ہے۔ آخر میں اتنا کہوں گئی جہاں رہیں خوش رہیں، ہنستے مسکراتے رہیں اور دعاوں میں یاد رکھیں۔ والسلام۔
٭ ڈیئر ماورا، جب آپ کی تعریف و تنقید سب کی محنت کو نکھارتی ہے تو اس مقصد کے لیے ہر ماہ شرکت کرتی رہا کریں آپ کا تبصرہ پسند آیا اور انعام کا حق دار بھی ٹھہرا بہت مبارک ہو آپ کو۔
شازیہ ہاشم صیواتی عرف تمثال ہاشمی… کھڈیاں خاص۔ السلام علیکم ! ٹھک ٹھک ٹھک… کون… ارے پہچانا نہیں‘ کہاں پہچانا ہوگا؟ کیونکہ پہلی دفعہ حسن خیال کے فلور پر قدم جمانے کی کوشش میں تشریف آوری کا موقع ملا ہے‘ بوجہ مصروفیت اور دوسری وجہ مجھے رسالہ 12 یا 13 تاریخ کو ملتا ہے۔ اس دفعہ 7 کو ملا اور 8 کو ہم مدرسہ سے فری ہوکر قلم پکڑ کر حجاب کے لیے تعریفی کلمات لکھنے کے لیے صفحہ قرطاس پر اپنے خیالات کی دھنک بکھیرنے کی کوشش میں اتنے مگن کہ… کیا بتائوں پر پوچھو بس بات ہی ایسی ہے‘ جو ہنسا ہنسا کر انسان کو دہرا کردے‘ ویسے بھی مجھے مسکرانا پسند ہے اگر آپ ہنسی کا کپا بننا چاہتے ہیں تو آئی ڈونٹ کئیر۔ چلو کچھ نہیں ہوتا کیا یاد رکھو گے یار! مجھے لکھنا نہیں آتا بس میری پنسل اپنی آئس بنی ہوئی انک کو پگھلا پگھلا کر میرے ہرٹ ایموشن کو ہیٹ دے کر میرے ہاتھوں کو فورس کررہی ہے‘ لکھو لکھو‘ بس لکھو۔ اسی لیے لکھ رہی ہوں‘ اے حجاب! رہنا سداتا بندہ اور پرچار کرنا ہمیشہ حیائے نسوانیت کے نوریں اصولوں کا‘ ارے اب بس حجاب میری طرف غصے سے نہیں بلکہ بہت پیار سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اب میں اس پر تبصرہ کرنے والی ہوں ’’Bye My Heart Emotional‘‘ جیسے ہی رسالہ دست تمثال میں آیا‘ سرورق پر سرسری نظر ڈال کر مدیرہ صاحبہ سے گفتگو کی جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا کہ تم آئو تو سہی تمہیں ایک درخشاں ستارے کی مثل حجاب کے صفحات پر روشن کردیں گے چاہے رائٹر بنوں یا نہ بنوں۔ حمد پر نظر پڑی تو اس کا لفظ لفظ عقیدت سے پڑھ کر رب کی کبریائی اور واحدانیت پر پختہ ایمان رکھتے ہوئے زبان سے بلا ساختہ یہ اشعار نکلے۔
اپنے مالک سے اٹھ تُو فریاد کر
دل کو سجدے میں رکھ تُو عباد کر
روح کو نور تقویٰ سے شاد کر
نفس دشمن ہے دشمن کو ناشاد کر
دل کو نور خدا سے آباد کر
اور گناہوں کی خواہش کو تو برباد کر
حمد سے اس زباں کو حماد کر
سر کو چوکھٹ پر اس کی تو سجاد کر
قلب و جاں کو تو اس در پر عباد کر
اور سکونِ دل و جاں کو قلاد کر
اپنی خوشیوں کو تو اختر برباد کر
اپنے رب کی خوشی سے تو آباد کر
احمد علی کے نعتیہ کلام میں لفظ لفظ موتی پروئے ہوئے ہار کی نورانیت اور عشق و جنون کی کیفیت میں لکھے گئے الفاظ حسین کو دل کی نگری میں جذب کیا اور زبان نے بھی وجد کی کیفیت میں آکر یہ کہنا شروع کیا۔
میرے لب افق پر وہ جو کرن کرن کا پیام تھا
آقاﷺ کا نام تھا
شب دین میں جو چراغ شب محو کلام تھا
آقاﷺ کا نام تھا
اور یہ نام ان شاء اللہ مرتے دم تک رہے گا ’’ذکر اس پری وش کا ‘‘ مہوش نواز! یار تیرے غصے سے ڈر لگ رہا ہے کہیں غصہ کی لہر ہمیں بہاکر نہ لے جائے۔ اتنے میں لفظوں سے آواز آئی نہیں میشو تو بڑی نرم دل ہے اوہ میری ہم نام شازی بہن ‘ میں بھی معلمہ ہوں اور مجھے بھی دسمبر کی راتیں بہت اٹریکٹ کرتی ہیں‘ اچھا لگا آپ سے مل کر۔ واہ راحیلہ 14 اگست کو آئی آپ اور مابدولت 25 دسمبر کو‘ اب ان دونوں کی مناسبت خود قائم کرلو اور آپ کا شعری ذوق بہت اچھالگا‘ بحث و مباحثہ کا مجھے بھی شوق ہے اور کتابیں پڑھنے کا بھی۔ اللہ آپ کے علم و ادب میں مزید ترقی کرے‘ ارے انیقہ ابھی تم بھی رہتی ہو چلو پہلے مونگ پھلی کھالو پھر تم سے ملتی ہوں ‘ منہ نہ بنائو یار آجائو تمہاری پسندیدہ چکن کڑاھی پکا کر کھلائوں تصورات کی وادی میں ’’Be Always & Happy Brithday‘‘ ۔ رخ سخن میں فہمی فردوس سے مل کر اچھا لگا۔ ’’سالگرہ کا دن آیا ہے‘‘ ہم تو غافل ہی رہے اس میں شریک ہوئے اب اس میں ایڈمیشن مل سکتے ہیں‘ نہیں تو نا سہی۔ میں قارئین کے سوالات سے اپنے دل کو حوصلہ کی وادی میں لے جاکر تھپکی دے کر سلاتی ہوں کہ اتنی جلدی مان گیا‘ ویل ڈن ڈئیر رفاقت جاوید ’’ایک حور ہوں‘‘ شروع کے الفاظ نے ہی آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا آگے آپ خود سو چیں کہ پھر کتنا سحر میں جکڑی ہوگی۔ زویا کی ماں ’’زرینہ‘‘ بے حد اچھی لگی اور زویا کا انداز تفکر اور حق کہنے کی عادت اچھی لگی لیکن سیم ٹائم ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو سب سے بہتر ‘ سمجھتے ہوئے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دیتا ہے لیکن زویا کو گرنے سے پہلے ہی تھام لیا گیا۔ واقعی ایک ماں کو ایسے ہی اپنی بیٹی کو قدر سکھانی چاہیے۔ ’’بھابی بیگم‘‘ منفرد انداز میں لکھی ہوئی دل کو اچھوتے احساسات سے دوچار کرگئی کہ آج سوسائٹی میں ایسے ہی کتنے کردار ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو راہ مستقیم سے راہ گمراہی کی طرف لے کر جارہے ہیں ویسے ڈئیر آپی یاسمین! ایک بات بتائوں‘ میں بھی بیان وغیرہ کرتی ہوں مگر مجھے عقائد و دین کی بات سنا کر پیسہ لینے والے سخت ناپسند ہیں ہاں اگر بطور ہدیہ دے تو قبول کرلیتی ہوں‘ ویسے بھی تمام مدارس ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میرے بابا جانی کا مدرسہ ہے اور ابو یہ چاہتے ہیں کہ گھر والے چاہے بھوکے رہیں مگر بچے نہ رہیں اور آج تک ہمیں یہی حسرت رہی کہ ہمارے گھر کا پینٹ ہوجائے لیکن جامعہ کا ہوا ہے جو مابدولت نے کروایا ہے مگر علماء کے درمیان کچھ لوگ ناسور کی طرح پیدا ہوتے ہیں ایسے ناسوروں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ’’میرے خواب زندہ ہیں‘‘ میرا فیورٹ سلسلہ وار ناول ہے‘ لگتا ہے باسل کے دل میں لالہ رخ کے لیے سافٹ کارنر پیدا ہوگیا ہے ویسے مجھے فراز شاہ بائی کریکٹر اور بائی نیچر بہت پسند ہے اور ایک بات ایسا فیل ہوتا ہے ابرام اسلام قبول کرے گا کیوں ڈئیر رائٹر ایسی ہی بات ہے؟ ویسے رائٹر! اچھا جارہا ہے آپ کا ناول لیکن تھوری سی اسپیڈ فاسٹ کریں۔ ’’شبنم بدست لوگ‘‘ ہلکی پھلکی سی تحریر دل کو بوجھل کرکے آنکھوں میں اشک کو بے قابو کرکے گالوں پر دھکیلنے پر مجبور کردیا خاص طور پر سائرہ کے الفاظ نے رلادیا۔ واہ رابعہ افتخار ’’کوئی اپنا ہو‘‘ میں شفق کے خلوص اور مثبت سوچ دیکھ کر دل نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر زندگی میں خلوص کی ہوائیں اور مثبت سوچ کی آکسیجن ہو تو مرا دمن آسانی سے مل جاتی ہے اور انسان قدم قدم راہ کامیابی کی طرف سرشار ہوکر بڑھتا ہے۔ ’’دل کے دریچے‘‘ پڑھ کر تو واقعی دل کے دروازے وا ہوجاتے ہیں کہیں روشنی کو دیکھ کر بلا ساختہ کھلنے والے منہ کو بند کیا جاتا ہے‘ کہیں فائز کی گہری محبت کو دیکھ کر دل کی وادی میں خلوص کے گلابوں سے خوشبو مہکتی نظر آتی ہے‘ کہیں شاہ پر ترس آتا ہے کہ کچھ برا نہ ہوجائے اور سفینہ تو ہے ہی بیسٹ کریکٹر۔ بہرحال اب کچھ برا نہ کرنا ویسے روشی بڑی خود غرض سی لگی۔ ’’میرا عشق بھی تُو‘‘ اچھی تحریر تھی‘ انشال کی ثابت قدمی اور جذبہ ایثار نے متاثر کیا کہ کوئی اپنوں کے لیے اتنا بھی کرسکتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ شتے ناطے جھوٹے ہیں چلو خیر‘ مجھے آگے بھی سفر کرنا ہے۔ نازیہ جمال تُو نے تو میری دکھتی رگ کو چھیڑ دیا آج کل ایسا ہی ہورہا ہے۔ بیٹی کو یہی طعنہ دیا جاتا ہے لیکن کچھ لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے اوپر سب کچھ برداشت کرلیتی ہیں لیکن اوروں کو دکھ میں مبتلا نہیں دیکھ سکتیں۔ وشمہ کا کردار بہت اچھا لگا۔ ’’محبت میری آخری شرارت تھی‘‘ صائمہ قریشی معذرت کے ساتھ پورا ہونے پر بھرپور تبصرہ کروں گی کہ آپ مجھے داد دینے پر مجبور ہوجائیں گی اور آپ کا دل خوشیوں اور مسرتوں کے ہنڈولے میں جھولے گا۔ ’’شب آرزو تیری چاہ میں‘‘ واہ ڈئیر نائلہ! یہ اچھا کیا دراج کے دل میں محبت زرکاش کو پیدا کیا ورنہ مجھے غصہ آتا تھا دراج پر لیکن اب نہیں۔ سباس گل اللہ آپ کے قلم میں مزید نکھار دے‘ آپی آپ نے تو کمال کردیا یہ ایک بہت پیارا پیغام ہے‘ بیٹیوں کے لیے‘ بیٹوں کے لیے‘ بہوئوں کے لیے ویسے دادا اور دادی کا پیار قابل رشک تھا۔ منال جیسی بیٹی ہو تو گھر خودبخود سنور جایا کرتے ہیں ویسے آپی آپ کی تحریر نے تمام تحریروں پر غلبہ پالیا۔ امید ہے کہ آپ دوبارہ پھر کوئی ایسا منفرد موضوع لے کر حاضر ہوں گی جو ینگ جنریریشن کی تربیت میں اہم کردار ادا کرے۔ مصروفیت کی بناء پر ابھی کچھ تحاریر باقی ہیں مگر ’’ڈھل گیا ہجر کا دن‘‘ لگتا ہے نیا موڑ اختیار کرگیا ہے‘ آرٹیکل ماہم انصاری کا پڑھا تو دل غم کی اندوہ کھائی میں ڈوب گیا اور بلا ساختہ کچھ الفاظ زبان شاز سے ادا ہوئے۔
