Hijaab Sep-17

چلو کچھ دیر ہنستے ہیں

حنا اشرف

’’کہاں سے آرہے ہو اس وقت؟‘‘ وہ جو چوری چھپے بچ نکلنے کی کوشش میں آہستگی سے قدم رکھتے غائب ہونے ہی والے تھے کہ اباجی کی عقابی نظروں کی گرفت میں آگئے جو آج خاص صرف انہی کی درگت بنانے وہاں تشریف فرما تھے‘ اباجی کی آواز سن کر ان کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔
’’آج تو بس مارے گئے۔‘‘ حازم کی بڑبڑاہٹ واضح طور پر باقی دونوں تک پہنچ چکی تھی۔ اباجی نے تینوں کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
وہ سنگل صوفہ پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھے ہوئے تھے تینوں آکر ان کے سامنے کھڑے ہوگئے گردنیں نیچے جھکائے ادب سے ایسے کھڑے تھے جیسے ان سا تمیزدار کوئی نہ ہو۔
اباجی نے ہاتھ میں پکڑی عینک سامنے ٹیبل پر رکھی اور ناقدرانہ نگاہوں سے باری باری تینوں کو بغور دیکھا۔
’’یہ شریف لوگوں کا وطیرہ نہیں کہ دس بجے کے بعد گھر تشریف لائیں۔‘‘
’’اباجی آج پہلی بار لیٹ ہوئے ہیں پلیز آج معاف کردیں آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ بہت کچھ کہنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد زیاد نے صرف یہی کہا۔ نظر ذرا سی اٹھائی اور اباجی کو دیکھا جو قہر آلود نگاہوں سے انہی کو گھور رہے تھے ان کے اس طرح دیکھنے پر اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی تبھی وہ دوبارہ نظریں جھکا گیا مزید کسی تکرار کے لیے کوئی گل افشانی نہ کی۔
’’برخوردار یہ آج سے نہیں بلکہ پچھلے ایک ہفتے سے تم لوگوں نے معمول بنایا ہوا ہے لازمی دس بجے کے بعد ہی گھر آنا ہے۔‘‘
’’ابا جی یہ آگ دشمن نے لگائی ہے آپ تو نو بجے ہی سو جاتے ہیں۔‘‘ اب کی بار حازم تیزی سے بولا مگر پھر اپنی اس وقت کی پوزیشن کا احساس ہونے پر فوراً ہونٹوں پر انگلی رکھ لی‘ جبکہ زمیل ابھی تک چپ کا روزہ رکھے ہوئے تھا۔
’’تمہاری عمر کے لڑکے دو‘ دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں اور تم لوگوں کا ابھی بچنا ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔‘‘ وہ گرجے۔ یہ طعنہ تو زیاد کا دل ہی جلا گیا تھا۔
’’زمیل سچ بتائو کہاں گئے تھے تم لوگ؟‘‘ ان کا رخ خاموش کھڑے زمیل کی طرف تھا دونوں نے جھٹ سے زمیل کو تہنیتی انداز میں گھورا۔
وہ دادی ماں کا لاڈلہ نواسا تھا تبھی اباجی اس سے اکثر نرمی برت جاتے تھے اور دوسرا زمیل ان دونوں کی نسبت کم جھوٹ بولتا تھا بقول حازم وہ کند ذہن تھا تبھی موقع محل کی مناسبت سے بات بنانا بھی نہ آتا تھا اسے۔
’’و… و… وہ… ابا… جی… ہم…‘‘ مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق اس نے بات شروع کرنے کی کوشش کی اس سے پہلے کہ وہ سچ اگل کر معافی طلب کرتا حازم فوراً بول اٹھا۔
’’ابا جی ہم فرینڈز کے ساتھ کمبائن اسٹڈی کرنے گئے تھے۔‘‘ اسے بر وقت بہانہ سوجھا تھا زیاد نے دل میں اسے خوب داد سے نوازا اور زمیل نے گہری سانس لی یہ بہانہ قدرے معقول تھا۔
’’برخوردار میں نے تم سے نہیں زمیل سے پوچھا ہے۔‘‘ انہوں نے تیز آواز میں کہا تو اس بے رخی پر حازم کا دل جلا‘ منہ بناتے اس نے سر جھکا لیا۔
’’حازم سچ کہہ رہا ہے ہم عمار کے ہاں اسٹڈی کرنے گئے تھے نوٹس بناتے‘ سوال حل کرتے وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا اور دس بج گئے‘ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ابھی اس سے آپ کی بات کرا دیتا ہوں۔‘‘
’’پلیز اباجی آج معاف کردیں آئندہ احتیاط کریں گے۔‘‘ وہ معصومیت سے دیکھتے ہوئے معافی طلب کرنے لگا۔
’’خیر… یقین تو مجھے اب بھی نہیں آرہا مگر صرف آخری بار رعایت دے رہا ہوں آئندہ اگر ایسا ہوا تو گھر سے نکال دوں گا۔‘‘ اچھا خاصا لیکچر دینے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو شکرکے کلمات ادا کرتے وہ دھپ سے وہیں صوفے پر ڈھے گئے۔
’’شکر آج بچت ہوگئی رونہ اباجی تو الٹا لٹکانے سے بھی گریز نہ کرتے۔‘‘
’’یہ سب تمہاری کارستانی ہے زیاد نہ تم اور عمار اتنی دیر سے مووی دیکھنے کا پروگرام بناتے نہ ہی اباجی کی ڈانٹ کھانی پڑتی۔‘‘ زمیل خفا سا بولا تو زیاد ڈھیٹ پن سے ہنس دیا۔
’’سب چھوڑو مجھے تو اباجی کی شادی والی بات سیدھا دل پر لگی ہے‘ کس قدر طنز سے انہوں نے کہا ہماری عمر کے لڑکے دو‘ دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں میرا دل تو کہہ رہا تھا کہہ ہی دوں ان سے ایک چھوڑ میں تو دو شادیاں کرنے کو بھی تیار ہوں‘ مگر یہ کمبخت پڑھائی مجھ سے نہیں ہوتی۔‘‘ حازم نے کشن منہ پر رکھتے دہائی دی زمیل نے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے کاندھے پر دے مارا۔
vm…mv
اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے وہ صبح دیر تک سوتے رہے طلعت پھوپو نے زبردستی ان تینوں کو جگایا۔
’’اب اگر یہ نالائق کچن میں تشریف نہ لائے تو ناشتے کے ساتھ ساتھ دوپہر کے کھانے سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔‘‘ یہ اباجی کی آخری وارننگ تھی جو انہیں کسی صورت منطور نہ تھی تبھی مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق نیند سے بوجھل آنکھیں لیے وہ کچن میں آکر اپنی چیئرز سنبھال کر بیٹھ گئے۔
’’پھوپو پلیز آپ سے کتنی بار کہا ہے یہ کچن کے کام نہ کیا کریں ایک تو آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی دوسرا سارا دن کسی نہ کسی کام میں لگی رہتی ہیں آپ… کچھ کام نکمّے لوگوں کے ذمہ بھی لگا دیں جنہیں مفت کی روٹیاں توڑنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں… نہ کام کے نہ کاج کے بس دشمن اناج کے۔‘‘ حازم نے طلعت پھوپی کو مخاطب کیا جو گرما گرم خستہ آملیٹ اب پلیٹ میں رکھ رہی تھیں کچن میں پھیلی خوش بو انتہائی دلفریب تھی تینوں کی نیند پل میں اُڑن چھو ہوئی اور بھوک چمکنے لگی تھی۔
تمنا جو ابھی کچن میں داخل ہوئی تھی حازم کی آخری بات سن کر سلگ کر رہ گئی دل میں خوب کوسنے لگی البتہ زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکالا کہ طلعت پھوپی کو لڑکیوں کا خوامخواہ میں بولنا‘ بحث کرنا اور لڑنا جھگڑا سخت ناپسند تھا۔
’’پھوپو آپ کو دادا ابا بلا رہے ہیں۔ یہ چھوڑیں میں تیار کر دیتی ہوں۔‘‘ ناشتہ تیار کرنے کے بعد وہ چائے پکانے ہی لگی تھیں کہ تمنا نے اباجی کا پیغام سنایا۔
’’جان تمنا اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے مزے دار کڑک سی چائے پکا کر پلا دو۔‘‘ حازم نے پراٹھے کا بڑا سا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھ کر کن اکھیوں سے تمنا کو دیکھتے ہوئے بڑے پیار سے حکم جاری کیا۔
’’سنو میں تمہاری نوکرانی نہیں ہوں لہٰذا یہ حکم نامے مجھے نہ ہی دیا کرو تو بہتر ہے دوسرا کتنی بار بکواس کرچکی ہوں میرا نام تمنا ہے جان تمنا نہیں اب اگر تم نے ایسی ویسی کوئی بات کی تو منہ توڑ دوں گی تمہارا سمجھے۔‘‘ کمر پر ہاتھ ٹکا کر وہ گرجی طلعت پھوپی کی غیر موجودگی کا خوب فائدہ اٹھایا گیا تھا۔
’’الٰہی خیر… صبح صبح جل ککڑی کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں آج تو یقینا کسی کی خیر نہیں۔‘‘ حازم کے ساتھ ہی باقی دونوں کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔
تمنا کا تپا ہوا چہرہ دیکھ کر حازم کو دلی سکون محسوس ہوا‘ وہ ہمیشہ ایسا کرتا تھا اسے مل کر بے تحاشا تنگ کیا جاتا اسے رلا کر زیاد اور حازم اس کا خوب ریکارڈ لگاتے زمیل ان کے سامنے تو کوئی غداری نہ کرسکتا تھا البتہ کبھی کبھار ان کی غیر موجودگی میں تمنا سے سوری کرلیتا۔ ناشتے کے بعد اب وہ تمنا کے ہاتھ کی پکی چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
’’سب چھوڑو‘ تم چائے بہت مزے کی پکاتی ہو سچی تمہارے سسرال والے بلکہ مراد گنجو تو ہر وقت چائے کی فرمائش کرے گا۔‘‘ حازم کی طرف ایک آنکھ دبا کر دیکھتے زیاد کی شرارت کی رگ پھر پھڑک اٹھی۔
’’میں دادا ابا سے تمہاری شکایت لگائوں گی تم بہت بدتمیز ہوتے جارہے ہو۔‘‘ پیر پٹختی وہ کچن سے باہر نکل گئی‘ ان کے قہقہے کی گونج نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔
vm…mv
حازم میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی آئی ہیٹ یو‘ تم لوگ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہو اور اس مراد کے بچے کو تو زندہ نہیں چھوڑوں گی‘ وہ ہوتا کون ہے‘ میرے رشتے کے لیے چاچا منشی کو بھیجنے والا… کچا چبا جائوں گی سب کو۔‘‘
’’کیا ہوا ہے ابھی تو اچھی بھلی باہر گئی تھی۔‘‘ بمشکل خود کو رونے سے روکتی وہ بستر پر بیٹھ گئی تو کمرے کی صفائی میں مصروف شہزینہ فوراً اس کے قریب آئی۔
’’وہ تمہارا غنڈہ بھائی اور سڑیل زیاد کسی ہٹلر سے کم نہیں ہیں ان کے ہوتے ہوئے مجھے کبھی چین نہیں آسکتا۔‘‘ شہزینہ کو دیکھ کر اس کے آنسو چھلک پڑے۔
