hijaab Dec-17

دل کے دریچے

صدف آصف

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
سفینہ فائز کو دیکھ کر سنبھل نہیں پاتی ایک طرف روشنی کی محبت اور دوسری طرف اپنا گھر دائو پر لگا دیکھ کر اس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں ایسے میں فائز اسے سہارا دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن سفینہ اسے سختی سے وہیں روک دیتی ہے فائز اس کے محتاط انداز پر وہیں ٹھہر جاتا ہے جب ہی وہ شاہ کے واپس آتے ہی اسے ریزائن دینے کا کہتی ہے فائز اس کی بات پر حامی تو بھر لیتا ہے لیکن دوسری طرف اچانک ہی روشنی کا خیال اسے بے چین کردیتا ہے۔ روشنی دروازے کے باہر کھڑی دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لیتی ہے اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر سفینہ فائز کو یہ جاب چھوڑنے اور یہاں سے دور جانے کا کیوں کہہ رہی ہے دونوں کے درمیان استحقاق کا کون سا رشتہ قائم ہے یہ سب اسے الجھا دیت اہے اپنی ذات کو سمیٹتے وہ بمشکل باہر آتی ہے اور پیدل چلتے دور نکل جاتی ہے۔ دوسری طرف فائز کے والد کی طبیعت اچانک بگڑنے پر ان کی رحلت ہوجاتی ہے ایسے میں بہزاد اور ریحانہ فوراً وہاں پہنچ کر فائز کو ہمت دیتے ہیں۔ روشنی بھی آفس والوں کے ساتھ فائز کے گھر افسوس کے لیے آتی ہے لیکن وہاں اپنی بھابی کو بے ہوش دیکھ کر شاکڈ رہ جاتی ہے دوسری طرف فائز اس کی حالت پر بے حد متفکر نظر آتا ہے یہ سب دیکھ کر روشنی چپ چاپ وہاں سے لوٹ آتی ہے۔ آفاق شاہ اپنے کاموں میں الجھ کر واپس نہیں آپاتا ایسے میں سفینہ انہیںجلد واپس آنے کا کہتی ہے دوسری طرف روشنی اور سفینہ کے درمیان بد گمانیاں اور تلخ کلامیاں بڑھتی جاتی ہیں ایسے میں عائشہ بیگم اہم کردار ادا کرتی ہیں اور دونوں کے درمیان مزید اختلافات پیدا کردیتی ہیں۔ شرمیلا آنے والے وقت کو لے کر بے حد مضطرب ہوتی ہے اپنا بچہ کسی اور کو دینا اسے بے حد مشکل لگتا ہے جب ہی وہ مہرین کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اسے یہیں رہنے دے بے شک وہ کبھی اپنے بچے پر اصلیت ظاہر نہ کرے گی لیکن مہرین معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوتی ایسے میں آزر اسے اپنے ساتھ کا یقین دلاتا ہے اور کبھی نہ چھوڑنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن مہرین خود پر پسٹل رکھ کر شرمیلا کو طلاق دینے کا کہتی ہے۔ سفینہ روشنی کے تلخ رویے کی وجہ جاننا چاہتی ہے جس پر روشنی فائز اور اس کے تعلقات کو نشانہ بناتے اس کے کردار کو مشکوک قرار دیتی ہے اور جلد بھائی کے واپس آنے پر اسے اس گھر سے نکالنے کی دھمکی دیتی ہے جس پر سفینہ شاکڈ رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
‘…ژ…ڑ
سفینہ نے نم آنکھوں سے کھلی ہوئی کھڑکی کے پار اُفق پر بکھرے رنگوں کو دیکھا مگر آنکھوں میں جمع کھارے پانی کی وجہ سے منظر دھندلا سا گیا تھا۔
’’میرا کیا قصور تھا جو میرے ساتھ ایسا ہوا؟‘‘ اس کے اندر جیسے خزاں کا موسم اتر آیا تھا‘ دل پر گہری اداسی کا راج تھا۔ یہ غم اس پر آہستہ آہستہ اثر کرنے لگا تھا۔
’’ایک بار پھر شکست میرا مقدر کیوں بننے چلی ہے۔‘‘ ایک ہی بات سوچ سوچ کر دل بھر آرہا تھا۔ دو آنسو بڑی خاموشی سے گالوں سے پھسل کر اس کی شرٹ کے گلے میں جذب ہونے لگے تو اس نے آنکھوں کو پونچھا‘ وہ روشنی کے جانے کے بعد کب سے لائونج میں تنہا کھڑی بے آواز آنسو بہانے میں مصروف تھی۔
’’تم نے ہمیشہ مجھے دھوکا دیا؟‘‘ فائز پر غصہ بڑھتا جارہا تھا پہلے اس نے شرمیلا کی وجہ سے اس سے بے وفائی کی‘ اب روشنی کے ساتھ محبت کا ڈرامہ رچا کر اس کی زندگی تباہ کرنے چلا آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے اپنی زندگی سے نکال پھینکتی۔
’’کاش شاہ یہاں ہوتے تو سب کچھ ٹھیک ہوجاتا۔‘‘ شوہر کی یاد نے دل پر حملہ کیا۔
’’اور جو وہ میرا یقین نہ کریں‘ اپنی بہن کی باتوں پر ایمان لے آئے تب کیا ہوگا؟‘‘ ایک انجانا سا ڈر اس کے وجود میں کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔ نند کے بدلتے تیور نے جیسے ہوش و حواس گم کرکے رکھ دیے تھے۔ روشنی کی دھمکیوں کے بعد شاہ کے سامنے پیشی کا سوچ کر جی ہلکان ہونے لگا بڑی زور کا چکر آیا تو اس نے صوفے پر ہاتھ رکھ کر اپنا توازن برقرار رکھا۔ وہ جانتی تھی کے ڈاکٹر نے اس کنڈیشن میں ٹینشن لینے سے منع کیا تھا مگر کچھ باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک امتحان راہ میں ایسے آکھڑے ہوئے کہ وہ بے بس ہوکر رہ گئی۔ روشنی کی زبانی انکشافات نے اسے سراسیمہ کرکے رکھ دیا تھا۔ اسے تو خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب اس نے اسے تایا جان کی میت کے پاس بے ہوش دیکھ لیا تھا اور کب فائز کی سفینہ کے لیے پریشانی روشنی کے لیے باعث اذیت بن گئی۔ وہ منظر دیکھ کر اس نے کئی طرح کی کہانیاں من ہی من میں بنا ڈالی تھی‘ اس سے پوچھا بھی نہیں‘ سچ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی اور ادھوری بات کو مکمل جان کر بدگمان ہوگئی تھی۔ ویسے بھی روشنی آدھا سچ جان پائی تھی‘ ایسا سچ جو پورے جھوٹ سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوسکتا تھا‘ روشنی سے ہونے والے بحث و مباحثہ کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ وہ کس قدر غلط فہمی میں مبتلا تھی اور سفینہ کے خلاف اس کے دل میں کس قدر بدگمانیاں پنپ رہی تھیں۔ اس کے دماغ میں نند کی باتیں گڈمڈ ہونے لگیں وہ ایک بار پھر سر تھام کر بڑبڑانے لگی۔
’’روشنی ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ میں بھلا اپنے شاہ سے دھوکے بازی کروں گی‘ جنہوں نے مجھے زندگی بخشی۔ وہ بھی اس فائز کے لیے جس نے مجھے کسی اور لڑکی کے لیے اپنی زندگی سے نکال دیا تھا… فائز کے ساتھ اب سوائے کزن کے میرا کوئی دوسرا تعلق نہیں بن رہا تھا۔‘‘ اس نے بے اختیار اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
’’پر روشنی کو کیسے یقین دلائوں۔ وہ تو میرا گھر تباہ کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔‘‘ سفینہ کے دل کو دھڑکا ہوا کہ کہیں بدگمانی کی تیز ہوائیں اس کی گھر گرہستی کو بکھیر کے نہ رکھ دے۔
’’میں نے تو فائز کی محبت کو دل کے ایوانوں سے اسی دن نکال باہر کیا تھا جس دن نکاح نامے پر دستخط کرکے شاہ کا ہاتھ تھاما تھا۔‘‘ وہ ایک دم آنسو پونچھتے ہوئے زیرلب بولی۔
’’اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔‘‘ عائشہ بیگم جو روشنی کا تیز لہجہ سن کر کن سوئیاں لینے اس طرف آئی تھی‘ سفینہ کی اڑی ہوئی رنگت اور نم آنکھوں کو دیکھ کر ان کے من میں لڈو پھوٹ پڑے۔
’’بہو بیگم خیر تو ہے؟‘‘ وہ جان بوجھ کر ہمدردی کا نقاب اوڑھے اس کے قریب چلی آئیں۔
’’اوں؟‘‘ سفینہ نے خیالات کی یلغار سے پیچھا چھڑایا اور انہیں چونک کر دیکھا‘ چہرے پر چھائی مکاری اور لبوں پر مسکراہٹ دل جلا گئی۔
’’کہاں کھوئی ہوئی ہو‘ کوئی مشکل آن پڑی ہے کیا؟‘‘ عاؔئشہ بیگم جوش سے تمتماتے چہرے کے ساتھ سراپا سوال بنی کھڑی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے غائب دماغی سے پوچھا۔
’’ہائے… ایسا کیا ہوگیا‘ جو روشنی کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا کمرہ بند کرے پڑی ہے؟‘‘ چٹخارے لیتا انداز اسے بھسم کرگیا تھا۔
’’آپ کو کس نے اجازت دی کے ہمارے ذاتی معاملے میں دخل اندازی کریں ہاں؟‘‘ وہ عالم طیش میں چلائی تو عائشہ بیگم کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
’’وہ… میں تو؟‘‘ اس کے گھورنے پر عائشہ کے منہ سے صفائی کے لفظ بھی ادا نہیں ہو پارہے تھے۔
’’چھوڑیں ان باتوں کو اور جاکر میرے لیے فریش اورنج جوس بنا کر لائیں؟‘‘ عائشہ بیگم کو ان کی اوقات یاد دلانا ضروری ہوگئی تھی‘ اس نے انگلی سے کچن کی طرف اشارہ کیا۔
’’ابھی لاتی ہوں جی؟‘‘ وہ ایک دم گھبرا کر کچن کی جانب چل دیں۔
’’پہلے دن سے ان کے ساتھ اتنی سختی دکھاتی تو یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتا۔‘‘ سفینہ نے دانت کچکچا کر خود کو سرزنش کی۔
’’فائز کو میری زندگی سے جانا ہوگا میں اسے اپنی زندگی تباہ کرنے نہیں دوں گی۔‘‘ سفینہ نے آنسو پونچھتے ہوئے عزم سے سوچا۔
‘…ژ…ڑ
شکیل سے ملنے کی تڑپ نے انہیں کئی سالوں سے بے حال رکھا‘ وہ اس کے آنے کا انتظار انگلیوں پر دن گن رہی تھیں مگر شکیل نے آتے ہی وہ کچھ کیا کہ ان کے سارے ارمان خاک میں مل گئے۔ اس کی بیوی کے لیے جی حضوری نے ان کی نیند‘ بھوک‘ پیاس اڑا کر دکھ دی تھی۔ ایک اور ستم اس وقت ہوا جب شکیل نے شام کی چائے کے دوران سب کے سامنے مکان بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ایک دھماکا ہوا جس میں دلشاد بانو کے دل کے پرخچے اڑ گئے۔ غصے کی ایک لہر وجود میں جاگی اور بیٹے کو بری طرح ذلیل کرنے کا ارادہ کیا مگر پھر اپنے مزاج کے برعکس انہیں ضبط سے کام لینا پڑا۔ اب حالات پہلے جیسے بھی تو نہیں رہے تھے۔ شکیل میں ایسا بدلائو آیا تھا کہ اس کے سامنے منہ کھولتے ہوئے بھی انہیں خوف محسوس ہوتا کہ کب وہ ماں کو ذلیل کرکے نہ رکھ دے۔ شکیل اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا سر جھکا کر ان کی جائز ناجائز سن لیتا‘ وہ تو اب ہر بات میں مین میخ نکالتا‘ ہر بات پر خوب بحث مباحثہ کرتا۔ اس کے وجود میں شاید باہر کی کمائی کا پارہ اعتماد بن کر دوڑ رہا تھا۔ وہ جب سے آیا تھا ماں بیٹی کو حیران کرنے پر تلا ہوا تھا۔ دلشاد سے تو پھر لحاظ سے بات کرلیتا مگر سائرہ کو تو وہ ذرا سی رعایت دینے کو تیار نہ ہوتا۔ نرما کے منہ سے کوئی بات نکلتی نہیں اور وہ پورا کرنے کے لیے پاگل ہو اٹھتا۔ دلشاد کو کبھی کبھی شبہ ہوتا کے رانی کے گھول کے پلائے ہوئے تعویزوں کا الٹا اثر ہوگیا ہے۔ وہ دل ہی دل میں حرام خور مٹکی بابا کو گالیاں دیتی رہ جاتیں۔ جس نے بہو بیٹے کو دور کرنے کی جگہ مزید قریب کردیا تھا۔ اس وقت بھی انہیں یہ ہی خیال آیا اور وہ بے چینی سے پورے کمرے میں گول گول چکر لگاتے ہوئے بولنے لگیں۔
