Hijaab Jul-17

تجھ سنگ عید

فٖصیحہ آصف خان

’’اب بس بھی کرو عالیان آنے والا ہوگا۔ اسے بھنک بھی نہ پڑے۔‘‘ صادقہ کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ عالیان کی بائیک کی آواز سنائی دی۔ اس کا مخصوص انداز تھا جس پر سوں سوں کرتی ارم کو صادقہ نے واش روم کی طرف بھیجا اور خود دروازہ کھولنے گیٹ پر آگئیں۔ دل تھا کہ بوجھل ہورہا تھا۔ وہ ضبط کی منزلیں طے کرتی دروازہ کھول کر ایک جانب ہوگئیں اور چہرے پر زبردستی بشاشت لے آئیں۔ عالیان بائیک کھڑی کرکے انہیں سلام کرتا اندر آگیا۔
’’السلام علیکم میری پیاری امی جان۔‘‘ عالیان حسب عادت ادب سے مسکرا کر محبت سے بولا تو صادقہ بھی اندر کی تکلیف لمحہ بھر کو بھلا کر مسکرا دیں۔ دونوں برآمدے سے کمرے میں آگئے‘ آج موسم کچھ خوش گزار تھا۔ جوتوں سے پیر آزاد کرتے ہوئے اس نے ارم کا پوچھا۔ صادقہ نے نرمی سے کہا کہ وہ آرہی ہے۔ اتنے میں ارم اندر داخل ہوئی اور بھائی کو سلام کیا۔ آج اس کے انداز میں شگفتگی مفقود تھی۔ عالیان نے اسے بغور دیکھا۔ صادقہ کو کھٹکا سا ہوا کہ وہ کچھ بول نہ دے‘ اس کی آنکھیں اور ناک رونے کی وجہ سے سرخ ہورہی تھیں۔
’’جائو بھائی کے لیے پانی لائو اور کھانا گرم کرو۔‘‘ صادقہ اسے منظر سے ہٹانے کے ارادے سے بولیں۔ مگر عالیان فوراً بولا۔
’’ارم یہاں آئو‘ بیٹھو ادھر…‘‘ ارم نظریں جھکائے جانے لگی تو عالیان نے اسے روک کر پاس بلایا۔
’’کیا ہوا بتائو مجھے؟‘‘ وہ پیار سے اس کا ہاتھ تھام کر انتہائی شفقت سے بولا تو ارم مزید ضبط نہ کرسکی اور اس کے ساتھ لگ کر رونے لگی۔ عالیان گھبرایا… اور سخت لہجہ میں پوچھا تو اس نے سب اگل دیا۔ سب سنتے ہی مارے طیش کے عالیان کا چہرہ غضب ناک ہوگیا۔ وہ تڑخ کر بولا۔
’’امی… مجھے بتائیں کہ ارم ان کی ملازمہ ہے کیا‘ کیوں جاتی ہے یہ وہاں۔‘‘ عالیان اٹھ کھڑا ہوا تو صادقہ نے گھبرا کر اسے بٹھایا اور اسے سمجھانے لگیں۔
’’بیٹا یہ تو مومی کے پاس نوٹس لینے گئی تھی کہ ان کے مہمان آگئے‘ برتن الماری سے نکالتے ہوئے پلیٹ ٹوٹ گئی‘ تو تمہاری ممانی کو غصہ آگیا‘ مومی بھی ساتھ کام کروا رہی تھی‘ یہ اکیلی تھوڑی تھی اتنا سا کام کرنے سے کوئی ملازم تھوڑی بن جاتا ہے۔‘‘
’’ہاں بھیا یہ دیکھیں میرے زخم پر مومی نے سنی پلاسٹ لگایا تھا۔‘‘
’’مومی نے۔‘‘ عالیان بڑبڑایا۔ جب ارم نے اپنی انگلی اسے دکھائی تو ارم کا معصومانہ انداز اسے ایک آنکھ نہ بھایا۔
’’ماں زخم لگاتی ہے اور بیٹی مرہم رکھتی ہے۔ میں تو امی تنگ آگیا ہوں… مجھے جیسے ہی نوکری ملی تو یہاں ایک پل بھی نہ رکوں۔‘‘ عالیان کے اندر ابال اٹھ رہے تھے۔
’’اچھا چھوڑو… میں کھانا لگاتی ہوں۔ تم ہاتھ منہ دھولو۔ آتے ہی معرکے بھگتانے لگے ہو۔‘‘ صادقہ نے بولتے ہوئے ارم کو اٹھایا اور دونوں باورچی خانے میں آگئیں۔
چنے کی بگھاری دال‘ پودینے کی چٹنی اور کھیرے ٹماٹر پر مشتمل سلاد ٹرے میں رکھ کر ارم کو تھمائی اور خود گرم گرم پھلکے اتارنے لگیں۔
تینوں نے کھانا کھایا اور رب کا شکر ادا کیا۔ ابھی وہ کھانا کھا کر باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ صادقہ نظر انداز کر گئی… ارم بھی پہلو بدلنے لگی۔
مومی ہی تھی… جو ماں کی طرف سے معذرت کرنے آئی تھی اور ساتھ میں بڑی سی پلیٹ میں کیک اور نگٹس لائی تھی۔ دوبارہ ذرا تیز دستک ہوئی تو عالیان اٹھا‘ ماں‘ بیٹی اب آنے والے طوفان کو دیکھ رہی تھیں۔ دروازہ کھلتے ہی سامنے چمپئی رنگت اور بڑی بڑی سرمئی آنکھوں والی اپنی لمبی پلکیں جھپکاتی مومنہ اسحاق کھڑی تھی۔ کالی پینٹ اور چاکلیٹی کلر کی شرٹ پہنے لمبا تڑنگا عالیان پھیل کر دروازے میں کھڑا ہوگیا۔ ماتھے کے بلوں میں کئی گنا اصافہ ہوگیا اندر آنے کی تمام راہیں مسدود کئے‘ اندر کی ساری کڑواہٹ آنکھوں سے نظر آرہی تھی اور لہجہ آگ اگلنے لگا تھا۔
’’کیوں آئی ہو… اب کوئی کسر باقی رہ گئی تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ کے دل میں ٹھنڈ پڑگئی ہوگی… ار… اور یہ کیا اٹھا لائی ہو۔ ہاں… ہم تو بھوکے ننگے ہیں ناں‘ کچھ کھانے کو ہوتا ہی نہیں… جو آپ من وسلویٰ لیے حاضر ہوجاتی ہیں۔‘‘ وہ زور زور سے بولتا اپنا غصہ اس پر نکال رہا تھا کہ صادقہ اور ارم فوراً آگے بڑھیں۔
’’بس کرو… عالیان‘ کیا کررہے ہو‘ اس کا کیا قصور ہے۔‘‘ صادقہ نے اسے آہنی دیوار بنے دیکھا تو غصے سے ہٹایا۔
’’پھوپو…‘‘ مومنہ کی بڑی بڑی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھری ہوئی اور لہجہ بھیگا ہوا تھا۔ جلدی سے ارم کو پلیٹ تھما کر وہ سسکتی ہوئی پلٹی اور دوڑتی ہوئی اپنے پورشن میں چلی گئی تب صادقہ لال بھبھوکہ چہرے والے عالیان سے الجھ پڑیں۔ جبکہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
’’دونوں ایک جیسی ہیں بلکہ سارے ہی…‘‘
’’مومی ایسی نہیں ہے بیٹا‘ تم نے بلاوجہ اس کو ڈانٹا۔ وہ ثریا بھابی سے بہت مختلف ہے‘ بہت پیاری اور حساس بچی ہے۔ تم نے اس کا دل دکھایا دیا‘ وہ کتنے پیار سے چیزیں لائی تھی۔‘‘ صادقہ کو عالیان کے رویے پر بہت افسوس ہورہا تھا۔ مومنہ حقیقت میں ایسی نہ تھی۔ جبکہ عالیان کو اس سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔
’’بس کریں امی‘ مجھے نہ سمجھائیں۔ سب جانتا ہوں‘ ان کی حرکتیں اور ارم تم ادھر اب ہرگز نہیں جائوگی‘ کالج میں مل لیتی ہو‘ کافی نہیں ہے۔‘‘ عالیان اب ارم کو ڈانٹ رہا تھا۔ ارم سر جھکائے کھڑی رہی۔
’’ہاں ہاں کھائو… رج کے کھائو‘ تمہاری لاڈلی جو لائی ہے۔‘‘ عالیان اس کے ہاتھ میں پلیٹ دیکھ کر تلملا کر بولا۔
’’تو آپ بھی کھائیں ناں۔‘‘ ارم نے پلیٹ اس کی جانب بڑھائی۔
’’شکریہ… تمہیں مبارک ہو یہ سب۔‘‘ کہتا ہوا وہ کمرے سے نکل گیا۔ تو ارم نے گہرا سانس لیا اور مزے سے کھانے لگی۔ صادقہ موجودہ کشیدہ صورت حال پر غور کررہی تھیں۔
