Hijaab Aug-17

اس راہ محبت میں

سحرش فاطمہ

باہر ہلکی بارش ہورہی تھی‘ کھڑکی سے یہ دلکش نظارہ دیکھتے ہوئے دانتوں میں پین دبائے‘ کندھوں تک آئے بالوں کی ہائی پونی بنائے ندا کچھ سوچ رہی تھی اس کے سامنے ٹیبل پہ رجسٹر کھلا رکھا تھا۔
’’اف… یہ آئیڈیا بھی اچھا نہیں‘ کیا لکھوں‘ کیا کروں؟ اگر میں ہیروئن کو سمندر کنارے اداس کھڑا کردوں اور سامنے سے آتا ہیرو اسے دیکھتا رہ جائے‘ ہاں یہ صحیح ہے‘ تھوڑا فلمی ٹچ تو ہو ناں۔‘‘ خود کلامی کرنے میں مصروف اور رجسٹر پر جھکی ہوئی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔
’’کون ہے آجاؤ۔‘‘ وہ ہنوز رجسٹر پہ جھکی رہی۔
’’ناچیز… جو ہے آپ کے لیے بڑے ہی کام کی چیز‘ حاضرِ خدمت ہے‘ شہزادی ندا صاحبہ۔‘‘ حسن کمرے میں آیا اور کمر جھکائے بولا۔
’’اوہو… مسڑ ناچیز اور میرے کام کی چیز‘ سنایئے کیا حالات و خبریں ہیں؟‘‘ ندا نے اس کی طرف رخ کیا۔
’’حالات سازگار نہیں ہیں‘ دشمن کبھی بھی حملہ کرسکتے ہیں جبکہ بلی چھیچھڑے دیکھنے خوابِ خرگوش میں گم ہوچکی ہے۔‘‘ حسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’اب خرگوش کا کیا ہوگا؟‘‘ ندا فکرمندی سے گویا ہوئی۔
’’کیا ہوگا؟‘‘ حسن نے ہاتھ سے اشارہ کرکے پوچھا۔
’’وہی تو میں بھی پوچھ رہی ہوں ناں کیا ہوگا؟‘‘ ندا نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا۔
’’ارے وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا۔‘‘ حسن نے اس کے آگے گھٹنے ٹیکے اور بانہیں لہراتے ہوئے گنگنایا تو ندا نے چیئر سے کشن اٹھا کے اس پہ اچھالا۔
’’یہ کیا گستاخانہ حرکت تھی شہزادی صاحبہ؟‘‘ حسن جھنجھلایا۔
’’ظاہر ہے جو گستاخی ناچیز سے ہوئی ہے تو سزا تو ملنی تھی ناں آخر شہزادی جو ہوں۔‘‘ ندا نے فرصی کالر جھاڑتے ہوئے کہا۔
’’یہ شہزادی ندا نہیں بے کار ہے۔‘‘ منہ چڑاتے ہوئے وہ اٹھا۔
’’حسن تم… نکل جاؤ میرے کمرے سے ابھی کے ابھی۔‘‘ ندا بھڑک اٹھی تو حسن نے مضنوعی خفگی سے کہا۔
’’ہاں… ہاں‘ چلا جاتا ہوں‘ واپس نہیں آؤں گا‘ ملاتی رہو تم بس اپنے ہیرو ہیروئن کو سمجھیں۔‘‘
’’حسن تم نے میری کہانی پڑھی مجھ سے پوچھے بغیر؟‘‘ ندا اٹھنے لگی تھی کہ حسن دروازے تک گیا اور منہ پھر سے چڑا کر بھاگ گیا۔ اس کے جاتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے مسکرائی اور سونے کے لیے لیٹنا چاہا پر نیند کوسوں دور تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
اگلے دن ناشتے کے دوران کھوجتی ہوئی نظریں کبھی دروازے کی طرف جاتیں کبھی دوسری طرف جہاں فون رکھا ہوا تھا‘ بے دلی سے ناشتہ کرتی ہوئی ندا اپنی ہی ماں کی آواز پہ چونک گئی۔
’’کیا کررہی ہے‘ صحیح سے ناشتہ کرو۔‘‘ زرینہ نے جھڑکا۔
’’اف اماں‘ دڑا دیا مجھے آپ نے۔‘‘ پانی پیتے ہوئے ندا نے کہا اور سانس بحال کی۔
’’پتا نہیں کہاں دھیان تھا تمہارا؟‘‘ زرینہ نے گھورتے ہوئے کہا۔
’’کہیں… کہیں بھی نہیں۔‘‘ ندا اٹکتے ہوئے بولی۔
’’جس کا انتظار کررہی ہو ناں وہ نہیں آیا ابھی تک۔‘‘ زرینہ نے جس طرح کہا ندا چائے پیتے ہوئے ہڑبرا گئی۔
’’اف لڑکی‘ چائے تو آرام سے پیو‘ ڈائجسٹ نہ ہوا پتا نہیں کیا ہوگیا۔‘‘ ندا نے سکھ کا سانس لیا‘ دل میں مسکرانے لگی کہ اماں ڈائجسٹ سمجھ رہی ہیں جب کہ وہ کسی اور کا ہی…
’’اماں ایک بات تو بتاؤ۔‘‘ ندا نے نارمل ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں ہاں پوچھو۔‘‘ زرینہ بھی مسکرا دیں۔
’’کیا میں اتنی بری رائٹر ہوں؟‘‘ ندا نے بے چارگی سے کہا تو اماں حضور ہنس دیں۔
’’پہلے مجھے سوچ لینے دو کہ تم رائٹر ہو بھی یا نہیں؟‘‘ وہ ہنسے جارہی تھیں۔
’’حد ہے اماں‘ آپ بھی ناں۔‘‘ ندا کا چہرہ دیکھنے والا تھا زرینہ بھی سنجیدہ ہوگئیں۔
’’ان چیزوں میں کچھ نہیں رکھا میری جان‘ کیوں اپنا دماغ کھپا رہی ہو؟ اس خیالی پلاؤ کو چھوڑ کر اصلی دیگ چڑھانے کا سوچو۔‘‘ زرینہ نے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب آپ کا؟‘‘ ندا ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’یعنی اب گھر داری سیکھنا شروع کردوں‘ بڑی ہوگئی ہو کل کو سسرال میں کیا کروگی؟‘‘ انہوں نے ندا کو دیکھ کر کہا۔ ’’ویسے تمہاری کہانیوں کی ہیروئینیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں کیا؟‘‘
’’کیا مطلب ہے بھئی آپ کا؟‘‘ زچ ہوتے ہوئے ندا نے پوچھا۔
’’تمہاری طرح؟‘‘ زرینہ نے وضاحت کی۔
’’ارے نہیں ناں وہ تو بہت اچھی ہوتی ہیں سگھڑ قسم کی‘ پنج وقتہ نمازی کچھ کچھ تو تہجد گزاز بھی ہوتی ہیں‘ پردے والی وغیرہ وغیرہ۔‘‘ ندا مزے سے بتا رہی تھی۔ جبکہ وہ خود بالکل ایسی نہیں تھی۔
’’بس… بس جو خوبیاں تم بتا رہی ہو ان میں سے ایک بھی تم میں نہیں۔‘‘ زرینہ نے حقیقت بتاتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہے اماں… ناول والی لڑکیوں اور اصل لڑکیوں میں فرق تو ہوتا ہے ناں؟‘‘ ندا بھی جواب جیسے تیار کرکے بیٹھی۔
