Hijaab Aug-17

بے رنگ پیا

امجد جاوید

’’بے رنگ پیا‘‘ عشق کی بے رنگ تفسیر
جاوید چوہدری اسلام آباد۔ (21فروری 2017ء)
امجد جاوید کی تخلیق ’’بے رنگ پیا‘‘ عشق کی بے رنگ تفسیر ہے۔ اس ناول سے نہ صرف امجد جاویدکے ہنر اور ذوق کا اظہار ہوتا ہے ، بلکہ اس سے مجھے یہ لگا کہ ان کے دل میں بسا ہوا صوفی کس طرح سے دھونی رمائے بیٹھا ہے۔ عشق اور تصوف میں رَچا ہوا انتہائی سادہ سے انداز میں کہا گیا فکر و فلسفہ، ہمارے معاشرے میں موجود حقیقی کرداروں کو لے کر بُنی ہوئی کہانی کا رچائو ،ایک ایسا خوب صورت امتزاج ہے ، جو عام طور پر کم ہی دکھائی دیتا ہے۔دراصل یہ نام ’’ بے رنگ پیا‘‘ ہی توجہ لے لیتا ہے۔پہلا سوال ہی یہ ابھرتا ہے کہ یہ’’ بے رنگی‘‘ کیا ہے ؟ تصوف کی ایک اصطلاح ہے۔ جس میں انسان سارے رنگوں کو ایک طرف رکھ کر صرف ایک ہی رنگ میںرنگ جانا چاہتا ہے ، وہ رنگ جسے صبغت اللہ کہا گیا یعنی اللہ کا رنگ۔ (اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے )اللہ کا رنگ کیا ہے ، یہ ناول دراصل اسی بے رنگی کی تشریح اور اس عملی پہلو کا بیان ہے ، جسے انسان اپنا سکتا ہے۔انتہائی منفرد موضوع کو کہانی کے بیان میں خوب نبھایا گیا ہے۔
’’بے رنگ پیا‘‘ کی شروعات، عام سے کرداروں کے ساتھ کیمپس کے ماحول سے ہوتی ہے۔ بالکل اس طرح سے جیسے چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔ کہانی کے بہائو کے ساتھ قاری بڑھتا ہے تو خود بہتا چلا جاتا ہے۔ پھرقاری پرغیر محسوس انداز میں ایک نئی دنیا کُھل جاتی ہے۔قاری اس کھوج میں لگ جاتا ہے کہ اس کا مطلوبہ بے رنگ پیا ہے کہاں پر ؟ کہاں ملے گا ، کس کردار سے جھانکے گا ؟بنیادی طور پر اس کہانی کے تین کردار ہیں ، آیت النساء ،طاہر حیات باجوہ اور سرمد، ان تین کرداروں کی تکون، طلب طالب مطلوب ، عاشق ، معشوق اور عشق پر جا کر منتہج ہوتی ہے۔ جب تک عاشق معشوق نہیں ہو جاتا اور معشوق عاشق نہیں بن جاتا، تب تک وہ مقام عشق پر فائز نہیں ہوتا۔ یہ سفر بے رنگ ہوئے بنا طے نہیںہوسکتا۔دراصل یہی وہ فلسفہ ہے ، جو’’بے رنگ پیا‘‘ کا محور ہے۔
’’ بے رنگ پیا‘‘ میں عشق کی تفسیر بالکل منفرد ہے۔آج کے جدید دور میں جب انسان خلائوں تک جا پہنچا اور دوسری طرف انسان انسان ہی کے باطن کو سمجھنے کی تگ و دو میں ہے۔انسان کے بنائے جدید ترین آلات سے لے کر انسان کے سماجی علوم تک رسائی ، کیا یہ سب کسی کے عشق کی داستان نہیں سناتے ؟ کیا یہ بنا عشق ہی کے ہوگیا؟ضروری نہیںکہ عشق کسی حسین عورت کی مرہون منت ہو۔عشق جہاں اس کائنات کو سمجھنے کے لئے قوت دیتا ہے وہاں انسان سے انسان کو جوڑنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب انسان ، انسانیت کے لئے کسی بھی منفی جذبے کو اپنے اندر نہیں رکھتا ، وہ بے رنگ ہوتا ہے۔ تبھی بے رنگ عشق کے ساتھ رسائیاں حاصل کرنے کی استعداد حاصل کر لیتا ہے۔ عشق وہ نہیں جو دو لوگوں کو جوڑتا ہے ، بلکہ عشق وہ ہے جو مرکز سے جڑ کر کائنات کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے۔ناول کا ماحول حیات اور کائنات سے نبرد آ زمائی کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔عاشق کہتے کسے ہیں؟عاشق کیا ہوتا ہے ؟معشوق کسے کہتے ہیں ؟ بے رنگی کیا ہے ؟ بے رنگ عشق کیا ہے ؟ اور بے رنگ پیا کی حقیقت بیان کرتا یہ ناول اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے۔
اس ناول کا سب سے اہم پہلو سید ذیشان رسول شاہ کا کردار ہے ، جس کے افکار بے رنگی کی تشریح کرتے ہیں۔عشق کے مراحل ،رنگ، بے رنگ ،صبغت اللہ میں مدغم ہونا ، ذات کا عرفان حاصل کرنا۔ اس کائنات میں انسان کے وجود کی اہمیت اور مقصد ، اور سب سے بڑی بات انسان سے انسان کا تعلق۔ ناول کے باقی کردار ان کے افکار کی عملی تشریح کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ ناول کی اصل جان یہی افکار ہیں۔ان افکار کو پیش کرنے کا انداز اور ہنر بہت خوب اور قابل تعریف ہے۔ زبان و بیان کے گنجلک چٹخارے ، تشریح و تشبہات میں فکرکہیں گم نہیں ہوا۔سوال اٹھتے ہیں اور جواب بھی ساتھ میں ملتے ہیں۔یوں جیسے کسی بھی زندہ تحریر سے انسپائریشن ملتی ہے۔ میرے خیال میں فکر کو خاص حلقوں سے نکال کر عوام تک رسائی دینے کی یہ ایک مقدس کوشش ہے۔نامعلوم سے معلوم تک کا سفر ،کھوج اور بقا کا انسانی سرشت کے ساتھ تعلق ہونا فطری امر ہے ، لیکن اس کا ادراک کیو نکر ممکن ہے اور کیسے ممکن ہے۔
ناول یا کہانی کا سب سے اہم عنصر دلچسپی کا آخری لفظ تک برقرار رہنا ، ’’بے رنگ پیا‘‘ میں یہ عنصر پوری طرح موجود ہے۔عشق و محبت کو اپنی تمام تر خوب صورتی کے ساتھ بیان کرتا یہ ناول آج کے دور کی طوفانی محبت والے نوجوانوں کو عشق کا رنگ سمجھا نے اس کی ذہنی سطح کے مطابق عام زبان و الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ میرے خیال میں یہ ناول سنجیدہ طبقے ہی میں نہیں ، ہر اس متلاشی کے دل میں جگہ بنائے گا ، جو حقیقت تک رسائی کی کوشش میں ہے۔
یہ ناول مایوسی نہیں حوصلہ دیتا ہے اور حوصلہ ہی وقت کی سچائی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close