Hijaab Aug-17

اسلامی تہزیب

عنزہ یونس

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بتایا وارث
یہ الزام بھی میرے اجراء کے سر جائے گا
تہذیب کسی بھی معاشرے کا آئینہ طرزِ حیات اور طرز معاشرت کا نام ہے۔ ہر قوم اپنی ایک الگ ثقافت پہچان ‘ رسم و رواج اورتہذیب کی علمبردار ہے ‘ انگریزی زبان میں تہذیب کو کلچر اور سو لائزیشن کا نام دیا جاتا ہے جبکہ اردو میں تہذیب کو تمدن‘ ثقافت ‘ رسم و رواج کے زمرے میں رکھاجاتا ہے۔ تہذیب کے پس پردہ کسی بھی قوم کی طرز معاشرت خیالات رسم و رواج اساسی تصور‘ نصب العین اور نظر یہ حیات کار فرماں ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر معاشرہ دوسرے معاشرے سے تہذیبی تمدنی‘ ثقافتی مہذبی لحاظ سے الگ گردانا جاتا ہے۔
اگر ہم پاکستانی طرز حیات کو تہذیب کے آئینہ میں دیکھیں تو ہم بحیثیت مسلمان اسلامی طرز معاشرت کے حامل ہیں۔ ہماری سوچ‘ فکر‘ تہذیب و تمدن ثقافت‘ رسم و رواج اسلام کے آئینہ دار ہیں۔ اسلام ایک مکمل جامع پاکیزہ فلاحی اور سچا دین ہے‘ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
’’بے شک اﷲکے نزدیک دین صرف اسلام ہے‘‘ ال عمران آیت نمبر 19
اسلام کے اندر وہ تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں جو اشانی‘ بقاء‘ فلاح اور عزت و حرمت کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ باقی معاشروں سے زیادہ پاک صاف اور روحانی سکون سے مالال مال ہے۔
سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی…!
ہماری تہذیبی ورثے کی خوب صورتی اور دلکشی پورے عالم میں مشہورو معروف ہے۔ ہر دوسرا شخص اس سے متاثر و مرعوب ہے‘ ہماری تہذیب کی عالمگیریت لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکی ہے وہ معاشرے جو اسلام کی وسعت سے خائف تھے‘ آج بلاشبہ یہ کہنے پر مصر ہیں۔
اسلام صرف ایک دین نہیں ہے بلکہ دین غالب و کامل ہے‘ جو نسل انسانی کے لیے تمام وہ لوازمات رکھتا ہے جس سے ایک مکمل معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہدایت کا سرچشمہ… یہ ایک ایسی لازوال تہذیب ہے جس کا رنگ ماند نہیں پڑا‘ یہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سدا بہار‘ دل فریب اور پرکشش ہے۔ شادی ‘ بیاہ‘ پیدائش‘ موت‘ کاروبار‘ معاملاتِ دنیا‘ معاملات آخرت‘ تہذیب‘ تفکر‘ سوچ نظریات‘ رہنمائی مشاورت غرض یہ کہ ہر پہلوئے حیات کے متعلق ہدایت بہم پہنچاتا ہے۔
پھر ہم اس تہذیب سے بے زار کیونکر ہیں؟ کسی بھی معاشرے کا وجود اس تہذیب و تمدن کی پیروی سے ممکن ہوتا ہے اگر قومیں اپنا طرز حیات‘ ثقافت‘ رسم و رواج بھول جائیں تو زوال سے ہمکنار ہوتی ہیں۔
جیسا کے آج ہم…! ہم اپنی تہذیب سے قطعی بے بہرہ‘ بے زار اور نہ آشنا ہیں‘ اس تہذیب سے دور جو دنیائے عالم میں اپنی خاص الخاص پہچان رکھتی ہے۔ جس کی وسعت عالمگیریت پر دیوان لکھے جاچکے ہیں اور جسے نسل نو اپنی بقا کا ضامن مان چکی ہے۔
کیا یہ ہماری عملی ناکامی نہیں ہے؟
یہود و نصاریٰ جب اسلامی پھلتی پھولتی فصل کو کاٹ نہ سکے تو انہوں نے ایک نئی چال چلی‘ ہمیں ہماری اسلامی تہذیب سے نہ آشنا کرنے کی۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے کو اپریل فول ‘ ویلن ٹائن ڈے اور اس جیسی خرافات میں معلق کردیا اور ہم بھی اندھے بہرے‘ گونگوں کی طرح اس مغربی تقلید کے علمبردار بن گئے اور بھول گئے اسلامی تعلیمات کیا تھیں؟
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل و آرزو باقی نہیں ہے