’’پگلی وہ تو تم سے مذاق کرتے ہیں تم جو بات بات پر رونے لگتی ہو اور تمہارے چڑ جانے پر وہ شیر ہوجاتے ہیں دو بدو جواب دو بہادر بنو پھر دیکھنا۔‘‘
’’میں دادا ابا کے پاس جارہی ہوں آج تو ان سب کی خیر نہیں۔‘‘ وہ پھر سسکی۔
’’کیا ہوگا پھر‘ تمہاری اس شکایت پر اباجی ان کو دو چار باتیں سنائیں گے اور بدلے کے طور پر وہ لوگ پھر سے تمہیں تنگ کریں گے اس سے بہتر تو یہ کہ تم کوئی ایسا حربہ آزمائو سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘ آنکھوں میں چمک لیے ہونٹوں میں مسکراہٹ دبائے زینی چہکی۔
’’وہ کیسے…؟‘‘ تمنا اس کے قریب ہوئی۔
’’آئو میں بتاتی ہوں تمہیں۔‘‘ اور پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر زور سے ہنس دیں۔
آنکھوں میں نمی‘ چہرے پر مسکراہٹ وہ حسین سے حسین تر لگ رہی تھی۔ شہزینہ نے بے ساختہ نظریں چرائیں مبادہ کہیں تمنا کو اس کی نظر ہی نہ لگ جائے اور پھر تینوں کی عدالت اباجی کے سامنے لگ گئی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ سر جھکائے کھڑے تھے۔
یہ عزت افزائی پہلی بار تو نہیں ہورہی تھی مگر جو بات انہیں پیچ و تاب کھانے پر مجبور کررہی تھی وہ تمنا اور شہزینہ کی وہاں موجودگی تھی۔ حازم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنی بہن کم دشمن زیادہ شہزینہ اور اس ڈرامے باز تمنا کو کچا چبا ڈالے۔
’’اس زینی کی بچی کو تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا جھوٹی‘ مکار‘ غدار‘ یہ صلہ دیا میری حق حلال کی کمائی کا جو اس پر خرچ کرتا رہا اور یہ تمنا اسے تو میں سگی بہن سمجھتا تھا مگر اس نے بھی لحاظ نہ کیا۔‘‘ زمیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان کا گلہ دبا ڈالے اور یہی زیاد اور حازم کی دلی مراد بھی تھی زمیل کی بڑبڑاہٹ انہیں صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’یہ منہ ہی منہ میں کیا بکے جارہے ہو زور سے بولو تاکہ تمہارے ارشادات ہم بھی تو سنیں۔‘‘ اباجی نے اپنی وفادار چھڑی زور سے زمین پر ماری‘ زیاد کی تو اوپر دیکھ کر آنکھیں ہی ابل پڑیں ایک لمحے کو تو اسے یہی لگا تھا کہ چھڑی ان تینوں میں سے کسی ایک کا درشن کرنے والی ہے مگر سکون کی سانس تب خارج ہوئی جب وہ زمین سے ٹکرائی بے ساختہ شکر کے کلمات اس کے منہ سے ادا ہوئے۔
’’اباجی… پلیز معاف کردیں سچ میں یہ ہمارے کارنامے نہیں…‘‘ نظر بچا کر اس نے ایک زہریلی نگاہ ان دونوں پر ڈالی‘ چہرے پر چھائی مسکینیت تو دیکھنے ہی والی تھی۔
دوسری طرف ان دونوں کا بس نہ چل رہا تھا زور زور سے قہقہے لگائیں‘ ہنسی کے فوارے کو ضبط کرکے جس طرح بیٹھی تھیں یہ تو بس وہی جانتی تھیں تمنا کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا مگر ضبط کا دامن اس نے بھول کر بھی نہ چھوڑا دل میں تو جیسے ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی۔
’’رئیلی اباجی ہمیں بالکل بھی معلوم نہیں یہ موویز آخر یہاں آکیسے گئیں۔‘‘
’’آپ ہمیں جانتے ہیں ناں ہم ایسی بے ہودہ فلمیں اور ڈرامے بالکل نہیں دیکھتے۔‘‘
’’ہاں برخوردار ہم ہی تو آپ کے بارے میں اچھی طرح سے جانتے ہیں ہمارے ہی ہاتھوں پل بڑھ کر جواں ہوئے ہو‘ تم لوگوں کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ کون کس طرح سے اور کس راہ پر چل رہا ہے‘ تم لوگوں کی ہر کارکردگی سے بخوبی واقف ہوں اور اب میں ان تمام بدتمیزیوں کو برداشت نہیں کرسکتا سو تم لوگوں کی اگلے ایک ہفتے کی پاکٹ منی بند کرنے کے ساتھ ساتھ میرا یہ حکم ہے تم لوگ میرے سامنے آکر مجھ سے ہمکلام ہونے کی کوشش نہیں کرو گے اور نہ ہی اسٹڈی روم میں تشریف لے جائو گے۔‘‘ اباجی کے حکم نامے کو سن کر صحیح معنوں میں ان کے ہوش اڑ گئے تھے۔ سب سے پہلے حازم‘ ہوش میں آیا۔
’’اباجی پلیز ہم معصوموں پر کچھ رحم کریں اور اپنے اس حکم میں کچھ ترمیم کریں۔‘‘ وہ حواس باختہ سا ان کے قدموں میں آبیٹھا۔
’’جی بالکل ہم معصوم آپ کے بغیر رہ سکتے ہیں مگر ہماری پاکٹ منی…‘‘ یہ زیاد تھا زبان تھی کہ اچانک پھسلی اپنے الفاظ کا ادراک تو اس کو تب ہوا جب زمیل نے بڑے زور سے کہنی اس کی پسلیوں میں ماری‘ اباجی سخت نظروں سے گھور کر وہاں سے تشریف لے گئے تھے۔ حازم نے سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر اباجی کی نشست سنبھال لی۔
’’پڑ گئی دل میں ٹھنڈک‘ مل گیا سکون‘ دیکھنا اب کیسے تم دونوں کے کام کرتا ہوں اور یہ ہماری والدہ محترمہ کہاں ہیں‘ مجال ہے جو ذرا بھی ترس آتا ہو انہیں‘ لوگ یہاں جوان بیٹے کی بے عزتی کیے جاتے اور وہ چپ سادھے خاموشی سے سب دیکھتی رہتی ہیں میں نے تو سنا تھا اصل سے سود زیادہ پیارا ہوتا ہے مگر یہاں تو لوگ دشمنوں کے ساتھ بھی وہ سلوک نہیں کرتے جو ہمارے ساتھ ہورہا۔‘‘ زمیل تو جیسے رو دینے کو تھا۔
’’مجھے بھی نہیں رہنا یہاں۔‘‘
’’ہماری ایک منٹ کی انجوائے منٹ بھی برداشت نہیں ہوتی لوگوں سے نہ ٹی وی‘ نہ کیبل‘ ایک لیپ ٹاپ رکھا بھی تو ہمارے کس کام کا وہ اس پر بھی اباجی اور ان کی چہیتوں کا قبضہ‘ ہم رات گئے تک باہر گھوم پھر نہیں سکتے اور سب سے اہم لانگ ڈرائیو کے مزے لوٹنے سے بھی رہے‘ گاڑی تو دور کی بات بائیک تک نہیں دی گئی‘ اس عمر میں لڑکوں کی کئی کئی گرل فرینڈز ہوتی ہیں اور ہم اس ڈر سے راہ چلتی لڑکی تک کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ کہیں اباجی کو خبر نہ ہوجائے۔‘‘ زمیل کے بعد اب زیاد بھی نان اسٹاپ اپنے دکھڑے سنانا شروع ہوچکا تھا۔
’’میں آزادی کی زندگی جینا چاہتا ہوں نفرت ہے مجھے ایسی پابندیوں سے اور ایسے لوگوں سے بھی جو ہماری آزادی کے سامنے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں محترمہ شہزینہ اور عزت مآب تمنا صاحبہ تم دونوں کی جرأت کیسے ہوئی ابا جی کو ہمارے کارنامے سنانے کی۔‘‘ اب حازم کی باری تھی خشمگیں نگاہوں سے گھورتا وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے آٹھہرا۔
’’حازم بھیا سچ میں ہم نے اباجی کو نہیں بتایا۔‘‘ بڑے بھائی کی سنجیدگی دیکھ کر شہزینہ روہانسی ہوئی۔
’’ہم تو یہاں اسٹڈی کے لیے آئے تھے دادا ابا آل ریڈی یہاں موجود تھے۔‘‘
’’میں تمہاری چال بازی سے واقف ہوں تمنا بی بی۔‘‘
’’اچھا فی الوقت سب چھوڑو یہ بتائو مووی کون سی تھی۔‘‘ تھوڑا سا آگے ہوکر حازم کی طرف جھک کر وہ راز داری سے بولی چہرے پہ چھائی سنجیدگی کے باوجود حازم کی ہنسی چھوٹ گئی شہزینہ نے اطمینان بھرا سانس لیا اور دھپ سے پیچھے پڑے صوفے پر ڈھے گئی۔
’’کیسا رہا پلان ایسے لیتے ہیں بدلہ۔‘‘ ان کے جانے کے بعد جب تمنا اس کے ساتھ بیٹھی تو چمکتی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ کر کہا اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں۔
لیپ ٹاپ میں موویز کی فائل جو حازم لوگوں نے چھپا کر سیو کر رکھی تھی وہ فولڈر بائے چانس کل شہزینہ نے دیکھ لیا تھا سو اس بار ان کی بازی انہی پر پلٹتے ہوئے اس نے بڑی دیدہ دلیری اور خاموشی سے وہ فائل اباجی کے سامنے کردی تھی اور پھر اس بار انہوں نے اگلی پچھلی تمام کسر پوری کردی تھی۔
vm…mv
اباجی کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا اور وہ اپنے اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ حب الوطنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی‘ تبھی ان کی خواہش پر ان کے دو بیٹوں نے پاک فوج میں جانے کا فیصلہ کیا تھا گائوں کے لوگ ان کا بے حد احترام کرتے اور اپنے فیصلے انہی سے کراتے ہر چھوٹی بڑی بات میں ان کا مشورہ ضرور لیا جاتا۔ وہ انتہائی محنتی اور بلا کے ذہین شخص تھے ان کے والد صاحب نے انہیں شہر جا کر کاروبار کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اپنے گائوں میں رہتے ہوئے وہاں کے رہنے والے لوگوں کی زندگی سنوارنا چاہتے تھے‘ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے اس طور سے جیوں گا کہ لوگ مرنے کے بعد بھی مدتوں مجھے اپنی دعائوں میں یاد رکھیں گے۔ گائوں میں اس وقت کوئی اسکول نہ تھا تب انہوں نے ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیاد رکھی تھی تب وہ خود بھی پڑھنے کے لیے شہر جاتے تھے بعد ازاں ان کی محنت سے گائوں میں پہلے پرائمری اور پھر ہائی اسکول کی ابتدا ہوگئی تھی۔
ان کی شدید خواہش تھی کہ گائوں کا بچہ بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے وہ اصول پرست ہونے کے ساتھ تھوڑے سخت مزاج بھی تھے‘ ان کی محنت‘ لگن اور جذبہ رنگ لایا تھا اور آج ان کا شمار کامیاب ترین لوگوں میں ہوتا تھا گائوں کے بہت سے جواں پاک آرمی جوائن کرچکے تھے اباجی اب ریٹائر ہوچکے تھے۔
