Hijaab Sep-17

آغوش مادر(ماں کے حوالے سے اپنے خیالات)

عائشہ نور محمد

عائشہ نور محمد
’’کیا یہ غرارہ تمہاری مما نے سیا ہے؟‘‘
’’مما کو اس کی کٹنگ ہی نہیں آتی۔‘‘ تین سالہ بچی کا زور زور سے اثبات میں ہلتا سر اپنی پانچ سالہ بہن کی بات پر رک گیا اس نے حیران ہوکر اپنی بہن کو دیکھا کیونکہ اس نے خود اپنی ماںکو اس کاٹن کے ہلکے سے سادے کپڑے پہ دن رات محنت کرتے دیکھا تھا پھر اس کی بہن جھوٹ کیوں بول رہی تھی۔
’’پھر کس نے کٹنگ کی ہے؟‘‘
’’میری پرنانی نے۔‘‘ وہ مسکرا کر جتا کر بولی تھی‘ سننے والے فوراً ماشاء اللہ کہتے وہ پانچ سال کی تھی اس کی پرنانی 80 سال کی اور اللہ کے فضل سے اس عمر میں وہ اتنی پھرتیلی اور چاق و چوبند تھیں کہ جوانوں کو مات دیتی تھیں تو آج آغوش مادر کے لیے ایک ایسی ہی نانی کا قصہ ہے جسے سنانے والی صرف نواسی ہے ان کی اکلوتی نواسی۔
’’جیسی نانی ہوتی ہے ویسی نواسی ہوتی ہے۔‘‘ یہ میرے شوہر کا کہنا ہے۔
’’آپ دھوکہ کھاگئے۔‘‘میں ہنس کر انہیں چھیڑتی ہوں‘ اس لیے کہ نانی مشرق ہیں اور میں شمال۔
’’ہاں میں دھوکہ کھاگیا‘ نانی جیسی کوئی نہیں ہوسکتی کوئی بھی نہیں۔‘‘ تو شروع کرتی ہوں نانی کی باتیں تب سے جب سے مجھے باتیں یاد رہنا شروع ہوئی ہیں۔
سردیوں میں ان کے ساتھ ایک ہی لحاف میں ہم سب خالا ماموں کے بچے گھس کر بیٹھے ہوتے ان سے ان کی باتیں پوچھتے تھے۔
’’دادی آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘ ان کی بڑے بیٹے کی اکلوتی بیٹی اس سے چھوٹے دو بھائی بھی ہیں۔
’’جب پاکستان آزاد ہوا میں پندرہ سال کی تھی۔‘‘
’’یعنی اس وقت آپ 63 سال کی ہیں۔‘‘ نواسے نے فٹافٹ حساب کتاب کیا۔ خیال رہے اتنی عمر میں وہ ہمارے لیے ناشتا خود پکاتی تھیں اور بھی گھر کے دوسرے کام وہ خود کرتی تھیں کوئی ذمہ داری نہیں تھی لیکن کوئی کام کبھی پڑا بھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
’’اور انڈیا کیسا تھا؟‘‘ فلموں ڈراموں میں بھارت کو دیکھنے والے شوقین…
’’بہت اچھا‘ میرے ابا ریلوے میں تھے جگہ جگہ ٹرانسفر ہوتا اور ہم مختلف شہر گھومتے‘ کتنا اچھا وقت تھا وہ بھی۔‘‘
’’نانا سے ملاقات کہاں ہوئی آپ کی؟‘‘ وہ ان کا آج کا دور کا بے باک نواسا۔
’’کیا…؟ توبہ‘ میں کیوں ملنے لگی ابا کی پسند تھا ان کا رشتہ۔‘‘ وہ یوں شرمائی تھیں ‘ آج کی دلہن میں بھی وہ شرم مفقود ہوگی۔
’’ہونہہ…‘‘ ان دونوں کو جوڑنے والی نے خفگی سے دیکھا۔
’’انہیں تو دیکھیں کتنا شرما رہی ہیں۔‘‘ ساری ینگ جنریشن ہنسنے لگی تھی۔
’’آپ کی شادی کب ہوئی؟‘‘
’’جب پاکستان آزاد ہوا میری شادی کو دو تین ماہ ہوگئے تھے۔‘‘
