Hijaab Jul-17

دعا کی صورت میں تم ملے

عابدہ سبین

’’بڑی امی… بڑی امی…!‘‘ صحن سے آواز آئی تو اشعر فاروق نے کڑوا سا منہ بنایا اور جان بوجھ کر سوتا بن گیا آج پہلی چھٹی تھی اور صبح ہی یہ آفت نازل ہوگئی اب سارا دن کرکرا ہوجانا ہے۔ اس نے پھر آواز لگائی مگر جواب ندارد تھا تب وہ صحن سے اندر برآمدے میں آگئی۔ بڑی امی چاشت کے نفل ادا کررہی تھیں وہ دیکھ کر خود شرمندہ سی ہوگئی اور وہیں موڑھے پر بیٹھ کر ان کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگی۔ وہ نماز سے فارغ ہوکر دعا مانگ کر جائے نماز تہہ کرتی مڑیں تو میرب کو منتظر پایا۔
’’بڑی امی مما آج بازار جارہی ہیں آپ نے کچھ منگوانا ہے تو بتادیں۔ آپ نے صفائی وغیرہ کرلی منع بھی کیا ہے ناں میں نے کہ آپ مت کیا کریں۔ میں ابھی کردیتی۔‘‘ حسب عادت وہ بول رہی تھی اسی بولنے کی رفتار سے اشعر جلتا تھا۔
’’بچے میں نے نہیں کی صغریٰ آئی ہے وہ کر گئی۔‘‘ انہوں نے سہولت سے بتایا۔
’’ہوگئیں اس مہارانی کی چھٹیاں ختم۔‘‘ بڑی امی گھٹنوں کے درد کے باعث گھر کے کام کاج سے لاچار تھیں بیٹی ایک تھی وہ شادی شدہ اور بیٹا بھی اکلوتا تھا نیوی میں حال ہی میں اس کی نوکری لگی تھی گھر کی صاف صفائی کے لیے ماسی رکھی ہوئی تھی مگر کئی دن سے وہ بھی غائب تھی۔
’’اس کے بیٹے کو ٹائیفائڈ ہوا تھا اس لیے نہ آسکی۔‘‘ بڑی امی نے اسے بتایا اور وہ نرم دل مخلص سادہ مزاج لڑکی فوراً پسیج گئی۔
’’ہائے بے چاری… بڑی امی وہ تو اتنی غریب ہے کیسے کرپائی ہوگی دوائی وغیرہ آپ نے پوچھا اس سے۔‘‘
’’ادھار لیا تھا قسمت کی ماری نے آج میں نے ایڈوانس تنخواہ دے دی ہے اللہ سب مسلمانوں پر رحم کرے میرا مالک ہر انسان کو رزق عطا کرے، بے بہا…!‘‘
’’آمین۔‘‘ اس نے صدق دل سے آمین کہا کمرے میں لیٹا اشعر کلس رہا تھا۔
’’یہ دونوں تائی بھتیجی ایک جیسی ہیں انہیں کوئی بھی آرام سے غربت اور لاچاری کے نام پر الو بنا سکتا ہے۔ امی تو تھیں ہی اب یہ نئی مدر ٹریسا ہمارے خاندان میں پیدا ہوگئی۔‘‘
’’کیا پکائیں گی آج۔‘‘
’’ارے ہاں تمہیں بتانا یاد نہیں رہا رات اشعر آگیا ہے جو بھی پکانا اس سے پوچھ لینا۔‘‘
’’ہائے سچ بڑی امی کیسا ہے وہ کچھ موٹا ہوا یا ویسا ہی ہے مزاج پر اچھا اثر پڑا یا سڑیل ہے پہلے کی طرح۔‘‘ وہ پھر اسٹارٹ ہوگئی بڑی امی بمشکل ہنسی روک پائیں۔
’’میں نے نیوی میں اپلائی کیا تھا میڈم ڈبلیو ڈبلیو ای میں نہیں۔‘‘ اب کی بار وہ سہہ نہ سکا اور اٹھ کر عین سامنے آگیا۔ ’’اور سڑیل ہوں میں…‘‘
’’ہاں تو کوئی شک ہے اس میں۔‘‘ اس نے بتیسی کی نمائش کی۔ ’’ہائے ویسے اشعر تم کتنے ڈیشنگ ہوگئے ہو ناں ان تین چار ماہ میں۔‘‘ اس نے رشک بھری نظروں سے خوبرو کزن کو دیکھا۔
’’تمہاری ہائے اب پڑ گئی ہے ناں۔ اب جانے کب بیمار پڑ جائوں۔‘‘ اس نے دانت کچکچائے۔
’’بڑی امی دیکھ رہی ہیں آپ ایک تو میں اس کی تعریف کررہی ہوں اور یہ خوامخواہ اترا رہا ہے۔‘‘
’’ہاں جی ایسے ہی تو کرتے ہیں تعریف۔‘‘ وہ جی جان سے جلا۔
’’اچھا چھوڑو، جلدی بتائو آج کیا کھائو گے۔‘‘
’’نا بابا ناں ابھی میرا اتنا برا وقت نہیں شروع ہوا کہ میں تمہارے ہاتھ کا پکا کھائوں‘ امی آپ پکا دیں گی تو کھالوں گا ورنہ پھر گھر کے اور وہاں کے کھانے میں کیا فرق ہوگا۔‘‘
’’تم ضرورت سے زیادہ انسلٹ کررہے ہو میری۔‘‘ اسے غصہ آیا۔
’’او رئیلی تمہیں بے عزتی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اس نے چڑانے والے انداز میں کہا۔
’’بس بڑی امی، اب میں تبھی آئوں گی جب یہ شخص چھٹیاں گزار کر چلا جائے گا۔‘‘ وہ پیر پٹختی تیزی سے چل دی اور وہ پیچھے خوش دلی سے مسکرادیا۔
’’جان چھوٹی دو تین دن کے لیے۔‘‘
r…r…r
ان دونوں کا بیر بچپن سے تھا میرب کو اپنا یہ کزن جہاں سارے جہاں سے اچھا لگتا تھا وہ اتنا ہی اس سے چڑتا تھا۔ اسے ہمیشہ میرب کی ساری خامیاں نظر آتی بلکہ اسے تو میرب کی خوبیاں بھی خامیاں لگا کرتی تھیں۔ میرب بہت نرم دل لڑکی تھی کسی کی ذرا سی تکلیف بھی وہ برداشت نہیں کرتی تھی اکثر اسکول میں اس کے کلاس فیلوز اس کی نرم دلی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے اور بعد میں اس کا مذاق اڑاتے۔ اشعر اکثر جلتا تھا اس کی ان عادتوں سے۔
’’میرب بی بی یہ خدائی فوج دار بننے کا زمانہ نہیں ہے آج کل لوگ اس نیک دلی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں مجھے صاف دکھائی رے رہا ہے کہ تم مستقبل قریب میں شدید نقصان اٹھانے والی ہو اپنی اس عادت کے باعث۔‘‘ اور وہ ہمیشہ ہی اس کی باتیں ایک کان سے سنتی اور دوسرے کان سے اڑا دیتی۔ بولنا اس کی ہابی تھا شاید وہ خاموش رہ ہی نہیں سکتی تھی۔ جبکہ اشعر کو زیادہ بولنا سخت ناپسند تھا۔
ان تمام تر برائیوں کے باوجود وہ جانتا تھا کہ اس کی امی کا میرب ہارون کے بنا لمحہ بھر کا گزارا نہیں ہے خاص کر جب سے آپی کی شادی ہوئی تھی اس کے بعد سے امی بالکل تنہا ہو کر رہ گئی تھیں اور میرب ہارون نے ان کی اس تنہائی کو ختم کیا تھا۔ وہ اپنی مصروفیت کے باوجود دن کا بیشتر حصہ بڑی امی کے پاس گزارتی تھی۔ ان کے تمام کام سمیٹتی تھی حتیٰ کہ کھانا تک پکا کر آتی تھی اشعر فاروق جانتا تھا کہ وہ ان کے گھر کے لیے کس قدر اہم ہے مگر پھر بھی میرب ہارون کو جھیلنا اس کے بس سے باہر تھا۔ نوکری کے بعد وہ پہلی بار چھٹی پر آیا تھا اور اپنی چھٹیاں خوش گوار گزارنا چاہتا تھا مگر ہائے رے قسمت صبح سویرے ہی وہ بلا نازل ہوگئی تھی۔
اندازہ تھا اسے کہ اب امی کا موڈ بھی خاصا اداس رہے گا‘ اس کی باتیں ان کا دل لگا رکھتی تھیں اور یہ بھی پتا تھا کہ وہ اب تب تک نہیں آئے گی جب تک خود اشعر اسے لے کر نہیں آئے گا۔ کوئی پہلی بار تھوڑی نہ ہوا تھا‘ اکثر ہی وہ اسے یوں ہی ذلیل کردیتا تھا وہ خفا ہوجاتی تو امی بھی روٹھ جاتیں تب لاچار نہ چاہتے ہوئے بھی اسے میرب چڑیل کی منتیں کرنی پڑتیں اور وہ بھی پھر خوب نخرے دکھاتی‘ بھائو کھاتی تھی۔ اب بھی سارا دن جیسے تیسے گزر گیا شام تک امی بالکل چپ ہوگئیں‘ انہیں عادت جو تھی اس ریڈیو اسٹیشن کو سننے کی جو نان اسٹاپ چلتا تھا۔
’’امی میں ذرا چاچو سے مل آئوں۔‘‘
’’بھلا ہو تمہیں یاد تو آیا کہ کوئی ہے تمہارا۔‘‘ ان کا انداز صاف خفگی ظاہر کررہا تھا وہ سر کھجاتا باہر نکلا‘ بالکل ساتھ والا تو گھر تھا۔ وہ دروازے پر دستک دیتا حسب معمول اندر داخل ہوا تو صحن میں ہی تخت پر چاچو اور چاچی بیٹھے تھے۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے ادب سے سلام کیا‘ انہوں نے بہت پیار سے گلے لگایا چاچی نے ماتھا چوما۔
’’جیتے رہو‘ کب آئے۔‘‘
’’فجر کے وقت ہی پہنچا تھا چاچی۔‘‘ چاچی نے اپنے پاس ہی اس کے لیے جگہ بنائی وہ بیٹھ گیا۔
’’اچھا… سویرے میرب گئی تو تھی اس نے ذکر نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے حیرانی سے کہا۔
’’میں سورہا تھا ناں اسے پتا نہیں چلا ہوگا۔‘‘
کتنا مکار انسان تھا اس کے منہ پر جھوٹ بول رہا تھا میرب جل کر رہ گئی۔ وہ ابھی کچن سے نکلی تھی اسے بیٹھا دیکھا تو وہیں سے مڑنے لگی۔
’’کیا کھائو گے بچے‘ بتائو۔‘‘
’’ارے نہیں چاچو… کچھ نہیں کھانا۔‘‘
’’کیوں نہیں کھانا میرب پکوڑے بنارہی ہے تمہارے چاچو کا دل کررہا تھا ساتھ پودینے اور سبز مرچ کی چٹنی ہے‘ ٹھہرو میں ابھی لے کر آتی ہوں۔‘‘ چاچو چاچی اس سے بہت محبت کرتے تھے‘ اسے بھی سب سے پیار تھا ماسوائے میرب ہارون کے جس کا ذکر ہی اس کا حلق کڑوا کردیتا تھا۔
چاچی اٹھنے لگی کہ وہ خود ہی لے آئی اور لٹھ مار انداز میں سلام کیا تھا‘ جانتا تھا کہ وہ بے ادب نہیں مگر اس وقت اسے اشعر فاروق سے سخت ناراضگی تھی۔ عجیب ناہنجار لڑکی تھی خود ہی خفا ہوتی اور امید بھی لگالیتی کہ وہ منانے آئے گا جانتی جو تھی اس کی مجبوری‘ امی نے بھی اس کا بائیکاٹ کردینا تھا۔
’’چاچی ریحاب نظر نہیں آرہی ہے۔‘‘ اس نے میرب سے چھوٹی بہن کا پوچھا جس سے اس کی خوب بنتی تھی۔
’’آج کل فارغ ہے ناں جب تک ایڈمیشن نہیں ہوتے‘ بی ایس سی کے تو سلائی سیکھنے جاتی ہے۔‘‘ چاچی نے بتایا۔
’’اسے بھی کچھ سکھادیں‘ بس باتیں بنانے میں ایکسپرٹ ہے محترمہ…‘‘ منہ پھلائی میرب پر شرارتی نگاہ ڈال کر وہ معصوم بنا چاچی سے کہہ رہا تھا۔ وہ بھی سمجھتی تھیں کہ اسے چڑا رہا ہے۔
’’تمہارا تو کچھ نہیں جاتا میرے بولنے سے‘ بڈھی روح ہے تم میں۔ ہر وقت میرے پیچھے پڑے رہتے ہو‘ پرانے زمانے کے لوگوں کی طرح۔‘‘ اس نے بھی بھڑاس نکالی۔
’’لڑکیاں کام کاج کرتی اچھی لگتی ہیں‘ سسرال میں صرف باتیں کام نہیں آتیں سلیقہ بھی دیکھتے ہیں۔‘‘ وہ مزید چڑانے لگا۔