’’بیٹا‘ اگر لکھنے والی بھی خود ایسی ہوجائے تو؟ اور تم ایسا سوچوگی تو بسا چکی تم اپنی دنیا‘ ارے باہر نکل کر دیکھو ایسی لڑکیاں بھی مل جائیں گی۔‘‘ انہوں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’رہنے دیں اماں… میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے ندا نے کہا۔
’’جیسے تمہاری مرضی اچھا سنو‘ حسن کا فون آیا تھا۔‘‘ اتنی لمبی بحث کے بعد ذکر آیا تو ندا حیرانی سے گویا ہوئی‘ حالانکہ جان کر جیسے سُکھ سا مل گیا تھا کہ حسن کا فون آیا تو سہی۔
’’اچھا کیوں خیر ہے؟‘‘
’’ہاں ناں کہہ رہا تھا اس کے آسٹریلیا جانے کا کنفرم ہوگیا ہے‘ ملنے کا کہ رہا ہے سب سے۔‘‘ وجہ بتاتے ہوئے کنکھیوں سے ندا کا دیکھا۔
’’لو ایک تو وہ خود کسی کینگرو سے کیا کم ہے وہاں جاکر کینگرو سے کھیلے گا۔‘‘ ندا نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ندا… تم سدھر جاؤ میں کہے دیتی ہوں…‘‘ زرینہ نے ڈپٹا۔
’’کمال ہے ناں‘ ذرا سا میں کچھ آپ کی جیٹھانی کے بیٹے کے لیے کچھ کہہ دوں آپ کو برا لگ جاتا ہے۔‘‘ ندا نے منہ بسورا۔
’’ہاں تو ظاہر ہے‘ جیسے تم ہماری اکلوتی ہو اور اپنے تایا تائی کی چہیتی تو حسن بھی ہمارے لیے کم نہیں۔‘‘
’’اف پھر ایسا کرنا تھا اُسے گود لے لیتیں‘ مجھے تائی امی کو دے دیتیں ہونہہ۔‘‘
’’فصول بولنا جب بھی بولنا تم‘ ایسے لگتا ہے جیسے کوئی پی ایچ ڈی کر رکھی ہو فصولیات میں۔‘‘ زرینہ نے جھڑکا۔
’’ارے کون سی ایسی ماں ہوگی جو اپنی ہی بیٹی کو اپنے شوہر کے بھائی کے بیٹے کے لیے باتیں سنائے گی؟‘‘
’’کیا تم یہی سب کچھ لکھتی ہو اپنی کہانیوں میں؟‘‘ زرینہ نے پھر سے اُس کے لکھنے کی جانب توپ کا گولہ چھوڑا۔
’’اب میرا لکھنا یہاں کیوں آگیا؟‘‘ ندا نے چڑ کر پوچھا۔
’’تم سے بات کرنا واقعی فصول ہے ندا۔ بات کو پتا نہیں کہاں لے جاتی ہو۔‘‘ زرینہ زچ ہوئیں۔
’’اچھا بابا معاف کردیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی جو آپ کے چہیتے اور لاڈلے حسن کو گینگرو کہہ دیا۔‘‘
’’اب بس۔ زیادہ نہیں‘ اُس کا فون آیا تھا‘ اُس سے بات کرلینا آئی سمجھ؟‘‘ تنبیہہ کرتے ہوئے زرینہ نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے کرلوں گی۔‘‘ ندا اٹھی خلافِ توقع ٹیبل سے برتن سمیٹے اور کمرے چلی آئی۔
٭٭٭…٭٭٭
ندا اور حسن دونوں ہم عمر تھے‘ ندا حسن کے چاچو کی بیٹی تھی یعنی علی کی اور حسن کے ابو وجاہت جو ندا کے تایا تھے‘ یہ صرف دو بھائی تھے بہن کوئی نہیں تھی‘ ندا کی امی زرینہ اور حسن کی امی ناہید آپس میں کزنز تھیں اور ان کی ساس نے ہی وجاہت کی شادی میں زرینہ کو پسند کیا تھا اپنے بیٹے علی کے لیے اور اس طرح یہ دونوں کزنز ایک ہی گھر میں بیاہی گئیں اس لیے ان کے رشتے اور پیار خلوص میں کوئی فرق نہیں آیا‘ البتہ حسن کی پیدائش دیر سے ہوئی تھی اس لیے وہ عمر میں ندا کا ہم عمر ہی تھا۔ دونوں ہی اکلوتی اولاد تھیں بچپن ان کا ساتھ گزرا گھر چونکہ چھوٹا تھا اس لیے وجاہت نے وقت کے ساتھ دوسرا گھر لے لیا لیکن علی نے اپنے والد کا یہ گھر نہیں چھوڑا اور یوں دونوں بھائی الگ رہنے لگے لیکن صرف گھر کے حساب سے دل ان کا ایک ہی تھا۔
بچپن دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گزرا کھیلتے‘ ہنستے‘ مسکراتے‘ لڑتے جھگڑتے‘ روٹھتے مناتے۔ بڑے ہوجانے کے بعد ان کی پڑھائی کے حساب سے کالجز‘ سبجیکٹس الگ ہوئے لیکن ان کی دوستی میں کوئی فرق نہیں آیا۔
٭٭٭…٭٭٭
’’ہنہہ… آسڑلیا جائے گا بڑا آیا‘ جاتا ہے تو جائے میری بلا سے۔‘‘ سر جھٹکا اور کمرے میں آتے ہی رجسٹر لے کر بیٹھ گئی۔
اسے لکھنے کا بے حد شوق تھا اور اِس بات کا حسن اور زرینہ مذاق اڑاتے تھے کہ وہ جیسی کہانیوں میں خیالی ہیروئین ترتیب دیتی تھی ویسی وہ خود نہیں تھی۔ عموماً ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں اور انہی سے متاثر ہوکر لکھا جاتا ہے‘ ندا اپنی ان ہیروئین سے بھی متاثر تھی لیکن خود ان جیسی دس فیصد بھی نہ تھی بے دلی سے اس نے رجسٹر بند کیا کہ اس سے لکھا ہی نہیں جارہا تھا۔ حسن کو فون کرنے لگی‘ ابھی نمبر ڈائل کیا ہی تھا کہ کاٹ دیا اس نے۔
’’میں کیوں فون کروں اسے؟ مجھے فون کرنے کے بجائے اس نے گھر پہ فون کیا ہونہہ میں نے بات ہی نہیں کرنی اس سے۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے موبائل ابھی اپنے سرہانے ہی رکھا تھا کہ ایک دم سے موبائل پر پیغام موصول ہوا۔
’’کنجوسوں کی ماہا رانی شہزادی ندا صاحبہ‘ کیا مسڈ کال دینے کے لیے ہی کریڈٹ لوڈ کرواتی ہو؟‘‘ حسن کے میسج کو پڑھ کر بے اختیار مسکرائی اور جواب ٹائپ کرنے لگی۔
’’ہاں تو اور کیا؟ جس شہزادی کا غلام کماؤ پوت ہو تو شہزادی کیوں اپنا پیسہ ضائع کرے؟‘‘ مسیج بھیجنے کے بعد بھی وہ ہنوز مسکراتی رہی۔
’’ہائے یہ غلام تو بے موت مارا جانا ہے ویسے ہی آپ پر فدا ہے‘ لیکن آپ خود کو اصلی شہزادی سمجھنے لگی ہیں ناں اس لیے اب بھاؤ نہیں دیتیں ہمیں۔‘‘ حسن کے اس شرارتی میسج پہ ندا نے خود پہ قاپو پاتے ہوئے میسج جلدی جلدی ٹائپ کیا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