٭…٭…٭
عالیان کے بابا سرفراز احمد ایکسیڈنٹ میں جان ہار گئے تھے تب وہ چھ سال کا تھا‘ اماں کی گھٹی گھٹی چیخیں‘ خواتین کا شور‘ وہ ہراساں تھا۔ اسے تو اماں نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ کوئی ننھا سا مہمان آنے والا ہے‘ وہ تو اس کا شدت سے انتظار کررہا تھا‘ کجا یہ کہ بابا ہمیشہ کے لیے سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے۔ ایسے میں اسحاق ماموں نے اپنی شفقت بھری بانہوں میں انہیں سمیٹ لیا اور اپنے گھر لے آئے۔ یہاں پر اپنے سے بڑے فہد بھائی ملے‘ جو اس سے تین سال بڑے تھے اور زیادہ دوستی کے قائل نہ تھے۔ عالیان بھی پیچھے ہٹ گیا۔ ثریا ممانی نک چڑھی دولت مند خاتون تھیں۔ ان کا استقبال بھی اوپری دل سے کیا۔ وہ بھی تخلیق کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔ یوں اسحاق ماموں کی انیکسی ان کی رہائش گاہ بنی۔
صادقہ کی آنکھیں رو رو کر سرخ رہتیں‘ عالیان ایسے میں ماں سے لپٹ جاتا‘ گو عمر میں بہت چھوٹا تھا مگر وقت اور حالات نے اس کے ذہن کو بڑا کردیا۔ بس ماموں کا رویہ اچھا تھا‘ وہی خیال رکھتے‘ سب ضروریات پوری کرتے‘ عالیان کو بھی اچھے اسکول میں داخل کرایا‘ مگر باپ کی کمی پوری نہ ہوئی‘ جن کو وہ یاد کرتا رہتا تھا۔ اب دل لگا کر پڑھنے لگا تھا‘ ڈیڑھ ماہ بعد ثریا نے گڑیا سی بیٹی کو جنم دیا‘ جس کا نام مومنہ رکھا گیا‘ ٹھیک پندرہ دن بعد عالیان کو ارم جیسی بہن مل گئی‘ صادقہ وقتی طور پر بہل گئیں اور ارم کی پرورش میں لگ گئیں۔ مگر عالیان کو اچھا پڑھنے اور بڑا آدمی بننے کی نصیحت کرنا نہ بھولتیں۔ عالیان نے یہ بات گہرہ میں باندھ لی تھی اور اس پر عمل پیرا تھا۔ وہ ماموں کی طرف بہت کم جاتا۔ فہد کی اپنی سرگرمیاں تھیں اور ثریا ممانی کی اپنی مصروفیات۔
اسحاق ماموں نے ثریا ممانی سے اپنی پسند کی شادی کی تھی‘ وہ بے حد امیر وکبیر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسحاق ماموں کا تعلیمی ریکارڈ بہت اچھا تھا‘ سو اچھی نوکری مل گئی۔ یوں ثریا ممانی جو کمپنی کے مالک حمید اختر کی اکلوتی بیٹی تھیں‘ انہیں اسحاق کی شرافت نے متاثر کیا اور انہیں اپنی فرزندی میں لے لیا۔ ثریا جو بے حد مغرور اور ضدی خاتون تھیں‘ اپنے حسن پر نازاں رہتی تھیں۔ اسحاق صلح جو اور امن پسند انسان تھے‘ کام میں مصروف رہتے۔ روپے‘ پیسے کی کمی نہ تھی۔ حمید اختر کے مرنے کے بعد انہوں نے سب کچھ ثریا کے نام کردیا… کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا تھا۔ سو اسحاق دن رات مصروف رہتے۔
ثریا کی اپنی زندگی تھی۔ پارٹیاں‘ شاپنگ‘ سہیلیاں‘ فہد بڑا ہوا تو بھی معمولات میں فرق نہ آیا مگر وہ فہد کی تعلیم اور پرورش پر کوئی سمجھوتہ نہ کرتیں۔ اسحاق کو بھی ان سے کوئی شکایت نہ تھی۔ یوں آٹھ سال بعد جب مومنہ پیدا ہوئی تو انہیں الجھن ہونے لگی۔ اکثر اوقات جاتے ہوئے وہ مومنہ کو صادقہ کے حوالے کر جاتیں۔ صادقہ‘ ارم کے ساتھ ساتھ مومنہ کو بھی ٹائم دیتی یوں مومنہ ماں سے زیادہ پھوپو سے مانوس ہوگئی۔ ارم کے ساتھ اس کی دوستی ہوگئی۔ عالیان کو غصہ اس بات پر آتا کہ ماں اکثر اوقات ارم کو نظر انداز کرکے مومنہ کو اٹھالیتیں‘ اس کا خیال رکھتیں‘ تبھی تو اسے مومنہ بری لگتی تھی۔ جو ارم کا حق چھین رہی تھی۔ یہ اس کی بچگانہ سوچ تھی۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا‘ اس کی سوچ اور پختہ ہوتی گئی اور مومنہ سے اس کی الجھن بڑھتی گئی۔
ماموں نے ارم اور مومنہ کو ایک ہی کلاس میں داخل کرادیا۔ فہد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک چلا گیا تھا۔
٭…٭…٭
وقت کا سفر جاری تھا‘ سبھی بچپن کی حدود سے نکل کر جوانی کی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔ عالیان کے دل میں مومنہ کے لیے جو کرواہٹ تھی‘ وہ ابھی تک برقرار تھی‘ صادقہ لاکھ سمجھاتیں مگر اس پر کوئی اثر ہی نہ ہوتا تھا۔ اگرچہ اسے کچھ کہتا نہ تھا مگر اس کے آتے ہی وہاں سے اٹھ جاتا تھا۔
ادھر مومنہ نے شعور میں آتے ہی اپنے اس تلخ مزاج کزن کو دل کے قریب پایا‘ اس کی شرافت اور مردانہ وجاہت نے مومنہ کا دل جیت لیا تھا‘ وہ چپکے چپکے اسے دل میں بٹھا کر اسے حال دل سنانے لگی تھی۔ حالانکہ جانتی تھی کہ عالیان نے آج تک سیدھے منہ بات تک نہ کی تھی۔ مومنہ اس کے طنزو طعنے سنتی رہی۔
’’مومی کو ماں کے اعمال کی سزا مل رہی تھی۔ یہ بات وہ اپنے سوا کسی سے کہہ نہیں سکتی تھی۔ بھلا ماں کب چاہے گی کہ عالیان کے ساتھ اس کا جوڑ بنے۔ وہ تو اپنے ہم پلہ لوگوں میں اسے بیاہیں گی تو کیا یہ محبت کا سفر وہ ساری عمر اکیلے ہی طے کرے گی۔‘‘ بستر پر اوندھی لیٹی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
دل تھا کہ عالیان کے سوا کسی اور کا تصور محال سمجھتا تھا۔ وہ خود کو بے بس محسوس کرتی تھی۔ اس ظالم کی ایک جھلک دیکھنے کو وہ بہانے سے پھوپو کی طرف جاتی‘ کبھی ارم سے نوٹس کے بہانے‘ کبھی پڑھائی کی کوئی بات پوچھنے اور مومی کو دیکھتے ہی عالیان کے تیور بگڑ جاتے اور مومی دل مسوس کر رہ جاتی۔
شکر تھا کہ اپنی محبت کا وہ تنہا ہی بوجھ اٹھا رہی تھی ورنہ وہ تو اس کا جی بھر کے مذاق اڑاتا اور مومی کو اپنی محبت کی توہین کب گوارا تھی۔
٭…٭…٭