’’میرے اتنے پیسے… ہڑپ کر گیا۔ اللہ کرے پولیس والے خوب پھینٹی لگائیں اس خبیث اور اس کی چیلی رانی کی۔ بے غیرت‘ جھوٹا۔ دھوکے باز۔ اتنے پیسے لُوٹ لیے اُس منحوس مٹکی بابا نے اور ایک ٹکے کا کام نہیں کیا؟‘‘ ان کا تائو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
’’کہیں… اس کے کالے جادو نے ہی تو میرے سارے کام الٹے کرکے نہیں رکھ دیے؟‘‘ ایک اور سوچ در آئی۔
’’کمینے نے مجھے بھی دھوکا دیا اور میری بیٹی کو بھی لوٹا؟‘‘ بولتے ہوئے دل بھر آیا۔
’’اگر میرے بس میں ہوا تو اسے جاکر سیدھا پھانسی لگوا دوں؟‘‘ دلشاد بانو نے جی بھر کر اس جعلی پیر اور اپنی ملازمہ کو کوسا۔ اپنے دکھڑوں کے دوران وہ یہ بات سرے سے بھول ہی گئیں کہ کسی مٹکی بابا کی کیا مجال جو کام اچھے یا برے کرسکے‘ یہ تو انسان کے اپنے اعمال ہوتے ہیں‘ جن کا صلہ وہ بھگتا ہے۔ اچھائی کی صورت میں بھی اور برائی کی شکل میں بھی مگر ناسمجھ انسان اپنے گناہوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال کر یہ سمجھتا ہے کہ فلاں کام اس کی وجہ سے بگڑا یا اس کی وجہ سے سیدھا ہوا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ساری پلاننگ اللہ کی ہوتی ہے‘ انسان تو تقدیر کے ہاتھوں بے بس ہوجاتا ہے مگر نیک راہ پر چلنے والوں کو فلاح حاصل ہوتی ہے۔
‘…ژ…ڑ
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے آزر کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا‘ وہ جلد از جلد اپنے بچے کو سینے سے لگانے کے لیے بے قرار تھا۔ اس کی بے تابیوں پر مہرین ایک اَن دیکھی آگ میں جلنے لگی‘ آزر کا اسے نظر انداز کرنا‘ شرمیلا کو اس پر فوقیت دینا‘ اس کے لیے باعث اذیت تھا۔ پہلے تو اسے صرف شرمیلا سے بیر تھا‘ اب وہ ننھا سا وجود بھی دل میں کانٹے کی طرح چبھنے لگا تھا‘ جس نے ابھی دنیا میں آکر آنکھ بھی نہیں کھولی تھی۔ وہ اس سے جلنے لگی‘ اس کا وجود زہر سے بھی بدتر لگنے لگا۔ شرمیلا کی طرف نگاہ بھر کر دیکھنا بھی مہرین کے لیے محال ہوگیا تھا اس نے بڑی کوشش کی کہ شرمیلا کو اپنی ہنستی بستی دنیا سے نکال کر بہت دور پھینک دے مگر باوجود کوشش کے وہ کچھ نہ کرسکی۔ آزر مکمل طور پر اس کی ڈھال بنا ہوا تھا۔ وہ اس کے معاملے میں مہرین کی ایک بھی سننے کو تیار نہ تھا۔ اس نے آزر کے دل میں اس غلط فہمی کا بیج بونے کی بھی کوشش کی کہ شرمیلا اور اس کی فیملی جونک کی طرح ان کی دولت کے لالچ میں چپکے ہوئے ہیں مگر آزر نے یہ بات بھی ہنس کر ٹال دی اور اسے سمجھایا کے شرمیلا کی ماں ایک شریف اور نیک عورت ہیں‘ جنہیں داماد کی دولت سے کوئی سروکار نہیں‘ اگر مجبوری نہ ہوتی تو شاید وہ ان کے دیے ہوئے گھر کو چھوڑ کر کب کی کہیں اور شفٹ ہوجاتیں۔ وہ جب بھی شرمیلا کی کوئی کمزوری آزر کے سامنے لانے کی کوشش کرتی وہ الٹا اسے ہی جھٹلا دیتے۔ شوہر کی حمایت پر ان لوگوں کے لیے مہرین کا غصہ بڑھتا جارہا تھا۔
آزر مہرین کی بہت ساری غلط باتوں کو نظر انداز کر جاتے مگر انہیں اس بات کا اچھی طرح سے ادراک تھا کہ تعیشات سے بھرا پرا یہ وسیع و عریض گھر کبھی کبھی شرمیلا کے لیے ایک ایسی تاریک پناہ گاہ ہے‘ جہاں تازہ ہوا کے لیے کوئی روزن دکھائی نہیں دیتا‘ اسے گھٹن سی ہوتی‘ سانس لینا مشکل ہوجاتا۔ اسی لیے وہ اکثر اسے بتول سے ملوانے کے لیے لے جاتے تھے‘ جہاں ساس کا رکھ رکھائو اور سالیوں کا سادگی بھرا بے غرض سا انداز انہیں بڑا متاثر کرتا۔ مہرین کے بیان کے برعکس وہ لوگ اسے کبھی بھی مکار لالچی‘ عیار اور دولت کے بھوکے نظر نہ آئے۔ مہرین کا جب آزر پر بس نہ چلا تو اس نے ایک بار پھر سے شرمیلا کا پیچھا لے لیا اور اسے باور کرانے پر تل گئی کہ اس کا اور آزر کا رشتہ کچے دھا گے سے بندھا ہوا ہے‘ جو کسی بھی وقت جھٹکے سے ٹوٹ جائے گا۔ وہ اس شادی کو بزنس ڈیل کا نام دیتی تھی مگر سچائی اس کے برعکس تھی‘ شرمیلا نے مجبوری کے تحت بھلے ہی یہ سودا کیا تھا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ہونے والے بچے اور شوہر کی محبت اس پر حاوی ہوتی جارہی تھی اور ان سے دور جانا اس کے لیے سوہان روح تھا ویسے بھی پچھلے دنوں مہرین نے جس طرح کنپٹی پر بندوق رکھ کر خود کشی کا ڈرامہ رچایا اور اسے طلاق دلوانے کی کوشش کی تھی‘ اس وجہ سے شرمیلا بہت خوف زدہ رہنے لگی تھی‘ وہ تو شکر ہے آزر پہلی بیوی کے دبائو میں نہیں آئے اور الٹا مہرین کو طلاق دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ ایک چانٹا رسید کرکے اس سے پستول چھین لیا ورنہ جانے کیا ہوجاتا۔ طلاق کی دھمکی پر مہرین کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ آزر سے لپٹ کر روتے ہوئے معافی طلب کرنے لگی تھی۔ شرمیلا کے آرام کا ہر طرح سے خیال رکھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر کے وزٹ باقاعدگی سے ہوتے۔ اسے مادی لحاظ سے کافی کچھ ملا تھا لیکن اس کا دل خالی ہو چکا تھا۔ اب اس معاملے میں ناکامی کے بعد سوکن شرمیلا کے لیے بھوکی شیرنی بنی ہوئی تھی۔ طعنے بازی سے ہر وقت شرمیلا کا جینا حرام کیے رکھتی۔ جس کی وجہ سے اس کی طبیعت مزید خراب رہنے لگی‘ وزن بھی کم ہوگیا اور ایک دن وہ گر کر بے ہوش ہوگئی۔ آزر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے مہرین کو بہت بری بھلی سنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہونے والے بچے کے خیال سے شرمیلا سے دور رہنے کا مشورہ دیا‘ جس کو اس نے اپنی بے عزتی تصور کیا اور اس کے دل میں بدلے کی ایک آگ جل اٹھی۔ دماغ نئی منصوبہ بندی میں جت گیا تھا۔
‘…ژ…ڑ
رومیو کی سراب جیسی محبت میں گرفتار روشنی خوابوں کے دوش پر سوار‘ بغیر کچھ سوچے سمجھے اتنے کم عرصے میں کتنا آگے بڑھ آئی تھی اور جب اس سراب کے نزدیک پہنچی تو پتا چلا کہ وہ محض اس کا فریبِ نظر نکلا‘ وہ تو اس کی بھابی کی محبت میں گرفتار تھا‘ یہ بات اس کے دل کو زخمی کررہی تھی۔ اس نے سفینہ سے بات چیت بند کردی تھی اور آفاق کی واپسی کی منتظر تھی۔
’’روشنی؟‘‘ وہ جو روم میں اندھیرا کیے اپنی ناتمام خواہشات کا ماتم منا رہی تھی‘ دروازہ کھلنے پر بند آنکھوں کی جھری سے اس نے روشنی کی لکیر کے ساتھ سفینہ کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا۔ بھابی کے چہرے پہ پھیلے تاثرات سچائی کی دلیل تھے‘ لمحہ بھر کو دل سفینہ کی باتوں پر ایمان لانے کو چاہا مگر پھر کانوں میں سرگوشیاں گونج اٹھیں‘ بے ہوش سفینہ پر جھکا فائز اور اس کا پریشان چہرہ نگاہوں میں کیا گھوما اندر کی نفرت اچھل کر باہر آگئی اس کے گرد بڑی تیزی سے بدگمانی کا جالا پھیلتا چلا گیا۔
’’سنو تم نے باتوں کو مس انڈر اسٹینڈ کیا ہے‘ سچائی وہ نہیں جو تم فرض کیے بیٹھی ہو۔‘‘ وہ بے قراری سے بولتی ہوئی اس کے روم میں داخل ہوئی مگر روشنی کی طرف سے جواب ندار تھا۔
’’روشنی پلیز… میری بات تو سنو؟‘‘ سفینہ قریب ہوئی‘ جھک کر اسے دیکھا اور التجائیہ انداز میں پوچھا۔
’’بھابی آپ نے ہمیں بہت بے قوف بنالیا مگر اب مزید نہیں۔‘‘ روشنی سیدھی ہوکر بیٹھی اور گہری سانس لے کر نفرت زدہ لہجہ میں جواب دیا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ ایک دم ہک دک سی رہ گئی۔
’’مجھے تو وہ سب سوچ کے بھی شرم آتی ہے آپ اور رومیو…‘‘ اس نے سفینہ پر نگاہیں گاڑتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’تم غلط سوچ رہی ہو؟‘‘ وہ ہکلائی۔
’’تو کیا یہ جھوٹ ہے کہ شادی سے پہلے آپ کا رومیو سے کوئی تعلق تھا؟‘‘ اس نے دانت کچکچاتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
’’دیکھو وہ میرا تایا زاد ہے۔ یہ سب ماضی کی باتیں ہیں مگر اب ایسا کچھ نہیں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر صفائی دینا چاہی۔
’’ایک منٹ بھابی اگر وہ آپ کے کزن تھے تو آپ نے مجھ سے بھائی سے یہ بات کیوں چھپائی‘ کچھ تو گڑبڑ ہوگی ناں یا آپ کے دل کا چور ایسا کرنے پر مجبور کررہا تھا؟‘‘ اس کے لہجہ میں تشکیک کے سائے لرزے۔
’’وہ ہمارا آپس میں ملنا جلنا نہیں تھا؟‘‘ سفینہ نے انگلیاں مسلتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
’’ابھی یہ بحث بے کار ہے۔ اس لیے اس بات کو یہیں ختم سمجھیں۔‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر بے لچک انداز میں بات کاٹی۔
’’روشنی… ٹرسٹ می…‘‘ اس نے بڑی امید سے کہنا چاہا مگر وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔
’’بات ابھی ختم ہوئی ہے مگر بھائی کے آتے ہی دوبارہ شروع ہوجائے گی اور پھر یہ ان پر ڈیپنڈ کرے گا کہ وہ آپ پر ٹرسٹ کرتے ہیں یا اس گھر سے آئوٹ کرتے ہیں۔‘‘ روشنی کا لہجہ اچانک اتنا سفاک ہوا کے سفینہ کی گلابی مائل رنگت میں زردیاں سی کھل گئیں۔
’’روشنی… ایک ریکویسٹ ہے تم چاہے مجھے کتنا ہی برا بھلا کہہ لو مگر شاہ سے کچھ نہ کہنا؟‘‘ پپڑی زدہ لبوں سے سرسراتی آواز نکلی۔