حازم کے والد محترم بوائز کالج کے پرنسپل تھے ان میں بھی وہی جوش و جذبہ تھا جو کہ اباجی میں تھا۔ اباجی کی دلی خواہش تھی کہ ان کے بچوں کی تمام اولاد بھی پڑھ لکھ کر اونچے عہدوں پر پہنچ جائے مگر ہوا اس کے برعکس۔ لڑکیاں تو سب ذہین تھیں لڑکوں میں صرف زیاد‘ زمیل اور حازم ہی تھے جو کبھی سنجیدہ نہ ہوئے انہیں لائف انجوائے کرنے کا شوق تھا جوانی کا دور تھا تبھی بڑوں کی سخت کسیلی باتیں انہیں ناگوار گزرتیں جن کا وہ برملا اظہار بھی کرتے۔
گائوں میں ان کے بہت سارے دوست تھے تبھی پڑھائی کے علاوہ وہ دوسری ایکٹیویٹیز میں زیادہ مصروف رہتے سختی کے باوجود وہ چپکے سے گھر سے نکل جاتے ان پر پابندیوں کا بھی خاطر خواہ اثر نہ ہوتا تھا تبھی اباجی نے فیصلہ کیا وہ اس وقت تک شہر والے گھر میں شفٹ ہوجائیں گے جب تک ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوجاتی۔ بس جی پھر ہوا یہ کہ اباجی اپنے ساتھ ان تین عدد معصوم بچوں کا سامان تیار کروا کر ان کی آہ و زاریاں خاطر میں نہ لاکر شہر والے گھر میں شفٹ ہوگئے۔
بعد ازا وہ شہرینہ اور تمنا کو بھی ساتھ لے آئے زمیل کے والد کا انتقال اس کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا تب اباجی اپنی اکلوتی بیٹی طلعت کو اپنے گھر لے آئے تھے طلعت پھوپی سب بچوں کی فیورٹ تھیں سو شہر والے گھر میں جاتے ہوئے جب خاتون خانہ کو لے جانے کا مسئلہ درپیش آیا تو بچوں نے خود طلعت پھوپی کا نام لیا وہ تو سمجھے تھے ان کی نرم مزاج اور رحم دل پھوپی ان پر کبھی سخت وقت نہیں آنے دیں گی مگر اس بات کا اندازہ انہیں پہلے ہی ہفتے ہوگیا طلعت پھوپی نے تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لی تھیں‘ مجال ہے جو کبھی اباجی کی ڈانٹ سے بچایا ہو یا ان کی ڈانٹ کے بعد کوئی مرہم یا پیار و تسلی بھرے دو لفظ کہے ہوں۔
زیاد اور زمیل بدظن ہوئے سو ہوئے مگر حازم نے دکھڑے سنا سنا کر انہیں بھی اپنے بس میں کرلیا‘ اب وہ بھی بغیر سوچے سمجھے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے‘ بے شک وہ پڑھائی میں ذہین نہ تھا مگر اس کا مقابلہ کرنا بھی کسی کے بس کا روگ نہ تھا جب وہ بولنے پر آتا تو بڑے بڑوں کو چپ کرا دیتا مگر اباجی کے سامنے اس کی اپنی بولتی بند ہو جاتی اور اس کی واحد کمزوری کا فائدہ کوئی اٹھائے یا نہ اٹھائے مگر تمنا بھرپور فائدہ اٹھاتی۔ حازم کو جتنی چڑ تمنا سے تھی اتنی تو اباجی سے بھی نہ تھی۔
کہنے کو تو تمنا اباجی کی اصلی والی پوتی تھی مگر وہ ابا جی کے چھوٹے بھائی صاحب کے چھوٹے بیٹے کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھی اور یہی بات سب سے زیادہ اسے احساس دلاتی کہ وہ ابھی تک بالکل چھوٹی سی بچی ہے۔ اباجی اس کے منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتے تھے تمنا کے والد کی وفات کے بعد تو اباجی اس پر اور زیادہ پیار نچھاور کرنے لگے تھے۔ حازم کا کہنا تھا کہ اباجی مستقبل قریب میں اس تمنا کو ضرور اپنے پوتے یا نواسے کے ساتھ بیاہیں گے۔
’’تاریخ گواہ ہے سیانے کہتے ہیں خاندان میں جس کزن کے ساتھ زیادہ لڑائی جھگڑا یا ان بن ہو تو قسمت اسی کے ساتھ پھوٹتی ہے۔‘‘ زیاد اسے یہ کہہ کر دوبدو جواب دیتا تو حازم بلبلا کر رہ جاتا یہ بات تو سب کے سامنے تھی۔
تمنا اور حازم کی بچپن سے آج تک کبھی نہ بنی تھی وہ مل کر اس کے سامنے ہی اسے سنائے جاتے کہ ان کا ہر راز وہ بڑوں کے سامنے افشاں کردیتی۔
’’پکی میسنی ہے یہ تمنا میرا بس چلے تو اسے کراچی کے سمندر میں پھینک آئوں‘ پھر کبھی نہ ملے۔‘‘ یہ زیاد تھا جسے انگلش کم ہی آتی تھی اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اباجی کے سامنے زیاد سے انگلش میں بات کرتی شام میں اباجی جب انہیں اپنی نگرانی میں پڑھانے کے لیے بٹھاتے تو ہر دو منٹ بعد وہ بڑی چالاکی سے حازم کو مخاطب کرکے کہتی۔
’’حازم پلیز ذرا یہ پیراگراف تو سمجھا دو بالکل سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ اور اباجی کے سامنے وہ محض اسے آنکھیں دکھا سکتا تھا یا پھر دانت کچکچا کر رہ جاتا ان کے برعکس زمیل کو کافی حد تک چھوٹ دی جاتی تھی۔
vm…mv
’’کیا ہوا ایسے کیوں مسکرائے جا رہے ہو۔‘‘ وہ ڈرائنگ روم میں کارپٹ پر آڑھا ترچھا لیٹا ہوا تھا آنکھیں بند اور لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ زیاد فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا جبکہ زمیل نے محض ایک نظر اسے دیکھ کر گود میں رکھی کتاب پر نظریں جمالیں کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ٹاپک رٹنے کی کوششوں میں تھا مگر ایک لفظ بھی پلے نہ پڑ رہا تھا۔ رات میں نے ایک حسین خواب دیکھا۔ خواب کا ذکر سن کر زمیل بھی کتاب بند کرکے اس کے پاس آبیٹھا۔
’’کیسا خواب؟‘‘ زیاد چونکا۔
’’اللہ خیر کرے کس حسینہ مہہ جبینہ کو دیکھ لیا۔‘‘ تمنا کو اباجی نے ان کی نگرانی کے لیے وہاں بھیجا تھا تاکہ وہ دیکھ آئے کہ وہ نالائق پڑھ بھی رہے ہیں یا باتوں میں مصروف ہیں اور پچھلے ایک گھنٹے میں یہ اس کا پانچواں چکر تھا۔
شہزینہ آج طلعت پھوپی کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔ انواع و اقسام کے کھانے پکائے جارہے تھیں گائوں سے اباجی کے دیرینہ جگری دوست تشریف لا رہے تھے۔
’’میں نے خواب میں دادی اماں کو دیکھا اور پتا ہے انہوں نے کیا کیا؟‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ چپ ہوا تو تجسس کے مارے زیاد اور زمیل کے ساتھ تمنا کے منہ سے بھی بے ساختہ کیا نکلا۔
’’انہوں نے اباجی سے فرمائش کی ہے کہ جان تمنا کو میرے پاس بھیج دیں میں یہاں اکیلی ہوں اپنی پیاری پوتی کو اپنے پاس دیکھ کر کچھ سکون مل جائے گا۔‘‘ وہ کچھ اور کہنے والا تھا تمنا کے چہرے پر پھیلے تجسس کو دیکھ کر اس کے منہ سے کچھ اور نکل گیا۔
مسکراہٹ ہونٹوں میں دبائے وہ اٹھ کر تمنا کے عین سامنے آٹھہرا اس کی پھیکی پڑتی رنگت دیکھ کر اسے مزید شرارت سوجھی۔
’’جان تمنا دادی ماں بہت اکیلی ہیں پلیز تم جائو ناں ان کے پاس۔‘‘ اس قدر پیار سے کی گئی درخواست نے تمنا کی سانس تک روک دی۔
’’میں نے نہیں جانا… ابھی میں نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے؟‘‘ پھر جب وہ بولی تو کانپتی آواز نے اس کا ساتھ دینے سے بھی جیسے انکار کردیا۔
’’ہاں نہیں تو اور کیا؟ ابھی تو اپنی تمنا کی شادی بھی نہیں ہوئی اور تم جانتے نہیں ہو اباجی نے اس کا رشتہ اس گنجو مراد سے کرنے کا سوچ رکھا ہے وہ بے چارہ ابھی تو آدھا گنجا ہے اور تمنا ابھی سے اسے چھوڑ کر چلی گئی تو وہ پورا گنجا ہوجائے گا سو ہم دادی ماں سے معذرت کرلیں گے تمنا کی بجائے زینی کو بلائیں۔‘‘ زیاد جو اپنی ہانکے جا رہا تھا آخر میں وہاں آتی شہزینہ پر چوٹ کر گیا شہزینہ نے خشمگیں نگاہوں سے پہلے زیاد اور پھر حازم کی طرف دیکھا زمیل نے اس بات کا بخوبی فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی سے کتاب اٹھا کر چہرے کے سامنے کرلی‘ کہیں وہ جا کر اباجی سے اس کی بھی شکایت نہ کردے۔
’’تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ہر وقت شرارت سوجھی رہتی ہے۔‘‘
’’او… بڑی بی… جائو اپنا کام کرو زیادہ فلاسفر بننے کی ضرورت نہیں۔‘‘ شہزینہ جو انہیں اچھا خاصا سنانے کی خواہش مند تھی زیاد نے اس کی بات درمیان میں اچک لی تھی۔
’’تم… تم… انتہائی…‘‘
’’ہاں تو کیا… میں…؟ اچھی طرح جانتا ہوں انتہائی خوب صورت ہوں کالونی کی آدھی سے زیادہ لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر بس گھر والوں کو ہی قدر نہیں۔‘‘ زیاد کا لہجہ ترشی اور طنز سے بھرپور تھا۔
’’میں جا کر دادا ابا سے کہتی ہوں تم نکمے لوگ محض بکواس میں وقت گزاری کررہے ہو۔‘‘ اس سے پہلے کہ تمنا دھمکی دے کر مڑ کر واپس جاتی حازم نے آگے بڑھ کر سختی سے اس کا بازو دبوچا۔
’’تم… گھنی… میسنی… پھاپھے کٹنی… لگائی بجھائی کے علاوہ بھی کوئی کام ہے تمہیں۔‘‘ حازم دانت پیستے ایسے بولا جیسے ابھی تمنا کو کچا چبا ڈالے گا۔
’’سنو لڑکی ہم نے کبھی ایسے تمہارے گھر آکر تمہاری شکایتیں لگائیں؟ ہمارے اباجی کو ہمارے خلاف کردیا تم نے ہم کبھی معاف نہیں کریں گے تمہیں۔‘‘ زمیل روہانسے انداز میں بولا۔
’’زمیل بھائی آپ کو تو میں اچھا بھلا آدمی سمجھتی تھی مگر اب مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ان کے ساتھ رہتے ہوئے آپ بھی انہی کے جیسے ہوگئے ہیں۔‘‘ تمنا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بے چارگی سے کہا۔ شہزینہ ماتھے پہ بل دیے زمیل اور زیاد کو گھور رہی تھی حازم صاحب تو کسی صورت اس کے ہاتھ میں آنے والوں میں سے نہ تھے دوسرا وہ بڑا بھائی ہونے کا رعب بھی خوب جماتا۔
’’دیکھو لڑکی میں آخری وارننگ دے رہا ہوں اب اگر ہمارے گھر کے مسائل میں ٹانگ اڑانے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا اور اب اگر اباجی کو کوئی بات بڑھا چڑھا کر بھی بتائی تو میں اچھی طرح نمٹ لوں گا تم سے اچھی طرح جانتا ہوں میں تم دونوں کو‘ ہمارا دیر سے گھر آنا‘ دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور اسٹڈی روم میں چھپ کر موویز دیکھنا یہ سب تم اباجی کو بتاتی ہو۔‘‘