’’بے فکر رہو‘ میری بچی سر فخر سے بلند ہی کرے گی سب آتا ہے۔‘‘ چاچی کو شاید اس کے موڈ کا اندازہ ہوگیا تھا وہ ہنس دیا۔
’’کہاں چاچی‘ پکوڑے دیکھیں کتنے بے ذائقہ ہیں‘ نمک ہی نمک بھرا ہے۔‘‘
’’ہاں تب ہی تو پلیٹ صاف بھی کر گئے‘ پیٹو کہیں کے۔‘‘ وہ کلس کر بولی۔
’’میرب بیٹا‘ وہ مذاق کررہا ہے۔‘‘ چاچو کو مداخلت کرنی پڑی۔
’’بابا یہ یوں یہی مجھے ذلیل کرتا ہے سب کے سامنے میں اتنی ہی بری ہوں ناں۔‘‘ اس نے لہجے میں نمی سموئی۔
’’بے شک تم سے برا کوئی ہوسکتا ہے بھلا۔‘‘
’’ہے ناں… اشعر فاروق… سڑیل۔‘‘ وہ چیخی اور آنسو صاف کرتی اندر بھاگ گئی۔ وہ ہنسا تو چاچی اور چاچو بھی مسکراہٹ چھپا نہ سکے۔
’’تم دونوں کبھی بڑے نہ ہونا‘ بچپن چلا گیا مگر لڑائی ختم نہ ہوئی۔‘‘ چاچی نے کہا۔ وہ کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ کر گھر آگیا۔
r…r…r
واقعی وہ اگلے دن بھی نہیں آئی صغریٰ کام کرکے چلی گئی۔ دوپہر ہوچکی تھی امی اس کی فرمائش پر کریلے گوشت پکارہی تھیں۔
’’میرب تو میرے آنگن کی کوئل ہے‘ کل سے میرا آنگن سونا پڑا ہے۔‘‘
’’امی کتنا سکون ہے ماحول میں‘ فضا بھی خوشگوار ہے۔ جانے آپ کو چلتے پھرتے ریڈیو اسٹیشن میں کیا اچھا لگتا ہے۔ انتہائی ناہنجار اور بد زبان لڑکی ہے وہ…‘‘
’’چپ کر…‘‘ امی نے لتاڑا۔
’’تو نے ہی ناراض کیا ہے اسے اب تو ہی جاکر مناکر لائے گا۔ ارے تیرا کیا ہے‘ چار پانچ دن کی چھٹی پر آیا ہے چلا جائے گا۔ وہ بچی ہی میری تنہائی کا آسرا ہے‘ جس دن سے کالج چھوڑا ہے دن رات میرے ساتھ رہتی ہے اتنا خیال رکھتی ہے اور ایک تُو ہے کہ…‘‘
’’اتنا عادی نہ بنائیں کل کو سسرال چلی جائے گی تو پھر کیا کریں گی آپ؟‘‘ اس نے سیانا بننے کی کوشش کی۔
’’مجھے نہ سیکھا‘ جاکے لے کر آ اسے جب کی تب دیکھیں گے۔‘‘ انہیں جیسے پروا ہی نہیں تھی۔
’’میں نے نہیں دیکھنے اس کے نخرے میں ریحاب کو لے کر آرہا ہوں‘ وہ آپ کی ہیلپ کرادے گی۔‘‘ اس نے چارپائی سے اٹھتے ہوئے کہا تھا اور محض دو منٹ بعد وہ واقعی ریحاب کے ساتھ آیا تھا۔
’’بڑی امی لائیں میں پکا دیتی ہوں‘ آپ اتنی گرمی میں کیوں کھڑی ہیں۔‘‘ انہوں نے چاہت سے بھتیجی کو دیکھا۔ بیٹیاں اللہ پاک نے عفت کو دونوں ہی اچھی دی تھیں بڑوں کا ادب لحاظ کرنے والی‘ وہ بھی سکون کی متلاشی تھیں فوراً ہی باہر آگئیں۔
’’میرب کہاں ہے کل سے۔‘‘ حالانکہ انہیں علم تھا اشعر کی وجہ سے وہ بائیکاٹ کر گئی تھی پھر بھی طفل تسلی ہی سہی۔
’’بڑی امی صبح ماموں آئے تھے اسے ساتھ لے گئے ہیں‘ ممانی جان نے بازار جانا تھا اور آپ کو تو علم ہے وہ کتنی چہیتی ہے ماموں مامی کی‘ ساری شاپنگ اس کی پسند سے کریں گی ممانی جان۔‘‘
’’ارے وہ ہے ہی اتنی پیاری۔‘‘ انہوں نے غصے بھری نظر اپنے سپوت پر ڈالی۔ ریحاب نے سالن پکا دیا تھا‘ روٹیاں پکا کر وہ چلی گئی کیونکہ اس نے گھر میں بھی دوپہر کا کھانا پکانا تھا۔
’’بچیوں کا سکھ ہی الگ ہے‘ یہ بے چاریاں کون سا راتوں کو اٹھ کر کھاتی ہیں‘ بس میرا رب ہر لڑکی کا نصیب اچھا کرے۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے وہ کہہ رہی تھیں۔
’’میرے نصیب میں تو جانے بہو کا سکھ بھی لکھا ہے یا یوں ہی گزر جائوں گی۔‘‘
’’لو جی‘ اب یہ نیا ایشو‘ اچھا خاصا گھر کا نظام چل رہا ہے صفائی ماسی کرجاتی‘ کھانا میرب پکا جاتی ہے‘ آپ کو کیوں بہو کی یاد ستانے لگی۔‘‘
’’عمر بھر تو نہیں یہ نظام چلے گا۔ ماشاء اللہ تعلیم مکمل کرچکی ہے میرب‘ اس کے ماموں زور ڈال رہے ہیں رشتے کے لیے کبھی بھی بات طے ہوجائے گی۔‘‘
’’اتنے اچھے نصیب نہیں ہمارے‘ اتنی جلدی نہیں ٹلنے والی ہے وہ بلا۔‘‘ وہ غیر سنجیدہ تھا۔
’’بیٹیاں چڑیا کی طرح دانہ چن کر پھر سے اڑ جاتی ہیں بیٹا‘ ان کا پتا بھی نہیں چلتا۔ میرب بھی کل کو چلی جائے گی یہ سوچتی ہوں تو دل ہولنے لگتا ہے‘ کیا بنے گا میرا اکیلی کا تُو تو سال چھ مہینوں میں کہیں ایک چکر لگایا کرے گا۔‘‘ وہ اب تک بات کو مذاق میں ٹال رہا تھا مگر امی تو بہت سنجیدہ تھیں‘ کہہ تو سچ رہی تھیں۔ آپی کا کب پتا چلا تھا چٹ منگنی پٹ بیاہ اور اب گجرانوالہ سے سالوں بعد چکر لگاتیں‘ وہ امی کو کیا کہتا اب… انہوں نے الٹا اس کے ہی پیچھے پڑجانا تھا سو خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔
r…r…r
’’میرا بس چلے ناں تو عمر بھر تمہاری شکل نہ دیکھوں مگر ہائے مجبوری… میری امی کا تمہارے بنا گزارہ نہیں…‘‘ اگلی شام جب میرب چھت پر دھلے ہوئے کپڑے سمیٹنے آئی تھی تب وہ بھی اپنی چھت پر براجمان تھا‘ اسے دیکھتے ہی لپک کر آیا۔
’’اب یہ خوامخواہ کے نخرے بند کرو اور شرافت سے گھر آجائو‘ امی کل سے سینکڑوں بار تمہارے نام کی مالا جپ چکی ہیں اور موصوفہ کا اترانا ہی ختم نہیں ہورہا۔‘‘ اچھی بات اس کے منہ سے سننے کی حسرت تو شاید میرب کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی مگر بعض دفعہ اس کی باتیں سیدھی دل پر اثر کرجاتی تھیں۔
’’اشعر کیا واقعی میں اتنی بری ہوں۔‘‘ نخرے تو وہ کرتی تھی مذاق الٹی سیدھی باتیں مگر آج جانے اس کے لہجے اور جملے کیوں یک دم اشعر فاروق کے لب ساکن کر گئے کئی لمحے وہ بول ہی نہ پایا۔
’’کہتے ہیں بعض دفعہ انسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہوتی ہے‘ شاید تمہیں بھی میرے جانے کے بعد میرے نہ ہونے کا احساس ہو‘ میری کمی محسوس ہو۔‘‘ وہ نہایت سنجیدگی سے بولی۔
’’لیکن اب تم جائو گی کہاں محترمہ میرب ہارون؟‘‘ اس نے معصومیت سے آنکھیں پھیلائیں‘ توقع تھی کہ جذباتی اداکاری ہوگی کہ مر جائوں گی تب قدر کرو گے۔
’’اپنے سسرال اور کہاں۔‘‘ مسکراہٹ کو لبوں میں دبا کر بولی اور اس کے گھورنے پر کھل کے ہنس دی۔
’’مطلب محترمہ آپ کی ناراضگی اب ختم‘ شرافت سے نیچے اترو اور گھر آجائو۔‘‘ اس نے تڑی لگائی اور وہ منہ کے زاویے بگاڑنے لگی اور ساتھ ساتھ کپڑے تہہ کرنے لگی۔
’’بائی دا وے‘ کیا واقعی تمہاری سسرال والی بات جلد متوقع ہے۔ امی بھی دوپہر کچھ ایسا ہی ذکر کررہی تھیں۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
’’کیا فرق پڑتا ہے اشعر فاروق تمہیں‘ بلکہ اچھا ہی ہے ناں کم از کم تم چھٹیوں پر آئو گے تو تمہیں میری شکل تو نہیں دیکھنے کو ملے گی۔‘‘ وہ سوچ رہا تھا کوئی بے تکا جواب ملے گا مگر اتنا سنجیدہ اور تلخ لہجہ اسے حیران کر گیا وہ عجیب خالی نگاہوں سے میرب کو دیکھتا رہ گیا اور میرب کپڑے سمیٹ کر سیڑھیاں بھی اتر گئی تھی۔ وہ رات تک منتظر رہا کہ شاید وہ آئے اور اشعر اس سے پوچھے مگر کیا پوچھے گا؟ اس نے سچ ہی تو کہا تھا۔
’’اشعر… عائشہ سے بات ہی کرادے میری‘ کتنے دن بیت گئے بات نہیں ہوئی۔ میرب تو تیسرے دن ہی پیکیج کروا کے میری گھنٹہ بھر بات کرا دیتی تھی‘ تجھ سے بھی اور عائشہ سے بھی۔‘‘ وہ چارپائی پر لیٹا خود سے ہی الجھ رہا تھا جب امی نے کہا۔ اس نے خاموشی سے آپی کا نمبر ڈائل کرکے امی کو فون تھمادیا اور خود کروٹ لے کر سونے کی تگ و دو کرنے لگا۔
صبح وہ آئی تو نارمل موڈ میں تھی اشعر بھی اپنی الجھن بھول چکا تھا‘ آج پھر صغریٰ غائب تھی سو پہلے گھر بھر کی صفائی کی اور اب اس نے کپڑے دھونے کے لیے مشین لگائی تھی‘ ساتھ ساتھ وہ امی سے باتیں بھی کررہی تھی۔
’’کل صغریٰ آجائے گی تو خود دھولے گی کپڑے‘ میرب تو رہنے دے۔‘‘
’’بڑی امی اس بے چاری کے بیٹے کی طبیعت جانے کیسی ہو‘ میں کیا کروں گی سارا دن‘ کوئی بات نہیں۔‘‘
’’بی بی وہ یہ تمام کام کرنے کے ہی پیسے لیتی ہے۔‘‘ حسب معمول اشعر چڑ گیا اس کی عادت سے۔
’’انسانیت بھی کوئی شے ہے اشعر فاروق… چار پیسے اگر چلے بھی گئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ کریم اس کی مدد فرمائے اس کے بیٹے کو شفا دے پھر اس نے ہی کرنا ہے۔‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے کہہ کر اسے لاجواب کر گئی تھی۔
’’بڑی امی کیا پکانا ہے؟‘‘ دو گھنٹے لگے ہوں گے اسے کپڑے دھونے میں اب وہ دوپہر کے لیے کھانے کی تیاری میں تھی۔
’’اُف او ابھی تو گیارہ بجے ہیں‘ ابھی رہنے دے۔‘‘ امی دیکھ رہی تھیں وہ صبح سے مسلسل لگی ہوئی ہے۔
’’ارے نہیں بڑی امی… ایک بجے ممانی نے آنا ہے‘ ہم نے بازار جانا ہے۔‘‘
’’غضب خدا کا‘ ابھی کل پرسوں تو تم بازار گئی تھیں۔‘‘ اشعر ٹوکے بنا نہ رہ سکا مگر اس نے شاید اشعر کی بات پر توجہ نہیں دی تھی۔ جانے وہ محسوس کررہا تھا یا واقعی میرب جان بوجھ کر اسے نظر انداز کررہی تھی۔
’’میرب کوئی خاص تیاری چل رہی ہے۔‘‘ بڑی امی نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ سر ہلاگئی۔