زمین کی وکالت نہیں چلتی
جب فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں
اور…
بے گھروں پر کیا گزرتی ہے تمہارے شہر میں
سرد راتوں میں کبھی تم گھر سے باہر نکل کر دیکھنا
بزم سخن میں صابرہ احمد‘ رافعہ‘ اقرأ اور نبیلہ کے اشعار لگے باقی سب کے بھی اچھے تھے۔کچن کارنر تو دیکھ کر ویسے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے لیکن کسٹرڈ سویاں بنانے کا سوچا جب پکائوں گی تو آپ کو بھی سینڈ کروں گی‘ سوری حدیقہ احمد میں آرائش حسن نہیں پڑھتی کبھی کبھار میری سسٹر پڑھتی ہے۔ عالم میں انتخاب صباایشل‘ نجم انجم اعوان اور کوثر خالد کا انتخاب اچھا لگا۔ شوخئی تحریر ہمیشہ کی طرح لاجواب تھی لیکن عائشہ رحمان ہنی کی اسٹوڈنٹ نظم نے ہنسانے میں ایک اہم رول ادا کیا اور شازیہ اختر شازی واقعی اگر انسان ان باتوں پر عمل کریں تو فلاح دارین مل سکتی ہے۔ڈئیر عائشہ! میرے نام یعنی تمثال کے معنی ہے گڑیا‘ مورتی یہ میری اسٹوڈنٹس نے رکھا ہے۔ حسن خیال میں نرمین کو پہلا انعام ملنے پر مبارکاں۔ ویسے یار بتا تو دو انعام کیا ملا ہے؟ نہیں لیتی میں‘ بہت زبردست تبصرہ تھا دوست کا پیغام آئے‘ اچھا سلسلہ ہے ویسے ہنی! تم نے مجھے یاد رکھا جزاک اللہ یا عزیزہ! شوبز کی دنیا‘ آئی ڈونٹ لائک اور ٹوٹکے خدیجہ احمد کے پڑھنا اچھا لگتا ہے مگر عمل کرنے سے جان جاتی ہے ویسے ڈئیر آپی خدیجہ! اپنا کان میرے پاس کرنا ایک بات پوچھنی ہے ایسا ٹوٹکہ بتائیںجس سے میں جوہی احمد کے دل کو رام کرکے انعام لے سکوں‘ جلدی بتائو ناں۔ چلو خیر نہ بتائو ہیں تو آپ بھی حجاب کے اسٹاف میں سے ‘ کیسے بتائیں گی لیکن مجھے بھی انعام کی تمنا نہیں۔ حجاب کی سالگرہ کے لیے کچھ الفاظ قلمبند کرکے اجازت چاہوں گی۔
تیری سالگرہ ہے آئی
مجھے کچھ خبر نہ ہوئی
کوئی پتا نہ چلا
جب آیا نومبر کا شمارہ
دیکھا سوالات کا سلسلہ
تو میں نے بھی چاہا
تجھے دوں خراج تحسین
بس اتنی سی دعا ہے
کہ چمکتا رہے تُو
دمکتا رہے تُو
نسل نو کے لیے
اک پیغام دیتا رہے تُو
ترقی کی جانب
بڑھتا رہے تُو
اور ایک شعر جو مجھے بے حد پسند ہے
لوگ ایسے اکڑ کر چلتے ہیں
جیسے آب حیات پیتے ہیں
فی امان اللہ‘ السلام علیکم!
٭ ڈیئر شازیہ، آپ کا مکمل و جامع تبصرہ بے حد پسند انعام کی حق دار ٹھہرنے پر ہماری جانب سے مبارک باد، ادارے سے رابطہ کرلیں۔
نرمین سرھیو… حیدرآباد ! اسلام علیکم! اللہ سب کو شاد رکھے اور ادارے کو ترقی و کامیابی عطا کرے آمین۔ پہلے تو حجاب کی دو سالہ کامیابی پر مبارک باد قبول کیجئے۔ حجاب کا سرورق بس سہی ہی لگا۔ کچھ خاص پر کشش نہیں تھا حالانکہ سالگرہ کا موقع تھا تو امید تھی مختلف ہوگا کچھ، فہرست میں اتنے پیارے نام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی خاص کر سینئرز کے۔ اب چلتے ہیں بات چیت کی طرف۔ قیصرہ آپا کیسی ہیں آپ؟ خوش رہیں‘ اللہ آپ کو مزید ترقی عطا کرے آمین۔ پہلے تو نازیہ کنول نازی اور سلمی فہیم آپی کتابوں کی اشاعت کی مبارک ہو بہت بہت۔ ان شاء اللہ تیرے لوٹ آنے تک میں خریدوں گی۔ باقی بات رہی کہ آنچل کا مقام تو آپا آنچل کا مقام ماشاء اللہ بہت اچھا ہے اور ذاتی طور پر میری امی کو آنچل بہت پسند ہے تو میں چاہتی ہوں آنچل میں ہوں کیونکہ بچپن سے آیا ہے گھر میں اور سب جانتے ہیں باقی رہی بات حجاب کی کامیابی کی تو اس کی بھی کسی حد تک کوشش کرتی ہوں۔ اللہ ضرور حجاب کو بلند مقام دلوائے گا‘ آمین۔ ممکن ہے دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ درپیش ہو۔ مہ وش افسر کی حمد بہت اچھی تھی ماشاء اللہ۔ خاص کر یہ شعر۔
ہے تو ہی مالک‘ تو ہی بندہ نواز
جانتا ہے تو ہمارے دم کا راز
احمد علی برقی کی نعت بھی اچھی لگی خاص کر یہ شعر۔
وہ ہیں خیر البشر اور رحمتِ اللعالمین برقی