’’پندرہ سال کی اتنی کم عمر میں شادی۔‘‘
’’تب اس عمر میں ہی شادیاں ہوجاتی تھیں خیر اب بھی ہوجاتی ہیں مگر وہ دور…‘‘
ہمارے نانا بھی بہت اچھے تھے‘ ہم نے انہیں تو نہیں دیکھا خالہ کے بڑے دونوں بیٹوں نے دیکھا تھا مگر وہ بھی دھندلا دھندلا یاد ہے انہیں۔ وہ بے حد کھلے دل اور کھلے ہاتھ کے تھے تو نانی بھی ایسی ہی ہیں۔ امی کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں روز بہت سا کھانا پکتاتھا اور آخر میں نانی کو بھوکا رہنا پڑتا کیونکہ مہمان اس قدر ہوتے تھے۔
’’نانی بہت غصہ آتا ہوگا آپ کو۔‘‘
’’غصہ کیوں آتا اللہ کا شکر تھا کہ اس نے ہمیں اتنا دیا تھا کہ ہم اس کے بھیجے گئے مہمانوں کو کھلا پلا سکتے۔‘‘
’’پھر آپ کیا کھاتی تھیں؟ کیا پھر اپنے لیے کھانا پکاتی تھیں؟‘‘ ان کی کاہل نواسی پریشان تھی۔
’’نہیں بھئی بہت کچھ ہوتا تھا کھانے کو بھوکے کیوں رہتے۔‘‘ وہ 47ء کا دور تھا جب مسلمان جوق در جوق پاکستان آرہے تھے‘ رشتہ دار ‘ رشتہ داروں کے رشتہ دار جسے جہاں جگہ مل رہی تھی وہ وہی کا ہوجاتا۔
’’بھائی کا بس نہیں چلتا ورنہ ریلوے اسٹیشن جا کھڑے ہوں اور ہندوستان سے آنے والے ہر لٹے پٹے قافلے کو اپنے گھر لے آئیں۔‘‘ نانا کے چھوٹے بھائی اپنے بھائی کو دریا دلی سے تنگ تھے‘ سرکاری جاب ایمانداری سے کرتے ہوئے میرے نانا مختلف کام بھی کرتے تھے ہومیوڈاکٹر بھی تھے لیکن وہ لوگ ہی ایسے تھے جنہیں اللہ کی راہ میں دینے کا شوق ہوتا ہے اور اللہ انہیں نواز رہا ہوتا ہے بظاہر کوئی اسباب بھی نہ تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد نانا نے ایک کارخانہ کھول لیا‘ جہاں ہر ڈیزائن کے کپڑے سلتے‘ محلے کے سبھی گھروں میں اس کام کی مقبولیت ہوگئی اور کام اتنا بڑھا کہ پورے علاقے میں نانا کا گھر مشہور ہوگیا لیکن کٹنگ کا سارا کام میری نانی کا تھا۔ میکسیاں‘ غرارے‘ اسکرٹ ‘ بلائوز (کیونکہ انگریزوں کو گئے زیادہ وقت نہ ہوا تھا) آخر وہ کون سا ڈیزائن تھا جو وہ کٹنگ نہ کرسکتی تھیں۔ میری شادی ہوجانے کے بعد بھی میں نے آڑھے پاجامے انہی کے ہاتھ کے سلے ہوئے پہنے۔ میری اور خالہ کے بیٹے کی دلہن کے شرارے انہوں نے ہی سیے تھے۔
میری شادی کے وقت ان کی عمر 75 سے 76 سال تھی لیکن وہ بہت چاق و چوبند تھیں اتنی کہ ان کے آگے ہم بیمار تھے یوں کہ ہم دستر خوان سمیٹ کر کچن میں کچھ دیر کے لیے ہی سہی رکھ آتے لیکن وہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونے اٹھتیں تو اپنی پلیٹ بھی کھنگال کر ریک میں لگا آتیں‘ چائے پیتیں تو کلی کرنے جاتیں اور کپ دھوکر آجاتی تھیں۔ ان کے کپڑے تو کبھی ہم میں سے کسی نے دھوئے ہی نہیں‘ نہانے جاتیں تو ساتھ ہی اپنا پہنا ہوا سوٹ دھوکے باہر آتی تھیں۔ بیٹیاں بہوئیں غصہ ہوتیں۔