’’اللہ نصیب اچھے کرے میری بچی تیرے‘ ماشاء اللہ ہونہار بچہ ہے کاشف‘ اللہ خوشیاں دکھائے۔‘‘ وہ صدق دل سے دعائیں دینے لگیں جبکہ وہ ہونق بنا صرف انہیں سن رہا تھا۔
’’کوئی مجھے بھی بتانا پسند فرمائے گا کہ کیا ہورہا ہے۔‘‘
’’کیا ملے گا تجھے بتاکر‘ کاش تُو دل کی آواز سن سکتا۔‘‘ امی کے لہجے میں عجیب سی ہوک تھی۔
’’کاش بڑی امی آپ کا بیٹا واقعی کسی کے دل کو پڑھ سکتا مگر اسے تو نفرت ہے میری صورت اور میرا وجود سے‘ وہ ایک پل کو یہاں برداشت نہیں کرتا‘ تو…‘‘ شاید پیاز زیادہ جھل والی تھی‘ آنکھوں سے پانی تیزی سے بہنے لگا تو وہ اٹھ کر کچن میں آگئی۔
’’امی آپ پلیز صاف الفاظ میں بتادیں ناں۔‘‘
’’میرب کے ماموں نے اسے اپنے بیٹے کے لیے مانگا ہے شاید وہ جلد بات پکی کر جائیں۔‘‘
’’ہائے رئیلی… یعنی بہت جلد ہماری اس چڑیل کے سائے سے جان چھوٹنے والی ہے۔‘‘ جان بوجھ کر وہ تیز آواز میں بولا تھا مگر نوٹس نہ کرسکا کہ اس کی بات کا دکھ میرب سے کہیں زیادہ اس کی اپنی ماں کو ہوا تھا جن کی برسوں کی خواہش ماتم کرنے لگی صرف اشعر کے برے رویے کی وجہ سے۔
/…ء…/
وہ غیر سنجیدگی سے بات کو لیتا رہا اور اس کی چھٹی ختم ہونے سے صرف ایک دن پہلے میرب کے ماموں باقاعدہ رشتہ لے کر آئے تھے۔ چاچو نے اسے اور امی کو بھی بلایا تھا چونکہ بات تو تقریباً طے پاچکی تھی محض رسماً ہی وہ آئے تھے۔ سو خاندان کے چیدہ چیدہ افراد میں میرب کی بات طے پاگئی تھی۔ بات تو خوشی کی تھی اور ہر شخص خوش تھا بھی مگر اسے یہ خوشی میرب اور امی کے چہرے پر کہیں نہ ملی حتیٰ کہ امی گھر آکر بھی چپ چپ سی تھیں اور عشاء کی نماز ادا کرتے ہی بنا کوئی بات کہے سوگئیں۔
اس نے بھی صبح جلدی نکلنا تھا سو وہ بھی سوگیا اور صبح سویرے ہی نکل گیا‘ یہاں آکر وہ ہی روٹین لائف ٹف تھی مگر پہلے وہ شام میں بہت انجوائے کرتا تھا مگر اس دفعہ جب سے لوٹا تھا امی اور میرب کے چہرے کی سوگواری اس کے ذہن سے محو نہیں ہورہی تھی۔ پہلے واقعی امی ہر تیسرے روز اسے کال کرلیتی تھیں امی کے پاس موبائل نہ تھا۔ میرب ان کی بات کرادیتی تھی لیکن اس بار ہفتہ بیت گیا‘ امی کا فون نہ آیا۔ بہت انتظار کے بعد اس نے خود فون کیا تھا‘ اس کا خیال تھا میرب کو پہلے کچھ تنگ کرے گا اس کا خون جلائے گا مگر جھٹکا تب لگا جب کال امی نے ریسیو کی۔
’’کیسا ہے میرا بچہ؟‘‘
’’میں تو ٹھیک ہوں لگتا ہے آپ مجھے بھول گئی ہیں۔ کتنے دن ہوگئے تھے آپ سے بات ہوئے۔‘‘
’’بس میرب ہی بات کرواتی ہے اور ہفتے بھر سے تو میری بچی بخار میں پڑی ہے‘ جانے کیسا بخار ہے موا جان ہی نہیں چھوڑ رہا‘ آدھی رہ گئی میری میرب…‘‘
’’تو میڈیسن نہیں لی۔‘‘
’’لی کیوں نہیں‘ روز لاتے ہیں خیر آج تو کچھ آرام ہے میرے پاس ہی لیٹی تھی‘ ابھی سوئی ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں آرام کرنے دیں‘ آپ اپنا سنائیں گھٹنوں کا درد کیسا ہے؟‘‘
’’یہ درد تو میرا بچہ‘ جان لے کر ہی جانے والا ہے‘ جتنی رہ گئی ہے کٹ جائے گی۔‘‘
’’امی آپ پھر شروع ہوگئیں۔‘‘ وہ خفگی سے بولا۔
’’کیا کروں اشعر… کس سے کہوں پھر ‘ اب تک تو یہ بچی میرا کردیتی ہے اس کی شادی کے بعد کون کرے گا۔ کاش تُو وہ سمجھ سکتا جو میں نے ہمیشہ کہنا چاہا مگر اب کیا فائدہ جب وقت گزر گیا۔‘‘ امی کے لہجے میں یاسیت تھی۔
’’کیوں الجھا رہی ہیں‘ کیا بات ہے۔‘‘
’’حاصل وصول کچھ ہونا نہیں بچے پھر فائدہ‘ چھوڑ تُو یہ بتا دن کیسے گزر رہے ہیں۔‘‘ امی نے بات پلٹی اور اسے ازحد الجھا گئیں۔
’’کیا کہنا چاہتی تھیں امی مجھ سے۔ انہوں نے کبھی بھی کوئی بات نہیں کی پھر آخر کیوں تھی ان کے لہجے میں مایوسی۔‘‘ اسے پھر سے امی کی خاموشی اور اترا چہرہ یاد آنے لگا ساتھ ہی میرب بھی یعنی جب سے وہ آیا تھا میرب کو اسی دن سے بخار تھا‘ اسے ایسا کیوں لگ رہا تھا جیسے میرب خوش نہیں۔
/…ء…/
وقت کتنی تیزی سے گزر رہا تھا اسے گھر سے آئے مہینوں بیت گئے اس کی اب بھی امی سے بات ہوتی تھی مگر اس دن کے بعد ان کے لہجے میں اسے پھر وہ یاسیت نہ ملی۔ میرب بھی پہلے کی طرح بات کرتی تھی ایس ایم ایس اکثر کردیتی تھی کبھی آن لائن ہو تو فیس بک پر چیٹ ہوجاتی۔ وہ اپنی سیلفی بناکر اکثر بھیج دیتا پھر وہ اس پر امی کے کمنٹ لازمی لکھتی کہ ’’کمزور ہورہے ہو‘ خود پر توجہ دو‘ کھانا وقت پر کھایا کرو۔ فرصت ملے تو نائی کے پاس ہو آنا وغیرہ…‘‘ جس پر وہ جی بھر کے ہنستا تھا۔
کئی دن سے وہ بے حد اداس تھا امی سے ملنے کو دل چاہ رہا تھا۔ گھر کی یاد بھی آرہی تھی اور کیا عجب کہانی تھی ناں کہ یاد امی کی ہو یا گھر کی ہر یاد سے جڑی اس چڑیل کی یاد بھی وابستہ تھی۔ اسے بچپن سے جوانی تک وہ بے فکر دن اب شدت سے یاد آتے جب وہ صرف من پسند زندگی جیتے تھے۔ کیسے لڑا کرتے تھے وہ دونوں ان کی تو ہمیشہ سے دوستی چلی آئی تھی۔ ہاں یہ سچ ہے میرب ہارون اکثر ہار مان لیتی تھی‘ وہ کبھی سنجیدگی سے اس سے خفا ہوئی ہی نہیں۔ وہ روٹھتی تھی مگر پورے یقین کے ساتھ کہ وہ بڑی امی کی ڈانٹ سن کر اگلے پل ہی آئے گا اسے منانے‘ اس کے منانے کے زعم پر خفا ہوتی تھی وہ۔ کتنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھیں اس کی بھی‘ بس ہر دم اسے دوسروں کا خیال رہتا تھا۔ چاہے کسی سے رشتہ ہو یا نہ ہو۔ اسے ہر انسان کا خیال رہتا‘ تکلیف میں تو وہ ایک جانور کو بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اسے یاد تھا جب بچپن میں وہ درختوں پر چڑھتا تھا اور چڑیوں کے گھونسلے چھیڑتا وہ کتنا منع کرتی تھی ایک دن ایک چڑیا کا بچہ نیچے گر گیا وہ کتنا روئی تھی اسے کتنا برا بھلا کہا تھا جب تک اشعر نے اسے واپس اوپر نہیں رکھا وہ مسلسل روتی رہی۔
تکلیف میں تو وہ اسے بھی نہیں دیکھ سکتی تھی اسے اگر ہلکا سا سر درد بھی ہوتا تو امی سے زیادہ وہ فکر مند ہوجاتی تھی۔ اسے بخار چڑھ جاتا تو کالج سے چھٹی کرلتی کہ اشعر ٹھیک ہوگا پھر جائوں گی ورنہ وہاں بھی اس کی فکر رہے گا۔ اُف کتنی یادیں تھیں… کیسی عجیب لڑکی تھی‘ اتنا خیال کرتی تھی۔ آج واقعی اسے میرب ہارون بھی شدت سے یاد آرہی تھی‘ تب ہی تو اس نے اسے ایس ایم ایس کیا تھا آئی مس یو سو مچ… اور شام میں جب وہ موبائل چیک کررہا تھا تو اسے اپنے میسج کا ریپلائی ملا تھا۔
ہمیں اب کھوکے کہتا ہے
مجھے تم یاد آتے ہو
کسی کا ہوکے کہتا ہے
مجھے تم یاد آتے ہو
سمندر تھا تو زور و شور سے لہریں بہاتا تھا
اب قطرہ ہوکے کہتا ہے مجھے تم یاد آتے ہو
بیان کرتے تھے جو حال دل
تو یوں مسکراتا تھا
وہ ہی اب روکے کہتا ہے
مجھے تم یاد آتے ہو
’’اوہو محترمہ منگنی کے بعد شاعرہ بن گئی ہیں۔‘‘ وہ پڑھ کر انجوائے کرنے لگا۔
’’بڑا اچھا ذوق ہے میرب چڑیل تمہارا تو‘ یہ خوبی تو نئی ہے۔‘‘ اس نے فرصت سے جواب دیا اور تبھی ریپلائی ملا۔
’’تم نے ہمیشہ صرف میری خامیاں ہی نوٹس کی ہیں اشعر فاروق‘ تمہارے نزدیک تو میری ذات سراپا خامی ہے‘ بھلا پھر خوبیاں کہاں نظر آئیں گی۔‘‘
’’اچھا طنز ہے‘ چلو اس بار آئوں گا تو تمہاری خوبیوں پر غورو خوض کریں گے۔‘‘ یقینا وہ مذاق کررہا تھا۔
’’جب تک آئو گے میں جاچکی ہوں گی۔‘‘ اس نے لکھ بھیجا۔
’’کہاں؟‘‘
’’عید کے چوتھے دن کی تاریخ طے پائی ہے میرے سسرال جانے کی… تم تو عید پر آنہیں رہے ہو ناں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ شاک تھا امی نے ذکر نہیں کیا‘ نہ چاچو نے بتایا۔ ’’اتنی جلدی…‘‘
’’تم شکرانے کے نفل ضرور ادا کرنا‘ میرے جاتے تمہارے گھر کا ماحول پُرسکون ہوجائے گا اور تمہاری دیرینہ خواہش میری شکل نہ دیکھنے کی بھی پوری ہوجائے گی۔‘‘ وہ اسے چڑا رہی تھی۔
’’شٹ اپ‘ سچ بتائو میرب…‘‘
’’بڑی امی سے پوچھ لینا‘ وہ کل واپس آجائیں گی گجرانوالہ سے۔‘‘ اب وہ سنجیدہ تھی‘ اشعر نے اس کے میسج کے جواب میں کال کی تھی۔
’’بی سیریس عید کے بعد تاریخ طے ہوئی ہے۔‘‘
’’ہاں‘ کاشف کی چھٹیاں ختم ہوجائیں گی ناں پھر۔‘‘
’’کب آرہا ہے وہ؟‘‘ کاشف (یعنی میرب کا منگیتر) آئوٹ آف کنٹری جاب کرتا تھا۔
’’پندرہویں روزے تک آجائے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں کوئی تاثر نہ ملا تھا‘ کسی شرماہٹ کا یا خوشی کا عجیب انداز میں وہ اسے جواب دے رہی تھی۔
’’افسوس تم ناں آسکو گے‘ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ٹلنے پر۔‘‘ وہ شاید مذاق کررہی تھی‘ اشعر جواب تک نہ دے سکا۔
’’امی اور آپی صبح آجائیں گی۔‘‘
’’ہوں…‘‘ یک دم ہی ان کے بیچ جیسے لفظ ختم ہوگئے تھے۔
’’اوکے پھر بات ہوگی اللہ حافظ۔‘‘ میرب نے کال ڈسکنیکٹ کردی۔
ادھوری باتیں جو کر گئے ہو
میرے ہی دل میں اتر گئے ہو
کسی کی چاہت کا یہ اثر ہے
کہ ریزہ ریزہ بکھر گئے ہو