’’کیوں اپنے بھائی کو ساری عمر بے وقوف بنتا دیکھوں‘ انہیں بھی تو پتا چلنا چاہیے کہ ان کی نیک پروین جیسی بیوی پیچھے سے کون سا کھیل کھیل رہی ہے؟‘‘ وہ چبا چبا کر بولتی رہی۔
’’شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ… میرے کردار پر ایک بار اور انگلی اٹھائی تو میں بھول جائوں گی تمہارا اور میرا رشتہ کیا ہے؟‘‘ سفینہ ایک دم جلال میں آکر چیخی تو روشنی کو چپ ہونا پڑا۔ دونوں کے درمیاں ایک ناگوار سی خاموشی چھا گئی تھی۔
’’روشنی صرف ایک بار ٹھنڈے دل سے میری باتوں پر غور کرو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ میں غلط نہیں ہوں؟‘‘ سفینہ نے نرم لہجہ اپناتے ہوئے اپنا موقف بتانا چاہا۔
’’آپ جائیں یہاں سے… مجھے کچھ نہیں سننا۔‘‘ اس نے منہ پھیر کر بھابی کو انگلی سے دروازہ دکھایا۔
’’ٹھیک ہے اب وقت ہی تمہیں میری بے گناہی کا ثبوت دے گا۔‘‘ دوسری جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر سفینہ مایوس ہوکر بولی۔ وہ ہارے ہوئے انداز میں الٹے پیروں باہر کی جانب چل دی۔ روشنی کے کمرے کی دہلیز پار کرنے سے پہلے اس نے ایک بار مڑ کر اسے دیکھا مگر روشنی ساکت بیٹھی سر اٹھائے ایک ہی سمت میں گھور رہی تھی۔ اسے رومیو کو کھونے کا ڈر مارے دے رہا تھا جبکہ سفینہ کے اندر شاہ سے الگ ہونے کا خوف سرایت کرتا جارہا تھا۔
خان ہائوس چھوڑنے کے بعد سے سفینہ آفاق کے ساتھ کیسی مطمئن زندگی گزار رہی تھی۔ شاہ ہائوس اسے ایک سر سبزو شاداب سایہ دار درخت جیسا لگتا تھا مگر فائز کی آمد نے اس کے وجود پر ایک دم خزاں کا سایا کیا تو یوں لگا خشک پتوں تلے دب کر اس کا سانس گھٹنے لگا ہو۔
‘…ژ…ڑ
’’کیا شکیل کے ابا کا ارمانوں سے بنوایا ہوا یہ گھر مجھ سے چھن جائے گا؟‘‘ دلشاد بیگم نے چاروں طرف نگاہیں گھمائیں اور آزردہ ہوگئیں۔ اچانک انہیں احساس ہوا جب وہ خان ہائوس کو تنکا تنکا بکھیرنے پر اڑ گئی تھیں تو ابرار خان اور ان کے خاندان پر کیا بیتی ہوگی۔ مکافات عمل نے شاید ان کے گھر کا راستہ دیکھ لیا تھا۔
’’نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی‘ چاہے مجھے شکیل کو جائیداد سے عاق ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے؟‘‘ دماغ میں پلتے خدشوں کو ہٹ دھرمی سے انگوٹھا دکھانا چاہا مگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ چلتی ہوئی اس کمرے میں آئیں جہاں شکیل ٹھہرا ہوا تھا۔ دھیرے سے نئے روم فریج کا ڈور کھولا‘ جو شکیل نے چند دن پہلے ہی خریدا تھا کیوں کہ نرما کو پرانے فریج میں سے بساند اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ وہ اس میں رکھا ہوا پانی تک پینے کی روادار نہیں تھی۔ اس نے شوہر سے فرمائش کرکے اپنے کمرے میں چھوٹا سا فریج منگوا لیا۔ دلشاد اور سائرہ اس کے نخروں پر کلستی رہتی تھیں۔
’’میرے بیٹے کی کمائی کیسے اڑا رہی ہے‘ کمبخت ماری؟‘‘ انہوں نے بڑبڑا کر ٹھنڈی بوتل سے گلاس بھر کر جوس نکالا اور غٹ غٹ پیتی چلی گئیں مگر پیاس تھی کہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
’’بہو کو کیا کہوں بیٹا بھی تو جورو کا غلام بن گیا ہے۔‘‘ وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی ہوئی اس کمرے سے باہر آئیں کہیں چین نہیں مل رہا تھا۔
’’نرما بیگم کو دیکھو وہ کیسے راجہ کو چھو کر رانی بنی ہوئی ہیں۔‘‘ دلشاد بانو کا بیٹے کی بیوی کے لیے دلداریاں دیکھ کر کلیجہ کلس اٹھا۔
وہ شکیل سے بہت بری طرح سے خفا تھیں‘ سائرہ جب بھی ان کی شہہ پر نرما کو شاہ خرچیوں یا کسی اور معاملے پر ٹوکنے کی کوشش کرتی۔ شکیل فٹ سے سینہ ٹھونک کر بیوی کی ڈھال بن کر بیچ میں آکھڑا ہوتا۔ یوں لگتا جیسے نرما کے معاملے میں اس پر کوئی جنون سوار ہے۔ دلشاد کے مامتا بھرے جذبات اس کے جنون کی نذر ہوگئے۔ آج تو ویسے بھی ان کا دماغ بہت خراب تھا‘ جب نرما نے شاپنگ پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور شکیل نے چوں و چراں کیے بغیر اس کے پرس کو ڈھیر سارے پیسوں سے بھر دیا تھا۔ اس نے بڑی فاتحانہ نگاہوں سے ساس کو دیکھا اور اپنی سہیلی کے ساتھ بناء انہیں بتائے نکل گئی۔ اس وقت سے بیٹے کے لتے لینے کی خواہش دل میں آگ کی طرح بھڑک رہی تھی۔ اس وقت بھی وہ ہی منظر نگاہوں میں گھوما اور مٹھیاں بھنچ گئیں۔ ان کا غصہ بتدریج بڑھنے لگا یخ ٹھنڈی جوس بھی اُن کے اندر بھڑکتی آگ کو بجھا نہیں پارہا تھا۔ ایک نئی وحشت نے اُنہیں گھیرلیا تھا۔ وہ بے کلی کے گہرے احساس تلے دب کر بیٹی کے کمرے میں پہنچ گئیں اور جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے بیٹے کو ہمنوا بنانے کے تدبیر سوچنے لگیں۔ دلشاد نے بہو کے جانے کی اطلاع دی اور وہ سائر صلح مشورہ کرنے بیٹھ گئیں۔
’’ایسا کر نرما کی غیر موجودگی میں گھر کے معاملے پر بھائی سے بات کرلے۔‘‘ دلشاد بانو کو یہ موقع بڑا مناسب لگا۔
’’اچھا اماں مگر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا شکیل کی آنکھوں پر تو خود غرضی کی پٹی بندھ گئی ہے؟‘‘ سائرہ نے مایوس نگاہوں سے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
’’آئے کچھ بھی ہو‘ ہے تو تیرا بھائی ہی بہن کا کچھ تو درد اس کے دل میں بھی ہوگا بس تو اس کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرلے باقی میں سنبھال لوں گی۔‘‘ ان کے سمجھانے پر آس کا جھلملاتا دامن تھام کر سائرہ بیگم اپنے چھوٹے بھائی سے بات کرنے کو تیار ہوگئیں۔
‘…ژ…ڑ
’’باپ کو مرے دو دن نہیں گزرے اور ماموں اسے گھر سے بے دخل کرنے پر تل گئے۔‘‘ فائز کا دماغ ٹھکانے پر نہیں تھا‘ حواس منجمد سے ہونے لگے۔ ادھر سفینہ سے نوکری چھوڑنے کا وعدہ بھی کرچکا تھا‘ اب ماں اور نانی کو لے کر کہاں جاتا‘ اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایسا لگنے لگا جیسے اندھیرے اسے نگلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ باپ کے مرنے کے بعد آنسو اس کی آنکھوں سے خشک ہوچکے تھے مگر دل کے زخم ابھی تک ہرے تھے۔ سوچوں سے چھٹکارا پانے کے لیے اس نے اپنا خالی وجود بامشکل اٹھایا‘ شکستہ حوصلے جمع کیے اور پارکنگ میں جاکر گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اس میں آبیٹھا گھر جانے کو بالکل من نہیں تھا۔ مرر میں اپنی شکل دیکھی سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں‘ ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو اس کے اندرونی خلفشار کو ظاہر کررہی تھی۔
باپ کی جدائی‘ سفینہ کی لاتعلقی اور ماموں کی خود غرضی نے فائز کے اندر کی بے چینی اور گھٹن کو حد سے بڑھا دیا تو وہ گاڑی لے کر سڑک پر دوڑانے لگا‘ ایک انجانی طاقت اسے مخصوص راستوں پر دھکیلتی چلی گئی‘ اس کے پیروں نے جب گاڑی کے بریک پر پورا دبائو ڈالا تو وہ خان ہائوس کے نزدیک واقع پارک کے آگے کھڑی تھی۔ وہ عادتاً جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر چلتا ہوا اندر آیا اور پارک کے تنہا گوشے میں جا بیٹھا۔ اس جگہ سے اس کی زندگی کی بہت سی اچھی بری یادیں وابستہ تھیں۔ گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دور افق پر غروب ہوتے ہوئے سرخی مائل آفتاب کو تکتے اس کا ذہن کہیں دور بہت دور جا پہنچا۔
وہ ایک ایک منظر میں کھونے لگا جب وہ سفینہ کے ساتھ تھا‘ زندگی کتنی حسین تھی‘ وہ دونوں مسکراہٹ بن گئے تھے‘ جو ایک دوسرے کے لبوں سے پھوٹتے ہوئے خوشی کا احساس دلاتے۔ وہ لمحات اگرچہ سچائی پر مبنی تھے مگر اب ان پر خواب و خیال کا گماں ہوتا تھا۔ کاش کہ یہ خواب و خیال کی باتیں پھر سے حقیقت کا روپ دھار سکتی۔ سب کچھ پہلے جیسا ہوجاتا مگر افسوس گیا وقت کبھی لوٹ کر آیا ہے جو اب آتا۔
’’سفینہ کا بھی ساتھ چھوٹ گیا… میرے پاس تو کچھ بچا بھی نہیں۔‘‘ اسے اپنے بے مایہ آنسو جو آنکھوں سے نکل کر اپنا نام و نشان کھوچکے تھے‘ کی تکلیف محسوس ہوئی۔ وہ کتنی سفاکی سے اسے دور جانے کا حکم دے بیٹھی ہے۔ اس نے درد کی انتہائوں پر جاکر سوچا۔
’’فائز جلال… بھلا تمہاری حیثیت ہی کیا ہے جو وہ تمہارے لیے نرم دلی اختیار کرتی‘ جب کے تم نے اسے ٹھکرانے کا‘ شرمیلا کی محبت کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تھا؟‘‘ اسے خود پر ہنسی آئی‘ زندگی نے ہمیشہ اسے ایک سراب الفت میں مبتلا رکھا۔
فائز کے دل نے ہمیشہ پیار بانٹا پھر بھی بدلے میں اسے درد کے سوا کیوں کچھ نہیں ملا‘ قسمت کے اس عجیب و غریب سودے کو سمجھنے سے اس کا دماغ قاصر تھا۔
’’دادا ابا کاش آپ اتنی جلدی نہیں جاتے تو ہمارا گھونسلہ یوں تنکا تنکا ہوکر نہیں بکھرتا۔‘‘ فائز نے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر بے ساختہ ابرار خان کو پکارا اور خوابیدہ ذہن اور بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ بنچ پر سر ٹکا کر لیٹ گیا اور غنودگی چھا گئی۔ نیند میں دکھ کے گہرے سمندر میں اترتے ہوئے اسے خوف نے آگھیرا‘ وہ بچوں کی طرح ہاتھوں میں منہ چھپائے بیٹھا تھا کے اچانک ایک جانی پہچانی سی خوشبو اس کے اطراف میں پھیلی تھی۔ اس نے انگلیوں کی درزوں سے جھانکا تو ابرار خان کا مسکراتا نورانی چہرہ سامنے آگیا۔ وہ ایک دم شکوہ کناں نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگا۔
