Hijaab Aug-17

دھول کا پھول

صبا نور

گھر میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب سی مہک نے ارم کا استقبال کیا۔ ایک ہی نظر میں گھر بھر کی ابتری عیاں تھی‘ امی سامنے ہی صحن کے تخت پر بیٹھی مغرب کی نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھی‘ آہٹ پر مڑ کر دیکھا۔
’’آگئی بیٹی۔‘‘ وہ تھکے تھکے انداز میں ان کے نزدیک بیٹھ کر سینڈل کے اسٹریپ کھولنے لگی۔
’’کیسا رہا آفس میں پہلا دن؟‘‘
’’آفس میں تو خیر بڑا سکون ہے ہر کیبن الگ اور ائیر کنڈیشنڈ ہے۔ کام بھی کچھ زیادہ نہیں الگ تھلگ بیٹھ کر فائلوں یا کمپیوٹر سے سر کھپانا ہے مگر راستوں کی تھکن مار گئی ہے‘ اچھا خاصا فاصلہ ہے ٹرائل کے تین مہینے گزرنے پر ہی پک اینڈ ڈراپ مل سکے گی۔‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں ساری تفصیل سنائی۔
’’اللہ خیر کرے گا‘ ان شاء اللہ۔‘‘
’’جی امی… دعا کیجیے گا‘ سنا تو یہی ہے کہ باس کی مرضی کا کام نہ ہو تو بہت جلد پرچہ پکڑا دیتے ہیں‘ کئی لڑکیاں چھوڑ کے جاچکی ہیں۔‘‘
’’ہے… ہے… کیا بہت مشکل کام ہے؟‘‘ انہیں ہول اٹھے۔
’’مجھے تو کوئی ایسا مشکل نہیں لگا‘ خیر دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے۔‘‘ اس نے امی کا تفکر دیکھ کر بات اڑائی مگر وہ آزردہ ہوگئی تھیں۔
’’یہ تمہارا کام تو نہیں کہ گھر سے باہر کمانے نکلو نہ گزرتے تمہارے ابا یا پھر شاہد ہی اس قابل ہوتا تو کیا ضرورت تھی تمہیں یوں دھکے کھانے کی؟‘‘
’’امی… ابا کے گزرنے یا بھیا کی بیماری میں بھلا ہمارا کیا قصور‘ پھر کسی نہ کسی کو تو گھر کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ناں۔‘‘
’’دنیا تو نہیں سمجھتی ناں بیٹا‘ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں انہیں گزرے ہوئے اور تمہیں گھر سے نکلنا پڑا‘ پہلے ہی تمہاری شادی میں دیر ہورہی ہے اور اب تو صاف بیٹی کی کمائی کا طعنہ سمیٹتی پھروں گی۔‘‘
’’دنیا کو کسی کل قرار نہیں ہوتا امی‘ دنیا تو ہر حال میں کچھ نہ کچھ کہتی رہتی ہے۔ دنیا کی پروا نہ کریں۔‘‘
’’کیا چائو ہے مجھے تمہارا گھر بسے‘ تم ہنسی خوشی زندگی گزارو۔‘‘
’’افوہ امی‘ پھر وہی بات‘ معقول رشتہ نصیب ہوتا تو آپ کو شوق تھا کیا مجھے بٹھائے رکھنے کا اور کسی ہیڈ کلرک یا ٹیکسی ڈرائیور کے گھر رگڑتی زندگی سے تو یہ زندگی بہت بہتر ہے۔‘‘
’’بس‘ تمہارے یہی مزاج تمہارے سر میں دھوپ اتار رہے ہیں اور تمہیں خاک بھی پروا نہیں۔‘‘ انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اٹھنا چاہا تو ارم کو کچھ یاد آیا۔
’’چولہے پر کچھ رکھا ہے کیا‘ یہ مہک کیسی ہے؟‘‘
’’اوہو میں تو بھول ہی گئی چنے رکھے تھے ابالنے‘ لگتا ہے وہی لگ گئے ہیں۔ سوچا تھا رات کھانے پر چنوں کا پلائو پکالوں گی‘ تمہیں پسند ہے ناں‘ دہی بھی منگوایا تھا رائتے کے لیے۔‘‘
’’آپ بیٹھیں امی‘ آپ کے بس کا کہاں ہے چولہا چکی‘ میں دیکھتی ہوں۔‘‘ اس نے منہ ہاتھ دھوکر کپڑے تبدیل کیے‘ کچن کا رخ کیا۔ چنے واقعی کچھ لگ گئے تھے‘ صبح ناشتے تک کے برتن دھونے کے لیے پڑے تھے اور کھانا پکانے کے لیے برتن ضروری تھے‘ آستینیں چڑھا کر برتنوں کا ڈھیر دھونے ہی میں تھکا ہارا وجود چٹخ اٹھا تھا پھر پلائو دم دے کر رائتہ بنایا‘ سلاد تیار کیا اور اگلے روز کے لیے کپڑے پریس کرکے بستر پر لیٹی تو دوسرے دن کی خبر لائی۔
/…ء…/
’’مر کے پیدا بھی ہوجائوں تو وہ دن نہیں لوٹ سکتے‘ جو اکرام دین کی سنگت میں گزارے اور یہ صدمہ تو میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا کہ اپنے جگری یار کا آخری دیدار تک نہ کرسکا۔ کوئی تو مجھے خبر دے دیتا میں راتوں رات کراچی سے یہاں اڑ کر آجاتا۔‘‘
’’سب نصیب کی بات ہے جناب۔‘‘ بڑی آپا نے تسلی دی تھی۔ ’’ورنہ حیدرآباد کچھ ایسا دور بھی نہیں۔‘‘ عقب میں کھٹ پٹ پاکر بڑی آپا نے رخ موڑ کر دیکھا۔
’’ارے حرا… آئو‘ آئو‘ رک کیوں گئیں بھئی یہ اپنے ابا کے پرانے واقف کار غفران انکل ہیں ان سے کیسا پردہ‘ آجائو۔‘‘ غفران صاحب نے بڑی آپا کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا‘ سیاہ ڈاٹس والی سفید اوپن شرٹ پر سیاہ ربن لگا دوپٹہ ماتھے تک جمائے وہ بے آواز قدموں سے چلتی سفید چاندنی پر بڑی آپا کے نزدیک بیٹھ گئی تو مانو یہاں سے وہاں تک اجالا ہی اجالا بکھر گیا۔ غفران صاحب نے نہایت پسندیدگی سے اسے دیکھا تھا۔ ایک عرصہ کی واقفیت تھی ان کی اکرام دین سے اور وہ اب تک اس کی فیملی تک رسائی نہ پاسکے تو یہ ان کی بدقسمتی ہی کہلائی جاسکتی تھی۔
’’ماشاء اللہ… ماشاء اللہ… کیوں بھئی خیر سے کتنی تعلیم حاصل کی ہے؟‘‘
’’جی‘ بی اے کیا ہے۔‘‘ اس نے نظر اٹھا کر اس بار بغور دیکھا‘ انگوری رنگ کی اونچی قمیص بڑے بڑے پائنچوں والی شلوار‘ چوڑی چوڑی قلمیں‘ کشادہ سرمئی آنکھوں پر موٹے فریم کی عینک تھی ابا کے دوست ایسے ہی ہوتے تھے۔
’’واہ بھئی واہ‘ کیا کہنے حیدرآباد جیسے شہر میں بی اے تک تعلیم‘ بہت خوب۔‘‘
حرا کو غصہ آگیا‘ اب حیدرآباد اتنا بھی گیا گزرا نہیں تھا‘ ادھر حرا پر نظر پڑتے ہی ایک نیا خیال غفران صاحب کے ذہن و دل میں کوندا تھا‘ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’چلتا ہوں‘ عنقریب بیگم کو لے کر حاضر ہوں گا۔‘‘
’’بھابی کو میرا سلام کہنا۔‘‘ بڑی آپا دروازے تک انہیں چھوڑنے گئیں۔
/…ء…/
عجیب طرح کی بے حسی و بے مروتی تھی وہاں کے در و دیوار اور لوگوں میں۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے‘ اپنے وقت پر آتے‘ نکل جاتے جب بھوک لگی اپنے ہی کیبن میں کچھ منگایا کھالیا۔ کینٹین بلڈنگ میں ہی تھی‘ اشیاء قدرے سستی مگر بے ذائقہ۔ ارم افراتفری میں کبھی برگر‘ کبھی سینڈوچ تیار کرلیتی ورنہ آرڈر کرنا پڑتا جو فی الوقت اس کے بس سے باہر تھا۔ بگ باس کی شخصیت دبنگ تھی‘ سب ہی ان سے ڈرتے‘ اول روز ہی صدیقی صاحب نے ارم کو سمجھا دیا تھا کہ ان کے سامنے محتاط ہی رہنا ہے۔
اس کا واسطہ بھی صرف صدیقی صاحب سے تھا‘ وہ ان ہی کے کام میں سہولت اور آسانی کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ صدیقی صاحب اس ادارے کا ستون تھے مگر اب کام ان کے بس کا نہیں رہا تھا۔ تیس سال سے زائد کا عرصہ گزرا دیا تھا اپنا عہدہ سے نبرد آزما ہوتے ہوئے اور اس ہی کی عمر میں یہ سیٹ سنبھالی تھی‘ وہ بے ساختہ کہہ گئی۔
’’میرے فادر کی بھی اتنی ہی عمر تھی اگر وہ رہتے تو اب تک اسی عمر میں ہوتے۔‘‘ وہ سادگی سے کہہ رہی تھی مگر ان کے چہرے پر کچھ ناگواری کے تاثر ابھر آئے‘ مگر وہ پی گئے۔
’’کتنا عرصہ ہوا ان کی وفات کو؟‘‘
’’جی‘ آٹھ مہینے۔‘‘
’’گھر میں اور کون کون ہے؟‘‘
’’جی‘ امی‘ بڑے بھیا اور میں۔‘‘
’’بھائی کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’ان کی صحت ٹھیک نہیں رہتی‘ پیدائشی دمہ ہے‘ میرے ابا کو بھی یہی مرض تھا۔‘‘
’’بس یہیں تو مات کھاتا ہے انسان‘ جب دوسرا اسے کھولنے کو ادھیڑنا شروع کرتا ہے اور وہ نادانستگی میں کھلتا چلا جاتا ہے اور کچھ لوگ دوسروں کی مجبوریوں کو اپنے مفاد کے لیے بھی تو استعمال کرتے ہیں۔‘‘ ایسا ہی وہ بھی سوچ رہے تھے۔
/…ء…/
’’دیکھو حرا‘ کچھ عقل سمجھ سے کام لو‘ تم دیکھ رہی ہو گھر کے حالات کیا ہیں۔ ابھی ابا کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور بھائی لوگ ترکے کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انکل غفران ایک بڑے آدمی ہیں‘ لاکھ سے اوپر کی تنخواہ ہے۔ عمران ان کا اکلوتا بیٹا ہے‘ ساری بیٹیاں بیاہی جاچکی ہیں خیر سے اچھی جاب ہے عمران کی مگر وہ ہر طرح کی ذمہ داری لے رہے ہیں تو اسی پرانی قرابت داری کے سبب ناں۔‘‘