’’سب جانتی ہو تم‘ پھر بھی…؟‘‘ دوسری جانب سے جیسے کسی نے گہری سانس لی ہو ایسا ندا کو لگا۔
’’ندا… جب میں چلا جاؤں گا ناں تب یاد کرنا… بائے۔‘‘ حسن نے بنا انتظار کئے دوسرا میسج بھیج دیا۔
ندا میسج بے چینی سے پڑھتی رہی۔ وہ ابھی تک حسن کے حوالے سے اپنے دل کی کیفیت سمجھ نہیں پائی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
ندا اور حسن کزنز ہی نہیں بہت اچھے دوست بھی تھے۔ حسن اسے کہتا تھا کہ جب بھی کبھی وہ شادی کا سوچے گا‘ سب سے پہلے وہ اسے ہی ترجیح دے گا اس پر ندا ہنستی اور کہتی۔
’’کیا احسان کروگے مجھ پر؟‘‘ حسن بھی کم نہ تھا وہ بھی جواب تاک کردیتا۔
’’ہاں ایسا ہی کچھ ارادہ ہے ورنہ تم سے کوئی شادی کرے گا ہی کیوں؟‘‘ اور پھر کبھی کشن کبھی تکیہ جو چیز ہاتھ لگتی حسن کی شامت لازمی آتی۔
٭٭٭…٭٭٭
ندا سوچوں میں گم تھی کہ موبائل بج اٹھا۔
’’اوہو حسن صاحب کا فون ہے۔‘‘ زیرِلب مسکرا کر کہا۔
’’کیا ہے… فون کیوں کیا ہے؟‘‘
’’نہ سلام نا دعا؟ بھئی کہیں سے نہیں لگتا تم مسلمان ہو۔‘‘ حسن اس کے غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بولا۔
’’ہاں… ہاں‘ بس تم ہی سب سے اچھے مسلمان ہو ناں۔‘‘ ندا کو برا لگا۔
’’یار دنیا کی نظر میں تو لڑکیاں زیادہ مذہبی ہوتی ہیں ناں یہی نماز روزے کی وجہ سے اور لڑکے واقعی نہیں ہوتے پر یہاں تو معاملہ الٹا ہے میں تو ہوں پر تم نہیں ہو۔‘‘
’’کیا یہ جتانے کے لیے فون کیا ہے؟‘‘ حسن نے قہقہہ لگایا اور کہا۔
’’نہیں… نہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ امی ابو گیٹ ٹو گیدر رکھ رہے ہیں چچا چچی کو معلوم ہے تم کو بتا رہا ہوں تم بھی آنا۔‘‘
’’بہت بہت مہربانی حسن صاحب‘ آپ فون نہ کرتے‘ مجھے مطلع نہ کرتے بلکہ دعوت نہ دیتے میں نے تو جیسے آنا ہی نہیں تھا ناں اور رو رو کے بالٹیاں بھر دیتی۔‘‘ ندا نے بھی آرام سے کہا۔
’’شکریہ جی بہت بہت‘ اتنا اچھا جو ہوں میں‘ اچھا سنو۔‘‘ حسن نے گمبھیر لہجے میں کہا۔
’’ہمم کہو۔‘‘ ندا بغور متوجہ ہوئی۔
’’نماز کا وقت ہوگیا ہے جا کر پڑھ لو‘ اللہ حافظ۔‘‘
’’حسن…‘‘ ندا چیخی اور دوسری طرف حسن نے فون بند کردیا تھا۔
ہنکارتے ہوئے اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور رجسٹر اٹھا لیا۔
٭٭٭…٭٭٭
کہانی لکھتے ہوئے بھی اُس کی سوچ کے حصار میں حسن ہی تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی تھی‘ لیکن جب حسن اُسے چھیڑتا تو ندا کو برا لگتا۔ زرینہ بھی بات بے بات پہ اُسے ٹوکتی تھیں۔ بات بے بات پہ اُس کی کہانیوں یا ڈائجسٹ کی کسی بھی کہانی کے حوالے سے بات کرنا‘ ہیروئنز کے انداز کے حوالے سے ندا کو تنبیہہ کرنا‘ لیکن ندا بھی کسی کی بات خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ ندا نے جیسے تیسے اپنی کہانی مکمل کی اور لیٹنے لگی تھی۔
’’فون کی گھنٹی بجتی رہے گی لیکن لوگ تو ایسے بے ہوش ہوکر سوئیں گے اب یا تو بندہ سائلنٹ کردے یا فون ہی بند کردے پر نہیں یہ چیختا ہی رہے گا۔‘‘ زرینہ چلا رہی تھیں ندا کا فون تواتر سے بجے رہا تھا اور خود وہ بے خبر سو رہی تھی۔ شام کے وقت وہ اٹھی اور حسبِ عادت موبائل دیکھا۔
’’اف اتنی ساری مسڈ کالز۔‘‘ سوچتے ہوئے اس نے حسن کا نام لیا۔
’’یہ اسے کال کیوں نہیں لگ رہی۔‘‘ حسن کا نمبر بند جارہا تھا‘ ندا کو فکر ہوئی۔
’’گھر کے نمبر پر کرکے دیکھتی ہوں۔‘‘ اسے کوفت ہونے لگی۔
’’گھر پہ تو کوئی اٹھا ہی نہیں رہا۔‘‘ ندا کو اب رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔
’’اچھی بات ہے نہ اُس کا فون لگے گا نہ بات ہوگی نہ مجھے کہا جائے گا۔ کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گی کہ نمبر بند تھا ہونہہ۔‘‘ وہ باہر آئی۔ موسم بڑا خوشگوار ہورہا تھا۔ کچن کی جانب رُخ کیا۔
’’موسم تو بہت ہی اچھا ہورہا ہے چلو کچھ پکا ہی لیتے ہیں۔‘‘ اُسے دنیا کا سب سے آسان کام آلو کے چپس فرائی کرنا لگتا تھا۔ آلو چھیلے اور کاٹنے لگی۔
’’اوہو یہ کون آج کچن میں آیا ہے ذرا دیکھوں تو سہی۔‘‘ زرینہ جو چائے پکانے کی غرض سے کچن میں آئی تھیں ندا کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’آپ کی ہی اکلوتی اولاد کچن میں موجود ہے کوئی خلائی مخلوق نہیں۔‘‘ ماچس جلا کر اُس نے ہلکی آنچ پہ کڑاہی رکھی اور تیل ڈالنے لگی۔
’’تم خود کسی خلائی مخلوق سے کم ہو کیا؟ دن بھر نجانے کیا کیا سوچتی ہو اور لکھتی ہو۔‘‘ زرینہ نے چائے کے لیے دودھ فریج سے نکالا۔
’’امی میں واقعی آپ کی ہی بیٹی ہوں ناں کہ مجھے تو اب شک ہونے لگا ہے۔‘‘ ندا نے ٹیڑھی آنکھ سے زرینہ کو دیکھا۔
’’تم پر سی آئی ڈی کا بھوت تو سوار نہیں ہوگیا؟‘‘
’’امی آپ اپنے فارغ اوقات میں بس ایسے ہی ڈرامے کیوں دیکھتی ہیں؟ اور بھی کئی طرح کے ڈرامے ہوتے ہیں۔‘‘ زرینہ کو روایتی ڈرامے کم پسند تھے البتہ ندا کے لیے وہ چاہتی تھیں کہ گھر داری سیکھے لیکن خود وہ ایسے جاسوسی طرز کے ڈرامے دیکھنے کی دلدادہ تھیں۔