’’آپ چلے گئے پاپا نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا میری زندگی تو اندھیرا بن کر رہ گئی؟‘‘ وہ نمناک لہجے میں بولا۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میرے بچے فکر کیوں کرتے ہو تمہاری زندگی اب روشنی بن جائے گی؟‘‘ ابرار خان نے اپنا ضعیف ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا اور فائز کو یوں لگا کے اس کے ارد گرد پھیلے اندھیرے کے بادل چھٹ گئے جیسے وہ بیچ منجھدار سے کنارے پر نکل آیا ہو۔ اس کے ہاتھ چمکنے لگے تب ابرار خان مسکرا کر ہاتھ ہٹایا اور واپسی کے لیے مڑ گئے تو وہ ایک دم بے چین ہو اٹھا۔
’’دادا ابا…‘‘ فائز نے بے اختیار انہیں پکارا مگر وہ رکے نہیں چلتے چلے گئے۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ فائز نے سوچا مگر اب خواب کا منظر بدلنے لگا۔ اسے کسی کی موجودگی کا نیا احساس ہونے لگا۔ آنکھوں کے بند دریچوں کے پیچھے سے لبوں پر مسکراہٹ سجائے سفینہ نے جھانکا‘ فائز نے اسے تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو سفینہ کی جگہ روشنی نے اس کا ہاتھ تھام لیا وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا‘ گھبرا کر اِدھر اُدھر سر گھمایا تو ایک خاص قسم کی خوشبو نتھنوں میں سمائی جو ابرار خان کے پاس سے آتی تھی۔
’’یہ سب کیا تھا؟‘‘ وہ خواب میں دکھائی دینے والے اشاروں کو سمجھنے سے قاصر تھا مگر اتنا ضرور ہوا کے دل میں پھیلی بے سکونی غائب ہوگئی تھی۔ سکون اور طمانیت چھا گئی تھی‘ فائز بہت دیر تک ایک ہی جگہ جما بیٹھا رہا اور اپنے خواب کے بارے میں سوچتا رہا آخرکار جب تاریکی پھیلنا شروع ہوئی تو اس نے بھی گھر لوٹنے کا سوچا اور اٹھ گیا۔ اچانک روشنی کا چہرہ نگاہوں میں آسمایا‘ دماغ نے فوراً ہی سفینہ سے کیا گیا وعدہ یاد دلایا۔ اس نے سر جھٹکا۔ وہ اس وقت کسی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ گاڑی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم اسے احساس دلانے لگا کہ آئندہ زندگی کا سفر اب تنہا ہی طے کرنا تھا پھر بھی جانے کیسا اطمینان پھیلا ہوا تھا‘ جانے کیوں ایک بار پھر روشنی کا خیال دل میں ستارہ بن کر چمکنے لگا۔ وہ اپنے جذبات کی حقیقت سمجھنے سے قاصر تھا۔
‘…ژ…ڑ
شکیل رات کے کھانے کے بعد صحن میں چہل قدمی میں مصروف تھا‘ نرما ابھی تک نہیں لوٹی تھی‘ وہ اپنی دوست کی طرف ڈنر پر انوائیٹڈ تھی‘ اس لیے کال کرکے اسے بتادیا تھا۔ شکیل نے مطمئن ہوکر کھانا کھایا اور پھر صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہونے لگا۔ دلشاد نے جھانک کر صحن میں دیکھا اور بہت سوچ بچار کے بعد بیٹی کو ایک بار پھر بھائی سے بات کرنے پر مجبور کیا۔ سائرہ نے اثبات میں سر ہلایا اور بھائی کے لیے چائے لے کر باہر آگئیں۔ ماں کے کہنے پر بھائی سے بات کرنے کا سوچا تو تھا مگر بہت پر امید نہیں تھیں کیوں کہ پہلے بھی شکیل نے اس کی بات سننے کی جگہ اپنی مجبوریوں کی طویل فہرست بہن کو پکڑا دی تھی۔ دلشاد کا خیال تھا کہ سائرہ کے حالات جان کر شاید‘ بھائی کی غیرت پر ضرب پڑ جائے اور اس کے شعور کی آنکھیں کھل جائیں‘ وہ پورا گھر سائرہ کے نام لکھ کر واپس چلا جائے۔
’’مجھے پتا ہے تمہیں کھانے کے بعد اب بھی چائے پینے کا چسکہ ہے؟‘‘ سائرہ نے چہرے پر خوش اخلاقی کا نقاب چڑھا کر شکیل کی طرف کپ بڑھایا۔
’’او تھینک یو؟‘‘ وہ مسکرا کر بہن کو دیکھنے لگا۔ سائرہ کا حوصلہ بڑھا مگر اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی شکیل نے لب کھولے۔
’’ہاں تو پھر آپ لوگ کب تک یہ گھر خالی کررہے ہیں؟‘‘
’’اب تم سے کیا چھپانا۔ ہمارے لیے یہاں سے جانا ابھی ممکن نہیں۔ تمہارے بہنوئی کی بیماری کے بعد ہمارے حالات بہت خراب ہوگئے تھے اور اب تو سر پہ ان کا سایہ بھی نہیں رہا۔‘‘ سائرہ کا لہجہ گلوگیر ہوا‘ جلال خان کی یاد نے گرفت میں لے لیا‘ بیماری کے چند سالوں کو نکال دیا جائے تو کیسی بھرپور زندگی گزاری تھی ان کے ساتھ۔
’’مجھے اس بات پر بہت افسوس ہے جلال بھائی کی جگہ تو خیر کوئی نہیں لے سکتا پر کسی کے جانے سے زندگی کے کام رکتے نہیں۔‘‘ شکیل نے چائے کا کپ تھامتے ہوئے تسلی دینا ضروری سمجھی۔
’’ہاں مگر اللہ کی رضا کے آگے کسی کا بس چلا ہے کیا؟‘‘ سائرہ نے دوپٹے سے آنسو پونچھے۔
’’آپ پریشان نہ ہوں میں ہوں ناں یہ گھر بیچ کر آپ کو بھی حصہ دوں گا جس سے آپ کے مسائل حل ہوجائیں گے؟‘‘ اس نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے گہری نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔ دلشاد بانو کے کان ادھر ہی لگے ہوئے تھے وہ اس بات پر بری طرح سے تپ گئیں۔
’’یہ گھر بک گیا تو ہم کہاں جائیں گے؟‘‘ وہ ایک دم خفا ہوئیں۔
’’مجھے یہ گھر بیچ کر جلدی واپس جانا ہے اس لیے بہتر یہ ہی ہوگا کے آپ لوگ جلدی اپنا کہیں اور انتظام کرلیں۔‘‘ شکیل کا انداز بڑا دل دکھانے والا تھا۔
’’ایک منٹ شکیل اس گھر پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے‘ جتنا تمہارا مگر لگتا ہے تمہارا خون سفید ہوگیا ہے؟‘‘ وہ چڑ کر ملامتی انداز میں بولیں۔
’’میں نے اس بات سے کب انکار کیا؟ آپ کا پورا حصہ دے تو رہا ہوں؟‘‘ وہ سمجھانے لگا۔
’’ہمیں حصہ نہیں رہنے کے لیے یہ گھر چاہیے؟‘‘ وہ تیز لہجہ میں بولیں۔
’’یہ بات تو اب ناممکن ہے۔‘‘ وہ کپ کو سائیڈ میں پٹختے ہوئے خود بھی بھڑک اٹھا۔
’’ہائے شکیل تو اتنا بے غیرت نکلے گا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا‘ بہنوئی کی موت پر آنا تو بہانہ تھا تو تو اصل میں ماں اور بہن کے سر سے چھت چھیننے آیا ہے؟‘‘ دلشاد کی برداشت جواب دے گئی وہ فوراً بیٹی کی مدد کو پہنچیں۔
’’اماں‘ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے وہاں نیا کاروبار شروع کرنا ہے اور یہ مظلومیت کا ڈرامہ رہنے دیں ان کا سسرال والا گھر کتنا بڑا ہے وہاں جاکر کیوں نہیں رہتیں؟‘‘ اس نے زچ ہوکر ہاتھ جوڑے۔
’’واہ بھائی واہ… تم سے یہ امید نہ تھی؟‘‘ سائرہ نے افسوس سے شکیل کو دیکھا پھر ماں کی طرف نظریں گھمائیں۔
’’کیوں غلط بول رہا ہوں کیا؟‘‘ شکیل نے ماں کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
’’ارے اس کے دیور بہزاد نے ایک سال پہلے‘ سائرہ کو اس گھر کے حصے کے پیسے پہنچا دیے تھے‘ ان ہی پیسوں سے تو تیرے بہنوئی کا علاج ہوتا رہا ورنہ یہاں کون سے خزانے گڑے تھے؟‘‘ دلشاد نے انکشاف کیا تو شکیل نے چونک کر ماں کو دیکھا۔
’’تو یہ فائز نکما کیا کرتا رہا اتنے سالوں میں؟‘‘ وہ بھی گرم ہوا۔
’’بھائی میرے بیٹے کا نام لینے سے پہلے سو بار سوچنا؟‘‘ سائرہ نے چلا کر کہا۔
’’اے لو اس بڑے سے گھر کے سارے خرچے فائز کی تنخواہ سے ہی پورے ہوتے تھے حالانکہ یہ تیری ذمہ داری تھی مگر بھیا تو نے شروع شروع میں تو باقاعدگی سے پیسے بھیجے پھر پلٹ کر پوچھا بھی نہیں کہ ماں زند ہ بھی ہے یا مر گئی۔ اللہ میری بیٹی کو سلامت رکھے اس کا ہی دم تھا ورنہ مجھے ایدھی صاحب کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا؟‘‘ دلشاد نے بھی بھڑک کر جواب دیا۔
’’ہاں تو کیا کرتا ہمارا اپنا پورا نہیں پڑ رہا تھا اور وہ جو کرایہ آتا تھا میں نے کبھی اس کا حساب مانگا؟‘‘ اس نے بھی آنکھیں نکالیں۔
’’بے غیرت‘ بے شرم۔ ماں سے حساب لینے چلا ہے۔ میں کہتی ہوں جیسے چپ چاپ آیا ہے ویسے ہی چلا جا اب اگر اس گھر کی جانب نگاہ اٹھا کر بھی دیکھی تو آنکھیں نکال لوں گی۔‘‘ دلشاد نے گرجتے برستے ہوئے فیصلہ سنایا۔
’’نہیں اماں گھر تو میں بیچ کر ہی جائوں گا۔ اس طرح فائز کو بھی کچھ پیسہ مل جائے گا جس سے وہ کوئی چھوٹی موٹی دکان کھول لے گا۔‘‘ بہن کے بدلتے تاثرات پر تھوڑا نرم پڑتے ہوئے بولا‘ ورنہ اسے تو بس اپنا مال سمیٹنے کی فکر لگی ہوئی تھی۔
’’اماں کہاں جائیں گی یہ بھی سوچا ہے تم نے کبھی؟‘‘ سائرہ نے شکیل کی ڈھٹائی پر دانت پیسے۔
’’چلو یہاں ایک نئی نوٹنکی لگی ہے؟‘‘ نرما دونوں ہاتھوں میں شاپرز تھامے اندر داخل ہوئی تو نند کا سوال کانوں میں پڑا وہ بڑبڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
’’اسے کیا فکر ہے ماں جیے یا مرے؟‘‘ دلشاد نے بہو کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بیٹے کو سنایا۔
’’اتنے سالوں اماں نے آپ کو یہاں رکھا اب کیا ان کی باقی کی زندگی۔ آپ کے ساتھ نہیں گزر سکتی؟‘‘ شوہر کا ساتھ دینے کے لیے وہ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہوگئی۔ ان دونوں نے قہر آلود نگاہوں سے بیک وقت نرما کے چمکتے چہرے کو دیکھا جہاں بے فکری چھائی ہوئی تھی۔
’’نرما تم خاموش ہوجائو؟‘‘ شکیل نے توقع کے خلاف اپنی بیوی کو جھاڑا تو وہ حیران ہوکر شوہر کو دیکھنے لگی۔
’’یہ ٹھیک تو کہہ رہی ہیں اگر یہ گھر بک گیا تو اماں کا کیا ہوگا؟‘‘ اس نے ماں کا ہاتھ تھام کر پیار سے کہا تو دلشاد بانو کی آنکھوں کی روشنی جیسے لوٹ آئی‘ سائرہ نے بھی چونک کر بھائی کی طرف دیکھا۔
’’آپ کو کیا ہوگیا ہے شکیل؟‘‘ نرما گھبرائی۔
’’بس میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مکان میں سائرہ باجی کے نام کرکے امریکا جائوں گا؟‘‘ اس کے فیصلہ کن انداز نے وہاں موجود سارے نفوس کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
‘…ژ…ڑ
ڈگمگاتے قدم‘ ڈولتا وجود‘ متورم آنکھیں‘ سفینہ کمرے میں داخل ہوئی تو خود ترسی کی انتہائوں کو چھونے لگی۔ غیر محفوظ ہونے کا احساس اچانک بیدار ہوا اور وجود میں سرائیت کرتا چلا گیا۔ خوف کا غلبہ طاری ہونے لگا تو اس نے پلٹ کر بے اختیار دروازے کی کنڈی چڑھائی۔ سینے پہ ہاتھ رکھا یوں لگا جیسے دبائو بڑھتا جارہا ہے‘ گھٹن کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں مسئلہ ہوا تو وہ کمرے سے ملحقہ بالکونی میں نکل کر ننگے پیر جا کھڑی ہوئی اور منہ کھول کر تازہ ہوا میں سانس لینے لگی۔ غم وغصے‘ افسوس و بے چارگی کی تفسیر بنی وہ شاہ کی یاد کو سینے سے لگائے اپنی قسمت کی خرابی پر ماتم کرنے جوگی بھی نہیں تھی۔