تمہی تو ہو جو ہمارے دل کی
حدوں کو چھو کر گزر گئے ہو
میرب نے باتیں ادھوری چھوڑ دی تھیں‘ کال کاٹ دی تھی۔ کیوں…؟
r…r…r
عائشہ آپی کو اللہ پاک نے کئی سال کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازا تھا تو بڑی امی اور مما دونوں ملنے گئی تھیں اور انہیں ساتھ ہی لے آئیں۔ گول مٹول سرخ گلاب جیسا بیٹا تھا آپی کا‘ اتنا پیارا کہ میرب دن بھر اسے اٹھائے نہ تھکتی تھی آپی ہی اسے ڈانٹنے لگ جاتیں۔
’’میری عادتیں نہ بگاڑو لڑکی‘ مجھے سسرال میں اسے اکیلے سنبھالنا ہے‘ تم تو اسے گود کا عادی بنادوگی‘ اسے گود کی لت پڑگئی تو پھر ٹکنا محال کردے گا۔‘‘
’’اس نے تو میری بھی عادتیں بگاڑ دی ہیں اور اب خود سسرال سدھارنے کی تیاری کررہی ہے‘ بھلا میں کیسے رہوں گی اس کے بغیر۔‘‘ بڑی امی بہت اداس تھیں جب سے اس کی تاریخ طے ہوئی تھی۔
’’اُف او بڑی امی… آپ خود مجھے رونے کے لیے مجبور کرتی ہیں اور پھر کہتی ہیں نہ رو۔‘‘ میرب ننھے روحان کو لٹا کر بڑی امی کے پاس آبیٹھی۔
’’میری ہی قسمت خراب ہے بچے ورنہ سوچا تو کچھ اور ہی تھا۔‘‘ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری تھی‘ میرب جانتی تھی ان کی خواہشات ان کی سوچیں کیا تھیں۔ اس نے بھی تو صرف یہ خواب سجائے تھے صرف ایک خواہش کی تھی اشعر فاروق کی سنگت میں عمر بتانے کی۔ وہ تو سمجھتی تھی اشعر صرف اسے تنگ کرتا ہے ستاتا ہے مگر وہ حقیقتاً اس سے چڑتا تھا۔ یہ بہت بعد میں پتا چلا‘ جب تک اس کی آنکھوں نے اشعر فاروق کے سپنے سجالیے تھے۔ وہ بڑی امی کے پاس سے اٹھ کر گھر چلی آئی۔
’’عائشہ‘ اشعر نے میری بچی کی آنکھوں سے خواب ہی چھین کر توڑ ڈالے۔ کیا میں نہیں جانتی کہ میرب کے من میں کیا ہے؟ میرے دل میں بھی تو یہ خواہش رہی ہمیشہ کہ میرب یہیں اس آنگن میں رہے عمر بھر۔‘‘
’’امی… آپ اشعر سے ایک بار بات تو کرتیں۔‘‘ عائشہ کو بھی ملال سا تھا اتنی پیاری سی میرب کے جانے کا۔
’’کچھ فائدہ نہیں تھا بچے… جانے اسے کیوں اللہ واسطے کا بیر ہے اس بچی سے۔ ہم تو سمجھے تھے بچپن گزر جائے گا سب ٹھیک ہوجائے گا مگر میرب کے لیے اس کے دل میں عداوت عمر کے ساتھ جیسے بڑھتی جارہی ہے۔ میں اگر کوئی بات کرتی اور وہ میری خاطر مان بھی لیتا مگر تمام زندگی میرب کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا۔ یہ مجھے گوارہ نہیں تھا‘ اب کم از کم ماموں ممانی قدر کریں گے اتنا چاہتے ہیں وہ میرب کو۔‘‘
’’ہوں‘ ماشاء اللہ لڑکا بھی پیارا ہے میرب کی اور اس کی جوڑی اچھی لگے گی۔‘‘ عائشہ نے رائے دی۔
’’اللہ رب العزت بچی کے بخت روشن رکھے‘ ہمیشہ میری بچی خوشیوں میں کھیلے‘ آمین۔‘‘ میرب سے ان کی محبت مثالی تھی عائشہ نے دل میں آمین کہا تھا مگر نظروں کے سامنے ماں کا ویران اور اترا چہرہ تھا۔
r…r…r
رئیس بھائی رمضان سے صرف دو دن پہلے عائشہ کو لینے آگئے تھے‘ میرب کو دلی دکھ ہوا تھا۔
’’پلیز رئیس بھائی آپی کو کچھ دن اور چھوڑ دیں۔‘‘
’’اوکے رکھ لو‘ پھر یہ مت کہنا کہ میری شادی پر کیوں نہیں آئے۔‘‘ رئیس بھائی بھی کھلاڑی تھے‘ اس کی کمزوری پکڑلی وہ چپ کر گئی۔
’’عید کے دوسرے دن آپ نے یہاں ہونا ہے۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔‘‘ عائشہ آپی وعدہ کرکے چلی گئیں ان مختصر سے دنوں میں وہ کتنے کام کروا گئی تھیں‘ مما کے ساتھ شادی کی تاریوں کے‘ مما کو بھی حوصلہ سا ہوچلا تھا مگر ان کے جانے کے بعد پھر ان کی پریشانی بڑھ گئی تھی۔
’’بھلا آپا رمضان میں کیسے ہوگا اتنے کام پڑے ہیں‘ میں تو گھن چکر بن کر رہ گئی ہوں۔‘‘ وہ جٹھانی کے پاس بیٹھی اپنے مسائل بیان کررہی تھی۔ بڑی امی گھٹنوں کے درد کی وجہ سے لاچار تھیں وہ تو ان کے گھر بھی بہت کم جاپاتی تھیں۔
’’عفت اللہ کی ذات کرم کرنے والی ہے‘ سب ہوجائے گا دیکھنا۔‘‘
’’بے شک آپا وہ کریم ہے مگر ہم انسان تو بہت کمزور ہیں اتنی گرمی ہے۔ گرمیوں کے روزے آپ کو علم ہے ناں پھر کاموں کا ڈھیر‘ میرب کو دیکھا ہے جب سے تاریخ طے ہوئی ہے آدھی رہ گئی ہے گھل گھل کر اور اب روزہ تو آپ کو پتا ہے ایک بھی قضا نہیں کرتی‘ کیا بنے گا اس لڑکی کا۔‘‘
’’یہ تو قدرتی بات ہے عفت‘ ماں باپ کا آنگن بہن بھائیوں کا پیار‘ اتنا کچھ چھوڑ کر جانا وہ دوسرے ملک چلی جائے گی میں تو سوچتی ہوں تو دم نکلتا ہے۔‘‘ بڑی امی رو پڑیں تو مما کی آنکھیں بھی جھلمل ہوگئیں‘ اتنی مصروفیت میں انہوں نے تو یہ بات اگنور ہی کردی تھی ان کی پیاری راج دلاری صرف بیاہ کر دوسرے گھر ہی نہیں جارہی بلکہ دوسرے دیس سدھار رہی ہے۔ آج آپا کو تڑپتا دیکھا تو جیسے ان کا دل بند ہونے لگا۔
’’اتنی دور چلی جائے گی میری میرب…‘‘
’’اللہ خوشیاں دے‘ ہمیشہ سکھی رکھے پھر یہ فاصلے بھی بے معنی ہوجاتے ہیں عفت‘ بچی اپنے گھر میں سکھی ہو تو ماں باپ کو ان کی جدائی بھی برداشت ہوجاتی ہے۔ دیکھ ناں عائشہ سالوں بعد آتی ہے مگر الحمدللہ خوش ہے‘ سب سہہ لیتی ہوں۔‘‘ وہ خود ہی مما کو حوصلہ دینے لگیں‘ حقیقت تو یہ تھی ان سب کے لیے میرب کا اتنا دور جانا بہت کٹھن مرحلہ تھا۔
’’سچ کہا آپا… میں تو جیسے مصروفیت میں بات سوچ ہی نہ پارہی تھی مگر میرب تو دن رات پر یہی سوچتی ہوگی ناں تبھی تو وہ آدھی رہ گئی۔‘‘ مما کو اب رہ رہ کر یہ احساس ہورہا تھا کہ بچی کا اچھا مستقبل ہر ماں باپ کی اولین خواہش ہوتی ہے انہوں نے بھی اپنی بیٹی کے لیے اچھا مستقبل سوچا تھا مگر اب جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے ان کی نیند بھی اڑ رہیں تھیں۔
r…r…r
اس کی آمد قطعی غیر متوقع تھی کیونکہ اسے چھٹیاں ہی نہیں مل رہی تھیں مگر وہ یوں اچانک آیا تو امی کو بھی شدید حیرت ہوئی دو دن پہلے جب اس نے فون کیا تو ذکر تو نہ کیا تھا لیکن حیرت کے ساتھ اتنے مہینوں بعد بیٹے کو دیکھنے کی خوشی بھی قابل دید تھی۔ انہوں نے کتنی دیر تک اسے خود سے لگائے رکھا ماتھا چوما تو آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’کیسی نوکری ہے بیٹا‘ یہ امید بھی نہیں ہوتی کہ دم آخر ہوا تو تمہارا چہرہ دیکھ بھی پائوں گی یا نہیں۔‘‘
’’امی…‘‘ وہ دہل سا گیا۔ امی کو ہو کیا گیا تھا ایسی باتیں کرنے لگی تھیں‘ پرسوں فون پر کتنا رو رہی تھیں۔ کیا واقعی آج کے دور میں کوئی اتنی محبت کرسکتا ہے کسی سے جتنی اس کی امی میرب سے کرتی تھیں۔ جیسے جیسے اس کی شادی کے دن قریب آرہے تھے وہ کمزور پڑتی جارہی تھیں۔
’’پلیز امی ایسی باتیں مت کیا کریں اور روئیں بھی مت‘ روزے کی حالت میں نہیں رونا چاہیے۔‘‘ اس نے امی کے چہرے سے آنسو صاف کیے۔
’’تیرا روزہ ہے بچے؟‘‘ سفر میں تھا شاید نہ رکھ پایا ہو اسی خیال سے پوچھا۔
’’الحمدللہ… آپ جانتی ہیں ناں میں روزہ نہیں چھوڑتا۔‘‘
’’رب کریم اجر دے‘ چل آرام کرلے۔‘‘ انہوں نے سر تھپکا۔ وہ بھی نہا کر فریش ہوکر لیٹا تو ایسا سویا کہ عصر کے بھی کافی دیر بعد آنکھ کھلی۔
’’بڑی امی کچھ لوگوں کو روزہ اتنا لگتا ہے وہ سو کر ہی روزہ پورا کرتے ہیں۔‘‘ افطاری سے گھنٹہ پہلے اٹھ کر وہ باہر آیا تو امی کے ساتھ میرب شام کی افطاری تیار کررہی تھی‘ اسے دیکھ کر چوٹ کی لیکن اچنبھے کی بات تھی کہ وہ قطعی نہیں چڑا بلکہ کھل کے مسکرادیا تھا۔
’’ہاں بھائی ہم میں اتنی ہمت تو نہیں کہ روزہ رکھ کر بھی ریڈیو اسٹیشن کی طرح چوبیس گھنٹے چل سکیں۔‘‘
’’دیکھا ناں لڑکیاں کتنی باہمت ہوتی ہیں۔‘‘ اس کے ہاتھ بھی تیزی سے چل رہے تھے اور زبان بھی۔
’’مس میرب ہارون تم نے شادی کی خوشی میں ڈائٹنگ شروع کردی ہے کیا‘ چھپکلی بن گئی ہو۔‘‘ اسے میرب ازحد ویک لگ رہی تھی۔
’’جی نہیں یہ قدرتی ہے‘ تم کہاں سمجھ سکو گے۔‘‘ اس نے آہ بھری۔
’’یار… بات صاف کیا کرو‘ یہ ادھوی باتیں مجھے الجھا دیتی ہیں۔‘‘ اشعر امی کے پاس چارپائی پر آبیٹھا۔
’’ڈونٹ وری‘ بہت جلد تمہاری الجھنیں سلجھنے والی ہیں۔ اتنی دور چلی جائوں گی کہ برسوں ترسو گے میری چاند سی صورت کو۔‘‘
’’کتنی دور… ارے یار میں نے بھی اسی شہر میں عمر گزاری ہے یہ دس منٹ کی ڈرائیو پر سسرال کھڑا ہے تمہارا۔‘‘ اس نے اثر نہیں لیا‘ میرب بھی پھیکا سا مسکرا دی۔
’’میں آتی ہوں بڑی امی…‘‘ وہ کہہ کر دروازہ کراس کر گئی۔
’’نہ دل دکھایا کر اس کا‘ دور چلی جائے گی تو پھر اس کی باتیں یاد آئیں گی۔ کاشف اسے ساتھ لے جائے گا دبئی۔‘‘ امی نے بات مکمل کی تھی کئی لمحے تو جیسے وہ ساکت ہی رہ گیا۔