’’اچھا اچھا اب چلو اپنے یہ چپس بناؤ اور جب چائے پک جائے تو باہر لے آنا‘ علی بھی آنے والے ہوں گے۔‘‘
’’ویسے اماں حضور‘ کبھی والد صاحب پہ بھی شک کرکے دیکھیے گا بڑا مزہ آئے گا۔‘‘ زرینہ نے ندا کو گھور کر دیکھا اور سر پہ ہلکی سی چپت لگا کر باہر چلی گئی۔
جب آلو بن گئے ندا نے پلیٹ میں نکالے‘ چائے کپوں میں ڈال کر سلیقے سے ٹرے سیٹ کرکے وہ باہر لاؤنج میں آئی۔
’’السلام علیکم ابو‘ کیا حال ہیں آپ کے؟ بڑی جلدی گھر آگئے آج تو‘ خیر ہے ناں؟‘‘ ندا کی بات سن کر علی نے اُسے بغور دیکھا۔
’’وہ اصل میں امی پوچھنا چاہتی تھیں۔‘‘ ندا کی بات پہ زرینہ چونکی۔
’’نہیں… نہیں… ایسا کچھ نہیں ندا تو کچھ بھی کہہ دیتی ہے۔ آپ جائیں فریش ہوکر آئیں۔‘‘ ندا مزے سے صوفہ پہ بیٹھے ایک چھوٹی سی پلیٹ میں کیچپ ڈالے چپس کھانے لگی۔
’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ندا؟ یہ کس طرح بات کررہی تھیں؟‘‘
’’لو میں نے کیا کہا؟ میں نے سوچا آپ میں شک کرنے کی عادت آرہی ہے تو چلو آپ کا کام بھی آسان کردوں اور کیا۔‘‘ ندا اب کیچپ کھانے لگی۔
’’سدھر جاؤ تم۔‘‘ زرینہ نے ڈپٹا۔
’’مجھے ہی سدھارنے میں لگی رہتی ہیں آپ بس۔‘‘ ابھی دونوں کی نوک جھونک جاری تھی کہ فون بج اُٹھا۔
’’اچھا جاؤ جا کر دیکھو کس کا فون ہے؟‘‘ زرینہ کے کہنے پر وہ اُٹھی اور فون ریسیو کیا۔
’’السلامُ علیکم۔‘‘
’’اوہو زہے نصیب وعلیکم السلام۔ آج محترمہ… اوہ میرا مطلب شہزادی صاحبہ نے فون اٹھا کر سلام کیا ہے بھئی مٹھائی باٹنی چاہیے۔ کب آؤں؟‘‘
’’تمہیں اپنے گھر میں کچھ نہیں ملتا جو بس یہاں آکر یہ کھانا ہے‘ وہ کھانا ہے کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہو؟‘‘ ندا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’اوہو بھئی خیر ہے ناں کیا کھا کے بیٹھی ہو جو پسند نہیں آیا اور اب مجھے کھانا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں تو گرم گرم فرائز کھا کے بیٹھی ہوں۔‘‘ حسن کو چڑاتے ہوئے کہا۔
’’شرم تو نہیں آتی تمہیں‘ تمہارا یہ پیارا سا کزن بھوکا ہے اور تم اتنے مزے کی چیز کھا کے بیٹھی ہو اور مجھے بتا بھی رہی ہو؟‘‘ حسن نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
’’ہاں تو میں کیا کروں اگر میرا یہ پیارا سا کزن بھوکا رہتا ہے سدا کھا پی کے بھی‘ اب میں جو بھی کھاؤں اپنے کزن کو یاد بھی رکھوں یہ کوئی ضروری تو نہیں؟‘‘ دبی دبی مسکراہٹ سے ندا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے بیٹا… ٹھیک ہے‘ جب میں چلا جاؤں گا ناں…‘‘
’’بس تمہارا ڈرامہ شروع‘ جاتے تو ہو نہیں اور بس یہی لائن کہتے رہتے ہو۔‘‘ ندا نے حسن کی بات کاٹ کر کہا۔
’’ندا…‘‘ حسن ایک دم سے سنجیدہ ہوا۔
’’ہمم…‘‘
’’مجھے یاد کرو گی؟‘‘ حسن نے گہری سانس لیتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ ندا نے اداس ہوتے ہوئے کہا۔
’’بالکل بھی نہیں۔‘‘
’’بالکل بھی نہیں۔‘‘ ندا کا دل چاہا کہ وہ کہے کہ وہ بہت زیادہ یاد کرے گی لیکن نہ کہہ سکی۔
’’ٹھیک ہے میں فون رکھتا ہوں۔ اللہ حافظ۔‘‘ ندا اِس سے پہلے کچھ کہتی حسن نے فون رکھ دیا تھا۔ بوجھل دل کے ساتھ وہ لاؤنج میں آئی۔
’’کس سے اتنی دیر سے گپیں ہانک رہی تھیں؟‘‘ زرینہ ٹی وی پہ چینل بدل رہی تھی۔
’’آپ کے چہیتے کا فون تھا۔‘‘ ندا نے یک دم زرینہ سے ریموٹ چھینا۔
’’آرام سے لڑکی‘ کہہ دیتیں میں دے دیتی ریموٹ۔‘‘
’’بڑا دے دیتیں آپ۔‘‘ شرارتی انداز میں ندا نے کہا۔
’’اچھا یہ بتاؤ کیا کہہ رہا تھا حسن؟‘‘
’’ہم دونوں کی باتیں تھیں آپ کو کیوں بتاؤں؟‘‘ ندا نے انہماک سے سنتی زرینہ کو ابرو اٹھا کر جواب دیا۔
’’لو کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے کوئی خفیہ پلان ہو اور بتانا منع ہو۔‘‘
’’اماں حضور‘ سچ بتائیں کیا آپ جاسوسی کہانیاں پڑھتی تھیں؟‘‘
’’بالکل پڑھی تھی ایسی کہانیاں اور یہی پڑھ کر مزہ آتا تھا۔ تم پتا نہیں کیسی کہانیاں لکھتی ہو بھئی۔‘‘
’’بس پھر شروع ہوگئیں ناں آپ۔‘‘ ندا نے منہ بسورا۔
’’اور یہ والد محترم کمرے میں کیا گئے باہر ہی نہیں آئے ذرا پتا تو کریں کسی سے بات نہ کررہے ہوں۔‘‘
’’توبہ ہے لڑکی‘ تھک گئے‘ آرام کررہے ہوں گے شاید‘ میں جاتی ہوں چائے لے کر اندر۔‘‘
’’واہ اماں… اب میں نے ایسا کہا تو جاسوسی کرنے جارہی ہیں ناں۔‘‘ ندا نے چھیڑا۔
’’تم چپ چاپ بیٹھ کر اپنی فضول کہانیاں لکھو مجھے تو بخشو۔‘‘
’’جائیں… جائیں۔ اچھے سے پوچھ گچھ کیجیے گا سی آئی ڈی کی طرح۔‘‘ زرینہ گھوری دیتی ہوئی اٹھیں اور کمرے میں چلی گئیں۔
’’ہونہہ جس دن سب سے اچھی کہانی لکھوں گی ناں اما جی آپ خود پڑھ کر حیران ہوجائیں گی۔‘‘ ٹیبل سے سامان اٹھا کر کچن میں رکھا اور خود بھی کمرے میں چلی آئی۔
٭٭٭…٭٭٭
حسن مزید پڑھائی کے لیے آسٹریلیا جارہا تھا۔ اس کے روز کچھ نہ کچھ خریدنے کے لیے مارکیٹ کے چکر لگ رہے تھے۔