’’مجھ سے یہ سانپ سیڑھی کا کھیل نہیں کھیلا جارہا؟‘‘ ہاتھ میں تھامے فون کو گھورتے ہوئے اس نے سوچا۔
’’ان کو واپس آنے کا کہتی ہوں اور سب کچھ سچ بتادیتی ہوں۔ اس کے بعد جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ اس نے سرد آہ بھری اور فیصلہ کن انداز میں سر ہلایا۔
’’ہر وقت سانپ کے ڈسنے یا اوپر سے نیچے آنے کا خوف مجھے بے موت مار دے گا؟‘‘ اس نے سرگوشی کی انگلیوں نے تیزی سے آفاق کا نمبر پریس کرنا شروع کیا اور فون کان سے لگایا۔ دوسری جانب بیل جارہی تھی۔
’’اگر ساری بات سننے کے بعد شاہ نے اپنا اعتبار چکنا چور ہونے پر مجھ سے قطع تعلق کرلیا تو پھر میں تو کہیں کی نہیں رہوں گی؟‘‘ اس کے ذہن میں انگارے دہکنے لگے۔
’’ہیلو… میم صاحب۔ ابھی تک جاگ رہی ہو؟‘‘ دوسری طرف سے کال ریسیو ہوچکی تھی۔ آفاق کی پیار بھری سرزنش پر سفینہ کا دل دھڑکا۔
’’شاہ؟‘‘ وہ کچھ بولتے ہوئے گم صم سی رہ گئی۔
’’جی شاہ کی جان؟‘‘ وہ اتنی چاہت سے بات کررہا تھا کہ سفینہ کو اپنے آپ پر شرمندگی ہونے لگی۔
’’کچھ نہیں بس آپ کی یاد آرہی تھی؟‘‘ اس نے بات بدل دی۔
’’ویسے… میں بھی اپنی پرنسز کو دل سے یاد کررہا تھا‘ ابھی کال کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ تمہارا فون آگیا؟‘‘ شاہ کا محبت بھرا لہجہ کانوں سے ٹکرایا‘ اس کا دل بھر آیا‘ وہ لمحہ بھر ایسے ہی کھڑی رہی اور پھر کچھ کہے بناء لائن کاٹ دی۔ آفاق نے فوراً ہی دوبارہ کال کی‘ بیل مسلسل ہوتی رہی مگر اس نے کال ریسیو نہیں کی۔ شاہ نے اس رات کئی بار ٹرائی کیا مگر سفینہ نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ وہ تھک کر بستر پر جا لیٹی اور اس کا تکیہ مسلسل بھیگتا رہا‘ ایسا لگتا تھا کہ رات بھر وہ آنسوئوں کے سارے تارے سیاہ چادر جیسے آسمان پر ٹانک کر رہے گی۔
‘…ژ…ڑ
’’مومل… سو رہی ہو کیا؟ مجھے آفس کو دیر ہورہی ہے۔‘‘ نبیل نے دھیرے سے چادر ہٹا ئی اور بیوی سے پوچھا تو اس نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’بس ابھی ناشتہ لاتی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے گھنے بالوں کو سمیٹتی ہوئی باتھ روم میں جاگھسی اور منہ ہاتھ دھونے کے بعد کچن کی جانب بڑھ گئی۔
’’آجائیں چائے ٹھنڈی ہورہی ہے۔‘‘ مومل نے ناشتہ لگا کر اسے پکارا جو سامنے بیٹھا اخبار کے مطالعے میں مصروف تھا۔
’’چلو تم بھی میرے ساتھ ہی ناشتہ کرلو؟‘‘ بیوی کو دیکھ کر وہ شائستگی سے مسکرایا اور ہاتھ پکڑ کر کرسی پر بٹھا لیا۔ مومل نے نگاہ اٹھا کر نبیل کی جانب دیکھا۔ نک سک سے تیار‘ مسکراتا ہوا وہ ہنڈسم لگ رہا تھا۔ اس نے چائے کا کپ بڑھایا۔
’’بھئی آج مجھے واپسی پر دیر ہوجائے گی۔‘‘ نبیل نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اطلاع دی۔
’’کہیں پھر سے کسی اور کے چکر میں تو نہیں آگئے۔‘‘ اس کے دل میں وسوسہ اٹھا‘ ایک بار پھر شوہر کا جائزہ لیا۔
’’مومل کے حواسوں پر آج کل پھر سے شک کے بادل چھائے ہوئے تھے۔‘‘ نبیل نے مومل کے اندر جھانکتے ہوئے سوچا۔ اس کے چہرے کے تاثرات باآسانی پڑھے جارہے تھے۔
’’مہذب دکھائی دینے والا یہ شخص پھر سے کسی اور لڑکی کے لیے اس دن والا وحشی انسان نہ بن جائے۔ جس نے شرمیلا کو اغوأ کیا تھا۔‘‘ مومل کے دل میں ایک اور دھڑکا جاگا۔
’’کیا ہوا جان تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ نبیل نے کانٹے سے ٹوسٹ پروتے ہوئے بڑی فکرمندی سے پوچھا وہ مزید بکھر گئی۔
’’میرے اللہ… یہ شخص سچ مچ میں اچھا ہوگیا ہے یا اچھائی کی آڑ میں پھر سے کوئی نیا ڈرامہ کررہا ہے۔‘‘ مومل نے سر پہ ہاتھ رکھ لیا‘ چند دنوں سے اس کے اندر عجیب سے وسوسے جنم لینے لگے تھے۔
’’تم پلیز رات کا کھانا جلدی کھا کر سو جانا میرے انتظار میں بھوکی نہ رہنا؟‘‘ نبیل نے خیالوں میں کھوئی مومل سے نہایت عاجزی سے کہا۔
’’کیوں آپ ڈنر پر بھی نہیں ہوں گے کیا؟‘‘ مومل نے اس کی پلیٹ میں آملیٹ ڈالتے ہوئے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا۔
’’بتایا تو ہے آفس کا ایک ضروری کام ہے۔ اس کے بعد کلائنٹ کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے؟‘‘ اس نے سادہ انداز میں وجہ بیان کی۔
’’کیا کلائنٹ کوئی خوب صورت لڑکی ہے؟‘‘ بیوی کے طنزیہ انداز پر نبیل شاک سا رہ گیا۔
’’لڑکی…! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ وہ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی چور سا ہوکر اسے دیکھنے لگا۔
’’ٹینشن نہ لیں بے فکر ہوکر جائیں میں تو ایسے ہی مذاق کررہی تھی۔‘‘ مومل نے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجائی اور پیٹھ موڑ کر برتن سمیٹنے لگی۔
’’اگر تم اس بات سے پریشان ہو تو میں ارشد سے ڈنر کے لیے معذرت کرلوں گا اب تو خوش؟‘‘ وہ اس کے پیچھے کچن میں آگیا مگر مومل اس کی جانب دیکھے بغیر خود کو مصروف ظاہر کرنے لگی۔ کچن میں کھٹر پٹر جاری تھی مگر اس نے ایک لفظ نہ بولا۔ نبیل کچھ دیر جواب کے انتظار میں کھڑا رہا پھر مایوس ہوکر چپ چاپ باہر نکل آیا‘ سگریٹ سلگاتے ہوئے اچانک اسے ادراک ہوا کہ اب مومل کا یقین جیتنا ناممکن ہوگیا ہے شاید شرمیلا والے واقعے نے ہمیشہ کے لیے اسے بیوی کی نگاہوں میں گرا دیا تھا‘ کسی شوہر کے لیے اس سے بڑی سزا اور کیا ہوسکتی تھی کے وہ جس عورت کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو وہ اس پر اعتبار نہیں کرتی۔
‘…ژ…ڑ
فائز دفتر میں داخل ہوا تو روشنی اسے دیکھتے ہی بے اختیار کیبن میں چلی آئی اور اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ وہ اس کے اظہار محبت پر ہکابکا رہ گیا مگر روشنی کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں تھا وہ بس سب کچھ ایک ہی نشست میں بتانے کی خواہش مند تھی۔ اس نے سفینہ پر بہت غلط الزامات لگائے نہ جانے کتنا وقت بیت گیا مگر روشنی کا غصہ کسی طرح کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا‘ فائز اس کی باتیں سن کر عجیب شش و پنج کا شکار ہونے لگا جبکہ روشنی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی مجبوراً اس نے ہاتھ اٹھا کر خاموش کرایا اور اسے سمجھانے لگا مگر اس پر فائز کے سمجھانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا‘ وہ سفینہ سے بری طرح سے بدگمان تھی‘ وہ دوبارہ بھابی کے خلاف بولنے لگی۔ روشنی کی باتیں سن کر فائز کا دل ڈوبنے لگا مگر جب تک اس نے اپنے دل کی پوری بھڑاس نہیں نکال لی وہ تحمل سے اس کی بات سنتا رہا۔ اسے اب سمجھ میں آیا کے سفینہ نے اسے کیوں یہاں سے جانے کو کہا تھا۔ روشنی کے جذبات جان کر اس کے یہاں سے جانے کا عزم مزید پختہ ہوگیا۔ فائز کو روشنی کے ساتھ بھی ہمدردی ہوئی تاہم اس سے زیادہ سفینہ کا خیال پریشان کیے دے رہا تھا۔ اس پر اتنا کچھ بیت گیا اور فائز کو خبر ہی نہ ہوسکی۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا کے ایک بار پھر وہ سفی کے لیے دکھ کی وجہ بنا۔ اس کی وجہ سے اس کی شادی شدہ زندگی کو خطرات لاحق تھے۔ حالات ہی ایسے تھے‘ شاید یہ سب یوں ہی ہونا تھا۔ نجانے ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
’’آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے؟‘‘ روشنی نے اسے سوچوں میں گم دیکھا تو روتے ہوئے پوچھا۔
’’تم فکر مت کرو‘ روشنی جو بھی ہوگا اچھے کے لیے ہی ہوگا؟‘‘ اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے تسلی دینا چاہی۔
’’مجھے سمجھ میں نہیں آتا وہ یہ سب کیسے کرسکتی ہیں؟‘‘ اس نے دانت کچکائے۔
’’پلیز… میں سفینہ کے خلاف ایک لفظ نہیں سننا چاہتا‘ وہ بالکل ایسی نہیں ہے‘ جیسا تم نے سمجھا ہے؟‘‘ اس نے پھر سمجھانا چاہا۔
’’بھابی نے آپ کے ساتھ بے وفائی کی… میرے بھائی کو دھوکا دیا‘ آپ پھر بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔‘‘ وہ بھڑکی۔
’’اس نے ایسا کچھ نہیں کیا بس حالات ہی ایسے ہوگئے تھے؟‘‘ اس نے ایک بار پھر نرمی سے سفینہ کا دفاع کیا۔
’’کیا آپ بھی مجھ سے میرا مطلب ہے؟‘‘ اس کی زبان جھجکی۔
’’نہیں روشنی میں نے تمہیں ہمیشہ اچھا دوست سمجھا اس کے سوا کچھ نہیں اب بہتری اسی میں ہے کہ تم گھر جائو اور ٹھنڈے دل سے میری باتوں پر غور کرو؟‘‘ فائز نے اپنے دل کی نہیں سنی اور ایک بار پھر سفینہ کے لیے قربانی دیتے ہوئے روشنی کی محبت کو ٹھکرادیا۔
’’یہ… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ وہ شاک کے عالم میں اسے تکنے لگی۔
’’یہ ہی سچ ہے میں تم سے پیار نہیں کرتا؟‘‘ اس نے نگاہیں چرائیں تو روشنی کی انا کو زک پہنچی۔
’’اوکے ٹھیک ہے میں چلتی ہوں مگر میری بات یاد رکھیے گا اگر آپ نے یہ آفس چھوڑا تو بھابی کو شاہ ہائوس چھوڑنا پڑے گا؟‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی پھر جھک کر فائز کی آنکھوں میں جھانک کر دھمکایا۔
’’تمہارا نام روشنی ہے اور تم پر ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتی۔ تم جو چاہتی ہو وہ کم از کم میرے لیے ناقابل قبول ہے‘ جہاں تک شاہ اور سفینہ کی بات ہے میرا نہیں خیال کے ان کا رشتہ اتنا کچا ہے جو کسی کے کہنے سے ٹوٹ جائے؟‘‘ وہ اس کے پہلو میں کھڑا ہوا اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔
روشنی نے فائز کی آنکھوں میں دیکھا اور مسمریزم سی ہوگئی۔ فائز اس کے ساتھ باہر تک آیا مگر اس کے منہ سے مزید ایک لفظ نہیں نکلا یوں لگا جیسے قوت گویائی چھن گئی ہو۔
‘…ژ…ڑ
’’کیسی ہو شرمیلا؟‘‘ اس نے صائمہ کی آواز پر مڑ کر دیکھا اور بے اختیار گلے لگ گئی۔
’’ایک نیوز ہے تمہارے لیے؟‘‘ خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد صائمہ نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
’’اچھا وہ کیا میرے نیوز چینل؟‘‘ جواباً شرمیلا نے شرارتی ہوکر اسے دیکھا مگر اس کی سنجیدگی میں فرق نہیں آیا۔
’’نبیل اور اس کی بیوی مومل میں کئی دنوں سے کھٹ پٹ چل رہی تھی اور وہ اسے چھوڑ کر گائوں جانے کی تیاری کررہی ہے؟‘‘ صائمہ نے بات مکمل کی مگر اسے ذرا سی خوشی محسوس نہ ہوئی بلکہ وہ یہ سن کر ایک دم افسردہ ہوگئی۔
’’ہر ظالم اپنے انجام تک پہنچتا ہے؟‘‘ شرمیلا کی آواز بھیگی۔
’’بے شک اللہ ظالم کی رسی ڈھیلی چھوڑتا ہے مگر اسے نہیں چھوڑتا۔‘‘ صائمہ بھی ایک خاص احساس میں مبتلا ہوکر نم دیدہ ہوئی۔
’’اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور سچائی کے راستے پر چلنے کا حوصلہ عطا فرمائے‘ آمین؟‘‘ شرمیلا نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔
’’آمین… ثم آمین؟‘‘ صائمہ نے بھی اُس کی تائید کی اور صدق دل سے کہا۔ دونوں کے درمیان چند لمحے کی خاموشی در آئی۔
’’صائمہ مجھے بھی اپنی ایک غلطی کا اعتراف کرنا ہے اسی لیے فون کیا تھا؟‘‘ شرمیلا ہمت کرکے آخر بولنے کو تیار ہوئی۔
’’ہاں بولو؟‘‘ صائمہ نے حوصلہ دیتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’اولاد سے بڑی خوشی دنیا میں کوئی نہیں‘ پیسہ‘ دولت تعیشات ہر شے اس کے آگے ہیچ ہیں…‘‘ شرمیلا کی تمہید میں بہت کرب تھا۔
’’جانتی ہوں تم اس معاہدے سے انحراف کرنا چاہتی ہو ناں جو تمہارے اور مہرین کے بیچ میں ہوا تھا؟‘‘ صائمہ نے اسے چونکایا۔
’’تم… تمہیں کیسے پتا چلا؟‘‘ وہ ہکلائی۔
’’مجھے تو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ تم ساری چیزیں مہرین کو لوٹانے کی خواہش مند ہو؟‘‘ صائمہ نے کہا تو شرمیلا نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’مگر اب اس چیز کی ضرورت نہیں۔‘‘ صائمہ کا لہجہ جوش سے بھر گیا‘ شرمیلا کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔ اس کے چہرے پر پھیلی چمک اور آنکھوں کی خوشی خاصی حوصلہ افزا تھی۔
’’صائمہ تم کہنا کیا چاہتی ہو پلیز کھل کر بتائو؟‘‘ وہ بے چین ہوئی۔
’’میں تمہیں سب کچھ بتاتی ہوں مگر تم پلیز اس بات کا آزر بھائی سے ہرگز ذکر نہیں کرنا؟‘‘ وہ مسکرا کر منت کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
’’ایسی کیا بات ہے؟‘‘ شرمیلا نے نگاہ اٹھا کر حیرت کا اظہار کیا۔
’’بات بہت خاص ہے‘ ایک دن بتول خالہ نے آزر بھائی کو بلوا کر ان کے سامنے چیک بکس‘ گاڑی کی چابی اور گھر کے کاغذات رکھ دیے کے انہیں یہ سب نہیں چاہیے۔ وہ جھونپڑے میں رہ کر روکھی سوکھی کھا کر بھی صرف اپنی بیٹی کی شادی شدہ زندگی قائم دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر آزر بھائی شرمندہ ہوگئے۔ انہوں نے ہر چیز واپس لینے سے انکار کردیا‘ الٹا خالہ کو سمجھایا کے داماد بھی بیٹے کی طرح ہوتا ہے اور یہ سب ایک بیٹے کی طرف سے اس کی ماںکے لیے تحفہ ہے کوئی سودے بازی نہیں اور ہاں جاتے جاتے انہوں نے خالہ سے تمہیں طلاق نہ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا؟‘‘ صائمہ کے پے در پے انکشافات سے شرمیلا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو صائمہ؟ اماں نے تو مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا…‘‘ اس نے صائمہ کو جھنجھوڑا۔
’’یہ سب سچ ہے شرمیلا کیوں کہ آزر بھائی نے خالہ بتول کو منع کیا تھا وہ تم سے کبھی بھی ان باتوں کا ذکر نہ کریں‘ اس لیے وہ چھپا گئیں مگر مجھ سے کسی نے کوئی پرامس نہیں لیا تھا‘ اس لیے میں نے تمہیں سب کچھ سچ سچ بتادیا۔‘‘ اس نے ایک دم ہنستے ہوئے بات مکمل کی۔
’’آزر میرے لیے انسان نہیں فرشتہ ہیں۔‘‘ سچائی جاننے کے بعد شرمیلا کی نگاہوں میں آزر کا قد مزید اونچا ہوگیا تھا۔
’’اس میں کوئی شک نہیں کے قسمت سے تم ایک نفیس انسان سے ٹکرا گئی۔ آزر بھائی کو پتا ہے کہ تمہارے اندر ان کو اور اپنے بچے کو کھونے کا حوصلہ نہیں‘ ان کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے مگر وہ تمہارا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتے تھے اسی لیے شروع سے پس پردہ رہ کر تمہاری خوشیوں کا خیال رکھتے آئے ہیں؟‘‘ صائمہ نے کھلے دل سے اعتراف کیا تو شرمیلا نے سر ہلادیا۔
‘…ژ…ڑ
روشنی تمسخر اڑاتا طنزیہ انداز میں سفینہ کی طرف دیکھ کر مسکراتی تو اسے اپنی روح جسم سے الگ ہوتی محسوس ہوتی۔ چند دنوں میں ہی اس سنہری رنگت میں زردیاں گھل گئیں تھیں۔ اس کا کمزور پڑتا وجود سفینہ کو لگتا تھا کہ وہ اندر ہی اندر بھسم ہورہی ہے۔ اچانک روشنی نے عائشہ بیگم کے بہکائے میں آکر اسے شاہ ہائوس چھوڑ کر جانے کا حکم نامہ دے دیا۔
’’بھابی آپ میکے جانے کی تیاری پکڑ لیں صرف یہ ہی صورت ہے کہ میں بھائی کو کچھ نہیں بتائوں گی؟‘‘ وہ جانے کیوں اتنی کٹھور بن گئی تھی۔
’’میں اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ ایک دم دہل کر اسے دیکھنے لگی۔
’’جانا تو آپ کو پڑے گا نہیں تو بھائی کو کال کرکے مدد کے لیے بلوا لیں؟‘‘ اس نے مسکرا کر سفینہ کی طرف دیکھا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ ناسمجھی سے اسے تکنے لگی۔
’’اگر آپ چاہتی ہیں کہ بھائی کے دل میں آپ کے لیے نفرت نہ جاگے تو‘ یہاں سے چلی جائیں؟‘‘ اس کا انداز فیصلہ کن تھا۔
’’میں شاہ کی نفرت نہ سہہ پائوں گی؟‘‘ وہ سر پہ ہاتھ رکھ کر بڑبڑائی۔
’’تو پھر ان کو خود سچ بتادیں؟‘‘ روشنی نے سانس اپنے اندر کھینچ کر اسے دیکھا۔
’’یہ میرے لیے ممکن نہیں؟‘‘ اس نے گلابی لب بے دردی سے کاٹے۔
’’چلیں پھر یہاں سے جانا تو ممکن ہے۔‘‘ وہ خاص انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
’’کبھی تو… کبھی تو میں شاہ سے مل سکوں گی ناں؟‘‘ سفی کی محبت کرلاہی‘ اس کی دماغی حالت عجیب سی ہوگئی۔
’’نہیں کبھی نہیں۔ میں اپنے بھائی پر آپ کا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گی؟‘‘ اس کا انداز بے لچک تھا۔
’’کبھی تو اس گھر میں آسکوں گی؟‘‘ سنہری آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے۔
’’نہیں کبھی نہیں؟‘‘ وہ ایک دم سختی سے انکار میں سر ہلانے لگی۔
’’کوئی رابطہ تو رکھ سکوں گی؟‘‘
’’نہیں رابطہ رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے‘ جب آپ میں سچ بولنے کی ہمت ہی نہیں۔‘‘
’’میں اتنی مجبور نہ ہوتی تو کبھی یہاں سے جانے کا نہ سوچتی؟‘‘
’’آپ کو پرامس کرنا ہوگا کے آفاق بھائی سے کبھی نہیں ملیں گی اور نہ اس گھر سے کوئی تعلق رکھیں گی؟‘‘ روشنی نے ایک دم تلخ ہوکر اسے وارن کیا۔
’’اگر آفاق شاہ نے مجھ سے ملنے کی کوشش کی تب کیا ہوگا؟‘‘ سفینہ نے نند کی سفاکی پر رحم طلب نظروں دیکھا۔
’’ایسا نہیں ہوگا وہ کل آرہے ہیں اور میں انہیں سب کچھ سچ سچ بتادوں گی۔‘‘ وہ ظالم بنی اسے دہلائے جارہی تھی۔
’’شاہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ سفینہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی مگر روشنی کو جانے کیوں اس پر ترس نہیں آرہا تھا۔ سفینہ نے اپنے ہاتھوں سے شادی شدہ زندگی کو دار پر چڑھا دیا تھا۔ اپنے ہاتھوں اپنی قربانی دینا بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔ روشنی‘ اس کی بات سننے کو تیار نہ تھی سفینہ بلک بلک کر روتی رہی مگر اس نے اپنا دل پتھر کرلیا جہاں ضد آجائے وہاں رشتے نہیں رہتے صرف نفع‘ نقصان کا حساب ہوتا ہے۔
‘…ژ…ڑ
’’سودے بازی میں کسی بھی طرح کی ہمدردیاں نہیں ہوتیں…‘‘ مہرین کا انداز فلسفیانہ ہوا۔
’’مگر… شرمیلا اب آزر بھائی سے الگ ہونا نہیں چاہتی؟‘‘ صائمہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ کہے تو کیا کہے۔
’’پیسے کی فکر مت کرو‘ اتنا ہوگا کہ تمہیں کبھی کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے گی بس تم میرا یہ کام کردو؟‘‘ مہرین کے لہجے میں اسرار تھا۔
’’آپ کہنا کیا چاہتی ہیں… کون سا کام؟‘‘ صائمہ ٹکرٹکر اس کی صورت دیکھنے لگی۔
’’بس تم کسی بھی طرح شرمیلا کے بچے کو دنیا میں آنے سے سے روک دو؟‘‘ وہ جنونی سی دکھائی دی۔ جب انسان طاقت کے نشے میں چُور ہوتا ہے تو اس کے اندر بسی انسانیت گہری نیند سو جاتی ہے۔
’’یہ کیسے ممکن ہے بھلا؟‘‘ صائمہ نے جھرجھری سی لی۔
’’دیکھو میںسچ کہہ رہی ہوں۔ ساری زندگی تمہیں کبھی پیسے کا پرابلم نہیں ہوگا۔ بس تم کسی طرح سے اس کا ابارشن کروا دو اس کا طریقہ میں تمہیں بتائوں گی؟‘‘ مہرین نے جیسے ایک اور دھماکا کیا۔
’’آپ نے تو یہ کھڑاگ اس بچے کی خاطر پالا تھا اور اب خود اسے مروانا چاہتی ہیں؟‘‘ صائمہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔
’’جانے کون سی منحوس گھڑی تھی جو شرمیلا نے اس گھر میں قدم رکھا‘ سب کچھ تنکا تنکا بکھیر کر رکھ دیا‘ اس نے میرا سکون چھینا‘ میرا شوہر مجھ سے لے لیا‘ تم اس سے اس کا بچہ چھین لو میں تمہیں اس کے بدلے میں دنیا بھر کی خوشیاں دے دوں گی؟‘‘ مہرین مزید کچھ بولتے بولتے رک گئی۔ مہرین کا ضمیر مر چکا تھا۔ اس کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا‘ تب ہی وہ یہ گھنائونا کام کرنے کے لیے صائمہ کی برین واشنگ کررہی تھی۔