انہی دنوں فہد کے وطن واپس لوٹنے کا غلغلہ اٹھا‘ وہ پڑھائی مکمل کرکے آگیا تھا۔ گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عالیان وغیرہ سے وہ رسمی انداز میں ملا‘ یہ نخرہ‘ خود پسندی اسے ماں کی طر ف سے وراثت میں ملی تھی۔ عالیان کو اس کی ذرا بھی پروا نہ تھی۔ فہد کے آتے ہی ثریا نے اپنے سرکل میں لڑکیاں دیکھنی شروع کیں‘ ایک سہیلی کے توسط سے اسے خوب صورت سی زنیرہ بے حد بھائی‘ سو جلد ہی رشتہ طے کردیا گیا۔ زنیرہ امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ نخوت کا ایک ہالہ اس کے چہرے کے گرد تنا تھا جو اس پر سجتا بھی تھا۔ ثریا نے جلد ہی سب سے مشورہ کرکے شادی کی تاریخ طے کردی۔ یوں درمیان میں دو ماہ کا وقفہ تھا۔ مومنہ بھائی کی خوشی بہت مسرت سے منانا چاہتی تھی خوب شاپنگ کی اچھے لباس تیار کروائے‘ اپنی پسند کی ہر شے خریدی۔ ایسے میں اسحاق ماموں نے صادقہ کے ہاتھ پر بھی چند ہزار رکھے کہ وہ بھی شادی کی تیاری کرلے۔
’’ہاں تو برخوردار کب آرہا ہے نتیجہ۔‘‘ وہ چائے کا سپ لیتے ہوئے عالیان سے پوچھنے لگے۔
’’جی بس اگلے ماہ۔‘‘ عالیان ادب سے بولا۔
’’اللہ کامیاب کرے۔‘‘ اسحاق ماموں کے دل سے دعا نکلی۔ وہ چائے پی کر چلے گئے۔
٭…٭…٭
شادی کے تمام دن مومنہ دل سے تیار ہوئی۔ عالیان اسے دیکھ کر دم بخود رہ گیا‘ سب لڑکیوں میں اس کی سج دھج ہی نرالی تھی۔ وہ خود کو باز نہ رکھ سکا‘ مومنہ کا یہ روپ پہلی بار ہی تو دیکھا تھا۔ اس کی معصومیت اور پھر لازوال حسن‘ وہ بے چین سا ہوگیا اور خود کو ٹٹولا تو دل ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ آسمان اور میں زمین اور ان کا ملن کب ممکن ہے۔ وہ جتنا سر جھٹکتا مومنہ تھی کہ دل ودماغ پر اتنا ہی حاوی ہوئے جارہی تھی۔ تھک ہار کر اس نے خود کو حالات کے سپرد کردیا کہ دل اب اس کے اختیار میں نہ رہا تھا۔
زنیرہ کے آنے سے گھر میں خاصی رونق ہوگئی تھی مگر اس کا رکھ رکھائو‘ غرور اور طنطنہ پہلے سے کہیں بڑھ گیا تھا۔ وہ ثریا کو بھی خاطر میں نہ لاتی۔ موڈ ہوتا تو مومنہ سے بات کرتی ورنہ سارا دن کمرے میں رہتی‘ فہد کے آنے پر تیار ہوجاتی اور دونوں سیر سپاٹے کو نکل جاتے۔ بہو کے تیور دیکھ کر ثریا کا بلڈ پریشر بڑھنے لگا تھا‘ بہو تو بہو بیٹا بھی پرایا لگنے لگا تھا۔ اسحاق سے بات کی تو انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ تم اپنی پسند سے لے کر آئی ہو اور ثریا ان کی یہ بات سن کر خاموش ہوگئیں۔
گھر میں پھیلی خاموشی کا انہیں کافی دنوں سے احساس ہورہا تھا کہ مومنہ کا زیادہ وقت صادقہ کے ہاں گزرتا ہے‘ اس پر مزید طیش آیا۔ شام کو انہوں نے اس کی کلاس لے ڈالی۔
’’امی… میں اور ارم مل کر پڑھتے ہیں۔‘‘ وہ بے حد معصومیت سے بولی تو ثریا کو پتنگے لگ گئے اور تڑخ کر بولیں۔
’’بس گھر میں بیٹھ کر پڑھو۔‘‘ ان کے دماغ میں خودبخود یہ خیال آیا کہ کہیں صادقہ‘ عالیان کے لیے مومی کو نہ مانگ لے‘ اسحاق تو انکار کریں گے نہیں۔ میری بیٹی تو محلوں میں راج کرے گی‘ اس سے پہلے کہ کوئی گڑبڑ ہو‘ پانی سر سے اونچا ہو‘ مجھے جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا۔ یہ سوچ کر وہ مطمئن ہوگئیں۔ شومئی قسمت چند دن بعد زنیرہ ان کے پاس چلی آئی‘ مختصر حال احوال کے بعد بولی۔
’’وہ ایسا ہے کہ میرا کزن راحیل نے مومنہ کو شادی پہ دیکھا تھا اور اب وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے‘ اب جیسا آپ کہیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ ثریا مارے خوشی کے بول ہی نہ پائیں۔
پھر صلاح مشورے کے بعد راحیل کی فیملی کو بلا لیا گیا۔ انہیں سب بہت پسند آئے‘ ثریا تو موقع کی تلاش میں تھیں۔ اسحاق دل مسوس کر رہ گئے‘ وہ تو عالیان کو اپنا داماد بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ادھر صادقہ نے سنا تو اپنی کم مائیگی پر رونا آگیا‘ مومنہ انہیں کتنی عزیز تھی یہ کوئی ان سے پوچھتا۔ ثریا نے دھوم دھام سے منگنی کی‘ یہ دیکھے بنا کہ بیٹی کے خواب بکھر گئے ہیں اور درد دل میں اتر گیا ہے۔
عالیان اس رات سو نہ سکا ‘ درد سے بے قررا دل کو سنبھالے وہ سلگتا رہا۔ مومنہ پر بھی یہ رات بھاری تھی۔ یک طرفہ محبت کا بوجھ بہت بڑا لگ رہا تھا‘ کوئی بانٹنے والا نہ تھا‘ جسے چاہتی آئی‘ وہ مل نہ سکا‘ ایک اجنبی کے ساتھ اس کا جوڑ کردیا… بے بسی کی آخری حد تھی اور مومنہ کے آنسو تھے۔
٭…٭…٭
ایم بی اے کا نتیجہ آگیا۔ عالیان سرفراز کی پہلی پوزیشن آئی۔ صادقہ کے لب مسکراتے نہ تھکتے تھے۔ وہ مٹھائی کا ڈبہ لے کر عالیان کے ہمراہ بھائی کی طرف چلی آئیں۔ مومنہ کے اداس چہرے پر ایک نگاہ ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں کئی شکوے مچل رہے تھے۔ عالیان کا دل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہا تھا۔ زیادہ دیر وہاں بیٹھ نہ سکا۔ جی چاہتا تھا کہ مومی کا ہاتھ تھام کر محبت کا اقرار کردے اور اسے سب سے چھپا کر کہیں دور لے جائے‘ مگر… ایسا صرف سوچا جاسکتا تھا۔
اس سے پہلے اسے ارم کی فکر تھی۔ کئی دوستوں اور جاننے والوں سے کہہ رکھا تھا‘ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے دوست طاہر نے اپنے کزن عماد کا ذکر کیا جو دوبئی سے آیا ہوا تھا اور نکاح کرکے جانا چاہتا تھا تاکہ کاغذات بنواسکے‘ عالیان ان سے ملا‘ بھلے لوگ تھے‘ صادقہ نے اسحاق بھائی سے مشورہ کیا… سب کی متفقہ رائے سے اگلے ہفتے ارم کا نکاح عماد سے ہوگیا۔ صادقہ اور عالیان کے سر سے ایک بوجھ اترا تھا۔ اب وہ نوکری کے لیے سرگرداں تھا۔ کئی جگہ اپلائی کر رکھا تھا‘ مگر ابھی بات نہ بن رہی تھی۔
کافی سارے دوست اس کی طرح پریشانی کا شکار تھے۔ سب نے ذہن تازہ کرنے کے لیے آئوٹنگ کا پروگرام بنالیا اور مری چلے آئے‘ رات کو دیر تک خوب ہلا گلا رہا‘ موسم بھی ایسا تھا کہ بے شمار لوگ آئے ہوئے تھے۔ رات دیر تک جاگنے کے بعد اب سب ہی سو رہے تھے مگر عالیان کی آنکھ جلد کھل گئی‘ وہ اٹھ کر ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کے لیے چلا آیا۔
ذرا فاصلے پر ایک مرد اور خاتون کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ دونوں ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ عالیان ناشتہ بھول کر منیجر کے پاس آیا‘ تب جو اس نے سنا اس پر سکتے کی کیفیت طاری ہوگئی۔