بقائے دیں کے تھے ضامن سبھی غزوات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم)
ذکر اس پری وش میں مہوش نواز اور شازیہ لطیف کا ذکر اچھا گا۔ راحیلہ بتول کا انداز کچھ کچھ حرا قریشی سے ملتا جلتا لگا‘ اچھا لگا۔ انیقہ بشیر کا ذکر دلچسپ رہا اور پڑھ کر بہت مزہ آیا۔ اللہ آپ سب کو خوش رکھے آمین۔ رخ سخن میں سباس آپی کا فہمی فردوس کا انٹرویو لینا اچھا لگا۔ فہمی فردوس کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ ان کے حالات جان کر افسوس ہوا لیکن یہاں کہنا چاہوں گی کہ انسان کو اپنے حالات کسی کے سامنے بیاں نہیں کرنے چاہیے خاص کر عورت کو۔ فہمی آپی بہت بہت معذرت برا لگا تو لیکن… بچپن کا جو واقعہ تھا اور آپ بیمار پڑ گئی تھیں۔ حیرت ہوئی اتنی کم عمری میں اتنی حساس تھیں آپ لیکن اچھا لگا کہ لکھاری تو حساس ہوتا ہے۔ یہی حساسیت تو اس سے لکھواتی ہے۔ لڑکیوں کے بارے میں آپ کا پیغام پڑھا۔ اس طرح کی کوئی کہانی آپ کے قلم سے لکھی ضرور پڑھنا چاہوں گی۔ اگر کوئی ہے تو بتائیں یا پھر اس موضوع پر ضرور لکھیں اور مجھے اطلاع دے دیجئے گا۔ مجھے بہت خوشی ہوگی‘ خوش رہیں۔ سالگرہ کا دن آیا ہے میں سب کے سروے پڑھ کر اچھا لگا۔ میں نے بھی بھیجا تھا لیکن دیر سے۔ امید ہے اگلے ماہ شامل ہوگا محفل میں۔ ان شاء اللہ لیکن اس میں بہت سوں کا ذکر رہ گیا تھا۔ ’’ایک حور ہوں‘‘ از رفاقت جاوید‘ رفاقت جاوید میری پسندیدہ مصنفہ کی تحریر ہو اور اچھی نہ ہو۔ عمدہ تحریر اور سبق آموز۔ آج ہر جگہ ایسے ملتے جلتے حالات ہی دیکھے جاتے ہیں۔ رفاقت آپا آپ کے ناولز جو کتابی شکل میں دستیاب ہیں ان کے نام بتادیں۔ کوشش کروں گی کہ سب خریدوں۔ (ویسے آپ تحفے میں دینا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ویسے بھی میں تحفے خوشی خوشی لے لیتی ہوں اور بات جب ناولز کی ہو تو آہم آہم اب کیا کہوں) اللہ آپ کے قلم کی روانی قائم رکھے‘ آمین۔ ’’بھابھی بیگم‘‘ از یاسمین نشاط‘ یاسمین آپی آپ کا لکھا بہت اچھا ہوتا ہے اور یہ تحریر تو سیدھا دل میں گھر کر گئی‘ دنیا کا اور لوگوں کو ایک تلخ رخ۔ جس سے سب آشنا ہیں لیکن ہر بار جان کر نئے سرے سے دکھ ہوتا ہے۔ آج کل ایسا ہی ہو رہا ہے اور لوگوں کا اندھا یقین۔ کم عقلی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھابھی بیگم جیسے لوگوں کا یہ نفسیاتی حربہ ہوتا ہے اور لوگ پھر انہی کو ماننے لگتے ہیں۔ خوب بہترین۔ یہ جملہ دل کو بہت بھایا۔ ’’ ایک سادہ سے دین کو ان جیسے کم عقل و کم عمل لوگوں نے الجھا کر رکھ دیا ہے۔‘‘ اللہ آپ کو مزید ترقی عطا کرے آمین۔ ’’میرے خواب زندہ ہیں‘‘ از نادیہ فاطمہ رضوی۔ میں پڑھتی نہیں لیکن امید ہے اچھا چل رہا ہوگا۔ ’’شبنم بدست لوگ‘‘ از طلعت نظامی۔ اف… کیا کمال لکھا۔ آج کل یہی بات سامنے آ رہی ہے۔ انسان کے اندر کو نہیں دیکھتے۔ علی عباس جلالپوری لکھتے ہیں۔ ’’خواہ کوئی لڑکی کتنی ہی ذہین و فہیم ہو اسے اپنے آپ کو حسین و پرکشش ثابت کرنے کے لیے کاوش کرنا پڑتی ہے کیونکہ مرد یہی کچھ چاہتا ہے چناچہ عورتوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت کو بھی زیبائش اور ہار سنگھار پر قربان کردیا ہے۔‘‘ اللہ آپ (طلعت نظامی) کو کامیاب کرے آمین۔ ’’کوئی اپنا ہو‘‘ از رابعہ افتخار۔ کہانی اچھی تھی۔ سادہ گھریلو، محبت اور توقعات پر مشتمل۔ چلو دیر آئد درست آئد۔ تائی کو احساس تو ہوا۔ سچ کہوں تو یہی حالات آج کل عام ہیں۔ لڑکیاں سسرال کو اپنا تصور نہیں کرتیں۔ آنکھوں دیکھا حال ہے یہ میرا۔ دعا ہے اللہ سب کو عقلِ سلیم عطا کرے اور ٹھوکر لگنے سے قبل سنبھال لے۔ آمین۔ رابعہ آپ کو اللہ مزید ترقی دے آمین۔ ’’دل کے دریچے‘‘ از صدف آصف امید ہے اچھا جا رہا ہوگا۔ ’’میرا عشق بھی تو‘‘ از نزہت جبین۔ نزہت آپی کے قلم سے نکلا پہلا مکمل ناول جو میں نے پڑھا ہے وہ یہ ہے شاید یہ ان کا پہلا ہی ناول ہو۔ تلخ حقیقت کو کہانی کی صورت خوب بیان کیا گیا۔ آج کل ایسی محبتیں نایاب ہیں۔ البتہ مصطفی صحیح بات پر ناراض ہوا۔ اس کا احساس مجھے تائی کی موت پر ہوا اور شدت سے ہوا۔ اللہ آپ کو مزید کامیابی عطا کرے آمین۔ ’’اگلے گھر پچھلے گھر‘‘ از نازیہ جمال۔ عذرا بیگم جس خصاصیت کی بنا پر وشمہ کی گرویدہ تھیں وہی انھیں چبھنے لگی۔ کہانی اچھی لگی۔ خاص کر کہانی کا موضوع بہت اچھا تھا۔ سخی بننا مشکل ہے اور دنیا کے سامنا کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا اس سے بھی زیادہ شکل۔ نازیہ جمال کی کہانیاں اکثر پڑھتی ہوں اور خوب لکھتی ہیں۔ کم وقت میں ہی ان کی تحریروں نے قاری پر اپنا جادو جگانا شروع کردیا ہے۔ اللہ مزید ترقی دے۔ آمین۔ ’’محبت میری آخری شرارت تھی‘‘ از صائمہ قریشی۔ میری پیاری آپی اچھی آپی جلدی سے ختم کریں مجھ سے نہیں صبر ہو رہا۔ ختم ہو تو پڑھوں ناں۔ عنقاء از ندا حسنین‘ کمال کیا آپی۔ بہت زبردست‘ کہیں کہیں لگا کہ کلاسیکل ادب سا لکھا افسانہ ہے جو اگر باتیں ذو معنی اور علامتی ہوتی کہیں کہیں۔ کہانی عمدہ رہی خاص کر عنقاء پرندے کی مثال عورت سی دینا۔ عنقاء کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں آپی؟ کہانی کا موضوع عام تھا لیکن آپ کا اندازِ بیاں اسے منفرد بنا گیا۔ پیج لائن زبردست تھی اور کہانی کا اثر تادیر رہا۔ تحریر نے دل میں جگہ خود بنا لی۔ ایسا لگا بہت دل سے لکھا ہے آپی آپ نے اس کو۔ ’’شب آرزو تیری چاہ میں‘‘ از نائلہ طارق۔ ختم ہوگیا ہے اب جلد ہی پڑھ کر تبصرہ کروں گی ان شاء اللہ ابھی ناول چل رہا ہے۔ ’’گھر کی جنت‘‘ از سباس گل۔ کمال لکھا آپی‘ زبردست‘ دادا دادی کا ملاپ‘ منال اور نوفل کی پلئینگ‘ زبردست۔ اچھی لگی کہانی۔ اللہ آپ کو مزید ترقی دے‘ آمین۔ ’’جیون ایک خواب سفر‘‘ از سمیرا غزل۔ اتنا ہی کہوں گی کہ دیر آئد درست آئد۔ اچھی لگی کہانی۔ انداز منجھا ہوا تھا۔ کہانی بھی اچھی رہی۔ سادہ اندازِ بیاں اور اچھا سبق۔ اللہ آپ کو کامیابی عطا کرے آمین۔ ’’ڈھل گیا ہجرکا دن‘‘ از نادیہ احمد امید ہے اچھا چل رہا ہوگا یہ قسط وار ناول۔ ’’خواب پچھلی سب کا‘‘ از ثناہ ناز۔ آپ کا نام سنا سنا سا لگ رہا ہے۔ شاید فیس بک پر۔ اچھی لگی کہانی۔ بہت اچھی بس ایک چیز کا ذکر کروں گی کہ ایسا لگا کہ خوامخواہ طوالت کا شکار ہو افسانہ۔ کچھ سین لگے۔ معذرت برا لگا تو خوش رہیں۔ اللہ آپ کے قلم کو مزید روانی دے آمین۔ حجاب نگری از ماورا کتنا بولتی ہو ادھر بھی چپ نہ رہنا لڑکی تم تو۔ شکریہ میرا ذکر کرنے کا تفصیلی کر دیتیں تو کیا ہوجاتا؟ ویسے عصر پیا دیس نہیں سدھاری جہاں تک میرا خیال ہے۔ تم نے مجھے بھی کنفیوز کردیا ہے۔ اچھی لگی تمہاری آمد۔ ویسے صبا آپی کا کیا زبردست تعارف کروایا۔ سچی دل خوش ہوگیا۔ صبا آپی ایسے تو نہ گھوریں اب بچی سچ بھی نہ بولے؟ ’’مظلوم انسان‘‘ از ماہم نور۔ آرٹیکل اچھا لگا۔ اثر تھا اندازِ بیان میں اور جذبے بھی سچے تھے۔ ماہم یہ بھی تو بتائیں کیا کر سکتے ہیں ہم؟ کیا کریں؟ احتجاج قومی سطح پر تو مشکل ہے۔ کچھ ایسا بتائیں جو ہم لڑکیاں کر سکیں۔ قلم سے یا فیس بک پر موجود آبادی کر سکے۔ آپ کے جواب کی منتظر رہوں گی۔ ’’جیسا میں نے دیکھا‘‘ رفاقت آپا آپ کے لفظوں میں جادو ہے۔ سحر ایسا کہ بندہ بس آپ کو پڑھتا جائے۔ سچ کہا کچھ چیزیں وقتی جذبات کی بدولت لکھ لی جاتی ہیں یا گہری سوچ میں غرق ہو کر تخلیق پاتی ہیں اور لوگوں انہی باتوں پر تخلیق کار کو پرکھنے لگتے ہیں۔ یہ سلسلہ مجھے بہت پسند ہے اگر صفحات میں اضافہ ہوجائے تو میری دلی مراد بر آئے گی۔ بزمِ سخن میں اچھی لگی شاعری۔ کچن کارنر میں چاکلیٹ لئیر کیک کی ترکیب اچھی لگی۔ میٹھی ٹکیاں اتفاق سے میں نے حال ہی میں بنائی ہیں۔ کوشش کروں گی کبھی انڈوں کے حلوے کی ترکیب بھیجوں۔ عالم میں انتخاب بھی خوب رہا۔ شوخئی تحریر خوب رہا۔ حسنِ خیال میں تبصرے سب پڑھے میں نے۔ اچھے لگے خاص کر اقراء جٹ کا۔ ہومیو کارنر میں زبردست معلومات ملیں۔ دوست کا پیغام آئے میں کبھی کوئی مجھے بھی پیغام بھیج دے ہائے۔ شوبز کی دنیا اچھا تھا۔ ٹوٹکے زبردست۔ اللہ حافظ۔ فی امان اللہ۔