’’میں اس طرح نہیں کرسکتی…‘‘ صائمہ نے دانستہ نظریں چرائیں۔
’’دنیا میں پیسے سے بڑی کوئی طاقت نہیں تم بولو تمہیں اس کام کے بدلے میں کتنا پیسہ چاہیے اپنی بولی لگائو میں بڑی سے بڑی رقم دیتے ہوئے پیچھے نہیں ہٹوں گی؟‘‘ مہرین بے تابی سے بولی تو صائمہ سوچ میں پڑگئی۔ وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ آئی۔
‘…ژ…ڑ
گھر کے بکنے کی خبر نے دلشاد بانو کو پاگل اور جنونی بنادیا تھا۔ طیش کے عالم میں انہوں نے بیٹے اور بہو کا سامان باہر پھنکوا دیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ تو پیسے لے کر جا چکا تھا۔ شکیل نے بڑی چالاکی سے ماں پر یہ ظاہر کیا کے وہ پورا گھر سائرہ کے نام کررہا ہے مگر اس نے جھوٹ کہا تھا۔ وہ جانتا تھا کے ان لوگوں کو دھوکے سے ہی رام کیا جاسکتا ہے۔ چکنی چپڑی باتوں میں ماں اور بہن کو پھنسایا اور پھر کاغذات بنوا کر پہلے ماں سے انگوٹھا لگوایا اور پھر ایک دن بہن کو سائن کرنے کے لیے کہا۔ سائرہ کے پوچھنے پر اس نے کہا یہ گھر آپ کے نام کرنے کے لیے کاغذی کارروائی ضروری ہے وہ خوش ہوگئیں اور فائز کو سرپرائز دینے کا سوچ کر اس سے یہ بات چھپا لی۔ شکیل نے میٹھی میٹھی باتوں سے محبت کی ایسی پٹی ان کی آنکھوں پر باندھی کے ان دونوں کو وہ سچا نظر آنے لگا اور اس کے ہاتھوں بے وقوف بن کر رہ گئیں‘ سائرہ سمجھتی رہی کہ بھائی نے گھر ان کے نام کردیا ہے مگر دراصل اس نے دھوکا دہی سے مکان بیچ دیا اور پیمنٹ ملتے ہی دوسرے شہر جانے کا بہانہ کرکے بیوی کو لے کر خاموشی سے امریکا واپس لوٹ گیا‘ ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے‘ اپنا کچھ سامان بھی یہیں چھوڑ گیا۔ سچائی تو اس دن پتا چلی‘ جب ایک ہفتے بعد فائز سے مکان کے نئے مالک نے گھر خالی کرنے کی تاریخ مانگی۔ فائز پر اس دن یہ عقدہ کھلا کے ماموں نے دھوکے بازی سے نانا کا گھر بیچ دیا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اسے سمجھ میں نہیں آیا کے گھر جاکر کیسے اس بات کا ذکرکرے مگر ماں اور نانو کو بتانا ہی تھا۔ اس کی بات سنتے ہی دلشاد نے غیض و غضب میں آکر شکیل کے کمرے کی تلاشی لی تو ایک خط ماں کے نام ملا جس میں معافی مانگنے کے ساتھ گھر بیچنے کا اقرار نامہ تھا۔ شکیل نے تلافی کے طور پر بہن کا حصہ اور ماں کے لیے چند لاکھ روپے رکھ چھوڑے تھے۔ وہ دونوں تو چکرا کر رہ گئیں۔ دلشاد بانو نے اس کے کمرے میں رکھی ہوئی ہر چیز کو توڑ پھوڑ دیا۔ وہ کسی کے قابو میں نہیں آرہی تھیں‘ سائرہ اور فائز نے اپنی سی کوشش کی انہیں سمجھانے کی مگر وہ کسی کی بھی نہیں سن رہی تھیں۔ ان کا دماغ خراب ہوچکا تھا۔
’’ہوش سے کام لیں… اماں۔‘‘ سائرہ نے ان کے ہاتھ تھامے۔
’’ہوش کیسے رہے گا میری تو ساری عمر کی کمائی لٹ گئی؟‘‘ وہ چلائیں۔
’’چھوڑیں نانو میں آپ کو اس سے بڑا گھر بنوا کر دوں گا؟‘‘ فائز نے انہیں بانہوں کے گھیرے میں لے کر تسلی دینا چاہی۔
’’وہ یہ گھر تو نہیں ہوگا‘ مجھے تو یہاں سے مر کر نکلنا تھا پتا ہوتا تو اُس آستین کے سانپ کو اپنے گھر سے کیا اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دیتی؟‘‘
’’اماں یہ شکیل اور اس کی بیوی کی ملی بھگت تھی دیکھیں تو ہمیں کیسا بے وقوف بنایا؟‘‘ سائرہ کو دکھ ہوا‘ دوپٹے کے پلو سے آنسو پونچھے لگیں۔
’’ہائے اُس منحوس کی وجہ سے میں اور میری بچی دربدر ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ بہن ابھی عدت میں ہے یہ بھی نہیں سوچا کہ ہم سب کہاں جائیں گے؟‘‘ وہ سینہ کوبی کرتی زمین پر بیٹھ گئیں اور پھر اونچی آواز میں بین کرنے لگیں۔
نانی کی بات پر فائز کو خیال آیا کے اب اسے نیا ٹھکانہ ڈھونڈنا ہوگا‘ ایک بار پھر نئے مکان میں جاکر رہنا ہوگا‘ اجنبی درو دیوار سے شناسائی حاصل کرنی ہوگی۔ اس کا دل بجھنے لگا۔
’’میں اُسے نہیں چھوڑوں گی اگر وہ میرے سامنے آگیا تو اُسے بھی مار دوں گی اور اُس کی بیوی کو بھی۔‘‘ دلشاد بیگم واقعی اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھیں۔ اُنہیں سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔ فائز نے بے بسی سے اُنہیں دیکھا۔ اُن کا جنون ختم کرنے کی کوئی تدبیر اُسے سجھائی نہیں دے رہی تھی۔
اچانک دروازہ کھلا اور بہزاد اندر داخل ہوئے‘ وہ یہاں کا سوگوار ماحول دیکھ کر ہکابکا رہ گئے۔ بھائی کی وفات کے بعد سے وہ کئی بار بھابی اور بھتیجے کی خیریت دریافت کرنے آتے تھے مگر سائرہ عدت میں ہونے کی وجہ سے ان کے سامنے نہیں آتی تھیں لیکن اس وقت یہاں کا عجیب منظر دیکھ کر وہ پریشاں ہوگئے۔ بہزاد کو جب فائز کی زبانی شکیل کی دھوکے بازی کے بارے میں پتا چلا تو دلشاد بانو کو بڑے ملال سے دیکھا‘ ایک وقت وہ تھا جب انہوں نے خان ہائوس کو بکوانے کی سر توڑ کوشش کی تھی مگر وہ نہ بک سکا‘ ان کا اپنا ٹھکانہ اجڑ گیا تھا۔ یہ تھا قدرت کا انصاف۔ سائرہ نے بہزاد کو دیکھتے ہی چہرہ ڈھانپ کر اپنے کمرے کا رخ کیا۔ فائز کی اتری صورت دیکھ کر البتہ بہزاد کا دل دکھنے لگا۔ اس کی طرف دیکھ کر انہیں ہمیشہ بڑے بھائی کا خیال آتا تھا۔ زندگی نے اُنہیں عجب مقام پر لاکھڑا کیا تھا۔ ایک عجیب سی کشمکش اُنہیں بھی سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔ وہ کریں تو کیا کریں‘ ریحانہ کبھی نہیں مانتی مگر انہیں اسے منانا تھا اور پھر وہ صحیح فیصلے تک جا پہنچے۔ انہوں نے فائز اور سائرہ کو دلشاد بیگم کے ساتھ باعزت طریقے سے خان ہائوس لوٹنے کی پیش کش کردی اور زبردستی ان کا سامان بندھوانے لگے۔
‘…ژ…ڑ
’’بولو… مہرین بولو…‘‘ آزر اس کے سامنے سوالیہ نشان بنے آکھڑے ہوئے۔
’’وہ صرف شرمیلا کی ہی نہیں میری بھی اولاد ہے تم نے اس بات کا بھی لحاظ نہیں کیا؟‘‘ وہ غصے سے پاگل ہورہے تھے۔
’’اور اس بچے نے کیا بگاڑا ہے تمہارا‘ وہ تو معصوم ہے تم اس سے کینہ رکھ رہی ہو شرم آنی چاہیے؟‘‘ مہرین تھرتھر کانپنے لگی۔
’’مجھے معاف کردیں آزر مجھ سے آپ کا بٹا ہوا وجود برداشت نہیں ہورہا تھا؟‘‘ مہرین کے لب کپکپائے۔
’’وہ تو شکر ہے کہ صائمہ نے مجھے ساری سچائی بتادی اور میں نے وہ ساری دوائیں ضائع کردیں‘ جو تم نے اسے دی تھیں ورنہ سب کچھ ختم ہوجاتا۔‘‘ انہوں نے مٹھیاں بھینچ کر خود پر قابو پایا ورنہ اس وقت تو مہرین کی جان لینے کی خواہش دل میں جاگ اٹھی تھی۔
’’مجھ سے غلطی ہوگئی؟‘‘ مہرین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ اپنا راز کھلنے پر کیسے اپنی جان بخشی کروائے۔
’’غلطی… یہ غلطی نہیں بھیانک جرم ہے۔‘‘ آزر نے ہذیانی انداز میں اسے جھنجھوڑا۔
’’پلیز… آزر مجھے معاف کردیں…‘‘ اپنا طنطنہ بھلا کر وہ ایک دم اس کے قدموں میں بیٹھ کر گڑگڑانے لگی۔
’’اتنے بڑے امتحان میں مجھے ڈال کر توقع کرتی ہو کہ میں تمھیں معاف کر دوںگا؟‘‘ وہ پائوں چھڑا کر دور جا کھڑے ہوئے۔
’’آزر پلیز میں نے یہ سب آپ کی محبت میں کیا تھا۔‘‘ اس نے ان کی پشت پر جاکر صفائی دینا چاہی۔
’’محبت اسے محبت نہیں حسد کہتے ہیں۔ مہرین چلی جائو یہاں سے؟‘‘ وہ پھر سے ہذیانی ہوئے۔
’’کہا ناں آزر غلطی ہوگئی۔ اللہ بھی تو اپنے بندوں کو معاف کردیتا ہے تو کیا آپ مجھے ایک بار معاف نہیں کر سکتے؟‘‘ آزر کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا مہرین نے مذہب کے نام پر اسے قائل کرنا چاہا۔
’’پہلی بات مہرین کہ میں اللہ نہیں ایک معمولی انسان ہوں۔ مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں کے اپنے ہونے والے بچے کو قتل کرنے والی کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگوں۔ اس لیے تمہاری سزا یہ ہے کہ میں اب تم سے ہمیشہ کے لیے اپنا آپ چھین رہا ہوں۔ شرمیلا کے لیے میں ایک نیا گھر خریدا ہے میں بھی اس کے ساتھ یہاں سے شفٹ ہورہا ہوں۔ ہاں یہ دولت اب ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘ جس کے بل پر تم انسانوں کی قسمتوں میں خوشی اور غم لکھنے کی کوشش کرتی رہی ہو۔‘‘ آزر نے اسے دھکیل کر سامنے سے ہٹایا اور خود باہر کی طرف بڑھ گئے۔ مہرین کے جسم سے جان نکلتی چلی گئی وہ ہچکیوںکے ساتھ روتے ہوئے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔
‘…ژ…ڑ
’’اوکے تو پھر تم نے میری باتوں پر مکمل عمل کیا؟‘‘ فائز نے روشنی سے سوال کیا۔
’’جی جناب۔ ویسا ہی ہوا جیسا آپ چاہتے تھے؟‘‘ روشنی کے پُراعتماد جواب سے فائزکی جان میں جان آئی۔
’’اب ایک کام کرو کہ اپنے بھائی کو فون کرکے کسی بھی بہانے سے پاکستان واپس بلوا لو۔‘‘ اس نے ایک اور مشورہ دیا۔
’’ہونہہ یہ بہتر رہے گا ویسے بھی انہیں جب میں نے یہ خبر دی کے بھابی پتا نہیں کیوں ناراض ہوکر دو دن سے میکے جا بیٹھی ہیں وہ پریشان ہوگئے‘ کئی بار فون کر ڈالا‘ لگتا ہے ان کا کام میں دل نہیں لگ رہا بلکہ اس بات پر خفا ہونے لگے کہ بھابی نے انہیں بتایا کیوں نہیں؟‘‘ روشنی نے مسکرا کر اس سے اتفاق کیا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ بادل خوب گرجے برسیں گے اور پھر مطلع صاف ہوجائے گا؟‘‘ وہ ہنسا۔
’’مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے؟‘‘ روشنی بھی کھکھلائی۔
’’اچھا تو ان دونوں کے ملن کی خوشی میں آج سے ہماری ناراضگی ختم اور پہلے جیسی پکی والی دوستی؟‘‘ فائز نے شوخی سے اپنا چوڑا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔
’’صرف دوستی؟‘‘ اس نے ہاتھ تھام کر معنی خیز انداز میں پوچھا۔
’’باقی معاملات تو اب آپ کے بھائی اور بھابی کے ہاتھوں میں ہیں دیکھو کیا فیصلہ آتا ہے؟‘‘ اس نے سرد آہ بھری۔