’’آپا… میرا دل ڈرتا ہے اتنی دورکا فاصلہ…‘‘
’’ارے بائی روڈ آئو تو تین گھنٹے بھی نہیں بنتے‘ اللہ تمہیں اپنے گھر میں خوش رکھے‘ دعا تو یہی ہے کہ میکے کی کبھی نہ یاد آئے۔‘‘ انہوں نے چھیڑا۔
’’آپا… انجان لوگوں میں سو وسوسے ہوتے ہیں‘ مجھے بہت کچھ کھٹک رہا ہے۔‘‘
’’دیکھو حرا… ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہو‘ شادی بیاہ کے معاملات میں اگر دھوکے بازی چلتی ہے مگر لوگ شادی کرنا چھوڑ تو نہیں دیتے ناں۔‘‘ آپا اس بار سنجیدہ ہوگئیں۔
’’امی کی تم فکر نہ کرو‘ مکان بک جائے جس کا جو بنتا ہے دے دلا کر‘ امی کو تو شاید میں اپنے ساتھ ہی لے جائوں۔ ابا کی وفات کے بعد سے تو یہیں کی ہوکر رہ گئی ہوں‘ میرا اپنا گھر بار ہے‘ بچے ہیں مگر میرے نہ ہونے سے تم خود سوچو کتنا حرج ہورہا ہوگا۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتی ہیں آپا۔‘‘ وہ دھیمے سے بولی۔
’’تمہیں جو کچھ کھٹک رہا ہے بے دھڑک مجھ سے کہو۔‘‘
’’آپا… بھیا سب کچھ دیکھ کر آئے ہیں‘ مجھے حیرت ہے اتنی کافی تنخواہ پر وہ ایک چھوٹے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ عمران اکلوتا بیٹا ہے تو اس کی تعلیم اتنی کم‘ اسے ویل ایجوکیٹڈ تو ہونا ہی چاہیے تھا باپ کی سیٹ تو ڈیزو کرے۔‘‘
’’اے بنو… یہ جو پرانے لوگ ہوتے ہیں کنویں کے مینڈک ہوتے ہیں ان کی بیگم نے مجھے خود بتایا تھا عرصہ سے وہ لوگ وہیں مقیم ہیں۔ یہ محلہ ان کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے‘ سب بیٹیاں بیاہ دیں اب یہ فلیٹ خود ان کے لیے کافی ہے۔ ہاں ان شاء اللہ فیملی بڑھے گی تو کوئی نیا یا بڑا گھر یا پھر ممکن ہے ادھر اُدھر کا قریبی فلیٹ لے کر اسے ہی کشادہ کرلیں۔ انسان ترقی بھی تو آہستہ آہستہ ہی کرتا ہے ناں۔ عمران کے لیے وہ بتا رہی تھیں کئی بہنوں کا اکلوتا لاڈلہ بھائی تھا‘ ناز نخروں میں پڑھائی سے گیا مگر پرائیوٹ فرم میں نوکری بھی کوئی معمولی بات نہیں۔‘‘
’’مجھے تو لگتا ہے یہاں بھی باپ کی سفارش ہی کام آئی ہوگی؟‘‘
’’اب یہ ہمارا درد سر تو نہیں ہے ناں‘ غفران انکل ہر کمی بیشی کا ذمہ اٹھانے کو تیار ہیں ہمیں اور کیا چاہیے؟‘‘ حرا نے کچھ کہنا چاہا تو آپا نے مزید کہا۔
’’اللہ نے مناسب وقت میں ایک اچھا رشتہ بھیجا ہے تو ہاتھ روک کر ناشکری مت کرو۔ ترکے کی رقم سے تمہارا جو بنے گا تمہاری شادی پر لگ جائے گا ورنہ ان بھاوجوں کو تم جانتی ہو۔‘‘ حرا خاموش رہ گئی‘ آپا کی بات ٹھیک ہی تھی۔
’’تو پھر کہہ دوں سب کو تمہاری طرف سے ہاں ہے؟‘‘ انہوں نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر اثبات میں گردن ہلائی تھی۔
/…ء…/
نہ نہ کرتے بھی آج تاخیر ہو ہی گئی تھی‘ جلدی میں لنچ بھی رہ گیا۔ اپنے کیبن میں نم بالوں میں برش پھیر رہی تھی‘ صدیقی صاحب کاریڈور سے گزرتے اپنے کمرے میں جاتے تو ارم کی جانب پشت رہتی بعد ازاں جب وہ کسی کام سے اپنے کمرے سے نکلتے وہ تب اشارے سے سلام کرتی۔ وہ بھی اشارے سے ہی جواب دیتے مگر آج اس کے کیبن کے سامنے رک گئے تھے۔
’’اوہو سولہ سنگھار ہورہا ہے؟‘‘ نظروں میں ستائش لہجے میں مزاح تھا۔ اس نے جلدی جلدی برش پھیر کر بال سمیٹ لیے۔ وہ آج تھکے تھکے سے تھے‘ آنکھیں سرخ ہورہی تھیں وہ کام لینے گئی تو مزاج پرسی بھی کی۔
’’رات بی پی کافی ہائی ہوگیا تھا مگر اب اوقات پر آگیا ہے ویسے تھینک یو۔‘‘
’’آپ آرام کرلیجیے‘ کام مجھے دے دیں۔‘‘
’’میرا کام کسی اور نے کرلیا تو میں گھر ہی نہ بیٹھ جائوں؟‘‘ بلا کا اعتماد و تفاخر تھا‘ وہ ریوالونگ چیئر پر جھولتے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں آج‘ کھلے بال‘ کشادہ آنکھیں‘ گندمی رنگت۔‘‘ ارم کو ان کی نظریں چھیدتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وجود سمیٹ کر سر ڈھکا پھر بات بدلنے کو تنخواہ کی بابت دریافت کیا۔
’’تنخواہ جوائننگ لیٹر ملنے پر ہی مل سکے گی‘ ویسے آپ کی ڈیمانڈ کیا تھی؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’میں نے کہہ دیا تھا‘ جو بہتر سمجھیں۔‘‘ یہ ارم کا اپنا خیال تھا کہ تنخواہ بہتر ہی ہوگی‘ حسب قابلیت۔
’’ہمم… اگر ضرورت ہے تو…؟‘‘
’’نو سر… اٹس اوکے۔‘‘ وہ ضبط کرکے مڑ گئی‘ کچھ دن اور سہی۔ اسے امی کا فرمان یاد تھا‘ کبھی کسی پر خود کی مجبوریاں عیاں نہ کرنا۔ کچھ لوگ نوکری پیشہ لڑکی کو تر نوالہ سمجھ کر‘ کیش کرنے پر تل جاتے ہیں۔
اسی شام اسے جوائننگ لیٹر مل گیا‘ تنخواہ اس کے انداز سے دگنی ہی تھی‘ انہوں نے طلب کرکے مبارک باد دی۔
’’شکریہ سر۔‘‘ وہ بھی سرشار تھی۔
’’صرف شکریہ سے کام نہیں چلے گا‘ مٹھائی پکی؟‘‘
’’ضرور سر… آپ میٹھا کھالیتے ہیں؟‘‘
’’اگر کوئی اپنے ہاتھوں سے کھلائے تو۔‘‘ وہ لطیف سا مذاق سمجھ کر اڑا گئی پھر لوٹنے لگی۔
’’مگر میں بازار کی کوئی چیز نہیں کھاتا‘ یاد رکھیے گا۔‘‘
/…ء…/
’’عجیب دستور ہے آپا… شادی کے گھر میں مہمانوں کی موجودگی میں دلہا دلہن سے کلام تک نہیں کرسکتا۔‘‘
’’بات تو ٹھیک ہے‘ آئے گئے یا بزرگوں کی شرم و لحاظ بھی تو کوئی چیز ہے۔‘‘
’’ایسی بھی کیا حیا‘ شرم و لحاظ‘ وہ آیا سلام جھاڑا پیر پسار کر جو سویا تو اگلے روز شام کی خبر لایا اور سب یہی سمجھتے رہے کہ نیا نویلا دلہا اپنی نیند پوری کررہا ہے۔‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو حرا؟‘‘
’’جی ہاں اور موصوف کا یہ گریز ہنوز قائم ہے‘ بیٹیوں‘ دامادوں اور ان کے بچوں سے فلیٹ کھچا کھچ بھرا تھا۔ سانس بھی لینا دوبھر تھا‘ اس پر گرمی انتہا کی‘ کچھ دن میں جانچ لیا ہے‘ یہ ٹکے ٹکے کا حساب رکھتے ہیں۔ سلامی کے لفافے ساس نے یہ کہہ کر نکلوالیے کہ کاپی پر حساب کتاب لکھنا ہے‘ سسر صاحب کے باس نے پورے ایک لاکھ سلامی دی تھی مگر کہاں گئی پتا ہی نہ چلا۔‘‘
’’جانے بھی دو‘ ولیمہ اور شادی کے اخراجات پر بھی تو اتنی رقم خرچ ہوئی ہوگی۔ کراچی سے حیدرآباد بارات لانا‘ لے جانا معمولی بات نہیں ہے۔‘‘
’’میرے سامنے وہ لفافے پھاڑ پھاڑ کے بیٹیوں کو رخصتی دی گئی ہے۔ پھلوں کے ٹوکرے‘ جوڑے اور جانے کیا کچھ‘ ان سب کے منہ پھر بھی سیدھے نہ تھے۔‘‘
’’ہائیں‘ بھلا وہ کیوں؟‘‘
’’سسرال میں بے عزتی ہوئی ہے دلہن کسی کو پسند نہیں آئی۔ نیٹ پر بیرون ملک جو تصویریں رشتہ داروں کو بھیجی گئیں انہوں نے بھی سو باتیں بنائی ہیں۔‘‘
’’ہائیں تو انہوں نے کہا نہیں کہ دلہن ان ہی کی پسند کی لائی گئی ہے‘ بیٹا بھگا کر تو نہیں لایا۔‘‘ اس بار آپا کو غصہ آگیا۔
’’مجھے تو لگتا ہے یہ بات مجھے نیچا دکھانے کے لیے کہی گئی ہے ورنہ کہیں اور تو ایسی بات سننے میں نہیں آئی۔‘‘
’’جانے بھی دو‘ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل سے لگا کر بیٹھ جائو تو زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔‘‘
’’کس کس بات کو جانے دوں آپا… اب یہی دیکھئے شادی کو ہفتہ گزرا ہے مجھے یہاں آئے دو روز ہوگئے‘ عمران کو ٹائم نہیں انہوں نے کال تک نہیں کی۔ سسر صاحب لینے آئیں گے‘ ولیمہ ہوا اور عمران کی ڈیوٹیز اسٹارٹ‘ مجھے تو یہ بہوئوں کا خون بیٹیوں کو پلانے والے لوگ لگتے ہیں۔ گھر میں سسر صاحب کے بعد بیاہی بیٹیوں کا پورا عمل دخل ہے۔‘‘
’’اب وہ جانیں اور ان کی بیٹیاں‘ دیکھو حرا… جب ہم کسی کو برا قرار دے دیتے ہیں تو اس کی ہر بات بری ہی لگتی ہے جواباً وہ بھی ہمارے لیے برا ہی ثابت ہوتا ہے۔ یہ سسرال ہے یہاں دل کو مارنا ہی پڑتا ہے اس لیے اچھا سوچو‘ اچھا سمجھو تو ضرور اچھا ہی پائو گی‘ سمجھ گئیں؟‘‘