’’بھئی میں تھک جاتی ہوں روز تمہارے ساتھ مارکیٹ کے چکر لگا لگا کر۔ تم خود اپنی شاپنگ کرو مجھ بوڑھی کو کیوں گھسیٹ لیتے ہو اپنے ساتھ؟‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی امی؟ آپ کا بیٹا باہر جارہا ہے‘ ماؤں کو تو فکر لگ جاتی ہے کہ بیٹا یہ بھی رکھ لو وہ بھی رکھ لو اور ایک میری امی جسے فکر ہی نہیں۔‘‘ حسن نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
’’مجھے پتا ہے ناں کہ میرا بیٹا اب بڑا ہوگیا ہے‘ اُسے پتا ہے کیا لے کر جانا ہے کیا نہیں تو میں کیوں بیچ میں کودوں؟‘‘ ناہید نے حسن کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے اب میں نے آپ کو لے کر ہی نہیں جانا۔‘‘ حسن نے ہنکارہ بھرا۔
’’اچھا تو کوئی اور ہے جسے لے کر جانا چاہتے ہو… میرے علاوہ؟‘‘ ناہید نے کریدنا چاہا۔
’’اگر کوئی ہوگی بھی‘ تو اب میں آپ کو نہیں بتاؤں گا۔‘‘
’’کیوں بھئی مجھے کیوں نہیں بتاؤ گے؟‘‘ ناہید کی بات پہ حسن مسکرایا۔
’’اب آپ کا بیٹا جو بڑا ہوگیا ہے تو وہ جو چاہے کرلے اب کیا بتانا ضروری ہے؟‘‘
’’بدمعاش کہیں کے ماں کو تنگ کرتے ہو۔‘‘ حسن نے ناہید کو زور سے گلے لگایا۔
’’میری پیاری ماں۔‘‘
’’ہٹو دور ہٹو مجھ سے۔‘‘
’’نہیں… کیوں دور ہٹوں؟ میں تو نہیں چھوڑوں گا ایسے ہی بیٹھا رہوں گا بس۔‘‘ حسن کی بات پہ ناہید نے اُس کے ماتھے پہ پیار کیا۔
’’میری جان… سچی اگر کوئی ہے تو جانے سے پہلے ہمیں بتا دو تاکہ…‘‘
’’بتا دوں گا… جلدی کیا ہے؟‘‘ حسن نے ناہید کو پیار سے دیکھا اور مسکرایا۔
’’اچھا تو اب یہ کہنا چاہتے ہو کہ ابھی تم بڑے نہیں ہوئے؟‘‘ ناہید نے پھر چھیڑا۔
’’جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ البتہ میری پسند کی لڑکی اگر آپ کو پسند نہ آئی تو؟‘‘ حسن نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
’’میرے بیٹے کی پسند ہوگی وہ‘ جو بھی ہوگی مجھے بھی پسند ہوگی بے فکر رہو۔‘‘ حسن نے ناہید کی بات سن کر ٹھنڈی سانس لی۔
’’تو بس اب انتظار کریں اور مجھے بھی کرنے دیں اور اب تھکاوٹ دور ہوگئی ہو تو کچھ کھانے کا کرلیں؟‘‘
’’بہت دن ہوگئے ہیں زرینہ نہیں آئیں اور ہماری ندا‘ اُس سے تو بات ہی نہیں ہوئی‘ تمہاری ہوئی تھی کیا… بہت یاد آرہی ہے وہ؟‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی‘ میں نے کھانے کی بات کی اور آپ کو ندا یاد آگئی؟‘‘ حسن نے ابرو اچکائے۔
’’اپنی بچی ہی ہے ناں وہ… کیوں یاد نہیں آئے گی اُس کی؟ فون ملاؤ اُسے اور کہو یہاں آئے۔‘‘
’’ابھی نہیں ناں۔ آپ جائیں کچن میں‘ میرا موڈ بنا تو کرلوں گا بات۔‘‘ ناہید اٹھی اور کچن میں جانے لگی۔
’’تمہاری ہر بات مان لیتی ہوں‘ تم نہیں مانتے پتا نہیں کب سدھرو گے۔‘‘
’’جب کوئی سدھارنے والی آجائے گی تب ہی سدھروں گا۔‘‘ حسن نے بابلند آواز میں کہا اور قہقہہ لگایا۔
حسن کے جانے میں اب چند دن ہی رہ گئے تھے۔ حسن زیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتا تھا۔ اُس دن بھی ندا حسبِ معمول اپنے کمرے میں بیٹھی کافی سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ اُسے احساس ہوا کہ شاید گھر پہ کوئی نہیں‘ زرینہ کی آواز بھی کہیں سے نہیں آرہی تھی۔ وہ باہر زرینہ کو دیکھنے آئی اور اُس کے کمرے میں گئی۔ ہر جگہ دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ زرینہ گھر پہ نہیں تھی۔ یہ کوئی پہلی بار نہ تھا‘ اکثر ندا کو گھر پہ سوتا چھوڑ بنا بتائے دونوں میاں بیوی چلے جاتے تھے۔
’’کہاں جاسکتی ہیں امی؟‘‘ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک اُسے یاد آیا اور سر پہ ہاتھ مارا۔
’’کہیں یہ دونوں میاں بیوی حسن سے ملنے تو نہیں چلے گئے؟ وہ بھی مجھے بتائے بغیر۔‘‘ ماتھے پر اچانک بل آگئے۔
’’حد ہے اگر واقعی ایسا ہے تو اب میں نہ فون کروں گی نہ ہی اس سے ملنے جاؤں گی۔‘‘ وہ خود کلامی کررہی تھی اور قیاس آرائی میں مصروف تھی کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ وہ غصے سے کمرے میں واپس چلی آئی اور دروازہ دھڑام سے بند کا اور بستر پر آکر بیٹھ گئی۔ تکیے کو گود میں رکھا اور اپنا ہاتھ بے چینی کے عالم میں مسلنے لگی‘ وہ ابھی سوچنے میں محو تھی کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔
موبائل اسکرین پر حسن کا نمبر جگمگاتا دیکھ فوراً اٹھا لیا۔
’’اس سے پہلے کہ تم کچھ کہو‘ سب سے پہلے بندے کا سلام قبول کرو میرے غصے پور کی رانی۔‘‘ حسن بے تکان بولا۔
’’بکو مت‘ فون کیو ں کیا ہے؟‘‘ ابرو اچکاتے ہوئے ندا نے پوچھا۔
’’توبہ ہے غصہ کیوں کرتی رہتی ہو ہر وقت؟ کبھی پیار سے بھی بات کرلیا کرو مائی ڈئیر کزن صاحبہ۔‘‘ وہ حسن ہی کیا جو ندا کو زچ کیے بغیر رہ جاتا۔
’’میں اچھے سے جانتی ہوں اس وقت تم نے جان بوجھ کر مجھے فون کیا ہے ناں‘ اماں ابا تمہارے ہاں ہیں ناں؟‘‘ اس کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’کیا بات کرتی ہو؟ واقعی چاچا‘ چاچی میرے ہاں آئے ہوئے ہیں؟ مجھے تو پتا ہی نہیں۔‘‘ حسن نے حیرانی سے کہا۔