’’امی مشین لگے گی تو کیا یہ ایک سوٹ نہیں دھل سکتا۔‘‘
’’بھئی ایک سوٹ دھونے میں وقت ہی کیا لگتا ہے۔‘‘
’’کام کام اور کام… قائد اعظم کو خود کہتے سنا تھا اس پر ہی عمل پیرا ہیں آج تک۔‘‘
’’کاش یہ تم بھی سن لیتیں۔‘‘ میرے شوہر کو موقع ملے مجھے کچھ کہنے کا‘ گھر کی چار دیواری کو پوری دنیا سمجھنے والی بے حد سیدھی خاتون ایک روز اپنی نواسی اور پوتی کے ساتھ بازار گئیں ‘ پوتی نواسی آج کے دور کی لڑکیاں جلد ہی تھک گئیں اور واپسی پر ایک آٹو والے کو روک لیا۔
’’ارے نہیں میں اکیلے اس میں نہیں بیٹھوں گی۔‘‘
’’اماں میں بھی آپ کے ساتھ گھر چلوں گی۔‘‘ میں نے اپنی ایک سالہ بیٹی کو آٹو میں بیٹھ جانے والی اپنی کزن کو تھمایا۔
’’تم کیا مرد ہو؟‘‘ انہوں نے غصہ سے مجھے دیکھا۔
’’دادی ہم تین دن کی مسافت پر نہیں جارہے ہیں۔‘‘ پوتی نے جلدی سے کہا۔
’’اماں ڈریئے نہیں میں آپ کے بیٹے جیسا ہوں۔‘‘ رکشہ والا ہنس دیا۔
’’ارے نہیں بیٹا! حالات اتنے خراب ہیں‘ مرد کے بغیر نکلتے بھی ڈر لگتا ہے۔‘‘ مرد کی عمر بھی ملاحظہ ہو تو پندرہ سالہ نواسہ کو ساتھ لانے کی ضد کررہی تھیں۔
سارے رستے وہ دعائیں پڑھ پڑھ کر ہم دونوں پر پھونکتی رہیں۔
’’میری بچی تو بہت بہادر ہے۔‘‘ گھر پہنچتے ہی بہادری کا کریڈٹ میرے گلے میں ڈال دیا۔
’’اور میں…؟‘‘
’’تم ابھی بچی ہو۔‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔
’’اس عمر میں دادی کی شادی ہوگئی تھی۔‘‘ وہ جیسے جل گئی تھی۔
’’میری یہ بچی بھی بہت اچھی ہے۔‘‘ وہ کسی کو خفا نہیں دیکھ سکتی ہیں۔
’’میرا دل چاہتا ہے دادی اوروں کی دادی کی طرح ابو کو ڈانٹا کریں۔‘‘ بڑی پوتی کی خواہش تھی ۔
’’کیا… کم از کم ایک بات تو سنادیا کریں‘ میری دوست کی دادی اپنے بیٹوں پر ابھی بھی جوتا اٹھالیتی ہیں۔‘‘ مگر اس کی خواہش خواہش ہی رہی‘ اس کی دادی بڑی حلیم طبیعت کی مالک ہیں‘ ان کے چار بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں ان کے سب سے بڑے بیٹے کا جب انتقال ہوا اس وقت باقی تمام بچے 15 سال سے کم عمر تھے لیکن انہیں آج بھی اس بچے کی ایک ایک عادت اچھی طرح یاد ہے حالانکہ اپنی دوائی بھول جاتی ہیں مگر وہ ماں ہیں ناں اپنا بچہ نہیں بھولتی باقی بچے عام بچوں طرح ہیں وہ آپس میں بہن بھائی کیسے بھی ہوںلیکن اپنی ماں کے اچھے بچے ہیں۔