کاشف ملک سے باہر جاب کرتا تھا یہ اسے پتا تھا مگر میرب کو بھی ساتھ لے جائے گا یہ علم نہیں تھا۔ اس کے سامنے جیسے ساری الجھنیں کھل گئیں امی کا رونا‘ میرب کا سوگوار چہرہ‘ اس کی چہرے کی اداسی۔ ظاہر ہے سسرال تو ایک شہر میں بھی ہو تو لڑکی کے دل میں ماں باپ اپنے بہن بھائی اس گھر سے جڑی ہر یاد جہاں اس نے عمر بسر کی تھی گڑ جاتے ہیں۔ یہاں تو بات اپنا دیس چھوڑنے کی تھی بے شک جدید دور اور سوشل میڈیا نے فاصلے کم کردیئے تھے مگر انسان سے انسان کی محبت کا نعم البدل تو کچھ بھی نہ تھا۔
’’اسی لیے تو ادھ موئی ہوگئی ہے لڑکی… کہتی نہیں ہے مگر دل میں تو ہے ناں اس کے۔‘‘ امی بول رہی تھیں مگر وہ جانے کہاں گم تھا کہ اسے امی کی آواز بھی سنائی نہ دے رہی تھی۔ حتیٰ کہ افطاری کا وقت ہوگیا امی نے زور سے آواز دی تو وہ جیسے گہری نیند سے جاگا تھا مگر اس سے کچھ کھایا نہ گیا۔
r…r…r
’’سنا ہے آج پندرہواں روزہ ہے۔‘‘ شدید گرمی تھی صبح سے‘ مگر اب ایک دم ہی قدرت مہربان ہوئی تھی‘ یکایک ہی تیز ہوا چلی گرد سی اڑی مگر کچھ دیر بعد ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی اور اب موسم بے حد خوشگوار تھا‘ وہ سب صحن میں ہی بیٹھے تھے۔
’’سننا کیسا یقینا آج پندرہواں روزہ ہے۔‘‘ اس نے لفظوں پر زور دیا۔
’’اوہو آج کسی خاص ہستی کی آمد متوقع تھی ناں ریحاب… شاید لوگ بھول گئے ہیں۔‘‘ وہ اب ریحاب سے مخاطب تھا نگاہوں کے زاویے میں وہ ہی تھی۔
’’اچھا کاشف بھائی کا پوچھ رہے ہیں‘ وہ نہیں آرہے ابھی‘ عید سے ہفتہ پہلے آئیں گے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اس نے لب سیکڑتے ہوئے کہا۔
’’ریحاب… آج تو افطاری میں پکوڑے‘ سموسے اسپیشل ہونے چاہئیں۔‘‘ میرب پکوڑوں کا مصالحہ تیار کررہی تھی‘ یک دم رک گئی۔
’’مثلاً کیسے اسپیشلی اشعر فاروق تم ناں عین وقت پر کام بگاڑنے کے ماہر ہو‘ جب سے کہنا تھا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے میری اس عادت کا تمہیں کوئی فائدہ ہوجائے کبھی۔‘‘
’’ناممکن بھلا تم میرے فائدے کے لیے کیوں سوچنے لگے‘ اچھا جلدی بکو کیسے ہوں۔‘‘
’’اب تم اتنی محنت سے سامان تیار کرچکی ہو بنالو‘ بس۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
’’فروٹ چاٹ ذرا اسپیشل کرلینا۔‘‘
’’یہ تم اپنی چہیتی سے بنوالو۔‘‘ اس نے ریحاب کی طرف اشارہ کردیا اور خود تیزی سے ہاتھ چلانے لگی۔ دن اتنے کم رہ گئے تھے چاچو نے اسپیشلی آکر کہا تھا کہ بھابی اب جب تک شادی ہے آپ ہماری طرف مہمان ہیں سو آج کل افطاری بھی چاچو کی طرف ہوتی تھی۔
’’آدھے روزے گزر گئے اور پتا بھی نہ چلا‘ بیس دن رہ گئے ہیں صرف۔‘‘ عید سے زیادہ گھر میں شادی کے چرچے تھے‘ چاچی کا تو دن رات ایک ہورہا تھا‘ ریحاب بھی بے چاری گھن چکر بن کر رہ گئی تھی۔
’’روز سوچ لیتی ہوں آپا کہ آج سے میرب سے گھر کا کام بند کرادوں‘ مہمان ہے مگر مجھے اور ریحاب کو تو ذرا وقت نہیں ملتا اور کچن پھر بھی میرب کو ہی سنبھالنا پڑرہا ہے۔‘‘
’’اچھا ہے‘ چاچی ایکسپرٹ ہوکر جائے گی‘ دبئی والے سیاں جی بھی عش عش کریں گے پردیس میں اتنا اچھا کھانا کھا کر۔‘‘
’’بچے لڑکیوں کی قسمت میں تو عمر بھر ہی کچن لکھا ہوتا ہے۔ یہ ہی چند دن تو ہیں جو وہ آرام کرے گی پھر ظاہر ہے کھانا پکانا ہی کرنا ہے۔‘‘
’’ابھی سے پرایا کررہی ہیں یہ پندرہ بیس دن تو سکون سے گزار لینے دیں مجھے۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’یاد کرکرکے روئیں گے پھر سب کہیں گے کہ تھی کوئی میرب۔‘‘ اس نے سوں سوں کرتے ہوئے کہا۔
’’میرب بی بی ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی ہے اب ہزاروں میل کے فاصلے بھی ختم ہوگئے ہیں روز بات کرلیا کریں گے۔‘‘ اس نے گویا تسلی دی۔
’’باتیں ہی کرسکتے ہیں‘ شکل دیکھ سکتے ہیں اشعر فاروق مگر میرے ہاتھ کا کھانا نہیں مل سکتا مگر تمہیں تو میرے ہاتھ کا کھانا بھی پسند نہیں‘ تم تو شکر ادا کرو گے مگر یاد رکھنا بڑی امی کو اگر تمہاری وجہ سے ذرا بھی تکلیف ہوئی ناں تو بہت برا ہوگا تمہارے ساتھ‘ شرافت سے انہیں ایک اچھی سی بہو لادینا‘ جلد ہی۔‘‘
’’ابھی گئی نہیں ہو تو اتنی فرمائشیں اور دھمکیاں‘ جاکر کیا کرو گی۔‘‘ اس نے سر پیٹا۔
’’کیا کرسکتا ہے ایک بے بس انسان‘ صرف زبان ہلاسکتا ہے یوں بھی تم سے کوئی بات منوانے کی خواہش تو حسرتوں کی قبر میں دفن ہی ہوچلی ہے۔‘‘ وہ جیسے بڑبڑارہی تھی اس بات سے بے خبر کہ وہ اس کی بڑبڑاہٹ سننے کچن کے دروازے پر کھڑا تھا‘ اس کی پیٹھ پر نظریں جمائے۔
’’میرب تم خوش نہیں ہو اس رشتے سے۔‘‘ غیر متوقع لہجہ بالکل انوکھا سوال‘ وہ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر پلٹی تھی۔
’’تمہیں ایسا کیوں لگا۔‘‘
’’تمہارے چہرے پر وہ خوشی مجھے نظر نہیں آتی جو شادی کے چند دن پہلے لڑکی کے چہرے پر ہوتی ہے جیسے عائشہ آپی کے چہرے پر تھی جو انہیں سارے جہاں سے خوب صورت بناتی تھی مگر تمہارے چہرے پر ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔‘‘
’’فضول کی قیاس آرائی مت کرو۔‘‘ وہ باہر نکلنے لگی تو اس کی آواز نے قدم روک دیئے۔
’’نہیں میرب… یہ قیاس نہیں میرا تجزیہ ہے جو درست ہے سو فیصد مان بھی لیا کرو۔ دور جانے پر دکھ ہونا فطری ہے مگر شادی کی خوشیاں‘ انوکھے جذبے‘ وہ سپنے جو ہر لڑکی کی آنکھوں میں سجے نظر آتے ہیں‘ وہ کہیں نہیں ہیں۔‘‘
’’یو نو اشعر فاروق بعض سوال اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں کیونکہ ان سوالوں کے پوچھنے کا ٹائم گزر چکا ہوتا ہے‘ تمہارے سوال کا وقت بھی ختم ہوچکا۔‘‘ اس نے اشعر کے چہرے پر کچھ لمحے نظر جمائی تھی پھر جب اس کا چہرہ دھندلانے لگا تو نگاہیں جھکالیں اور بمشکل آنسوؤں کو روک سکی۔
’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔‘‘ میرب کے دل سے ہوک نکلی تھی جسے اس نے زبان نہیں دی تھی اور کچھ لفظوں کو اگر زبان نہ ملے تو وہ زیادہ اثر کرتے ہیں جیسے اشعر فاروق کو اس پل بھر نگاہ میں ہزاروں سوال مل گئے تھے جو آج تک اس نے سوچے نہ تھے۔ اسے کبھی میرب کی آنکھوں میں نظر نہ آیا جو آج شام اس نے دیکھا تھا‘ بے چینی سے اٹھ بیٹھا۔ کیا تھا میرب کے چہرے پر اس کی آنکھوں میں کہ وہ سو بھی نہ پارہا تھا۔
’’کاش تو وہ سمجھ سکتا اشعر جو میں نے ہمیشہ تجھے کہنا چاہا‘ مگر اب کیا فائدہ‘ وقت ہی گزر گیا۔‘‘ کئی ماہ پہلے امی نے یہ لفظ کہے تھے۔
’’تمہارے سوال کا وقت بھی ختم ہوچکا۔‘‘ میرب نے آج یہ بات کہی۔
’’تم سے کوئی بات منوانے کی خواہش تو حسرتوں کی قبر میں دفن ہوچلی ہے۔‘‘ کیسا دل پر نقش کر گیا تھا میرب کا انداز۔
’’کیوں کروٹیں بدل رہا ہے‘ نیند نہیں آرہی۔‘‘ امی شاید اس کی بے کلی دیکھ رہی تھیں یعنی امی بھی جاگ رہی تھیں۔
’’آپ بھی نہیں سوئیں۔‘‘ وہ اٹھ بیٹھا۔
’’پتا نہیں اشعر میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو یہ خوف میری جان نکال دیتا ہے کہ میرب اتنی دور چلی جائے گی مجھ سے اور میں آنکھیں کھول دیتی ہوں‘ عادت جو نہیں ہے اس کے بنا رہنے کی‘ خیر آہستہ آہستہ ہوجائے گی۔‘‘
’’امی چاچو کو بھی یہ ہی رشتہ ملا تھا بس‘ شہر میں قلت پڑگئی تھی لڑکوں کی جو پردیس میں بیٹی کو بیاہ رہے ہیں۔‘‘
’’دوش چاچو کا نہیں ہے بچے… دوش تو قسمت کا ہے میرب کے نصیب میں ہی یہ لڑکا تھا ورنہ کتنی دعائیں کیں میں نے‘ مگر مستجاب نہ ہوئیں۔‘‘
’’آپ نے کیا دعائیں کیں؟‘‘
’’کہ میرے آنگن کی یہ بلبل ہمیشہ میرے آنگن میں ہی چہکتی رہے۔ ہر پل میرے من سے یہ صدا نکلتی تھی مگر مقدر بھی تو ایک حقیقت ہے ناں۔‘‘ امی بھی اٹھ بیٹھی تھیں اور دھیرے دھیرے اب چارپائی سے نیچے اترنے کی کوشش میں تھیں۔
’’طاق راتیں شروع ہوگئی ہیں‘ اللہ کے حضور اپنے بچوں کی خوشیوں کی دعائیں ہی کرلوں۔‘‘ یعنی وہ وضو کی غرض سے اٹھ رہی تھیں۔
’’طاق راتوں میں مانگی دعائیں رد نہیں ہوتیں‘ یوں تو اس کی ذات کبھی اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتی بس مانگنے والی کی نیت نیک ہو مگر رمضان کریم کی ان طاق راتوں کو جو فضیلت حاصل ہے اس کا نعم البدل نہیں ہے۔‘‘ وہ جاتے جاتے کہہ رہی تھیں۔
’’میرے آنگن کی یہ بلبل میرے آنگن میں ہمیشہ چہکتی رہے۔‘‘ یعنی امی میرب کو بہو بنانا چاہتی تھیں۔
کئی بار اسے لگا کہ امی اس سے کچھ کہنا چاہتی تھیں وہ بات میرب کے نام سے شروع کرتیں اور اشعر چڑ جاتا تو ان کی بات دل ہی میں رہ جاتی‘ امی مجھ سے یہ کہنا چاہتی تھیں۔ آخری بار اس کی جب عائشہ آپی سے بات ہوئی تھی تو ان کے لہجے میں اسے ملال ملا تھا۔
’’تمہارے حوالے سے گھر میں جو بھی لڑکی آئے وہ میرب کا نعم البدل نہیں ہوسکتی‘ اس گھر کے درو دیوار کو بھی میرب سے انسیت ہے۔ اشعر صرف امی کو ہی نہیں‘ ظاہر ہے وہ تو میرب کے جانے پر سب سے زیادہ دکھی ہوں گی‘ کیا جاتا اگر گھر کی بات گھر میں ہی طے ہوجاتی۔‘‘ ساری پہیلیاں کھل گئیں۔