’’بنو مت اب‘ مجھے کچھ نہیں پتا مجھے لینے آؤ ابھی کے ابھی۔‘‘ تحکم بھرے انداز میں ندا نے کہا۔
’’جو حکم آپ کا… لیکن ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔‘‘ حسن نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
’’وہ کیا؟‘‘ ندا نے کوفت سے پوچھا۔
’’یہ کہیں مجھ سے ملنے کا بہانہ ہے یا…؟‘‘ حسن کہتے کہتے رک گیا۔
’’یا…؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ گہری سانس لیتے ہوئے ندا کے سوال کا جواب دیا اور چپ ہوگیا۔ ہارن کی آواز پہ ندا چونکی۔
’’حسن‘ اماں ابا آگئے ہیں‘ میں بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر فون رکھا اور لاؤنج میں پہنچی زرینہ اور علی باتیں کرتے ہوئے داخل ہوئے‘ ندا شکایتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کہاں گئے تھے آپ لوگ مجھے بنا بتائے؟‘‘ دونوں بازو فولڈ کرکے قدرے غصے میں پوچھا۔
’’کام سے گئے تھے چندا کیا ہوا؟‘‘ زرینہ حیران ہوئیں۔
’’آپ لوگ حسن کے ہاں نہیں گئے تھے؟‘‘ دل کو تھوڑا سکون ملا تو سانس خارج کرتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں تو… تمہیں کس نے کہا؟‘‘ علی بولے۔
’’اچھا… بس مجھے ایسا لگا۔‘‘ ندا ہچکچائی۔
’’بھئی اگر حسن سے ملنے کا دل ہورہا ہے تو بتا دو‘ کل چلیں گے یا پھر ابھی کہو تو چلتے ہیں۔‘‘ زرینہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں… بس کل کا ڈن کرلیں۔‘‘ اور وہ بھی ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
’’اچھا ٹھیک ہے لیکن اتنا غصہ کیوں؟‘‘ علی کو واقعی حیرت ہوئی۔
’’اوہو… کزن ہے ناں اور دونوں دوست بھی ہیں تو اب وہ باہر جارہا ہے تو ظاہر ہے ملنے کا دل ہوگا ندا کا۔‘‘ زرینہ نے ندا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اچھا آپ لوگ باتیں کریں میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’چائے ہی لانا پلیز ایسا نہ ہو کہ پتی کی جگہ کالی مرچ ڈال دو اور چینی کی جگہ نمک۔‘‘
’’کیوں کیا جب امی نے پہلی دفعہ آپ کو چائے پلائی تھی تو کیا ایسی ہی چائے تھی وہ؟‘‘ ندا بھی کہاں چپ رہ سکتی تھی جواب دینا تو جانتی تھی۔
’’باپ رے باپ… کیا یاد دلا دیا ہماری بیٹی نے۔ ہائے کیا دن تھا وہ جب ہم اپنے والدین سمیت آپ کی امی کو دیکھنے گئے تھے۔ پسند تو خیر بھابی صاحبہ کی تھی لیکن دیکھنا بھی تو فرض بنتا تھا ناں۔‘‘ اب علی نے شرارت سے زرینہ کو دیکھا جو شرما گئی تھیں۔
’’کیا بات ہے بھئی‘ اس عمر میں بھی شرمانا؟‘‘ ندا نے زرینہ کو دیکھ کر شرارت سے آنکھ ماری۔
’’بدمعاش جاؤ جا کر چائے کا پانی رکھو میں آکر دیکھتی ہوں‘ تم تو پتا نہیں کیا کروگی۔‘‘ زرینہ اٹھیں۔
’’تو بھئی بیٹی کو اب چائے پکانا بھی سیکھا دو ناں۔‘‘
’’آپ کی بیٹی کہیں سیکھ ہی نہ جائے۔‘‘ علی کو جواب دے کر زرینہ بھی کچن میں آگئی۔
٭٭٭…٭٭٭
اگلے دن وہ شام میں تیار ہورہی تھی ساتھ ساتھ اس نے حسن کو میسج بھی کردیا کہ گھر پر ہی رہے۔
’’آہا… دیکھو تو کون آیا ہے بھئی۔‘‘ ناہید نے بڑے پیار سے اسے گلے لگایا۔
’’اتنے دنوں بعد آئی ہو‘ کیا ہماری یاد نہیں آتی؟‘‘ ناہید نے گلہ کیا۔
’’ارے نہیں چاچی ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ اس سے اب جواب ہی نہیں بن پارہا تھا۔
’’ہاں تو حسن خود ہی آجاتا ہے تو یہ کہاں سے آتی۔‘‘ زرینہ بھی کم نہیں تھی شرارتی نظروں سے ندا کو دیکھا تو وہ گھبرا گئی۔
’’اب ایسی بھی بات نہیں‘ کون سا وہ روز روز آجاتا ہے؟‘‘ ندا نے صفائی دینا شروع کی زرینہ اور ناہید دونوں ہنسنے لگیں۔
ندا اب نگاہیں اِدھر اُدھر دوڑانے لگی کہ کہیں سے حسن جلوہ گر ہوجائے پر وہ گھر پر ہوتا تب دکھتا ناں سارا وقت اس نے حسن کے انتظار میں بے زار ہوتے ہوئے گزارا۔
’’میں تم سے بہت ناراض ہوں۔‘‘ ندا نے گھر آتے ہی میسج کیا۔
’’اچھا‘ سچ بتاؤ؟‘‘ حسن نے منہ چڑاتے ہوئے اسمائیلی کے ساتھ میسج بھیجا۔
’’جب میں نے میسج کردیا تھا کہ گھر پر رہنا تو پھر؟‘‘ ندا نے خفگی سے میسج کیا۔
’’یار مجھے کام تھا اس لیے۔‘‘ مسکراتے ہوئے حسن نے جواب دیا۔
’’ایسا کیا خاص کام تھا جو میں بھی یاد نہ رہی؟‘‘ ندا اداس ہوئی۔
’’تم مجھے کبھی نہیں بھولتیں۔‘‘ حسن کے میسج پہ ندا مزید اداس ہوگئی۔
’’جھوٹ۔ ایسا تھا تو کام چھوڑ کر بھی آسکتے تھے‘ میں صرف تمہارے لیے آئی تھی ناں۔‘‘ غصے والا اسمایئلی ساتھ میں لگا کر بھیجا میسج۔
’’معاف کردو ناں… پلیز۔‘‘ دونوں کے درمیان میسج کا تبادلہ ہونے لگا تھا۔
’’بالکل بھی نہیں۔‘‘ ندا کو سچ مچ کا برا لگا تھا۔
’’اچھا ناں اب چھوڑو‘ کل آؤں گا پکا۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ حسن کے میسج کا جواب دے کر اس نے فون سائلنٹ کردیا اور دوسری جانب رکھ دیا۔