’’مجھے ان دونوں پر مکمل اعتبار ہے؟‘‘ روشنی کے ہونٹوں پر شفاف مسکراہٹ‘ اس بات کی غماز تھی کے اس کا دل بھی سفینہ کی جانب سے صاف ہوچکا ہے‘ جس کا سارا کریڈٹ فائز کو جاتا تھا‘ جس نے اس کا مقدمہ ہر بار اس ڈھنگ سے لڑا کے روشنی کے پاس یقین نہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔
’’تھنک یو روشنی… یہ سب تمہاری وجہ سے ممکن ہوا… مجھے امید ہے کہ اب سفی کی زندگی کے دکھ دور ہوجائیں گے؟‘‘ اس نے گہرا سانس لیا۔
’’مجھے تو خود پر یہ سوچ کر غصہ آتا ہے کہ میں نے اپنی بھابی پر شک کیوں کیا؟‘‘ اس نے ملامتی انداز میں کہا۔
’’کوئی بات نہیں اب تو دل صاف ہوگیا ہے ناں۔‘‘ وہ مسکرا کر جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تو روشنی بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل دی۔
اس ملاقات میں ان دونوں نے ایک نئی حکمت عملی طے کی کہ کیسے سفینہ اور شاہ کے بیچ چھائی دڑار کو پُر کردیں۔ فائز کو یقین تھا کہ آنے والا وقت انہیں مزید قریب کردے گا۔ گھر واپس جاتے ہوئے وہ یہ سوچ کر ہی بہت خوش ہورہا تھا کہ اس کی وجہ سے جو زخم سفی کو لگا تھا‘ اس پر مرہم بھی اس کی کوششوں سے لگنے والا تھا۔
‘…ژ…ڑ
پرنسز…‘‘ آج کتنے دنوں بعد سفینہ کے کانوں نے یہ آواز سنی تو اسے اپنا واہمہ محسوس ہوا۔ وہ جو آنکھوں پہ ہاتھ رکھے اپنے وجود کو دلاسے دینے کی ناکام کوشش کررہی تھی چونک گئی۔
’’یہ کیا کردیا تم نے پرنسز؟‘‘ شاہ کے دوبارہ پکارنے پر چونک کر آنکھوں سے بازو ہٹائے اور اس شخص کو دیکھا جس کے بغیر وہ تہی دست و داماں رہ گئی تھی۔
’’سارے وعدے بھلا کر میرے ارمانوں کا خون کرکے یہاں کیوں چلی آئیں… مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی اور میری کال بھی پک نہیں کی…‘‘ آفاق شاہ کی آواز میں دکھ واضح طور پر نمایاں تھا۔
’’میں کب آنا چاہتی تھی مگر وہ روشنی…‘‘ وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھی ملگجا سا حلیہ‘ بڑھی ہوئی شیو‘ بکھرا بکھرا سا آفاق شاہ آنکھوں کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ دوڑ کر اس کی بانہوں میں سما گئی۔
’’کیا روشنی؟‘‘ شاہ کا غصہ محبت میں ڈھل گیا‘ اس کا چہرہ اوپر کرکے آنکھوں میں جھانکا۔ اچانک سفینہ کے دماغ میں روشنی کی باتیں گونج اٹھیں اور وہ خوف زدہ سی ہوکر دور ہٹ گئی۔
’’اس نے آپ کو جو کچھ بتایا وہ سچ نہیں اسے بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ اپنے آپ پر قابو پانے کے بعد اس نے تیزی سے بولنا شروع کیا۔
’’کون سا سچ‘ کیسی غلط فہمی اور روشنی نے ہی تو مجھے تمہیں یہاں لینے بھیجا ہے؟‘‘ وہ ایک دم مسکرایا۔
’’آپ کو اس نے کچھ نہیں بتایا… مگر میں سب کچھ بتادوں گی مجھ سے اب یہ بوجھ سنبھالا نہیں جارہا؟‘‘ وہ زخمی انداز میں مسکرائی۔
’’سفینہ مجھے ساری بات سچ سچ بتائو کیونکہ روشنی تو تمہارا فیور ہی کررہی تھی کہ میں تمہیں منا کر گھر لے آئوں؟‘‘ آفاق شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا۔
’’روشنی ایسا کہہ رہی تھی؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’ہاں یار ویسے کون سی سچائی چھپائی ہے تم نے؟‘‘ اس نے جان بوجھ کر کریدا۔
’’ایک بہت بڑی بات چھپائی ہے میں نے جس کے لیے میں آپ کی مجرم ہوں… مگر یقین کریں ان سب باتوں میں میرا کوئی قصور نہیں؟‘‘ سفینہ نے ایک دم رو کر اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور فائز کو اپنی سچائی بتاتی چلی گئی۔
’’شاہ ان آنکھوں نے کبھی یہ گستاخی بھی نہیں کی کہ کسی اور کے خواب دیکھتیں‘ شادی کے بعد سے آپ کے سوائے میرے دل پر کسی کی پرچھائیں تک نہیں پڑی؟‘‘ وہ مسلسل بولے جارہی تھی۔
’’یہ دل ہمیشہ آپ کی خاطر ہی دھڑکا‘ اس پر ہمیشہ آپ کا حق رہا‘ میں تو خیانت کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘ وہ اسے یقین دلانے کے لیے اپنی ساری طاقت صرف کرنے میں مگن تھی۔
’’بس سفینہ بس تمہیں اپنی صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ میں یہ بات پہلے سے ہی جانتا تھا کہ میرے آفس میں کام کرنے والا رومیو دراصل تمہارا کزن اور سابقہ منگیتر فائز ہے…‘‘ شاہ جو کب سے ٹھہرے پانی کی طرح ساکت سب کچھ سن رہا تھا اچانک ہاتھ اٹھا کر بولا۔
’’آپ سب کچھ جانتے تھے…!‘‘ اس کے لب کپکپائے۔
’’پرنسز میں اتنا بڑا کاروبار چلا رہا ہوں۔ ساری دنیا میں گھومتا پھرتا ہوں‘ پھر کیا آپ کی سچائی جاننا میرے لیے کوئی مشکل کام تھا‘ ویسے بھی وہ سب ماضی تھا‘ جس پر تمہیں شرمندہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں‘ تم نے کوئی جرم نہیںکیا؟‘‘ اس نے گہری نگاہوں سے بیوی کو دیکھتے ہوئے تسلی دی۔
’’آپ اتنا کچھ جانتے تھے تو پھر مجھے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ وہ ایک دم چونکی۔
’’اس لیے کے میں چاہتا تھا کے تم مجھ پر ٹرسٹ کرو اور مجھے خود اپنے ماضی کے بارے میں بتائو‘ مجھے تو اپنی بیوی پر پورا بھروسا تھا مگر شاید تمہیں مجھ پر یقین نہ تھا؟‘‘ اس کا لب و لہجہ اداس ہوا۔
’’یہ بات نہیں تھی مگر میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی بس اس ڈر سے کچھ نہیں بتایا کہ مردوں کو سات خون بھی معاف ہوتے ہیں اور عورت کو ایک بھی نہیں؟‘‘ وہ گڑبڑائی۔
’’یہ فضول بات تمہارے چھوٹے سے اس دماغ میں کیوں کر سمائی میری پرنسز کو میرا خون معاف ہے؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے اس کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں میرا دماغ ہی نہیں دل بھی چھوٹا ہے بس اسی لیے میں نے جو غلطی کی نہیں اس کی سزا آپ کے ساتھ ساتھ خود کو بھی دی؟‘‘ اس کا لہجہ گلوگیر ہوا۔
’’اچھا کام کی بات سنو‘ میں نے تم سے ذکر کیا تھا ناں کہ روشنی کی شادی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے‘ وہ کوئی اور نہیں تمہارا کزن فائز ہی تھا کیوں کہ میں نے اپنی بہن کی آنکھوں میں اس کے لیے چاہت کے رنگ دیکھ لیے تھے مگر اس کا ماضی دھند لایا ہوا تھا پھر لڑکے کی انویسٹی گیشن کی تو بہت ساری باتیں میرے سامنے عیاں ہوئیں‘ میں تو اس دن سے انتظار کررہا تھا کے تم خود مجھے سب کچھ بتائو اور میں تمہیں خوش خبری دوں کے روشنی کی شادی تمہارے کزن سے کرنا چاہتا ہوں‘ اتنے اشارے بھی دیے مگر تمہاری عقل میں کچھ آیا ہی نہیں؟‘‘ وہ سفینہ کو ساتھ لے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے شرارت سے بولتا چلا گیا۔
’’اچھا مگر وہ روشنی تو مجھ سے بہت ناراض تھی؟‘‘ سفینہ نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی ہاتھوں کی لکیروں میں جھانک کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں کیونکہ فائز کے ذریعے ہی اسے ساری سچائی پتا چل گئی تھی‘ اس نے جان بوجھ کر تمہارے ساتھ ایسا رویہ رکھا تاکہ تم مجھے مدد کے لیے پکارو‘ تمہارے اندر کا خوف باہر آجائے مگر تم تو ایک نمبر کی ڈرپوک نکلی اور میدان چھوڑ کر میکے بھاگ آئیں؟‘‘ اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑا۔
’’اف میں بلاوجہ اتنے دنوں تک جلتی کڑھتی رہی۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور شان سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ شاہ نے کار اسٹارٹ کی سفینہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ آفاق شاہ کے ساتھ اپنے گھر لوٹ رہی ہے۔
’’ہم شاہ ہائوس جارہے ہیں؟‘‘ وہ بے یقین ہونے کے ساتھ ساتھ‘ بے انتہا خوش بھی تھی۔ اسی لیے پوچھ بیٹھی۔
’’ابھی تو ہم آفس جارہے ہیں؟‘‘ اس نے مرر سے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آفس وہ کیوں؟‘‘ سفینہ چونکی۔
’’وہاں سے کال آئی ہے کہ فائز ریزائن دے کر بھاگنے کے چکر میں ہے‘ اس کا استعفی کینسل کروانا ہے‘ جو صرف تم ہی کروا سکتی ہو؟‘‘ شاہ نے بتایا تو سفینہ کو یاد آیا کے اس نے ہی تو فائز کو جانے کو کہا تھا‘ اسے شرمندگی نے گھیر لیا۔
’’پرنسز ایک بات کہوں مجھے لگتا ہے کہ فائز کے ساتھ قسمت نے بہت برا سلوک کیا ہے‘ اب اگر ہم چاہیں تو اس کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے۔‘‘
’’میں کیا کرسکتی ہوں؟‘‘ وہ غائب دماغی سے بولی۔
’’فائز اور روشنی کی شادی کروا دو؟‘‘ آفاق شاہ نے تجویز پیش کی۔
’’ہاں فائز بہت اچھا ہے اور روشنی کو اس سے اچھا لڑکا مل نہیں سکتا۔‘‘ سفینہ نے بے خوف ہوکر اپنی رائے دی۔ شاہ کے دیے ہوئے اعتماد نے اسے یہ قوت بخشی تھی۔ اسے لگا کہ دکھوں کی ساری زنجیریں‘ سارے پہرے توڑ کر آخر وہ آزاد فضائوں میں اُڑنے لگی ہے‘ دل غم سے آزاد ہوا۔
’’تمہارے فیصلے نے دو دلوں کو ٹوٹنے سے بچا لیا‘ آئی ایم پرائوڈ آف یو؟‘‘ شاہ نے گئیر پر اس کا ہاتھ رکھا اور گئیر لگایا۔
’’میرے لیے تو قابل فخر آپ ہیں‘ مجھے زندگی دینے کا شکریہ؟‘‘ وہ کھل کر مسکرائی اور جیسے آفاق شاہ کے رگ و پے میں زندگی دوڑنے لگی۔
’’پرنسز میں کہتا تھا ناں کہ تم صرف میرے لیے بنی ہو؟‘‘ شاہ نے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑا۔
’’ایک بات اور میں ہی ہوں جو تمہارے سارے خواب پورے کرسکتا ہوں؟‘‘ آفاق شاہ نے مڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا‘ نئے سرے سے اُسے اپنی محبت کا یقین دلایا اور سفینہ سرشاری میں ڈوبی ہوئی بے خود ہوتی مسکرا رہی تھی۔ اس کے دل کے دریچے میں شاہ کی محبت نے قدم جما دیے تھے جہاں اب کوئی خوف‘ کوئی اندیشہ نہ تھا۔
(تمت البخیر)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close