ریمانوررضوان… کراچی۔ السلام علیکم! دل کی تمام تر گہرائیوں اور سچائیوں کے ساتھ منفرد ہوتے ہوئے منفرد لفظوں کے ساتھ حجاب ڈائجسٹ اسٹاف‘ حجاب ڈائجسٹ ریڈرز‘ حجاب ڈائجسٹ رائیٹرز‘ حجاب ڈائجسٹ سے جڑے ہر فرد واحد کو ریمانوررضوان کا پیار و خلوص بھرا السلام علیکم! آپ سب کے ذہنی و قلبی سکون کے لیے دعاگو ہوں۔ کہیے جناب حجاب فیملی سے وابستہ افراد کیا حال و احوال ہیں۔امید ہے کہ میری دعاؤں سے آپ سب شاد و آباد ہوں گے۔ مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔دعا سے خوبصورت کوئی رشتہ نہیں۔ سب سے پہلے آنچل گروپ آف پبلی کیشنز کو حجاب کی دوسری سالگرہ کی ڈھیر ساری مبارک باد دعاؤں کے ہمراہ باری تعالی محترم طاہر قریشی بھائی سعیدہ آپی اور دیگر اسٹاف ممبرز آپ سب کی زیر صدارت نکلنے والے پرچے کو مزیدکامیابیوں سے نوازے آمین ثم آمین۔حجاب ڈائجسٹ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے‘ آمین ثم آمین۔ ٹائٹل گرل دولہن صاحبہ بہت پیاری لگی جھیل سی گہری لینس لگی گرے آنکھیں شرم وحیا سے گھنیری پلکوں کی باڑ گرائے بہت ہی حسین لگی۔ میری پیاری قیصرہ آپی جانی کیسی ہیں۔ حمد ونعت سے مستفید ہونے کے بعد آگے بڑھے۔ ذکر اس پری وش کا میں تینوں پریوں سے مل کر بہت اچھا لگا۔ رخ سخن میں سباس ڈئیر کمال کردیا فہمی صاحبہ سے ملاقات واہ زبردسست! ریڈرز سمجھتے ہیں کہ رائیٹرز بہت خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی زندگی خوشیوں سے بھری ہوتی ہے۔فہمی آپی کے حالات زندگی جان کر احساس ہواکہ وہ بھی ہماری ہی طرح ہیں۔دکھ سکھ سب ہماری قسمت میں درج ہیں۔باری تعالی کی طرف سے ہیں یہ سب۔ سروے سالگرہ کا دن آیا ہے میں لاکھ چاہنے کے باوجود شرکت نہیں کرسکی افسوس رہے گا۔ سروے کے سوالات اور جوابات دونوں ہی بہترین رہے۔ ’’میرے خواب زندہ ہیں‘‘پچھلے کچھ ماہ سے پڑھ نہ سکی تو اب کہانی کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا چل رہا ہے۔ ’’دل کے دریچے‘‘ بھی نہیں پڑھ سکی۔ ’’میرا عشق بھی تو ‘‘ از نزہت جبین ضیاء۔ نزہت اپیا مکمل ناول لکھنے پر مبارکباد قبول کریں اکثر ڈائجسٹوں میں آپ کے افسانے ہی پڑھے ہیں۔مکمل تحریر پرتجسس و دلچسپ رہی۔تائی اماں کی موت واقع نہ ہوتی تو مصطفی سے میں نے بد گمان ہی رہنا تھا۔ہاہاہاہا۔ ’’گھر جنت‘‘ از سباس گل! واقعی ڈئیر تم نے پروف کردیاکہ ہماری سوچ مثبت سمت میں ہوتو گھر جنت بن جاتاہے۔ بھابھی بیگم‘ از یاسمین نشاط‘ منفرد عنوان منفرد طرز تحریر بھابھی بیگم موضوعاتی اعتبار سے نئی تحریر نہیں لیکن اس کی بنت نے اسے خاص بنادیا۔معاشرے سے جڑی تلخ حقیقت پر مبنی کہانی بہت اچھی اتنی اچھی لگی کہ آف دی منتھ رہی۔دو سے تین بار پڑھی۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ آمین ثم آمین ڈئیر آپی۔ ’’شبنم بدست لوگ‘‘ از طلعت نظامی۔ طلعت آپا عنوان پڑھ کر زیر لب کئی مرتبہ بڑبڑایا عنوان سے مفہوم تحریر واضح نہ ہو سکا تو الجھے ہوئے دماغ کے ساتھ کہانی کا آغاز کردیا جوں جوں پڑھتی گئی داد و تحسین دل سے نکلتی رہی۔واقعی آپی ہمارے یہاں ہنر مند لڑکی پر خوش شکل لڑکی کو ہی فوقیت دی جاتی ہے۔ ’’کوئی اپنا ہو‘‘ از رابعہ افتخار۔ سادہ سا طرز تحریر اور ہمارے آس پاس بکھری کہانی بہت اچھی لگی۔لڑکی کا اصل گھر وہی ہے جہاں اس کا شوہر ہے۔افسوس کچھ لڑکیاں سسرال کو اپنا تصور نہیں کرتیں اور یہی بات رشتوں میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے۔ بس جی اس سے آگے کوئی تحریر نہ پڑھ سکی اسی لیے تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مستقل سلسلے سارے ہی بہترین رہے۔اچھا جی اب اجازت چاہتی ہوں۔ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی۔مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔فی امان اللہ۔
٭ ڈیئر ریما، تبصرہ پسند آیا آئندہ بھی جامع و مفصل تبصرے کے ساتھ شامل محفل رہیے گا۔