’’مسٹر اینڈ مسز راحیل صفدر۔‘‘
دھوکا… دھوکا ہی تو ہوا ہے مومی کے ساتھ… اتنا بڑا دھوکا… باقی دو دن جیسے تیسے گزار کر وہ آیا تو سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کس سے بات کرے۔ خوش قسمتی سے اس نے اپنے موبائل پر ان کی تصاویر بھی اتار لی تھیں اور ویڈیو بھی بنالی تھی۔ پورے ثبوت تھے اس کے پاس۔ گھر آیا تو ایک بہت بڑی خوش خبری اس کی منتظر تھی۔ بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرف سے لیٹر اس کا منتظر تھا۔
صادقہ جتنا شکر ادا کرتیں کم تھا۔ عالیان اگلے ہی دن اپنی نوکری کے سلسلے میں لگ گیا اور مصروفیات بڑھ گئیں۔ کیونکہ اسے اگلے ہفتے جوائن کرنا تھا۔ ایک بار پھر مٹھائی لے کر وہ امی کے ساتھ ماموں کی طرف آگیا۔ مومنہ آج سامنے نہیں آئی۔ عالیان اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر وہ سامنے ہی نہ آئی سب نے مبارک باد دی‘ خاص طور پر اسحاق ماموں کی خوشی دیدنی تھی۔ جن کی وجہ اور تعاون کرنے سے عالیان اس مقام تک پہنچا تھا‘ وہ ان کا بہت شکر گزار تھا۔ چائے پی کر وہ گھر لوٹ آئے۔
اگلے چند دن‘ وہ سوچ بچار میں رہا کہ کیسے بات کرے‘ مومنہ کی زندگی اسے ہر حال میں بچانی تھی۔ اس دھوکے اور فراڈ سے اسے نکالنا تھا۔ آخر وہ اس کی محبت تھی۔ کیسے اسے مکار لوگوں کے حوالے کرتا۔
٭…٭…٭
کچھ دن مزید سوچنے کے بعد وہ صادقہ کو بتائے بغیر ماموں کی طرف آگیا‘ سب گرم ماحول میں رات کا کھانا کھا رہے تھے‘ عالیان جان بوجھ کر ایسے وقت آیا کہ سب ایک ہی جگہ موجود ہوں‘ اس کا اس وقت آنا ثریا کو برا تو لگا مگر خاموش رہیں۔
’’آئو… آئو بیٹا کھانا کھائو۔‘‘ ماموں نے کہا تو وہ بیٹھ گیا۔ مومنہ خاموشی سے کھا رہی تھی‘ ایک نظر عالیان پر ڈالی‘ سنجیدہ مگر وجیہہ چہرہ سلیقے سے بنے بال‘ سرمئی شلوار سوٹ پر فان کلر کی جیکٹ پہنے وہ مومنہ کو ہمیشہ سے زیادہ اچھا اور پیارا لگ رہا تھا۔ دل اسی کی طرف ہمکنے لگا تھا‘ جس سے اب کوئی تعلق نہ تھا۔
عالیان اسے دزدیدہ نظروں سے دیکھتا‘ شوق آرزو کو دبا کر ضبط لازم تھا‘ کھانا کھا کر فہد اور زنیرہ جانے لگے تو عالیان نے انہیں بیٹھنے کو کہا۔ دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
’’کیوں خیریت؟‘‘ زنیرہ ابرو اچکا کر بولی۔
’’جی… کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ بٹھیے بلکہ سب تشریف رکھیے۔‘‘ وہ ادب سے بولا۔ زنیرہ منہ بناتے ہوئے بیٹھ گئی۔ مارے تجسس کے سبھی حیران تھے۔ عالیان نے سب کے بیٹھتے ہی بات شروع کی۔
’’بات کا تعلق دراصل مومنہ سے ہے۔‘‘ عالیان براہ راست مومنہ کی حیرت میں ڈوبی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔ سب ہی اچھنبے سے اس کی طرف دیکھنے لگے‘ جو لرزہ بر اندام تھی۔
’’زنیرہ بھابی… آپ کا کزن راحیل شادی شدہ ہے کیا؟‘‘ عالیان کا کہنا تھا کہ زنیرہ یوں اچھلی جیسے کسی نے ڈنگ مار دیا ہو۔ فہد اور اسحاق الگ چونکے‘ ثریا کا دل سکڑ کر پھیلا اور مومنہ کی حالت ایسی تھی کہ ابھی بے دم ہوکر گر پڑے گی۔
’’ہاں… مگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔‘‘ زنیرہ بے خوفی سے بولی تو ثریا اور اسحاق کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔
’’کیا… مطلب تم نے ہم سے دھوکا کیا… ہمیں بتایا تک نہیں‘ اتنی بڑی بات چھپا کر دھوکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔‘‘ ثریا کا بس نہ چل رہا تھا کہ زنیرہ کو کچا چبا ڈالیں۔
’’دیکھا… فہد اپنی بیوی کے کرتوت‘ تمہاری معصوم بہن کے ساتھ اتنا بڑا فراڈ کررہی تھی۔‘‘ ثریا نے سسکتی ہوئی مومنہ کو سینے سے لگا کر نم آواز میں کہا تو عالیان کو شدید غصہ آیا‘ وہ انتہائی طیش میں بولا۔
’’نہ تو وہ طلاق دے رہا ہے نہ کوئی علیحدگی بلکہ دونوں مری میں مزے کررہے ہیں۔ یہ دیکھیں۔‘‘ عالیان نے موبائل اسحاق ماموں کے سامنے کردیا۔
’’ہاں تو اس نے کہا ہے کہ وہ جلد عمرانہ کو طلاق دے دے گا‘ ایک سال پہلے ہی تو ان کی شادی ہوئی‘ پھر لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے۔‘‘
’’جھوٹی بند کرو اپنی داستان حمزہ… دھوکے سے میری بیٹی کو تباہ وبرباد کرنا چاہتی تھیں‘ ہمیں کیا لینا دینا‘ اگر عالیان نہ دیکھ لیتا اور ہمیں نہ بتاتا ہم تو بے خبری میں مارے جاتے اور تم سب اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے۔ مگر تم نے اچھا نہیں کیا…‘‘ ثریا اپنے بہتے اشکوں کے ساتھ مومنہ کو بھی چپ کرارہی تھیں۔ اسحاق ماموں کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ ایک دم وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے چلے گئے۔ سب کے ہاتھ پائوں پھولنے لگے‘ عالیان نے ہمت کی اور فہد کی مدد سے انہیں گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے آئے مگر دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ صدمہ ہی اتنا شدید تھا‘ عالیان پھوٹ پھوٹ کر رو دیا‘ فہد بھی سسک اٹھا۔
باپ جیسے ماموں اب دنیا میں نہیں رہے تھے۔ رات گئے‘ وہ ضروری کارروائی کرکے ڈیڈ باڈی گھر لے آئے‘ صادقہ اور ارم مسلسل اشک شوئی میں مصروف تھیں۔ مومنہ اور ثریا کے لیے دہرا صدمہ تھا۔ ماں بیٹی تڑپ رہی تھیں‘ صرف زنیرہ تھی جس کی آنکھیں خشک تھیں‘ نہ ندامت نہ شرمندگی کا احساس… بے حسی کا بت بنی رہی… صادقہ نے بھائی کے چہرے کو دیکھا اور دھاڑیں مار مار کر رو دیں‘ پھر ثریا اور مومنہ کو گلے لگا کر تڑپنے لگیں۔ فہد حواس باختہ سا تھا۔ سب کے دل دکھ سے بھر گئے تھے صبح تک گھر لوگوں سے بھرچکا تھا۔ عالیان نے سارے معاملات سنبھالے ہوئے تھے‘ اس نے اپنے دوستوں کو بلا لیا تھا۔ سب ہی تعاون کررہے تھے۔