صبح دیر سے جاگی اور موبائل ہاتھ میں لیتے ہوئے ہونٹوں پر مسکان بکھر گئی اور وہ فریش ہونے چلی گئی۔ وہ ناشتے کے لیے باہر آنے والی تھی کہ اسے مانوس سی آواز سننے میں آئی بلاشبہ وہ حسن کی ہی آواز تھی یعنی اپنے کہنے کے مطابق وہ یہاں آگیا تھا۔ اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کی جس سے حسن کو لگے کہ وہ ناراض ہے اور اس کے آنے سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ پھر باہر آئی ڈائننگ ٹیبل پر حسن کے ساتھ والی چئیر پر ہی بیٹھی اور ناشتہ کرنے لگی۔
’’اے… ناراض ہو؟‘‘ حسن نے سرگوشی میں پوچھا۔
’’تم سے مطلب؟‘‘ بنا اس کی طرف دیکھے ندا نے جواب دیا۔
’’مطلب تو کوئی نہیں بس کنفرم کررہا تھا۔‘‘ حسن کہاں باز آنے والا تھا۔
’’ہوگیا ناں اب کنفرم؟ اب چپ چاپ ناشتہ کرو اور دفع ہوجاؤ یہاں سے۔‘‘ ندا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’یہ تم دونوں کیا کھسر پھسر کررہے ہو؟‘‘ علی نے پوچھا۔
’’ارے چاچو ہم لوگ ناں پکنک کا پروگرام بنا رہے ہیں۔‘‘ حسن نے جوس پیتے ہوئے جواب دیا۔ ندا نے حیرانی اور غصے سے اسے دیکھا تو جوس پیتے ہوئے حسن کو کھانسی آگئی۔
’’آرام سے پیو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ زرینہ نے فکرمندی سے کہا۔
’’کچھ نہیں چاچی ہوجاتا ہے‘ اچھا ہم ناں پکنک کا سوچ رہے ہیں وہ بھی سمندر کنارے۔‘‘ جوس کا گلاس لہراتے ہوئے کہا۔
’’مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘ ندا کی نظریں پلیٹ پر ہی رہیں۔
’’تو ٹھیک ہے مت چلنا‘ باقی تو چلیں گے ناں‘ کیوں چاچو چاچی؟‘‘ آنکھ دبائے اس نے علی کو دیکھا۔
’’ہاں کوئی مسئلہ نہیں جس کی مرضی ہو وہ چلے جس کی نہیں وہ نا چلے۔‘‘ علی بھی شرارت میں شامل ہوگئے۔
’’مجھے ناشتہ کرنے دیں گے آپ لوگ؟‘‘ ندا کو اب حقیقتاً غصے نے آگیا تھا۔
’’مت تنگ کرو اسے اور آپ دونوں بھی چپ چاپ ناشتہ کریں۔‘‘ حسن کو غالباً اسے ستانا اسے ناراض کرنا اور پھر منانا پسند تھا۔ بچپن کی دوستی وقت کے ساتھ پروان چڑھتی مزید گہری ہوتی گئی تھی اور کب کیسے ایک نئے رشتے میں بندھ گئی تھی ان کو پتا ہی نا چلا وہ بھلے زبان سے اظہار نا کریں مگر جانتے دونوں ہی تھے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے لازم تھے۔
ندا کا بھی کچھ معاملہ ایسا ہی تھا کہ جب تک وہ حسن سے لڑ نہ لے اسے مزا نہیں آتا تھا پھر جب وہ مناتا تھا وہ خوش ہوجاتی تھی۔ وہ خود سے اظہار نہیں کرنا چاہتی تھی‘ وہ ناولز کی دلدادہ لڑکی‘ جو خود بھی شوق سے لکھتی تھی‘ اس کی خواہش تھی کہ حسن بھی ناول کے ہیرو کی طرح اس سے اظہار کرے لیکن جب حسن اور زرینہ اسے ناول کی ہیروئین جیسی بننے کو کہتے تو وہ چڑ جاتی‘ خیر غلط تو وہ بھی نہیں تھے۔ ناشتہ کرنے کے بعد حسن ندا کے پیچھے اس کے کمرے میں آگیا تھا۔
’’ہاں بھئی اب بتاؤ پھر پکنک کا۔‘‘ اس نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’کیوں؟ جنہیں جانا ہے ان سے پوچھو‘ مجھ سے کیوں؟‘‘ ندا اب بھی غصے میں تھی۔ وہ اٹھا اور اس کے بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔
’’اب بس بھی کردو‘ جب دیکھو غصہ غصہ غصہ‘ یہ تو میں ہوں جو برداشت کرجاتا ہوں‘ میرے بعد کوئی نہیں کرنے والا‘ سمجھی۔‘‘ حسن نے اپنے کالر اوپر کرتے ہوئے کہا۔
’’مجھے کوئی اور چاہیے بھی نہیں۔‘‘ ندا نے حسن کو دیکھے بغیر کہا۔
’’اچھا یعنی صرف میں ہی کافی ہوں؟‘‘ حسن نے ندا کے بے حد پاس آکر اس کے کان میں ہلکی سی آواز میں کہا تو وہ گھبرا گئی دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں لیکن قابو پاتے ہی فوراً کہا۔
’’دفع ہوجاؤ تم‘ نکلو میرے کمرے سے ورنہ میں چلانا شروع کردوں گی۔‘‘
’’ارے آرام سے اچھا… اچھا بابا جارہا ہوں‘ صبر تو کرو ویسے بھی جب ہمیشہ کے لیے جا ہی رہا ہوں تو ایسے تو دور نا کرو۔‘‘ حسن نے ندا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ شاید ایسا نہ کرتا لیکن ندا سے دور ہوجانے کے احساس سے وہ یہ کر بیٹھا۔
’’میرا ہاتھ چھوڑو۔‘‘ ندا نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جبکہ حسن نے مضبوطی سے تھامے رکھا۔
’’درد ہورہا ہے حسن۔‘‘ ابھی اتنا کہا ہی تھا کہ اس نے ہاتھ چھوڑ دیا۔ جبکہ ندا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
’’تم سے تو میں پکنک والے دن نمٹوں گا۔‘‘ حسن دروازے تک گیا اور رک کر کہا۔
’’پکنک پہ جائے گی میری جوتی۔‘‘ ندا نے ہنکارتے ہوئے کہا اور ہاتھ دبانے لگی۔
’’ٹھیک ہے جوتی کو تیار رکھنا اُسے ہی لے جاؤں گا تمہارے بدلے ٹھیک ہے ناں؟‘‘ اس کی بات پر ندا پیر پٹخ کر رہ گئی تھی۔
وہ کھڑکی کی طرف کھڑی حسن کی سوچ میں محو تھی‘ موبائل پر میسج کی ٹون پر اس کا دھیان موبائل کی جانب گیا۔
’’پتا ہے ندا تم جیسی کوئی نہیں ہوسکتی۔‘‘ میسج پڑھتے ہوئے مسکرائی۔
’’ہاں جانتی ہوں۔‘‘ ندا نے جواب دیا اور دوبارہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔
’’ٹھیک ہے پھر پکنک کا پروگرام پکا ہے۔‘‘
’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ ندا کو یہی جواب دینا مناسب لگا۔ کچھ دیر بعد حسن کا پھر سے میسج آیا۔