حرا نے اس بار اثبات میں سر ہلا دینے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ اپنا سارا غبار تو وہ نکال ہی چکی تھی‘ ایک آپا ہی تو تھیں جن سے وہ اپنے دکھ سکھ کہہ لیا کرتی تھی۔ امی ہائپر ٹینشن کی مریضہ تھیں‘ گھر میں ساس بہو کی کھینچ تان چلتی۔ انہیں پہلے سو آزار تھے اپنے دکھڑے کیا خاک سناتی‘ ایک وقت لگتا ہے سسرال کا ماحول سمجھنے اور اس میں ڈھلنے میں‘ یہ وہ بھی جانتی تھی۔
/…ء…/
اتوار کا دن اس کے لیے دگنی مصروفیت لے کر آیا تھا‘ گھر کی تفصیلی صفائی پھر کپڑوں کا ڈھیر دھوتے شام ہوگئی۔ امی سبزی بنانے بیٹھیں تو اس نے لوکی اپنی طرف کھینچ لی۔
’’امی‘ میں لوکی کا میٹھا پکائوں گی‘ آپ کچھ اور پکالیں۔‘‘
’’ہائیں‘ یہ وقت ہے میٹھا پکانے کا۔ صبح سے کولہو کے بیل کی طرح جتی ہو‘ لوکی کا حلوہ آسان کام ہے کیا؟‘‘ ارم نے باس کی فرمائش دہرائی تو امی سوچ میں پڑ گئیں۔
’’اچھا‘ ایسا کرو کہ سوجی کا خشک حلوہ پکالو یا پھر اگلی اتوار پر ٹالو۔‘‘
’’اگلی اتوار پھر یہی مصروفیت ہوگی‘ میں یا وہ بھول جائیں گے تھوڑا سا پکا لیتی ہوں۔‘‘ مگر نہ نہ کرتے بھی بازو دکھ گئے‘ میٹھا بھیا کو بھی مرغوب تھا اور خود اسے بھی‘ باس کے لیے اس نے پیکٹ پہلے ہی بنالیا تھا۔ اگلے روز سامنے کمرے سے ایک خوش شکل مگر پختہ عمر خاتون نکلیں۔
’’مجھے سائرہ کہتے ہیں‘ کیسی ہو؟ اور مبارک ہو۔‘‘
’’جی شکریہ‘ غائبانہ تعارف ہے آپ سے۔‘‘
’’کیسا چل رہا ہے آفس؟‘‘
’’زبردست۔‘‘
’’کام مشکل تو نہیں؟‘‘
’’بلکل بھی نہیں۔‘‘
’’کوئی مدد درکار ہو تو لے لینا۔‘‘
’’ضرور۔‘‘ ارم کو وہ مخلص لگیں مگر باس نے دیکھا تو فی الفور طلب کیا۔
’’سائرہ سے کیا مذاکرات چل رہے تھے؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ وہ جوائننگ کی مبارک باد دے رہی تھیں۔‘‘
’’میرے لیے تو کچھ نہیں کہا؟‘‘
’’جی‘ نہیں تو۔‘‘ وہ حیران رہ گئی۔
’’اچھا۔‘‘ وہ ذرا مطمئن ہوکر ہنسے۔ ’’کافی سینئر ہے سائرہ‘ اچھے تعلقات ہیں ہمارے‘ کئی سال کام ساتھ کیا ہے۔ ہم اکثر اکٹھے فلم دیکھتے‘ آئوٹنگ پر جاتے۔ جب اس کے پاس گاڑی نہیں تھی تو میں ہی اسے ڈراپ کرتا تھا۔‘‘ ارم سوچ میں پڑ گئی‘ یہ سب وہ اسے کیوں بتارہے تھے۔
’’کافی عمر ہیں ان کی… اب تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟‘‘
’’بھئی محبت… اور کیا؟‘‘
’’جی محبت… کس سے؟‘‘ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔
’’بھئی مجھ سے اور کس سے‘ دنیا نے زور لگایا مگر سائرہ نے صاف کہہ دیا صدیقی نہیں تو کوئی نہیں۔‘‘ ارم نے بغور دیکھا۔ چوڑی چوڑی قلمیں‘ کشادہ سرمئی آنکھیں‘ سر آدھا خالی تھا کھنڈر سے لگتا تو نہ تھا کہ عمارت ایسی شاندار تھی۔
’’تو پھر نیک کام میں تاخیر کیوں؟‘‘ اسے اور کچھ نہ سوجھا۔
’’بھئی یہ سائرہ لوز کریکٹر کی ہے‘ جھوٹی‘ چغل خور‘ پرلے درجے کی۔ تم اس کی کسی بات پر بھروسہ مت کرنا۔‘‘
’’اچھا…!‘‘ اسے پھر حیرت ہوئی‘ خاصی معقول لگتی تھیں۔ تعلیم یافتہ‘ مہذب‘ مخلص مگر خیر وہ بہتر جانتے تھے اسے یوں بھی محدود رہنے کی عادت تھی۔ اپنے کیبن میں جاکر اسے حلوہ یاد آیا مگر وہ ظہر کی نماز کے لیے چلے گئے تھے وہ باکس ان کی ٹیبل پر رکھ آئی تھی۔
/…ء…/
بہو کا خون بیٹیوں کو پلانے والی بات سو فیصد درست تھی۔ ثابت ہونے میں وقت لگا عمران کا نئی دلہن سے گریز ٹوٹا تو ماضی کے دلہا دلہن نے ان کے کمرے کے باہر لائونج میں ڈیرہ ڈال لیا۔ سسر صاحب آفس سے لوٹ کر یوں لائونج میں بیٹھتے جیسے چوکی پر بٹھایا گیا ہو‘ عمران سونے کا رسیا‘ ان کی پکار اونچی آوازوں‘ کھنکارنے‘ کھانسنے اور باتوں کی آواز سے ڈسٹرب ہوتا تو دوسرے کمرے میں جا سوتا۔ اس کی ڈیوٹیز کبھی ڈے کبھی نائٹ چلتیں‘ عمران کمرے میں رہتا تو ساس صاحبہ کے پیر میں چکر بندھ جاتا۔ دوسرے کمرے میں جا پڑتا تو لائونج میں براجمان سسر صاحب کی نظریں اور کان اسے وہیں محسوس ہوتے۔ ان کی عجیب سی روٹین تھی‘ رات آٹھ بجے تک ان کا ڈرائیور انہیں ڈراپ کر جاتا‘ وہ آکے سوئے رہتے‘ حرا کی سکون کی سانسیں گنتی پوری بھی نہ کرپاتیںکہ وہ جاگ جاتے۔ رات کے کھانے سے فارغ ہوکر واک پر نکل جاتے اور پھر رات تین بجے تک جاگنا‘ جاگنے تک کے معمولات میں جو مشاغل تھے سب کے سب تکلیف دہ۔ بیاہی بیٹیاں آنے بہانے میکہ سجانے سے نہ چونکتیں‘ کبھی کبھی تو سارا گھر بھر جاتا اس پر ساس صاحبہ کی بے حسی۔
’’تسلا بھر کر آٹا گوندھ لو‘ چالیس روٹیاں پکیں گی۔‘‘
’’چالیس روٹیاں…!‘‘ وہ پکانے کے تصور سے ہی پسینے میں نہا جاتی۔ ’’بازار سے منگوالیں ناں امی؟‘‘
’’ہاں… ہاں تم پکائو‘ باقی بازار سے منگوالوں گی۔‘‘
کھا پکا کے جو بچتا ساس صاحبہ ساتھ باندھ دیتیں‘ بیٹیوں کے کرائے‘ بچوں کی فیسز‘ دیگر اخراجات‘ سب سسر صاحب کی جیب سے جاتے۔ خیر سے ساری قسمت کی کھوٹی تھیں‘ کسی کو سسرال بُری ملی‘ کوئی اپنے کیے کا بھگتان بھگت رہی تھی۔ کسی کا میاں بیمار تھا اور کسی کا نکمّا اور یہ سارے آزار ساس سسر کے سر تھے۔ معاملات بیٹیوں کے تھے اس لیے خوش دلی سے بھگتائے جاتے‘ ایک وہ تھی زندگی جس پر تنگ کردی گی تھی۔ آئوٹنگ کا موڈ ہو یا اخراجات‘ ہر بات کے لیے عمران کا ایک ہی جملہ۔
’’امی‘ بابا سے کہو۔‘‘
اس روز وہ بابا کے ساتھ قریبی پارک میں آہی گئی مگر ان کے رواں تبصروں سے جلد ہی اکتا گئی‘ لگتا تھا وہ ادھر اُدھر بیٹھے‘ گھومتے کپلز پر آنکھیں سینکنے آئے ہیں۔
’’ارے واہ‘ کیا کپل ہے۔ اس لڑکے کے ساتھ لڑکی اچھی نہیں‘ ارے یہ بڈھا کھوسٹ ایسی ینگ حسینہ۔ خوب جانتا ہوں میں اس بڈھے کھوسٹ کو‘ دو بار اٹیک ہوچکا ہے۔ بڑھاپے میں نئی نویلی شادی رچالی‘ یہ لڑکی ضرور لوز ہے شکل سے ہی چالاک لگتی ہے‘ سوچا ہوگا بڈھا گزر جائے تو سب میرا۔‘‘ ان کے لہجے سے جلن عیاں تھی۔
’’بابا چلیں اب؟‘‘ اس سے رہا نہیں گیا۔
’’ارے کیوں‘ انجوائے کرو ناں۔‘‘ وہ قصداً اس کے نزدیک تر بیٹھ گئے‘ وہ انجوائے کیا خاک کرتی ان کی رفاقت چبھنے لگی تھی۔ نظروں میں عجیب سستا سا تاثر امڈ آیا تھا وہ پھر شروع ہوگئے۔
’’جوانی بھی کیا شے ہے بھئی ایسی ظالم جوانی ہم پر بھی آئی ہے‘ اب بھی ایسی ہزار آگے پیچھے پھرتی ہیں۔‘‘ گویا وہ خود کو اب تک نو عمروں میں شمار رکھتے تھے۔ بلا کا تفاخر تھا خود پر اور اس پر یہ ناز‘ ایسے کوئی سرخاب کے پر لگے نظر تو نہ آئے تھے مگر کون کہتا‘ انہیں اپنی عمر کا احساس ہی نہ تھا شاید اسی لیے حرا کے صبح و شام لیلیٰ مجنوں کے مناظر دیکھتے گزرتے۔ بھاری بھرکم ساس صاحبہ‘ نت نئے فیشن کے کپڑے پہنے‘ چھمک چھلو بنی اتراتی پھرتیں یقینا یہ سسر صاحب کا حکم نامہ تھا کہ وہ سرِ شام سج سنور کے بیٹھ جاتیں۔ عاشق مزاج بڑے میاں آتے ہی ان کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اور لیجیے جناب دروازہ بند۔ ان کی نظر بازی کے قصے خاندان تک میں عام تھے‘ اس روز ساس صاحبہ لینڈ لائن پر کسی کو لتاڑ رہی تھیں۔
’’بھئی صاف بات ہے عارف‘ تمہارے بھائی صاحب کو تمہارے گھر سے شکایتیں ہیں‘ اب میرا ان ہی کے ساتھ آنا ہوگا‘ تمہاری بیوی آنے بہانے کچن میں گھس جاتی ہے اور بیٹیاں تو یہ ہے اب کیا ہم غیر ہیں یا بھروسا نہیں غفران پر جو سگے پھوپا سے بھی پردہ کروائو گے؟‘‘ جواباً جانے کیا کچھ سننے کو ملا کہ انہو ں نے فون بند کرکے فاتحانہ انداز میں انہیں دیکھا۔
’’اب تو شکایتیں دور ہوگئیں ناں۔‘‘
’’اجی پردہ نشینوں کے گھر میں ہمارا کیا کام؟‘‘
’’مگر یاد رکھنا بچیوں کے معاملے میں سنبھل کے رہنا‘ یہ آج کل کی بچیاں ہیں بھابی تو بے چاری میری منتیں ترلے کرنے پر تمہاری دست درازیاں پی گئی تھیں۔‘‘ مگر وہ کہاں ماننے والے تھے۔
’’اور وہ احسان بھول گئیں تمہارا بھائی بے کار تھا تو اس کی زچگی کا سارا خرچ میں نے اٹھایا تھا۔‘‘