’’ہاں تو تم لوگوں کو کس نے کہا چوروں کی طرح کھڑکی کے ذریعے اپنے روم سے نکل کر اسٹڈی روم میں چھپ کر موویز دیکھو۔‘‘
’’کیا مطلب… تمہیں کس نے کہا کہ ہم کھڑکی سے نکل کر اسٹڈی روم میں جاتے ہیں۔ زمیل… کیا… تم نے؟‘‘ شہزینہ کو غصے سے دیکھنے کے بعد اس نے اپنا رخ فوراً زمیل کی طرف کرکے گرج کر پوچھا۔ زمیل حواس باختہ ہوا۔
’’قسم سے یار میں کیوں بتائوں گا؟‘‘
’’میں نے بتایا ہے زینی کو میں نے اپنی آنکھوں سے تم تینوں کو کئی بار نکلتے دیکھا ہے یہ عقدہ تو کافی تگ و دو کے بعد کھلا کہ وہاں چھپ چھپ کر موویز دیکھی جاتی ہیں۔ ویسے ایک بات کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی تم لوگ ایسا کرتے کیوں ہو‘ یہ کام اپنے روم میں بھی تو آسانی سے کیا جاسکتا ہے؟‘‘ اپنا بازو نرمی سے حازم کی گرفت سے چھڑاتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’تمنا… کتنی بھولی ہو تم؟ ہمیں پاگل سمجھا ہے کیا‘ ہم پکے کھلاڑی ہیں بچو… پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑتے‘ بالفرض ہم لیپ ٹاپ روم میں لے آئیں جو اگر اباجی نے اچانک چھاپا مار لیا تو؟ سو مائی ڈیئر لٹل سسٹر ہم روم اندر سے لاک کرکے ونڈو سے باہر چلے جاتے ہیں لائٹ بھی آف کردی جاتی ہے جو اگر اباجی بھولے سے بھی ادھر آنکلیں تو ہمیں سوتا سمجھ کر واپسی کی راہ لیں اب رات کے کسی پہر وہ اسٹڈی روم میں تو جانے سے رہے۔‘‘ جواب حازم کی بجائے زیاد نے دیا تھا۔
حازم نے زور سے ہاتھ کا مکا بنا کر زیاد کے کاندھے پر دے مارا اور زمیل نے ساتھ پڑا کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔
’’بدتمیز انسان اپنے راز دشمنوں کو بتا رہا ہے تجھے تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوچکے تھے تمنا نے جان چھوٹنے پر شکر ادا کیا اور شہزینہ کو وہاں سے نکلنے کا اشارہ کرتی اس کے ساتھ ہی باہر نکل گئی۔
اباجی اپنے دوست کو لینے کے لیے روانہ ہوچکے تھے تبھی اب انہیں کھل کر شور کرنے کا موقع مل گیا تھا ایسے نادر مواقع بہت کم انہیں دستیاب ہوتے کچن سے فری ہوکر طلعت نے انہیں ان کے حال پر چھوڑا اور اپنے روم میں چلی گئیں۔
vm…mv
تینوں بھوک ہڑتال کیے منہ سر لپیٹے روم میں پڑے تھے اباجی سخت خفا تھے۔ کسی صورت معافی بھی نہیں مل رہی تھی۔ اس بار وجہ بہت اہم تھی اباجی نے ان کے ارمانوں کا خون ہی تو کردیا تھا ان کے سب یار دوست اور کلاس فیلوز کالج ٹرپ پر گلگت جارہے تھے جہاں جانا ان کا وہ خواب تھا جو ابھی تک پورا نہ ہوسکا تھا اس بار ہاتھ آیا موقع وہ کسی صورت نہیں گنوانا چاہتے تھے۔ زمیل نے مشورہ دیا کہ چپکے سے نکل چلتے ہیں بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
’’اباجی بعد میں گھر میں گھسنے بھی نہیں دیں گے بعد میں بتانے کا موقع بھی نہ مل سکے گا۔‘‘ زیاد کو زمیل کا مشورہ قابل قبول نہ لگا۔
حازم کا خیال بھی یہی تھا اجازت لے کر چلتے ہیں نہیں تو خرچہ پانی کے لیے کیا کریں گے کوئی بھی دوست اتنی بڑی رقم ان تینوں کو ادھار دینے پر تیار نہ تھا۔ اپنی ساری پاکٹ منی وہ ایک ہفتہ خرچ نہ ملنے پر استعمال کرچکے تھے‘ نجانے کیوں حازم کا دل کہہ رہا تھا اس بار اباجی لازمی اجازت دے دیں گے‘ وہ کوئی لڑکیاں تھوڑی نہ تھے جنہیں گھر سے زیادہ دور جانے کی اجازت نہ ملتی‘ تمنا کی خوب منت سماجت کرکے ڈھیر سارے تحائف اس کی پسند سے لانے کا لالچ دے کر انہوں نے اپنا پیغام اباجی تک اس کے ذریعے پہنچایا۔ انہیں قوی یقین تھا اب تو اجازت مل کر رہے گی۔ اگلے پانچ منٹ میں ہی ان کی حاضری اباجی کے سامنے لگ چکی تھی۔
تمنا کا ہنستا مسکراتا پر جوش چہرہ دیکھ کر انہوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اور تیزی سے وہاں پہنچ گئے جو کچھ ابھی ہونے والا تھا ایسا تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ زیاد شدت جذبات سے مغلوب ہوکر اباجی کے قدموں میں ہی بیٹھ گیا۔
’’اباجی آئی نو آپ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں ہم بہت اسٹوپڈ ہیں جو آپ کو اتنا تنگ کرتے نجانے کیا کچھ سوچتے ہیں آپ کے بارے میں پر آپ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہم آپ کو بہت عزیز ہیں۔ یو آر گریٹ اباجی‘ آئی لو یو سو مچ۔‘‘ نم آنکھوں سے اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر لبوں سے لگانے کے بعد آنکھوں سے لگائے حازم اور زمیل تو عش عش کر اٹھے اس سے پہلے کہ وہ بھی زیاد کی طرح عقیدت کا مظاہرہ کرنے کے لیے آگے بڑھتے کہ اباجی غضب ناک آواز سماعت سے ٹکرائی۔
’’دفع ہوجائو گستاخ‘ ابھی اور اسی وقت نکل جائو میرے گھر سے۔‘‘ اباجی کی گرجتی آواز نے ان دونوں کے بڑھتے قدم روک دیے تھے۔ طلعت پھوپی ہانپتی کانپتی گرج دار آواز سن کر وہاں آئیں وہاں کی صورت حال دیکھ کر گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
’’اباجی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ لڑکھڑاتی زبانی سے کہتا وہ فوراً پیچھے کی طرف ہوا کہیں اباجی اس کی گردن ہی نہ مروڑ دیں ان کا پُر جلال انداز دیکھ کر حازم کی آنکھیں گویا ساکت ہوگئیں‘ وہ ایسے ٹھہرے جیسے چابی سے چلتے کھلونے کو اچانک بند کردیا گیا ہو۔
’’تم جیسے نکمّے کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کرسکتے کبھی کسی کی خوشی کا خیال نہیں آتا میں نے ہمیشہ تم لوگوں سے توقع رکھی مگر مجھے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔‘‘ اباجی کے غصے بھرے انداز پر وہ ہکابکا رہ گئے۔
’’اگر اجازت نہیں دینی تو نہ دیتے مگر اس طرح چیخنے چلانے کی کیا ضرورت۔‘‘ حازم محض سوچ کر رہ گیا۔ زیاد نے بے چارگی سے پھوپی کی طرف دیکھا وہ ابھی تک کارپٹ پر دوزانوں بیٹھا تھا۔
’’اباجی اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم نہیں جائیں گے مگر پلیز غصہ ختم کریں آپ کا یہ انداز میرے لیے سخت تکلیف کا باعث بن رہا۔‘‘ حازم نے نظریں جھکا کر آہستگی سے کہا۔
’’تکلیف… کیسی تکلیف حازم صاحب اصل تکلیف تو مجھے محسوس ہورہی ہے اتنی کہ میرا دل چاہ رہا ہے کہ تم لوگوں کو مار دوں یا پھر خود کو ختم کرلوں۔‘‘ وہ بھیگی آواز میں بولے تو تینوں نے چونک کر انہیں دیکھا شہزینہ نے پانی سے بھرا گلاس اباجی کو تھمایا جو انہوں نے ایک ہی سانس میں ختم کردیا۔
’’اباجی… ک… ک… کیا ہوا ہے؟‘‘ زمیل کی پھنسی ہوئی آواز نکلی تو انہوں نے خاموشی سے سائیڈ ٹیبل پر پڑے کاغذ اٹھا کر زیاد کی گود میں پھینکے۔
یہ کالج سے آئے ہوئے رزلٹ کارڈ ہیں جس قدر شاندار محنت کی ہے پھل بھی خوب ملا ہے زیاد نے کانپتے ہاتھوں سے لفافے لیے اس کا سانس رک سا گیا زمیل اور حازم میں ابھی بھی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر ایک نظر رزلٹ ہی دیکھ سکیں۔ حازم دو جبکہ وہ خود ایک سبجیکٹ میں فیل تھا زمیل کے پاسنگ مارکس بھی نہ ہونے کے برابر تھے اس کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ حازم اور زمیل کو لے کر اس زمین میں جا سمائے اس قدر شرمندگی کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
’’بہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب میں مزید برداشت نہیں کرسکتا اسی لیے ہم گائوں واپس چلے جائیں گے پڑھائی ختم اب وہیں کوئی کام دھندا کرلینا ذرا سی شرم یا لحاظ باقی ہے تو ماں باپ کا دل خوش کرنے کی کوشش کرو میری تو تمام تر امیدیں ختم ہوچکی ہیں‘ تم لوگوں سے‘ میرے خواب چکنا چور کردیے تم سب نے۔‘‘ وہ تھکن زدہ لہجے میں کہہ کر اپنے روم میں چلے گئے ان کے جانے کے بعد تمنا اور شہزینہ بھی وہاں نہ ٹھہریں۔
’’امی قسم سے ہم نے بہت محنت کی تھی مگر…‘‘ زمیل کا لہجہ لڑکھڑایا اور وہ بات بھی مکمل نہ کرسکا۔
’’زمیل مجھے افسوس اس بات کا نہیں کہ تم لوگ امتحان میں ناکام ہوئے اصل دکھ تو اس بات پر ہے کہ تم لوگوں نے ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا… جو لوگ اپنے بڑوں کی خوشیوں کو نظر انداز کرکے اپنی من مانیاں شروع کردیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اباجی نے ہمیشہ تم لوگوں کا بھلا چاہا کیا کچھ نہیں کیا تم لوگوں کے لیے اپنوں سے دور یہاں صرف تم لوگوں کی خاطر رہ رہے ہیں مگر کیا صلہ دیا انہیں۔‘‘ طلعت پھوپی بھی انہیں اکیلا چھوڑ کر جاچکی تھیں شرمندگی سے دوچار وہ ایک دوسرے سے بھی نظریں چرانے پر مجبور ہوگئے تھے۔