نماز‘ روزہ‘ قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائو۔‘‘
کیا یہ حکم ہمارے لیے کسی اور تہذیب کا دروازہ کھولتا ہے؟
وہ معاشرے جو اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں حد درجہ بہت ذلیل و رسوا… آج ہم ان کی تقلید کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ کیا ہم بھول گئے ہیں‘ ہمارا نظریہ حیات کیا ہے؟ ہمارے اس ملک کی بنیاد کے پیچھے کون سا نظریہ کار فرما ہے؟ محمد علی جناح جنہوں نے ہمیشہ اعلیٰ سوچ تدبر برداشت فہم و فراست سے کام لیا کبھی بھی کہیں بھی تنگ نظری پست ذہنیت کا ثبوت نہیں دیا۔ انہوں نے بھی مسلمانوں اور لادینوں کے راستے یہ کہہ کر جدا کردیئے۔ پاکستان کا مطالبہ اس لیے کیا تھا کہ ہم مسلمان تھے اور مسلمان رہنا چاہتے تھے‘ اس لیے ایک خطہ زمین چاہیے تھا جہاں ہم مسلم قومیت کی حیثیت سے زندہ رہ سکیں اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے سنہرے اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ ہمارے دین ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات نے ہمیں آزادی کے لیے متحرک رکھا۔
وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا
جس قوم کی تقلید میں امروز نہیں ہے
لبرل ازم کے چکروں میں پڑکے ہم اپنی تہذیب سے نگاہیں پھیر رہے ہیں محض دنیاوی جھمیلوں میں خود کو لمحہ بھر کی تسکین دینے کی خاطر ہم اسے قدم اٹھاتے ہیں کہ بعض دفعہ ابلیس بھی دنگ رہ جاتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
علامہ اقبال نے کہا تھا ’’میرا یقین ہے کہ فردکی زندگی میں مذہب کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام ایک تقدیر ہے اور وہ کسی بھی تقدیر کے تابع نہیںہے؟
مزید یہ کہ…
’’اسلام ایک حقیقت ہے‘ دستور حیات ہے اور ایک بس یہی وہ بات ہے اگر اسے ہم پالیں تو مستقل میں ہندوستان کی ایک نمایاں تہذیب کے علمبردار بن سکتے ہیں۔
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولﷺ ہاشمی
علم و عمل کی وہ سب یادداشتیں جو ہماری تہذیب کی آئینہ دار تھیں‘ آج اغیار کی فتح شدہ ثقافت کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں اور ہم تہی داماں رہ گئے ہیں۔
ہمیں اپریل فول ویلن ٹائن ڈے تو یاد رہتے ہیں مگر عیدین‘ رمضان‘ محرم‘ ربیع الاول کی عظمت و شان کا ادراک تک نہیں ہوتا محض خانہ پری کے لیے بھاگم بھاگ چند رسوم ادا کرکے خودکو بری الذماں سمجھتے ہیں۔
کیا ہم سچے پکے مسلمان ہیں؟
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
’’اگر تم میں سے کوئی برائی دیکھے وہ اسے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا ہو تو زبان سے روکے اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
اس فرمان کی روشنی میں اگر اپنا تجزیہ کریں تو جان پائیں گے کہ ہم کس قدر ایمان کی قوت سے محروم ہیں؟
نا صبوری ہے زندگی دل کی
آہ وہ دل کے نا صبور نہیں
حق و باطل پر لکھنے والے ہمیشہ سے رہے ہیں تائید و توصیف سے بے بہرہ صرف جہاد کی غرض سے عمل کی شمعیں جلانے میں مصروف و مگن…
مگر حقیقت واضح ہے کہ جب تک عمل پیرا نہیں ہوا جائے گا سب فضول ہے۔ ہماری سوچ فکر‘ تہذیب‘ آزادی‘ جمہوریت روشن خیالی محض حسین خواب ہے۔ اس کی تعبیر کے لیے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تکمیل ممکن ہوسکے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close