’’میرا بھائی تمہارے گھر روٹی مانگنے تو نہیں آتا تھا۔‘‘
’’روٹی کھانے تو آتا تھا ناں‘ ایک ذرا سی دل لگی کیا کرلی تمہاری بھاوج آج تک دل سے لگا کر بیٹھی ہے۔‘‘
’’اور وہ جو اپنی سالی کو آپ ہزار بار فلم دکھانے‘ سی سائیڈ پر لے کر گئے ہیں۔‘‘
’’اجی جانے دو‘ منہ نہ کھلوائو میرا‘ مجھے کچھ کہتی تو تم جب اچھی لگو جب خود…‘‘ اس سے آگے حرا سے کچھ سنا ہی نہ گیا۔
مزے کی بات یہ تھی کہ سسر صاحب جتنے رنگین مزاج تھے برخوردار اتنے ہی ٹھس۔ بیگم بے زار‘ دن ہو یا رات وہ گھر میں رہتا تو سوتا رہتا۔ گھر سے نکلتا تو گرائونڈ‘ میں بچوں کے ساتھ دھما چوکڑی مچا کے رکھتا‘ بچے ہی اس کی شکایتیں بھی لے کر آتے وہ سجتی‘ سنورتی ستائش چاہتی تو اس کی نظریں بے تاثر رہتیں۔ اوپری کاموں کے لیے ملازمہ آتی‘ کچن کی ڈیوٹی حرا کے سر تھی اور بیرونی کام ساس صاحبہ بھگتاتیں۔
اس روز وہ سسر صاحب کے ڈرائیور کو لے کر راشن لینے سپر مارکیٹ گئیں تو پھر سہ پہر لوٹیں۔ مہینہ بھر کا راشن نیچے رکھا وہ عمران کو پکارتی‘ بیلیں دیتی رہیں‘ ناچار اسے عمران کو جگانا پڑا مگر اس نے سن کر دوبارہ کروٹ بدل لی۔
’’یار… امی آئی ہیں‘ پرائم منسٹر تو نہیں ناں‘ جو تم نے مجھے جگادیا ہے۔‘‘ اس نے پھر بات دہرائی۔ عمران نے آنکھیں چندھیا کر بمشکل سمجھا۔
’’تو تم جائو‘ راشن اٹھا کر لے آئو۔‘‘
’’یہ کوئی عورت کا کام ہے؟‘‘
’’تو اور کیا‘ امی عورت نہیں ہیں‘ وہ بھی تو راشن لائی ہیں۔‘‘ اسے لاتے ہی بن پڑی۔
/…ء…/
اس روز بھی صدیقی صاحب نے اسے آتے ہی طلب کیا تھا‘ اس کا موڈ صبح سے ہی آف تھا۔ جلدی میں ناشتا بھی ڈھنگ سے نہ کیا تھا‘ اس پر بسوں کے دھکے پھر کام کا انبار‘ وہ تاڑ گئے۔
’’میرے روم میں مسکراتی ہوئی آیا کریں اور ناک نہ کیا کریں‘ یہ رول آفس کے دوسرے لوگوں کے لیے ہیں۔‘‘
’’بڈھا کھوسٹ۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں دانت کچکچائے۔ وہ چیئر جھلاتے خاص الخاص نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’کسی نے آپ کو بتایا کہ آپ کتنی اٹریکٹو ہیں؟‘‘
’’جی ہاں‘ یہ تو سب ہی کہتے ہیں۔‘‘
’’اچھا یعنی میں نے کہا تو کوئی کمال نہیں۔‘‘ ان کی نظروں میں ایک وجود کو چھید دینے والی لپک‘ ایک عجیب سا تاثر تھا۔ اسے الجھن ہونے لگی۔
’’تمہارے چہرے پر سب سے خوب صورت تمہاری آنکھیں ہیں پھر ماتھا‘ پھر لب…‘‘ ارم کو لگا اس کے اندر کوئی طوفان ٹھوکریں مارنے لگا ہے۔
’’کام کی بات کریں؟‘‘
’’یہ کام ہی کی بات ہے‘ جس بات کا سرا کسی ارادے سے جاکر ملتا ہو وہ کام کی بات ہی ہوتی ہے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں سر؟‘‘
’’اوہو پھر سر؟‘‘ وہ جھلائے پھر مسکرائے۔ ’’میری بیوی مجھے شاہ جی کہا کرتی ہے‘ آپ بھی کہہ لیا کریں۔‘‘ اس کے اندر قہر کا ٹھوکریں مارتا طوفان‘ راستہ تلاش کرنے لگا تو وہ کمال ضبط سے لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’اور ہاں میری اور آپ کی عمر میں جتنا فرق ہے مجھے معلوم ہے آپ پلیز اسے نوٹ نہ کیا کریں۔‘‘
’’میں جائوں سر؟‘‘ وہ سمجھ گئی تھی‘ انہیں کوئی کام نہیں ہے۔
’’اوکے۔‘‘ ان کی بھی ایک کال آگئی تھی۔
/…ء…/
مہینہ گزرا‘ عمران کو تنخواہ مل گئی اور اس نے سیدھے سبھائو لفافہ ماں کو پکڑا دیا۔ انہوں نے حرا کے سامنے گنے‘ بارہ ہزار پھر مٹھی میں دبا لیے‘ اگلے روز آپا کا فون آیا وہ سن کر حیران رہ گئیں۔
’’بارہ ہزار… انہوں نے تو کہا تھا‘ عمران کسی پرائیوٹ فرم میں جاب کرتا ہے۔‘‘
’’بات صاف ہے‘ انہوں نے جھوٹ بولا۔ وہ ایک معمولی کمپنی میں نوکری کرتا ہے۔‘‘
’’مگر ایسا کیوں؟‘‘
’’کیونکہ وہ کسی اور کام کا اہل ہی نہیں ہے‘ سوتا ہے تو سوتا ہی رہتا ہے۔ کبھی نیچے گرائونڈ میں بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ہے‘ کبھی اگلا پچھلا سب بھول جاتا ہے۔ ڈاکٹر رپورٹس کے مطابق اس کا دماغ صد فی صد کام نہیں کرتا شاید اسی لیے اسے صد فی صد یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ ایک بیوی کا شوہر بھی ہے۔‘‘
’’اُف خدایا‘ اتنا بڑا دھوکا۔‘‘ دنیا آپا کے سامنے گول گول گھومنے لگی۔ ’’تمہیں یہ سب کس نے بتایا؟‘‘
’’خود عمران نے اور شاید اس لیے کہ میں اس سے زیادہ امید نہ رکھوں۔‘‘
’’کچھ لوگ بیٹے بیٹیوں کی شادی صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان پر شادی کا ٹھپہ لگ جائے اور ان کی زندگی کی ٹریجڈیز کو وہ قسمت کا لکھا کہہ کر ہاتھ جھاڑ لیں۔‘‘ آپا آزردہ ہوگئی تھیں۔
’’تم آئو تو مل بیٹھ کر بات کرتے ہیں‘ کچھ سوچتے ہیں۔‘‘
’’اب کیا ہوسکتا ہے آپا… قسمت میں جو درج تھا وہ ہوچکا ہے۔‘‘ حرا کا لہجہ بھرا گیا۔
/…ء…/
ارم پر نظر پڑتے ہی انہوں نے اپنی بتیسی کی نمائش کی۔
’’زہے نصیب‘ صبح ہی صبح ایک حسین صورت کے دیدار سے دن اچھا گزرے گا۔‘‘
اسی لمحے پیون نے دروازے سے جھانک کر کچھ کہا تھا‘ وہ پیون سے بات کرنے لگے تو ارم شکر مناتی اٹھنے کو تھی جب انہوں نے دھیرے سے کہا۔
’’آپ جایئے گا نہیں۔‘‘ وہ دل پر پتھر رکھ کر ٹیبل پر رکھا اخبار کھنگالنے لگی۔
’’اتنی کشش ہے تم میں جیسے سونامی کی لہر‘ جو سب کچھ بہا کر لے جائے اور ڈبو دے۔‘‘ پیون کے جاتے ہی وہ پھر شروع ہوگئے۔ نظروں میں وہی لگاوٹ بھر کر آگے کو جھک آئے جو اسے الجھن میں مبتلا کردیتی تھی۔ یہ تو طے تھا کہ ان کی نظروں میں فتور آرہا تھا مگر کچھ ناپسندیدہ چیزوں کو اچھی چیزوں کے لیے چھوڑنا پڑتا ہے۔
بگ باس نے سیلری اتنی زبردست رکھی تھی کہ فی الوقت وہ جاب چھوڑنے کا تصور بھی نہ کرسکتی تھی۔ اسے یقین تھا اس کا گریز جلد ہی ان کا دماغ ٹھکانے پر لے آئے گا‘ اب بھی بات گھما کر بدل دی وہ سیدھے ہو بیٹھے۔
’’آپ اخبار کا کون سا سیکشن پہلے دیکھتی ہیں۔‘‘
’’شوبز۔‘‘ اس نے تھوک نگل کر سچ اگلا۔
’’اوہ گڈ‘ یعنی فلموں کی شوقین ہیں‘ ایک زمانے میں‘ میں خود بھی بڑا رسیا رہا ہوں سینما کا۔‘‘
’’جی‘ سینما پر تو کبھی نہیں دیکھی۔‘‘
’’تو اب دیکھ لیجیے‘ مل کر پروگرام بناتے ہیں۔ فلم کے بعد کسی اچھے سے ہوٹل میں ڈنر کریں گے پھر میں ڈراپ بھی کردوں گا۔‘‘
’’جی‘ یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ وہ حیران ہی تو رہ گئی۔
’’ارے۔‘‘ ان کی نظروں میں لپک سی عود کر آئی۔ ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔‘‘
’’محبت…؟‘‘ اس کے تیور بگڑے مگر انہیں خاک پروا نہ تھی۔
’’جی ہاں محبت‘ آپ یقین کرتی ہیں ناں محبت پر؟ جب کوئی آپ کا انتظار کرے آپ کو یاد کرے تو مان لیجیے کہ اسے آپ سے محبت ہے۔‘‘ یکبارگی اس کے سامنے دنیا گول گول گھومنے لگی تھی‘ اس کا دل چاہا کوئی بھاری بھرکم چیز اٹھا کر اس بظاہر مغرو‘ معقول نظر آتے بندے کے سر پر دے مارے‘ جسے اپنی عمر کا لحاظ تھا نہ عہدے کی پروا‘ وہ جان گئی تھی بظاہر نیک و شریف نظر آتا یہ بندہ نفس کا غلام‘ اک کریہہ شیطان ہے اور اسے خود پر اتنا گمان ہے کہ ساری دنیا کو خرید سکتا ہے مگر وہ لہو کے گھونٹ پیتی اٹھ گئی۔
/…ء…/
آج کل سسر صاحب کے ہاتھ ایک نیا موضوع لگا تھا ’’میری اسسٹنٹ۔‘‘ وہ ایسے چلتی‘ ایسے بولتی‘ ایسی ہنستی ہے۔ اس کی آنکھیں‘ اس کا لباس‘ اس کا ہئیر اسٹائل پھر وہ اسسٹنٹ سے قربت کی کہانیاں سنانے لگے۔
’’بھئی وہ میرے لیے میٹھا بنا کر لائی تو میں نے کہا اپنے ہاتھوں سے کھلائو تو مجھے منظور ہے‘ ایک پکار پر کھنچی چلی آتی ہے۔‘‘ اسے خاک بھی یقین نہ آیا‘ منہ میں دانت‘ نہ پیٹ میں آنت اور خوش فہمی تو دیکھئے کوئی‘ ساس نے بھی مذاق اڑایا۔
’’یہ منہ اور مسورکی دال۔‘‘
’’ہم بلائیں اور وہ نہ آئیں‘ ایسے تو حالات نہیں۔‘‘ صوفے پر پیر پسارے ہاتھوں کا تکیہ بنائے وہ گنگنائے۔