’’یار اتنے برے پیپر بھی نہیں دیے تھے تو پھر ایسا رزلٹ کیوں؟‘‘ زیاد نے شرمندگی سے کہا تو حازم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’زیاد کبھی کبھی قسمت بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے تب ہمیں خود کو سدھارنے کا ایک بہترین موقع مل جاتا ہے گویا اب ہمیں ایک چانس ملا ہے اپنی محنت اور لگن سے کچھ کر دکھانے کا اور میں یہاں بیٹھ کر ابھی تم دونوں سے عہد کرتا ہوں میں اباجی کا ہر وہ خواب پورا کروں گا جو انہوں نے ہمارے حوالے سے دیکھا ہے۔‘‘
’’میں بھی اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘‘ حازم کے بعد زیاد بولا تو بے ساختہ ہلکی سی مسکراہٹ نے زمیل کے لبوں کا احاطہ کرلیا۔
’’اور میں ہمیشہ تم دونوں کے ساتھ ہوں۔‘‘
بعض اوقات انسان کے سدھرنے کے لیے ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے ذرا سی پشیمانی ہمارے تمام پست حوصلوں کو بلند کردیتی ہے۔
vm…mv
حیرت انگیز طور پر اگلے دن انہیں معافی نامہ مل گیا تھا اس وعدے کے ساتھ کہ اب وہ اپنی پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ رہیں گے‘ رات جس طرح انہوں نے جا کر طلعت پھوپی کی منتیں کیں یہ بس وہی جانتے تھے پہلے تو وہ کسی صورت ان کی کوئی بات سننے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ پھر ان کی بھوک ہڑتال گھر چھوڑ جانے کی دھمکی نے ان کا دل نرم کردیا وہی معافی نامہ لے کر اباجی کے پاس گئیں کس طرح اباجی رام ہوئے یہ تو انہوں نے نہیں بتایا مگر یہ خوش خبری ضرور سنا دی کہ انہیں آخری موقع مل گیا ہے۔
’’اس پرنسپل کی تو میں وہ ٹھکائی کروں گا کہ ہمیشہ یاد رکھے گا کمبخت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔‘‘
’’بکواس بند کرو اب اگر سدھرنے کا ایک موقع مل ہی چکا ہے تو کیوں اسے ضائع کررہے ہو‘ ہمیں یہ آخری موقع ہرگز نہیں گنوانا‘ امی نے بتایا ہے اباجی پرنسپل صاحب کو کسی طرح راضی کردیں گے کہ وہ ہمیں فائنل ایگزامز دینے دیں جو ہوا سو ہوا مگر اب مزید کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔‘‘ زمیل نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے پہلے زیاد کو گھرکا پھر نرمی سے گویا ہوا۔
آنے والے دنوں میں ان کی شوخیاں اور شرارتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں تھیں کالج سے آنے کے بعد وہ آرام کے بعد باقی کا وقت کتابوں میں سر دیے بیٹھے رہتے‘ اباجی نے انہیں پڑھانے سے صاف انکار کردیا تھا‘ ان کی کلاس کا اب بھی وہی وقت تھا مگر اب ان کے ساتھ صرف شہزینہ اور تمنا ہوتی تھیں دونوں بے حد ذہین اور محنتی تھیں تبھی ہمیش پہلی پوزیشن لیتیں۔ ان تینوں کا ٹھکانہ اب ڈرائنگ روم میں تھا۔
’’کہاں تشریف فرما ہیں تمہارے لاڈلے نالائق؟‘‘ ان کے پوچھنے پر تمنا کے کان فوراً کھڑے ہوئے۔ اباجی کو چائے کا کپ تھمانے کے بعد اب طلعت پھوپی پاس پڑی چیئر پر بیٹھ گئیں۔
’’ڈرائنگ روم میں بیٹھے پڑھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’طلعت کافی دنوں سے گھر میں بہت خاموش سی چھائی ہوئی ہے۔ ان نالائقوں سے کہو تھوڑا ہلا گلہ بھی کرلیا کریں۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولے۔
’’ہمارے بڑے ہم سے کسی حال میں خوش نہیں رہتے۔‘‘ تمنا شہزینہ کے کان کے قریب بولی تو شہزینہ نے مسکراہٹ روکنے کے لیے کتاب چہرے کے سامنے کرلی۔ طلعت پھوپی نے اثبات میں سر ہلایا اور اباجی سے گائوں والوں کی باتیں کرنے لگیں۔
vm…mv
بالآخر ان کی محنت رنگ لائی تھی دن رات کی محنت سے ان کے امتحان توقع سے بڑھ کر اچھے ہوئے تھے اس بار تو مخالف پارٹی نے بھی خوب حوصلہ افزائی کی تھی جب وہ رات گئے تک پڑھتے تو شہزینہ کھانے کی چیزیں پکا کر دے جاتی اور تمنا ان کے کہے بغیر مزیدار سی چائے پکا کر پیش کرتی۔
’’جان تمنا مجھے ادراک ہوا ہے تم ایک اچھی لڑکی ہو۔‘‘ وہ کچن کے دروازے پر آکھڑا ہوا۔
’’اوہ شکر تمہیں احساس تو ہوا۔‘‘ تمنا بریانی کو دم پر رکھ کر سلاد تیار کرنے لگی۔
’’زینی کہاں ہے‘ آج تمہارا رخ روشن جو یہاں نظر آرہا۔‘‘
’’اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اباجی نے اسے زمیل کے ساتھ اسپتال بھیجا ہے۔‘‘ وہ تیزی سے سلاد کی سجاوٹ کررہی تھی حازم اس کے چلتے ہاتھوں کی نفاست کو دیکھتا رہا۔
’’جلدی کرو بہت بھوک لگی ہے۔‘‘
’’بس پانچ منٹ انتظار کرلو ابھی کھانا لگاتی ہوں۔‘‘
’’اوکے‘ تب تک میں زمیل سے زینی کی طبیعت کا پوچھ لوں۔‘‘ ہاتھ میں سیل لیے وہ پلٹ گیا۔
ابھی بمشکل دو منٹ ہی گزرے ہوں گے جب باہر سے شہزینہ صاحبہ کے اونچا اونچا رونے کی آواز سنائی دی۔
’’ہائیں‘ اسے کیا ہوا۔‘‘ تمنا زینی کی آواز سن کر بھاگی‘ زمیل بے چارہ حواس باختہ سا اسے چپ کرانے کی کوششوں میں تھا حازم بھی جلدی سے ادھر ہی آگیا۔
’’اس سے پوچھو کیا نہیں ہوا؟ اس بدتمیز ڈاکٹر نے مجھے اس کے سامنے انجیکشن لگایا اور اس سے یہ تک نہ ہوا کہ اس ڈاکٹر کو تھوڑا سا ڈانٹ دے۔‘‘ بات مکمل کرنے کے بعد ایک بار پھر وہ رو دی‘ تمنا نے بمشکل ہنسی کنٹرول کرتے اسے بازو سے تھاما اور اندر لے آئی۔
’’اگلی بار جب جانا ہو تو میں چلوں گی ساتھ اس ڈاکٹر کا تو منہ توڑ دوں گی۔‘‘ اس کی اتنی جرأت آخر ہوئی کیسے جو ہماری زینی کو انجیکشن لگانے کی عظیم گستاخی کی‘ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔‘‘ وہ پھر سے اپنی عظیم داستان غم سنا رہی تھی‘ سب کے چہروں پہ دبی دبی مسکان تھی۔
vm…mv
مہر ہائوس کی رونقیں آج عروج پر تھیں۔ گھر کے تمام افراد ہال کمرے میں موجود تھے رنگ برنگے کھانوں کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی… آخر کیوں نہ ہوتا آج یہ خوشیوں کا سماں ’’مہر ہائوس‘‘ کے مکین کافی عرصے بعد پھر سے ایک ساتھ تھے ہنستے مسکراتے‘ خوش باش سے اباجی ابھی اپنے جاننے والوں سے مل کر واپس آئے تھے اپنوں سے ملنے کی خوشی اباجی کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہی تھی اور سب سے اہم بات پچھلے کئی سالوں سے زیر تعمیر گرلز کالج بالآخر مکمل ہوچکا تھا آتے وقت وہ بچوں سمیت وہاں سے ہوکر آئے تھے کالج کی عظیم الشان عمارت دیکھ کر خوشی سے ان کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں‘ ایک اور خواب کی تعبیر سامنے کھڑی دکھائی دے رہی تھی علم کی روشنی پھیلانے کی تگ و دو میں ان کے اپنے اور جاننے والوں نے بھرپور ساتھ دیا انہوں نے اپنی بہت سی زمین فلاحی کاموں کے لیے وقف کردی تھی اور گرلز کالج کی یہ زمین بھی انہی کی ملکیت تھی حازم جب سے آیا تھا ماں کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔
’’حازم اب بس بھی کرو امی پر کچھ میرا بھی حق ہے۔‘‘ شہزینہ خفگی سے بولی تو حازم نے اسے چڑانے کی غرض سے انگوٹھا دکھایا۔
’’امی مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے میں تپتی دھوپ سے اچانک چھائوں میںآگیا ہوں‘ وہ کہتے ہیں ناں جو سکھ اپنے چوبارے نہ بلخ نہ بخارے‘ تو سیم یہی میرا حال ہے۔‘‘ حازم آنکھ دباتے ہوئے بولا اور شرارت سے اباجی کی طرف دیکھا جو اس کے الفاظ سن چکے تھے مگر نظر انداز کر گئے تھے‘ وہ گائوں آکر بہت نرم دل ہوجاتے اور اکثر ان سب کی گستاخیوں کو نظر انداز کردیتے۔ اباجی کی سب سے بڑی خوبی حازم کو یہی لگتی تھی۔
vm…mv
’’یہ زیاد اور زمیل کہاں ہیں؟ یاروں نے آتے ہی غداری شروع کردی ان کی تو خیر نہیں۔‘‘ بالوں میں انگلیاں پھیرتا وہ اٹھ بیٹھا۔
’’چچی جان مجھے لگتا ہے آپ کے صاحبزادے شریف نے آتے ہوئے اعلان کروا دیا تھا کہ وہ تشریف لاچکے ہیں تبھی تو گائوں کے سارے نکمے اور ویلے لڑکوں کا ٹولہ ملنے کے لیے آگیا ہے دونوں صاحب بہادر بھی وہاں راجا اندر بنے بیٹھے ہیں اور ادھر شہنشاہ صاحب تشریف فرما ہیں۔‘‘ تمنا ہوا کے جھونکے کی طرح آئی اور آتے ہی نان اسٹاپ شروع ہوگئی۔
’’کاش میں اس کی زبان کاٹ سکتا۔‘‘ حازم محض سوچ کر رہ گیا۔
’’سنو زینی‘ تمہاری اس چڑیل سہیلی کی ساری بدتمیزیاں ڈائیری میں نوٹ کرلوں گا‘ ہمیشہ کی طرح واپس جا کر پھر اگلے پچھلے تمام حساب برابر کروں گا۔‘‘ منہ پر ہاتھ پھیر کر اس نے شہزینہ کو مخاطب کیا جو ہونہہ کہہ کر رخ پھیر گئی تھی۔
’’اپنے گھر چین نہیں جو ہر وقت منہ اٹھا کر آجاتی ہو۔‘‘ اس کے قریب سے گزر کر باہر جاتے ہوئے وہ کہنا نہ بھولا اور چھپاک سے باہر نکل گیا وہ بھی تمنا تھی کیوں خاموش رہتی بھلا تبھی الٹے قدموں باہر کو لپکی حازم ابھی گیٹ کے پاس ہی پہنچ پایا تھا۔
’’سنو جل ککڑے‘ چاہے تم کچھ بھی کرلو‘ میں یہاں آنا نہیں چھوڑ سکتی۔ یہ میرے دادا ابا کا گھر ہے تم جل جل کر کوئلہ بن جائو گے پھر بھی آئوں گی۔‘‘ فراٹے سے کہہ کر اندر بھاگ گئی حازم سر جھٹک کر گیٹ پار کر گیا۔
vm…mv
شام تک موسم کافی خوشگوار ہوچکا تھا بارش کے بعد اب ہلکی ٹھنڈی ہوا بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی‘ اباجی بڑے چچا کے ساتھ کالج کے کسی کام کے سلسلے میں شہر گئے ہوئے تھے‘ موسم کے مزے سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہ صحن میں چارپائی بچھائے بیٹھے تھے۔ خواتین اندر کاموں میں مصروف تھیں زیاد اور زمیل وقار بھائی کو چٹکلے سنا کر ہنسائے جارہے تھے‘ حازم بائیں طرف موجود چارپائی پر لیٹا کینڈی کرش کھیل رہا تھا۔