تجہیز وتکفین کے بعد سفر آخرت کی تیاریاں مکمل تھیں‘ ثریا اور مومنہ ہوش سے بے گانہ ہوئی جارہی تھیں‘ دونوں کو صادقہ اور ارم سنبھالے بیٹھی تھیں‘ ان کی صدماتی موت پر زنیرہ کو قصور وار ٹھہرایا جارہا تھا۔ دوپہر تک انہیں سپرد خاک کرکے مرد واپس آگئے‘ محبت وشفقت کا پیکر منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔ گھر کے گوشے گوشے سے اداسی ٹپک رہی تھی۔ رونے اور سسکیوں کی آوازیں کلیجہ چیر دیتیں‘ شام تک مہمان چلے گئے‘ گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ ثریا اور مومنہ کے حلق سے سوائے پانی کے ایک لقمہ بھی نہ اترا تھا۔ عالیان ان کے دکھ کو دل سے محسوس کررہا تھا۔
رات کو سارے وہیں رہے‘ آنے والے دنوں میں تعزیت کے لیے لوگ آتے جاتے رہے‘ وقت ہی زخم لگاتا ہے اور وقت ہی مرہم فراہم کرتا ہے۔
فہد کے ساتھ وہ تقریباً روزانہ ہی قبرستان جاتا۔ کئی دن گزر گئے‘ رفتہ رفتہ زندگی اپنے معمولات پر آنے لگی۔ اس دن فہد کو بٹھا کر ثریا نے واضح کردیا کہ اب وہ کسی صورت میں ان دھوکے بازوں سے تعلق نہیں رکھیں گی۔ رشتہ ختم سمجھیں۔
فہد کو زنیرہ پر غصہ تو بہت تھا مگر اب تو تو‘ میں میں کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ زنیرہ دو دن سے میکے تھی‘ فہد نے اسے جاکر منگنی کا سامان تھمایا اور ماں کا پیغام دیا۔ ثریا قدرے ہلکی پھلکی ہوگئیں۔ ادھر مومنہ کے احساسات جیسے مرچکے تھے۔ محبت کرنے والا باپ جاچکاتھا۔ بھائی کی بے حسی دل چیرتی تھی وہ خاموش واداس بیٹھی تھی‘ رنگت میں ذردیاں گھلنے لگی تھیں۔ کئی دنوں سے وہ کالج بھی نہ جارہی تھی۔ بے مقصد سی ہر شے لگنے لگی تھی۔ ارم اسے سمجھاتی رہتی‘ مگر وہ بت بنی خالی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہتی‘ ارم اس کا دکھ سمجھتی تھی‘ مگراس کا کوئی مداوا نہ تھا۔
٭…٭…٭
اسحاق کی وفات کو ڈیڑھ ماہ ہونے والا تھا۔ ہنوز موسم دل غمگین تھا۔ اس روز آسمان پر ہلکے ہلکے بادل امڈ آئے‘ دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹائوں نے ڈیرہ جمالیا اور پھوار پڑنے لگی۔
’’آئو پکوڑے فرائی کرتے ہیں۔‘‘ اسے ساتھ لیے ارم کچن میں آگئی اور بیسن گھولنے لگی۔ صادقہ‘ ثریا کے پاس تھیں۔ ارم نے ساتھ املی اور پودینے کی مزیدار چٹنی بنالی۔
’’بس کل سے تم میرے ساتھ کالج جائوگی‘ کتنا حرج ہوگیا ہے۔ سوچو تو ذرا۔‘‘ ارم اسے سمجھا رہی تھی‘ مومنہ نے سر ہلایا۔
’’کل نہیں پرسوں‘ کل سنڈے ہے۔‘‘ وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولی۔
‘’ہاں… ہاں وہی۔‘‘ ارم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
اسی اثنا میں دروازے پر دستک ہوئی اور دروازے سے عالیان اندر آگیا۔ بارش میں اندر آتے آتے وہ بھیگ گیا تھا۔ مومنہ کچن میں ہی رہی جبکہ ارم بھائی کو آکر سلام کرنے لگی۔
’’بہت اچھی خوشبو آرہی ہے۔‘‘ عالیان فضا میں پکوڑوں کی مہک محسوس کرکے بولا۔
’’جی‘ بالکل آپ کی پسند کے پکوڑے بنائے ہیں ابھی لائی۔ آپ چینج کرکے آئیں۔‘‘ عالیان مسکراتا ہوا کمرے کی طرف چل دیا۔
اسے کمپنی کی طرف سے کنوس کی سہولت ملی ہوئی تھی۔ ڈھیلے ڈھالے لباس میں وہ آرام دہ ہو کر آیا۔ ارم نے اس کے آگے پکوڑوں اور چٹنی کی پلیٹ رکھی کہ اس کا موبائل بج اٹھا عماد کا فون تھا… وہ شرمیلی مسکان لیے کمرے میں چلی گئی۔
’’ارے… پانی تو دے جاتیں۔‘‘ عالیان کو مرچیں لگیں تو اس نے پانی کی آواز لگائی۔
ہمت کرکے مومنہ نے پانی کا جگ اور گلاس اٹھایا اور کچن سے باہر آگئی۔ عالیان نے قدموں کی آہٹ پر سر اٹھایا تو مومنہ کو سامنے پاکر حیران رہ گیا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ وہ نظریں جھکائے ہوئے بولی۔ جبکہ عالیان اسے دیکھتا رہا۔ پیلے اور گلابی امتزاج کے سوٹ میں اس کی اداسی واضح ہورہی تھی۔
عالیان کے اندر سے محبت وہمدردی کے سوتے پھوٹنے لگے کہ مومنہ دہرے صدمے سے دوچار تھی‘ بلاوجہ‘ بلاقصور۔
’’وعلیکم السلام! کیسی ہو۔‘‘ عالیان کا لہجہ ازخود سراپا محبت بن گیا۔
آج ایک مدت بعد دونوں کے درمیان براہ راست بات ہورہی تھی۔ وہ بھی نارمل‘ ورنہ اب تک تو عالیان طنز کے تیر ہی برساتا رہتا تھا‘ بے نقط سناتا مگر اب جیسے سب تیر ہی ختم ہوگئے۔ نفرت وطنز کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
’’آپ کا شکریہ… ٹھیک ہوں یہ پانی لے لیں۔‘‘ گلاس اور جگ رکھ کر وہ ہولے سے بولتی ارم کے پاس اندر چلی گئی اور اسحاق کو یاد کرکے رونے لگی۔
عالیان کے کھانے کی اشتہا اچانک ختم ہوگئی۔ بارش زوروں پر تھی باہر اور اندر مومنہ کے اشک… جو عالیان کے دل پہ گررہے تھے ارم اسے چپ کرائے جارہی تھی‘ مگر وہ بری طرح بکھر رہی تھی۔
’’شکریہ… یہ کیوں کہا اس نے‘ یہ تو میرا فرض تھا‘ کیسے اسے کنوئیں میں گرتا دیکھ سکتا تھا۔ جسے چپکے چپکے وہ چاہتا آرہا تھا کیونکر اسے درد کے حوالے کرتا‘ اپنے کمرے میں آکر وہ بارش کو دیکھتا اور سوچتا رہا۔ دل تھا کہ بے قراری کی حد پار کررہا تھا۔ کیا کروں؟ کی تکرار سے دل ودماغ میں شور برپا تھا۔ ’’شادی…‘‘ ایک دم دماغ میں کلک ہوا۔
’’شادی… کیا؟‘‘ اسے ایسا لگا جیسے اپنے سوال کا جواب ایک ہی لفظ میں مل گیا ہو۔
٭…٭…٭
صادقہ ثریا کے پاس خاموش بیٹھی تھیں۔ بارش اپنے جوبن پر تھی اور ثریا کے آنسو بھی نہ رک رہے تھے۔
’’بس کریں بھابی… رونے سے مسئلے کب حل ہوتے ہیں‘ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ میں نے بھی تو بھائی کھویا ہے‘ کلیجہ میرا بھی پھٹتا ہے‘ مگر اللہ کے حکم اور اس کی مشیت کے آگے ہم سب بے بس ہیں۔‘‘ صادقہ آنچل سے آنکھیں پونچھتے ہوئے دلگیر لہجے میں بولیں تو ثریا نے سر ہلایا۔