’’بہت جلد تمہاری ساری الجھنیں سلجھ جائیں گی اشعر فاروق…‘‘ میرب کہیں پاس ہی بولی تھی۔
کیا صرف در و دیوار عادی تھے اس کے‘ خود اشعر فاروق کی ہر یاد سے اس کا نام جڑا تھا۔ بچپن سے اب تک کی ہر بات‘ جب بھی یاد آتی ساتھ میرب ہارون کی ذات بھی ہوتی۔ جو لڑکی بچپن سے اس کی ذات سے اس طرح جوڑ دی تھی قدرت نے کہ وہ لاکھ نہ چاہنے کے باوجود اسے سوچتا تھا تو کیوں پھر اس کے وجود سے انکاری رہا۔
وہ خار کھاتا تھا مگر اس کے بن گزارہ نہیں تھا‘ اسے چڑاتا تھا پھر منانے بھی جاتا وجہ بے شک کوئی بھی ہو یہ تو طے تھا ناں اس کا وجود اس گھر کے لیے لازم و ملزوم تھا۔ اس کی نان اسٹاپ چلتی زبان اور ہنسی کے جلترنگ اس گھر میں رچ بس چکے تھے بھلا میرب کیسے دور جاسکتی تھی۔ اس نے تو آج سوچا تھا تو جیسے دل ویران ہوتا محسوس ہوا‘ اس کے جانے کا سوچ کر‘ تب ہی سے تو بے کلی سی تھی مگر اب بھلا کیا ہوسکتا تھا۔ سچ ہی تو کہہ رہی تھی وہ‘ وقت گزر چکا تھا تم نے خود اپنے ہاتھوں وقت گنوادیا تھا اشعر فاروق۔ کاش امی آپ نے صرف ایک بار ہی سہی مجھ سے کہا ہوتا شاید یہ ادراک یہ آگہی مجھ پر تب ہی کھل جاتی اور اگر اب تک نہ کھلا تھی تو اب بھی آپ نہ کھلتی۔ یہ درد کا احساس نہ ہوتا جو اب رگ و جان میں ہے۔
’’طاق راتوں میں مانگی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔‘‘ امی کی بات ذہن کے پردے پر گونجی۔
دعائیں اگر سچے دل سے کی جائیں تو مقدر بھی بدل دیتی ہیں۔ اس نے خود کو تسلی دی۔ اسے میرب کی آنکھوں اور چہرے کے ملال کا جواب مل گیا تھا‘ کیا میرب نے کبھی دعائوں میں مجھے نہیں مانگا ہوگا۔
’’نیند نہیں آرہی تو نفل پڑھ لے‘ دل کو سکون مل جائے گا‘ بے شک دل کا سکون اس کے ذکر میں پنہاں ہے۔‘‘ جائے نماز بچھاتی امی کی آواز نے سے خیالوں سے نکالا تھا۔
’’جی امی۔‘‘ اس نے گہری سانس خارج کی اور وضو کرنے اٹھ گیا۔
r…r…r
آگہی سکون چھین لیتی ہے اور اس کے بھی دن بے کل ہوگئے تھے۔ من میں ہلچل اتنی تھی کہ خود ہی تنہا اپنے آپ سے الجھتا رہتا‘ امی بھی اس کی ازحد خاموشی نوٹ کررہی تھیں۔
’’بڑی امی آجائیں ناں۔‘‘ ریحاب کی آواز تھی‘ وہ بھی چونک گیا۔ افطاری کے بعد چاچو اور چاچی میرب کے سسرال گئے تھے اور اب تقریباً گیارہ بجنے کو آئے تھے‘ وہ دونوں بہنیں گھر میں اکیلی تھیں تبھی امی کو بلا رہی تھیں۔
’’اللہ رحم کرے‘ خاصی دیر لگ گئی ہے۔‘‘ امی گھٹنوں پر ہاتھ دھر کر اٹھیں اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتیں چلی گئیں۔ آج پچیسواں روزہ بھی ختم ہوچکا تھا اور کاشف اب تک نہیں آیا تھا‘ شادی کی تمام تیاریاں ہوچکی تھیں اور وہ ہر چوتھے دن فون کردیتا کہ چھٹی نہیں منظور ہورہی کل تک آجائوں گا۔ ہارون چاچو فکر مند تھے اور اسی سلسلے میں بات کرنے گئے تھے۔
میرب تراویح کے بعد دعا مانگ رہی تھی‘ لیمن کلر کے دوپٹے کے ہالے میں اس کا پرنور چہرہ دمک رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ٹپکتے آنسو گواہ تھے کہ وہ کتنی شدت سے سچائی سے دعائیں مانگ رہی تھی۔
’’بڑی امی آپ نے نماز ادا کرلی؟‘‘
’’ہاں چاند… ابھی فارغ ہوئی تھی کہ ریحاب کی آواز آگئی‘ تم نے فون نہیں کیا۔‘‘
’’کئی بار کیا بڑی امی‘ بابا نمبر بزی کردیتے ہیں۔‘‘
’’تم پریشان نہ ہو اللہ کرم کرے گا۔‘‘ انہوں نے ریحاب کو تسلی دی۔ دعا کے بعد وہ بھی بڑی امی کے پاس آبیٹھی تقریباً بارہ بجے مما بابا آئے تھے بے حد شانت اور خاموش بسا اوقات ضرورت سے زیادہ خاموشی میں بھی طوفان پنہاں ہوتا ہے اور میرب کو جانے کیوں اس طوفان کے آنے کا اندیشہ کئی دن سے تھا‘ اس کے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔
’’کافی دیر لگادی ہارون… خیریت تو تھی ناں؟‘‘
’’جی بھابی بس خیریت ہی ہے۔‘‘ بڑی امی چپ کر گئیں حالانکہ عفت کے چہرے کی اڑتی ہوائیاں وہ دیکھ رہی تھیں‘ اس وقت وہ بھی گھر آگئیں مگر صبح جب وہ فجر کے بعد سونے لگیں تو عفت خود آگئی۔
’’مجھے رات سے لگ رہا ہے عفت کوئی پریشانی ہے‘ مگر رات پوچھنا نامناسب لگا۔‘‘ چاچی کی چپ ان کے بہنے والے آنسوئوں نے توڑی۔
’’آپا کاشف کی ٹال مٹول پر مجھے فکر سی ہوئی کہ آخر اسے چھٹی کیوں نہیں مل رہی۔ یہاں کارڈ تقسیم کردیئے ہم نے‘ ہماری عزت کا سوال تھا۔ ساری برادری میں علم ہے کہ بچی کا نکاح ہے عید کے بعد‘ میں نے بھیا اور بھابی سے کئی بار بات کی وہ بھی فکر مند ہیں کاشف کے رویے سے۔ رات انہوں نے فون کرکے بلایا تھا وہاں جاکر…‘‘ یک دم وہ تیزی سے رونے لگیں الفاظ تک ادا نہ کرپائیں‘ امی نے اٹھ کر انہیں حوصلہ دیا‘ خود سے لگایا۔ انہونی ہونے کا احساس تو انہیں رات ہی ہوگیا تھا۔
’’کاشف نے وہاں شادی کی ہوئی ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں میں پھر بھی یہ شادی کروں تو ٹھیک ہے میں شادی کرلوں گا مگر میرب پاکستان میں رہے گی کیونکہ اس کی پہلی بیوی اس کی اجازت نہیں دے رہی۔ آپا میری بچی کے تو نصیب ہی پھوٹ گئے‘ اب جب صرف ہفتہ بھر رہ گیا ہے تو کاشف نے یہ اطلاع دی ہے۔ کیا بنے گا آپا میری بچی کا؟ خاندان برادری میں ہزاروں باتیں بنیں گی‘ لڑکے کو کیا فرق پڑے گا میری میرب…!‘‘ بڑی امی اپنے آنسو بھی نہ روک سکیں‘ انہوں نے دیورانی کو خود سے لگالیا۔
’’کیسے ہمت کروں آپا… میرب کو کیسے بتائوں کہ…‘‘
’’ہارون نے کیا سوچا۔‘‘
’’سوچنا کیسا آپا… ہم کیوں اپنی بچی کو عمر بھر کے لیے سولی پر لٹکائیں‘ ہم رات جواب دے کر آگئے ہیں مگر اب خاندان برادری کو کیسے فیس کریں وہ تو رات سے نڈھال ہوگئے ہیں بی پی بہت ہائی ہے‘ بچیوں کو بتانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔‘‘
’’ہارون کہاں ہے؟‘‘
’’لیٹے ہوئے تھے‘ گھر میں ہی ہیں۔‘‘
’’روزے سے ہے؟‘‘
’’میں نے انہیں اٹھایا نہیں تھا‘ آپا ان کا بی پی بہت ہائی ہے۔‘‘ انہوں نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’ریگولر میڈیسن تو دی ہیں مگر ذرا بھی فرق نہیں پڑا اور ڈاکٹر کے پاس جانے کو مان نہیں رہے۔‘‘
’’تم ہمت کرو عفت… اللہ کرم کرنے والا ہے ہر کام میں اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے دیورانی کو سمجھایا۔ ’’میں اشعر سے کہتی ہوں وہ خود لے جائے گا اپنے چاچو کو دوا دلوانے۔‘‘ انہوں نے اشعر کو جگایا اور چاچو کی طبیعت کا بتایا‘ زبردستی وہ انہیں ہسپتال لے گیا‘ ان کا بی پی بہت زیادہ ہائی تھا بمشکل شام تک کنٹرول ہوا تھا۔ انہوں نے چاچو کو ایڈمٹ کرلیا تھا۔ اشعر ان کے پاس ہی تھا رات گئے جب چاچو سنبھلے تو اشعر کو بھی تسلی ہوئی۔
’’بہتر ہوگا آپ صبح تک انہیں یہیں رہنے دیں لیکن اگر آپ لے کر جانا چاہتے ہیں تو نو پرابلم ویسے اب یہ نارمل ہیں‘ مگر ذہنی دبائو سے دور رکھیں۔‘‘ وہ چاچو کو ان کی ضد پر گھر لے آیا تھا مگر اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر بات کیا ہوئی کہ ان کی یہ کنڈیشن ہوگئی۔ چاچو تو میڈیسن اور انجکشن کے زیر اثر تھے پُرسکون سوگئے مگر وہ بہت زیادہ اپ سیٹ تھا‘ چاچی کا اترا چہرہ بھی اس کی نگاہوں میں تھا۔
’’امی کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ وہ گھر آکر بھی سکون نہیں پارہا تھا‘ آخر امی سے پوچھ بیٹھا جو خود بھی جانے کن سوچوں میں گم تھیں‘ چونک گئیں۔
’’کیسی بات؟‘‘ انہوں نے الٹا سوال پوچھ ڈالا۔
’’چاچو کی اچانک سے اتنی طبیعت خراب ہوئی ہے‘ پرسوں شام تک وہ بالکل ٹھیک تھے خوش تھے پھر یکایک اتنا بی پی بڑھ جانا۔ ڈاکٹرز نے بھی مجھے ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ ہی باور کرایا جیسے چاچو کو کوئی ذہنی ٹینشن ہو۔‘‘ وہ امی کو دیکھ رہا تھا ان کے چہرے کے اتار چڑھائو پر نظر تھی جو اس کے لفظوں کے ساتھ ساتھ بدل رہے تھے۔ اس کے خاموش ہوتے ہی ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’اشعر انسان ہر مشکل ہر مصیبت سہہ لیتا ہے زندگی بھر محنت کرکے بھی نہیں تھکتا‘ نہیں ٹوٹتا مگر اولاد کا دکھ انسان کو توڑ دیتا ہے۔ لڑکیاں اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہیں مگر ان کے نصیبوں سے ہر انسان ڈرتا ہے‘ ہارون کو بھی بیٹی کے دکھ نے توڑ دیا۔‘‘ وہ خاموشی سے بہنے والے آنسوئوں کو صاف کرتے ہوئے بولی تھیں۔ اشعر کچھ نہ سمجھ پایا‘ میرب کے اتنے دور جانے پر سب ہی دکھی تھے مگر اس فرض کی ادائیگی کو لے کر اس نے چاچو کو بہت مطمئن بھی پایا تھا۔