کوثر خالد… جڑانوالہ۔پیارے حجاب‘ سلام محبت! نامہ کے ہمراہ کوثر آرہی ہے ۔ سرورق سہیلی اختر کی یاد دلارہا ہے جو دلہن بننے کی محرومی لیے پاگل پن و بیماری کو گلے لگائے جنت سدھار گئی بوجہ بڑی بہن کی شادی نہ ہوئی‘ باپ نے چھوٹی کو نہ بیاہا (قسمت کے کھیل) مجموعی طور پر حجاب کی تحریریں زبردست رہیں۔ انفرادی تبصرہ یوں ہے کہ ’’بات چیت‘‘ ہم سے کی‘ شکریہ‘ حمدونعت‘ خوب صورت شاعر اعلیٰ ثنا گوئی۔ مہ وش برقی‘ واہ بھئی واہ۔ پری وش پھر مہوش‘ خوش رہو‘ شازیہ ’’دعاوالے‘‘ کو دعا دی۔ راحیلہ تم نمبر لے گئیں‘ زبردست شعر و تعارف‘ چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو۔ بدن کی موت سے کردار نہیں سکتا‘ بھئی بہادر بیٹی بتائو روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیسے کریں؟ انیقہ کلاس فیلو یاد کروادی۔ رخ سخن فہمی فردوس (فردوس ہماری ممانی بھی ہے) زبردست حقائق لائیں‘ بہترین سوال و جواب ہوئے۔ سالگرہ کا دن‘‘ مبارک ہو‘ جناب! حجاب ہمیں تو کوئی مشورہ نہیں دینا سوائے اس کے کہ آغوش مادر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نظر آتی رہیں۔ ’’ایک حور ہوں‘‘ جی ہم تجربہ کرکے بتائیں گی رفاقت جی‘ بہو آتو جائے ناں۔ ’’بھابی بیگم‘‘ ہم کسی کے عمل کو نہیں بلکہ اس کی بات کو دیکھتے ہیں اور خود کا محاسبہ کرتے ہیں کیونکہ اگر ہم ٹھیک ہیں تو سب ٹھیک ہیں اگر اس جگہ ہم ہوتے تو ڈائریکٹ میلاد والی کو سمجھاتے لوگوں کو نہیں۔ ’’میرے خواب زندہ ہیں‘‘ بے شک بلاشبہ اور زندہ ہی رہیں گے ان شاء اللہ۔ ’’شبنم بدست لوگ‘‘ طلعت نظامی‘ حقیقت سے متعارف کروایا کرتی ہیں۔ نئے دور کی مجبوریاں اور لاچاریاں‘ ہم بھی ’’ابا‘‘ جیسے ہیں‘ ہم سدا سے روایتیں و فضول رسم و رواج کے خلاف ہیں۔ ہم نے اپنی شادی پر باجے منع کیے‘ اب اپنے بیٹے کی مہندی بھی نہیں کی‘ آئندہ بھی ان شاء اللہ۔ ’’کوئی اپنا ہو‘‘ جی ہر کسی کا کوئی نہ کوئی تو اپنا ہوتا ہی ہے‘ اچھی تحریر‘ سمجھ دار ہیرو جو دل جیت لے وہی اپنا ہے۔ ’’دل کے دریچے‘‘ روشن رہی اور اب نظروں کے سامنے ثناء کلثوم کا تعارف جگمگارہا ہے۔ بے حد منفرد خوب صورت ہیروں سی باتیں (ثناء ہماری بھتیجی اور کلثوم چچا زاد ہے)۔ ’’میرا عشق بھی تو‘‘ اللہ ایسے عشق سے بچائے۔ ’’اگلے گھر پچھلے گھر‘‘ جی ہمیں تو چاہیے آخری گھر۔ ’’محبت آخری شرارت‘‘ انجام محبت دیکھنا ہے ابھی‘ عنقا…
ہزار روپ ہیں اپنے ہم تو عنقا ہیں
پکڑتے پکڑتے ہمیں تھک جائو گے تم
مگر ہر عورت عنقا نہیں بنتی کاش… زور قلم مزید دلگیر ہو۔ ’’شب آرزو تیری چاہ میں‘‘ حد سے گزر جائیں گے۔ ’’گھر کی جنت‘‘ سباس کے سنگ سارا کریڈٹ دادا دادی کو جاتا ہے‘ اگر بزرگ ایسے ہوں تو خوشیاں لوٹ ہی آتی ہیں۔ ہماری دعا ہے ہم بہترین بزرگ بنیں جذبے جوان ہی رہیں مگر سالگرہ گجرے وجرے‘ ان کی ہر گز ضرورت نہ پڑی جوانی میں بھی کام کام بس کام… بس اسی کو ہے دوام‘ آج ہم نے ساس کو نہلایا کہ انہوں نے پیمپرتوڑ کر تباہی مچادی۔ آدھا دن لگ گیا‘ شملہ گوشت پکایا‘ بہت مزے دار بنا تو خالد کے نام کا باجی نصرت کو دے آئے (تنہا پرہیز گار عورت ہے سہیلی) اس نے ہمیں شکر پارے دیئے جو اکیلے ہی کھاگئے ہم (بچے نہیں کھاتے میٹھا) ’’جیون خواب سفر‘‘ سچی بڑے مزیدار ہے۔ خدمتیں اور قربانیاں ہی رنگ لاتی ہیں ورنہ طلاق کا جھومر یا علیحدگی کا دیس مقدر۔ ’’ڈھل گیا ہجر کا دن‘‘ اور جامد آنسو برسے دھواں دھار۔ ’’خواب پچھلی شب کا‘‘ پہنچے اگلی شب کا‘ دلچسپ قلم خوب رہی تحریر ہنستی کھلکھلاتی روداد۔ کیا ہے انداز‘ ثناء ناز ’’حجاب نگری‘‘ ایک نظم موجب بنی بوجہ نام ‘ پیش خدمت ہے۔
حجاب نگری آباد نگری
خواب نگری یہ شاد نگری
قربتوں کی شادب وادی
سحاب نگری آزاد نگری
سوچ کے در کھولتی ہے
آداب نگری روداد نگری
بانٹتی ہے خزینے علمی
رباب نگری جواد نگری
سنائے قصے پارینہ ہم کو
سیماب نگری سجاد نگری
سیم و زر سی بنے قسمت
چناب نگری فولاد نگری
سدا ہی مہکے یہ بن کر
گلاب نگری سواد نگری
’’مظلوم مسلمان‘‘ ماہم انصاری‘ اللہ ہمارے جذبے اور دعائیں قبول کرلے ہم متحد ہوجائیں ورنہ…
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
جیسا میں نے دیکھا‘ ہم پروین کی ساری شاعری اس صفحے پر پڑھنا چاہتے ہیں۔ بزم سخن…
السلام اے کربلا کے تاجدار
السلام اے کربلا کے شاہسوار
السلام اے داعئی حق کے سپوت
السلام اے جان بازو جانثار
کچن کارنر‘ مونگ کا حلوہ بازاری بہت کھلایا خالد نے۔ اب بیٹی نے سنا تو بولی بنا کر دو ماں‘ تو پھر ان شاء اللہ بنے ہی بنے۔ مگر کھا تو ہم نے ہی جانا ہے‘ وہ تو ذرا ذرا کھاتے ہیں ہم منہ بھر بھر کے۔ آرائش حسن جی گلیسرین گلاب عرق لیموں منگالیا ہے۔ عالم میں انتخاب‘ جینا کوئل اول‘ ریحانہ دوم‘ نوح ناروی سوم رہے۔ اشرف مغل بیسٹ ترین کیونکہ انہوں نے ہمیں ’’حمد‘‘ دے دی آپ بھی سنیں۔