’’اتوار کے روز ملیں گے۔ اللہ حافظ۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ حسن کے میسج پر وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی نہ پوچھا نہ کچھ…
’’بے مروت لڑکی۔‘‘ حسن نے خود کلامی کی میسج بھیجنے کے بجائے۔ ندا نے بھی تکیہ اپنی کمر کی جانب رکھا اور ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔
دن گزر رہے تھے حسن کے جانے کے دن نزدیک آرہے تھے تو دوسری طرف ندا کا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا اس کا سب سے اچھا دوست اس سے دور جارہا تھا۔
بالآخر وہ دن آہی گیا جس کا دونوں کو انتظار تھا۔ ساری تیاریاں مکمل تھیں‘ موسم بہت خوب صورت ہورہا تھا گہرے سیاہ بادلوں نے پورا آسمان ڈھک رکھا تھا‘ ایسے موسم میں سمندر پہ جانے کا سوچ کر ہی سرور چھارہا تھا۔ وہاں پہنچ کر لہروں کا شور اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں سب کو خوشگوار رکھے ہوئی تھیں۔ ہنسی مذاق کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ لہروں میں جانا پیر تھرتھرانا‘ ایک دوسرے پر پانی اچھالنا‘ یہی سب چل رہا تھا لیکن ندا ان سب سے دور ایک کونے پر کھڑی آتی جاتی لہروں کو دیکھ رہی تھی۔ حسن اب ندا کے پاس آیا اور اس کے برابر کھڑا ہوگیا۔ گہری سانس لیتے ہوئے حسن نے کہا۔
’’میں تمہیں بہت یاد کروں گا‘ میں نہیں جانتا اس کیفیت کو کیا نام دوں؟ شاید یہ پیار ہی ہے کبھی کہہ نہیں سکا ناں اس لیے سمجھ ہی نہیں آرہا کیا کہوں۔‘‘ حسن نے سر کھجایا۔ ندا سامنے لہروں کو دیکھ رہی تھی۔
’’تم تو مجھے یاد ہی نہیںکرو گی ہے ناں؟ اس لیے تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں خاص کر…‘‘ ندا صرف حسن کو سن رہی تھی کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
حسن نے اس کا ہاتھ اٹھایا اور اپنی جیب سے انگوٹھی نکال کر اس کے الٹے ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنا دی۔
’’تم کچھ بولو گی نہیں؟‘‘ حسن اب اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔ ندا اُسے چپ چاپ ساکت نظروں سے دیکھتی رہی۔
’’ندا یہ حقیقت ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا‘ مجھے تم سے جو محبت ہے میں اسے بیان بھی نہیں کرسکتا اور یہ جو حرکت کی ہے ناں گھر والوں سے پوچھ کر ان کی اجازت سے ہی کی ہے۔‘‘ ندا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ کہہ رہا تھا۔
’’تم کیوں چپ ہو؟ جانتی ہو ناں میں چلا جاؤں گا‘ کچھ تو بولو۔‘‘
ندا یہی تو چاہتی تھی۔ اف وہ لمحہ‘ وہ اظہار جو حسن کررہا تھا‘ وہ یہی کچھ اپنے ناولز میں لکھتی پڑھتی رہی تھی‘ حسن اس سے اظہارِ محبت کرے وہ بھی انوکھے انداز میں لیکن انگوٹھی والی حرکت اس کے لیے واقعی ناقابلِ یقین تھی لیکن پھر بھی اس نے خود کو نارمل ہی رکھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی حسن مزید شوخ ہوجائے۔ وہ سامنے سے ہٹ کر سمندر کی جانب گئی پیروں کو جب پانی چھو رہا تھا دل مزید خوش ہورہا تھا۔ حسن اُس کے پیچھے آگیا۔
’’حسن…‘‘ آخرکار اس نے لب کشائی کی۔
’’تم نے جو بھی ابھی کہا ہے وہ میں بھی کہنا چاہتی ہوں پر اب تم کہہ ہی چکے ہو تو کافی ہے ناں‘ کیا اب میں بھی وہی باتیں دہراؤں… کیا فائدہ… ہے ناں؟‘‘ ندا نے بڑے مزے سے اور آرام سے جواب دیا‘ پہلے تو حسن حیران ہوا پھر ہنس دیا جس پر ندا بھی اس کے ساتھ ہنس دی۔
ندا خوش تھی لیکن حسن کے جانے کا بھی دکھ تھا وہ الگ بات لیکن اس نے جیسا کبھی اپنی ہیروئین کے لیے سوچا تھا ویسا ہی کچھ حسن نے کیا اسے سب سے اچھا یہی لگا۔ ندا کی خوشی یہی تھی کہ وہ اب حسن کے نام کی ہوگئی ہے‘ دونوں ساتھ لہروں میں چلتے ایک دوسرے پہ پانی اچھالتے‘ پیار سے دیکھتے جارہے تھے۔ ندا جو اِس وقت خود کو ناول کی ہیروئن سمجھ رہی تھی اسے اپنے ہیرو پر بے حد پیار آرہا تھا۔ لیکن دور جانے کا احساس بھی پنپ رہا تھا۔
’’میں تمہیں روز میسج کیا کروں گا‘ صبح اٹھتے ہی میرا میسج ملے گا تمہیں اور جب رات کو سونے لگوں گا تو بھی میسج کیا کروں گا۔‘‘ حسن نے ریت پہ بیٹھ کر کہا۔ ندا نے ریت پر ہاتھوں سے دل بنایا اور اپنا اور حسن کا نام لکھا۔ مسکراتے ہوئے حسن کو دیکھا۔
’’فون بھی کیا کروں گا تمہیں۔‘‘ حسن کے پیار بھرے انداز سے ندا نے پلکیں جھکالیں۔
’’میں تمہارے میسجز کا انتظار کیا کروں گی‘ کبھی کبھی تم سے پہلے بھی کرلیا کروں گی اور ہاں فون زیادہ نہ کرنا‘ اپنی پڑھائی پر بھی دھیان دینا۔‘‘
’’تمہیں سوچنے سے اب فرصت ہی کہاں ملے گی۔‘‘ حسن نے بھی مسکراتے ہوئے ندا کو دیکھا۔ ندا شرمگیں نظروں سے حسن کو دیکھتی رہی۔
ڈھلتا ہوا سورج سمندر میں ڈوبتا جارہا تھا لیکن اپنے ساتھ ایِک کہانی لے جارہا تھا۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہ دونوں ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے‘ وہیں اپنے خوش آئند مستقبل کے بارے میں بھی سوچ رہے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close