’’اجی کیا کمی ہے ہم میں؟‘‘
’’کوئی میرے دل سے پوچھے۔‘‘ ساس نے چڑایا‘ وہ سٹپٹا گئے۔ بات تو سچی تھی مگر بات تھی رسوائی کی مگر اس روز آئی گئی ہوگئی۔
عجیب بے ڈھنگا و بھونڈا چلن تھا‘ لگتا تھا کہ کوئی کل ہی سیدھی نہیں ہے سسرال کی‘ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا‘ خلل عمران کے دماغ میں تھا اور وہ سب مل کر نااہل اسے ثابت کرنے پر تلے تھے۔ خاندان بھر کی ناپسندیدگی کے لیبل کے بعد اب باری اس کی کم مائیگی کی آگئی تھی‘ خود پر فخر و غرور ایسا جیسے لعل ہی تو جڑے ہوں۔ ساس صاحبہ کو اٹھتے بیٹھتے ایک نیا شوشا ہاتھ لگ گیا تھا۔
’’اُف خدایا‘ قسمت پھوٹی میری جو اس بے وقوف کو اٹھا لائی۔‘‘
’’امی… میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس نے مشورہ دیا تھا‘ حیدرآباد کی تنگ‘ ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے بہو اٹھا لانے کا۔ اکلوتا بیٹا تھا عمران‘ کچھ تو سوچا ہوتا لوگ تو آڑے ٹیڑھے لڑکوں کو بھی کیش کرالیتے ہیں۔‘‘
’’جائو‘ اپنے بابا سے پوچھو قبر میں پڑے پرانے دوست سے یاری نبھانے کا شوق چڑھا تھا انہی کو اور میری بھی مت ماری گئی جو یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ اٹھا لائی۔ ارے دلہن سنتی ہو سسرال میں کیسے جوتے پڑ رہے ہیں تمہاری نندوں کو۔‘‘ وہ بہری بنی سنتی رہتی‘ یا کلستی رہتی۔
’’ہونہہ ایسے ہی تو لعل جڑے ہیں اکلوتے نور نظر میں‘ کم دماغی عروج پر ہو تو بس نہیں چلتا۔ منہ کا نوالہ بھی ناک میں ٹھوس لے مگر کون کہتا‘ لوگ دوسروں کی گہرائی میں اتر کر‘ زخم ٹٹولنے کا فن جانچ لیں تو زبان کے نقشہ سنبھال نہ رکھیں۔‘‘
اس دن بھی ساری نندوں کا مشترکہ دھرنا تھا‘ ساس صاحبہ نے دیگچہ بھرا بریانی کے چاول ابالنے کو چڑھا رکھا تھا۔ اسے ڈھیر سارا مصالحہ پیسنے کو دیا اور فرمایا۔
’’اس مصالحے کو ابلتے پانی میں ڈال دو۔‘‘ اس کی حیرت عروج پر پہنچ گئی تھی۔
’’بریانی کا مصالحہ ابلتے پانی؟‘‘ مگر انہوں نے رعونت سے کہا۔
’’تم سے جو کہا ہے وہی کرو۔‘‘ اسے ناچار تعمیل کرنی پڑی پھر وہ کسی کی پکار پر لائونج میں گئی تھی کہ عقب سے ساس صاحبہ شور مچاتی چلی آئیں۔
’’کتنی کم عقل ہے یہ لڑکی… ستیاناس کردیا۔ ارے پانچ کلو بریانی کا مصالحہ کھولتے پانی میں جھونک دیا‘ تف ہے تمہاری بے وقوفی پر۔‘‘
’’مگر امی… آپ ہی نے تو کہا تھا؟‘‘
’’تمہارا دماغ خراب ہے‘ میری عقل پر پتھر پڑے ہیں کیا؟‘‘ اور پھر چاروں طرف سے لعن طعن کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملامت کا پتھرائو‘ کسی نہ کسی طرح مل کر بریانی دم دی تھی مگر اسے جو کچھ سننا پڑا وہ ایک الگ کہانی تھی۔
یہاں کا باوا آدم ہی نرالا تھا ان کے ہاں بہو سب کو بھگتا کر کھاتی ہے اور جب کھانے بیٹھو تو کبھی روٹیاں کم‘ بوٹیاں غائب۔ وہ رات گئے کچن صاف کرکے‘ چابیاں ساس کے حوالے کرنے ان کے بیڈ روم تک آئی تھی۔ ساس صاحبہ نہایت بے باکی و دھڑلے سے موٹے فریم کی عینک لگائے اخبار پڑھتے شوہر کے بالکل قریب لیٹی‘ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے پیر ہلا رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں جھک گئیں‘ وہ بے نیازی سے اخبار دیکھتے رہے۔
’’کچن لاک کردیا؟‘‘
’’جی امی۔‘‘
’’چابی مجھے دو۔‘‘ اس نے چابی بڑھادی۔
’’لائٹس ساری بند ہیں‘ چولہے چیک کرلیے تھے؟‘‘
’’جی امی۔‘‘
’’اچھا‘ فریج میں جو آم رکھے ہیں ذرا گن کر آئو کتنے ہیں؟‘‘
چالیس آم تھے‘ شام کو پیٹیاں منگوائی گئی تھیں اور اسے ایک بھی نہ نصیب ہوا تھا‘ اس نے بتاکر فریج کی چابی بھی ان کے حوالے کردی تھی پھر ساری رات اس کا تکیہ بھیگتا رہا‘ عمران رخ موڑے خراٹے لیتا رہا۔ تنخواہ ساری سہولت سے ماں کے کھپے میں فٹ ہوگئی تھی‘ وہ خود ہر روز پیٹرول کا خرچہ ان سے لے کر جاتا۔ اس کی کسی ضرورت کا تو سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا مگر اس کا سر درد بڑھا پھر بخار نے شدت اختیار کی تو اسے کہنا ہی پڑا۔
’’تمہیں بخار ہے تو امی کو لے کر چلی جائو‘ پیسے وہی دیں گی۔‘‘
’’مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ اتنی آسانی سے دے دیں گی۔‘‘
’’تم بے فکر رہو‘ یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے۔‘‘ اور ساس صاحبہ سے منہ پھوڑ کر ہزار باتیں سننے سے بہتر تھا کہ دو ڈسپرین لے لی جائیں۔
جانے کیسے اس کے خالی خولی پن کا اسرار سسر صاحب پر کھل گیا۔ وہ اس روز کچن میں چائے دم دے رہی تھی جب انہوں نے عقب سے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ ہراساں ہوکر پلٹی اور انہوں نے ہزار کا نوٹ لہرایا۔
’’یہ رکھ لو‘ یہ میں تمہیں ذاتی ضروریات کے لیے دے رہا ہوں۔‘‘ ان کا انداز اور نگاہوں میں کچھ ایسا تھا کہ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ ’’یہ بات بس ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔‘‘ ان کی سرسراتی سرگوشی ابھری‘ ہزار کا نوٹ اس کی مٹھی میں دباکر اس کی مٹھی بند کردی۔
’’ضرورت ہو تو اور لے لینا۔‘‘ وہ اور قریب ہوئے اور اسے لگا اس کی سانسیں رک جائیں گی۔
’’عمران…‘‘ وہ حلق کے بل چلائی تھی‘ وہ بدکے۔ ’’عمران…‘‘ اس نے پھر پکارا۔ وہ نکلتے چلے گئے اور عمران گرائونڈ کے احاطے میں بچوں کے ساتھ دھما چوکڑی مچا کر اب تالیاں پیٹ پیٹ کر گارہا تھا۔
اس نے ہزار کا نوٹ رات اپنی ساس کی گود میں ڈال دیا۔
’’یہ ہزار روپے بابا کو واپس کردیجیے گا‘ مجھے ان کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اب دے دیئے ہیں تو رکھ ہی لو‘ اتنا کچھ بھی تو بھگت ہی رہے ہیں وہ‘ یہ بھی سہی۔‘‘ گویا وہ باخبر تھی۔ بلا کا اعتماد تھا خود پر جیسے دنیا کا کارخانہ انہی کے دم سے چلتا ہے مگر وہ بیٹیاں تھیں‘ احسانات کا ٹھینگا سر پر نہ رکھتے تو کون انہیں جھک جھک کر سلام کرتا۔ پھر جانے انہوں نے سسر صاحب سے کیا کہا کہ وہ بدک اٹھے۔
’’مجھے تم عورتوں پر دو ٹکے کا بھروسا نہیں ہے‘ چکمہ دینے کا کوئی موقع تم ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ کمائی شوہروں کی کھاتی ہو اور رنگ رلیاں دوسروں کے ساتھ مناتی ہو۔‘‘ اف خدایا گھٹیا پن کی انتہا تھی‘ حرا کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔
’’اللہ کے واسطے شاہ جی گزرے وقت پر اب تو دھول ڈال ہی دو۔‘‘
’’دھول نہ ڈالی ہوتی تو کاہے کو اپنی مشکوک اولاد بھی پال کر بھگتتا پھرتا۔‘‘
’’تم بھول رہے ہو‘ تم مجھ سے حلف لے چکے ہو۔‘‘ دبا دبا سا احتجاج۔
’’اور جب حلف دیا تھا‘ تب اپنی اگلی پچھلی خیانتوں کا اعتراف بھی تو کیا تھا‘ بھول گئیں۔‘‘ انہوں نے چٹخارہ لیا تھا۔
’’مگر آئندہ کے لیے توبہ بھی تو کی تھی۔‘‘
’’مگر جو خیانتیں تم کرچکی تھیں‘ وہ تو کر ہی چکیں ناں‘ اب اگر میں اپنی من کی مرضی کرنا چاہتا ہوں تو تمہیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ حرا کے قدموں تلے سے زمین سرکتی چلی گئی‘ پل بھر کو محسوس ہوا۔ وہ کسی خطرناک جال میں گھرتی چلی جارہی ہے‘ اس کی نظروں تلے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
/…ء…/
’’صبح جو کام آپ کو دیا تھا‘ ہوگیا؟‘‘ انہوں نے انٹرکام پر پوچھا۔
’’یس سر… ابھی لائی۔‘‘ وہ فائل سمیت پہنچی تو موصوف کے سامنے کام کا ایک انبار تھا۔ وہ غرق تھے‘ چھت کے ٹیوب کی چمک ان کی چندیا پر پڑ رہی تھی۔
’’لیجیے سر… غلطیوں کی درستگی…‘‘
’’غلطیاں…؟‘‘ ان کے تیور بگڑ اٹھے‘ پیشانی شکن آلود۔
’’جی سر… لفظی اور معنوی غلطیاں۔‘‘ ارم نے پیپرز ان کے سامنے رکھے‘ جگہ جگہ سرخ قلم سے مارک کیا گیا تھا۔
’’مس ارم… آپ کو جرأت کیسے ہوئی میرے کام میں غلطیاں چننے کی۔‘‘