رہنا ہے مجھ کو سدا رب سے محو گفتگو
بے مثال و منفردلب سے محو گفتگو
آنکھ اٹھتی ہے جدھر کو تو ہی تو جلوہ نما
ہوگئے پھر ہم بھی تاب و تب سے محو گفتگو
حمد کہنی ہے تیری تو تجھ سے ہی مانگیں حرف
آج پھر ہونے لگے نئے ڈھب سے محو گفتگو
یا خدا تیرہ شبی کی وارداتیں ختم ہوں
تُو اگر جو ہوجائے سب سے محو گفتگو
ازل سے پہلے بھی تو اور بعد ابد بھی تُو ہی تُو
کون بتلائے گا ہے تُو کب سے محو گفتگو؟
حسن خیال میں پسندیدہ دوستوں کی کمی کھٹکی بہرحال انعام والوں کو مبارک‘ اللہ حافظ۔
صباء ایشل…بھگووال۔ السلام علیکم حجاب کی محفل میں مجھے خوش آمدید(اب کوئی اور نہ کہے تو خود بھی نہ کہیں) سالگرہ ٹائٹل پر دلہن سجی سنوری ہوئی دمکتی ہوئی یہ بتارہی تھی کہ یہ خاص نمبر ہے۔ میری جانب سے بھی حجاب کو دوسری سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ بس تھوڑا سا عرصہ اور پھر حجاب کی عمر اسکول جانے کی ہوجائے گی اور آنچل کی طرح حجاب بھی کامیابی کی ہر منزل عبور کرلے گا۔ ان شاء اللہ اس بار موسم نے ایسا لپیٹ میں لیا کہ مسلسل اسموگ نے پریشان ہی کردیا۔ موسمی بیماریوں سے جہاں روٹین متاثر ہوئی وہیں اسموگ کی وجہ سے آنکھوں اور سر درد نے اس ماہ مطالعے سے دور رہنے پر مجبور کردیا۔ اسی لیے اس ماہ مکمل حجاب تو نہیں پڑھ سکی لیکن جتنا پڑھا ہے اس پر تبصرہ حاضر ہے۔ سب سے پہلے ماورا کا حجاب نگری پڑھا تھا۔(دبے لفظوں میں ماورا نے مجھے بتا جو دیا تھا کہ آپ کی بہت تعریف کی ہے۔) اللہ اللہ ! میری گناہ گار آنکھیں یہ کیا دیکھ رہی ہیں۔۔۔ صبا ایشل اور ظالم عورت وہ بھی چالیس سالہ! (زیادہ ہی نہیں کردی ماورا کی بچی) ویسے آپس کی بات ہے اکثر لوگ سوشل میڈیا پر میرا سخت انداز دیکھ کر مجھے اتنا ہی بڑا سمجھتے ہیں۔ حیرانی اور دکھ سے میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں ہیں۔ اللہ ایسی دوست کسی دشمن کو بھی نہ دے۔ تفنن برطرف بہت خوبصورت شگفتہ انداز میں لکھا ہوا آرٹیکل تھا جو مجھے بہت پسند آیا۔ ماورا میں تو کہوں گی مزاح لکھنے کی کوشش کرو۔ محبت میری آخری شرارت ہے میں ماہ گل کی گھتی سلجھ گئی ہے۔صائمہ بہت اچھا لکھ رہی ہے بلکہ اچھا ہی لکھتی ہیں۔ صائمہ ماہ گل اور گل میر دونوں نام بہت خوبصورت ہیں۔ دیکھتے ہیں اگلی قسط میں آپ ہمیں کہاں تک لے جاتی ہیں۔ اس ناول کے لیے ڈھیروں نیک تمنائیں۔ ندا حسنین کی عنقاء پسند آئی۔ نام سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کہانی کچھ خاص ہوگی۔ عنقاء پڑھ کر عنقاء کو بھی جانا۔ عورت تو واقعی ایک پہیلی ہے جو کبھی سلجھائی نہیں جاسکتی۔ اور اسے سلجھانے کے تجسس میں مبتلا مرد اسے پرت در پرت کھولنا چاہتے ہیں۔ بہت اچھا افسانہ لکھا نادیہ۔ بہت سی داد۔ سلسلے وار ناولز تمام ہی بہت اچھے جارہے ہیں۔ یاسمین نشاط کی بھابھی بیگم جاندار کہانی تھی۔ نام پڑھ کر میرے ذہن میں بھابھی بیگم کا کوئی اور عکس اترا تھا لیکن جب پڑھی تو کہانی برعکس تھی۔ کہانی کا پلاٹ بہت اچھا تھا۔ کاش لوگ اسے سمجھ بھی سکیں۔ ایسی ہزاروں بھابھی بیگم ہمارے آس پاس ہی تو ہیں۔ فائزہ افتخار کا لکھا ہوا مجھے ہمیشہ پسند آتا ہے۔اس بار بھی کوئی اپنا ہو بہت اچھی لگی۔ اور یہ بات تو واقعی سچ ہے خواتین صرف میکے کو ہی اپنا سمجھتی ہیں۔باقی کہانیاں ابھی پڑھ نہیں سکی۔ ان شاء اللہ اگلی بار پھر ملاقات ہوگی۔ حجاب کے لیے ڈھیروں دعائیں۔
میں لوٹنے کے ارادے سے جارہا ہوں
مگر سفر سفر ہے میرا انتظار نہ کرنا
٭ اب اس دعا کے ساتھ آئندہ ماہ تک کے لیے اجازت کہ اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سب کو صحت و عاقبت سے بھرپور زندگی عطا فرمائے اور سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
قابل اشاعت:۔ رہائی، آوے کا آوا، میرا درد، نغمہ بے صدا، اک لمحہ
ناقابل اشاعت:۔ پہلی بوند ایک خوشی، محبت میں اور تم، میں جینا چاہتی ہوں۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close