’’دوہرے عذابوں سے گزر رہی ہوں میں صادقہ۔‘‘ وہ اجڑے دلگیر لہجے میں بولیں۔ ’’میرے تو اپنوں نے میری پیٹھ پر خنجر گھونپا ہے۔ نہ فہد کو شرمندگی ہے نہ زنیرہ کو۔ وہ تو یہاں آنے کو تیار ہی نہیں‘ بتائو کہتا ہے جو ہونا تھا ہوگیا… اب زنیرہ کو کچھ مت کہیں‘ ماں بننے والی ہے وہ‘ اسے ٹینشن نہ دیں۔ لو… کہتا ہے ٹینشن نہ دیں اور میں‘ میں کتنی تکلیف میں ہوں رات دن کا سکون برباد ہوگیا ہے۔ شوہر چلا گیا‘ بیٹی کا گھر بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا۔ میری تو زندگی کارخ ہی بدل گیا اور بیٹا کہتا ہے ہم کچھ عرصے تک کنیڈا جارہے ہیں‘ زنیرہ کے باپ کے پاس۔‘‘ وہ درد سے پھٹتے دل کو لیے ہچکیوں سے رونے لگیں تو صادقہ نے انہیں ساتھ لگالیا‘ دونوں حالات کے لگائے زخموں پر کھل کر رونے لگیں۔ مگر ثریا کو سکون کہاں تھا۔
صادقہ تھوڑی دیر بعد وہاں سے جاکر ان کے لیے چائے لے آئیں اور ساتھ درد کی گولی کھلائی مگر ثریا کو سکون کہاں تھا۔ وہ باتیں کررہی تھیں کہ ارم اور مومنہ آگئیں۔ پکوڑوں کی بھری پلیٹ لیے۔
’’ارے واہ… ہماری سگھڑ بچیوں نے واقعی سگھڑاپے کا ثبوت دیا آج تو…‘‘ صادقہ نے دونوں کو پیار سے دیکھ کر کہا۔
’’امی‘ گھر آجائیں عالیان بھائی بھی آگئے ہیں۔‘‘ ارم نے کہا تو صادقہ اٹھنے لگیں۔
’’ٹھیک ہے مومی تم کالج جانے کی تیاری کرو… پرسوں چلیں گے۔ ممانی جان ٹھیک ہے ناں۔‘‘ ارم نے ان سے پوچھا۔
’’ہاں بیٹا کیوں نہیں… ضرور جائے‘ اپنی تعلیم مکمل کرے‘ جانے والوں کی وجہ سے دنیا کے کام کب رکے ہیں۔‘‘ ثریا نے محبت کی تصویر اور اداس بنی مومنہ کو دیکھ کر کہا۔
’’جیسے آپ کہیں امی…‘‘ مومنہ سعادت مندی سے بولی۔ ارم اور صادقہ گھر آگئیں۔
عالیان سو رہا تھا۔ بارش اب تھم چکی تھی۔ البتہ بادل موجود تھے۔ دونوں ماں بیٹی بھی آرام کی غرض سے اپنے بستروں پر آگئیں۔ صادقہ مسلسل مومنہ کے بارے میں سوچے جارہی تھیں۔ کتنی خواہش تھی کہ اسے اپنی بہو بنائیں‘ مگر عالیان… وہ تو کبھی نہ مانے گا اس کی ضدی طبیعت سے وہ واقف تھیں۔ اب تو ثریا بھی عالیان کی ممنون تھیں۔
’’کتنی ڈھے گئی ہیں ثریا ممانی‘ حالات نے کیسا پلٹا کھایا۔‘‘ اپنی سوچوں میں گم تھیں کہ ارم کی آواز آئی۔
’’ہوں…‘‘ صادقہ نے اس کی جانب پلٹ کر کہا۔
’’ایک بات کرنی ہے آپ سے۔‘‘ ارم امید کا دامن تھام کر بولی۔
’’کیا بات…‘‘ صادقہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولیں۔
’’امی… مومی کو میری بھابی بنادیں۔‘‘ ارم کے لہجے میں لجاجت‘ آرزو‘ حسرت‘ خواہش‘ امید نہ جانے کیا کیا پنہاں تھا۔ صادقہ چند لمحے خاموش رہیں پھر اداسی بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’بیٹا میری تو یہ ازلی خواہش ہے۔ پہلے عالیان تو مانے‘ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مومنہ کو پسند کرتا ہے۔ ہمیشہ اس نے غلط رویہ رکھا اس سے… میں کیسے کروں بات۔‘‘ صادقہ مایوسی سے بولیں۔
’’امی اب تو بھائی بہت بدل گئے ہیں۔ میں نے خود نوٹ کیا ہے کہ وہ مومی سے اس طرح بات نہیں کرتے جیسے پہلے کرتے تھے۔‘‘ ارم نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔
’’وہ تو بیٹا سب ہی کچھ بدل گیا ہے۔ خود ثریا بھابی‘ پے درپے صدموں سے چور ہیں۔ میں ان سے مومی کا ہاتھ مانگوں تو انکار نہ کریں گی‘ مسئلہ صرف عالیان کا ہے۔‘‘ عالیان جو انہی کے پاس آرہا تھا۔ دونوں کی گفتگو میں اپنا نام سن کر چونکا اور رک کر ان کی باتیں سننے لگا۔ حالانکہ وہ فطرتاً ایسا نہ تھا۔
’’آپ بھی ٹھیک سمجھتی ہیں میری پیاری ماں… میں خود آپ سے بات کروں گا۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا دل میں سوچتا واپس اپنے کمرے میں آگیا اور مومنہ کے تصور سے باتیں کرنے لگا۔ ’’مومی میری سچی اور پاکیزہ محبت تمہیں میرا بنادے گی۔ میں کوئی لینڈ لارڈ نہیں ہوں۔ جس عمر میں بچے کھلونوں سے کھیلتے تھے‘ اس عمر سے میں اس سوچ وبچار میں رہا کہ میں نے بس پڑھناہے‘ ماں اور بہن کو سکھ دینے ہیں‘ اللہ کی رحمت اور ماں کی دعائوں سے میں اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔ ٹھیک ہے میرے رویے سے تم دلبرداشتہ رہتی مگر کیا کرتا حالات ہی ایسے تھے مگر اب میں بدل گیا ہوں… سب کچھ دے سکتا ہوں تمہیں‘ میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔ تمہارے سارے غم‘ دکھ‘ تکلیفیں ختم کردوں گا۔‘‘ وہ تکیہ بازوئوں میں بھینچے اس کے تصور سے باتیں کرتا رہا۔
٭…٭…٭
ثریا کی عدت تو گزر گئی تھی۔ اسحاق کیا گئے ان کے دن رات‘ معمولات بھی بدل گئے۔ گھر کی ہوکر رہ گئیں۔ سفید دوپٹہ اوڑھے وہ نماز وقرآن وتسبیحات میں مصروف رہتیں‘ فہد کی بے حسی اور زنیرہ کی ہٹ دھرمی نے انہیں اور زیادہ دکھ پہنچایا۔ اب انہیں فکر تھی تو مومنہ کی… صادقہ روزانہ ان کے پاس آتیں‘ ان کی دلجوئی کرتیں‘ زبردستی کھانا کھلاتیں اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوتیں‘ کہ کس طرح ان لوگوں کو چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کرتی رہیں‘ اپنی دولت کے بل بوتے پر‘ غرور خاک میں مل گیا تھا۔ بیٹے نے آنکھیں پھیرلیں۔ نہ ماں کا خیال نہ بہن کا احساس‘ سسرال میں پڑا تھا۔ کاروبار بھی اسحاق کے دوست دیکھ رہے تھے۔ درد اندر ہی اندر انہیں کچوکے لگاتا رہتا‘ ایک بھربھری دیوار کی طرح ہوگئی تھیں‘ تب انہوں نے خود پر ملامت کی اور اپنے تئیں فیصلے کرتی گئیں اور کسی حد تک مطمئن ہوگئیں۔
٭…٭…٭
اس روز عصر کے بعد دونوں چائے پی رہی تھیں کہ فہد اور زنیرہ آگئے۔ زنیرہ اپنا کچھ سامان لینے آئی تھی جو رہ گیا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی ثریا اشتعال میں آگئیں اور توتکار شروع ہوگئی۔
’’تمہاری ماں پاگل ہوگئی ہے۔‘‘ زنیرہ کے منہ میں جو آیا بولے گئی۔