’’جی سر… وہ… وہ…‘‘ وہ سہم گئی۔
’’بہتر ہوگا آپ اپنے کام سے کام رکھیں‘ نائو یو مے گو۔‘‘ درشت لہجہ‘ بگڑا انداز۔ وہ لرزتی کانپتی لوٹ آئی تھی‘ کم از کم اس کے لیے باس کا یہ رویہ نیا ہی تھا پھر دو دن اس کا موڈ آف رہا‘ چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی اور انہوں نے کام کے لیے بھی اسے طلب نہ کیا تھا۔ آفس میں بھی وہ ہراساں رہی‘ گھر میں بھی اس کا دل ڈولتا‘ کانپتا ہی رہا تھا۔
کیسا سرد و سفاک لہجہ تھا اور یہ اسی رات کی بات تھی‘ جب تقریباً تین بجے اس کے سرہانے رکھا موبائل بجا اس نے اسکرین دیکھی‘ باس کی مس بیل تھی۔ اسے ایس ایم ایس کرنا پڑا۔
’’آپ کی کال آئی تھی‘ سب خیریت؟‘‘
’’کوئی یاد آیا تھا۔‘‘ جوابی ایس ایم آؓیا۔ وہ خون کا گھونٹ پی کر رخ موڑ گئی‘ آنکھیں موند لیں۔ ایس ایم ایس ٹون پھر بجی‘ مختصر سا لفظ۔
’’میری جان…‘‘ اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی‘ موبائل آف کردیا مگر اگلی صبح ہی طلبی ہوگئی تھی‘ اسے جانا پڑا۔
’’غصے میں ہو؟‘‘ وہی لگاوٹ بھرا انداز۔ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔ ’’تو پھر ناراض ہو؟‘‘ وہ خاموش رہی۔ ’’کیوں ناراض ہو؟‘‘ وہ اب بھی خاموشی رہی۔ ’’منائوں؟‘‘ اس نے پھر نفی میں گردن ہلائی۔
’’منانے کے لیے ہی تو رات کال کی تھی۔‘‘ لہجہ معمول پر آیا۔ ’’اب آج کے دن تو موڈ آف نہ رکھو یار…‘‘ انہوں نے قصداً بے تکلفانہ کہا تھا۔ نظروں میں عامیانہ پن کوندا۔ ارم کا دل چاہا ابھی کھڑی ہوکر دوڑتی ہوئی وہاں سے نکل جائے۔
’’آج کیا بات ہے؟‘‘ کمال ضبط سے کہا۔
’’آج نہیں کل‘ چھ اگست تمہاری برتھ ڈے۔ بھول گئیں ناں مگر مجھے تو یاد ہے۔‘‘ وہ ’’اوہ‘‘ کرکے رہ گئی یقینا سی وی دیکھی ہوگی۔
’’پھر کیا کرنا ہے‘ کیسے سیلیبریٹ کرنی ہے۔‘‘
’’میں نے کبھی سیلیبریٹ نہیں کی۔‘‘ دو ٹوک انداز میںکہا۔
’’مگر میں تو گفٹ لے چکا ہوں۔‘‘
’’اوہ… تو آپ اپنی مسز کے لیے لے جائیں۔‘‘
’’ان کے لیے بھی لیا ہے‘ ویسا ہی تمہارے لیے‘ خوب صورت ڈریس ہے تمہیں بلیک پسند ہے ناں۔‘‘
’’نو سر… پلیز…‘‘
’’انکار نہ کرنا‘ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کے لیے کچھ خریدا ہے۔‘‘ اس کے نہ نہ کرتے بھی تھما دیا‘ اس رات پھر بارہ بجتے ہی ایس ایم ایس آیا تھا۔
’’چاند چہرے والی تمہیں سالگرہ مبارک۔‘‘ ارم کی نظروں سے ایک آب دار موتی ڈھلکا تھا‘ مجبوری بھی کیا شے ہے۔
/…ء…/
’’اجی کب سلے گا وہ ڈریس اور کب نصیب ہوں گی‘ آپ کے جگمگاتے حسن کی کرشمہ سازیاں۔‘‘ وہ ہزار بار کہہ چکے تھے اور ارم ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتی رہی۔ ڈریس ہنوز پیک رکھا سسک رہا تھا وہ بہانے بنا رہی تھی۔
’’جی معلوم نہیں امی کو پتا ہوگا۔‘‘ سفید جھوٹ۔
’’اپنا گھر مجھے رینٹ پر دے دو۔‘‘ نیا پٹاخہ چھوڑا۔
’’آپ ویسے ہی لے لیں سر…‘‘ وہ مروتاً اتنا ہی کہہ سکی۔
’’اُف کتنا مزہ آئے گا ناں‘ ہم اکٹھے آفس آیا جایا کریں گے‘ تم میرے لیے کافی بنا کر بھیجو گی۔‘‘ وہ خود ہی مزے لے رہے تھے اور ارم کلس رہی تھی‘ خیالی پلائو۔
’’تم اپنے نام سے فلیٹ کیوں نہیں بک کرواتیں‘ بھئی اتنی تنخواہ بندھی ہے کچھ تو اپنے نام سے خریدو۔ چلو بکنگ میرا کام‘ تم صرف فلیٹ پسند کرو۔‘‘
’’لیکن سر… فلیٹ کا میں کیا کروں گی؟‘‘
’’بھئی ہم آفس کے بعد کچھ وقت وہاں گزاریں گے‘ باتیں کریں گے‘ کافی پئیں گے۔‘‘ وہ لبوں پر عامیانہ مسکراہٹ سجائے معنی خیز انداز میں کہہ رہے تھے۔
غم و غصہ سے ارم نے اپنے بدن میں لرزش محسوس کی اس کا دل چاہا خود پر دین داری کا لیبل چسپاں کیے بظاہر نفیس و معقول نظر آتے اس انسان نما شیطان کو گریبان سے گھسیٹ کر کاریڈور تک لائے اور چیخ چیخ کر آفس والوں کو بتائے کہ اس معزز و معقول نظر آتے انسان کی اصلیت کیا ہے۔
’’اس کے علاوہ بھی جو تم کہو گاڑی‘ بینک بیلنس‘ پروموشن‘ یقین کرو عیش ہوجائیں گے عیش۔‘‘ ان کے الفاظ سے بڑھ کر ان کا انداز‘ ان کی بدنیتی اور ارادوں کو عیاں کررہا تھا معنی خیز سرسراتے لفظ‘ پھیلتے مسکراتے لب اور نظروں میں شیطانی لپک۔
’’جواب میں جو میں کہوں‘ چاہوں بس تم وہ سب کرتی چلی جائو۔‘‘ ارم کے اندر لپکتے‘ بھڑکتے الائو کو روزن نصیب ہوا‘ وہ تنک کر کھڑی ہوگئی۔
’’آپ نے غلط دروازہ بجایا ہے اس کے لیے کوئی اور در دیکھئے۔‘‘
’’اجی کوئی اور ٹکتی ہی کہاں ہے۔‘‘ دروازہ کھول کر دھاڑ سے بند کرتے ہوئے اسے اپنے عقب میں ہانک سنائی دی تھی۔
’’جس کو دیکھو نکل جاتی ہے۔‘‘ اب ارم سمجھ گئی تھی ایک کے بعد ایک اسسٹنٹ بدلنے کا راز اور اس نے ٹھان لی تھی‘ کسی قیمت پر ان کے ہاتھوں کھلونا نہ بننے گی چاہے کچھ ہوجائے مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی۔
/…ء…/
عجیب سی گھٹن اور ہراس در آیا تھا‘ گھر کی فضا میں جیسے پنجرے میں مقید کوئی ننھا معصوم پرندہ‘ لرزتا کانپتا رہے اس نے ساس صاحبہ کو ان کے بدلتے تیور عیاں کرکے روک تھام چاہی تھی اور وہاں بازی ہی الٹ گئی تھی وہ کچھ اور کھل گئے اور بیگم جیسے ان کی دست راست۔ ان کے گھر میں گھستے ہی ساس صاحبہ اڑنے کو پر تولنے لگتیں۔
’’اتنی سی دیر میں وہ تمہارا کیا بگاڑ لے گا۔‘‘ حرا کی شکایت کے بعد وہ دھڑلے سے کہتیں۔
’’میں تو بس گئی اور آئی۔‘‘ اسی لیے ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے‘ وہ کمرے کا لاک لگائے لرزتی‘ کانپتی رہتی‘ وہ گھر بھر میں گاتے گنگناتے پھرتے۔
’’ذرا سامنے تو آئو چھلئے…‘‘ کبھی اس کا دروازہ ناک کرتے کبھی لگتا کہ توڑ ہی ڈالیں گے۔ وہ حد سے بڑھتے تو حرا عمران کے موبائل پر کال کرتی اور بیل طویل سے طویل تر ہوجاتی مگر ریسیو ہوکے نہ دیتی۔
اس دن تو حد ہی ہوگئی‘ حرا باتھ لینے گھسی تو سوچا بھی نہ تھا کہ ساس صاحبہ چپکے سے غائب ہوجائیں گی‘ وہ بالکونی میں کھڑی اپنے دراز گیلے بال سلجھا رہی تھی کہ عقب سے آکر انہوں نے دبوچ لیا وہ تڑپ کر مڑی تو ان کے شکنجے میں تھی ان کی نظروں میں لپک چہرے پر شیطانیت تھی ان کی گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگانا چاہا تو وہ کچھ اور قریب ہوگئے۔
’’میں نے کہا تھا نا عمران کی کمی میں پوری کروں گا۔‘‘ سرمست لہجہ‘ خطرناک انداز۔
’’تم سمجھتی کیوں نہیں ہو۔‘‘ اس نے ایک بار پھر ان کی مضبوط گرفت سے نکلنا چاہا لیکن گرفت اور مضبوط ہوئی۔
’’عمران… عمران…‘‘ وہ حلق کے بل چلائی اور عمران گھوڑے گدھے بیچ کر سوتا رہا۔ ان کے منہ سے اٹھتی ناگوار مہک اور خطرناک تیور‘ حرا نے اپنا سارا زور لگا کر انہیں دھکیلا وہ لڑکھڑائے تھے۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے فلیٹ سے نکلی اور داخلی دروازے کی بیرونی کنڈی چڑھا کر کھٹ کھٹ سیڑھیاں اترتی چلی گئی تھی۔
/…ء…/
اگلے روز ہڑتال تھی‘ سب کچھ بند تھا۔ ارم نے رات ایک کال کی تو بیلنس زیرو‘ وہ آفس میں اطلاعی کال بھی نہ کرسکی۔ اگلے روز باس کے سامنے عذر پیش کرنا پڑا مگر ان کا مزاج بگڑا ہوا تھا۔
’’آپ کو ایک کال تو کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’سر… بیلنس اچانک ختم ہوگیا تھا۔‘‘
’’آپ مس بیل دے دیتیں‘ میں خود کرلیتا۔‘‘ ان کے تیور بدلے ہوئے تھے‘ بات صاف تھی‘ انہیں بہانہ میسر آگیا تھا۔ ارم نے کام کے لیے پوچھا وہ ٹیبل پر پڑے انبار میں غرق ہوگئے وہ پلٹ آئی دن بھر مکھیاں مارتی رہی۔ شام میں بگ باس اس کے کیبن میں آئے تھے اور یہ پہلی بار تھا کہ بگ باس اس کے کیبن میں آئے‘ ارم الرٹ ہوکر بیٹھ گئی ان کی آمد بے جا نہ تھی اسے ادراک تھا۔