ہر کوئی چاہتا ہے امی اس کے ساتھ ہی رہیں مگر اماں کے لیے تو سب بچے برابر ہیں سو وہ کبھی ایک کے گھر کبھی دوسرے کے گھر لیکن زیادہ وہ منجھلے ماموں کے پاس رہتی ہیں لیکن وہ نانا کا گھر تھا وہیں نانا کا انتقال ہوا اس گھر سے ان کا رشتہ پراناہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ہی ان کا گھر ہے ہم بہن بھائی نانی کا گھر کہہ کر ہمیشہ اسی گھر میں گئے‘ انہیں بھی اس گھر سے بے حد انسیت ہے۔ وہ بے حد خوش قسمت ہیں ان کی تمام اولاد فرماں بردار تھی اور اولاد کی اولاد بھی ایسی ہی فرماں بردار بلکہ اپنی مائوں سے زیادہ ان کے قریب‘ اپنی مائوں کی شکایتیں بھی کتنی بار ان سے لگائی ہم نے۔ کئی ایسے راز جس میں ہم نے اپنے والدین کو شریک نہیں کیا مگر ان کی محفل میں ان سے کہہ دیا۔ ہمیں کبھی یہ فکر ہی نہیں ہوئی کہ وہ کسی سے کہیں گی اور اب جب میں اپنی بیٹیوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے بچپن کے دن یاد آتے ہیں جو سوال ہم ان سے کرچکے وہی اب میری بیٹیاں ان سے کرتی ہیں ان پر نواسیاں‘ چار پانچ اور ڈھائی سال کی۔
’’آپ کے اتنی جھریاں کیوں ہیں؟‘‘ ام ہانی کو ان کی جھریوں کی فکر رہتی تھی۔
’’اور آپ کے دانت کیوں نہیں ہیں؟‘‘ طابہ کیوں پیچھے رہے فکر کرنے میں۔
’’اور آپ کے بابا کہاں ہیں؟‘‘ فاطمہ کے سوال ہمیشہ الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔
’’اماں یہ دولہا پوچھ رہی ہے۔‘ ام ہانی کو ڈیفینیشن کرنے کے لیے یہی الفاظ سوجھا تھا‘ وہ بے اختیار ہنس دی تھیں اور اس دن کے بعد وہ اکثر فاطمہ کو چھیڑنے لگی تھیں۔
’’فاطمہ تمہارا دولہا کہاں ہے؟‘‘
’’اماں وہ تو نانی کو بتاکر چلا گیا۔‘‘ فاطمہ کون سی اٹھارویں صدی کی بچی تھی بھئی وہ آج کے دور کی بچی ایسے ایسے جواب دیتی تھی کئی سالوں تک اماں اس سے کہتی رہیں۔
’’کب آئے گا تمہارا دولہا؟‘‘ اور پھر اس کے جواب وہ مزے سے سب کو بتاتیں۔
’’اور بھئی عالیان کیسا ہے؟‘‘ وہ پانچ سال کی تھی جب میرے بیچ والے ماموں نے پوچھا۔ یہ عالیان نام میں نے دیا اس کے دولہا کو۔
’’ایں… یہ بات نانو کو کس نے بتائی؟‘‘ طابہ حیران…
’’اماں کی بہت لاڈلی ہے فاطمہ‘ ہر وقت ہمارے گھر میں اسی کی باتیں ہوتی ہیں۔‘‘ ممانی نے ہنس کر بتایا‘ اماں کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے سب گھروں کی لاڈلی ہے وہ کسی کا بھی فون آجائے سب سے پہلے فاطمہ کی خیریت پوچھی جاتی ہے وہ میرے لیے بہت سی دعائیں کرتی تھیں۔
’’اللہ سے دعا ہے وہ ان بہنوں کا ایک بھائی دے دے۔‘‘
’’بس اماں اللہ کا شکر ہے اس نے جس سے نوازا لیکن انہی کی دعائیں تھیں کہ شادی کے دس سال بعد اللہ نے محمد اور حرم سے نوازا۔‘‘