’’ہم جارہے ہیں یہاں سے کینیڈا‘ پرسوں‘ رہتے رہیے آپ یہاں۔‘‘ وہ بک بک کرتی اندر گئی‘ بیگ بھرے اور تن فن کرتی باہر نکل گئی اور فہد اس کے پیچھے پیچھے… ان کے جانے کے بعد ثریا کی حالت دگرگوں ہوگئی‘ بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھنے لگا۔ مومنہ کو کچھ نہ سوجھا تو صادقہ کی طرف بھاگی۔ حواس باختہ وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔ عالیان نے کھولا۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ اس کی حالت دیکھ کر وہ گھبرا کر بولا۔ ارم اور صادقہ بھی تیزی سے آئیں۔
’’وہ… وہ امی کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ وہ بے ربط سی بولی تو صادقہ نے اسے تھاما اور تینوں ان کی طرف بھاگے۔ عالیان نے جلدی سے ٹیکسی منگوائی اور جیسے تیسے انہیں قریبی کلینک میں لے آئے۔
ثریا نیم بے ہوش تھیں۔ صادقہ مومنہ کو سنبھالے ہوئے تھی۔ ارم گھر میں اکیلی تھی۔ مومنہ ایک پل کو بھی چپ نہ ہوئی تھی۔ مسلسل گریہ آہ وزاری کررہی تھی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ثریا کی حالت سنبھلی تو سب نے سکھ کا سانس لیا اور رب کا شکر ادا کیا۔ بروقت طبی امداد سے معاملہ سنبھل گیا تھا۔
’’اگر آج عالیان نہ ہوتا تو کیا اماں بھی بابا کے پاس چلی جاتیں؟‘‘ مومنہ کے دماغ میں یہی بات گردش کررہی تھی۔ عالیان نے دونوں کو تسلی دی‘ اور ثریا کو لے کر گھر آگئے۔
’’پھوپو… آپ آج رات یہیں رہ جائیں…‘‘ اس کی معصوم فرمائش پر عالیان مسکرا دیا اور بولا۔
’’جی امی آپ یہیں رہیں…‘‘ دوائیاں ان کے حوالے کرکے سمجھا کے وہ جانے لگا۔
’’میں چلتا ہوں ارم اکیلی ہے کب سے۔‘‘ وہ مومنہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔ مومنہ جو پہلے ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی نظریں ملنے پر سٹپٹا گئی۔ عالیان مسکراتے لبوں گھر پلٹ آیا۔
’’اف… پھوپو اگر آپ لوگ نہ ہوتے تو میں کیا کرتی… اکیلی۔‘‘ مومنہ مسلسل صادقہ کا شکریہ ادا کررہی تھی اور ماں کے سابقہ رویے پر شرمندہ بھی تھی۔
’’ہم سب تمہارے ساتھ ہیں‘ اکیلی کب ہو تم…‘‘ صادقہ نے اسے ساتھ لپٹا کر کہا تو مومنہ کے اندر سکون سا اتر آیا۔
ثریا کی طبیعت کافی بہتر تھی۔ وہ خاموش ممنون نظروں سے صادقہ کو دیکھے گئیں‘ جس نے آج تک شکوہ کرنا سیکھا ہی نہ تھا۔ وہ غنودگی میں جانے لگیں تو صادقہ عشاء کی نماز کی ادائیگی کے لیے اٹھ گئیں۔
’’چلو اب تم پڑھو اور اطمینان سے سو جائو۔ میں ہوں ناں یہاں‘ بے فکر ہوجائو۔‘‘ صادقہ اسے محبت سے دیکھتے ہوئے بولیں۔ تو مومنہ سر ہلا کر اپنے کمرے میں آگئی۔
دل عجیب سا ہورہا تھا۔ اگر یہ محبت والے بے غرض رشتے ساری عمر کے لیے مل جائیں تو کیا ہے؟ یہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔
٭…٭…٭
اللہ جب مہربان ہوتا ہے تو واقعی اپنی رحمت وکرم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ انسان کی اوقات ہی کیا ہے؟ اسے تو بس اس کی رضا میں راضی رہنا ہے‘ راضی بہ رضا ہی حقیقی مسرتوں کو حاصل کرلیتا ہے۔
یہی عالیان کے ساتھ ہوا‘ کمپنی کی طرف سے اسے خوب صورت گھر اور گاڑی مل گئی۔ وہ پھولے نہ سما رہا تھا۔ گھر میں ایک بار پھر خوشی کی لہر دوڑ گئی‘ ارم اور صادقہ‘ ثریا کو خوش خبری سنانے آگئیں۔
’’مبارک ہو بہت بہت…‘‘ ثریا خوش دلی سے بولیں۔
’’تو… کیا آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں گے۔‘‘ مومنہ دل پہ ہاتھ رکھ کر صدمے سے بولی۔
’’ہاں… جانا تو ہے… جانا تو پڑے گا۔‘‘ ارم نے اس کے لہجے پر غور نہ کیا۔ البتہ صادقہ اور ثریا مومنہ کے لہجے پر غور کرنے لگیں۔
’’ہاں… تم تو دوبئی چلی جائوگی ناں…‘‘ مومنہ پھر اداسی سے بولی۔
’’یہ بھی ٹھیک ہے…‘‘ ارم شرمیلی مسکان لیے مسکرا کر بولی اور دونوں باتیں کرنے لگیں۔
ثریا سوچوں میںگم تھیں… عالیان اور سب نے اس کڑے وقت میں قدم قدم پہ ان کا ساتھ دیا تھا۔ جو کام فہد کے کرنے کے تھے وہ عالیان کررہا تھا‘ فہد کنیڈا جاچکا تھا زنیر ہ کے ساتھ۔ ماں‘ بہن کو بے سہارا چھوڑ کر۔ اب ثریا نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ لوگ کہیں نہیں جائیں گے۔ عالیان کاروبار دیکھے گا‘ اسے نوکری کی کیا ضرورت۔ تب وہ بے حد مطمئن ہوگئیں کہ زندگی اور حالات بعض اوقات ایسی فیصلے کرواتے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
ایسے ہی ثریا کے ساتھ ہوا… اﷲ کی تقدیر کے آگے انسان کی تدبیر نہیں چلتی اور انسان اپنے تئیں فیصلے کرتا رہتا ہے‘ ہوتا وہی ہے جو اﷲ کو منظور ہوتا ہے۔ محبت بھی عجیب شے ہے‘ اس کا اپنا لطف ومزا ہے اور یہ نشہ رگ وپے میں سما جائے تو ہر طرف بہار اور رنگینی دکھائی دیتی ہے‘ عالیان رات ماں کے پاس آیا اور ان کے ہاتھ تھام کر اپنے دل کی بات کہہ دی۔
صادقہ پہلے تو حیران رہ گئیں پھر ہنستے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا۔ تشکر کے آنسو بہہ نکلے‘ ارم نے سنا تو مارے خوشی کے دل رقص کرنے لگا اور دعائیں کرنے لگی۔
’’بس ہم کل ہی جائیں گے ممانی کے پاس امی۔‘‘ ارم کا بس نہ چل رہا تھا کہ ابھی چلی جائے۔ رات بھر اسے نیند نہ آئی۔
صادقہ نے اسے بھی صبر کرنے کو کہا کہ سوچ کر ہر کام کریں گے دو روز اور گزرے کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ ارم کو ساتھ لے کر و ہ ثریا کو مبارک دینے آگئیں۔ انہوں نے ارم کو سختی سے منع کردیا تھا کہ مومنہ کو کچھ مت کہے پہلے ثریا بھابی کا عندیہ تو معلوم ہو‘ ثریا نے بھی انہیں رمضان المبارک کی مبارک باد دی۔
’’میں خود آتی مگر ایک دم سر چکرانے لگا تھا۔‘‘ ثریا کی طبیعت واقعی ٹھیک نہ لگ رہی تھی۔
’’کوئی بات نہیں بھابی۔‘‘ صادقہ مسکرا کر بولیں۔
’’بھابی… ایک بات کرنی تھی… بلکہ یہ ہم سب کی آرزو ہے کہ…‘‘ صادقہ ذرا دیر کو رکیں… اتنے میں ثریا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