’’کل کا دن امپورٹنٹ تھا‘ آپ کو آف نہیں کرنی تھی۔‘‘ بگ باس ادھر اُدھر کی کچھ بات کرکے بولے۔ ’’صدیقی صاحب نے آپ کو ٹرمینیٹ کرنے کو کہا ہے۔‘‘ ارم ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی‘ یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے۔
’’آپ بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘ وہ فقط اتنا ہی کہہ سکی۔
کچھ ہی دیر بعد ٹرمینیٹ اس کے ہاتھ میں تھا‘ بگ باس نے ازراہ التفات‘ ایک ماہ کی تنخواہ کے ساتھ۔ ایک ماہ پیشگی رقم بھی عطا کی تھی اور کچھ دن کی مسافت کے لیے زاد راہ‘ مگر کچھ دن بعد کا وقت ایک سوالیہ نشان تھا خیر امید پر دنیا قائم ہے۔
’’یہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘ صدیقی صاحب شان بے نیازی سے اپنے مخصوص انداز میں اکڑتے‘ چھاتی پھلائے‘ اس کے سامنے سے گزرے۔ مغرب کی ادائیگی کو گئے تھے‘ وہ جانتی تھی انہیں اپنے عہدے کا غرور اپنے لکھ پتی ہونے پر تفاخر تھا۔ اس کا یہی غرور‘ اس کی چال میں در آیا تھا گویا دنیا کو اپنے قدموں تلے روندتا ہو۔ ارم نے ایک چٹ پر کچھ لکھا اور تمام پیپرز کے ساتھ ان کی ٹیبل پر رکھ کر بلڈنگ سے نکل آئی تھی۔
/…ء…/
’’آپ نے ٹھیک ہی کہا تھا آپا… کچھ لوگ بیٹے بیٹیوں پر صرف لیبل لگانے کے لیے ان کی شادی کرتے ہیں۔ عمران پر بھی ٹھپہ لگ گیا ہے اب وہ عمران کا گھر اجڑنے کا الزام میرے سر رکھ کر ہاتھ جھاڑلیں گے۔‘‘
’’مجھے تو لگتا ہے اول روز سے اس بڈھے کی نظریں تم پر تھیں‘ تمہاری مٹھی گرم کرکے وہ تمہیں اپنے بس میں کرنا چاہتے تھے۔‘‘
’’سارے خاندان میں ان کی بدنیتی کی مثالیں مشہور ہیں آپا‘ رشتوں تک کو پامال کیا ہے اس کی بدنظری نے اور تو اور وہ اپنی جواں سال اسسٹنٹ تک کے لیے کہتے ہیں کہ اسے گاڑی بنگلہ اور پروموشن کے بدلے وہ شادی پر راضی کرچکے ہیں۔‘‘
’’ہاہ… جانے کیا مجبوریاں ہوں گی بے چاری کی مگر اس عمر میں شادی؟ حیرت ہے۔‘‘
’’مجھے تو یہ بھی جھوٹ ہی لگتا ہے آپا‘ سوچتی ہوں کال کرکے کسی بہانے اس سے کنفرم تو کرلوں ہر لڑکی بکائو نہیں ہوتی۔‘‘
’’تمہارے پاس کانٹیکٹ نمبر ہے اس کا؟‘‘ آپا چونکیں۔
’’ہاں انہی کے موبائل سے اڑایا ہے‘ اس سے معاشقے کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر گھر بھر کو سناتے رہے ہیں۔‘‘
’’جانے بھی دو ہمیں کیا‘ ہمیں اپنی فکر ہے۔‘‘
’’ہاں یہ بھی ٹھیک کہتی ہیں آپ۔‘‘
’’ہاہ… سوچا تھا اکلوتی بہو کو پھولوں کی طرح رکھیں گے‘ تمہارے خدشے ٹھیک ہی نکلے اچھے لڑکوں کے لیے لڑکیاں بہت کیا ضرورت تھی اتنی دور مارنے کی۔ اپنا ٹھینگا اوپر رکھنے کو اپنے سے نیچے گھر کی لڑکی بیاہی ورنہ ادھر کراچی میں یا رشتہ داروں میں کیا کمی تھی؟‘‘
’’اس ایک مہینے میں زندگی کا تلخ و کریہہ روپ دیکھا آپا… زیور ولیمہ کے اگلے روز چھین لیا اعلیٰ و مہنگے جوڑے بیٹیوں کو بہانے سے بخش دیئے ان کے گھر کی ہانڈی بھی بیٹی کی آمد پر چڑھتی ہے۔ کچھ ساتھ باندھ دیا باقی فریز‘ کئی کئی روز کے بچے کھچے کھانے بچا بچا کر چلتے ہیں۔ اس میں سے بھی اوپری حصہ میاں بیوی اپنے کمرے میں کھاتے ہیں‘ تلچھٹ مجھ بدنصیب کے لیے۔‘‘
’’حق ہاہ‘ ٹھیک کہا کسی نے فقیر اپنی ذات خود بتاتا ہے۔‘‘ آپا کا رنج دگنا ہوگیا تھا۔
’’بات صاف ہے‘ ان کی اپنی نظریں تم پر تھیں‘ عمران کی شادی تو بس ایک بہانہ تھی۔ اسے شادی کی ضرورت ہی نہ تھی۔‘‘
’’یہی بات ہے جس طرح تیس فیصد اس کا دماغ کام نہیں کرتا اسی طرح ہفتے میں تین دن اسے بیوی یاد رہتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں مجھے روتی سسکتی زندگی دے کر یا تو میرے قدم اکھاڑ دیں گے یا مجھے بس میں کرکے اپنی من مرضی کریں گے۔ دونوں صورت میں ان کا فائدہ ہے‘ عورت ان کے نزدیک ایک بھری ہوئی چیز ہے‘ ذرا سا چھو جانے یا پیسے کی جھلک پاکر جو چھلک اٹھتی ہے۔‘‘
’’ان کا اپنا ماضی جو داغ دار ہے‘ اُف خدایا جو شخص اپنی بیوی سے اس کی پارسائی کا حلف اٹھوا سکتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی ماننے سے انکاری ہو… کہتا ہے وہ کیا نہیں کرسکتا۔‘‘
’’بیگم بھی تو کھوٹا سکہ ہی تھیں۔‘‘ حرا نے مضحکہ اڑایا۔ ’’آپ کچھ بھی کہیں آپا… مگر یاد رکھیے کہ میں اب لوٹ کر اس گھر میں جانے والی نہیں۔‘‘ آپا ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئیں کیسی نازک‘ کومل اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی حرا‘ تقدیر کے ہاتھوں مات کھا گئی کاش اس نقطے پر وہ خود بھی غور کرلیتیں کہ غفران انکل کو سارا زمانہ چھوڑ کر آخر اتنی دور رشتہ کرنے کی کیا پڑی تھی۔
’’مجھے نہیں لگتا کہ عمران ان سے ہٹ کر کچھ کرسکے گا اور اگر تمہیں سمجھا بجھا کر لوٹا بھی دیا جائے تو ان کے حوصلے اور بلند ہوجائیں گے۔‘‘
’’ہاں بیٹے کی کمی پوری کرنے کا ذمہ جو اٹھایا تھا۔‘‘ حرا کی آواز بھرا گئی۔
/…ء…/
نہ جانے کیسے وہ سب عمران کی مردانہ انا کو جگانے میں کامیاب ہوگئے تھے وہ اس روز کال کرکے چیخا‘ دہاڑا۔
’’کس سے پوچھ کر تم نے گھر کی دہلیز پار کی ہے؟‘‘ وہ یقینا بے خبر تھا اس نے مختصراً بتانا چاہا مگر اس نے خاک نہ مان کے دیا۔
’’تم جھوٹ بولتی ہو‘ اس روز بھی وہ صرف تمہیں پیسے دینا چاہ رہے تھے مگر تم عزت کے قابل ہی نہیں ہو۔‘‘ حرا کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’’تو میں بھی تمہیں ہزار دیتی ہوں اپنی بہنوں کو میرے بھائیوں کے حوالے کردو۔‘‘ اس نے کھٹ سے کال منقطع کی تھی پھر موبائل بجتا رہا اس نے کال ریسیو ہی نہ کی۔ مختلف نمبر سے کالز آئیں اس نے موبائل ہی آف کردیا پھر عمران کا ایس ایم ایس آیا۔
’’جب تک چاہے میکے میں بیٹھو مگر یہ یاد رکھنا کہ میں تمہیں لینے نہیں آئوں گا۔‘‘ اسے خاک بھی پروا نہ تھی وہ جانتی تھی یہ اکڑ غرور اور طنطنہ سب پیسے کی بدولت ہے۔
/…ء…/
نہ جانے کتنے دن گزر گئے‘ مشکل لمحات میں لگتا ہے کہ وقت ٹھہر سا جاتا ہے۔ اس نے امی کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ کچھ معاملات الجھے ہوئے ہیں ممکن ہے ٹرمینیشن مل جائے ان کے انداز و اطوار قابل گرفت تھے اور وہ خود بھی جانچ گئے تھے کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے آفس سے جو کچھ ملا‘ اس نے بینک میں جمع رہنے دیا۔ گھر کی دال روٹی تو چل ہی رہی تھی‘ مکان کے آدھے پورشن کے رینٹ سے اس کے پاس ابھی زاد راہ باقی تھا اور امیدیں۔ ارم نے اشتہارات دیکھ کر کئی جگہ سی وی بھیجی تو تھی مناسب نوکری بھی اتنی آسانی سے کہاں ملتی ہے مگر اب بدلتے چہروں کا مفہوم خوب سمجھ آگیا تھا یقینا گھر سے نکلنے والی ہر لڑکی کو ایسے ہی اندھے کھوہ سے احتیاط لازم ہے۔ غفران صدیقی جیسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔
اس روز علی الصبح اک ایس ایم ایس آیا تو وہ دنگ رہ گئی پھر جانے کیا سوچ کر ریپلائی دے دیا۔ وہ صدیقی کی بہو حرا تھی اور جو کچھ اس نے کہا ارم کو لگا دنیا اس کے سامنے گول گول گھوم رہی ہے چور اپنے ہی گھر میں نقب لگا رہا تھا مگر اس نے ارم سے کیوں رابطہ کیا تھا۔
’’آپ کو میرا نمبر کس نے دیا اور آپ چاہتی کیا ہیں؟‘‘
’’سسر صاحب کے موبائل سے لیا تھا اگر آپ میرا ساتھ دیں تو ہم مل کر ان کے باس کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک بڑی سیٹ پر کتنا نیچ اور گھٹیا انسان بٹھا رکھا ہے۔‘‘
’’اس سے کیا ہوگا؟‘‘ اس نے خشک لہجے میں پوچھا۔
’’ان کی ذلت اور بے کاری‘ سارے گھر کا شیرازہ بکھر جائے گا۔‘‘
’’اس سے ہمیں کیا حاصل ہوگا؟‘‘ حرا سٹپٹا کر خاموش ہوگئی ارم نے پھر کہا۔