’’کچھ دن رہ گئے ہیں شادی میں‘ کارڈ تقسیم ہوگئے‘ سب کچھ ہوگیا اور اب آکر… کاشف نے بتایا کہ وہ پہلے ہی شادی کرچکا ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’وہ کہتا ہے میں میرب سے نکاح کرنے کو تیار ہوں مگر میرب کو ساتھ نہیں رکھ سکتا‘ وہ یہیں رہے گی اس کی پہلی بیوی کبھی نہیں مانے گی۔‘‘
’’چاچو کو چاہیے صاف انکار کردیں‘ کیا کمی ہے میرب میں جو وہ کاشف کی دوسری بیوی بنے‘ منع کیوں نہیں کیا چاچو چاچی نے۔‘‘ وہ یک دم بپھرا۔
’’منع کر آئے ہیں اشعر… میں آگے آنے والے حالات سے خوف زدہ ہوں‘ برادری کو کیسے قائل کریں گے۔ اپنے معاشرے کا علم ہے ناں مرد کی ہر خطا معاف اور لڑکی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی الزامات کی زد میں آجاتی ہے۔ ضروری تو نہیں کہ سب یہ مان لیں جو سچ ہے‘ سجن کے بھیس میں چھپے دشمن کب نکل کر باہر آجائیں‘ کچھ پتا نہیں چلتا۔ بچی پر تو عمر بھر کے لیے داغ لگ گیا۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہی ہیں امی آپ‘ آپ سب کو تو شکر ادا کرنا چاہیے اللہ پاک کا کہ ابھی میرب اپنے گھر میں ہی ہے سچائی پہلے ہی سامنے آگئی۔ خدانخواستہ بعد میں پتا چلتا تو عمر بھر کے لیے روگ لگ جاتا۔ آپ ایسی باتیں کررہی ہیں بلکہ آپ کو چاچو چاچی کو سمجھانا چاہیے کہ یہ افسوس کا نہیں شکر ادا کرنے کا وقت ہے کہ اس ذات پاک نے ہمیں بچالیا‘ الٹا اتنی مایوسی والی باتیں کررہی ہیں۔‘‘
’’اشعر تیری ہر بات سے میں متفق ہوں مگر جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ تجھے دکھائی نہیں دے رہا۔‘‘
’’امی…‘‘ اس نے مزید کچھ کہنا چاہا مگر چپ کر گیا۔ فی الوقت شاید امی کو کچھ بھی وہ سمجھا نہ پائے‘ صبح خود چاچو چاچی سے بات کروں گا وہ مصمم ارادہ کرکے کچھ مطمئن ہوا تھا۔
r…r…r
’’مجھے امی نے رات بتایا ہے۔‘‘ وہ چاچو کے پاس بیٹھا تھا وہ ان دنوں بالکل ٹوٹ گئے تھے۔
’’بات دکھ کی ضرور ہے مگر یہ بھی کرم ہے اللہ پاک کا نکاح سے پہلے ہی تمام حقیقت پتا چل گئی۔ آپ اتنا کیوں پریشان ہورہے ہیں‘ صد شکر کہ ابھی تو میرب اپنے گھر پر ہی ہے۔‘‘
’’تم ٹھیک کہتے ہو شاید رب نے کوئی بہترین حل سوچا ہو جو ہمیں…‘‘ وہ مزید بول نہ سکے رب کی حکمت پر یقین تھا مگر بیٹی کے باپ تھے‘ کمزور پڑگئے۔
’’یقینا وہ بہترین عطا کرنے والا ہے چاچو… دوش میرب کی قسمت کا نہیں ہے پلیز آپ لوگ بار بار یہ مت کہیں کہ اس کے مقدر خراب ہیں‘ یہ رب کی رضا ہے۔‘‘
’’اشعر آج اٹھائیسواں روزہ ہے‘ عید کے فوراً بعد مہمان آنا شروع ہوجائیں گے‘ کیا بتائیں گے ہم کیسے لوگوں کو سمجھا پائیں گے۔ مجھ میں تو ہمت نہیں کہ سب کو بتاسکوں‘ بہت برا کیا بھیا بھابی نے میرے ساتھ‘ میری ہی بچی ملی تھی انہیں۔ وہ کیسے لاعلم ہوسکتے ہیں بھلا کہ ان کے بیٹے نے شادی کرلی ہے۔ ہمیں دھوکہ دیتے رہے‘ جھوٹ بولتے رہے اور میں اپنے بھائی پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی رہی۔ ایک بار بھی کاشف کے بارے میں جاننے کی سعی نہ کی کہ وہ کیوں تین سال سے نہیں آیا۔ بیٹی اچھے اور مضبوط مستقبل کے لالچ میں سب اگنور کرتی رہی‘ اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو ہزاروں میل دور بھیجنے پر راضی ہوگئی۔ سب میری وجہ سے ہوا ہے‘ میں ہوں ذمہ دار اپنی بچی کی۔‘‘ چاچی بے تاشہ رو رہی تھیں مگر چاچو نے چپ سادھ رکھی تھی۔ اس نے بہت کوشش کی چاچی کو بھی تسلیاں دیں مگر شاید وہ کامیاب نہیں ہوپا رہا تھا۔
میرب کے چہرے پر سکوت تھا‘ گہرا سکوت۔ اس نے قطعی ری ایکٹ نہیں کیا تھا وہ معمول کے مطابق ہی تھی بلکہ اس وقت گھر میں وہ ہی تھی جو اسے باہمت دکھائی دے رہی تھی۔ امی نے عائشہ آپی کو فون کیا اور وہ بھی رات تک پہنچ گئی تھیں۔ کہاں تو عید اور شادی کی خوشیاں تھیں اور اب یک دم ہی ماتم سا چھا گیا تھا۔
’’کل آخری روزہ ہے۔‘‘ امی جانے کن سوچوں میں گھری ہوئی تھی۔
’’چاچو چاچی کتنے خوش تھے کتنے دل سے ساری تیاریاں کررہے تھے‘ سب سے ان کی محبت جڑی تھی۔‘‘ عائشہ تو مہینے بھر پہلے ہی گئی تھی کتنی زوروں پر تیاریاں ہورہی تھیں چاچی کے ساتھ آدھے کام تو اپنے ہاتھوں کروا کر گئی تھی۔
’’کتنا بے بس ہے انسان‘ سوچتا کیا ہے اور ہو کیا جاتا ہے۔ امی کے تو آنسو نہیں رکتے تھے‘ انہیں میرب سگی اولاد سے زیادہ عزیز تھی وہ تو اس کی متوقع جدائی پر نڈھال تھیں اور اب تو…‘‘
’’خالہ یہ ٹھیک ہے سب تقدیر کے کھیل ہیں جو کچھ ہوا اس میں کسی کا دوش نہیں‘ افسوس ہے کہ کاشف کو یہ ہی بات پہلے بتادینی چاہیے تھی کم از کم تاریخ طے ہونے سے پہلے بھی بتادیتا تو شاید ہارون چاچو کو اتنا گہرا صدمہ نہ لگتا اور اب جبکہ کل سے مہمان تک آنا شروع ہوجائیں گے‘ وہ اب تک کسی کو بھی حقیقت نہیں بتاپا رہے۔ مجھے لگتا ہے اس صورت حال کو اب بھی ہم سنبھال سکتے ہیں۔‘‘ رئیس کافی دیر سے خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا‘ اسے ایک ہی حل سجھائی دیا تھا مگر وہ صرف اپنی سوچ کا اظہار کرسکتا تھا ان میں سے کسی کو مجبور نہیں کرسکتا تھا۔
’’جو کاتب تقدیر نے لکھا ہے وہ ہی ہمیں ملتا ہے۔ خالہ جان میرب کے نصیب میں کاشف تھا ہی نہیں ورنہ شاید ہمیں نکاح سے پہلے سچ پتا نہ چلتا جو اتنے عرصے سے وہ بتا نہیں پارہا تھا اب بھی تو چھپا سکتا تھا ناں لیکن اللہ کی رضا شامل تھی۔ یہ سب ایسے ہی ہونا تھا صرف خاندان برادری کی باتوں کے خوف کی وجہ سے بچی کی زندگی کو جہنم نہیں بناسکتے تھے۔ جو ہوا سو ہوا‘ اللہ پاک نے آپ کو بھی موقع دیا ہے‘ شاید آپ کی دعائیں مستجاب ہوں گی‘ بے شک وہ ہر فیصلہ کرنے والا ہے یقینا آپ نے اس طرح ہرگز نہیں چاہا ہوگا کہ میرب یا چاچو کو یوں دکھ ہو لیکن ہر سیاہ رات کے بعد روشن سویرا ضرور نکلتا ہے۔ تاریخ جو طے ہے وہ ہی رہے‘ کاشف نہ سہی آپ اپنے اشعر کے لیے بھی تو برسوں سے یہ خواہش دل میں لیے بیٹھی تھیں۔ اب وقت ہے کہ آپ چاچو چاچی کو ناصرف اس صدمے سے باہر نکالیں بلکہ گھر میں جو یہ فضا سوگوار ہے اسے پھر سے شہنائیوں میں بدل دیں۔‘‘ کافی لمبی تمہید باندھی تھی رئیس نے مگر بات جو کی وہ امی پر روشنی کے در وا کر گئی۔ وہ اتنے دن سے نڈھال تھیں بچی کے دکھ کو لے کر‘ ان کی سوچ یہاں تک کیوں نہیں آئی؟ شاید اشعر کی وجہ سے کیونکہ وہ کبھی نہیں مانے گا۔
’’اللہ تمہیں دراز عمر عطا کرے بچے… بات تو تمہاری بہت اچھی ہے مگر اشعر…‘‘
’’امی اب اشعر سے آپ کو خود بات کرنی ہے‘ جس خواہش برسوں دل میں دبائے بیٹھی تھیں‘ وہ شاید یوں ہی پوری ہونی تھی۔ اللہ پاک نے ہمیں رستہ دکھایا ہے۔‘‘ عائشہ نے بھی زبان کھولی‘ وہ شش و پنج میں تھیں۔ اشعر اپنی مرضی کا مالک تھا‘ وہ اسے ہرگز مجبور نہیں کرسکتی تھیں مگر اس وقت وہ خود اپنے چاچو کو لے کر بہت اپ سیٹ تھا۔ ان کی میڈیسن وغیرہ کا خود خیال رکھ رہا تھا‘ ابھی وہ انہیں دوائی دینے ہی گیا تھا‘ جب لوٹا تو تین نفوس کے باوجود گھر میں خاموشی تھی۔ یہ سکوت یہ خاموشی چاچو کی طرف تھی اور یہی یہاں۔
’’کاش میں سب کچھ پہلے کی طرح کرسکتا‘ عائشہ آپی دونوں گھروں میں جو جمود جو سوگواریت ہے‘ اس سے میرا دم گھٹنے لگا ہے۔‘‘ وہ آپی کے برابر بیٹھتا ہوا بے حد اداس لہجے میں بولا تھا۔ رئیس نے امی کی طرف دیکھا‘ جن کے چہرے پر امید کی کرن بھی تھی اور مایوسی کے سائے بھی کیونکہ اشعر سے زور زبردستی سے بات منوانے کے حق میں کبھی بھی نہ تھیں۔ وہ شاید بولنے کے لیے لفظ تلاش کررہی تھیں یا شاید خود کو بات کرنے کا حوصلہ…
’’اشعر اگر تم چاہو تو یہ جمود یہ سناٹا پھر سے شہنائیوں میں بدل سکتا ہے۔ کاشف کا جتنا ظرف تھا اس نے وہ کیا اگر وہ چاہتا اپنی پھوپو کا خیال کرکے پہلے ہی انکار کرسکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے باعث اس کی پھوپو صدمے سے دوچار ہیں مگر تم اپنے چاچو چاچی کو اس دکھ‘ اس مشکل سے نکال سکتے ہو۔‘‘ امی کا انتظار کرکے رئیس کو خود بولنا پڑا۔
’’ہاں اشعر… ہمارے گھروں کی یہ مشکل کا حل صرف تیرے اقرار پر ہے بچے‘ تیرے چاچو کو یہ ہی دکھ ہے ناں اس نے ساری تیاریاں کرلیں‘ مہمان آنا شروع ہوگئے تو وہ کیا جواب دیں گے‘ کیا کہیں گے۔‘‘ امی کو بھی حوصلہ ہوا۔
’’اشعر اگر اس وقت ہم اپنوں کا احساس نہیں کریں گے تو اپنے ہونے کا کیا فائدہ‘ کیا پتا رب نے ہمارے دلوں میں پوشیدہ خواہش پڑھ لی ہو۔ ہمیں رستہ دکھایا ہو‘ اگر تم راضی ہو تو ہم اسی تاریخ پر نکاح کردیتے ہیں تیرا اور میرب کا۔ بچے اللہ پاک کی یہی رضا تھی‘ تب ہی تو شادی سے صرف چھ دن پہلے کاشف نے زبان کھولی بچے… کاشف کے نصیب میں نہیں تھی وہ تب ہی یہ ہوا کیونکہ رب نے اسے شاید تیرے نصیب میں لکھ دیا تھا۔‘‘ وہ جو سر جھکائے سن رہا تھا امی کی آخری بات پر چونکا اور انہیں دیکھنے لگا۔