’’ان لوگوں نے مجھے بے حد تنگ کر رکھا ہے۔‘‘
’’محمد تنگ نہیں کرے گا‘ حرم ہی کرے گی۔ چار بہنوں کا بھائی ہے سیدھا سادا ہی ہوگا۔‘‘اور سچ ہوا محمد واقعی تنگ نہیں کرتا بہت سیدھا ہے جبکہ حرم نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔
’’اللہ کیسے سنبھالوں میں انہیں۔‘‘ مجھے سمجھ نہیں تھی اس لیے کہ سمجھانے والی میری پیاری نانی بہت بیمار ہیں‘ سیڑھیاں اترتے ان کا پیر فریکچر ہوگیا تھا‘ پیر کی ہڈی ٹوٹ گئی وہ جو ساری عمر پھرکنی کی طرح گھومتی رہی تھیں اب بیڈ پر انہیں دیکھ کر ہمارے دلوں پر کیا بیتی ہے بیان سے باہر ہے۔ ان کے اس ایکسیڈنٹ سے دو تین ماہ پہلے میرے چھوٹے بھائی کی شادی تھی۔ 86 سال کی عمر میں انہوں نے مامی جیسی ڈیزائنر خاتون کو کئی بار لہنگے کی کٹنگ اور سلائی کے بارے میں مشورے دیئے۔
’’اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں یہ ہی آسان طریقہ ہے۔‘‘ مامی معترف تھیں‘ وہ واقعی ایک بہترین خاتون تھیں جو زندگی کو بہت بہتر گزار رہی تھیں لیکن اس عمر میں جو چوٹ انہیں لگی تھی اس چوٹ نے جیسے ہمارے دلوں کو گہری چوٹ دی تھی‘ اتنی عمر میں بھی انہوں نے کبھی کسی سے پانی کا گلاس نہ مانگا تھا۔
اکثر ان کے منہ سے سنتے تھے لیکن یہ بیماری بہت کم عرصے رہی انہوں نے ہمیں مہلت ہی نہ دی کہ ہم ان کی ڈھیروں خدمت کرتے۔ گیارہ ماہ بیمار رہ کر وہ اس دنیا سے چل بسی تھیں‘ ہر خاندان کی طرح کچھ لوگوں کے بیچ ناراضگیاں تھیں جنہیں وہ اپنی زندگی میں دور کرنے کی کوشش کرتی رہیں اور وہ سب ان کی موت پر یوں اکٹھے تھے جیسے کبھی ناراض ہوئے ہی نہ ہوں ۔ یکم اگست 2016ء کو ان کے منہ میں کچھ چھالے ہوگئے جن کا ہر طرح سے علاج کروایا لیکن پھر بھی وہ منہ میں پانی کا گھونٹ لیتے ہوئے بھی تڑپ کر رہ جاتیں۔ 15 اگست کو ان کا انتقال ہوا تھا‘ ان پندرہ دنوں میں ان کا چہرہ بے حد کملا گیا تھا ورنہ تو زندگی بھر وہ فریش نظر اٹھیں‘ یوسف زئی پٹھان تھیں۔
’’دادی کو تو فیشل کی ضرورت بھی نہیں ہے ایسے ہی ان کا چہرہ تو ملائم ہے۔‘‘ پوتیاں مزے سے کہتی تھیں۔
’’شرم تو نہیں آرہی ہوگی میری ماں کو نظر لگاتے۔‘‘ماموں ہنستے۔ وہ واقعی بے حد خوب صورت تھیں بے حد گوری رنگت اور شفاف چہرہ‘ ایک نشان تک نہ تھاان کے چہرے پر اور محض پندرہ دنوں میں ان کی رنگت بالکل جھلس گئی بات کرتیں تو الفاظ تک سمجھ نہ آتے تھے‘ میں ان کے انتقال سے چھ دن پہلے ان سے ملنے گئی تھی۔
’’حرم چلنے لگی۔‘‘ سب کہہ رہے تھے‘ ایک ڈیڑھ ماہ سے وہ کسی کو نہیں پہچان رہیں۔