’’میں بھی اگر چاہتی تو بگ باس کے سامنے ان کے کچے چٹھے کھول کر رکھ دیتی‘ ایک عورت کا ایسا بیان معتبر ہوتا ہے‘ ان کی تیس سالہ ساکھ کا جلوس نکل جاتا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں نے اسی وقت اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا۔ آپ نے پڑھا ہوگا اس سے مت ڈرو جو بدلہ لے سکتا ہے‘ ڈرو اس سے جو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتا ہے بے شک اللہ کا فیصلہ ہمارے فیصلے سے بہتر ہے۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتی ہیں مگر جو کچھ اس نے کیا اس کا صلہ بھی تو ہونا چاہیے۔‘‘
’’عورت کی عزت نازک ہوتی ہے اگر وہ آپ کو جھٹلادیں یا اس سب کا الزام آپ پر رکھ دیں تو دس میں سے دو آپ کو بھی برا کہہ سکتے ہیں۔‘‘
’’آپ سچ کہتی ہیں کیچڑ میں اینٹ مارنے سے چھینٹیں خود پر بھی آتی ہیں۔‘‘
’’آپ بھی اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کریں اور یقین رکھیں کہ وہ ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوگا۔‘‘
’’آپ کوئی اچھا مشورہ تو دے ہی سکتی ہیں۔‘‘
’’اگر آپ کے کیس سے سسر کی بدنیتی نکال دی جائے تب بھی بقیہ معاملات قابل گرفت ہیں‘ باقی آپ بہتر سمجھتی ہیں۔‘‘ وہ سمجھ سکتی تھی پر وہ افسانہ تھا جسے انجام تک پہنچنا ناممکن تھا۔ اس کا کھونٹا ہی مضبوط نہ تھا وہ کس برتے پر قدم جما سکے گی‘ ارم کی باتیں اسے ایک مـضبوط سلجھی ہوئی لڑکی ثابت کررہی تھیں۔ اس کی بابت سسر صاحب نے جو کچھ کہہ رکھا تھا اس سب پر یقین تو اسے پہلے بھی نہ تھا اسے جھجکتے ہوئے بتانا پڑا۔
’’میں ان کی گھٹیا نیچر کو جانتی ہوں‘ وہ اس سے زیادہ بھی کہہ سکتے ہیں خیر اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ ذرا سوچو اگر وہ مجھ پر کسی غبن یا چوری کا الزام رکھ کر ٹرمینیشن کروا دیتے تو میری کیا عزت رہ جاتی۔‘‘ حرا کانپ کر رہ گئی سچ ہی تھا غفران صدیقی جیسے لوگوں سے کچھ بھی بعید نہیں رہتا۔
’’اگر تم صرف اس شخص کی چال دیکھو تو تمہیں اندازہ ہوکہ اسے خود پر‘ اپنی پوسٹ پر‘ کتنا غرور ہے کیونکہ وہ بھول بیٹھا ہے کہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔‘‘
ارم سے بات کرکے حرا کا اندر ہلکا پھلکا ہوگیا تھا اسے لگا جیسے اس کے آس پاس کا سارا غبار دھل کر سب کچھ نکھرتا جارہا ہے۔ اتنے دنوں کا کرب ہاں اور نہ کے مابین کی کشمکش اضطراب کی ایک بے نام جان لیوا کیفیت اور خودی بے آسرا رہ جانے کا خوف‘ سب کچھ مٹتا جارہا ہے۔
/…ء…/
وہ انہی دنوں میں سے ایک دن تھا‘ غفران صدیقی اپنے روم کی چیئر ادھر اُدھر کرتے جانے کس چیز کی کھوج میں تھے۔ ڈھیر سارے کام کا انبار ان کے سر پر آن پڑا تھا‘ انہوں نے کس غرور سے بگ باس سے کہا تھا کہ انہیں اس غیر ذمہ دار لڑکی کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ تنکا اپنی داڑھی میں تھا اب بھی پیپرز سے الجھتے ہوئے کچھ پرانے پیپرز ان کے ہاتھ لگ گئے تھے انہوں نے پیون کے لیے بیل بجائی پھر وہ پیپرز دیکھنے لگے اور ٹائپ شدہ پیپرز پر ایک چھوٹی سی چٹ‘ ہاں وہ ارم ہی کی لکھائی تھی موٹے فریم کا چشمہ درست کیا‘ بغور پڑھا‘ لکھا تھا۔
’’سب رہ جائے گا۔‘‘ ایک چھوٹا سا جملہ انہیں لگا ان کے اندر توڑ پھوڑ ہورہی ہے پھر ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ چاروں سمت ایک ہی جملہ گردش کررہا تھا سب رہ جائے گا اور وہی لمحہ شاید احتساب کا تھا‘ وہ اپنی خطائوں کا شمار کرتے تو گنتی بھول جاتے‘ دل کی دھڑکن اور بڑھی‘ مساموں سے پسینہ پھوٹ نکلا‘ بائیں جانب درد شدید تر تھا۔ انسان اس دنیا اس زندگی کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا اور زندگی وہ بے وفا کہ گھنٹوں میں زمین کے اندر اتار دیتی ہے۔ نام‘ عزت‘ مرتبہ‘ پیسہ سب رہ جائے گا‘ ساتھ رہے گا تو بس اعمال نامہ جو سارا کا سارا سیاہ تھا‘ گناہ‘ دلآزاری‘ تکبر و تفاخر‘ بے قابو نفس‘ ہاں وہ نفس کا غلام تھا اس کا باطن کریہہ تھا شاید اس کی خطائیں‘ ناقابل معافی تھیں۔
دنیا گول گول گھومنے لگی تھی انہیں لگا ان کی سانسیں‘ اپنی رفتار بھول رہی ہیں۔ کیا صرف کچھ لمحے جو تدارک‘ تلافی یا معافی ہی سہی۔ بس کچھ پل وہ جانے کس کس کے گناہ گار تھے مگر معافی کی مہلت بھی شاید خوش بختوں کو نصیب ہوتی ہے۔ دھڑکنوں کا زیر و بم ٹوٹ رہا تھا‘ وجود ڈھیلا پڑتا جارہا تھا کشادہ‘ سرمئی آنکھیں‘ کسی نادیدہ نقطے پر جم گئی تھیں۔ انہوں نے کسی کو پکارنا چاہا مگر وجود حرکت سے انکاری تھا‘ گردن ڈھلک گئی اسی لمحے پیون نے ان کے کمرے میں قدم رکھا اور ان پر نظر پڑتے ہی الٹے قدموں واپس بھاگا تھا۔
/…ء…/
ارم دوپہر کی نیند لے کر صحن تک آئی تو امی عصر کے بعد تخت پر بیٹھی سبزی بنارہی تھیں۔ اس نے قریب بیٹھ کر پاس رکھے جگ سے پانی انڈیل کر پیا پھر کسیلا سا منہ بنا کر کہا۔
’’پانی کا ذائقہ کیسا عجیب سا ہے امی؟‘‘
’’کھارا پانی‘ جگ میں انڈیل کر رکھا تھا نمک بیٹھے تو شاید پینے کے قابل ہوسکے‘ لائنوں کے میٹھے پانی کا تو دور دور تک نام و نشان نہیں شاید دور دور تک ڈھونڈ کر نامراد لوٹ آیا میٹھا پانی کہیں نہیں ملا۔‘‘
’’میٹھا پانی ندارد اور کھارا نایاب‘ بارشیں نہ ہونے سے زمین خشک‘ زمین کا پانی بھی کئی فٹ نیچے چلا گیا ہے۔‘‘ ارم نے برا سامنہ بناکر پانی اگل دیا‘ پانی کے اسی بحران کے سبب وہ اکثر سوچتی کہ اپنی سیونگ کو ہوا دکھائے مگر یہ بے روزگاری جانے کتنے دن اور چلتی اور وہ بس سوچ کر رہ جاتی۔
’’اللہ ہی سمجھے خوش بختوں کو‘ جن جن کے گھر بورنگ ہے وہ بھی پانی سو نخروں سے دیتے ہیں جیسے پانی نہیں قرض مانگا ہو۔‘‘ امی کا دل جلا ہوا تھا۔
’’پانی تو عین باعث اجر و ثواب ہے امی۔‘‘
’’ہاں مگر کون سمجھتا ہے سب ہی کے گھر تنگی ہے‘ جن کے ہاتھ چار پیسے ہیں کنواں کھدوا کر پانی کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔‘‘ امی کی بات درمیان میں تھی جب پاس پڑے موبائل کی ایس ایم ایس ٹون بجی‘ ارم نے اٹھا کر پڑھا اگلے ہی پل اس کی آنکھیں پھیل گئیں‘ لب بھینچ گئے۔ کچھ سوچ کر حرا کا نمبر پش کیا۔
’’خبر کنفرم ہے؟‘‘ ارم نے پوچھا۔
’’ہاں دل کا اٹیک تھا‘ ایک ہفتہ آئی سی یو میں رہ کر آج صبح انتقال ہوا ہے۔‘‘
اور یہی زندگی کی حقیقت ہے چلتا پھرتا انسان خبر بن کر رہ جاتا ہے‘ چاہے وہ غفران صدیقی ہو یا کوئی اور…
’’تمہارا کیا بنا؟‘‘ اس نے مزید پوچھا۔
’’خلع کا کیس دائر کیا تھا سب منہ چھپا کر بیٹھے ہیں‘ تین نوٹس پر فیصلہ میرے حق میں ہوگیا کبھی کبھی کچھ ہونے سے کچھ نہ ہونا بہتر ہوتا ہے۔‘‘
’’اب کیا ارادے ہیں؟ اگلا چانس بنے تو سوچنا ضرور‘ زندگی کسی ٹریجڈی کی نذر کردینا حماقت ہے۔‘‘ ارم جانتی تھی ٹوٹی بکھری لڑکیوں کو سمیٹنا دشوار ہوتا ہے مگر بالآخر وہ بہل ہی جاتی ہیں۔
’’وہ اور لوگ ہوتے ہیں‘ زندگی جن کے نام کردی جاتی ہے کم از کم یہ فیملی اس قابل نہیں تھی۔‘‘ حرا کے لہجے میں حقارت امڈ آئی تھی‘ اس نے سکھ کا سانس لیا موبائل آف کرکے کچھ دیر سوچا۔
’’زمین کی کھدائی سے پانی نکالنے میں کتنا خرچ ہے امی۔‘‘ مگر امی اپنی ہی دھن میں تھیں۔
’’ارے دس بیس ہزار کا خرچ ہوتا تو کب کا کرلیتے‘ پتھریلی زمین ہے مشین سے کھدائی ہوگی‘ ستّر سے اسّی ہزار کا خرچ آجاتا ہے۔‘‘
’’بھیا سے کہیے کام شروع کروائیں اتنا تو میرے اکائونٹ سے نکل ہی آئے گا۔‘‘
’’لیکن بیٹی…‘‘ وہ ٹھنک اٹھیں‘ مگر ارم فیصلہ کرچکی تھی۔
’’پانی لگوانا صدقہ جاریہ ہے امی‘ کہتے ہیں جس انسان کی بخشش مشکوک ہو اس کے نام سے پانی لگوا کر صدقہ کرو‘ میں بھی یہی کروں گی۔‘‘ ارم مضبوط لہجے میں کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور امی حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close