’’امی ٹھیک کہہ رہی ہیں اشعر… امی نے کتنی شدت سے دعائیں کیں‘ ہمارے تو گھر کے در و دیوار بھی شاید یہی دعا کرتے تھے میرب ہمیشہ اسی گھر میں رہے۔ اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے‘ ہم تجھے مجبور نہیں کرسکتے مگر حالات کو سدھارنے کا بس یہی طریقہ ہے۔ ہم نے ابا جی کو بہت پہلے کھودیا تھا اشعر‘ یہ چاچو ہی تھے جنہوں نے سرد و گرم رویوں اور لوگوں کی نظروں سے ہمیں بچا کر رکھا اور آج ان کی حالت دیکھ کر میرا دل ڈوب گیا۔ اللہ پاک چاچو کا سایہ ہمارے سروں پر تاقیامت قائم رکھے‘ انہیں صحت دے۔‘‘ محبت تو وہ بھی کرتا تھا چاچو چاچی سے مگر آپی ان سے زیادہ اٹیچ تھیں‘ وہ رو پڑیں۔
’’آپی آپ لوگوں کو لگتا ہے اب بھی میرے اقرار کی گنجائش ہے جو فیصلہ خود رب نے کردیا ہے میری کیا بساط… شادی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اور اسی طرح دھوم دھام سے ہوگی جیسے چاچو کی خواہش تھی۔ آپ لوگ جاکر ان سے بات کرلیں۔‘‘ شاید کسی کے وہم و گمان تک میں نہ تھا کہ اشعر فاروق یہ جواب دے گا جسے بچپن سے ہی میرب ہارون سے بیر رہا مگر انہیں تو کیا اسے بھی علم نہ ہوسکا کہ یہ بیر کب پیار میں تبدیل ہوگیا۔
’’امی سچ کہتی ہیں طاق راتوں میں مانگی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔‘‘ اس نے تمام طاق راتوں میں جاگ کر میرب کی خوشیاں مانگی تھیں‘ یہ علم نہ تھا کہ میرب کی خوشی کیا ہے؟
آج پتاچل گیا تھا۔ اس کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ تھی جبکہ باقی گھر والے یوں بھاگے تھے چاچو کے گھر جیسے ابھی نکاح کرلائیں گے۔
r…r…r
اس کا اقرار تو جیسے جادو کی چھڑی تھی کاش اسے پہلے پتا ہوتا تو وہ اتنے دن سب کو تکلیف میں نہ رکھتا۔ آج چاند رات تھی مگر چاند رات زیادہ گھر میں بری کا شور مچا ہوا تھا۔ آپی صبح سے میرب اور ریحاب کے ساتھ بازار نکلیں تو افطاری سے دس منٹ پہلے لوٹیں اور روزہ افطار کرتے ہی پھر سے جانے کی تیاری میں تھیں۔
’’ابھی بھی کچھ باقی رہ گیا ہے‘ صبح سے تو تم گئی ہوئی تھیں۔‘‘
’’ہاں تم تو گھر بیٹھے باتیں بنارہے ہو ناں‘ ایک دن میں بری بنانا کوئی آسان کام ہے۔‘‘ وہ شروع ہوگئیں۔
’’ہر چیز ریڈی میڈ لینی ہے تو اچھی طرح دیکھ بھال کرلیں گے ناں۔ عید کے بعد تو بازار ہفتے بعد کھلیں گے۔‘‘
’’اب وہ دور نہیں رہا آپی‘ اب بازار کھل جاتے ہیں تم خوامخواہ ٹینشن لے رہی ہیں‘ روحان کو بھی دیکھ لیں۔‘‘
’’وہ اپنی نانی امی کے پاس خوش ہے تو فکر نہ کر۔‘‘
’’چلیں آپی۔‘‘ ریحاب بھی تیار کھڑی تھی۔
چاند رات تھی ظاہر ہے ہر طرف گہما گہمی تھی‘ من چلے لڑکوں نے پٹاخوں سے محلہ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ آسمان پر رنگ برنگی روشنیاں بکھری ہوئی تھیں‘ وہ بھی انجوائے کرنے چھت پر آگیا تھا مگر چاچو کی طرف چھت پر سایہ سا دیکھا تو چونک گیا۔ دیوارکے پاس جاکر دیکھا تو محترمہ میرب ہارون تشریف فرما تھیں۔ اس نے شاید مغرب کی نماز بھی یہیں ادا کی تھی اور اب تک وہ جائے نماز پر بیٹھی دعا ہی مانگ رہی تھی‘ اشعر حسب عادت دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔
’’اب ایسا بھی کیا مانگ رہی ہو تم کہ دعائیں ختم نہیں ہورہیں؟‘‘ اس کی آواز پر وہ بری طرح چونکی‘ چہرے پر پھیلے قطرے دوپٹے سے صاف کیے اور جائے نماز تہہ کرکے تخت پر رکھ دی۔
’’وہ تو اتنا کریم رب ہے اشعر فاروق کہ بن مانگے ہی نواز دیتا ہے۔ مانگنے کی نوبت نہیں آتی‘ میں تو اس کا شکر ادا کررہی تھی کہ…‘‘
’’ہوں کہ اس نے مجھ سا ڈیشنگ بندہ تمہیں بن مانگے دے دیا۔‘‘ اشعر نے اس کے منہ سے بات چھین کر اپنی مرضی سے مکمل کی۔
’’خام خیالی ہے تمہاری‘ ڈیشنگ… نیوی میں جاکر بھی تم پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا‘ ویسے ہی سڑیل ہو۔‘‘ کتنے دن سے وہ اس لب و لہجہ کو ترس گیا تھا‘ اس نے تو میرب سے اس کا مزاج تک چھین لیا تھا۔
’’اتنی شدت سے مجھے چاہتی تھیں میرب تم کہ اللہ پاک نے تمہاری دعائیں مستجاب کردیں۔‘‘ کتنی سنجیدگی سے اسے نگاہوں میں سموکر کہا تھا۔
’’جاگ جائو اشعر فاروق…‘‘ اس نے ہاتھ لہرایا تو مسکرادیا۔
’’آگہی نے مجھ پر سارے در وا کردیئے ہیں میرب‘ مجھے پتا ہے جو تمہارے من میں ہے‘ جو تمہاری آنکھوں میں صاف نظر آتا ہے۔ تم تو کبھی اپنی آنکھوں سے بھی وہ تمام سپنے نہ چھپا سکیں۔ وہ تو میں ہی عقل کا اندھا تھا جو مجھے دکھائی نہ دیا اور جب سب صاف صاف نظر آیا تو تم کو ہزاروں میل دور کھڑا پایا پھر بس میں نے اپنے رب سے اپنے دل کا سکون تمہاری بے پناہ خوشیاں مانگی تھیں اور دیکھ لو تمہاری ساری خوشیاں مجھ سے وابستہ تھیں تب ہی تو اس رب کریم نے یہ سب کیا۔ میں تو خود شکر گزار ہوں اس کا جس نے میری دعائیں قبول کیں حالانکہ میں بھٹکا ہوا انسان بہت دیر سے لوٹا تھا‘ پھر بھی…‘‘ اشعر فاروق کے چہرے پر رقم سچائی نے اس کے چہرے کو بہت خوب صورت بنا رکھا تھا۔
’’اب تم لاکھ چھپائو‘ تم اسی سڑیل کو مانگا کرتی تھیں رب سے۔‘‘ یک دم پھر وہ پرانی ٹون میں آگیا اور میرب جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی‘ بُری طرح جھینپ گئی۔
’’اشعر… بچپن سے ہی اللہ پاک نے تمہارا خیال دل میں ایسا ڈالا کہ میں نکال ہی نہ سکی پھر بڑی امی کی محبت‘ ان کا مجھ سے لگائو‘ اٹیچ منٹ… مجھے لگا کہ شاید تم بھی مجھے اوپر اوپر سے چڑاتے ہو مگر مجھ پر جب یہ کھلا کہ تم واقعی میرے وجود سے نفرت کرتے ہو تو میں پیچھے ہٹ گئی۔ مما نے جب کاشف کے لیے پوچھا تو میرے ہاتھوں میں امید کی کوئی کرن تک نہ تھی بس دعائیں تھیں جو ہر لمحہ مانگی تھیں۔ میں نے امی کو رضا مندی دے دی لیکن الحمدللہ آج میری دعائوں کے طفیل ہی اس نے تمہارے دل میں میرا خیال ڈالا۔‘‘
’’تم ہمیشہ ہی میری ذات سے جڑی رہی ہو میرب… میں تمہیں لاکھ برا بھلا کہتا‘ تمہارے وجود سے انکار کرتا رہا مگر یہ بھی سچ ہے کہ بچپن سے لڑکپن اور اب تک کی میری ہر یاد سے تم جڑی ہے۔ وہ یاد خوشی کے لمحوں کی ہو یا دکھ کے‘ تمہارا وجود ان یادوں میں لازم و ملزوم ہے۔ جب گھر سے دور ہوا تو گھر کی‘ امی کی یاد آئی اور کتنا عجیب تعلق تھا ناں کہ جب بھی امی کو اپنے گھرکو یاد کیا‘ تمہیں ان یادوں میں ہمراہ پایا پھر بھلا تمہیں مجھ سے میرے گھر سے کون الگ کرسکتا تھا۔‘‘
’’سچ تو کہہ رہے تھے رئیس بھائی‘ تم کاشف کا نصیب کبھی تھیں ہی نہیں تم تو میرا نصیب تھیں پھر بھلا تم کہیں اور کیسے جاسکتی تھیں۔‘‘
’’وہ جو کرتا ہے ناں ہمارے بھلے کے لیے ہی کرتا ہے‘ میرا ایمان ہے وہ کبھی اپنے بندوں کی دعائیں رد نہیں کرتا۔‘‘ وہ مسکرادی۔
’’ہر چاند رات کو میں تم سے لڑتی ہوں کہ تم میرے لیے کچھ بھی نہیں لاتے اور مجھے یقین ہے اس بار بھی تم کچھ نہیں لائے ہوگے۔‘‘ وہ اپنی پرانی جون میں آگئی‘ اشعر نے ماتھا پیٹا مگر اگلے پل جیسے یاد آگیا۔
’’ارے واہ… پورے کا پورا بندہ تمہیں سونپ دیا میری امی نے ابھی بھی تم ناشکری ہو‘ قدر کرو میری۔‘‘
’’کتنے کنجوس ہو ناں تم۔‘‘ اس نے چڑایا اور وہ بے عزتی سہہ نہ سکا۔
’’صرف دو منٹ رکو‘ ہلنا مت اچھا۔‘‘ اسے وارن کرتا وہ نیچے بھاگا اور جب لوٹا تو اس کے ہاتھ خالی نہیں تھے۔
’’تم ہر چاند رات کو ان رنگ برنگی چوڑیوں کے لیے ہی مر رہی ہوتی ہو ناں‘ میں اسی لیے یہ آج پہلے ہی لے آیا تھا تاکہ تمہارے طعنے نہ سننے پڑیں۔‘‘ اشعر نے ڈھیروں چوڑیوں کا بنڈل اس کے ہاتھوں میں تھمایا۔ وہ مسکرادی ہر چاند رات پر وہ اس کے پیچھے پڑجاتی تھی‘ مجھے چوڑیاں دلوا اور مہندی دلوا کر لائو اور وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیا کرتا تھا۔
’’سارا حساب کتاب لگتا ہے آج ہی پورا کردیا ہے۔‘‘ اتنی ساری چوڑیاں دیکھ کر وہ بولی۔
’’مگر تم ابھی بھی کچھ بھول گئے ہو؟‘‘
’’نہیں بھولا شاپنگ بیگ کھول کر دیکھ لو۔‘‘ وہ یقین سے بولا تھا‘ میرب نے دیکھا واقعی کون مہندی بھی موجود تھی۔
’’تھینک یو اشعر…‘‘
’’کیا کریں میڈم… اب تو زندگی بھر یہ ڈیوٹی نبھانی ہے سوچا ابھی سے ہی آغاز کردوں۔ اب خوش ہو ناں؟‘‘ اس نے دوپٹے کے ہالے میں لپٹا جگمگاتا چہرہ نگاہوں سے دل میں اتارا۔
’’بہت خوش ہوں‘ یہ پہلی چاند رات ہے جس پر میں واقعی خوش ہوں۔‘‘
’’ان شاء اللہ اب ہر آنے والی چاند رات اور عید ہماری یوں ہی خوشیوں سے بھری ہوگی۔‘‘ اس نے یقین سے میرب کا مسکراتا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر کہا۔ میرب نے بھی دل کی تمام صداقتوں سے آمین اور ان شاء اللہ کہا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close