’’جی اماں!‘‘ میرا دل بھر آیا تھا انہوں نے مجھے پہچان لیا تھا مجھے کسی تعارف کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔
’’محمد کو بولنا نہیں آرہا۔‘‘ جب میں جولائی کے آخری ہفتہ میں گئی تھی تب وہ بالکل ٹھیک تھیں لیکن بے حد کمزور ہوچکی تھیں تب میں ان سے محمد کے بارے میں یہ بات کرکے آئی تھی کہ اسے بولنا نہیں آرہا اس کے مقابل حرم بولنے لگی ہے۔
’’نہیں اماں!‘‘ میں ان سے بہت باتیں کرتی تھی لیکن ان کا مرجھایا چہرہ ان کی تکلیف مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی‘ا لفاظ تھے جیسے گم ہوکر رہ گئے تھے جب میں واپس آئی تو وہ مجھ سے جاتے ہوئے پوچھنے لگیں۔
’’کھانا کھاکے جاتی۔
’’اماں ابھی تو آپ کے ساتھ کھایا ہے۔‘‘ اتنی بیماری میں بھی مہمان نوازی‘ اللہ ہمیں بھی ایسے اخلاق سے نوازے ۔ 15 اگست کی صبح ساڑھے نو بجے وانیہ کی کال آئی (منجھلے ماموں کی بیٹی)۔
’’باجی دادی کی بہت طبیعت خراب ہے جلدی آئیں۔‘‘ میں نے فوراً ان کو اٹھایا۔
’’وانیہ نے کال کی ہے تو مطلب بہت حالت خراب ہے۔‘‘ یہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھے اور ابھی یہ بستر سے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ پھر کال آئی۔
’’دادی نہیں رہیں۔‘‘
انا للہ و انا الیہ راجعون۔ جو کیفیت تھی وہ قلم نہیں لکھ سکتا یوں لگا جیسے میں ایک دم سے بے سہارا ہوگئی ہوں۔ بے جان تو ہو ہی گئی تھی ‘ بچیاں اس وقت ناشتا کررہی تھیں تینوں کے ہاتھ رک گئے۔
میں نے پھرتی سے اٹھ کرحرم محمد کے کپڑے تبدیل کیے تھی‘ خود کو رونے نہیں دیا‘ آنسو قابو میں نہیں تھے دل قابو میں نہیں تھا بدن پر لرزہ طاری تھا لیکن زبان … اسے میں نے قابو میں رکھا تھا کیونکہ یہ ہی جنت میں لے جائے گی اور یہی واویلا کرکے جہنم کے گڑھے میں پہنچادے گی۔
تینوں بہنوں نے ناشتا چھوڑ کر اسکارف اٹھائے تھے اور جب ہم وہاں پہنچے تو امی منجھلی ممانی‘ خالہ تینوں رو رو کر بے حال تھیں۔ ان کا کفن کاٹا جارہا تھا‘ انہیں مدینے سے آیا سفید کپڑا بطور کفن نصیب ہوا‘ سبحان اللہ۔ ان کے لیے کفن تیار ہوا اور جب غسل کے لیے ان پر سے چادر ہٹائی گئی تو خود خالہ بھی حیران رہ گئیں اور منجھلی ممانی بھی کیونکہ گھر میں ان کے علاوہ کوئی نہ تھا اور انہوں نے ہی یہ چادر دی تھی‘ وہ سفید رنگت کی ہورہی تھیں حالانکہ کچھ دیر پہلے ان کا یہ رنگ نہیں تھا‘ بے حد کملایا ہوا چہرہ تھا اور اب بے حد پررونق تھا اس قدر چمک جیسے زندہ کے چہرے پر ہوتی ہے‘ بالکل یوں محسوس ہورہا تھا گویا وہ پرسکون نیند سورہی ہوں‘ انہیں غسل دینے کے لیے جب تخت پر لٹایا گیا تو بے اختیار ماشاء اللہ نکلا‘ بدن بے حد نرم و ملائم تھا اتنا کہ موت کی سختی تو تھی ہی نہیں مجھے تو یوں لگ رہا تھا وہ سورہی ہیں ذرا سا ہلائوں گی تو اٹھ جائیں گی۔ انہیں غسل دیتے ہوے کفن پہناتے ہوئے مسلسل میرے ہاتھ کپکپاتے رہے اور جب ان کو لے جایا گیا تب دل پر قابو مشکل ہوا جارہا تھا۔ آخری دیدار کے لیے جب گھر والوں کو بلایا گیا تو جیسے سب ان کے چہرے کی رونق پر حیران تھے‘ بالکل سوئی ہوئی لگ رہی تھیں‘ چھوٹے ماموں تو بچوں کی طرح رو رہے تھے۔
’’آپ بھی دیکھ لیں اماں کا آخری بار چہرہ۔‘‘ میں نے اپنے شوہر کو بلایا۔
’’نہیں‘ وہ پردے والی خاتون تھیں‘ اب مجھ پر ان کے پردے کا احترام واجب ہے۔‘‘ میرے شوہر نے انکار کردیا بس یہی ایک خوبی ان کی مجھ میں بھی ہے ورنہ تو ان جیسا کچھ نہیں میرے اندر۔
’’اماں اب کوئی نہیں پسند کررہا آپ کو‘ نقاب تو ہٹادیا کرو کم از کم۔‘‘ منجھلے ماموں اکثر چھیڑتے۔
’’اور کیا اس عمر میں آپ کو کون دیکھ رہا ہے؟‘‘ لیکن 80 سال کی عمر میں بھی ان کا نقاب نہیں اترا تھا‘ برقعہ کیا اترتا۔ وہ بیٹوں اور نواسوں کے سامنے لیٹنے سے گریز کرتیں‘ داماد تو بہت دور تھے اتنی خو ش قسمت کہ بچوںکے بچے اپنے بہو داماد پھر بچوں کے بہو داماد پھر ان کے بھی بچے سب اشک بار تھے۔
’’امی پورا دن حرم محمد نے فیڈر نہیں پیا‘ ابھی بھی دے رہی ہوں تو دونوں نہیں پی رہے۔‘‘ میں حیران تھی‘ کیا ان دونوں کو بھی احساس تھا کہ ہمارے سر سے ایک مشفق سایہ ہٹ گیا ہے جو لمحہ لمحہ ہم سب کے لیے فکر مند دعاگو رہتا تھا۔
’’اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پڑوس نصیب فرمائے‘ آمین۔ ان کی قبر کو کشادگی اور جنت کی ہوائوں سے مہکائے‘ آمین۔ ان کی قبر کو وسیع کردے اور ان پر اپنی رحمت فرمائے‘ ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کے ساتھ اللہ عزوجل ہم پر بھی اپنا رحم و کرم فرمائے اور ہمیں صبر و ہمت عطا کرے اور ہمارے اس صبر پر ہمیں اور ان کو اجر عطا کردے‘ آمین۔‘‘
’’آخر میں سب سے کہنا چاہوں گی کہ پلیز پلیز اگر آپ کے والدین حیات ہیں تو ان کی بے حد خدمت کریں‘ اگر کسی وجہ سے وہ ناراض ہیں اور غلطی بھی انہی کی ہے تو آپ معافی مانگ لیں‘ انہوں نے آپ کی پرورش میں بہت سی قربانیاں دی ہوں گی‘ معافی مانگ کر آپ بھی اپنی انا کی قربانی دے دیں کیونکہ اس رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور جب یہ چلے جاتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ باقی نہیں رہتا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close