’’زیاد میں نے تمہاری فرمائش پر پکوڑے تیار کردیے ہیں اب تمہیں اپنے وعدے کے مطابق ہمیں زینت خالہ کے گھر لے کر جانا ہے نہیں تو اگلی بار مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا۔‘‘ پکوڑوں سے بھری پلیٹ اس کو تھماتی وہ شہزینہ کے ساتھ بیٹھ گئی‘ جو اس کی بنائی گئی پینٹنگ میں رنگ بھر رہی تھی۔
’’مہر ہائوس زندگی دھوپ تم گھنا سایہ۔‘‘ وہ جب بھی یہاں آتی ہمیشہ خوب صورت سے انداز میں بورڈ پر لکھ کر ساتھ میں ڈیزائننگ کرکے گیٹ کے دائیں جانب لگا دیتی۔
’’بے صبرے مت بنو کوئی نہیں چھینے گا تم سے۔‘‘ زیاد کی تیز رفتاری پر تمنا نے اسے ٹوکا۔
’’جان تمنا یہ محبت کے پکوڑے ہیں اور ان کا ذائقہ اف کتنا شاندار ہے میں بتا نہیں سکتا۔‘‘ پکوڑوں سے بھرپور انصاف کرتے چٹخارہ لے کر اس نے تمنا کو مخاطب کیا۔
’’محبت کے پکوڑے کھا رہا ہوں
ذرا چاہت کی چٹنی ڈال دینا
گرم چائے پکا کر بھی لے آئو
کوئی آئے تو اس کو ٹال دینا‘‘
آنکھیں بند کیے وہ جھوم اٹھا تمنا منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس دی۔
’’میں ہمیشہ ہی چلا آئوں گا جلدی
اگر شامی کباب تلو تو مس کال دینا‘‘
زمیل کو شامی کباب زیادہ پسند تھے تبھی حازم کی دیکھا دیکھی اس نے بھی فرمائش چھڑ دی۔
’’انہیں سوکھی ہوئی روٹی کھلا دو
مری جان بس مجھے تر مال دینا
میں کتنی دیر سے بھوکی بیٹھی ہوں
اگر کچھ بھی نہیں تو دال دینا
تیرے پکوان کیسے بھول جائوں
مجھے پھر سے وہی کھانے کمال دینا‘‘
شہزینہ پیچھے رہ جائے یہ کیسے ہوسکتا تھا بھلا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف ان کے قہقہے گونج اٹھے۔
vm…mv
’’زمیل میرے یار مبارک ہو تجھے۔‘‘ حازم بار بار اسے گلے سے لگا کر مبارک دے رہا تھا۔
’’آخر ہوا کیا ہے؟‘‘ وہ حیران ہوا‘ زیاد نے جلدی سے برفی کا بڑا سا ٹکڑا اس کے منہ میں ٹھونس دیا اور بھنگڑا ڈالنے لگا۔ زمیل حیران پریشان سا انہیں تکے گیا جو اب ناچ گا رہے تھے۔
’’اب بکو بھی کیا سسپنس پھیلا رکھا ہے یہ مبارک باد‘ یہ مٹھائی الٰہی خیر آخر ماجرا کیا ہے؟‘‘ زمیل کی حیرانگی حد سے سوا تھی۔
’’وہ اپنے امام صاحب ہیں ناں‘ اباجی کے جگری یار‘ ان کی اکلوتی صاحبزادی سے تیری نسبت طے ہوگئی ہے اور بقر عید پر تیرا نکاح ہے میرے یار۔‘‘ بالآخر حازم کو اس پر ترس آگیا اور چہکتے ہوئے بتا کر ایک بار پھر سے اسے گلے لگا لیا‘ زمیل ساکت سا اسے دیکھتا رہ گیا۔
’’ت… ت… تم مذاق کررہے ہو ناں؟‘‘ دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامے وہ لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ بولا تو حازم نے زور سے نفی میں سر ہلایا۔
’’ناچیں گے‘ گائیں گے‘ جھومیں گے اپنے تو یار کی شادی ہے جشن منائیں گے۔‘‘ زیاد چہکا۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا میری رضا مندی کے بغیر ایسا ناممکن ہے میں تو ابھی تک امام صاحب سے بچپن میں کھائی مار نہیں بھلا سکا‘ وہ جس راستے سے گزرتے ہیں میں تو وہاں کا رخ بھی نہیں کرتا تو ان کا داماد کیسے بن سکتا ہوں۔ یہ مجھ پر ظلم ہے۔‘‘ زمیل روہانسا ہوا وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے۔
’’میں خود کشی کرلوں گا۔‘‘ وہ چیخا۔
’’بھری جوانی میں ہمیں روگ دے جائے گا ایسا تو میں نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ حازم پیار سے پچکارا۔
’’میں انکار کردوں گا۔‘‘ وہ فوراً چٹکی بجا کر بولا۔
’’اباجی تمہارے انکار کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالنے والے اب تو یہ شادی ہوکر رہے گی۔‘‘ زیاد شوخی سے گویا ہوا۔
’’ٹھیک ہے پھر میں گھر سے بھاگ جائوں گا۔‘‘ اس کے منمنا کر کہنے پر ان کا چھت پھاڑ قہقہہ بلند ہوا۔
’’ویسے یار آپس کی بات ہے امام صاحب جس قدر ہماری پٹائی لگاتے تھے اب اس کا بدلہ سود سمیت چکائیں گے اور پھر تمہارے پاس تو بڑا زبردست موقع ہاتھ لگا ہے۔‘‘ حازم دھیرے سے بولا مبادا کوئی سن ہی نہ لے۔
’’زمیل بھائی ایم سو ہیپی آپ نے حریم باجی کے لیے ہاں کہہ کر دادا ابا کا سر فخر سے بلند کردیا۔‘‘ تمنا کی چہکتی آواز سن کر وہ سناٹے کی زد میں آگیا۔
’’میں نے کب ہاں کی۔‘‘ نخوت اس کے لہجے میں نمایاں تھی۔
’’ہر حال میں آپ کی پسند کو مدنظر رکھا جائے گا دادا ابا نے واضح کہہ دیا تھا حازم ہی تو آپ سے رضا مندی لے کر گیا تھا اپنا ہر فیصلہ آپ نے دادا ابا پر چھوڑ دیا اور اب کہہ رہے ہیں کہ میں نے کب ہاں کی۔‘‘ تمنا خفگی سے بولی۔
’’حازم کے بچے میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا‘ آج تو میرے ہاتھ ضائع ہوجائے گا۔‘‘ اس سے پہلے کہ زمیل اسے پکڑ کر اس کی گردن مروڑتا وہ وہاں سے بھاگ گیا‘ اب حال یہ تھا حازم آگے اور زمیل اس کے پیچھے۔
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘ تمنا حیران سی زیاد کو دیکھنے لگی جو ہنس ہنس کر دوہرا ہوا جارہا تھا۔
’’تمہیں اب بھی سمجھ نہیں آئی۔‘‘ وہ رک کر بولا تو تمنا نے نفی میں سر ہلایا۔
’’رات اباجی نے ہمیں اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ ہم جا کر زمیل سے رضا مندی لے کر آئیں یہ ان کی خواہش تھی کہ زمیل کی شادی امام صاحب کی بیٹی حریم سے ہو اب اگر ہم اس سے پوچھتے تو وہ فوراً انکار کرتا وہ ابھی تک امام صاحب کی مار نہیں بھلا پایا تو حریم کے لیے کیسے راضی ہوجاتا۔ زمیل کی طرف سے ہاں کہہ دیتے ہیں۔ یہ آئیڈیا سو فیصد حازم کا تھا۔‘‘
’’اف میرے اللہ‘ اب یہاں کھڑے کیا کررہے ہو جائو انہیں دیکھو کہیں سچ میں لڑائی نہ ہوجائے۔‘‘ وہ ترشی سے بول کر شہزینہ کو دیکھنے چل دی جو چھت پر پرندوں کے پنجرے صاف کرنے میں مصروف تھی۔
vm…mv
’’میں اپنے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گا۔ میں کوئی لڑکی نہیں ہوں جو چپ چاپ ماں باپ کی پسند پر سر جھکا کر ہاں کہہ دوں مجھے تمام اختیار حاصل ہیں اور اب میں انہی اختیارات کو استعمال میں لائوں گا۔ میں یعنی حازم طلال تمنا سے شادی کرلوں… وہ تمنا جسے ڈھنگ سے بات تک کرنے کی تمیز نہیں جو ابھی تک بچوں کی طرح ری ایکٹ کرتی ہر بات پر ٹسوے بہانہ بیٹھ جاتی ہے۔‘‘ استہزائیہ انداز میں ہنس کر وہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوا دروازے سے باہر کھڑی تمنا کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’تبھی تو میں اس جوائنٹ فیملی سسٹم سے بے زار رہتا ہوں بندے کی کوئی پرائیویسی ہی نہیں رہتی گھر کے بزرگ صاحبان قربانی کا بکرا بناتے ہوئے اپنی نخریلی لڑکیاں زبردستی ہم جیسے خوب صورت معصوم اور شریف لڑکوں کے سر تھوپ دیتے ہیں آخر ہماری بھی کوئی پسند ہوتی ہے‘ ہمیں ہمارا حق دیا جائے میں اپنا حق لینے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جائوں گا۔‘‘ زیاد کی بھی زہر خند آواز گونجی۔ مگر تمنا تو ابھی تک حازم کے زہریلے نشتر کے زیر اثر کھڑی تھی۔
’’پس ثابت ہوا اس بار عید پر جانوروں کے ساتھ ساتھ ہم معصوم انسانوں کی بھی قربانی ہوگی۔‘‘ زمیل دانت نکالتے بولا۔
جب وہ وہاں سے گئی تو اس کی چال میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی جیسے کل متاع لٹا کر جا رہی ہو‘ یہ نہیں تھا کہ اسے حازم سے محبت تھی بچپن سے لے کر اب تک ان کی کبھی نہ بنی تھی ہمیشہ لڑائی جھگڑے ہوتے پر جب دادا ابا نے امی سے کہا کہ وہ تمنا کی نسبت حازم سے طے کررہے ہیں تو اسے معلوم ہوا وہ تو کبھی حازم کو ناپسند نہیں کرتی تھی‘ وہ لڑائی جھگڑے‘ طعنے بازی‘ نام لکھنا سب کچھ تو بس وہ شرارتیں تھیں جن سے ان کی زندگی کی اصل رونقیں تھیں۔ اس نے تو ابھی اس سنگ دل کے خواب دیکھنے تھے مگر انہیں تو ابھی سے نوچ دیا گیا تھا۔ شہزینہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو آواز دی مگر وہ ان سنی کرکے گیٹ پار کر گئی چاہے کچھ بھی ہوتا وہ اپنی جان سے پیاری دوست کو دکھی نہیں کرسکتی تھی۔
vm…mv
وہ جو ’’مہر ہائوس‘‘ کے چکر نہ لگاتی تو اسے چین نہ آتا تھا اب پچھلے تین دنوں سے طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر بستر سے جدا ہونے کا نام نہ لے رہی تھی‘ شہزینہ اس کی تیمار داری کے لیے ہر وقت موجود رہتی‘ حازم بھی تین چار مرتبہ آیا مگر وہ آنکھیں موند کر سوتی بن جاتی البتہ زمیل اور زیاد کے ساتھ کچھ دیر تک باتیں کرتی رہی تھی۔
’’تمنا کی بچی نکلو یہاں سے غضب خدا کا خوامخواہ میں بستر پکڑ کر بیٹھ گئی ہو بدتمیز لڑکی اوپر سے چچی جان کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ یار یہاں تو بہت ٹف روٹین ہوگئی ہے میں تو دعائیں مانگ رہی ہوں کب چھٹیاں ختم ہوں اور ہم واپس چلیں۔‘‘ تمنا نے بولتی شہزینہ کو دیکھا اور دکھتی آنکھیں انگلی سے دبائیں۔