’’ہاں کہو۔‘‘ وہ نرمی سے بولیں۔
’’بات یہ ہے کہ مومنہ کو میری بیٹی بنادیں… عالیان آپ کا بچہ ہے‘ آپ کا دیکھا بھالا‘ اس میں کوئی برائی نہیں‘ سیدھا سادھا شریف سا…‘‘ صادقہ نظریں جھکائے جھکائے اپنا مدعا بیان کررہی تھیں۔ تب ثریا اٹھیں اور صادقہ کو گلے لگالیا۔
’’صادقہ… مومنہ تمہاری ہے‘ یہ اسحاق کی بھی خواہش تھی۔ مگر میں دولت کے نشے میں اندھی ہوگئی تھی اور عالیان نے اسے بچا لیا غلط لوگوں سے اور تو اور میں اپنی بیٹی کا دل توڑنے کی بھی سزاوار ہوں اللہ مجھے معاف کرے۔‘‘ صادقہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔ ان سے بولا نہیں جارہا تھا۔
’’اور ہاں صادقہ اب سارا کاروبار عالیان سنبھالے گا‘ تم لوگ کہیں نہیں جارہے‘ اتنے وسیع کاروبار کے بعد عالیان کو کسی نوکری کی ضرورت نہیں۔‘‘ صادقہ پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔
’’بھابی…‘‘ وہ ان سے لپٹ گئیں۔
’’بس بھابی میں چاند رات والے دن آکے رسم کر جائوں گی۔ آپ اب آرام کریں… ارم آجائو۔‘‘ ساتھ ہی انہو ں نے ارم کو پکارا جو مومنہ کے کمرے میں تھی۔
سرشار دل کے ساتھ وہ گھر آگئیں۔ عالیان تراویح پڑھ کے آیا تو خوشیوں کے انبار اس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ اسے اپنی دعائوں پر پورا بھروسہ تھا۔
٭…٭…٭
خوشیوں میں رمضان المبارک کی سعادت بھری ساعتیں گزر رہی تھیں۔ ارم اور مومنہ روزانہ ہی افطاری میں کچھ نہ کچھ تیار کرکے ایک دوسرے کو بھیجتیں۔ اس دن اٹھارواں روزہ تھا جب مومنہ نے اسپیشل دہی بڑے بنائے اور بائول لے کر ان کی طرف آگئی۔ دروازہ کھلا تھا‘ صادقہ بستر پر لیٹی تسبیح پڑھ رہی تھیں اور ارم قرآن پاک پڑھ رہی تھی کھٹکے پہ عالیان باہر آیا۔
سرخ اور کالے پرنٹڈ سوٹ میں مومنہ دلکشی کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ عالیان یک ٹک اسے دیکھے گیا۔ مومنہ کے تصور میں بھی نہ تھا کہ عالیان اس طرح گستاخ نظروں سے اسے دیکھے گا۔ وہ بائول اسے تھما کر دوڑتی ہوئی دھڑکنیں سنبھالتی لوٹ آئی۔
’’تو… تو کیا عالیان بھی انہی راستوں کا مسافر ہے‘ جس راہ پر میں برسوں سے چل رہی ہوں…‘‘ یہ سوچ اسے نئی توانائی دے گئی۔
٭…٭…٭
دن پر لگا کر اڑنے لگے تھے گویا… انیتسویں روزے کے اختتام پر متوقع چاند کے انتظار میں سب ہی بلند عمارتوں پر جاپہنچے… کہ چاروں طرف سے چاند‘ چاند کا دلفریب شور مچ اٹھا… اور دلوں میں انمٹ خوشیوں کا احساس جاگ اٹھا۔
مومنہ بھی ہاتھ اٹھا کر اچھے نصیب کی دعائیں کرنے لگی۔ ثریا آج بہت بہتر تھیں۔ بیٹی کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما اور دعائیں دیں۔ کھانا کھا کر وہ فارغ ہی ہوئی تھی کہ صادقہ‘ ارم اور عالیان آگئے۔ مومنہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔ چہروں پر گہری خوشی تھی… جو پھوٹی پڑ رہی تھی۔
ثریا سے مل کر صادقہ نے مومنہ کو اپنے پاس بٹھایا۔ وہ کچھ نہ سمجھ رہی تھی۔ عالیان میٹھی میٹھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’اجازت ہے بھابی۔‘‘ صادقہ نے ثریا سے پوچھا۔
’’ہاں صادقہ مومنہ اب تمہاری ہے۔‘‘ ثریا کی بات پر مومنہ نے مزید حیرانی سے ماں کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں تشکر کے موتی لرزاں تھے۔
صادقہ نے مومی کا ہاتھ تھام کر اس کی نازک سی انگلی میں انگوٹھی پہنائی اور ساتھ ہی سرخ گوٹے کناری والا چمکدار دوپٹہ اس کے سر پر ڈال دیا۔ ارم نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا کر مسرت کا اظہار کیا۔
’’اور یہ رہی تمہاری عیدی…‘‘ ارم نے شرارت سے ہنستے ہوئے چیزوں کی جانب اشارہ کیا اور ایک ایک چیز اسے دکھانے لگی۔ مومنہ چہرہ جھکائے بیٹھی رہی۔
’’ارے… یہ کیا… امی چوڑیاں کہاں ہیں؟ بھول گئے ناں ہم…‘‘ ارم افسردہ لہجے میں بولی۔ چوڑیوں کے بغیر تو عید کا تصور ہی محال لگتا تھا اسے۔
’’تو کیا ہوا؟ عالیان ابھی جاکر چوڑیاں پہنا آتا ہے۔‘‘ صادقہ نے فوراً مسئلے کا حل نکالا اور ثریا کی طرف دیکھا… جن کی طرف سے اجازت تھی۔
’’ہاں… ہاں… جائو پہنا آئو۔ کوئی کمی نہ رہ جائے‘ یہ رسم بھی پوری ہوئی۔‘‘ عالیان مسکرا کر اٹھا اور باہر چلا گیا۔
شرماتی‘ لجاتی وہ اس کے برابر والی سیٹ پر آبیٹھی‘ ارم نے دل سے دونوں کے لیے دعا کی۔ عالیان نے گاڑی اسٹارٹ کی‘ دونوں خاموش تھے۔
کافی دیر بازار کی رونقیں دیکھتے دکھاتے وہ گاہے بگاہے ایک نگاہ عالیان پر ڈال لیتی کہ عالیان نے اس کی چوری پکڑی اور مسکرا کر بولا۔
’’گاڑی روکتا ہوں‘ اچھی طرح دیکھ لو مجھے۔‘‘ تو مومنہ شرما گئی۔
’’خوش ہو؟‘‘ عالیان نے خوش دلی سے پوچھا۔
’’بہت… اور آپ…؟‘‘ وہ بھی جواباً بولی اور اس کی تبدیلی پر حیران بھی تھی۔
’’خوش ہوں تو تمہیں ساتھ لایا ہوں‘ چوڑیوں کا تو بہانہ تھا صرف… پہنادوں گا وہ بھی… اصل میں کچھ پل تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا تھا… ‘‘ نسبتاً سنسان جگہ پر گاڑی روک کر وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا… کہ مومنہ کا شرمیلا‘ موہنا سا روپ عالیان کے دل میں اترتا جارہا تھا۔ جس کا وہ کب سے منتظر تھا۔
’’بہت تنگ کیا ناں میں نے تمہیں…؟‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ اس کا دایاں ہاتھ ہاتھ میں لے کر محبتوں سے چور لہجے میں بولا۔
’’اب محبت بھی بہت کروں گا۔ تمہارے سارے دکھ‘ غم ختم۔‘‘
عالیان محبتوں کی پھوار برسا رہا تھا اور مومنہ اس مدھر پھوار میں بھیگتی جارہی تھی‘ عید کی رونقیں تھیں اور دل میں آنے والے سہانے سکھ بھرے دنوں کا احساس رقصاں تھا۔ یہ عید ان کے لیے خوشیوں کے گلاب لارہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close