سوچ سوچ کر اس کا ذہن منتشر ہوگیا تھا پریشانی کے سبب بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اگر چہ بخار تو دوسرے دن ہی اتر گیا مگر وہ منہ سر لپیٹے جان بوجھ کر پڑی رہی دل کا درد کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ سب سے گہرا دکھ تو یہی تھا کہ وہ اتنی بے مایا تھی کہ محض ایک لمحے کے لیے بھی اس کے بارے میں نہ سوچا جاسکتا تھا ریجیکٹ ہونا بہت اذیت دیتا ہے اور ان دنوں وہ اسی اذیت سے دوچار تھی۔ زمیل اور زیاد قربانی کے لیے بکرے لے آئے تھے اور اب اباجی کا سخت آرڈر تھا کہ ان کی خدمت میں دن رات ایک کردیے جائیں۔
شہزینہ زبردستی اسے اپنے ساتھ لے آئی اب وہ دعا کرنے لگی کہ اس ستم گر سے سامنا بالکل نہ ہو مگر اس کی دعا قبول نہ ہوئی تھی تبھی تو وہ جیسے ہی گیٹ سے اندر داخل ہوئیں بائیں جانب جامن کے درخت کے نیچے باندھے گئے بکروں کو وہ نہلا رہا تھا اس کا سفید رنگ کا لباس مٹی اور پانی کے نشانوں سے اپنی اصلی حالت کھو چکا تھا۔
’’وہ آئے ہمارے گھر خدا کی قدرت
کبھی ہم ان کو اور کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں‘‘
حازم کی نظر اچانک ان پر پڑی تبھی خالی بالٹی ایک طرف رکھ کر وہ ہاتھ صاف کرتا ان کے سامنے آٹھہرا جو اسے دیکھ کر رک گئیں۔
’’میں جب تمہاری عیادت اور تیمار داری کرنے آیا تو تم سو رہی تھیں۔ چلو اب بتائو کیسی طبیعت ہے ہمارے لائق کوئی خدمت‘ ویسے مجھے تو ابھی بھلی چنگی لگ رہی ہو ہاں رنگت کچھ کملا سی گئی ہے آنکھیں بھی ویران ہیں۔ مجھے تو یہ دل کا معاملہ لگتا ہے سنو جان تمنا کہیں کوئی روگ تو نہیں پال لیا…؟‘‘ وہ اس قدر آہستگی سے بولا کہ صرف تمنا سن سکی شکر تھا کہ زینی ان کی بجائے بکروں کی سمت متوجہ تھی۔
’’اف کس قدر چالاک ہے یہ شخص‘ کتنے رنگ ہیں اس کے۔ منہ پر اس قدر جان لیوا انداز اور غیر موجودگی میں ظالم صیاد‘ کاش اس دن میں نے وہ باتیں نہ سنی ہوتیں۔‘‘ آنسوئوں کا گولہ اس کے گلے میں پھنسا مگر وہ ایک لفظ تک نہ بولی۔ ’’میں اگر اب اس کے سامنے بولی تو پھر کبھی اس کا سامنا نہ کرسکوں گی اپنی انا مجھے ہر حال میں پیاری ہے۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی۔
’’حازم سدھر جائو اب تو اسے تنگ کرنا چھوڑ دو جنگلی انسان۔‘‘ شہزینہ نے قریب آکر بڑے زور کی چٹکی اس کے بازو پر کاٹی اور تمنا کا ہاتھ تھام کر اسے لیے اندر بڑھ گئی۔
’’ڈرامے باز لڑکی تمہاری ایکٹنگ سے میں اچھی طرح آگاہ ہوچکا ہوں۔ آئندہ اگر نیند کا بہانہ کرنا ہو تو آنکھوں پر بازو لازمی رکھ لینا تمہاری لزرتی پلکیں تمہارے جاگنے کا ثبوت دے گئی تھیں۔‘‘ اس نے مسکرانے کی بھی ناکام کوشش کی ساتھ ہی آنکھیں بھی چرائیں۔ وہ پیچھے سے چیخا مگر وہ پھر بھی نہ رکی۔
vm…mv
’’تمنا کیا ہوا‘ اتنی اداس کیوں ہو؟‘‘ شہزینہ نے کبوتروں کو دانہ ڈالتی تمنا کو بغور دیکھا جو بہت ڈسٹرب دکھائی دے رہی تھی اس کے اس طرح دیکھنے پر وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی پھر ہولے سے مسکرا دی۔
’’ایم فائن یار‘ تم کیوں پریشان ہوتی ہو‘ بس ذرا سی سستی چھائی ہے۔‘‘ تمنا کے لہجے میں پہلے والی کھنک نداد تھی۔
’’تمنا میری طرف دیکھ کر بتائو مجھے تو کہیں سے بھی ٹھیک نہیں لگ رہیں تم۔‘‘ اس کے نظریں چرانے پر شہزینہ تپی۔
’’کیا بدتمیزی ہے زینی ہم جو کام کرنے آئے ہیں پہلے وہ کرو میری فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں‘ کچھ دن ریسٹ کروں گی تو ٹھیک ہوجائوں گی۔‘‘
’’چلو مان لیا اب خوش۔‘‘ شہزینہ نے بالآخر ہار مانی۔
’’اچھا سنو وہ… وہ اسٹوپڈ زیاد ہے ناں‘ جہاں سے بھی گزرنے لگوں تو مجھے دیکھ کر خوامخواہ میں کھانسنے کی ایکٹنگ کرنے لگتا ہے کس قدر بدتمیز ہے میں ہمیشہ سے اس کے ساتھ رہی ہوں پر جب سے دادا جی نے بابا سے رشتے والی بات کی تب سے وہ تو جیسے رنگ ہی بدل گیا ہے اب تو لڑائی بھی نہیں کرتا بات کرنے کے بہانے تلاشتا رہتا ہے قسم سے یار مجھے تو اس قدر عجیب لگ رہا ہے میں بتا نہیں سکتی۔‘‘ پنجروں میں رکھے برتنوں میں پانی ڈالتی وہ حال دل بتانے لگی۔
تمنا کی طرف اس کی پیٹھ تھی وہ حیران سی اسے دیکھنے لگی یعنی زیاد کو اس رشتے سے کوئی پرابلم نہ تھی تو کیا صرف حازم‘ درد کی ایک تیز لہر سی اٹھی تھی اس نے کانپتے ہاتھوں کو باہم جکڑا۔
’’ت… ت… تم راضی ہو زیاد کے لیے؟‘‘
’’پتا نہیں یار مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ویسے بھی ابا جی فیصلہ کرچکے تو یقینا یہی بہتر ہوگا۔‘‘ وہ شرماتے ہوئے بولی‘ حیا سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔
اور وہ تمنا سے نظر ملا کر بھی بات نہ کررہی تھی‘ تمنا کو اس کے انداز پر ذہنی ٹینشن کے باوجود ہنسی آگئی جو اگلے ہی لمحے غائب بھی ہوگئی تھی۔
’’اس حازم بدتمیز کا بتائوں کیا کیا ہے اس نے بقول جناب کے کہ اباجی میری شادی تمنا کے ساتھ کرنے کا سوچ رہے ہیں تو اس صورت میں ہاں کروں گا جو اگر میری شرط مانی گئی تو…‘‘ شہزینہ اب چہرے پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی تمنا سانس روکے اسے سننے لگی۔
’’وہ کہتا ہے ہم ہنی مون کے لیے گلگت جائیں گے اور بھی نجانے کیا کچھ کہہ رہا تھا بے شرمی کی حد ہی پار کیے جا رہا تھا وہ تو امی کی چپل نے جب اسے نشانہ بنایا تو محترم کی پٹر پٹر چلتی زبان بند ہوئی ہمارا تو ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا۔‘‘
’’زینی… زینی… جلدی آئو۔‘‘ زمیل اونچی آواز میں چیخا زمیل کی آواز پر شہزینہ نیچے بھاگی۔
شکر زینی نے اس کی سنجیدگی نوٹ نہ کی‘ زمیل کی پکار کی وجہ سے اس کی بچت ہوگئی تھی کچھ دیر وہیں بیٹھنے کے بعد وہ نیچے چلی آئی جہاں شہزینہ اور زمیل دھواں دھار تکرار شروع کرچکے تھے۔ زمیل کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے وہ ان کے لیے شہزینہ سے کھانے پر اہتمام کرانا چاہتا تھا مگر وہ بضد تھی اب وہ خدمتیں کرکے تھک چکی تھی سو گھر میں جس کے بھی مہمان آئیں گے وہ اپنا بندوبست خود کریں گے بڑی تائی‘ طلعت پھوپی کے ساتھ ہمسایوں کے گھر خالہ بی کی عیادت کو گئی ہوئی تھیں‘ ان دونوں کو بحث میں چھوڑ کر تمنا نے کچن کی راہ لی‘ ایک چولہے پر چائے کا پانی رکھا اور دوسرے پر کباب فرائی کرنے لگی اس کام سے فارغ ہونے کے بعد پلیٹ میں بسکٹ سجا کر زمیل کو آواز دی جو ابھی تک شہزینہ پر خفا ہورہا تھا زمیل اس کی پہلی پکار پر وہاں آگیا‘ سامنے رکھے لوازمات دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
’’جیو میری بہنا‘ جیو ہزاروں سال بس اب میں اباجی سے بات کرتا ہوں اب جلدی سے تمہیں ہمیشہ کے لیے یہاں لے آئیں تاکہ ہماری مشکلات ختم ہوں۔‘‘ دانت نکالے وہ شرارت سے گویا ہوا تو تمنا نے اسے سخت نظروں سے گھورا مگر اسے پروا کب تھی وہ آگے بڑھ کر تمام چیزوں کا جائزہ لینے لگا اب زمیل کو چھوڑ کر شہزینہ اس پر خفا ہورہی تھی۔
vm…mv
عید میں تین دن باقی تھے زمیل کے نکاح کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں‘ تمنا فی الحال سب بھلائے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی طلعت پھوپی نے ان دونوں کے لیے بھی خوب صورت سے ڈریس بنوائے عید کے چوتھے روز نکاح کی تقریب ہونا قرار پائی سب رشتہ داروں کو بھی دعوت نامے بھجوائے گئے تھے۔ زمیل جو پہلے نکاح نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا اب تو اس کے دانت اندر جانے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ حازم تو اس سے سخت خفا تھا کہ اس کا نکاح اور ہماری خالی منگنی اور ابھی تک شادی کا دور دور تک امکان تک نظر نہ آرہا تھا۔ دھوکے باز‘ غدار اور نجانے کیا کیا القابات زمیل کو دیے جاتے وہ تو ان دنوں جیسے ہوائوں میں اڑتا پھر رہا تھا ان کی کسی بات کا برا نہ مانتا‘ اس کی منطق نرالی تھی بقول اس کے جب اس کا نکاح ہوجائے گا تو وہ معزز ہستی بن جائے گا اباجی اس کی جان بخشی اس صورت میں کردیا کریں گے کہ اب تو وہ نکاح شدہ ہے اس کی انسلٹ ہرگز نہیں ہونی چاہیے بس پھر کیا تھا حازم کو تو جیسے آگ لگ گئی تھی اب وہ طلعت پھوپی کا گھٹنا پکڑے بیٹھا رہتا کہ زمیل کے ساتھ ساتھ ہم کنواروں بیچاروں کا بھی کچھ خیال کیا جائے مگر اس کی بات پر کسی نے کان نہ دھرے۔
vm…mv
عید کے دن اباجی نے گائے اور بکرے ذبح کرا کر سارا گوشت ان سے بنوایا اور گائوں میں بانٹنے کے لیے بھی وہی تینوں گئے یہ وہ واحد کام تھا جو وہ ہنسی خوشی کرتے تھے جب سب کچھ سمیٹ کر وہ اندر آئے تو سامنے شہزینہ اور تمنا مزے سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔
’’لو کر لو گل‘ میرا بھوک سے برا حال ہے اور یہاں مزے سے کھانا کھایا جا رہا ہے۔ بندہ دوسروں کا انتظار ہی کرلیتا ہے۔‘‘ کینہ توز نظروں سے گھورتا زیاد ان کے سر پر آکھڑا ہوا۔
’’بھوکے‘ ندیدے تمہارے لیے بھی بچا کر رکھا ہے ہم نے کچن میں جا کر کھالو۔‘‘ شہزینہ نے پٹ سے جواب دے کر نوالہ منہ میں رکھا۔
’’دیکھ لو زیاد ہم منگنی شدہ ہونے والے لوگ ہیں پھر بھی ہماری عزت نہیں کرتے اور ادھر وہ زمیل صاحب ہیں ابھی تک نکاح ہوا نہیں دعوتیں پہلے ملنا شروع ہوگئی۔‘‘ حازم مسکین سی صورت بنا کر بولا۔ تمنا نظریں جھکائے بیٹھی تھی کھانے سے بھی ہاتھ روک لیا تھا۔
’’کس نے کی زمیل کی دعوت وہ بھی ہمارے بغیر یہ گستاخی ہرگز معافی کے قابل نہیں۔‘‘ زینی کا انداز شاہانہ تھا۔
’’جناب کی ساس محترمہ نے دعوت نامہ بھیجا ہے کہ اباجی اور زمیل سے کہا جائے کہ آج شام کا کھانا وہ ان کی طرف تناول فرمائیں۔‘‘
’’جان تمنا اور کچھ نہ سہی اپنے پیارے ہاتھوں سے چائے پکا کر پلا دو سچ میں بہت تھک گیا ہوں۔‘‘ تمنا سے کہہ کر وہ دھپ سے کارپیٹ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔
’’پہلے نہا کر کپڑے تو تبدیل کرلو دیکھو تو سہی کتنا عجیب حلیہ بنا رکھا ہے۔‘‘ تمنا خاموشی سے اٹھ گئی تو شہزینہ نے ایک نظر بھائی کو دیکھنے کے بعد برتن اٹھائے اس کی توجہ اس کے حلیہ کی جانب دلائی۔
vm…mv
آج زمیل کے نکاح کی تقریب تھی وہ لوگ صبح سے تیاریوں میں مصروف تھے طلعت پھوپی کے حکم پر تمنا اور زینی نے مہندی بھی لگوائی‘ اباجی نے ان کی منگنی کی رسم کینسل کردی تھی حازم کا موڈ بری طرح سے آف تھا زیاد کے ذمہ کھانے کا انتظام لگا دیا گیا تھا یعنی فی الحال اس کے پاس کچھ بھی سوچنے کی فرصت نہیں تھی۔ انہوں نے سفید رنگ کے ایک جیسے سوٹ زیب تن کر رکھے تھے وہ تینوں ہی تیار ہوکر شہزادے لگ رہے تھے۔ اباجی نے بے ساختہ اٹھ کر باری باری انہیں گلے سے لگا کر دعا دی۔
’’ایک جیسے ڈریس بنوانے کی کیا تک تھی بھلا‘ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں بھی اس تقریب کا دلہا ہوں۔‘‘ حازم کا منہ ابھی بھی پھولا ہوا اور انداز خفا سا تھا‘ اس کے برعکس وہ دونوں چہک رہے تھے۔ تینوں کو لاکر اسٹیج پر بٹھایا گیا تو یہ بات حازم کو کچھ ہضم نہ ہوئی۔
’’نکاح تو زمیل کا ہے یہ ہمیں کس خوشی میں وی آئی پی پروٹوکول مل رہا ہے؟‘‘ زیاد چونکہ درمیان میں بیٹھا تھا تبھی حازم اس کے کان میں دھیرے سے بولا۔
’’تم خاموشی سے شریفوں کی طرح منہ بند کرکے بیٹھے رہو۔‘‘ زیاد نے دانت پیس کر جواب دیا تو حازم نے ہونہہ کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
اب یہ سب اس کی برداشت سے باہر تھا… وہ وہاں سے اٹھ کر جانے والا تھا تب ہی زیاد نے زبردستی اس کا بازو تھام کر بٹھایا۔
’’ابے گھامڑ چپ کرکے بیٹھ جا اور منہ کے زاویے سیدھے کرلے‘ ورنہ سب لوگ سمجھیں گے تیرا نکاح زبردستی ہورہا ہے۔‘‘ زیاد نے آنکھ دبا کر وضاحت دی تو وہ چونکا۔
’’یعنی کہ آج ہمارا بھی نکاح ہے…؟‘‘
’’ہاں جی دلہے میاں آپ کا بھی نکاح ہورہا۔‘‘ زمیل نے پُر زور انداز میں اثبات میں سر ہلایا‘ تو وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
دوسری طرف طلعت پھوپی نے انہیں چادریں اوڑھا کر بٹھایا تو انہیں حیرت کا جھٹکا لگا ان کی منگنی تو کینسل ہوگئی تھی تو پھر اب یہ کیا تھا؟
تمنا تو ایک دم سناٹے کی زد میں آئی‘ وہ تو اس لیے خاموش ہوگئی تھی کہ منگنی تو ٹوٹ بھی سکتی ہے وہ ان چاہی بن کر کبھی زندگی نہیں گزارے گی ابھی تو وہ ماں کے مجبور کرنے پر راضی ہوگئی تھی‘ وہ تو دادا ابا تک انکار پہنچانے کے بیٹھی تھی مگر ہوا اس کے برعکس۔ نکاح خواں کے ساتھ دادا ابا خود آئے تھے‘ انہوں نے جب اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے ہونے کا یقین دلایا تو بے ساختہ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے‘ کاش ابو آج آپ زندہ ہوتے اس لمحے باپ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی تو وہ سسک پڑی۔
’’ایک ملاقات ضروری ہے صنم۔‘‘ وہ کافی دیر سے زیاد کے کان کھائے جارہا تھا مگر وہ بھی ڈھیٹ بنا بیٹھا تھا۔
’’یار پلیز میری بات بھی سنو‘ میں نے سنا ہے زوجہ محترمہ بے حد اداس ہیں کیونکہ وہ اس نکاح کے لیے راضی نہ تھیں۔‘‘
’’بقول ان محترمہ کے کہ یہ نکاح تو سراسر اباجی کی خواہش پر ہوا ہے اور دوسرا میں تو راضی ہی نہیں تھا۔‘‘
’’کس نے کہا یہ سب؟‘‘ زیاد چونکا۔
’’وہ زینی کو اپنا حال دل سنا چکی ہے ویسے اس کا حق تو بنتا تھا اپنے دل کی ہر بات مجھے بتاتی۔‘‘ وہ مصنوعی افسردگی سے بولا۔
’’سچ میں بہت بے چینی ہورہی ہے میں اسے بتانا چاہتا ہوں یہ نکاح خالصتاً میری خواہش پر ہوا ہے صرف پانچ منٹ لوں گا۔‘‘ وہ منت پر اتر آیا۔
’’تمہارا یہ کام تو میں آسانی سے کرسکتا ہوں ابھی جاکر تمنا کو تمہارا پیغام دے دیتا ہوں۔‘‘ زیاد نے چٹکی بجائی۔
’’ہرگز نہیں میرے قاصد کا رول پلے کرنے کی بالکل ضرورت نہیں میں تو اب ڈنکے کی چوٹ پر اس سے ملوں گا آفٹر آل میرا حق ہے اس پر۔‘‘ زیاد کو جتانے کے بعد بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کرتا وہ روم سے باہر چلا گیا۔ وہ ہاتھ آیا موقع ہرگز گنوانا نہ چاہتا تھا۔
شہزینہ کو منت سماجت سے اس نے منالیا جو تمنا کو زبردستی اپنے کمرے میں چھوڑ گئی تھی جہاں حازم پہلے سے موجود تھا۔ روئی روئی سی وہ سیدھی حازم کے دل میں اتری جارہی تھی اب تو رشتہ بھی بدل چکا تھا حازم کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ در آئی۔
آنکھوں میں خوشیوں کا جہاں آباد کیے وہ بغور اسے تکنے لگا جو وہاں ایسے موجود تھی کہ جیسے ابھی بھاگ جائے گی دو قدم آگے بڑھ کر اس نے تمنا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل نیچے کارپٹ پر بیٹھ گیا۔
’’جان تمنا کیسے بتائوں کہ تم میرے لیے کتنی اہم ہو‘ میں لفظوں کے ہیر پھیر سے آگاہ نہیں ہوں تبھی صرف اتنا کہوں گا اگر تم میری زندگی میں نہ آتی تو میں کبھی خوش نہ رہ سکتا۔‘‘ وہ گمبھیر آواز میں بولا۔
’’جھوٹ مت بولو سب جانتی ہوں کتنی اہم ہوں۔ تم تینوں میں ہونے والی گفتگو میں نے سن لی تھی میں تو اسٹوپڈ ہوں ناں مجھے تو بات تک کرنے کی تمیز نہیں۔‘‘ آنسو پھر بہہ نکلے حازم بے چین ہوا۔
’’وہ سب مذاق تھا مقصد صرف تمہیں تنگ کرنا تھا ہم وہاں تمہاری موجودگی سے باخبر تھے۔‘‘
’’میں تم پر یقین نہیں کرسکتی۔‘‘ اب کے وہ خفگی و نرمی سے بولی۔ حازم کی پسندیدگی کے متعلق شہزینہ اسے سب کچھ بتا چکی تھی اب وہ محض حازم کو تنگ کررہی تھی۔
’’دیکھو تمنا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اب تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ملے گی بس ایک بار میرا یقین کرلو۔‘‘ وہ خاموش ہوکر اسے تکنے لگا اور پھر دھیمے پر اثر لہجے میں گویا ہوا۔
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
تم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو
بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کو
شرارتوں پر ابھارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
لہو کو شعلہ بد مست کردیں
یہ پتھروں کو بھی مست کردیں
حیات کی سوکھتی رتوں میں
بہار کا بندوبست کردیں
کبھی گلابی کبھی سنہری
سمندروں سے زیادہ گہری
تہوں میں اپنی اتارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
حیا بھی ہے ان میں شوخیاں بھی
یہ راز بھی اپنی ترجمان بھی
ریاست حسن و عشق کی ہیں
رعایا بھی اور حکمران بھی
وہ کھو گیا یہ ملی ہیں جس کو
یہ جیتنا چاہتی ہیں جس کو
اسی سے دراصل ہارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
کشش کا وہ دائرہ بنائیں
حواس جس سے نکل نہ پائیں
میں اپنے اندر بکھر سا جائوں
سمیٹنے بھی نہ مجھ کو آئیں
عجب ہے انجان پن بھی ان کا
میں ان کا اور میرا فن بھی ان کا
خاموش رہ کر پکارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
اس قدر الفت اس قدر محبت اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
’’ارے… ارے اب مت رونا پلیز۔‘‘
’’نہیں ابھی مجھے جی بھر کر رونے دو۔‘‘ وہ بسورتی ہوئی بولی۔
’’ارے روئیں تمہارے دشمن۔‘‘
’’ہائے سچی کیا تم روئو گے؟‘‘ وہ بھولپن سے بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
’’مطلب تم میرے دشمن تھے ناں تو…‘‘ معصومیت کی انتہا ہی تو ہوگئی تھی۔
’’ہاں… میں… اب تو ساری زندگی رونا پڑے گا۔‘‘ وہ ہارنے والے انداز میں بولا۔
’’وہ کیسے؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’تم جو آگئی ہو اب میری زندگی میں۔‘‘ وہ آنکھیں پٹپٹا کر بولا۔ تمنا نے کشن اٹھا کر زور سے اس کے سر پر دے مارا۔
’’دیکھا میں نے کہا تھا ناں اب تو رونا ہی پڑے گا۔‘‘
’’یہ رونا دھونا چھوڑو‘ چلو کچھ دیر ہنستے ہیں۔‘‘ وہ شرماتے ہوئے بولی تو حازم نے شکر کا سانس لیا۔
بدگمانی کے تمام بادل چھٹ چکے تھے اب ہر طرف خوشیوں کا راج تھا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close